es
Feedback

¡No caigas en manos de tramposos! Telemetrio encuentra y marca estos canales 👉 Si quieres ver la etiqueta, suscríbete

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Ir al canal en Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Mostrar más
1 288
Suscriptores
Sin datos24 horas
-47 días
-430 días
Archivo de publicaciones
🌹 عید زھراء کی شرعی و تاریخی حیثیت 🌹 ہمارے معاشرے میں بہت سی عیدیں آتی ہیں جیسے عید الفطر، عید قربان، عید غدیر اور عید مباہلہ۔ یہ ساری عیدیں کسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں. ■ عید الفطر: یکم شوال کو ایک مہینہ کے روزے تمام کرنے کا شکرانہ اور فطرہ نکال کر غریبوں کی عید کا سامان فراہم کرنے کا ذریعہ ہے. ■ عید قربان: 10 ذوالحجہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو خدا نے ذبح ہونے سے بچا لیا تھا اور اُن کی جگہ دنبہ ذبح ہو گیا تھا، جس کی یاد مسلمانوں پر ہر سال منانا سنت ہے۔ ■ عید غدیر: 18 ذوالحجہ کو غدیر خم میں مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کی تاج پوشی کی یاد میں ہر سال منائی جاتی ہے، اِس دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غدیر خم کے میدان میں مولائے کائنات کو سوا لاکھ حاجیوں کے درمیان اللہ کے حکم سے اپنا جانشین اور خلیفہ مقرر کیا تھا. ■ عید مباہلہ: 24 ذوالحجہ کو منائی جاتی ہے، اس روز اہلبیت علیہم السلام کے ذریعہ اسلام کو عیسائیت پر فتح نصیب ہوئی تھی. ■ عید زہراء: 9 ربیع الاول کو منائی جاتی ہے اور اس عید کے منانے کی مختلف 4 وجہیں بیان کی جاتی ہیں۔ ❶ بعض لوگ کہتے ہیں کہ 9 ربیع الاول کو دشمن حضرت زہراء(ع) کا قتل ہوا، لہٰذا یہ خوشی کا دن ہے اور اس روز کو ’’عید زہراء‘‘ کے نام سے موسوم کر دیا گیا. اس بارے میں علماء و مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ شیعہ فقہاء کے درمیان مشہور ہے کہ خلیفہ دوم کا قتل ذوالحج میں ہوا۔ (بحار الانوار، ج 31، ص119) ’’اکثر شیعہ یہ گمان کرتے ہیں کہ خلیفہ دوم 9 ربیع الاول کو قتل ہوئے۔ یہ صحیح نہیں ہے. بتحقیق عمر 26 ذوالحجہ کو قتل ہوئے اور اس پر ’’صاحب کتاب غرہ‘‘، ’’صاحب کتاب معجم‘‘، ’’صاحب کتاب طبقات‘‘، ’’صاحب کتاب مسار الشیعہ‘‘ اور ابن طاؤوس کی نص کے علاوہ شیعوں اور سنیوں کا اجماع بھی حاصل ہے۔ (بحار الانوار، جلد ۵۸، ص۳۷۲، باب ۱۳،مطبوعہ تہران) جو روایت کہتی ہے کہ خلیفہ دوم کا قتل 9 ربیع الاول کو ہوا، اس روایت کا صحیح ہونا ثابت نہیں۔ اول: اس روایت کی سند کمزور ہے، چنانچہ ضعیف سند ہونے کی وجہ سے قابل استدلال نہیں ہے۔ دوم: اس روایت کا متن قرآن کے مخالف ہے اور اس میں تناقض پایا جاتا ہے۔ معتبر تاریخ میں کسی بھی دشمن رسول (ص) و آل رسول (ص) کی ہلاکت 9 ربیع الاول کے روز نہیں ملتی لہٰذا روایت قابل اعتبار نہیں ہے. اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ خلیفہ دوم 9 ربیع الاول کو قتل ہوئے (جو کہ غلط ہے) تب بھی حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی وفات پہلے ہوئی اور آپ کے دشمن یکے بعد دیگرے بعد میں قتل ہوئے. تو پھر اپنے دشمنوں کی ہلاکت سے حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کس طرح خوش ہوئیں۔ لہٰذا عید زہراء کی یہ وجہ غیر معقول نظر آتی ہے. ❷ عید زھراء اور مختار ثقفی (رح) بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ 9 ربیع الاول کو جناب مختار نے امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کو واصل جہنم کیا. لہٰذا یہ روز شیعوں کے لئے سرور و شادمانی کا ہے، ہم نے معتبر تاریخ کی کتابوں میں بہت تلاش کیا لیکن کہیں یہ بات نظر نہ آئی کہ جناب مختار نے 9 ربیع الاول کو امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کو واصل جہنم کیا تھا. لہٰذا یہ وجہ بھی غیر معقول ہے. بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ جناب مختار نے ابن زیاد کا سر امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں مدینہ بھیجا اور جس روز یہ سر چوتھے امام (ع) کی خدمت میں پہنچا وہ ربیع الاول کی 9 تاریخ تھی، امام علیہ السلام نے ابن زیاد کا سر دیکھ کر خدا کا شکر ادا کیا اور مختار کو دعائیں دیں نیز اسی وقت سے ان عورتوں نے بالوں میں کنگھی اور سر میں تیل ڈالنا اور آنکھوں میں سرمہ لگانا شروع کیا جو واقعہ کربلا کے بعد سے ان چیزوں کو چھوڑے ہوئے تھیں. بالفرض اگر اسے صحیح مان لیا جائے تب بھی یہ عید جناب زینب سلام اللہ علیها اور جناب سید سجاد علیہ السلام سے منسوب ہونی چاہئے تھی اور ہمیں بھی امام زین العابدین علیہ السلام کی پیروی کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ شکر خدا ادا کرنا چاہئے تھا اور جناب مختار کے لئے دعائے خیر کرنا چاہئے تھی، لیکن نہ تو یہ عید چوتھے امام (ع) سے منسوب ہوئی اور نہ جناب زینب (ع) کے نام سے مشہور ہے۔ لہٰذا عید زہراء کی یہ وجہ بھی غیر معقول ہے، اگر اس روایت کو صحیح مان لیا جائے تو اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جن کے گھر میں شریعت نازل ہوئی، جن کے سامنے احکام نازل ہوئے، جو اخلاق اسلامی کا مرصع تھے، جنہوں نے صفائی کی بہت تاکید کی ہے وہ اتنے دن تک کس طرح بغیر سر صاف کئے ہوئے رہے۔ اور پھر کس سماج میں سر کو صاف کرنا خوشی کی علامت ہے۔ لہذا یہ بھی غیر معقول معلوم ہوتا ہے!

📿 کثرت سے صلوات بھیجو 🔷 امام حسن عسکری علیه السلام فرماتے ہیں: أَکثرُوا ذِکرَ اللَّهِ وَ ذِکرَ الْمَوْتِ وَ تِلَاوَةَ الْقُرْآنِ وَ الصَّلَاةَ عَلَی النَّبِیِّ صلی الله علیه و آله فَإِنَّ الصَّلَاةَ علَی رَسولِ اللَّه عَشْرُ حَسَنَاتٍ احْفَظُوا مَا وَصَّیتُکمْ بِهِ۔ 📜 اللہ اور موت کو کثرت سے یاد کرو، قرآن کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کرو، اور محمد و آل محمد پر کثرت سے صلوات بھیجو اس لئے کہ صلوات کے دس حسنات ہیں، جس چیز کی ہم نے سفارش کی ہے اسے پر عمل کرو۔ 📚 (تحف العقول، ص 890)

ہر وقت امام کی جاسوسی کے پیش نظر شیعوں کیلئے امام سے ملاقات کرنا نہایت مشکل تھا یہانتک کہ خلیفۂ عباسی چندین مرتبہ بصرہ گیا تو جاتے ہوئے امام کو بھی اپنے ساتھ لے کر جاتا تھا. اس دوران امام کے اصحاب آپ کی زیارت کیلئے اپنے آپ کو تیار رکھتے تھے۔[9] اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شیعوں کیلئے مستقیم طور پر امام سے ملنا کس قدر دشوار تھا۔ اسماعیل بن محمد کہتا ہے: جہاں سے آپکا گزر ہوتا تھا میں وہاں کچھ رقم مانگنے کے لئے بیٹھا اور جب امام (ع) کا گزر وہاں سے ہوا تو میں نے کچھ مالی مدد آپ سے مانگی.[10] ایک اور راوی نقل کرتا ہے کہ ایک دن جب امام(ع) کو دارالخلافہ جانا تھا ہم عسکر کے مقام پر آپ کو دیکھنے کے لئے جمع ہوئے، اس حالت میں آپ کی جانب رقعہ توقیعی (یعنی کچھ لکھا ہوا) ہم تک پہنچا جو کہ اسطرح تھا: کوئی مجھ کو سلام اور حتیٰ میری جانب اشارہ بھی نہ کرے، چونکہ مجھے امان نہیں ہے۔[11] اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ خلیفہ کس حد تک امام اور شیعیان کے درمیان روابط کو زیر نظر رکھتا تھا. البتہ امام اور آپ کے شیعہ مختلف جگہوں پر آپس میں ملاقات کرتے تھے اور ملاقات کے مخفیانہ طریقے بھی تھے جو چیز آپ اور شیعوں کے درمیان رابطہ رکھنے میں زیادہ استعمال ہوئی وہ خطوط تھے اور بہت سے منابع میں بھی یہی لکھا گیا ہے.[12] آپ نے اپنی شہادت سے کچھ عرصہ پہلے سنہ 259 ہجری میں اپنی والدہ کو حج پر بھیجا اور جو کچھ آپ کے ساتھ سنہ 260 ہجری میں ہونے والا تھا اسے اپنی والدہ کے لئے بیان فرمایا اور اپنے فرزند حضرت مہدی (عج) کو اپنی وصیتیں فرمائیں اور "اسم اعظم"، "امامت کی میراث" اور تلوار کو آپ کے سپرد فرمایا. امام کی والدہ مکہ کی طرف روانہ ہو گئیں اور حضرت مہدی (عج) کو بھی ساتھ لے گئیں.(13) امام عسکری(ع) پہلی ربیع الاول سنہ 260 ہجری کو بیمار ہوئے اور اسی مہینے کی آٹھویں تاریخ کو 28 سال کی عمر میں سامرا میں ہی اس دنیا سے چل بسے، اور اپنے ہی گھر میں جہاں کہ آپ کے والد کو بھی دفن کیا گیا تھا. [14] طبرسی (سنہ 548 ہجری) لکھتا ہے: ہمارے زیادہ تر اصحاب (یعنی اہل تشیع کے علماء) کی نظر میں امام (ع) کی اس دنیا سے جانے کی وجہ مسمومیت تھی اور اس کے آگے بیان کرتا ہے کہ اسی طرح آپ(ع) کے والد اور آپ کے آباؤ و اجداد اور اہل تشیع کے سارے امام شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے ہیں اور اس پر شیعہ علماء کی دلیل امام صادق (ع) کی یہ روایت ہے کہ جس میں آپ فرماتے ہیں: "واللہ ما منا الا مقتول شہید" (خدا کی قسم، ہم سب کو شہادت کی موت نصیب ہو گی)۔ [15] 📚 حوالہ جات 1- مسعودی، اثبات الوصیہ، ص۲۵۹ 2- نوبختی، فرق الشیعہ، ص۹۲ 3- اربلی، کشف الغمہ، ج۳، ص۱۹۸ 4- طبری، دلائل الامامہ، ج۱، ص۲۲۳. 5- مسعودی، اثبات الوصیہ، ص۲۶۳ 6- مسعودی، اثبات الوصیہ، ص۲۶۸ 7- مسعودی، اثبات الوصیہ، ص۲۶۹ 8- مسعودی، اثبات الوصیہ، ص۲۷۰؛ رجال کشی، ص۵۶۰ 9- شیخ مفید، الارشاد، ص۳۸۷. 10- اربلی، کشف الغمہ فی معرفہ الائمہ، ج۲، ص ۴۱۳. 11- راوندی، الخرائج و الجرائح، ج ۱، ص ۴۳۹. 12- ابن شہر آشوب، مناقب، ج۴، ص۴۲۵؛ شیخ طوسی، الغیبہ، ص ۲۱۴. 13- مسعودی،اثبات الوصیہ، ص ۲۱۷-۲۱۸. 14- شیخ مفید، الارشاد، ص۵۱۰. 15- طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ج۲، ص۱۳۱۱۳۲. 👈 مزید اسلامی تحریریں اور کہانیوں کے ذریعے اصلاحی تحریریں نیز مفید معلومات کے لئے ہمارا وٹس ایپ چینل اسلام ود ایمان فالو کیجئے۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

