fa
Feedback

فریب کلاهبرداران را نخورید! تل‌متریو این کانال‌ها را شناسایی و برچسب‌گذاری می‌کند 👉 برای مشاهده برچسب، اشتراک تهیه کنید

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

رفتن به کانال در Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

نمایش بیشتر
1 278
مشترکین
اطلاعاتی وجود ندارد24 ساعت
-37 روز
-1330 روز
آرشیو پست ها
🌹 پنجابی کہاوتیں 🌹 یہ چند مشہور  پنجابی کہاوتیں ہیں جو ہمارے ہاں اکثر استعمال ہوتی ہیں۔ میرے خیال سے پنجاب کے علادہ باقی تہذیبوں میں بھی ان کا تھوڑا بہت اثر ملتا ہو گا۔ آپ سب بھی پڑھیں اور لطف اندوز ہوں۔ ان کے معنی بھی ایک دوسرے سے پوچھ سکتے ہیں جن کو سمجھ نہیں آ رہی۔ 1۔ سکھ نال نصیباں دے ' دکھ نال غریباں دے 2۔ سرفہ کر کے سُتی تے آٹا لے گئی کتی 3۔ چور نالوں پَنڈ کالہی 4۔ کہنا دھی نوں ' سنانا نونہہ نوں 5۔ جس راہ نئیں جانا ' اوہدا ناں کیہ لینا 6۔ ویہلی رن ' پروہنیاں جوگی 7۔ جیناں کھادیاں گاجراں ' ٹیڈ اونہاں دے پیڑ 8۔ کُتی چوراں نال رل گئی 9۔ آٹا گُنہدی' ہلدی کیوں اے 10۔ چور اچکا چوہدری تے غُنڈی رَن پردھان 11۔ ڈگی کھوتے توں تے غصہ کمہار تے 12۔ انّے کتے ہرناں دے شکاری 13۔ گونگے دی ماں گونگے دی رمزاں جاندی اے 14۔ رب ملائی جوڑی ' اک انّا اک کوڑھی 15۔ لائی لگ نا ہوئے گھر والا تے چندرا گوانڈ نا ہو وے 16۔ آپ نہ وسّی سوہرے تے لوکاں نوں متاں دیوے 17۔ آپ کسے جہی نا تے گل کرنو رہی نا 18۔ جے کوئی کُچھڑ چُکے تے جان کے پُنجے نہی ڈِگی دا 19۔ جِدے گھر دانے ' اُوہدے کملے وی سیانے 20۔ ویلے دیاں نمازاں تے کویلے دیاں ٹکراں 21۔ ککڑ دی جان گئی تے کھان آلیا نوں صواد نہ آیا 22۔ آٹے دی بلی بناواں ' میاؤں کون کرے 23۔ مُلاں دی دوڑ مصیت تک 24۔ موئیا نئیں ' آکڑیا اے 25۔ دھی دی سھیلی تے ماں دی سوکن 26۔ مرے دا تے مُکرے دا علاج کوئی نہ 27۔ بوہے آئی جنج تے ونوں کُڑی دے کن 28۔ کملی رووے یاراں نوں ' لے لے ناں بھراواں دا 29۔ عقل ہووے تے سوچاں ' نہ ہووے تے موجاں 30۔ نکا ویکھ کے لڑیے نہ ' وڈا ویکھ کے ڈریے نہ 31۔ ٹُردے نوں کوئی نئیں ملدا 32۔ ست گھر تے ڈین وی چھڈ دیندی اے 33۔ بھاویں ماسی بنے سس ' اوہنوں وی ڈین والا چس 34۔ اکھوں دِسّے ناں تے ناں نور بی بی 35۔ جیا کِلے بدا ' جیا چوراں کھڑیا 36۔ سپاں دی کھڈ وچ سپولے جمدے نیولے نئیں 37۔ آئی موج فقیر دی ' لائی چگی نوں اگ 38۔ جَٹ ' وَٹ تے پَھٹ بَنّن نال ای قابو آندے نے 39۔ شاہاں دا قرض برا ' فکر دا درد برا 40۔ فکر دی مار بری ' بیگانی نار بری 41 اکھوں انی، ناں چراغو..!! 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ■ مزید پوسٹس۔۔۔ دیکھنے کیلئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔ 🔷 زندگی کے کچھ حقائق https://t.me/islamwitheman/5380 🔷 مختلف ممالک کی کہاوتیں https://t.me/islamwitheman/5381 🌹 دانشوروں کے لطیف جملے https://t.me/islamwitheman/5437 🌹 کچھ بہترین حکمتیں https://t.me/islamwitheman/5448 🌷 اچھی زندگی کیلئے کچھ مشورے https://t.me/islamwitheman/5449 🌹 پچاس حکمتیں https://t.me/islamwitheman/5471 🌷 سماجی تعلقات کے اصول https://t.me/islamwitheman/5515 🌹 نوجوانوں کے لیے نصیحت https://t.me/islamwitheman/5514 🌺 منتخب جاپانی کہاوتیں https://t.me/islamwitheman/5520 🌹 پنجابی کہاوتیں https://t.me/islamwitheman/5626 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 طوائف کا پیشہ 🔷 ایک زمانے میں طوائف کا پیشہ بدنام ترین پیشہ تھا۔ اس لیے طوائف کے پیشے کا نام لینا بھی برا سمجھا جاتا تھا۔ اب یہ وقت ہے کہ طوائف کا پیشہ کرنے والی کو طوائف کہنا برا سمجھ لیا گیا ہے۔ طوائف ایسی عورت کو کہا جاتا تھا جو پیسوں کے بدلے اپنا جسم اور ادائیں بیچتی تھی۔ بہت سی طوائفیں تھیں ماضی میں کہ جو ایک خاص وقت تک اپنی جسمانی خوبصورتی کی صرف جھلک کو بیچتی تھیں، مگر جسم کو کسی نواب یا نوابزادے کے لیے محفوظ رکھتی تھیں۔ مختلف نواب نوٹوں کے بھرے تھیلے بھیج کر اس نوجوان طوائف کی مالکہ، نائیکہ یا ماں کو راضی کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ اس لڑکی کے جسمانی حقوق ان کو دیدیے جائیں۔ پھر وہ عورت جو چکلہ چلایا کرتی تھی ایک گھاگ کاروباری کی طرح تمام آفرز کا جائزہ لیتی اور بالاخر کسی ایک خوش قسمت کا ٹینڈر منظور کر لیا جاتا تھا۔ اور وہ نوجوان رقاصہ جو شام کو اپنے اڈے پر ناچا کرتی تھی، اب اس نواب کی رکھیل بن کر اس کے کسی مکان میں شفٹ ہو جایا کرتی تھی۔ کچھ مہینے، سال کے بعد جب نواب صاحب کا دل بھر جایا کرتا تھا، یا مارکیٹ میں نئی رقاصہ کے حسن کے چرچے ہونے لگتے تھے تو پرانی کو واپس بھیج دیا جاتا تھا۔ اب پرانی رقاصہ واپس اپنے اڈے پر حسب معمول ادائیں بیچنے کا کام شروع کر دیا کرتی تھی۔ ۔ اور کبھی کبھار اچھا گاہک ملنے پر جسمانی خرید و فروخت بھی کر لیا کرتی تھی، مگر اونچے داموں پر ۔ ۔ اور یہ سلسلہ طوائف کی جوانی ڈھلنے تک جاری رہا کرتا تھا۔ ۔ تیس، پینتیس کی عمر شروع ہوتے ہی طوائف کی رقص کی محفل بھی ختم ہونے لگتی تھی، اور اس کے جسمانی گاہک بھی پیسے کم کرتے کرتے غائب ہونے لگتے تھے۔ اس وقت اس طوائف کے دو مستقبل ہوا کرتے تھے۔ ایک یہ کہ وہ اب عام عوام کے لیے دستیاب ہو جائے اور ہر رات بغیر حساب کتاب جو گاہک مل جائے شکر سے قبول کر لے۔ ۔ یا پھر اپنے ہی کسی سازندے (موسیقی کے ساز بجانے والے) کے ساتھ "شادی" کر کے گھر کی ہو جائے۔ کوئی کوئی طوائف جو اس اڈے کی مالکہ کی سگی اولاد، یا خاص شاگرہ ہوا کرتی، وہ ٹریننگ لے کر اس نائیکہ یا مالکہ کی جگہ سنبھال لیتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تو تھا پچھلی صدی کا حال ۔ ۔ ۔ ۔ پھر ماڈرن زمانہ آ گیا ۔ ۔ ۔ طوائف کو مہذب دنیا میں مختلف نام دیدیے گئے۔ ناچنے والی الگ تھی۔ جسم بیچنے والی الگ۔ پھر یہ بھی کہا گیا کہ ادائیں بیچنا کچھ اتنی بری بات نہیں ہے۔ یہ تو فن ہے۔ آرٹ ہے۔ رقص آرٹ ہے اس لیے رقاصہ بھی آرٹسٹ ہے۔ کوئی برا پیشہ نہیں ہے یہ۔ باقی کے تمام معاملات کے نام بھی بدل دیے گئے۔ اب رقاصہ نواب کی رکھیل نہیں ہوا کرتی تھی، اب وہ کسی فلمساز سے شادی کر لیتی تھی۔ ۔ یہ بھی چند دہائیاں پہلے تک ہوتا تھا ۔۔ اب تو معاملات ڈیجیٹلائزڈ ہو چکے ہیں۔ ڈیجیٹل انقلاب نے "طوائف کے پیشے" کو ماڈرنائز کر دیا ہے۔ پہلے تماشبین طوائف کے اڈے پر بیٹھ کر نئی رقاصہ کے جسم سے اور اسکی اداؤں سے لطف لیا کرتے تھے۔ اب وہ آن لائن انٹرنیٹ کے ذریعے موبائل اسکرینوں پر اس سے کہیں زیادہ لطف اٹھا سکتے ہیں۔ پرانے زمانے کے تماشبین صرف ایک طوائف کے کوٹھے پر جا کر گانا سننے کے کتنے پیسے خرچ کیا کرتے تھے۔ گرمی سردی کے موسم میں سفر کر کے وہاں پہنچتے اور اپنی جیب کے مطابق باقی تماشبینوں کی بھیڑ میں دس بیس فیٹ کے فاصلے سے ناچتی رقاصہ کو دیکھا کرتے تھے۔ ۔ ۔ اس پر بھی رقاصہ کا بھاری لباس اس کے جسم کے خاص حصے چھپا لیتا تھا۔ ۔ جبکہ نئے زمانے میں بغیر ایک پیسہ خرچ کیے ایک تماشبین کیا کچھ دیکھ سکتا ہے اس کے لیے آج کا سوشل میڈیا دیکھ لیجیے۔ (کم از کم تماشبین کا کوئی پیسہ نہیں لگتا، کیونکہ ڈیجیٹل طوائفوں کو پیسے ایڈورٹائزنگ کمپنیاں دیتی ہیں)۔ ۔ آج کا ماڈرن تماشبین، ایک نہیں بلکہ سینکڑوں، ہزاروں ناچتی عورتوں کو اپنی مکمل تنہائی میں اس طرح دیکھ سکتا ہے کہ انکی ایک ایک حرکت کو وہ روک کر، زوم کر کے سلو موشن میں سراہ سکتا ہے۔ اور دوسری جانب آج کی ماڈرن ناچنے والی تو بھاری لباس کے بوجھ سے بھی آزاد ہے، بلکہ ان ایڈورٹائزنگ کمپنیوں نے یہ بندوبست کر دیا ہے کہ اب وہ اسکن ٹائٹ انڈروئیر پہن کر ناچتی ہیں، اور انکی کوشش ہوتی ہے کہ تماشبین انکے جسم کی ایک ایک حرکت، ایک ایک زاویہ اور ایک ایک عضویاتی تفصیل دیکھ کر داد دے سکیں۔ اب مجھے بتانے کی ضرورت نہیں کہ آج کی ماڈرن ڈیجیٹل "طوائف الملوکی" میں نواب کون ہیں؟ وہ کیسے ان ناچتی طوائفوں کو اپنی رکھیل بنانے کے لیے پیسہ پھینکتے ہیں۔ یہ کیسے ان میں سے زیادہ پیسے والے کو منتخب کرتی ہیں۔ اور پھر چند سال بعد قیمت گرنے کے بعد اپنے "سازندوں" (یا بیسٹ فرینڈ) کے ساتھ "سیٹل ڈاؤن" ہوتی ہیں ۔ ۔ ذرا سی کوشش سے آپ خود جان سکتے ہیں۔ کاپی۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 بارات آئی، دلہن نہ گئی 🔷 کئی سال پہلے کی بات ہے، میرے والد صاحب ایک شادی میں شریک ہوئے۔ یہ شادی ایک سیاستدان اور بڑے سرمایہ دار کی اکلوتی بیٹی کی تھی، جو ایک وسیع جائیداد کی واحد وارث تھی۔ لڑکی کا رشتہ مریدکے کے ایک امیر خاندان میں طے پایا تھا۔ والد صاحب بتاتے ہیں کہ شادی کا اہتمام انتہائی شان و شوکت سے کیا گیا تھا۔ ایک وسیع پنڈال تیار کیا گیا تھا، جہاں بیٹھنے اور کھانے کے انتظامات تھے۔ ساتھ ہی ایک تیسرا پنڈال بھی تھا، جس میں جہیز کا سامان سجایا گیا تھا۔ بارات پہنچی تو لڑکی کے والد نے بارات کو سیدھا جہیز والے پنڈال میں لے جا کر کہا: "سامان چیک کر لیں، جو آپ نے مانگا ہے، وہ سب موجود ہے یا نہیں۔" ہر چیز پر پرچیاں لگی ہوئی تھیں، جن پر لکھا تھا کہ یہ لڑکے کی پھوپھی کی مانگ ہے، یہ خالہ کی، اور یہ فلاں رشتے دار کی۔ جب بارات والوں نے تمام جہیز دیکھ لیا، تو لڑکی کے والد انہیں کھانے والے پنڈال میں لے گئے اور کھانے کا آغاز کروا دیا۔ لڑکے والوں نے بار بار کہا کہ پہلے نکاح کروا لیا جائے، لیکن لڑکی کے والد نے ٹال مٹول کرتے ہوئے کھانا شروع کروا دیا۔ اس شاندار شادی میں ہزاروں افراد شریک تھے، لیکن عجیب موڑ تب آیا جب کھانے کے بعد لڑکے والوں نے دوبارہ نکاح کی بات کی۔ لڑکی کے والد نے ایک بار پھر جہیز پر بات شروع کر دی اور کہا، "جہیز تو پورا ہے، اسے لے جائیں، لیکن لڑکی آپ کے ساتھ نہیں جائے گی۔" لڑکے والے حیران اور پریشان رہ گئے، لیکن لڑکی کے والد اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے۔ کئی گھنٹوں کی بحث کے باوجود، لڑکی بارات کے ساتھ نہ بھیجی گئی۔ آخرکار، بارات بغیر دلہن کے واپس لوٹ گئی۔ اسی وقت لڑکی کے والد نے اپنے بھتیجے کو بلایا، جو مالی طور پر کمزور تھا، نکاح خواں کو بلوایا، اور اپنی بیٹی کا نکاح بھتیجے سے کروا کر اسے اس کے ساتھ رخصت کر دیا۔ 🔘 یہ واقعہ ہمیں دکھاتا ہے کہ دولت اور شان و شوکت کے پیچھے چھپی کہانی کبھی کبھار حیران کن اور سبق آموز ہو سکتی ہے۔ منقول۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

