ISLAM WITH EMAN
الذهاب إلى القناة على Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
إظهار المزيد1 279
المشتركون
لا توجد بيانات24 ساعات
-47 أيام
-1330 أيام
أرشيف المشاركات
1 279
🔷 ﺩﻭ ﺁﻧﺴﻮ 🔷
ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼؒ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﯾﺪﻧﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺑﮩﺖ سرکش ﺗﮭﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ۔۔
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺳﺨﺖ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﻗﺮﯾﺐ ﺍﻟﻤﻮﺕ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ، ﻣﺎﮞ ﺟﺐ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻮﺕ آئے ﺗﻮ ﺍﮮ ﻣﺎﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺮ ﻭ ﻣﺮﺷﺪ ﺳﮯﻣﯿﺮا ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺳﻔﺎﺭﺵ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﮐﻮ ﮐﻨﺪﮬﺎ ﺩﯾﻨﮕﮯ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ___
ﺟﺐ ﻃﺒﻌﯿﺖ ﺑﮕﮍﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﻣﺎﮞ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻦ بصری ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﻣﻮﺕ ﻭﺣﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﮐﺸﻤﮑﺶ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺳﻔﺎﺭﺵ ﮐﯽ ﮨﮯ۔
حسن بصری ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﺤﺘﺮﻣﮧ! آﭘﮑﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ نے ﮐﺒﮭﯽ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﺎﻭﮞ؟
ﻣﺎﮞ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﻭآﭘﺲ ﻟﻮﭨﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺍﮔﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﻣﺎﻧﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺁﺝ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺮﺷﺪ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ..
ﺑﯿﭩﺎ ﺣﺴﺮﺕ ﺑﮭﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺑﮯﭼﯿﻨﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ، ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﺎ،
بولا ﻣﺎﮞ!
ﺟﺐ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻮﺕ آئے ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺅﮞ ﮐﻮ ﺭﺳﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﮮ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺴﯿﭩﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺁﻭﺍﺯ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﺍﺳﮑﺎ ﺣﮑﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﺍﺳﮑﺎ ﯾﮩﯽ ﺣﺸﺮ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮞ!
ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﻓﻨﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﮔﻨﺪﯼ ﺟﮕﮧ ﭘﮭﯿﻨﮑﻨﺎ ﮐﮧ ﺗﺎﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻋﺒﺮﺕ ﭘﮑﮍﯾﮟ. ﺍﺱ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﻣﻮﺕ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺡ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﺮگئی.....
ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ دستک ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻻ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺣﺴﻦ بصری ﮐﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯ، ﮐﮩﻨﮯ لگے ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﺎﻧﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ.....
ﻣﺎﮞ ﺑﻮﻟﯽ!
ﺣﻀﺮﺕ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﻓﻮﺕ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﯾﮧ ﺻﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﺁﭘﮑﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﺘﮧ؟
ﻓﺮﻣﺎﻧﮯ لگے!
ﺟﺐ ﺁﭖ ﻭﺍﭘﺲ آئیں ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﻠﻮﻟﮧ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﻟﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ کا ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﯿﺎ؟
ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ!
ﯾﮩﺎﮞ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺁﻧﺴﻮﮞ ﮔﺮﮮ ﻭﮨﺎﮞ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮨﻮﮔﯿﺎ.
■ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کہ اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ،سچی کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شیئر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہوگا لیکن ہو سکتا ہے کہ اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردہ تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو۔
http://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 279
🌸 بندگئِ خًدا 🌸
● ارشاد باری تعالٰی ہے:
"یَآیُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ"
اے لوگو! اپنے پروردگار کی عبادت کرو، وہ کہ جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔(1)
● حضرت امام علیؑ نے فرمایا:
"اَطْعِ اللہ فِیْ جَمِیْعِ اُمُوْرِکَ فَاِنَّ الطَّاعَةَ فَاضِلَةٌ عَلٰی مَا سِوَاھَا"
اپنے تمام کاموں میں اللہ تعالٰی کی اطاعت کرو کیونکہ اطاعتِ خداوندی باقی سب چیزوں سے افضل و برتر ہے۔(2)
■ مقام رسالت
جب رسول اکرمؐ معراج پر تشریف لے گئے تو خداوندمتعال نے ان سے خطاب فرمایا؛
"وَبِمَا اُشَرِّفُکَ" آپ خود ہی فرمائیں کہ کس چیز سے آپ کو فضیلت دوں، آپ کا مقام و مرتبہ بڑھاؤں۔
آنحضورؐ نے عرض کیا؛
"بِاَنْ تَنْسِبَنِیْ اِلَیْکَ بِالْعُبُوْدِیَّةِ" اس طرح کہ مجھے اپنی بندگی سے منسوب فرما دیں۔(3)
■ صفاتِ بندگی
جناب شیخ بہائیؒ اپنی کتاب "کشکول" میں حضرت امام جعفر صادقؑ سے نقل کرتے ہیں؛
سفیان ثوری سے بیان ہے کہ میں حضرت امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں حاضر ھوا۔ میں آپؑ کی محفل سے تسکینِ قلب اور نورانیت کا کسبِ فیض کرنا چاہتا تھا۔ لیکن جونہی میں اس ارادے سے امامؑ کی محفل میں گیا، میرے بیٹھتے ہی حضرت نے مجھے قبول نہ کرتے ہوئے فرمایا؛ میں مصروف ہوں۔ میں امامؑ کے گھر سے باہر آگیا اور سیدھا رسول اکرمؐ کی قبر مبارک پر حاضری دی، دو رکعت نماز ادا کی، آپؐ کی ذات سے متوسل ہوا اور درخواست کی کہ مجھے امام صادق علیہ السلام اپنی محفل میں اجازت دے کر قبول فرمائیں، آپ کے صدقہ میں ان کا دل مجھ پر مہربان ہو۔
سفیان ثوری کہتے ہیں میں اپنے اس توسل اور درخواست کے بعد امام صادقؑ کی خدمت میں حاضر ھوا تو آپ نے مجھے گرمجوشی سے اپنی محفل میں جگہ عنایت فرمائی۔ اور پھر فرمایا؛
کیا آپ اپنے قلب کی کشادگی اور دل کی نورانیت کے حصول کے لئے آئے ہیں۔
میں نے عرض کیا:
ہاں، اسی لئے حاضری ہوئی ہے۔
آپؑ نے فرمایا؛
اگر آپ اپنے دل میں کشادگی کے خواہشمند ہیں تو تین چیزوں پر مضبوطی سے عمل کرو۔۔۔
❶ اے سفیان! جان لو اور یقین کرو کہ تو بندہ ہے اور وہ تیرا مولا ہے۔ بندہ کو چاہیے مولا کے حضور کلی طور پر سرتسلیم خم کرے۔
❷ اے سفیان! ہمیشہ اس طرف توجہ رہے کہ تیرا مولا غضب اور رضا دونوں صفات رکھتا ہے۔ خیال رہے ایسے کام انجام دو کہ خداوندمتعال کی رضا حاصل ہو، وہ آپ سے راضی ہو۔ اور ایسے کاموں سے کہ جن سے اس کا غضب واقع ہوتا ہے دوری اختیار کرو۔