۴۔اپنے مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے شیعیان جیسے علی بن حسین بن بابویہ قمی،۔۔۔۔کی طرف خطوط و پیغامات بھیجنے کا انتظام، یہاں تک کہ زندان میں رہتے ہوئے بھی یہ امر انجام دیتے رہے. ۵۔صوفیوں، مشرکوں، واقفیہ اور مفوّضہ وغیرہ کے انحرافی نظریات و عقائد کے سامنے اپنے منطقی، اسلامی اور حقیقی عقائد کا پرچار. ۶۔اسلامی ملک کے مختلف نقاط میں اپنے نمائندے بھیج کر مؤمنین کی رہنمائی اور روابط کا بندوبست. ۷۔اسلامی معارف پھیلانا اور مستعد افراد کو اپنے عالیشان بیانات سے مستفیض فرمانا؛ حضرت کی معروف تفسیر، ہدایت بخش خطوط، کلمات قصار یہ سب اسی ترویج و تبلیغ کے ثمرات ہیں. ۸۔شبہات و مسائل کے جوابات. ۹۔اہلبیت علیہم السلام کے تہذیب و تمدن (اسلامی کلچر) کی ترویج و تبلیغ کرنے والوں کی تشویق و ترغیب اور حوصلہ افزائی. ب:محروموں اور مستضعفوں کی مالی، اقتصادی حمایت و امداد، شیعوں سے حاصل ہونے والی وجوہات (خمس وغیرہ) سے قرضداروں کے قرض اتارنے کا اہتمام. ج:ایک منظم نظام کے تحت اپنے ماننے والوں کی حفاظت کا انتظام. د:اپنی حقانیت، شیعوں کی حفاظت و تقویت، بعض لوگوں کے دلوں سے شک و تردید کے خاتمے اور مخالفین پر خداوندمتعال کی حجت تمام کرنے کے لیے مناسب اور ضروری مواقع پر بہ اذن خداوندعزیز معجزات و کرامات کا ظاہر کرنا. ہ:اپنے شیعوں اور مؤمنوں کو اپنے فرزند مہدی موعود علیہ السلام کی غیبت کے زمانے کے لیے تیار کرنا اور اُس دوران ان کی ذمہ داریوں اور وظائف سے انہیں روشناس کرانا. بچپنے میں ہی امام حسن عسکری علیہ السلام، اپنے والد امام ہادی کے ساتھ جبری طور پر عراق طلب کر لئے گئے اس زمانے میں عباسیوں کا دارالحکومت سامرا تھا یہاں آپکو تحت نظر رکھا گیا .بعض مآخذوں میں اس سفر کی کا سال 236 ہجری.[1] اور بعض میں سال 233 ہجری.[2] مذکور ہے. امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ سامرا میں ہی گزارا. ایک دفعہ سامرا سے نکلنا مذکور ہے جب وہ حج کی ادائیگی کیلئے گئے تھے. اس کی جانب بلاذری نے اشارہ کیا ہے. [3] آپ کے دورۂ امامت میں معتز عباسی (۲۵۲-۲۵۵ ہجری)، مہتدی (۲۵۵-۲۵۶ ہجری) و معتمد (۲۵۶-۲۷۹ ہجری).[4] عباسی خلیفہ رہے. حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور میں عباسی حکومت امیروں کیلئے ایک بازیچہ بن چکی تھی خاص طور پر ترک نظامی سپہ سالاروں کا حکومتی سسٹم میں مؤثر کردار تھا. امام کی زندگی کی پہلی سیاسی سرگرمی اس وقت تاریخ میں ثبت ہوئی جب آپ کا سن 20 سال تھا اور آپ کے والد گرامی زندہ تھے. آپ نے اس وقت عبدالله بن عبدالله بن طاہر کو خط لکھا جس میں خلیفۂ وقت مستعین کو باغی اور طغیان گر کہا اور خدا سے اس کے سقوط کی تمنا کا اظہار کیا. یہ واقعہ مستعین کی حکومت کے سقوط سے چند روز پہلے کا ہے. عبد اللہ بن عبد اللہ عباسی حکومت میں صاحب نفوذ اور خلیفۂ وقت کے دشمنوں میں سے سمجھا جاتا تھا۔ [5] مستعین کے قتل کے بعد اس کا دشمن معتز تخت نشین ہوا. حضرت امام حسن عسکری کے مقتول خلیفہ کی نسبت احتمالی اطلاعات کی بنا پر معتز نے شروع میں آپ کی اور آپ کے والد کی نسبت ظاہری طور پر کسی قسم کے خصومت آمیز رویہ کا اظہار نہیں کیا ۔حضرت امام علی نقی کی شہادت کے بعد شواہد اس بات کے بیان گر ہیں کہ امام حسن عسکری کی فعالیتیں محدود ہونے کے باوجود کسی حد تک آپ کو آزادی حاصل تھی. آپ کی امامت کے ابتدائی دور میں آپ کی اپنے شیعوں سے بعض ملاقاتیں اس بات کی تائید کرتی ہیں لیکن ایک سال گزرنے کے بعد خلیفہ امام کی نسبت بد گمان ہو گیا اور اس نے 255 ہجری میں امام کو زندان میں قید کر دیا لہذا امام آزار و اذیت میں گرفتار ہو گئے. نیز امام حسن عسکری اس کے بعد کے خلیفہ مہتدی کے دور میں بھی زندان میں ہی رہے. 256 ہجری میں معتمد کی خلافت کے آغاز میں اسے شیعوں کے مسلسل قیاموں کا سامنا کرنا پڑا اور امام زندان سے آزاد ہوئے. ایک دفعہ پھر امام کو موقع ملا کہ وہ اپنے شیعوں کو مرتب و منظم کرنے کیلئے معاشرتی اور مالی پروگراموں کا اہتمام کر سکیں۔ امام کی یہی فعالیتیں وہ بھی عباسی دار الحکومت میں ایک دفعہ پھر ان کیلئے پریشانی کا موجب بن گئیں۔ پس 260 ہجری میں معتمد کے دستور پر امام حسن عسکری کو دوبارہ زندانی کیا گیا اور خلیفہ روزانہ امام سے مربوط اخبار کی چھان بین کرتا. [6] ایک مہینے کے بعد امام زندان سے آزاد ہوئے لیکن مامون کے وزیر حسن بن سہل کے گھر میں نظر بند کر دئے گئے جو واسط نامی شہر کے قریب تھا. [7] امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور میں معاشرے میں اکثریتی مذہب اہل سنت تھا اور اسی طرح عباسیوں کی جانب سے شیعہ سخت حالات میں ہونے کی وجہ سے تقیہ کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے. ان حالات میں امام حسن عسکری علیہ السلام شیعوں کے امور چلانے کیلئے اور وجوہات شرعی کی جمع آوری کیلئے مختلف علاقوں میں اپنے وکیلوں کو روانہ کرتے تھے.[8]

🌹 حضرت امام حسن عسکریؑ 🌹 حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر ہم امام زماں عج کی خدمت میں ہدیہ تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں. ● اسم گرامی: حسن علیہ السلام ● لقب: عسکری (عباسی خلفاء نے حضرت امام علی نقی اور حضرت امام حسن عسکری علیہما السلام کو عراق میں ایک فوجی لشکر کے زیر نگرانی زندان میں رکھا لشکر کو عربی میں عسکر کہتے ہیں اسی لیے عسکری کہلائے) کنیت: ابو محمد ● والد بزرگوار :حضرت امام علی النقی الهادی علیہ السلام ● ولادت با سعادت: مدینہ منورہ (سعودی عرب) ● تاریخ ولادت: 8 ربیع الثانی 232 ہجری قمری. (دوسری روایت کے مطابق ۱۰ ربیع الثانی.) ● والدہ گرامی: حضرت حدیثہ خاتون ● نسب شریف: حسن ابن علی ابن محمد ابن علی ابن موسی ابن جعفر ابن محمد ابن علی ابن الحسین ابن علی ابن ابی طالب سلام اللہ علیہم اجمعین ● منصب: امامت (گیارہویں امام اور تیرہویں معصوم) ● مدت امامت: 6 سال ● آغاز امامت: رجب المرجب 254 ھجری ● شادی کے وقت سنِ مبارک: تقریباً 21 سال ● اہلیہ محترمہ: حضرت نرجس خاتون ● ازواج کی تعداد: ایک زوجہ ● حاکم وقت: عباسی خلیفہ واثق باللہ ● اولاد: ایک بیٹا (حضرت مہديِ موعود علیہ السلام) ● منصب امامت سنبھالتے وقت سن مبارک: تقریباً 22 سال ● مشہور اصحاب یا شاگرد: بشیر انصاری، عثمان ابن سعید، احمد ابن اسحاق قمی. ● ہجرت: مدینہ منورہ سے عراق. ● معجزات: مختلف اہم مواقع پر ان گنت معجزات و کرامات. ● خاص معجزہ: شدید قحط کے عالم میں حضرت کی نماز استسقاء و دُعا کے اثر سے بارانِ رحمت کا نزول. ● معاصر خلفاء: آپ علیہ السلام نے چھ عباسی ظالم خلفاء کے ادوار گزارے. "متوکل، منتصر، مستعین، معتز، مھتدی، معتمد عباسی" ● قاتل: معتمد عباسی ● تاریخ شہادت: 8 ربیع الاول 260 ھجری. ● سبب شہادت: ظالم عباسی خلیفہ نے زہر دے کر مولا کو شہید کر دیا. ● مقام شہادت: عراق، سامرہ ● خاص الخاص فضیلت: شہنشاہِ دوران حضرت امام زمان علیہ السلام جیسے صالح و مصلح فرزند کے والد بزرگوار یعنی ابو مہدی ہیں. ● جانشین: قطب عالَم امکان، جانِ بہاران حضرت امام زمان علیہما آلاف التحیۃ والسلام. ● نماز جنازہ: مسموم و مظلوم مولا کے پانچ سالہ فرزند حتِج خدا، بقیۃ اللہ حضرت صاحب الزمان علیہ السلام نے نماز جنازہ پڑھائی. ● تدفین: آپ کا مطہر پیکر اپنے گھر میں اپنے والد بزرگوار کے مرقد منور کے نزدیک زمین کی زینت بنا. ● ظاہری حیاتِ طیبہ: 28 سال ● روضۂ اقدس: آپ کا روضۂ اقدس آپ کے والد بزرگوار حضرت امام علی النقی علیہ السلام کے روضہ منورہ کے ساتھ سامرہ عراق میں واقع ہے. ● حکمران وقت: ظالم عباسی خلیفہ معتمد ملعون (سال شہادت) ● مخصوص صلوات: شیخ طوسی اپنی سند سے ابو محمد عبداللہ بن محمد عابد سے اس طرح نقل کرتے ہیں: ‘"میں نے اپنے سید و سردار حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سے ان کے گھر پر سامرہ میں 255 ھجری میں درخواست والتماس کی کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے مقدس جانشینوں پر درود وسلام بھیجنے کےلیے مخصوص صلوات املاء فرمائیں تاکہ میں انہیں قلمبند کرلوں حضرت نے فوراً اس طرح سے املاء فرمائی (جو معصوم اول سے شروع ہوکر بارہویں امام و چودھویں معصوم حضرت صاحب الزمان علیہ السلام تک تمام حضرات میں سے ہر ایک کی صلوات پر مشتمل ہے.) یہاں پر مناسبت سے فقط حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی مخصوص صلوات ذکر کی جارہی ہے تاکہ قارئین اپنے آقا و مولا پر اس طرح سے درودوسلام بھیچ سکیں جیسے خود حضرت چاہتے ہیں: ⏪اَللّٰھُم صَلِّ علی الحسنِ بن عليّ بن محمّد، البّرِ التَّقِی، الصَّادِقِ الوَفِيّ، النُّورِ المُضِیئ، خَازِنِ عِلمِک وَ المُذَكِّر بِتَوحِیدِكَ وَولِيِّ اَمرِک وخَلفِ أَئمّۃ الدّینِ الھُداۃِ الرَّاشِدِین، وَالحُجِّۃِ عَلٰی اَھلِ الدُّنیا فَصَلِّ عَلَیہِ يَا رَبِّ اُفضَلَ مَا صَلّیتَ عَلٰی اَحَدٍ مِن اَصفِيٰائِكَ وَ حُجَجِكَ وَ اَولادِ رُسُلِک يٰا اِ لٰہَ العٰالَمِینَ! ● حیات طیبہ کے اہم امور: اس مہربان اور مظلوم امام علیہ السلام کی ظاہری حیات طیبہ (28برس) پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی کچھ فعالیتیں اس طرح سے تھیں: الف:علمی فعالیات ۱۔ایک علمی حوزے کا قیام ۲۔شاگردوں کی بہترین تربیت کا اہتمام؛ جن میں احمد بن اسحاق قمی، عثمان بن سعید عَمری، حسین بن روح (یہ دونوں بزرگوار صحابی و شاگرد بعد میں حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے چار نوّاب میں شمار ہوئے) عبداللہ بن جعفر حمیری۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۳۔عراق کے معروف فلاسفہ جیسے اسحاق کندی اور مسیحی راہبوں کے ساتھ مناظرات و علمی گفتگو.