میں نے رات دیکھا آپ کے والد اکیلے ہیں اور ان کی طبیعت زیادہ خراب ہے لہٰذا میں انھیں اپنا والد سمجھ کر ان کی خدمت کرتا رہا۔ اس میں شکریے کی کوئی ضرورت نہیں‘‘ یہ سن کر میں شرم سے زمین میں گڑھ گیا کیوںکہ کہ میں صرف ایس ایچ او تھا اور میرے پاس والد کے لیے وقت نہیں تھا۔ میں نے انھیں اکیلا اسپتال میں چھوڑ دیا تھا جبکہ ہائی کورٹ کا جج پوری رات اپنے والد کے ساتھ ساتھ میرے والد کی خدمت بھی کرتا رہااور ان کی الٹیاں بھی صاف کرتا رہا۔ میرے لیے ڈوب مرنے کا مقام تھا۔ میں ان کے قدموں میں جھک گیا مگر اس عظیم شخص نے مجھے اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔ وہ پولیس افسر اس کے بعد رونے لگے۔ میں نے ان سے پوچھا ’’کیا آپ کی اس کے بعد جسٹس صاحب سے دوبارہ کبھی ملاقات ہوئی؟‘‘ وہ روتی ہوئی آواز میں بولے بے شمار مرتبہ۔ میں نے زندگی میں ان سے اچھا، دین دار‘ ایمان دار اور نڈر انسان نہیں دیکھا۔ ان کا پورا نام جسٹس ڈاکٹر منیر احمد خان مغل تھا۔ انھوں نے دو پی ایچ ڈی کی تھیں۔ ایک پاکستان سے اور دوسری جامعۃ الازہر مصر سے۔ دوسری پی ایچ ڈی کے لیے انھوں نے باقاعدہ عربی زبان سیکھی تھی۔ انھوں نے اس کے علاوہ ملکی اور بین الاقوامی قوانین پر 24 کتابیں لکھی تھیں۔ وہ ان تمام کاموں کے ساتھ ساتھ تیزی سے مقدمات نپٹانے میں مشہور تھے۔ چیف جسٹس جس مقدمے کا فوری فیصلہ چاہتے تھے وہ مقدمہ جسٹس منیر مغل کی عدالت میں لگ جاتا تھا۔ میں خاموشی سے سنتا رہا۔ پولیس افسر کا کہنا تھاکہ جسٹس صاحب غریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ایل ایل بی کے بعد مجسٹریٹ بھرتی ہو گئے۔ محنت کی عادت تھی، مجسٹریٹی کے دور میں ان کے پاس کام کم ہوتا تھا لہٰذا انھوں نے عدالتی صفحات کی بیک سائیڈ پر کلمہ لکھنا شروع کر دیا۔ یہ سارا دن کلمہ طیبہ لکھتے رہتے تھے۔ شاید اس پریکٹس کا صلہ تھا کہ الله تعالی نے ان کی انرجی اور ٹائم میں برکت ڈال دی۔ انھوں نے دوران ملازمت ایک پی ایچ ڈی کی، پھر عربی زبان سیکھی، جامعۃ الازہر میں داخلہ لیا اور عدالتی ٹائم کے بعد عربی زبان میں تھیسس لکھ کر مصر سے بھی پی ایچ ڈی کی ڈگری لے لی۔ وہ ہر نیا قانون پڑھتے اور اس پر فوری طور پر کتاب لکھ دیتے تھے۔ وہ کتاب بھی خود ٹائپ کرتے تھے اور اس سارے کام کے دوران عدالتی کاروائی بھی متاثر نہیں ہوتی تھی۔ وہ دھڑا دھڑ مقدمات نپٹا دیتے تھے۔ انھوں نے پوری زندگی اپنے والد کی خدمت خود کی۔ ان کا بول براز تک خود صاف کرتے تھے۔ والد زیادہ بیمار ہوئے تو ان کے بیڈ پر پاؤں کے قریب گھنٹی کا بٹن لگا دیا اور گھنٹی اپنے کمرے میں رکھ لی۔ والد ضرورت پڑنے پر پاؤں سے بٹن دبا دیتے تھے اور وہ بھاگ کر ان کے پاس پہنچ جاتے تھے۔ اپنی بیگم کو بھی والد کا کوئی کام نہیں کرنے دیتے تھے۔ میں نے ان سے جسٹس صاحب کی زندگی کے مزید واقعات سنانے کی درخواست کی۔ پولیس افسر ہنس کر بولے، ایک بار ان کی عدالت میں جائیداد کے تنازعہ کا کیس آیا۔ ایک طرف سوٹڈ بوٹڈ امیر لوگ کھڑے تھے اور ان کے ساتھ مہنگے وکیل تھے جبکہ دوسری طرف ایک مفلوک الحال بوڑھا کھڑا تھا۔ اس کا وکیل بھی مسکین اور سستا تھا۔ جسٹس صاحب چند سیکنڈز میں معاملہ سمجھ گئے لہٰذا انھوں نے بوڑھے سے پوچھا ’’باباجی آپ کیا کرتے ہیں؟‘‘ بزرگ نے جواب دیا ’’میں پرائمری ٹیچر ہوں‘‘ یہ سن کر جسٹس صاحب اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور کہا‘ ماشاء اللّٰه ہماری عدالت میں آج ایک استاد آئے ہیں لہٰذا یہ استاد کرسی پر بیٹھیں گے اور عدالت سارا دن ان کے احترام میں کھڑی ہو کر کام کرے گی اور اس کے بعد یہی ہوا۔ وہ بوڑھا استاد کرسی پر بیٹھا رہا جبکہ جسٹس صاحب اپنے عملے اور وکلاء کے ساتھ کھڑے ہو کر کام کرتے رہے۔ جسٹس صاحب نے سارے مقدمے نپٹانے کے بعد آخر میں بوڑھے استاد کا کیس سنا اور پانچ منٹ میں وہ بھی نپٹا دیا۔ میں نے ان سے پوچھا’’ کیا جسٹس صاحب حیات ہیں؟‘‘ ان کا جواب تھا ’’جی ہاں لیکن بیمار ہیں اور مفلوج ہیں‘‘ پولیس افسر نے اس کے بعد پرس سے پانچ سو روپے کے پانچ بوسیدہ نوٹ نکالے۔ میرے سامنے رکھے اور کہا ’’یہ وہ پانچ سو روپے ہیں۔ میں آج بھی انھیں تعویذ کی طرح جیب میں رکھتا ہوں‘‘ میں نے نوٹ اٹھائے، انھیں بوسا دیا اور اسے واپس پکڑا دیے۔ اس نے بھی وہ چومے اور دوبارہ پرس میں رکھ لیے۔ وہ واقعی تعویذ تھے۔ انھیں ایک اصلی انسان نے چھوا تھا۔ تحریر: ڈاکٹر سعید احمد صدیقی 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5622 https://t.me/islamwitheman/5397 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 باپ کی خدمت 🌹 ایک پولیس افسر اپنی آپ بیتی سناتا ہےکہ میں 1996 میں لاہور میں ایس ایچ او تھا۔ میرے والد بہت بیمار تھے اور میں نے انھیں سروسز اسپتال لاہور میں داخل کرا دیا۔ سردیوں کی ایک رات میں ڈیوٹی پر تھا اور والد اسپتال میں اکیلے تھے۔ اچانک ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی اور وہ الٹیاں کرنے لگے۔ میرے خاندان کا کوئی شخص ان کے پاس نہیں تھا۔ وہ دو مریضوں کا کمرہ تھا اور ان کے ساتھ دوسرے بیڈ پر ایک اور مریض داخل تھا۔ اس مریض کا اٹینڈنٹ موجود تھا۔ وہ اٹھا اور اس نے ڈسٹ بن اور تولیہ لیا اور میرے والد کی مدد کرنے لگا۔ وہ ساری رات ابا جی کی الٹیاں صاف کرتا رہا۔ اس نے انھیں قہوہ بھی بنا کر پلایا اور ان کا سر اور بازو بھی دبائے۔صبح ڈاکٹر آیا تو اس نے اسے میرے والد کی کیفیت بتائی اور اپنے مریض کی مدد میں لگ گیا۔ میں نو بجے صبح وردی پہن کر تیار ہو کر والد سے ملنے اسپتال آ گیا۔ اباجی کی طبیعت اس وقت تک بحال ہو چکی تھی۔ مجھے انھوں نے اٹینڈنٹ کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ رات میری اس مولوی نے بڑی خدمت کی۔ میں نے اٹینڈنٹ کی طرف دیکھا۔ وہ ایک درمیانی عمر کا باریش دھان پان سا انسان تھا۔ میں نے مسکرا کر اس کا شکریہ ادا کیا لیکن پھر سوچا اس نے ساری رات میرے والد کی خدمت کی ہے، مجھے بھی اس کا خیال کرنا چاہیے۔ میں نے جیب سے پانچ سو روپے نکالے اور اس کے پاس چلا گیا۔ وہ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اسے پانچ سو روپے پکڑانے لگا۔ وہ کرسی پر کسمسایا لیکن میں نے رعونت بھری آواز میں کہا ’’لے مولوی رکھ یہ رقم، تیرے کام آئے گی‘‘ وہ نرم آواز میں بولا ’’نہیں بھائی نہیں مجھے کسی معاوضے کی ضرورت نہیں۔ میں نے آپ کے والد کی خدمت الله کی رضا کے لیے کی تھی‘‘ میں نے نوٹ زبردستی اس کی جیب میں ڈال دیے۔ اس نے واپس نکالے اور میرے ہاتھ میں پکڑانا شروع کر دیے جبکہ میں اسے کندھے سے دباتا جا رہا تھا اور اصرار کر رہا تھا۔ میں اسے بار بار ’’او مولوی چھڈ، ضد نہ کر، رکھ لے، تیرے کام آئیں گے‘‘ کہہ رہا تھا مگر وہ بار بار کہہ رہا تھا، میرے پاس الله کا دیا بہت ہے، مجھے پیسے نہیں چاہییں۔ میں نے رات دیکھا آپ کے والد اکیلے ہیں اور تکلیف میں ہیں، میں فارغ تھا لہٰذا میں الله کی رضا کے لیے ان کی خدمت کرتا رہا۔ آپ لوگ بس میرے لیے دعا کردیں وغیرہ وغیرہ لیکن میں باز نہ آیا۔ میں نے فیصلہ کر لیا میں ہر صورت اسے پیسے دے کر رہوں گا۔ پولیس افسر رکے، اپنی گیلی آنکھیں اور بھاری گلہ صاف کیا اور پھر بولے، انسان جب طاقت میں ہوتا ہے تو یہ معمولی معمولی باتوں پر ضد باندھ لیتا ہے۔ یہ ہر صورت اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا ہے۔ میں نے بھی پیسے دینے کی ضد بنا لی تھی مگر مولوی مجھ سے زیادہ ضدی تھا، وہ نہیں مان رہا تھا۔ میں اس کی جیب میں پیسے ڈالتا تھا اور وہ نکال کر کبھی میری جیب میں ڈال دیتا تھا اور کبھی ہاتھ میں پکڑا دیتا تھا۔ میں نے اس دھینگا مشتی میں اس سے پوچھا ’’مولوی یار تم کرتے کیا ہو؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’بس ایسے ہی لوگوں کی خدمت کرتا ہوں‘‘ وہ مجھے اپنا کام نہیں بتانا چاہتا تھا۔ میں نے اب اس کا ذریعہ روزگار جاننے کی ضد بھی بنا لی۔ میں اس سے بار بار اس کا کام پوچھنے لگا۔ اس نے تھوڑی دیر ٹالنے کے بعد بتایا ’’میں کچہری میں کام کرتا ہوں‘‘ مجھے محسوس ہوا یہ کسی عدالت کا اردلی یا کسی وکیل کا چپڑاسی ہو گا۔ میں نے ایک بار پھر پانچ سو روپے اس کی مٹھی میں دے کر اوپر سے اس کی مٹھی دبا دی اور پھررعونت سے پوچھا ’’مولوی تم کچہری میں کیا کرتے ہو؟‘‘ اس نے تھوڑی دیر میری طرف دیکھا اور پھر میرے والد کی طرف دیکھا، لمبی سانس لی اور پھر آہستہ آواز میں بولا ’’مجھے الله نے انصاف کی ذمے داری دی ہے، میں لاہور ہائی کورٹ میں جج ہوں‘‘ مجھے اس کی بات کا یقین نہ آیا۔ میں نے پوچھا ’’کیا کہا؟ تم جج ہو!‘‘ اس نے آہستہ آواز میں کہا ’’جی ہاں میرا نام جسٹس منیر احمد مغل ہے اور میں لاہور ہائی کورٹ کا جج ہوں‘‘ یہ سن کر میرے ہاتھ سے پانچ سو روپے گر گئے اور میرا وہ ہاتھ جو میں نے پندرہ منٹ سے اس کے کندھے پر رکھا ہوا تھا وہ اس کے کندھے پر ہی منجمد ہو گیا۔ میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور آواز حلق میں فریز ہو گئی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی میں اب کیا کروں؟ جسٹس صاحب نے بڑے پیار سے میرا ہاتھ اپنے کندھے سے اتارا، کھڑے ہوئے، جھک کر فرش سے پانچ سو روپے اٹھائے، میری جیب میں ڈالے اور پھر بڑے پیار سے اپنے مریض کی طرف اشارہ کر کے بتایا ’’یہ میرے والد ہیں اور میں ساری رات ان کی خدمت کرتا ہوں، ان کا پاخانہ تک صاف کرتا ہوں۔

آپ اندازہ کیجئے یہودیوں کو جس بستی تل ابیب میں بخت نصر نے قیدی بنا کر رکھا تھا وہ اس کو آج تک نہیں بھولے ، انہوں نے اسرائیل بنانے کے بعد اپنے ایک شہر کا نام تل ابیب رکھ لیا۔ جبکہ ھم مسلمان اس مسجد اقصی کو بھی بھول چکے ھیں جہاں ھمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا سفر شروع کیا تھا۔ یہودی آج تک بار بار گرائے گئے ہیکل کو نہیں بھولے حتی کہ اس میں رکھے تابوت سکینہ کی تلاش میں پوری دنیا کو کھود دینا چاہتے ہیں جبکہ ہم کو یہ بھی یاد نہیں کہ عراق میں کتنے انبیا اولیاء کے مزارات پچھلے کچھ عرصہ میں بم لگا کر شہید کر دئیے گئے ہیں۔ وہ بھی اس تنظیم داعش نے کئے ہیں جن کے تانتے بانتے اسرائیل سے ملتے ہیں۔ جن کے لیڈر ابوبکر بغدادی کا بیان تھا خدا ہمیں اسرائیل کے خلاف جہاد کا حکم نہیں دیتا۔ اس تنظیم کی ساری توجہ مسلمانوں کو مارنے میں ہی لگی رہی اور اب تک ہے۔ کبھی مکے اور مدینے پر حملے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ اور کبھی انتشار پھیلانے کےلئے مسلمان ملکوں میں بم دھماکے کرتے ہیں۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

چنانچہ ہیکل کی(دوسری) تعمیر 537 ق م میں شروع ہوئی۔لیکن تعمیر کا کام سر انجام دینے والوں کو اپنے ہم وطن دشمنوں کی اتنی زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا کہ تعمیراتی کام جلد ہی عملی طور پر بند ہو گیااور دارا (Darius) اوّل کے دورِ حکومت تک مداخلت ہی کا شکار رہا۔ اُس کی حکمرانی کے دوسرے سال میں حضرت زکریا علیہ السلام نے وہاں کے گورنر زروبابل اور سردار کاہن یوشواہ (یوشع) کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ہیکل کی تعمیر ثانی کی دوبارہ کوشش کریں۔ انھوں نے مثبت ردِ عمل کا اظہار کیااور پوری قوم کی پر جوش تائیداور ایرانی حکام اور بذات خودبادشاہ کی اشیرباد سے ہیکلِ ثانی اپنی اضافی تعمیرات سمیت ساڑھے چار سال کے عرصے میں 520۔ 515 ق م پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ لیکن اس بار اس میں تابوت سکینہ نہیں مل سکا ۔ اس کے بارے آج تک معلوم نہیں ھوسکا کہ بخت نصر نے اس کا کیا کیا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ھے کہ اس مقدس صندوق کی مزید توھین سے بچانے کے لئے اسے اللہ پاک کے حکم سے کسی محفوظ مقام پر معجزانہ طور پر چھپا دیا گیا جس کا کسی انسان کو علم نہیں۔لیکن یہودی اس کی تلاش میں پورے کرہ ارض کو کھود ڈالنا چاھتے ھیں۔ ایک اور دلچسپ بات عام طور پر تاریخ دان ہیکل کی دو دفعہ تعمیر اور دو دفعہ تباھی کا ذکر کرتے ھیں۔ تاریخ کے مطالعے سے ایک بات میرے سامنے آئی کہ ایسا نہیں ، اس ہیکل کو تین بار تعمیر کیا گیا لیکن اس کے ساتھ بھی ایک دلچسپ کہانی وجود میں آئی۔ ھیروڈس بادشاہ جو کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے چند سال پہلے کا بادشاہ ہے اس نے جب اس کی بہتر طریقے سے تعمیر کی نیت کی تو یہودیوں کے دل میں ایک خوف پیدا ھوا کہ اگر اسے نئے سرے سے تعمیر کے لئے گرایا گیا تو دوبارہ تعمیر نہیں ھوگا۔ ھیروڈس نے ان کو بہلانے کے لئے کہا کہ وہ صرف اس کی مرمت کرانا چاھتا ھے اسے گرانا نہیں چاھتا۔ چنانچہ سن 19 ق م میں اس نے ہیکل کے ایک طرف کے حصے کو گرا کر اسے تبدیلی کے ساتھ اور کچھ وسیع کرکے تعمیر کروایا یہ طریقہ کامیاب رھا اور یوں یہودیوں کی عبادت میں خلل ڈالے بغیر تھوڑا تھوڑا کرکے ہیکل گرایا جاتا اور اس کی جگہ نیا اور پہلے سے مختلف ہیکل وجود میں آتا رھا۔ یہ کام اٹھارہ ماہ میں مکمل ھوا اور یوں تیسری بار ھیروڈس کے ذریعے ایک نیا ہیکل وجود میں آ گیا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ھوا، اللہ کے اس رسول پر ایک بار پھر یہودیوں نے حسب معمول مظالم کے پہاڑ توڑنے شروع کر دئیے۔ دراصل وہ اپنے مسیحا کے منتظر تھے جو دوبارہ آ کر ان کو پہلے جیسی شان و شوکت عطا کرتا ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ھونے کا واقعہ پیش آیا ، آپ کے مصلوب ھونے کے 70 سال بعد ایک بار پھر یہودیوں پر اللہ کا عذاب نازل ھوا۔ اس بار اس عذاب کا نام ٹائٹس تھا۔ یہ رومی جرنیل، بابل کے بادشاہ بخت نصر سے بھی زیادہ ظالم ثابت ھوا۔ اس نے ایک دن میں لاکھوں یہودیوں کو تہہ تیغ کر دیا۔ اس نے ھیروڈس کے بنائے ھوئے عظیم الشان ہیکل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اور یہودیوں کو ھمیشہ کے لئے یروشلم سے نکال باھر کیا۔ یہودی پوری دنیا میں بکھر کر اور رسوا ھوکر رہ گئے۔ کم و بیش اٹھارہ انیس سو سال تک بھٹکنے کے بعد برطانیہ نے جب فلسطین پر قبضہ کیا تو ساتھ ہی ایک ناجائز بچےاسرائیل کو فلسطین میں جنم دے دیا۔ اور یوں صدیوں سے دھکے کھانے والی قوم کو ایک بار پھر اس ملک اسرائیل میں اکٹھے ھونے رھنے کی اجازت مل گئی۔ لیکن یہ قوم اپنی ھزاروں سال پرانی گندی فطرت سے باز نہ آئی ۔ یہ برطانیہ کے جنم دئیے ھوئے اسرائیل تک محدود نہ رھے ایک بار پھر ھمسایہ ممالک کے لئے اپنی فطرت سے مجبور ھوکر مصیبت بننے لگے۔ 5 جون 1967 کو اس نے شام کی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ 1968 میں اردن کے مغربی کنارے پر قابض ھوگئے۔ اسی سال مصر کے علاقے پر بھی کنٹرول کر لیا۔ آج اس قوم کی شرارتیں اور پھرتیاں دیکھ کر اندازہ ھوتا ہے کہ یہ آج سے دو تین ھزار سال پہلے بھی کس قدر سازشی رہے ہوں گے۔ جس کی وجہ سے اللہ نے ان پر لعنت کر دی تھی۔ مسلمان ممالک کی بے غیرتی اور بزدلی کی وجہ سے اب اس نے پوری دنیا کے مسلمان ممالک میں آگ لگا کر رکھ دی ہے۔ اب ان کا اگلا مشن جلد ازجلد اسی ہیکل کی تعمیر ھے اور اس ہیکل میں تخت داؤد اور تابوت سکینہ کو دوبارہ رکھنا ہے تاکہ ایک بار پھر یہ اپنے مسایا (یہودی زبان کا لفظ ) مسیحا کے آنے پر پوری دنیا پر اپنی حکومت قائم کر سکیں۔ وہ یہ کام انتہائی تیزرفتاری سے کر رہے ھیں۔ اس ہیکل کی تعمیر کے نتیجے میں یہ پوری دنیا جنگ کی آگ میں لپٹ جائے گی۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیل کے دارالخلافہ کی تبدیلی کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ لیکن مسلمان اقوام کو کوئی پرواہ نہیں۔

ہیکل سلیمانی درحقیقت ایک مسجد یا عبادت گاہ تھی۔ جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے جنات سے تعمیر کروائی تھی تاکہ لوگ اس کی طرف منہ کرکے یا اس کے اندر عبادت کریں۔ ہیکل سلیمانی کی تعمیر سے پہلے یہودیوں کے ھاں کسی بھی باقاعدہ ہیکل کا نہ کوئی وجود اور نہ اس کا کوئی تصور تھا۔ اس قوم کی بدوؤں والی خانہ بدوش زندگی تھی۔ان کا ہیکل یا معبد ایک خیمہ تھا۔ اس خیمے میں تابوت سکینہ رکھا ھوتا تھا جس کی جانب یہ رخ کرکے عبادت کیا کرتے تھے۔ روایات کے مطابق یہ تابوت جس لکڑی سے تیار کیا گیا تھا اسے " شمشاد کہتے ہیں۔ اور اسے جنت سے حضرت آدم علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا تھا۔ یہ تابوت نسل در نسل انبیا سے ھوتا ھوا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تک پہنچا تھا، اس مقدس صندوق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا من و سلویٰ اور دیگر انبیا کی یادگاریں تھیں۔ یہودی اس تابوت کی برکت سے ھر مصیبت پریشانی کا حل لیا کرتے تھے مختلف اقوام کے ساتھ جنگوں کے دوران اس صندوق کو لشکر کے آگے رکھا کرتے اس کی برکت سے دشمن پر فتح پایا کرتے۔ جب حضرت داؤد علیہ السلام کو بادشاہت عطا ھوئی تو آپ نے اپنے لئے ایک باقاعدہ محل تعمیر کروایا۔ ایک دن ان کے ذہن میں خیال آیا کہ میں خود تو محل میں رہتا ھوں جبکہ میری قوم کا معبد آج بھی خیمے میں رکھا ھوتا ہے۔ یہ بائیبل کی روایات ہے، جیسے بائیبل میں ہے " بادشاہ نے کہا: ’میں تو دیودار کی شان دار لکڑی سے بنے ہوئے ایک محل میں رہتا ہوں، مگر خدا وند کا تابوت ایک خیمے میں پڑا ہوا ہے( 2۔سموئیل 4؛2)۔ چنانچہ آپ نے ہیکل کی تعمیر کا ارادہ کیا اور اس کے لئے ایک جگہ کا تعین کیا گیا۔ ماھرین نے آپ کو مشورہ دیا کہ اس ہیکل کی تعمیر آپ کے دور میں ناممکن ہے آپ اس کا ذمہ اپنے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کو دے دیجئیے۔ چنانچہ حضرت سلیمان نے (970 ق م ۔ 930 ق م ) نے اپنے دور حکومت کے چوتھے سال میں اس کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ آج اس کی بناوٹ اور مضبوطی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ تعمیر انسانوں کے بس کی بات نہیں تھی اتنے بھاری اور بڑے پتھروں کو ان جنات کی طاقت سے چنا گیا تھا جن پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت تھی۔ ہیکل کی پہلی تعمیر کے دوران ہی حضرت سلیمان علیہ السلام اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ لیکن جنات کو پتہ نہ چل سکا اور انہوں نے ہیکل کی تعمیر مکمل کردی۔ یہ واقعہ آپ نے پہلے بھی پڑھا ہوگا۔ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی روح اللہ نے دوران عبادت ہی قبض کرلی لیکن اس کی ترکیب اس طرح بنی کے آپ ایک لکڑی پر سر اور کمر رکھ کر عبادت میں مصروف ہوگئے اور اس لکڑی کے سہارے سے یوں لگتا تھا کہ آپ اب بھی عبادت ہی کررہے ہیں۔ جبکہ آپ کا انتقال ہوچکا تھا۔ بہرحال یہ ہیکل، معبد یا مسجد بہت عالیشان اور وسیع و عریض تعمیر کی گئی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد اس میں تین حصے کردئیے گئے تھے بیرونی حصے میں عام لوگ عبادت کیا کرتے اس سے اگلے حصے میں علما جو کہ انبیا کی اولاد میں سے ھوتے ان کی عبادت کی جگہ تھی اس سے اگلے حصے میں جسے انتہائی مقدس سمجھا جاتا تھا اس میں تابوت سکینہ رکھا گیا تھا۔ اس حصے میں کسی کو بھی داخل ھونے کی اجازت نہیں تھی۔ سوائے سب سے بڑے عالم پیش امام کے۔ وقت گزرتا رھا اس دوران بنی اسرائیل میں پیغمبر معبوث ھوتے رہے یہ قوم بد سے بدتر ھوتی رھی ، یہ کسی بھی طرح اپنے گناھوں سے توبہ تائب ھونے یا ان کو ترک کرنے کے لئے تیار نہیں تھے یہ ایک جانب عبادتیں کیا کرتے دوسری جانب اللہ کے احکام کی صریح خلاف ورزی بھی کرتے رہے۔ ان کی اس دوغلی روش سے اللہ پاک ناراض ھوگیا۔ان کے پاس ایک بہت بڑی تعداد میں انبیا بھی بھیجے گئے لیکن یہ قوم سدھرنے کو تیار نہ تھی حتی کہ ان کی شکلیں تبدیل کرکے بندر اور سؤر تک بنائی گئیں لیکن یہ گناھوں سے باز نہ آئے تب اللہ نے ان پر لعنت کر دی۔ 586 ق۔ م میں بخت نصر نے ان کے ملک پر حملہ کیا ان کا ہیکل مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیا، ہیکل میں سے تابوت سکینہ نکالا، چھ لاکھ کے قریب یہودیوں کو قتل کیا تقریبا" دو لاکھ یہودیوں کو قید کیا اور اپنے ساتھ بابل (عراق) لے گیا شہر سے باھر یہودی غلاموں کی ایک بستی تعمیر کی جس کا نام تل ابیب رکھا گیا۔ 70 سال تک ہیکل صفحہ ھستی سے مٹا رھا۔ دوسری طرف بخت نصر نے تابوت سکینہ کی شدید بے حرمتی کی اور اسی کہیں پھینک دیا کہا جاتا ہے اس حرکت کا عذاب اسے اس کے ملک کو اس طرح ملا کہ سن 539 ق۔ م میں ایران کے بادشاہ سائرس نے بابل ( عراق) پر حملہ کر دیا اور بابل کے ولی عہد کو شکست فاش دے کر بابلی سلطنت کا مکمل خاتمہ کر دیا۔ سائرس ایک نرم دل اور انصاف پسند حکمران تھا اس نے تل ابیب کے تمام قیدیوں کو آزاد کرکے ان کو واپس یروشلم جانے کی اجازت دے دی۔ اور ساتھ میں ان کو ہیکل کی نئے سرے سے تعمیر کی بھی اجازت دے دی ساتھ میں اس کی تعمیر کے لئے ھر طرح کی مدد فراھم کرنے کا وعدہ بھی کر لیا۔

🎅 پھوکنی 🎅 ایک مزاحیہ روداد۔۔۔۔ میرا ایک دوست زیدی ایک وجیہہ و خوبرو خوش شکل جوان تھا۔۔چھ فٹ قد بھرا بھرا جسم پہلوانوں جیسا دِکھتا تھا۔۔ میرا بچپن کا دوست تھا اس لئے میں اسکی رگ رگ سے واقف تھا۔۔ کنوارہ تھا تو بڑی لمبی لمبی چھوڑتا تھا کہ عورت پاؤں کی جوتی ہوتی ہے ایک اتار دی تو دوسری پہن لی۔۔۔ شادی سے پہلے تو وہ ہر دوست پارٹی اور لانگ ٹور میں شرکت کرتا تھا پھر اسکی شادی ہو گئی ۔۔ اسکی شادی کیسے ہوئی ? وہ بھی تھوڑی سی روداد لکھتا ہوں۔۔۔ دسمبر کا ٹھنڈا ٹھار مہینہ تھا جب زیدی کی شادی طے ہوئی۔۔ زیدی کی جب مہندی تھی تو اسکا چچا رکشہ پہ مہندی سجا کے لایا ، ساتھ ایک ڈانسر بھی لیکر آیا ، جیسے ہی سجا ہوا رکشہ گاؤں کی نکڑ پہ آیا تو رکشے کی سجی ہوئی لائیٹیں روشن کرنے اور رکشے پہ لگا ایمپلی فائر ڈیک چلانے کے لئے جنریٹر میں پٹرول نہیں تھا۔۔ زیدی کا چچا جلدی جلدی بھاگ کے قریبی پٹرول پمپ سے ڈیڑھ لیٹر ڈیزل لے آیا اور جنریٹر میں ڈال دیا۔۔ پٹرول والا جنریٹر ڈیزل ڈالنے سے چلا نہیں بلکہ خراب ہوگیا اور سجا ہوا رکشہ بند لائیٹوں سے ہی زیدی کے گھر گیا، ڈانسر کو ڈیک پہ ہی پرفارمنس دکھانے کا کہا گیا۔۔ ہم دوست بھی ایک ڈانسر لیکر آئے تھے ،ہمارا ڈانسر بیٹھا تھا اور زیدی کے چچا والا ڈانسر ناچ رہا تھا۔۔لوگ پیسے پھینک رہے تھے۔۔ ہمارے ڈانسر سے پیسے دیکھ کر صبر نہ ہوا تو اس نے رولا ڈال دیا کہ مجھے کیوں بٹھایا ہوا ہے۔۔بڑوں کی مداخلت پہ ہمارے ڈانسر کو بھی پہلے ڈانسر کے ساتھ ہی نچا دیا گیا لیکن پانچ سات منٹ گزرے تھے کہ دونوں ڈانسروں کی پیسوں پہ لڑائی ہوگئی جو لوگ انکے اوپر پھینک رہے تھے۔۔۔دونوں ڈانسر تیسری صنف سے تھے اور لگے ایک دوسرے کے بال کھینچنے ، مہندی کی رسم کو تڑکا لگ گیا تھا۔۔خیر بڑوں کی مداخلت پہ ڈانسروں کو چھڑوایا گیا اور طے پایا کہ ایک ڈانسر الگ ناچے دوسرا الگ ناچے۔۔ ایک ہی گھر میں دو مجمع لگ گئے دونوں ڈانسر تھوڑے تھوڑے فاصلے پہ ناچ رہے تھے یعنی میلے کا سماع بنا ہوا تھا۔۔ مہندی ختم ہوئی تو دوسرے دن بارات تھی۔۔ بارات اسی گاؤں میں ہی جانی تھی سو بارات پیدل ہی ڈھم ڈھماں ڈھم ہوتی گئی۔۔ زیدی کی دلہن گھر آئی تو وہ چندرہ گھر سے باہر ہی نہ نکلے ، سبھی دوست کہتے کہ اس سے پارٹی کھاتے ہیں کسی اچھے ہوٹل سے مٹن کڑاہی کھاتے ہیں ، دوستوں نے ہوٹل بھی سیلیکٹ کرلیا لیکن زیدی گھر سے باہر نہ نکلا ، موبائل بھی پاور آف کر لیا۔۔ دوسرے دن زیدی کو گرفتار کیا گیا کہ دوست پارٹی کہاں ہے? زیدی کنجوس نکلا اور گھیڑا دے گیا کہ ایک دو دن تک کھلاتا ہوں۔۔تیسرے دن پھر پکڑا گیا تو ایک کلو گوشت برائلر مرغی کا لے آیا اور کہتا آپکو گھر میں ہی پارٹی کھلاتا ہوں۔۔نئی نویلی دلہن نے ایک کلو گوشت بنایا ساتھ دو کلو پانی ڈال دیا کہ بوٹی ڈبکی لگا کے ڈھونڈنی پڑتی تھی، اور روٹی کا لقمہ شیول بنا کے لگانا پڑتا تھا۔۔ خیر زیدی کی شادی پرانی ہوگئی۔۔ اور زیدی سب دوستوں کو جھنڈی کروا گیا کہ سب پارٹیاں ختم ، ٹور ختم ، اٹھنا بیٹھنا ختم ۔۔۔ زیدی کا کمرہ گھر والوں سے الگ تھا۔۔ ہم دو تین دوستوں نے زیدی سے کال کی کہ کہاں ہو? جواب ملا کہ گھر پہ ہی ہوں۔۔ ہم نے کہا کہ آج فش پارٹی ہے حاصلپور والے ہیڈ پہ جاکے مچھلی کھاتے ہیں ، زیدی نے کہا آپکو بتاتا ہوں۔۔ حالانکہ پہلے زیدی پہلی کال پہ ہی ڈن کرتا تھا۔۔ ہم دو تین دوست زیدی کے گھر ہی چلے گئے، زیدی چونکہ ہمارا رشتے دار تھا اس لئے ہمیں روک ٹوک نہیں تھی۔۔ ہم جیسے ہی زیدی کے کمرے کے سامنے گئے تو کیا دیکھا کہ ہمارے تو قہقہے نکلنے لگے تھے بڑی مشکل سے ہینڈ بریک کھینچی۔۔۔ زیدی کی بیگم چارپائی پہ بیٹھی تھی اور ہاتھ میں پھوکنی تھی ( پھوکنی جو آگ جلانے کے لئے پھونک ماری جاتی ) جبکہ زیدی چارپائی سے نیچے زمین پہ بیٹھا اپنی بیگم کا پاؤں اٹھا کے اپنی جھولی میں رکھے ہوئے تھا ،شاید پاؤں دبا رہا تھا کہ پارٹی پہ جانے کے لئے منت سماجت کر رہا تھا ، زیدی کی بیگم کی آواز ہمیں سنائی دی جو زیدی کو کہہ رہی تھی کہ آپ نے نہیں جانا کسی پارٹی پورٹی میں، جبکہ زیدی کہہ رہا تھا کہ میری عزت نہیں رہے گی اگر نہ گیا تو ، اتنے میں ہم دروازے کے پاس چھپ کے سارا ڈرامہ دیکھ رہے تھے کہ ہمارے ایک دوست کی ہنسی نکل گئی تو زیدی ایکدم اٹھا اور ہمارے ساتھ محو کلام ایسے ہوا جیسے ہم نے کچھ دیکھا ہی نہیں ، پارٹی میں جب گئے تو ایک دوست نےزیدی کو کہا کہ بیگم کے پاؤں دبا رہے تھے۔۔ زیدی ہکا بکا رہ گیا اور فوری طور پہ جب کوئی جھوٹ نہ بنا سکا تو کہنے لگا ، اسکی پازیب کھل گئی تھی وہ بند کر رہا تھا ، سب دوستوں نے قہقہے لگا دئیے۔۔۔ 🤔🤔😜🤡😜🤔🤔 http://t.me/muskuraahten 🎅 MUSKURAAHTEN 🎅

