fa
Feedback

فریب کلاهبرداران را نخورید! تل‌متریو این کانال‌ها را شناسایی و برچسب‌گذاری می‌کند 👉 برای مشاهده برچسب، اشتراک تهیه کنید

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

رفتن به کانال در Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

نمایش بیشتر
1 285
مشترکین
-124 ساعت
-37 روز
-730 روز
آرشیو پست ها
تندرستی حاصل کرنے کا طریقہ
تندرستی حاصل کرنے کا طریقہ

امام علی علیہ السلام کے گزارا کرنے کا طریقہ
امام علی علیہ السلام کے گزارا کرنے کا طریقہ

انسان بے صبرا اور لالچی ہے
انسان بے صبرا اور لالچی ہے

🔷 دیسی مرغی کا گوشت 🔷 دیسی مرغی اعصابی قوت بڑھائے، وزن کم کرے دیسی مرغی کے فوائد: دیسی مرغی کے فوائد بے شمار ہیں۔ کچھ فوائد یہاں درج کیے جا رہے ہیں۔ گوشت کی اعلٰی قسم: دیسی مرغی کا گوشت عام فارمی مرغی کے گوشت سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دیسی مرغی قدرتی خوراک سے نشونما پاتی ہے۔ جس سے انھیں زیادہ پروٹین اور منرلز حاصل ہوتے ہیں۔ زیادہ اچھا ذائقہ: دیسی مرغی کا ذائقہ عام مرغی سے کہیں زیادہ اچھا ہوتا ہے ۔ دیسی انداز سے پالی گئی مرغی کا گوشت زیادہ دیر تک پکانا پڑتا ہے ۔ اس کا ذائقہ بہت عمدہ ہوتا ہے اور کھانے والا فارمی مرغی کے گوشت پر دیسی مرغی کو ترجیح دیتا ہے۔ چکنائی کی کمی : دیسی مرغی کھلی فضا میں پرورش پاتی ہے ۔ وہ آزاد انہ ادھر ادھر گھوم کر خوراک حاصل کرتی ہے ۔ اس لیے دیسی مرغی فارمی مرغی کے مقابلے میں کم چکنی ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اسے کم تیل میں پکایا جائے۔ اس طرح کم چکنائی والا یہ گوشت زیادہ پروٹین فراہم کرتا ہے۔ ٹوکسن کی کمی : فارم میں بنائی جانے والی مرغی میں اکثر ہارمونز ، اینٹی بائیوٹک اور کیڑے مار دواؤں کے اثرات بھی موجود ہوتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں صحت کے لیے مضر ہیں۔ ان مرغیوں کو دی جانے والی غذا کی تیاری میں کیڑے مار دوا اور دوسرے کیمیکلز کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بعض کیڑے مار دوائیں کینسر، جلد کی سوزش ، ڈپریشن اور ہارمونز کو غیر متوازن بنانے کا باعث بنتی ہیں۔ کیونکہ دیسی مرغی کو یہ غذائیں نہیں دی جاتیں اس لیے ان میں کسی طرح کے بھی مضر اثرات نہیں پائے جاتے۔ ذہنی دباؤ سے پاک: پنجرے میں بند فارمی مرغیوں کا گوشت انسان میں ذہنی دباؤ اور الجھن کی کیفیات پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے جو بڑھ کر بیماری کی شکل اختیار کرلیتی ہے ۔ اس کے برعکس کھلی فضا میں آزادانہ گھومنے والی مرغی کے گوشت کو استعمال کرنے سے اس طرح کی ذہنی پریشانی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ دیسی مرغی کے استعمال سے درج ذیل فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ ۔ قوت مدافعت بڑھتی ہے۔ ۔ نظام ہضم بہتر ہوتا ہے ۔ ۔ پروٹین استعمال کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔ ْ۔ پیٹ کے السر، ٹی بی، شوگر، انفیکشن والی بیماریوں اور کینسر کے علاج میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ ۔ اس کی یخنی سردی ، نزلہ ، زکام اور فلو کے لیے نہایت مفید ہے اور فوری آرام کا باعث بنتی ہے۔ ۔ ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 پانی ضائع نہ کریں 🔷 کبھی آپ نے کسی انگلش فلم میں ایسا سین دیکھا ہے جس میں ایکٹر باتھ روم میں ٹوتھ برش کررہا ہے؟ آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ دانتوں میں برش کرتے وقت بیسن کا پانی بند ہوتا ہے جبکہ دانت صاف کرنے کیلئے اس کے پاس ایک چھوٹا سا گلاس رکھا ہوگا جس میں وہ پانی بھر کر کلی کرتا ہے۔ اسی طرح جب کچن میں برتن دھوئے جاتے ہیں تو سنک کا ڈرینج فلو بند کرکے اس میں پانی بھر لیا جاتا ہے، پھر اس پانی میں برتن دھوئے جاتے ہیں۔ یہ پریکٹس تقریباً تمام مغربی ممالک میں یکساں پائی جاتی ہے۔ چاہے کوئی امیر ہو یا غریب، وہ پانی ضائع نہیں کرتا۔ دوسری طرف پاکستان میں جب ہم دانتوں میں برش کررہے ہوتے ہیں تو اس دوران واش بیسن کا نلکا مکمل کھلا ہوتا ہے اور پانی سیدھا نالی میں جارہا ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ برتن دھوتے وقت بھی یہی کچھ کیا جاتا ہے، نلکا پورا کھلا ہوتا ہے اور پانی مسلسل نالی میں جارہا ہوتا ہے۔ ۔ ۔ اور تو اور، وضو جیسا اہم ترین رکن ادا کرتے وقت بھی ہم کئی گیلن پانی نالی میں بہا دیتے ہیں۔ چونکہ پاکستان میں عام طور پانی انتہائی ارزاں چیز سمجھی جاتی ہے، اسلئے ہم دل کھول کر اسے ضائع کرتے ہیں، باوجود اس کے کہ ہمارے پاس نہ تو مغربی ممالک جتنے وسائل ہیں اور نہ ہی پانی کے بحران سے نمٹنے کی صلاحیت۔ اس رویئے کی کیا وجوہات ہیں؟ تعلیم کی کمی کو ہم موردالزام نہیں ٹھہرا سکتے کیونکہ یہ رویہ آپ کو ڈاکٹرز، انجینئرز اور ایم اے پاس لوگوں کے ہاں بھی ملے گا۔ دین سے دوری بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ سب سے زیادہ پانی کا ضیاع مساجد میں ہی ہوتا ہے۔ اسے ہم مجموعی معاشرتی جہالت کہیں یا ضد ، جو ہمیں اپنی سال ہا سال پرانی روش ترک کرنے سے روکے رکھتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں اپنی کوئی خراب عادت اس لئے نہیں بدلنی چاہیئے کیونکہ دوسروں نے نہیں بدلی۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