🔷 عقلمند بادشاہ 🔷 ﺍﯾﮏ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﻪ ﺑﮩﺖ ﺍﻧﻮﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﻩ ﻫﺮ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻥ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺑﺪﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺍٓﺧﺮﯼ ﺩﻥ ﺟﻮ ﺑﮭﯽﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﺣﺪﻭﺩ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﻫﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻧﯿﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺟﻮﺩﻩ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﻮ ’ ﻋﻼﻗﻪ ﻏﯿﺮ ‘ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﻪ ﭼﮭﻮﮌ ﺍٓﺗﮯ جہاﮞ ﺻﺮﻑ ﺳﺎﻧﭗ، ﺑﭽﮭﻮ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﻪ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﻭﻩ ﺳﺎﻧﭗ، ﺑﭽﮭﻮﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﻪ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﭽﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﺗﻮ ﺑﮭﻮﮎﭘﯿﺎﺱ ﺳﮯ ﻣﺮ ﺟﺎﺗﺎ۔ ﮐﺘﻨﮯ ﻫﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺍﯾﺴﮯ ﻫﯽ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﻫﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ " ﻋﻼﻗﻪ ﻏﯿﺮ " ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻣﺮ ﮐﮭﭗ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﺱ ﺩﻓﻌﻪ ﺷﻬﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﻫﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﮐﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﺎ ﻟﮓ ﺭﻫﺎ ﺗﮭﺎ ﺳﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﻪ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﭼﻦ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﻫﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﮐﮯﺳﺎﺗﮫ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ، ﻭﻩ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﻫﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﺑﮭﯽ۔ ﺗﺨﺖ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﻫﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﻪ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﮩﺎﮞ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﻪ ﻫﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﻮ ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﻫﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﭼﻦ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﻫﮯ ﯾﻪ ﺳﻨﺘﮯ ﻫﯽ ﻭﻩ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﻪ ﺗﻮ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﻫﻮﺍ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻘﻞ ﮐﻮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻪ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺟﮕﻪ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎﺅ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﻢ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺁﺗﮯ ﻫﻮ۔ ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﭙﺎﻫﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺳﻼﻣﺖ ﮐﻮ ﻭﻩ ﺟﮕﻪ ﺩﮐﮭﺎﻧﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ، ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﺟﮕﻪ ﮐﺎ ﺟﺎﺋﺰﻩ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﺣﮑﻢ ﯾﻪ ﺩﯾﺎ ﮐﻪ ﻣﺤﻞ ﺳﮯ ’ ﻋﻼﻗﻪﻏﯿﺮ ‘ ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﺳﺒﺰ ﻭ ﺷﺎﺩﺍﺏ ﺭﺍﺳﺘﻪ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺟﮕﻪ ﮐﮯ ﺑﯿﭽﻮﮞ ﺑﯿﺞ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﻫﺎﺋﺶ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻫﺮ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺳﻬﻮﻟﺖ ﻫﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﺎﻍ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﻫﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﻫﻮﮔﺌﯽ، ﮐﭽﮫ ﻫﯽ ﻋﺮﺻﻪ ﻣﯿﮟ ﺳﮍﮎ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻞ ﻭﻏﯿﺮﻩ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﻫﻮ ﮔﺌﮯ۔ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻪ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺳﻢ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﻫﺎﮞ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺅ ﺟﻬﺎﮞ ﻣﺠﮫ ﺳﮯﭘﮩﻠﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﻫﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﮯ ﺁﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻪ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺳﻼﻣﺖ ﺍﺱ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﯾﻪ ﺭﺳﻢ ﺧﺘﻢ ﻫﻮ ﮔﺌﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﻪ ﻫﻤﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﻫﮯ، ﻭﻫﺎﮞ ﺗﻮ ﻫﻢ ﺍﻥ ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ ﺑﺎﺩﺷﺎﻫﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺁﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﻫﯽ ﮐﮯ ﻣﺰﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻧﻪ ﮐﺮﺗﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻋﻘﻠﻤﻨﺪﯼ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﻫﺮﻩ ﮐﯿﺎ ﮐﻪ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺪﻩ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﻓﺮﻣﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﻫﻤﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻫﯽ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﯽﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﮭﯽ ﺍﺏ ﺁﭖ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻫﻢ ﭘﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﺱ ﺍﻧﻮﮐﮭﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ’ﺩﻧﯿﺎ ‘ ﻫﮯ؛ ﻭﻩ ﻧﯿﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻫﯿﮟ- ﺍﻭﺭ " ﻋﻼﻗﻪ ﻏﯿﺮ " ، ﻫﻤﺎﺭﯼ ﻗﺒﺮ ﻫﮯ۔ ﺍﺏ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﻓﯿﺼﻠﻪ ﮐﺮ ﻟﯿﺠﯿﮯ ﮐﻪ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﻫﻤﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﯾﻪ ﺩﻧﯿﺎ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﻪ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﻫﻢ ﻧﮯ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪﯼ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﻫﺮﻩ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﻮﺋﮯ ﻭﻫﺎﮞ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺤﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻏﺎﺕ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﻟﯿﮯ ﻫﯿﮟ ﯾﺎ ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺍﺳﯽ ﭼﻨﺪ ﺭﻭﺯﻩ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﻣﺰﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﮯ ﻫﻮﺋﮯ ﻫﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎﻭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻣﺪﺕ ﺷﺎﻫﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺳﮯﮔﺰﺍﺭ ﮐﺮ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮ ﺭﻫﮯ ﻫﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺳﻮﭼﺌﮯ ﮐﻪ ﺁﺝ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯﺑﮩﺖ ﮐچھ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﺴﺎ ﺁﮮ ﮔﺎ ﮐﮯ ﭘﮭﺮ ﭘﭽﮭﺘﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻣﮪﻠﺖ ﺑﮭﯽ ﻧﻬﯿﮟ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﮬﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺧﺮﺕ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﺧﻮﺏ ﺳﭽﯽ ﻓﮑﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮨﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﮮ ﺁﻣﯿن https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 دنیا کی محبت 🔷 دنیا آزمائش کی جگہ ہے، آسائش کی نہیں۔ اے دل اس دنیا کے ساتھ دل نہ لگاؤ کہ اس سے پریشانی ملتی ہے۔ ●ارشاد باری تعالٰی ہوتا ہے۔۔ "وما ھٰذِہِ الحیٰوةُ الدنیا إلا لھوٌ و لعبٌ۔ وإن الدّارَ الآخرةَ لَھِیَ الحَیَوَانُ لو کانوا یَعلَمون" (سورہ عنکبوت) اور یہ دنیا کی زندگی تو لھو و لعب ہے جبکہ دارِآخرت زندگی ہی زندگی ہے اگر تم کو خبر ہو۔ ●"فَلا تَغُرَنَّکُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیا" اور تمہیں دنیا کی زندگی دھوکہ نہ دے۔ (سورہ لقمان) ●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔ "حب الدنیا اصل کل معصیة و أول کل ذنب" دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ اور ہر گناہ کی ابتدا ہوتی ہے۔ (میزان الحکمہ:5816۔) ■شوق میں رکاوٹ ایک شخص نے رسول اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی: رسول خدا مجھے سمجھائیں کہ آخر کیونکر ہمیں موت کی آغوش میں جانے کا شوق نہیں؟ آپؐ نے فرمایا؛ "اپنے مال اپنے آگے بھیجنا شروع کردو۔ کیونکہ ہر شخص کا دل اس کے مال کے ساتھ ہوتا ہے۔ جدھر مال ہوتا ہے، دل اسی طرف جاتا ہے۔ جو مال آگے روانہ کرتا ہے وہ اس طرف جلدی جانا پسند کرتا ہے تاکہ اپنے مال کے پاس جلدی پہنچ جائے اور اگر کسی جگہ جمع کررکھا ہو تو پسند کرتا ہے اسی کے پاس ٹھہرا رہے" (درس ہائے از تاریخ، ص970) ■دنیا کی شکل اس دنیا میں اڑھائی ہزار سال عمر گزارنے والے نبی حضرت نوحؑ سے حضرت جبرائیلؑ نے پوچھا: اے انبیاء میں سے درازترین عمر گزارنے والے نبی! آپ نے اس دنیا کو کیسا پایا، آپ کا اس دنیا کے بارے کیا نظریہ ہے؟ حضرت نوحؑ نے فرمایا: میں نے دنیا کو اس گھر کی مانند پایا ہے جس کے دو دروازے ہیں۔ میں اس کے ایک دروازے سے داخل ہوا ہوں اور دوسرے دروازے سے نکل گیا ہوں۔ (معراج السعادة) ■دنیا چیونٹی کی نظر میں ایک دن حضرت سلیمانؑ اپنے وزراء و مملکت کے رؤسا کے ہمراہ اپنے دربار میں تخت نشین تھے کہ ادھر سے ایک چیونٹی کا گزر ہوا۔ چیونٹی نے آپؑ سے ایک سوال کیا؛ اے اللہ کے نبی! کیا آپ یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ اللہ تعالٰی نے اس جہاں میں آپ کو کونسی منفرد نعمت و کرامت سے نوازا ہے؟ حضرت سلیمانؑ نے فرمایا؛ ہوا کو میرے تابع کردیا ہے۔ چیونٹی نے عرض کیا؛ اے حضرت سلیمانؑ کیا آپ نے کبھی توجہ فرمائی ہے کہ اس میں کتنی عجیب و لطیف بات ہے کہ جو کچھ آپ کو اس مملکت سے امتیازی طور پر حاصل ہے گویا وہ سب ہوا کی مانند ہے۔ آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کسی کے ہاتھوں میں ہوا باقی رہی ہو۔ بس آپ کی دنیاوی سلطنت کا حال بھی اسی طرح کا ہے۔ (داستانہائے کشف الاسرار، ص161) ■شرِّ دنیا جناب شیخ بہائی نے روایت کی ہے کہ تورات میں خداوندمتعال فرماتا ہے کہ۔۔ اے فرزندِ آدم! ہر روز میں تیرے لیے تازہ، پاکیزہ روزی بھیجتا ہوں لیکن جب شام ہوتی ہے تو میرے ملائکہ تیرے برے اعمال کا مجموعہ لے کر لوٹتے ہیں۔ میری طرف سے ہمیشہ تیرے لیے خیر و خوبی نازل ہوتی ہے اور تیری طرف سے شر و برائی میرے سامنے آتی ہے۔ اے فرزندِ آدم! تو میرے لئے اسی قدر اطاعت گزار بن جا جتنا تو میرا محتاج ہے اور آتشِ جہنم کی برداشت کی حد تک میری نافرمانی کر۔ دنیا کے لئے اسی قدر کام کر جتنا تجھے دنیا میں رہنا ہے اور آخرت کے لئے بھی اتنا کام کر جتنا تجھے وہاں رہنا ہوگا۔ اس میں اپنی رہنے کی مقدار کے مطابق زاد و توشہ اکٹھا کر۔ اے فرزندِ آدم! اپنے دل سے دنیا کی محبت نکال دے کیونکہ میری اور دنیا کی محبت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتی۔ (موضوعی داستانیں، ص179) 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 خدا دوستی 🔷 ●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔ "الایمان فی قلب الرجل أن یحب الله عزوجل" بندے کے دل میں ایمان کی علامت ہے کہ اللہ عزوجل سے محبت رکھتا ہو۔(1) ●امیرالمؤمنین حضرت علیؑ فرماتے ہیں۔۔ "اذا اکرم الله عبدا شغلہ بمحبتہ" جب خداوندمتعال کسی شخص کو عزت عطا فرماتا ہے تو اس کے دل کو اپنی محبت میں مشغول کردیتا ہے۔(2) ●علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ۔۔ الله کا بندہ بن جا، اور پھر کبھی نہ گھبرا، خدا والا ہوجا اور بادشاہی کر، خدا سے دور ہو جا تو جو چاہے کر۔(3) ■حضرت ابراہیمؑ کی خدا دوستی؛ خداوندمتعال نے حضرت ابراہیمؑ کو فراواں ثروت سے نوازا تھا۔ ان کے پاس گوسفند کا اتنا بڑا ریوڑ تھا کہ جس کی حفاظت کے لئے چار سو حفاظتی جانور ہوتے تھے۔ ملائکہ نے بارگاہِ خداوندی میں خیال ظاہر کیا کہ حضرت ابراہیمؑ کی خدا دوستی کا راز نعمت کی فراوانی ہے۔ آخر خدا نے جو انہیں اسقدر مال و دولت سے نوازا ہے تو وہی محبت کا سبب ہے۔ خداوندمتعال نے انہیں یہ سمجھانے کے لئے کہ حقیقت اسطرح نہیں ہے بلکہ ابراہیمؑ کو میرے ساتھ بےلوث محبت ہے، حضرت جبرائیلؑ کو حکم دیا کہ وہ جاکر حضرت ابراہیمؑ کے نزدیک سے کھڑے ہوکر میرے نام سے پکاریں، جہاں ابراہیمؑ سن رہے ہوں۔ حضرت جبرائیلؑ گئے اس وقت حضرت ابراہیمؑ اپنے گوسفندوں کے ریوڑ کے پاس تھے۔ ادھر سے جبرائیلؑ نے ایک ٹیلے پر کھڑے ہو کر بہترین آواز کیساتھ اس طرح تسبیح کی۔۔ "سبوح قدوس رب الملائکة والروح" پاک وپاکیزہ ہے ملائکہ اور روح کا رب۔ جونہی رب ذوالجلال کا اسم مبارک حضرت ابراہیمؑ کے گوشِ سماعت سے ٹکرایا تو بےچین ہو گئے اور آپ کے پورے جسم مبارک میں محبت کی لہر دوڑ گئی۔ یہ کون خوش آواز ہے کہ جس نے میرے دوست محبوب کا نام لیا کہ میں جان تن بدن اپنے دوست کے اس پیغام پر لُٹانے کو تیار ہوگیا۔ حضرت ابراہیمؑ نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو آپ کو ایک شخص بلندی پر کھڑا نظر آیا۔ آپ اس کی طرف دوڑے اور پوچھا؛ آپ نے میرے دوست کا نام لیا ہے؟ جبرائیلؑ نے فرمایا؛ ہاں۔۔۔ میں نے لیا ہے اور پھر سے دوبارہ تکرار کردیا۔ حضرت ابراہیمؑ نے درخواست کی؛ اے بندۂ خدا اگر آپ مہربانی فرما کر ایک بار پھر سے میرے دوست کا نام لےلو تو میں آپ کو اس کے بدلے اپنے اس ریوڑ کا ایک تہائی بخش دونگا۔ حضرت جبرائیلؑ نے پھر سے تکرار کردیا۔ حضرت ابراہیمؑ کثرت شوق سے بے قرار و بےچین ہوگئے۔ اور درخواست کی کہ اے بندۂ خدا اگر تو ایک بار پھر سے میرے دوست کا نام لے تو اس ریوڑ کا نصف تیرا ہوا۔ حضرت جبرائیلؑ نے پھر سے تکرار کردیا۔ حضرت ابراہیمؑ کے شوقِ محبت اور فرطِ جذبات میں اضافہ ہوگیا۔ آپ نے بیقرار ہوکر پھر سے درخواست کی؛ اگر آپ پھر سے میرے محبوب کے نام کا تکرار کردو تو یہ سارے گوسفند آپ کے ہوئے۔ حضرت جبرائیلؑ نے وہی نام اسی طرح دُہرا دیا۔ اب حضرت ابراہیمؑ کی تسکین نہ ہونے کی وجہ سے آپ نے فرمایا؛ میرے پاس اب کچھ بھی نہیں رہا۔ اب اگر مجھے پھر سے میرے محبوب کا نام سنوا دو تو میں خود آپ کا ہوا۔ حضرت جبرائیلؑ نے پھر سے نام ذاتِ ذوالجلال دُہرا دیا۔ حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا؛ اچھا تو آئیے اور میرے ساتھ اس ریوڑ کو بھی وصول کر کے لے چلیے کیونکہ یہ سب کچھ اب آپ کا ہوا۔ حضرت جبرائیلؑ نے عرض کیا؛ اے ابراہیمؑ! مجھے آپ کے ریوڑ کی ضرورت نہیں ہے، میں تو جبرائیل ہوں، میں کہتا ہوں آپ واقعاً اس قابل ہیں کہ خداوندمتعال آپ کو اپنا دوست بنائے۔ آپ نے مکمل وفاداری، بلند پایہ دوستی اور سچی محبت و اطاعت اور پرخلوص تعلق کا ثبوت دیا ہے۔ اور پھر اپنے سارے اقرار کردہ معاہدوں پر ثابت قدم رہے ہیں۔(4) 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ 📚 حوالہ جات: 1)دوستی در قرآن وحدیث، ص282۔ 2)دوستی در قرآن وحدیث، ص308۔ 3)موضوعی داستانیں، ص194۔ 4)موضوعی داستانیں، ص195۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

