fa
Feedback

فریب کلاهبرداران را نخورید! تل‌متریو این کانال‌ها را شناسایی و برچسب‌گذاری می‌کند 👉 برای مشاهده برچسب، اشتراک تهیه کنید

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

رفتن به کانال در Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

نمایش بیشتر
1 288
مشترکین
اطلاعاتی وجود ندارد24 ساعت
-47 روز
-430 روز
آرشیو پست ها
🌿 والصبح اذا تنفس 🌿 مجھ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ وہ کیا چیز ہے جو جاندار نہیں ہے لیکن سانس لیتی ہے؟ میں عجیب اچھنبے میں پڑ گیا کہ بھلا وہ کیا چیز ہوسکتی ہے جو جاندار نہ ہو لیکن سانس لیتی ہو؟ کافی دیر کے بعد اچانک قران کی یہ آیۃ ذہن میں کوندی: "والصبح اذا تنفس" (تکویر آیۃ 18) قسم ہے صبح کی جب وہ گہری سانس لے۔ میں نے جواب دیا کہ وہ صبح ہے جو جاندار تو نہیں لیکن سانس لیتی ہے۔ سائل نے تعریف کی لیکن میں الجھ گیا کہ صبح بھلا کیسے سانس لے سکتی ہے؟ تفاسیر وغیرہ کھول کر دیکھیں تو مفسرین نے تنفس کا ترجمہ زندہ ہو جانے سے کیا تھا کہ جیسے سانس لے کر انسان زندہ ہوتا ہے اسی طرح صبح بھی ہر دن زندہ ہوتی ہے کچھ نے صبح کو سانس لینا اور رات کو سانس چھوڑنا تعبیر کیا۔ بعض نے کہا کہ لیل سے مراد اسلام سے پہلے کی تاریکی تھی اور یہاں صبح سے مراد حضور اکرمؐ کی بعثت کا اجالا ہے۔ کل ایک تفسیر پڑھی تو حیران رہ گیا: آپ کو معلوم ہے کہ جب ہم سانس لیتے ہیں تو اپنے اندر آکسیجن سمیٹ لیتے ہیں اور جب چھوڑتے ہیں تو کاربن ڈائی آکسائیڈ نکالتے ہیں۔ اللہ نے قران میں صبح کی قسم کھائی اور فرمایا کہ جب وہ "گہری" سانس لے۔ عجیب معاملہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے ہی سائنس نے "فوٹوسینتھیسس" کا عمل ایجاد کیا ہے جس میں درخت ایک غیر حسی طریقے سے ہوا میں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اپنے اندر سمو کر آکسیجن کا اخراج کرتے ہیں۔ اور یہ عمل صبح کے وقت سب سے زیادہ عروج پر ہوتا ہے یعنی دنیا میں سب سے زیادہ آکسیجن کی مقدار صبح کے وقت پائی جاتی ہے اور یہی دنیا کی گہری سانس ہوتی ہے۔ یہ عمل بتدریج کم ہوتا جاتا ہے، دوپہر میں ہلکا ہوتا ہے، شام میں ختم ہوتا ہے اور رات میں الٹا ہوجاتا ہے کہ درخت آکسیجن کی بجائے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کرنے لگتے ہیں لیکن پھر اگلی صبح وہی عمل دوبارہ شروع ہوجاتا ہے۔ میں شدید حیران ہوا کہ قران کی ایک چھوٹی سی آیۃ نے سائنس کا اتنا بڑا معمہ سینکڑوں سال پہلے بتا دیا تھا!. https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🍃 سفر میں نماز 🍃 کچھ دن پہلے کی بات ہے مجھے ایک کام کے سلسلے میں لاہور جانا پڑا. میں رات کے ٹائم لاہور پہنچا تھا اور اپنے کام کو نمٹا کر کچھ شاپنگ وغیرہ کی. جب میں فیصل آباد واپسی کے لیے بس میں بیٹھا تو رات کے تقریباً 3 بج رہے تھے میرے ساتھ والی سیٹ پر ایک باریش بزرگ آدمی بیٹھے تھے بس میں سواریاں کم تھیں اور بس نے اڈے سے نکلتے ہوئے تقریباً آدھا گھنٹہ لگا دیا. اب بس فیصل آباد کی طرف رواں دواں تھی اور کنڈیکٹر سواریوں سے کرایہ لے رہا تھا میں نے بھی اپنا کرایہ دیا اور ٹکٹ لے لیا میرے ساتھ بیٹھے بزرگ جب کرایہ دینے لگے تو ان نے کنڈیکٹر سے پوچھا کہ بس کتنے بجے فیصل آباد پہنچے گی کنڈیکٹر کہنے لگا کہ 6 بجے تک انشاءاللہ. اس پر وہ بزرگ بولےنہیں تم مجھے شاہ کوٹ کا ٹکٹ دے دو (شاہ کوٹ فیصل آباد سے تقریباً 45 منٹ پہلے آتا ہے) کنڈیکٹر ان کو ٹکٹ دے کر چلا گیا میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے فیصل آباد نہیں جانا تھا..؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ جانا تو فیصل آباد ہی ہے جب تک وہاں پہنچیں گے فجر کی نماز کا ٹائم نکل جائے گا اس لیے میں شاہ کوٹ اتر کر نماز جماعت کے ساتھ ادا کروں گا پھر اگلی بس میں بیٹھ کر فیصل آباد چلا جاؤں گا. وہ بزرگ تو شاہ کوٹ اتر گئے مگر مجھے سوچوں کے سمندر میں دھکیل گئے. ایک وہ تھے جنہوں نے اپنا سفر نماز کے لیے ادھورا چھوڑ دیا اور ایک ہم ہیں فارغ بیٹھے ہوتے ہیں. مسجد میں اذان ہو رہی ہوتی ہے مگر ہمارے کانوں پر جّوں تک نہیں رینگتی فارغ نہ بھی ہوں تو بھی نماز ہر کام سے اہم ہے موذن کہتا رہتا ہے آؤ فلاح کی طرف مگر ہم دنیاوی کاموں میں مگن رہتے ہیں. غور کریں. فلاح نماز میں ہے یا دنیا کے کاموں میں..؟ اور شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے اللہ پاک کا عذاب رکا ہوا ہے ورنہ ہماری بد اعمالیاں تو ایسی ہیں کہ ہم پر عذاب کے کوڑے برسیں) منقول ۔۔۔۔ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🤲 الله سے مانگنا 🤲 ایک بہت هی گنہگار شخص حج ادا کرنے گیا، وهاں کعبہ کا غلاف پکڑ کر بولا ’’الٰہی اس گھر کی زیارت کو حج کہتے ہیں اور کلمہ حج میں دو حرف ہیں، "ح" سے تیرا حکم اور "ج" سے میرے جرم مراد ہیں۔ تو اپنے حکم سے میرے جرم معاف فرما دے۔ آواز آئی۔۔ "اے میرے بندے! تو نے کتنی عمدہ مناجات کی پھر کہو۔" وہ دوبارہ نئے انداز سے یوں بولا: ’’اے میرے بخشن ہار! اے غفار! تیری مغفرت کا دریا گنہگاروں کی مغفرت و بخشش کیلئے پرجوش ہے اور تیری رحمت کا خزانہ ہر سوالی کیلئے کھلا ہے۔ الٰہی! اس گھر کی زیارت کو حج کہتے ہیں اور حج دو حرف پر مشتمل ہے ’’ح" اور "ج‘‘۔ ’’ ح" سے میری حاجت اور ’’ج" سے تیرا جُود و کرم ہے۔ تو اپنے جُود و کرم سے اس مسکین کی حاجت پوری فرما دے. آواز آئی۔۔ ’’اے میرے بندے تو نے کیا خوب حمد کی، پھر کہو۔‘‘ وہ پھر عرض کرنے لگا: اے خالق کائنات! تیری ذات ہر عیب و نقص اور کمزوری سے پاک ہے تو نے اپنی عافیت کا پردہ مسلمانوں پر ڈال رکھا ہے۔ میرے رب اس گھر کی زیارت کو حج کہتے ہیں حج کے دو حرف ہیں ’’ح" اور "ج‘‘۔ ’’ح" سے اگر میری حلاوت ایمانی اور ’’ج" سے تیرا جلال مراد ہے تو تو اپنے جلال کی برکت سے اس ناتواں ضعیف بندے کے ایمان کی حلاوت کو شیطان سے محفوظ رکھنا‘‘ آواز آئی۔۔ "اے میرے مخلص ترین عاشق و صادق بندے! تو نے میرے حکم میرے جود و کرم اور میرے جلال کے توسل سے جو کچھ طلب کیا ہے تجھے عطا فرمایا، ہمارا تو کام ہی مانگنے والے کا دامن بھر دینا ہے، مگر بات تو یہ ہے کوئی مانگے تو سہی، کسی کو مانگنے کا سلیقہ تو آتا ہو۔" ﺍﮮ الله! هم جیسے گنہگاروں کو بهی مانگنے کا سلیقه اور توفیق عطا فرما، ﺍﮮ الله! ہم ﮔﻤﺮﺍﮨﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﻟﮯ ﺁ۔ ﺍﮮ الله! ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ۔ ﺍﮮ الله! ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺧﻄﺎﺅﮞ ﮐﻮ ﺩﺭﮔﺬﺭ ﻓﺮﻣﺎ۔ ﺍﮮ اللہ! ہمیں محمدؐ وآلِ محمدؑ کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ﺍﮮ الله! ہمیں ایسی زندگی گزارنے کی توفیق عطا کر جس زندگی سے تو راضی ہو جائے۔ بِرَحْمَتِكَ يَآ أَرْحَمَ الرَّحِمِينَ۔ آمِينْ يارب العالمين۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🍀 مقصد کی فراموشی 🍀 دنیا کی تاریخ میں ایک بادشاہ کا واقع ملتا ہے جس نے اپنے لشکر کی طاقت سے کئی ممالک فتح کیے، پھر وہ لشکر کمزور پڑ گیا اور مزید جنگ لڑنے سے انکاری ہوگیا۔ بادشاہ اپنے لشکر کی اس حالت سے پریشان تھا۔ ایک دن اسکا گزر ایسے علاقے سے ہوا جہاں اس نے دیکھا جوں ہی محرم کا چاند نظر آیا، وہاں کے شیعہ طبقے نے ایک سیاہ پرچم (علم) امام بارگاہ پر لہرا دیا جس سے تمام شیعہ لوگوں کو علم ہوگیا کہ محرم کا آغاز ہوچکا ہے لہذا وہ اکٹھے ہو کر عزاداری کرنے لگے . . . . . اس بادشاہ کو بہت حیرت ہوئی، اس نے ایک شیعہ کو بلا کر پوچھا کہ "جب میں پرچم بلند کرتا ہوں تو میرا لشکر بھاگ جاتا ہے سب منتشر ہوجاتے ہیں جبکہ تمھارے ایک پرچم بلند کرنے سے تم سب اکٹھے ہوجاتے ہو متحد ہو جاتے ہو، پھر کیا وجہ ہے کہ دنیا پر تمہاری حکومت نہیں۔۔؟؟؟؟ وجہ یہی ہے عزیزان کہ اتنا عظیم مکتب اور خالص الہٰی نظریہ ہونے کہ باوجود ہم نے اپنا مقصد فراموش کر دیا، اسلام شناس نہ بن سکے، رسومات کی دلدل میں دھنس گئے اور اپنےمذہب کو دنیا کے سامنے تماشہ بنا دیا. (Golden Points Collected From Agha Jawad's Lecture During Workshop At Umul kitab) https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌼 عقل، حیاء اور دین 🌼 ايک دن حضرت جبرائيلؑ اللہ تعالٰی كے حكم سے حضرت آدم علیہ السلام كے پاس آۓ اور كہا كہ اے نبئ خداؑ ميں خدا كى طرف سے تين چيزيں لايا ہوں اور آپ ان تين ميں سے ايک چيز كو انتخاب كر سكتے ہيں۔ حضرت آدمؑ نے پوچھا كہ وہ تين چيزيں كيا ہيں؟ حضرت جبرائيلؑ نے كہا كہ وہ تين چيزيں عقل، حياء اور دين ہيں۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمايا ميں ان تين چيزوں ميں سے عقل كا انتخاب كرتا ہوں۔ اس پر حضرت جبرائيل علیہ السلام نے دين اور حيا سے كہا كہ آپ دونوں واپس چلى جائيں۔ اس پر دين اور حيا نے كہا كہ اے جبرائيل ؑ ہميں حكم ديا گيا ہے كہ جہاں عقل ہو تم دونوں نے وہيں رہنا ہے ہم عقل سے جدا نہيں ہو سكتيں۔ 🤔نتیجہ و مقام عبرت ونصیحت: (پس معلوم ہوا كہ جس كے پاس عقل، شعور، بصيرت ہو تو اس كے پاس دين اور حيا بھی ہو سكتا ہے۔ اگر كسى كے پاس سوچنے سمجھنے، صحيح راۓ قائم كرنے كى صلاحيت نہ ہو تو اس كا دين اور اس كى حياء اسے كوئى فائدہ نہيں پہنچاۓ گى) 📚داستان ہاى اصول كافى، محمد محمدى اشتہاردى، ص۳۴۔ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🌺 روز جمعہ کے اعمال 🌺 روزجمعہ کے اعما ل بہت زيادہ ہيں اور يہا ں ہم ان ميں سے چند ايک کی فہرست بیان کرتے ہیں. 🌹 دعای ندبہ 🌹ہزار مرتبہ یا حد اقل سو مرتبہ صلوات پڑھنا 🌹صدقہ دینا 🌹 غسل جمعہ کرنا 🌹ختمی کے پھول کے ساتھ سر دھونا 🌹ناخن کاٹنا 🌹 مونچھیں کاٹنا 🌹صبح انار کھانا 🌹 ظھر سے پہلے کاسنی کھانا 🌹نماز جمعہ پڑھنا. 🌹پاکیزہ لباس پہننا 🌹خوشبو لگانا 🌹 اہلخانہ کے لیئے بہتریں چیزیں مہیا کرنا 🌹استغفار 🌹مسائل دینی سیکھنا. 🌹20 رکعت نماز نافلہ جمعہ کی نماز کے علاوہ 🌹آئمہ معصومین علیھم السلام کی زیارت پڑھنا 🌹والدین کی قبور کی زیارت 📚 مزید تفصیلات کے لئے مفاتیح الجنان کا مطالعہ فرمائیں. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔵 انجانا خوف 🔵 ہرن کی رفتار تقریباً 90 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ جبکہ شیر کی زیادہ سے زیادہ رفتار 58 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے. رفتار میں اتنے بڑے تفاوت کے باوجود بھی بیشتر موقعوں پر ہرن شیر کا شکار ہو جاتا ہے، کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ کیوں؟ کیونکہ جب بھی شیر کو دیکھ کر جان بچانے کیلئے ہرن بھاگتا ہے تو اُس کے دل میں پکا یقین ہوتا ہے کہ شیر نے اُسے اب ہرگز نہیں چھوڑنا، وہ شیر کے مقابلے میں کمزور اور ناتواں ہے اور اُس سے بچ کر نہیں نکل سکتا۔ نجات نا پا سکنے کا یہ خوف اُسے ہر لمحے پیچھے مڑ کر یہ دیکھنے کیلئے مجبور کرتا ہے کہ اب اُس کے اور شیر کے درمیان کتنا فاصلہ باقی رہتا ہے اور خوف کی حالت میں یہی سوچ ہرن کی رفتار پر اثر انداز ہوتی ہے، بس اسی اثناء میں شیر قریب آ کر اُسے دبوچ کر اپنا نوالہ بنا لیتا ہے. اگر ہرن پیچھے مُڑ مُڑ کر دیکھنے کی اپنی اس عادت پر قابو پالے تو کبھی بھی شیر کا شکار نہیں بن پائے گا اور اگر ہرن کو اپنی اس صلاحیت پر یقین آ جائے کہ اس کی قوت اُس کی برق رفتاری میں چھپی ہوئی ہے بالکل ایسے ہی جیسے شیر کی قوت اُس کے حجم اور طاقت میں چھپی ہوئی ہے تو وہ ہمیشہ شیر سے نجات پا لیا کرے گا. ■بس کُچھ ایسی ہی ہم انسانوں کی فطرت بن جاتی ہے کہ ہم ہر لمحے پیچھے مُڑ مُڑ کر اپنے ماضی کو تکتے اور کریدتے رہتے ہیں جو کُچھ اور نہیں بلکہ ہمیں صرف ڈستا رہتا ہے، ہماری ہمتوں کو پست، طبیعتوں کو مضمحل اور رویوں کو افسردہ کرتا رہتا ہے۔ اور کتنے ہی ایسے پیچھا کرتے ہمارے وہم اور خوف ہیں جو ہمیں ناکامیوں کا نوالہ بناتے رہتے ہیں. اور کتنی ہی ہماری ایسی اندرونی مایوسیاں ہیں جو ہم سے زندہ رہنے کا حوصلہ تک چھینتی رہتی ہیں ہم کہیں ہلاک نا ہو جائیں، کی سوچ کی وجہ سے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے قابل نہیں بنتے اور نا ہی اپنی صلاحیتوں پر کبھی اعتماد کر پاتے ہیں..........!! خوش رہیں، خوشیاں بانٹیں. https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🌸 دس منٹ دورانیئے کی فلم 🌸 ہر طرف اعلان ہو گئے کہ صرف دس منٹ دورانیئے کی یہ فلم بیسٹ شارٹ فلم کا لقب جیت گئی ہے۔ اور جیسے ہی ریلیز ہوئی تو دیکھنے والوں کا ایک جم غفیر سینما پر ٹوٹ پڑا۔ فلم ایک کمرے کی چھت کا منظر دکھانے سے شروع ہوئی اور اگلے 6 منٹ تک یہ منظر بغیر کسی تبدیلی اور بغیر کسی مکالمے یا آواز کے سکرین پر دکھایا جاتا رہا۔ اکثر فلم بینوں کا صبر جواب دے چکا تھا۔ کچھ اگر بڑبڑانے پر اکتفا کیئے بیٹھے تھے تو کچھ نے بآواز بلند اس گھٹیا مذاق پر بولنا شروع کر دیا اور کچھ تو فلم چھوڑ کر باہر جانے پر بھی آمادہ نظر آ رہے تھے۔ اچانک منظر میں تبدیلی آئی۔ اور کیمرے کا رخ چھت سے آہستہ آہستہ کمرے کے فرش کی طرف ہونا شروع ہوا جہاں ایک بستر ہر کسی قسم کی حرکت سے معذور ایسا بچہ لیٹا ہوا تھا جس کی حادثاتی طور پر ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ سکرین پر ایک سلائیڈ پر تحریر ابھری کہ: ابھی ہم نے آپ کو 6 منٹ کیلئے وہ منظر دکھایا تھا جسے یہ بچہ پچھلے کئی سالوں سے مسلسل اور لگاتار دیکھ رہا ہے اور آئندہ جب تک زندہ رہے گا شاید تب تک زندگی کے ہر لمحے میں برابر اسے دیکھتا رہے گا۔ اور آپ تھے کہ محض 6 منٹ تک یہ منظر دیکھنے سے اُکتا گئے تھے۔ لہذا آپ سے التماس کی جاتی ہے کہ اپنی زندگی کے ہر ایک لمحہ سے محظوظ ہوئیے اور شکر کیجیئے ان نععمتوں کا جن میں آپ رہ اور بس رہے ہیں۔ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🍃تھوڑا سا اور اضافے کا قانون🍃 🌿سن 1976 کے اولمپک مقابلوں کے دوران سو میٹر کی دوڑ کے آخری مرحلے میں کل آٹھ کھلاڑی شریک تھے۔ سونے کا تمغہ جیتنے والا کھلاڑی باقی کے آٹھ کھلاڑیوں سے صرف ایک سیکنڈ کا دسواں حصہ زیادہ تیز تھا۔ رفتار میں بہت ہی تھوڑا سا فرق مگر نتائج میں بہت بڑا فرق۔ 🌿امریکہ میں ہونے والی ایک گھڑ دوڑ میں جیتنے والے گھوڑے کو دس لاکھ ڈالر کا انعام ملا، دوسرے نمبر پر آنے والے گھوڑے کو جو جیتنے میں فقظ ناک کے فرق سے رہ گیا تھا کو محض پچھتر ہزار ڈلر ملے۔ مسافت میں اتنا مہین سا فرق مگر نتائج میں بہت بڑا فرق۔ ✍ایک قانون جان لیجیئے کہ: 🌷اگر آپ ایک اپنی نوکری پر جانے سے ایک گھنٹہ پہلے جاگ جاتے ہیں، اور اپنی فیلڈ سے متعلقہ کوئی بھی کتاب پڑھتے ہیں تو گویا آپ ہفتے بھر میں سات گھنٹے مطالعہ کر لیں گے۔ کچھ ہی عرصہ کے بعد، آپ کا علم اپنے دفتر کے تمام ساتھیوں میں زیادہ ہوگا۔ اور آپ کے ساتھی آپ سے مشورہ لیا کریں گے کیونکہ آپ ہی ان میں زیادہ تجربے والے شمار ہو رہے ہونگے۔ محض تھوڑا سا اضافہ مگر نتائج میں بہت بڑا فرق۔ 🌷اگر آپ مسجد میں نماز سے تھوڑا سا پہلے یا اذان ہوتے ہی جانا شروع کر دیں تو آپ نماز سے پہلے پہلے کم از کم قران مجید سے دس صفحات پڑھ پائیں گے۔ اگر آپ ایسا دو نمازوں میں ہی کر لیں تو روزانہ بیس صٖفحات کی تلاوت شروع ہو جائے گی۔ اس کا مطلب تقریبا ایک سیپارہ یومی یا ایک سو چالیس صٖفحے ہفتہ وار یعنی ایک ختم قران ہر مہینے۔ محض تھوڑا سا اضافہ مگر نتائج میں بہت بڑا فرق۔ 🌷ایک باپ اپنے پرائمری کے طالبعلم بیٹے کے ساتھ رات کا کھانا لگتے لگتے پندرہ منٹ کیلئے مل کر کوئی انگریزی کی کتاب پڑھتا تھا۔ اب اس کا بیٹا مڈل سکول میں ہے لیکن انگریزی کی کوئی بھی کتاب بغیر کسی مسئلے کے پڑھ لیتا ہے۔ وقت میں محض تھوڑا سا اضافہ مگر نتائج میں بہت بڑا فرق۔ 📚خلاصہ: تھوڑے سے اضافے کا قانون اپنی زندگی کے ہر شعبے میں لاگو کر لیجیے، اپنے کام کو دیکھئے، اپنے تعلقات کو دیکھیئے، اپنی صحت کو دیکھیے، اپنے بچوں کو دیکھیے، اور اپنے ہر اس کام کو دیکھیے جس میں آپ تھوڑا سا اضافہ کر سکتے ہیں اور اپنے گرد نواح میں ہر اس ناطے کو دیکھیے جس میں آپ تھوڑے سے اور کا اضافہ کر کے بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ زندگی میں بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جو تھوڑے سے اور اضافے کے بہت بڑی تبدیلی سے جڑی ہوئی ہیں۔ تھوڑا سا اور اضافے کا قانون اپنے آپ پر لاگو کرنے سے بہت ساری کامیابیاں آپ کے قدموں میں۔ یاد رکھیے گا کہ اس تھوڑے سے فرق کے ساتھ ہی ہر ناکامی اور ہزیمت جڑی ہوئی ہے۔ تھوڑا سا فرق اور اتنے بڑے بڑے نقصانات!! ان کا سوچیے جن کا فرق دنوں اور راتوں کا ہو!!! https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🍀حضرت علیؑ کی نصیحت آموز باتیں🍀 ایک شخص نے آپ (علیہ السلام) سے پند و موعظت (واعظ و نصیحت) کی درخواست کی، تو فرمایا: تم کوان لوگوں میں سے نہ ہونا چاہیئے کہ جو عمل کے بغیر حسن انجام کی امید رکھتے ہیں اور امیدیں بڑھا کر توبہ کو تاخیر میں ڈال دیتے ہیں جو دنیا کے بارے میں زاہدوں کی سی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے اعمال دنیا طلبوں کے سے ہوتے ہیں۔ اگر دنیا انہیں ملے تو وہ سیر نہیں ہوتے اور اگر نہ ملے تو قناعت نہیں کرتے جو انہیں ملاہے اس پر شکر سے قاصر رہتے ہیں اور جو بچ رہا اس کے اضافہ کے خواہشمند رہتے ہیں دوسروں کو منع کرتے ہیں اور خود باز نہیں آتے اور دوسروں کو حکم دیتے ہیں ایسی باتوں کا جنہیں خود بجا نہیں لاتے۔ نیکوں کو دوست رکھتے ہیں مگر ان کے سے اعمال نہیں کرتے اور گنہگاروں سے نفرت و عناد رکھتے ہیں حالانکہ وہ خود انہی میں داخل ہیں۔ اپنے گناہوں کی کثرت کے باعث موت کو برا سمجھتے ہیں مگر جن گناہوں کی وجہ سے موت کو ناپسند کرتے ہیں انہی پر قائم ہیں۔ اگر بیمار پڑتے ہیں تو پشیمان ہوتے ہیں۔ اور تندرست ھوتے ھیں تو مطمئن ھوکر کھیل کود میں پڑ جاتے ھیں جب بیماری سے چھٹکارا پاتے ہیں تواترانے لگتے ہیں .اور مبتلا ہوتے ہیں تو ان پر مایوسی چھا جاتی ہے۔ جب کسی سختی و ابتلا میں پڑتے ہیں تو لاچار و بے بس ہوکر دعائیں مانگتے ہیں اور جب فراخ دستی نصیب ہوتی ہے تو فریب میں مبتلا ہو کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کا نفس خیالی باتوں پر انہیں قابو میں لے آتا ہے اور وہ یقینی باتوں پر اسے نہیں دبالیتے۔ دوسروں کے لیے ان کے گناہ سے زیادہ خطرہ محسوس کرتے ہیں اور اپنے لیے اپنے اعمال سے زیادہ جزا کے متوقع رہتے ہیں۔ اگر مالدار ہوجاتے ہیں تو اترانے لگتے ہیں اور اگر فقیر ہوجاتے ہیں تو ناامید ہوجاتے ہیں اور سستی کرنے لگتے ہیں۔ جب عمل کرتے ہیں تو اس میں سستی کرتے ہیں اور جب مانگنے پرآتے ہیں تو اصرار میں حد سے بڑھ جاتے ہیں۔ اگر ان پر خواہش نفسانی کا غلبہ ہوتا ہے تو گناہ جلد سے جلد کرتے ہیں، اور توبہ کو تعویق میں ڈالتے رہتے ہیں، اگر کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو اسلام کی جماعت کے خصوصی امتیازات سے الگ ہوجاتے ہیں۔ عبرت کے واقعات بیان کرتے ہیں مگر خود عبرت حاصل نہیں کرتے اور وعظ و نصیحت میں زور باندھتے ہیں مگر خود اس نصیحت کا اثر نہیں لیتے چنانچہ وہ بات کرنے میں تو اونچے رہتے ہیں .مگر عمل میں کم ہی کم رہتے ہیں۔ فانی چیزوں میں نفسی نفسی کرتے ہیں اور باقی رہنے والی چیزوں میں سہل انگاری سے کام لیتے ہیں وہ نفع کو نقصان اور نقصا ن کو نفع خیال کرتے ہیں۔ موت سے ڈرتے ہیں .مگر فرصت کا موقع نکل جانے سے پہلے اعمال میں جلدی نہیں کرتے۔ دوسرے کے ایسے گناہ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں جس سے بڑے گناہ کو خود اپنے لیے چھوٹا خیال کرتے ہیں۔ اور اپنی ایسی اطاعت کو زیادہ سمجھتے ہیں جسے دوسرے سے کم سمجھتے ہیں، لہٰذا وہ لوگوں پر معترض ہوتے ہیں اور اپنے نفس کی چکنی چپڑی باتوں سے تعریف کرتے ہیں۔ دولتمندوں کے ساتھ طرب و نشاط میں مشغول رہنا انہیں غریبوں کے ساتھ محفل ذکر میں شرکت سے زیادہ پسند ہے اپنے حق میں دوسرے کے خلاف حکم لگاتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں کرتے کہ دوسرے کے حق میں اپنے خلاف حکم لگائیں۔ اوروں کو ہدایت کرتے ہیں اور اپنے کو گمراہی کی راہ پر لگا تے ہیں وہ اطاعت لیتے ہیں اور خود نافرمانی کرتے ہیں اور حق پورا پورا وصول کرلیتے ہیں مگر خود ادا نہیں کرتے۔ وہ اپنے پروردگار کو نظر انداز کر کے مخلوق سے خوف کھاتے ہیں اور مخلوقات کے بارے میں اپنے پروردگار سے نہیں ڈرتے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ اگر اس کتاب میں صرف ایک یہی کلام ہوتا تو کامیاب موعظہ اور موثر حکمت اور چشم بینا رکھنے والے کے لیے بصیرت اور نظر و فکر کرنے والے کے لیے عبرت کے اعتبار سے بہت کافی تھا۔ 📚نہج البلاغہ، کلماتِ قصار # 150۔ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🤲 دعا کی تاثیر 🤲 ترکستان کا بادشاہ لمبی عمر کا خواہاں تھا، وہ مرنا نہیں چاہتا تھا، اس کے طبیبوں نے بتایا کہ ہندوستان کی سرزمین پر چند ایسی جڑی بوٹیاں پیدا ہوتی ہیں جن میں آب حیات کی تاثیر ہے، آپ اگر وہ جڑی بوٹیاں منگوا لیں تو ہم آپ کو ایک ایسی دواء بنا دیں گے جس کے کھانے کے بعد آپ جب تک چاہیں گے زندہ رہیں گے۔ ترکستان کے بادشاہ نے دس لوگوں کا ایک وفد تیار کیا اور یہ وفد ہندوستان کے راجہ کے پاس بھجوا دیا۔ اس وفد میں ترکستان کے طبیب بھی شامل تھے اور بادشاہ کے انتہائی قریبی مشیر بھی۔ وفد نے ہندوستان کے راجہ کو ترک بادشاہ کا پیغام پہنچا دیا۔ راجہ نے پیغام پڑھا، قہقہہ لگایا، سپاہی بلوائے اور وفد کو گرفتار کروا دیا۔ راجہ گرفتاری کے بعد انھیں سلطنت کے ایک بلند و بالا پہاڑ کے قریب لے گیا، اس نے پہاڑ کے نیچے خیمہ لگوایا، ان دس لوگوں کو اس خیمے میں بند کروایا اور اس کے بعد حکم جاری کیا کہ جب تک یہ پہاڑ نہیں گرتا تم لوگ اس جگہ سے کہیں نہیں جا سکتے۔ تم میں سے جس شخص نے یہاں سے نکلنے کی کوشش کی اس کی گردن کاٹ دی جائے گی۔ راجہ نے اپنا فوجی دستہ وہاں چھوڑا اور واپس شہر آ گیا۔ ترکستانی وفد کو اپنی موت صاف نظر آنے لگی، وہ پہاڑ کو اپنی مصیبت سمجھنے لگے، مشکل کی اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں تھا۔ وہ زمین پر سجدہ ریز ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑانے لگے۔ وہ صرف کھانا کھانے، رفع حاجت یا پھر وضو کرنے کے لیے سجدے سے اٹھتے تھے اور پھر اللہ سے مدد مانگنے کے لیے سجدے میں گر جاتے تھے۔ رسول اکرم (ص) فرماتے ہیں: اگر تم خدا کی معرفت حاصل کر لو تو تمہاری دعائیں پہاڑوں کو بھی اپنی جگہ سے ہٹا دیں گی۔ (میزان الحکمت، ج2، ص43) اللہ تعالیٰ کو ان پر رحم آ گیا چنانچہ ایک دن زلزلہ آیا، زمین دائیں سے بائیں ہوئی، پہاڑ جڑوں سے ہلا اور چٹانیں اور پتھر زمین پر گرنے لگے۔ ان دس لوگوں اور سپاہیوں نے بھاگ کر جان بچائی۔ راجہ کے سپاہی ان دس لوگوں کو لے کر دربار میں حاضر ہو گئے، انھوں نے راجہ کو سارا ماجرا سنایا۔ راجہ نے بات سن کر قہقہہ لگایا اور اس کے بعد ان دس ایلچیوں سے کہا؛ آپ لوگ اپنے بادشاہ کے پاس جاؤ، اسے یہ واقعہ سناؤ اور اس کے بعد اسے میرا پیغام دو، اسے کہو: دس لوگوں کی بددعا جس طرح پہاڑ کو ریزہ ریزہ کر سکتی ہے بالکل اسی طرح دس بیس لاکھ عوام کی بددعائیں بادشاہ کی زندگی اور اقتدار دونوں کو خاک میں ملا سکتی ہیں۔ تم اگر لمبی زندگی اور طویل اقتدار چاہتے ہو تو لوگوں کی بد دعاؤں سے بچو، تمہیں کسی دوا، کسی بوٹی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ■ امام زین العابدینؑ فرماتے ہیں: دعا و بلا قیامت تک برسر پیکار ہیں لیکن دعا یقینی بلا کو ٹال دیتی ہے۔(1) ▪️امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: دعا قضا کو بھی ٹال دیتی ہے، اگرچہ وہ قضا مستحکم ہی کیوں نہ ہوئی ہو، پس کثرت سے دعا کریں۔ کیونکہ دعا تمام رحمتوں کی چابی ہے۔(2) ■ حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: اگر کسی نے مصیبت کے آنے سے قبل خوفزدہ ہوکر خدا سے دعا کی تو پروردگار عالم قطعا اسکو اس مصیبت میں مبتلا نہیں کریگا۔(3) ■ حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: مؤمن کیلئے غائبانہ دعا رزق کی زیادتی کا سبب اور بلاؤں سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔(4) ■ حضرت امام موسٰی کاظمؑ فرماتے ہیں: دعائیں کرو، چونکہ خدا کو پکارنا اور اس سے مانگنا بلاؤں کو برطرف کرتا ہے۔ جو چیزیں قضا و قدر میں حتمی ہو چکی ہیں، دعائیں اس کو بھی ٹال دیتی ہیں۔(5) ■ حضرت امام موسٰی کاظمؑ فرماتے ہیں: جب کوئی شخص دوسروں کے لئے دعا کرتا ہے تو عرش الہٰی سے آواز آتی ہے ۔۔۔ اے دوسروں کے حق میں دعا کرنیوالے! تیرے لیے دو لاکھ فرشتے دعا کریں گے۔(6) 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ 📚 حوالہ جات (1) عدةالداعی، علامہ احمد بن فهد حلّیؒ (2) سفينة البحار، ج3، ص48۔ (3) عدةالداعی، علامہ احمد بن فهد حلّیؒ (4) عدةالداعی، علامہ احمد بن فهد حلّیؒ (5) عدةالداعی، علامہ احمد بن فهد حلّیؒ (6) وسائل الشیعہ، ج4، ص1147۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