حافظہ کی تقویت کی دعا
حافظہ کی تقویت کی دعا

سخی بنو
سخی بنو

photo content

‏یہ ایک پوری تہذیبی واردات تھی جو اس سماج پر مسلط کی گئی۔چونکہ اہم مناصب پر پھر یہی ‏’مقامی جنٹل مین‘ فائز ہوئے اور نو آبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد یہی افسر شاہی ہمیں ورثے میں ملی اور کسی نے اس سماجی واردات پرنظر ثانی کی ضرورت محسوس نہیں کی اس لیے یہ ’مقامی جنٹل مین‘ آج بھی ’ انگریزی آداب‘ سے سماج کی پشت لال اور ہری کیے ہوئے ہیں۔ ‏اس جنٹل مینی کے خلاف پہلی آواز دلی سے اٹھی۔ لعل گوردیج نامی ایک مداری دلی کے چوراہے میں بندر لے کر آتا اور ڈگڈگی بجا کر اسے کہتا : جنٹل مین بن کے دکھا۔لعل گوردیج کا بندر ہیٹ لگاتا ، چشمہ پہنتا اور پورا ’ جنٹل مین‘ بن جاتا۔ بندر اور مداری دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔مقامی جنٹل مین ناراض ہو گئے۔ (دل چسپ بات یہ ہے کہ بندر نچانے والے آج بھی بندر نچاتے وقت یہ مطالبہ ضرور کرتے ہیں کہ جنٹل مین بن کے دکھا۔ شاید اسی لیے انگریز نے ان کا شمار ’مجرم قبیلوں‘ میں کیا ہوا تھا) کبھی کبھی جب دن ڈھل رہا ہوتا ہے، مارگلہ سے اترتا ہوں تو یوں لگتا ہے جنگل سے بندر شور مچا مچا کر کہہ رہے ہوں: ‏’’جنٹل مین بن کر تو دکھاؤ‘‘۔ ‏پہاڑ سے اترتا ہوں تو دیکھتا ہوں سارا ہی شہر جنٹل مین بنا ہوتا ہے۔ اسلام اور انسان ✍️🥀✍️ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 انداز غلامانہ 🔷 پانچویں کے بعد ہائی سکول میں داخلہ لیا تو انگریزی پڑھنی شروع کی۔ ایک دن چھٹی کی درخواست لکھواتے ہوئے استاد یوسف صاحب نے I beg to say لکھوایا تو ہاتھ پتھر کے ہو گئے۔ دل نے آواز دی کہ چھٹی کوئی دے یا نہ دے لیکن یہ بھیک نہیں مانگی جا سکتی کہ ‏ I beg to say ‏ابھی دماغ میں Beg کی ذلت کا احساس ختم نہیں ہوا تھا درخواست ختم بھی ہو گئی۔ اب کی بار درخواست کے اختتام پر استاد جی نے لکھوایا ‏Your obedient servant ‏اب تو کنپٹیاں ہی سلگ اٹھیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں خود کو کسی کا تابع فرمان قسم کا نوکر قرار دے دوں؟ ‏وکالت کے شعبے میں آیا تو یہاں بھی وہی تذلیل دیکھی جو انصاف مانگنے آتا تھا اسے سائل کہا جاتا تھا۔ سائل ہماری عدالتوں اور کچہری میں ہمیشہ عرض گزار ہی پایا گیا، انصاف مانگا نہیں جا سکتا تھا۔ سائل یہ مطالبہ نہیں کر سکتا تھا کہ انصاف دیا جائے، مگر ہاں وہ Prayer یعنی التجا اور درخواست پیش کر سکتا تھا ‏میں بیٹھ کر سوچتا کہ اگر عدالت بنی ہی انصاف دینے کے لیے ہے اور اگر اللہ کا حکم ہے کہ انصاف کرو یہ تقوی کے قریب تر ہے تو پھر اس بنیادی انسانی حق کے حصول کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جاتا، گڑگڑاتے لہجوں میں مسکینی طاری کر کے Prayer کیوں کی جا تی ہے بلکہ باوقار طریقے سے ڈیمانڈ کیوں نہیں کی جاتی ‏بہت بعد میں پتہ چلا کہ یہ سب اتفاق نہیں ہے بلکہ یہ برطانوی دور غلامی میں سکھائے گئے غلامی کے وہ آداب ہیں جو ہمارے لہو میں دوڑ رہے ہیں۔ انگریز لکھاریوں نے ہمیں آداب غلامی سکھانے کے لیے باقاعدہ کتابیں لکھیں، ان میں سے ایک کتاب ڈبلیو ٹی ویب نے لکھی جس کا عنوان ہے ‏English etiquette for Indian gentlemen یہ کتاب کم اور غلامی کی دستاویز زیادہ ہے اس میں ایک ایک کر کے مقامی لوگوں کو بتایا گیا کہ اب ان کا دور نہیں رہا، ان کی تہذیب بھی پرانی ہو چکی۔ نئے آقا اب جو چاہتے ہیں انہیں اسی تہذیب کو اپنانا ہو گا ‏ڈبلیو ٹی ویب کی اس کتاب میں بعض مقامات پر واضح طور پر آداب غلامی سکھائے گئے ہیں ‏تفصیل سے بتایا گیا ہے انگریز کے حضور حاضر ہونے کے آداب کیا ہیں، اس سے ملنے کے آداب کیا ہیں، اس سے مخاطب کیسے ہونا ہے۔ مقامی یعنی ہندوستانی ڈیزائن کے جوتے پہن کر جانا ہے تو جوتے باہر برآمدے میں اتار کر اندر حاضر ہونا ہے، ایسے جوتے پہن کر انگریز کے حضور حاضر ہونا اس کی توہین ہے ‏خبردار سلام کے لیے اس وقت تک ہاتھ نہ بڑھایا جائے جب تک صاحب یا میم خود تمہیں اس قابل نہ سمجھیں ‏کسی انگریز کو صرف اس کے نام سے نہیں پکارنا القابات لگانا ضروری ہے، کسی یورپی سے سر راہ ملاقات ہو جائے تو ادب کے تقاضے کیسے پورے کرنے ہیں اور ان میں سے کسی کو مدعو کرنا ہے تو میزبانی کے آداب کیا ہوں گے، وغیرہ وغیرہ ‏مقامی تہذیب کو مکمل طور پر قصہ پارینہ قرار دیتے ہوئے سونے سے جاگنے تک اور جاگنے سے سونے تک، ہر معاملے اور ہر لمحے میں انگریزی طور طریقے سکھائے گئے ہیں۔ کھانا کیسے کھانا ہے۔ چھری کانٹا کیسے استعمال کرنا ہے۔ ہاتھ سے کھانا ایک برائی ہے خبردار جو کسی جنٹل مین نے گوشت ہاتھ سے کھایا ‏انگریزوں کی حساسیت کا خیال رکھنے کا بار بار “حکم” دیا گیا ہے لیکن مقامی لوگوں سے کہا گیا ہے کہ تمہاری بے عزتی ہو جائے تو برا نہ مانا کرو ‏اور ہاں اگر تم معزز بننا چاہتے ہوں تو شادی کے دعوت ناموں میں چشم براہ جیسی فضولیات کی جگہ RSVP لکھا کرو۔ انگریز کو یہاں سے گئے آج پون صدی ہو گئی ہے لیکن ہمارے شادی کے دعوت ناموں سے RSVP ختم نہیں ہو سکا ہم آج بھی ایسٹ انڈیا کمپنی کے معززین بننے کے چکروں میں ہیں ‏مقامی تہذیب و اقدار کی تذلیل پر مشتمل عمومی “ادب و آداب” کے بیان میں اگر کوئی کسر رہ گئی تھی کتاب کے آخر میں درخواست لکھنے کے آداب‘ لکھ کر کے پوری کر دی گئی۔ باب نمبر گیارہ میں بتایا گیا ہے کہ درخواست، پیٹیشن وغیرہ کیسے لکھی جائیں اور ساتھ ہی نمونے کے طور پر کچھ درخواستوں اور پیٹیشنز لکھی گئی ہیں کہ ان کو دیکھ کر ’مقامی جنٹل مین‘ رہنمائی حاصل کریں۔ ‏ان تمام درخواستوں میں چند چیزیں اہتمام سے بتائی گئی ہیں ‏اول: ‏درخواست کی شروعات، جو انتہائی غلامانہ، فدویانہ اور ذلت آمیز انداز سے کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر I beg to say کا انداز سکول کے بچوں کی درخواست سے لے کر سرکاری عرضیوں تک ہر جگہ استعمال کیا گیا ہے تا کہ سکولوں سے ہی بچے یہ سیکھ لیں کہ کہ آداب غلامی کیا ہوتے ہیں اور کیسے ایک دن کی چھٹی کی درخواست کا آغاز بھی Beg سے ہوتا ہے ‏دوم: ‏ہر درخواست کے آخر پر Your servant،Your most obedient servant، جیسے الفاظ لکھے گئے تھے تا کہ مقامی لوگوں کو یہ معلوم ہو رہے کہ انکی اوقات نوکر اور رعیت سے زیادہ نہیں

