fa
Feedback
Sobain|سوبین بلوچ

Sobain|سوبین بلوچ

رفتن به کانال در Telegram

Freelance journalist from war zone Balochistan

نمایش بیشتر
کشور مشخص نشده استدسته بندی مشخص نشده است
259
مشترکین
+124 ساعت
+77 روز
+2230 روز
آرشیو پست ها
‏چماں بدل کن ئے تو زھیراں بدل کن ئے ‏توشانتلے ئے ھروچ کھیراں بدل کن ئے ‏توکہ ھمک سباھاں وپاھان ءَ کوکویے ‏اے دل نشانگ انت تو تیراں بدل کن ئے ‏وھدے کمان میاں دْرنزئے تو کندگے ‏اے اھدءِ اشک ءِ مستیں پکیراں بدل کن ئے ‏پہ مامتاہ ھمیش انت وتن زادگی وتی ‏توپہ بھائے مرشد ءُ پیراں بدل کن ئے https://x.com/sanbaluch/status/2032122267535028552?s=46

جی "سوب" ئنا جنگجو تے جی جی ڈئے ئنا خوشبو تے جی آجوئی نا جگنو تے جی جند ندر آ دا آھو تے جی جی گلشنے سدّو نا جی جی غنچہ ئے ادّ
جی "سوب" ئنا جنگجو تے جی جی ڈئے ئنا خوشبو تے جی آجوئی نا جگنو تے جی جند ندر آ دا آھو تے جی جی گلشنے سدّو نا جی جی غنچہ ئے ادّو نا جی اوووووو جی شارُلی نا کاروان دک آن زرینہ نا امان گودیک ڈئے نا پاسبان لڑزا سُرس مُچ آ جہان درویش ئنا پد زندہ ئے برگیڈ، سوبی دروشم اٹ ورنا مننگے جہد پین ماہل سلالی بلسم اٹ پھل آتا پھل، پھل منگل ئے آجوئی نا جی گودل ئے جی جی زرینہ شیرزال حیران اوڑا توکل ئے کونڈی نا دَنزی زلزلٹ بیجنگ اتو دنیا سُرا میرل نا جنگی اٹکل آن ایران اتو پنجاب دڑا کیچی آ دا گیسو تے جی خضداری آ مارُو تے جی اووووووو دشمن نا کَرگز تے دے آن اِستار دُن تِسّور نشان دا مون پہ مون نا جنگ اٹی آصف اوتے پِرغا مخان داکان پنت جوانو درے داسہ دچا سارا برے جی جی نبیل نے جان جی پاریکہ نے مولا اتے دا سوب ئنا اولیکو گام دے ٹِک اکن رائی روان ساہل عنایت جی غلام رہبر ءُ مرشد نم امام جی روشنا اِستارتے جی جی زیبلا دلدارتے جی جی رہبرو سالارتے جی جی ڈے ئنا غمخوار تے جی شالی آ پرّک، گواڑخو مستونگی آ گوگو پریدہ بلوچ