❸ اے سفیان! تو بندہ ہے۔ تو اور تیرا سب کچھ تیرے مولا کا ہے۔(4)
■ بندگی کا طریقہ
سہل تستری کہتے ہیں؛ میں نے ایک غلام خریدا اور اسے اپنے گھر لے آیا۔ میں نے اس سے اس کا نام پوچھا اور پھر بہت سارے سوال کر دیئے۔
تعلیم کتنی ہے؟
کیا کھانا پسند کرتے ہو؟
کیا کچھ کر لو گے؟
کیسا لباس پہنو گے؟
کیا کچھ کر لاؤ گے؟
کیا پسند کرتے ہو؟
اس نے صرف ایک ہی جواب دیا:
غلام کی کیا خواہش ہوتی ہے۔ وہ تو صرف اپنے آقا کی پسند کو پسند کرتا ہے۔
سہل کہتے ہیں؛ میں نے آئندہ رات ساری رات رونے اور استغفار کرنے میں اپنے آپ سے یہی کہتے ہوئے گزاری کہ اگر وہ غلام ہے تو پھر تُو کیا ہے؟(5)
✍سید سجاد حسین ھمدانی
📚حوالہ جات:
(1)سورہ بقرہ، آیت21۔
(2)میزان الحکمۃ، 10988۔
(3)موضوعی داستانیں، ص51۔
(4)موضوعی داستانیں، ص51۔
(5)موضوعی داستانیں، ص54۔
http://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 279
🔷 نفع کا سودا 🔷
بیان کیا جاتا ہے کہ ایک بادشاہ شکار کے لیے نکلا ہوا تھا۔ وہ جنگل سے گزر رہا تھا۔ کہ اس کی نظر ایک درویش پر پڑی جو اپنے حال میں مست بیٹھا تھا۔ بادشاہ اس درویش کے قریب سے گزرا لیکن اس نے آنکھ اٹھا کر بھی اس کی طرف نہ دیکھا اور یہ بات بادشاہ کو بہت ناگوار گزری۔
اس نے اپنے وزیر سے کہا کہ یہ بھیک منگے بھی بالکل جانوروں کی طرح ہوتے ہیں کہ انھیں معمولی ادب آداب کا بھی خیال نہیں ہوتا۔
بادشاہ کی ناگواری کا اندازہ کر کے وزیر اس درویش کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ بابا جی، ملک کا بادشاہ آپ کے قریب سے گزرا اور آپ نے اتنا بھی نہیں کیا کہ اپنی عقیدت اور نیاز مندی ظاہر کرنے کے لیے کھڑے ہو جاتے اور ادب سے سلام کرتے؟
درویش نے بے پروائی سے جواب دیا:
بابا! اپنے بادشاہ سے کہو کہ ادب آداب کا خیال رکھنے کی امید ان لوگوں سے کرے جنھیں اس سے انعام حاصل کرنے کا لالچ ہو۔ اس کے علاوہ اسے یہ بات بھی اچھی طرح سمجھا دوکہ ہم جیسے درویشوں کا کام بادشاہ کا خیال رکھنا نہیں بلکہ بادشاہ کا یہ فرض ہے کہ وہ ہماری حفاظت کرے۔ تو نے سنانہیں۔ بھیڑیں گڈریے کی حفاظت نہیں کرتیں بلکہ گڈریا بھیڑوں کی حفاظت کرتا ہے۔
یاد رکھ! بادشاہی بھی ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں۔ موت کے بعد بادشاہ اور فقیر برابر ہو جاتے ہیں۔ اگر تو قبر کھول کر دیکھے تو یہ بات معلوم نہ کر سکے گا کہ یہ شخص جس کی کھوپڑی کو مٹی نے کھا لیا ہے۔ زندگی میں کس مرتبے اور شان کا مالک تھا۔
وزیر نے درویش کی یہ باتیں بادشاہ کو سنائیں تو اس نے ان سے نصیحت حاصل کی اور فقیر پر مہربان ہو کر اس سے کہا کہ اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو بیان کرو۔ تمھاری ہر حاجت پوری کی جائے گی۔
فقیر نے بے نیازی سے کہا:
