ISLAM WITH EMAN
رفتن به کانال در Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
نمایش بیشتر1 278
مشترکین
اطلاعاتی وجود ندارد24 ساعت
-37 روز
-1330 روز
آرشیو پست ها
1 278
👹 داستان ابلیس 👹
ابلیس تمام فرشتوں کا سردار تھا...
آسمان دنیا میں ابلیس نے ایک ہزار سال تک اللہ کی عبادت کی تو اس کا نام عابد ہوا۔
دوسرے آسمان پر ایک ہزار سال تک عبادت کی تو زاہد بنا۔
پھر تیسرے آسمان میں عارف، چوتھے میں ولی، پانچویں میں تقی، چھٹے میں خاشع اور ساتویں میں عزازیل نام ہوا۔
مگر لوح محفوظ پر اس کا نام ابلیس تھا اور وہ اپنے انجام سے بے خبر تھا جب اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو سب فرستوں سے سجدہ کیا مگر اس نے انکار کر دیا اور اپنے آپ کو بڑا خیال کیا اور نفرت اور تکبر سے حضرت آدم علیہ السلام کی طرف پیٹھ کرلی، اور اکڑ کر کھڑا ہوگیا۔
آخر کار فرشتوں نے ایک مدت تک سجدہ کئے رکھا جب انہوں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ ابلیس نے سجدہ نہیں کیا اور انہیں سجدہ کرنے کی توفیق مل گئی تو فرشتوں نے دوبارہ سجدہ شکر ادا کیا۔
یہ بد بخت اکڑا، ان سے منہ پھیرے کھڑا تھا۔ نہ ہی اطاعت کی طرف دھیان دیا اور نہ ہی نافرمانی پر نادم ہوا، تو اب اللہ تعالیٰ نے اسے چوپائے کی شکل دے دی اور خنزیر بنا دیا، اس کا سر اور سینہ بڑے اونٹ جیسا کر دیا، درمیان کا چہرہ بندر جیسا ہو گیا اور آنکھیں لمبوتری پھٹی پھٹی نظر آتی تھیں، اس کے نتھنے کھلے بنا دیئے اس کے ہونٹ بیل کے ہونٹوں کی طرح اور اس کی داڑہی خنزیر کے دانتوں کی طرح باہر کو نکلی ہوئی کر دی، پھر داڑہی میں سات بال رکھ دیئے اور بہشت بدر کردیا، بلکہ آسمان اور آباد زمیں سے دور کرکے ویرانوں کی طرف بھگا دیا اور قیامت تک لعنت و پھٹکار کر دی وہ ملعون و کافر ہو چکا۔
ابلیس کی یہ حالت جب حضرت جبرائیل علیہ السلام اور حضرت میکائیل علیہ السلام نے دیکھی تو رو پڑے) باوجود قدرت کے کہ اللہ کو ہر چیز کا علم ہے)
اللہ تعالیٰ کی طرف سے پوچھا گیا کیوں روتے ہو کہنے لگے "ہم تیری طرف سے لعنت و بدبختی آجانے پر اپنے آپ کو محفوظ خیال نہیں کرتے۔"
ارشاد ہوا "ایسے رہو اور میری طرف سے بے فکری اختیار نہ کرو۔"
اب ابلیس نے آواز دی کہ "اے اللہ! تو نے آدم کی وجہ سے مجھے جنت سے نکال دیا اب مجھے ان پر مسلط کر"
ارشاد ہوا "تو مسلط ہے اس کی اولاد پر سوائے انبیاء کے"
ابلیس بولا "اور تسلط دے دیجئے"
فرمایا "ان کے ہاں ایک بچہ ہوگا تیرے دو ہونگے"
بولا اور تسلط دیجئے۔
ارشاد ہوا "ان کے سینے میرا مسکن ہوں گے جبکہ تو خون کی طرح بدن میں پھرے گا۔"
اس نے کہا اور دیجئے۔
ارشاد ہوا "تو ان پر اپنے پیادوں چیلوں اور سواروں کیساتھ ہو جایا کرے گا اور انہیں ہر غلط حرام اور بد عمل پر آمادہ کرتا رہے گا۔"
اب حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا "یااللہ تو نے ابلیس کو میری اولاد پر مسلط کر دیا اب تیری مدد کے بغیر اس سے کیسے بچا جائیگا۔"
ارشاد ہوا "تیرے ہاں جو بچہ ہوگا اس کے ساتھ محافظ فرشتہ بھی ہو گا۔"
عرض کیا "مزید عطا کیجئے۔"
ارشاد ہوا "جب تک بنی آدم کی ارواح بدن میں ہونگی، توبہ کا دروازہ ان پر بند نہیں ہو گا۔"
عرض کیا اور عطا کیجئے۔
ارشاد ہوا "میں انہیں معاف کرتا رہوں گا چاہے جس قدر گناہگار ہوں۔"
حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا "یااللہ اب کافی ہے۔"
📚 امام غزالی کی کتاب معاشفة القلوب سے اقتباس.
🌹 پوسٹ اگر اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس کے لیے لنک پر کلک کریں ۔۔۔
👹 عزرائیل سے ابلیس تک
https://t.me/islamwitheman/75
👹 غلبہ ابلیس
https://t.me/islamwitheman/228
👀 شیطان اور آنکھیں
http://t.me/islamwitheman/246
🌷 شیطان کا وار اور خوف خدا
https://t.me/islamwitheman/424
👹 ماہ رمضان میں شیطان کی قید
http://t.me/islamwitheman/934
👹 شیطان کے پھندے
http://t.me/islamwitheman/1141
👹 شیطان کے اہم پانچ ساتھی
https://t.me/islamwitheman/1787
🌹 شیطان کو شکست
https://t.me/islamwitheman/1805
👹 شیطان کا فرعون کو جواب
https://t.me/islamwitheman/1913
👹 الله نے شیطان کو کیوں پیدا کیا؟
https://t.me/islamwitheman/2333
👹 شیطان کا ورکنگ سٹائل
https://t.me/islamwitheman/2719
👹 گناہوں کا ذمہ دار کون؟
https://t.me/islamwitheman/2792
👹 شیطان کا طریقہ کار
https://t.me/islamwitheman/4100
🔷 شیطان کی تین نصیحتیں
https://t.me/islamwitheman/4806
👹 داستان ابلیس
https://t.me/islamwitheman/5646
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🌹 پاکستان کے بارے میں اہم معلومات 🌹
1۔ پاکستان کا نام جنوری 1933 میں چوہدری رحمت علی خاں نے تجویز کیا تھا.
2۔ پاکستان کے قیام کا اعلان 3 جون 1947 کو ہوا تھا.
3۔ پاکستان اقوامِ متحدہ کا رکن 30 ستمبر 1947 کو بنا تھا.
4۔ پاکستان کا پہلا سکہ 3 جون 1948 کو جاری ہوا تھا.
5۔ پاکستان کا پہلا ڈاک ٹکٹ 9 جولائی 1948 کو جاری ہوا تھا.
6۔ اسلام آباد کو پاکستان کا دارالحکومت 1960 میں بنایا گیا تھا۔
7۔ پاکستان کا پہلا ٹی وی سٹیشن 24 نومبر 1964 کو قائم ہوا.
8۔ پاکستان ریڈ کراس سِوسائٹی کا نام بدل کر 1974 میں ہلالِ احمر رکھا گیا.
9۔ پاکستان نے 28 مئی 1998 کو چاغی بلوچستان کے مقام پر چھے ایٹمی دھماکے کئے.
10۔ پاکستان کا جھنڈا قائدِاعظم نے ڈیزائن کیا تھا۔
11۔ پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں موسم کی نوعیت بدلتی رہتی ہے یہاں چاروں موسموں کا لطف لیا جا سکتا ہے۔
12۔ ہمارے پاس ضلع جہلم میں دنیا کی سب سے بڑی نمک کی کان ہے جو تقریبا 20 کلو میٹر تک پھیلی ہوئی ہے ۔ اور یہ نمک بھی خالص ترین نمک ہے ۔ کھیوڑہ کے نام سے یہ جگہ دنیا بھر میں جانی پہچانی جاتی ہے.
13۔ جدید ترین جائزے کے مطابق ہمارے پیارے صوبہ بلوچستان میں کوئلے کے سب سے بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں.
14۔ ہماری سرزمین سے چونے کا پتھر جو سیمنٹ بنانے کے کام آتا ہے۔ سب سے زیادہ نکلتا ہے۔ اس سے بننے والا سیمنٹ کسی بھی طرح معیار میں کم نہیں.
15۔ ہمارے صوبے بلوچستان کے جنگلات میں صنوبر اور چیڑ کے درختوں کی ایسی اقسام ہیں جو دنیا میں اور کہیں نہیں مِلتیں.
16۔ مارکو پولو نامی بھیڑ صرف پاکستان کے شمالی علاقوں میں ملتی ہے.
17۔ انتہائی خوبصورت پرندہ تلور صرف صحرائے بلوچستان میں ملتا ہے۔
18۔ سنگ چور نامی دنیا کا سب سے زیادہ زہریلا سانپ صرف پاکستان میں ہی پایا جاتا ہے۔
19۔ دنیا میں سب سے میٹھے اور لذیذ آم شجاع آباد پاکستان کے مانے جاتے ہیں۔
20۔ دنیا کا سب سے اعلیٰ نہری نظام صرف پاکستان کا ہے۔
21۔ دنیا کی سب سے بڑی مصنوعی جھیل تربیلا جھیل ہے۔
22۔ پنکھوں کی سب سے بڑی صنعت ہمارے شہروں گوجرانوالہ اور گجرات میں ہے۔
23۔ لکڑی کے مشہور و معروف فرنیچر کیلئے ہمارا شہر چنیوٹ مشہور ہے.
24۔ دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ٹھٹھہ میں ہے۔
25۔ دنیا کا سب سے انوکھا منفرد اور دلچسپ نام کا شہر دوڑ بھی پاکستان کے صوبہ سندھ میں واقع ہے.
26۔ دنیا میں کھیل کود کے سامان کی سب سے بڑی صنعت سیالکوٹ میں ہے.
27۔ دنیا کی چوڑیوں کی سب سے بڑی صنعت پاکستان کے شہر حیدرآباد میں ہے.