⭕ عشقِ خدا ⭕ حضرت موسیٰؑ کلیم اللہ نےاپنی مناجات میں اپنے خالق سے درخواست کی مجھے اپنی اس مخلوق کی ملاقات کرا جس نے اپنے آپ کو فقط تیرے لئے خالص کر لیا ھو اور اسکی عبادت ہر نقص و عیب سے پاکیزہ ھو. خطاب آیا: فلاں دریا کے کنارے چلے جاؤ تو تم جس کو دیکھنا چاہتے ھو، دکھاؤں. چنانچہ حضرت موسیٰؑ دریا کے کنارے پہنچے تو دیکھا دریا کے کنارے پر ایک درخت لگا ھوا ہے جسکی شاخیں بہتے دریا تک پہنچی ھوئی ہیں اور اس درخت کی آخری شاخ جو بلکل پانی کو چھو رہی ہے اس پر ایک پر ندہ بیٹھا ہے جو ذکر خدا میں مشغول ہے، حضرت موسیٰؑ نے اس پرندے سے حال احوال پوچھا تو وہ عرض کرنے لگا جب سے میرے خالق نے مجھے خلق فرمایا ہے میں اسی طرح اسکے ذکر واذکار میں مصروف ھوں۔ تو آپ نے اس سے پوچھا اس لذتوں سے بھری دنیا میں سے کسی چیز کی تمھارے اندر حسرت ھو؟؟؟ تو پرندہ عرض کرنے لگا: میری ایک ہی حسرت ہے کہ اس دریا کے لذیذ پانی سے ایک گھونٹ پی لوں. تو حضرت موسیٰؑ نے اسے کہا تو یہ پانی تمھارے اختیار میں ہے، کیوں نہیں پیتے ھو؟ جبکہ اس پانی اور تمھاری چونچ میں کوئی زیادہ فاصلہ بھی نہیں؛! عرض کرنے لگا: مجھے ڈر ہے اس پانی کی لذت کہیں مجھے اپنے خالق کے ذکر سے محروم نہ کردے، حضرت موسیٰؑ نے اس کا جواب سن کر دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پیٹ لیا. 📕 خزینة الجواہر، ص- 318۔ http://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌷 موجبِ اخلاص چیزیں🌷 حضرت علی علیہ السلام: ١۔اخلاص کاسبب یقین ہوتا ہے۔ (غررالحکم) ٢۔عمل میں قوی یقین اورصالح نیت کےساتھ اخلاص پیدا ہوتاہے۔(غررالحکم) ٣۔اخلاص کی اصل یہ ہے کہ لوگوں کے ہاتھ میں موجود چیزوں سے ناامیدی اختیارکرلی جائے۔(غررالحکم) ٤۔جوشخص خداکے پاس موجود چیزوں کے بارے میں رغبت کرے گااس کاعمل خالص ہوجائےگا۔ (غررالحکم) اخلاص کے آثار حضرت رسولخدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم: ١۔جو بندہ چالیس روز تک اپنے اعمال کوخداکیلئے خالص کرکے انجام دے گا،اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت کے سرچشمے جاری کردئے جائیں گے۔ (عیون اخبارالرضاص٦٨، درمنثورج٢ ص٢٣٧) حضرت علی علیہ السلام: ٢۔نیتوں کے خالص رکھنے میں، امور میں کامیابی کا راز مضمر ہے۔۔۔۔۔۔ (غررالحکم) ٣۔جونیت خالص کرے گاوہ اپنے مقاصدکوپالے گا۔ (غررالحکم) ٤۔جب خلوص یقینی طورپرحاصل ہوجائے گاتوبصیرت بھی روشن ہوجائے گی۔(غررالحکم) امام جعفرصادق علیہ السلام: ٥۔''مومن سے ہر چیز ڈرتی اورخوف کھاتی ہے'' ، پھر فرمایا: جب مومن خدا کیلئے مخلص ہوگاتواللہ تعالیٰ بھی اس کے لئے ہر چیز کے دل میں خوف پیداکردے گاحتیٰ کہ زمین کے جانوروں اور چوپایوںاورآسمان کے پرندوں کے دل میں بھی۔ (بحارالانوارج٧ص٢٤٨) 📘نقل از تفسیر المعین الترجمۃ القرآن الکریم ص۶۳ تالیف: علامہ محمد علی فاضل دامت برکاتہ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 تقویٰ کی اہمیت 🌹 تقویٰ کی اہمیت کے بارے میں قرآن مجید کی آیات کو بیان کرنے سے پہلے بہتر ہے کہ تقویٰ کے لغوی معنی و مفہوم کی طرف اشارہ کریں ۔ تقویٰ کالغوی معنا مفردات میں راغب اصفہانی لکھتے ہیں : [وقی ، وقایہ ]یعنی کسی شئے کی ضرر سے اور ہر اس چیز سے کہ جس سے اُسے نقصان کا اندیشہ ہو ، حفاظت کرنا ۔ قرآن کریم کی آیات میں آیاہے: 🔸 فوقاھم اللہ : خدا تعالیٰ نے انہیں محفوظ کیا ۔ 🔸و وقاھم عذاب السعیر : انہیں جہنم کے عذاب سے بچا لیا۔ 🔸و ما لھم من اللہ من واق : کوئی انہیں خدا کے غضب سے نہیں بچا سکتا ۔ 🔸ما لک من اللہ من ولی و لا واق : خدا کے سوا تمہارا کوئی سرپرست اور محافظ نہیں ہے ۔ 🔸قوا انفسکم و اہلیکم نارا : خود کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ ۔ تقویٰ یعنی اپنے آپ کو ہر اُس چیز سے جس میں خوف اور پریشانی ہو بچانا اور محفوظ کرنا ہے۔ دینی متون اور شرعی مفاہیم میں تقویٰ سے مراد خود کو گناہ کے عوامل سے دور رکھنا اور ناروا اعمال سے بچانا ہے ۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر بعض مباح اعمال سے بھی چشم پوشی کرنا ضروری ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ حلال و حرام کی سرحدیں تو واضح ہیں لیکن جو کوئی کھائی کے اردگرد چکر کاٹے گا ہو سکتا ہے وہ بھی کھائی میں گر جائے ۔ (۱) سید حیدر آملی تفسیر "محیط اعظم "میں لکھتے ہیں : تقویٰ کے کئی مرتبے اور درجات ہیں اور اہل ظاہر اور اہل باطن کے یہاں اس کی مختلف تعریف ہے : 🔹 اہل ظاہر کی نظر میں تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی معصیت سے دوری اور اجتناب اور اپنی اُن شرعی ذمہ داریوں کو انجام دے جو خدا تعالیٰ نے اس پر واجب کی ہیں۔ یہ لفظ '' اتقا '' سے لیا گیا ہے جس کے معنی رکنا اور پرہیز کرنا ہیں ، اور یہ تلخیوں کے سامنے رکاوٹ کھڑے کر کے انہیں آنے سے روکنے کے معنا میں ہے۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے : '' اتقی السہم بالترس ''اس نے ڈھال کے ساتھ تیر کو روکا یعنی ڈھال کو تیر کے سامنے رکاوٹ بنایا ۔ 🔹لیکن اہل باطن کی نگاہ میں تقویٰ اس چیز سے اجتناب ہے جس کے بارے میں ذکر ہوچکا ہے بلکہ حلال نعمتوں اور دنیاوی لذتوں سےبھی پرہیز کرنا سوائے ضرورت کی مقدار کے اور محرمات کا ارتکاب اور گناہ کو انجام دینا تو دور کی بات ہے۔(۲) قرآن مجید کی آیات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر مومن انسان گناہ کبیرہ کے مقابل میں تقویٰ الٰہی کو اختیار کرے تو خدا تعالیٰ اس کے صغیرہ گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ پروردگار عالم فرماتا ہے : ذَالِكَ أَمۡرُ ٱللَّهِ أَنزَلَهُ إِلَيۡكُمۡ وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يُكَفِّرۡ عَنۡهُ سَيِّ‍َٔاتِهِ وَيُعۡظِمۡ لَهُ أَجۡرًا (جو کوئی تقویٰ الٰہی اختیار کرے ، خدا تعالیٰ اُس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اسے اجر عظیم اسے عطا فرماتا ہے )( طلاق / ٥ )۔ ایک دوسرے مقام پر فرماتا ہے: وَلَوۡ أَنَّ أَهۡلَ ٱلۡكِتَابِ آمَنُواْ وَٱتَّقَوۡاْ لَكَفَّرۡنَا عَنۡهُمۡ سَيِّ‍أَتِهِمۡ وَلَأَدۡخَلۡنَاهُمۡ جَنَّاتِ ٱلنَّعِيمِ (اور اگر اہلِ کتاب ایمان لے آتے اور ہم سے ڈرتے رہتے تو ہم ان کے گناہوں کو معاف کردیتے اور انہیں نعمتوں کے باغات میں داخل کردیتے) ( مائدہ / ٦٥ )۔ تقویٰ کہ جس کا ذکر ایمان کے بعد ہوا ہے سے مرادمحرمات سے دوری اورایسے گناہوں سے اجتناب کرناہے کہ جیسے شرک اور دوسرے وہ کبیرہ گناہ کہ جن پر پروردگار نے عذاب کا وعدہ دیا ہے ۔ اسی طرح '' سیئات '' جن کی بخشش کا پروردگار عالم نے وعدہ کیا ہے ، صغیرہ گناہ ہیں ۔ جیسا کہ پروردگار عالم اس آیت کریمہ میں فرما رہا ہے : إِن تَجۡتَنِبُواْ كَبَآئِرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَفِّرۡ عَنكُمۡ سَيِّ‍أَتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡكُم مُّدۡخَلًا كَرِيماً (اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تمہیں روکا گیا ہے پرہیز کرلو گے تو ہم دوسرے گناہوں کی پردہ پوشی کردیں گے اور تمہیں باعزّت منزل تک پہنچادیں گے)( نساء / ٣١ ) ان دو آیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ معصوم ( علیہ السلام ) کے اس فرمان کہ جو تقویٰ کی لغوی تعریف کے بارے میں آیا ہے کہ'' تقویٰ ، محرمات سے دوری اختیار کرنا ہے '' میں محرمات سے مراد گناہان کبیرہ ہیں ۔(۳) ۱) راغب اصفہانی ، المفردات فی غریب القرآن ، ص ٥٣٠ ، مادہ '' وقی '' ۲) سید حیدر آملی ، تفسیر المحیط الاعظم ، ج ١ ، ص ٢٧٨ ۳) المیزان فی تفسیر القرآن ، ج ٦ ، ص ٣٧ ؛ ج ١٩ ، ص ٣١٧. http://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