📚 علم و دانش 📚 یقیناً ہر شخص کی زندگی علم سے ہے. انسان تعلیم کے ذریعے بلندی پر جاسکتا ہے، علم وحكمت انسان کے لئے کمال ہے. ●ارشاد رب العزت ہے.. "قل هل یستوی الذین یعلمون والذين لایعلمون" کہدو (اےرسولؐ) کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہیں.(1) ●حضرت رسول اکرمؐ فرماتے ہیں.. "ان طالب العلم یستغفرلە کل شئ حتی الحتیان فی البحر" طالب علم کے لیے دنیا کی ہر شے حتی کہ سمندر کی مچھلیاں بھی بخشش کی دعا کرتی ہیں.(2) ●حضرت علیؑ فرماتے ہیں۔۔ "لا کنزانفع من العلم" علم سے بڑھ کر فائدہ مند کوئی خزانہ نہیں ہے۔(3) ●حضرت امام علیؑ فرماتے ہیں۔۔ "العلم ضالة المؤمن" حکمت اور حکمت و دانش مومن کی گمشدہ شے ہے۔(4) ●أمام جعفر الصادقؑ فرماتے ہیں۔۔ مجھے ایسے جوان پسند ہیں کہ جن کا ہر دن دو طرح سے شروع ہوتا ہو۔۔۔ یا عالم ہوں یا متعلم ہوں۔ اور اگر نہ عالم ہوں، نہ متعلم ہوں تو ایسے افراد اپنے فریضہ میں کوتاہی کرنے والے ہیں۔ میری نظروں میں اپنے وظیفہ میں کوتاہی کرنے والے جوانی کو ضائع کرنے والے ہیں۔ جوانی ضائع کرنا گناہ ہے۔ مجھے اپنے جدبزرگوار حضرت محمد مصطفٰیؐ کے رب کی قسم گناہگاروں کا ٹھکانا جہنم ہے۔(5) ■علمی محافل کا مقام؛ مدینہ منورہ میں انصار میں سے ایک شخص رسول اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ سے پوچھا؛ اے رسول خدا بیان فرمائیں کہ اگر کسی شخص کا جنازہ تیار ہو چکا ہو، اسے دفن کرنے کے لئے اٹھایا جارہا ہو اور ادھر سے علمی محفل بھی برپا ہو جس میں شریک ہوکر فائدہ مند ہوا جا سکتا ہے، وقت کی صورتحال بھی اس طرح ہے کہ ان دونوں میں سے ایک میں شرکت ممکن ہے، آپ کو کون سا امر پسندیدہ ہے کہ کس طرف شرکت کی جائے؟ حضور اکرمؐ نے فرمایا؛ اگر جنازہ کے امور انجام دینے کے لئے کچھ اور لوگ موجود ہوں تو آپ محفلِ علم میں شریک ہوں۔ کیونکہ محفلِ علم میں شریک ہونا ہزار جنازہ میں شرکت، ہزار بیماروں کی عیادت، ہزار رات کی عبادت، ہزار روز کے روزہ، ہزار درھم کے صدقہ اور ہزار غیر واجب حج، ہزار غیر واجب جہاد سے کہیں بہتر ہے۔ ایک عالم کے حضور حاضری جیسے بلند مرتبہ عمل کو یہ سارے اعمال اجر و مفاد میں نہیں پہنچ سکتے۔ کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ اطاعتِ خداوندی کا وسیلہ علم ہے۔ اور علم ہی کے وسیلہ سے عبادتِ خدا انجام پاتی ہے۔ دنیا کی خیروخوبی علم کے ساتھ مربوط ہے اور شرِ دنیا و آخرت جہالت کی وجہ سے ہے۔(6) 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ 📚 حوالہ جات: 1)سورہ زمر، آیہ9۔ 2)میزان الحکمہ:13485۔ 3)میزان الحکمہ:13352۔ 4)میزان الحکمہ:13350۔ 5)داستانہائے بحارالأنوار، ج2، ص109۔ 6)داستان راستان، ج2، ص235، 236۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌷 رحلت بیبی ام رباب 🌷 جنابِ ربابؑ کربلا کے دلخراش مناظر اور راہ کوفہ و شام میں پڑنے والے مصائب و آلام کو برداشت کرتے ہوئے جب رہا ہو کر مدینے پہنچیں تو امام حسین علیہ السلام سے وفا و خلوص اور سچی محبت و الفت کی بناء پر کبھی بھی سایہ میں نہ بیٹھیں اور رات کی تاریکی میں کبھی بھی چراغ روشن نہیں کیا۔ آپؑ نے اپنے باوفا شوہر کے غم میں بہت سے اشعار کہے ہیں جن میں سے کچھ کا ترجمہ یہ ہے: امام حسین علیہ السلام کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتی ہیں اے میرے سید و سردارؑ آپؑ عظمت و شرافت کی عظیم چٹان تھے جس میں میں پناہ حاصل کرتی تھی اور آپؑ محبت و الفت اور دین مبین کے ساتھ میرے ہمراہ تھے آپؑ کی شہادت کے بعد اب کون ہے جو یتیموں اور اسیروں کی خبر گیری کرے گا؟ خدا کی قسم آپؑ کے بعد میں ہرگز سائے میں نہیں بیٹھوں گی یہانتک کہ قبر میں چلی جاؤں۔ جناب رباب امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد ایک برس سے زيادہ زندہ نہ رہیں اور حضرتؑ کے غم میں آنسو بہاتے بہاتے اس دنیا سے عالم جاوداں کی طرف رخصت ہوگئیں۔ علامہ رشید ترابی مجلسِ ترابی حصہ دوم صفحہ 245 پر فرماتے ہیں کہ جب آلِ محمدؐ قید سے چھوٹ کر اربعین کے روز کربلا آئے اور تین دن تک شہزادیاں ٹھہریں، خیمے ڈالے گئے، مجلسیں ہوئیں، ماتم ہوا۔ عابدؑ بیمار نے کہا: پھوپھی اماں وطن چلیے۔ جنابِ زینبۜ نے فرمایا: بیٹا! تم امامؑ ہو، حجت خدا ہو چلو! جیسی تمہاری مرضی۔ سواریاں آئیں، عماریاں تیار ہوئیں، بڑے احترام سے تمام بیبوں کو جنابِ زینبۜ نے خود سوار کروایا۔ اپنی سواری کا وقت آیا۔ پردہِ محمل کو الٹا۔ بھائیؑ کی قبر کو دیکھا، آخری سلام کیا اب جو بھائی کی قبر پر نظر گئی۔ دیکھا کہ کوئی بیبی قبرِ امام حسینؑ سے لپٹی ہوئی ہے۔ بنتِ علیؑ نے فرمایا: بٹھا دو میرے ناقے کو۔ ناقہ بٹھایا گیا۔ علیؑ کی بیٹی اُتریں دوڑ کر قبر کے پاس گئیں اور فرمایا کون ہے؟ ایک مرتبہ سر بلند کر کے اُس بیبیؑ نے کہا شہزادیؑ! میں ہوں حسینؑ کی کنیز اُم رباب۔ جنابِ زینبۜ نے فرمایا: آپ نہیں چلیں گی مدینے؟ بیبی اُم ربابؑ نے رو کر کہا: شہزادیؑ! مدینے میں میرا کون ہے؟ اللہ نے مجھے دو بچے دیئے۔ سکینہۜ قید خانہِ شام میں سوگئی، میرا اصغرؑ یہاں ہے۔ یہ میرے ولی، ميرے حسینؑ کی قبر ہے، میں یہاں سے نہیں جاؤں گئی۔ حوالہ جات: مقاتل الطالبین، ص5089۔ تاریخ مدینہ و دمشق، ج69، ص119۔ اُمِ ربابؑ بیٹھیں ہیں، شاہِ دین کی قبر پر تھی محو اسطرح سے کہ ہٹتی نہ تھی نظر زینبۜ بڑھیں یہ دیکھکر، بولیں جُھکا کے سر اُٹھیے بہت ہے دور کا بھابھی ابھی سفر اک آہ کی ربابؑ نے، یوں پھٹ گیا جگر بولی تڑپ کے زیِنب مُضطر سے نوحہ گر بیٹا ہے کربلا میں تو بیٹی ہے شام میں کیجئے دعا یہ بارگاہِ خاص و عام میں سو جاؤں میں بھی قبرِ شاہِ تشنہ کام میں زندان سے رہائی کے بعد جب لٹا ہوا یہ قافلہ مدینہ پہنچا اس وقت سے اور رحلت تک بیبیؑ کبھی سایہ میں نہ بیٹھیں نہ ہی کبھی ٹھنڈا پانی پیا جب حرملا لعین کو امیر مختار نے قتل کیا، اور اس کا سر امام سجادؑ کے پاس لائے تو امام سجادؑ مسکرائے اور بیبی اُم ربابؑ کے پاس آ کر حرملا کے جہنم رسید ہونے کی خبر دی، اور بیبی اُم ربابؑ سے سائے میں چلنے کو کہا۔ امام سجادؑ نے کہا: اماں سب بیبیاں کہتی ہیں کہ آپ سایہ میں بھی آ جایا کریں۔ اُمِ ربابؑ نے فرمایا: بیٹا یہ میں نہیں کر سکتی، میں سایہ میں نہیں آؤں گی۔ کبھی اب دوبارہ یہ فرمائش نہ کرنا۔ امامؑ نے ماں کی محبت سے سرشاری میں فرمایا: اماں بتاؤ میں کون ہوں؟ اُمِ ربابؑ نے کہا: بیٹا تم امامِ وقت ہو۔ امامِ سجادؑ نے فرمایا: اماں میں امامِ وقت ہونے کے ناطے آپ کو حکم دیتا ہوں کہ آپ سائے میں آ جائیں۔ بیبی ربابؑ امام سجادؑ اور بیبی زینبۜ کا سہارا لے کر کھڑی ہوئیں اور فرمایا: پروردگار تو میرے وعدے کی لاج رکھنا، کربلا میں میں نے اپنے والی و وارث اور اس وقت کے امامؑ سے وعدہ کیا تھا کہ میرے والی و وارث میں اب کبھی سایہ میں نہ بیٹھوں گی اور آج امامؑ کا حکم ہے اس کو ٹالا نہیں جا سکتا، ابھی سیدھا کھڑی بھی نہ ہونے پائیں تھیں کہ روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ امامؑ نے ماں کو زمین پر لٹایا اور فرمایا: انا للہِ وانا الیہِ راجعون سلام ہو اس بیبی پر جس کے وعدے کا اللہ بھی احترام کرے۔ وائے ہو اُن پر جو امامؑ کو مہمان بلا کر مکر گئے اور خانوادہِ رسالتؐ سے برسرِ پیکار ہوئے۔ وقتِ آخر بیبی اُم ربابؑ کی چادر کے پلو میں گرہ بندھی ہوئی تھی، جب اس گرہ کو کھولا گیا تو اُس میں بیبی معصوم سکینہۜ کی بالیاں اور شہزادہ علی اصغرؑ کے جھولے کی جلی ہوئی لکڑیاں تھیں۔ السلام علیک یا زوجة ‌الحسین علیہ السلام لاکھوں سلام بیبی امِ رباب سلام اللہ علیھا پر https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

*پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:* "جو شخص کسی نامحرم عورت سے ہاتھ ملائے گا تو اسے قیامت کے دن زنجیر میں باندھ کر لایا جائے گا اور پھر اسے آتش (جہنم) کی طرف کھینچ کر لے جایا جائے گا اور جو ضرورت کے بغیر کسی نامحرم سے بات کرے گا تو اسے دنیا میں (نامحرم سے) کی جانے ہر سخن کے بدلے آخرت میں ایک ہزار سال آتش (جہنم) میں رکھا جائے گا۔" (ثواب الاعمال، ص ۳۳۴) اللھم صل علی محمد وآل محمد و عجل فرجھم

*بس کچھ صبر ؛ برداشت اور متحد ہو جانے کی ضرورت ھے۔* *ہماری ذمہ داریاں* 1۔ *گناہ کرنا چھوڑ دیں* 2۔ *اپنے آپ کو اس عالمی حکومت کے لیے تیار کر لیں جس کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا*۔ 3۔ *معاشرے میں بھائی چارے کی فضا پیدا کریں*۔ 4۔ *چھوٹے بڑے کا لحاظ رکھیں۔* 5۔ *اساتذہ کا خاص خیال رکھیں۔* *الله سبحانہ و تعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔* *آمین آمین یا رب العالمین*

حکومت ولی فقیہ کی ایک جھلک ✍️ ڈاکٹر ناظم حسین اکبر *ہمسایہ ملک ایران جو چھ ماہ سے عالم کفر سے فلسطین کے مظلوموں کے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہے اس کے اندرونی حالات کچھ یوں ہیں:* *1- اس وقت تک جنگ میں بے تحاشا نقصان کے باوجود کسی ملک سے مالی مدد نہیں لی* (*ایاک نعبد و ایاک نستعین*) *2- کھانے پینے کی اشیاء کے لئیے اپیل نہیں کی* *3- ادویات کی اپیل نہیں کی* *4- ملک کے اندر جنگ شروع ہوتے ہی روٹی ؛ پٹرول اور ڈیزل مفت کر دیا گیا ھے* *5- چھ مہینے جنگ اور مسلسل عالم کفر کی شب و روز بمباری کے باوجود ایک بھی ایرانی نے ملک سے ہجرت نہیں کی بلکہ دوسرے ملکوں میں مقیم ایرانی وطن کے دفاع کے لیے واپس آ رھے ہیں۔* *6- لاک ڈاؤن کی اصطلاح کسی ایرانی کو شاید معلوم ہی نہ ہو۔* *7- بڑے بڑے تاجروں نے دکان اور ڈیپارٹمنٹل اسٹور پرلکھ کر لگا دیا ھے کہ مال لے جاؤ اور جنگ کے بعد پیسے دے دینا۔* *8- جنگ اور بمباری میں وزراء عوام کے درمیان روڈوں پر امریکی مخالف مظاہروں میں برابر شریک ہیں۔* *9- ایرانی صدر خود شاپنگ مالز پر جا کر ریٹ اور سہولیات چیک کر رہا ھے۔* یہ *سب کیسے ممکن ہوا کہ 47 سالہ پابندیوں اور جنگوں میں جکڑے ملک کی عوام پر سکون ھے۔* کیونکہ: 1- *سپریم لیڈر نے ذاتی گھر تک نہیں خریدا نہ خرید سکے* *2- وزراء اور جرنیلوں کے بچوں پر بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے پابندی ھے۔* *3- حکومتی اراکین اور انتظامیہ بیرون ملک اکاؤنٹ نہیں رکھ سکتے* *4- کسی بھی وزیر یا جرنیل کا ملک سے باہر کوئی دوسرا گھر نہیں ھے۔* *5- سپریم لیڈر محتاط اندازے کے مطابق روزانہ 18 گھنٹے کام کرتا ھے* *6- کو ایجوکیشن کے نام پر بے غیرتی کے اڈے نہیں ہیں* *7- امریکن یا یورپین سکول کالجز نہیں ہیں* *8- تعلیم مفت ھے جس کی وجہ سے ہر دوسرا جوان انجینئر ؛ پی ایچ ڈی اور کم از کم ایم اے پاس ملے گا۔* *9- رات کی تاریکی میں شب خون مار کر ریٹ نہیں بڑھائے جاتے بلکہ حکومت پہلے پارلیمنٹ میں بل پیش کرتی ھے پھر سپریم لیڈر فیصلہ کرتا ھے ۔ اس لیے سال میں ایک آدھ مرتبہ دو تین پرسنٹ ریٹ بڑھ سکتا ھے وہ بھی ریٹ کے ساتھ سپریم لیڈر کے بجٹ سے عوام کو ریلیف دیا جاتا ھے* *10- گھر میں روٹی پکانا منع ھے ے جس سے خواتین پڑھ لکھ سکتی ہیں یا اجتماعی پروگراموں میں آسانی سے شرکت کر سکتی ہیں۔* *11- ڈیلیوری کیسز فری ہیں بلکہ بچے کی پیدائش پر کم از کم 20،000 پاکستانی روپیہ والدہ کے اکاؤنٹ میں گفٹ بھی ٹرانسفر کیا جاتا ھے* *12- علاج معالجہ میں 70 فیصد حکومت ادا کرتی ھے 30 فیصد مریض* *13- چوری ڈکیتی نہیں ھے* *14- شاہی کلچر نام کی چیز ھے نہ پروٹوکول* *15- بھکاری نہیں ملے گا* *16- بے نمازی ہونا عیب سمجھا جاتا ھے* *17- سورج غروب ہونے سے طلوع ہونے تک پولیس قاتل کے گھر میں بھی داخل نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ وقت اس کی بیوی بچوں کا ھے* *18- جیلیں خالی ہیں اور اگر کسی سے جرم ہو بھی گیا تو اسے جیل میں کام دیا جاتا ھے جس کی تنخواہ اس کے گھر بھیجی جاتی ھے تاکہ اس کی فیملی بجٹ ڈسٹرب ہونے کی وجہ سے غیر اخلاقی جرائم میں مبتلا نہ ہو۔* *19- امام جمعہ کا مقام گورنر سے بالاتر ہوتا ھے تاکہ انتظامیہ من مانی نہ کر سکے ۔جمعہ کے خطبہ میں انتظامیہ کو وارننگ دے دی جاتی ھے۔* *20- وزراء اور صوبائی و ضلعی انتظامیہ کے افسران نماز جمعہ کی پہلی صف میں سب سے پہلے موجود ہوتے ہیں۔* *21- چھوٹے بڑے خاندان کا تصور نہیں ھے، صرف سادات اور غیر سادات میں پوری قوم تقسیم ہوتی ھے* *22- استاد سر کا تاج ہوتا ھے اسے تھانے یا کچہری میں نہیں بلوایا جا سکتا کیونکہ معلم اور استاد ایسا کام ہی نہیں کرتا۔* *23- گھر میں نوکر رکھنے کا رواج نہیں ھے* *24- ذہنی طور پر ہر شخص مطمئن اور ہشاش بشاش دکھائی دیتا ھے* *یہ ھے ولایت فقیہ کا ملک جسے ایرانی کہتے ہیں کہ یہ ملک بارہویں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا پیش خیمہ ھے۔* اور *ہم نے یہ حکومت نجات دہندہ بشریت کے سپرد کرنی ھے۔ یہ ہمارے پاس امانت ھے اور اس امانت کی حفاظت کے لیے سب کچھ قربان کر سکتے ہیں اور کر رھے ہیں*۔ *ان کے اس جذبے اور قربانی اور پھر سچے ایمان کی وجہ سے اس وقت عالم اسلام اور یہاں تک کہ غیر مسلم بھی ان کی تائید کر رہے ہیں۔* *اگر ایسی حکومت سپر پاور بن جائے تو دنیا میں عدل وانصاف کا دوردورہ ہوسکتا ھے اور لوگوں کے سماجی اور معاشی مسائل حل ہو جائیں گے۔* *درحقیقت یہ وہی عدل و انصاف پر مبنی عالمی حکومت ھے جس کا پوری دنیا کو صدیوں سے انتظار ھے۔* *ان شاءالله ہر آنے والا دن مسلمانوں کے لیے ترقی کا سورج لے کر نکلے گا۔* *اور پوری دنیا پر مسلمان اور اسلام غالب آ جائے گا۔*

