fa
Feedback
Sobain|سوبین بلوچ

Sobain|سوبین بلوچ

رفتن به کانال در Telegram

Freelance journalist from war zone Balochistan

نمایش بیشتر
کشور مشخص نشده استدسته بندی مشخص نشده است
254
مشترکین
+224 ساعت
+47 روز
+2630 روز
آرشیو پست ها
بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ریکوڈک دنیا کے بڑے تانبے اور سونے کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے اور اسے پاکستان کے اہم معدنی منصوبوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ نومبر 2025 میں چاغی نوکنڈی میں ع ایک مربوط حملہ ہوا، جس کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) نے قبول کیا تھا۔ حالیہ عرصے میں بھی بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی سے متعلق واقعات اور حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم، آج چاغی میں سینکڑوں مسلح افراد کی گشت کررہے ہیں پولیس اسٹیشنوں، لیویز چوکیوں، بینکوں اور سرکاری عمارتوں کو نذرِ آتش کرچکے ہے اور پولیس اسٹیشن اور لیوز پوسٹ کے فوجی سازوسامان بھی اپنے قبضے میں کرچکے ہے۔

photo content
+2

نیوز اپڈیٹ علاقائی زرائع کے مطابق چاغی شہر تاحال آزادی پسندوں کے کنٹرول میں ہے اور آزادی پسندوں نے بینکوں، لیویز و پولیس تھانوں سے تمام سرکاری اسلحہ و ساز و سامانوں کو ضبط کر کے بعد میں انہیں نزر آتش کیے اور پورے شہر آزادی پسندوں کے کنٹرول میں ہے

زرائع کے مطابق بلوچ آزادی پسندوں نے تمام سرکاری بینک دفاتر و تھانے کو نزرآتش کردیا۔ آزادی پسند تا حال علاقے میں موجود ہیں ۔

نیوز اپڈیٹ پورے چاغی شہر بلوچ آزادی پسندوں کے کنٹرول میں ہیں،زرائع کے مطابق تمام سرکاری بینک دفاتر و تھانے بھی ان کے کنٹرول میں ہیں،آزادی پسندوں نے مختلف شائراؤں پر چیک پوسٹ قائم کر کے سنیپ چیکنگ بھی کر رئے ہیں

Breaking News Chaghi: Reports claim that hundreds of Baloch separatist fighters have entered the city of Chaghi and taken control of several key locations. According to these reports, government offices, banks, Levies facilities, and police stations are under their control. Further information is awaited.

منارا چاگی ئِے اِے تپتگیں بدَن جنّت ءِ نہ دیستگیں نِدارگاں چہ گیش دوست بیت

بریکنگ نیوز سینکڑوں کی تعداد میں بلوچ آزادی پسندوں نے چاغی شہر میں داخل ہو کر پورے شہر کو اپنے کنٹرول میں لے لیے،تمام سرکاری دفاتر بینک،لیویز و پولیس تھانہ آزادی پسندوں کے کنٹرول میں ہیں. مزید اطلاعات آنا باقی ہے

بلوچستان سمیت دنیا بھر کی تازہ خبروں، بلوچ سیاسی و جنگی حالات سے متعلق اپڈیٹس، تجزیات اور تحریروں کے لیے بلوچ جرنلسٹ پری بلوچ
بلوچستان سمیت دنیا بھر کی تازہ خبروں، بلوچ سیاسی و جنگی حالات سے متعلق اپڈیٹس، تجزیات اور تحریروں کے لیے بلوچ جرنلسٹ پری بلوچ کے ایکس (ٹوئٹر) ، فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کو فالو کریں۔ 👇 https://x.com/paribaluch_?s=21 https://www.facebook.com/share/18z4qktGCa/?mibextid=wwXIfr https://www.instagram.com/paribaluch1?igsh=MXd3dHUyMGFmMW5saQ%3D%3D&utm_source=qr

