ISLAM WITH EMAN
Ir al canal en Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
Mostrar más1 286
Suscriptores
+124 horas
-27 días
-630 días
Archivo de publicaciones
1 286
جب انسان اپنی ضد، غرور اور انا کے خول میں بند ہو جاتا ہے،
تو پھر سچائی کی روشنی بھی اس کے دل تک نہیں پہنچتی۔
علم تب ہی اثر کرتا ہے جب دل جھکنے کو تیار ہو،
اور سیکھنے والا خود کو خالی محسوس کرے۔
لیکن جب کوئی صرف اپنی برتری ثابت کرنے پر تُل جائے،
تو وہ سچ کو نہیں، صرف اپنی انا کو جیتاتا ہے
اور یوں علم، عقل، اور فہم سب ہار جاتے ہیں۔
🌴🌴🌴
1 286
ملک میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح کو دیکھتے ہوئے ایک سو لوگوں پر مشتمل لوگوں کے سروے کے مطابق کچھ مردوں کا کہنا ھے کہ
عورت کو جب سے یہ کہا گیا ھے کہ مرد اور عورت ہر میدان میں برابر ہیں وہ اب برابر آنے کیلئے میدان میں ہی آنا چاہتی ہیں گھر پر نہیں رہنا چاہتی۔
ذرا بات ہوئی نہیں کہ عدالت میں۔۔۔۔ ذرا بات ہوئی نہیں کہ بچے چھوڑ جاؤ.... زندگی کو کھیل بنا رکھا ھے۔
کچھ مردوں کی چوائس ہے کہ عورت کام کرے اور کوئی نہیں چاہتے۔ لیکن کہیں عورت کو جاب عزیز ہے اور کہیں شوہر باہر ملک میں نہ ہو بلکہ ساتھ رہے یا ساتھ رکھے۔
کہیں ماں باپ کی ٹیک اور فالتو کے لاڈ نہیں بسنے دے رہے۔
کچھ مرد عورت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے سخت خلاف ہیں ان کا کہنا ہے رشتہ دیکھنے جاؤ تو یہ سوال کی بھی گنجائش رکھو کہ ٹک ٹاک پہ ہلکے پھلکے ناچ تو نہیں کرتی۔
دوسری طرف love اور ارینج شادی پہ الزام ہے۔ کسی کی ارینج نہیں چل رہی اور کسی کی love میں مسائل ہیں۔
کوئی عورت مردوں کی سستی کو الزام دیتی ہے اور کوئی مرد کے بےتحاشا موبائل کے استمعال سے پریشان۔۔ کہیں مہنگائی اور کہیں بےروزگاری نہیں بسنے دے رہی۔
آپ کیا کہتے ہیں؟؟
1 286
🌹 مسکراہٹیں بکھیریں 🌹
یہ واقعہ مصر میں پیش آیا:
”ایک چھوٹی سی 6 سالہ معصوم بچی سڑکوں پر ٹشو پیپرز بیچ رہی تھی، چہرے پر مسکراہٹ لئے یہ اِدھر سے اُدھر پھدکتی پھر رہی ہے، گاہکوں کو آتے دیکھ کر اپنی چھوٹی سی ٹوکری ان کے سامنے کرتی ہوئی کہتی: آپ کو ٹشو پیپرز چاہئیں؟
وہ ایک خاتون کے سامنے سے گزرتی ہے تو دیکھتی ہے کہ وہ رو رہی ہے، معصوم بچی اس کے پاس رک جاتی ہے، خاتون نے بھی اشک بار آنکھوں سے اس پیاری سی بچی کو دیکھا جو چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ لیے اسے ٹشو پیپر کا پیکٹ پیش کر رہی تھی، اس نے انجانے میں ٹشو پیپر نکالا اور اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھنے لگی۔ اس نے اپنے پرس سے ٹشو پیپرز کی قیمت نکالی اور بچی کو دینے کے لیے دیکھا تو وہ جا چکی تھی۔ وہ چھوٹی سی مسکراتی ہوئی بچی اسے بہت اچھی لگی۔ تھوڑی دور ایک خالی بنچ پڑا تھا، وہ خاتون وہاں جا کر بیٹھ گئی، کچھ سوچا اور پھر اپنے موبائل سے اپنے خاوند کو میسیج کیا:
”میں اپنے کیے پر نادم ہوں، جو کچھ ہوا، مجھے اس پر افسوس ہے، آپ جانے دیں، آپ کا موٴقف درست ہے۔“