یکم ربیع الاول بیت زھراء پر حملہ بعد از رسول اکرم ابوبکر کے حکم سے عمر بن خطاب حضرت فاطمہؑ کے گھر آیا تاکہ علیؑ اور ان کے ساتھیوں کو بیعت کے لئے لے جائے۔ اور جیسے ان لوگوں نے جانے اور بیعت سے انکار کیا تو عمر نے لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دیتے ہوئے دھمکی دی کہ گھر کو اس میں رہنے والوں کے ہمراہ آگ لگا دی جائے گی۔ عمر کی گھر کو آگ لگانے والی دھمکی اہلسنت کی بعض کتابوں جیسے العقد الفرید،[ *1* ] تاریخ طبری،،[ *2* ] انساب الاشراف،[ *3* ] المصنَّف،[ *4* ] اور الامامۃ و السیاسۃ[ *5* ] میں نقل ہوئی ہے۔ جو لوگ عمر کے ساتھ اس حملہ میں شامل تھے تاریخ کی کتابوں میں ان کے نام بیان ہوئے ہیں: اُسَید بن حُضَیر، سَلَمَۃ بن سَلامۃ بن وقش،[ *6* ] ثابت بن قَیس بن شَمّاس خزرجی‏[ *7* ] عبدالرحمان بن عوف، محمد بن مسلمہ[ *8* ] اور زید بن اَسلم۔ [ *9* ] عمر بن خطاب اور ان کے ساتھی پیغمبر اکرمؐ کی بیٹی کے گھر کے سامنے امام علیؑ اور گھر پر موجود دیگر افراد سے ابوبکر کے لئے بیعت لینے حاضر ہوئے تھے۔ شیعہ اور اہل سنت کے مآخذ میں نقل ہوا ہے کہ یہ واقعہ پیغمبر اکرمؐ کی 28 صفر سنہ 11 ہجری کو رحلت کے بعد واقع ہوا جس میں عمر بن خطاب نے یہ دھمکی دی کہ اگر گھر والے باہر نہ نکلے تو اس گھر کو آگ لگا دیں گے۔ *اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ اَللّهُمَّ عَجِّلْ لِوَلیِّکَ فَرَجَهُمْ والعَنْ ادائھم و الجبت و الطاغوت* *حوالہ کتب 📚 :- ابن عبد ربہ، العقد الفرید، دارالکتب العلمیۃ، ج5، ص13 (1) // طبری، تاریخ الأمم و الملوک، 1387ھ، ج‏3، ص202 (2) // بلاذری، أنساب الأشراف، 1417ھ، ج‏1، ص586 (3) //ابن ابی‌ شیبہ، المصنف، 1425ھ، ج13، ص469 (4) //ابن قتیبہ، الامامۃ و السیاسۃ، 1413ھ، ج1، ص30 (5) //بعض دوسری نقل میں سلمۃ بن اَسلم بن جُرَیش آیا ہے۔ (طبری امامی، المسترشد فی الإمامۃ، 1415ھ، ص378۔) / (6) //شیبانی بغدادی، السنّۃ، 1406ھ، ج2، ص553؛ دیار بکری، تاریخ الخمیس، دارصادر ،ج‏2، ص169 (7) // ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، دارالفکر، ج5، ص250 (8) // علامہ حلی، نہج الحق، 1982م، ص271* ‌‌‌‌‌‌‌‌‎ ‎

ناجانے کتنے ہی مقاما ت پر رسول خدا (ص) نے حضرت علی (ع) کے فضائل و مناقب کو لوگوں کے سامنے بیان کیا۔ حضرت علی (ع) کے فضائل و مناقب پر مشتمل ناجانے کتنی احادیث کو تاریخ دانوں اور محدثین نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے ۔ ناجانے کتنے ہی ایسے فضائل ہیں کہ جو فقط اور فقط حضرت علی (ع) کے ساتھ ہی خاص ہیں اور دنیا کا کوئی دوسرا فرد اس میں شریک نہیں ہے۔ رسول خدا (ص) نے ناجانے کتنی ہی بار حضرت علی (ع) کے فضائل کو بیان کیا اور حضرت علی (ع) کی خلافت بلافصل اور جانشینی کا اعلان کیا… اتنے فضائل و مناقب بیان کرنے اور بار بار علی (ع) کی خلافت کا اعلان کرنے کے بعد اب رسول خدا (ص) اپنے ناصر و مددگار اور جانشین علی بن ابی طالب کے بارے میں اپنی امت کو اور کیا بتاتے کہ: لوگ حضرت علی بن ابی طالب کے مقام و مرتبہ کا لحاظ رکھتے!!! ان کا خلافت بلا فصل کا حق پامال نہ ہوتا!!!!!! اور وہ محراب عبادت میں حالت سجدہ میں شہید نہ کیے جاتے !!!!!!!!! ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

یہ واقعہ ایک اور پہلوسے رسول خدا (ص) کی طرف سے حضرت علی (ع) کو اپنا جانشین قرار دینے کی طرف اشارہ کرتا ہوابھی نظر آتا ہے اور وہ اس طرح ہے کہ رسول خدا (ص) نے مدینہ ہجرت کرنے سے پہلے حضرت علی (ع) کو مکہ میں اپنے امور کی ادائیگی کے لیے اپنا جانشین بنایا اور انہیں امانتیں واپس کرنے کی ذمہ داری سونپی کیونکہ امین کا لقب حاصل کرنے والے رسول (ص) نے حضرت علی (ع) سے بڑھ کر کسی کو بھی امین نہیں پایاتھا۔ ابن ابی الحدید لکھتے ہیں: قال شيخنا أبو جعفر (المدائني): والمعروف المنقول أنّه(ص) قال لعليٍّ(ع): (إذهب فاضطجع في مضجعي، وتَغَشَّ بِبُرديَ الحضرمي، فإنّ القوم سيفقدونني ولا يشهدون مضجعي، فلعلّهم إذا رأوك يسكنهم ذلك حتّى يُصبحوا، فإذا أصبحتَ فاغد في أداء أمانتي) شرح نهج البلاغة: ج13، ص263. ہمارے استاد و شیخ ابو جعفر مدائنی کہتے ہیں کہ رسول خدا (ص) نے حضرت علی (ع) سے فرمایا: جا کر میرے بستر پر لیٹ جاؤ اور میری حضرمی چادر کو اوڑھ لو یہ لوگ مجھے عنقریب نہیں پائیں گے اور وہ مجھے بستر پر نہیں دیکھیں گے اور جب وہ تمہیں وہاں دیکھیں گے تو شاید یہ چیز انہیں صبح تک آرام سے بٹھائے رکھے اور جب صبح ہو جائے تو تم میرے پاس رکھی ہوئی امانتوں کو ان کے مالکوں کو لوٹا دینا ۔ ابن ابی الحدید یہ لکھنے کے بعد رقمطراز ہوتے ہیں:محمد بن اسحاق کتاب مغازی میں لکھتے ہیں: (...إن رسول الله(ص) أخبر علياً بخروجه، وأمره أن يبيت على فراشه يخادع المشركين عنه؛ ... وأمره أن يتخلّف بعده بمكّة حتّى يُؤدّيَ عن رسول الله الودايع التي عنده للناس، وكان رسول الله (ص) استودعه رجالٌ من مكّة ودايع له؛ لما يعرفونه من أمانته) شرح نهج البلاغة: ج13، 303 ۔۔۔۔۔۔رسول خدا (ص) نے حضرت علی (ع) کو اپنے جانے کے بارے میں بتایا اور مشرکین کے ہتھکنڈوں کو ناکام کرنے کے لئے حضرت علی (ع) کو اپنے بستر پر سونے کا حکم دیا…اور انہیں اپنے بعد مکہ میں اپنی جانشینی پہ مامور کیاتا کہ لوگوں کی جو امانتیں رسول خدا (ص) کے پاس ہیں انہیں نیابتِ رسول میں لوگوں کو واپس کر دیں، مکہ کے لوگ رسول خدا (ص) کے پاس اپنی امانتیں رکھا کرتے تھے کیونکہ وہ لوگ رسول خدا (ص) کی امانتداری کے بارے میں باخوبی جانتے تھے۔ ایک سمجھ بوجھ رکھنے والا مسلمان اس واقعہ سے جو نتائج اخذ کرسکتا ہے ان میں سے ایک واضح چیز یہ بھی ہے کہ رسول خدا (ص) کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ قریب اور سب سے زیادہ امانتدار اور قابل بھروسہ شخصیت حضرت علی (ع) کی ہی تھی اور اسی وجہ سے رسول خدا(ص) نے ہر موقع پر حضرت علی (ع) پر اعتماد کیا اور انہیں اپنی زندگی میں اور اپنی وفات کے بعد بھی اپنا خلیفہ قرار دیا اور متعدد بار ان کی جانشینی کا اعلان کیا۔ حضرت علی (ع) ہی سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور رسول خدا (ص) کے مدینة العلم کے واحدباب ہیں۔ حضرت علی (ع) ہی سب سے زیادہ متقی اور امام المتقین ہیں۔ حضرت علی (ع) ہی سب سے زیادہ عبادت گزار اور پرہیز گار ہیں ۔ حضرت علی (ع) ہی ہر فضیلت کی طرف سب سے پہلے سبقت لے جانے والے اور ہر عمل خیر کو انجام دینے والے ہیں۔ حضرت علی (ع) ہی اپنے بابا حضرت ابو طالب کے ساتھ مل کر سب سے پہلے رسول خدا(ص) اور رسالت کی مدد و نصرت کرنے والے ہیں ۔ حضرت علی (ع) کی شان میں قرآن مجید کی آیات نازل ہوئیں ۔ ناجانے کتنے ہی ایسے مواقع ہیں کہ جن میں فقط حضرت علی (ع) نے رسول خدا (ص) کی جانشینی کے فرائض سر انجام دیے۔ نا جانے کتنے ہی ایسے مواقع ہیں کہ جہاں پر حضرت علی (ع) نے اسلام کے پرچم کو سر بلند کیا اور مسلمانوں کو عزت بخشی۔ دعوت ذو العشیرہ میں فقط حضرت علی(ع) ہی تھے کہ جنہوں نے رسول خدا (ص) کی ہر پکار پر لبیک کہا اور رسول خدا (ص) نے جتنی دفعہ بھی دعوت ذو العشیرہ میں یہ فرمایا کہ تم میں سے کون ہے کہ جو میری مدد اور جانشینی کے لیے تیار ہے تو اس وقت بھی ہر دفعہ فقط حضرت علی (ع) نے رسول کی مدد و نصرت کا اعلان کیا اور جانشینی کو قبول کیا۔ جنگ خندق میں جب عمرو بن عبدود عامری نے تمام مسلمانوں کو مقابلے کے لیے پکارا تو اس وقت بھی فقط حضرت علی (ع) ہی تھے کہ جو اس کافر کا مقابلہ کرنے کے لیے نکلے اور جب رسول خدا (ص) نے مسلمانوں کو عمرو بن عبدود کے مقابلے کے لئے میدان جنگ میں آنے کے لیے کہا تو سوائے حضرت علی (ع) کے کوئی بھی اس کا مقابلہ کرنے کیلیے تیار نہ ہوا ۔ جنگ تبوک کے لیے جانے سے پہلے رسول خدا (ص) نے فقط حضرت علی (ع) کو مدینہ میں اپنا جانشین بنایا اور اس بات کا اعلان کیا کہ علی ابن ابی طالب (ع) کی میرے نزدیک وہی منزلت ہے کہ جو ہارون کی موسی کے ساتھ تھی۔ حضرت علی (ع) ہی وہ شخصیت ہیں کہ جن کو سورہ برائت کی تبلیغ کے لیے یمن بھیجا گیا اور خدائی حکم کے مطابق دنیا کو یہ بتایا گیا کہ رسول خدا (ص) کے علاوہ اگر کوئی ہستی سورہ برائت اور وحی الہی کی تبلیغ کی صلاحیت و لیاقت رکھتی ہے تو وہ فقط اور فقط علی بن ابی طالب (ع) کی ہی ذات ہے۔

