ISLAM WITH EMAN
رفتن به کانال در Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
نمایش بیشتر1 284
مشترکین
-124 ساعت
-37 روز
-730 روز
آرشیو پست ها
1 284
🔷 مچھر مکھیوں کے خاتمے کیلئے 🔷
عزیزدوستو!
جو بہنیں اور بیٹیاں گھر کے فرش،ٹائلز ،کچن اور باتھ روم کے گندے فرش اور مچھر مکھیوں سے تنگ ہیں ان کے لئے ایک پاوڈر بنانے کا" نسخہ" حاضر ھے۔
*کسی بھی ڈیٹرجنٹ کے 4/5 کھانے والے چمچ لیں۔
*لونگ کا پاوڈر بنا لیں جو ڈیڑھ چمچ تک بن جائے۔
*ٹاٹری کے دو چمچ لیں۔
*میٹھا سوڈا 2 چمچ لیں۔
*نمک 2 چمچ لے لیں۔
ان سب کو اچھی طرح مکس کر کے کسی جار میں رکھ لیں۔ایک ڈیڑھ ماہ کے لئے آپ کو مزید پاوڈر بنانا نہیں پڑے گا۔
جب بھی پوچا لگانا ھو تو ایک برتن میں پانی لیں اور اس میں ڈش واشنگ لیکوڈ یا ایک چمچ شیمپو اور ایک چمچ سرکہ ڈال لیں اور ساتھ ہی ایک چمچ اس پاوڈر کا ملا لیں اور اچھی طرح محلول بنا کر کسی ڈبے کی مدد سے تھوڑا تھوڑا پوچے پہ ڈالتی جائیں اور فرش صاف کرتی جائیں ،چولہا یا کچن کا کاونٹر ٹاپ صاف کرنا ھو یا باتھ روم کا فرش ،اس کے استعمال سے ہی صاف کریں۔فرش اور ٹائلز کی میل بھی صاف ھوگی،گھر میں اچھی خوشبو بھی آئے گی اور گھر سے مچھر اور مکھیاں بھی بھاگ جائیں گے۔
جب چولہا یا کاونٹر ٹاپ صاف کرنا ھو تو کسی کپڑے کو محلول میں بھگو کر اس سے صاف کریں اور اس کا استعمال فرش صاف کرنے کے لئےروزانہ کرنا ھو گا۔
مجھے بھی یہ پاوڈر بنانا کسی نے بتایا تھا اور میں نے سوچا چراغ سے چراغ جلا دوں اور آپ تک بھی پہنچا دوں۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 ہمارا معاشرہ 🔷
معاشرے کو تیزاب سے غسل دینے کی ضرورت ہے۔۔۔۔
تھانیدار کے دفتر میں وہ اکیلا ہی تھا۔ بوڑھا کسان اندر داخل ہوا، اس نے اپنے کُرتے کے کھیسے سے خاکی لفافہ نکال کے میز پر رکھتے ہوئے لرزتی آواز میں کہا:
" صاب جی "اب تو میرے پوتے کو چھوڑ دیں " تھانیدار نے جلدی سے وہ لفافہ میز سے اُٹھا کر اپنی پینٹ کی جیب میں ڈال لیا ۔ پھر نظروں سے بوڑھے کسان کو وہاں سے جانے کا اشارہ کرتے ہوئے پوچھا :
"پورے ہیں نا.....؟"
بوڑھے کسان نے گردن ہاں میں ہلاتے ہوئے التجائیہ نظروں سے تھانیدار کی طرف دیکھا تو تھانیدار روکھے لہجے میں کہنے لگا :
"شام تک تیرا پوتا گھر پہنچ جائے گا"
اس کے بعد تھانیدار نے کسان کو وہاں سے جانے کا اشارہ کر دیا ۔ کسان وہاں سے چلا گیا ۔
تھانیدار سرکاری گاڑی میں بیٹھ کر ضلع کچہری گیا، وہاں جاتے ہی اس نے وہ لفافہ ہائی کورٹ کے وکیل کو دے دیا، جو اپنی لشکارے مارتی گاڑی میں بیٹھا ہوا پہلے سے ہی اس کا منتظر تھا ۔
" جناب اب میرے سالے کے اس کیس کو ختم بھی کروا دیں ۔" تھانیدار نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
" تھانیدار صاحب ! آپ کے سالے نے ایک بیوہ کی کروڑوں کی زمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے"
وکیل صاحب نے یہ بتانے کے بعد وہ لفافہ اپنی گاڑی کے ڈیش بورڈ میں رکھا ۔ تھانیدار نے صرف فاتحانہ مسکراہٹ پر اکتفاء کیا اور وکیل صاحب کی گاڑی سے اتر گیا ۔
لاہور کی طرف روانہ ہونے سے پہلے وکیل صاحب نے موبائل پر کسی کو ایک میسج کیا ۔
جیسے ہی وکیل صاحب ٹھوکر نیاز بیگ لاہور پہنچے انہوں نے باب لاہور کے نیچے سے گزرنے کے بعد نیب دفتر کے عین سامنے سڑک کنارے اپنی گاڑی کھڑی کرتے ہوئے ارد گرد دیکھنا شروع کردیا ۔ ایک منٹ کے اندر اندر ان کے پہلو میں ایک مشہور ٹی وی چینل کا کرائم رپورٹر آکر بیٹھ گیا۔
وکیل صاحب نے اسے دیکھتے ہی اپنا کالا چشمہ اتارتے ہوئے ڈیش بورڈ کی طرف نظروں ہی سے اشارہ کر دیا ۔
کرائم رپورٹر نے ڈیش بورڈ سے وہ خاکی لفافہ نکالتے ہوئے پوچھا :
" کتنے ہیں....؟ "
" ایک کاپی " وکیل صاحب نے بتایا ۔ رپورٹر نے شکوے سے بھرپور نگاہ ان پر ڈالی۔
" ایک قتل ہی تو ہوا ہے میرے بیٹے سے..... ہاتھ ہولا رکھا کرو اور بھی مل جائیں گے ۔"
وکیل کی بات سنتے ہی کرائم رپورٹر دروازے کو زور سے مارتے ہوئے گاڑی سے اتر گیا ۔
کرائم رپورٹر نے وہ لفافہ اپنی جیکٹ کی پاکٹ میں ڈالا اور ہسپتال کی راہ پکڑی ۔
"سر نارمل ڈلیوری ہو سکتی ہے" نرس ابھی ڈاکٹر کو یہ بتا ہی رہی تھی، کہ کرائم رپورٹر ڈاکٹر کے آفس میں داخل ہوا ۔ ڈاکٹر نے نرس کو وہاں سے جانے کا اشارہ کر دیا ۔ نرس کے جاتے ہی کرائم رپورٹر نے وہ لفافہ اپنی جیکٹ کی جیب سے نکال کر میز پر رکھتے ہوئے کہا :
" ڈاکڑ صاحب ' یہ ایک لاکھ ہیں ، آپریشن کے دوران میری بیوی اور بچے کو کچھ نہیں ہونا چاہیے"۔
ڈاکڑ صاحب نے وہ لفافہ اپنی میز کی دراز میں رکھا اسے لاک لگا کر چابی اپنے سفید کوٹ کی پاکٹ میں ڈالی اور آپریشن تھیٹر کی طرف چل دئیے ۔
کامیاب آپریشن کے بعد ڈاکڑ صاحب اپنے آفس لوٹے اور آتے ہی ٹریول ایجنٹ کو کال ملا دی:
" ہاں بھئی، میرے ہسپتال سے آکر پیسے اور پاسپورٹ لے جاو" ڈاکڑ صاحب دوسرا آپریشن کر کے لوٹے تو ٹریول ایجنٹ ان کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے دراز سے وہ لفافہ نکال کر اسے دیتے ہوئے بتایا :
" یہ ایک لاکھ ہے باقی پیسے ویزہ لگنے کے بعد..... " ٹریول ایجنٹ نے وہ لفافہ اپنی شلوار کی جیب میں رکھتے ہوئے کہا:
" ڈاکٹر صاحب "آپ ہر سال عمرہ کرنے جاتے ہیں " ایمان والے " تو آپ جیسے ہی ہوتے ہیں ۔"
Copied...
