Sobain|سوبین بلوچ
رفتن به کانال در Telegram
Freelance journalist from war zone Balochistan
نمایش بیشترکشور مشخص نشده استدسته بندی مشخص نشده است
259
مشترکین
+124 ساعت
+77 روز
+2230 روز
آرشیو پست ها
ماہِ مارچ کی آپریشنل رپورٹ: 39 کارروائیوں میں دشمن کے 30 فوجی اہلکار ہلاک، تمپ میں فوجی چوکیوں پر مربوط حملہ اور مختلف کارروائیو میں اسلحہ ضبط۔ میجر گہرام بلوچ
01 April 2026
Ref. No. BLF/Apr2026/00045
March Operational Report: 30 Enemy personnel Killed in 39 Operations, Coordinated Attack on Military Posts in Tump, and Weapons Seized in Various Operations- Major Gwahram Baloch
The fighters of the Balochistan Liberation Front (BLF), in March 2026, significantly intensified their attacks on the occupying Pakistani military and its subsidiary institutions, defense installations, and exploitative economic projects, carrying out 39 operations across occupied Balochistan. In these operations, the enemy suffered heavy casualties and material losses. The scope of these organized operations spanned more than 23 areas including Panjgur, Pasni, Kohlu, Turbat, Hoshab, Khuzdar, Besima, Hub,Jhao, Hironk, Tump, Naal, Gwadar, Tejaban, Chagai, Washuk, Mand, Mastung,Barkhan, Kalat, Shahrak, Malaar, and Gishkour, resulting in a total of 30 enemy soldiers’ death and 7 seriously injured.
BLF fighters carried out the most significant operation of March in the Apsi Kahn area of Tump, where our fighters launched coordinated attacks on enemy multiple posts simultaneously under a strategic plan and also successfully targeted and destroyed an enemy surveillance drone. In this special operation,15 enemy soldiers were killed. This operation reveals the fact that due to our fighters' successful military strategy, the enemy's grip in sensitive areas has been weakened.
On the intelligence front, during 3 intelligence-based operations, 12 key enemy agents and collaborators were killed. These networks were directly involved in the enforced disappearances of Baloch youths and spying on fighters. Similarly, our fighters targeted the enemy's surveillance capabilities, destroying 3 drones and 2 surveillance cameras, while in one significant operation, an enemy intelligence office was also targeted and heavily damaged.
In continuation of military advances, coordinated attacks were carried out on 15 enemy military check-posts and 5 major military camps. On the strategic front, targeted blockades were imposed at 5 locations to disrupt enemy supply lines, while a mining company involved in the plundering of occupied Balochistan's resources was also targeted. During these attacks, 6 enemy military vehicles were destroyed and 2 vehicles carrying minerals were also targeted.
Technically, this month's operations saw the effective use of modern and heavy weapons. In total, 11 attacks were carried out with heavy weapons, along with 5 grenade launchers, 2 hand grenades, and 2 IED attacks. Expert snipers targeted the enemy in 2 sniper attacks, while 2 direct clashes with the enemy took place and 1 military convoy was also targeted. During these engagements, our fighters seized and confiscated many weapons from the enemy.
In this sacred war, in defense of the homeland, 9 brave BLF fighters embraced martyrdom while fighting valiantly. These martyrs proved to the enemy that the Baloch nation's spirit of freedom cannot be weakened by military force. BLF pays tribute to these national martyrs for their great sacrifice and renews its pledge to carry their mission to its destination.
