fa
Feedback

فریب کلاهبرداران را نخورید! تل‌متریو این کانال‌ها را شناسایی و برچسب‌گذاری می‌کند 👉 برای مشاهده برچسب، اشتراک تهیه کنید

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

رفتن به کانال در Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

نمایش بیشتر
1 285
مشترکین
-124 ساعت
-37 روز
-730 روز
آرشیو پست ها
کی رسائی صرف اپنے ڈیٹا تک ہوتی ہے۔ 3۔ پھر ڈیپ ویب سے نیچے باری آتی ہے ڈارک ویب کی۔ یہ انٹر نیٹ کا وہ حصہ ہوتا ہے جہاں تک کسی کی رسائی نہیں ہوسکتی، سوائے اس کے جس کے پاس ڈارک ویب کی ویب سائٹ کا پورا ایڈریس ہو۔ عام طور پر ڈارک ویب کی ویب سائٹس کا ایڈرس مختلف نمبر اور لفظوں پر مشتمل ہوتا ہے اور آخر میں ڈاٹ کام کے بجائے ڈاٹ ٹور، یا ڈاٹ اونین وغیرہ ہوتا ہے۔ یہاں جانے کے لیے متعلقہ ویب سائٹ کے ایڈمن سے رابطہ کرنا پڑتا ہے، جو آپ سے رقم وصول کرکے ایک ایڈریس دیتا ہے۔ جب آپ پورا اور ٹھیک ٹھیک ایڈریس ڈالتے ہیں تو یہ ویب سائٹ اوپن ہوتی ہے۔ لیکن یاد رکھیں گوگل یا عام براوزر پر یہ اوپن نہیں ہوتیں، یہ صرف TOR پر ہی اوپن ہوتیں ہیں۔ اور یہ بھی یاد رکھ لیں کہ ان ویب سائٹ کو اوپن کرنا یا دیکھنا بھی قانوناً جرم ہے، اگر آپ کے بارے صرف اتنا پتا چل جائے کہ آپ نے ڈارک ویب پر وزٹ کیا ہے تو اس پر آپ کی گرفتاری اور سزا ہوسکتی ہے۔ پھر ڈارک ویب پر ریڈ رومز ہوتے ہیں ۔ یعنی ایسے پیچز ہوتے ہیں جہاں لائیو اور براہ راست قتل و غارت گری اور بچوں کے ساتھ زیادتی دکھائی جاتی ہے، ایسے لوگ جن کے پاس پیسہ زیادہ ہوتا ہے، اور ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہوتی ہے وہ اس قسم کے مناظر دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں ، چنانچہ وہ ان ریڈ رومز میں جاتے ہیں وہاں ہر چیز کی بولی لگتی ہے، مثلا زیادتی دکھانے کے اتنے پیسے، پھر زندہ بچے کا ہاتھ کاٹنے کے اتنے پیسے، اس کا گلا دبا کر مارنے کے اتنے پیسے، پھر اس کی کھال اتارنے کے اتنے پیسے وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ ہر قسم کی منشیات، اسلحہ اور جو کچھ آپ سوچ سکتے ہیں وہ آپ کو وہاں بآسانی مل جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہاں ریٹ لگے ہوتے ہیں کہ فلاں لیول کے آدمی کو قتل کروانے کے اتنے پیسے مثلا صحافی کے قتل کے اتنے پیسے، وزیر کو قتل کرنے کے اتنے پیسے، سولہ گریٹ کے افسر کو قتل کرنے کے اتنے پیسے وغیرہ۔ اسی قسم کی ایک ویب سائٹ سلک روڈ کے نام سے بہت مشہور تھی جسے امریکی انٹیلی جنس نے بڑی مشکل سے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر ٹریس کرکے2015 میں بلاک کیا تھا۔ 4۔ Marianas web مریاناز ویب۔ یہ انٹرنیٹ کی دنیا کا سب سے گہرا حصہ ہے۔ حقیقی دنیا میں سمندر کا سب سے گہرا حصہ مریاناز ٹرنچ کہلاتا ہے اسی لیے اسی کے نام پر اس ویب کا نام بھی یہی رکھا گیا ہے۔انٹرنیٹ کے اس حصے میں دنیا کی چند طاقتور حکومتوں کے راز رکھے ہوئے ہیں ، جیسے امریکا، اسرائیل اور دیگر قوتیں وغیرہ۔ یہاں انٹری کسی کے بس کی بات نہیں ، یہاں کوڈ ورڈ اور کیز کا استعمال ہی ہوتا ہے۔ ایک سب سے اہم بات یہ بھی سن لیں کہ ڈارک ویب پر جتنا کاروبار ہوتا ہے وہ بٹ کوائن میں ہوتا ہے، بٹ کوائن ایک ایسی کرنسی ہے جو کسی قانون اور ضابطے میں نہیں آتی اور نہ ہی ٹریس ہوسکتی ہے، کسی کے بارے یہ نہیں جانا جاسکتا کہ اس کے پاس کتنے بٹ کوائن ہیں ۔ ڈارک ویب پر اربوں کھربوں ڈالرز کا یہ غلیظ کاروبار ہوتا ہے۔ اب آخر میں اس سوال کا جواب جو اس سارے معاملے کو پڑھ کر آپ کے ذہن میں پیدا ہوا ہوگا کہ اس ویب پر پابندی ہی کیوں نہیں لگا دی جاتی۔ ؟ تو بات یہ ہے کہ جیسے پستول یا کلاشن کوف ہم اپنی حفاظت اور سیکورٹی کے لیے بناتے ہیں ، چھری سبزی کاٹنے کے لیے بنائی جاتی ہے، اب اگر کوئی اس چھری کو اٹھا کر کسی کے پیٹ میں گھونپ دے تو قصور چھری کا نہیں بلکہ اس کے استعمال کا ہے، چھری پر اگر پابندی لگادی جائے تو تمام انسانوں کا حرج ہوگا لہٰذا اس کا حل یہی ہے کہ جو اس کا غلط استعمال کرے اسے عبرت کا نشان بنا دیا جائے اور باقی لوگوں کو پہلے سے ہی بتا دیا جائے کہ بھائی اس کا غلط استعمال آپ کی دنیا و آخرت برباد کرسکتا ہے. 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/6232 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ڈیپ ویب اور ڈارک ویب 🔷 ڈیپ ویب اور ڈارک ویب کیا ہیں ؟ اور کس طرح کام کرتی ہیں ؟ اس بارے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد زیادہ معلومات نہیں رکھتی۔انٹرنیٹ پر ایک اور دنیا بھی موجود ہے، جو ڈیپ ویب اور ڈارک ویب کہلاتی ہے۔ آج کی تحریر میں ہم ڈیپ ویب اور ڈارک ویب کے بارے میں جانیں گے ۔ ہم جو انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں اس میں کوئی بھی ویب سائٹ اوپن کرنے کے لیے تین بار WWW لکھناپڑتا ہے۔ جس کا مطلب ہے ورلڈوائڈ ویب، اسے سرفس ویب، اور لائٹ ویب بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن آپ کے لیے سب سے حیرت انگیز بات یہ ہوگی کہ دن رات استعمال کرکے بھی جس انٹر نیٹ کو ہم ختم نہیں کرسکتے یہ کل انٹر نیٹ کا صرف چار پانچ فیصد ہے۔ باقی کا 95٪ انٹر نیٹ عام لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل ہے۔ اب آپ کے ذہن میں سوالات پیدا ہوئے ہوں گے کہ: یہ پچانویں فیصد انٹر نیٹ ہماری آنکھوں سے کیوں اوجھل ہے؟ ہم اسے کیوں نہیں دیکھ سکتے؟ اس اوجھل انٹر نیٹ کی عظیم دنیا میں کیا کیا چھپا ہوا ہے؟ عام لوگوں سے اسے کیوں چھپایا ہوا ہے؟ وہاں کیا کیا جاتا ہے؟ تو آج کی اس تحریر میں ان سوالات کے جوابات پر بات ہوگی۔ ورلڈ وائڈ ویب کو ٹم برنرزلی نے 1989 میں ایجاد کیا اور 6اگست 1991 کو باقاعدہ منظر عام پر لایا۔ پھر یہ ٹیکنالوجی گولی کی رفتار سے ترقی کرتے کرتے یہاں تک پہنچ گئی۔ اس طرح پوری دنیا سمٹ کر ایک کمپیوٹر کی سکرین پر اکھٹی ہوگئی۔ ویب کے فوائد سے انسانیت مستفید ہونے لگی، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی محتاج بن کر رہ گئی۔ ویب کی تیز رفتاری کی وجہ سے دستاویزات کی منتقلی اور خط وکتاب ای میل کی شکل میں تبدیل ہوئی گئی۔ اور کمپنیوں اور اداروں نے اس کا استعمال شروع کردیا۔ ایک طرف پوری دنیا اس نعمت سے مستفید ہورہے تھی تو دوسری طرف ڈیوڈ چام نے ایک مضمون بعنوان Security without identification لکھا۔ جس میں انہوں نے خبردار کیا کہ ورلڈ وائڈ ویب کے حد سے زیادہ استعمال کی وجہ سے لوگ اپنی معلومات کی نگرانی سے محروم ہوتے جارہے ہیں ۔ لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی معلومات درست ہیں ، یا پرانی ہیں ۔ چنانچہ جس خدشے کا اظہار ڈیوڈ چام نے کیا تھا آج ہر کوئی یہ جانتا ہے کہ گوگل، فیس بک سمیت دیگر ویب سائٹس اپنے یوزر کے بارے اتنا کچھ جانتی ہیں کہ اس کے قریبی دوست یا سگے بھائی بہن بھی اتنا نہیں جانتے ہوں گے۔ چنانچہ انہی سورسز کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کے خفیہ اداروں نے جاسوسی کا جال بھی بچھا دیا۔ یہاں سے انٹر نیٹ کی دنیا میں ایک نیا موڑ آتا ہے، اور حکومتیں یہ سوچنا شروع کردیتی ہیں کہ انٹر نیٹ پر ڈیٹا کے تبادلے کی سیکورٹی کے لیے کوئی نظام ہونا چاہیے تاکہ کوئی اسے چوری نہ کرسکے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے امریکی نیوی کے تین ریسرچر نے یہ بیڑا اٹھاتے ہوئے Onion Routing کا نظام پیش کیا ۔ اس نظام کو اس طرح بنایا گیا تھا کہ کوئی بھی شخص کسی کے ڈیٹا کو چرا نہیں سکتا تھا اور نہ ہی بغیر اجازت کے ویب سائٹ کو اوپن کرسکتا تھا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب امریکی نیول ریسرچ لیبارٹری نے اس نظام کو اوپن سورس کردیا۔ یعنی ہر کسی کو اس سے مستفید ہونے کی اجازت دے دی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا بھر کے جرائم پیشہ لوگوں نے اس نظام کو اپنے گھنائونے جرائم کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا۔ اور اسی کا نام ڈارک ویب ہے۔ اس ساری بات کو سمجھانے کے لیے میں آپ کو ایک مثال دے کر سمجھانا چاہتی ہوں، فرض کریں برف کا ایک پہاڑ سمندر میں کھڑا نظر آرہا ہے، اس کا تھوڑا سا حصہ باہر ہے، اسے آپ ورلڈ وائڈ ویب یعنی وہ انٹر نیٹ سمجھ لیں جسے ہم استعمال کرتے ہیں ۔ پھر ایک بڑا حصہ زیر آب نظر آرہا ہے اسے ڈیپ ویب کہا جاتا۔ پھر اس سے بھی بڑا حصہ مزید نیچے گہرائی میں نظر آرہا ہے، اسے ڈارک ویب کہا جاتا ہے۔ پھر ڈارک ویب میں ریڈ رومز ہوتے ہیں ۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اس برف کے پہاڑ سے نیچے جو سمندر کی تہہ ہے اسے Marianas web مریاناز ویب کہا جاتا ہے جس تک رسائی دنیا کے عام ممالک کی حکومتوں کی بھی نہیں ہے۔ اب میں ویب کے ان چاروں حصوں کی تھوڑی تھوڑی تشریح کرکے سمجھانے کی کوشش کرتی ہوں ۔ 1۔ ورلڈ وائڈ ویب وہ انٹر نیٹ ہے جسے ہم اپنے کمپیوٹر یا موبائل پر استعمال کرتے ہیں، اوراچھی طرح جانتے ہیں ۔ یہ ٹوٹل انٹرنیٹ کا صرف چار، پانچ فیصد ہے ۔ 2۔ اس سے نیچے ڈیپ ویب ہے۔ یہ انٹر نیٹ کا وہ حصہ ہوتا ہے جس تک رسائی صرف متعلقہ لوگوں کی ہوتی ہے، اور یہ عام طور پر مختلف کمپنیوں اور اداروں کے استعمال میں ہوتا ہے۔ جیسے بینکوں کا ڈیٹا یا مثلاً آپ یوفون کی سم اسلام آباد سے خریدتے ہیں اور پھر کراچی میں جاکر دوبارہ سم نکالنے کیلئے ان کے آفس جاتے ہیں تو وہ اپنا انٹر نیٹ کھول کر آپ کی تفصیلات جان لیتے ہیں کہ آپ واقعی وہی آدمی میں جس کے نام پر یہ سم ہے۔ یہ سارا ڈیٹا ڈیپ ویب پر ہوتا ہے، چنانچہ یوفون والے صرف اپنا یوفون کا ڈیٹا اوپن کرسکتے ہیں کسی اور کا نہیں اسی طرح ہر کمپنی