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
پنجاب بھر کے Division کے اضلاع اور تحصیلوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا:
ضلع کوٹ ادو اور تحصیل چوک سرور شہید بھی نئے نوٹیفکیشن میں شامل کر دئیے گئے
پاکستان کا صوبہ پنجاب 10 ڈویژنز، 41 اضلاع اور 156 تحصیلوں پر مشتمل ہے
لاہور ڈویژن کے 4 اضلاع، لاہور، قصور ،شیخوپورہ، ننکانہ صاحب کی 22 تحصیلیں ہیں
گوجرانوالہ ڈویژن کے 3 اضلاع گوجرانوالہ ،سیالکوٹ، نارووال کی 11 تحصیلیں ہیں
گجرات ڈویژن کے 4 اضلاع گجرات ،حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، وزیر آباد کی 12 تحصیلیں ہیں
راولپنڈی ڈویژن 6 اضلاع راولپنڈی، مری ،چکوال ،اٹک ،جہلم ،تلہ گنگ کی 24 تحصیلوں پر مشتمل ہے
ملتان ڈویژن 4 اضلاع ملتان، لودھراں، وہاڑی، خانیوال کی 14 تحصیلوں پر مشتمل ہے
ساہیوال ڈویژن 3 اضلاع ساہیوال، پاکپتن ،اوکاڑہ کی 7 تحصیلوں پر مشتمل ہے
بہاولپور ڈویژن 3 اضلاع بہاولپور ،بہاولنگر، رحیم یار خان کی 15 تحصیلوں پر مشتمل ہے
ڈیرہ غازی خان ڈویژن 6 اضلاع ڈیرہ غازی خان، تونسہ ،راجن پور، لیہ ،مظفرگڑھ، کوٹ ادو کی 16 تحصیلوں پر مشتمل ہے
فیصل آباد ڈویژن 4 اضلاع فیصل آباد ،جھنگ ،چنیوٹ ،ٹوبہ ٹیک سنگھ کی 17 تحصیلوں پر مشتمل ہے
سرگودھا ڈویژن 4 اضلاع سرگودھا ،خوشاب، میانوالی، بھکر کی 18 تحصیلوں پر مشتمل ہے
سب سے زیادہ اضلاع راولپنڈی ڈویژن اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں ہیں
سب سے زیادہ تحصیلیں راولپنڈی ڈویژن اور لاہور ڈویژن میں ہیں..
1 284
آجکل گرمی کا موسم ہے اور تربوز کا سیزن 🍉
تربوز چیک کرنے کے تین چار طریقے ہیں۔
پہلا طریقہ:-
تربوز گہرا سبز ہو اور ایک طرف سے پیلا ہو.
دوسرا طریقہ:-
تربوز کی ڈنڈی سے چیک کریں اگر ڈنڈی والی جگہ سبز ہو تو تربوز کچہ ہے اور ڈنڈی والی جگہ تھوڑی کالی اور پیلی ہو تو تربوز پکا ہے.
تیسرا طریقہ:-
تربوز کو اپنے ہاتھ کے انگوٹھے سے دبائیں اگر تربوز سخت ہو تو تربوز کچہ ہے اور آگر تھوڑا دب جانے تو پکا ہے.
چوتھا طریقہ:
تربوز کا وزن کریں اگر سائز میں بڑا ہو اور وزن میں کم ہو تو تربوز سو فیصد کچہ ہے اگر تربوز چھوٹا ہو اور بھاری ہو تو پکا تربوز ہے.
پانچواں طریقہ،`
تربوز کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑیں ایک اوپر اور ایک نیچے رکھیں اب اوپر ہاتھ سے تربوز کو بجائیں اور نیچے والے میں ہلکی جُنبش محسوس کریں تو تربوز پکا ہے.
🌹🍉🌹
1 284
ریزہ ریزہ کرکے زمین کے برابر کر دے گا، اس وعدے سے مراد قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کا ظہور ہے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں حضور نبی کریمﷺنے اس دیوار میں تھوڑے سے سوراخ کو فتنے کے قریب ہونے سے تعبیر فرمایا۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ یاجوج ماجوج ہر روز اس دیوار کو کھودتے ہیں اور پھر کل کیلئے چھوڑ دیتے ہیں لیکن جب اللہ کی مشیات ان کے خروج کی ہوگی تو پھر وہ کہیں گے کل اِن شاء اللہ اس کو کھودیں گے اور پھر دوسرے دن وہ اس سے نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور زمین میں فساد پھیلائیں گے یعنی انسانوں کو بھی کھانے سے گریز نہیں کرینگے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوگا کہ وہ مسلمانوں کو طور کی طرف جمع کرلے کیونکہ یاجوج ماجوج کا مقابلہ کسی کے بس میں نہ ہوگا۔ حضرت عیسیٰ اور ان کے ساتھی اس وقت ایسی جگہ کھڑے ہوں گے جہاں غذا کی سخت قلت ہوگی پھر لوگوں کی درخواست پر حضرت عیسیٰ یاجوج ماجوج کیلئے بددعا فرمائیں گے پس اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں اور کانوں میں کیڑا پیدا کر دے گا جو بعد میں پھوڑا بن جائے گاجس کے پھٹنے سے یہ ہلاک ہونا شروع ہو جائیں گے ۔ سب سے سب مر جائیں گے ، ان کی لاشوں سے ایک بالشت زمین بھی خالی نہ ہوگی اور ہر طرف ان کی لاشوں کی گندی بو پھیل جائے گی ، پھر عیسیٰ ابن مریم دعا کریں گے تو اللہ جل و شانہ اونٹ کی گردن برابر پرندے بھیجیں گے جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر جانے کہاں پھینک دینگے ، پھر ایک بارش ہوگی جس سے کل زمین صاف شفاف ہو جائے گی اور ہر طرف ہریالی و خوشحالی ہوگی۔ صحیح مسلم میں نواس بن سمعان کی روایت میں صراحت ہے کہ یاجوج ماجوج کا ظہور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ان کی موجودگی میں ہوگا ، جس سے ان مفسرین کی تردید ہو جاتی ہے، جو کہتے ہیں کہ تاتاریوں کا مسلمانوں پر حملہ یا منگول ترک جن میں سے چنگیز بھی تھا یا روسی اور چینی قومیں یہی یاجوج و ماجوج ہیں، جن کا ظہور ہو چکا یا مغربی قومیں ان کا مصداق ہیں کہ پوری دنیا میں ان کا غلبہ و تسلط ہے۔ یہ سب باتیں غلط ہیں، کیونکہ یاجوج و ماجوج کے غلبے سے سیاسی غلبہ مراد نہیں ہے بلکہ قتل و غارت گری اور شر و فساد کا وہ عارضی غلبہ ہے جس کا مقابلہ کرنے کی طاقت مسلگی، تاہم پھر وبائی مرض سے سب کے سب آن واحد میں لقمہ اجل بن جائیں گے.