28۔ موہنجو داڑو کی کھدائی سے حاصل ہونے والی تختیوں کی تحریر آج تک پڑھی نہیں جا سکی۔ جبکہ اور جتنی بھی تہذیبیں دریافت ہوئیں انکی تحریریں پڑھی گئیں۔
29۔ ایدھی ایمبولینس سروس دنیا کی انفرادی ایمبولینس سروس ہے جو 600 ایمبولینس گاڑیوں پر مشتمل ہے۔
30۔ دنیا کا سب سے بڑا فٹبال سیالکوٹ میں بنایا گیا 2002 میں اسکا قطر 4 میٹر تھا۔
31۔ دنیا کے دوسری بلند ترین چوٹی K2 بھی پاکستان میں واقع ہے۔
32۔ دنیا کی سو میں سے چالیس بلند ترین چوٹیاں Concordia کے مقام پر پاکستان میں واقع ہیں جنکو چاند پر سے بھی دیکھا جا سکتا یے۔
33۔ دنیا کے تین بلند ترین پہاڑی سلسلے ہمالیہ, قراقرم اور ہندوکش بھی پاکستان میں ملتے ہیں۔
34۔ دنیا میں گہرے پانی کی سب سے بڑی اور اہم بندرگاہ گوادر بھی پاکستان میں واقع ہے۔
35۔ ڈائنوسار کا مکمل اور قدیم ترین ڈھانچہ بھی پاکستان میں چکوال کے علاقے سے دریافت ہوا۔
36۔ دنیا کی بلند ترین شاہراہ شاہراہِ قراقرم بھی پاکستان میں واقع ہے۔
37۔ دنیا میں دوسری بلند ترین سطع مرتفع دیوسائی بھی پاکستان میں واقع ہے۔
38۔ پاکستان کے سندھ طاس ڈیلٹا پنجاب کا خطہ دنیا کے ذرخیز ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
39۔ اسلامی ممالک میں نمبر ایک اور دنیا میں چھٹی سب سے بڑی فوجی طاقت بھی پاکستان کی ہے۔
پاکستان پائندہ باد
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🔷 9 غذائی اشیاء فریج میں نہ رکھیں 🔷
جب بات آتی ہے خوراک کو مناسب طریقے سے ذخیرہ کرنے کی تو کچھ کیا اکثر اس کے لیے فریج، فریزر وغیرہ کا انتخاب کرتے ہیں مگر کیا یہ واقعی ٹھیک ہے؟
حقیقت تو یہ ہے کہ کچھ چیزیں فریج میں رکھنا انہیں خراب رکھنے کے مترادف ہوتا ہے اور وہ کمرے کے عام درجہ حرارت میں زیادہ فریش رہتی ہیں۔
تو یہاں ایسی ہی غذائی اشیاء کے بارے میں جانیں، جن کو فریج میں رکھا جائے تو وہ خراب ہو جاتی ہیں۔
🔹 خربوزے
خربوزوں کو فریج میں رکھا جائے تو اس میں شامل متعدد اینٹی آکسائیڈنٹس ختم ہو جاتے ہیں۔ ایک امریکی تحقیق کے مطابق خربوزوں کو کمرے کے درجہ حرارت میں رکھنا زیادہ بہتر ہوتا ہے کیونکہ اس طرح پھل میں شامل اجزاء جیسے بیٹا کیروٹین وغیرہ بڑھ جاتے ہیں جو صحت مند جلد اور بینائی کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔ فریج کی ٹھنڈی ہوا اینٹی آکسائیڈنٹس کی نشوونما کو ختم کر کے رکھ دیتی ہے۔
🔹 آلو
سرد درجہ حرارت آلو میں پائے جانے والی نشاستہ کو شوگر میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کے ذائقے میں ہلکی سی مٹھاس آجاتی ہے۔ آلوﺅں کو 45 فارن ہائیٹ درجہ حرارت میں رکھنا بہترین ہوتا ہے یعنی کسی بھی کاغذ کے تھیلے میں ڈال کر کچن میں رکھنا کافی ہوتا ہے۔ سورج کی روشنی میں رکھنا البتہ اسے خراب کر سکتا ہے۔
🔹 پیاز
اس سبزی کو تازہ رہنے کے لیے ہوا کی ضرورت ہوتی ہے، لہذا کاغذ کے کسی تھیلے میں انہیں رکھنا زیادہ بہتر ہوتا ہے مگر کبھی آلوﺅں کے قریب نہ رکھیں کیونکہ پیاز میں ایسی گیس اور نمی خارج ہوتی ہے جو آلوﺅں کو جلد خراب کر سکتی ہے۔
🔹 ٹماٹر
ٹھنڈی ہوا ٹماٹروں میں کیمیکل تبدیلیاں لاتی ہے اور ان کا ذائقہ متاثر بلکہ خراب ہونے لگتا ہے۔ ٹماٹروں کو کچن کے کاﺅنٹرز پر رکھنا زیادہ بہتر ہوتا ہے جہاں ان کا ذائقہ زیادہ عرصے تک برقرار رہتا ہے۔
🔹 لہسن
لہسن کو فریج میں رکھنا اس میں موجود دیگر اشیاء کے اندر بھی بو پیدا کر دیتا ہے جبکہ یہ نرم اور پھپھوندی زدہ بھی ہو سکتی ہے۔ فریج کے مقابلے میں لہسن کو کچن کی کسی خشک اور ٹھنڈی جگہ پر رکھنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔
🔹 بریڈ
ڈبل روٹی یا بریڈ کو فریج میں رکھا جائے تو یہ جلد خشک ہو جاتی ہے۔ اگر تو آپ اسے ایک یا دو دن کے اندر استعمال کرنا چاہتے ہیں تو اسے کچن کاﺅنٹر یا فریزر میں رکھیں تو زیادہ بہتر ہے۔
🔹 زیتون کا تیل
زیتون کے تیل کو فریج کی بجائے باہر ہی کسی ٹھنڈی اور تاریک جگہ پر رکھنا چاہئے، فریج میں یہ گاڑھا ہو کر سخت ہو جاتا ہے بالکل مکھن کی طرح۔
🔹 کافی
اگر آپ فریج میں کافی رکھ دیں تو اس کا ذائقہ ختم ہوجائے گا اور اس کی مہک فریج میں رچ بس جائے گی۔ اس کے مقابلے میں کافی کو ٹھنڈی جگہ پر رکھنا چاہئے تاکہ اس کا ذائقہ اور تازگی برقرار رہے۔
🔹 شہد
شہد کو تو فریج میں کبھی رکھنے کی ضرورت نہیں یہ خود ہی ہر حال میں ٹھیک رہتا ہے بلکہ یہ کبھی خراب نہیں ہوتا بس آپ کو اس کا ڈھکن مضبوطی سے بند کرنا ہوتا ہے۔ فریج میں رکھنے سے شہد کی قلمیں بن جاتی ہیں۔۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
📚 یہ معلومات مختلف ہیلتھ آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🔷 گھٹنے تبدیل کرا لیں؟ 🔷
ذرا ٹھہریں
ایک آخری کوشش اور کر لیں...!
آج تقریبا ہر گھر میں گھنٹوں کے درد کا مریض موجود ہے۔ تقریبا ہر خاندان میں ایک مریض ایسا ہے جسے سرجن گھٹنے چینج کرانے کا مشورہ دے چکے ہیں۔
ہر مسجد میں دس سے پندرہ کرسیاں رکھی ہیں جن پر زیادہ تر گھٹنے کے مریض بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر ان میں سے اکثر کو گھٹنے چینج کرانے
کا کہہ چکے ہیں۔
گھٹنوں کے درد کی وجوہات پر جانے بغیر
آپ سے گزارش ہے ایک آخری کوشش کر لیں۔ آرام نہ آئے تو پھر آپریشن کرا لیں۔
لیکن ہمارا مشاہدہ ہے پچاس فیصد مریض آپریشن سے بچ گئے ہیں۔ بقایا پچاس فیصد کو کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور ہوا ہے۔
علاج بہت سادہ اور آسان ہے۔ صدیوں سے انسان اس علاج سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔
صرف ایک ماہ
یعنی تیس دن
دن میں دو بار فجر اور عشاء کے بعد
گھٹنوں سمیت پوری ٹانگ
ران اور پنڈلی کا آدھا گھنٹہ
مساج کرا لیں۔
سرسوں کا تیل بہترین ہے۔
مساج
نیچے سے اوپر کی طرف
فرنٹ اور بیک سائڈ
تیس منٹ کیا جائے۔
یقیناً یہ کام ذرا سا مشکل لگتا ہے
مرد حضرات کے لئے
مالش والے ہر شہر ہر محلے میں مل جاتے ہیں
ان کے پاس جا کر کرا لیں۔
خواتین کے لیے
ایک خادمہ خاص طور پر اس کام کے لئے بھی
رکھ لیں اس میں زیادہ سے زیادہ خرچ
دس سے بارہ ہزار روپے ایک ماہ کا آئے گا۔
لیکن یہ
آپ کو لاکھوں روپے کے خرچ سے بچا سکتا ہے۔
گھر میں اگر بچے اپنے والدین کی یہ خدمت کر دیں تو ان شاء اللہ وہ دنیا و آخرت دونوں جہان کی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
آخری گزراش
اس ایک ماہ میں
تمام بادی، بیکری اشیا، چاول، آلو، بیف،
فارمی مرغی بند کر دیں۔
صرف لوکی، ٹینڈے، ترئی، کدو کا شوربہ اور جؤ، مونگ، ماش، بیسن کے آٹے کی روٹی کھائیں۔
🍚 تلبینہ تو مکمل غذا اور لاجواب دوا ہے۔
پہلے دن سے آرام محسوس ہونے لگے گا۔ یقین کر لیجیے اللہ کریم کا یہ شاہکار انسانی جسم خود کو خودبخود رپئیر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس بارے میں کہنے کو تو
بہت کچھ ہے مگر بات کو مختصر رکھتے ہیں اور فی الحال صرف ایک علاج یعنی صرف مساج (مالش) پر فوکس کرتے ہیں۔ اللہ کریم ہے ان شاء اللہ خیر ہوگی۔
🌹 خالص اللہ کی رضا کے لئے مخلوق تک صحت کی عظیم ترین نعمت پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں۔ پیغام کو زیادہ سے زیادہ ضرورت مندوں تک پہنچا دیں۔ جزاکم اللّٰہ خیرا۔
📚 یہ معلومات مختلف ہیلتھ آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🌹 بوڑھے بزرگ لوگ 🌹
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص کی شادی اس کے ساتھ والے گاؤں میں طے پائی کہ فلاں دن دولہا بارات لے کر آئے اور اپنی دلہن لے جائے لیکن ساتھ میں لڑکی والوں نے ایک شرط بھی رکھ دی کہ دولہا اپنے ساتھ جو بارات لائے گا اس میں ایک سو نوجوان ہونے چاہیں اور کوئی بھی بوڑھا شامل نہیں ہونا چاہیے۔
یہ عجیب شرط سن کر دولہے والے بڑے حیران ہوئے پر پھر بھی شرط منظور کر لی۔
لیکن دل ہی دل میں وہ پریشان بھی تھے کہ آخر ایسا کیا ماجرا ہے اور کیوں بوڑھوں کو ساتھ لانے سے منع کیا گیا ہے۔ دولہےکے گاؤں کے نوجوان خوش تھے کہ اس بارات میں کوئی بڑا بوڑھا نہیں جائے گا اور وہ مزے لوٹتے اور ہنستے کھیلتے بارات لے کر جائیں گئے۔ دوسری جانب گاؤں کے بڑے دانا بوڑھے پریشان ہو رہے تھے کہ آیا انہیں کیوں روکا گیا ہے۔
خیر بارات کے جانے کا دن آن پہنچا۔ دولہے کا سہرا باندھا گیا ،جب بارات دوسرے گاؤں روانگی کے لیے تیار تھی تو اسی لمحے گاؤں کے بزرگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ بارات کے ساتھ ایک بوڑھا تھوڑا فاصلہ رکھ کر جائے گا اور سارے معاملات پر نظر رکھے گا۔
نوجوانوں کو یہ بات بری لگی انہوں نے کہا کہ ہم ایک سو نوجوان ہیں،ہم ہر طرح کے حالات سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ہم اپنے بھائی کی دلہن لے کر لوٹیں گے چاہے جو مرضی ہو جائے، مگر بڑے بزرگ نہیں مانے اور ایک بوڑھے کو بارات سے فاصلہ رکھ کر چلنے کو کہا۔
بارات جب روانہ ہوئی تو راستے میں نوجوانوں نے دل میں بہت برا محسوس کیا کہ ہم ایک سو نوجوان جو بہادر ہیں، طاقت رکھتے ہیں، توانا ہیں، بڑے بڑے پہاڑوں کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو ایسے میں ایک بوڑھے شخص کا جو مشکل سے چل رہا ہے، ہاتھ میں اس کے لاٹھی ہے، آنکھوں پر چشمہ لگایا ہوا ہے، کھانس کھانس کر اور بلغم تھوکتا ہوا ساتھ آ رہا ہے، اس کا کچھ فائدہ نہیں۔
خیر دل میں برا بھلا کہتے ہوئے یہ نوجوان اپنے بھائی، دوست کی بارات لیے دوسرے گاؤں میں دلہن کے گھر پہنچ گئے۔