‏یہ ایک پوری تہذیبی واردات تھی جو اس سماج پر مسلط کی گئی۔چونکہ اہم مناصب پر پھر یہی ‏’مقامی جنٹل مین‘ فائز ہوئے اور نو آبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد یہی افسر شاہی ہمیں ورثے میں ملی اور کسی نے اس سماجی واردات پرنظر ثانی کی ضرورت محسوس نہیں کی اس لیے یہ ’مقامی جنٹل مین‘ آج بھی ’ انگریزی آداب‘ سے سماج کی پشت لال اور ہری کیے ہوئے ہیں۔ ‏اس جنٹل مینی کے خلاف پہلی آواز دلی سے اٹھی۔ لعل گوردیج نامی ایک مداری دلی کے چوراہے میں بندر لے کر آتا اور ڈگڈگی بجا کر اسے کہتا : جنٹل مین بن کے دکھا۔لعل گوردیج کا بندر ہیٹ لگاتا ، چشمہ پہنتا اور پورا ’ جنٹل مین‘ بن جاتا۔ بندر اور مداری دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔مقامی جنٹل مین ناراض ہو گئے۔ (دل چسپ بات یہ ہے کہ بندر نچانے والے آج بھی بندر نچاتے وقت یہ مطالبہ ضرور کرتے ہیں کہ جنٹل مین بن کے دکھا۔ شاید اسی لیے انگریز نے ان کا شمار ’مجرم قبیلوں‘ میں کیا ہوا تھا) کبھی کبھی جب دن ڈھل رہا ہوتا ہے، مارگلہ سے اترتا ہوں تو یوں لگتا ہے جنگل سے بندر شور مچا مچا کر کہہ رہے ہوں: ‏’’جنٹل مین بن کر تو دکھاؤ‘‘۔ ‏پہاڑ سے اترتا ہوں تو دیکھتا ہوں سارا ہی شہر جنٹل مین بنا ہوتا ہے۔ اسلام اور انسان ✍️🥀✍️ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 انداز غلامانہ 🔷 پانچویں کے بعد ہائی سکول میں داخلہ لیا تو انگریزی پڑھنی شروع کی۔ ایک دن چھٹی کی درخواست لکھواتے ہوئے استاد یوسف صاحب نے I beg to say لکھوایا تو ہاتھ پتھر کے ہو گئے۔ دل نے آواز دی کہ چھٹی کوئی دے یا نہ دے لیکن یہ بھیک نہیں مانگی جا سکتی کہ ‏ I beg to say ‏ابھی دماغ میں Beg کی ذلت کا احساس ختم نہیں ہوا تھا درخواست ختم بھی ہو گئی۔ اب کی بار درخواست کے اختتام پر استاد جی نے لکھوایا ‏Your obedient servant ‏اب تو کنپٹیاں ہی سلگ اٹھیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں خود کو کسی کا تابع فرمان قسم کا نوکر قرار دے دوں؟ ‏وکالت کے شعبے میں آیا تو یہاں بھی وہی تذلیل دیکھی جو انصاف مانگنے آتا تھا اسے سائل کہا جاتا تھا۔ سائل ہماری عدالتوں اور کچہری میں ہمیشہ عرض گزار ہی پایا گیا، انصاف مانگا نہیں جا سکتا تھا۔ سائل یہ مطالبہ نہیں کر سکتا تھا کہ انصاف دیا جائے، مگر ہاں وہ Prayer یعنی التجا اور درخواست پیش کر سکتا تھا ‏میں بیٹھ کر سوچتا کہ اگر عدالت بنی ہی انصاف دینے کے لیے ہے اور اگر اللہ کا حکم ہے کہ انصاف کرو یہ تقوی کے قریب تر ہے تو پھر اس بنیادی انسانی حق کے حصول کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جاتا، گڑگڑاتے لہجوں میں مسکینی طاری کر کے Prayer کیوں کی جا تی ہے بلکہ باوقار طریقے سے ڈیمانڈ کیوں نہیں کی جاتی ‏بہت بعد میں پتہ چلا کہ یہ سب اتفاق نہیں ہے بلکہ یہ برطانوی دور غلامی میں سکھائے گئے غلامی کے وہ آداب ہیں جو ہمارے لہو میں دوڑ رہے ہیں۔ انگریز لکھاریوں نے ہمیں آداب غلامی سکھانے کے لیے باقاعدہ کتابیں لکھیں، ان میں سے ایک کتاب ڈبلیو ٹی ویب نے لکھی جس کا عنوان ہے ‏English etiquette for Indian gentlemen یہ کتاب کم اور غلامی کی دستاویز زیادہ ہے اس میں ایک ایک کر کے مقامی لوگوں کو بتایا گیا کہ اب ان کا دور نہیں رہا، ان کی تہذیب بھی پرانی ہو چکی۔ نئے آقا اب جو چاہتے ہیں انہیں اسی تہذیب کو اپنانا ہو گا ‏ڈبلیو ٹی ویب کی اس کتاب میں بعض مقامات پر واضح طور پر آداب غلامی سکھائے گئے ہیں ‏تفصیل سے بتایا گیا ہے انگریز کے حضور حاضر ہونے کے آداب کیا ہیں، اس سے ملنے کے آداب کیا ہیں، اس سے مخاطب کیسے ہونا ہے۔ مقامی یعنی ہندوستانی ڈیزائن کے جوتے پہن کر جانا ہے تو جوتے باہر برآمدے میں اتار کر اندر حاضر ہونا ہے، ایسے جوتے پہن کر انگریز کے حضور حاضر ہونا اس کی توہین ہے ‏خبردار سلام کے لیے اس وقت تک ہاتھ نہ بڑھایا جائے جب تک صاحب یا میم خود تمہیں اس قابل نہ سمجھیں ‏کسی انگریز کو صرف اس کے نام سے نہیں پکارنا القابات لگانا ضروری ہے، کسی یورپی سے سر راہ ملاقات ہو جائے تو ادب کے تقاضے کیسے پورے کرنے ہیں اور ان میں سے کسی کو مدعو کرنا ہے تو میزبانی کے آداب کیا ہوں گے، وغیرہ وغیرہ ‏مقامی تہذیب کو مکمل طور پر قصہ پارینہ قرار دیتے ہوئے سونے سے جاگنے تک اور جاگنے سے سونے تک، ہر معاملے اور ہر لمحے میں انگریزی طور طریقے سکھائے گئے ہیں۔ کھانا کیسے کھانا ہے۔ چھری کانٹا کیسے استعمال کرنا ہے۔ ہاتھ سے کھانا ایک برائی ہے خبردار جو کسی جنٹل مین نے گوشت ہاتھ سے کھایا ‏انگریزوں کی حساسیت کا خیال رکھنے کا بار بار “حکم” دیا گیا ہے لیکن مقامی لوگوں سے کہا گیا ہے کہ تمہاری بے عزتی ہو جائے تو برا نہ مانا کرو ‏اور ہاں اگر تم معزز بننا چاہتے ہوں تو شادی کے دعوت ناموں میں چشم براہ جیسی فضولیات کی جگہ RSVP لکھا کرو۔ انگریز کو یہاں سے گئے آج پون صدی ہو گئی ہے لیکن ہمارے شادی کے دعوت ناموں سے RSVP ختم نہیں ہو سکا ہم آج بھی ایسٹ انڈیا کمپنی کے معززین بننے کے چکروں میں ہیں ‏مقامی تہذیب و اقدار کی تذلیل پر مشتمل عمومی “ادب و آداب” کے بیان میں اگر کوئی کسر رہ گئی تھی کتاب کے آخر میں درخواست لکھنے کے آداب‘ لکھ کر کے پوری کر دی گئی۔ باب نمبر گیارہ میں بتایا گیا ہے کہ درخواست، پیٹیشن وغیرہ کیسے لکھی جائیں اور ساتھ ہی نمونے کے طور پر کچھ درخواستوں اور پیٹیشنز لکھی گئی ہیں کہ ان کو دیکھ کر ’مقامی جنٹل مین‘ رہنمائی حاصل کریں۔ ‏ان تمام درخواستوں میں چند چیزیں اہتمام سے بتائی گئی ہیں ‏اول: ‏درخواست کی شروعات، جو انتہائی غلامانہ، فدویانہ اور ذلت آمیز انداز سے کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر I beg to say کا انداز سکول کے بچوں کی درخواست سے لے کر سرکاری عرضیوں تک ہر جگہ استعمال کیا گیا ہے تا کہ سکولوں سے ہی بچے یہ سیکھ لیں کہ کہ آداب غلامی کیا ہوتے ہیں اور کیسے ایک دن کی چھٹی کی درخواست کا آغاز بھی Beg سے ہوتا ہے ‏دوم: ‏ہر درخواست کے آخر پر Your servant،Your most obedient servant، جیسے الفاظ لکھے گئے تھے تا کہ مقامی لوگوں کو یہ معلوم ہو رہے کہ انکی اوقات نوکر اور رعیت سے زیادہ نہیں

