ISLAM WITH EMAN
Ir al canal en Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
Mostrar más1 288
Suscriptores
-124 horas
-27 días
-230 días
Archivo de publicaciones
1 288
🌷 بالوں کوخضاب لگانا🌷
1-- امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
ایک شخص پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا ، آپ ص نے اسکی سفید ریش دیکھکر فرمایا :
جس نے اپنی داڑھی اسلام میں سفید کی ھو یعنی دین اسلام پر عمل کرتے ھوئے اسکی داڑھی سفید ھوئی ھو تو ، قیامت کے دن اس کے لئے مخصوص قسم کا نور ھوگا.
پھر
کچھ عرصہ بعد وہی شخص آپ ص کی خدمت میں دوبارہ آیا تو اس نے کالے ر نگ کا خضاب لگایا ھوا تھا ، اب جب آنحضرت ص کی نگاہ اس شخص پر یڑی تو آپ ص نے فرمایا :
یہ ، نور ، اسلام ، اور ایمان ہے. اس(خضاب) سے بیویوں میں محبت زیادہ ھو جاتی ہے اور دشمنوں میں ڈر اور خوف بڑھ جاتا ہے.
2-- حسن بن جھم کہتے ہیں میں امام موسی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ھوا جبکہ آپ نے سیاہ رنگ کا خضاب لگایا ھوا تھا، میں نے عرض کیا مولا میں آپ پر صدقے قربان، آپ نے کالا کلئر کیا ہے؟
تو آپ نے فرمایا :
خضاب لگانا ثواب کا کام ہے ، خضاب لگانا اپنے آپ کو سنوارنا عورتوں کے عفاف میں اضافہ کرتا ہے اور جب مرد اپنے آپ کو سنوارتے اور صاف ستھرا نہیں رکھتے تو عورتیں بھی اپنے آپ کو بنانا سنوارنا چھوڑ دیتی ہیں .
3 -- امام جعفرصادق ع فرماتے ہیں :
امام حسین علیہ السلام وسمہ سے خضاب فرماتے تھے اور وسمہ لگاکر سر کوباندھ دیتے تھے اور جس کپڑے سے سر کو باندھتے تھے وہ اب بھی ھمارے پاس محفوظ ہے.
4 -- امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
کالے رنگ کا خضاب لگانا دشمنوں میں خوف و ھیبت اور عورتوں میں انس و محبت ایجاد کرتا ہے.
5 -- امام باقر علیہ السلام فرماتےہیں:
کچھ لوگ میرے پدر بزرگوار امام سجاد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ھوئے اور انھوں نے دیکھا کہ آپ نے کالے رنگ کا خضاب لگا رکھا ہے تو انھوں نے اس کی وجہ پوچھی؟
تو آپ نے اپنا دست مبارک ریش پر پھیرتے ھوئے فرمایا:
پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جنگوں میں سے ایک جنگ کے موقعہ پر اپنے اصحاب کو فرمایا ! اپنی داڑھیوں کو کالاخضاب لگا لو تاکہ مشرکوں کے سامنے طاقتور اور جوان نظر آؤ.
6 -- امام باقرعلیہ السلام فرماتے ہیں:
عورتوں کابھی دل کرتا ہے کہ ان کے خاوند ھمیشہ آراستہ پیراستہ ھوں جیساکہ مردوں کا دل کرتا ہے کہ انکی بیویاں ھمیشہ صاف ستھری ، سنوری ھوئیں نظر آئیں.
📕 مکارم الاخلاق، ص- 146-147.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
المقدس میں پہنچے کسی نے ان کو نہ پہچانا کیونکہ یہ تو جوان رہے اور ان کے آگے کے بچے بوڑھے ہو گئے جب انہوں نے توریت حفظ سنائی تب لوگوں کو ان کا یقین آیا بخت نصر بنی اسرائیل کی تمام کتابیں جلا گیا تھا جن میں توریت بھی تھی۔
خلاصہ یہ ہوا کہ یقین پورا تھا صرف عین الیقین کے خواستگار تھے جو مشاہدہ پر موقوف ہے.
اللہ کے اس معجزہ سے بجائے کہ بنی اسرائیل کا ایمان اللہ کی وحدانیت پر مزید پختہ هوتا. وہ الٹے گمراہی میں مبتلا هوگئے اور جناب عزیر ع کو خدا کا بیٹا کہنے لگے.
وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللّهِ ذَلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِؤُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَبْلُ قَاتَلَهُمُ اللّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَO
اور یہود نے کہا: عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور نصارٰی نے کہا: مسیح (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کا (لغو) قول ہے جو اپنے مونہہ سے نکالتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے قول سے مشابہت (اختیار) کرتے ہیں جو (ان سے) پہلے کفر کر چکے ہیں، اللہ انہیں ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیںo (التَّوْبَة آیت 30)
📚حوالہ جات:
●تفسیر ابن کثیر
●حیات القلوب
●تفسير روح البیان
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🔷 حضرت عزیر علیہ السلام 🔷
حضرت عزیر علیہ السلام بنی اسرائیل کے جلیل القدر پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر ہیں، آپ حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ کا زمانہ بنی اسرائیل کی قیدِ بابل سے رہائی کے بعد کا 457 قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ آپ نہ صرف کاہن (روحانی علوم کے ماهر) ہی نہیں تھے بلکہ شریعت موسوی کے عالم بھی تھے اور ایک ماہر کاتب ہونے کی وجہ سے لوگوں میں بڑی قدرومنزلت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ آپ بڑے نیک دل اور خدا پرست تھے۔
آپ 458 تا 457 قبل مسیح میں ارتخششتا اول (کوروش) ، شاہ ایران( 465 تا 424 قبل مسیح) کے عہد حکومت میں یہودی قیدیوں کی رہائی پر اُن کے سربراہ کی حیثیت سے یروشلیم آئے۔ یہ بخت نصر کی قید سے رہائی پانے والے یہودیوں کا دوسرا گروہ تھا جو تقریبا 5000 افراد پر مشتمل تھا۔ آپ اسی گروہ کی قیادت پر مامور کیے گئے تھے۔ آپ کے یروشلیم پہنچنے پر ہیکل کی تعمیر کا کام باقاعدہ انجام پا چکا تھا لیکن ابھی تک اُسے مختلف مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے پوری طرح استعمال نہیں کیا جاتا تھا۔ آپ نے ہیکل میں نہ صرف باقاعدہ عبادت کی ترویج کی بلکہ دیگر مذہبی رسوم کو بھی پھر سے نافذ کرنے کی طرف توجہ فرمائی، مثلاً عید فسح اور عید فطیر بڑے جوش و خروش سے منائی جانے لگیں۔ آپ کو اپنی قوم کی بعض مشرکانہ حرکات پر سخت ملال ہوا لیکن آپ نے بڑی ہمت اور بردباری سے کام لے کر انہیں شریعت خداوندی کی پوری طرح پیروی کی ترغیب دلائی۔ آپ نے یروشلیم شہر میں بہت سے تعمیری کام کروائے لیکن جس عظیم کارنامے کے باعث آپ تاریخ یہود میں آج تک یاد کیے جاتے ہیں وہ یروشلیم کی فصیلوں کی مرمت اور اُنہیں پھر سے تعمیر کروانے کا کام تھا۔ اس کام میں دارا شہنشاہ ایران نے آپ کی بہت مدد کی لیکن آپ یروشلیم کی تعمیر نو کے کام کو خداوند خدا کی طرف سے تفویض کی ہوئی ذمہ داری سمجھ کر انجام دیتے رہے۔
تورات کی ایک کتاب ، "کتاب عزرا" بھی آپ کے نام سے ہی منسوب ہے۔
"سو سال کی نیند"
آپ ع ایک دفعہ ایک ایسی تباہ حال بستی کے قریب سے گزرے جہاں مکان تباہ هوچکے تھے اور هر طرف انسانوں اور جانوروں کی باقیات هڈیوں اور کھوپڑیوں کی صورت بکهری هوئی تهیں آپ ع نے اس جگہ کر دیکھ کر کہا کہ فیامت کے روز اللہ مجھے اور انہیں کیسے زندہ کرے گا۔اس وقت صبح کا وقت تھا آپ سو گۓ نیند کے دوران ہی اللہ پاک نے آپ کی روح قبض کر لی اور آپ اس حالت میں تقریباً 100 سال تک سوتے رہے پھر سو سال بعد اللہ نے آپ میں دوبارہ روح پھونک دی اور آپ جی اٹھے جب آپ دوبارہ زندہ ہوۓ تو اللہ نے آپ سے سوال کیا اے عزیر تم کتنی دیر تک سوۓ کیونکہ جب اپ کی روح قبض ہوئی تو صبح کا وقت تھا اور جب واپس پھونکی گئی تو عصر کا وقت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں عزیر تم پورے سو سال تک موت کی حالت میں رهے هو.. مگر دیکهو اپنے کهانے کو یہ اب بهی تازہ هے.. اور دیکهو اپنے گدهے کو...!!! آپ جس گدهے پر سفر کو نکلے تهے وہ ایک طرف بوسیدہ ڈهانچے کی صورت پڑا هوا تها.. پهر الله کے حکم سے اسکے منتشر اعضا دوبارہ اکهٹے هوئے اور وہ پهر سے زندہ هوگیا جیسے کبهی مرا هی نہیں تها.
قرآن میں یہ واقعہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے.
اَوۡ کَالَّذِیۡ مَرَّ عَلٰی قَرۡیَۃٍ وَّ ہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا ۚ قَالَ اَنّٰی یُحۡیٖ ہٰذِہِ اللّٰہُ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ۚ فَاَمَاتَہُ اللّٰہُ مِائَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗ ؕ قَالَ کَمۡ لَبِثۡتَ ؕ قَالَ لَبِثۡتُ یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ ؕ قَالَ بَلۡ لَّبِثۡتَ مِائَۃَ عَامٍ فَانۡظُرۡ اِلٰی طَعَامِکَ وَ شَرَابِکَ لَمۡ یَتَسَنَّہۡ ۚ وَ انۡظُرۡ اِلٰی حِمَارِکَ وَ لِنَجۡعَلَکَ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ انۡظُرۡ اِلَی الۡعِظَامِ کَیۡفَ نُنۡشِزُہَا ثُمَّ نَکۡسُوۡہَا لَحۡمًا ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ ۙ قَالَ اَعۡلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ○
(سورہ البقرہ 259)
(ترجمہ)
یا نہ دیکھا تو نے اس شخص کو کہ گذرا وہ ایک شہر پر اور وہ گرا پڑا تھا اپنی چھتوں پر بولا کیونکر زندہ کرے گا اس کو اللہ مر گئے پیچھے پھر مردہ رکھا اس شخص کو اللہ نے سو برس پھر اٹھایا اس کو کہا تو کتنی دیر یہاں رہا بولا میں رہا ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم کہا نہیں بلکہ تو رہا سو برس اب دیکھ اپنا کھانا اور پینا سڑ نہیں گیا اور دیکھ اپنے گدھے کو اور ہم نے تجھ کو نمونہ بنانا چاہا لوگوں کے واسطے اور دیکھ ہڈیوں کی طرف کہ ہم ان کو کس طرح ابھار کر جوڑ دیتےہیں پھر ان پر پہناتے ہیں گوشت پھر جب اس پر ظاہر ہوا یہ حال تو کہہ اٹھا کہ مجھ کو معلوم ہے کہ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے.
