ISLAM WITH EMAN
رفتن به کانال در Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
نمایش بیشتر1 288
مشترکین
اطلاعاتی وجود ندارد24 ساعت
-47 روز
-430 روز
آرشیو پست ها
1 288
🌹 پاک دامنی 🌹
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں؛ اللہ تعالٰی کے نزدیک بہترین عبادت پاک دامنی ہے انسان کو اپنے پیٹ اوراپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھنا چاہیے۔
علامہ محمد بن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جابر جعفی کابیان ہے کہ میں ایک دن حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے ملا، تو آپؑ نے فرمایا؛
اے جابر! میں دنیا سے بالکل بے فکر ہوں کیونکہ جس کے دل میں دین خالص ہو وہ دنیا کو کچھ نہیں سمجھتا اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا چھوڑی ہوئی سواری، اتارا ہوا کپڑا اوراستعمال کی ہوئی عورت ہے۔ مومن دنیا کی بقا سے مطمئن نہیں ہوتا اوراس کی دیکھی ہوئی چیزوں کی وجہ سے نور خدا اس سے پوشیدہ نہیں ہوتا۔ مومن کو تقویٰ اختیار کرنا چاہیے کہ وہ ہر وقت اسے متنبہ اور بیدار کھتا ہے۔
سنو! دنیا ایک سرائے فانی ہے۔۔
"نزلت بہ وارتحلت منہ“
اس میں آنا جانا لگا رہتا ہے۔ آج آئے اورکل گئے اور دنیا ایک خواب ہے جو کمال کے مانند دیکھی جاتی ہے اور جب جاگ اٹھے توکچھ نہیں۔
آپؑ نے فرمایا؛
تکبر بہت بری چیز ہے، یہ جس قدر انسان میں پیدا ہوگا اسی قدر اس کی عقل گھٹے گی، کمینے شخص کا حربہ گالیاں بکنا ہے۔
ایک عالم کی موت کو ابلیس نوے عابدوں کے مرنے سے بہتر سمجھتا ہے۔ ایک ہزار عابد سے وہ ایک عالم بہتر ہے جو اپنے علم سے فائدہ پہنچا رہا ہو۔
میرے ماننے والے وہ ہیں جو اللہ کی اطاعت کریں۔ آنسوؤں کی بڑی قیمت ہے رونے والا بخشا جاتا ہے اور جس رخسار پر آنسو جاری ہوں وہ ذلیل نہیں ہوتا۔
سستی اور زیادہ تیزی برائیوں کی کنجی ہے۔
خداکے نزدیک بہترین عبادت پاک دامنی ہے انسان کوچاہیے کہ اپنے پیٹ اور اپنی شرمگاہوں کو محفوظ رکھیں۔
دعاسے قضا بھی ٹل جاتی ہے۔ نیکی بہترین خیرات ہے۔
بدترین عیب یہ ہے کہ انسان کو اپنی آنکھ کی شہتیر دکھائی نہ دے اور دوسرے کی آنکھ کا تنکا نظر آئے، یعنی اپنے بڑے گناہ کی پرواہ نہ ہو، اور دوسروں کے چھوٹے عیب اسے بڑے نظر آئیں اور خود عمل نہ کرے، صرف دوسروں کو تعلیم دے۔
جوخوشحالی میں ساتھ دے اورتنگ دستی میں دور رہے وہ تمہارابھائی اوردوست نہیں ہے۔
📚 مطالب السؤل، ص272۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🔷حضرت خضرؑ و موسٰیؑ(حصہ اول)🔷
حضرت موسٰیؑ بنی اسرائیل کو خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم کس کے پاس ہے؟
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا:
میرے پاس۔
تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ علم کو اللہ کی طرف منسوب کیوں نہیں کیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ بحرین جہاں دو دریا ملتے ہیں وہاں میرے بندوں میں سے ایک بندہ ایسا ہے جس کے پاس آپ سے زیادہ علم ہے۔
موسٰیؑ نے عرض کیا:
اے رب! میں کس طرح اس کے پاس پہنچوں گا؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛
زنبیل میں ایک مچھلی رکھ کر چل دو جہاں وہ کھو جائے گی وہیں وہ شخص آپ کو ملے گا۔
پھر موسٰیؑ نے اپنے ساتھ اپنے خادم یوشع بن نون کو لیا اور زنبیل میں مچھلی رکھ کر چل دیئے یہانتک کہ ایک ٹیلے کے پاس پہنچے تو موسٰیؑ اور ان کے خادم دونوں لیٹ گئے اور سو گئے۔ مچھلی زنبیل میں کودنے لگی۔ یہاں تک کہ نکل کر دریا میں گر گئی۔ اللہ تعالیٰ نے پانی کا بہاؤ وہیں روک دیا اور وہاں طاق سا بن گیا اور اس کا راستہ ویسا ہی بنا رہا۔ جب کہ موسٰیؑ کے ساتھی بھول گئے کہ انہیں مچھلی کے متعلق بتائیں، صبح ہوئی تو موسٰیؑ نےاپنے ساتھی سے کھانا طلب کیا اور فرمایا کہ اس سفر میں ہمیں بہت تھکن ہوئی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ موسٰیؑ اسی وقت تھکے جب اس جگہ سے تجاوز کیا جس کے متعلق حکم دیا گیا تھا کہ ان کے ساتھی نے کہا۔ دیکھئے جب ہم ٹیلے پر ٹھہرے تو میں مچھلی بھول گیا تھا اور یقینا یہ شیطان ہی کا کام ہے کہ مجھے بھلا دیا کہ میں آپ سے اس کا تذکرہ کروں کہ اس نے عجیب طریقے سے دریا کا راستہ اختیار کیا۔ موسٰیؑ فرمانے لگے وہی جگہ ہم تلاش کر رہے تھے۔ چنانچہ وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس لوٹے۔ وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے چلتے چٹان کے پاس پہنچے تو ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ چادر سے اپنے آپ کو ڈھانکے ہوئے ہے۔۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا اس زمین میں سلام کہاں؟
موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں زمین میں موسٰی ہوں۔
انہوں نے پوچھا؛
بنی اسرائیل کا موسیٰ؟
آپ علیہ السلام نے فرمایا؛ ہاں۔
حضرت خضر نے فرمایا؛
اے موسیٰ تمہارے پاس اللہ کا دیا ہوا ایک علم ہے جسے میں نہیں جانتا اور میرے پاس اللہ کا عطا کردہ ایک علم ہے جسے آپ نہیں جانتے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛
کیا میں اس شرط پر آپ کے پیچھے چلوں کہ آپ میری رہنمائی فرماتے ہوئے مجھے وہ بات سکھائیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھائی۔
حضرت خضرؑ نے فرمایا؛
آپ صبر نہیں کر سکیں گے اور اس چیز پر کیسے صبر کر سکیں گے جس کا آپ کی عقل نے احاطہ نہیں کیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛
عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں آپ کی حکم عدولی نہیں کروں گا۔
حضرت خضرؑ نے فرمایا؛
اگر میری پیروی کرنا ہی چاہتے ہو تو جب تک کوئی بات میں خود نہ بیان کروں آپ مجھے نہیں پوچھیں گے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛
ٹھیک ہے ۔۔
پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضرؑ دونوں ساحل پر چل رہے تھے کہ ایک کشتی ان کے پاس سے گذری، انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی سوار کرلو انہوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور بغیر کرائے کے دونوں کو بٹھا لیا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس کشتی کا تختہ اکھاڑ دیا۔
حضرت موسٰیؑ بول پڑے کہ آپ نے کشتی کو توڑ دیا تاکہ اس کشتی والے غرق ہو جائیں آپ نے بڑا عجیب کام کیا ہے۔۔
حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا:
اے موسیٰ! کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکو گے۔
حضرت موسیٰ نے فرمایا؛
جو بات میں بھول گیا ہوں آپ اس پر میرا مؤاخذہ نہ کریں اور مجھے تنگی میں نہ ڈالیں۔
پھر وہ کشتی پر سے اتر کر ابھی ساحل پر چل رہے تھے کہ ایک بچہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑا اور اسے ہاتھ سے جھٹکا دے کر قتل کر دیا۔
موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ نے ایک بے گناہ قتل کر دیا۔ آپ نے بڑی بے جا حرکت کی۔
وہ کہنے لگے کہ میں نے کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ راوی کہتا ہے کہ یہ بات پہلی بات سے زیادہ تعجب خیز تھی۔
موسٰیؑ کہنے لگے کہ اگر اس کے بعد بھی میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھئے گا۔ آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ چکے ہیں۔
پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ ایک بستی کے پاس سے گذرے اور ان سے کھانے کے لئے کچھ مانگا تو انہوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کر دیا۔ اتنے میں وہاں انہیں ایک دیوار ملی جو گرنے کے قریب تھی تو حضرت خضرؑ نے اس دیوار کو سیدھا کھڑا کر دیا ۔
موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ ہم ان لوگوں کے پاس آئے تو انہوں نے ہماری ضیافت تک نہیں کی اور ہمیں کھانا کھلانے سے بھی انکار کر دیا۔ اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔۔۔!!