💎 مرد اور عورت کا غیرت کرنا 💎 ☑️کلام امیر المومنین علی علیہ السلام عورت کا غیرت کرنا کفر ہے اور مرد کا غیور ہونا ایمان ہے۔ نہج البلاغہ، حکمت:124۔ 📍مطلب یہ ہے کہ جب مر دکو چار عورتیں تک کر نے کی اجازت ہے تو عورت کا سوت گوارا نہ کر نا حلال خدا سے ناگواری کا اظہار اور ایک طرح سے حلال کو حرام سمجھنا ہے اور یہ کفر کے ہمپایہ ہے ,اور چونکہ عورت کے لیے متعدد شوہر کرنا جائز نہیں ہے ,اس لیے مرد کا اشتراک گوارا نہ کرنا اس کی غیرت کا تقاضا اور حرام خدا کو حرام سمجھنا ہے اور یہ ایمان کے مترادف ہے . 🛠مردوعورت میں یہ تفریق اس لیے ہے تاکہ تولید و بقائے نسل انسانی میں کوئی روک پیدا نہ ہو ,کیونکہ یہ مقصد اسی صورت میں بدرجہ اتم حاصل ہوسکتا ہے جب مرد کے لیے تعددازواج کی اجازت ہو ,کیونکہ ایک مرد سے ایک ہی زمانہ میں متعدد اولادیں ہوسکتی ہیں اور عور ت اس سے معذورو قاصر ہے کہ وہ متعدد مردوں کے عقد میں آنے سے متعدد اولادیں پیدا کرسکے .کیونکہ زمانہ حمل میں دوبارہ حمل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا .اس کے علاوہ اس پر ایسے حالات بھی طاری ہوتے رہتے ہیں کہ مرد کو اس سے کنارہ کشی اختیا ر کرنا پڑتی ہے . چنانچہ حیض اور رضاعت کا زمانہ ایساہوتاہی ہے جس سے تولید کا سلسلہ رک جاتا ہے اور اگرمتعدد ازواج ہونگی تو سلسلہ تولید جاری رہ سکتا ہے کیونکہ متعدد بیویوں میں سے کوئی نہ کوئی بیوی ان عوارض سے خالی ہوگی جس سے نسل انسانی کی ترقی کا مقصد حاصل ہوتا رہے گا . کیونکہ مرد کے لیے ایسے مواقع پیدا نہیں ہوتے کہ جو سلسلہ تولید میں روک بن سکیں .اس لیے خدا وند عالم نے مردوں کے لیے تعدد ازواج کو جائز قرار دیا ہے ,اور عورتوں کے لیے یہ صورت رکھی کہ وہ بوقت واحد متعدد مردوں کے عقد میں آئیں .کیونکہ ایک عورت کا کئی شوہر کرنا غیرت و شرافت کے بھی منافی ہے اور اس کے علاوہ ایسی صورت میں نسب کی بھی تمیز نہ ہوسکے گی کہ کون کس کی صلب سے ہے چنانچہ امام رضا علیہ السلام سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے کہ مر دایک وقت میں چار بیویا ں تک کر سکتا ہے اور عورت ایک وقت میں ایک مرد سے زیادہ شوہر نہیں کرسکتی . 🔴حضرت نے فرمایا کہ مرد جب متعدد عورتوں سے نکاح کر ے گا تو اولاد بہرصورت اسی کی طرف منسوب ہوگی اور اگر عورت کے دو یا دو سے زیادہ شوہر ہوں گے تو یہ معلوم نہ ہوسکے گا کہ کو ن کس کی اولاد اور کس شوہر سے ہے لہٰذا یسی صورت میں نسب مشتبہ ہو کر رہ جائے گا اور صحیح باپ کی تعیین نہ ہوسکے گی .اور امر اس مولود کے مفاد کے بھی خلاف ہوگا کیونکہ کوئی بھی بحیثیت باپ کے اس کی تربیت کی طرف متوجہ نہ ہوگا جس سے وہ اخلاق و آداب سے بے بہرہ اور تعلیم و تربیت سے محروم ہوکر رہ جائے گا۔ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🔷 مسخ شُدہ جانور (1) 🔷 امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا بنی آدم تیرہ قسم کے جانوروں میں مسخ ہوئے ہیں۔ بندر، سور، چمگادڑ، سوسمار (چھپکلی کی شکل کا بڑا جانور)، ریچھ، ہاتھی، کرم سیاہ (سیاہ کیڑا)، سگ ماہی، بچھو، سہل، خار پشت، زہرہ اور مکڑی۔ 1- بندر: یہ بنی اسرائیل کی قوم تھی جو ساحل سمندر پر آکر ہفتہ کے روز مچھلی پکڑ کر حد سے تجاوز کرجاتے تھے (اس لئے کہ اللہ نے انہیں ہفتہ کے دن مچھلی پکڑنے سے منع کیا تھا) لہذا اللہ نے بندر کی صورت مسخ کردیا۔ 2- سؤر: یہ بھی بنی اسرائیل ہی کی قوم تھی اور حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے ان کو بددُعا دی تھی لہذا اللہ نے سؤر کی صورت مسخ کردیا۔ 3- چمگادڑ: یہ ایک عورت تھی جس نے اپنے دایہ پر جادو کردیا تھا تو اللہ نے اسے چمگادڑ کی صورت مسخ کردیا۔ 4- سوسمار (چھپکلی کی شکل کا بڑا جانور): یہ ایک بُدو عرب تھا جو ہر اس شخص کو قتل کر دیتا تھا جو اس کے پاس سے گُذرتا تھا لہذا اللہ نے اسے سوسمار (ایک صحرائی جانور) کی صورت میں مسخ کردیا۔ 5- ریچھ: یہ ایک مخنث شخص تھا جو لوگوں کو اپنے ساتھ بدفعلی کی طرف بُلاتا تھا لہٰذا اللہ نے اسے ریچھ کی صورت میں مسخ کردیا۔ 6- ہاتھی: یہ ایک ایسا شخص تھا جو چوپایوں کے ساتھ بدفعلی کیا کرتا تھا، اور یہ اغلام باز تھا۔ لہٰذا اللہ نے اسے ہاتھی کی صورت میں مسخ کردیا۔ 7- بچھو: یہ ایک چغلخور شخص تھا اور بدزُبان تھا۔ اس کی زبان سے کوئی محفوظ نہیں تھا۔ لٰہذا اللہ نے اسے بچھو کی صورت میں مسخ کردیا۔ 8- کرم سیاہ: یہ شخص اِدھر کی بات اُدھر اور اُدھر کی بات اِدھر کیا کرتا تھا اور اس طرح محبت کرنے والوں میں جُدائی ڈالتا تھا۔ 9- سگ ماہی: یہ دیوث(بے غیرت) شخص تھا جو مردوں کو اپنی بیوی کے ساتھ زنا کی طرف بُلاتا تھا۔ 10- سہیل: یہ ایک ایسا شخص تھا جو یمن خراج وصول کیا کرتا تھا۔ 11- خار پشت: یہ ایک بداخلاق مرد تھا۔ 12- زہرہ: یہ ایک عورت تھی جس نے ہاروت و ماروت کو ورغلایا تھا اور دوسری روایت میں لکھا ہے کہ یہ ایک نصرانی عورت تھی جو بنی اسرائیل کے کسی بادشاہ کی بیوی تھی۔ اور یہی وہ عورت تھی جس نے ہاروت و ماروت کو ورغلایا تھا اس کا نام ناہیل تھا جبکہ لوگ اسے ناہید کہہ کر پُکارتے تھے۔ 13- مکڑی: یہ ایک بداخلاق اور اپنے شوہر کی نافرمان عورت تھی جو اپنے شوہر سے روگردانی کرتی تھی۔ لہٰذا اللہ نے اسے مکڑی کی صورت میں مسخ کردیا۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی معلومات کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🦅 ابابیل 🦅 یہ وہ چھوٹا سا پرندہ 🦅 #ابابیل ہے جس نے ابراہ کے لشکر پر کنکریاں مار مار کر نیست و نابود کر دیا تھا جو بدبخت کعبہ ڈھانے کیلئے ہاتھیوں کا لشکر لے کر آیا تھا۔ اللہ نے برباد چھوٹی سی مخلوق سے کروا دیا ۔۔۔۔ آج پھر جو کعبہ پر حملہ کے بارے ناپاک عزائم رکھتے ہیں اللہ کسی بھی مخلوق سے انہیں برباد کروا سکتا ہے! ابابیل کے متعلق مزید جائیے ۔۔ ابابیل زمین پر اترے بغیر مسلسل 10 ماہ تک پرواز کرسکتی ہے پرندوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ ابابیل (کامن سوئفٹ) 10 ماہ تک مسلسل پرواز کرسکتی ہے جبکہ اپنے اس پورے سفر میں وہ ایک لمحے کےلئے بھی زمین پر نہیں اُترتی اور اُڑتے دوران ہی اپنی غذا بھی حاصل کرتی ہے۔ واضح رہے کہ چھوٹی جسامت ہونے کے باوجود ابابیل (سوئفٹ) کا شمار دنیا کے بلند پرواز اور تیز رفتار پرندوں میں کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے مسلسل طویل ترین مدت تک پرواز کا ریکارڈ 6 ماہ تھا جو ابابیل ہی کی ایک قسم ’’الپائن سوئفٹ‘‘ کے پاس تھا۔ عام ابابیل نے، جسے سائنسی زبان میں ’’ایپس ایپس‘‘ (Apus Apus) کہا جاتا ہے، یہ ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔ یورپ سے افریقہ تک موسمی نقل مکانی (سیزنل مائیگریشن) کرتے ہوئے یہ ابابیل مسلسل 10 ماہ تک بغیر رُکے اور بغیر زمین پر اُترے پرواز کرتی ہے۔ سویڈن کی لیونڈ یونیورسٹی نے ڈیٹا حاصل کرنے کا ایک نیا طریقہ اختیار کرتے ہوئے 19 سوئفٹ پرندوں کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ جب یہ پرندہ اپنی نسل نہیں بڑھاتا تو اس دوران 10 ماہ کے عرصے میں 99 فیصد وقت میں پرواز ہی کرتا رہتا ہے۔ ایکولوجی کے پروفیسر اینڈرس ہیڈینسٹروئم کے مطابق عام سوئفٹ پرندے اگست میں اپنا گھر چھوڑ کر وسط افریقہ کے جنگلات کی جانب پرواز کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایک رات کچھ کئی دن اور کچھ مہینوں تک زمین کو نہیں چھوتے۔ کرنٹ بائیالوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق رات کو وہ کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں اور اس سے اپنی توانائی بچاتے ہیں۔ دن میں گرم ہوا کے مرغولوں پر تیرتے رہتے ہیں اور اس طرح دن میں بھی اپنی قوت کو جمع رکھتےہیں۔ لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ پرندے سوتے بھی ہیں یا نہیں۔ یہ اڑان کے دوران ہی کھانا جمع کرکے کھاتے رہتے ہیں۔ شاید یہ رات کو کچھ وقت کے لیے آرام کرتے ہوں گے مگر بہت ہی تھوڑے وقفے کےلئے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سوئفٹ پرندوں کی زندگی بھی طویل ہوتی ہے اور ایک پرندہ اوسطاً 20 سال تک زندہ رہتا ہے۔ ان کے مسلسل سفر کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ ایلپائن سوئفٹ اور عام ابابیل، دونوں پرندے ہی اپنی 20 سالہ زندگی میں اتنے فاصلے تک پرواز کرلیتے ہیں جو چاند تک آنے اور جانے کے 7 چکروں جتنا طویل ہوتا ہے۔ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

⁉️ کثر انبیاء علیہم السلام مشرق وسطیٰ میں آئے ہیں۔ برصغیر و دیگر بہت سے مناطق میں ابنیاء مبعوث نہیں ہوئے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ 🔰 جواب:اس سوال کا جواب جاننے کے لیے چند نکات کی جانب توجہ ضروری ہے۔ 📌 1۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے الٰہی میں سے قرآن مجید و روایات میں بیان کیے گئے انبیاء علیہم السلام کے ناموں کی تعداد 28 سے تجاوز نہیں کرتی۔ یعنی قرآن مجید میں اکثر انبیاء کے نام اور ان کے علاقے بیان نہیں کیے گئے۔ 📔 وَ لَقَدْ أَرْسَلْنا رُسُلاً مِنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَنْ قَصَصْنا عَلَيْكَ وَ مِنْهُمْ مَنْ لَمْ نَقْصُصْ عَلَيْك‏ اور ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے ہیں جن میں سے بعض کا تذکرہ آپ سے کیا ہے اور بعض کا تذکرہ بھی نہیں کیا ہے۔ (سورہ غافر/78) ہمارے پاس کوئی دلیل موجود نہیں ہے کہ مختلف مناطق میں انبیاء مبعوث نہ ہوئے ہوں؛ بلکہ قرآنی و دیگر ادلہ جس چیز کی نشاندہی کرتی ہیں، وہ اس کے برعکس ہیں۔ قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے کہ کوئی امت ایسی نہیں ہے جس میں کوئی نذیر (خطروں سے آگاہ کرنے والا ) نہ گزرا ہو۔ 📔 وَ إِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلاَّ خَلا فيها نَذيرٌ اور کوئی امت ایسی نہیں گزری جس میں کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا ہو۔ (سورہ فاطر/24) اسی طرح سے خدا وند متعال نے عبادت الٰہی کے قیام اور طاغوت سےلوگوں کے اجتناب کی غرض سے ہر امت میں رسول مبعوث فرمائے ہیں۔ 📔 وَ لَقَدْ بَعَثْنا في‏ كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولاً أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ اور بتحقیق ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو ( یعنی زندگی کے ہر شعبے میں خدا کو اپنا معبود مانو)اور طاغوت کی بندگی سے اجتناب کرو۔ (سورہ نحل/36) اسی طرح سے اس سنتِ الٰہی کو بیان کیا گیا ہے کہ جب تک خدائے متعال کی جانب سے کوئی رسول نہ بھیجا جائے، عذاب نہیں دیا جاتا۔ 📔 وَ ما كُنَّا مُعَذِّبينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً اور جب تک ہم کسی رسول کو مبعوث نہ کریں عذاب دینے والے نہیں ہیں۔ (سورہ اسراء/15) 📌 2۔ قرآن مجید کی رُو سےپانچ انبیاء ، حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰ ؑ، حضرت عیسیٰ ؑ اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، اولوالعزم (صاحبانِ شریعت) نبی ہیں جن کی ذمہ داری اور رسالت کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ان کے پیغام کا عالمی سطح کا ہونا ہے۔ 📌 3۔ ایک اور نکتہ یہ ہے کہ کسی پیغمبر کا جغرافیائی علاقہ اہم نہیں، بلکہ ان کا پیغام اہم ہے۔ اسلام قبول کرنے والے افراد دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھتے تھے۔ 📌 4۔ جن انبیاء کا تذکرہ موجود ہے ان میں سے اکثر بین النہرین، جس کو مشرق وسطی کہا جاتا ہے (اس رائج لفظ کی بجائے مغربی ایشیاء کی تعبیر صحیح ہے) کے علاقے میں مبعوث ہوئے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ خطہ قدیمی ترین بڑی تہذیبوں کا مرکز رہا ہے، اور دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ قرآن مجید کے مستقیم طور پر مخاطب لوگ دیگر تہذیبوں کی نسبت اس علاقے کی تہذیب سے زیادہ آگاہ تھے اور یہ امر قرآن مجید کے بنیادی ہدف یعنی ہدایت کے ساتھ زیادہ سازگار ہے۔ 📌 5۔ امکان موجود ہے کہ کئی علاقوں میں ابنیاء مبعوث ہوئے ہوں جن کا تذکرہ موجود نہیں۔ اکثر کے نام سے ہم واقف نہیں ہیں۔ اسی طرح سے بعض ایسے افراد کے نام موجود ہیں جن کو نبی کے عنوان سے بیان نہیں کیا گیا لیکن ان میں انبیاء جیسی صفات موجود تھیں۔ بہر حال قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ ہر قوم کے لیے ہادی ہے۔ 📔 وَ لِكُلِّ قَوْمٍ هادٍ اور ہر قوم کے لئے ایک ہادی اور رہبر ہے۔ (سورہ رعد/7) حوالہ: قرآن مجید https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

