fa
Feedback

فریب کلاهبرداران را نخورید! تل‌متریو این کانال‌ها را شناسایی و برچسب‌گذاری می‌کند 👉 برای مشاهده برچسب، اشتراک تهیه کنید

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

رفتن به کانال در Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

نمایش بیشتر
1 284
مشترکین
-124 ساعت
-37 روز
-730 روز
آرشیو پست ها
photo content

🔷 شکاری اور جنگل کا اتحاد 🔷 ایک دن، گھنے جنگل میں ایک اجنبی قدموں کی چاپ سنائی دی۔ جانوروں نے چھپ کر دیکھا — ایک شکاری بندوق لے کر داخل ہو رہا تھا۔ شکاری نے پہلا قدم رکھ کر ادھر اُدھر دیکھا، اور ایک درخت کے پیچھے چھپ گیا۔ کیا وہ کسی خاص جانور کے انتظار میں تھا؟ خرگوش چنچن نے فوراََ بندر راجو کو خبر دی۔ “جنگل میں خطرہ ہے!” راجو نے درختوں کے اوپر دوڑ لگا دی۔ اچانک ایک آواز آئی — "ٹھک!" — ایک چڑیا شکاری کے جال میں پھنس گئی۔ سب جانور سہم گئے۔ بھالو بھولو نے دانت پیسے۔ "اب بہت ہو گیا!" وہ بولا، اور باقی جانوروں کو جمع کرنے لگا۔ اسی وقت شکاری نے ایک پنجرا کھولا۔ اس میں تازہ گوشت رکھا اور چھپ کر بیٹھ گیا۔ کس جانور کو وہ پھانسنا چاہتا تھا؟ ہرن نیلو نے پنکھا سا دم ہلایا اور کہا، “ہمیں چالاکی سے کام لینا ہوگا، ورنہ کوئی واپس نہ جائے گا۔” اندھیرا ہونے لگا۔ پرندے خاموش ہو گئے۔ شکاری اب بھی انتظار میں تھا۔ وہ کس لمحے حملہ کرے گا؟ چپکے سے لومڑی نینا نے اس کا جال چبا ڈالا، لیکن ایک دھمک سے شکاری چونک اٹھا۔ کیا اس نے کچھ سُن لیا؟ جانور پیچھے ہٹے۔ تب ہی شیر سُلطان آ گیا۔ اس کی دھاڑ سن کر شکاری کانپ گیا۔ شکاری نے بندوق اٹھائی، لیکن بندر نے اس پر جھپٹا مارا، اور بندوق گر گئی۔ کیا اب شکاری بھاگے گا؟ پر نہیں! شکاری نے جیب سے چھوٹا خنجر نکالا۔ سب رک گئے۔ کیا واقعی کوئی زخمی ہونے والا ہے؟ تب ہی شہد کی مکھیوں نے حملہ کر دیا۔ شکاری چیختا ہوا جنگل سے باہر بھاگا۔ شیر سُلطان بولا، “جنگل ہمارا ہے، اور ہم سب ایک ہیں۔” جانوروں نے سکون کا سانس لیا — کم از کم اس رات کے لیے، شکاری ہار چکا تھا۔ 🔘 سبق: اتحاد، ہوشیاری اور ہمت سے بڑے سے بڑا خطرہ بھی ٹالا جا سکتا ہے۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 جیسے کو تیسا 🔷 جنگل میں کوا درخت پر رہتا تھا جنگل کے پاس ہی ایک گاؤں تھا کوا اڑتا ہوا گاؤں میں پہنچا تو وہاں سے بہت مشکل سے ایک روٹی کا ٹکڑا تلاش کر کے لایا۔ وہ درخت پر بیٹھا دوسرے کوے کا انتظار کر رہا تھا کہ دونوں مل کر وہ روٹی کا ٹکڑا کھائیں گے لیکن وہاں سے ایک بھوکا لومڑ ادھر اودھر کھانے کی تلاش میں پھر رہا تھا اس نے دیکھا کوے کے منہ میں روٹی کا ٹکڑا ہے تو اس نے کوے سے روٹی کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے چال چلی۔ لومڑ نے کوے سے جھوٹ بولا اور کہا کہ ایک خرگوش ادھر آیا ہے اور ان جھاڑیوں میں چھپ گیا ہے اس کے پاس گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جو میں نے شکار کیا لیکن خرگوش نے چرا لیا ہے میں اس خرگوش کو تلاش کر رہا ہوں اگر وہ خرگوش مل گیا تو اس سے گوشت لے کر میں تم کو بھی کھلاؤں گا۔ کوا بہت خوش ہوا اور گوشت کے لالچ میں اپنا منہ کھولا تو وہ روٹی کا ٹکڑا کوے کے منہ سے نیچیے زمین پر گر گیا۔ لومڑ نے جلدی سے روٹی کا ٹکڑا اٹھایا اور زوز زور سے ہنسنے لگا اور کوے کا مذاق اڑانے لگا۔ لومڑ نے کوے سے کہا بیوقوف کوے بھلا خرگوش بھی گوشت کھاتا ہے۔ میں نے تم سے جھوٹ بولا تھا۔ لالچی کوا بہت پچھتایا اتنی دیر میں دوسرا کوا بھی آگیا تو پہلے کوے نے دوسرے کوے سے کہا کہ لومڑ نے میرے ساتھ دھوکا کیا ہے انھوں نے کہا اچھا چلو لومڑ کو مل کر سبق سکھاتے ہیں۔ جنگل میں کہیں زمین پر ایک درخت گرا پڑا تھا جو اندر سے کھوکھلا تھا اور اس کے اندر سانپ رہتا تھا دونوں کوے اس درخت۔پر بٹیھ کر لومڑ سے بدلہ لینے کی ترکیب سوچ رہے تھے کہ اچانک لومڑ وہاں آیا اور کووں سے کہا او پاگل کوے یہاں کیا کر رہے ہو۔؟ کووں نے لومڑ سے کہا کہ اس درخت کے اندر ایک خرگوش چھپا ہوا ہے اس کے پاس روٹی کا ٹکڑا ہے اگر ہمیں روٹی کا ٹکڑا مل جائے تو ہم سب مل کر وہ روٹی کا ٹکرا کھائیں گے۔ لومڑ کے منہ میں پانی آگیا اور اس نے سوچا ان بیوقوف کووں کو روٹی کاٹکڑا دے دوں گا اور میں خود خرگوش کو کھاوں گا۔ لالچی لومڑ نے جلدی سے درخت کے اندر منہ ڈالا اور اندر سے اسے سانپ نے کاٹ لیا اور لومڑ بہت چلایا اور اس نے کووں سے کہا تم نے مجھ سے جھوٹ بولا۔۔۔ کوے بہت ہنسے اور لومڑ کا مذاق اڑایا اور کووں نے لومڑ سے کہا پاگل لومڑ بھلا اس جنگل میں خرگوش کے پاس روٹی کا ٹکڑا کہاں سے آئے گا تم نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا تھا یہ تم کو اسی دھوکے کی سزا ہے۔ لومڑ اپنے کئے پر بہت شرمندہ ہوا۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 اگر رہنما ہی بگڑے ہوں تو۔۔۔ 🔷 ایک دیہاتی نوجوان نے اپنی برادری کی ایک شریف پردہ دار بااخلاق اور دین دار لڑکی سے شادی کی شادی کو ایک سال ہی گزرا تھا کہ اُس کا اپنے قریبی رشتہ دار سے سخت جھگڑا ہو گیا بات اتنی بڑھی کہ اُس نے غصے میں آ کر اسے قتل کر دیا اور برادری کے رواج کے مطابق وہ اپنی بیوی کو لے کر علاقے سے دور کسی اور ضلع کی طرف نکل گیا جہاں وہ ایک دوسری برادری کے گاؤں میں جا کر بس گیا وہ اکثر گاؤں کے چودھری کے ڈیرے پر بیٹھتا تھا جیسے دوسرے مرد بیٹھتے ہیں، بات چیت مشورے گپ شپ سب چلتا ایک دن چودھری کا گزر اس کے گھر کے سامنے سے ہوا اور اُس نے اُس کی بیوی کو دیکھا نہایت باحیا، خوبصورت اور باوقار عورت چودھری کے دل میں فتنہ جاگ اٹھا دل و دماغ پر ایسا چھا گئی کہ ایک شیطانی خیال آ گیا کہ کسی طرح خاوند کو گھر سے دور بھجوا دوں اور موقع پا کر عورت کو تنہا کر کے اپنا مطلب نکالوں چودھری ڈیرے پر آیا سب بیٹھے تھے ان میں وہ نوجوان بھی تھا چودھری نے کہا مجھے پتا چلا ہے کہ فلاں علاقے میں بہت اچھی چراگاہ ہے میں چاہتا ہوں کہ چار آدمی بھیجوں جو جا کر دیکھ آئیں اس نے چار افراد منتخب کیے اور ان میں وہ نوجوان بھی شامل تھا چاروں روانہ ہو گئے جگہ دور تھی تین دن کا راستہ تھا رات کو چودھری نے موقع دیکھا اور چپکے سے اُس کے گھر کی طرف چل پڑا گھر میں بیوی اکیلی تھی اور سو رہی تھی چودھری اندھیرے میں دیوار سے ٹکرا گیا زور کی آواز ہوئی عورت جاگ گئی اور ڈرتے ہوئے بولی کون ہے؟ چودھری بولا میں ہوں وہی چودھری جس کے گاؤں میں تم لوگ آئے ہو عورت بولی خیریت ہے چودھری صاحب اس وقت کیا کام پڑ گیا؟ چودھری بولا جب سے تمہیں دیکھا ہے دل بے چین ہے تم سے دل لگا بیٹھا ہوں چاہتا ہوں تم میری ہو جاؤ عورت نے پورے وقار سے جواب دیا ٹھیک ہے اگر واقعی تم چاہتے ہو تو پہلے میرے ایک سوال کا جواب دو اگر صحیح دیا تو پھر جیسا کہو گے ویسا ہوگا چودھری نے خوش ہو کر کہا پوچھو شرط منظور ہے عورت نے کہا جیسے گوشت خراب ہونے سے بچانے کے لیے اس پر نمک چھڑکا جاتا ہے تو بتاؤ اگر نمک ہی خراب ہو جائے تو اُسے کون ٹھیک کرے گا؟ سوچ کر آنا جلدی نہیں ہے چودھری رات بھر سوچتا رہا مگر سمجھ نہ سکا اگلے دن ڈیرے پر سب لوگ بیٹھے تھے اچانک سب سے وہی سوال پوچھا ہر ایک نے اپنی سمجھ سے جواب دیا مگر چودھری مطمئن نہ ہوا ڈیرے میں ایک بزرگ بیٹھے تھے بڑے سمجھدار دین دار اور عقل والے وہ خاموش رہے جب سب چلے گئے تو وہ بیٹھے رہے چودھری نے ان سے کہا تم نے کیوں جواب نہیں دیا؟ بزرگ بولے میں اکیلے میں بات کرنا چاہتا تھا یہ سوال دراصل ایک پرانی حکمت کا شعر ہے اے قوم کے عقل مند لوگو اے معاشرے کے نمک اگر نمک ہی خراب ہو جائے تو اُسے کون ٹھیک کرے گا؟ اور اگر میں غلط نہیں سمجھا تو تم نے ایک باعزت باپردہ اور دین دار عورت پر غلط نظر ڈالی لیکن اُس نے تمہیں عزت دی تمہیں شرمندہ نہیں کیا نہ ہی تمہیں بدنام کیا بس ایک سوال کر کے تمہیں تمہارے ضمیر سے ٹکرا دیا وہ کہنا چاہ رہی تھی جب گوشت خراب ہوتا ہے تو نمک اسے بچا لیتا ہے لیکن اگر خود نمک ہی خراب ہو جائے تو پھر کیا ہوگا؟ یعنی جب عام لوگ بگڑیں تو چودھری یا بزرگ سنبھالتے ہیں لیکن اگر خود چودھری بگڑ جائے تو اُسے کون سنوارے گا؟ یہ سن کر چودھری کا دل کانپ گیا شرمندگی سے سر جھک گیا آنسو نکل آئے اور اس نے کہا اللہ تمہیں سلامت رکھے تم نے آنکھیں کھول دی میری خطا کو ڈھانپ لو جیسے اللہ ڈھانپتا ہے اور شاعر کہتا ہے گوشت تو نمک سے بچ جاتا ہے پر اگر نمک ہی خراب ہو جائے تو پھر کیا بچائے گا؟ اور میں کہتا ہوں اگر باپ بگڑ جائے تو اولاد کون سنوارے؟ اگر استاد بگڑ جائے تو نسلوں کو علم کون دے؟ اگر رہنما بگڑ جائے تو قوم کا مستقبل کون بچائے؟ داناؤں کی مجلس میں بیٹھو نادانوں کی صحبت میں صرف دل ہی نہیں نسلیں بھی برباد ہو جاتی ہیں۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 قرآنی دعائیں 2 🌹 🤲 رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ۔ 🤲 رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ۔ 🤲 رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ۖ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا۔ 🤲 رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا۔ 🤲 رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ، وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ، وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ، إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ. 🤲 رَبِّ نَجِّنِي وَأَهْلِي مِمَّا يَعْمَلُونَ۔ 🤲 رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ۔ 🤲 رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي، رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ۔ 🤲 رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ۔ 🤲 رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔ 🤲 رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ۔ 🤲 رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي ۖ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔ 🤲 رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيم۔ 🤲 رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔ 🤲 رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔ 🤲 رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ... وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ۔ 🤲 رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا، إِنَّكَ إِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا۔ 🤲 رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَبَارًا۔ 🤲 رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ۔ 🤲 اللَّهُمَّ رَبَّنَا... ارْزُقْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ۔ 🤲 رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/6114 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 قرآنی دعائیں 1🌹 قران کریم میں موجود تمام دعاؤں کو جمع کر دیا گیا ہے اِن سب دعاؤں کو یاد کریں اور دوسروں کو بھی بھیجیں... 🤲 رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ 🤲 رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ 🤲 رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ۔ 🤲 رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ۔ 🤲 رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ۔ 🤲 رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ۔ 🤲 رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ 🤲 رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ۔ 🤲 رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ۔ 🤲 رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ۔ 🤲 رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ 🤲 رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ۔ 🤲 رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا ۚ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ۔ 🤲 رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ۔ 🤲 رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا۔ 🤲 رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ۔ 🤲 رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ۔ 🤲 رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ۔ 🤲 رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔ 🤲 رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ ۖ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ۔ 🤲 رَبِّ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ۔ 🤲 رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ۔ 🤲 رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ، رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ۔ 🤲 رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا۔ 🤲 رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا۔ 🤲 رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا۔ 🤲رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي, وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي, وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي, يَفْقَهُوا قَوْلِي، رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔ 🤲 لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ۔ 🤲 رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ۔ 🤲 أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ۔ 🤲 رَبِّ أَنْزِلْنِي مُنْزَلًا مُبَارَكًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 دعا کی قبولیت میں تاخیر 🔷 ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت المقدس کے ساتھ پہاڑ پر بکریوں کی چراگاہ تلاش کر رہے تھے کہ نماز میں مشغول ایک شخص کو دیکھا۔ پوچھا: کس کی عبادت کر رہے ہو؟ جواب دیا: آسمان کے خدا کے لیے۔ پوچھا: کوئی رشتہ دار ہے؟ کہا: نہیں فرمایا: کھانا کہاں سے کھاتے ہو؟ کہا: درختوں کے پھل کھاتا ہوں اور سردیوں کے لیے بھی ذخیرہ کر لیتا ہوں۔ پوچھا: تمہارا گھر کہاں ہے؟ ایک پہاڑ کی طرف اشارہ کیا کہ وہاں ہے۔ فرمایا: آج مجھے اپنا مہمان بناو گے؟ کہا: راستے مین ایک ندی بہتی ہے کہ وہاں سے نہیں گزرا جا سکتا۔ پوچھا: تم کیسے جاتے ہو ؟ کہا: میں پانی پر چل کر جاتا ہوں۔ فرمایا: میرا ہاتھ بھی پکڑ لینا شاید اللہ تعالی مجھے بھی طاقت دے کہ اس پانی سے گزر جاوں۔ وہ لے کر چلا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہاتھ پکڑا، دریا عبور کیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا: کونسا دن مہم ترین دن ہے؟ کہا: قیامت کا دن جب اللہ تعالی لوگوں کے اعمال کی جزا سزا دے گا۔ فرمایا: تو ہاتھ اٹھا کر اللہ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ اس دن کے شر سے اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ عابد نے کہا: میری دعا کیا اثر کرے گی؟ خدا کی قسم ایک دعا ہے تیس سال سے مانگ رہا ہوں ابھی تک مستجاب نہیں ہوئی۔ فرمایا: بتاوں تیری دعا قبول کیوں نہیں ہوئی؟ کہا: کیوں ؟ فرمایا: جب اللہ تعالی اپنے کسی بندے کو پسند کرتا ہے تو اس کی د عا دیر سے پوری کرتا ہے تاکہ زیادہ مناجات کرتا رہے اور زیادہ سوال کرے کیونکہ وہ اپنے بندے کی اس حالت کو پسند کرتا ہے اور جسے پسند نہ کرے تو یا تو اس کی دعا جلدی قبول کر لیتا ہے یا اس کے دل کو اس دعا اور درخواست سے منصرف کر دیتا ہے اور وہ ناامید ہو جاتا ہے تاکہ دوبارہ وہ دعا نہ مانگے۔ پھر پوچھا: تو نے کونسی دعا مانگی ہوئی ہے؟ عابد نے کہا: تیس سال پہلے یہاں سے بکریوں کا ریوڑ گزرا تھا اور ایک خوبرو جوان بکریوں کے ساتھ تھا اس سے پوچھا کہ یہ بکریاں کس کی ہیں تو کہا: ابراہیم، اللہ کے خلیل کی ہیں۔ اس دن دعا مانگی کہ اے اللہ اگر زمین پر تیرا خلیل موجود ہے تو اس کی زیارت سے مشرف فرما۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالی نے تیری دعا قبول فرمائی ہے میں ہی ابراہیم خلیل ہوں۔ ۔ 📚:خلاصہ داستان بحارالانوار 76/12 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 احسان فطرت دیکھ کر کریں 🔷 جرمن ادب۔۔۔ 1960 کی دہائی میں جرمن جیل میں یہ واقعہ پیش آیا ، قیدیوں کو جیل کے گارڈز کی طرف سے ظلم اور ہر لحاظ سے بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ قیدیوں میں ایک شمٹ نامی قیدی بھی شامل تھا جس کو طویل مدت تک کے لیے سزا سنائی گئی تھی لیکن اس قیدی کو جیل میں اچھی مراعات مل رہی تھیں اور محافظ اس کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آیا کرتے تھے - جس کی وجہ سے باقی قیدی یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ وہ ان محافظوں کا ایک ایجنٹ ہے - شمٹ نے قیدیوں کو یقین دلانے کے لیے حلف اٹھایا کہ وہ ان جیسا ہی ایک قیدی ہے اور اس کا سیکیورٹی سروسز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ "لیکن کسی نے بھی اس کی بات پر یقین نہ کیا ، چنانچہ قیدیوں نے کہا ، "ہم جاننا چاہتے ہیں کہ جیل کے محافظ آپ کے ساتھ ہم سے مختلف سلوک کیوں کرتے ہیں؟" شمٹ نے قیدیوں سے کہا: "ٹھیک ہے ، مجھے یہ بتائیں کہ آپ اپنے رشتہ داروں کو ہفتہ وار جو خطوط لکھتے ہیں اس میں کیا لکھ کر بھیجتے ہیں؟" سب نے ایک زبان ہوکر کہا: " ہم ان لعنتی محافظوں کے ہاتھوں جیل میں ہم پر ہونے والے ظلم اور زیادتی کی داستان کے بارے میں لکھتے ہیں-" شمٹ نے قیدیوں کو جواب میں کہا: میں ہر ہفتے اپنی بیوی کو خط لکھتا ہوں اور خط کی آخری سطروں میں جیل کے محافظوں اور محسنوں اور ان کے حسن سلوک کا ذکر کرتا ہوں اور بعض اوقات اپنے خطوط میں کچھ محافظوں کے نام بھی لکھ دیتا ہوں اور ان کی تعریف بھی کردیتا ہوں. قیدیوں نے شمٹ کو جواب دیا: اس سب کا کیا لینا دینا جب کہ تمہیں معلوم ہے کہ ہمارے ساتھ یہاں بہت ظلم کیا جاتا ہے؟ شمٹ نے کہا کہ ذہین لوگو ہمارے تمام خطوط اور پیغامات جیل سے اس وقت تک باہر نہیں بھیجے جاتے جب تک کہ محافظ ان کو خود پڑھ نہ لیں اور اس طرح وہ ہر چھوٹی بڑی بات کا پتہ لگا لیتے ہیں اور خطوط میں درج باتوں کو بدل بھی دیتے ہیں۔ اگلے ہفتے قیدیوں کو یہ دیکھ کر حیرت سے شدید دھچکا لگا کہ تمام جیل گارڈز نے قیدیوں کے ساتھ پہلے سے بھی کہیں زیادہ بدترین سلوک کیا ، حتی کہ شمٹ کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا اور اس کے ساتھ جیل کا عملہ نہایت سختی سے پیش آیا۔ کچھ دن بعد شمٹ نے قیدیوں سے پوچھا: تم نے اس ہفتے کے خطوط میں ایسا کیا لکھ دیا تھا ؟ سب نے جواب میں کہا : ہم نے لکھا تھا کہ شمٹ نے ہمیں ملعون محافظوں کو دھوکہ دینے اور ان کا اعتماد اور یقین حاصل کرنے کا ایک نیا طریقہ سکھایا ہے۔ یہ سن کر شمٹ نے دکھ کے مارے اپنے گال پیٹ لیے اور اپنے بال پاگلوں کی طرح نوچنے شروع کر دیئے۔ 🔘 دوسروں کی مدد کرنا اچھا ہے، لیکن یہ جاننا زیادہ ضروری ہے کہ آپ جس شخص سے بات کر رہے ہیں وہ کس فطرت کا مالک ہے؟ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 مختلف معلومات 2 🔷 س: رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کا نام کیا تھا؟ ج: القصواء س: حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی طوفان کے بعد کہاں اتری؟ ج: جبل جودی پر، عاشورہ کے دن س: جنتیوں کا سب سے پہلا کھانا کیا ہوگا؟ ج: مچھلی کے جگر کا اضافہ س: وہ کون سا کھانا ہے جو کھایا جا سکتا ہے لیکن بیچا نہیں جا سکتا؟ ج: قربانی کا گوشت س: انسان کا سب سے طویل سفر کون سا تھا؟ ج: معراج کا سفر س: "سدرة المنتہی" کیا ہے؟ ج: یہ ساتویں آسمان پر موجود ایک عظیم درخت ہے۔ س: "روح القدس" کس کو کہا جاتا ہے؟ ج: حضرت جبریل علیہ السلام س: جنت کی بہترین خواتین کون ہیں؟ ج: حضرت خدیجہ بنت خویلد، حضرت فاطمہ بنت محمد ﷺ، حضرت مریم بنت عمران، حضرت آسیہ زوجہ فرعون س: قرآن مجید میں کس درخت کا ذکر کیا گیا ہے جو طور سینا سے نکلتا ہے؟ ج: زیتون کا درخت س: پہلی بار بارہ گھنٹے کس نے مقرر کیے؟ ج: حضرت نوح علیہ السلام نے، تاکہ نمازوں کے اوقات کا پتا چل سکے۔ س: زمین پر سب سے پہلا رسول کون تھا؟ ج: حضرت نوح علیہ السلام، جنہیں شیخ المرسلین کہا جاتا ہے۔ س: وہ کون سی آیت ہے جو خانہ کعبہ کے اندر نازل ہوئی؟ ج: "بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کو ادا کرو" (سورۃ النساء: 58) س: زمین پر جنت کا ایک حصہ کہاں ہے؟ ج: حجر اسود س: سب سے پہلے خانہ کعبہ کا طواف کس نے کیا؟ ج: فرشتوں نے س: تورات میں سب سے پہلی نازل ہونے والی چیز کیا تھی؟ ج: "بسم اللہ الرحمن الرحیم" س: قرآن مجید کی کتنی آیات ہیں؟ ج: 6236 آیات س: "الفاضحہ" کس سورۃ کا نام ہے؟ ج: سورۃ التوبہ س: وہ نبی کون ہیں جن پر ان کی ساری قوم ایمان لائی؟ ج: حضرت یونس علیہ السلام س: رسول اللہ ﷺ کی آخری کون سی زوجہ محترمہ تھیں جن کا انتقال ہوا؟ ج: حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا س: وہ "ماں" کون ہے جس نے کسی کو جنم نہیں دیا؟ ج: اُم القریٰ (یعنی مکہ مکرمہ) س: حضرت ابراہیم علیہ السلام کتنے دن نمرود کی آگ میں رہے؟ ج: سات دن تک رہے س: حضرت آدم علیہ السلام کو "آدم" کیوں کہا گیا؟ ج: کیونکہ انہیں زمین کی مٹی (ادیم الارض) سے پیدا کیا گیا تھا۔ س: جبل عرفات کو "عرفات" کیوں کہا جاتا ہے؟ ج: کیونکہ حضرت آدم اور حضرت حوا جنت سے زمین پر اترنے کے بعد اسی مقام پر ملے تھے، جیسے حاجی عرفات میں اکٹھے ہوتے ہیں۔ س: وہ خاتون کون ہیں جنہیں "عربوں کی دادی" کہا جاتا ہے؟ ج: حضرت ہاجرہ علیہا السلام س: سب سے پہلے کس نے گھوڑے کی سواری کی؟ ج: حضرت اسماعیل علیہ السلام س: سب سے پہلے کس نے "سبحان ربی الاعلیٰ" کہا؟ ج: حضرت اسرافیل علیہ السلام س: جنت کے دریا کہاں سے پھوٹتے ہیں؟ ج: جنت الفردوس سے س: قرآن میں کتنی سجدہ کی جگہیں ہیں؟ ج: 14 مقامات س: سب سے پہلے آسمان میں کس نے اذان دی؟ ج: حضرت جبریل علیہ السلام س: وہ نبی کون ہیں جن کی روح آسمان میں قبض کی گئی؟ ج: حضرت ادریس علیہ السلام س: وہ کون سی سورۃ ہے جسے سن کر شیطان روتا ہے؟ ج: سورۃ السجدہ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 مختلف معلومات 1 🔷 س: وہ نبی کون ہیں جن کا سر سجدے میں کاٹ دیا گیا تھا؟ ج: حضرت یحییٰ علیہ السلام س: وہ نبی کون ہیں جو قیامت کے دن اپنی بیوی سے دور بھاگیں گے؟ ج: حضرت لوط علیہ السلام س: حضرت جبریل علیہ السلام کے کتنے پر ہیں؟ ج: 600 پر س: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہاں پیدا ہوئے؟ ج: بیت الحم، فلسطین میں پیدا ہوئے۔ س: وہ نبی کون ہیں جنہوں نے 30 سال تک اپنی قوم کو دعوت دی لیکن کوئی ان پر ایمان نہ لایا؟ ج: حضرت لوط علیہ السلام س: وہ نبی کون سے ہیں جو غیر شادی شدہ رہے اور نکاح نہیں کیا؟ ج: حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام س: وہ نبی کون ہیں جن کی بیوی کو فرشتوں نے ان کے سامنے جلا دیا؟ ج: حضرت لوط علیہ السلام س: جنت میں لوگوں کی عمریں کیا ہوں گی؟ ج: 33 سال کے ہوں گے اور اس سے زیادہ نہیں ہوں گے۔ س: قیامت کے دن سب سے پہلے کس بات کا فیصلہ کیا جائے گا؟ ج: خون (قتل و غارت) کے بارے میں س: وہ نبی کون ہیں جنہوں نے سب سے پہلے موت کی خواہش کی؟ ج: حضرت یوسف علیہ السلام س: اس امت کے کون سے عمل سب سے پہلے اٹھائے جائیں گے؟ ج: پانچ وقت کی نمازیں س: رسول اللہ ﷺ نے سب سے پہلی کون سی نماز ادا کی؟ ج: نمازِ ظہر س: حضرت آدم اور حضرت نوح علیہما السلام کے درمیان کتنے سال کا فاصلہ تھا؟ ج: دس صدیوں کا فاصلہ تھا۔ س: وہ کون سی سورۃ ہے جس کی ہر آیت میں اللہ کا نام آیا ہے؟ ج: سورۃ المجادلہ س: وہ کون سی آیت ہے جس میں عربی کے تمام حروف موجود ہیں؟ ج: سورۃ الفتح کی آخری آیت س: وہ کون سی دس آیات ہیں جو انسان کو دجال سے محفوظ رکھتی ہیں؟ ج: سورۃ کہف کی پہلی دس آیات س: وہ کون سی سورۃ ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے خواتین کو سیکھنے کی تاکید کی؟ ج: سورۃ النور س: "سورۃ الفرائض" کس سورۃ کا نام ہے؟ ج: سورۃ النساء س: "سورۃ النساء الصغریٰ" کس سورۃ کا نام ہے؟ ج: سورۃ الطلاق س: "المنجیہ" کس سورۃ کا لقب ہے؟ ج: سورۃ الملک س: وہ کون سی سورتیں ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جسے قیامت دیکھنی ہو وہ انہیں پڑھے؟ ج: سورۃ التکویر، سورۃ الانفطار، اور سورۃ الانشقاق س: رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں کبھی اذان کیوں نہیں دی؟ ج: کیونکہ اگر آپ ﷺ اذان دیتے تو جس نے جواب نہ دیا، وہ کافر شمار ہوتا۔ نیز، آپ ﷺ داعی تھے اور اپنے لیے گواہی دینا مناسب نہیں تھا۔ اگر آپ ﷺ اذان دیتے اور "اشہد ان محمد رسول اللہ" کہتے، تو کچھ لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوتی کہ کوئی اور نبی یا رسول ہے۔ س: "بیت المعمور" کہاں واقع ہے؟ ج: ساتویں آسمان پر س: وہ کون سی مخلوق ہے جو سب سے آخر میں مرے گی؟ ج: موت کا فرشتہ س: جنت کا سب سے اعلیٰ درجہ کون سا ہے؟ ج: "جنة الفردوس" س: رسول اللہ ﷺ کے کتنے بیٹے تھے؟ ج: تین س: جنت کے داروغہ (خازن) کا نام کیا ہے؟ ج: رضوان س: جہنم کے داروغہ (خازن) کا نام کیا ہے؟ ج: مالک س: جنت کے کتنے دروازے ہیں؟ ج: آٹھ س: جہنم کے کتنے دروازے ہیں؟ ج: سات س: اعراف کیا ہے؟ ج: جنت اور جہنم کے درمیان ایک جگہ ہے، جہاں ان لوگوں کو رکھا جاتا ہے جن کے نیک اور بد اعمال برابر ہوں۔ س: اعراف والوں کا کیا انجام ہوگا؟ ج: اللہ کی رحمت سے وہ جنت میں داخل ہوں گے، اور جہنم میں نہیں جائیں گے۔ س: وہ کون شخص ہے جسے حکمت دی گئی مگر نبوت نہیں ملی؟ ج: حضرت لقمان حکیم س: وہ نبی کون ہیں جو ایک دن روزہ رکھتے اور دوسرے دن افطار کرتے تھے؟ ج: حضرت داؤد علیہ السلام س: وہ نبی کون ہیں جنہیں ان کی قوم نے درخت کے اندر آری سے چیر کر شہید کر دیا؟ ج: حضرت زکریا علیہ السلام س: وہ نبی کون ہیں جن کی پرورش ان کے دشمن نے کی؟ ج: حضرت موسیٰ علیہ السلام س: وہ نبی کون ہیں جنہوں نے بچپن میں گہوارے میں بات کی اور آج تک زندہ ہیں؟ ج: حضرت عیسیٰ علیہ السلام س: حضرت مریم علیہا السلام کے کفیل کون تھے؟ ج: حضرت زکریا علیہ السلام س: حضرت نوح علیہ السلام کے خاندان میں سے کون دو افراد نجات نہیں پا سکے؟ ج: ان کا بیٹا اور ان کی بیوی س: دو نبیوں کی بیویاں کافر تھیں، وہ کون سے نبی ہیں؟ ج: حضرت نوح اور حضرت لوط علیہما السلام 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 گدھے کی اوقات 🔷 ایک دن مُلا نصیر الدین اپنے گدھے کو گھر کی چھت پر لے گئے جب نیچے اتارنے لگے تو گدھا نیچے اترنے سے منع ہو گیا. جتنے جتن کئیے گدھا نیچے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا آخر کار ملا تھک ہار کر خود نیچے آ گئے اور انتظار کرنے لگے کہ گدھا خود کسی طرح سے نیچے آجاۓ. کچھ دیر گزرنے کے بعد ملا نے دیکھا کہ گدھا چھت کو لاتوں سے توڑنے کی کوشش کر رہا ہے. ملا پریشان ہو گئے کہ چھت تو بہت نازک ہے اتنی مضبوط نہیں کہ اس کی لاتوں کو سہہ سکے دوبارہ اوپر بھاگ کر گئے اور گدھے کو نیچے لانے کی کوشش کی لیکن گدھا اپنی ضد پر اٹا ہوا تھا اور چھت کو توڑنے میں لگا ہوا تھا ملا آخری کوشش کرتے ہوۓ اسے دوبارہ دھکا دے کر سیڑھیوں کی طرف لانے لگے کہ گدھے نے ملا کو لات ماری اور ملا نیچے گر گئے اور پھر چھت کو توڑنے لگا بالآخر چھت ٹوٹ گئی اور گدھا چھت سمیت زمین پر آ گرا. ملا کافی دیر تک اس واقعہ پر غور کرتے رہے اور پھر خود سے کہا کہ کبھی بھی گدھے کو مقام بالا پر نہیں لے جانا چاہئیے ایک تو وہ خود کا نقصان کرتا ہے دوسرا خود اس مقام کو بھی خراب کرتا ہے اور تیسرا اوپر لے جانے والے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے. 