حضرت خضرؑ نے فرمایا کہ بس اب یہ وقت۔۔۔ جاری ہے۔۔
بقیہ حصہ دوم میں۔۔۔۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🔷 ریاست کا بادشاہ 🔷
ایک ریاست کے بادشاہ نے یہ اعلان کروا دیا کہ کل صبح جب میرے محل کا مرکزی دروازہ کھولا جائے گا تب جس شخص نے بھی محل میں جس چیز کو ہاتھ لگا دیا وہ چیز اس کی ھو جائے گی.
اس اعلان کو سن کر سب لوگ آپس میں بات چیت کرنے لگے کہ میں تو سب سے قیمتی چیز کو ہاتھ لگاؤں گا.
کچھ لوگ کہنے لگے میں تو سونے کو ہاتھ لگاؤں گا، کچھ لوگ چاندی کو تو کچھ لوگ قیمتی زیورات کو، کچھ لوگ گھوڑوں کو تو کچھ لوگ ہاتھی، کچھ لوگ دودھ دینے والی گائے کو ہاتھ لگانے کی بات کر رہے تھے.
جب صبح محل کا مرکزی دروازہ کھلا اور سب لوگ اپنی اپنی من پسند چیزوں کے لئے دوڑے. سب کو اس بات کی جلدی تھی کہ پہلے میں اپنی من پسند چیزوں کو ہاتھ لگا دوں تاکہ وہ چیز ہمیشہ کے لئے میری ہو جائے۔
بادشاہ اپنی جگہ پر بیٹھا سب کو دیکھ رہا تھا اور اپنے آس پاس ھونے والی بھاگ دوڑ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا.
اسی وقت اس بھیڑ میں سے ایک شخص بادشاہ کی طرف بڑھنے لگا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچ کر اس نے"بادشاہ" کو چھو لیا.
بادشاہ کو ہاتھ لگاتے ہی "بادشاہ" اس کا ہو گیا اور بادشاہ کی "ہر چیز" بھی اس کی ھو گئی.
🔘 جس طرح "بادشاہ" نے ان لوگوں کو موقع دیا اور ان لوگوں نے غلطیاں کیں. ٹھیک اسی طرح ساری دنیا کا "مالک" بھی ہم سب کو ہر روز موقع دیتا ہے، لیکن افسوس ہم لوگ بھی ہر روز غلطیاں کرتے ہیں.
ہم اللہ کو حاصل کرنے کی بجائے اللہ کی بنائی ہوئی دنیا کی چیزوں کی آرزو کرتے ہیں. لیکن کبھی بھی ہم لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ کیوں نہ دنیا کے بنانے والے "مالک" کو پا لیا جائے.
اگر "مالک" ہمارا ھو گیا تو اس کی بنائی ہوئی ہر چیز بھی ہماری ھو جائے گی۔۔!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے ضرور شیئر کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🔷حضرت خضرؑ و موسٰیؑ(حصہ دوم)🔷
حضرت خضرؑ نے فرمایا کہ بس اب یہ وقت ہماری اور آپ کی جدائی کا ہے۔ میں آپ کو ان چیزوں کی حقیقت بتا دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکے۔۔ !!
▫️حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰؑ کا کپڑا پکڑ کر فرمایا کہ میں اب آپ کو ان کاموں کا راز بتاتا ہوں کہ جن پر تم صبر نہ کر سکے۔۔ کشتی تو ان مسکینوں کی تھی کہ جو سمندر میں مزدوری کرتے تھے اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ظلماً کشتیوں کو چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ میں اس کشتی کو عیب دار کر دوں تو جب کشتی چھیننے والا آیا تو اس نے کشتی کو عیب دار سمجھ کر چھوڑ دیا اور وہ کشتی آگے بڑھ گئی اور کشتی والوں نے ایک لکڑی لگا کر اسے درست کر لیا۔۔!!
▫️اور وہ لڑکا جسے میں نے قتل کیا ہے فطرةً کافر تھا اس کے ماں باپ اس سے بڑا پیار کرتے تھے تو جب وہ بڑا ہوتا تو وہ اپنے ماں باپ کو بھی سرکشی میں پھنسا دیتا تو ہم نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس لڑکے کے بدلہ میں دوسرا لڑکا عطا فرما دے جو کہ اس سے بہتر ہو۔۔!
▫️اور وہ دیوار جسے میں نے درست کیا وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جس کے نیچےخزانہ تھا۔۔
نبی اکرمؐ نے فرمایا؛ ہماری چاہت تھی کہ موسٰی اللہ ان پر رحمت کرے کچھ دیر اور صبر کرتے تاکہ ہمیں ان کی عجیب وغریب خبریں سننے کو ملتیں۔۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ نے پہلا سوال تو بھول کر کیا تھا۔ پھر ایک چڑیا آئی جس نے کشتی کے کنارے پر بیٹھ کر دریا میں اپنی چونچ ڈبوئی، پھر حضرت خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا میرے اور آپ کے علم نے اللہ کے علم میں سے صرف اسی قدر کم کیا جتنا اس چڑیا نے دریا سے--!!
📚 حوالہ جات؛
صحیح بخاری، جلد دوم، حدیث1921۔
صحیح مسلم، جلد سوم، حدیث1662۔
صحیح مسلم، جلد سوم، حدیث1664۔
جامع ترمذی، جلد دوم، حدیث1094۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🕸 عنکبوت 🕸
ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ "ﺍﻟﻌﻨﮑﺒﻮﺕ" ﮨﮯ، ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﻮ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ "ﻣﮑﮍﯼ" ﮐﮩﺎ ﺟﺎ ﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻗﺮﺁﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﻮﺩﺍ ﯾﺎ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﺎ ﮨﮯ۔
ﺟﺪﯾﺪ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻣﺎﺩﮦ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﺑﭽﮯ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﺮ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ، ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺍﻭﻻﺩ ﺑﮍﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ہے ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﯽ ہے، ﮐﺘﻨﺎ ﻋﺠﯿﺐ ﻭ ﻏﺮﯾﺐ ﮔﮭﺮﺍﻧﮧ ﮨﮯ، ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﮔﮭﺮﺍﻧﮧ ﮨﮯ۔
ﻗﺮﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺟﻤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯼ۔۔۔
"ﺍﻥَّ ﺍﻭﮬﻦَ ﺍﻟﺒُﯿﻮﺕِ ﻟﺒﯿﺖُ ﺍﻟﻌﻨﮑﺒﻮﺕ ﻟﻮ ﮐﺎﻧﻮﺍ
ﯾﻌﻠﻤﻮﻥ۔"
ترجمہ:
ﺑﮯ ﺷﮏ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ (ﺍﻧﺴﺎﻥ) ﻋﻠﻢ ﺭﮐﮭﺘﮯ۔"
ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ!
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺣﺴﯽ (ﻇﺎﮨﺮ) ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﻌﻨﻮﯼ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ (ﺩﺷﻤﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻧﮧ ﺟﻨﮕﯽ) ﺳﮯ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﺗﮭﮯ!
ﺍﺏ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻋﻠﻢ ﺭﮐﮭﺘﮯ (ﯾﻌﻨﯽ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﯽ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮﮞ ﮐﻤﺰﻭﺭﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﺗﮯ)
ﺍﺱ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎلی ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﺱ ﺑﺮﯼ ﺧﺼﻠﺖ ﻭﺍلے ﮐﯿﮍﮮ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﺳﮯ ﺁﺧﺮ ﺗﮏ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻓﺘﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ!!
ﺳﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ۔۔۔
"ﺍﻟﻢ ﺍﺣﺴﺐ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﺍﻥ ﯾﺘﺮﮐﻮﺍ ﺍﻥ ﯾﻘﻮﻟﻮﺍ ﺁﻣﻨﺎ ﻭﮬﻢ ﻻ ﯾﻔﺘﻨﻮﻥ۔"
ترجمہ:
ﮐﯿﺎ ﻟﻮﮒ ﯾﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﭦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻئے ہیں ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺁﺯﻣﺎﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ جائے ﮔﺎ۔
ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔۔
"ﻭﻣﻦ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﻣﻦ ﯾﻘﻮﻝ ﺁﻣﻨﺎ ﺑﺎﻟﻠﮧ ﻓﺎﺫﺍ ﺍﻭﺫﯼ ﻓﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺟﻌﻞ ﻓﺘﻨۃ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﮐﻌﺬﺍﺏ ﺍﻟﻠﮧ"
ترجمہ:
اور ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﻮ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻئے ہیں ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺫﯾﺖ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﺯﻣﺎﺋﺶ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﺎ ﻓﺘﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﻣﺎﺋﺸﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ؟
ﻓﺘﻨﮯ، ﺳﺎﺯﺷﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﻣﺎﺋﺸﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﮯ ﺟﺎﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﯿﭽﯿﺪﮦ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﻤﯿﺰ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﮯﻧﻘﺎﺏ ﮐﺮﻧﺎ ﺁﺳﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺳﺎﺯﺷﯽ ﮐﻔﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﻓﻖ ﺍﯾﺠﻨﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﭼﺎﻟﯿﮟ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﮯ ﺟﺎﻝ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻤﺮ ﮐﺲ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ، ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺗﻮ ﻣﺘﻘﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ!!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🔷 وقت، وقت اور وقت 🔷
ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ 1 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ 2 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﺗﮏ ﺑﮭﺎﮔﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﻛﺘﻨﯽ ﭼﻮﭨﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ... ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﮌﺍﺗﯽ ﺗﮭﯽ ...
ﺁﺝ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ،
ﺩﺭﺍﺻﻞ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ؛
ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻠﻨﺞ ﺗﮭﺎ ...
ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻭﮌﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ... ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﺩﮐﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯿﮟ ... ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮩﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﮯ ... !!!
ﺟﺐ ﺑﭽﭙﻦ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ... ﺟﺐ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺑﭽﭙﻦ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﯾﺎﺩ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ... !!
ﺟﺐ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺍﭼﮭﯽ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯽ ... ﺁﺝ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮨﮯ، ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﻠﺪﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ... !!
ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﮭﮕﮍﮮ ﺗﮭﮯ، ﺁﺝ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮨﯽ ﺍﻧﭩﺮﻧﯿﭧ ﭘﮧ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ... !!
ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺲ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﭘﺘﮧ ﺍﺏ ﭼﻼ ﮨﮯ ... ﺑﭽﭙﻦ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺍﺏ ﮨﻮﺍ ...
ﺟﺐ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺮﭦ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﭼﮭﭙﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﺎﺩﻭ ﺳﮯ ﻏﺎﺋﺐ ﮐﺮ ﺩﯾﮯ ۔۔۔
ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﭼﺎﺭ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﯾﮏ ﻗﻠﻢ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺑﭩﻦ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﺑﺎﻧﮯ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ...
ﺟﺐ ﮨﻢ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﮭﭙﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮈﺭﺍ ﺳﮑﯿﮟ ...
ﺟﺐ ﺁﻧﮑﮫ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ کے ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﮈﺭﺍﻣﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﮮ ...
ﺳﻮﭼﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ کہ ﯾﮧ ﭼﺎﻧﺪ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﻞ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ...
ﻓﺮﯾﺞ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﮯ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ کہ ﺍﺱ کی ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺐ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﺗﯽ ہے ...
ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﮮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ؟
ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﮮ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔۔۔؟
ﯾﮩﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻝ ﮨﯿﮟ .. ﯾﮩﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﮨﮯ ...
ﻧﮧ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ،،، ﻣﮕﺮ ﺁﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ،،، ﻧﮧ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻮ ﮨﮯ ﮨﯽ .... ﺗﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺱ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﮐﯽ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺬﺍﺭﯾﮟ،، ﺟﺲ ﺳﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﺎﻧﮕﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ..
ﺟﺲ ﮐﮯ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﺨﺸﻨﮯ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﮈﮬﻮﻧﮉﮮ .. ﺍﺱ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺪﺭﺩﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﻭﻓﺎؤﮞ ﻭﺍﻻ ھے....
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے ضرور شیئر کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🔷 الله تعالٰی کی بخشش 🔷
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص ایسا تھا جو اپنی توبہ پر کبھی ثابت قدم نہیں رہتا تھا۔ جب بھی وہ توبہ کرتا، اسے توڑ دیتا۔ یہاں تک کہ اسے اس حال میں بیس سال گزر گئے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ میرے اس بندے سے کہہ دو میں تجھ سے سخت ناراض ہوں۔۔۔
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس آدمی کو اللہ کا پیغام دیا تو وہ بہت غمگین ہُوا اور جنگلوں کی طرف نکل گیا۔ اور وہاں جا کر اس گناہگار شخص نے ایسی خوبصورت دعا کی کہ اللہ تعالٰی کو دوبارہ وحی کرنا پڑی۔۔۔ اس شخص نے بارگاہِ ربّ العزت میں عرض کی۔۔
اے ربّ ذوالجلال! "تیری رحمت کم ہو گئی یا میرے گناہوں نے تجھے دُکھ دیا؟تیری بخشش کے خزانے ختم ہو گئے یا بندوں پر تیری نگاہِ کرم نہیں رہی؟ تیرے عفوودرگزر سے کونسا گناہ بڑا ہے؟ تُو کریم ہے، میں بخیل ہوں، کیا میرا بخل تیرے کرم پر غالب آ گیا ہے؟ اگر تُو نے اپنے بندوں کو اپنی رحمت سے محروم کر دیا تو وہ کس کے دروازے پر جائیں گے؟ اگر تُو نے دھتکار دیا تو وہ کہاں جائیں گے؟
اے ربِّ قادر و قہار! اگر تیری بخشش کم ہو گئی اور میرے لیے عذاب ہی رہ گیا ہے تو تمام گناہ گاروں کا عذاب مجھے دے دے میں اُن پر اپنی جان قربان کرتا ہوں۔"
اللّہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا؛ جاؤ اور میرے بندے سے کہدو کہ تُو نے میرے کمالِ قدرت اور عفو و درگزر کی حقیقت کو سمجھ لیا ہے۔ اگر تیرے گناہوں سے زمین بھر جائے تب بھی میں بخش دوں گا۔
📚 مُکاشِفۃُالقلُوب،ص170,171۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🔶 ہم نشینی 🔶
💦حضرت امام سجاد علیہ السلام اپنے فرزند ارجمند کو فرماتے ہیں: کوشش کرو پانچ آدمیوں کے ساتھ ہمنشینی نہ کرو.
آپ کے فرزند نے سوال کیا:
اے بابا جان وہ کونسے افراد ہیں؟
حضرت امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:
1💧 - جھوٹے آدمی کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ دور سے آپ کو پانی کی طرح دیکھائی دے گا، لیکن اندر سے خراب ہے، وہ دور کو نزدیک اور نزدیک کو دور دیکھاتا ہے.
2 💧- وہ لوگ جو اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ہیں، ان کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ تمہیں ایک لقمہ سے بھی کم قیمت پر فروخت کر ڈالیں گے، اور اپنی صحیح زندگی کے لئے بیدار رہو.
3 💧- بخیل کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ تمہیں ذلیل اور خوار کرے گا، جب تم محتاج اور ضرورت مند ہو گے ، وہ تمہیں نہ مال، نہ زبان، کسی طرح سے بھی تمہاری مدد نہیں کرے گا.
4 💧- احمق کی دوستی سے اجتناب کرو، کیونکہ وہ تمہیں نفع پہنچانے کی کوشش کرے گا لیکن نقصان پہنچائے گا، کیونکہ وہ تشخیص دینے میں عاجز ہے، وہ اچھے اور برے کی تمیز نہیں کر سکتا.
5 💧- قطع رحم کرنے والے سے ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ صلہء رحمی نہیں کرتا اور ان کے ساتھ اچھائی نہیں کرتا، کیونکہ میں نے قرآن کریم میں قطع رحم کرنے والے شخص کو ملعون پایا ہے، اور ضروری ہے کہ ملعون شخص سے دوری اختیار کریں، تاکہ تم اس آگ میں مبتلا نہ ہو جاؤ.
📚 حوالہ:
بحارالانوار ج. 17.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🌻 ماں 🌻
شوہر کے گھر میں داخل ہوتے ہی
بیوی کا غصہ پھوٹ پڑا۔۔
سارا دن کہاں رہے؟ آفس میں پتہ كيا، وہاں بھی نہیں پہنچے! معاملہ کیا ہے؟
"وہ۔۔۔ وہ ... میں ..."
شوہر کی هكلاهٹ پر جھلاتے ہوئے بیوی پھر برسی، بولتے نہیں؟ کہاں چلے گئے تھے یہ گندا باکس اور کپڑوں کی پوٹلی کس کی اٹھا لائے؟
وہ میں ماں کو لانے گاؤں چلا گیا تھا.