دلہن کے عزیز و اقارب نے جب باراتیوں کو گننا شروع کیا تو وہ پورے ایک سو صحت مند و توانا اور جوشیلے نوجوان ان کے سامنے موجود تھے اور ان میں کوئی بھی بوڑھا موجود نہیں تھا، یہ دیکھ کر وہ دل ہی دل میں مسکرائے اور کہا کہ دولہا کا نکاح اب اس وقت ہی ہو گا جب دوسری شرط بھی پوری کی جائے گی اوردوسری شرط یہ ہے کہ جب ایک سو نوجوان ایک سو بکرے کھائیں گے تب ہی نکاح اور دلہن کی رخصتی ممکن ہوگی۔
شرط کے سنتے ہی نوجوانوں کے اوسان خطا ہو گئے اور وہ پریشانی سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگے کہ اب کیا ہو گا؟
ان نوجوانوں میں سے ہی ایک نوجوان کو اچانک خیال آیا کہ بارات کے ساتھ ایک بوڑھا بھی کچھ فاصلہ رکھ کر ان کے پیچھے آ رہا تھا، وہ نوجوان مجمعے سے آنکھیں بچاتا اور چھپتے چھپاتے ہوئے باہر کو نکلا اور فاصلہ رکھ کر ساتھ آنے والے بزرگ کو ڈھونڈنے لگا۔
اس نوجوان کو وہ بزرگ ایک درخت کی اوٹ میں آرام کرتے ہوئے ملے اور اس نے جلدی سے سارا واقعہ ان کے سامنے بیان کیا اور رہنمائی طلب کی۔
بوڑھے نے سارا واقعہ سنا اور کہا کہ تم واپس جاؤ اور دلہن والوں کے سامنے اپنی شرط پیش کرو کہ بکر ا ایک ایک کر کے ان کے سامنے لایا جائے اور جب ایک بکر ا ان کے سامنے پہنچے تو سب نوجوان ایک دم ہی اس پر ٹوٹ پڑیں اور اکٹھے کھائیں۔
نوجوان بوڑھے شخص سے ہدایات لے کر واپس پہنچا اور اس نے وہی کیا جیسا کہ اسے ہدایت کی گئی تھی،
یہ سارا منظر و ماجرا دیکھ کر دولہن والے پریشان ہو گئے اور دولہے والوں نے دلہن والوں کی یہ شرط پوری کر دی اور ایک سو بکرے کھا لیے۔ اور پھر نکاح کے بعد دلہن کو لے کر بارات ہنسی خوشی واپس آ گئی۔
نوجوانوں کو پھر احساس ہوا کہ کس طرح ایک بزرگ نے رہنمائی کر کے ان کی پریشانی کو راحت میں تبدیل کر دیا۔
اوپرکی سطور میں تمثیلاً ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ آج ہم اپنے بزرگوں کا وجود اپنے لئے غیر اہم سمجھتے ہیں۔ ان کی صحبت میں وقت گزارنا ہم پر گراں گزرتا ہے چہ جائے کہ ہم ان کی نصیحت آموز باتوں کو اپنے لئے توشۂ زیست سمجھیں...
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🌹 روزی روٹی دینے والا 🌹
ملازم بڑا ہی تابعدار تھا۔ مالک نے خوش ہو کے اس کی پانچ ہزار تنخواہ بڑھا دی۔ تابعداری میں فرق نہیں آیا لیکن وہ بہت زیادہ مشکور بھی نہیں ہوا۔
مالک کو بڑا غصہ آیا کہ میں نے اس کی تنخواہ بڑھائی لیکن یہ ہے کہ اچھے سے شکریہ بھی ادا نہیں کیا۔ اس نے اگلے ماہ تنخواہ پانچ ہزار کم کر دی۔
ملازم کی تابعداری اب بھی وہی رہی کوئی شکایت نہیں کی۔
مالک نے اسے بلوا بھیجا اور کہا، "بڑے عجیب انسان ہو، میں نے تمھاری تنخواہ پانچ ہزار بڑھائی، پھر کم کر دی۔ تم جوں کے توں رہے۔ یہ سب کیا ہے؟"
ملازم بولا، "اوہ! آپ نے خود کو رازق سمجھ لیا تھا؟
میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو اس سے اگلے دن آپ نے تنخواہ پانچ ہزار بڑھا دی۔ میں سمجھ گیا کہ جس خالق نے بچہ دیا اسی نے رزق کا انتظام بھی ساتھ ہی کر دیا ہے، سو اسی کا شکریہ ادا کیا۔۔۔۔ پھر جس دن آپ نے تنخواہ کم کر دی اسی دن میری والدہ وفات پا گئیں۔ میں نے جان لیا کہ وہ اپنا رزق اپنے ساتھ لے گئیں۔ سو تب بھی اللہ کا شکر ادا کر کے مطمئن رہا۔"
پھر بولا، "صاحب، یہ روزی روٹی کے فیصلے کہیں اور ہی ہوتے ہیں۔ ہم تو بس مہرے ہیں جنہیں آگے پیچھے کر کے اسباب پیدا کئے جاتے ہیں۔"
سبحان اللہ ، الحمدللہ ، اللہ اکبر
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🌹 اللہ تنہا نہیں چھوڑتا 🌹
جب ہم بچے کو چلنا سیکھا رہے ہوتے ہیں تو اسے ایک جگہ کھڑا کر دیتے ہیں اور اس سے دور کچھ فاصلے پر خود کھڑے ہو جاتے ہیں۔
بچہ اس وقت خود کو بہت تنہا محسوس کرتا ہے، ڈرتا ہے، ڈگمگاتا ہے، پریشان ہوتا ہے، گرتا ہے، سنبھلتا ہے۔
ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بچے کو چلنا سیکھانے کے لیے اسے اس عمل سے گزارنا کس قدر ضروری ہے۔
اس سیکھانے کے عمل کے دوران ہماری تمام تر توجہ بچے پہ ہوتی ہے وہ جہاں ڈگمگاتا ہے ہم اسے تھامتے ہیں جہاں گرتا ہے اسے دوبارہ اٹھاتے ہیں کھڑا کر دیتے ہیں۔
اسی طرح جب اللہ سبحان تعالیٰ اپنے بندوں کو سنوارنا چاہتا ہے تو انہیں اکیلا کھڑا کر دیتا ہے اور خود مکمل طور پہ اس کی طرف متوجہ رہتا ہے۔
بندہ گھبراتا ہے، پریشان ہوتا ہے۔
یاد رکھیے زندگی میں جب کبھی آپ اپنے آپ کو تنہا محسوس کریں تو جان لیں اللہ آپ کی طرف متوجہ ہے وہ آپ کو کچھ سیکھانا چاہتا ہے وہ آپ کو کبھی گرنے نہیں دے گا وہ آپ کو تھام لے گا۔
آپ کو بس اس پہ بھروسہ رکھنا یے اور اس کی طرف قدم بڑھانے ہیں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🔷 چائے کی کہانی 🔷
مجھے تو تیری لت لگ گئی۔
سر تھامس جے۔ لپٹن ، ایک برطانوی بزنس مین تھے ۔ 10 مئی 1850 کو پیدا ہوئے ۔ 2- اکتوبر 1931 کو خود تو دنیا سے چلے گئے ، مگر ہماری قوم کو چائے کا غلام بنا گئے ۔ آج ، ہماری قوم صبح اٹھے تو چائے ۔ شام ڈھلے تو چائے ۔ مہمان آ جائیں تو چائے ۔ سردی لگے تو چائے ۔ طبیعت اداس ہو تو چائے ۔ خوشی کا موقع ہو تو چائے ۔ اور لپٹن چائے کو برصغیر میں رواج دینے کا سہرہ انہی کے سر سجتا ہے ۔ بعد میں تو ، دیگر لوگ بھی اس فایدہ بخش کاروبار میں آ گئے ۔
میرے والدین کی جوانی کے دور میں ، چائے پینے پلانے کا رواج نہیں تھا ۔ لیکن تھامس لپٹن صاحب کو اپنا بزنس بڑھانا تھا ۔ لہذا شام ہوتے ہی ، رات گئے تک گلی محلوں میں چائے کی ریڑھیاں / ٹھیلے گھومنے لگتے ۔ کوئلے کی انگیٹھیوں میں چائے کا قہوہ ، اور دودھ رکھا ہوتا ۔ ساتھ میں شکر کا ڈبہ بھی ۔
ہر گھر کے سامنے صدا لگتی اور ہر کسی کو مفت میں گرما گرم چائے کا ایک کب پلایا جاتا اور ساتھ میں ، اس کے " فواید " بھی بتائے جاتے ۔
اور جب یہ قوم ، چائے کی عادی ہو گئی تو فری میں ملنے والی چائے نایاب ہو گئی اور دکانوں پہ چائے کی پتی ، مہنگے داموں بکنے لگی ۔
اور اب حالت یہ ہو چکی ہے کہ چائے ، ہمارے رومانس کا درجہ حاصل کر چکی ہے ۔ اور وطن عزیر ، خالی خزانے کے باوجود ، ایک سال میں ایک سو ارب روپے سے زیادہ کی چائے کی پتی امپورٹ کرنے پہ مجبور ہے ۔
واہ ۔۔۔۔ کوئی بزنس سیکھے تو تھامس لپٹن سے سیکھے ، کہ لوگوں کو اپنی پراڈکٹ کی لت لگا گیا ۔ اب ایک غریب سے غریب شخص بھی چائے کی پتی ضرور خریدتا ہے ۔ چاہے اسے صدقہ خیرات یا ذکواۃ کے پیسوں سے خریدے ۔ حالانکہ چائے صرف ایک لت ہے ۔ ہماری ضرورت نہیں ہے۔
منقول۔۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🔷 برہمن کی بیوی اور مونگوس کی کہانی 🔷
گنگا کے کنارے، جو مقدس شہر بنارس کے قریب سے بھی گزرتی ہے، ایک قصبہ تھا جس کا نام متھلا تھا۔ یہاں ایک غریب برہمن رہتا تھا جس کا نام ودیادھار تھا۔ اس کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی، اور اس کمی کو پورا کرنے کے لیے وہ اور اس کی بیوی اپنے گھر میں ایک مونگوس (نیولا) کو بڑی محبت سے پال رہے تھے۔ وہ اسے اپنے بیٹے، بیٹی، سب کچھ سمجھتے تھے اور بے حد عزیز رکھتے تھے۔
بھگوان وشویشور اور ان کی شریک حیات وشالاکشی نے ان کی حالت دیکھ کر ان پر رحم کیا اور اپنی دیوی قوتوں سے انہیں ایک بیٹے سے نوازا۔ اس خوش خبری کے بعد بھی برہمن اور اس کی بیوی کی محبت مونگوس کے لیے کم نہ ہوئی، بلکہ اور بڑھ گئی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے پالتو نیولا کی برکت سے ہی یہ بیٹا پیدا ہوا ہے۔ چنانچہ بچہ اور مونگوس دونوں کو جڑواں بھائیوں کی طرح ایک ہی پالنے میں پروان چڑھایا گیا۔
ایک دن برہمن خیرات مانگنے کے لیے باہر گیا ہوا تھا، اور اس کی بیوی سبزی توڑنے کے لیے باغ میں گئی۔ بچے کو پالنے میں سلا دیا گیا تھا اور مونگوس پاس بیٹھا ہوا اس کی نگرانی کر رہا تھا۔ اچانک ایک پرانا سانپ، جو کنویں میں رہتا تھا، رینگتا ہوا گھر میں آیا اور بچے کے پالنے کے نیچے پہنچ گیا۔ وہ بچے کو کاٹنے ہی والا تھا کہ مونگوس نے اس پر جھپٹ کر اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور بچے کی جان بچا لی۔
مونگوس اپنی کامیابی پر خوش ہو کر خون سے بھرا منہ لے کر باغ میں برہمن کی بیوی کے پاس گیا تاکہ اسے دکھائے۔ مگر برہمن کی بیوی نے اسے غلط سمجھا اور یہ خیال کیا کہ مونگوس نے بچے کو مار ڈالا ہے۔ اس نے جلد بازی میں اپنے ہاتھ میں پکڑی چھری سے مونگوس کو مار ڈالا اور بچے کو دیکھنے کے لیے بھاگی۔ لیکن جب وہ گھر پہنچی تو دیکھا کہ بچہ اپنے پالنے میں صحیح سلامت ہے اور صرف اپنے ساتھی مونگوس کی غیر موجودگی پر رو رہا ہے۔ پالنے کے نیچے مرا ہوا سانپ ٹکڑے ٹکڑے پڑا تھا۔
یہ منظر دیکھ کر حقیقت واضح ہو گئی۔ برہمن کی بیوی اپنے کیے پر سخت نادم ہوئی۔ جب برہمن گھر واپس آیا تو اس کی بیوی نے اسے سارا واقعہ بتایا اور پھر خود کشی کر لی۔ برہمن اپنی بیوی اور مونگوس کی موت پر اتنا غمزدہ ہوا کہ اس نے اپنے بچے کو مار ڈالا اور پھر خود بھی اپنی جان لے لی۔
🔘 جلد بازی میں کئے گئے فیصلے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
منقول۔۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🔷 انٹرنیٹ کی دنیا کا حال 🔷
انٹرنیٹ کی دنیا کا حال پاکستانی کلچر کے تناظر میں۔۔۔
انٹرنیٹ پر ہمارے مرد حضرات اپنی مردانگی کا نقاب اوڑھتے ہیں، اور خواتین پاکدامنی کا لباس زیب تن کرتی ہیں۔ سب کے سب یوسف بن جاتے ہیں اور سب کی سب مریم بن جاتی ہیں...