کی رسائی صرف اپنے ڈیٹا تک ہوتی ہے۔ 3۔ پھر ڈیپ ویب سے نیچے باری آتی ہے ڈارک ویب کی۔ یہ انٹر نیٹ کا وہ حصہ ہوتا ہے جہاں تک کسی کی رسائی نہیں ہوسکتی، سوائے اس کے جس کے پاس ڈارک ویب کی ویب سائٹ کا پورا ایڈریس ہو۔ عام طور پر ڈارک ویب کی ویب سائٹس کا ایڈرس مختلف نمبر اور لفظوں پر مشتمل ہوتا ہے اور آخر میں ڈاٹ کام کے بجائے ڈاٹ ٹور، یا ڈاٹ اونین وغیرہ ہوتا ہے۔ یہاں جانے کے لیے متعلقہ ویب سائٹ کے ایڈمن سے رابطہ کرنا پڑتا ہے، جو آپ سے رقم وصول کرکے ایک ایڈریس دیتا ہے۔ جب آپ پورا اور ٹھیک ٹھیک ایڈریس ڈالتے ہیں تو یہ ویب سائٹ اوپن ہوتی ہے۔ لیکن یاد رکھیں گوگل یا عام براوزر پر یہ اوپن نہیں ہوتیں، یہ صرف TOR پر ہی اوپن ہوتیں ہیں۔ اور یہ بھی یاد رکھ لیں کہ ان ویب سائٹ کو اوپن کرنا یا دیکھنا بھی قانوناً جرم ہے، اگر آپ کے بارے صرف اتنا پتا چل جائے کہ آپ نے ڈارک ویب پر وزٹ کیا ہے تو اس پر آپ کی گرفتاری اور سزا ہوسکتی ہے۔ پھر ڈارک ویب پر ریڈ رومز ہوتے ہیں ۔ یعنی ایسے پیچز ہوتے ہیں جہاں لائیو اور براہ راست قتل و غارت گری اور بچوں کے ساتھ زیادتی دکھائی جاتی ہے، ایسے لوگ جن کے پاس پیسہ زیادہ ہوتا ہے، اور ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہوتی ہے وہ اس قسم کے مناظر دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں ، چنانچہ وہ ان ریڈ رومز میں جاتے ہیں وہاں ہر چیز کی بولی لگتی ہے، مثلا زیادتی دکھانے کے اتنے پیسے، پھر زندہ بچے کا ہاتھ کاٹنے کے اتنے پیسے، اس کا گلا دبا کر مارنے کے اتنے پیسے، پھر اس کی کھال اتارنے کے اتنے پیسے وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ ہر قسم کی منشیات، اسلحہ اور جو کچھ آپ سوچ سکتے ہیں وہ آپ کو وہاں بآسانی مل جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہاں ریٹ لگے ہوتے ہیں کہ فلاں لیول کے آدمی کو قتل کروانے کے اتنے پیسے مثلا صحافی کے قتل کے اتنے پیسے، وزیر کو قتل کرنے کے اتنے پیسے، سولہ گریٹ کے افسر کو قتل کرنے کے اتنے پیسے وغیرہ۔ اسی قسم کی ایک ویب سائٹ سلک روڈ کے نام سے بہت مشہور تھی جسے امریکی انٹیلی جنس نے بڑی مشکل سے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر ٹریس کرکے2015 میں بلاک کیا تھا۔ 4۔ Marianas web مریاناز ویب۔ یہ انٹرنیٹ کی دنیا کا سب سے گہرا حصہ ہے۔ حقیقی دنیا میں سمندر کا سب سے گہرا حصہ مریاناز ٹرنچ کہلاتا ہے اسی لیے اسی کے نام پر اس ویب کا نام بھی یہی رکھا گیا ہے۔انٹرنیٹ کے اس حصے میں دنیا کی چند طاقتور حکومتوں کے راز رکھے ہوئے ہیں ، جیسے امریکا، اسرائیل اور دیگر قوتیں وغیرہ۔ یہاں انٹری کسی کے بس کی بات نہیں ، یہاں کوڈ ورڈ اور کیز کا استعمال ہی ہوتا ہے۔ ایک سب سے اہم بات یہ بھی سن لیں کہ ڈارک ویب پر جتنا کاروبار ہوتا ہے وہ بٹ کوائن میں ہوتا ہے، بٹ کوائن ایک ایسی کرنسی ہے جو کسی قانون اور ضابطے میں نہیں آتی اور نہ ہی ٹریس ہوسکتی ہے، کسی کے بارے یہ نہیں جانا جاسکتا کہ اس کے پاس کتنے بٹ کوائن ہیں ۔ ڈارک ویب پر اربوں کھربوں ڈالرز کا یہ غلیظ کاروبار ہوتا ہے۔ اب آخر میں اس سوال کا جواب جو اس سارے معاملے کو پڑھ کر آپ کے ذہن میں پیدا ہوا ہوگا کہ اس ویب پر پابندی ہی کیوں نہیں لگا دی جاتی۔ ؟ تو بات یہ ہے کہ جیسے پستول یا کلاشن کوف ہم اپنی حفاظت اور سیکورٹی کے لیے بناتے ہیں ، چھری سبزی کاٹنے کے لیے بنائی جاتی ہے، اب اگر کوئی اس چھری کو اٹھا کر کسی کے پیٹ میں گھونپ دے تو قصور چھری کا نہیں بلکہ اس کے استعمال کا ہے، چھری پر اگر پابندی لگادی جائے تو تمام انسانوں کا حرج ہوگا لہٰذا اس کا حل یہی ہے کہ جو اس کا غلط استعمال کرے اسے عبرت کا نشان بنا دیا جائے اور باقی لوگوں کو پہلے سے ہی بتا دیا جائے کہ بھائی اس کا غلط استعمال آپ کی دنیا و آخرت برباد کرسکتا ہے. 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/6232 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ڈیپ ویب اور ڈارک ویب 🔷 ڈیپ ویب اور ڈارک ویب کیا ہیں ؟ اور کس طرح کام کرتی ہیں ؟ اس بارے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد زیادہ معلومات نہیں رکھتی۔انٹرنیٹ پر ایک اور دنیا بھی موجود ہے، جو ڈیپ ویب اور ڈارک ویب کہلاتی ہے۔ آج کی تحریر میں ہم ڈیپ ویب اور ڈارک ویب کے بارے میں جانیں گے ۔ ہم جو انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں اس میں کوئی بھی ویب سائٹ اوپن کرنے کے لیے تین بار WWW لکھناپڑتا ہے۔ جس کا مطلب ہے ورلڈوائڈ ویب، اسے سرفس ویب، اور لائٹ ویب بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن آپ کے لیے سب سے حیرت انگیز بات یہ ہوگی کہ دن رات استعمال کرکے بھی جس انٹر نیٹ کو ہم ختم نہیں کرسکتے یہ کل انٹر نیٹ کا صرف چار پانچ فیصد ہے۔ باقی کا 95٪ انٹر نیٹ عام لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل ہے۔ اب آپ کے ذہن میں سوالات پیدا ہوئے ہوں گے کہ: یہ پچانویں فیصد انٹر نیٹ ہماری آنکھوں سے کیوں اوجھل ہے؟ ہم اسے کیوں نہیں دیکھ سکتے؟ اس اوجھل انٹر نیٹ کی عظیم دنیا میں کیا کیا چھپا ہوا ہے؟ عام لوگوں سے اسے کیوں چھپایا ہوا ہے؟ وہاں کیا کیا جاتا ہے؟ تو آج کی اس تحریر میں ان سوالات کے جوابات پر بات ہوگی۔ ورلڈ وائڈ ویب کو ٹم برنرزلی نے 1989 میں ایجاد کیا اور 6اگست 1991 کو باقاعدہ منظر عام پر لایا۔ پھر یہ ٹیکنالوجی گولی کی رفتار سے ترقی کرتے کرتے یہاں تک پہنچ گئی۔ اس طرح پوری دنیا سمٹ کر ایک کمپیوٹر کی سکرین پر اکھٹی ہوگئی۔ ویب کے فوائد سے انسانیت مستفید ہونے لگی، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی محتاج بن کر رہ گئی۔ ویب کی تیز رفتاری کی وجہ سے دستاویزات کی منتقلی اور خط وکتاب ای میل کی شکل میں تبدیل ہوئی گئی۔ اور کمپنیوں اور اداروں نے اس کا استعمال شروع کردیا۔ ایک طرف پوری دنیا اس نعمت سے مستفید ہورہے تھی تو دوسری طرف ڈیوڈ چام نے ایک مضمون بعنوان Security without identification لکھا۔ جس میں انہوں نے خبردار کیا کہ ورلڈ وائڈ ویب کے حد سے زیادہ استعمال کی وجہ سے لوگ اپنی معلومات کی نگرانی سے محروم ہوتے جارہے ہیں ۔ لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی معلومات درست ہیں ، یا پرانی ہیں ۔ چنانچہ جس خدشے کا اظہار ڈیوڈ چام نے کیا تھا آج ہر کوئی یہ جانتا ہے کہ گوگل، فیس بک سمیت دیگر ویب سائٹس اپنے یوزر کے بارے اتنا کچھ جانتی ہیں کہ اس کے قریبی دوست یا سگے بھائی بہن بھی اتنا نہیں جانتے ہوں گے۔ چنانچہ انہی سورسز کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کے خفیہ اداروں نے جاسوسی کا جال بھی بچھا دیا۔ یہاں سے انٹر نیٹ کی دنیا میں ایک نیا موڑ آتا ہے، اور حکومتیں یہ سوچنا شروع کردیتی ہیں کہ انٹر نیٹ پر ڈیٹا کے تبادلے کی سیکورٹی کے لیے کوئی نظام ہونا چاہیے تاکہ کوئی اسے چوری نہ کرسکے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے امریکی نیوی کے تین ریسرچر نے یہ بیڑا اٹھاتے ہوئے Onion Routing کا نظام پیش کیا ۔ اس نظام کو اس طرح بنایا گیا تھا کہ کوئی بھی شخص کسی کے ڈیٹا کو چرا نہیں سکتا تھا اور نہ ہی بغیر اجازت کے ویب سائٹ کو اوپن کرسکتا تھا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب امریکی نیول ریسرچ لیبارٹری نے اس نظام کو اوپن سورس کردیا۔ یعنی ہر کسی کو اس سے مستفید ہونے کی اجازت دے دی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا بھر کے جرائم پیشہ لوگوں نے اس نظام کو اپنے گھنائونے جرائم کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا۔ اور اسی کا نام ڈارک ویب ہے۔ اس ساری بات کو سمجھانے کے لیے میں آپ کو ایک مثال دے کر سمجھانا چاہتی ہوں، فرض کریں برف کا ایک پہاڑ سمندر میں کھڑا نظر آرہا ہے، اس کا تھوڑا سا حصہ باہر ہے، اسے آپ ورلڈ وائڈ ویب یعنی وہ انٹر نیٹ سمجھ لیں جسے ہم استعمال کرتے ہیں ۔ پھر ایک بڑا حصہ زیر آب نظر آرہا ہے اسے ڈیپ ویب کہا جاتا۔ پھر اس سے بھی بڑا حصہ مزید نیچے گہرائی میں نظر آرہا ہے، اسے ڈارک ویب کہا جاتا ہے۔ پھر ڈارک ویب میں ریڈ رومز ہوتے ہیں ۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اس برف کے پہاڑ سے نیچے جو سمندر کی تہہ ہے اسے Marianas web مریاناز ویب کہا جاتا ہے جس تک رسائی دنیا کے عام ممالک کی حکومتوں کی بھی نہیں ہے۔ اب میں ویب کے ان چاروں حصوں کی تھوڑی تھوڑی تشریح کرکے سمجھانے کی کوشش کرتی ہوں ۔ 1۔ ورلڈ وائڈ ویب وہ انٹر نیٹ ہے جسے ہم اپنے کمپیوٹر یا موبائل پر استعمال کرتے ہیں، اوراچھی طرح جانتے ہیں ۔ یہ ٹوٹل انٹرنیٹ کا صرف چار، پانچ فیصد ہے ۔ 2۔ اس سے نیچے ڈیپ ویب ہے۔ یہ انٹر نیٹ کا وہ حصہ ہوتا ہے جس تک رسائی صرف متعلقہ لوگوں کی ہوتی ہے، اور یہ عام طور پر مختلف کمپنیوں اور اداروں کے استعمال میں ہوتا ہے۔ جیسے بینکوں کا ڈیٹا یا مثلاً آپ یوفون کی سم اسلام آباد سے خریدتے ہیں اور پھر کراچی میں جاکر دوبارہ سم نکالنے کیلئے ان کے آفس جاتے ہیں تو وہ اپنا انٹر نیٹ کھول کر آپ کی تفصیلات جان لیتے ہیں کہ آپ واقعی وہی آدمی میں جس کے نام پر یہ سم ہے۔ یہ سارا ڈیٹا ڈیپ ویب پر ہوتا ہے، چنانچہ یوفون والے صرف اپنا یوفون کا ڈیٹا اوپن کرسکتے ہیں کسی اور کا نہیں اسی طرح ہر کمپنی