شوہر تھوڑی ہمت کر کے بولا۔
کیا کہا؟ آپ ماں کو یہاں لے آئے؟ شرم نہیں آئی تمہیں؟
تمہارے بھائیوں کے پاس انہیں کیا تکلیف ہے؟
چراغ پا تھی بیوی!
اس نے پاس کھڑی پھٹی ہوئی سفید ساڑھی سے آنکھیں پونچھتی بیمار بوڑھی کی طرف دیکھا تک نہیں۔
انہیں میرے بھائیوں کے پاس نہیں چھوڑا جا سکتا تم سمجھ کیوں نہیں رہی.
شوہر نے دبی زبان سے کہا.
کیوں، یہاں کوئی کبیر کا خزانہ رکھا ہے؟ تمہاری چند ہزار روپلی کی تنخواہ میں بچوں کی پڑھائی اور گھر خرچ کس طرح چلا رہی ہوں، میں ہی جانتی ہوں!
بیوی کا لہجہ اتنا ہی شدید تھا
اب یہ ہمارے پاس ہی رہے گی شوہر نے سختی سے پیروی کی۔
میں کہتی ہوں، انہیں اسی وقت واپس چھوڑ کر آؤ. ورنہ میں اس گھر میں ایک لمحہ بھی نہیں رہوں گی اور ان مہارانی جی کو بھی یہاں آتے ذرا سی بھی شرم نہیں آئی؟
کہہ کر بیوی نے بوڑھی عورت کی طرف دیکھا، تو پاؤں تلے سے زمین ہی سرک گئی!
جھیپتے ہوئے بیوی بولی: "ماں، تم؟"
ہاں بیٹی! تمہارے بھائی اور بھابھی نے مجھے گھر سے نکال دیا. داماد جی کو فون كيا تو یہ مجھے یہاں لے آئے.
بڑھیا نے کہا، تو بیوی نے چہکتی نظروں سے شوہر کی طرف دیکھا اور بولی:
آپ بھی بڑے وہ ہو، ڈارلنگ! پہلے کیوں نہیں بتایا کہ میری ماں کو لانے گئے تھے؟
🔘 اس میسج کو اتنا شیئر کرو کہ ہر عورت تک پہنچ سکے!
کہ ماں تو ماں ہوتی ہے! کیا میری، کیا تیری؟
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🌼 حقوق العباد 🌼
خداوندمتعال اپنے حقوق تو معاف فرما سکتا ہے لیکن اپنے بندوں کے حقوق سے درگزر نہیں فرماتا۔
●حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں۔۔
جَعَلَ الله حُقُوْقَ عِبَادِہِ مُقَدِّمَةً عَلٰی حُقُوْقِہِ۔
خداوندمتعال نے اپنے حقوق سے اپنے بندوں کے حقوق کو مقدم قرار دیا ہے۔(1)
●حضرت امام حسن عسکریؑ نے فرمایا؛
اَعْرَفُ النَّاسِ بِحُقُوْقِ اِخْوَانِہِ وَ اَشَدِّھِمْ قَضَآءً لَّھَا اَعْظَمُھُمْ عِنْدَاللهِ شَانًا۔
اپنے مومن بھائیوں کے حقوق کی معرفت رکھنے والوں اور انہیں ادا کرنے کی سختی سے پابندی کرنے والوں کی اللہ تعالٰی کے نزدیک بڑی شان ہے۔(2)
■مشکوک اموال
حضرت امام زین العابدینؑ کو احرام کی حالت میں کسی نے دیکھا کہ چہرے مبارک کا رنگ زرد تھا اور آپ بالکل خاموش، پریشان محسوس ہو رہے تھے۔ کسی نے آپ سے آپ کی اس حالت کے بارے میں دریافت کیا اور پوچھا؛
کیا وجہ ہے یہ دین کے رہنما آقائے دین ہیں لیکن تلبیہ کی آواز بھی ہمیں سنائی نہیں دے رہی۔
آپ نے جواب میں فرمایا؛
میں خداوندمتعال کی ہیبت سے گھبرایا ہوا ہوں اس بات کا خوف محسوس کر رہا ہوں، میں لبیک کہوں اور واپسی جواب آئے لالبیک ولاسعدیک۔
اور پھر وضاحت کے لئے بلا فاصلہ فرمایا؛
میں جانتا ہوں کہ اگر کوئی شخص مشکوک اموال کے ساتھ حج کرے تو اس کے لبیک کے جواب میں کہہ دیا جاتا ہے لالبیک ولاسعدیک۔ جاؤ پہلے لوگوں کے حقوق واپس کرو اور پھر ادھر آنا۔(3)
■خلال دندان
حضرت عیسٰیؑ نے ایک قبرستان سے گزرتے ہوئے ایک قبر والے کے زندہ ہونے کی دعا فرمائی۔
جب وہ شخص زندہ ہوکر برآمد ہوا۔ حضرت عیسٰیؑ نے اس سے قبر کی حالت کے بارے میں دریافت فرمایا۔ اس نے بتایا۔۔
میں اونٹوں پر مال برداری کا کام کرتا تھا۔ ایک بار میں نے کسی شخص کا ایندھن لے جانا تھا راستے میں میں نے اپنے دانتوں کو صاف کرنے کے لیے ایندھن سے خلال (ایک تیلا) توڑا تھا اور اپنے دانتوں کا خلال کیا تھا۔ موت کے وقت سے لے کر اسی خلال کی سزا کا عذاب ہو رہا ہے۔(4)
📚 حوالہ جات:
1)میزان الحکمۃ:4150۔
2)میزان الحکمۃ:1454۔
3)موضوعی داستانیں، ص125۔
4)موضوعی داستانیں، ص126۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🌹 فدک، شھزادی کیلٸے تحفہ 🌹
کئی روایتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلامؐ نے فدک حضرت فاطمہ زہراءؑ کو ہدیہ دیا تھا، اہلسنت کی تفسیر اور حدیث کی کتابوں میں اس کے بارے میں مختلف روایتیں نقل ہوئی ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلامؐ نے فدک حضرت فاطمہ زہراءؑ کو عطا کردیا تھا[۱]۔
اہلسنت کی کتابوں میں سے ایک کتاب شواہد التنزیل ہے، جس میں اہلبیتؑ کی شان میں نازل شدہ آیتوں کی تحقیق کی گئی ہے، جس میں اس آیت:
«وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ[سورۂ اسراء، آیت:۲۶]
اور دیکھو قرابتداروں کو ان کا حق دے دو» کے ذیل میں سات واسطوں سے ثابت کیا ہے کہ رسول خدا نے فدک حضرت فاطمہ زہراءؑ کو عطا کیا ہے۔
وہ روایات کہ جس کو سات طریقوں سے نقل کیا ہے وہ یہ ہے، جب یہ آیت: «وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ[سورۂ اسراء، آیت:۲۶] اور دیکھو قرابتداروں کو ان کا حق دے دو»، نازل ہوئی تو رسول خدا نے حضرت فاطمہ زہراءؑ کو بلایا اور انھیں فدک عطاکردیا[۲].