انٹرنیٹ پر ایک بزرگ خاتون خود کو "فریال" کہہ کر اپنے شوہر کو چھوڑ کر دوسروں سے دل بہلاتی ہے، اور مرد حضرات بھی موقع پاتے ہی اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر سب ہی رومانوی ہیں، سب تہذیب یافتہ ہیں، سب تعلیم یافتہ ہیں، سب بے حد شریف اور پاکیزہ ہیں۔
ہر کوئی اپنے آپ کو بہادر، دلیر، اور عقل مند ظاہر کرتا ہے،
ہر کوئی جمہوریت کی بات کرتا ہے، اور ساتھ ہی چھپ کر گالیاں بھی دیتا ہے۔
ہر کوئی اپنے نام کے پیچھے چھپ کر اپنے اصلی چہرے کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے، مگر سب خود کو نیک، معتبر، اور خوشحال ظاہر کرتے ہیں۔
انٹرنیٹ پر سب کی شناخت جھوٹی ہے: ہر کوئی کہتا ہے کہ وہ "چودھری"، "خان" یا "نواب" ہے، سب کے سب محلات میں رہتے ہیں،
سب کہتے ہیں کہ وہ مہنگے بستر پر سوتے ہیں، سب کی زندگی لگتا ہے جیسے خوشحال اور آرام دہ ہے۔
🔹 انٹرنیٹ کی محبت:
یہاں لوگ پہلی چیٹ پر ہی محبت کرنے لگتے ہیں،
ہر نیا فرینڈ ریکوئسٹ ان کے لیے ایک شکار ہوتا ہے،
ہر میسج، ہر گلابی الفاظ ان کے لیے جال ہوتے ہیں۔
🔹 انٹرنیٹ کی حقیقت:
انٹرنیٹ پر کبھی کوئی بوڑھا نہیں ہوتا،
کوئی بھی اپنی عمر کا اصل حال نہیں بتاتا، سب کی سب ملکہ حسن بن جاتی ہیں،
اور سب کے سب "رانا" یا "راجہ" بن کر بہادری کا مظاہرہ کرتے ہیں، سوائے ان کے جو سچے اور دیانتدار ہوں۔
🔹 انٹرنیٹ کی دھوکہ دہی:
انٹرنیٹ پر کبھی بھی وہ حاصل نہیں ہوتا جو آپ نے دل سے دیا ہو،
کیونکہ آپ محبت، وفاداری اور خلوص بانٹتے ہیں اور بدلے میں دھوکہ اور بے وفائی کا سامنا کرتے ہیں۔
🔹 انٹرنیٹ کے خواب:
یہاں پر ہر خواب گلابی ہوتا ہے،
ہر وعدہ، ہر کہانی، ہر لمحہ خوشنما ہوتا ہے،
مگر حقیقت کا سامنا ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے اور جب حقیقت سامنے آتی ہے تو سب رنگین خواب بکھر جاتے ہیں۔
🔷 سچ تو یہ ہے کہ:
سب لوگ ویسے نہیں ہوتے جیسے میں نے کہا، سوائے ان کے جو واقعی مخلص اور سچے ہوں،
لیکن زیادہ تر لوگ انٹرنیٹ کی دنیا میں نقاب اوڑھے ہوئے ہیں۔
یہ سب باتیں ان لوگوں کے لیے ہیں جو حقیقت کو سمجھتے ہیں اور اپنے دل سے سوچتے ہیں ..!!
🔘 نوٹ
یہ موضوع آپ کے خیالات اور تجربات کے اظہار کے لیے لکھا گیا ہے۔
کیا آپ نے بھی انٹرنیٹ کی دنیا میں ایسی حقیقتوں کا سامنا کیا ہے؟
اپنی رائے کا اظہار کریں اور بتائیں کہ آپ انٹرنیٹ پر اصلیت اور بناوٹ کو کس طرح پہچانتے ہیں؟
آپ کے خیالات ہمیں ایک نئی سمت دے سکتے ہیں۔
آپکی رائے اہم ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس۔۔۔
🔷 مختلف ویبسائٹس
https://t.me/islamwitheman/4886
❤️ ڈیجیٹل فاسٹنگ
https://t.me/islamwitheman/5181
🔷 فیس بک ایک شکارگاہ ہے۔
https://t.me/islamwitheman/5190
🔷 فیسبک پر گندی ویڈیوز بین کریں
https://t.me/islamwitheman/5191
🔷 خفیہ کیمرے
https://t.me/islamwitheman/5218
🔷 فیس بک کی دنیا
https://t.me/islamwitheman/5256
🔷 فیسبک پر پوک کرنا
https://t.me/islamwitheman/5282
🔷 اٹیچمنٹ
https://t.me/islamwitheman/5289
🔷 فیسک پر غلط رابطے
https://t.me/islamwitheman/5597
🔷 انٹرنیٹ کی دنیا کا حال
https://t.me/islamwitheman/5637
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
وہ زمین پہ گر گئی تڑپنے لگی نہ جانے کتنی آوازیں دی تھی اس نے اور آخر وہ سکون کی نیند سو گئی
وہ دنیا چھوڑ گئی
صبح ساس گالیاں دے رہی تھی کمینی آج بھی نہیں اٹھی ناشتہ بنانے کے لیئے کامران نے آواز دی امی نبیلہ کو بولو ہمارا ناشتہ ہمارے کمرے میں بیجھ دے
ماں نے گالی دی وہ منحوس سوئی ہوئی ہے ابھی تک
سونے دو آج اسے کوئی نہ جائے اس کے کمرے میں
دوپہر کا وقت ہو رہا تھا سب اہنے کاموں میں مصروف تھے
لیکن ابھی تک نبیلہ کمرے سے باہر نہیں آئی تھی آخر ساس کمرے میں گئی دیکھا نبیلہ اوندھے منہ زمیں پہ پڑی تھی
ساس نے شور مچا دیا سب اکھٹے ہو گئے
دیکھا وہ اکڑ چکی تھی
اس کی لاش کو چارپائی پہ ڈالا
اس کے آنسو ابھی تک آنکھوں میں تھے
اچانک سے کیسے مر گئی
ان لوگوں نے اسے دفنا دیا جنازہ ہوا
کوئی آنکھ نہ روئی تھی
ایک دن اس کے کمرے کی صفائی کرتی کامران کی دوسری بیوی نے دیکھا کچھ رپورٹ اور دوائیاں تھی اس کے کمرے میں
وہ دیکھ کر حیران ہو گئی اس کو برین ٹیومر تھا
نہ جانے کب سے وہ یہ درد سہہ رہی تھی
ایک ڈائری بھی لکھ رکھی تھی
یہاں وہ اپنے درد لکھا کرتی
اس کی ڈائری کے کچھ جملے
کامران مجھ سے روٹھا روٹھا رہتا یے میری طرف دیکھتا ہی نہیں
آج میں نے سارا دن مزدوری کی کامران نے مجھے ٹھنڈا پانی پلایا میں بہت خوش ہوں
کامران کہتا ہے میں بہت اچھی ہوں لیکن پھر بھی پتا نہیں کیوں مجھ سے دور رہتا ہے
آج میں اس کے لیئے تیار ہوئی تھی خود کو سنواراتھا لیکن پاگل نے ایک بار بھی میری طرف نہیں دیکھا پھر میں ناراض بھی نہیں ہوئی وہ بہت ڈانٹتا ہے کچھ کہوں تو
مجھے جان لیوا بیماری ہے لیکن میں کامران کو نہیں بتاوں گی وہ پریشان ہو جائیں گے
ہمارا گھر بن کر تیار ہو گیا میں نے اپنا کمرہ بہت سجایا
کامران کی شادی کر رہے ہیں مجھے گھر سے نکالا تو کہاں جاوں گی میں میرا تو کوئی ہے بھی نہیں
بس نوکرانی بن کر مرنے تک یہی رہوں گی
کامران اپنی دلہن سے بہت پیار کرتا ہے اسے برگر لا کر دیا
میں نے کہا مجھے بھی لا دو کہتا ہے تم۔برتن دھو جا کر دماغ نہ خراب کرو میرا
بھلا میں نے برگر ہی تو مانگا تھا
آج صبح سے میری سانس رک رہی ہے ایسے لگ رہا ہے میرا وقت قریب آ گیا
کاش کامران کی بانہوں میں مر سکتی
کاش کامران میرا درد سمجھتا
مجھے سینے سے لگاتا میں سکون سے مر جاتی
کامران آپ کبھی میری یہ ڈائری پڑھیں تو خود کو میری موت کا ذمہ دار نہ ٹھرانا بہت پیار کرتی ہوں آپ سے
بس نصیب سے ہار گئی ہوں
شاید کے میری قمست میں خوشیاں نہیں لکھی
اور ہاں پاگل ایک برگر ہی تو تھا کنجوس تم۔مجھے لا دیتے تو کیا ہو جاتا ڈانٹنے کی کیا ضرورت تھی
اپنی دوسری بیوی کا خیال رکھنا میں تو نہیں ہوں گی جب آپ کے ہاں اولاد ہوئی نا تو میری قبر پہ ضرور آنا ایک بار
تمہاری نبیلہ
مجھے بہت درد ہو رہا ہے اب لکھا بھی نہیں جا رہا کامران
دل چاہ رہا ہے آپ کے پاس آ جاوں لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن کے بعد سب کچھ ادھورا رہ گیا نبیلہ خاموشی سے مر گئی کامران ڈائری پڑھ کر بہت رویا لیکن اب رونے کا کیا فائدہ تھا وہ بیچاری نہ جانے کتنا روئی تھی۔
وہ اس کی قبر پہ قدموں کی طرف بیٹھ کر معافی مانگنے لگا لیکن اب معافی مانگتا یا کچھ بھی کرتا وہ کہاں لوٹ کر آنے والی تھی۔
ایسی نہ جانے کتنی نبیلہ آج بھی ہیں جو اپنے ہمسفر کی بے رخی پہ جی رہی ہیں جو درد سہتی ہیں شکوہ نہیں کرتی۔۔
🔘 ارے بے قدرو اپنی ہمسفر کو محبت سے دیکھ ہی لیا کرو خدا کی قسم وہ ہر درد ہر دکھ بھول جاتی ہیں اس سے پہلے کوئی نبیلہ دنیا سے چلی جائے اور آپ کو جب تک سمجھ آئے دیر ہو جائے..