🔘 ہم لوگ نااہل گدھوں کو مقام بلند پر بٹھاتے ہیں اور انہیں بڑے بڑے عہدے دیتے ہیں پھر یہ گدھے ہم کو ہی نیچے پھینک دیتے ہیں اور اس منصب کو بھی خراب کرتے ہیں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 خود کو پہچانیں 🔷 ایک دانا آدمی کی گاڑی گاوں کے قریب خراب ہوگئی اس نے سوچا کہ گاوں سے کسی سے مدد لیتا ہوں وہ جیسے ہی گاوں میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا ایک بوڑھا شخص چارپائی پر بیٹھا ہے اور اس کے قریب مرغیاں دانہ چگ رہی ہیں ان مرغیوں میں ایک باز کا بچہ بھی ہے جو مرغیوں کی طرح دانے چگ رہا ہے وہ حیران ہوا اور اپنی گاڑی کو بھول کر اس بوڑھے شخص سے کہنے لگا کہ یہ کیسے خلاف قدرت ممکن ہوا کہ ایک باز کا بچہ زمین پر مرغیوں کے ساتھ دانے چگ رہا ہے تو اس بوڑھےشخص نے کہا دراصل یہ باز کا بچہ صرف ایک دن کا تھا جب یہ پہاڑ پر مجھے گرا ہوا ملا میں اسے اٹھا لایا یہ زخمی تھا میں نے اس کو مرہم پٹی کرکے اس کو مرغی کے بچوں کے ساتھ رکھ دیا جب اس نےپہلی بار آنکھیں کھولیں تو اس نے خود کو مرغی کے چوزوں کے درمیان پایا یہ خود کو مرغی کا چوزہ سمجھنے لگا اور دوسرے چوزوں کے ساتھ ساتھ اس نے بھی دانہ چگنا سیکھ لیا اس دانا شخص نے گاوں والے سے درخواست کی کہ یہ باز کا بچہ مجھے دے دیں تحفے کے طور پر یا اس کی قیمت لے لیں میں اس پر تحقیق کرنا چاہتا ہوں اس گاوں والے نے باز کا بچہ اس دانا شخص کو تحفے کے طور پر دے دیا یہ اپنی گاڑی ٹھیک کروا کر اپنے گھر آ گیا وہ روزانہ باز کے بچے کو چھت سے نیچے پھینک دیا کرتا مگر باز کا بچہ مرغی کی طرح اپنے پروں کو سکیڑ کر گردن اس میں چھپا لیتا وہ روزانہ بلاناغہ باز کے بچے کو اپنے سامنے ٹیبل پر بیٹھاتا اور اس کہتا کہہ تو باز کا بچہ ہے مرغی کا نہیں اپنی پہچان کر اسی طرح اس نے کئی دن تک اردو پنجابی سندھی سرائیکی پشتو ہر زبان میں اس باز کے بچے کو کہا کہ تو باز کا بچہ ہے مرغی کا نہیں اپنی پہچان کر اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کرو آخر کار وہ دانا شخص ایک دن باز کے بچے کو لے کر ایک بلند ترین پہاڑ پر چلا گیا اور اسے کہنے لگا کہہ خود کو پہچاننے کی کوشش کرو تم باز کے بچے ہو اور اس شخص نے یہ کہہ کر باز کے بچے کو پہاڑ کی بلندی سے نیچے پھینک دیا باز کا بچہ ڈر گیا اور اس نے مرغی کی طرح اپنی گردن کو جھکا کر پروں کو سکیڑ لیا اور آنکھیں بند کر لیں تھوڑی دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں تو اس نے دیکھا کہ زمین تو ابھی بہت دور ہے تو اس نے اپنے پر پھڑ پھڑائے اور اڑنے کی کوشش کرنے لگا جیسے کوئی آپ کو دریا میں دھکا دے دے تو آپ تیرنا نہیں بھی آتا تو بھی آپ ہاتھ پاؤں ماریں گے تھوڑی ہی دیر میں وہ اپنے آپ کو بیلنس کرنے لگا کیونکہ باز میں اڑنے صلاحیت خدا نے رکھی ہوتی ہے تھوڑی ہی دیر میں وہ اونچا اڑنے لگا وہ خوشی سے چیخنے لگا اور اوپر اور اوپر جانے لگا کچھ ہی دیر میں وہ اس دانا شخص سے بھی اوپر نکل گیا اور نیچے نگاہیں کرکے اس کا احسان مند ہونے لگا تو دانا شخص نے کہا اے باز میں نے تجھے تیری شناخت دی ہے اپنے پاس سے کچھ نہیں دیا یہ کمال صلاحیتیں تیرے اندر موجود تھیں مگر تو بے خبر تھا۔ 🔘 یہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہے ہماری ایک خاص شناخت ہے ہم ایک خاص امت کے ارکان ہیں ہم ایک ایٹمی ملک کے شہری ہیں۔ ہمارے اندر اللہ رب العزت نے بے پناہ صلاحیتیں رکھی ہیں۔ مگر پرابلم یہ ہے کہ ہمارے ارد گرد بے شمار مرغیاں ہیں جن میں ہمارے ٹی وی چینل اور اخبارات بھی شامل ہیں جو مسلسل ہم کو بتاتے ہیں کہ ہم باز کے بچے نہیں مرغی کے بچے ہیں۔ جو مسلسل بتاتے ہیں کہ تم سپر پاور نہیں ہو سپر پاور کوئی اور ہے۔ جو مسلسل بتاتے ہیں کہ تم بہادر اور طاقتور نہیں ہو بلکہ بزدل اور کمزور ہو تمھاری تو قوم ہی ایسی ہے تم دہشتگرد ہو تم لوگ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ 🔘 کامیابی کی شرط یہ ہے کہ ہم خود کو پہچاننے کی کوشش کریں تاکہ ہم ایک بہترین امت اور بہترین قوم بن کر اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 مصلحت 🔷 ایک گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک خوبصورت گھوڑا تھا جس سے وہ کھیتوں میں کام لیتا تھا۔ ایک دن اس کا گھوڑا بھاگ گیا۔ گاؤں والے آئے اور کہنے لگے: "کتنی بدقسمتی ہے تمھاری!" بوڑھے کسان نے مسکرا کر کہا: "کیا معلوم یہ بدقسمتی ہے یا خوش قسمتی؟" چند دن بعد، وہی گھوڑا واپس آیا، اور ساتھ میں تین جنگلی گھوڑے بھی لے آیا۔ گاؤں والے حیران ہو کر کہنے لگے: "کتنی خوش نصیبی ہے تمھاری!" بوڑھا کسان پھر مسکرایا: "کیا معلوم یہ خوش نصیبی ہے یا بدقسمتی؟" اگلے دن کسان کا بیٹا ان میں سے ایک جنگلی گھوڑے کو سدھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ گر کر اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ گاؤں والے پھر آئے: "کتنی بدقسمتی ہے!" کسان نے پھر وہی جواب دیا: "کیا معلوم؟" کچھ ہفتے بعد بادشاہ نے جنگ چھیڑ دی اور گاؤں کے تمام نوجوانوں کو فوج میں لے جایا گیا۔ مگر کسان کا بیٹا چونکہ زخمی تھا، اس لیے بچ گیا۔ اب گاؤں والے بولے: "واقعی! تمھاری قسمت تو بہت اچھی نکلی!" بوڑھا کسان صرف مسکرا دیا۔ 🔘 سبق زندگی میں جو کچھ ہوتا ہے، وہ فوراً اچھا یا برا نظر آ سکتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ پتہ چلتا ہے کہ ہر واقعہ کسی بڑی حکمت کا حصہ ہوتا ہے۔ ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت پوشیدہ ہو سکتی ہے بس اپ صبر، شکر اور امید کو کبھی نہ چھوڑیں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 خود کو پہچانیں 🔷 ایک دانا آدمی کی گاڑی گاوں کے قریب خراب ہوگئی اس نے سوچا کہ گاوں سے کسی سے مدد لیتا ہوں وہ جیسے ہی گاوں میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا ایک بوڑھا شخص چارپائی پر بیٹھا ہے اور اس کے قریب مرغیاں دانہ چگ رہی ہیں ان مرغیوں میں ایک باز کا بچہ بھی ہے جو مرغیوں کی طرح دانے چگ رہا ہے وہ حیران ہوا اور اپنی گاڑی کو بھول کر اس بوڑھے شخص سے کہنے لگا کہ یہ کیسے خلاف قدرت ممکن ہوا کہ ایک باز کا بچہ زمین پر مرغیوں کے ساتھ دانے چگ رہا ہے تو اس بوڑھےشخص نے کہا دراصل یہ باز کا بچہ صرف ایک دن کا تھا جب یہ پہاڑ پر مجھے گرا ہوا ملا میں اسے اٹھا لایا یہ زخمی تھا میں نے اس کو مرہم پٹی کرکے اس کو مرغی کے بچوں کے ساتھ رکھ دیا جب اس نےپہلی بار آنکھیں کھولیں تو اس نے خود کو مرغی کے چوزوں کے درمیان پایا یہ خود کو مرغی کا چوزہ سمجھنے لگا اور دوسرے چوزوں کے ساتھ ساتھ اس نے بھی دانہ چگنا سیکھ لیا اس دانا شخص نے گاوں