چودہ حملوں میں قابض فوج کے 18 اہلکار ہلاک، فوجی پوسٹوں پر کنٹرول، اسلحہ ضبط – بی ایل اے بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے 19 مارچ سے 28 مارچ کے دوران واشک، خاران، قلات، مستونگ، سوراب، خضدار، کوئٹہ، تربت اور بارکھان میں مختلف نوعیت کی 14 کارروائیاں کیں، جن میں قابض فوج کے 18 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ سرمچاروں نے چیک پوسٹوں پر کنٹرول حاصل کرکے اہلکاروں کو حراست میں لے کر اسلحہ و جنگی سامان ضبط کیا۔ ان کارروائیوں کے دوران قابض فوج کے ساتھ جھڑپوں میں بی ایل اے کے دو سرمچار شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔ تفصیلات: 19 مارچ: سرمچاروں نے واشک میں سی پیک روٹ پر تحصیل کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کو راکٹوں و دیگر ہتھیاروں سے نشانہ بنا کر دشمن کو جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا، جبکہ قریب واقع لیویز پوسٹ پر کنٹرول حاصل کرکے اہلکاروں کو حراست میں لے کر ان کا اسلحہ اپنی تحویل میں لیا۔ ان اہلکاروں کو بعد ازاں رہا کردیا گیا۔ اسی روز خاران کے علاقے برشونکی میں قابض پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کی تشکیل کردہ نام نہاد ڈیتھ اسکواڈ کے ٹھکانے پر حملہ کیا گیا۔ حافظ ممتاز کی سرپرستی میں چلنے والے مسلح جتھے کے ارکان کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ جھڑپوں میں سنگت عبداللہ بلوچ عرف ساربان شہید ہوگئے۔ قلات کے علاقے چپر میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے پیدل اہلکاروں کو حملے میں نشانہ بنا کر نقصانات سے دوچار کیا اور پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔ مستونگ کے علاقے گرگینہ میں کلی پسند خان کے مقام پر سرمچاروں نے اس وقت گھات لگا کر حملہ کیا جب دشمن فوج علاقے میں جارحیت کی غرض سے پیش قدمی کررہی تھی۔ قابض فوج کی دو گاڑیاں براہِ راست حملے کی زد میں آئیں، جس کے نتیجے میں 3 دشمن اہلکار موقع پر ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ قابض فوج نے اس دوران کواڈ کاپٹرز کا استعمال کیا جن میں سے ایک کو سرمچاروں نے مار گرایا، جبکہ جھڑپوں میں سنگت دُرا زخمی ہوگئے۔ 20 مارچ: سرمچاروں نے سوراب میں کسٹم پوسٹ پر کنٹرول حاصل کرکے اہلکاروں کو گرفتار کرکے ان کا اسلحہ ضبط کیا اور پیش قدمی کرنے والے قابض فوج کے قافلے کو حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دشمن کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں قابض فوج کے متعدد گاڑیوں کے قافلے کو انجیرہ، زہری کے مقام پر اس وقت گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا جب وہ سوراب سے پیش قدمی کی کوشش کررہا تھا۔ اس حملے میں قابض فوج کے 8 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، جبکہ بزدل فوج اپنے ہلاک اہلکاروں کی لاشیں چھوڑ کر پسپا ہوگئی۔ اسی روز خضدار کے علاقے بلبل، زہری میں سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے میں شامل ٹرک کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنا کر جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا۔ 21 مارچ: بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے عید الفطر کے دن خاران کے علاقے لجے کا کنٹرول حاصل کر کے عیدگاہ میں عوام سے خطاب کیا۔ اسی روز سنگت یعقوب بلوچ عرف دُرا، جو گرگینہ کے مقام پر قابض فوج کے ساتھ جھڑپوں میں شدید زخمی ہو گئے تھے، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرگئے۔ 23 مارچ: قلات کے علاقے منگچر میں سرمچاروں نے قابض فوج کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے پیدل اہلکاروں کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تینوں اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے، جبکہ بعد ازاں پیش قدمی کرنے والی قابض فوج کی بکتر بند گاڑی کو راکٹ و دیگر ہتھیاروں سے نشانہ بنا کر مزید نقصانات سے دوچار کیا۔ 26 مارچ: سرمچاروں نے کوئٹہ سے متصل ڈغاری کے علاقے میں زڑخو کے مقام پر قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو اس وقت آئی ای ڈی حملوں میں نشانہ بنایا جب وہ نئے تعمیر ہونے والے اپنے پوسٹ کے مقام پر پہنچے تھے۔ دھماکے میں 2 اہلکار موقع پر ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوا۔ 27 مارچ: تربت میں گنہ کے مقام پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے پوسٹ پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغ کر دشمن فوج کو جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا۔ 28 مارچ: سرمچاروں نے اتوار کی شب بارکھان میں گیرپٹی کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے پوسٹ کو حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں قابض فوج کا ایک اہلکار ہلاک ہوگیا جبکہ دشمن کو مزید جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی روز سوراب میں سرمچاروں نے کوئٹہ-کراچی شاہراہ کا کنٹرول حاصل کرکے گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ کی جبکہ اس دوران ایک آئی ایس آئی ایجنٹ کو شناخت کے بعد ہلاک کردیا گیا۔ دریں اثناء سوراب کے علاقے گدر میں قابض پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو اس وقت ٹریپ کرکے گرنیڈ حملے میں نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک فارم ہاؤس کو بطور چیک پوائنٹ استعمال کرنے کیلئے پہنچے تھے۔ دھماکے میں دو اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔

Martyr Abdullah - Martyr Yaqoob.jpg1.12 MB

قابض فوج کے خلاف ان کارروائیوں کے دوران تنظیم کے دو باہمت سرمچاروں نے مادرِ وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ شہید عبداللہ رودینی بلوچ عرف ساربان ولد ناظر علی رودینی، سکنہ خدابادان، پنجگور، بلوچستان یونیورسٹی سے بی ایس انگلش لٹریچر کے فارغ التحصیل تھے۔ انہوں نے 21 مئی 2023 کو بطور شہری گوریلا شمولیت اختیار کی اور جولائی 2025 میں پہاڑی محاذ سنبھالا۔ آپ 19 مارچ 2026 کو خاران کے علاقے لجے میں دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ دوسرے شہید سرمچار سنگت یعقوب بلوچ عرف دُرا ولد گل شیر بلوچ، سکنہ دشت، تربت تھے، جنہوں نے سن 2024 میں تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور شور پارود، قلات و مستونگ کے محاذوں پر خدمات سرانجام دیں۔ آپ 21 مارچ 2026 کو مستونگ کے علاقے گرگینہ میں قابض فوج کے ساتھ ہونے والی شدید جھڑپ میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ جیئند بلوچ ترجمان، بلوچ لبریشن آرمی مورخہ 29 مارچ 2026

بریکنگ نیوز پنجگور میں مختلف مقامات پر ڈیتھ اسکواڈ کے ٹھکانوں پر حملے جاری ہیں، اور علاقے میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں

Operation Apsi Kahn
BLF carried out a coordinated operation against the occupying Pakistani forces in the Apsi Kahn area of Tump on 8th March. A drone was also shot down in the operation.
Aashob Media Balochistan Liberation Front

Ashoob Statement Pad English 0043.jpg4.74 MB

27 March 2026 Ref. No. BLF/Mar2026/00043   In two operations in Hub and Shahrak, mobile towers were set on fire and an FC check-post was targeted with rockets — Major Gwahram Baloch   Fighters of the Balochistan Liberation Front set fire to and destroyed the machinery of a mobile tower on March 26, 2026, in the Bhawani area of Hub Chowki. The targeted mobile tower was being used for digital surveillance. In another attack on March 22, our fighters targeted a Frontier Corps (FC) check-post with rockets at Charpanok in the Kekin area of Shahrak, Kech. In the attack, the enemy suffered casualties and material losses, and the machinery of a nearby Ufone tower was also burned and destroyed.   The Balochistan Liberation Front claims responsibility for setting mobile towers on fire in Hub and Shahrak and for the attack on FC check-post.   Major Gwahram Baloch Spokesperson- Balochistan Liberation Front