Copied
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/6132
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 یاجوج ماجوج اور سد ذوالقرنین 🔷
یاجوج و ماجوج حضرت نوح علیہ السلام کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ہیں۔ یہ انسانی نسل کے دو بڑے وحشی قبیلے گزر چکے ہیں جو اپنے اِرد گرد رہنے والوں پر بہت ظلم اور زیادتیاں کرتے اور انسانی بستیاں تک تاراج کر دیتے تھے۔
قرآن مجید کی آیات، توریت کے مطالب اور تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ شمال مشرقی ایشیا میں زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے وحشیانہ حملوں کے نتیجہ میں ایشیا کے جنوبی اور مغربی علاقوں میں مصیبت برپا کرتے تھے۔ بعض تاریخ دانوں نے ان کے رہائشی علاقے کو ماسکو اور توبل سیک کے آس پاس بتلایا ہے اور بعض کا خیال ہے کہ یاجوج و ماجوج کے شہر تبت اور چین سے بحرمنجمد شمالی تک اور مغرب میں ترکستان تک پھیلے ہوئے تھے۔ حضرت ذوالقرنین کے زمانے میں یاجوج و ماجوج کے حملے وبال جان بن گئے تھے، ان کی روک تھام کیلئے ذوالقرنین نے پہاڑوں کے مابین اونچی اور مضبوط سد (دیوار) تعمیر فرمائی۔ ذوالقرنین اور سدِ ذوالقرنین کا ذکر قرآن کریم کی سورة الکہف میں موجود ہے۔ جس ذوالقرنین کا قرآن میں ذکر ہے، تاریخی طور پر وہ کون شخص ہے، تاریخ کی مشہور شخصیتوں میں یہ داستان کس پر منطبق ہوتی ہے، اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ تاریخ کی کتابوں کے مطالعے کے بعد لوگوں نے ذوالقرنین کی شخصیت اور سدِ ذوالقرنین سے متعلق مختلف اندازے لگائے ہیں۔ بہت سے قدیم علماء اور مفکر سکندرِ اعظم کو ہی ذوالقرنین مانتے ہیں مگر بعض اس کا انکار کرکے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ ذوالقرنین دراصل حضرت سلیمان علیہ السلام کا خطاب تھا۔ جدید زمانے کے کچھ مفسر و مفکر ذوالقرنین کو قدیم ایرانی بادشاہ سائرس اعظم (کورش اعظم)کا دوسرا نام قرار دیتے ہیں اور یہ نسبتاً زیادہ قرین قیاس ہے، مگر بہرحال ابھی تک یقین کے ساتھ کسی شخصیت کو اس کا مصداق نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ذوالقرنین کی بابت قرآن نے صراحت کی ہے کہ وہ ایسا حکمران تھا جس کو اللہ نے اسباب و وسائل کی فروانی سے نوازا تھا۔ وہ مشرقی اور مغربی ممالک کو فتح کرتا ہوا ایک ایسے پہاڑی درّے پر پہنچا جس کی دوسری طرف یاجوج اور ماجوج تھے۔ قرآن کریم کی سورة کہف میں بحوالہ یاجوج ماجوج ذوالقرنین کے حالات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جب وہ اپنی شمالی مہم کے دوران سو دیواروں (پہاڑوں) کے درمیان پہنچا تو وہاں اسے ایسی قوم ملی جس کی زبان ناقابل فہم تھی تاہم جب ترجمان کے ذریعے گفتگو ہوئی تو انہوں نے عرض کیا کہ یاجوج ماجوج اس سرزمین پر فساد پھیلاتے ہیں لہٰذا تو ہمارے اور ان کے درمیان ایک سد (دیوار) تعمیر کر دے۔ چنانچہ پھر یہ تفصیل ہے۔ کس طرح ذوالقرنین نے اُس قوم کو یاجوج ماجوج کی یلغار سے بچانے کیلئے دیوار بنائی اور جو دیوار بنائی گئی وہ کوئی خیالی اور معنوی نہیں بلکہ حقیقی اور حسی ہے جو کہ لوہے اور پگھلے ہوئے تانبے سے بنائی گئی تھی جس سے وقتی طور پر یاجوج ماجوج کا فتنہ دب گیا۔ جب یہ دیوار تعمیر ہو گئی تو ذوالقرنین نے اللہ کا شکر ادا کیا جس نے یہ دیوار بنانے اور لوگوں کو آئے دن کی پریشانیوں سے نجات دلانے کی توفیق بخشی مگر ساتھ ہی لوگوں کو یہ بھی بتا دیا کہ یہ دیوار اگرچہ بہت مضبوط اور مستحکم ہے مگر یہ لازوال نہیں جو چیز بھی بنی ہے بالآخر فنا ہونے والی ہے اور جب میرے رب کے وعدے کا وقت قریب آئیگا تو وہ اس کو پیوندخاک کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔ رہی یہ بات کہ سدِ ذوالقرنین کہاں واقع ہے؟ تو اس میں بھی اختلافات ہیں کیونکہ آج تک ایسی پانچ دیواریں معلوم ہو چکی ہیں جو مختلف بادشاہوں نے مختلف علاقوں میں مختلف ادوار میں جنگجو قوموں کے حملوں سے بچائو کی خاطر بنوائی تھیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ مشہور دیوارِ چین ہے جس کی لمبائی کا اندازہ بارہ سو میل سے لے کر پندرہ سو میل تک کیا گیا ہے اور اب تک موجود ہے لیکن واضح رہے کہ دیوارِ چین لوہے اور تابنے سے بنی ہوئی نہیں ہے اور نہ وہ کسی چھوٹے کوہستانی درّے میں ہے ، وہ ایک عام مصالحے سے بنی ہوئی دیوار ہے۔ بعض کا اصرار ہے کہ یہ وہی دیوار ”مارب” ہے کہ جو یمن میں ہے، یہ ٹھیک ہے کہ دیوارِ مارب ایک کوہستانی درے میں بنائی گئی ہے لیکن وہ سیلاب کو روکنے کیلئے اور پانی ذخیرہ کرنے کے مقصد سے بنائی گئی ہے۔ ویسے بھی وہ لوہے اور تانبے سے بنی ہوئی نہیں ہے جبکہ علماء و محققین کی گواہی کے مطابق سرزمین ”قفقاز” میں دریائے خزر اور دریائے سیاہ کے درمیان پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے کہ جو ایک دیوار کی طرح شمال اور جنوب کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے۔ اس میں ایک دیوار کی طرح کا درّہ بھی موجود ہے جو مشہور درّہ ”داریال” ہے۔ یہاں اب تک ایک قدیم تاریخی لوہے کی دیوار نظر آتی ہے، اسی بناء پر بہت سے لوگوں کا نظریہ ہے کہ دیوارِ ذوالقرنین یہی ہے۔ اگرچہ سدِ ذوالقرنین بڑی مضبوط بنا ئی گئی ہے جس کے اوپر چڑھ کر یا اس میں سوراخ کرکے یاجوج ماجوج کا اِدھر آنا ممکن نہیں لیکن جب اللہ کا وعدہ پورا ہوگا تو وہ اسے