والے سے درخواست کی کہ یہ باز کا بچہ مجھے دے دیں تحفے کے طور پر یا اس کی قیمت لے لیں میں اس پر تحقیق کرنا چاہتا ہوں اس گاوں والے نے باز کا بچہ اس دانا شخص کو تحفے کے طور پر دے دیا یہ اپنی گاڑی ٹھیک کروا کر اپنے گھر آ گیا وہ روزانہ باز کے بچے کو چھت سے نیچے پھینک دیا کرتا مگر باز کا بچہ مرغی کی طرح اپنے پروں کو سکیڑ کر گردن اس میں چھپا لیتا وہ روزانہ بلاناغہ باز کے بچے کو اپنے سامنے ٹیبل پر بیٹھاتا اور اس کہتا کہہ تو باز کا بچہ ہے مرغی کا نہیں اپنی پہچان کر اسی طرح اس نے کئی دن تک اردو پنجابی سندھی سرائیکی پشتو ہر زبان میں اس باز کے بچے کو کہا کہ تو باز کا بچہ ہے مرغی کا نہیں اپنی پہچان کر اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کرو آخر کار وہ دانا شخص ایک دن باز کے بچے کو لے کر ایک بلند ترین پہاڑ پر چلا گیا اور اسے کہنے لگا کہہ خود کو پہچاننے کی کوشش کرو تم باز کے بچے ہو اور اس شخص نے یہ کہہ کر باز کے بچے کو پہاڑ کی بلندی سے نیچے پھینک دیا باز کا بچہ ڈر گیا اور اس نے مرغی کی طرح اپنی گردن کو جھکا کر پروں کو سکیڑ لیا اور آنکھیں بند کر لیں تھوڑی دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں تو اس نے دیکھا کہ زمین تو ابھی بہت دور ہے تو اس نے اپنے پر پھڑ پھڑائے اور اڑنے کی کوشش کرنے لگا جیسے کوئی آپ کو دریا میں دھکا دے دے تو آپ تیرنا نہیں بھی آتا تو بھی آپ ہاتھ پاؤں ماریں گے تھوڑی ہی دیر میں وہ اپنے آپ کو بیلنس کرنے لگا کیونکہ باز میں اڑنے صلاحیت خدا نے رکھی ہوتی ہے تھوڑی ہی دیر میں وہ اونچا اڑنے لگا وہ خوشی سے چیخنے لگا اور اوپر اور اوپر جانے لگا کچھ ہی دیر میں وہ اس دانا شخص سے بھی اوپر نکل گیا اور نیچے نگاہیں کرکے اس کا احسان مند ہونے لگا تو دانا شخص نے کہا اے باز میں نے تجھے تیری شناخت دی ہے اپنے پاس سے کچھ نہیں دیا یہ کمال صلاحیتیں تیرے اندر موجود تھیں مگر تو بے خبر تھا۔ 🔘 یہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہے ہماری ایک خاص شناخت ہے ہم ایک خاص امت کے ارکان ہیں ہم ایک ایٹمی ملک کے شہری ہیں۔ ہمارے اندر اللہ رب العزت نے بے پناہ صلاحیتیں رکھی ہیں۔ مگر پرابلم یہ ہے کہ ہمارے ارد گرد بے شمار مرغیاں ہیں جن میں ہمارے ٹی وی چینل اور اخبارات بھی شامل ہیں جو مسلسل ہم کو بتاتے ہیں کہ ہم باز کے بچے نہیں مرغی کے بچے ہیں۔ جو مسلسل بتاتے ہیں کہ تم سپر پاور نہیں ہو سپر پاور کوئی اور ہے۔ جو مسلسل بتاتے ہیں کہ تم بہادر اور طاقتور نہیں ہو بلکہ بزدل اور کمزور ہو تمھاری تو قوم ہی ایسی ہے تم دہشتگرد ہو تم لوگ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ 🔘 کامیابی کی شرط یہ ہے کہ ہم خود کو پہچاننے کی کوشش کریں تاکہ ہم ایک بہترین امت اور بہترین قوم بن کر اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 بچوں کا سلیبس 🔷 میٹرک تک سلیبس اس طرح ہونا چاہیے کہ بچے کے پاس کوئی نہ کوئی ہنر آ جائے اور بچے کو پتہ چل جائے کہ اس نے میٹرک کے بعد کون سے فیلڈ اختیار کرنی ہے یعنی اس کی کس فیلڈ میں دلچسپی ہے ۔ میرا خیال ہے اب رٹا سسٹم ختم ہونا چاہیے بچوں کو دسویں تک زیادہ سے زیادہ ٹیکنیکل تعلیم دینی چاہیے ۔۔ جمعہ اور ہفتہ دو دن ایسے ہوں جس میں نصابی کتابیں بالکل بند کر دی جائیں اور بچوں کو ہنر سکھائے جائیں ایسے کون سے ہنر ہیں جو بچے دسویں کلاس تک سیکھ سکتے ہیں ۔۔ 1- آٹو مکینک خصوصی طور پر موٹر سائیکل کے بارے میں بچوں کو تربیت دی جائے اس کے انجن کے بارے میں پرزے تبدیل کرنے کے بارے میں انہیں چھٹی کلاس سے لے کر دسویں کلاس تک مرحلہ وائز موٹرسائیکل کا کام سکھایا جائے وہ اس قدر ماہر بن جائیں کہ دسویں کلاس کے بعد پرزے خرید کر پورا موٹر سائیکل اسمبل کر سکیں ۔۔ 2- بجلی کا کام الیکٹریشن بچوں کو عملی طور پر بجلی کا کام سکھایا جائے انڈر گراؤنڈ وائرنگ کیسے کی جاتی ہے اوپن گراؤنڈ وائرنگ کیسے کی جاتی ہے موٹر وائنڈ کیسے کی جاتی ہے مکمل طور پر بچوں کو کام سکھایا جائے اور یہ شعبہ اور یہ ہنر خود میں پوری ایک سائنس ہے فزکس میں اس کے چیپٹر تو ہیں تھیوری کے طور پر میں کہنے سے چاہتا ہوں کہ بچوں کو پریکٹیکلی کام سکھایا جائے صحیح معنوں میں 3- گھر کا ڈاکٹر چھٹی کلاس سے لے کے دسویں کلاس تک کے تمام بچوں کو گھر ڈاکٹر بنا دیا جائے جو کہ وقت کی اشد ضرورت ہے بچے کو بلڈ پریشر مانیٹر کرنا آنا چاہیے ۔۔ وین میں انجیکشن لگانا سکھائیں گوشت میں انجیکشن لگانا سکھائیں بوقت ضرورت ڈرپ کیسے لگائی جاتی ہے ۔ ایمرجنسی کی صورت میں بینڈج کرنا سکھائیں ۔۔ ضروری نہیں یہ کام اس نے لوگوں کے لیے کرنے ہیں یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو بچے کی ساری زندگی اس کے کام آنے والی ہیں۔۔۔ 4- موبائل ریپیئرنگ اور سافٹ ویئر بچوں کو موبائل ریپیئرنگ کے بارے میں تربیت دی جائے ان کو موبائل ریپیئر کرنا سکھایا جائے موبائل میں سوفٹ ویئر کیسے اپڈیٹ کیا جاتا ہے سافٹ ویئر انسٹال کیسے کیا جاتا ہے ۔۔ 5- خود سے پیسے کمانا گرمی کی چھٹیوں میں بچوں کو ٹاسک دیا جائے کہ پانچ پانچ بچے مل کر تھوڑے تھوڑے پیسے ڈال کر کوئی کاروبار کریں کوئی چیز لے کر فروخت کریں تاکہ وہ عملی زندگی میں اس طرح کی صورتحال میں پریشان نہ ہو مطلب ان کو کمانا سکھائیں ( ہمارے پڑوسی ملک انڈیا میں یہ پریکٹیکل کئی سالوں سے ہو رہا ہے ) 6- فری لانسنگ ویڈیو گیم کھیلنے کے علاوہ کمپیوٹر اور بھی بہت سے مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے یہ بچوں کو عملی طور پر باور کروایا جا سکتا ہے انہیں بتائیں کہ انٹرنیٹ کا دور ہے اپ اپنی چیزیں انٹرنیٹ پر کس قدر اسانی کے ساتھ فروخت کر سکتے ہیں ۔۔ اپنی خدمات کو انٹرنیٹ پر فروخت کرنا سکھائیں ۔۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بچہ دیہاتی ہے اور اس کے گھر میں دیسی گھی ہے تو اس کا استاد بتائے کہ وہ دیسی گھی کا پیج بنا کر انٹرنیٹ پر ایمانداری کے ساتھ کس قدر کامیاب کاروبار کر سکتا ہے ایلسی کی پنیا فروخت کر سکتا ہے مکئی کا اٹا فروخت کر سکتا ہے سردیوں میں ساگ بنا کر فروخت کر سکتا ہے مکھن فروخت کر سکتا ہے اور بھی بہت کچھ یہ اسے سکھایا جائے ۔۔!! 7- نرسری اگانا بچوں کو بیج لگانے کی تربیت دی جائے پھولوں کے بیج سبزیوں کے بیج درختوں کے بیج اور یہ کام سکول میں بہت اسانی کے ساتھ ہو سکتے ہیں کہ اگر مستقبل میں اس کا رجحان نیچر کی طرف بڑھ جائے تو وہ نرسری کا اپنا کاروبار کر سکتا ہے اسے یہ ہنر ضرور سکھانے چاہیے ۔۔ 8- چھوٹے پیمانے پر صابن سازی 9- بیچنا آنا چاہیے بچوں کو مارکیٹنگ بچوں کے اندر اس قدر اعتماد پیدا کیا جائے کہ وہ بہترین مارکیٹر بن سکے ان کو اپنی چیزیں بیچنا آنا چاہیے اور اساتذہ سے بڑھ کر کوئی ایسی ہستی نہیں جو بچوں میں اس قدر اعتماد پیدا کر سکے والدین سے بھی زیادہ اعتماد بچوں کو سکول میں ماحول سے ملتا ہے اساتذہ سے ملتا ہے اب وقت ہے کہ سلیبس میں موجود فضول کہانیوں کو یکثر مسترد کر کے ہمارے انے والے بچوں کو دسویں تک مکمل پریکٹیکل تعلیم دی جائے تاکہ وہ اپنا باعزت روزگار کما سکے اور وطن عزیز کے باعزت شہری بن سکیں ۔۔ تحریر: عاطف سہیل آرائیں ۔۔!!! 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