😢 فوتگی اور ہمارا فیشن 😳 جھنجھلا دینے والا سچا واقعہ ایک لڑکی کی زبانی ۔۔۔ آج میرا کسی کام کے سلسلے میں سیلون جانا ہوا وہیں ایک لڑکی تیزی سے آئ اور کہا کہ مجھے ہلکا پھلکا میک اپ کروانا ہے جلدی سے تیار کر دیں مجھے کہیں جانا ہے وہاں موجود سٹاف ان کو تیار کرنے لگا۔ آپ نے کسی شادی پر جانا ہے یا پارٹی میں؟ سٹاف نے بیس بناتے ہوۓ معمول کے انداز میں پوچھا۔ آگے سے جو جواب آیا میں جو مصروف بیٹھی تھی اس کی بات سن کر ایک دم سے شل ہو گئی۔ میں نے پوری گردن موڑ کر اسے دیکھا سٹاف کا ہاتھ بھی ایک لحظہ کو رک گیا پتا ہے اس نے کیا بولا تھا؟ اس نے کہا مجھے فوتگی والا میک اپ کروانا ہے۔۔ اسی حساب سے ایڈجسٹ کرنا۔ میں جو کسی سے بلاضرورت سوال نہیں کرتی اس سے پوچھا کہ کس کی ڈیتھ ہوئی ہے؟ کہتی ہے شوہر کے رشتہ دار ہیں۔ وہ دوبارہ تیار ہونے لگی اور میرا دماغ بالکل ماؤف بیٹھا تھا جب تیار ہوچکی تو باقاعدہ پلکیں بھی لگوائیں، لائٹ سی لپ اسٹک اور پھر دوپٹہ سیٹ کیا۔ جانے لگی تو میں نے پھر پوچھ لیا کہ آج چالیسواں ہے یا دسواں یا کوئی جمعرات ہے؟؟ کہتی ہے نہیں سسٹر آج ہی ڈیتھ ہوئی ہے ہم جنازے پر جا رہے ہیں۔ اللہ اکبر میں تو بالکل صدمے میں بیٹھ گئی سیلون کی اونر میری فرینڈ ہے میری حالت دیکھ کر کہنے لگی کہ یار تم آج پہلی بار سن رہی ہو ہم تو عادی ہوچکے ہیں۔ کئی لڑکیاں اپنے دادا دادی وغیرہ کے مرنے پر فیشل پلکنگ کروانے آتی ہیں کہ ابھی ڈیتھ ہوئی ہے جلدی سے کر دیں پھر رشتے دار آجائیں گے۔ اللہ کی پناہ میری تو سوچ سمجھ سے باہر کی چیز ہے کافی عرصہ پہلے فوتگی کے میک اپ والی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی تو مجھے بنانے والی ذہنی مریضہ لگی کہ بھلا فوتگی پر کون تیار ہوتا ہے۔ لیکن آج یہ منظر دیکھ کر میرا دل کانپ اٹھا۔۔مطلب ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ ایک انسان یہ دنیا چھوڑ کر جا رہا ہے۔ اسے دعاؤں کے ساتھ الوداع کرنے کی بجاۓ میک اپ کر لیں تاکہ ہم حور پریاں بن جائیں ؟؟ ؟ تف ہے ایسی سوچ پر، ایسے ہر عمل پر اور اس کا پرچار کرنے والوں پر کہ ‌ہم نے بھی مرنا ہے اور قبر میں جانا ہے۔ 🔘 اللہ پاک ہم سب کو کامل ہدایت عطا فرمائے آمین ثم آمین آئیں اپنی اصلاح کریں۔ ثواب کی نیت اور صدقہ جاریہ کے لیے اسے آگے ضرور شیئر کریں۔ اللہ پاک آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین ۔ ✍ ناہید حسین https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 شادی ہال میں ڈانس فلور 🔷 آجکل نیا ٹرینڈ چل پڑا ہے.... دیکھے تو پہلے بھی تھے ۔لیکن کل پتہ چلا کہ جو الگ سے فلور بناۓ جا رہیں ہیں سٹیج کے سامنے انہیں ڈانس فلور کہتے ہیں ۔ چلو جی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے واسیو.. ہمارے ہاں مہندی مایوں کی رسومات کے ساتھ ایک اور رسم کا اضافہ ہونے جا رہا ہے ۔ڈانس پریکٹس اور ڈانس پارٹی کے نام پر۔ شروع میں یہ سب کو تھوڑا عجیب لگے گا۔پھر آہستہ آہستہ لوگ اسے نارمل سمجھیں گیں کہ چلو شادی کا موقع ہے۔دو چار ٹھمکے لگانے میں کوئی حرج نہیں ۔پھر یہ شادیوں کا لازمی جز بن جائے گا۔ اور شادی ہالز نے یہ حجت بھی تمام کر دی۔ڈانس کرنے کے لیے الگ سے فلور کا انتظام کر دیا کہ "ناچ لو جتنا ناچنا چاہتے ہو" افسوس صد افسوس اب شاید بہت سے لوگ یہ توجیہہ پیش کریں کہ عوام کی ڈیمانڈ پر بناۓ گئے ہونگے ڈانس فلور...... ارے بھئی ماناکہ پاکستان میں بہت بڑی فین فالوانگ ہے ایسے یو ٹیوبر کی جن کی شادیوں میں یہ ڈانس فلور بھی بنے اور دلہن نا چتی تھرکتی داخل ہو رہی ہے ۔پھر ایک طوفان بدتمیزی جس کا ذکر کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ سب ایسے ہیں ۔ پاکستان میں مڈل کلاس بھی بستی ہے۔ اور اصل میں یہی کلاس اپنی ثقافت اور اقدار کی پاسدار ہوتی ہے ۔کیونکہ ایلیٹ کلاس نے تو لازماً اپنے پیسے کی نمائش کرنی ہے اور غریب سے بھی نچلے درجے کے لوگ تو روٹی کی فکر سے نہیں نکل پاتے جو وہ صیح غلط کی طرف توجہ دیں انہیں پیٹ بھرنا ہے بس..... سوچو اگر مڈل کلاس بھی اس طرف چل پڑی تو پھر مشرق اور مغرب میں کتنا فرق رہ گیا۔ڈانس فلوران کے کلچر کا حصہ ہے ہمارانہیں... ہمارے یونیورسٹی کے ایک ٹیچر کہا کرتے تھے کہ بچیوں کو اگر جانچنا ہو کہ تربیت کا اثر کس حد تک ہے۔چاہے گھر کا ماحول کتنا بھی سخت ہے تو خاندان کی شادیوں اور یونیورسٹی کے trips میں جانچ لو.۔ تو بس دیکھ لیجیے آجکل کی شادیوں کا حال ۔پہلے سر سے ڈوپٹہ کھسکنا عام ہوا، پھر اکثر کا غائب ہوا اور اب ڈانس فلور... کل بچیوں کو چکنی چنبیلی پر ڈانس کرتے دیکھ کر بہت عجیب سی کیفیت ہو رہی تھی کہ کتنا عام ہو گیا ہے نا یہ سب....االلہ جی ان پر اپنا کرم رکھنا انہیں ہر شر سے محفوظ رکھنا۔ ساتھ بیٹھی اپنی بیٹی کو سمجھایا کہ بیٹا ہو سکتا ہے کہ تمہیں یہ سب اچھا لگے کیونکہ برائی ہمیشہ اپنی طرف کھینچتی ہے ۔مگر یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ " اگر تم میں حیا نہ رہے تو جو مرضی کرو" تو بس وہ کام ہر گز مت کرنا کہ خدانخواستہ اللہ ساتھ چھوڑ دے۔ اللہ جی ہم تمام مسلمانوں کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین ثم آمین رابعہ بخاری 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 ‏ایک چرواہے کا عجیب واقعہ 🌹 غزوہ خیبر کے موقع پر ایک چرواہا حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں آیا ، وہ یہودیوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا، اس چرواہے نے جب دیکھا کہ خیبر سے باہر مسلمانوں کا لشکر پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے، اسکے دل میں خیال آیا کہ میں جا کر ان سے ملاقات کروں۔ اور دیکھوں کہ یہ مسلمان کیا کہتے ہیں اور کیا کرتے ہیں؟ چنانچہ بکریاں چراتا ہوا مسلمانوں کے لشکر میں پہنچا اور ان سے پوچھا کہ تمہارے سردار کہاں ہیں؟ صحابہ کرامؓ نے بتایا کہ ہمارے سردار حضور ﷺ اس خیمے کے اندر ہیں۔ پہلے تو اس چرواہے کو انکی باتوں پر یقین نہیں آیا' اس نے سوچا کہ اتنے بڑے سردار ایک معمولی سے خیمے کے اندر کیسے بیٹھ سکتے ہیں۔ اسکے ذہن میں یہ تھا کہ جب آپ اتنے بڑے بادشاہ ہیں تو بہت ہی شان و شوکت اور ٹھاٹ باٹ کیساتھ رہتے ہونگے لیکن وہاں تو کھجور کے پتوں کی چٹائی سے بنا ہوا خیمہ تھا۔ خیر وہ اس خیمے کے اندر آپ سے ملاقات کے لئے داخل ہوا، اور آپ سے ملاقات کی۔۔۔ اور پوچھا کہ آپ کیا پیغام لے کر آئے ہیں؟ اور کس بات کی دعوت دیتے ہیں؟ حضور اقدس ﷺ نے اسکے سامنے اسلام اور ایمان کی دعوت رکھی۔ اور اسلام کا پیغام دیا۔ اس نے پوچھا کہ اگر میں اسلام کی دعوت قبول کرلوں تو میرا کیا انجام ہوگا ؟ اور کیا رتبہ ہو گا؟ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ: اسلام لانے کے بعد تم ہمارے بھائی بن جاؤ گے اور ہم تمہیں گلے سے لگا ئیں گے۔ اس چرواہے نے کہا کہ آپ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں میں کہاں اور آپ کہاں! میں ایک معمولی سا چرواہا ہوں ۔ اور میں ایک سیاہ فام انسان ہوں، میرے بدن سے بدبو آ رہی ہے۔ ایسی حالت میں آپ مجھے کیسے گلے سے لگا ئیں گے؟ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ "ہم تمہیں ضرور گلے سے لگائیں گے اور تمہارے جسم کی سیاہی کو اللہ تعالی تابانی سے بدل دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے جسم سے اٹھنے والی بدبو کو خوشبو سے تبدیل کر دے گا۔ یہ باتیں سن کر وہ فوراً مسلمان ہو گیا اور کلمہ شہادت: (اشهد ان لا اله الا اللہ واشهد انا محمد رسول الله) پڑھا۔ پھر حضور اقدس ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہﷺ اب میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا کہ تم ایسے وقت پر ایمان لائے ہو کہ نہ تو اس وقت کسی نماز کا وقت ہے کہ تم سے نماز پڑھواؤں اور نہ ابھی روزہ کا زمانہ ہے کہ تم سے روزے رکھواؤں زکوۃ تم پر فرض نہیں ہے اس وقت تو صرف ایک ہی عبادت ہو رہی ہے جو تلوار کی چھاؤں میں انجام دی جاتی ہے وہ ہے "جہاد فی سبیل اللہ" اس چرواہے نے کہا یارسول اللہ ﷺ میں اس جہاد میں شامل ہو جاتا ہوں لیکن جو شخص جہاد میں شامل ہوتا ہے اسکے لئے دو میں سے ایک صورت ہوتی ہے غازی یا شہید تو اگر میں اس جہاد میں شہید ہو جاؤں تو آپ میری کوئی ضمانت لیجئے۔ حضور اقدسﷺ نے فرمایا کہ میں اس بات کی ضمانت لیتا ہوں کہ اگر تم اس جہاد میں شہید ہو گئے تو اللہ تعالی تمہیں جنت میں پہنچا دے گا اور تمہارے جسم کی بدبو کو حوشبو سے تبدیل کر دے گا اور تمہارے چہرے کی سیاسی کو سفیدی میں تبدیل فرما دے گا۔ چونکہ وہ چرواہا یہودیوں کی بکریاں چراتا ہوا وہاں پہنچا تھا۔ اس لئے حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ "تم یہودیوں کی جو بکریاں لے کر آئے ہو۔ ان کو جا کر واپس کرو اس لئے کہ یہ بکریاں تمہارے پاس امانت ہیں۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ جن لوگوں کیساتھ جنگ ہو رہی ہے۔ جن کا محاصرہ کیا ہوا ہے ان کا مال غنیمت ہے۔ لیکن چونکہ وہ چرواہا بکریاں معاہدے پر لیکر آیا تھا اس لئے آپ ﷺ نے حکم دیا کہ پہلے وہ بکریاں واپس کر کے آؤ۔ پھر آ کر جہاد میں شامل ہونا۔ چنانچہ اس چرواہے نے جا کر بکریاں واپس کیں۔ اور واپس آکر جہاد میں شامل ہوا اور شہید ہو گیا۔ جب جنگ ختم ہو گئی تو حضور اقدسﷺ لشکر کا جائزہ لینے گئے۔ ایک جگہ آپﷺ نے دیکھا کہ صحابہ کرامؓ کا مجمع اکٹھا ہے۔ آپ ﷺ قریب پہنچے تو ان سے کہا کہ کیا بات ہے؟ صحابہ کرامؓ نے فرمایا جو لوگ جنگ میں شہید ہو گئے ہیں ان میں سے ایک آدمی ایسا بھی ہے کہ جس کو ہم میں سے کوئی نہیں جانتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے دکھاؤ۔ جب آپ نے دیکھا تو فرمایا "تم اس شخص کو نہیں پہچانتے مگر میں اسکو پہچانتا ہوں۔ یہ چرواہا ہے اور یہ وہ بندہ ہے جس نے اللہ کی راہ میں ایک بھی سجدہ نہیں کیا اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالٰی نے سیدھا اسکو جنت الفردوس میں پہنچا دیا ہے۔ اور میری آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ ملائکہ اسکو غسل دے رہے ہیں۔ اور اسکی سیاہی سفیدی میں تبدیل ہو گئی ہے۔ اور اسکی بدبو خوشبو میں تبدیل ہو گئی ہے۔ 📚 بحوالہ اصلاحی خطبات۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 قانع مرد 🌹 ایک چھوٹی سی حکایت ۔۔۔۔۔۔۔ مہوش سے میری بہت اچھی دوستی ہے ہم تقریبا کچھ مہینوں کے فرق سے ساتھ ساتھ ہی شادی ہو کر کالونی آئے۔ بیچ کی دیوار ایک تھی گیٹ بھی ساتھ ہی جڑے ہوئے تھے۔ بچے بھی برابر ہیں۔ صبح میاں صاحبان آفس چلے جاتے، ہم دونوں میں سے جو پہلے فارغ ہو جاتی دوسری کے پاس پہنچ جاتی۔ سارا دن گپ شپ جاری رہتی اکثر ایک ہی گھر میں ایک ہی برتن میں اکٹھے کھا لیتیں۔ جو ایک گھر میں بنا ہوتا دوسرے گھر میں لازمی پہنچ جاتا۔ ہمارے درمیان کوئی راز نامحرم نہیں تھا۔ کوئی قریبی رشتہ پاس نہیں تھا سو ہم دنوں قریب آ گئیں خوب دل لگا رہتا۔ سسرال کی جھنجھٹ ساتھ نہیں تھی تو راوی چین ہی چین لکھتا تھا۔ مجھے کچھ معاملات میں میاں صاحب سے شکایت رہتی مگر وہ اللہ کی بندی بڑی خوش باش اور مطمئن دکھائی دیتی۔ ہر دم میاں کا دم بھرتی۔ پاس پڑوس والیاں کہتیں عمر میں میاں سے بڑی ہے۔ جہیز بھی نہیں تھا ہر مہینے ضرورت کا کچھ نا کچھ خریدنا پڑتا۔ ہم لمبی لمبی گپیں لگاتے، سچ پوچھیں تو ماں بہنیں سب بھول گئیں۔ میاں صاحبان شام کو اکٹھے ہی آتے تھے تب ہم اپنے اپنے گھر چلی جاتیں۔ ایک دن صوفوں کے کشن کاڑھتے، سوئی منہ میں دباتے وہ بولی شکیل کو غیر عورتوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میرے منہ سے نکل گیا شاید تم میں بھی نہیں ۔۔۔۔ کہہ کر بری طرح سٹپٹا گئی مگر اس نے کچھ خاص نوٹس ہی نہیں لیا مگن سے انداز میں بولی ارے نہیں بہت ہی خیال اور محبت کرتے ہیں۔ اللہ لوک بندے ہیں انکا خیال ہے انسان کی تعلیم مکمل ہو جائے نوکری وقت پر مل جائے اور شادی وقت پر ہو جائے اور کیا چاہیئے ایک انسان کو دنیا میں ۔۔۔۔ نوکری اللہ نے بغیر کسی دھکے کے دے دی شادی بھی وقت پر ہو گئی ۔۔۔۔۔ کہتے کہتے وہ زرا رکی تمہیں معلوم ہے میں شکیل سے چار سال بڑی ہوں میں بہت حیران ہوئی ۔۔۔۔۔ بس آنگن میں دو چار بچے کھیلتے ہوں بیوی چھوٹی ہو یا بڑی کیا فرق پڑتا ہے شکیل کی یہی سوچ ہے یہی خواہش ہے۔ اس نے میاں کے خیالات سے آ گاہ کیا دعا کرو اللہ جلدی سے اولاد سے دامن بھر دے میں بھی آ مین کہہ کر اٹھ گئی۔ خیر کافی وقت گزر گیا اللہ نے تین خوبصورت لائق، فرمانبردار بچے عطا فرمائے جو بہت اچھے انسٹیٹیوٹس میں پڑھ رہے ہیں۔ پرموشنز ہوتی رہیں ہم لوگوں کے گھر ذرا دور دور ہو گئے مگر ملنا ملانا اور دوستی نہیں چھوٹ سکی۔ قابلِ رشک گھرانا ہے ان کا۔ اب مہوش میاں سے دس سال چھوٹی دِکھتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں شکیل بھائی جیسی سوچ والے قانع مرد آج بھی معاشرے میں موجود ہیں جن کو نہ جہیز کی پرواہ رہی نا کم عمر خوبصورت بیوی کی طلب ۔۔۔۔ ہر حال میں اللہ کی رضا میں شاکر۔ یہ شاید انکی قناعت ہی تھی کہ اللہ نے گھر کا سکھ اور لائق فائق اولاد سے نوازا۔ شکیل بھائی جیسے خیالات کسی دوسرے مرد کے نہیں دیکھے سنے۔ فی زمانہ یہ سوچ کسی لڑکے یا اس کے گھر والوں کی نہیں ہے۔ یہاں تو سب کو خوب صورت، پڑھی لکھی، انتہائی کم عمر بیوی اور بہو چاہئے بھاری جہیز کے ساتھ مگر پھر بھی دل راضی نہیں ہوتا۔ مختلف حِیلوں سے بیوی میں نقص نکال کر نئی نئی دوستیاں بناتے پھرتے ہیں اور نہیں تو یہ ہی کہہ دیتے ہیں وہ بیوی ہے اچھی بہو ہے بچوں کی ماں بھی ہے گھر، خاندان میں سب کا خیال رکھتی ہے مگر میری دوست نہیں ہے گویا اس نے آپکے حصےکے سارے بوجھ اٹھا کر آپ کو ہلکا کر دیا اب آپ آزاد ہیں ادھر ادھر ،،چھخیں،، مارنے کے واسطے ۔۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 امانت داری 🌹 ‏الجزائر سے تعلق رکھنے والی نامور اور عرب دنیا کی مقبول ترین اینکر اور صحافی خدیجہ بنتِ قنہ جب امریکہ میں تھیں تو اپنے دورہ امریکہ کے بارے میں ایک قص٘ہ بتاتی ہیں کہ وہ ایک سپر اسٹور میں شاپنگ کے بعد کاونٹر پر ادائیگی کے لیئے اپنی باری کی منتظر تھیں کہ اسی دوران ایک باحجاب مسلمان خاتون ایک بڑا سا بکس کھینچتے ہوئے اسٹور کے اندر داخل ہو گئیں۔ بکس غالبا گھاس کاٹنے والی مشین کا تھا ۔ خاتون کے چہرے پر تھکاوٹ کے آثار نمایاں تھے ۔ وہ خاتون، کاونٹر پر کھڑی ایک کیشر ملازمہ کے پاس چلی گئیں اور بڑے ادب کے ساتھ کہنے لگیں کہ یہ مشین آپ سے کل دیگر اشیا کے ساتھ 500 ڈالر کی خرید کر لے گئی تھیں ۔ کیشر خاتون نے پوچھا :-- کیا آپ اسے واپس کرنا چاہتی ہو؟۔ مسلمان خاتون :-- نہیں ۔ کیشر خاتون: کیا آپ نےیہ مشین کسی دوسرے اسٹور پر اس سے کم قیمت میں فروخت ہوتے دیکھی ہے تو ہماری پالیسی آپکو بقیہ رقم دینے کی بھی پابند ہے، مگر اسکے لیئے آپ کو دوسرے اسٹور کی قیمت کا ثبوت دکھانا ہو گا ۔ مسلمان خاتون کہنے لگیں کہ ان وجوہات میں سے کچھ بھی نہیں ۔ بلکہ میں نے کل آپ سے دیگر اشیاء کے ساتھ یہ مشین خریدی تھی جس کی ادائیگی کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کر دی گئی ۔ پھر اس سامان کو اٹھا کر میں اپنی رہائش گاہ پر لے گئی جو یہاں سے تقریبا دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے ۔ لیکن جب گھر پہنچی اور بل چیک کیا اور دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ نے مجھ سے دیگر اشیاء کی قیمت تو وصول کرلی ہے مگر اس مشین کی قیمت اس بل میں لگانا بھول گئی ہیں ۔ یہ بات سنتے ھی کیشیر ملازمہ نے اٹھ کر ان خاتون کو گلے لگا لیا اور آنکھوں میں اترتے آنسوں کو جذب کرنے کی کوشش کرتے ہوئے جذبات سے مخمور لہجے میں کہنے لگی کہ پھر کس چیز نے آپکوچار گھنٹے کی مسافت طے کرنے اور ملازمت سے چھٹی لے کر یہاں آنے پر مجبور کر دیا۔؟ مسلمان خاتون نے بڑی سادگی سے بولا:-- کہ "امانت داری نے" ۔ اور پھر انگریزی میں اسے امانت کے بارے میں اسلامی تعلیم اور حوالے کی تشریح کرنے لگی۔ یہ سن کر ملازمہ اٹھ کر شیشے کے کیبن میں بیٹھی ہوئی مینجر خاتون کے پاس چلی گئی ۔ مینیجر خاتون نے ملازمہ کو کہا :-- ھم سن نہیں رھے تھے مگر اس کی باڈی لینگویج سے اس کے تاثرات بتا رھے تھے کہ وہ کچھ خاص انداز سے کچھ کہے جا رھی ہے ۔ ملازمہ نے توقف کیا ۔ تو مینجر خاتون اپنی نشست سے اٹھی اور باہر آ گئی ۔ اسٹور کے تمام اسٹاف کو جمع کر لیا جس کے ساتھ کسٹمرز بھی جمع ہو گئے۔ انہیں اس مسلمان خاتون کی امانت داری کے بارے بتانے لگیں ۔ مسلمان خاتون خاموش کھڑی رھی۔ جس کے چہرے پر حیا کی پرچھائیاں بکھری ہوئی تھیں ۔ یہ سننے کے بعد اسٹاف نے مسلمان خاتون سے اسلام میں امانت اور دیانت داری کے بابت سوالات کئے۔ جسکے جوابات اس نے بڑے نپے تلے انداز میں دینی معلومات کی روشنی میں دے دیئے ۔ مینجر خاتون نے مسلمان خاتون کو مشین گفٹ کرنے کی پیشکش کر دی جسے انہوں نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ رد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیئے مشین سے زیادہ اہمیت ثواب کی ہے ۔ وہ قیمت کی ادائیگی کرکے شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ھی اسٹور سے باہر نکل گئیں ۔ اس واقعے کو سپراسٹور میں موجود درجنوں کسٹمرز نے بھی دیکھا جو حجاب پہنے ایک دل آویز مسکراہٹ اور ایمانی قوت کے ھالے میں گھری ہوئی سپر اسٹور سے نکل کر رخصت ہو نے والی خاتون کو بڑی حیرت سے دیکھ رہے تھے ۔ خدیجہ بنت قنہ کہتی ہیں کہ یہ سن کر اور دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے پر مجھے بڑا فخر محسوس ہوا اور الل٘ہ تعالی' کا شکر ادا کیا۔ اگر ایک مسلمان انسان کے اندر دو خوبیاں ہوں، 1: خوف خدا 2: اچھے اخلاق تو معاشرہ اس انسان کی قدر کرتا ہے، اور یہ ھی دو خوبیاں مرنے کے بعد انسان کو جنت میں لے جا سکتی ہیں۔ (عربی سے اقتباس) منقول۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/2857 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 امانت داری 🌹 ‏الجزائر سے تعلق رکھنے والی نامور اور عرب دنیا کی مقبول ترین اینکر اور صحافی خدیجہ بنتِ قنہ جب امریکہ میں تھیں تو اپنے دورہ امریکہ کے بارے میں ایک قص٘ہ بتاتی ہیں کہ وہ ایک سپر اسٹور میں شاپنگ کے بعد کاونٹر پر ادائیگی کے لیئے اپنی باری کی منتظر تھیں کہ اسی دوران ایک باحجاب مسلمان خاتون ایک بڑا سا بکس کھینچتے ہوئے اسٹور کے اندر داخل ہو گئیں۔ بکس غالبا گھاس کاٹنے والی مشین کا تھا ۔ خاتون کے چہرے پر تھکاوٹ کے آثار نمایاں تھے ۔ وہ خاتون، کاونٹر پر کھڑی ایک کیشر ملازمہ کے پاس چلی گئیں اور بڑے ادب کے ساتھ کہنے لگیں کہ یہ مشین آپ سے کل دیگر اشیا کے ساتھ 500 ڈالر کی خرید کر لے گئی تھیں ۔ کیشر خاتون نے پوچھا :-- کیا آپ اسے واپس کرنا چاہتی ہو؟۔ مسلمان خاتون :-- نہیں ۔ کیشر خاتون: کیا آپ نےیہ مشین کسی دوسرے اسٹور پر اس سے کم قیمت میں فروخت ہوتے دیکھی ہے تو ہماری پالیسی آپکو بقیہ رقم دینے کی بھی پابند ہے، مگر اسکے لیئے آپ کو دوسرے اسٹور کی قیمت کا ثبوت دکھانا ہو گا ۔ مسلمان خاتون کہنے لگیں کہ ان وجوہات میں سے کچھ بھی نہیں ۔ بلکہ میں نے کل آپ سے دیگر اشیاء کے ساتھ یہ مشین خریدی تھی جس کی ادائیگی کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کر دی گئی ۔ پھر اس سامان کو اٹھا کر میں اپنی رہائش گاہ پر لے گئی جو یہاں سے تقریبا دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے ۔ لیکن جب گھر پہنچی اور بل چیک کیا اور دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ نے مجھ سے دیگر اشیاء کی قیمت تو وصول کرلی ہے مگر اس مشین کی قیمت اس بل میں لگانا بھول گئی ہیں ۔ یہ بات سنتے ھی کیشیر ملازمہ نے اٹھ کر ان خاتون کو گلے لگا لیا اور آنکھوں میں اترتے آنسوں کو جذب کرنے کی کوشش کرتے ہوئے جذبات سے مخمور لہجے میں کہنے لگی کہ پھر کس چیز نے آپکوچار گھنٹے کی مسافت طے کرنے اور ملازمت سے چھٹی لے کر یہاں آنے پر مجبور کر دیا۔؟ مسلمان خاتون نے بڑی سادگی سے بولا:-- کہ "امانت داری نے" ۔ اور پھر انگریزی میں اسے امانت کے بارے میں اسلامی تعلیم اور حوالے کی تشریح کرنے لگی۔ یہ سن کر ملازمہ اٹھ کر شیشے کے کیبن میں بیٹھی ہوئی مینجر خاتون کے پاس چلی گئی ۔ مینیجر خاتون نے ملازمہ کو کہا :-- ھم سن نہیں رھے تھے مگر اس کی باڈی لینگویج سے اس کے تاثرات بتا رھے تھے کہ وہ کچھ خاص انداز سے کچھ کہے جا رھی ہے ۔ ملازمہ نے توقف کیا ۔ تو مینجر خاتون اپنی نشست سے اٹھی اور باہر آ گئی ۔ اسٹور کے تمام اسٹاف کو جمع کر لیا جس کے ساتھ کسٹمرز بھی جمع ہو گئے۔ انہیں اس مسلمان خاتون کی امانت داری کے بارے بتانے لگیں ۔ مسلمان خاتون خاموش کھڑی رھی۔ جس کے چہرے پر حیا کی پرچھائیاں بکھری ہوئی تھیں ۔ یہ سننے کے بعد اسٹاف نے مسلمان خاتون سے اسلام میں امانت اور دیانت داری کے بابت سوالات کئے۔ جسکے جوابات اس نے بڑے نپے تلے انداز میں دینی معلومات کی روشنی میں دے دیئے ۔ مینجر خاتون نے مسلمان خاتون کو مشین گفٹ کرنے کی پیشکش کر دی جسے انہوں نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ رد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیئے مشین سے زیادہ اہمیت ثواب کی ہے ۔ وہ قیمت کی ادائیگی کرکے شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ھی اسٹور سے باہر نکل گئیں ۔ اس واقعے کو سپراسٹور میں موجود درجنوں کسٹمرز نے بھی دیکھا جو حجاب پہنے ایک دل آویز مسکراہٹ اور ایمانی قوت کے ھالے میں گھری ہوئی سپر اسٹور سے نکل کر رخصت ہو نے والی خاتون کو بڑی حیرت سے دیکھ رہے تھے ۔ خدیجہ بنت قنہ کہتی ہیں کہ یہ سن کر اور دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے پر مجھے بڑا فخر محسوس ہوا اور الل٘ہ تعالی' کا شکر ادا کیا۔ اگر ایک مسلمان انسان کے اندر دو خوبیاں ہوں، 1: خوف خدا 2: اچھے اخلاق تو معاشرہ اس انسان کی قدر کرتا ہے، اور یہ ھی دو خوبیاں مرنے کے بعد انسان کو جنت میں لے جا سکتی ہیں۔ (عربی سے اقتباس) منقول۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

ساجدہ اس دن کی طرح تہی داماں تھی جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا. درد سے چیخ چیخ کر بے ہوش ہوجاتی. ہوش آتا تو پہلا لفظ "میرے بچے..." "میں نے تو ابھی ابا جی کا گھر بھی نہیں دیکھا" "پھوپھو جی مجھے اباجی کے گھر لےجاؤ فیصل آباد.." "ابا جی مجھے آپ سے بہت محبت ہے اماں جی کہاں ہو آپ؟ آجاؤ" "میرے بچے بھوکے ہونگے" "روفی میں کسی کے ساتھ کراچی نہیں گئ تھی میرا اعتبار کرو." دلدوز چیخیں ساجدہ کی بات ادھوری چھوڑ دیتیں. ایک ماہ الٹی لیٹی کہ ساجدہ کی ٹانگوں کا گوشت کباب بن گیا تھا. کروٹ بدلائ جاتی تو گوشت کے ٹکڑے بستر سے چپک جاتے. تکلیف سے بے ہوش ہوجاتی. نہ رؤف آیا نہ بچے نہ باپ پہنچا نہ ماں کا دیدار..ساجدہ کی آنکھیں پتھرا گئیں. ابدیت کی طرف سفر شروع ہوگیا. "اللہ میاں! مجھ کو دوبارہ تو نہیں آگ میں جلاۓ گا نہ... میں تو تیری دنیا کی آگ میں ہی کباب بنا دی گئ ہوں. مجھ کو دوبارہ تو نہیں جلاۓ گا نہ...؟؟" یہ ساجدہ کے آخری الفاظ تھے. آنکھیں آسمان پر تھیں اور کباب جسم آخری آرام گاہ جانے کیلۓ تیار تھا۔۔۔ 🔘 خدارا اپنی بچیوں کا خیال رکھیں ان کو درندوں کے حوالے نہ کریں اگر ایسا ہو گیا ہے تو اپنی بچیوں کا ساتھ دیں اور ایسے درندوں سے ان کی جان چھڑائیں۔ تحریر: نورین بنت کمال 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5608 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

کسی نہ کسی طرح ساجدہ باپ کے گھر پہنچ گئ. چار دن بعد ہوش آیا تھا لیکن مستقل بدقسمتی ساتھ لایا تھا. بہنوں بھائیوں کے طعنے : "تو منحوس ہے پہلے تیرا رشتہ نہیں ہوتا تھا. شادی ہوگئ نہ خود کو چین نہ دوسروں کو.." ساجدہ دم بخود تھی جن بہنوں پر پیار نچھاور کیا جن بھائیوں کی پسند پر اپنی خواھشوں کا گلہ دبایا آج انہی سے اسے منحوس کے القاب مل رہے تھے. دن گزرتے گۓ پہلا بیٹا پیدا ہوا تو ممتا کی محبت ابھر آئ. بچہ کمزور تھا لیکن ماں کی محبت نہیں.محبت پھر ہار گئ چار ماہ کا جگر گوشہ داغ_مفارقت دے گیا. ماں کی گود اجڑگئ.💦 وہ سسرال چلی گئ لیکن ہمیشہ کیلۓ بے اعتباری کا لیبل بھی ساتھ تھا دوسرا بیٹا پیدا ہوا. 40 کے بعد باپ کے گھر ملنے آئ تھی کہ دو طلاق کے کاغذ اس کے ہاتھوں میں منہ چڑا رہے تھے. بڑے بزرگوں کی طرف سے رجوع کروا دیا گیا : "شوہر کے گھر کو لازم پکڑنا" ساجدہ نے سر جھکا دیا. دو ماہ میں ساجدہ شوہر سے پٹ کر پھر بے گھر سڑک پر تھی چھ ماہ کا چاند گود میں قدم اٹھایا تھا کہ "شوھر کے گھر کو لازم پکڑنا" اٹھا ہوا قدم پیچھے گردن گھمائ تھی کہ "بے اعتباری میرے گھر سے دفع ہوجا." گردن نامراد اشک بار پلٹ گئ. ننگے پاؤں ننگے سر پتھروں کانٹوں کے راستے. "کہاں جاؤں اب؟" اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا. "نانکا...فیصل آباد...ماموؤں کا گھر..." روشنی کی ایک کرن اسے فیصل آباد پھینک گئ. لیکن حرماں نصیبی نے پیچھا نہ چھوڑا. ایک ماموں کے گھر سے دوسرے ماموں کے گھر ایک خالہ کا گھر بند دوسرے کے در پر..گھر بے گھر در بدر..کہیں شنوائ نہیں.قسمت پھر شوہر کے قدموں میں لے گئ. دن پھر گزرتے گۓ. دنوں کا کام ہی کیا ہے؟ گزرنا...کسی کے لۓ نہیں رکتے.ان کی ایک خوبی ہے یہ غیر جانبدار ہوتے ہیں وفا کسی سے نہیں کرتے. خود کو ہی ان سے وفا کرنا پڑتی ہے. یہی دن خوشی کے ہوں تو مبارک ہوتے ہیں. غم کے ہوں تو منحوس گردانے جاتے ہیں..لیکن رہتے دن ہی ہیں.اپنے کام میں لگے ہوۓ اپنے آپ سے ہی وفادار... صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے. زندگی یوں ہی تمام ہوتی ہے... ایک بار پھر گود ہری ہوئ ایک اور چاند سا بیٹا گود میں آگیا.شوہر کی لا پرواہی بڑھتی گئ. شادی خانہ بربادی کو ساتواں سال تھا عبدالرؤف ساجدہ کو چھوڑ کر کراچی پرواز کر گیا. ساجدہ دو پھولوں کے ساتھ ایک بار پھر باپ کے در پر... "او منحوس! کبھی تو سکون کی زندگی گزارنے دے. تو ہماری اولاد ہے تو رہ ہمارے گھر پرائ اولاد کو وہیں چھوڑ کر آ جہاں سے لے کر آئ ہے تاکہ ان کو بھی احساس ہو کہ کیسے پالی جاتی ہے اولاد." ساجدہ کا دل مٹھی میں آگیا "ابا جی میرے بچے... میرے جگر کے ٹکڑے..." ساجدہ کا سر باپ کے گھٹنوں پر تھا. آنکھوں میں آنسوؤں کی برسات اسے سسرال کے در پر لے آئ." جہاں تیرا شوہر ہے وہیں تو بھی دفع ہوجا. دکھی کرکے رکھ دیا ہے منحوس نے پورے خاندان کو.. کلموہی! میرا اکلوتا بیٹا بھی اسی کے دکھ سے جدا ہوا ماں سے" یہ گرم لاوہ ساجدہ کی ساس اس پر انڈیل رہی تھی. 24 سالہ معصوم ساجدہ جگر پاروں کے ساتھ کراچی کے سٹیشن پر تھی. کسی نہ کسی طر ح ڈھونڈتی پوچھتی شوہر کے فلیٹ پر پہنچ گئ؛ "تو تو کہتا تھا کہ کنوارہ ہے. پھر یہ خوبصورت چڑیل اور بچے..؟" اسکی دوسری بیوی اور سالوں نے ذلیل کرکے عبدالرؤف کو گھر سے نکال دیا. عبدالرؤف نے قہر آلود نظر ساجدہ پر ڈالی "جن پاؤں سے چل کر میرے پاس آئ ہے میں ان کو جلادوں گا." اس نے یہ الفاظ نہایت دھیمے لفظوں میں کہے تھے.ساجدہ نے سنا لیکن توجہ نہ دے سکی. وہ خاموشی سے ساجدہ اور بچوں کو لیکر آبائ گاؤں پہنچ چکا تھا. ساجدہ کی سانسیں گنی جا چکی تھیں۔ ساجدہ بے خبر تھی. 6سال بعد شوہر کی محبت ببطاطن موت کو دیکھ کر نہال ہو رہی تھی."جن پاؤں پر چل کر میرے پاس آئ ہے میں ان کو جلا دوں گا." کراچی سٹیشن پر عبدالرؤف کے کہے الفاظ بھول چکی تھی. عبدالرؤف نے پیار کے دھوکے سے کوئ نشۂ آور چیز ساجدہ کو کھلائ تھی. ساجدہ نشے میں تھی دو معصوم ایک طرف کھڑے تھے ساجدہ کے بالائ جسم پر بھیڑیے نے کھیس گیلا کر کے باندھ دیا کہ مجرم تو ٹانگیں تھیں. ٹانگوں پر پٹرول چھڑک دیا اور پھر.... ساجدہ جل رہی تھی جسم تڑپ رہا تھا نشہ چیخنے نہیں دے رہا تھا. جنونی فرعون کی انا کو تسکین مل رہی تھی. ساجدہ کا خاندان دو سال پہلے فیصل آباد شفٹ ہوگیا تھا.دادی دادا دو چچا دو پھوپھیاں گاؤں میں تھیں. ساجدہ کو بڑے چچا کے گھر پہچا دیا گیا کہ بہاول نگر سے فیصل آباد لے جانے کی حالت نہ تھی.نشہ اترا تو ساجدہ کی چیخوں سے پورا گاؤں لرڑ اٹھا. ہسپتال والوں نے جواب دے دیا تھا.گھر پر ہی دوا دارو کی جاتی تھی. بچوں سے جدائ ہوگئ تھی عبدالرؤف نے رکھ لۓ تھے...