سازش کی ناکامی بغض و حقد اور خباثت و گندگی سے بھرے دلوں کے ساتھ قریش کے حملہ آور اپنے منصوبے کے مطابق جب رسول خدا(ص) کے گھر میں بے نیام تلواریں لہراتے ہوئے داخل ہوئے تو حضرت علی(ع) اپنی شجاعت و بہادری کے شہرہ آفاق جوہروں کے ساتھ رسول خدا(ص) کے بستر سے اٹھے تو قریش کے سارے سورما گھبرا کر پیچھے ہٹ گئے اور سب نے اپنی خیریت واپس لوٹ جانے میں ہی سمجھی۔ جب قریش کو اپنے منصوبے کی ناکامی کا علم ہوا تو وہ رسول خدا (ص) کی تلاش کے لئے نکل کھڑے ہوئے لیکن اللہ تعالی نے ان کی آنکھوں سے اپنے رسول (ص) کو اوجھل کر دیا حالانکہ یہ عرب کے مانے اور منجھے ہوئے لوگ تھے کہ جو اڑتے پرندوں کے نشان پرواز کو پا لیتے تھے اور کسی قافلے ، سوار یا کسی پیدل چلتے آدمی کی تلاش ان کے لیے معمولی کام تھا۔ اللہ تعالی نے ایک مکڑی کو بھیجا کہ جس نے رسول خدا (ص) کے غار ثور میں جانے کے بعد غار کے منہ پہ جالا بُن دیا اور کبوتروں کے ایک جوڑے کو بھیجا کہ جس نے غار کے دہانے پہ اپنا گھونسلا بنا کر انڈے دے دیے ۔ جب قریش نے غار کے منہ پرمکڑی کا جالا اور کبوتروں کے جوڑے کو پایا تو انہیں یقین ہو گیا کہ اس غار میں کوئی داخل نہیں ہوا اور وہ رسول خدا (ص) کی تلاش سے مایوس ہو گئے۔ رسول خدا (ص) یثرب (مدینہ)سے کچھ فاصلے پر مقام قباء میں حضرت علی (ع) کے انتظار کے لیے رک گئے جبکہ حضرت علی (ع)حضرت فاطمہ زہرا(س) حضرت فاطمہ بنت اسد (س) اور فاطمہ بنت زبیر کو لے کر مکہ سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے توقریش کے کچھ افراد منہ پر کپڑے لپیٹ کر حضرت علی (ع) کا راستہ روکنے کے لیے آگئے ،حضرت علی (ع) نے انہیں پہچان لیا اور ان سے کہا: (فإنِّي مُنطَلِق إلى ابن عَمِّي رسول الله(ص) بيثرب، فمن سَرَّه أن أفري لحمه وأُريقَ دمه فَلْيتَعَقبني، أو فَليَدْنُ منّي) الأمالي: ص471 میں اپنے چچازاد بھائی اور اللہ کے رسول (ص) کے پاس یثرب جا رہا ہوں جسے پسند ہے کہ میں اس کے گوشت کے ٹکڑے ٹکڑے کروں اور اس کا خون بہا ڈالوں وہ میرا پیچھا کرے یا میرے قریب آجائے۔ لیکن جب قریش کے ان سورماؤں نے حضرت علی (ع) کی یہ بات سنی تو خوف کے مارے واپس پلٹ گئے ۔ پھر حضرت علی (ع) اطمینان قلب کے ساتھ سفر کرتے ہوئے رسول خدا (ص) سے جاملے اور جب حضرت علی (ع) فواطم (ع) کے ہمراہ رسول خدا (ص) کے پاس پہنچے تو یہ آیت نازل ہوئی: {فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لاَ أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ} آل عمران: 195. تو ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول کر لی (اور فرمایا) کہ میں کسی عمل کرنے والے مرد یا عورت کے عمل کو ضائع نہیں کرتا ۔۔۔۔ رسول خدا (ص) نے حضرت علی (ع) کو ملنے کے بعد مذکورہ بالا آیت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا: (يَا عَلي، أنتَ أوَّل هَذه الأُمّة إيماناً بالله ورسُولِه، وأوّلهم هِجْرة إلى الله ورسُولِه، وآخرهم عَهْداً برسولِه، لا يُحبّك والَّذي نَفسي بِيَده إلاَّ مُؤمِن قَد امتحنَ اللهُ قلبَه للإيمان، ولا يبغضُكَ إلاَّ مُنافِق أو كَافِر) مناقب آل أبي طالب: ج1، ص160. اے علی تم اس امت کے وہ پہلے شخص ہو کہ جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اورجس نے سب سے پہلے اللہ اور اس کے رسول کی جانب ہجرت کی ،اور رسول خدا کے دنیا سے رخصت کے وقت ملنے والے آخری فرد بھی تم ہی ہو گے۔مجھے اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم سے فقط وہی محبت کرے گا جو مومن ہوگا اور اس کے دل کا خدا نے ایمان کے واسطے امتحان لے رکھا ہوگا اور تم سے فقط منافق اور کافر ہی بغض رکھے گا۔ اس واقعہ کا تجزیہ جو کچھ ہم نے مختصرانداز میں گزشتہ سطور میں لکھا ہے اسے اگر غیر جانبدار ہو کر پڑھا جائے تو ہمیں اس بات کا یقین ہو جائے گا کہ حضرت محمد (ص) مشکل اور عظیم کاموں کی ذمہ داری ہمیشہ اپنے چچازاد بھائی علی ابن ابی طالب (ع) کو ہی سونپتے تھے اور ہر بڑے اور اہم کام کرنے کی اہلیت ولیاقت فقط حضرت علی (ع) میں ہی انہیں نظر آتی تھی اور یہ بات اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ عظیم ترین امورکو سرانجام دینے کے لئے رسول خدا (ص) ہمیشہ حضرت علی (ع) کو ہی اپنا نائب مقرر کرتے تھے شب ہجرت اور دوسرے واقعات اس بات پر شاہد ہیں کہ رسول خدا (ص) کی زندگی میں حضرت علی (ع) ہی ہمیشہ رسول خدا (ص) کے قائم مقام و جانشین رہے اور رسول خدا (ص) نے بارہا اپنی زندگی کے بعد کے لیے بھی حضرت علی (ع) کی خلافت کا اعلان کیا۔ لیکن کیوں اس واقعہ اور رسول خدا (ص) کے مواقف و فرامین سے اس واضح اعتقاد کو اخذ نہیں کیا جاتا؟ کیوں حضرت علی (ع) کے علاوہ دوسرے افراد کے بارے میں ایسی باتیں کی جاتی ہیں کہ جس کی وہ اہلیت نہیں رکھتے اور ان کی منزلت کو بغیر کسی معقول دلیل کے بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے؟