حضرت عزیر نے اس تمام کیفیت کو ملاحظہ کرنے کے بعد فرمایا کہ مجھ کو خوب یقین ہوا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے یعنی میں جو جانتا تھا کہ مردہ کو جگانا خدا تعالیٰ کو آسان ہے سو اپنی آنکھ سے دیکھ لیا.لیکن اسکا مطلب نہیں کہ پہلے انکے یقین میں کچھ کمی تھی. ہاں مشاہدہ نہ ہوا تھا پھر حضرت عزیریہاں سے اٹھ کر بیت
1 288
حضرت عزیر نے اس تمام کیفیت کو ملاحظہ کرنے کے بعد فرمایا کہ مجھ کو خوب یقین ہوا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے یعنی میں جو جانتا تھا کہ مردہ کو جگانا خدا تعالیٰ کو آسان ہے سو اپنی آنکھ سے دیکھ لیا.لیکن اسکا مطلب نہیں کہ پہلے انکے یقین میں کچھ کمی تھی. ہاں مشاہدہ نہ ہوا تھا پھر حضرت عزیریہاں سے اٹھ کر بیت
المقدس میں پہنچے کسی نے ان کو نہ پہچانا کیونکہ یہ تو جوان رہے اور ان کے آگے کے بچے بوڑھے ہو گئے جب انہوں نے توریت حفظ سنائی تب لوگوں کو ان کا یقین آیا بخت نصر بنی اسرائیل کی تمام کتابیں جلا گیا تھا جن میں توریت بھی تھی۔
خلاصہ یہ ہوا کہ یقین پورا تھا صرف عین الیقین کے خواستگار تھے جو مشاہدہ پر موقوف ہے.
اللہ کے اس معجزہ سے بجائے کہ بنی اسرائیل کا ایمان اللہ کی وحدانیت پر مزید پختہ هوتا. وہ الٹے گمراہی میں مبتلا هوگئے اور جناب عزیر ع کو خدا کا بیٹا کہنے لگے.
وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللّهِ ذَلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِؤُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَبْلُ قَاتَلَهُمُ اللّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَO
اور یہود نے کہا: عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور نصارٰی نے کہا: مسیح (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کا (لغو) قول ہے جو اپنے مونہہ سے نکالتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے قول سے مشابہت (اختیار) کرتے ہیں جو (ان سے) پہلے کفر کر چکے ہیں، اللہ انہیں ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیںo (التَّوْبَة آیت 30)
📚حوالہ جات:
●تفسیر ابن کثیر
●حیات القلوب
●تفسير روح البیان
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
ISLAM WITH EMAN:
🔷 حضرت عزیر علیہ السلام 🔷
حضرت عزیر علیہ السلام بنی اسرائیل کے جلیل القدر پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر ہیں، آپ حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ کا زمانہ بنی اسرائیل کی قیدِ بابل سے رہائی کے بعد کا 457 قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ آپ نہ صرف کاہن (روحانی علوم کے ماهر) ہی نہیں تھے بلکہ شریعت موسوی کے عالم بھی تھے اور ایک ماہر کاتب ہونے کی وجہ سے لوگوں میں بڑی قدرومنزلت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ آپ بڑے نیک دل اور خدا پرست تھے۔
آپ 458 تا 457 قبل مسیح میں ارتخششتا اول (کوروش) ، شاہ ایران( 465 تا 424 قبل مسیح) کے عہد حکومت میں یہودی قیدیوں کی رہائی پر اُن کے سربراہ کی حیثیت سے یروشلیم آئے۔ یہ بخت نصر کی قید سے رہائی پانے والے یہودیوں کا دوسرا گروہ تھا جو تقریبا 5000 افراد پر مشتمل تھا۔ آپ اسی گروہ کی قیادت پر مامور کیے گئے تھے۔ آپ کے یروشلیم پہنچنے پر ہیکل کی تعمیر کا کام باقاعدہ انجام پا چکا تھا لیکن ابھی تک اُسے مختلف مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے پوری طرح استعمال نہیں کیا جاتا تھا۔ آپ نے ہیکل میں نہ صرف باقاعدہ عبادت کی ترویج کی بلکہ دیگر مذہبی رسوم کو بھی پھر سے نافذ کرنے کی طرف توجہ فرمائی، مثلاً عید فسح اور عید فطیر بڑے جوش و خروش سے منائی جانے لگیں۔ آپ کو اپنی قوم کی بعض مشرکانہ حرکات پر سخت ملال ہوا لیکن آپ نے بڑی ہمت اور بردباری سے کام لے کر انہیں شریعت خداوندی کی پوری طرح پیروی کی ترغیب دلائی۔ آپ نے یروشلیم شہر میں بہت سے تعمیری کام کروائے لیکن جس عظیم کارنامے کے باعث آپ تاریخ یہود میں آج تک یاد کیے جاتے ہیں وہ یروشلیم کی فصیلوں کی مرمت اور اُنہیں پھر سے تعمیر کروانے کا کام تھا۔ اس کام میں دارا شہنشاہ ایران نے آپ کی بہت مدد کی لیکن آپ یروشلیم کی تعمیر نو کے کام کو خداوند خدا کی طرف سے تفویض کی ہوئی ذمہ داری سمجھ کر انجام دیتے رہے۔
تورات کی ایک کتاب ، "کتاب عزرا" بھی آپ کے نام سے ہی منسوب ہے۔
"سو سال کی نیند"
آپ ع ایک دفعہ ایک ایسی تباہ حال بستی کے قریب سے گزرے جہاں مکان تباہ هوچکے تھے اور هر طرف انسانوں اور جانوروں کی باقیات هڈیوں اور کھوپڑیوں کی صورت بکهری هوئی تهیں آپ ع نے اس جگہ کر دیکھ کر کہا کہ فیامت کے روز اللہ مجھے اور انہیں کیسے زندہ کرے گا۔اس وقت صبح کا وقت تھا آپ سو گۓ نیند کے دوران ہی اللہ پاک نے آپ کی روح قبض کر لی اور آپ اس حالت میں تقریباً 100 سال تک سوتے رہے پھر سو سال بعد اللہ نے آپ میں دوبارہ روح پھونک دی اور آپ جی اٹھے جب آپ دوبارہ زندہ ہوۓ تو اللہ نے آپ سے سوال کیا اے عزیر تم کتنی دیر تک سوۓ کیونکہ جب اپ کی روح قبض ہوئی تو صبح کا وقت تھا اور جب واپس پھونکی گئی تو عصر کا وقت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں عزیر تم پورے سو سال تک موت کی حالت میں رهے هو.. مگر دیکهو اپنے کهانے کو یہ اب بهی تازہ هے.. اور دیکهو اپنے گدهے کو...!!! آپ جس گدهے پر سفر کو نکلے تهے وہ ایک طرف بوسیدہ ڈهانچے کی صورت پڑا هوا تها.. پهر الله کے حکم سے اسکے منتشر اعضا دوبارہ اکهٹے هوئے اور وہ پهر سے زندہ هوگیا جیسے کبهی مرا هی نہیں تها.
قرآن میں یہ واقعہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے.
اَوۡ کَالَّذِیۡ مَرَّ عَلٰی قَرۡیَۃٍ وَّ ہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا ۚ قَالَ اَنّٰی یُحۡیٖ ہٰذِہِ اللّٰہُ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ۚ فَاَمَاتَہُ اللّٰہُ مِائَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗ ؕ قَالَ کَمۡ لَبِثۡتَ ؕ قَالَ لَبِثۡتُ یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ ؕ قَالَ بَلۡ لَّبِثۡتَ مِائَۃَ عَامٍ فَانۡظُرۡ اِلٰی طَعَامِکَ وَ شَرَابِکَ لَمۡ یَتَسَنَّہۡ ۚ وَ انۡظُرۡ اِلٰی حِمَارِکَ وَ لِنَجۡعَلَکَ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ انۡظُرۡ اِلَی الۡعِظَامِ کَیۡفَ نُنۡشِزُہَا ثُمَّ نَکۡسُوۡہَا لَحۡمًا ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ ۙ قَالَ اَعۡلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ○
(سورہ البقرہ 259)
(ترجمہ)
یا نہ دیکھا تو نے اس شخص کو کہ گذرا وہ ایک شہر پر اور وہ گرا پڑا تھا اپنی چھتوں پر بولا کیونکر زندہ کرے گا اس کو اللہ مر گئے پیچھے پھر مردہ رکھا اس شخص کو اللہ نے سو برس پھر اٹھایا اس کو کہا تو کتنی دیر یہاں رہا بولا میں رہا ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم کہا نہیں بلکہ تو رہا سو برس اب دیکھ اپنا کھانا اور پینا سڑ نہیں گیا اور دیکھ اپنے گدھے کو اور ہم نے تجھ کو نمونہ بنانا چاہا لوگوں کے واسطے اور دیکھ ہڈیوں کی طرف کہ ہم ان کو کس طرح ابھار کر جوڑ دیتےہیں پھر ان پر پہناتے ہیں گوشت پھر جب اس پر ظاہر ہوا یہ حال تو کہہ اٹھا کہ مجھ کو معلوم ہے کہ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے.