photo content

🔷 خوبصورت لڑکی 🔷 یہ ایک لڑکی کی کہانی ہے جس سے ہر کوئی محبت کرتا تھا، لیکن سوال یہ تھا کہ اس سے شادی کون کرے گا؟ کہا جاتا ہے کہ ایک نوجوان نے اپنے والد سے کہا: "میں ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں، جسے میں نے دیکھا ہے اور جس کے حسن و خوبصورتی اور دلکش آنکھوں نے مجھے مسحور کر دیا ہے۔" والد خوشی سے مسکراتے ہوئے جواب دیتے ہیں: "کہاں ہے وہ لڑکی، تاکہ میں تمہارے لیے اس کا رشتہ مانگوں؟" جب وہ دونوں لڑکی کو دیکھنے جاتے ہیں تو والد بھی اس کے حسن سے متاثر ہو جاتا ہے اور اپنے بیٹے سے کہتا ہے: "سن بیٹا، یہ لڑکی تمہارے لائق نہیں ہے، تم اس کے قابل نہیں ہو۔ یہ تو ایک ایسے آدمی کے لیے ہے جو زندگی کا تجربہ رکھتا ہو اور جس پر بھروسہ کیا جا سکے، جیسے میں۔" لڑکا اپنے والد کی بات سن کر حیران ہو جاتا ہے اور کہتا ہے: "نہیں، میں اس سے شادی کروں گا، نہ کہ آپ۔" پھر وہ دونوں جھگڑتے ہوئے پولیس اسٹیشن چلے جاتے ہیں تاکہ مسئلہ حل کیا جا سکے۔ جب انہوں نے پولیس افسر کو اپنی کہانی سنائی تو افسر نے کہا: "لڑکی کو بلاؤ، ہم اس سے پوچھتے ہیں کہ وہ کس کو چاہتی ہے، بیٹے کو یا والد کو؟" جب افسر نے لڑکی کو دیکھا اور اس کے حسن سے متاثر ہوا، تو اس نے کہا: "یہ تم دونوں کے لیے مناسب نہیں، یہ تو میرے جیسے کسی اہم شخص کے لیے ہے۔" اب تینوں میں جھگڑا ہوتا ہے اور وہ وزیر کے پاس چلے جاتے ہیں۔ وزیر لڑکی کو دیکھتے ہی کہتا ہے: "یہ لڑکی تو صرف وزیروں کے لائق ہے، جیسے میں ہوں۔" اسی طرح ان میں جھگڑا ہوتا رہا اور معاملہ امیرِ شہر تک پہنچ گیا۔ جب امیر نے لڑکی کو دیکھا، تو اس نے کہا: "یہ مسئلہ میں حل کرتا ہوں، لڑکی کو لاؤ۔" لڑکی کو دیکھ کر امیر بھی کہنے لگا: "یہ تو صرف کسی امیر ہی سے شادی کر سکتی ہے، جیسے میں ہوں۔" پھر سب نے بحث کی، تو لڑکی نے کہا: "میرے پاس ایک حل ہے۔ میں دوڑوں گی اور تم سب میرے پیچھے دوڑو گے، جو بھی پہلے مجھے پکڑے گا، میں اسی کی بن جاؤں گی اور اس سے شادی کروں گی۔" لڑکی دوڑی اور پانچوں یعنی نوجوان، والد، پولیس افسر، وزیر اور امیر سب اس کے پیچھے دوڑے۔ اچانک دوڑتے دوڑتے پانچوں ایک گہری کھائی میں جا گرے۔ لڑکی اوپر سے انہیں دیکھ کر کہتی ہے: "کیا تمہیں معلوم ہوا میں کون ہوں؟ میں دنیا ہوں!!! میں وہ ہوں جس کے پیچھے ہر انسان دوڑتا ہے، اور اپنی آخرت اور دین کو بھول جاتا ہے۔ وہ سب میری تلاش میں لگے رہتے ہیں، یہاں تک کہ قبر میں جا گرتے ہیں، اور پھر بھی مجھے حاصل نہیں کر پاتے۔" 🔘 کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دنیا کی چمک دمک کے پیچھے بھاگنے سے بہتر ہے کہ ہم اپنے دین اور آخرت پر توجہ دیں، کیونکہ دنیا فانی ہے اور ہمیں کبھی بھی مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکتی. 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/109 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

1965 محض پڑھا تھا ، 2025 آنکھوں سے دیکھ لیا ۔ اولیاء و فرشتوں کا بموں کو پکڑنا سنا تھا ، لاہوریوں سیالکوٹیوں کا رائفل تھامے ڈ
1965 محض پڑھا تھا ، 2025 آنکھوں سے دیکھ لیا ۔ اولیاء و فرشتوں کا بموں کو پکڑنا سنا تھا ، لاہوریوں سیالکوٹیوں کا رائفل تھامے ڈرونز کے پیچھے بھاگنا اور گرانا دیکھ لیا۔ وہ مناظر جو مطالعہ پاکستان میں پڑھ کر مذاق اُڑایا کرتے تھے اب سوشل میڈیا پہ اُن کے براہ راست نظارے دیکھ کر سینہ فخر سے چوڑا ہوگیا ہے. پاکستان و پاکستانیو تم شاد رہو آباد رہو ۔ پاکستان زندہ باد 🇵🇰❤️