🌹 سکون 🌹 ایک بہت خوبصورت واقعہ کسی صاحب سے سنا آپ کی نظر کرتا ہوں۔۔۔ وہ گرمیوں کی ایک تپتی دوپہر تھی کہ باہر بیل بجی تو میں نے جا کر دورازہ کھولا۔ سامنے میری ہی عمر کے ایک صاحب کھڑے تھے۔ انہوں نے نہایت مہذب انداز میں سلام کیا۔ ان کے چہرے پر داڑھی خوب سج رہی تھی۔ جی فرمایئے، میں نے پوچھا۔ آپ طاہر صاحب ہیں؟ ’’جی‘‘ میں نے مختصر جواب دیا۔ "وہ مجھے رفیق صاحب نے بھیجا ہے۔ غالباً آپ کو کرائے دار کی ضرورت ہے۔" ہاں ہاں۔۔۔! میں نے دفتر کے ایک ساتھی کو بتایا تھا کہ میں نے اپنے گھر کا اوپر والا پورشن کرائے پر دینا ہے اگر کوئی نیک اور چھوٹی سی فیملی اس کی نظر میں ہو تو بتائے۔ کیونکہ دفتر کی تنخواہ سے خرچے پورے نہیں ہوتے۔ اسے چھ ماہ کے لیے مکان کرائے پر چاہیے تھا۔ کیونکہ اپنا مکان وہ گرا کر دوبارہ تعمیر کروا رہے تھے۔ میں نے تین ہزار کرایہ بتایا۔ لیکن بات دو ہزار پر پکی ہو گئی۔ وہ چلا گیا تو مجھے افسوس ہونے لگا کہ کرایہ کچھ کم ہے۔ گو اوپر صرف ایک چھوٹا سا کمرہ، کچن اور باتھ روم تھا۔ مجھے اپنی بیوی کا دھڑکا لگا ہوا تھا کہ اسے معلوم ہو گا تو کتنا جھگڑا ہوگا۔ اور وہی ہوا۔ بقول اس کے دو ہزار تو صرف بچوں کی فیس ہے۔ مجھے اس نے کافی برا بھلا کہا اور میں چپ چاپ سنتا رہا، اور اپنی قسمت کو کوستا رہا ۔ میں نے ایم ایس سی بہت اچھے نمبروں سے کیا تھا۔ اس لیے فوراً نوکری مل گئی، نوکری ملی تو شادی بھی فوراً ہو گئی۔ میری بیوی بھی بہت پڑھی لکھی تھی۔ وہ بھی ایک انگریزی اسکول میں پڑھاتی تھی، ہمارے تین بچے تھے۔ مگر گزارا مشکل سے ہوتا تھا۔ اگلے ہی دن وہ صاحب اور ان کے بیوی بچے ہمارے گھر شفٹ ہوگئے۔ ان کی بیوی نے مکمل شرعی پردہ کیا ہوا تھا۔ دونوں بڑے بچے بہت ہی مہذب اور خوبصورت تھے۔ چھوٹا گود میں تھا۔ کچھ دنوں بعد ایک دن میں دفتر سے آیا تو میری بیوی نے بتایا کہ میں نے بچوں کو کرائے دار خاتون سے قرآن مجید پڑھنے کے لیے بھیج دیا ہے۔ اچھا پڑھاتی ہیں، ان کے اپنے بچے اتنی خوبصورت تلاوت کرتے ہیں۔ مزید کچھ دن بعد جب میں نے ان کے ایک بیٹے سے تلاوت سنی تو پہلی مرتبہ میرے دل میں خواہش ابھری کہ کاش ہمارے بچے بھی اتنا اچھا قرآن مجید پڑھیں۔ ایک دن میں باہر جانے لگا تو اپنی بیوی سے پوچھ ہی لیا کہ وہ پارلر جائے گی تو لیتا چلوں۔ کیونکہ پہلے تو مہینے میں تین چار مرتبہ پارلر جاتی تھی اور اس مہینے میں ایک بار بھی نہیں گئی تھی۔ اس نے جواب دیا کہ پارلر فضول خرچی ہے۔ جتنی خوبصورتی چہرے پر پانچ بار وضو کرنے، نماز اور تلاوت سے آتی ہے کسی چیز سے نہیں آتی۔ اگر زیادہ ضرورت ہو تو گھریلو استعمال کی چیزوں سے ہی چہرے پر نکھار رہتا ہے۔ ایک روز میں کیبل پر ڈرامہ دیکھ رہا تھا تو میرے چھوٹے بیٹے نے مجھے بغیر پوچھے ٹی وی بند کر دیا اور میرے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ "بابا یہ بیکار مشغلہ ہے۔ میں آپ کو اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک واقعہ سناؤں۔" مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن اپنے بیٹے کی زبانی جب واقعہ سنا تو میرا دل بھر آیا۔ یہ تمہیں کس نے بتایا، میں نے پوچھا۔ ہماری استانی محترمہ نے۔ وہ قرآن مجید پڑھانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کے متعلق بتاتی ہیں۔ اپنے گھر کی اور بیوی بچوں کی تیزی سے بدلتی حالت دیکھ کر میں حیران ہو رہا تھا کہ ایک روز بیوی نے کہا کہ کیبل کٹوا دیں۔ کوئی نہیں دیکھتا اور ویسے بھی فضول خرچی اور اوپر سے گناہ ہے۔ چند روز بعد بیوی نے شاپنگ پر جانے کو کہا تو میں بخوشی تیار ہو گیا، اس نے کافی دنوں بعد شاپنگ کا کہا تھا ورنہ پہلے تو آئے دن بازار جانا رہتا تھا۔ کیا خریدنا ہے؟، میں نے پوچھا۔ ’برقعہ۔۔۔۔۔!!‘ کیا؟؟ میں ہنسا تو وہ بولی، پہلے میں کتنے ہی غیر شرعی کام کرتی تھی، آپ نے کبھی مذاق نہیں اڑایا تھا، اب اچھا کام کرنا چاہتی ہوں تو آپ کو مذاق سوجھ رہا ہے۔ میں کچھ نہ بولا۔ پھر چند دن بعد اس نے مجھے کافی سارے پیسے دیئے اور کہا فریج کی باقی قیمت ادا کر دیں تاکہ مزید قسطیں نہ دینی پڑیں۔ اتنے روپوں کی بچت کیسے ہوگئی؟ بس ہو گئی، وہ مسکرائی جب انسان اللہ کے بتائے ہوئے احکام پر چلنے لگے تو برکت خود بخود ہو جاتی ہے۔ یہ بھی وہ کرائے دار خاتون نےبتایا ہے۔ سکون میرے اندر تک پھیل گیا۔ میری بیوی اب نہ مجھ سے کبھی لڑی، نہ شکایت کی۔ بچوں کو وہ گھر میں پڑھا دیتی ہے۔ خود بچوں کے ساتھ قرآن مجید تجوید سے پڑھنا سیکھ رہی تھی، وہ خود نماز پڑھنے لگی تھی، اور بچوں کو سختی سے نماز پڑھنے بھیجتی۔ مجھے احساس ہونے لگا کہ نجات کا راستہ یہی تو ہے۔ پیسہ اور آرائش سکون نہیں دیتا۔ اطمینان تو بس اللہ کی یاد میں ہے۔ مجھے اس دن دو ہزار کرایہ تھوڑا لگ رہا تھا، آج سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ وہ تو اتنا زیادہ تھا کہ آج میرا گھر سکون سے بھر گیا ہے۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 بھوکے کو کھانا کھلانا 🔷 وہ نابینا تھی اس نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ بھائی روز محشر جب ہم اللہ تعالی کی روبرو پیش ہوں گے تو کیا میں بھی اپنی انکھوں سے دیکھ سکوں گی، کیا میری انکھوں کی بینائی واپس ا جائے گی ِ؟ اس کا سوال سن کر میں خاموش ہو گیا میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا میں نے سوچا گوگل سے ڈھونڈ کر اس بچی کو اس کے سوال کا جواب دے دیتا ہوں لیکن پھر میں رک گیا میں نے اس بچی کو مشورہ دیا کہ اپ کے سوال کا جواب میرے پاس نہیں ہے اس سوال کا جواب کوئی عالم دے سکتا ہے۔ میں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے اس کو بتایا کہ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب کسی بھی ایسے شخص کو نہیں دینا چاہیے جس کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہ ہو اور وہ دلیل قران و حدیث سے نہ ہو۔ کیونکہ کچھ ناجائز چیزیں کسی مخصوص حالت میں جائز ہو سکتی ہیں اور کچھ جائز چیزیں کسی مخصوص حالت میں ناجائز ہو سکتی ہیں لہذا میں اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ جب میری بات مکمل ہوگئی اور وہ بچی خاموش ہو گئی تو میرے دل میں نہ جانے کیا بات ائی میں نے اس سے الٹا سوال پوچھ لیا کہ روز محشر تمہیں بینائی کی ضرورت کیوں پڑے گی؟ میرے ذہن میں اس کے ممکنہ جواب کے خلاف اس لڑکی کے جواب نے مجھے حیران کر دیا۔ اس نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھائی میں ان لوگوں کو اپنی انکھوں سے دیکھنا چاہتی ہوں جن لوگوں نے مجھے نہ جانتے ہوئے صرف اللہ تعالی کی رضا کے لیے میرے گھر راشن بھیجا ہے ایسے لوگ جن کو نہ تو میں جانتی ہوں نہ وہ مجھے جانتے ہیں بظاہر ان کا مجھ پر کوئی احسان نہیں ہے۔ شاید ساری زندگی میری ان سے ملاقات نہ ہو گی مگر ان کا ظرف اتنا اچھا ہے کہ انہوں نے میری بھوک کی تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے مجھے اپنی بہنوں اپنی بچیوں کی مانند جانا اور میرے لیے رزق کا انتظام کر دیا مجھے لگتا ہے کہ ایسے لوگ فرشتوں سے کم نہیں ہوں گے۔ مجھے لگتا ہے کہ ایسے لوگ یقینی طور پر جنتی ہوں گے اور میں روز محشر ان لوگوں کو دیکھنا چاہوں گی اور پھر ان لوگوں کے حق میں گواہی دینا چاہوں گی میں اللہ تعالی کو بتانا چاہوں گی کہ جب میں بھوکی تھی تو تیری مخلوق میں سے ان لوگوں نے میری تکلیف کو محسوس کیا تیرے حکم کے مطابق مجھے پیٹ بھر کر کھانا دیا مجھے اپنا پیٹ بھرنے کے لیے کوئی گناہ نہیں کرنا پڑا میں راہ ہدایت سے نہیں بھٹکی۔ لڑکی کی بات سن کر میں حیران رہ گیا میرے دل میں یہ حسرت پیدا ہوئی کہ میری تو انکھیں ہیں کاش ان لوگوں کو میں بھی دیکھ پاتا۔ تب مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا کتنی بڑی نیکی ہے۔ یقینا وہ لوگ جو اس نابینا لڑکی کے لیے رزق کا وسیلہ بنے تھے ان کی اگر کوئی چھوٹی موٹی کوتاہی ہوگی ان کے اعمال میں اگر کوئی خطا ہو گی گناہ ہو گا تو اللہ تعالی اس نابینا لڑکی کے دل اور زبان سے نکلنے والی دعاؤں کے صدقے اس کو معاف فرما دے گا۔ جس طرح اس لڑکی نے وثوق سے کہا ہے کہ وہ لوگ یقینی طور پر جنتی ہیں تب سے پتہ نہیں کیوں مجھے بھی لگنے لگا ہے کہ واقعی وہ لوگ جنت کے حقدار ہیں۔ میری اس لڑکی کے ساتھ جب گفتگو ہو رہی تھی تو بے اختیار میرے ذہن میں قران پاک کی یہ ایت ا گئی۔۔۔ کھانا کھلانے کے باب میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مومنین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا¤ إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا¤ (الدهر، 76: 8، 9) ’’اور (اپنا) کھانا الله کی محبت میں (خود اُس کی طلب و حاجت ہونے کے باوُجود اِیثاراً) محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو کھلا دیتے ہیں۔ (اور کہتے ہیں کہ) ہم تو محض اللہ کی رضا کے لیے تمہیں کھلا رہے ہیں، نہ تم سے کسی بدلہ کے خواست گار ہیں اور نہ شکرگزاری کے (خواہش مند) ہیں۔‘‘ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🎅 پانی کی بوتل 🎅 روز شام کو کام سے واپس آنے پر ایک شخص اپنی بیوی کو مارتا تھا۔ جب اس عورت نے اپنے بھائی سے شکایت کی تو اس کے بھائی نے کہا پانی کی بوتل لے آؤ۔ "جب وہ لے آئی تو اس نے کہا جب تمہارا شوہر گھر میں داخل ہو جائے تو یہ پانی پی لیا کرو، اور پانی کو نگلنا نہیں بلکہ اسے منہ میں ہی رہنے دینا" آپ کے منہ میں پانی تب تک رہنا چاہیے جب تک کہ وہ اپنے کپڑے تبدیل کرلے ، کافی پی لے اور بستر پر آرام کرنے کے لیے لیٹ نہ جائے.. اس عورت نے ایسا ہی کیا اس کو یہ دیکھ کر سخت حیرانی ہوئی کہ اس کا شوہر اب اس کو اس طرح نہیں مارتا جیسے وہ پہلے مارتا، لیکن اس کی پانی کی بوتل ختم ہو رہی تھی۔ وہ واپس اپنے بھائی کے پاس گئی اور کہا دوسری بوتل چاہیئے اور بتاؤ ویسے پانی میں کیا ڈالا تھا..؟؟!! اس کے بھائی نے اس سے کہا کہ میں نے پانی میں کچھ نہیں ڈالا تھا، جب تمہارا شوہر شام کو کام سے تھکا ہوا گھر واپس آئے تو بس تب اپنا منہ بند رکھا کرو !!! 😂😂🤡😂😂 http://t.me/muskuraahten 🎅 MUSKURAAAHTEN 🎅