1 288
حضرت عزیر نے اس تمام کیفیت کو ملاحظہ کرنے کے بعد فرمایا کہ مجھ کو خوب یقین ہوا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے یعنی میں جو جانتا تھا کہ مردہ کو جگانا خدا تعالیٰ کو آسان ہے سو اپنی آنکھ سے دیکھ لیا.لیکن اسکا مطلب نہیں کہ پہلے انکے یقین میں کچھ کمی تھی. ہاں مشاہدہ نہ ہوا تھا پھر حضرت عزیریہاں سے اٹھ کر بیت
المقدس میں پہنچے کسی نے ان کو نہ پہچانا کیونکہ یہ تو جوان رہے اور ان کے آگے کے بچے بوڑھے ہو گئے جب انہوں نے توریت حفظ سنائی تب لوگوں کو ان کا یقین آیا بخت نصر بنی اسرائیل کی تمام کتابیں جلا گیا تھا جن میں توریت بھی تھی۔
خلاصہ یہ ہوا کہ یقین پورا تھا صرف عین الیقین کے خواستگار تھے جو مشاہدہ پر موقوف ہے.
اللہ کے اس معجزہ سے بجائے کہ بنی اسرائیل کا ایمان اللہ کی وحدانیت پر مزید پختہ هوتا. وہ الٹے گمراہی میں مبتلا هوگئے اور جناب عزیر ع کو خدا کا بیٹا کہنے لگے.
وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللّهِ ذَلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِؤُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَبْلُ قَاتَلَهُمُ اللّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَO
اور یہود نے کہا: عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور نصارٰی نے کہا: مسیح (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کا (لغو) قول ہے جو اپنے مونہہ سے نکالتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے قول سے مشابہت (اختیار) کرتے ہیں جو (ان سے) پہلے کفر کر چکے ہیں، اللہ انہیں ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیںo (التَّوْبَة آیت 30)
📚حوالہ جات:
●تفسیر ابن کثیر
●حیات القلوب
●تفسير روح البیان
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
ISLAM WITH EMAN:
🔷 حضرت عزیر علیہ السلام 🔷
حضرت عزیر علیہ السلام بنی اسرائیل کے جلیل القدر پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر ہیں، آپ حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ کا زمانہ بنی اسرائیل کی قیدِ بابل سے رہائی کے بعد کا 457 قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ آپ نہ صرف کاہن (روحانی علوم کے ماهر) ہی نہیں تھے بلکہ شریعت موسوی کے عالم بھی تھے اور ایک ماہر کاتب ہونے کی وجہ سے لوگوں میں بڑی قدرومنزلت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ آپ بڑے نیک دل اور خدا پرست تھے۔
آپ 458 تا 457 قبل مسیح میں ارتخششتا اول (کوروش) ، شاہ ایران( 465 تا 424 قبل مسیح) کے عہد حکومت میں یہودی قیدیوں کی رہائی پر اُن کے سربراہ کی حیثیت سے یروشلیم آئے۔ یہ بخت نصر کی قید سے رہائی پانے والے یہودیوں کا دوسرا گروہ تھا جو تقریبا 5000 افراد پر مشتمل تھا۔ آپ اسی گروہ کی قیادت پر مامور کیے گئے تھے۔ آپ کے یروشلیم پہنچنے پر ہیکل کی تعمیر کا کام باقاعدہ انجام پا چکا تھا لیکن ابھی تک اُسے مختلف مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے پوری طرح استعمال نہیں کیا جاتا تھا۔ آپ نے ہیکل میں نہ صرف باقاعدہ عبادت کی ترویج کی بلکہ دیگر مذہبی رسوم کو بھی پھر سے نافذ کرنے کی طرف توجہ فرمائی، مثلاً عید فسح اور عید فطیر بڑے جوش و خروش سے منائی جانے لگیں۔ آپ کو اپنی قوم کی بعض مشرکانہ حرکات پر سخت ملال ہوا لیکن آپ نے بڑی ہمت اور بردباری سے کام لے کر انہیں شریعت خداوندی کی پوری طرح پیروی کی ترغیب دلائی۔ آپ نے یروشلیم شہر میں بہت سے تعمیری کام کروائے لیکن جس عظیم کارنامے کے باعث آپ تاریخ یہود میں آج تک یاد کیے جاتے ہیں وہ یروشلیم کی فصیلوں کی مرمت اور اُنہیں پھر سے تعمیر کروانے کا کام تھا۔ اس کام میں دارا شہنشاہ ایران نے آپ کی بہت مدد کی لیکن آپ یروشلیم کی تعمیر نو کے کام کو خداوند خدا کی طرف سے تفویض کی ہوئی ذمہ داری سمجھ کر انجام دیتے رہے۔
تورات کی ایک کتاب ، "کتاب عزرا" بھی آپ کے نام سے ہی منسوب ہے۔
"سو سال کی نیند"
آپ ع ایک دفعہ ایک ایسی تباہ حال بستی کے قریب سے گزرے جہاں مکان تباہ هوچکے تھے اور هر طرف انسانوں اور جانوروں کی باقیات هڈیوں اور کھوپڑیوں کی صورت بکهری هوئی تهیں آپ ع نے اس جگہ کر دیکھ کر کہا کہ فیامت کے روز اللہ مجھے اور انہیں کیسے زندہ کرے گا۔اس وقت صبح کا وقت تھا آپ سو گۓ نیند کے دوران ہی اللہ پاک نے آپ کی روح قبض کر لی اور آپ اس حالت میں تقریباً 100 سال تک سوتے رہے پھر سو سال بعد اللہ نے آپ میں دوبارہ روح پھونک دی اور آپ جی اٹھے جب آپ دوبارہ زندہ ہوۓ تو اللہ نے آپ سے سوال کیا اے عزیر تم کتنی دیر تک سوۓ کیونکہ جب اپ کی روح قبض ہوئی تو صبح کا وقت تھا اور جب واپس پھونکی گئی تو عصر کا وقت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں عزیر تم پورے سو سال تک موت کی حالت میں رهے هو.. مگر دیکهو اپنے کهانے کو یہ اب بهی تازہ هے.. اور دیکهو اپنے گدهے کو...!!! آپ جس گدهے پر سفر کو نکلے تهے وہ ایک طرف بوسیدہ ڈهانچے کی صورت پڑا هوا تها.. پهر الله کے حکم سے اسکے منتشر اعضا دوبارہ اکهٹے هوئے اور وہ پهر سے زندہ هوگیا جیسے کبهی مرا هی نہیں تها.
قرآن میں یہ واقعہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے.
اَوۡ کَالَّذِیۡ مَرَّ عَلٰی قَرۡیَۃٍ وَّ ہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا ۚ قَالَ اَنّٰی یُحۡیٖ ہٰذِہِ اللّٰہُ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ۚ فَاَمَاتَہُ اللّٰہُ مِائَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗ ؕ قَالَ کَمۡ لَبِثۡتَ ؕ قَالَ لَبِثۡتُ یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ ؕ قَالَ بَلۡ لَّبِثۡتَ مِائَۃَ عَامٍ فَانۡظُرۡ اِلٰی طَعَامِکَ وَ شَرَابِکَ لَمۡ یَتَسَنَّہۡ ۚ وَ انۡظُرۡ اِلٰی حِمَارِکَ وَ لِنَجۡعَلَکَ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ انۡظُرۡ اِلَی الۡعِظَامِ کَیۡفَ نُنۡشِزُہَا ثُمَّ نَکۡسُوۡہَا لَحۡمًا ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ ۙ قَالَ اَعۡلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ○
(سورہ البقرہ 259)
(ترجمہ)
یا نہ دیکھا تو نے اس شخص کو کہ گذرا وہ ایک شہر پر اور وہ گرا پڑا تھا اپنی چھتوں پر بولا کیونکر زندہ کرے گا اس کو اللہ مر گئے پیچھے پھر مردہ رکھا اس شخص کو اللہ نے سو برس پھر اٹھایا اس کو کہا تو کتنی دیر یہاں رہا بولا میں رہا ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم کہا نہیں بلکہ تو رہا سو برس اب دیکھ اپنا کھانا اور پینا سڑ نہیں گیا اور دیکھ اپنے گدھے کو اور ہم نے تجھ کو نمونہ بنانا چاہا لوگوں کے واسطے اور دیکھ ہڈیوں کی طرف کہ ہم ان کو کس طرح ابھار کر جوڑ دیتےہیں پھر ان پر پہناتے ہیں گوشت پھر جب اس پر ظاہر ہوا یہ حال تو کہہ اٹھا کہ مجھ کو معلوم ہے کہ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے.