Ashoob Statement Pad Urdu 0043.jpg4.66 MB

27 مارچ 2026 Ref. No. BLF/Mar2026/00043   حب اور شہرک میں کارروائیاں، موبائل ٹاورز نذرِ آتش، ایف سی چوکی پر راکٹ حملہ۔ میجر گہرام بلوچ   بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 26 مارچ 2026 کو حب چوکی کے علاقے بھوانی میں ایک موبائل ٹاور کی مشینری کو نذرِ آتش کرکے تباہ کر دیا۔ ہدف بنائے جانے والی یہ موبائل جاور جاسوسی کے مقاصد کے لیے استعمال ہورہا تھا۔   ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے 22 مارچ کو کیچ کے علاقے شہرک، کیکن میں چرفانوک مقام پر فرنٹیر کور (ایف سی) کی چوکی کو راکٹوں سے حملے میں نشانہ بنایا۔ اس حملے میں فورسز کو جانی و مالی نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ قریب موجود یوفون ٹاور کی مشینری کو بھی جلا کر ناکارہ بنا دیا گیا۔   بلوچستان لبریشن فرنٹ حب اور شہرک میں موبائل ٹاورز کو نذرِ آتش کرنے اور ایف سی چوکی پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔   میجر گہرام بلوچ ترجمان، بلوچستان لبریشن فرنٹ

‏آج کا دن ہم سے غور و فکر کی تقاضا کرتا ہے کہ 78 سالہ قبضہ گیریت کے خلاف جاری جہدوجہد میں شدت لانے اور قومی اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے دشمن کے خلاف تمام محاذوں پر اتحاد اور قومی یکجہتی کو یقینی بنائیں۔ ‏یہ بلوچ قوم کی کامیابی ہے کہ ایک غیر فطری ریاست اور درندہ صفت دشمن کے مقابلے میں اپنے اجتماعی اہداف، تاریخی شناخت اور قومی آزادی کے موقف پر اٹل ہے، آج بلوچ قومی مزاحمت اور خودشناسی اپنی ایک باوقار دور سے گزر رہی ہے اگرچہ تحریک کے تمام ستونوں میں سطحی اختلاف اور رنجشیں ہیں مگر قومی موقف پر سبھی متحد ہیں۔ ‏قومی آزادی کی حصول کے لیے ضروری ہے کہ تحریک کے تمام محاذوں میں یکجہتی ہو، قربت ہو اور ہم آہنگی بڑھانے کے لیے واضح کوشش، جب مقصد مشترک ہو تو اختلافات کو طاقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ یکجہتی اور اتحاد صرف ہم آہنگی سے پیدا ہوتی ہے، مختلف نقطۂ نظر رکھنے والے تنظیم، پارٹی اور سرکلز ایک بڑے مقصد کے لیے ایک ساتھ کھڑے ہو جائیں تو یہ کمزوری نہیں بلکہ کسی بھی جدوجہد کو سیاسی بلوغت مضبوط اور بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ‏کسی بھی سیاسی تحریک کی کامیابی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب وہ اپنے اہداف کو واضح، منظم اور سیاسی حکمتِ عملی کے ذریعے آگے بڑھائے۔ قومی یکجہتی اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب ذمہ داراں قوم میں اجتماعی اعتماد پیدا کریں اور جدوجہد کو سیاسی مکالمے کے اصولوں کے ساتھ جوڑیں۔ یہ نہ صرف جدوجہد کی ستونوں کی اخلاقی بنیاد مضبوط بناتی ہے بلکہ دنیا بھی اس بیانیے کو زیادہ سنجیدگی سے لیتی ہے۔ ‏بی این ایم رہنما چیئرمین خلیل بلوچ

26 مارچ کو حب چوکی کے علاقے بوانی میں مسلح افراد نے جاسوسی کے لیے نصب ٹاور کو تباہ کر دیا۔

Follow my new X account https://x.com/suhbainbluch?s=21

پنجگور: پروم میں مسلح افراد نے پاکستانی فوج کے حمایت یافتہ مسلح گروہ (ڈیتھ اسکواڈ) کے ارکان پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ حملے کے بعد پاکستانی فوج نے علاقے میں چھاپہ مار کر تیل کے کاروبار سے وابستہ افراد کے ڈپوؤں کو نذرِ آتش کر دیا۔