درمنثور میں سیوطی نے اس روایت کی سند کے سلسلہ کو دو افراد پر ختم کیا ہے، ایک ابی سعید پر اور دوسرے ابن عباس پر، ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو پیغمبرؐ نے حضرت فاطمہ زہراءؑ کو بلایا اور فدک الگ کرکے انھیں عطا کردیا[۳]۔
علمائے شیعہ کے نزدیک واضح ہے کہ رسول خدا نے حکم الٰہی سے حضرت فاطمہ زہراءؑ کو فدک عطا فرمایا، مگر ہم ایک روایت پر اکتفاء کرتے ہیں جو مختلف کتابوں میں نقل ہوئی ہے:
جب یہ آیت: «وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ[سورۂ اسراء، آیت:۲۶] اور دیکھو قرابتداروں کو ان کا حق دے دو» نازل ہوئی تو رسول خدا نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ ذوالقربی کون ہیں؟ پروردگار عالم کی طرف سے جبرئیل وحی لائے کہ فدک حضرت فاطمہ زہراءؑ کو ہدیہ کر دو، رسول خدا نے حضرت فاطمہ زہراءؑ کو بلایا اور فرمایا: خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم کو فدک عطا کردوں، حضرت فاطمہ زہراءؑ نے اس ہدیہ کو قبول کیا اور جب تک پیغمبرؐ باحیات تھے وہاں حضرت فاطمہ زہراءؑ کے نمائندے کام کرتے رہے[۴]۔
🔘 نتیجہ:
جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ فدک کا فاطمہ زہراءؑ کی ملکیت ہونے کا معاملہ کس قدر صاف اور شفاف تھا لیکن اس قضیہ کو اتنا پیچیدہ بنا دیا کہ جسے بعض مسلمان آج تک حل نہیں کر پائے۔ جبکہ درحقیقت یہ معاملہ اتنا پیچیدہ نہیں تھا کیونکہ یہ سرزمین، غیر جنگی فتوحات میں حاصل شدہ زمین تھی جو نصوص اسلامی کے مطابق رسول خدا کی ملکیت تھی۔
📚 حوالہ جات
[۱]۔حسن بن يوسف علامه حلى، نهج الحقّ و كشف الصدق، دار الكتاب اللبناني، ۱۹۸۲م، ص۲۵۴۔
[۲]۔ عبيد الله بن عبدالله حسكاني، شواهد التنزيل لقواعد التفضيل، التابعة لوزارة الثقافة و الإرشاد الإسلامي، مجمع إحياء الثقافة الإسلامية، ۱۴۱۱ق، ج۱، ص۴۳۹۔
[۳]۔ گذشتہ حوالہ، ج۱، ص۴۴۱۔
[۴]۔محمد بن حسن شيخ حر عاملى، إثبات الهداة بالنصوص و المعجزات، اعلمى، ۱۴۲۵ق، ج۳، ص۴۰۹۔
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🔷 قیصر روم کا مسلمان ہونا 🔷
بادشاہ قیصر روم نے کسی عباسی خلیفہ کو لکھا۔ ہم نے انجیل میں پڑھا، جو شخص ایسی سورہ پڑھے جس میں (ث، ج، خ، ز، ش، ظ، ف) نہ ہوں خدا اس کے جسم کو جہنم سے حرام قرار دیتا ہے۔ ہم نے تورات، انجیل، زبور میں تلاش کیا ہمیں ایسی سورہ نہیں ملی، کیا تمہاری کتاب میں ایسی سورہ ہے۔
خلیفہ نے علماء اسلام کو اکٹھا کر کے سوال کو دھرایا کوئی جواب نہ دے سکا۔آخر میں امام علی نقی علیہ السلام سے پوچھا گیا۔۔
امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا؛
وہ سورہ حمد ہے۔ ان ساتوں حروفوں میں اس میں کوئی حرف نہیں۔
لوگوں نے پوچھا کیوں نہیں۔؟
امام علی نقیؑ نے فرمایا:
ث، ثثبور یعنی ہلاکت پر،
ج، جخیم یعنی جہنم پر،
خ، خبیث پر،
ز، زقوم یعنی تھوہڑ پر،
ش، شقاوت پر،
ظ، ظلمت یعنی تاریکی پر،
ف، فرقت یا آفت پر دلالت کرتا ہے، یہ سورہ رحمت ہے اس میں عذاب کا اشارہ نہیں ہے۔
قیصر روم نے جب اس سوال کا جواب سنا۔ وہ بہت متأثر ہوا اور مسلمان ہو گیا۔یہ امام علیہ السلام کی برکت سے ہوا۔
📚 کشکول(احمد قاضی زاہدی) ج١ ص٢٠٣۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
✨ جبرئیل کی تمنا ✨
💢 قال رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم) یَا عَلِیُّ!
✍ تمَنَّی جَبْرئِیلُ اَنْ یَکُونَ مِنْ بَنِی آدَمَ بِسَبْعِ خِصَالٍ وَ هِیَ:
♨ الصَّلَوه فِی الْجَمَاعَه وَ مُجَالَسَتُهُ الْعُلَمَاءَ وَ الصُّلْحُ بَیْنَ الاِثْنَیْنِ
♨ و اِکْرَامُ الْیَتِیمِ وَ عِیَاده الْمَرِیضِ وَ تَشْیِیعُ الْجَنَازه
♨ و سَْقیُ الْمَاءِ فِی الْحَجِّ
☀ فاحْرُصْ عَلَی ذَلِکَ
💢 پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:
✍ یاعلی! بنی آدم میں سات ایسی خصلتیں پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے جبرئیل کی بھی آرزو ہے کہ وہ بنی آدم میں سے ہوتا:
♨ نماز جماعت میں شرکت کرنا،
♨ علماء کے ساتھ نشست و برخاست،
♨ دو مومن بھائیوں کے درمیان صلح کرنا،
♨ یتیم سے کرم نوازی،
♨ مریض کی عیادت،
♨ تشییع جنازہ میں شرکت،
♨ حاجیوں کو پانی پلانا؛
☀یا علی تم ان امور کو انجام دینے میں زیادہ دلچسبی رکھو
📚 مواعظ العددیه، علی مشکینی، نشر الهادی، قم، ص195.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🌲 توکل علی اللہ 🌲
راستہ چلنے والا اگرچہ سینکڑوں ہنر رکھتا ہو پھر بھی توکل ضروری ہے۔ اپنے جبار خدا پر بھروسہ کرو تاکہ مراد تک پہنچو۔
● ارشادِ باری تعالٰی ہے۔۔
إذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ إنَّ الله یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِینَ۔
جب کسی عمل کا ارادہ کرو تو اللہ تعالٰی پر توکل کرو کیونکہ خداوندمتعال اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔(1)
● خدا تعالٰی فرماتا ہے۔۔
وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ فَھُوَ حَسْبُہُ۔
اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ اللہ اسے کافی ہوتا ہے۔(2)
● رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
مَنْ سَرَّہُ اَنْ یَّکُوْنَ اَقْوَی النَّاسِ فَلْیَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ۔
جو چاہتا ہو کہ سب لوگوں سے طاقتور ہو، خدا پر بھروسہ کرے۔(3)
■ حضرت ابراہیمؑ کا توکل
جب بت پرستوں نے حضرت ابراہیمؑ سے اپنے بتوں کو توڑنے کا انتقام لینے کے لئے منجیق میں ڈالا اور ہوا میں اچھال کر دہکتی ہوئی بلند شعلہ آگ کے سمندر میں پھینک دیا، آسمان و زمین کے درمیان آگ میں اترنے کے سفر کے دوران مقرب فرشتہ آپ کے سامنے ظاہر ہوا اور پوچھا:
اے خلیل خدا! کوئی حاجت ہو تو بتاؤ، میں فوری طور پر آپ کے لئے انجام دے سکتا ہوں۔
حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا؛
مجھے آپ سے کوئی حاجت نہیں ہے۔ مجھے صرف بے نیاز خدا سے حاجت ہے۔ میرے سب راز اس پر عیاں ہیں اور اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ خود بہتر جانتا ہے کہ اپنے ضرورت مند بندے کے لئے کیا کرے۔ اسی اثنا میں حکمِ خدا سے آگ گل و ریحان میں بدل گئی۔ اور باعثِ سلامتی قرار پائی۔(4)
■ بہترین سرپرست
ایک دن حضرت عزرائیلؑ ملک الموت حضرت موسٰیؑ کے پاس آئے جب حضرت موسٰیؑ نے انہیں دیکھا تو پوچھا کیسے آنا ہوا؟ ملاقات کے لئے آئے ہو یا قبضِ روح کے لئے آئے ہو۔؟