1 288
🔷 حضرت خضر علیه السلام 🔷
حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سام بن نوح علیہ السلام کی نسل سے تھے کچھ کے مطابق آپ حضرت موسی علیہ السلامٰ سے کم و بیش 400 سال بڑے تھے کچھ کے نزدیک آپ کا نام ابو العباس بلیا بن ملکان جبکہ بعض کے مطابق آپ کا اصلى نام تالیا بن ملکان ہے
قرآن کریم میں واضح طور پر حضرت خضر کا نام نہیں لیا گیا بلکہ انہیں عبداً من عبادنا آتیناه رحمۃ من عندنا و علمناه من الدنیا علماً کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے جو ان کے مقام عبودیت اور خاص علم و دانش کو بیان کرتا ہے اور انہیں حضرت موسىٰ علیہ السلام کے معلم کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے قرآن کریم میں سورہ مبارک کہف میں واقعہ قدرے تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے
متعدد روایات میں آپ کو خضر کے نام سے یاد کیا گیا ہے بعض روایات اور بظاهر بعض قرآنى آیات کى تعبیرات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام مقامِ نبوت کے مالک تھے اور مرسل پیغمبروں میں سے تھے اللّٰہ نے انہیں ان کى قوم کى طرف مبعوث کیا تھا تاکہ انھیں توحید اور نبوت کے اقرار کرنے اور آسمانى کتابوں کى طرف دعوت دیں آپ کا معجزه یہ تھا کہ جب بھى اراده فرماتے اذن الهىٰ سے ایک خشک لکڑى یا خشک زمین سرسبز و شاداب هوجاتی اسى لحاظ سے آپ کو خضر کہا جاتا ہے کیونکہ عربی میں سبز رنگ کو خضر کہا جاتا ہے اسی لفظ سے گنبدِ خضراء ہے
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ حیات ہیں اور اصحابِ حضرت حجت عج میں سے ہیں بھٹکے ہوئے لوگوں کی رہنمائی بھی کرتے ہیں
کچھ لوگوں نے بعض افسانوی باتیں بھی منسوب کی ہیں کہ آپ نے آبِ حیات نوش کیا ہوا ہے اسی طرح یہ بھی مشہور ہے کہ کھوجی وہی بنتا ہے جس کا پاؤں حضرت خضر کے نقشِ پا پر آجائے وغیرہ وغیرہ۔
علماء اور صاحبان فکر و نظر بہتر اصلاح فرما سکتے ہیں
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🔷 حضرت خضر علیه السلام 🔷
حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سام بن نوح علیہ السلام کی نسل سے تھے کچھ کے مطابق آپ حضرت موسی علیہ السلامٰ سے کم و بیش 400 سال بڑے تھے کچھ کے نزدیک آپ کا نام ابو العباس بلیا بن ملکان جبکہ بعض کے مطابق آپ کا اصلى نام تالیا بن ملکان ہے
قرآن کریم میں واضح طور پر حضرت خضر کا نام نہیں لیا گیا بلکہ انہیں عبداً من عبادنا آتیناه رحمۃ من عندنا و علمناه من الدنیا علماً کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے جو ان کے مقام عبودیت اور خاص علم و دانش کو بیان کرتا ہے اور انہیں حضرت موسىٰ علیہ السلام کے معلم کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے قرآن کریم میں سورہ مبارک کہف میں واقعہ قدرے تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے
متعدد روایات میں آپ کو خضر کے نام سے یاد کیا گیا ہے بعض روایات اور بظاهر بعض قرآنى آیات کى تعبیرات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام مقامِ نبوت کے مالک تھے اور مرسل پیغمبروں میں سے تھے اللّٰہ نے انہیں ان کى قوم کى طرف مبعوث کیا تھا تاکہ انھیں توحید اور نبوت کے اقرار کرنے اور آسمانى کتابوں کى طرف دعوت دیں آپ کا معجزه یہ تھا کہ جب بھى اراده فرماتے اذن الهىٰ سے ایک خشک لکڑى یا خشک زمین سرسبز و شاداب هوجاتی اسى لحاظ سے آپ کو خضر کہا جاتا ہے کیونکہ عربی میں سبز رنگ کو خضر کہا جاتا ہے اسی لفظ سے گنبدِ خضراء ہے
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ حیات ہیں اور اصحابِ حضرت حجت عج میں سے ہیں بھٹکے ہوئے لوگوں کی رہنمائی بھی کرتے ہیں
کچھ لوگوں نے بعض افسانوی باتیں بھی منسوب کی ہیں کہ آپ نے آبِ حیات نوش کیا ہوا ہے اسی طرح یہ بھی مشہور ہے کہ کھوجی وہی بنتا ہے جس کا پاؤں حضرت خضر کے نقشِ پا پر آجائے وغیرہ وغیرہ۔
علماء اور صاحبان فکر و نظر بہتر اصلاح فرما سکتے ہیں
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🔷 ہاروت و ماروت 🔷
دوفرشتوں ہاروت اورماروت کواللہ تعالی ٰ نے زمین پرانسان بناکربھیجا۔اوران فرشتوں کاذکرسورۃ بقرۃ میں بھی آیاہے ۔اللہ تعالی ٰ نے آسمانی دنیاکے پردے ہٹادئیے اورفرشتوں نے زمین پردیکھا۔فرشتے کیادیکھتے ہیں کہ اہل زمین گناہوں میں مبتلاہیں ان میں شراب نوشی ہے زناہے جھوٹ اورقتل وغارت گری ان میں عام ہے توفرشتوں نے یہ نظارہ دیکھ کراللہ تبارک وتعالیٰ سے شکایت کی کہ ان لوگوں کوتوزمین پرعبادت واطاعت کے لیے بھیجاگیاتھااوران کی حالت یہ ہے کہ یہ گناہوں میں مبتلا ہیں اورآپ ان کی پکڑ بھی نہیں کرتےفرشتو ں کوانسانوں کے اعمال سے بیزاری ہوئی اورانہوں نے انسانوں کے حق میں بدعاکی۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایاکہ میری ذات اہل زمین سے پردے میں ہےاس لیے ان پرمیراخوف کم ہے اورچونکہ تم ہروقت میرے پاس رہتے ہواس لیے تم پرجس درجے کی ہیبت ،خوف اورخشیت طاری ہے اس درجے کی انسانوں پرنہیں ہے۔لہٰذااس لیے انسانوں سے گناہ ہوجا تے ہیں ۔ملائکہ کواس بات پراطمینان نہ ہواتواللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایاکہ ٹھیک ہے توفرشتوں میں سے پارسافرشتوں کوچن لومیں ان زمین پربھیجوں گاتودیکھوں گاکہ جب وہ میرے حجاب میں جائیں گے توان کے اعمال کیاہوں گے۔احادیث میں روایت ہے کہ ملائکہ نے تین فرشتے پیش کیے ان کواللہ تعالی ٰ نے فرمایاکہ تم نے 4کام زمین پرنہیں کرنے،ایک شراب نہیں پینا،دوسرازنانہیں کرنا،تیسراقتل نہیں کرنااورچوتھابتوں کوسجدہ نہیں کرنایہ چارشرائط ان پرلگائیںاوران کوزمین پراتارناچاہاتوایک فرشتے نے کہاکہ یہ مجھ سے نہیں ہوگامیں تونہیں جاتا۔وہ ہٹ گیااورہاروت اورماروت یہ دوفرشتے تیارہوگئےیہ دونوں فرشتے ملائکہ میں بھی سب سے زیادہ عابداورزاہدفرشتے تھے۔اللہ تعالی ٰ نے ان کوزمین پراتاردیا۔حضرت علی ع سے روایت ہے کہ وہ حضرت ادریس ؑ کازمانہ تھایہ فرشتے زمین پرآگئے ان میں اللہ تعالیٰ نے نفسانی خواہشات پیداکردیںاوران کولوگوں کے فیصلوں کے لیے مقررکردیالوگ ان کے پاس اپنے مسائل کے حل کے لیے آتے تھےایک طویل زمانہ اس میں گزرگیایہاں تک کہ ایک دن ایک خاتون آئی وہ بہت حسین وجمیل تھی ،حضرت علی ع فرماتے ہیں کہ اس کے حسن وجمال کایہ عالم تھاکہ جیساکہ زہرہ ستارہ تمام ستارو ں میں سب سے زیادہ خوبصورت ستارہ ہےوہ آئی اوراس نے اپنامسئلہ بیان کیاتوان فرشتوں میں اللہ تعالی ٰ نے جوشہوات ،نفسانی خواہشات رکھی تھیں ا س حسین وجمیل عورت کودیکھتے ہیں بھڑ ک اٹھیں اورخاتون کوبرائی کی دعوت دی اوراسے کہاکہ تم اپنابدن ہمیںپیش کروتواس خاتون نے کہاکہ میری ایک شرط ہے میرے پاس ایک بت ہے تم پہلے اس بت کوسجدہ کرو۔تم جب تم میرے دین کے ہمنواہوجائوگے تومیں تمہاری بات پوری کردوں گی انہوں نے کہاکہ ہماری توبہ یہ شرک ہم سے نہیں ہوگا۔وہ خاتون اتنی بات کہہ کرچلی گئی توایک طویل عرصہ جتنااللہ تعالیٰ کومنظورتھاخاموشی رہی اورا س کے بعدخاتون پھرآئی انہوں نے پھروہی بات کہی توخاتون نے کہاکہ میری ایک شرط ہےتم میرے شوہرکوقتل کروتومیں تمہاری خواہش پوری کروں گی۔توانہوں نے کہاکہ قتل توگناہ کبیرہ ہے یہ تونہیں ہوسکتا۔تواس خاتون نے کہاکہ اچھامیرےپاس شراب ہے تم لوگ شراب پی لو۔توانہوں نے آپس میں مشورہ کیاکہ شراب توچھوٹی چیز ہے شراب پی لیتے ہیں اس سے کچھ نہیں ہوگا۔ایک روایت میں آتاہے کہ یہ فرشتے اس کے گھرمیں پہنچ گئے۔وہاں جاکرانہوں نے شراب پی اورجب شراب پی تووہ مدہوش ہوگئے اوراسی دوران انہوں نے اس عورت سے صحبت بھی کی اوراس کوشوہرکواس ڈرسے قتل کردیاکہ کہیں اس کاشوہرمنہ نہ کھول دے اورلوگوں کومطلع نہ کردےاوراس بت کوسجدہ بھی کیا۔اللہ تعالی ٰ نے آسمان کے پردے کھول دئیے اورسارے ملائکہ یہ نظارہ دیکھ رہے تھےتووہ بڑے ششدررہ گئے اورکہاکہ یہ کیاہوگیاتوسارے فرشتے استغفارکرنے لگے اورکہاکہ یہ توخواہشات کانتیجہ ہے اورجب کوئی حجاب میں چلاجائے توایساہوتاہے۔ تواس خاتون نے ان فرشتوں سے کہاکہ تم لوگ جوآسمانوں پرآتے جاتے ہویہ کس وجہ سے جاتے ہوکیاچیز تمہارے پا س ہےتوانہوں نے کہاکہ ہمارے پاس اسم اعظم ہے تواس عورت نے کہاکہ مجھے بھی اسم اعظم دواورمجھے بھی آسمانوں پرلے چلو،فرشتے اس خاتون کوبھی ساتھ لے کرچلے گئےجب آسمان پر پہنچے توزہرہ کوتواچک لیاگیااوران فرشتوں کے پرکاٹ کرانہیں زمین پرپھینک دیاگیا۔ایک عرصے تک یہ پھرتے رہے اورانہیں پتاچلاایک نبی ہے جوجمعے کے جمعے دعاکرتے ہیں وہ قبو ل ہوتی ہےانہو ں نے سوچاکہ اس نبی کے پاس جاکرہم دعاکراتے ہیں شایدہماری توبہ قبول ہوجائےتوجب یہ نبی کے پاس پہنچے توانہوں نے کہاکہ اللہ تعالی ٰ کی طرف سے تمہیں دواختیاردئیے گئے ہیں کہ تم لوگ دنیاکاعذاب برداشت کرویاآخرت کا۔توانہوں نے آپس میں مشورہ کیااورکہاکہ دنیاتوفانی ہے ہم دنیاکاعذاب برداشت کرلیں گے ۔ایک روایت میں آتاہے کہ بابل کاعلاقہ جوکہ عراق میں ہےوہاں ایک کنوئیں کے اندرانہیں الٹالٹکادیاگیا۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🔷 حق کو باطل کیساتھ نہ ملاؤ 🔷