Major Gwahram Baloch
Spokesperson, Balochistan Liberation
Front
01 اپریل 2026
Ref. No. BLF/Apr2026/00045
ماہِ مارچ کی آپریشنل رپورٹ: 39 کارروائیوں میں دشمن کے 30 فوجی اہلکار ہلاک، تمپ میں فوجی چوکیوں پر مربوط حملہ اور مختلف کارروائیو میں اسلحہ ضبط۔ میجر گہرام بلوچ
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے مارچ 2026 میں قابض پاکستانی فوج اور اس کے ذیلی اداروں، دفاعی تنصیبات اور استحصالی معاشی منصوبوں پر حملوں میں غیر معمولی تیزی لاتے ہوئے مقبوضہ بلوچستان کے طول و عرض میں 39 مسلح کاروائیاں سرانجام دیں۔ ان کارروائیوں کے دوران دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا۔ ان منظم کارروائیوں کا دائرہ پنجگور، پسنی، کوہلو، تربت، ہوشاب، خضدار، بیسیمہ، حب، جھاؤ، ہیرونک، تمپ، نال، گوادر، تجابان، چاغی، واشک، مند، مستونگ، بارکھان، قلات، شاہرک، مالار اور گیشکور سمیت 23 سے زائد علاقوں تک پھیلا ہوا تھا جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر دشمن فوج کے 30 اہلکار ہلاک اور 7 شدید زخمی ہوئے۔
بی ایل ایف کے سرمچاروں نے مارچ کی سب سے اہم اور بڑی کارروائی تمپ کے علاقے اپسی کہن میں سرانجام دی جہاں سرمچاروں نے تزویراتی حکمت عملی کے تحت دشمن کی چوکیوں پر مربوط حملے کیے اور دشمن کے سرویلنس ڈرون کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کیا۔ اس اسپیشل آپریشن کے دوران قابض فوج کے 15 اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا۔ یہ آپریشن اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ سرمچاروں کی کامیاب عسکری حکمت عملی کے باعث دشمن کی گرفت حساس علاقوں میں مفلوج ہو چکی ہے۔
انٹیلیجنس کے محاذ پر 3 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے دوران دشمن کے 12 کلیدی ایجنٹس اور آلہ کاروں کو ہلاک کیا گیا۔ یہ نیٹ ورک بلوچ فرزندوں کی جبری گمشدگیوں اور سرمچاروں کی مخبری میں براہِ راست ملوث تھے۔ اسی طرح سرمچاروں نے دشمن کی بصری قوت کو نشانہ بناتے ہوئے 3 ڈرونز اور 2 سرویلنس کیمرے تباہ کیے، جبکہ ایک اہم کارروائی میں دشمن کے انٹیلیجنس آفس کو بھی نشانہ بناکر بھاری نقصان پہنچایا گیا۔
عسکری پیش قدمی کے تسلسل میں دشمن کی 15 فوجی چیک پوسٹوں اور 5 بڑے فوجی کیمپوں پر مربوط حملے کیے گئے۔ تزویراتی محاذ پر دشمن کی رسد کو متاثر کرنے کے لیے 5 مقامات پر ٹارگٹڈ ناکہ بندیاں کی گئیں، جبکہ مقبوضہ بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار میں مصروف ایک معدنیاتی کمپنی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے دوران دشمن کی 6 فوجی گاڑیاں تباہ کی گئیں اور معدنیات لے جانے والی 2 گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
تکنیکی اعتبار سے اس ماہ کی کارروائیوں میں جدید اور بھاری ہتھیاروں کا موثر استعمال کیا گیا۔ مجموعی طور پر 11 حملے بھاری ہتھیاروں سے کیے گئے، جبکہ 5 گرنیڈ لانچر حملے، 2 دستی بم حملے، اور 2 آئی ای ڈی (IED) دھماکے کیے گئے۔ ماہر نشانہ بازوں نے 2 اسنائپر حملوں میں دشمن کو نشانہ بنایا، جبکہ دشمن سے 2 براہِ راست جھڑپیں ہوئیں اور 1 فوجی قافلے کو بھی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ ان معرکوں کے دوران سرمچاروں نے دشمن سے اسلحہ قبضے میں لے کر ضبط کیے ہیں۔
وطن کے دفاع کی اس عظیم جنگ میں بی ایل ایف کے 9 جانباز سرمچاروں نے بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان شہداء نے دشمن پر ثابت کیا ہے کہ فوجی طاقت سے بلوچ قوم کا جذبہ آزادی کمزور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ بی ایل ایف ان قومی شہداء کو ان کی عظیم قربانی پر خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور ان کے مشن کو منزل تک پہنچانے کے عہد کی تجدید کرتی ہے۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان، بلوچستان لبریشن فرنٹ
ماہنامہ اسپر کے انیسواں شمارے کا اجرابلوچستان لبریشن فرنٹ کے زیرِ اہتمام، آشوب پبلی کیشنز کی جانب سے ماہنامہ اسپر کا انیسواں شمارہ اپریل 2026 شائع کیا جارہا ہے۔ اس شمارے کے مندرجات میں سب سے پہلے ایک فکر انگیز اداریہ شامل ہے، جو خطے میں پاکستان کی دشمنانہ کردار اور تزویراتی عزائم کے تناظر میں تحریر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بی ایل ایف کے مرکزی رہنما اختر ندیم بلوچ کا تفصیلی انٹرویو بھی شاملِ اشاعت ہے، جو دو دہائیوں پر محیط ان کے جنگی تجربات، خیالات، احساسات کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوگا۔ مزید برآں، تربیتی کمیٹی کے جانب سے اس میں تربیتی تحریر بھی شامل کیا گیا ہے جو سرمچاروں کو مخصوص ہتھیار کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا۔ مختلف لکھاریوں کی ایسی تحریریں بھی اس کا حصہ ہیں جو سیاسی شعور کی بیداری اور مزاحمتی تربیت کے حوالے سے جامع رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ آخر میں، میگزین میں بی ایل ایف کی ماہانہ آپریشنل رپورٹ کے ساتھ ساتھ گزشتہ ماہ جامِ شہادت نوش کرنے والے سرمچاروں کی تصاویر شامل کی گئی ہیں، جو اس شمارے کی تاریخی و دستاویزی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہیں۔ لٹریچر کمیٹی آشوب پبلی کیشنز بلوچستان لبریشن فرنٹ
بریکنگ نیوز
تربت شہر میں زوردار دھماکوں کے بعد شدید فائرنگ کی آواز سنی گئی،مزید اطلاعات آنا باقی ہے۔
31 March 2026
Ref. No. BLF/Mar2026/00044
Occupying forces suffer casulalities and material losses in the attack on camps in Geshkour and Awaran- Major Gwahram Baloch
Fighters of the Balochistan Liberation Front carried out a close-range attack with heavy weapons targeting a Pakistani army camp established in the Cheri Malaar area of Awaran on March 31, 2026. Multiple RPG rounds were fired, which landed inside the camp, resulting in significant damage to the military.