+2
Bela - Attack - 03.jpg1.08 MB

بیلہ میں قابض فوج کے قافلے پر حملہ، 17 اہلکار ہلاک اور عسکری ساز و سامان ضبط — بلوچ لبریشن آرمی بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے بیلہ کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے ایک قافلے پر مؤثر اور کامیاب گھات لگا کر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دشمن کے 17 اہلکار ہلاک ہوگئے، جبکہ سرمچاروں نے ہلاک ہونے والے دشمن اہلکاروں کے زیرِ استعمال تمام جدید ہتھیار اور جنگی ساز و سامان کامیابی سے اپنے قبضے میں لے لیا۔ یہ کارروائی بی ایل اے کے ہراول دستے فتح اسکواڈ نے آج صبح نو بج کر تیس منٹ پر بیلہ میں والپٹ کے علاقے میں کوئٹہ-کراچی مرکزی شاہراہ پر سرانجام دی۔ فتح اسکواڈ نے قابض پاکستانی فوج کی ''ون سندھ رجمنٹ'' کے چار گاڑیوں پر مشتمل کاروان کو اس وقت ہدف بنایا جب وہ کراچی سے بسیمہ کی جانب محوِ سفر تھا۔ یہ کامیاب حملہ بی ایل اے کے انٹیلی جنس ونگ 'زراب' کی طویل ریکی، ٹھوس خفیہ اطلاعات اور دشمن کی نقل و حرکت پر کڑی نگرانی کے نتیجے میں ممکن ہوا۔ معرکے کے دوران قابض فوج کی گاڑیاں براہِ راست حملے کی زد میں آئیں، جن میں سوار 17 عسکری اہلکار ہلاک اور متعدد شدید زخمی ہوئے۔ ان میں سے 11 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق خود دشمن فوج کی جانب سے کی جاچکی ہے، جن میں صوبیدار وحید، نائیک ثاقب، نائیک ظہیر، سپاہی سجاد، سپاہی وسیم اختر، سپاہی شکور، وی ایم بشارت، سپاہی وقار نور، کوک بلال، لانس نائیک قربان اور سپاہی عثمان شامل ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی اس کارروائی کے ذریعے یہ واضح کرتی ہے کہ مقبوضہ بلوچستان کے طول و عرض میں سرمچاروں کے دائرہ اختیار، اثر و رسوخ اور زیرِ کنٹرول علاقوں میں مسلسل اور غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے۔ دشمن اب اپنے ہی قائم کردہ حفاظتی حصاروں اور حساس ترین تجارتی و عسکری شاہراہوں پر محصور ہوکر رہ گیا ہے، جبکہ بی ایل اے نے بلوچستان کے وسیع تر جغرافیئے پر اپنی پوزیشنز کو مزید مستحکم کر لیا ہے۔ مرکزی شاہراہوں پر دشمن کے قافلوں کو دن دیہاڑے نشانہ بنانا اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ زمینی بالادستی اور فیلڈ کنٹرول اب بتدریج بلوچ مزاحمت کے حق میں منتقل ہورہا ہے۔ اپنے ہی فوجیوں کے جانی نقصان کو چھپانے اور حقائق پر پردہ ڈالنے کی قابض فوج کی پالیسی خود قابض کے اندر گرتے ہوئے مورال اور گہری مایوسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بی ایل اے بلوچ قوم کے تاریخی حقِ آزادی اور بقا کی اس جنگ کو اپنے شہداء کے لہو کی امانت سمجھتی ہے، اور جب تک ہماری دھرتی سے غاصبانہ قبضے کا آخری نشان مٹ نہیں جاتا اور ایک آزاد و خودمختار بلوچ ریاست کا قیام عمل میں نہیں آتا، ہمارا یہ اصولی اور نظریاتی سفر بغیر کسی مصلحت، سمجھوتے یا تعطل کے جاری رہے گا۔ جیئند بلوچ ترجمان، بلوچ لبریشن آرمی بتاریخ: 8 جولائی 2026

خضدار میں ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ شفیق مینگل کے ٹھکانے پر مجید بریگیڈ کا فدائی حملہ، ابتک 20 سے زائد کارندے ہلاک — بی ایل اے بلوچ لبریشن آرمی خضدار شہر میں ریاستی آلہ کار اور بلوچ قومی غدارِ اعظم شفیق مینگل کے مرکزی عسکری کمپاؤنڈ پر ہونے والے فدائی حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ یہ کارروائی بی ایل اے کے فدائی ونگ مجید بریگیڈ نے اس وقت سرانجام دی جب شفیق مینگل اپنے ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں مصروف تھا۔ آپریشن کا آغاز مجید بریگیڈ کے ایک جانباز فدائی سنگت نے بارود سے بھری گاڑی کو ڈیتھ اسکواڈ کے اس مضبوط ٹھکانے سے ٹکرا کر کیا، جس کے نتیجے میں کمپاؤنڈ کا بڑا حصہ اور بیرونی دفاعی لائنیں سیکنڈوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ اس طاقتور دھماکے کے فوراً بعد، مجید بریگیڈ کے دیگر فدائین کامیابی کے ساتھ کمپاؤنڈ کے اندر داخل ہوگئے اور اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، اس آپریشن میں ڈیتھ اسکواڈ کے 20 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ آخری اطلاعات آنے تک خود شفیق مینگل وہاں موجود تھے۔ یہ فدائی آپریشن تاحال جاری ہے۔ آپریشن کے مکمل ہونے کے بعد تفصیلی رپورٹ اور اعداد و شمار جلد ہی تنظیمی ذرائع سے میڈیا کو جاری کیئے جائیں گے۔ جیئند بلوچ ترجمان، بلوچ لبریشن آرمی بتاریخ: 8 جولائی 2026

+1
BLF fighters set up a temporary checkpoint and blockade on an important highway in the Pathk area of Besima on July 3, 2026.