اگر کوئی چیز آپ کو مل تو جائے، مگر اللہ کے نزدیک اس کا حق دار کوئی اور ہو، تو کیا اسے اپنا سمجھ لینا اسے واقعی آپ کا بنا دیتا ہے؟
تصور کیجیے، کسی مجلس میں ایک شخص کو ایسا موقع ملتا ہے جس سے وہ اپنے لیے فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ کوئی دیکھنے والا نہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں، اور بظاہر اسے روکنے والی بھی کوئی چیز نہیں۔
وہ ایک لمحے کے لیے ٹھہرتا ہے۔ پھر سوچتا ہے: *کیا میرے لیے ممکن ہونا، میرے لیے جائز ہونے کے برابر بھی ہے؟
یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسان کی اصل تربیت سامنے آتی ہے۔ کیونکہ ہر وہ راستہ جو کھلا ہو، درست نہیں ہوتا؛ اور ہر وہ چیز جو حاصل کی جا سکتی ہو، ضروری نہیں کہ اس پر ہمارا حق بھی ہو۔
جب انسان اس فرق کو سمجھ لیتا ہے تو اس کی ذات میں دیانت، اس کے گھر میں اعتماد اور معاشرے میں انصاف کی بنیاد مضبوط ہونے لگتی ہے۔
وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ¤ (سورۃ البقرہ، آیت 42)
ترجمہ:
اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور جانتے بوجھتے حق کو نہ چھپاؤ۔
غلطی ہمیشہ کھلے جھوٹ کی صورت میں نہیں آتی۔ کبھی انسان سچ کا صرف وہ حصہ بیان کرتا ہے جو اس کے فائدے میں ہو، اور وہ حقیقت چھپا لیتا ہے جو اس کی ذمہ داری واضح کر دے۔
قرآن انسان کو صرف جھوٹ سے نہیں روکتا، بلکہ حق کو اس کی اصل صورت میں تسلیم کرنے اور بیان کرنے کی تربیت بھی دیتا ہے۔
حق وہ نہیں جو ہمارے مفاد کو درست ثابت کر دے؛ حق وہ ہے جس کے سامنے ہمارا مفاد بھی جواب دہ ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
«إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ» (صحیح البخاری، حدیث 1؛ صحیح مسلم، حدیث 1907)
ترجمہ
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
فکری رہنمائی
نیت عمل کی اخلاقی بنیاد ہے، لیکن اچھی نیت کسی ناجائز طریقے کو خود بخود جائز نہیں بنا دیتی۔ درست مقصد کے لیے بھی درست راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
اپنے آپ سے پوچھیے: کیا میں واقعی درست کام کر رہا ہوں، یا صرف اپنے عمل کے لیے کوئی قابلِ قبول جواز تلاش کر رہا ہوں؟
امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
«الْحَقُّ أَوْسَعُ الْأَشْيَاءِ فِي التَّوَاصُفِ، وَأَضْيَقُهَا فِي التَّنَاصُفِ» (نہج البلاغہ، خطبہ 216)
ترجمہ
حق بیان کرنے میں سب سے وسیع چیز ہے، مگر باہمی انصاف کے ساتھ حق ادا کرنے میں سب سے تنگ محسوس ہوتا ہے۔
غور کیجیے
حق کی بات کرنا آسان ہے؛ اپنے مفاد کے خلاف بھی حق کو قبول کرنا اصل امتحان ہے۔ انسان دوسروں کے لیے انصاف چاہتا ہے، مگر اپنی باری پر رعایت تلاش کرنے لگے تو اسے اپنے معیار پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
کردار کی بلندی وہاں شروع ہوتی ہے جہاں انسان اپنے لیے بھی وہی اصول قبول کرتا ہے جو دوسروں کے لیے درست سمجھتا ہے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🌹 عید میلاد حضرت زینبؑ 🌹
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت 5 جمادی الاوّل پنجم یا ششم ہجری مدینہ میں ہوئی، بعض مؤرخین نے اور اقوال بھی لکھے ہیں. (۱) آپ کی ولادت باسعادت یکم شعبان المعظم بھی ذکر ہوئی ہے۔
🔷آپ کے القابات بہت زیادہ ہیں، ان میں سے بعض یہ ہیں:
عقیلہ بنی ہاشم، عقیلۃالطالبین اور صدیقہ صغریٰ (اس میں اشارہ ہے کہ آپ کے والد گرامی صدیق اکبر، اور والدہ گرامی صدیقہ کبریٰ ہے)، عصمت صغریٰ، ولیة اللہ، الراضیة بالقدر و القضاء، صابرة البلوی من غیر جزع و لا شکوی، امینة اللہ، عالمة غیر معلمة، فھمة غیر مفھمة، محبوبة المصطفی، ثانیةالزهراء.
🔷آپ کی کنیت ام کلثوم، ام عبداللہ، ام الحسن ہے.
لیکن کنیت خاص ام المصائب ہے.
آپ کے شوہر کا نام حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابی طالبؑ هے.
🔷آپ کے چار بیٹے، عون، محمد، علی، عباس ہیں کہ ان میں سے عون، محمد کربلا میں شہید ہوئے اور آپ کی ایک بیٹی جناب ام کلثوم ہیں.
🔷آپ کا نام اللہ تعالیٰ نے رکھا، جس وقت آپ کی ولادت ہوئی تو پیغمبر خدا (ص) سفر پر گئے ہوئے تھے، جناب امیرالمؤمنین نے فرمایا:
میں اپنی بیٹی کے نام رکھنے میں پیغمبر خدا (ص) سے پہل نہیں کروں گا یہاں تک کہ پیغمبر خدا (ص) واپس تشریف لائے تو بتایا گیا کہ اللہ نے آپ کو نواسی عطا فرمائی ہے.
آنحضرت (ص) نے فرمایا کہ:
میں اللہ سے پہل نہیں کروں گا پس حضرت جبرائیل نازل ہوئے اور عرض کی کہ خدا نے آپ کو سلام کہا ہے اور فرمایا ہے کہ اس بیٹی کا نام زینب رکھیں، کیونکہ اس نام کو ہم نے لوح ِمحفوظ میں لکھا ہے۔
اس کے بعد پیغمبر خدا (ص) نے جناب زینب۳ کو اپنے پاس منگوایا اور وصیت فرمائی کہ حاضرین اور غائبین، میری خاطر، میری نواسی کا احترام کریں، کیونکہ یہ جناب خدیجہ الکبری سلام اللہٰ علیہا کی طرح ہے۔
آپ (ص) نے فرمایا: حضرت زنیب سلام الله علیہا کا سکینہ و وقار، جناب خدیجہ، اورعصمت و حیا جناب زہراء اور فصاحت و بلاغت جناب علی مرتضی اور حلم اپنے بھائی حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور شجاعت اور دل کی قوت میں اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کی طرح ہے. (۲)
📚حوالہ جات
1 ۔ عقیلہ بنی ہاشم ، ص 5 ،زنیب کبریٰ ، ص 17 ، و فیات الائمہ ، ص 431 ،مستدرک سیفنۃ البحار ، ج 4 ،ص 316 ، ج5 ،ص 208
۲۔ ریاحین الشریعہ ،ج3 ،ص 38.
👈 مزید تفصیل کے لیے۔۔۔
https://www.facebook.com/100062214292056/posts/122007136549762/
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🌸 کھانا کھانے کی ابتداء و اختتام 🌸
■آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی علیہ السلام کو وصیت کرتے ھوئے فرماتے ہیں:
اے علی! کھانے کی ابتدا بھی نمک سے کرو اور اختتام بھی نمک ، چونکہ نمک میں ستر بیماریوں کا علاج ہے ان میں سے کچھ یہ ہیں:
1- پاگل پن،
2- جزام (کوڑھ)،
3- برص یعنی جلد پر سفید داغ بن جانا، بلکہ بعض کے تو بال اور پوری جلد بھی سفید ھوجاتی ہے،
4- گلے میں درد،
5۔ دانتوں میں درد،
اور
6- پیٹ میں درد،
■امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جو چاھتا ہے کہ اس کے منہ پر سے کیل اور دانے ختم ھو جائیں اسے چاہیئے کہ کھانا کھاتے وقت پہلے لقمہ پر تھوڑا سا نمک چھڑک لے.
■امام رضاعلیہ السلام نے اپنے اصحاب سے پوچھا:
بتاؤ بھترین ہانڈی (سالن) کیا ہے؟
تو ایک نے کہا: گوشت.
دوسرے نے کہا: گھی.
تیسرے نے کہا زیتون کاتیل،
یہاں تک آپ نے خود فرمایا: نہیں، بہترین غذا نمک ہے۔
راوی کہتا ہے ایک دفعہ ھم مولا رضا علیہ السلام کے ساتھ سیر کے لئے باہر نکلے، چنانچہ آپ کا خادم نمک لے جانا بھول گیا تو ھم سب بغیر کچھ کھائے واپس آگئے. یعنی حضرت اس قدر پابند تھے کے نمک سے ابتدا اور اختتام فرماتے تھے. چونکہ اس سفر میں نمک ھمراہ نہیں تھا لھذا آپ نے واپس آکر کھانا تناول فرمایا.
■آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک حدیث میں فرماتے ہیں:
جو کوئی بھی کچھ کھانے سے پہلے اور آخر میں تھوڑا سا نمک کھا لیتا ہے تو خداوندعالم اس سے 330 بلاؤں کو دور فرما دیتا ہے. جن میں سے کمترین جذام ہے.
📚مکارم الاخلاق، ص355۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🔷 ماں کی خدمت 🔷
ایک چھوٹا سا بورڈ ریڑھی کی چھت سے لٹک رہا تھا، اس پر موٹے مارکر سے لکھا ہوا تھا۔۔
''گھر میں کوئی نہیں ھے، میری بوڑھی ماں فالج زدہ ہے، مجھے تھوڑی تھوڑی دیر بعد انہیں کھانا کھلانا اور اتنی ہی مرتبه حاجت کرانی پڑتی ہے، اگر آپ کو جلدی ھے تو اپنی مرضی سے فروٹ تول لیں اور پیسے کونے پر ریگزین کے گتے کے نیچے رکھ دیجیے. ساتھ ھی ریٹ بھی لکھے ھوئے هیں۔
اور اگر آپ کے پاس پیسے نه ھوں، تو میری طرف سے لے لینا, اجازت ہے!
وللہ خیرالرازقین!