ملک الموت نے کہا؛
قبضِ روح کے لئے آیا ہوں۔
حضرت موسٰیؑ نے والدہ اور خاندان کے باقی افراد سے الوداع کے لئے مہلت چاہی۔ بیوی بچوں سے آخری ملاقات کر لوں۔
ملک الموت نے فرمایا؛
مجھے اس کا اختیار اور اجازت نہیں ہے۔
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا؛
اچھا تو پھر ایک سجدہ کرنے کی مہلت دے دو۔
جس کی مہلت مل گئی اور حضرت موسٰیؑ سجدے میں چلے گئے۔ سجدے میں جاکر دعا کی۔۔
خدایا! ملک الموت کو حکم فرما کہ مجھے والدہ اور اہل و عیال سے الوداع کے لئے جانے دیں۔
خداوندمتعال نے حضرت عزرائیلؑ کو حکم دیا کہ موسٰیؑ کی روح کے قبض کو مؤخر کردے۔
حضرت موسٰیؑ اپنی والدہ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا:
والدہ گرامی مجھے معاف کر دیں، میں ایک سفر پر جا رہا ہوں۔
ماں نے پوچھا؛
کونسا سفر۔؟
حضرت موسٰیؑ نے جواب دیا؛
سفرِ آخرت پر۔
ماں نے رونا شروع کر دیا اور حضرت موسٰیؑ نے الوداعی بازو والدہ کے گلے میں ڈال دیے۔ ماں سے جدا ہوکر اپنی بیوی اور بچوں کے پاس گئے۔ حضرت موسٰیؑ کا ایک چھوٹا بچہ تھا جس سے آپؑ کو زیادہ ہی محبت تھی۔ بچے نے حضرت موسٰیؑ کے پیراہن کا دامن پکڑ لیا اور زاروقطار رونے لگا۔ حضرت موسٰیؑ بھی سخت متأثر ہوئے، آپ سے بھی رہا نہ گیا۔ آپ بھی گریہ کرنے لگے۔
خداوندمتعال کی طرف سے خطاب ہوا؛
موسٰیؑ جو آپ ہماری ملاقات کے لئے ہمارے پاس آ رہے ہو تو رونا کس لئے؟
حضرت موسٰیؑ نے عرض کیا؛
پروردگار عالم مجھے اپنے بچوں کے لئے رونا آرہا ہے کیونکہ مجھے اپنے بچوں سے بہت زیادہ محبت ہے۔
خطابِ خداوندی آیا؛
موسٰیؑ ذرا اپنا عصا دریا میں مارو۔
حضرت موسٰیؑ نے عصا مارا۔ دریا پھٹ گیا ایک سفید پتھر نظر آیا جس میں سے ایک کمزور کیڑا پتھر کے اندر بیٹھا ہوا دیکھا جس کے منہ میں سبز پتا تھا اور وہ اسے چبانے میں مشغول تھا۔
خداوندمتعال نے حضرت موسٰیؑ سے خطاب فرمایا؛
موسٰی اس دریا کی تہہ اور اس پتھر کے اندر اس کمزور سے کیڑے کو نہیں بھولتا ہوں تو کیا تیرے بچوں کو بھول جاؤں گا۔؟ اطمینانِ خاطر سے چلے آؤ کہ میں ان کا بہترین نگہبان ہوں۔
حضرت موسٰیؑ نے عزرائیلؑ سے فرمایا؛
اپنے کام کو انجام دو اور پھر آپ کی روح قبض ہوگئی۔(5)
🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
📚حوالہ جات:
1)سورہ آل عمران، آیت159۔
2)سورہ طلاق، آیت3۔
3)میزان الحکمۃ:22645۔
4)نشان از بے نشان ہا، ج1، ص434۔
5)داستانہائے وپندہا، ج4، ص137 تا 139۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🌹 ام کلثومؑ بنت امام علی علیہ السلام 🌹
جناب ام کلثومؑ کی تاریخ ولادت دقیق طور پر معلوم نہیں ہے۔ اختلافی روایات کی بنا پر آپ کی ولادت باسعادت 4، 5 یا پھر 6 ہجری میں ہوئی۔
جناب ام کلثومؑ کے شوھر آپ کے چچازاد بھائی عون بن جعفر طیار تھے۔ جیسا کہ جناب زینبؑ کے شوھر بھی آپ کے چچا زاد بھائی عبداللہ بن جعفر طیار تھے۔ بیبی ام کلثومؑ کے شوھر جناب عون بن جعفر طیار کربلا میں شھید ھو گئے تھے۔
■ جناب زینبؑ کے شانہ بشانہ
حضرت ام کلثومؑ کربلا کے واقعہ میں موجود تھیں اور اس کے بعد حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے ساتھ ساتھ اسراء کے درمیان بھی تھیں اور اس سفر میں آپ نے بھی متعدد مقامات پر خطبے دیئے ہیں۔ جیسے کوفہ، بعلبک، سیبور، نصیبیین، اور دیگر منازل پر جو آپ نے اس سفر میں طے کیں خطبے دیئے ہیں۔
کوفہ میں جناب ام کلثومؑ نے جو خطبہ دیا اس نے تہلکہ مچا دیا تھا جب انھوں نے دیکھا کہ لوگ صدقے کی روٹیاں اور خرمے اسیروں کے درمیان تقسیم کر رھے ہیں تو آپ آئیں اور بچوں کے ھاتھوں اور منہ سے خرمہ اور روٹیاں نکال کر پھینک دیں اور کہا: کیا تم لوگ ھمیں نہیں پہچانتے؟ کیا تمھیں نہیں معلوم کہ صدقہ ھمارے اوپر حرام ہے؟
شام سے کربلا واپسی پر چہلم کے دن جب حضرت زینبؑ امام علیہ السلام کی قبر کے پاس پہنچیں تو بیہوش ھو گئیں اور حضرت ام کلثومؑ بھی ایسے ھی۔ یعنی یہ دونوں بہنیں کربلا کی تمام منازل میں ساتھ ساتھ رہیں۔ حضرت ام کلثومؑ ھمیشہ اپنی بہن حضرت زینبؑ کا احترام کرتی تھیں اور کبھی آپ سے آگے قدم نہیں رکھتی تھیں اور آپ سے پہلے کلام نہیں کرتی تھیں لیکن جب حضرت زینبؑ مصائب پڑھ کر بیہوش ھو جاتی تھیں تو حضرت ام کلثومؑ مصائب بیان کرنے کا سلسلہ آگے بڑھاتی تھیں۔
جیسا کہ حضرت ام البنینؑ کے گھر میں خواتین کی مجلس ھو رھی تھی حضرت زینبؑ مصائب پڑھ رھی تھیں کہ بیہوش ھو گئیں تو جناب ام کلثومؑ نے اٹھ کر مجلس کو تمام کیا۔ یعنی جناب ام کلثومؑ ھمیشہ جناب زینبؑ کے شانہ بشانہ رھیں۔
■ شہادت
کتاب "ریاحین الشریعہ" کی تیسری جلد کے صفحہ 256 میں بیان ھوا ہے کہ حضرت ام کلثومؑ اس وجہ سے کہ جیسا صبر اللہ تعالٰی نے جناب زینبؑ کو دیا تھا ان کے پاس نہیں تھا کربلا سے واپسی کے چار ماہ بعد مدینہ میں دق کر کے دنیا سے رخصت ھو گئیں اور درحقیقت آپ کی رحلت کی وجہ سفر کربلا میں آپ پر توڑے گئے مصائب و آلام کے پہاڑ تھے، بدن پر تازیانوں کے زخم تھے جن سے آپ جانبر نہیں ھو پائیں اور انہی تمام صدموں کی بنا پر آپ شھید ھو گئیں۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
السلام عليك یا سیدہ ام کلثوم بنت امام علی علیہ السلام
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🌹 مُحبانِ اہلبیتؑ کو نصیحت 🌹
عمرو بن سعید بن بلال سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت ہماری ایک جماعت تھی۔ آپ نے فرمایا: تم معتدل بن جاؤ یعنی میانہ روی اختیار کرو کہ اس سے آگے بڑھ جانے والا تمہاری طرف پلٹ آئیگا اور پیچھے رہ جانے والا تم سے ملحق ہوجائے گا اور اے آل محمد کے شیعو! یہ جان لو کہ ہمارے اور خدا کے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہے اور نہ ہی خدا کے اوپر ہماری کوئی حجت ہے اور اطاعت کے علاوه کسی اور چیز کے ذریعہ خدا کا تقرب حاصل نہیں کیا جاسکتا پھر جو خدا کا مطیع وفرمانبردار ہوگا اس کو ہماری ولایت سے فائده پہنچے گا لیکن جو عاصی اور نافرمان ہوگا اس کو ہماری ولایت سے کوئی فائده نہیں ہوگا اس کے بعد ہماری طرف مخاطب ہوۓ اور فرمایا: دھوکا نہ دو اور افتراء پردازی نہ کرو۔
📚 بحارالانوار ج ٦٨ ص ١٧٨،
حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: خدا سے ڈرو! تمہيں کوئی دھوکا نہ دے اور کوئی شخص تمہیں جھٹلائے نہ دے۔ کیونکہ میرا دین وہی ہے جو آدم کا دین تھا جس کو خدا نے پسند کیا ہے اور میں بندہ و مخلوق ہوں خدا کی مشیت کے علاوه میں اپنے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں ہوں اور میں وہی چاہتا ہوں جو خدا چاہتا ہے۔
📚 بحارالانوار ج ٦٨ ص ٨٩۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
💓حضرت موسٰیؑ کا بہشتی ہمسایہ💓
حضرت موسٰیؑ اپنے رب سے محوِ مناجات تھے کہ دل میں خیال گزرا، جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا لہذا عرض کیا؛
پروردگار، اے رب ذوالجلال! کیا مجھے یہ خبر دی جا سکتی ہے کہ جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا اور کیا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہوں؟
ارشاد ہوا۔۔
فلاں شہر کے فلاں محلہ میں ایک قصاب رہتا ہے، جا کر اس سے ملو۔
حضرت موسٰیؑ بڑے شوق سے اس قصائی کی دکان کی جانب روانہ ہوئے۔ جونہی اس پر نظر پڑی تو بہت خوش ہوئے۔ وہ اس خیال سے اس کے پاس خاموشی سے بیٹھ گئے کہ کیا ہی خوب ہو کہ میں اس شخص کے اعمال و کردار کا بغور جائزہ لوں۔ شاید مجھے اس کی سیرت سے وہ خاص عمل معلوم ہوسکے جو اس قدر بارگاہ ایزدی میں مقبول و پسندیدہ ہے کہ یقینی بہشتی ہونے اور میرے ہمسایہ ہونے کا باعث ہے۔ ایسا کونسا منفرد عمل اس شخص کا خداوندمتعال کو پسند ہے جسکی وجہ سے اتنے بلند مرتبہ و مقام پر فائز ہے۔
کافی وقت اس کی دکان پر گزارنے کے باوجود بھی حضرت موسٰیؑ اس کے ایسے راز سے آگاہ نہ ہوسکے جو اس شخص کا خاص عمل شمار ہوتا۔ بس وہی گوشت فروشی اور لین دین کا سلسلہ جاری رہا۔ اور بس۔
سر شام دکان کا دروازہ بند کر کے جب قصاب اپنے گھر کو روانہ ہونے لگا تو حضرت موسٰیؑ نے اپنا تعارف کروائے بغیر اس جوان سے درخواست کی کہ مجھے آج کی شب اپنا مہمان بنا لیں۔ اس نے آپ کی درخواست پر آپ کو اپنا مہمان بنانے پر آمادگی ظاہر کی، گھر میں لے جاکر ٹھہرایا۔
مہمان نوازی کے رسوم و آداب سے فراغت کے بعد گھر کی چھت کے ساتھ آویزاں ایک ٹوکری کی رسی کھولی اور آہستہ آہستہ اس رسی کو پکڑ کر ٹوکری کو نیچے اتارنا شروع کیا۔ جب ٹوکری سامنے آئی تو حضرت موسٰیؑ نے دیکھا اس میں گٹھڑی نما کپڑے میں بندھی ہوئی ایک بوڑھی مستور تھی۔ اور جوان ایک رقیق شوربا قسم کی خوراک کا پیالہ لایا اور آہستہ آہستہ چمچ کے ساتھ اس بڑھیا کو کھلانا شروع کردیا۔
وہ بڑھیا کبھی کبھی آسمان کی طرف دیکھتی اور اس کے لب حرکت کرتے اور کچھ بولتی لیکن اس کی باتوں کی کوئی سمجھ نہیں آرہی تھی۔
اس بڑھیا کی خدمت سے فارغ ہوکر قصائی جوان نے اپنے مہمان کی مزید خدمت گزاری کے فرائض انجام دیئے اور اجازت چاہی اور جاکر سوگیا۔ مہمان و میزبان دونوں محو آرام ہوئے۔
صبح ہوتے ہی قصائی جوان نے پھر مہمان اور بڑھیا کی خدمت کے فرائض انجام دیئے۔ پھر اس بڑھیا کو اسی ٹوکری میں ڈال کر گھر کی چھت سے آویزاں کردیا۔ اور مہمان کو ساتھ لے کر دکان کی جانب روانہ ہوا۔
حضرت موسٰیؑ نے دوران راہ اس جوان سے پوچھا؛
یہ بڑھیا کون تھی؟
جوان نے جواب دیا؛
یہ میری والدہ تھیں۔
حضرت موسٰیؑ نے پوچھا؛
تو نے کیوں اپنی والدہ کو ٹوکری میں ڈال کر چھت سے لٹکا دیا؟
جوان نے جواب دیا؛
گھر میں صرف میں اور میری والدہ رہتے ہیں۔ کوئی دیکھ بھال کے لئے موجود نہیں۔ مجھے خوف تھا کہ کوئی حیوان اسے تکلیف نہ پہنچائے۔ اس لئے محفوظ جگہ پر رکھ دیا۔
حضرت موسٰیؑ نے پوچھا؛
جب تو اپنی والدہ کو غذا کھلا رہا تھا، تیری والدہ آسمان کی طرف منہ کر کے کیا کہتی تھی۔
جوان نے بتایا؛
وہ دعا کر رہی تھیں اور کہتی تھیں "خدایا میرے بیٹے کو روز قیامت حضرت موسٰیؑ کے ساتھ محشور فرما"
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا؛
تجھے خوشخبری ہو کہ تیری والدہ کی دعا قبول ہوگئی ہے۔ کل سے تیرا مہمان بننے والا شخص میں موسٰی ہوں۔ میں نے خداوندمتعال سے درخواست کی تھی کہ مجھے میرے بہشتی ہمسایہ کی خبر دے۔ ادھر مجھے معلوم ہوا کہ آپ میرے ہمسایہ ہونگے۔ میں نے جو معلوم کرنا تھا وہ تیرا پسندیدہ عمل تھا۔ آج مجھے معلوم ہوگیا کہ تیرا پسندیدہ عمل کونسا تھا جو آپ کے میرے ساتھ جنت میں ہمسایہ ہونے کا سبب ہے۔
التماس دعا؛ سید سجاد حسین ھمدانی
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 کشکول ممتاز، ص168۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🌹 حضرت امام جعفرصادقؑ 🌹
حضرت امام جعفر صادقؑ بتاریخ 17 ربیع الاول 83 ھ مطابق 207 ء یوم دوشنبہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔(1)
آپؑ کی ولادت کی تاریخ کو خداوندعالم نے بڑی عزت دے رکھی ہے۔ احادیث میں ہے کہ اس تاریخ کو روزہ رکھنا ایک سال کے روزہ کے برابر ہے۔
ولادت کیبعد ایک دن حضرت امام محمد باقرؑ نے فرمایا کہ میرا یہ فرزند ان چند مخصوص افراد میں سے ہے جن کے وجود سے خدا نے بندوں پر احسان فرمایا ہے اور یہی میرے بعد میرا جانشین ہوگا۔(2)
علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ جب آپؑ بطن مادر میں تھے تب کلام فرمایا کرتے تھے ولادت کیبعد آپؑ نے کلمہ شہادتین زبان پرجاری فرمایا۔ آپ بھی ناف بریدہ اور ختنہ شدہ پیدا ہوئے ہیں۔(3)
🌹اسم گرامی، کنیت، القاب:
آپؑ کا اسم گرامی جعفر، آپؑ کی کنیت ابوعبداللہ، ابواسماعیل اور آپ کے القاب صادق، صابر و فاضل، طاہر وغیرہ ہیں۔
علامہ مجلسی رقمطرازہیں کہ آنحضرت نے اپنی ظاہری زندگی میں حضرت جعفر بن محمد کو لقب صادق سے موسوم و ملقب فرمایا تھا اور اس کیوجہ بظاہر یہ تھی کہ اہل آسمان کے نزدیک آپؑ کا لقب پہلے ہی سے صادق تھا۔(4)
علامہ ابن خلکان کا کہنا ہے کہ صدقِ مقال کی وجہ سے آپؑ کے نامِ نامی کا جزو ”صادق“ قرار پایا ہے۔(5)
اسمِ جعفر کے متعلق علماء کا بیان ہے کہ جنت میں جعفر نامی ایک شیریں نہر ہے، اسی کی مناسبت سے آپ کا یہ لقب رکھا گیا ہے۔ چونکہ آپ کا فیض عام نہر جاری کیطرح تھا۔ اسیلیے اس لقب سے ملقب ہوئے۔(6)
امام اہلسنت علامہ وحیدالزمان حیدر آبادی تحریر فرماتے ہیں؛ جعفر چھوٹی نہر یا بڑی واسع (کشادہ)۔ امام جعفر صادق مشہور امام ہیں، بارہ اماموں میں سے اور بڑے ثقہ اور فقیہ اورحافظ تھے۔ امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے شیخ (حدیث) ہیں اور امام بخاری کو نہیں معلوم کیا شبہ ہو گیا کہ وہ اپنی صحیح میں ان سے روایتیں نہیں کرتے اور یحیٰ بن سعید قطان نے بڑی بے ادبی کی ہے جو کہتے ہیں کہ میں ”فی منہ شئی ومجالداحب الی منہ“ (میرے دل میں امام جعفر صادق کی طرف سے خلش ہے، میں ان سے بہتر مجالد کو سمجھتا ہوں) حالانکہ مجالد کو امام صاحب کے سامنے کیا رتبہ ہے؟ ایسی ہی باتوں کیوجہ سے اہلسنت بدنام ہوتے ہیں کہ ان کو آئمہ اہلبیت سے کچھ محبت اور اعتقاد نہیں ہے۔