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/5634
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
کامران جیسے بس بیزار سا ہو رہا تھا اس کی باتوں سے
نبیلہ پیار سے باتیں کر رہی تھی کامران سے
لیکن کامران دل ہی دل میں بول رہا تھا کیا پاگل پلے پڑ گئی ہے میرے
اس کو کیا کہوں میں
نہ جانے کیوں بے رخی کرتا تھا وہ
انھوں نے نیا گھر بنا نا تھا گاوں کے لوگ تھے
کامران نے نبیلہ سے کہا نبیلہ آج رات انٹیں آ جائیں گی تم ہماری مدد کرنا انٹیں گھر میں پھینکنی ہیں
نبیلہ نے دن بھر گھر کے کام۔کیئے پھر رات کو وہ انٹیں اٹھا اٹھا کر گھر میں پھیکنے لگی
رات کے 3 بج گئے تھے
کام ختم ہوا
اس کا جسم درد اور تھکن سے بے جان سا ہو رہا تھا ۔
کامران لیٹ گیا
نبیلہ پاس گئی کامران پلیز میرا سر دبا دیں نا
مجھے بہت درد ہو رہا ہے کامران نے کروٹ بدلی یار جا و پیناڈول کھا لو مجھ سے دبایا نہیں جاتا
وہ بستر پہ لیٹ گئی
نہ جانے کیوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
وہ رو رہی تھی اس کو بہت درد ہو رہا تھا وہ منہ پہ ہاتھ رکھ کر سانس روکنے کی کوشش کر رہی تھی
کامران پاس سویا ہوا تھا
وہ درد سے سو نہ سکی فجر کی اذان ہونے لگی
کے اس کئ آنکھ لگ گئی
وہ سوئی ہی تھی کے ساس گالیاں دے رہی تھی میڈم سوئی ہوئی ہے
شرم ہی نہیں ہے ٹائم دیکھو
کامران بھی برہم۔ہوا
وہ اٹھی کامران غصے میں تھا نبیلہ شرم ہے تم کو ٹائم دیکھو امی خود ناشتہ بنا رہی ہے تیاری آنکھ ہی نہیں کھلتی
نبیلہ کیا کہتی جب کے اب کامران کو فرق ہی نہیں پڑتا تھا نبیلہ مر رہی ہو یا کسی درد میں ہو
وہ خاموش ہوئی کچن میں چلی گئی
سارا کام کیا اس کئ حالت کافی خراب تھی
اس نے کسی سے کچھ نہ کہا
شادی کو 3 سال گزر گئے تھے لیکن اولاد نہیں تھی
ان 3 سالوں میں کوئی ایسی سانس نہیں تھی جب کبھی سکون پایا ہو
نئے گھر کا کام شروع کیا
وہ مزدوروں کی طرح کام۔کرنے لگی
دن بھر سب کے لیئے کھانا بناتی
پھر کبھی انٹیں اٹھا کر دیتی تو کبھی مٹی اٹھا رہی تھی
4 مہینے اس نے مزدوری کی گھر تیار ہوا
کامران کے ساتھ رہتے ہوئے وہ کامران سے دور تھی
کامران اس سے دور رہنے لگا
دن کی دوری سے راتوں کی دوریاں بھی بڑھنے لگی تھی
اولاد نہ ہونے کے طعنے دینے لگے
ایک ڈر سا اسے ستانے لگا
کامران تو پہلے ہی اسے دکھ دیتا تھا لیکن اب اولاد نہ ہونے کے طعنے
ان دنوں کہیں اس سے چھپ کر کامران کی دوسری شادی کی باتیں ہونے لگیں
وہ سب کے رویے سمجھ رہی تو کچھ تو غلط ہو رہا تھا
نبیلہ ایک نوکرانی سے بڑھ کر کچھ نہ تھی
وہ لبوں کی سیئے بیٹھی تھی نبیلہ کو ایک خوف تھا کہیں کامران مجھے دور نہ کر دے
لیکن جھٹانی کی چھوٹی بیٹی نے بتایا
آنٹی نبیلہ ماما کہہ رہی تھیں
کامران چاچو کی شادی کرنی ہے نئی آنٹی لیکر آنی ہے
نبیلہ سمجھ چکی تھی کوئی قیامت ٹوٹنے والی ہے
لیکن وہ خاموش تھی
کامران کمرے میں بیٹھا چہرے پہ کریم۔لگا رہا تھا
نبیلہ پاس گئی
آجکل بہت کریم لگا رہے ہیں
بڑے سوہنے لگ رہے ہیں آپ نبیلہ کامران کے کندھے پہ سر رکھ کر بتا رہی تھی
کامران آپ خوش رہیں ہمیشہ
میں نماز پڑھ کر آپ کے لیئے بہت دعائیں مانگا کرتی ہوں
آپ کی زندگی کی دعا مانگتی ہوں
آپ کے ساتھ ہی تو میرا سب کچھ ہے
جیسے وہ ایک درد دل میں چھپا کر خود کو سمجھا رہی ہو کے کامران مجھے کبھی نہیں چھوڑے گا
اور پھر وہ دن آگیا لڑکی والے کامران کے گھر آئے
ساس نے سختی سے کہا کھانا بناو اور اپنے کمرے میں چلی جاو سامنے نہ آنا منحوس
وہ اتنی بے رخی سمجھ رہی تھی
اس نے شادی کے بعد ایک کام۔سیکھ لیا تھا درد کو چھپانا
خاموشی سے رونا اور نے پناہ گلے لیکن شکوہ نہ کرنا
وہ واپس پلٹ کر دیکھتی تو سوتیلی ماں تھی جو اسے واپس قبول نہ کرتی
سامنے کامران کی شادی تھی جو کبھی بھی دھکے دے کر نکال سکتا تھا
کامران کا رشتہ طے ہوا کچھ دنوں میں ہی دوسری بیوی کو لے آئے بیاہ کر
جس کمرے وہ کامران کے ساتھ رہتی تھی آج اس کمرے میں کامران کی بانہوں میں کوئی اور تھی
اسے الگ سے ایک کمرہ دے دیا
وہ حسرت بھری نگاہ سے دیکھتی رہتی تھی
کامران اپنی دوسری بیوی کو مری گھمانے لے گیا وہ بہت خوش تھا
لیکن ایک دیمک درد نبیلہ کو کھائے جا رہا تھا
گھر کے کام دن بھر کی تھکن رات کی تنہایاں درد بے پناہ
لاپرواہی
نئی دلہن کو سب بہت پیار کرتے تھے لیکن نبیلہ ایک کونے میں پڑی شاہد موت کے قریب آ گئی تھی
اور پھر ایک رات وہ کمرے میں سوئی تھی شاہد آج وہ درد نہ برداشت کر پا رہی تھی
سر کا درد شدید تھا وہ سر پہ دونوں ہاتھ رکھے چیخنے لگی
سب اپنے کمروں میں سو چکے تھے
درد اتنا شدید تھا برداشت نہ کر پائی
وہ کامران کو آوازیں دیتی رہی لیکن کامران دوسری بیوی کی بانہوں میں سو رہا تھا
1 278
🔷 نبیلہ اور کامران 🔷
آج پہلی رات تھی بستر پہ پھول سجائے گئے تھے
نبیلہ اور کامران کی شادی ہوئی تھی
شادی بہت دھوم دھام سے کی گئی
نبیلہ بیڈ پہ بیٹھی تھی ھ کمیرہ مین تصاویر بنا رہا تھا وہ کبھی دائیں سر کر رہی کبھی بائیں طرف
سب لوگ نئے تھے ہر چہرہ اجنبی تھا
کامران پاس بیٹھا تھا
سب محلے والے دلہن دیکھنے آئے ہوئے تھے
نبیلہ نظریں جھکائے بیٹھی ہوئی تھی
رات کے 12 بج چکے تھے وہ بہت تھک چکی تھی
بھوک سے برا حال تھا
سب چلے گئے
دروازہ بند ہوا کامران نبیلہ کے پاس بیٹھا آپ ایسا کریں چینج کر لیں
تھک گئی ہوں گی
نبیلہ نے ڈریس چینج کیا
بھوک سے اس کی حالت غیر ہو رہی تھی
لیکن کیا کر سکتے تھے کامران کو اس کی تھکن سے کیا واسطہ تھا
وہ محبت بھری باتیں کہاں کرنا چاہتا تھا
نبیلہ کو اپنی مردانگی کا روب ڈالتے ہوئے ہوئے بولا
دیکھو مجھے تماشے اچھے نہیں لگتے
میری باتیں کام کھول کر سن لو
میں بار بار یہ باتیں نہیں بولوں گا
گھر کے سارے کام تمہارے ذمہ ہیں کھانا بنانے سے لیکر جھاڑو صفائی تک
سن رہی ہو نا نبیلہ نے ہاں میں سر ہلایا
نبیلہ سوچ رہی تھی کوئی گفٹ دے گا کوئی محبت بھری باتیں کرے گا لیکن اس کو نبیلہ سے کام کروانے کی فکر تھی
شادی کے دن گزر گئے
ہاتھ میں جھاڑو مقدر میں کچن لکھ دیا
نبیلہ کی جھٹانی ان کی رشتہ دار تھی لیکن یہ غیروں سے بیاہ کر گئی تھی
نبیلہ کھانا بنانا صاف صفائی کرنا کپڑے برتن سب کام
جب تھک کر ٹوٹ جاتی تو رات کو شوہر کے نخرے اٹھانا
کامران بہت روکھے ہوئے لہجے میں بات کرتا تھا نبیلہ سے
رات ڈنر ہوا
اپنے کمرے میں چلے گئے نبیلہ کامران کے پاس بیٹھ گئی
کامران شادی کو تین مہینے گزر گئے ہیں
آپ مجھے کہیں گھمانے لیکر نہیں گئے
کامران حیرت سے دیکھ رہا تھا نبیلہ کی طرف
نبیلہ گھمانے مطلب کہاں جانا ہے تم نے
اس نے اتنے روکھے لہجے میں پوچھا کے نبیلہ سہم سی گئی
کامران آپ کیوں اتنے غصے سے بات کرتے ہیں مجھ سے
کامران ٹی وی دیکھتے ہوئے بولا