ادھر اُدھر دیکھا، پاس پڑے ترازو میں دو کلو سیب تولے، درجن کیلے لیے، شاپر میں ڈالے، پرائس لسٹ سے قیمت دیکھی، پیسے نکال کر ریڑھی کے پھٹے کے گتے والے کونے کو اٹھایا، وہاں سو پچاس دس دس کے نوٹ پڑے تھی، میں نے پیسے اسی میں رکھ کر اسے ڈھک دیا، ادھر اُدھر دیکھا کہ شاید کوئی میری طرف متوجہ ہو، اور شاپر اٹھا کر واپس فلیٹ پر آگیا۔
افطار کے بعد میں اور بھائی ادھر گئے. دیکھا اک باریش آدمی، داڑھی آدھی کالی آدھی سفید، ہلکے کریم کلر کرتے شلوار میں ریڑھی کو دھکا لگا کر بس جانے ہی والا تھا وه ھمیں دیکھکر مسکرایا اور بولا:
"صاحب! پھل تو ختم ہوگیا۔۔۔۔"
نام پوچھا تو بولا؛ خادم حسین
پھر ہم تھوڑی دیر میں اس کو لے کر سامنے ڈھابے پہ بیٹھے تھے.
چائے آئی، وہ اپنی کہانی سناتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
"پچھلے تین سال سے اماں بستر پر ھے، کچھ نفسیاتی سی بھی ہوگئی ہے، اور اب تو فالج بھی ہوگیا ہے، میرا کوئی بال بچہ نہیں، بیوی مر گئی ہے، صرف میں ھوں اور میری اماں. اماں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نهیں اس لئے مجھے ھروقت اماں کا خیال رکھنا پڑتا ھے"
اک دن میں نے اماں کے پاؤں دباتے ھوۓ بڑی نرمی لجالت سے کہا۔۔
"اماں! تیری تیمار داری کو تو بڑا جی کرتا ہے. پر جیب میں کچھ نھیں تو مجھے کمرے سے ہلنے نہیں دیتی، کہتی ہے تو جاتا ہے تو جی گھبراتا ہے، تو ہی بتا میں کیا کروں؟"
اب کیا غیب سے کھانا اترے گا ؟ نہ میں بنی اسرائیل کا جنا ہوں نہ تو موسیٰ کی ماں ہے، کیا کروں! یه سن کر اماں نے ہانپتے کانپتے اٹھنے کی کوشش کی, میں نے تکیہ اونچا کر کے اسکو بٹھایا، ٹیک لگوائی، انھوں نے جھریوں والا چہره اٹھایا اپنے کمزور ہاتھوں کا پیالا بنایا، اور نه جانے رب العالمین سے کیا بات کی،
پهر بولی۔۔
"تو ریڑھی وہی چھوڑ آیا کر، تیرا رزق تجھے اسی کمرے میں بیٹھ کر ملے گا"
میں نے کہا۔۔۔
"اماں کیا بات کرتی ھے, وہاں چھوڑ آؤں گا تو کوئی چور اچکا سب کچھ لے جاۓ گا، آجکل کون لحاظ کرتا ھے؟ بنا مالک کے کون خریدار آئے گا؟"
کہنے لگی۔۔
"تو فجر کو ریڑھی پھلوں سے بھر کر چھوڑ کر آجا بس، زیادہ بک بک نیئں کر، شام کو خالی لے آیا کر، اگر تیرا روپیہ گیا تو یه خالدہ ثریا الله سے پائی پائی وصول دیگی".
"ڈھائی سال ہوگئے ہیں بھائی! صبح ریڑھی لگا جاتا ہوں. شام کو لے جاتا ہوں، لوگ پیسے رکھ جاتے، پھل لے جاتے، دھیلا اوپر نیچے نہیں ہوتا، بلکہ کچھ تو زیادہ رکھ جاتے، اکثر تخمینہ نفع لاگت سے تین چار سو اوپر ہی جا نکلتا ھے، کبھی کوئی اماں کے لیے پھول رکھ جاتا ہے، کبھی کوئی اور چیز! پرسوں ایک پڑھی لکھی بچی پلاؤ بنا کر رکھ گئی، نوٹ لکھکر رکھ گئی "اماں کے لیے"،
اک ڈاکٹر کا گزر ہوا، وہ اپنا کارڈ چھوڑ گیا. پشت پہ لکھ گیا. "انکل! اماں کی طبیعت نہ سنبھلے تو مجھے فون کرنا، میں گھر سے پک کر لوں گا"
کسی حاجی صاحب کا گزر ہوا تو عجوہ کجھور کا پیکٹ چھوڑ گیا،
کوئی جوڑا شاپنگ کرکے گزرا تو فروٹ لیتے ہوئے اماں کے لیے سوٹ رکھ گیا،
روزانہ ایسا کچھ نہ کچھ میرے رزق کے ساتھ موجود ہوتا ہے، نہ اماں ہلنے دیتی ہے نہ اللہ رکنے دیتا ہے.
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
ظا
ھر ھوگا اور اس طرح گناھگاروں کا استغفار بھی اس دنیا میں ایک طرح کی شفاعت ھے اور دوسرے لوگوں کیلئے دعا کرنا اور ان کے لئے خدا سے حاجتیں پوری کرانا بھی "شفاعت عند اللہ" کے موارد میں سے ھے کیونکہ یہ سب خدا کے پاس دوسرے لوگوں کو خیر پہنچانے اور ان سے شر کو دور کرنے کے موارد میں سے ھیں۔[2][3]
📚حوالہ جات:
[1] تفسیر نمونہ، ج ۱، ص۲۴۶ ، ۲۲۳۔
[2] آموزش عقاید، مصباح یزدی، ص ۴۸۲ و ۴۸۳۔
[3] مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے رجوع کریں ، تفسیر نمونہ، ج۲، ص ۲۶۷، اور ترجمہ تفسیر المیزان، ج ۱، ص۳۷۷، ۲۳۹۔ عنوان: قیامت مین شفاعت کا مقام۔
Copied
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🌷 شفاعت کیا ھے؟ 🌷
شفاعت "شفع" کے مادے سے "جفت" کے معنی میں ھے۔ یہ معنی کسی چیز کو مشابہہ چیز سے شامل ھونے سے لیا گیا ھے، اس کے مدمقابل "وتر" ھے، جو "تنھا" اور "ایک" کے معنی دیتا ھے۔ اس کے بعد کسی طاقتور شخص کی مدد کرنے کی غرض سے کسی ضعیف کے ساتھ منسلک ھونے میں استعمال ھوتا ھے۔
عرف میں شفاعت کے معنی یہ هیں کہ "شفیع" اپنے منصب سے استفاده کر کے صاحب اقتدارکی نظر کو اپنے ماتحتوں کے بارے میں تبدیل کرے، اور یہ کام کبھی اثر و رسوخ سے یا کبھی اس کے خوف سے یا کبھی جذبات کے ذریعے، یا مجرم کے بارے میں صاحب اقتدار کی نظر کو تبدیل کرنے کے ذریعہ۔۔۔۔ انجام پاتا ھے۔ لیکن ان سب موارد میں مجرم شخص کے فکر اور سلوک میں کسی طرح کی تبدیلی پیدا نھیں ھوتی، بلکہ ھر طرح کی تبدیلی اس فرد میں رونما ھوتی ھے جس کے پاس شفاعت ھوتی ھے۔
اس قسم کی شفاعت اسلامی اور قرآنی نقطہ نظر سے معنی نھیں رکھتی، کیونکہ نہ ھی خدا کوئی غلطی کرسکتا ھے جس سے اس کی نظر تبدیل کی جائے (نعوذباللہ) اور اس کی نظر صحیح جانب موڑ دی جائے، اور نہ ھی وه جذبات رکھتا ھے جسطرح انسان کے اندر جذبات موجود ھیں تاکہ اس کے جذبات کو متحرک کیا جائے۔ وه کسی کے اثر و رسوخ میں نھیں آتا اور نہ ھی کسی سے ڈرتا ھے اور وه کوئی خلاف عدل پر مبنی فیصلہ نھیں کرتا کہ اس کی اصلاح کی جائے۔
لیکن شفاعت کے جو معنی قرآنی آیات اور اسلامی ثقافت (روایات) میں موجود ھیں، وه یہ ھے کہ شفاعت پانے والے افراد میں تبدیلی اور تغیر پیدا ھو، یعنی شفاعت پانے والا ایسے اسباب فراھم کرے جن کے ذریعے وه اپنی نامطلوب اور سزا پانے والی حالت سے نکل کر شفیع کے ساتھ رابطہ مستحکم کرے اور عفو اور درگذر کا مستحق قرار پائے۔ اسطرح کی شفاعت پر ایمان لانا حقیقت میں تربیت پانے کی اعلی درسگاه اور گناھگار افراد کی اصلاح کا ذریعہ ھے۔ کیونکہ جو لوگ گناھوں کے مرتکب ھوتے ھیں، اگر ایک طرف اپنے ضمیر کے عذاب میں گرفتار ھو جائیں اور دوسری جانب خدا کی رحمت اور بخشش سے ناامید ھو جائیں اور اپنے اوپر ھدایت پانے کے سب راستوں کو بند پائیں، تو عملی طور پر اپنے اعمال میں کسی بھی طرح کی تبدیلی نھیں لائیں گے۔ کیونکہ اس کام کیلئے وه کسی بھی طرح کا فائده تصور نھیں کرسکتے ھیں بلکہ اس کے بدلے کبھی ممکن ھے وه زیاده ھی سرکش اور باغی ھوکر، اپنے گناھوں کی ذمہ داری اپنے سماج کے اوپر ڈال دیں اور یہ کہیں کہ ھمارے سماج کے حالات ھی کچھ ایسے تھے جس کی وجہ سے ھم اس حد تک گر گئے۔ اور اسطرح وه اپنے گناھوں میں اضافہ کر کے سماج سے انتقام لیں گے۔
لیکن شفاعت پر ایمان، ان کے اوپر امیدوں کے دروازوں کو کھولتا ھے اور انہیں اپنے اوپر کنٹرول کرنے اور اپنی گزشتہ غلطیوں کا ازالہ کرنے کا شوق دیتا ھے۔ اور یہ امر خطاکار افراد کی اصلاح کرنے اور سماج میں امن و سلامتی برقرار کرنے میں معاون ثابت ھوتا ھے۔
دوسری جانب شفاعت ایک مطلق موضوع نہیں بلکہ اس کے شرائط اور قیود ھیں۔ یہ شرائط گناه اور جرم، شفاعت کرنے والے اور شفاعت پانے والے میں ھیں۔ جو لوگ اصل شفاعت کا اعتقاد رکھتے ھیں اور اس فرصت کو غنیمت جان کر شفاعت پانا چاھتے ھیں۔ ان کے لئے ناگزیر ھے کہ ان شرائط کو فراھم کریں اور خاص قسم کے گناھوں جیسے ظلم، شرک وغیره جن کی وجہ سے انسان کو شفاعت نصیب نھیں ھوتی، سے دوری اختیار کریں اور اپنے اعمال کو اسطرح بنائیں کہ شفاعت کرنے والوں کی عنایات میں شامل ھوں۔
یہ سب اس بات کی دلیل ھے کہ جو شفاعت قرآنی آیات میں بیان ھوئی ھے انسانوں کی تربیت اور سماج میں موجود افراد کیلئے ایک انمول خزانہ ھے کیونکہ انسانوں کی تربیت اور معاشرے کو پاک بنانا ھی انبیاء کو بھیجنے کا مقصد ھے۔[1]
دوسرے الفاظ میں شفاعت کے وه معنی جو عام طور پر استعمال ھوتے ھیں وه یہ ھے کہ کوئی باعزت انسان کسی بزرگ سے یہ چاھے کہ مجرم کی سزا سے درگزر کرے یا کسی خدمتگار کے اجر کو زیاده کرے، لیکن ان صورتوں میں ممکن ھے کہ شفیع کی شفاعت قبول کرنے کیلئے خاص دلائل ھوں جوکہ خداوندمتعال کے بارے میں منفی ھیں۔ کیونکہ خداوندمتعال کی طرف سے جن شفیعوں کو شفاعت کا اذن دیا گیا ھے، اس کی وجہ خوف اور ڈر یا انکی طرف سے خدا کی نیاز مندی نہیں ھے۔ بلکہ شفاعت ان افراد کیلئے ایک راستہ ھے جن میں خدا کی ابدی رحمت حاصل کرنے کیلئے صلاحیت موجود نھیں ھے۔ اور اس راستے کو خود خداوندمتعال نے قرار دیا ھے اور اس کے لئے شرائط و ضوابط بنا دیئے ھیں۔