اللہ تعالٰی امام بخاری پر رحم کرے کہ مروان اور عمران بن خطان اور کئی خوارج سے تو انہوں نے روایت کی اور امام جعفر صادق سے جو ابن رسول اللہ ہیں ان کی روایت میں شبہ کرتے ہیں۔(7)
📚حوالہ جات:
1) ارشادمفیدفارسی، ص413۔
اعلام الوری، ص159۔
جامع عباسی، ص60 وغیرہ۔
2) جنات الخلوج، ص27۔
3) جلاءالعیون، ص265۔
4) جلاءالعیون، ص264۔
5) وفیات الاعیان، جلد1، ص105۔
6) ارجح المطالب، ص361۔ بحوالہ تذکرة الخواص الامة۔
7) انواراللغتہ، پارہ5، ص47، طبع حیدرآباددکن۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
22۔ سیرۃ ابن ہشام، ج1، ص188، طبع 1375ھ۔ یہ راہب بحیرا کے علاوہ ہے جس نے بچپن میں پیشین گوئی کی تھی۔
22۔ کامل ابن اثیر، ج2، ص39، مطبوعہ بیروت 1385ھ۔
23۔ بحارالأنوار، ج16، ص20 و 21۔
24۔ بحارالأنوار، ج16، ص20 و 21۔
25۔ سیرۃ حلبیہ، ج1، ص152۔ اعیان الشیعہ، ج2، ص8۔
26۔ بحارالأنوار، ج16، ص56، 73۔
27۔ بحارالأنوار، ج16، ص7، 10، 11۔ اعلام الوریٰ، ص146۔
28۔ بحارالأنوار، ج16، ص10، 71۔اعیان الشیعہ، ج2، ص8۔
29۔ بحارالأنوار، ج16، ص3۔ اعیان الشیعہ، ج2، ص8۔
30۔ بحارالأنوار، ج16، ص8، 13۔
31۔ بحارالأنوار، ج16، ص8۔
👈 مزید اسلامی تحریریں اور کہانیوں کے ذریعے اصلاحی تحریریں نیز مفید معلومات کے لئے ہمارا وٹس ایپ چینل اسلام ود ایمان فالو کیجئے۔۔۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
💡 شام کا سفر:
جس وقت قریش کا قافلہ تجارت کے لئے شام جانے لگا حضرتؐ نے بھی اپنے سفر کی تیاری کی اور قافلہ میں شامل ہو گئے، جناب خدیجہؑ نے سرمایہ حضرتؐ کے حوالے کرتے ہوئے اپنے غلام ''میسرہ '' سے کہا کہ تم ان کے ساتھ جاؤ اور ان کی خدمت کرو۔
اس تاریخی سفر کی جزئیات کو گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے بیان نہیں کیا جا سکتا بس اتنا جاننا ضروری ہے کہ سفر بے پناہ برکتیں اپنے دامن میں لئے ہوئے تھا، تجارت میں کافی فائدہ ہوا تھا حضرتؐ کی شخصیت اور نمایاں ہو گئی تھی۔ عیسائی راہب نے حضرت سے ملاقات کی تھی اور آپؐ کی رسالت کی پیش گوئی کی تھی۔(21) اور یہی سفر شادی کا ذریعہ بھی قرار پایا تھا۔
جب یہ قافلہ اپنا سفر طے کر کے مکہ واپس ہو ا تو میسرہ نے سفر کی تمام جزئیات تفصیل سے جناب خدیجہؑ کو سنا دیں۔(22) یہ باتیں سن کر اور ایک عیسائی راہب کی پیشین گوئی سن کر کہ حضرت کی شادی قریش کی ایک بہت ہی باعزت اور محترم خاتون سے ہوگی، خدیجہؑ نے اپنے دل میں ایک خاص لگاؤ محسوس کیا اورحضرتؐ کی شکل میں اپنا درِ مقصود نظر آیا۔(23)
اس سے پہلے ان کےچچا ''ورقہ بن نوفل'' بھی پیغمبروں کے بارے میں کافی باتیں بتا چکے تھے اور بیان کر چکے تھے کہ حضرتؐ نبوت کے بلند مرتبہ پر فائز ہوں گے اور خدیجہؑ سے ان کی شادی ہوگی۔(24) ان باتوں نے اس قلبی لگاؤ میں اور زیادہ شدت پیدا کر دی۔
یہ بات کس طرح حضرتؐ تک پہنچائی جائے کیوں کہ خدیجہؑ کوئی معمولی عورت نہ تھیں قریش کی سب سے زیادہ محترم خاتون تھیں۔
💞 شادی کی پیش کش:
خدیجہؑ نے اپنی سہیلی ''نفیسہ'' (جو خدیجہؑ کے راز ہائے دل سے واقف تھی) کے سامنے یہ بات رکھی تاکہ وہ حضرتؐ سے گفتگو کرے۔ نفیسہ حضرتؐ کے پاس گئیں اور حضرتؐ سے کہا کہ آپؐ شادی کیوں نہیں کرتے؟
حضرتؐ نے جواب دیا: میرے حالات شادی کی اجازت نہیں دیتے۔
نفیسہ نے کہا: اور اگر وہ وسائل فراہم ہو جائیں اور مسائل حل ہو جائیں، ایک شریف خاندان کی دولت مند عورت اس بات پر تیار ہو جائے کیا اس وقت آپؐ شادی کریں گے؟
حضرتؐ نے دریافت کیا، وہ عورت کون ہے؟
نفیسہ نے کہا: خدیجہ
اس پر آنحضرتؐ نے کہا کہ اس نے تو قریش کے بڑے بڑے ثروت مندوں کے پیغامات رد کر دیئے ہیں وہ میرے ساتھ شادی کرے گی؟
نفیسہ نے کہا: ہاں یہ ہو سکتا ہے اور میں اس رشتہ کو طے کروں گی.(25)
جس وقت حضرتؐ کو اس بات کا اطمینان ہو گیا کہ خدیجہؑ شادی کرنے کے لئے راضی ہیں حضرتؐ نے ساری باتیں اپنے چچا سے بیان کر دیں، وہ لوگ یہ خبر سن کر بہت خوش ہوئے رشتہ طے ہوا اور خاص اہتمام سے شادی ہو گئی۔(26)
حضرتؐ نے شادی کے خاص بہترین ایام یعنی اپنی زندگی کے 25 سال جناب خدیجہؑ کے ساتھ گزارے، خدیجہؑ حضرتؐ کی صرف شریک حیات نہ تھیں بلکہ حضرتؐ کی بہت بڑی مددگار بھی تھیں.(27)
عورتوں میں آپؑ حضرتؐ پر سب سے پہلے ایمان لائیں اور اپنا سارا مال و متاع دینِ مقدس اسلام کی نشر و اشاعت کے لئے دے دیا۔(28)
جناب خدیجہؑ سے حضرتؐ کی کئی اولادیں ہوئیں، قاسم اور طاہر دو فرزند اور ایک بیٹی جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیها، دونوں بیٹے بچپنے میں ہی انتقال کر گئے۔(29)
جناب خدیجہؑ کی محبت، فداکاری کی حضرتؐ ہمیشہ قدر کرتے رہے۔ زندگی میں بھی ان کے قدر داں رہے اور ان کے انتقال کے بعد بھی برابر یاد کرتے رہے اور جب بھی یاد کرتے تھے غمگین ہو جاتے تھے۔(30) کبھی کبھی ان کی یاد میں آنسو بھی نکل آتے تھے۔
جناب خدیجہؑ کی حیات کا چراغ اگرچہ 65 برس کی عمر میں گل ہوا(31) لیکن حضرت کا گھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خدیجہؑ کے نور سے محروم ہو گیا۔
17 ربیع الاول حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کے موقع پر امام زمانہ عج اور تمام مؤمنين کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتے ہیں.
📚 حوالہ جات:
1۔ بحارالأنوار، ج15، ص325۔
2۔ بحارالأنوار، ج15، ص250۔
3۔ بحارالأنوار، ج15، ص257۔
4 و 5۔ بحارالأنوار، ج15، ص258 و 263۔
6۔ بحارالأنوار، ج15، ص402 و 405۔
7۔ سیرۃ ابن ہشام، ج1، ص168۔
8 و 9۔ بحارالأنوار، ج15، ص382 و 402 و 366 و 336۔
10۔ بحارالأنوار، ج15، ص366 و 336۔
11۔ بحارالأنوار، ج15، ص142۔ سیرۃ ابن ہشام، ج1، ص168۔
12۔ سیرۃ ابن ہشام، ج1، ص180۔
13۔ بصریٰ شام کایک چھوٹا سا شہر۔
14۔ سیرۃ ابن ہشام، ج1، ص181۔ اعلام الوریٰ، ص26۔ بحارالأنوار، ج15، ص193 و 204۔
15۔ بحارالأنوار، ج16، ص74۔
16۔ بحارالأنوار، ج16، ص75۔
17 و 18۔ قرآن کی آیت سے استفادہ کیا ہے۔ (سورہ نور، آیت 31 و 32)
19۔ بحارالأنوار، ج16، ص3۔ تاریخ یعقوبی، ج2، ص15۔ اعیان الشیعہ، ج2، ص8۔ سیرت، ج1، ص152۔
20۔ سیرۃ ابن ہشام، ج1، ص188، طبع 1375ھ۔ بحارالأنوار، ج16، ص22۔