بھارت کے وحشیانہ حملوں میں 40 شہری اور 11 جوان شہید ہوئے: آئی ایس پی آر اسلام آباد: آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ بھارت کے وحش
بھارت کے وحشیانہ حملوں میں 40 شہری اور 11 جوان شہید ہوئے: آئی ایس پی آر اسلام آباد: آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ بھارت کے وحشیانہ حملوں میں 40 شہریوں اور 11 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب، بھارتی افواج نے بلا اشتعال اور قابل مذمت وحشیانہ حملے شروع کیے، ان حملوں میں خواتین، بچوں اور بوڑھوں سمیت معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ آئی ایس پی آر کا بتانا ہےکہ بھارتی حملوں میں 40 شہری شہید ہوئے جن میں7 خواتین اور 15 بچے شامل ہیں جب کہ حملوں میں 10خواتین اور 27 بچوں سمیت 121 افراد زخمی ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستانی مسلح افواج نے بھرپور جوابی کارروائی کی اور مادروطن کا دفاع کرتے ہوئے 11 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا جب کہ مسلح افواج کے 78 جوان زخمی ہوئے۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

🔷 سفر میں محتاط رہیں 🔷 آپ نے اکثر اپنے بڑوں سے سنا ہوگا کہ دوران سفر اجنبی لوگوں سے بات چیت میں احتیاط بلکہ پرہیز کریں ایک سچا واقعہ جو ہوائی سفر میں ایک لڑکی کے ساتھ پیش آیا حاضر خدمت ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ اس لڑکی کی سیٹ ایک بوڑھی عورت کے ساتھ تھی وہ عورت بہت خوش اخلاق اور باتونی لگ رہی تھی اس نے مجھے کہا کہ میرا بیگ تو اوپر سامان رکھنے کی جگہ پر رکھ دو میرا قد چھوٹا تھا اس وجہ سے میں تھوڑا ہچکچائی اتنے میں ایک بوڑھا آدمی جو پیچھے بیٹھا تھا اٹھا اور اس نے سامان اوپر رکھ دیا۔ جہاز نے اڑان بھری پورا راستہ وہ عورت باتیں کرتی رہی وہ بہت خوش اخلاق اور اچھی خاتون لگ رہی تھی۔ اتنے میں پائلٹ نے اعلان کیا کہ فلائٹ دوبئی لینڈ کرنے والی ہے اچانک اس خاتون نے کہا کہ اس کے معدے میں شدید درد ہو رہا ہے اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میرے کندھے پر سر رکھ لیا۔ جہاز کے مسافروں کو لگا کہ ہم ایک ساتھ جا رہی ہیں بلکہ اس خاتون نے مجھے اپنی بیٹی کہنا شروع کر دیا اتنے میں اسی بزرگ نے مجھے کہا کہ جہاز کے سٹاف کو بتا دو کہ تم ان کو نہیں جانتی اور ائیر ہوسٹس اور جہاز کے سٹاف کو ہی ان خاتون کو دیکھنے دو اتنے میں ایک آئیر ہوسٹس نے مجھے سے پوچھا آپ کی والدہ کو کیا ہوا ہے میں نے کہا میں ان کو نہیں جانتی بس فلائٹ میں ساتھ بیٹھے ہیں، جب جہاز لینڈ کیا تو اس بوڑھی عورت نے رونا شروع کر دیا میری منت کی کہ کم سے کم اس کا پرس ہی پکڑ کر ساتھ رہوں مگر اس بوڑھے آدمی نے مجھے اشارے سے منع کر دیا اور نہ چاہتے ہوئے بھی میں ان کو گڈ بائے کہہ کر اتر گئی۔ ائیرپورٹ پر سامان لیتے ہوئے معلوم ہوا کہ اس بوڑھی عورت نے ویل چیئر لینے سے انکار کر دیا اور پرس جہاز میں ہی چھوڑ کر اترنے کی کوشش کی اور ائیرپورٹ سے نکلنے کی کوشش کرتی رہی ائیرپورٹ پولیس نے اس کو حراست میں لے لیا جہاں اس نے اونچا اونچا کہنا شروع کر دیا کہ میری بیٹی کو بلا دو وہ مجھے چھوڑ کر نجانے کہاں چلی گئی۔ پولیس نے اسی وقت جہاز کے سٹاف سے معلومات حاصل کر کے مجھے روک لیا اس وقت پھر وہی بزرگ شخص وہاں آ گئے اور انہوں نے بتایا کہ یہ خاتون ہم دونوں کو جہاز میں ہی ملی ہے پہلے سے نہیں جانتے۔ پولیس سے ہی مجھے معلوم ہوا کہ اس بوڑھی عورت کے پرس اور سامان سے ڈرگز ملی تھیں اب میرے سارے سامان کا باریکی سے معائنہ کیا گیا اور فنگرز پرنٹ لیے گئے کہ میرے انگلیوں کے نشانات اس بوڑھی عورت کے سامان یا پرس پر تو نہیں تھے تب مجھے علم ہوا وہ عورت کیوں مجھے سامان اوپر رکھنے کا کہہ رہی تھی۔ میرا پاسپورٹ پولیس نے رکھ لیا اور اس بوڑھی عورت سے میرے بارے میں معلومات لیں۔ اللہ کا کرم تھا کہ میں نے اس عورت کو اپنا پورا نام نہیں بتایا تھا اور نہ اسے میرے بارے میں زیادہ معلوم ہوا تھا تب مجھے یہ بھی سمجھ ا گئی کہ پورا راستہ وہ میرے بارے میں بنیادی معلومات ہی اکٹھی کر رہی تھی مجھ سے لاتعداد سوالات پولیس نے کیے وہ عورت کہاں ملی ؟ کب فلائٹ میں بیٹھی ؟ میں اسے کیسے جانتی ہوں وغیرہ وغیرہ نجانے کون سی نیکی تھی کہ اس بوڑھی عورت کے کسی سامان سے میرے کوئی نشان نہیں ملے اور میرا کوئی تعلق اس عورت سے ثابت نہیں ہوا پولیس نے کئی گھنٹوں کی تفتیش کے بعد مجھے جانے دیا اور ہدایات دیں کہ کوئی بھی مسافر جتنا مرضی زور لگا لے اس کے سامان کو ہاتھ مت لگاؤں نہ ہی کسی قسم کی معلومات دوں۔ یہ میری زندگی کا بہت بھیانک واقعہ تھا اور اس کے بعد سے آج تک میں نے کسی مسافر کے سامان کو کیا ٹرالی کو بھی ہاتھ نہیں لگایا۔ 🔘 جو سفر کرتے ہیں اگر کوئی ایسا کردار ملے تو جہاز کے اسٹاف کو ضرور اپنے ساتھ رکھیں اور واضح کریں کہ آپکا کوئی تعلق نہیں۔ Incident Written by - Paul Odofin 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