البتہ اسلام میں کبھی یہ لفظ وسیع معنی میں بھی استعمال ھوتا ھے اور اس کے مطابق کسی دوسرے کے ذریعے انسان کو ھر طرح کا خیر پہنچنا بھی شامل ھوتا ھے اور اگر کہا جاتا ھے کہ ماں اور باپ اپنے فرزندوں یا اس کے برعکس فرزند اپنے ماں باپ کی یا استاد اپنے شاگرد کی یا مؤذن ان لوگوں کی بہ نسبت جنہیں وه نماز کی یاد دلاتا ھے اور مسجد میں حاضر ھوتے ھیں، شفاعت کرتا ھے۔ تو حقیقت میں اس کا مطلب وھی خیر کا اثر جو اسے دنیا میں تھا قیامت کے دن شفاعت کی صورت میں
1 288
🔷 ابوہریرہ 🔷
ابوہریرہ نے 8ھ کو اسلام قبول کیا۔ اسے رسول ﷺ کے ساتھ صرف اور صرف دو سال تک رہنا نصیب ہوا۔ ابوہریرہ 59ھ میں 78 سال کی عمر میں فوت ہوئے تھے۔
اس کو پیغمبر ﷺ کا دیدار نصیب ہوا تھا اس وجہ سے لوگ اسے صحابی بھی کہتے تھے۔ اس نے اس مقام سے ناجائز استفاده کیا اس نے اپنی اس منزلتکو دنیا کے بدلے فروخت کیا۔ اس نے پیٹ بھرنے کے لئے جھوٹی احادیث بنائی اور ان کی نسبت پیغمبر ﷺ کی طرف دی۔
خلیفہ دوئم نے پہلی دفعہ اسے احادیث بیان کرنے سے منع کیا تھا۔ دوسری مرتبہ اسے تازیانوں سے سزا دی اور تیسری مرتبہ اسے مدینہ سے نکال دیا تھا۔
21ھ میں جب بحرین کے گورنر اعليٰ کی وفات ہوئی تھی تو خلیفہ دوئم نے اسے وہاں کا حاکم بھی مقرر تھا کچھ عرصے کے بعد ابوہریرہ نے وہاں پر چار لاکھ دینار جمع کر لئے۔ جب خلیفہ کو اس کا علم ہوا تو اسے معزول کر دیا۔
معاویہ نے کچھ صحابہ اور تابعین کے ذمہ یہ کام لگایا کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کی مخالفت میں جھوٹی احادیث بیان کریں ان میں سرِ فہرست ابوہریرہ تھا۔
اصبغ بن نباتہ نے ایک دفعہ اسے کہا تھا تجھے رسولﷺ کے فرمان کا خیال نہیں تو علی علیہ السلام کے دشمنوں سے دوستی رکھتا ہے اور علی علیہ السلام کے دوستوں سے دشمنی رکھتا ہے۔
ابوہریرہ نے اس کے جواب میں سرد آہ بھری اور کہا ”اناللہ واناالیہ راجعون“۔
ابوہریرہ کی ناکامی دیکھئے کہ یہ معاویہ سے دولت حاصل کرنے کے لئے کئی دفعہ مسجد کوفہ میں آکر اپنی پیشانی کو اپنے ہاتھوں سے زور سے پیٹا لوگ جمع ہوگئے اور کہنے لگا کہ اہل عراق یہ سمجھتے ہیں کہ میں رسول خدا ﷺ پر جھوٹ باندھتا ہوں اور اپنے آپ کو دوزخ کا ایندھن بنا رہا ہوں۔ خدا کی قسم میں نے رسول خدا ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ہر پیغمبر کا کوئی نہ کوئی حرم ہوتا ہے اور مدینہ میں ”کوہ عیر“ سے لے کر ”کوہ ثور“ تک میرا حرم ہے اور جو بھی میرے حرم نئی بات احداث کرے گا اور بدعت پیدا کرے گا۔ اس پر خدا، ملائکہ اور تمام انسانوں کی لعنت ہوگی۔ لوگو میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ (نعوذباللہ) حضرت علی علیہ السلام نے حرم پیغمبر میں بدعت پیدا کی ہے۔
جب معاویہ نے یہ گفتگو سنی تو بہت خوش ہوا اور اس کے بدلہ میں ابوہریرہ کو مدینہ کا حکم بنا دیا۔
📚پیغمبر و یاران ج١ ص٥٤
Copied
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🔷 لاوارث لاش 🔷
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯿﺲ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺑﻮﻻ ،
ﭼﻠﻮ ﮐﭽﮫ ﻭﻗﺖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ گرﺍ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ . ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮨﻼ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺮﺩﮦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﺎ . ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﺮ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ .
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ،
ﺍﺩﮬﺮ ﺁﺅ ﺑﮭﺎﺋﯽ _
ﻟﻮﮒ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ ﮔﮱ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻧﮧ ﺳﮑﮯ . ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ؟
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺁﺩﻣﯽ ﻣﺮﺍ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ . ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ . ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﯿﮟ .
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﮯ _
ﺗﻮ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺮﺍﺩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺍﻣﺖ ﻣﺤﻤﺪﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ . ﭼﻠﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﭼﻠﯿﮟ _
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺖ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯼ _
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﯽ ﻻﺵ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﯽ .
ﻟﻮﮒ ﭼﻠﮯ ﮔﮱ _
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﺎ ﺳﮑﯿﻮﺭﭨﯽ ﺍﻧﭽﺎﺭﺝ ﻭﮨﯿﮟ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺳﻨﺘﮯ ﺭﮨﮯ .
ﻭﮦ کہہ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ،
ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﻮﮞ ، ﺑﯿﺸﮏ ﺗﻮ ﺍﻟﻠّﻪ ﮐﺎ ﻭﻟﯽ ﮨﮯ . ﺍﻭﺭ ﻧﯿﮏ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ .
ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺮﺍﺩ ﺑﮍﺍ ﻣﺘﻌﺠﺐ ﮨﻮﺍ _ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ . ﻟﻮﮒ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﯿﺖ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ .
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﺗﮭﯽ _ ﺍﺻﻞ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺷﺮﺍﺏ ﺧﺎﻧﮯ ﺟﺎﺗﺎ ، ﺟﺘﻨﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ﺷﺮﺍﺏ ﺧﺮﯾﺪﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻻ ﮐﺮ ﮔﮍﮬﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺎ ﺩﯾﺘﺎ . ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ﭼﻠﻮ ﮐﭽﮫ ﺗﻮ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻠﮑﺎ ﮨﻮ .
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺑﺮﯼ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺍﺟﺮﺕ ﺩﮮ ﺩﯾﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ، ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﻟﮯ . ﮐﻮﺋﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ _
ﮔﮭﺮ ﺁﮐﺮ ﮐﮩﺘﺎ ، ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠّﮧ ! ﺁﺝ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﻮﺟﮫ ﮨﻠﮑﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ .
ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺟﮕﮩﻮﮞ ﭘﺮ ﺁﺗﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ _
ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮫ ! ﺟﺲ ﺩﻥ ﺗﻮ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﻏﺴﻞ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﮯ ﻧﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺗﺠﮭﮯ ﺩﻓﻨﺎ ﻧﺎ ﮨﮯ _
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ، ﮔﮭﺒﺮﺍ ﻣﺖ _ ﺗﻮﺩﯾﮑﮭﮯ ﮔﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ، ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻟﯿﺎ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﮔﮯ .
ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺭﻭ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ : ﻣﯿﮟ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺮﺍﺩ ﮨﻮﮞ . ﮐﻞ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻏﺴﻞ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ . ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﮐﺮﻭﺍﺋﯿﮟ ﮔﮯ .
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﮐﺜﯿﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﻧﮯ ﭘﮍﮬﺎ۔
🔘 ﺁﺝ ﮨﻢ ﺑﻈﺎﮨﺮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﯾﺎ ﻣﺤﺾ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﮨﻢ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺪ ﺟﺎﻥ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﺑﺎﻧﯿﮟ ﮔﻮﻧﮕﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ۔۔۔
Copied۔۔۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🌹 ماں کی مامتا 🌹
نیشنل جیوگرافک نے نظر بند کیا ایک دل دہلادینے والا واقعہ!
ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﭽﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﺟﯿﻮ ﮔﺮﺍﻓﮏ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﯿﻮﻣﻨﭩﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﭼﻞ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ، ﯾﯿﻠﻮ ﺳﭩﻮﻥ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﭘﺎﺭﮎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﺁﮒ ﺑﮭﮍﮐﯽ ﮐﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺍﮌﺍ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ، ﮨﺮ ﺷﮯ ﺭﺍﮐﮫ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ، ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺑﭽﺎ۔۔۔
ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺭﯾﺴﺮﭺ ﭨﯿﻢ ﺍﺩﮬﺮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ ﺟﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﺗﻨﮯ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭽﺎﺭﯼ ﭼﮍﯾﺎ ﮐﯽ ﺟﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﺎﮈﯼ ﻣﻠﯽ۔
ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﺴﯽ آﻻﺅ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ۔ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺑﮭﯽ ﺁﮒ ﯾﺎ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﮌ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﭻ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺭﯾﺴﺮﭼﺮ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﮈﻧﮉﯼ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺳﺮﮐﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﮯ ﺗﯿﻦ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮍﯾﺎ ﮐﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﺑﭽﮯ ﻧﮑﻠﮯ۔
ﻭﮦ ﭼﮍﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﮔﮭﻮﻧﺴﻠﮯ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﻻ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﻭﮦ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺁﮒ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺁﮒ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺩ ﮔﺌﯽ۔
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮ ﭘﮭﯿﻼ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﯽ ﺣﺮﺍﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﭻ ﮐﯽ ﺷﺪﯾﺪ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻮﺕ ﭼﻦ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﭘﺮ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﭻ ﮔﺌﮯ۔
ﺍﺱ ﭼﮍﯾﺎ ﮐﯽ ﺑﺎﮈﯼ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﺟﯿﻮ ﮔﺮﺍﻓﮏ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮈﺍﮐﯿﻮﻣﻨﭩﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ۔
ﯾﮧ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺒﻖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﻣﻤﺘﺎ ﮐﯿﺎ ﭼﯿﺰ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺟﻮ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺳﺘﺮ ﻣﺎﺅﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺑﻼﻭﺟﮧ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﺧﻮﺩ ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﺁﺝ ﺑﮯ ﺳﺮﻭﭘﺎ ﮨﻮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺎﻝ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ۔ جب اللہ تعالٰی ہمارا نگہبان اور رازق ہے ﺗﻮ ﻣﻔﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮ.
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
👁ﺑﺪ ﻧﮕﺎﮨﯽ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﺍﺛﺮﺍﺕ👁
ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﺟﮕﮧ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ، ﻭﮨﯿﮟ ﺟﻤﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍ ﺍﺛﺮ ﺍﻋﺼﺎﺏ ﻭ ﺩﻣﺎﻍ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺭﻣﻮﻧﺰ ﭘﺮ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺷﮩﻮﺕ ﮐﯽ ﻧﮕﺎﮦ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﮨﺎﺭﻣﻮﻧﺰﯼ ﺳﺴﭩﻢ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺧﺮﺍﺑﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻥ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﺛﺮ ﺯﮨﺮﯾﻠﯽ ﺭﻃﻮﺑﺖ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﮨﺎﺭﻣﻮﻧﺰﯼ ﮔﻠﯿﻨﮉﺯ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﯿﺰ ﺍﻭﺭ ﺧﻼﻑ ﺟﺴﻢ ﺯﮨﺮﯾﻠﯽ ﺭﻃﻮﺑﺘﯿﮟ ﺧﺎﺭﺝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺩﺭﮨﻢ ﺑﺮﮨﻢ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔۔۔
ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ؟
ﺻﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﯽ ﺗﻮ ﮨﮯ ۔۔۔ ﯾﮧ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﻏﻠﻂ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﮔﺮ ﺷﯿﺮﯾﺎ ﺳﺎﻧﭗ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺁﺩﻣﯽ ﺻﺮﻑ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﮯ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ؟
ﺳﺒﺰﮦ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﻮﻝ ﺻﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﺩﻝ ﻣﺴﺮﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ؟
ﺯﺧﻤﯽ ﺍﻭﺭ ﻟﮩﻮﻟﮩﺎﻥ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺗﻮ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ‘ ﻏﻤﮕﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺑﮯ ﮨﻮﺵ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔ !
ﺁﺧﺮ ﮐﯿﻮﮞ؟
ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺗﺠﺮﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ‘ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﯾﻮﺳﯽ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﺍﻭﺭ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﻣﻨﺘﺸﺮ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﺧﻄﺮﻧﺎﮎ ﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺻﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺗﻌﻠﯿﻤﺎﺕ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻟﯿﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ۔۔۔
ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﺠﺮﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺻﺮﻑ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﮐﻮ ﺷﮩﻮﺍﻧﯽ ﻣﺤﺮﮐﺎﺕ ‘ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺎﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ‘ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ‘ ﺗﮑﺎﻥ ‘ ﺩﻣﺎﻍ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﺍﻭﺭ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﻋﻀﻼﺕ ﮐﮭﯿﻨﭽﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﮐﻮ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﺁﻭﺭ ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﻭﻗﺖ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ۔ ۔۔
ﺁﺧﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮨﮯ۔۔۔
ﺑﮩﺮﺣﺎﻝ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﻔﺖ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮎ ﺩﺍﻣﻨﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻋﻼﺝ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺟﮭﮑﺎﻧﺎ ﮨﮯ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺪﮮ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺷﺮﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺣﯿﺎﺋﯽ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﻋﺎﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ۔۔۔
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﻭ ﻋﻤﻠﯽ ﺷﮑﻞ ﺗﻮ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻗﺮﺁﻥ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﭼﻠﺘﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺴﺖ ( ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ) ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺧﻮﻑ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﺎ ﺧﻮﻑ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﮔﺎ ، ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺣﺮﺍﻡ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﺎ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﻮﮔﺎ۔
ﺣﺪﯾﺚ ﭘﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﺁﻗﺎ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﺎﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ ﮐﮧ " ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺯﻧﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺯﻧﺎ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮨﮯ۔ "
ﺟﺒﮑﮧ ﻗﺮﺁﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﮐﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮐﺎ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ " ﺯﻧﺎ ﮐﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﺖ ﺟﺎﺅ ، ﺑﮯ ﺷﮏ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺑﺮﺍ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﮯ۔ "
ﺍﺏ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺗﮏ ﮨﻢ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ، ﺗﻮ ﺳﻮﭺ ﮐﯿﺴﮯ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﺐ ﻧﮕﺎﮦ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺯﻧﺎ ﮐﺎ ۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺎ ﮐﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﻮﯾﺖ ﭘﮑﮍﮮ ﮔﺎ۔۔۔
ﺍِﺳﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ، ﻭﮨﯿﮟ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﮯ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ، ﻣﺰﯾﺪ ﺑﺮﺁﮞ ﺁﯾﺎﺕ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺲ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﯾﺎ ﺑﻌﺪ ﮐﯽ ﺁﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﺲ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ، ﻣﺮﺩ ﻭﺯﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﺱ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﮐﮯ ﻣﮑﻤﻞ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﻮﻕ ﺍﻟﻌﺒﺎﺩ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﺗﯽ ﺳﯿﮍﮬﯽ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔
٭٭٭ﺑﺪﻧﻈﺮﯼ ﮐﮯ ﻃﺒﯽ ﻧﻘﺼﺎﻧﺎﺕ٭٭٭
ﺍﯾﮏ ﺑﺪﻧﻈﺮﯼ ﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﻣﺮﺽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔
ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﮐﯽ ﺑﺪﻧﻈﺮﯼ ﮨﻮ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺿﻌﻒ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﻓﻮﺭﺍً ﮐﺸﻤﮑﺶ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ؟
ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺩﮬﺮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺩﮬﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ ۔۔۔
ﺍﺱ ﮐﺸﻤﮑﺶ ﺳﮯ ﻗﻠﺐ ﻣﯿﮟ ﺿﻌﻒ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ۔۔۔ ﮔﻨﺪﮮ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﺳﮯ ﻣﺜﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻏﺪﻭﺩ ﻣﺘﻮﺭﻡ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺟﺲ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ۔۔۔
ﭘﯿﺸﺎﺏ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﺎ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺭﻃﻮﺑﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﮐﺎﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ " ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺩﯾﻤﮏ " ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﺎﮞ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺩﯾﻤﮏ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺁﺟﮑﻞ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ۔۔۔۔
ﺍﻥ ﺳﺐ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﺳﮯ ﺍﻋﺼﺎﺏ ﮈﮬﯿﻠﮯ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺩﻣﺎﻍ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﻧﺴﯿﺎﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔۔۔
ﮨﺮﻋﺼﯿﺎﻥ ( ﺑﺮﺍﺋﯽ ) ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﻧﺴﯿﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻗﻮﺕ ﺩﻣﺎﻍ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﻓﻈﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔۔۔
ﺑﮭﻮﻝ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﺑﮭﯽ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﮔﺮﺩﮮ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﻧﮕﺎﮨﯽ ﮐﯽ ﺑﺪ ﻋﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﺍﻋﺼﺎﺏ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔
ﯾﻮﮞ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺠﺌﮯ ﮐﮧ ﺯﻟﺰﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺟﺐ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﻟﺰﻟﮧ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ؟
ﮔﻨﺎﮦ ﻧﻔﺲ ﻭ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺯﻟﺰﻟﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮔﻨﺎﮦ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔
ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻧﻈﺮ ﭘﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺭﺍً ﮨﭩﺎﻟﯽ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺯﻟﺰﻟﮧ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﮭﭩﮑﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ۔۔۔
ﻣﮕﺮ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺳﻮﭺ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﯾﺎ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺭﮨﻨﮯ ﭘﺮ ﺯﻟﺰﻟﮯﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻟﻌﻨﺖ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯﺫﮨﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻟﯽ ﺑﮯ ﺳﮑﻮﻧﯽ ﮐﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﮯ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔ !!!
ﺍﻟﻠﻪ ﭘﺎﮎ ﮬﻤﯿﮟ ﺑﺪ ﻧﮕﺎﮬﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﻨﺎﻩ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﮰ ... ﺁﻣﯿﻦ .
👆ایک مراسلہ👆
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