نبیلہ جاو میرے کپڑے استری کرو دماغ نہ خراب کرو یار میرا
سارا دن کا تھکا ہوا ہوں میں
نبیلہ پیروں کی طرف بیٹھ گئی اچھا چلیں آپ لیٹ جائیں میں آپ کو دبا دیتی ہوں
کامران لیٹ گیا نبیلہ کامران کا دبانے لگی
کامران سو گیا تھا
وہ کامران کے پیروں کو اپنی گود میں رکھ کر سوچ رہی تھی
کامران میں نے شادی سے پہلے بہت دکھ دیکھے ہیں
مجھے محبت چاہئے آپ کا ساتھ چاہیئے
آپ کیوں میری آنکھوں سے میرا درد نہیں سمجھ پاتے
اصل میں نبیلہ کی ماں نہیں تھی سوتیلی ماں کے ساتھ جوان ہوئی اور سوتیلی مائیں کیا سلوک کرتی ہیں یہ مجھے لکھنے کی ضروت نہیں ہے
نبیلہ نے بہت درد سہہ تھا سوتیلی ماں کے ہاتھوں
یہاں ایک ظلم یہ بھی تو کیا گیا تھا نبیلہ 20 سال۔کی تھی اور کامران 36 سال کا
جیسے نبیلہ سے جان چھڑانی تھی ان لوگوں نے
وہ قدموں کے ساتھ لپٹی ہوئی اپنے ہمسفر سے احساس کی بھیک سی مانگ رہی تھی
صبح وہ فجر کہ نماز سے پہلے جاگ جاتی
ناشتہ بنانا سب کے لیئے اس کا ذمہ تھا
وہ اہنا درد کسی پہ عیاں نہ ہونے دیتی
وہ بس اپنے گھر میں آباد ہونا چاہتی تھی کامران کا ساتھ اسے چاہیے تھا بس
اکثر کبھی تھکن کی وجہ سے برتن نہ دھو سکتی یا جھاڑو ٹائم پہ نہ لگا پاتی تو ساس اسے لاکھوں باتیں سناتی
وہ اپنے لبوں کو سی کر ہر طعنہ برداشت کر جاتی تھی
کامران مجھے ہر مہینے 5 ہزار دے دیا کریں نا
کامران نے زہر آلود نگاہوں سے دیکھا نبیلہ کی طرف
خیر ہے نا 5 ہزار کیوں چاہیے تم کو
نبیلہ نے بڑے پیار سے جواب دیا کامران میں عورت ہوں نا
میری ضروریات ہوتی ہیں
پیسے پاس ہوں تو کبھی بازار جاوں تو اپنے لیئے کچھ ضروری چیزیں خرید لیا کروں
اب میں آپ کے بھائی سے تو یہ سب باتیں کہہ نہیں سکتی
کامران کو نہ جانے کیوں ایک چڑ سی تھی نبیلہ سے
اس نے غصے میں بولا
نبیلہ دیکھو میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کے تم۔کو الگ سے دے سکوں
جو چاہیے ہو امی سے کہہ دیا کرنا وہ لا دیا کریں گی الگ سے خرچہ چاہیے اس کو
نبیلہ
کامران کے پاس بیٹھ گئی
کامران آپ نہ دیں مجھے کچھ میں آپ کے ساتھ خوش ہوں
بس آپ مجھ سے پیار سے بات کر لیا کریں
مجھے پیار سے آواز دیا کریں
میرا نام پیار سے پکارا کریں قسم خدا کی میں سب کچھ بھول جایا کروں گئ دن بھر کی تھکن
وہ پرانے درد سب کچھ بس آپ مجھے محبت سے پکارا کریں
کامران نے وقتی طور مسکرا کر کہا تو پیار سے ہی تو رہتا ہوں تمہارے ساتھ
نبیلہ ناز اٹھانے والے لہجے میں بولی کامران آپ نہیں نا کرتے پیار سے بات مجھ سے
لیکن آپ بس غصہ ہی دکھاتے ہیں
کامران یہ دیکھیں کہ میری برتھ ڈے تھی میں نے اپ کا نام اپنے ہاتھ پہ مہندی سے لکھا ہے
1 278
🌹 پل (Bill) 🌹
”بل (Bill) کیا ہوتا ہے امی؟“
آٹھ سال کے بچے نے اپنی ماں سے پوچھا۔ ماں نے اسے سمجھایا، جب ہم کسی سے کوئی سامان خریدتے ہیں یا کوئی کام کرواتے ہیں تو وہ اس سامان یا کام کے بدلے میں ہم سے پیسے لیتا ہے اور ہم کو اس سامان یا کام کی لسٹ بنا کر دیتا ہے، اسی کو ہم بل کہتے ہیں۔
بچے کو ماں کی بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی۔
رات کو سونے سے پہلے اس نے ماں کے تکیے کے نیچے ایک پیپر رکھا جس میں اسی دن کا حساب لکھا ہوا تھا:
دوکان سے سامان لا کر دیا
*پانچ روپے*
بابا کی بائیک صاف کر کے باہر نکالی
*پانچ روپے*
دادا جی کا سر دبایا
*دس روپے*
دادی امی کی چابیاں ڈھونڈ کر دی
*دس روپے*
ٹوٹل ہوا تیس روپے۔ یہ صرف آج کا بل ہے، اس کو آج ہی دے دیں تو نوازش ہو گی۔
صبح جب بچہ اٹھا تو اس کے تکیے کے نیچے تیس روپے رکھے ہوئے تھے۔ وہ انھیں دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ یہ تو بہت اچھا کام ہو گیا۔
تبھی اس کی نظر ساتھ رکھے کاغذ پر پڑی۔ اس کی امی نے لکھا تھا:
پیدائش سے لے کر آج تک پالا پوسا
*معاوضہ صفر*
بیمار ہونے پر ساری ساری
رات سینے سے لگا کر گھمایا، بہلایا
*معاوضہ صفر*
اسکول بھیجنا اور ہوم ورک کروانا
*معاوضہ صفر*
صبح سے رات تک کھلانا، پلانا، کپڑے تبدیل کروانا، استری کرنا
*معاوضہ صفر*
حد سے زیادہ تمھاری فرمائشیں پوری کرنا
*معاوضہ صفر*
یہ اب تک کا پورا بل ہے۔ اس کی جب بھی قیمت ادا کرنا چاہو، کر دینا۔
بچے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ سیدھا جا کر اپنی ماں کے پاؤں پر جھک گیا اور بہت مشکل سے روتے ہوئے کہنے لگا:
آپ کے بل میں تو قیمت لکھی ہی نہیں ہے امی۔ یہ تو *انمول* ہے۔ اس کی *قیمت* تو میں زندگی بھر ادا نہیں کر سکوں گا، مجھے معاف کر دیں پیاری امی۔ امی نے ہنستے ہوئے بیٹے کو گلے لگا لیا۔
🔘 نوٹ:
یہ تحریر اپنے بچوں کو ضرور پڑھائیں خواہ آپ کے بچے خود والدین بن چکے ہوں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🌷 عقلمند خرگوش 🌷
ایک دن بنٹو خرگوش اور مونو بلی جنگل میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ مونو نے شکایت کی، بنٹو بھیا، چوہے پکڑنا بہت مشکل ہے۔ میں سارا دن دوڑتی رہتی ہوں، مگر وہ اتنے تیز ہوتے ہیں کہ آسانی سے قابو نہیں آتے۔
خرگوش ہنستے ہوئے بولا، "ارے، مونو باجی! تمہیں دوڑنے کی ضرورت نہیں۔ ہم ایک زبردست جال بنائیں گے۔
بلی نے حیرانی سے پوچھا، مگر جال میں رکھیں گے کیا؟ چوہے کو کیسے بہکائیں گے؟
خرگوش نے تھوڑی دیر سوچا اور کہا، "چوہے کو گھی میں ڈوبی ہوئی روٹی یا پنیر کا ٹکڑا پسند ہے۔ ہم جال میں ان میں سے کوئی چیز رکھ دیتے ہیں، وہ خود ہی اس کی خوشبو سے آ جائے گا!
دونوں نے مل کر ایک جال بنایا اور اس میں روٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکرا رکھ دیا۔ روٹی کا یہ ٹکڑا خرگوش کو ایک کسان کے کوڑے دان سے ملا تھا۔
تھوڑی دیر بعد چوہا جال کی طرف آیا، روٹی دیکھ کر لالچ میں پڑ گیا، اور جیسے ہی اس نے روٹی کھانے کے لیے جال میں قدم رکھا، جال بند ہو گیا۔
بلی خوش ہو کر بولی، واہ! یہ تو بہترین ترکیب تھی۔ اب میں تھکے بغیر چوہے پکڑ سکتی ہوں۔
خرگوش مسکراتے ہوئے بولا، "دیکھا؟ ضرورت ہی ایجاد کی ماں ہے!"
🔘 سبق:
ضرورت کے وقت تخلیقی سوچ اور محنت آپ کے لیے کام آسان بنا سکتی ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🔷 ھماری شادیاں ۔۔۔ 🔷
ہم نے ایسا کیا کیا کہ ہماری شادیاں ایمان مکمل کرنے کے بجائے رسم بن گئی ہیں؟۔۔۔
دلہن کا نیم برہنہ لباس، نامحرم مردوں کا عورتوں کو مختلف زاؤیوں سے فوکس کر کر کے کمرے میں بند کر کے فلمیں بنانا اور باپ، بھائی کی غیرت کے کان پر جوں تک نہ رینگنا، اور تو اور بعض دیندار گھرانوں میں بھی اس موقع پر حیا کا جنازہ اٹھتا نظر آتا ھے کہ دل خوف سے کانپ جاتا ھے۔
نا جانے آپ کی عزت کیسے گوارا کر جاتی ھے کہ ایک غیر مرد آپ کی نئی نویلی دلہن کو آپ سے پہلے دیکھے اور مختلف سٹائلوں سے اس کا فوٹو سیشن کرے۔
افسوس!!!