اس کا خاوند ایک ہوٹل میں پریشان حال بیٹھا تھا کہ اسے بیوی کا یہ خوشگوار پیغام ملا، اس کے چہرے پر پرسکون مسکراہٹ چھا گئی۔ ان میاں بیوی کے مابین کسی بات پر جھگڑا ہوگیا تھا۔ اس خوشی میں اس نے ویٹر کو بلوایا اور بڑی خوشی سے اسے پچاس مصری پونڈ پکڑا کر کہا کہ یہ تمہارے ہیں، ویٹر کو اعتبار نہ آیا اور کہنے لگا: چائے کی قیمت تو صرف 5 پونڈ تھی؟! باقی تمہاری ٹپ ہے، وہ گویا ہوا…
اب ویٹر کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، ویٹر کو اتنی بڑی رقم کا ملنا کوئی معمولی بات نہ تھی، اس نے ایک فیصلہ کیا اور اس بوڑھی فقیر عورت کے پاس جا پہنچا، جو فٹ پاتھ پر کپڑا بچھائے چاکلیٹ اور ٹافیاں بیچ رہی تھی، اس نے ایک پونڈ کی چاکلیٹ خریدی اور اسے مسکراتے ہوئے دس پونڈ پکڑا دےئے۔ باقی پونڈ تمہارے لیے، اس نے کہا اور اپنے کام پر واپس چل دیا۔
بوڑھی خاتون بار بار اس 10 پونڈ کے نوٹ کی طرف دیکھ رہی تھی، جو اسے بغیر کسی محنت اور صلے کے مل گئے تھے۔ اس کے چہرے پر بے حد مسکراہٹ تھی۔ اس کا دل مارے خوشی کے بلیوں اچھل رہا تھا، اس نے زمین پر بچھائے ہوئے اپنے سامان کو سمیٹا اور سیدھی قصاب کی دکان پر جا پہنچی، اسے اور اس کی پوتی کو گوشت کھائے کتنی مدت گزر چکی تھی۔ ان کا گوشت کھانے کو جی چاہتا تھا، مگر ان کے وسائل اجازت نہیں دیتے تھے، آج ان کی خواہش پوری ہو رہی تھی۔
اس نے مسکراتے ہوئے گوشت خریدا اور گھر چل دی۔ بوڑھی اماں نے بڑی محنت اور شوق سے گوشت پکایا اور ننھی سی پیاری سی پوتی کا انتظار کرنے لگی کہ وہی تو اس کی کل کائنات تھی، آج وہ گوشت کھا کر کتنی خوش ہوگی؟
وہ سوچوں میں گم تھی کہ ٹشو پیپرز بیچنے والی اس کی پوتی مسکراتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی، آج اس کے چہرے پر عام دنوں سے زیادہ مسکراہٹ تھی۔
🔘 قارئین کرام! کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم بھی اس ٹشو پیپر بیچنے والی بچی کی طرح مسکراہٹیں تقسیم کریں، لوگوں میں خوشیاں بانٹیں، رسول کریم کی حدیث پر غور کریں۔ رسول کریم نے ایک حدیث میں اپنی امت کی رہنمائی فرمائی اور چہرے کی مسکراہٹ کی جانب توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا اپنے بھائی کے ساتھ مسکراتے ہوئے چہرے سے پیش آنا بھی صدقہ ہے۔“
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3085) (وانظر: مسند احمد (3/344، 360) (صحیح)
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
🔷 عورت کا جسم کی نمائش کرنا 🔷
جم میں خواتین کے غیر مناسب لباس، جسم کی نمائش اور بعض اوقات مردوں سے بے تکلف تعلقات دراصل ایک وسیع تر معاشرتی، نفسیاتی اور ثقافتی پس منظر کا نتیجہ ہیں۔ ہمیں ان پہلوؤں کو بہتر انداز میں سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی پر صرف الزام نہ لگایا جائے بلکہ اصل وجوہات کا ادراک کر کے اصلاح کی کوشش کی جائے۔
1. مغربی ثقافت کا اثر:
آج کل میڈیا، فلمیں، سوشل میڈیا اور فیشن انڈسٹری مسلسل ایک مخصوص طرز زندگی کو پروموٹ کر رہی ہیں۔ یہ اندازِ زندگی خواتین کو باور کرواتا ہے کہ خوبصورتی، جسمانی نمائش، اور بولڈ لباس ہی کامیابی اور توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ اس فریب کا شکار اکثر وہ خواتین ہوتی ہیں جو اندرونی طور پر احساسِ کمتری یا غیر یقینی کا شکار ہوتی ہیں۔