1 284
ریزہ ریزہ کرکے زمین کے برابر کر دے گا، اس وعدے سے مراد قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کا ظہور ہے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں حضور نبی کریمﷺنے اس دیوار میں تھوڑے سے سوراخ کو فتنے کے قریب ہونے سے تعبیر فرمایا۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ یاجوج ماجوج ہر روز اس دیوار کو کھودتے ہیں اور پھر کل کیلئے چھوڑ دیتے ہیں لیکن جب اللہ کی مشیات ان کے خروج کی ہوگی تو پھر وہ کہیں گے کل اِن شاء اللہ اس کو کھودیں گے اور پھر دوسرے دن وہ اس سے نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور زمین میں فساد پھیلائیں گے یعنی انسانوں کو بھی کھانے سے گریز نہیں کرینگے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوگا کہ وہ مسلمانوں کو طور کی طرف جمع کرلے کیونکہ یاجوج ماجوج کا مقابلہ کسی کے بس میں نہ ہوگا۔ حضرت عیسیٰ اور ان کے ساتھی اس وقت ایسی جگہ کھڑے ہوں گے جہاں غذا کی سخت قلت ہوگی پھر لوگوں کی درخواست پر حضرت عیسیٰ یاجوج ماجوج کیلئے بددعا فرمائیں گے پس اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں اور کانوں میں کیڑا پیدا کر دے گا جو بعد میں پھوڑا بن جائے گاجس کے پھٹنے سے یہ ہلاک ہونا شروع ہو جائیں گے ۔ سب سے سب مر جائیں گے ، ان کی لاشوں سے ایک بالشت زمین بھی خالی نہ ہوگی اور ہر طرف ان کی لاشوں کی گندی بو پھیل جائے گی ، پھر عیسیٰ ابن مریم دعا کریں گے تو اللہ جل و شانہ اونٹ کی گردن برابر پرندے بھیجیں گے جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر جانے کہاں پھینک دینگے ، پھر ایک بارش ہوگی جس سے کل زمین صاف شفاف ہو جائے گی اور ہر طرف ہریالی و خوشحالی ہوگی۔ صحیح مسلم میں نواس بن سمعان کی روایت میں صراحت ہے کہ یاجوج ماجوج کا ظہور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ان کی موجودگی میں ہوگا ، جس سے ان مفسرین کی تردید ہو جاتی ہے، جو کہتے ہیں کہ تاتاریوں کا مسلمانوں پر حملہ یا منگول ترک جن میں سے چنگیز بھی تھا یا روسی اور چینی قومیں یہی یاجوج و ماجوج ہیں، جن کا ظہور ہو چکا یا مغربی قومیں ان کا مصداق ہیں کہ پوری دنیا میں ان کا غلبہ و تسلط ہے۔ یہ سب باتیں غلط ہیں، کیونکہ یاجوج و ماجوج کے غلبے سے سیاسی غلبہ مراد نہیں ہے بلکہ قتل و غارت گری اور شر و فساد کا وہ عارضی غلبہ ہے جس کا مقابلہ کرنے کی طاقت مسلگی، تاہم پھر وبائی مرض سے سب کے سب آن واحد میں لقمہ اجل بن جائیں گے.
Copied
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 یاجوج ماجوج اور سد ذوالقرنین 🔷
یاجوج و ماجوج حضرت نوح علیہ السلام کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ہیں۔ یہ انسانی نسل کے دو بڑے وحشی قبیلے گزر چکے ہیں جو اپنے اِرد گرد رہنے والوں پر بہت ظلم اور زیادتیاں کرتے اور انسانی بستیاں تک تاراج کر دیتے تھے۔
قرآن مجید کی آیات، توریت کے مطالب اور تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ شمال مشرقی ایشیا میں زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے وحشیانہ حملوں کے نتیجہ میں ایشیا کے جنوبی اور مغربی علاقوں میں مصیبت برپا کرتے تھے۔ بعض تاریخ دانوں نے ان کے رہائشی علاقے کو ماسکو اور توبل سیک کے آس پاس بتلایا ہے اور بعض کا خیال ہے کہ یاجوج و ماجوج کے شہر تبت اور چین سے بحرمنجمد شمالی تک اور مغرب میں ترکستان تک پھیلے ہوئے تھے۔ حضرت ذوالقرنین کے زمانے میں یاجوج و ماجوج کے حملے وبال جان بن گئے تھے، ان کی روک تھام کیلئے ذوالقرنین نے پہاڑوں کے مابین اونچی اور مضبوط سد (دیوار) تعمیر فرمائی۔ ذوالقرنین اور سدِ ذوالقرنین کا ذکر قرآن کریم کی سورة الکہف میں موجود ہے۔ جس ذوالقرنین کا قرآن میں ذکر ہے، تاریخی طور پر وہ کون شخص ہے، تاریخ کی مشہور شخصیتوں میں یہ داستان کس پر منطبق ہوتی ہے، اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ تاریخ کی کتابوں کے مطالعے کے بعد لوگوں نے ذوالقرنین کی شخصیت اور سدِ ذوالقرنین سے متعلق مختلف اندازے لگائے ہیں۔ بہت سے قدیم علماء اور مفکر سکندرِ اعظم کو ہی ذوالقرنین مانتے ہیں مگر بعض اس کا انکار کرکے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ ذوالقرنین دراصل حضرت سلیمان علیہ السلام کا خطاب تھا۔ جدید زمانے کے کچھ مفسر و مفکر ذوالقرنین کو قدیم ایرانی بادشاہ سائرس اعظم (کورش اعظم)کا دوسرا نام قرار دیتے ہیں اور یہ نسبتاً زیادہ قرین قیاس ہے، مگر بہرحال ابھی تک یقین کے ساتھ کسی شخصیت کو اس کا مصداق نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ذوالقرنین کی بابت قرآن نے صراحت کی ہے کہ وہ ایسا حکمران تھا جس کو اللہ نے اسباب و وسائل کی فروانی سے نوازا تھا۔ وہ مشرقی اور مغربی ممالک کو فتح کرتا ہوا ایک ایسے پہاڑی درّے پر پہنچا جس کی دوسری طرف یاجوج اور ماجوج تھے۔ قرآن کریم کی سورة کہف میں بحوالہ یاجوج ماجوج ذوالقرنین کے حالات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جب وہ اپنی شمالی مہم کے دوران سو دیواروں (پہاڑوں) کے درمیان پہنچا تو وہاں اسے ایسی قوم ملی جس کی زبان ناقابل فہم تھی تاہم جب ترجمان کے ذریعے گفتگو ہوئی تو انہوں نے عرض کیا کہ یاجوج ماجوج اس سرزمین پر فساد پھیلاتے ہیں لہٰذا تو ہمارے اور ان کے درمیان ایک سد (دیوار) تعمیر کر دے۔ چنانچہ پھر یہ تفصیل ہے۔ کس طرح ذوالقرنین نے اُس قوم کو یاجوج ماجوج کی یلغار سے بچانے کیلئے دیوار بنائی اور جو دیوار بنائی گئی وہ کوئی خیالی اور معنوی نہیں بلکہ حقیقی اور حسی ہے جو کہ لوہے اور پگھلے ہوئے تانبے سے بنائی گئی تھی جس سے وقتی طور پر یاجوج ماجوج کا فتنہ دب گیا۔ جب یہ دیوار تعمیر ہو گئی تو ذوالقرنین نے اللہ کا شکر ادا کیا جس نے یہ دیوار بنانے اور لوگوں کو آئے دن کی پریشانیوں سے نجات دلانے کی توفیق بخشی مگر ساتھ ہی لوگوں کو یہ بھی بتا دیا کہ یہ دیوار اگرچہ بہت مضبوط اور مستحکم ہے مگر یہ لازوال نہیں جو چیز بھی بنی ہے بالآخر فنا ہونے والی ہے اور جب میرے رب کے وعدے کا وقت قریب آئیگا تو وہ اس کو پیوندخاک کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔ رہی یہ بات کہ سدِ ذوالقرنین کہاں واقع ہے؟ تو اس میں بھی اختلافات ہیں کیونکہ آج تک ایسی پانچ دیواریں معلوم ہو چکی ہیں جو مختلف بادشاہوں نے مختلف علاقوں میں مختلف ادوار میں جنگجو قوموں کے حملوں سے بچائو کی خاطر بنوائی تھیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ مشہور دیوارِ چین ہے جس کی لمبائی کا اندازہ بارہ سو میل سے لے کر پندرہ سو میل تک کیا گیا ہے اور اب تک موجود ہے لیکن واضح رہے کہ دیوارِ چین لوہے اور تابنے سے بنی ہوئی نہیں ہے اور نہ وہ کسی چھوٹے کوہستانی درّے میں ہے ، وہ ایک عام مصالحے سے بنی ہوئی دیوار ہے۔ بعض کا اصرار ہے کہ یہ وہی دیوار ”مارب” ہے کہ جو یمن میں ہے، یہ ٹھیک ہے کہ دیوارِ مارب ایک کوہستانی درے میں بنائی گئی ہے لیکن وہ سیلاب کو روکنے کیلئے اور پانی ذخیرہ کرنے کے مقصد سے بنائی گئی ہے۔ ویسے بھی وہ لوہے اور تانبے سے بنی ہوئی نہیں ہے جبکہ علماء و محققین کی گواہی کے مطابق سرزمین ”قفقاز” میں دریائے خزر اور دریائے سیاہ کے درمیان پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے کہ جو ایک دیوار کی طرح شمال اور جنوب کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے۔ اس میں ایک دیوار کی طرح کا درّہ بھی موجود ہے جو مشہور درّہ ”داریال” ہے۔ یہاں اب تک ایک قدیم تاریخی لوہے کی دیوار نظر آتی ہے، اسی بناء پر بہت سے لوگوں کا نظریہ ہے کہ دیوارِ ذوالقرنین یہی ہے۔ اگرچہ سدِ ذوالقرنین بڑی مضبوط بنا ئی گئی ہے جس کے اوپر چڑھ کر یا اس میں سوراخ کرکے یاجوج ماجوج کا اِدھر آنا ممکن نہیں لیکن جب اللہ کا وعدہ پورا ہوگا تو وہ اسے
1 284
🔷 سانپ سیڑھی کا کھیل 🔷
سانپ سیڑھی کا کھیل؛ ایک دلچسپ تاریخی اور تربیتی پہلو۔۔۔
13ویں صدی عیسوی میں، ایک بھارتی شاعر اور سنت گیان دیو نے بچوں کے لیے ایک کھیل ایجاد کیا جس کا نام "موکش پتّم" تھا۔ بعد میں برطانوی حکمرانوں نے اس کا اصل نام برقرار رکھنے کے بجائے اسے "سنیکس اینڈ لیڈرز" یعنی "سانپ سیڑھی" کا نام دے دیا۔
ابتدائی طور پر یہ کھیل بچوں کو اخلاقی سبق سکھانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ جن خانوں سے سیڑھیاں اوپر جاتیں، وہ نیکی یا خوبی کی علامت ہوتے، جبکہ وہ خانے جن میں سانپ کا سر ہوتا، برائی یا گناہ کی علامت سمجھے جاتے۔ اصل ہندو کھیل میں سانپوں کی تعداد سیڑھیوں سے زیادہ ہوا کرتی تھی۔ یہ کھیل 19ویں صدی عیسوی کے آخر میں نوآبادیاتی دور کے دوران ہندوستان سے انگلینڈ لے جایا گیا، جہاں اس میں چند تبدیلیاں کی گئیں۔
اس 'سو خانوں والے بورڈ' کے اصل ورژن میں:
12واں خانہ "ایمان" تھا،
51واں "قابلِ اعتماد ہونا"،
57واں "سخاوت"،
76واں "علم"،
اور 78واں "تزکیہ نفس"۔
یہ وہ خانے تھے جہاں سیڑھیاں تھیں اور ان سے آگے بڑھنے میں مدد ملتی تھی۔
جبکہ:
41واں خانہ "نافرمانی"،
44واں "تکبر"،
49واں "فحاشی"،
52واں "چوری"،
58واں "جھوٹ"،
62واں "شراب نوشی"،
69واں "قرض"،
84واں "غصہ"،
92واں "لالچ"،
95واں "غرور"،
73واں "قتل"،
اور 99واں خانہ "شہوت" کی علامت تھا۔
یہ وہ مقامات تھے جہاں سانپ منہ کھولے کھڑا ہوتا اور کھلاڑی پیچھے چلا جاتا۔
100واں اور آخری خانہ "موکش" یا "نجات" کی علامت تھا۔ ہر سیڑھی کے اوپر کسی دیوتا یا جنت جیسے مقام (جیسے کیلاش، وشنو کا ویکنٹھ، یا برہما لوک) کی تصویر ہوتی۔ کھیل میں نیکی یا بدی پر مبنی اعمال کی بنیاد پر انسان کا اوپر یا نیچے جانا دکھایا جاتا، بالکل زندگی کی طرح۔