اب تو ایسے رنج و غم کا وقت ھے کہ کس کس چیز کو رویا جائے؟ دلہا خود مووی میکر، فوٹو گرافر کو گائیڈ لائن دے رہا ھوتا ھے یہ میری بہن ھے، میری کزن، میری خالہ اور یہ دلہن کی بہن، اماں، خالہ وغیرہ وغیرہ ہیں اور ساتھ ھی اسے سختی سے کہتا ھے کہ سب لیڈیز کی تصویر ٹھیک سے بنانا۔
لمحہ فکریہ تو یہ ھے کہ جو بندہ جتنا غریب ھے وہ اُتنا ھی زیادہ پیسہ ان گناہ کی رسموں پر خرچ کرتا ھے خواہ اُدھار ھی کیوں نہ لینا پڑے۔
پوچھو تو یہ لوگ کہتے ہیں ہماری برادری میں ایسا کرنا رواج ھے، خاندان میں ناک کٹ جائے گی۔ لوگ کہیں گے کہ فلاں کی شادی پر ناچ گانا، آتش بازی یا فائرنگ نہیں ھوئی شادی میں جانے کا مزہ نہیں آیا۔
یاد رکھیں!
جن لوگوں کو دکھانے کے لئے آپ یہ سب بے جا رسمیں ادا کرتے ہیں اُن کو آپ کے بیٹے، بیٹی کی طلاق سے کوئی فرق نہیں پڑتا، یہی لوگ آپ کی اُولاد کے طلاق کے موقع پر کہتے ہیں اتنی فحاشی تو پھیلائی تھی انہوں نے شادی کے موقع پر توانجام تو برا ھی ھونا تھا۔
بھئی! دنیا نہیں جینے دیتی۔ خدارا دنیا کو نہ دیکھو بلکہ اسلام کی حدود کو دیکھو، اسلام نے تو شادی کو انتہائی آسان بنایا ھے۔ انسانوں کو ناجائز خوش کرنے کے لئے گنہگار مت بنیں، اللہ تعالیٰ کو خوش کریں تو آپ کی شادی کامیاب ہوگی ان شاءاللہ
بہت سے لوگ شادیوں کے موقع پر گھروں، پلاٹوں، سڑکوں پر ٹینٹ لگا لیتے ہیں اور عورتوں کا ناچ دیکھتے ہیں نکاح کا ان ناچنے والی عورتوں سے کیا تعلق ھے؟
بہت سی شادیوں میں دیکھا ھے گھروں کے بزرگ بھی ان فحش محفلوں میں شامل ھوتے ہیں اور ان فحش عورتوں سے فحش حرکات سرعام کرتے ہیں، اور بہت سی جگہوں پر دیکھنے میں آیا ھے کہ ’’دلہا میاں‘‘ خود ان فحش عورتوں کے ساتھ رقص کے ساتھ ساتھ فحش حرکات کرنا بھی ضروری سمجھتا ھے۔ آپ خود فیصلہ کریں یہ شادی کے موقع پر آپ اللہ کے عذاب کو دعوت دے رھے ہیں کہ نہیں؟ ایسی شادی میں برکت کیسے آ سکتی ھے؟
فحش عورت کے ناچ میں جو گناہ اور خرابیاں ہیں ان کو سب جانتے ہیں!!!
اب ڈھولک کی بات کریں تو عورتیں ساری ساری رات ڈھولک کی خوب دھلائی کر کے اپنا سارا غصہ ڈھولک پر نکال دیتی ہیں۔
ڈھولک سے دل کو راحت نہیں ملتی تو بڑے بڑے سپیکر لے کر اُس پر ساری رات اور سارا دن گانے لگائے جاتے ہیں کہ پورے شہر کو پتہ چل جائے یہاں شادی کی تقریب ھو رھی ھے، جب سارا شہر آپ کی ان حرکتوں سے تنگ ھوگا تو کیا آپ کو یہ لوگ دعا دیں گے کہ اے اللہ ان کی شادی میں برکت ڈال دے؟
بہت سے بیمار ایسے بھی ہیں جو بیچارے اپنی ھی کھانسی کی آواز برداشت نہیں کر سکتے، تو کیا وہ آپ کے گھر لگے ’’دیواروں جتنے سپیکروں‘‘ سے نکلتی ھوئی گانوں کی آوازیں برداشت کر پائیں گے؟
اندازہ کریں کہ وہ بیمار انسان آپ کو کتنی بددعائیں دے گا؟ ایسی شادی میں برکت کیسے آئے گی؟؟
تحریر کا مقصد صرف یہ ھے کہ شادی کو آسان بنائیں۔ فضول رسم و رواج کے جھنجٹ کی وجہ سے بہت سے غریب گھروں کے نوجوان لڑکے، لڑکیاں بھی غیر شادی شدہ بیٹھے ہیں۔
بزرگوں سے گزارش ہے کہ ان فضول رسم و رواج کو اپنی زندگی ھی میں ختم کر جائیں، نہیں تو قبروں میں عذاب کا باعث بنے گا!!
حیا کی ترویج!
ایمانی زوال کے اس دور میں ہمیں قرآن و سنتِ رسول (ص) کی طرف رجو ع کرنا ھے اور اپنے مردوں اور عورتوں میں حیا کے وہ بیج بونے کی کوشش کرنا ھے جو معاشرے کو واپس پاکیزگی کے اس معیار کے قریب لے آئیں ،جو اہلِبیت علیھم السلام و صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کے دور کا خاصہ تھا۔
گھر کے اندر مرد نگران ھے، اس کی بنیادی ذمہ داری ھے کہ وہ اپنے اور گھر والوں کے لیے صحیح تعلیم کا بندوبست کرے۔
تقدسِ نسواں کا محافظ دراصل مرد ھی ھے۔ اگر مرد اپنی ذمہ داری سے آگاہ ھو جائیں تو معاشرے سے ان برائیوں کا خاتمہ ھو جائے جو عورتوں کی بے مہاری کی وجہ سے پیدا ھوتی ہیں، لیکن ھوتا ایسا ھے جو مرد غیرت کا پیکر بنا ھوتا ھے، اس کی غیرت بھی ایسے موقعوں پر پتہ نہیں کہاں غائب ھو جاتی ھے۔
اکثر نے بس یہی بات رٹی ہوتی ھے، کون سا شادی روز روز ھو گی؟
اللہ تعالٰی ہمیں ان فالتو رسم و رواج سے بچنے کی اور سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین یارب العالمین۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/5615
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
میں نے باہر آکر دیکھا وہ صحن کے بیچ چارپائی پر بیٹھی خود سے باتیں کر رہی تھی. وہاں کوئی بھی نہ تھا. میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی, وہ خدا سے میری شکایت کر رہی تھی, وہ اس لمحے مجھے کوئی اور ہی مخلوق لگی. وہ بہت کم بولتی تھی لیکن وہ کس کے ساتھ اتنا بولتی تھی, آج مجھے سمجھ آیا تھا. وہ تو بہت بڑے باپ کی بیٹی تھی. کیسی عورت تھی جو افلاس کے ہوتے بھی خدا شناس تھی, میرا جسم خوف سے کانپ رہا تھا.
دن چڑھتے ہی میں نے سامان باندھا اور اسے اسکے گھر چھوڑ آیا، سسر نے طلاق کی وجہ پوچھی تو میں ڈرتے ہوئے کہنے لگا.
" یہ بڑی خطرناک عورت ہے، بڑے دربار میں میری شکایتیں لگاتی ہے. مجھے ڈر ہے کہ بادشاہ کو کسی دن تاو آگیا تو میرا حشر نہ کردے" - حقیقت یہ تھی کہ میں اس کیساتھ انصاف نہیں کرسکا تھا.
اس کا باپ گھر کی دہلیز پر کھڑا تھا. میرے پلٹنے پر کہنے لگا "میں نے تمہیں کہا بھی تھا کہ اسے دنیاداری نہیں آتی، وہ تو بس 'سائیں' کو خوش رکھنا جانتی ہے" , اس کی مراد خدا سے تھی اور میں خود کو سمجھا تھا.
جب میں واپس گھر آیا تو مجھ پر انکشاف ہوا کہ رات اس نے یہی تو مانگا تھا." تو خود مجھے روٹی دے، تیرا نائب تو خائن نکلا", اور آج نان نفقے کا اختیار مجھ سے چھین لیا گیا.
میں بے تحاشہ رویا، اس کا سائیں بہت بڑا تھا، اس کی رسائی جس تک تھی وہ تو دو جہانوں کا رب تھا. وہ جس کی ایک روٹی مجھ پر بھاری تھی وہ اس کے لئے کیا نہیں کر سکتا تھا. میں واقعی ڈر گیا تھا. میں آج بھی ڈرتا ہوں کہیں میرے حق میں اس نے کوئی بددعا نہ کر دی ہو.
ٹھیک کہتے ہیں لوگ!! کہاں میں کہاں وہ؟؟ "بوڑھی آنکھوں میں نمی اتری تھی.
"میں کور چشم اسے پہچان نہ سکا، میں نہیں ڈرتا تھا، حالانکہ ڈرنا چاہیئے تھا ،اس کے سائیں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو۔“
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/5629
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🔷 خیانت کار نائب 🔷
سنا ہے جس عورت سے آپکی شادی ہوئی تھی وہ بڑی خطرناک عورت تھی، اور آپ نے ڈر کے مارے اسے طلاق دے دی تھی۔ برگد کے درخت کے نیچے کرسی پر بیٹھے ایک خاموش طبع بوڑھے سے ایک منچلے نے استہزائیہ کہا.
"اللہ بخشے اسے، بہت اچھی عورت تھی" بنا ناراض ہوئے، بغیر غصہ کئے بابا جی کی طرف سے ایک مطمئن جواب آیا۔
ایک نوجوان نے ذرا اونچی آواز میں کہا "لیکن بابا جی لوگ کہتے ہیں وہ بڑی خطرناک عورت تھی. بابا جی کچھ دیر خاموش رہے پھر کہنے لگے.
"کہتے تو ٹھیک ہی ہیں، وہ واقعی بہت خطرناک تھی اور حقیقتاً میں نے ڈر کے مارے اسے طلاق دی تھی".
"یہ بات تو مردانگی کے خلاف ہے، عورت سے ڈرنا کہاں کی بہادری ہے؟ "نوجوان جوشیلے انداز میں بولا...
"میں عورت سے نہیں ڈرتا تھا، میں تو 'اس' سے ڈرتا تھا جس تک اس کی رسائی تھی" پرسکون جواب...
جوانوں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا.
ایسی عورتوں کو تو جہنم میں ہونا چاہیئے... لا حول ولا قوہ.. کہاں آپ جیسا شریف النفس آدمی کہاں وہ عورت؟ اچھا کیا چھوڑ دیا" نوجوان کے لہجے میں غصہ تھا.
بوڑھے کی متجسس زندگی کا پٹارا کھل کر سامنے آگیا تھا. تجسس ختم ہوا، اب سب باری باری منتشر ہونے لگے. جانے والوں نے عنوان پڑھ لیا تھا، کہانی خود بنانی تھی, جو رہ گئے تھے وہ وہی تھے جو اصل کہانی جاننا چاہتے تھے-
"میں بھی ایسا ہی سوچتا تھا کہ اسے جہنم میں ہی ہونا چاہیئے تھا، تب ہی میں نے اسے جہنم جیسی زندگی دی تھی" بوڑھی آنکھوں میں اضطراب اترا.