نوکری بھی کرتی پیسے وہ سارے لے لیتے گھر انکا بہت بڑا تھا مگر کوئی سکون نہیں تھا ہر وقت ٹارچر ہی کرتے رھتے تھے اپنے بچوں کو چھوڑ کر اسکی بچی کو سنبھالتی صبح سکول جاتی تو بچی کو ساتھ لے کر جاتی ۔انکے گھر میں بڑی بڑی گاڑیاں ڈرائیور سب کچھ تھے مگر میں رکشے پر آتی جاتی ۔ اور وہ میری کزن جسکی میں نے ہر بات مانی وہاں میرے ساتھ اسکا رویہ ایسے ہو گیا تھا جیسے میں کوئی اسکی دشمن ہوں ۔ وقت گزرتا گیا میں جس نوکری کو اپنا سہارا سمجھتی تھی 11 ماہ وہاں رہی اپنی سیلری سے مجھے دس ہزار مہینے کا ملتا تھا کہ یہی تمہارا جیب خرچ ہے ۔ 11 ماہ کے بعد پتہ چلا کہ اسنے اسلام آباد شادی کر رکھی ہے پہلے سے ہی وہاں میں نے بہت نبھانے کی کوشش کی اور یہ تہیہ کر لیا تھا کہ اب کچھ بھی ہو یہاں سے نہیں جانا مگر وہ بار بار کہتا جاؤ میری طرف سے تم آذاد ہو بار بار ٹارچر کرتا کہ کسی طرح میں طلاق کا مطالبہ کروں ماں باپ تو ماں پاب ہی ہوتے ہیں ایک دن ابّو نے مجھے کہا کہ کوئی بات نہیں تم واپس آ جاو گھر۔ وہاں ایسے اذیت بھری زندگی نہ گزارو وہاں سے بھی طلاق ہو گئی واپس آ گئی امی ابو کے پاس ۔ابھی دو ماہ پہلے میرے ابو کی وفات ہو گئی وہی میرا سہارا تھے بھائی چار ہیں ۔ سب شادی شدہ انکی اپنی زندگی ہے اپنے بچے ۔ اب میری حالت یہ ہے سیلری تو میں لیتی ہوں وہ جاب جس پر مجھے بڑا غرور تھا وہ مجھے کوئی سہارا نظر نہیں آتی پیسے تو آتے ہیں لگاؤں کہاں ؟ آج میں نے یہ تحریر لکھی بہت دکھی تھی آج امی کے اسرار پر مجھے میرے بچوں سے ملوایا گیا میں نے انکو گاڑیاں اور کچھ کھولنے لے کر دئے انکے باپ نے ابھی کچھ دیر پہلے اپنے چھوٹے کے ہاتھ واپس لوٹا دئے ۔ اور میرے بچے اپنی دوسری ماں کے ساتھ خوش ہیں ۔ اب میری ایک ہی زندگی کی خواہش ہے جو میں کوشش بھی کر رہی ہوں اگر وہ مجھے بچے ہی دے دیں تو میں جو دن بدن نفسیاتی مریض بنتی جا رہی ہوں شاید میں ٹھیک ہو جاؤں مگر لگتا نہیں کہ مجھے وہ دیں گے آپ لوگوں سے گزارش ہے دعا کریں کہ بچے دے دیں جو غلطیاں میں نے کی اس قابل تو نہیں مگر اللہ کے لئے کوئی کام مشکل نہیں ۔ میری آپ تمام بہنوں سے گزارش ہے خاص طور پرجو جاب ہولڈر ہیں چاہے وہ پرائیوٹ سیکٹر میں ہیں یا گورنمنٹ, سیلری خاوند سے زیادہ ہے یا کم کبھی جاب کو اپنا غرور وتکبر مت بنانا پیسہ تو ہے, جاب ہے مگر پیسہ انسان کا سہارا نہیں بنتا آپ پیسوں سے اور نوکریوں سے خوشیاں نہیں خرید سکتے۔ میری چھوٹی بہن ڈاکٹر ہے گورنمنٹ جاب ہولڈر ہے اسکے ہسبینڈ ایک پرائیویٹ سیکٹر میں جاب کرتے ہیں میں جب ان دونوں کو سب کچھ مل جل کر بناتے دیکھتی ہوں تو مجھے اپنی ذندگی سے اور نفرت ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔ میں نے کیوں کیا اپنے ساتھ ایسا ؟کیوں ہوا میرے ساتھ ایسا ؟ عموماً پوسٹ دیکھنے کو ملتی ہیں مرد یہ ہے وہ ہے کوئی شک نہیں ہوتے ہیں مرد بھی ایسے مگر عورتیں بھی بہت ذیادہ ایسی ہوتی ہیں جو غرور وتکبر میں اپنا سب کچھ خود برباد کر دیتی ہیں پھر پچھتاوا ہی رہ جاتا ہے ۔ اور میری بہنو! کبھی بھی کسی عورت کی بات میں آ کر اپنا گھر برباد مت کرنا عورت ہی عورت کی دشمن ہے یہ کبھی مت بھولنا۔ مجھے اتنی ٹھوکریں کھا کر سمجھ آئی کہ بیشک آپکے پاس بہت بڑی نوکری ہو یا بہت بڑی انکم ہو مگر ایک مرد کے بغیر عورت نامکمل ہے اور ایک مرد عورت کے بغیر نامکمل ہے ۔ یہی فیملی ہوتی ہے میاں بیوی بچے اسکے علاؤہ کوئی چیز آپکو کبھی خوشی نہیں دے سکتی اور یہ معاشرہ ایسا ہے یہاں ایک طلاق یافتہ عورت کتنی ہی پاک صاف کیوں نہ ہو اسکو ہر کوئی غلط نظر سے ہی دیکھتا ہے ۔ اپنے ہوں یا غیر ہر کوئی غلط ہی سمجھتا ہے ۔ اللہ ہر کسی کی بہن بیٹی کے نصیب اچھے کرے غرور وتکبر سے اللہ ہر ایک کو بچائے ۔ میرے لئے دعا کرنا اللہ کوئی بہتری والا معاملہ کرے ورنہ جس قدر میں نفسیاتی مریض بنتی جا رہی ہوں میرے پاس یہ نوکری بھی نہیں رہے گی ۔ میری اس تحریر کا مقصد صرف اتنا ہے جو غلطیاں, غرور و تکبر میں مجھ سے ہوئی ہیں وہ آپ نہ کریں۔ اور یہ کوئی کہانی نہیں ایک ایک بات سچ پر مبنی ہے۔ (ایک خاتون کی آپ بیتی) منقول ہے۔۔۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/6226 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 طلاق یافتہ عورت 🔷 میں ایک جاب ہولڈر عورت ہوں الحمدللہ گریڈ 18 کی ملازمہ ہوں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں۔ اور بدقسمتی سے دو بچوں کی ماں اور خلع یافتہ ہوں ۔ عورت ہمیشہ جذباتی ہوتی ہے جذبات میں آ کر فیصلہ کر لیتی ہے جو کہ نہیں کرنا چاہیے اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا چاہیے۔ 37 میری عمر ہے 28 سال کی عمر میں میری شادی ہوئی تھی میری شادی اپنی فیملی میں ہوئی تھی میرے ہسبینڈ بھی ایک گورنمنٹ جاب ہولڈر تھے ۔ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں وہ جاب کرتے تھے گریڈ 15 میں۔ میری پہلی اولاد بیٹا تھا بیٹے کی پیدائش تک ہم جوائنٹ فیملی میں رہے اور اچھا وقت گزرا اب میں ویسے جھوٹ کیوں بولوں کے جوائنٹ فیملی میں مجھے کوئی مسٸلہ نہیں تھا یا کبھی نہیں ہوا بہت اچھے تھے وہ مگر مجھے جوائنٹ فیملی میں رہنے کا دل نہیں کرتا تھا میں نے اپنے ہسبینڈ سے کہا ہم اپنا گھر بناتے ہیں اور الگ ہو جاتے ہیں ہم دونوں کی سیلری اتنی تو ہے کہ ہم ایک سال میں اپنا گھر بنا ہی لیں گے اور گاڑی بیچنی پڑے تو بیچ کر پہلے گھر بناتے ہیں پھر گاڑی لے لیں گے وہ اس بات پر تیار ہو گے میرے پاس جو پیسے تھے میں نے پلاٹ لے لیا اور ایسے ہی ہم نے ایک سال کے اندر دونوں نے مل کر اپنا گھر بنا لیا۔ میری سیلری میرے ہسبینڈ سے ذیادہ تھی ۔گھر بن گیا ہم الگ ہو گے۔الگ ہونے کے بعد گھر میں چھوٹے موٹے مسٸلے تو ہوتے ہیں اور ہر گھر میں ہوتے ہیں مگر سچ بولوں تو مجھے اپنی نوکری پر بڑا غرور تھا اور میں اپنی نوکری کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھی تھی جو کہ میری لائف کی سب سے بڑی بیوقوفی تھی جو آج مجھے سمجھ آ رہی ہے پھر میری بیٹی کی پیدائش ہوئی ۔اور یہاں ایک بات یاد رکھنا عورت کی اصل دشمن ایک عورت ہی ہوتی ہے مرد اتنا نقصان نہیں پہنچاتا جتنی ایک عورت عورت کو پہنچاتی ہے۔ گھر جو ہم نے بنانا تھا اسمیں ذیادہ پیسے میرے لگے تھے اور وہی غرور وتکبر گھر میں کوئی بھی بات ہوتی تو میں بات بات پر یہی طعنہ دے دیتی کہ گھر میں میرے پیسے ذیادہ ہیں تمہارا کیا ہے ؟ بس پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہی میری کزن جسکا آنا جانا ذیادہ تھا اسنے مجھے ورغلانہ شروع کر دیا کہ تم اس سے ذیادہ سیلری لیتی ہو وہ کم لیتا ہے ایسے ہی کہانیاں اسنے شروع کر دیں میرے دل میں انکے لئے نفرت پیدا کرتی رہی اس قدر اسنے زہر گھولا کہ میں اپنے بچوں تک کو بھول گئی یہ بھی بھول گئی کہ میرے تو دو بچے بھی ہیں ۔ لڑائی جھگڑے بڑھتے گے ہم نے گاڑی لی تھی اسمیں بھی میرے پیسے ذیادہ تھے ۔بدقسمتی میری کہ میں نے اپنے خاوند کو ایک دن کہہ دیا کہ یا تو آپ مجھے گاڑی کے پیسے واپس کریں یا پھر آج کے بعد آپ گاڑی استعمال نہیں کرینگے۔ یہ بات میرے لئے تو معمولی تھی مگر انکے لئے تو نہیں ہوئی ہو گی کیونکہ میرے اندر زہر ہی اتنے گھول دیا گیا تھا ۔انہوں نے گاڑی بیچ دی اور میرے پیسے مجھے دے دیئے میرے جو خاوند تھے انکے بڑے بھائی کینیڈا میں ہوتے ہیں ۔وہ گھر آئے تین ماہ رہے اور واپسی جاتے انہوں نے اپنی گاڑی اپنی بھائی کو دے دی وہ کافی مہنگی گاڑی تھی مجھ سے نہ برداشت ہوئی تو میں نے ایک دن مطالبہ کر دیا کہ گھر میں بھی میرے جو پیسے لگے ہیں مجھے واپس کرو ( اور یہاں پر ایک اٹل حقیقت) وہ یہ کہ یہ سب کچھ میں اس لئے واپس لے رہی تھی کہ میں اپنی اس کزن کی باتوں میں آ کر خلع کا فیصلہ کر چکی تھی اللہ اسکو ہدایت دے مگر جو ایسے کسی کا گھر برباد کرتا ہے خدا اسے بھی کبھی خوش رہنے نہیں دیتا خوش وہ بھی آج نہیں انہوں نے وہ گاڑی بیچی اور مجھے میرے پیسے واپس کر دیئے باقی جو پیسے بچے تھے انہوں نے نوکری چھوڑ دی اور ان پیسوں سے اپنا بزنس شروع کر دیا ۔ ایک ہوٹل اوپن کیا تھا آج انکے پاس اپنے ذاتی تین ہوٹل ہیں اور میں غرور وتکبر میں ڈوبی ہوئی ایک عورت نفسیاتی مریض بن چکی ہوں ۔ جب وہ پیسے مجھے مل گے میں نے طلاق کا مطالبہ کر دیا انہوں نے اور میرے گھر والوں نے مجھے تب بھی بہت سمجھایا مگر میری عقل پر پردہ پڑ چکا تھا نہیں سمجھی ۔کیونکہ میری جو کزن ہے اب یہاں اگر مزید سچ لکھوں تو مجھ سے ہونے والی غلطیاں مجھے خود ایک عورت ذات کی تو لگتی ہیں ۔ بہرحال میں اپنی کزن کی باتوں میں آ گئ اسکا جو دیور تھا اسکی پہلی بیوی فوت ہو چکی تھی اسکی ایک بیٹی بھی تھی اور وہ آرمی میں میجر تھا میں بھی ذیادہ کی لالچ میں اور بڑے عہدوں کی لالچ میں اسکی باتوں میں آ گئی اور طلاق لے لی ۔ اور میری زندگی کی دوسری سب سے بڑی غلطی طلاق مجھے انہوں نے ایک شرط رکھ کر دی تھی کہ میں بچے تمہیں نہیں دوں گا میں نے اس شرط کو قبول کیا اور طلاق لے لی ۔ عدت پوری ہونے کے بعد میری کزن نے اپنے دیور کے ساتھ شادی کروا دی چار ماہ وہاں رہی