2. کمزور خاندانی تربیت اور دینی شعور کی کمی:
خواتین کی شخصیت سازی میں ان کے والدین، تعلیمی ادارے، اور مذہبی تربیت کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ جب لڑکیوں کو حیا، وقار، اور خود اعتمادی کا درست فہم نہیں دیا جاتا تو وہ بیرونی دنیا کی طرف جھکاؤ رکھتی ہیں۔ نتیجتاً وہ خود کو دوسروں کی نظر میں مقبول بنانے کے لیے لباس، باڈی شیپ، اور تعلقات کو استعمال کرتی ہیں۔
3. فٹنس کے نام پر فیشن اور سیکس اپیل:
جم میں جانا محض فٹنس کے لیے نہیں بلکہ اکثر خواتین کے لیے "خود کو دکھانے" کا ایک پلیٹ فارم بھی بن جاتا ہے۔ ٹائٹ کپڑے، میک اپ، سیلفیاں، اور سوشل میڈیا پر تصویریں ڈالنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اصل مقصد صحت نہیں بلکہ سوشل توجہ، جسم کی تشہیر، اور جنسیت کی پروموشن ہے۔
4. لڑکوں سے دوستی اور آزاد روی:
جم کی مخلوط فضا اور بے پردگی اکثر ایسے ماحول کو جنم دیتی ہے جہاں خواتین اور مردوں کے درمیان حدود ختم ہو جاتی ہیں۔ ورزش کے نام پر ایک دوسرے کے قریب آنا، بات چیت، نمبروں کا تبادلہ، اور پھر دوستیوں کا آغاز، یہ سب غیر محسوس طریقے سے ایک غیر اخلاقی فضا کو جنم دیتا ہے۔ ایسی تعلقات بعض اوقات گھر تباہ کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔
5. احساسِ برتری یا نسوانی طاقت کا غلط تصور:
کچھ خواتین اس خیال میں مبتلا ہو جاتی ہیں کہ وہ آزاد ہیں، ان کے جسم پر ان کا حق ہے، اور وہ جو چاہیں پہن سکتی ہیں۔ یہ سوچ مغرب سے درآمد شدہ ہے جہاں عورت کی "آزادی" کو اس کی عریانی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حقیقی آزادی کردار، عزت اور علم سے آتی ہے نہ کہ لباس اتارنے سے۔
6. سوشل میڈیا اور انفلوئنسرز کا کردار:
بہت سی خواتین جم میں جو کچھ کرتی ہیں وہ دراصل سوشل میڈیا پر موجود "فٹنس ماڈلز" اور "انفلوئنسرز" کی نقالی ہوتی ہے۔ بغیر سوچے سمجھے دوسروں کی طرز زندگی اپنانا دراصل اپنی شناخت کھو دینے کے مترادف ہے۔
---
اصلاحی پیغام:
اسلام عورت کو عزت، وقار اور حیا کا پیکر بناتا ہے۔ جسم کی نمائش، فیشن پرستی، اور غیر محرموں سے بے تکلفی دراصل ایک عورت کے تقدس اور روحانی وقار کو کمزور کر دیتی ہے۔ مسلمان عورت وہ ہے جو اللہ کے حکم کو مقدم رکھے، حیا کو زیور سمجھے، اور خود کو دوسروں کے لیے نہیں، اپنے رب کے لیے سنوارے۔
ہر خاتون کو سوچنا چاہیے کہ وہ معاشرے کو کیا پیغام دے رہی ہے؟ کیا وہ جسم کی نمائش کے ذریعے اپنا مقام بنانا چاہتی ہے یا کردار اور حیا سے؟ جم جانا برائی نہیں، لیکن وہاں کا لباس، رویہ اور نیت ضرور قابلِ غور ہے۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
🔷 اگر آکسیجن غائب ہو جائے 🔷
اگر زمین سے پانچ سیکنڈز کیلئے۔۔۔۔! جی ہاں محض پانچ سیکنڈز کیلئے آکسیجن غائب ہوجائے تو کیا ہوگا۔۔۔؟
انسان ایک منٹ کے لئے تو سانس روک ہی سکتا ہے، لیکن یہاں بات صرف ایک انسان کی نہیں ہو رہی، پوری زمین کی ہو رہی ہے۔ پوری زمین سے محض پانچ سیکنڈز کیلئے آکسیجن غائب ہو جائے تو۔۔۔۔!