یہ تب کی بات ہے جب میں سرکار کے ہاں ایک روپیہ ماہوار پر ملازم ہوا، میری ماں چاہتی تھی کہ میری شادی ہوجائے. رشتہ ڈھونڈا گیا، ایک مونگ پھلی فروش کی بیٹی میری ماں کو پسند آئی, سلیقہ مند، خوبصورت اور ایک دم خاموش طبع. مجھے اس رشتے پر اعتراض تھا کہ وہ ایک مونگ پھلی بیچنے والی کی بیٹی تھی. مزدور کی اولاد کو پیٹ کی فکر رہتی ہے، تربیت کی نہیں، تربیت بڑے گھرانوں میں کی جاتی ہے جہاں افلاس آنکھوں کے روشنی چھیننے سے قاصر ہوتا ہے. وہ کیا تربیت دے گی میری اولاد کو؟ لیکن وہ لڑکی میری ماں کو ایسی پسند تھی کہ اماں اس کے علاوہ کسی کا نام نہیں سننا چاہتی تھیں.
پھر وہ بیاہ کر میرے گھر آگئی، رخصتی کے وقت اس کے باپ نے مجھے کہا "میری بیٹی سیدھی سادھی ہے، اسے دنیاداری کا کوئی خاص پتا نہیں، اگر کہیں کوئی چوک ہو جائے تو معاف کر دینا، یوں ہے بڑے دل والی، اپنے *سائیں* کو خوش رکھے گی", وہ بالکل ویسی ہی تھی جیسی میری ماں نے بتایا تھا. سلیقہ مند، سگھڑ اور تابعدار."
"باہر دوستوں کے ساتھ میری صحبت کوئی اچھی نہیں تھی، ملازمت کے اوقات میں کھانا گھر سے باہر کھاتا، دوستوں میں بیٹھتا ،رات گئے تک محفل چلتی پھر گھر جاتا. وہ کیا کھاتی کیا پیتی کس حال میں رہتی تھی مجھے کوئی پرواہ نہیں تھی. انہی دنوں میری ماں بھی دنیا سے رخصت ہوگئی تھی.
ایک روز میں جوئے میں بھاری رقم ہار کر جب تھکا ہارا گھر آیا تو کہنے لگی "آپ تو کھانا باہر کھالیتے ہیں، مجھے بھوک لگتی ہے، ہو سکے توایک ہی بار مہینے کا راشن ڈلوا دیا کیجیئے، روز روز بازار سےخریداری کی صعوبت نہیں اٹھانی پڑے گی"- کیا؟ اس مونگ پھلی بیچنے والے کی بیٹی کی اتنی اوقات کہ مجھ سے مطالبہ کرسکے- مجھے طیش آیا.
"ہو ناں تم کسی بہت بڑے باپ کی بیٹی کہ تمہیں پورے مہینے کا راشن اور خرچ چاہیئے, اپنی اوقات دیکھی ہے؟ "غصے میں آکر اس پر ہاتھ اٹھایا اور مغلظات بھی بکے. میں یہ نہیں سوچ سکا کہ آخر اسے زندہ رہنے کے لئے روٹی تو ہر حال میں چاہیئے تھی!
وہ جسمانی اعتبار سے کافی کمزور تھی، مار برداشت نہیں کر سکتی تھی, پشیمانی تھی یا کیا وہ دو دن تک بستر پر پڑی رہی. مجھے اسکی بھی کوئی پرواہ نہیں تھی.
پھر اس نے گھر میں ہی سینا پرونا شروع کر دیا، ہاتھ کا ہنر اس کے کام آیا، یوں اسکی روٹی کا انتظام ہوگیا اور میں یہ سوچ کر پہلے سے بھی بےپرواہ ہوگیا.
ایک روز ایک ہمسائے نے مجھے روک کر کہا "دن میں جب آپ گھر نہیں ہوتے تو آپ کے گھر سے باتوں کی آوازیں آتی ہیں", میرے سوا میری غیر موجودگی میں کون آتا تھا جس سے وہ اتنی آواز میں باتیں کرتی تھی؟ غصہ حد سے سوا تھا، بس نہ چلتا تھا کہ اسے جان سے مار دوں، لیکن میں بس ایک موقع کی طاق میں تھا.
ایک رات پچھلے پہر کسی کے بولنے کی آواز پر میری آنکھ کھلی، چاندی رات میں صحن میں پڑی ہر شے بالکل واضح طور پر دکھائی دیتی تھی، میں اٹھ کر دروازے تک آیا. اب آواز زیادہ واضح تھی. وہ کہہ رہی تھی:
"سائیں! صبح ایک روٹی کے لئے آٹا گھر میں موجود ہے، وہ ایک روٹی کھا کر چلا جائے گا، یہ سوچے بنا کہ میں سارا دن بھوکی رہوں گی, میری روٹی جب تک تیرے ذمے تھی تو عزت سے ملتی تھی، جب تو نے اپنے نائب کے ہاتھ دی تو روٹی کیساتھ بےعزتی اور اذیت بھی ملنے لگی، مجھے اب روٹی تو ہی دے...تیرا بنایا نائب تو خائن نکلا" وہ میری شکایت کر رہی تھی؟ لیکن کس سے؟ کون تھا جو اسے روٹی دیتا تھا مجھ سے بھی پہلے؟؟؟
1 278
🌺 السلام عليكم ورحمةاللہ وبرکاتہ
🌹 خوش آمدید ۔۔۔
🌹 خوش رہیئے ۔۔۔
امریکہ میں جب ایک قیدی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تو وہاں کے کچھ سائنس دانوں نے سوچا کہ کیوں نا اس قیدی پر کچھ تجربہ کیا جاے....
تب قیدی کو بتایا گیا کہ ہم تمہیں پھانسی دے کر نہیں ماریں گے بلکہ زہریلا کوبرا سانپ ڈسا کر ماریں گے...
اور اس کے سامنے بڑا سا زہریلا کوبرا سانپ لے آنے کے بعد اس کی آنکھیں بند کر کے اس کو کرسی سے باندھ دیا گیا.اور اس کو سانپ نہیں بلکہ دو سیفٹی پِن چبھائی گئیں..... تو قیدی کی کچھ سیکنڈ میں ہی موت واقع ہو گئی..
پوسٹ مارٹم کے بعد پایا گیا کہ قیدی کے جسم میں سانپ کے زہر جیسا ہی زہر ہے...
اب یہ زہر کہاں سے آیا.؟ جس نے اس قیدی کی جان لے لی...
وہ زہر اس کے جسم نے ہی صدمے میں جاری کیا تھا...
ہمارے ہر عمل سے مثبت یا منفی توانائی بنتی ہے اور وہ ہمارے جسم میں اسی کے مطابق ہارمونس تیار کرتی ہے...
بہت سی بیماریوں کی وجہ منفی سوچ ہی ہوا کرتی ہے.... آج انسان خود ہی اپنی منفی سوچ سے خود کو ختم کر رہا ہے.. اپنی سوچ ہمیشہ مثبت رکھیں اور سدا خوش رہیں..
25 سال کی عمر تک ہمیں یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ لوگ کیا سوچیں گے..
50 سال کی عمر تک اسی ڈر میں جیتے ہیں کہ لوگ کیا سوچیں گے..
50 سال کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ہمارے بارے میں کوئی سوچ ہی نہیں رہا تھا...
زندگی خوبصورت ہے... اس لیے ہمیشہ خوش رہیں...
یاد رکھیں!
صبر، شکر اور قناعت ایک عینک ہے. اگر آپ یہ عینک لگا لیں تو دنیا بڑی خوبصورت نظر آئے گی اور آپ ہمیشہ خوش و خرم رہیں گے.
🌷کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ....
زندگی میں ہمیشہ ریاضی کی طرح رہو.
دوستوں کو جمع کرو،
دشمنوں کو تفریق کرو،
خوشی کو ضرب دو،
پیار کو تقسیم کرو.
اور ہمیشہ مسکراتے رہو.❤️❤️❤
🔹 لوگ کہتے ہیں کہ زندگی میں یہ ضروری ہے اور وہ ضروری ہے___ میں تمہیں بتاؤں، زندگی میں کچھ بھی ضروری نہیں ہوتا نہ مال، نہ اولاد، نہ رتبہ، نہ لوگوں کی محبت… بس آپ ہونے چاہئیں اورآپ کا الله سے ہر ایک پل بڑھتا تعلق ہونا چاہیے. باقی یہ مسئلے تو کسی بادل کی طرح ہوتے ہیں...
جہاز کی کھڑکی سے کبھی نیچے تیرتا کوئی بادل دیکھا ہے؟ اوپر سے دیکھو تو وہ کتنا بے ضرر لگتا ہے مگر جو اس بادل تلے کھڑا ہوتا ہے نا‘ اس کا پورا آسمان بادل ڈھانپ لیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ روشنی ختم ہوگئی، اور دنیا تاریک ہوگئی...غم بھی ایسے ہوتے ہیں- جب زندگی پہ چھا جاتے ہیں تو سب تاریک لگتا ہے‘ لیکن اگر آپ اس زمین سے اوپر اٹھ کر آسمانوں سے پورا منظر دیکھو تو جانو کہ یہ تو ایک ننھا سا ٹکڑا ہے جو ابھی ہٹ جائے گا… اگر یہ سیاہ بادل زندگی پہ نہ چھائیں نا! تو ہماری زندگی میں کبھی رحمت کی بارش نہ ہو…!!
🌹مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
اپنے دل کو ماضی کے غموں میں مشغول نہ کرو کہ آئندہ کی تیاری سے محروم رہ جاؤ گے.
(غررالحکم، ص:289)
ہم نے ٹیلی گرام کے بعد اب وٹس ایپ پر بھی آپ کی حس مزاح کی تسکین کے لئے فنی چینل کا آغاز کیا ہے. جس کا نام مسکراہٹیں رکھا ہے.
اس چینل میں اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے زندگی گزارنے کے چٹکلے، لطیفے، مزاحیہ کلپس، ہارر کلپس اور بہت خوبصورت میسجز بھیجے جائیں گے.
حس مزاح کی تسکین کے لئے اس چینل کو ضرور فالو کیجئے اور اپنے دوست احباب سے بھی ضرور لنک شیئر کیجئے.
آخر میں ایک دعا....
🔷 دل دے، تو اس مزاج کا پروردگار دے.
جو رنج کی گهڑی بھی خوشی سےگزار دے.
وٹس ایپ چینل لنک
https://whatsapp.com/channel/0029Vaw4bTk2UPBEwLGzV62m
ٹیلی گرام گروپ لنک۔۔۔
https://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
1 278
💐 السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ
🌹 خوش آمدید
🌺 جب بھی دین اور دنیا کا جھگڑا ہو تو دین کو ترجیح دیجئے۔۔۔
وٹس ایپ پر بھی اسلام ود ایمان کے نام سے اسلامی چینل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یقینا آپ کو پسند آئے گا۔ خود بھی فالو کیجئے اور اپنے دوست احباب سے بھی ضرور لنک شیئر کیجئے۔ جزاکم اللہ خیرا
*اسلام اور ایمان*
🕯 *"ایمان کا مطلب جان کر اقرار کرنا اور عمل کرنا ہے جبکہ عمل کے بغیر اقرار اسلام کہلاتا ہے۔"*
🕌 *امام جعفر صادق (علیہ السلام)*
📕 *(الکافی، ج ۲، ص ۲۴)*
✅ *اس چینل میں ۔۔*
🔻 *اصلاحی کہانیاں و واقعات*
🔻 *اسلامی تعلیمات*
🔻 *عقائد و فقہ*
🔻 *احادیث و فرامین*
🔻 *اعمال و دعائیں*
🔻 *اور آپ کے لئے مفید ترین معلومات*
https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