خاتون نے تین غلطیاں کی اور تینوں بہت بڑی غلطیاں تھیں پہلے یہ کہ مسلمان ہوتے ہوئے انہوں نے کالا جادو کروایا دوسرا یہ کہ انہوں نے ایک انسان کو ایک مسلمان خاتون کو اتنی اذیت دی کہ اس کے بچے اس کی کوکھ میں مرتے رہے اور تیسرا یہ کہ اس خاتون کی دہلیز پر اللہ تعالی کا ایک نیک بندہ گیا اور اس خاتون کے بھلے کی بات کی لیکن اس کے باوجود یہ خاتون اپنے ان اعمال سے باز نہ ائی اور اللہ تعالی کی طرف سے بھیجی گئی ہدایت کو قبول نہ کیا اپنی بات مکمل کرنے کے بعد انہوں نے فرمایا کہ بظاہر اس مسئلے کا کوئی حل میرے پاس نہیں ہے لیکن میں اپ کو ایک چیز تجویز کرتا ہوں کہ اپ اس خاتون کے ہاتھوں سے صدقہ خیرات کروائیں کیونکہ یہ بات اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بتائی گئی ہے کہ صدقہ بلاؤں کو ٹال دیتا ہے مصائب کو ٹال دیتا ہے مشکلوں کو ٹال دیتا ہے یقیناً اللہ کی راہ میں دیا گیا صدقہ تمہاری ماں کی تکلیف کو کچھ کم کر دے کیونکہ یہ اللہ تعالی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اس میں شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں بچتی مجھے یقین ہے کہ اگر تم اپنی ماں کے ہاتھ سے صدقہ کرواؤ گے یا خود اپنی والدہ کی نیت سے اللہ تعالی کی راہ میں کچھ صدقہ خیرات کرو گے تو اس کے بدلے میں تمہاری ماں کی تکلیف میں کمی ضرور ائے گی میرے شوہر اس ملاقات کے بعد واپس گلاسگو ا گیے واپس ا کر نہ صرف یہاں کے فلاحی اداروں کی معاونت کی بلکہ پاکستان میں بھی غریب غرباء کے لیے رقم بھیجی اور ساتھ ہی لوگوں سے دعا کی التجا کرتے ہوئے کہا کہ "دعا کرنا میری ماں کے جسم سے روح نکل جائے تاکہ اس کی تکلیف کچھ کم ہو جائے " میری ساس تقریبا ڈیڑھ سے دو ماہ اس کی حالت میں رہی اور ڈیڑھ سے دو ماہ بعد شاید ان کے ہاتھوں سے دیے گئے صدقے کے وسیلے سے اللہ تعالی نے ان کے لیے کچھ اسانی کر دی ان کی روح پرواز کر گئی اور جان نکلنے سے پہلے انہوں نے ایک بار انکھیں کھولیں انہوں نے میرے شوہر کو بلایا ان کا ہاتھ چوما اور کہا کہ ماؤں کے اولاد پر احسان ہوتے ہیں مگر تمہارا ماں پر احسان ہے جب میرے شوہر نے اپنی والدہ کی طرف دیکھا تو اس کو حالت بتا رہی تھی کہ اس کی ماں کا اخری وقت ہے اس نے ماں کے سرہانے بیٹھ کر کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت کا ورد شروع کر دیا میں بھی پاس بیٹھ گئی ہم لوگوں نے اونچا اونچا پڑھنا شروع کیا اور میری شوہر کی گود میں سر رکھے ہوئے میری ساس نے جان افرین کے سپرد کر دی البتہ ان کے ہاتھوں سے اور ان کے نام پر صدقہ خیرات کروانے کا میں یہ فائدہ ہوا کہ ان کو مرتے وقت کلمہ نصیب ہوا۔ میرا شوہر اج بھی کہتا ہے کہ میری والدہ نے پتہ نہیں اور کتنا عرصہ ازمائش دیکھنی تھی اور کتنا عرصہ تکلیف میں رہنا تھا اللہ تعالی نے اس کے لیے جو اسانی کی ہے وہ یقینا اسی صدقے کے وسیلے سے کی ہے اس واقعہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صدقہ اپ کو کتنی کتنی بڑی مشکلات اور اذیتوں سے نجات دلوا دیتا ہے۔ 🔘 اگر اپ کو اللہ تعالی نے نواز رکھا ہے تو اپ مخلوق خدا پر خرچ کرنے سے بالکل بھی نہ کترائیں اپ ازما لیں اپ جتنا اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کریں گے اللہ تعالی اس سے کئی گناہ بڑھا کر اپ کو واپس لوٹا دے گا اور پتہ نہیں اپ کی کتنی کتنی مشکلیں اسان کر دے گا مسائل حل کر دے گا تکالیف اور اذیت دور کر دے گا بلائیں ٹال دے گا حادثات سے بچا لے گا۔ اللہ تعالی ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور راہ ہدایت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/6100 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

جادو کے ذریعے انہوں نے حالات اس نہج تک پہنچا دیے گئے ان کی بھابھی کے بچے اس کے پیٹ میں ہی مر جاتے یعنی ان کے لیے ان کی ماں کی کوکھ ہی قبر ثابت ہوتی کئی بار گھر کے اندر خود بخود اگ لگ جاتی اور جب اگ لگتی تو ان کی بھابھی کا جسم بالکل مفلوج ہو جاتا وہ صرف شور مچا پاتی تھی ہل جل نہیں سکتی تھی اب ان کی خوش قسمتی یہ تھی کہ جب بھی گھر میں اگ لگتی کوئی نہ کوئی بندہ گھر میں موجود ہوتا تھا جو ان کی مدد کو ا پہنچتا تھا پہلے پہل تو یہ لگا کہ اگ ان کی بھابھی کی غلطی کی وجہ سے لگتی ہے مگر بعد میں یہ بھی ثابت ہو گیا کہ کمرے میں ایسی کوئی چیز نہیں ہوتی جس سے اگ جلائی جا سکے اور دوسری اہم وجہ بھابھی کا اپنا جسم مفلوج ہونا تھا کئی بار اگ ان کے جسم کے قریب پہنچ جاتی تھی اور ان کا جسم تھوڑا بہت جل بھی جاتا تھا ان حالات کو دیکھتے ہوئے میرے مامو یعنی میری امی کے بھائی نے ایک عالم دین سے رابطہ کیا انہوں نے حالات کو نزاکت کو سمجھتے ہوئے بتایا کہ یہ جادو ٹونا ہے لیکن میں معافی چاہتا ہوں میں اس کا کوئی توڑ نہیں کر سکتا البتہ میری یہ رائے ہے کہ اپ لوگ معوذتین کا ورد کرتے رہیں امید ہے اللہ تعالی اپ کو شفا دے گا پھر کسی اور عالم عامل سے حساب لگوایا گیا تو پتہ چلا کہ جادو کروانے والا کوئی اور نہیں بلکہ میری والدہ ہے یعنی میرے ماموں کی سگی بہن میرے ماموں نے میری ماں کے سامنے ہاتھ باندھے اور کہا کہ ہمیں اس ازمائش میں نہ ڈالو میری والدہ نے اپنی غلطی کو تسلیم کر لیا مگر اس کو سدھارنے کی حامی نہ بھری اور صاف الفاظ میں کہا کہ تم اسے طلاق دے دو اسی میں تمہارا فائدہ ہے یہ نہ تو تمہاری نسل کو اگے بڑھا سکتی ہے اور نہ ہی یہ زیادہ عرصہ جی سکتی ہے میری والدہ کی ان الفاظ کے بعد میرے ماموں نے ہمیشہ کے لیے میری والدہ سے قطع تعلق کر لیا مگر ان کو پھر بھی کئی بار ہماری دہلیز پر انا پڑتا کیوںکہ میری ممانی کو کہیں سے بھی افاقہ نہیں ہو رہا تھا میرے مامو ایک بہت ہی مشہور بزرگ حضرت کرماں والا شریف کے گدی نشین کو لے کر بھی میری والدہ کے پاس ائے اور ان کی منت سماجت کی مگر میری والدہ نے ان بزرگوں کا بھی کوئی احترام نہ کیا اور کہا کہ میں اس عمل سے باز نہیں آوں گی ان بزرگوں نے میری والدہ کو مخاطب کر کے کہا کہ انہوں نے میرے پاس انے میں دیر کر دی ورنہ تمہاری اور اس عمل کی کیا جرات تھی کہ ہمیں نقصان پہنچا سکتا اور پھر انہوں نے میری والدہ سے کہا کہ یاد رکھنا اس کی زندگی مشکل ہے لیکن موت اسان ہوگی جب کہ تمہاری زندگی اسان ہوگی لیکن تمہاری موت عبرت ناک ہوگی اب جب میری والدہ کہتی ہے کہ میری بھابھی اس بزرگ کے ساتھ ا گئی ہے درحقیقت میری والدہ کو ماضی کا وہ وقت یاد اتا ہے جب میرے ماموں ان بزرگوں کو لے کر ہمارے گھر ائے تھے خیر جب میرے شوہر کی بات مکمل