یہ کھیل قدیم ہندوستان میں خاصا مقبول تھا۔ یہ سنتان دھرم کے فلسفے، یعنی کرم (عمل) اور کام (خواہش) کے درمیان تضاد کی عکاسی کرتا تھا۔ اس کھیل میں قسمت کو مرکزی اہمیت حاصل تھی، جبکہ "پچیسی" جیسے دیگر کھیل مہارت اور قسمت کے امتزاج پر مبنی تھے۔
اسی فلسفے سے متاثر ہو کر 1892 میں برطانیہ میں اس کا ایک نیا ورژن متعارف کروایا گیا۔ اس نئے ورژن کو "Snakes and Ladders" کا نام دیا گیا، جس میں مذہبی اور اخلاقی پہلو نکال دیے گئے، اور سانپوں اور سیڑھیوں کی تعداد برابر کر دی گئی۔ بعد ازاں 1943 میں اس کھیل کو امریکہ میں "Chutes and Ladders" کے نام سے پیش کیا گیا۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/6128
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔥 انجام۔۔۔۔ 🔥
16 سال کی عمر میں وہ اپنے ابو کے دوست کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی۔۔۔
میں صبح آٹھ بجے کے قریب عدالت پہنچا تو عدالت کے احاطے کے باہر ایک ادھیڑ عمر شخص بوسیدہ لباس پہنے گردن جھکائے بیٹھا تھا مجھے دیکھ کر وہ بھاگا بھاگا آیا اور کہنے لگا بابو جی بابو جی جج صاحب کتنے بجے آئیں گے؟۔
اُس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔
میں پوچھا بابا جی سب خیریت ہے؟ آپ اتنے پریشان کیوں ہیں؟۔
وہ شرمندگی سے سر جھکائے ہوئے بولا میری بیٹی گُم ہوگئی ہے۔
اِسی اِثناء میں دیکھا تو دو چھوٹی چھوٹی بچیاں سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھ رہی ہیں۔
میرے بولنے سے پہلے ہی اُن میں سے ایک بولی انکل ہمیں آپی واپس کردیں۔
فوراً ایک عورت جو سفید ڈوپٹہ اوڑھے ہوئے تھی آگے بڑھی اور بچیوں کو پیچھے کھینچتے ہوئے بولی گُڑیا تم چپ کرو تمہارے ابو بات کررہے ہیں۔
اس سب صورتحال سے واضع ہوچُکا تھا کہ اِن کی بیٹی گھر سے بھاگ گئی ہے اور اب یہ ملاقات کے لیے عدالت آئے ہیں۔
دل میں ایک درد سا اُٹھا اور اُن پر بہت ترس آیا لیکن
میں اُن کو انتظار کا بول کر اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔
کچھ ہی دیر بعد جج صاحب آئے اور عدالت کی معمول کی کاروائی شروع ہوگئی۔
جون کی سخت جھلسا دینے والی دھوپ میں وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنی بیٹی کا انتظار کرتے رہے تقریباً 12بجے کے قریب برقعہ پہنے ایک دوشیزہ اپنی عمر سے تقریباً 35 سے 40سال بڑے کے مرد کے ساتھ پولیس سیکیورٹی میں عدالت میں جج صاحب کے سامنے پیش ہوئی۔
جج صاحب کے پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ لڑکی اپنے ابو کے دوست کیساتھ گھر سے بھاگی ہے اور دونوں شادی کرچُکے ہیں۔
اُس لڑکی کے ماں باپ کو بلایا گیا۔
لڑکی کے ماں اور باپ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔
جج صاحب کے حُکم پر اُن کو اپنی بیٹی سے ملاقات کرنے کی اجازت دی گئی۔
لڑکی نے نقاب اتارا تو دیکھنے پر بے حد حسین معلوم ہوتی تھی اور اُس نے دو سے اڑھائی تولہ سونا پہن رکھا تھا اور سب سے بڑھ کر اُس کے مہندی لگے ہاتھوں میں آئی فون16 پرو میکس چمچما رہا تھا۔
لڑکی کی ماں نے جاتے ہی اپنا ڈوپٹہ اتار کر اُس کے قدموں میں رکھا اور اُس کے پاوُں پکڑ کر بولی میری شہزادی بیٹی میری عزت کا واسطہ جج صاحب کو بول تو ہمارے ساتھ جائے گی۔
دیکھ تیرے ابو کی حالت کیا ہوئی ہے ۔
ہم زمانے میں کہیں منہ دکھانے کے لائق نہیں رہے تو سوچ تیری چار بہنوں کا کیا حال ہوگا؟۔
اُن سے شادی کون کرے گا؟۔
تیرے ابو نے کہا ہے اگر نازیہ میرے ساتھ گھر واپس نہ آئی تو میں خود کو پھندا لگا لوں گا مجھ سے زمانے کی باتیں برداشت نہیں ہوتی۔
وہ دونوں چھوٹی بچیاں نئی نویلی دلہن سے لِپٹ کر رورہی تھی آپی ہمارے ساتھ گھر واپس چلو آپ کے بِنا ہمارا دل نہیں لگتا۔
لیکن وہ16سال کی لڑکی ایک پتھر بن چُکی تھی۔اُسے اِن سب باتوں کی کوئی پرواہ نہ تھی۔
تھوڑی دیر جج صاحب نے اُس لڑکی کی بے رُخی دیکھی تو اپنے سامنے پیش ہونے کا حُکم دیا۔
جج صاحب نے پوچھا بیٹا آپ کے ابو نے آپ کے اغواء کا مقدمہ درج کروایا ہے ۔ آپ کا اس بارے میں کیا کہنا ہے؟۔
وہ لڑکی فوراً بولی نہیں نہیں جج صاحب۔ پھر تھوڑا سا شرمائی اور بولی میں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے ۔
اپنے ابو کے دوست کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی اِنہوں نے مجھے اغواء نہیں کیا۔ میں تو اِن سے پیار کرتی ہوں لیکن میرے ابو مجھے مارڈالیں گے لہٰذا مجھے قانون کے مطابق سیکیورٹی دی جائے۔
یہ سُن کر اُس لڑکی کا ابو دھاڑیں مار کر اونچی آواز میں رونے لگا اور وہیں زمین پر بیٹھ کر اپنا سٙر پیٹنے لگا۔
جج صاحب نے پولیس والوں کو بولا عدالتی کاروائی ختم ہونے کے بعد یہ جس جہنم میں جانا چاہتی ہے اِسے چھوڑ آوُ۔
🔘 وہ تو چلی گئی لیکن ہمیشہ کے لیے کچھ سوال میرے ذہن میں چھوڑ گئی۔۔۔
اُس کا کیا انجام ہوگا؟۔
کیا وہ دولت کی خاطر بھاگی؟۔
کیا یہ سچ ہے کہ عورت دولت کی خاطر کچھ بھی کر سکتی ہے؟۔