کسی بھی نوٹیفکیشن کی تصدیق کے لیے محکمہ تعلیم کی جانب سے رابطہ نمبر جاری
کسی بھی نوٹیفکیشن کی تصدیق کے لیے محکمہ تعلیم کی جانب سے رابطہ نمبر جاری

*Boycott 🚫* ایک دفع کا ذکر ہے ایک بادشاہ نے کنواں کھدوایا اور علان کیا کہ رات کے وقت ہر شخص اس میں ایک ایک پیالہ دودھ کا ڈال
*Boycott 🚫* ایک دفع کا ذکر ہے ایک بادشاہ نے کنواں کھدوایا اور علان کیا کہ رات کے وقت ہر شخص اس میں ایک ایک پیالہ دودھ کا ڈال جائے ایک شخص نے سوچا رات کا وقت ہے اگر میں دودھ کی جگہ پانی ڈال آؤں تو کونسا کسی کو معلوم ہوگا اور اتنے دودھ میں میرے ایک پیالی پانی سے کیا فرق پڑنا جب صبح ہوئی تو سارا کنواں پانی سے بھرا ہوا تھا پتہ ہے کیوں؟ کیوں کہ سب نے یہی سوچا کے میرا ایک پیالہ پانی ڈال دینے سے کیا فرق پڑے گا *بلکل اسی طرح 22 کروڑ بیٹھ کر یہی سوچ رہے ہیں کہ میرے ایک کے کوک/ پیپسی نہ پینے سے کیا فرق پڑے گا* 😭💔