1۔ ساحل سمندر پر لیٹے لوگوں کی جلد فوراً جھلسنا شروع ہو جائے گی، کیونکہ ہوا میں موجود مالیکیولر آکسیجن ہی ہمیں الٹرا وائلٹ روشنی سے بچاتی ہے۔
2۔ دن کے وقت آسمان کالا سیاہ ہو جائے گا، اندھیرا ہو جائے گا، کچھ دکھائی نہیں دے گا۔
3۔ دھات سے بنی ہوئی وہ تمام چیزیں جو الگ الگ ہیں، فوراً سے پہلے ایک دوسرے سے جڑنا شروع ہو جائینگی۔ کیونکہ ہوا میں موجود آکسیڈیشن کی تہہ ہی انہیں آپس میں جڑنے سے روکتی ہے۔
4۔ زمین کا پینتالیس فیصد حصہ آکسیجن سے بنا ہوا ہے، جیسے ہی آکسیجن غائب ہوگی، ساری زمین کھردری اور اُتھل پُتھل ہو جائے گی۔ اور اس پر چلنا اور قدم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
5۔ ہم ہوا کا اکیس فیصد دباؤ کھو دینگے، لہٰذا جس طرح جہاز کے اُڑتے ہی ہمارے کان بند ہونا شروع ہو جاتے ہیں، ویسے ہی ہماری قوتِ گوائی کم ہونا شروع ہو جائے گی۔
6۔ کنکریٹ کو زمین پر جمے رہنے میں آکسیجن مدد دیتی ہے۔ آکسیجن غائب ہوتے ہی کنکریٹ سے بنی تمام عمارتیں سیکنڈوں میں زمین بوس ہوجائینگی۔
7۔ آکسیجن پانی کا ایک تہائی حصہ ہے، جیسے ہی آکسیجن غائب ہوگی، دنیا کے تمام سمندروں کا پانی، ہائڈروجن گیس بن جائے گا، اسکا والیم بڑھ جائے گا۔ اور چونکہ ہائڈروجن سب سے ہلکی گیس ہے، اس لئے یہ اڑ کر فضاء میں چلی جائے گی۔ یعنی پوری دنیا میں لیکوڈ مادے جیسی کوئی چیز نہیں بچے گی۔
چلیں اب سوچتے ہیں کہ اگر آکسیجن گیس اپنی مقدار سے دگنی ہو جائے، یعنی جتنی ہم حاصل کر رہے ہیں، اسکا دُگنا ہو جائے، وہ بھی محض پانچ سیکنڈز کیلئے تو تب کیا ہوگا۔۔۔؟
1۔ درختوں کے اُگنے اور پھل دینے کی رفتار تیز ہو جائے گی۔
2۔ پرندے زیادہ لمبی پرواز کر سکیں گے۔
3۔ ہم زیادہ خوش اور زیادہ چالاک ہونگے۔ زیادہ آکسیجن سے ہمارے جسم کے پٹھے زیادہ مضبوط ہوجائیں گے۔ اور ہم بہترین جمناسٹک کا مظاہرہ کر سکے گے۔ ہماری جسمانی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن
لیکن ہماری زمین پر دیوقامت حشرات الارض گھومیں گے، جی ہاں یہ کاکروچ، بچھو، سانپ، پتنگے، ٹڈے، چونٹے اور چھپکلیاں، سب کی جسامت اتنی زیادہ ہوجائے گی کہ انہیں دیکھتے ہوئے خوف آنا شروع ہوجائے گا۔ کیونکہ حشرات الارض کی جسامت کا تعلق فضاء میں موجود آکسیجن کے تناسب اور اسکی مقدار سے ہوتا ہے۔
🔘 لہٰذا، دوستو! اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کہ اُس نے ہمیں ہر چیز ہماری ضرورت اور صلاحیت کے عین مطابق عطا کی ہے۔ ورنہ ہم گناہگار کہاں اِس قابل ہیں کہ اُسکی کسی چیز کا شکر بھی ادا کر پائیں۔
📚 ایک سائنسی جریدے سے
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
45 سے 55 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان اگلی گرمی کی لہر کے لیے تیار رہیں۔
◕ اس وقت ملائیشیا، انڈونیشیا، سنگاپور اور دیگر ممالک "سخت گرمی کی لہر" کا سامنا کر رہے ہیں۔
*یہ ہیں کرنا اور نہ کرنا* :
1. ڈاکٹر مشورہ دیتے ہیں کہ جب درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے تو بہت ٹھنڈا پانی نہ پئیں، کیونکہ ہماری چھوٹی خون کی شریانیں پھٹ سکتی ہیں۔
2. جب باہر کی گرمی 50 ° C تک پہنچ جائے اور جب آپ گھر آئیں تو ٹھنڈا پانی نہ پئیں - صرف مٹی کے گھڑے جیسا پانی ہی آہستہ سے پیئے۔
اپنے ہاتھ یا پیروں کو فوری طور پر نہ دھوئیں، اگر وہ تیز دھوپ کے سامنے آئیں۔نہانے سے پہلے کم از کم آدھا گھنٹہ انتظار کریں۔
✦3. کسی نے گرمی سے ٹھنڈا ہونا چاہا اور فوراً نہا لیا۔ شاور کے بعد، اس شخص کو سخت جبڑے کے ساتھ ہسپتال لے جایا گیا اور اسے فالج کا دورہ پڑا۔
📌 *براہ مہربانی نوٹ کریں* :
◇ گرمی کے مہینوں میں یا اگر آپ بہت تھکے ہوئے ہیں تو فوری طور پر بہت ٹھنڈا پانی پینے سے گریز کریں کیونکہ اس سے رگیں یا خون کی نالیاں تنگ ہو سکتی ہیں جو کہ فالج کا باعث بن سکتی ہیں۔
شیخ زید ہسپتال کے ڈاکٹر عباس حسین کاظمی نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ میسج حاصل کرنے والا ہر شخص دوسروں کو بھیج دے تو یقیناً کم از کم ایک جان تو بچائی جاسکتی ھے ..