🔷 اور ساجدہ مر گئی... 🔷 سچ پر منبی تحریر۔۔۔ قارئین کرام یہ داستان_خونچکاں جو میں سنانے جارہی ہوں ایک مظلوم اور معصوم عورت کی ہے. جس کو صرف اس بات کی سزا ملی کہ اس کا دل محبتوں کا پیاسا تھا اور محبت بھی ایسی جو ہر رشتہ کے لۓ بلا تخصیص تھی خود غرضی کی ملاوٹ سے پاک.لیکن اس محبت کے پیکر کو خود غرضی ہی کی آگ کھا گئ...آہ... آج سے دس سال پہلے ساجدہ کا وجود اس دنیا سے ناپید ہو چکا لیکن اس کی چیخیں ابھی تک زندہ ہیں.شاید کبھی نہ مریں... آج سے سترہ سال پہلے ساجدہ بڑھے ارمانوں سے سرخ جوڑا پہن کر پیا دیس کے سہانے خواب آنکھوں میں سجاۓ بڑے تیقن سے باپ کے گھر سے رخصت ہوئ تھی. لیکن اس سرخ جوڑے میں نظر نہ آنے والی بد قسمتی کے ایسے شعلے چھپے ہوۓ تھے جو سب کچھ راکھ کر گۓ. شاید اس کی حرماں نصیبی اسی دن سے شروع ہوگئ تھی جب سترہویں سال کی بالک عمر میں اس کا رشتہ ڈھونڈا گیا کہ بڑی بیٹی کے ساتھ ایک اور بیٹی کا بوجھ اتر جاۓ. بد قسمتی تو شاید وہ ساتھ لیکر ہی پیدا ہوئ تھی. کہ اس معاشرے کی بیہودہ رسم و رواج میں ایک ہی بیٹی کی پیدائش ماں باپ کے کندھے جھکا دیتی ہے. ساجدہ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا. بڑی بہن کی رخصتی کے دن قریب آرہے تھے شادی میں صرف ایک مہینہ رہ گیا تھا لیکن ساجدہ کے لۓ ابھی رشتہ کا انتخاب نہیں ہورہا تھا. باپ کی نیندیں اڑی ہوئ تھیں کہ دعوت ناموں پر دونوں بیٹیوں کی شادی ہے. لیکن رشتہ ابھی تک نہیں ہوا. آخرکار شادی میں سترہ دن رہ گۓ تھے کہ رشتہ کا انتخاب ہوگیا.لوگ بظاہر اچھے تھے لیکن اتنی قلیل مدت میں کسی کو کیا پرکھا جا سکتا ہے. لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کبھی جانچنے کیلۓ ایک لمحہ ہی کافی ہوتا ہے اور کبھی صدیاں بھی کم پڑجاتی ہیں...ساجدہ چلی گئ پیادیس. کچھ دن تو سکون سے گزرے کہ بکرے کو بھی ذبح کرنے سے پہلے خوب کھلایا پلایا جاتا ہے اور ناز نخرے اٹھاۓ جاتے ہیں.. زندگی گزر رہی تھی کہ عورت کی تکمیل اور محبت آشکار کرنے والا لمحہ قریب آگیا ساتواں مہینہ لگ گیا تھا کہ ساجدہ کی ماں بیٹی کی وداعی رخصتی کیلۓ اس کے سسرال کے گھر پر تھی. آج بھی گاؤں بلکہ شہروں میں بھی اکثر بیٹی کے پہلا بچہ کی پیدائش میکہ گھر میں کروانے کا رواج ہے. ساجدہ کی ماں بھی اسے لینے گئ تھی. "کوئ ضرورت نہیں ہے باپ کے گھر جانے کی کیا ہماری زمینیں بنجر ہوگئ ہیں یا ہماری بھینسوں نے دودھ دینا چھوڑ دیا جو میری اولاد تیرے باپ کے ٹکڑوں کی محتاج ہو..." ساجدہ ہکا بکا اپنے شوہر کا منہ دیکھ رہی تھی شوہر کے سخت مزاج سے تو پہلے بھی واقف تھی لیکن ایسا سخت اور توہین آمیز رویہ پہلی بار دیکھا تھا. کیا کرتی شوہر سے محبت بھی تو بہت تھی. شوہر بیلچہ اور کسی اٹھا کر زمینوں پر چلا گیا.اور وہ دکھی دل کے ساتھ آنکھوں میں آنسو لۓ سرجھکاۓ ماں کے سامنے کھڑی تھی. "ساجدہ تجھے پتہ ہے نا ہمارے گاؤں کی ریت ہے تیرے پہلوٹھی کی پیدائش کا حق تیرے باپ کے گھر ہے. لوگ طعنے دیں گے کہ بیٹی کو گھر سے نکال کر ہی راضی تھے. تو چل میرے ساتھ کچھ نہیں ہوتا. عبدالرؤف تجھ سے محبت کرتا ہے کچھ نہیں کہتا وہ تجھ کو.." "پر امی وہ بہت غصے میں گئے ہیں اور...." "بس....اب کجھ نہیں بولنا تجھ کو. باپ کی عزت کا ذرا خیال نہیں؟" اور ساجدہ ناچار تیار ہوکر ماں کے ساتھ چل دی. ساس اور سات نندوں کے ماتھے پر بل پڑگۓ. "ہمارا اکلوتا بھائ...آج تک اس کے منہ سے نکلی ہوئ ہر بات پوری کی ہے. سوچ لے ساجدہ." "بہن ہمارے بھی گاؤں کا رواج ہے کہ بہو کی پہلوٹھی اولاد سسرال میں...." لیکن ساجدہ کو اس کی ماں بہلا پھسلا کر لے گئ. سڑک پر بس کے انتظار میں آدھا گھنٹہ گزرا تھا کہ بس کی جھلک نظر آگئ. ساجدہ کا ایک پاؤں بس میں تھا اور دوسرا ابھی باہر کہ کسی نا دیدہ ہاتھ نے اس کو چٹیا سے پکڑ کر ایسا کھینچا کہ وہ پشت کے بل پکی سڑک پر گری اس کا سر پھٹ گیا. لہو کا فوارہ سڑک کو رنگین کر گیا. عبدالرؤف ہاتھ میں بیلٹ پکڑے خشونت سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا ارد گرد سے تماشائ بھی اکٹھے ہوگۓ.عبدالرؤف مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوۓ بے رحمی سے بولا "تجھ کو منع کیا تھا نہیں مانی میری بات... اب دیکھ میں کیسے منواتا ہوں" وہ سفاکی سے بیلٹ لہراتا ساجدہ کی طرف بڑھا.ساجدہ کی آنکھیں دہشت سے پھیل گئیں. گرنے کی وجہ سے پیٹ سے اٹھنے والا درد بے اختیار اس کے ہاتھ پیٹ پر لے گیا. ساجدہ کی چیخیں نکل گئیں جب آگ برساتا بیلٹ اس کی کمر کی کھال ادھیڑتا چلا گیا. پھر کیا تھا وہ وحشی تھا اس کے جنونی ہاتھ میں لہراتا بیلٹ اور ساجدہ کی کمر ساجدہ کا چہرہ ساجدہ کی دلدوز چیخیں. لیکن اپنے بچے کو بچانے کیلۓ ھاتھ پیٹ پر سے نہیں اٹھے. آخر معصوم محبت ظلم برداشت کرتے ہوۓ بے ہوش ہوگئ. وہ جا چکا تھا اپنا جنون پورا کرکے تماشائ بھی ادھر ادھر دبک گۓ.

■ دنیا کی بے ثباتی اور موت کے متعلق پوسٹس لنکس۔ پوسٹ دیکھنے کیلئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔ 🔵 بیوقوف کون؟ https://t.me/islamwitheman/59 🔵 میت کے ساتھ دھوکہ https://t.me/islamwitheman/61 🔵 موت بہترین محافظ https://t.me/islamwitheman/73 🔵 انسان پیدائشی حریص ہے https://t.me/islamwitheman/89 🔵 دنیا کا دارومدار https://t.me/islamwitheman/95 ⭕ خوبصورت حسینہ https://t.me/islamwitheman/109 🌹 دنیا کی داستان https://t.me/islamwitheman/125 ⌚مقررہ وقت https://t.me/islamwitheman/144 🔵 ایک گدھے کا حساب http://t.me/islamwitheman/251 👅 احتیاط کے ساتھ بولا کریں https://t.me/islamwitheman/396 🔵 عقلمند بادشاہ https://t.me/islamwitheman/363 🔵 شداد کی جنت https://t.me/islamwitheman/370 🌹 چیونٹی اور شہد https://t.me/islamwitheman/371 🌹 دنیا کی زندگی https://t.me/islamwitheman/461 🔵 دنیا ایک ضعیفہ کی صورت میں https://t.me/islamwitheman/471 🔵 یہ وقت بھی گزر جائے گا https://t.me/islamwitheman/511 🔷 مرنے کے 5 بڑے پچھتاوے https://t.me/islamwitheman/554 🔵 موت اور اسکی تیاری https://t.me/islamwitheman/570 🔷 دنیا کی محبت https://t.me/islamwitheman/615 🔵 وقت، وقت اور وقت https://t.me/islamwitheman/748 🔷 ریاست کا بادشاہ https://t.me/islamwitheman/750 ✂️ گرو درزی http://t.me/islamwitheman/1146 🍃 کیا دنیا اور آخرت میں تضاد ہے http://t.me/islamwitheman/1152 🔷 وصیت اور نصیحت http://t.me/islamwitheman/1190 🔵 بند مٹھی http://t.me/islamwitheman/1243 🔷 موت کی یاد http://t.me/islamwitheman/1249 🔷 خلقت انسان کا مقصد http://t.me/islamwitheman/1477 🔷 ایک میت کی نصیحت http://t.me/islamwitheman/1607 🌺 عمر http://t.me/islamwitheman/1622 🔷 زندگی کا آخر جان لینا http://t.me/islamwitheman/1623 🌴 سو سال کا جشن http://t.me/islamwitheman/1624 🍃 دنیا میں مکافات عمل http://t.me/islamwitheman/1642 🍁 تعزیت http://t.me/islamwitheman/1687 🌳 بڑھاپا http://t.me/islamwitheman/1697 🌴 بوڑھا بیٹا جوان باپ http://t.me/islamwitheman/1698 🌺 جوانی سے بڑھاپے تک http://t.me/islamwitheman/1709 🔷 حب دنیا و حرص بر آں https://t.me/islamwitheman/1768 🔶 حرص دنیا کا انجام https://t.me/islamwitheman/1802 🔷 موت کی قسمیں https://t.me/islamwitheman/1907 🔷 گوبر کا کیڑا https://t.me/islamwitheman/2265 🔶 موت سے خوف https://t.me/islamwitheman/2340 🐏 بھیڑ کی موت http://t.me/islamwitheman/2375 🌹 داستان حیات http://t.me/islamwitheman/2484 🔷 دنیا دھوکے کا گھر ہے https://t.me/islamwitheman/2513 🔷 وصیتِ مولا علیؑ موت کے متعلق https://t.me/islamwitheman/3017 🔷 اللہ کی طرف سے ڈھیل https://t.me/islamwitheman/4106 🔷 تقدیر https://t.me/islamwitheman/5230 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