photo content

🔷 ایمانداری 🔷 1952 وقت رات کے 12بجے لاھور سے ملتان جانے والی بس دیپالپور چوک اوکاڑہ پر رکی اور ایک بارعب چہرہ , اور خوبصورت شخصیت کا مالک نوجوان اترا اسے سول ریسٹ ہاؤس جانا تھا اس نے آس پاس دیکھا تو کوئ سواری نظر نہ آئ مگر ایک تانگہ جو کہ چلنے کو تیار تھا نوجوان نے اسے آواز دے کر کہا کہ اسے بھی سول ریسٹ ھاؤس تک لیتے جائیں مگر کوچوان نے صاف انکار کر دیا نوجوان نے التجائیہ الفاظ میں کوچوان سے پھر کہا تو اس نے سخت لہجے میں یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ آگے پھاٹک پر ایک سنتری کھڑا ھے وہ مجھے نہیں بخشے لہذا میں چار سواریوں سے زیادہ نہیں بٹھا سکتا, تانگے میں بیٹھی سواریوں نے جب نوجوان کو بے بس دیکھا تو کوچوان سے کہا کہ ہم سب مل کر اس نوجوان کی سفارش کریں گے لہذا اسے بھی ساتھ بٹھا لیں, کوچوان نے نہ چاہتے ھوۓ بھی نوجوان کو سوار کر لیا, جب پھاٹک آیا تو پولیس والے نے سیٹی بجا کر تانگہ روک لیا اور کوچوان پر برس پڑا کہ اس نے 4سے زیادہ سواریوں کو تانگے میں کیوں بٹھایا ؟ کوچوان نے 5ویں سواری کی مجبوری بیان کی مگر پولیس والےکا لہجہ تلخ سے تلخ ھوتا گیا۔ نوجوان نے 5روپے کا نوٹ کوچوان کو دیا کہ سنتری کو دے کر جان چھڑاؤ ۔مگر جب سنتری نے 5روپے دیکھے تو وہ اور بھی زیادہ غصے میں آگیا اس نے کوچوان سے کہا کہ تم نے مجھے رشوت کی پیش کش کی ھے جوکہ ایک جرم ھے لہذا اب تمہارا لازمی چالان ھو گا, سنتری نے کہا کہ اگر یہی سب کچھ کرنا تھا تو پاکستان ہی کیوں بنایا ؟یہ کہہ کر اس نے کوچوان کا چالان کر دیا , تانگہ چلا گیا ۔ سول ریسٹ ھاؤس کے قریب نوجوان اترا تو اس نے کوچوان سے کہا کہ یہ میرا کارڈ رکھ لو اور کل نو بجے ادھر آجانا میں تمہارا جرمانہ خود ادا کروں گا ۔ اگلی صبح 9بجے کوچوان سول ریسٹ ھاؤس پہنچا تو پولیس کے جوانوں نے اگے بڑھ کر کوچوان کو خوش آمدید کہا اور پوچھا کہ گورنر صاحب سے ملنے آۓ ھو؟کوچوان کی جانے بلا کہ گورنر کیا ھوتا ھے ۔ پولیس کے جوان کوچوان کو دفتر کے اندر لے گۓ ۔ رات والے نوجوان نے کوچوان سے اٹھ مصافحہ کیا اور بیٹھنے کو کہا پھر اپنے پاس بیٹھے ڈی سی اوکو رات والا واقعہ سنایا ,نوجوان نے رات والے سنتری کو فورا طلب کیا اور ڈی سی اوکوحکم دیا کہ اس ایماندار پولیس والے جوان کو فورا ترقی دے کر تھانہ صدر گوگیرہ کا ایس ایچ او تعینات کرو ۔ اور کوچوان کا جرمانہ بھی اپنی جیب سے ادا کیا ۔ اپنی جیب سے جرمانہ ادا کرنے والا وہ نوجوان سردارعبدالرب نشتر گورنر پنجاب تھے ۔ جس نے مسلم لیگ کیلیے بے شمار خدمات سر انجام دیں اور وہ جناح کے دست راست اور ایمانداری کی اعلی مثال سمجھے جاتے تھے۔ ۔۔۔۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 مثبت عادت اپنائیں 🔷 ایک آدمی نے پیسہ پیسہ جوڑ کر اپنے بیوی بچوں کیلئے نیا گھر بنایا. ایک دن یہ گھر مکمل ہوگیا. اس آدمی نے فیصلہ کیا تین دن بعد اپنا گھر کا سامان اور خاندان اس گھر میں شفٹ کرے گا. شفٹنگ سے ایک دن پہلے رات میں زلزلہ آیا اور اسکا نیا گھر اس زلزلے میں گر گیا. صبح اہل محلہ عزیز و اقارب سب افسوس کیلئے ملبے پر کھڑے تھے. مالک مکان جب پہنچا تو اس کے ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ تھا. اس نے سب میں مٹھائی بانٹی تو ایک صاحب نے کہا کیا تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے.؟ اتنا نقصان ہوا اور تم مٹھائی بانٹ رہے ہو. مالک مکان نے کہا نہیں میں تو شُکر ادا کر رہا ہوں زلزلہ ایک رات پہلے آگیا. میں بال بچوں کے ساتھ یہاں ہوتا اور زلزلہ آتا تو اس وقت میں مٹھائی نہیں بانٹ رہا ہوتا بلکہ ملبے کے نیچے ہوتا. زندگی میں ہر وقت ہمارے سامنے دیکھنے کے دو پہلو ہوتے ہیں. ایک اچھا پہلو جبکہ دوسرا برا پہلو. مثلاً آپ ٹریفک جام میں پھنس گئے. آپ نے برا پہلو سوچنا شروع کیا کہ بلاوجہ میرا وقت ضائع ہو رہا ہے تو آپ کا بلڈ پریشر ہائی ہونے لگے گا. آپ کو غصہ آئے گا آپ دوسروں کو اور خود کو کوسنا شروع کر دیں گے. لیکن اگر آپ نے سوچا کہ اس مصروف زندگی میں جب وقت ضائع کرنے پر بندہ خود ہی احساس جرم کا شکار ہوتا ہے قدرت نے کچھ ایسا وقت دیا جو مجبوراً ضائع کرنا ہی ہے تو آپ اس وقت سے لطف لینا شروع کر دیں گے. گاڑی میں اپنی پسند کی موسیقی لگا لیں گے. آسمان اور پرندوں کو دیکھیں گے یا آس پاس کی مخلوق خدا آپ کی توجہ لے لے گی. ایک عادت آپ کو بلڈ پریشر کا بیمار بنا دے گی جب کے دوسری عادت آپ کو سخت سے سخت حالات میں بھی اچھا پہلو ڈھونڈنے اور پرسکون رہنے کا انعام دے گی. کسی معاشرے میں کونسی عادت اور سوچ والے زیادہ ہیں اس کا بھی بہت آرام سے پتہ چل جاتا ہے. جہاں زندگی کے روشن پہلو دیکھنے والوں کی بہتات ہو وہاں رش میں قطار بنتی ہے. جہاں برے پہلو کی تلاش والے افراط میں ہوں وہاں رش بنا قطار کے ہجوم بن جاتا ہے. ایسا ہجوم جہاں سب ہی شور مچاتے. 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 عزت نفس قیمتی ترین ہے 🔷 برطانوی نوآبادیاتی دور میں ہندوستان میں، ایک دفعہ ایک برطانوی افسر نے ایک ہندوستانی شہری کو تھپڑ مارا۔ اس پر ہندوستانی شہری نے ردعمل میں پوری طاقت سے افسر کو تھپڑ مارا اور اسے زمین پر گرا دیا۔ افسر اس ذلت آمیز صدمے سے حیران رہ گیا اور وہاں سے چلا گیا، یہ سوچتا ہوا کہ ایک ہندوستانی شہری نے کیسے جرات کی کہ وہ برطانوی فوج کے افسر کو تھپڑ مارے، جو کہ ایک ایسی سلطنت کا حصہ ہے جس پر سورج غروب نہیں ہوتا۔ وہ اپنے مرکز کی طرف گیا تاکہ انہیں اس واقعے کی اطلاع دے اور اس شہری کو سزا دینے کے لیے مدد طلب کرے۔ لیکن بڑے افسر نے اسے پرسکون کیا اور اپنے دفتر لے گیا، اور ایک پیسوں سے بھری خزانہ کھول کر کہا: ”خزانے سے دس ہزار روپے لے لو، اور اس ہندوستانی شہری کے پاس جا کر اس سے معافی مانگو، اور اسے یہ پیسے بطور معاوضہ دو۔“ افسر پاگل ہو گیا اور احتجاج کرتے ہوئے کہا: ”مجھے اسے تھپڑ مارنے اور ذلیل کرنے کا حق ہے، اس نے مجھے تھپڑ مارا جب کہ اسے کوئی حق نہیں تھا، یہ میرے لیے، آپ کے لیے، اور ملکہ کی فوج کے لیے توہین ہے، بلکہ خود ملکہ کے لیے بھی توہین ہے“ بڑے افسر نے چھوٹے افسر سے کہا: ”اسے ایک فوجی حکم سمجھو جسے تمہیں بغیر کسی بحث کے عمل کرنا ہے۔“ افسر نے اپنے کمانڈر کے احکامات کی تعمیل کی، پیسے لے کر ہندوستانی شہری کے پاس گیا اور کہا: ”براہ کرم میری معذرت قبول کریں، میں نے آپ کو تھپڑ مارا اور آپ نے جواب دیا، ہم برابر ہو گئے ہیں، اور یہ دس ہزار روپے میری معذرت کے ساتھ تحفہ ہیں۔“ ہندوستانی شہری نے معذرت اور تحفہ قبول کیا اور بھول گیا کہ اسے اپنی زمین پر ایک نوآبادیاتی حکمران نے تھپڑ مارا تھا۔ اس وقت دس ہزار روپے ایک بڑی دولت سمجھی جاتی تھی، شہری نے اس رقم کے ایک حصہ سے گھر خریدا، ایک حصہ محفوظ کیا، اور ایک حصہ سے ”رکشہ“ (ایک تین پہیوں والی سواری جو ہندوستان میں استعمال ہوتی ہے) خریدا، اور کچھ سرمایہ کاری تجارت اور نقل و حمل میں کی ہے۔ اس کی حالت بہتر ہو گئی اور وقت کے ساتھ ساتھ وہ کاروباری شخص بن گیا اور تھپڑ کو بھول گیا، لیکن انگریزوں نے ہندوستانی شہری کے تھپڑ کو نہیں بھولا۔ کچھ عرصے بعد، انگریز کمانڈر نے اس افسر کو بلایا جسے تھپڑ مارا گیا تھا اور کہا: ”کیا تمہیں وہ ہندوستانی شہری یاد ہے جس نے تمہیں تھپڑ مارا تھا؟“ افسر نے کہا: ”میں کیسے بھول سکتا ہوں؟“ کمانڈر نے کہا: ”وقت آ گیا ہے کہ تم جاؤ اور اسے تلاش کرو اور بغیر کسی تمہید کے اسے لوگوں کے بڑے ہجوم کے سامنے تھپڑ مارو۔