ہم نے اپنے حصّے کا کام کر دیا ہے، امید ہے آپ بھی اپنے حصّے کا کام کریں گے۔
⬤ نارمل پانی آپ کی زندگی بچا سکتا ہے۔
اپنی صحت کا خود خیال رکھیں۔تو لوگوں کے لیے فائدہ مند بنیے،جہاں جتنا ممکن ہو لوگوں کا بھلا کیجیے۔شکریہ
🔷🔷🔷🔷🔷🔷
1 286
🔷 اضافی کھانا فریج میں نہ رکھیں 🔷
اضافی کھانا فریج میں نہ رکھیں بلکہ بانٹ دیا کریں۔۔۔۔
مجھے ایک بار ایران کے ایک گمنام قصبے میں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ اصفہان اور شیراز کے درمیان تھا‘ میں اس کا نام بھول گیا ہوں‘ مجھے وہاں رات گزارنا پڑ گئی‘ میں یہ جان کر حیران رہ گیا پورے قصبے میں فریج نہیں تھا‘ میزبان نے بتایا ہم خوراک کو فریج میں رکھنا گناہ سمجھتے ہیں‘ میں حیران رہ گیا‘ وہ بولا‘ شاہ ایران کے دور میں حکومت عوام کو فریج خریدنے کی ترغیب دیتی تھی‘ قسطوں پر ٹی وی اور فریج مل جاتے تھے‘ پورے شہر نے فریج خرید لیے۔
ہمیں چند دن بعد احساس ہوا ہمارے دل تنگ ہو گئے ہیں‘ ہم نے فالتو کھانا فریجوں میں رکھنا شروع کر دیا ہے‘ لوگ اس سے پہلے اضافی کھانا ضرورت مندوں یا ہمسایوں میں بانٹ دیا کرتے تھے‘ ہم میں سے ہر شخص اپنی ڈش ہمسائے کے گھر بھجواتا تھا اور ہمسائے اپنا کھانا ہمیں دے دیتے تھے‘ فریج نے میزبانی اور محبت کا یہ سلسلہ روک دیا‘ ہمارے امام صاحب نے ایک دن پورے شہر کو اکٹھا کیا اور فریج کو حرام قرار دے دیا‘ حکومت نے بہت زور لگایا لیکن ہم لوگوں نے اپنے فریج بیچ دیے یا پھر اپنے دور دراز کے رشتے داروں کو دے دیے‘ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے ہمارے قصبے میں فریج واپس نہیں آیا۔
میں نے پوچھا اس سے کیا فائدہ ہوا؟ وہ ہنس کر بولا ”بہت فائدہ ہوا‘ ہمارے پورے شہر میں کوئی شخص بھوکا نہیں سوتا‘ لوگ پیٹ بھر کرکھانا کھاتے ہیں اور باقی کھانا کسی نہ کسی مسکین‘ حاجت مند یا بھوکے کو دے دیتے ہیں‘ ہم لوگ ہمسایوں میں بھی کھانا بانٹتے ہیں یوں پورے شہر میں کوئی بھوکا نہیں رہتا“
🔘 یہ حقیقت ہے پہلے لوگ اضافی کھانا بانٹ دیا کرتے تھے لیکن اب اضافی کھانا فریج میں رکھ لیا جاتا ہے۔
منقول۔۔۔۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
🔷 گفتگو کا ہنر 🔷
آنکھوں کی زبان سیکھ کر دِلوں پر راج کریں.!
انسان کی گفتگو صرف الفاظ کا کھیل نہیں،
بلکہ جسمانی حرکات، چہرے کے تاثرات اور سب سے بڑھ کر آنکھوں کی زبان بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ دنیا کے کامیاب لوگ
اپنی بات کو پراثر بنانے کے لیے آنکھوں کا صحیح استعمال کرنا جانتے ہیں۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کی بات توجہ سے سنیں، آپ کی شخصیت کا احترام کریں اور آپ کی گفتگو میں ایک خاص کشش پیدا ہو، تو یہ مضمون آپ کے لیے ہے۔
آنکھوں میں دیکھنے کا صحیح وقت اور انداز.!
آپ نے دیکھا ہوگا
کہ کچھ لوگ جب بات کرتے ہیں
تو ان کی باتوں میں وزن محسوس ہوتا ہے۔
ان کی شخصیت میں ایک اعتماد جھلکتا ہے، اور سننے والا ان کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی گفتگو کے دوران صحیح وقت پر آنکھوں میں دیکھنے کا فن جانتے ہیں۔
گفتگو کے دوران مسلسل آنکھوں میں دیکھنا
بعض اوقات سامع کے لیے پریشان کن ہو سکتا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ دباؤ ڈال رہے ہیں یا سوال کر رہے ہیں۔
گفتگو کے دوران ہلکی پھلکی نظر کا رابطہ رکھیں تاکہ سننے والا محسوس کرے کہ آپ اس سے جُڑے ہوئے ہیں۔ لیکن مسلسل گھورنے سے گریز کریں۔
جب آپ جملہ مکمل کریں،
تب آنکھوں میں دیکھیں۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے
جب آپ کی بات کا سب سے زیادہ اثر ہوتا ہے، سننے والے کو یقین آتا ہے کہ آپ پُراعتماد اور مخلص ہیں۔
اپنے مخاطب کو نرمی اور مسکراہٹ کے ساتھ دیکھیں تاکہ آپ کے الفاظ میں شدت کے بجائے اپنائیت محسوس ہو۔
یہ ہنر سیکھنے کے لیے عملی مشقیں..!
1. آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر کسی خیالی سامع سے بات کریں اور دیکھیں کہ آپ کی آنکھوں کی حرکت کیسی لگ رہی ہے۔
2. روزمرہ کی گفتگو میں کسی سے بات کرتے ہوئے اس اصول کو آزمانے کی کوشش کریں۔
3. کسی تقریر یا پریزنٹیشن کے دوران اپنے سامعین کی آنکھوں میں جملے کے اختتام پر دیکھنے کی عادت ڈالیں۔
4. اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے نوٹ کریں کہ کب اور کیسے نظر کا رابطہ زیادہ مؤثر لگتا ہے۔
5. وڈیو ریکارڈنگ کیجئے کسی خیالی سامع سے گفتگو کرتے ہوئے وڈیو ریکارڈ کریں اس طرح اچھی مشق ہو جائے گی .
6. قریبی دوستوں کے ساتھ مل کر بھی پریکٹس کی جا سکتی ہے جو سب کے لیے مفید ہو گی .
دنیا کے کامیاب لوگ یہ اصول کیسے اپناتے ہیں؟
یہ کوئی عام ہنر نہیں،
بلکہ نفسیات اور باڈی لینگویج کی دنیا میں اس پر باقاعدہ تحقیق ہوئی ہے۔ مشہور ماہر نفسیات ڈاکٹر آلبرٹ مہربیان (Albert Mehrabian) نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ گفتگو میں الفاظ سے زیادہ اثر باڈی لینگویج اور آواز کے اتار چڑھاؤ کا ہوتا ہے۔
ایمی کَڈی (Amy Cuddy)،
جو کہ ہارورڈ بزنس اسکول میں پروفیسر ہیں،
کہتی ہیں کہ خود اعتمادی کے اظہار کے لیے آنکھوں کا صحیح استعمال ضروری ہے۔
دنیا کے بڑے لیڈرز
اپنی تقریروں میں جملے کے اختتام پر سامعین کی آنکھوں میں دیکھنے کی مہارت رکھتے تھے، جس سے ان کی بات زیادہ پراثر لگتی تھی۔
یہ ہنر سیکھنا کیوں ضروری ہے؟
اس سے آپ کی گفتگو میں اعتماد پیدا ہوگا۔
لوگ آپ کی باتوں کو زیادہ سنجیدگی سے سنیں گے۔
اگر آپ کسی انٹرویو میں ہیں، تو یہ ہنر آپ کو زیادہ پیشہ ور اور قابل شخصیت کے طور پر پیش کرے گا۔
اگر آپ استاد، مقرر، خطیب یا لیڈر ہیں، تو اس سے آپ کی بات کا اثر کئی گنا بڑھ جائے گا۔
گفتگو کا حسن صرف الفاظ سے نہیں،
بلکہ آنکھوں کی زبان سے بھی جُڑا ہے۔ اگر آپ یہ سادہ سا اصول سیکھ لیں کہ بولتے وقت نرم رویہ اختیار کریں، اور جملہ مکمل ہونے پر آنکھوں میں دیکھیں، تو آپ کی شخصیت میں ایک خاص کشش پیدا ہو جائے گی۔
یہ ہنر سیکھنے میں کچھ وقت لگے گا،
مگر اگر آپ مستقل مزاجی اور اخلاص سے اس کی مشق کریں، تو ایک دن آپ بھی ان کامیاب لوگوں میں شامل ہو سکتے ہیں جن کی باتوں کو دنیا سنتی ہے اور پسند کرتی ہے۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