کیا ہمارے معاشرے کے جنسی درندے نے اُسے اپنی دولت سے ورغلایا؟۔
کیا وہ دولت کے سہارے ساری ذندگی گزار لے گی؟۔
کیا وہ مرد ہمیشہ اُسے اپنے ساتھ بیوی بنا کر رکھے گا یا اپنی حوس پوری ہونے کے بعد چھوڑ دے گا یا کسی کوٹھے کی رونق بنا دے گا؟۔
سوال تو بہت ہیں لیکن جواب ندارد۔
یہ ہے ہمارا شرمندہ کر دینے والا معاشرہ۔
منقول۔۔۔۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
1 284
🔷 سولر پینلز کی اقسام اور ان کے فوائد 🔷
آج کےدور میں سولر انرجی بہت زیادہ اہمیت اختیار کرچکی ہے، کیونکہ یہ گھروں اور کاروبار میں بجلی کی ضرورت کو مکمل کرنے کا ایک مناسب ذریعہ ہے۔ سولر پینلز کی مختلف اقسام ہیں جو الگ الگ خصوصیات اور فوائد رکھتی ہیں، آئیے ان کے بارے میں جانتے ہیں:
1. مونوکرسٹل سولر پینل (Monocrystalline Solar Panels)
یہ بہت کارمد اور زیادہ انرجی پیدا کرنے والے پینلز ہیں، کیونکہ یہ ایک ہی براون سلیکون والے مواد سے بنے جاتے ہیں۔
معیاری اور زیادہ عمر والے ہوتے ہیں، مگر منتظم صفائی اور نگہبانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
کارکردگی کے لحاظ سے بہترین ہوتے ہیں اور کم جگہ میں زیادہ بجلی پیدا کرتے ہیں۔
قیمت نسبتاً زیادہ ہوتی ہے لیکن طویل مدتی فائدے پہنچاتے ہیں۔
2. پولی کرسٹلائن سولر پینل (Polycrystalline Solar Panels)
یہ انوائرمینٹ فرینڈلی اور مونوکرسٹل لائن سے سستے ہوتے ہیں، لیکن ان کی کارکردگی کچھ کم ہوتی ہے۔
معمولی موسمی تبدیلیوں میں بھی خوب کام کرتے ہیں۔
قیمت میں کم ہونے کی وجہ سے زیادہ لوگ انہیں استعمال کرتے ہیں۔
ان کی کارکردگی مونوکرسٹل لائن سے کم ہوتی ہے، مگر بجٹ کے لحاظ سے مناسب ہوتے ہیں۔
3. پتلی پرت والے سولر پینلز (Thin-Film Solar Panels)
یہ ہلکے وزن کے اور لچکدار ہوتے ہیں، جنہیں مختلف سطحوں پر لگایا جا سکتا ہے۔
قیمت کم اور انسٹالیشن آسان ہوتی ہے، مگر کارکردگی مونو اور پولی کرسٹل لائن سے کم ہوتی ہے۔
بڑی صنعتی تنصیبات کے لیے موزوں ہوتے ہیں۔
گرمی میں بہتر کام کرتے ہیں اور کم روشنی میں بھی بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔
4. بائی فیشل سولر پینلز (Bifacial Solar Panels)
یہ دونوں طرف سے سورج کی روشنی جذب کرتے ہیں، جس سے زیادہ توانائی پیدا ہوتی ہے۔
زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور کم جگہ میں زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔
ان کی لاگت زیادہ ہوتی ہے لیکن زیادہ پیداوار کی وجہ سے بہتر سرمایہ کاری ثابت ہوتے ہیں۔
سولر پینلز کے فوائد
بجلی کے بل میں نمایاں کمی آتی ہے۔
ماحول دوست اور قابل تجدید توانائی کا ذریعہ ہے۔
لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
لمبی عمر اور کم دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔
گھروں، دفاتر اور صنعتوں کے لیے بہترین متبادل ہے۔
🔘 نتیجہ
سولر پینلز کا انتخاب کرتے وقت اپنی بجلی کی ضروریات، بجٹ اور انسٹالیشن کی جگہ کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اگر آپ طویل مدتی سرمایہ کاری چاہتے ہیں تو مونوکرسٹل لائن پینل بہترین ہیں، جبکہ کم بجٹ والے صارفین کے لیے پولی کرسٹل لائن ایک اچھا متبادل ہو سکتے ہیں۔ پتلی پرت والے پینلز بڑی جگہوں کے لیے موزوں ہیں، اور بائی فیشل پینلز زیادہ بجلی پیدا کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے بہترین ہیں۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 شیر اور لومڑی کی کہانی 🔷
ایک جنگل میں ایک طاقتور شیر رہتا تھا۔ وہ جنگل کا بادشاہ تھا اور سب جانور اس سے ڈرتے تھے۔ ایک دن اس نے اعلان کیا کہ وہ بیمار ہے اور سب جانوروں کو اس کی عیادت کے لیے آنا چاہیے۔ جو نہ آئے گا، وہ اس کا دشمن سمجھا جائے گا۔
جانور ایک ایک کر کے شیر کی غار میں جانے لگے، مگر جو بھی اندر جاتا، واپس نہ آتا۔ شیر دراصل بیمار نہیں تھا بلکہ بھوکا تھا اور وہ ہر آنے والے کو کھا جاتا تھا۔
ایک دن ایک چالاک لومڑی آئی۔ اس نے شیر کی غار کے باہر بہت سارے جانوروں کے قدموں کے نشان دیکھے، جو اندر جا رہے تھے، لیکن کوئی بھی نشان واپس آنے کا نہیں تھا۔ لومڑی سمجھ گئی کہ اندر جانے کا مطلب موت ہے۔
لومڑی نے غار کے باہر سے ہی آواز دی:
"بادشاہ سلامت! میں آپ کی عیادت کے لیے آئی ہوں، مگر اندر آنے سے ڈر لگ رہا ہے کیونکہ جو بھی گیا، وہ واپس نہیں آیا۔"
شیر نے جواب دیا:
"ارے پاگل لومڑی! کیا تم مجھ پر یقین نہیں کرتی؟"
لومڑی بولی:
"یقین تو ہے، مگر قدموں کے نشان کچھ اور ہی کہانی سنا رہے ہیں۔ عقل مند وہی ہے جو دوسروں کے انجام سے سبق سیکھے۔"
یہ کہہ کر لومڑی واپس چلی گئی اور اپنی جان بچا لی۔
🔘 سبق:
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اندھوں کی طرح دوسروں کی پیروی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ہوشیاری، عقل اور مشاہدہ سے کام لینا چاہیے۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 پاکدامنی کا انعام 🔷