💧 5. جسمانی ڈیٹوکس اور صفائی (Evacuation and Repletion): جسم میں موجود فضلات (Toxins) کو باہر نکالنا ذہنی علاج کا ایک انتہائی اہم حصہ تھا۔ اگر انسان کا نظامِ انہضام درست نہیں (جیسے قبض کا ہونا) تو پرانے طبیب اسے براہِ راست ذہنی دباؤ اور چڑچڑے پن سے جوڑتے تھے۔ اس کے علاوہ، اس دور میں "غسل" (Bathing) کو ایک باقاعدہ تھراپی کا درجہ حاصل تھا۔ گرم پانی کے حمام میں وقت گزارنا، خوشبودار تیل سے مساج کرنا اور جسم کو صاف ستھرا رکھنا ذہنی سکون کا سب سے طاقتور ذریعہ مانا جاتا تھا۔ گرم پانی پٹھوں کی جکڑن کو کھولتا تھا اور اعصاب کو اس حد تک پرسکون کر دیتا تھا کہ مریض کو فوراً ایک گہری اور سکون بخش نیند آ جاتی تھی۔ رونا (Crying) بھی ایک طرح کا ڈیٹوکس مانا جاتا تھا، تاکہ دل کا غبار آنسوؤں کے ذریعے باہر نکل سکے اور دماغ پر پڑنے والا بوجھ ہلکا ہو جائے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 دماغی صحت 🔷 کیا آپ کا دماغ ہر وقت الجھا رہتا ہے؟ جانیے ذہنی صحت کا 1000 سال پرانا راز جس نے آج کی جدید سائنس کو بھی حیران کر دیا ہے! ہمیں لگتا ہے کہ ذہنی دباؤ (Stress)، انزائٹی اور ڈپریشن آج کے جدید دور کی بیماریاں ہیں اور پرانے وقتوں کے لوگ ان مسائل کو صرف "آسیب" یا جادو ٹونا سمجھ کر نظر انداز کر دیتے تھے۔ لیکن تاریخ کے اوراق پلٹیں تو قرونِ وسطیٰ (Middle Ages) کے طبیبوں اور مفکرین نے ذہنی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ایسا حیرت انگیز اور سائنسی لائف اسٹائل ماڈل پیش کیا تھا، جسے آج کی ماڈرن میڈیکل سائنس بھی تسلیم کرتی ہے۔ اس دور کے ماہرین کا ماننا تھا کہ انسان کا دماغ اور جسم ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ اگر جسمانی روٹین خراب ہوگی، تو دماغ کبھی پرسکون نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے ذہنی سکون کے لیے جو اصول وضع کیے، آئیے ان 5 بنیادی اور انتہائی طاقتور طریقوں پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں: 🌬️ 1. ہوا اور ماحول کا دماغ پر اثر (Air and Environment): آج ہم اپنے دن کا 90 فیصد حصہ بند کمروں، مصنوعی روشنیوں اور ایئرکنڈیشنڈ ماحول میں گزارتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ ہمارا دل گھبراتا ہے۔ آج سے ہزار سال پہلے کے طبیبوں کا نظریہ تھا کہ آپ جس ہوا میں سانس لیتے ہیں، وہ سیدھا آپ کے دماغی خلیوں (Brain Cells) اور سوچنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک کھلی، تازہ اور خوشبودار ہوا دماغی الجھنوں کو دور کرنے کی پہلی دوا تھی۔ اگر کوئی شخص ڈپریشن یا "مالیخولیا" (Melancholy) کا شکار ہوتا، تو اسے سختی سے ہدایت کی جاتی تھی کہ وہ تاریک اور تنگ کمروں سے نکلے۔ مریضوں کو سمندر کے کنارے، پہاڑوں یا سرسبز وادیوں میں وقت گزارنے کا مشورہ دیا جاتا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ روشن جگہیں اور تازہ آکسیجن دماغ کے اندر موجود زہریلے خیالات کو اُسی طرح صاف کر دیتی ہے جیسے تیز ہوا کسی کمرے کا دھواں نکال دیتی ہے۔ آج کی جدید 'Nature Therapy' بھی بالکل اسی اصول پر کام کرتی ہے! 🥗 2. غذا اور ہاضمہ – آپ کا دوسرا دماغ (Diet and Nutrition): جدید سائنس آج چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ہمارا معدہ ہمارا "دوسرا دماغ" (Second Brain) ہے اور ہماری خوراک ہمارے موڈ کو کنٹرول کرتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ قرونِ وسطیٰ کے طبیب اس "Gut-Brain Connection" کو صدیوں پہلے سمجھ چکے تھے! اس دور کے میڈیکل ماڈل کے مطابق، جسم میں چار طرح کے مائعات (Humors) ہوتے ہیں۔ جب انسان بہت زیادہ خشک، بھاری، تلی ہوئی یا باسی غذائیں (جیسے جلا ہوا گوشت، پرانی روٹی یا حد سے زیادہ مصالحے) کھاتا ہے، تو جسم میں 'Black Bile' (کالا صفرا یا خلطِ سودا) پیدا ہوتا ہے۔ یہ کالا صفرا خون کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے اور انسان کو شدید مایوسی، اداسی، خوف اور منفی سوچوں کے اندھیرے میں دھکیل دیتا ہے۔ ذہنی سکون کے لیے انہوں نے انتہائی شاندار ڈائٹ پلانز بنائے، جن میں ہلکی، تازہ، اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذائیں شامل تھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ جو کھانا معدے پر بوجھ نہیں ڈالتا، وہ دماغ کو بھی ہلکا اور خوشگوار رکھتا ہے۔ 🛌 3. نیند اور بیداری کا توازن (Sleep and Wakefulness): آج ہم راتوں کو دیر تک جاگ کر اسکرینز دیکھتے ہیں اور پھر نیند کی گولیاں کھاتے ہیں۔ پرانے وقتوں کے ماہرین کے نزدیک نیند صرف جسمانی آرام نہیں، بلکہ دماغ کی 'سروسنگ' (Servicing) کا وقت تھا۔ ان کا نظریہ تھا کہ دن بھر کے خیالات اور سوچ و بچار سے دماغ گرم اور خشک ہو جاتا ہے۔ بھرپور نیند اس گرم دماغ کو ٹھنڈا کرتی ہے اور اس میں ضروری نمی (Moisture) واپس لاتی ہے تاکہ اگلے دن وہ پھر سے درست کام کر سکے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ راتوں کو جاگنا (Insomnia) اور سوچوں میں گم رہنا دماغی تاروں کو خشک کر دیتا ہے، جس سے انسان آہستہ آہستہ پاگل پن یا شدید انزائٹی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ضرورت سے زیادہ سونا بھی نقصان دہ مانا جاتا تھا کیونکہ یہ انسان کو سست اور کاہل بنا کر ذہنی طور پر مفلوج کر دیتا ہے۔ آج کی سائنس بھی 7 سے 8 گھنٹے کی متوازن نیند کو مینٹل ہیلتھ کے لیے ناگزیر قرار دیتی ہے۔ 🏃‍♂️ 4. ورزش اور جسمانی حرکت (Exercise and Rest): "فارغ دماغ شیطان کا کارخانہ ہے۔" قرونِ وسطیٰ کے طبیب اس محاورے کی سائنسی حقیقت سے بخوبی واقف تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ جب انسان سارا دن ایک ہی جگہ بیٹھا رہتا ہے اور کوئی جسمانی مشقت نہیں کرتا، تو اس کے جسم میں زہریلے مادے جمع ہونے لگتے ہیں جو سیدھا دماغ کی طرف سفر کرتے ہیں اور ڈپریشن پیدا کرتے ہیں۔ ذہنی بے چینی کے مریضوں کو باقاعدہ ورزش، تیز چہل قدمی، گھڑ سواری یا کسی بھی ایسے کام میں خود کو تھکانے کا مشورہ دیا جاتا تھا جس سے پسینہ آئے۔ پسینہ آنے سے جسم کی اندرونی غلاظت باہر نکلتی ہے، دورانِ خون تیز ہوتا ہے اور دماغ میں جمع ہونے والے منفی خیالات ٹوٹ جاتے ہیں۔ ورزش کو جسم اور دماغ کے درمیان ایک بہترین پل سمجھا جاتا تھا۔