“ہماری گڑیا رانی” جب گڑیا 16 سال کی ہوئی تو امی نے کہا: “ابھی بچی چھوٹی ہے، ابھی تو گڑیوں سے کھیلتی ہے، شادی کیا خاک کرے گی!” 17 کی ہوئی تو ابو نے کہا: “پہلے ایف ایس سی کرلے، پھر دیکھیں گے، ابھی پڑھائی ضروری ہے۔” 18 پر پہنچی تو خالہ نے رشتہ کروایا، لیکن امی نے ناک سکوڑ لی: “لڑکا بی کام ہے، ہماری گڑیا تو انجنئیرنگ کرے گی، کیسے بنے گا جوڑا؟” 20 کی ہوئی تو ایک رشتہ آیا، لڑکا خوبرو مگر نوکری نئی نئی ملی تھی۔ ابو بولے: “نوکری کا کیا ہے، آج ہے کل نہیں، ہم بیٹی کو رسک میں نہیں ڈال سکتے۔” 21 کی ہوئی تو کزن نے پسند کا اظہار کیا، پر ذات کا مسئلہ نکل آیا۔ “ہم تو صدیوں سے زمیندار ہیں، یہ تو دکان دار ہیں!” 22 پر خالہ نے پھر کزن کی طرف اشارہ کیا، امی بولیں: “ہونہہ! گندمی رنگ کا ہے، ہماری بیٹی تو چاند کی پری لگتی ہے!” 23 کی عمر میں گڑیا خود بھی راضی ہو گئی، مگر لڑکا کرائے کے گھر میں رہتا تھا، امی نے کہا: “ہماری بیٹی نے محل میں پلنا ہے، یہ تو ڈیڑھ مرلے کا خواب ہے!” 25 کی ہوئی تو ایک لڑکا آیا جو سب میں فِٹ تھا، مگر عمر میں چار سال بڑا تھا۔ ابو بولے: “ہمیں ہم عمر چاہیے، ایسا نہ ہو کہ لوگ باپ بیٹی سمجھ بیٹھیں!” 28 پر ایک بیوہ کا رشتہ آیا، مالدار تھا، کاروبار چلتا تھا، امی: “ہم رنڈوے کو کیوں دیں بیٹی؟ کہیں یہ پہلے والی کی طرح…” 30 پر گڑیا کے ماتھے کی لکیریں گہری ہو گئیں، ابو پیر صاحب کے آستانے پر: “بابا جی دعا کریں، رشتے تو آتے ہیں مگر دل نہیں لگتا!” 35 کی ہوئی تو لوگ پوچھنے لگے: “ابھی تک بیٹی کو رخصت نہیں کیا؟ کوئی مسئلہ ہے؟” امی نے پردہ ڈالنے کو کہا: “خود ہی نہیں مانتی، ہر رشتہ ٹھکرا دیتی ہے!” 38 پر رشتہ آیا، ساٹھ سال کا چوہدری صاحب، چار بچے، تین پوتے، ایک چھوٹی والی بیوی بھی، امی بولیں: “چلو جی اللہ نے موقع دیا ہے، آخری رشتہ ہے، ویسے بھی بیٹی کو کون سا گھر چاہیے، بس آسرا ہو!” 40 پر گڑیا نے سب کو حیران کر دیا: “میں نے شادی نہیں کرنی، اب میں گڑیا نہیں، میں خود کی ماں بن چکی ہوں!” 🔘 سبق: اگر بیٹی کو کھلونا سمجھ کر شوکیس میں رکھو گے تو وقت گزرنے پر وہ خود ہی اپنی قیمت طے کرنا سیکھ جائے گی۔ رشتے آسمان سے نہیں اُترتے، اور قسمت کا دروازہ ہر وقت کھلا نہیں رہتا۔ بیٹی کو بوجھ نہ بنائیں، اُس کی زندگی سنوارنے میں اپنا فرض نبھائیں، ورنہ… انجام آپ نے پڑھ ہی لیا! 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 میری ماں 🔷 #مدرز_ڈے_بہت_بہت_مبارک_ہو۔ یومِ ماں، ماں کا عالمی دن، یوم مادر یا ماؤں کا دن ہر سال یہ دن مختلف ممالک میں منایا جاتا ہے، عالمی طور پر اس کی کوئی ایک متفقہ تاریخ نہیں، یہ دن مختلف ممالک میں مختلف تاریخوں کو منایا جاتا ہے۔ پاکستان اور اطالیہ سمیت اکثر ممالک یہ دن مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے۔۔ اور کئی ایسے ممالک بھی ہیں جو یہ دن جنوری ،مارچ ،نومبر یا اکتوبر میں مناتے ہیں۔ اس دن کو منانے کا مقصد اپنی والدہ کی اہمیت کا احساس کرنا، ان کی خدمت کرنا اور انھیں خوشی دینا ہے۔ یوم مادر یورپین ممالک میں مئی کے دوسری اتوار اور اکثر عرب ممالک میں ماوں کا عالمی دن 21 مارچ کو منایا جاتا ہے۔ پروردیگار عالم نے اپنی اس دنیا میں انسان کو ہر طرح کی نعمات سے نوازا۔ دنیا کی ہر چیز حضرت انسان کے لیے بنائی مگر اشرف المخلوقات کو اپنے لیے بنایا۔ نوازی جانے والی نعمات میں عظیم نعمت ماں کی صورت میں عنایت فرماۂی مگر ماں جیسی نعمت کا کوئی نعم البدل کسی چیز کو قرار نہ دیا۔ ماں ایک منفرد نعمت ہے کہ جس کی مثال کسی چیز سے نہیں دی جا سکتی۔ ہر ماں اپنی اولاد سے محبت کرتی ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ کوئی قید نہیں ہے کہ ماں انسان کی ہو یا حیوان کی، چرند کی ہو یا پرند کی۔ ماں ماں ہوتی ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ کہ جن کی ماں زندہ ہے اور وہ خدمت جیسی نیکی سے مالا مال ہیں۔ اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے میری ماں کو کہ جنھوں نے ہمیں بڑے پیار و محبت سے پالا اور ولاۓ اہلبیتؑ ہماری گھٹی میں پلائی، ماں کے ساتھ گزارا ہوا ایک ایک لمحہ آج خواب کی مانند لگ رہا ہے۔ حرمتِ لفظ و معانی کی علمداری کی میں نے کب راہِ محبت میں ریاکاری کی عمر بھر ماں کی نصیحت پہ زمانے میں اسد فاطمہ زہرا کے بچوں سے وفاداری کی 💥 اینا جاروس نامی ایک امریکی خاتون نے ایک صدی قبل امریکہ میں یوم مادر یا مدرز ڈے کی بنیاد رکھی تھی۔ 1905 میں اینا جارویس کی والدہ مسز جارویس کا انتقال ہوا تو اس دوران غمزدہ اینا نے اپنی والدہ کے خواب کو پورا کرنے کا عہد کیا تھا حالانکہ مدرز ڈے جیسے یادگار دن کے متعلق ان کا خیال اس وقت بالکل ہی مختلف تھا۔ 💔 ایک سورہ فاتحہ کی گزارش ہے میری ماں کے لیے۔ اللہ پاک آپ کے مرحومین کی بخشش فرمائے۔ خداوند متعال حیات ماؤں کو دراز زندگی عطا فرمائے اور جو مائیں اس دنیا سے جا چکی ہیں ان کو بیبی فاطمہ زھراء سلام الله عليها کے جوار میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمين https://t.me/islamwitheman/6221 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

🌹 بنیان مرصوص 🌹 آپریشن "بنیان مرصوص" میں استعمال ہونے والا یہ لفظ «بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ» لقب ہے امیرالمومنین مولا علی علیہ الصلواۃ والسلام کا۔ «بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ ۔ سیسہ پلائی ہوئی دیوار» سے مراد امیرالمومنین مولا علی علیہ الصلواۃ والسلام ہیں۔ اِنَّ اللّـٰهَ يُحِبُّ الَّـذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِىْ سَبِيْلِـهٖ صَفًّا كَاَنَّـهُـمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ (سورۃ الصف:4) بے شک اللہ تو ان کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے۔ 💞 (بحذف اسناد) ابنِ عباس سے روایت ہے کہ: علی علیہ الصلواۃ والسلام صفِ قتال میں تھے کہ جیسے سیسہ پلائی دیوار ہوں تو اللہ نے ان (علیہ الصلواۃ والسلام) کی مدح فرمائی اور جیسے علی علیہ الصلواۃ والسلام نے مشرکوں کو قتل کیا ایسا قتال کسی نے بھی نہیں کیا۔ *وَوَ قَالَ أَيْضاً حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ‌ عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ ص إِذَا صَفَّ إِلَى الْقِتَالِ كَأَنَّهُ بُنْيَانُ مَرْصُوصٌ يَتْبَعُ مَا قَالَ اللَّهُ فِيهِ فَمَدَحَهُ اللَّهُ وَ مَا قَتَلَ الْمُشْرِكِينَ كَقَتْلِهِ أَحَدٌ.* 📕 تأويل الآيات، ط مؤسسة النشر الإسلامي، شرف الدين الأسترآبادي، السيد علي، صفحہ 661۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/6218 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

"بنیان المرصوص" کیا ہے ؟ "بُنیانٌ مَرصوصٌ" قرآنِ مجید میں سورۃ الصف، آیت 4 سے لیا گیا ہے : اللَّهُ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنيَانٌ مَّرْصُوصٌ ترجمہ: "اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔" لغوی معنی: بنیان: عمارت، بنیاد، دیوار مرصوص: سیسہ پلائی ہوئی، مضبوطی سے جُڑی ہوئی، سختی سے جمی ہوئی یعنی ایک ایسی دیوار جو پختہ ہو، جس میں کوئی دراڑ یا خلا نہ ہو۔ مفہوم اور مقصد: یہ آیت اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے اتحاد، نظم و ضبط اور یکجہتی کو بیان کرتی ہے۔ ان مجاہدین کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ صف باندھ کر، مکمل اتحاد کے ساتھ لڑتے ہیں جیسے ایک مضبوط دیوار ہو۔ تفسیر : علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ آیت مسلمانوں کو اتحاد، نظم، اور باہم یکجہتی کی تلقین کرتی ہے۔ امام رازی کے مطابق "بنیان مرصوص" سے مراد ہے وہ جماعت جو دل و جان سے اللہ کے راستے میں کھڑی ہو اور ان کے درمیان فکری و عملی اتحاد ہو۔ مولانا مودودی نے کہا کہ یہ آیت اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ مسلمان اللہ کی راہ میں منظم، متحد اور ایک مقصد کے تحت کام کریں، چاہے میدانِ جنگ ہو یا کوئی دوسرا کام۔ 🔘 عملی پیغام: یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ امت مسلمہ میں اتحاد ہو، ہر فرد اپنی جگہ مضبوطی سے کھڑا رہے۔ اللہ کی راہ میں جدوجہد منظم طریقے سے کی جائے۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

photo content

photo content