In another operation, our fighters carried out an attack with heavy weapons, targeting the main camp of the Pakistani army in Gishkour on March 29, 2026.
In the attack, BLF's sniper units targeted various enemy positions, while other group fired multiple RPG rounds at the camp, which struck their intended targets. As a result, the enemy forces suffered both casualties and material losses.
As usual, the panicked enemy retaliated by launching attacks on civilian populations. However, after the successful operation, our fighters safely withdrew and returned to their bases.
The Balochistan Liberation Front claims responsibility for both the attacks on the occupying Pakistani forces in Awaran and Gishkour.
Major Gwahram Baloch
Spokesperson, Balochistan Liberation Front
31 مارچ 2026
Ref. No. BLF/Mar2026/00044
آواران اور گیشکور میں پاکستانی فوج کے کیمپوں پر حملوں میں فوج کو جانی و مالی نقصان پہنچایا، میجر گہرام بلوچ
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 31 مارچ 2026 کو آواران کے علاقے چیری مالار میں قائم پاکستانی فوج کے کیمپ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے انتہائی قریب سے نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے آر پی جی کے متعدد گولے داغے، جو کیمپ کے اندر جا لگے جس کے باعث فوج کو شدید نقصان پہنچا۔
اس سے قبل 29 مارچ 2026 کو سرمچاروں نے گیشکور میں قابض فوج کے مرکزی کیمپ پر ایک مربوط حملہ کیا۔ حملے کے دوران سرمچار اسنائپرز نے دشمن کے مختلف مورچوں کو ہدف بنایا، جبکہ دوسرے دستے نے آر پی جی سے کیمپ پر گولہ باری کی، جس کے نتیجے میں دشمن فوج کو جانی اور مالی نقصان پہنچا۔
حسبِ معمول، حواس باختہ دشمن نے شکست چھپانے کے لیے اطراف میں پھیلی سول آبادی پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی، تاہم سرمچار کامیاب کارروائی کے بعد بحفاظت اپنے ٹھکانوں تک پہنچ گئے۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ ان دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان، بلوچستان لبریشن فرنٹ
بریکنگ نیوز
آواران کے علاقے چیری مالار میں قائم پاکستانی فورسز کے کیمپ پر مسلح افراد نے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے بھاری ہتھیاروں سے فورسز کیمپ کو نشانہ بنایا، جس کے بعد علاقے میں طویل دیر تک دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں گونجتی رہیں۔
Weapons, women and the rise of hybrid insurgency in Balochistan
https://asiatimes.com/2026/03/weapons-women-and-the-rise-of-hybrid-insurgency-in-balochistan/
گزشتہ روز بولان کے علاقے کلی مچھ کے مقام بولان مین شائراہ پر بلوچ آزادی پسندوں کا گھنٹوں تک ناکہ بندی کر کے اسنیپ چیکنگ کی گئی،علاقائی زرائِع کے مطابق دوران ناکہ بندی سرمچاروں نے دو مشکوک افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔
https://x.com/subainbaluch/status/2038863786916876681?s=20
خاران: گزشتہ شب نامعلوم مسلح افراد نے خاران، کراچی میں شاہراہِ سراوان روڈ پر ڈیڈی فارم کے قریب واقع پل کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیا۔
#بلوچستان
https://x.com/subainbaluch/status/2038855898412507647?s=20