“ افسر نے کہا: ”اس نے مجھے اس وقت تھپڑ مارا جب اس کے پاس کچھ نہیں تھا، آج جب کہ وہ کاروباری شخص بن چکا ہے اور اس کے پاس حامی اور محافظ ہیں، تو وہ نہ صرف مجھے تھپڑ مارے گا بلکہ مجھے مار ڈالے گا۔“ کمانڈر نے کہا: ”وہ تمہیں نہیں مارے گا، جاؤ اور حکم کی تعمیل کرو بغیر کوئی بحث کیے۔“ افسر نے اپنے کمانڈر کے احکامات کی تعمیل کی اور اس ہندوستانی کے پاس گیا، اس کے ارد گرد اس کے حامی، خدم، محافظ اور لوگوں کا مجمع تھا۔ اس نے اپنی طاقت سے ہندوستانی شہری کو تھپڑ مارا اور اسے زمین پر گرا دیا۔ ہندوستانی شہری نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، یہاں تک کہ اس نے افسر کی طرف دیکھنے کی بھی جرات نہیں کی۔ افسر حیران ہو گیا اور تیزی سے اپنے کمانڈر کے پاس واپس آیا۔ کمانڈر نے افسر سے کہا: ”میں تمہارے چہرے پر حیرت اور تعجب دیکھ رہا ہوں؟“ افسر نے کہا: ”ہاں، پہلی بار اس نے مجھے زیادہ طاقت سے تھپڑ مارا تھا جب کہ اس کے پاس کچھ نہیں تھا، اور آج جب کہ اس کے پاس طاقت ہے، اس نے کچھ کہنے کی بھی جرات نہیں کی، یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘ انگریز کمانڈر: پہلی بار اس کے پاس صرف اس کی عزت تھی اور وہ اسے سب سے قیمتی چیز سمجھتا تھا، اس لیے اس نے اس کا دفاع کیا۔ لیکن دوسری بار، جب اس نے اپنی عزت کو دس ہزار روپے میں بیچ دیا، تو وہ اس کا دفاع نہیں کرے گا کیونکہ اس کے پاس اس سے زیادہ اہم چیزیں ہیں۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 دیسی لسی 🔷 دیسی لسی ایک روایتی اور مقبول مشروب ہے جو برصغیر خصوصاً پاکستان، ہندوستان، نیپال اور بنگلہ دیش کے دیہی و شہری علاقوں میں صدیوں سے استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ یہ دودھ سے بننے والا قدرتی، فرحت بخش اور توانائی بخش مشروب ہے، جو خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں ٹھنڈک پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ 🔹 لسی کی اقسام: دیسی لسی کی مختلف اقسام ہیں جو ذائقے اور ضرورت کے مطابق تیار کی جاتی ہیں: 1. میٹھی لسی: دہی، ٹھنڈا پانی یا دودھ اور چینی کو ملا کر تیار کی جاتی ہے۔ بعض اوقات اس میں پسا ہوا الائچی، گلاب کا عرق یا کیوڑہ بھی شامل کیا جاتا ہے۔ 2. نمکین لسی: دہی میں نمک، پسا ہوا زیرہ، کالی مرچ اور ٹھنڈا پانی ملا کر بنائی جاتی ہے۔ یہ زیادہ تر دیہات میں استعمال ہوتی ہے۔ 3. مکھن والی لسی (بلائی دار): دہی کو مَت کر مکھن علیحدہ کر لیا جاتا ہے، اور باقی بچے ہوئے چھاچھ میں نمک یا چینی ملا کر لسی تیار کی جاتی ہے۔ اس قسم کی لسی سب سے دیسی اور صحت بخش سمجھی جاتی ہے۔ 🔹 لسی کی غذائیت: دیسی لسی میں کیلشیم، پروٹین، وٹامن بی، پوٹاشیم اور صحت بخش بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں۔ یہ نظامِ ہضم کو بہتر بناتی ہے، گرمی سے بچاتی ہے، جسم میں پانی کی کمی پوری کرتی ہے اور جسمانی طاقت فراہم کرتی ہے۔ 🔹 طبی فوائد: 1. معدے کے لیے مفید 2. تیزابیت اور بدہضمی کا علاج 3. بلڈ پریشر میں بہتری 4. ہڈیوں کو مضبوط بنانا 5. گرمی میں ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ 🔹 ثقافتی اہمیت: دیسی لسی نہ صرف ایک مشروب ہے بلکہ یہ دیہی ثقافت، مہمان نوازی اور محبت کا استعارہ بھی ہے۔ پنجاب، سرحد، بلوچستان اور کشمیر کے دیہی علاقوں میں لسی کا استعمال عام ہے۔ مہمانوں کی تواضع میں لسی پیش کرنا عزت کی بات سمجھی جاتی ہے۔ --- - دیسی لسی نہ صرف ایک مزیدار اور سادہ مشروب ہے بلکہ صحت کے لیے ایک قدرتی ٹانک بھی ہے۔ جدید دور میں مصنوعی مشروبات کے سیلاب کے باوجود دیسی لسی کی مقبولیت آج بھی برقرار ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی روایتی غذا کو اپنائیں اور صحت مند زندگی گزاریں۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