جب حضرت علی (ع) نے رسول خدا (ص) کی یہ بات سنی تو مسکرائے اور اس خوشی میں کہ رسول خدا (ص) کی جان بچ جائے گی شکر کے طور پر زمین پہ سجدہ ریز ہو گئے۔ اس کے بعد حضرت علی (ع) کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی:{وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاء مَرْضَاتِ اللّهِ وَاللّهُ رَؤُوفٌ بِالْعِبَادِ}البقرة: 207. ترجمہ:اور لوگوں میں ایک شخص ایسا ہے کہ جو خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور خدا بندوں بہت مہربان ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول خدا(ص) نے حضرت علی(ع) سے فرمایا: (نَم على فراشي واتشح ببردي الحضرمي الأخضر فنم فيه فإنه لا يخلص إليك شيء تكرهه منهم) تاريخ الطبري: ج2، ص 99، السيرة النبويّة لابن هشام: ج2، ص333. میرے بستر پر سوجاؤ اور میری سبز حضرمی چار اوڑھ لو اور جس چیز کو دشمنوں سے تم ناپسند کرتے ہو وہ تم تک نہ پہنچے گی۔ رسول خدا (ص) نے حضرت علی (ع) کو رسول و رسالت کے قتل کے لئے تیاربے نیام تلواروں کی دھاروں کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرنے کے لئے کہا اور حضرت علی (ع) نے اس امتحان کو باخوشی قبول کیا، رسول خدا (ص) کے بستر پر خدا کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہوئے سو گئے اور رسول و رسالت کی حفاظت کے لیے خود کو پیش کر دیا۔ اپنی زندگی کو قربانی کے لیے پیش کردینے سے بڑھ کر کوئی ایسا درجہ نہیں ہے کہ جسے کوئی صابر حاصل کرسکتا ہے ،یا جسے کوئی طالب پا سکتا ہے یا جس تک کوئی سخی اپنی سخاوت سے پہنچ سکتا ہے۔ رسول خدا (ص) نے شب ہجرت فقط حضرت علی (ع) کو اپنے بستر پر سونے کا اس لیے حکم دیا تھا کیونکہ رسول خدا (ص) باخوبی جانتے تھے کہ اس امتحان اور اس مرتبہ کی اہلیت فقط اور فقط حضرت علی (ع) میں ہی ہے۔ علماء کہتے ہیں: إنّ فضيلة أمير المؤمنين (ع) تلك الليلة، لا نعلم أحداً من البشر نال مِثلَها، فإنّه ما تلكّأ ولا تَتعْتَع، ولا تغيّر لونه ولا اضطربت أعضاؤه. ولا يصبر على ثقل هذه المحنة أو يتقدّم نحو هذا الموقف إلاّ مَن خصّه الله تعالى بالصبر على مشقّة ذلك والفوز بفضليته، وله من جنس ذلك أفعالٌ كثيرة. شرح نهج البلاغة لابن أبي الحديد: ج13، ص258-261. حضرت علی (ع) نے شب ہجرت جس فضیلت کو حاصل کیا ہے ایسی فضیلت آج تک کسی انسان کو حاصل نہیں ہوئی ہے حضرت علی (ع) نے اس حکم کے ملنے کے بعد نہ تو تردد و سستی کا مظاہرہ کیا، نہ ہی خوف و قلق کا شکار ہوئے، نہ ان کا رنگ متغیر ہوا اور نہ ان کے اعضاء و جوارح میں اضطراب پیدا ہوا۔ اس امتحان کے بوجھ تلے وہی صبر کرسکتا ہے اور خود کو عمل کے لیے فقط وہی پیش کرسکتا ہے جس کو اللہ تعالی نے اس مشقت پر صبر کرنے اور اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لیے مختص کر رکھا ہے اور حضرت علی (ع) کے اس جیسے بہت زیادہ فضائل موجود ہیں۔ مفسرین کے نزدیک شب ہجرت: {وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللّهُ وَاللّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ} انفال 30 ترجمہ: کافر لوگ تمہارےبارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا جان سے مار ڈالیں یا (وطن سے) نکال دیں تو (ادھر )خدا چال چل رہا تھا اور خدا سب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔ مفسرین نے اس آیت کریم کی تفسیر کرتے ہوئے اپنی تحقیقات و آراء کو لکھا ہے : مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ آیت شب ہجرت کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس آیت میں قریش کے مکر سے مراد قریش کے تمام قبائل میں سے ایک ایک فرد کا اس سازش میں شامل ہونا اور قتل کے جرم میں تمام قبائل کا شریک ہونا ہے اور خدا کے مکر سے مراد:حضرت علی(ع) کو بستر رسول(ص) پر سلانا ہے کیونکہ حضرت علی (ع) کے اس عمل کی وجہ سے ان کی سازش ناکام ہوئی۔ ارشاد قدرت ہے:{ومِنَ الناسِ مَن يَشري نفسَه ابتغاءَ مَرضاةِ الله} سورة البقرة:207 ترجمہ:اور لوگوں میں ایک شخص ایسا ہے کہ جو خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور خدا بندوں بہت مہربان ہے۔ تمام مفسرین کا کہنا ہے: جب حضرت علی (ع) شب ہجرت رسول خدا (ص) کے بستر پر سوئے تو مذکورہ بالا آیت حضرت علی (ع) کی شان میں نازل ہوئی ۔ (شرح نہج البلاغہ مؤلفہ ابن ابی الحدید،ج۱۳ ،ص۲۶۲۔تفسیر البیان ،طبری ،ج۹،ص۲۹۸و۳۰۴) رسول خدا (ص) کا گھر سے نکلنا: بعثت کے تیرھویں سال یکم ربیع الاول کو مکہ سے ہجرت کرنے کے لئے رات کے پہلے حصے میں گھر سے باہر آئے جبکہ گھر کو چاروں طرف سے قریش کے جاسوسوں اور حملہ آوروں نے گھیر رکھا تھا اور وہ حملہ کرنے کے لیےآدھی رات ہونے اور تمام لوگوں کے سونے کا انتظار کر رہے تھے۔ جب رسول خدا (ص) گھر سے نکلے تو اس آیت کریم کی تلاوت فرما رہے تھے {وَجَعَلْنَا مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدّاً وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدّاً فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لاَ يُبْصِرُونَ} (یس ٩) ترجمہ:اور ہم نے ان کے آگے بھی دیوار بنا دی اور ان کے پیچھے بھی، پھر ان پر پردہ ڈال دیا اور وہ دیکھ نہیں سکتے۔

🌹 لیلة المبیت 🌹 یکم ربیع الاول، شب ہجرت اور حضرت علی (ع) کا تلواروں تلے بستر رسول پر سونا ہمارے ہاتھوں میں موجود اسلامی تاریخ میں بہت سے اہم واقعات درج ہیں لیکن ان واقعات کو سرسری طور پر پڑھ لینا اور لفظوں سے عبور کرنا کافی نہیں ہے کیونکہ ان واقعات کے پس منظر میں بہت سی عبرت ناک اور قابلِ نصیحت حقیقتیں پوشیدہ ہوتی ہیں اور ان واقعات کی تہہ میں سے بہت سی ایسی صدائیں بلند ہوتی ہیں کہ جن کا تعلق ہمارے اہم عقائد سے ہے۔ تاریخ میں مذکور واقعات میں سے ایک اہم واقعہ حضرت محمد (ص) کی مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت بھی ہے کہ جس میں رسول خدا (ص) نے مختلف امور کی انجام دہی کے لیے حضرت علی (ع) کو اپنا نائب مقرر کیا اور آپ کو ہی اپنے بستر پر سونے کا حکم دیا تھا حالانکہ رسول خدا جانتے تھے قریش اور ان کے ساتھی قبائل گھر پر حملہ کر کے انہیں نیند میں ہی قتل کردینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر ہم اس تاریخی واقعہ کو غوروفکر اور مکمل بصیرت کے ساتھ پڑھیں تو ہمیں اس واقعہ سےکیا عقائدی درس ملتا ہے؟ یہاں ہمارے ذہن میں تاریخ کی ورق گردانی کرنے سے ایک اور سوال بھی ابھرتا ہے اور وہ یہ ہے شب ہجرت میں حضرت علی (ع) کے بسترِ رسول پر سونے کو کیوں بے توجہی کا شکار کیا گیا ہے اور اس واقعہ کی گہرائیوں میں موجود حقائق اورمعانی و مفاہیم سے کیوں دور رکھا گیا ہے؟ حضرت علی (ع) کا بسترِ رسول (ص) پر سونا جہاں ایک بہت بڑی آزمائش ہے وہاں ایک بہت بڑی فضیلت بھی ہے، اگر کوئی مومن حضرت علی(ع) کی اس عظیم فضیلت کے بارے میں غوروفکر کرے تو اس کے سامنے بہت سے فضائل و مناقب کے باب کھل سکتے ہیں۔ رسول خدا (ص) کو قتل کرنے کی قریش کی سازش: حضرت نبی کریم (ص) کو تبلیغ اسلام اور الہی پیغامات کو لوگوں تک پہنچانے سے روکنے کے لیے جب قریش کے تمام حربے ناکام ہو گئے تو انہوں نے رسول خدا(ص) کو ان کے بستر پر ہی قتل کردینے کا فیصلہ کیا اور قتل کی سازش اس طرح سے تیار کی کہ قتل کا ناپاک ارادہ رکھنے والے قریش کے تمام قبائل میں سے ایک ایک فرد لیا جائے اور وہ تمام افراد مل کر رسول خدا (ص) پر حملہ کر کے انہیں قتل کردیں اس طرح سے رسول خدا(ص) کے قتل میں تمام قبائل شامل ہوجائیں گے اور رسول خدا (ص) کا قبیلہ تمام قبائل سے اس قتل کا بدلہ نہیں لے پائے گا اور نہ ہی اس کے پاس تمام قبائل کا مقابلہ کرنے کی طاقت ہے۔ جبرائیل کا رسول خدا (ص) کو قریش کی سازش سے آگاہ کرنا: اللہ تعالی نے حضرت جبرائیل کے ذریعے رسول خدا (ص) کو قریش کی سازش سے آگاہ کیا اور انہیں مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا اور اس وقت یہ آیت نازل ہوئی{وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللّهُ وَاللّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ} سورہ انفال 30 ترجمہ :کافر لوگ تمہارےبارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا جان سے مار ڈالیں یا (وطن سے) نکال دیں تو (ادھر )خدا چال چل رہا تھا اور خدا سب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔ رسول خدا (ص) کا حضرت علی(ع) کو اپنے بستر پر سلانا: جب رسول خدا(ص) کو وحی کے ذریعے اس بات کا علم ہوا کہ قریش کے قبائل قتل کی سازش پر معاہدہ کر چکے ہیں تو اس وقت رسول خدا(ص) نے اپنے سب سے زیادہ قابل اعتماد، سب سے قریبی، راہ خدا میں سب سے زیادہ امتحانوں سے گزرنے والے اور خدا کی اطاعت پر فورا سر تسلیم خم کرنے والے نوجوان علی بن ابی طالب(ع) کو بلاکر فرمایا:(يا علي، إنّ الروح هبط عليّ بهذه الآية آنفا، يخبرني أنّ قريشا اجتمعوا على المكر بي وقتلي، وأنّه أوحى إليّ ربّي عزّ وجل أن أهجر دار قومي، وأن أنطلق إلى غار ثور تحت ليلتي، وأنّه أمرني أن آمرك بالمبيت على مضجعي، ليُخفى بمبيتك عليه أثري، فما أنت قائل وصانع)؟ فقال علي: (أو تَسلمَنَّ بمبيتي هناك يا نبي الله)؟ قال: (نعم)، فتبسم علي ضاحكاً، وأهوى إلى الأرض ساجداً، شكراً بما أنبأه رسول الله من سلامته ...) الأمالي: ص465. اے علی ابھی جبرائیل میرے پاس یہ آیت لے کر آیا ہے{وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللّهُ وَاللّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ} اور اس نے مجھے بتایا ہے کہ قریش نے میرے ساتھ دغہ بازی اور میرے قتل کا فیصلہ کیا ہے اور میرے پروردگار نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اپنے مسکن کو چھوڑ دوں اور آج ہی رات غار ثور میں چلا جاؤں اور اسی طرح خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اپنے بستر پر رات کو سونے کا حکم دوں تا کہ تمہارے اس بستر پر سونے سے میں پوشیدہ رہوں ،اب تم بتاؤ کہ تمہارا اس بارے میں کیا ارادہ ہے ؟ تو حضرت علی (ع) نے فرمایا:اے اللہ کے رسول!کیا آپ کے بستر پر میرے سونے سے آپ کی جان محفوظ ہوجائے گی تو رسول خدا(ص) نے فرمایا:ہاں اس طرح سے میری جان بچ جائے گی۔

🌹 *یکم ربیع الاول کے اہم اعمال* 🌹 1۔ روزہ رکھنا شیخ عباس قمیؒ نے مفاتیح الجنان کے اعمالِ ربیع الاول میں نقل کیا ہے کہ علماء نے رسولِ خدا ﷺ اور امیرالمؤمنینؑ کی سلامتی پر شکرانے کے طور پر یکم ربیع الاول کا روزہ مستحب قرار دیا ہے۔ 2۔ صدقہ و خیرات اس دن صدقہ، انفاق اور احسان کرنا بھی مستحب اعمال میں ذکر کیا گیا ہے۔ 3۔ زیارتِ رسول اللہ ﷺ اور امیرالمؤمنینؑ یکم ربیع الاول کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ اور حضرت علیؑ کی زیارت پڑھنا مناسب بتایا گیا ہے، کیونکہ یہ دن واقعۂ لیلۃ المبیت اور ہجرتِ رسول ﷺ سے متعلق ہے۔ 4۔ دعائے اولِ ربیع الاول سید ابن طاؤوسؒ نے اقبال الاعمال میں اس دن کے لیے دعا نقل کی ہے۔ 5۔ لیلۃ المبیت کو یاد کرنا یکم ربیع الاول سے پہلے کی رات لیلۃ المبیت کی نسبت سے معروف ہے؛ حضرت علیؑ نے رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کے لیے آپؐ کے بستر پر سو کر عظیم فداکاری کا مظاہرہ کیا۔ اس مناسبت سے قرآن کی آیت «وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ» کی تلاوت اور واقعے پر غور بہت خوبصورت عمل ہے۔