ہو گئی تو میں خود بھی پریشان ہو گئی اور اس مسئلے کا حل ڈھونڈنے لگی میرے شوہر نے بھی ادھر ادھر بات کی اپنے جاننے والوں سے پوچھا اور میں نے بھی اپنے جاننے والوں سے اس مسئلے کے حل کے متعلق پوچھا مگر ہم کسی منطقی فیصلہ تک نہ پہنچ سکے یہاں تک کہ میرے شوہر نے یہ ذہن بنا لیا کہ "یا تو میری ساس کو کسی فلاحی ادارے کے سپرد کر دیا جائے جو ان کی دیکھ بھال کرے یا پھر ان کو انجیکشن لگوا کر موت کی ابدی نیند سلا دیا جائے " میں اپنے شوہر کے ان دونوں باتوں سے متفق نہ ہوئی میں نے کہا کہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے اللہ تعالی ان کے اس گناہ کو معاف کر دے اور ان کے لیے کم از کم اگلی دنیا اسان کر دے میں اور میرا شوہر کوشش کرتے رہے یہاں تک کہ اخر میرے شوہر نے فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان جائے گا جا کر ان بزرگوں سے یا پھر ان کی نسل میں سے کسی سے ملے گا اس کو سارا ماجرہ بتائے گا اور پھر ان سے اس معاملے کا حل پوچھے گا میں نے اپنے شوہر کو پاکستان جانے کی اجازت دے دی اور وہ پاکستان چلا گیا پاکستان جا کر جب وہ کرماں والا شریف کے اس وقت کے گدی نشین سے ملا اور اس کو سارا معاملہ بتایا تو گدی نشین نے کہا کہ ہم تمہارے ہی منتظر تھے پھر انہوں نے ہمیں ایک ڈائری دکھائی جس ڈائری میں وہ دن لکھا ہوا تھا جب وہ بزرگ میری ساس سے ملنے اور ان سے کہنے ائے تھے کہ اپنی بھابھی کو جینے دو اس کی زندگی کو عذاب نہ بناؤ اور میری ساس نے انکار کر دیا تھا گو کہ جو بزرگ میری ساس کے پاس ائے تھے وہ فوت ہو چکے تھے یہ ان کی اولاد میں سے کوئی بزرگ تھے انہوں نے وہ ڈائری میرے شوہر کو دکھائی جہاں یہ ذکر تھا وہیں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ جس عامل نے یہ عمل کیا ہے اس عامل کا یہ عمل اخری ہے اس عمل کے بعد وہ انسان دوبارہ کبھی کسی مسلمان کو تکلیف نہیں پہنچا سکے گا میرے شوہر نے خود یہ ہر چیز اپنی انکھوں سے پڑی اور حیران رہ گیا وہ اپنی والدہ کا سوچ کر رو پڑا اور ان سے کہا کہ اب بھی اس مسئلے کا کوئی حل ہے تو وہ بزرگ تھوڑی دیر خاموش ہوئے مراقبے کی حالت میں گئے اور پھر اپنی انکھیں کھول لیں انکھیں کھول کر فرمایا کہ اس

🔷 صدقے کا کمال 🔷 ✍ تحریر: شازل سعید میرا نام اقصی سعید ہے میں اس وقت گلاسگو میں اپنے شوہر اور بچوں کے ہمراہ مقیم ہوں درحقیقت میرے ساس سسر یہاں منتقل ہوئے تھے ان کی اولاد نے یہاں ہی پرورش پائی میں یہاں تعلیم حاصل کرنے کے لیے ائی تو میرے شوہر جن کا نام سعید خان ہے وہ میری ہی یونیورسٹی میں میری ہی کلاس میں تھے وہاں ہماری ہیلو ہائی ہوئی جو دوستی میں بدلی اور پھر وہ دوستی اہستہ اہستہ محبت میں بدل گئی جب تک ہم دونوں نے ایک دوسرے کے سامنے اظہار محبت کیا اس سے پہلے میں سعید کے سارے خاندان کے بارے میں جان چکی تھی اس کے والدین سے بہن بھائیوں سے ملاقات کر چکی تھی میرے والدین پاکستان میں مقیم تھے لیکن میرے والد صاحب ایک اچھے عہدے پر تھے بیوروکریٹ تھے میں نے جب اپنے والد صاحب کے سامنے اپنے دل کا حال رکھا تو وہ باقاعدہ طور پر پاکستان سے یہاں میرے پاس ائے ا کر سعید کی فیملی سے ملے اور پھر انہوں نے میری پسند پر اپنے اطمینان کا اظہار کر دیا یوں میرے والدین کی مرضی سے ہم دونوں کا نکاح کر دیا گیا میرے والدین کی یہ خوبی ہے کہ انہوں نے کبھی بھی پاکستان کی اکثریت ایلیٹ کلاس کی طرح ہمیں ازادی نہیں دی محبت اور لاڈ پیار کے نام پر ہمیں بگڑنے نہیں دیا بلکہ باقاعدہ طور پر مذہب کی تعلیم دی اور علماء کرام سے دلوائی ہمارے دلوں میں اسلام ایمان اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جگائی ہمیں بالکل بھی بے جا لاڈ پیار نہ دیا ہمارے دل و دماغ پر اپنا ڈر قائم رکھا البتہ ہمیں ہمارے حق سے بڑھ کر پیار محبت دی اور جہاں کہیں ہم سے غلطی ہوئی وہاں ہمیں انتہائی پیار سے سمجھایا ہماری ہر مشکل میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے خیر شادی کے بعد میں سسرال ائی جن کو میں شادی سے پہلے اچھی طرح جان چکی تھی تو میرے لیے یہاں ایڈجسٹ ہونا مشکل نہ رہا کیونکہ میرے والدین نے میری ایسی تربیت کی تھی کہ اگر میرے ساتھ کسی نے کوئی اونچ نیچ کر بھی لی تو میں نے اس کو نظر انداز کر دیا ہر شادی شدہ خاتون یہ بات جانتی ہے کہ سسرال میں جا کر وہاں ایڈجسٹ ہونے میں عورت کو کم سے کم چار سے پانچ سال کا عرصہ لگتا ہے اور مجھے اس سے بھی زیادہ لگا اس دوران مجھ پر میری نندوں اور ساس کی طرف سے سخت رویہ اپنایا گیا مجھے بلا وجہ بیعزت کیا گیا مجھ پر طنز کیا گیا لیکن میں نے ان سب باتوں کو نظر انداز کر دیا اور کبھی گھر کے ماحول کو خراب نہیں ہونے دیا وقت اپنی رفتار سے گزرتا ہے گزرتا رہا میرے تین بچے پیدا ہوئے تیسرے بچے کی پیدائش سے پہلے تک میں ملازمت کرتی رہی لیکن پھر میں نے ملازمت چھوڑ دی اور اپنے بچوں کی پرورش پر توجہ دینے کا فیصلہ کر لیا میری ساس اب بستر سے لگ چکی تھی وہ بالکل اٹھنے کے قابل نہ تھی یہاں تک کہ ان کا اخری وقت قریب اگیا اخری وقت میں وہ انتہائی تکلیف میں چلی گئی وہ ایک کمرے میں سانس لیتی تھی تو دوسرے کمرے تک اواز اتی تھی میرے بچے ہر وقت اس کی سانس لینے کی اواز سن کر سہمے رہتے تھے یہاں تک کہ بچوں کی حالت کو دیکھتے ہوئے ہم نے ساتھ والا گھر کرائے پر لے لیا اور میں بچوں کے ساتھ وہاں منتقل ہو گئی گو کہ میرا سارا وقت میری ساس کے پاس گزرتا بس درمیان میں اپنے بچوں کے پاس جاتی اور چکر لگاتی خاص طور پر اس وقت جب میری ساس کی کوئی نہ کوئی بیٹی اس کے پاس موجود ہوتی تھی جب ایک ہفتہ یہی حال رہا اور ایک ہفتے کے دوران میری ساس نے صرف ایک ہی فقرا میرے شوہر سے کہا کہ "بھابھی بابا جی کو لے کر ا گئی ہے اور بابا جی غصے میں ہیں" وہ جب بھی ہوش میں اتی ہے صرف اسی ایک فقرے کو دہراتی حتی کہ ہوش کے دوران بھی نہ ان کی انکھیں کھلتی ہیں اور نہ ہی وہ کوئی اور بات کرتیں بس ہم اس بات سے اندازہ لگاتے ہیں کہ جب وہ ہوش میں ہوتی ہیں اور ہم کوئی بات کرتے تو ہماری اواز کی طرف وہ اپنا چہرہ پھیرنے کی کوشش کرتی جس سے ہمیں اندازہ ہو جاتا کہ اس وقت یہ ہوش میں ہے ان کو نالیوں کے ذریعے خوراک فراہم کی جا رہی تھی اور وہ صرف یہ ایک فقرہ دہرا رہی تھی میں نے اپنے شوہر سے اس کے متعلق پوچھا تو میرے شوہر نے بتایا کہ میری ماں نے اپنی بھابھی پر بہت ظلم کیا تھا ان کی بھابھی سے نہیں بنتی تھی انہوں نے اپنے بھائی کے لیے اپنی کوئی دوست پسند کر رکھی تھی اور ان کے بھائی یعنی میرے مامو نے کسی اور لڑکی سے شادی کر لی انہوں نے پہلے اپنی بھابھی کو طرح طرح کے اذیتیں دی تکالیف دیں لیکن وہ برداشت کرتی رہی ان کی کوشش تھی کہ ان کا گھر چل جائے جب میری ماں کے کہنے پر ان کے بھائی نے اپنی بیوی کو طلاق نہ دی اور یہ اپنی بھابی کو گھر سے نہ نکال سکیں تو پھر انہوں نے جادو ٹونے کا سہارا لیا