قبرستان میں قدم رکھتے ہی ایک مہک نے استقبال کیا یہ خوشبو اس سے پہلے کبھی نہیں سونگھی تھی اور نہ محسوس کی تھی۔
میں ہر جمعے کو صبح فجر کی نماز کے بعد اپنے والد صاحب کی قبر پر جاتا فاتحہ خوانی کرتا اور وہاں سے ہی اپنے آفس چلا جاتا۔ ایک عرصہ ہو گیا تھا مگر آج میں نے قبرستان میں ایک نئی خوشبو محسوس کی جو مجھے بے چین کر رہی تھی۔ یہ خوشبو کسی طرح سے بھی دنیاوی خوشبو نہیں لگ رہی تھی۔
بہرحال میں والد صاحب کی قبر پر پہنچا تو ان سے چند فاصلے پر ہی ایک نئی قبر بنی تھی تازہ پھول اور چادر سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ دو یا تین دن پہلے ہی یہ قبر بنی ہے۔ والد صاحب کی قبر سے فارغ ہو کر جاتے ہوۓ اس قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے رک گیا۔ فاتحہ خوانی کے دوران محسوس کیا خوشبو اس قبر سے ہی آ رہی ہے۔ کنفرم کرنے کے لیے قبر کی مٹی مٹھی میں بھری تو ایک دم ٹھٹھک گیا۔ قبر کی مٹی ٹھنڈی تھی جیسے نم ہو جبکہ مٹی بالکل خشک تھی اور کمال حد تک ٹھنڈی تھی۔ بہرحال مٹی کو وہیں قبر پر پھینک دیا اور ہاتھ جھاڑنے کے بعد چل پڑا۔
بھائی کی دکان کھولی پہلا گاہگ آیا اس کو سامان دیا تو اس نے کہا زمان بھائی آج خوشبو تو بہت کمال کی لگائی ہے۔
خوشبو؟ کون سی خوشبو؟
تو اس نے کہا زمان بھائی خوشبو آپ لگاتے ہو اور پوچھتے ھم سے ہو کون سی خوشبو بہت بھلے مانس آدمی ہو آپ بھی زمان بھائی
یہ کہتے ہوۓ وہ چل پڑا۔
میں نے جب اپنے ہاتھ کو سونگھا تو وہی خوشبو میرے ہاتھ سے آ رہی تھی۔ تمام دن میں اس خوشبو کو محسوس کرتا رہا ہاتھ دھونے کے باوجود بھی میرا ہاتھ معطر رہا۔
اگلے دن ہفتے کو بھی میں نہ چاہتے ہوۓ قبرستان چلا گیا۔ والد صاحب کی قبر پر فاتحہ خوانی کے بعد اس قبر پر فاتحہ خوانی کی۔۔
کس کی قبر ہے یہ ؟؟
کون ہے جو اس قدر نیک ہے ؟؟ جس کی قبر ٹھنڈی اور خوشبودار ہے۔
ایسا کون سا عمل کر دیا کہ اتنا بڑا انعام پا لیا۔۔؟؟
اس بات نے مجھے بے چین سا کر دیا۔
اگلے دن اتوار تھا دیر تک سونے کی عادت ہونے کے باوجود صبح فجر کی نماز کے وقت اٹھ کھڑا ہوا اور قبرستان روانہ ہوگیا۔
قبرستان میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں اس قبر پر ایک باریش آدمی قرآن خوانی کر رہا ہے۔
میں والد صاحب کی قبر پر فاتحہ خوانی کرنے لگا فاتحہ خوانی کے بعد میں نے اس آدمی کی طرف دیکھا جو اب دعا مانگ رہا تھا
جیسے ہی وہ دعا سے فارغ ہوا تو باہر کی جانب چل پڑا اس کو جاتے دیکھ کر میں بھی اس کے پیچھے ہو لیا۔
جیسے ہی وہ دروازے سے باہر نکلا میں نے آواز دے دی سر بات سنیں ایک منٹ پلیز ۔۔۔
جی فرمائیں۔۔
سر میں معذرت چاہتا ہوں میں نے آپ کو تکلیف دی مگر میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں اگر آپ اجازت دیں تو۔
جی آپ پوچھیں کیا بات ہے انتہائی محبت سے اس شحض نے جواب دیا۔
شکریہ سر جزاک اللّه
میں دراصل جاننا چاہ رہا تھا یہ کن کی قبر ہے جہاں آپ قرآن خوانی کر رہے تھے۔
اگر آپ مناسب سمجھیں تو بتا دیجئے۔
یہ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ اس نے سوال کیا۔
دراصل اس قبر سے آنے والی خوشبو نے مجھے بے چین کر دیا ہے ایسی خوشبو میں نے آج تک محسوس نہیں کی مجھے یہ دنیاوی خوشبو نہیں لگتی۔ میں جاننا چاہ رہا تھا کہ صاحب قبر نے ایسا کون سا عمل کیا کہ یہ مقام ملا کہ قبر ٹھنڈی اور خوشبودار ہو گئی۔
یہ سن کر اس شحض نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا قبر ٹھنڈی اور خوشبودار کیوں نہ ہو
اس نے اللّٰه تعالیٰ کو راضی ہی ایسے کیا ہے۔
جی میں یہی جاننا چاہ رہا تھا کہ ایسا کون سا عمل ہے جس سے یہ سعادت نصیب ہوئی۔۔۔۔
تو اس نے بتایا کہ یہ میری زوجہ کی قبر ہے۔۔۔
تیس سال ھماری رفاقت رہی،
میں چار بہنوں کا اکلوتا بھائی ہوں۔
میری بہنوں اور ماں کو میرا سہرا دیکھنے کا بے حد شوق تھا۔ سرکاری نوکری ملتے ہی چاند سی دلہن کی تلاش شروع کر دی گئی۔ یوں دنوں میں لڑکی کی تلاش کا کام مکمل ہوا شادی ہوئی اور ماں بہنوں نے اپنے ارمان دل کھول کر پورے کیے۔
شادی کی پہلی رات میں نے گھونگھٹ اٹھانے سے پہلے اپنی پگ اس کے قدموں میں رکھتے ہوۓ صاف الفاظ میں بتا دیا۔۔
مجھے معاف کر دو میں حق زوجیت ادا کرنے سے بالکل قاصر ہوں، میڈیکلی طور پر مکمل ان فٹ ہوں۔
صرف اپنی والدہ اور بہنوں کی خوشی کی خاطر خود غرض بن گیا ہوں۔
اس نے وہ پگ میرے سر پر رکھتے ہوۓ کہا
آپ جیسے بھی ہیں میرا سہاگ ہیں۔
میرا نصیب ہیں۔
مجھے اب آپ کے ساتھ ہی رہنا ہے۔
اس دن کے بعد اس اللّٰه کی بندی نے میرے ساتھ تیس سال گزارے۔۔
میرے گھر والوں کی ہر بات برداشت کی بانجھ ہونے کے طعنے بھی سنے
مگر میرا پردہ رکھا ۔۔۔۔
اللّٰه تعالیٰ کیسے اس کی قبر کو ٹھنڈا اور خوشبودار نہ کرے جس نے اتنی پاکباز زندگی گزاری ہو۔
🔘 اس شحض کی تمام بات سن کر اس خاتون پر رشک آنے لگا جس نے دنیا میں صبر کیا اور اعلی مقام حاصل کیا۔۔۔
Copy۔۔۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