بس ایک خواہش ہے اور وہ یہ کہ میرے پاس آنے کی تکلیف پھر کبھی نہ اٹھانا۔
بادشاہ نے کہا:
اچھا مجھے کوئی نصیحت فرمائیے۔
درویش بولا:
میری نصیحت یہ ہے کہ اس زمانے میں جب تو تاج اور تخت کا مالک ہے زیادہ سے زیادہ نیکیاں کر کہ عاقبت میں تیرے کام آئیں گی۔ یہ تاج اور تخت ہمیشہ تیرے پاس ہی نہ رہے گا۔ جس طرح تجھ سے پہلے بادشاہ کے بعد تجھے ملا، اسی طرح تیرے بعد کسی اور کو مل جائے گا۔
؎نیکیاں کر لے اگر تو صاحب ثروت ہے آج
کل نہ جانے کس کے ہاتھ آئے ترا یہ تخت و تاج
■وضاحت:
شیخ سعدیؒ نے اس حکایت میں یہ بات بتائی ہے کہ اپنے دل کو حرص اور لالچ سے پاک کر لینے کے بعد ہی انسان کو سچی راحت اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ یہ مرتبہ حاصل ہو جائے تو خدا ایسی جرأت بخش دیتا ہے کہ وہ لاؤ لشکر رکھنے والے بادشاہوں سے بھی خوف نہیں کھاتا نیز یہ کہ مال دار شخص کے لیے سب سے زیادہ نفع کا سودا نیکیاں کرنا ہے۔ اُخروی زندگی میں اس کے کام اس کا یہی سرمایہ آئے گا۔ جس مال پر دنیا میں غرور کرتا تھا، اس میں سے کفن کے سوا کچھ بھی اپنے ساتھ نہ لے جا سکے گا۔
http://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 279
🌹 عشق کی خوشبو 🌹
●قرآن کریم میں ہے:
"وَالَّذِيْنَ آمَنُوْا اَشَدُّ حُبّاً لِله"
اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ اللہ تعالٰی سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں۔ ان کا عشق شدید ہوتا ہے۔(1)
●حضرت رسولِخداؐ نے فرمایا:
"اَحِبُّو اللہ مِنْ کُلِّ قُلُوبِکُمْ"
تم اپنے پورے دل سے اپنے خدا سے محبت کرو۔(2)
●حضرت امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:
"اَلقَلْبُ حَرَمُ الله فَلا تُسْکِنْ حَرَمَ الله غَیْرَ الله"
یہ دل الله تعالٰی کا حرم ہے۔ اللہ تعالٰی کے حرم میں اللہ کے غیر کو جگہ نہ دو۔(3)
■خراج عشق
مصر کے بادشاہ فرعون کی بیوی جناب آسیہؑ نے قرب خداوندی کی خواہش کی اور اپنے رب سے دعا مانگی۔۔۔
"رب ابن لی عندک بیتا فی الجنة"
خداوندا!مجھے تیرے قرب میں ایک ایسا حجرہ درکار ہے جو تیری ذات کے حوالہ سے کوئی دوست شمار ہو۔(4)
ہاں بات بڑی بات ہے۔ خواہش بہت عمدہ ہے لیکن اس کی قیمت بہت مہنگی ہے۔ اگر ہر شے کی قیمت سونا قرار دی جائے تو اس خواہش کی قیمت دل و جان ہونا چاہیے۔
آسیہ نے عرض کیا:
مجھے پرواہ نہیں اگر تیری ذات کے قرب کے لئے ایک جان کیا ہزار جان قربان کر دی جائے۔ اس سودے سے دریغ نہیں ہے۔ اسی خواہش کے حصول کے لئے بیبی آسیہؑ کو ایک امتحان کے مرحلہ سے گزرنا پڑا۔
جناب آسیہؑ کو چار میخوں میں جکڑ دیا گیا اور ایک میخ آنکھ میں بھی ٹھونس دی گئی لیکن اس حالت میں بھی بیبی آسیہ خوش و خرم اور ہنستی نظر آئیں کیونکہ یہ قیمت بھی اس خواہش کے پورے ہونے کی ضمانت تھی۔(5)
■عشق میں غفلت
ایک شخص کسی عورت کے عشق میں حد سے زیادہ مبتلا تھا۔ اتفاق سے اس عورت کی ایک آنکھ میں سفید موتیا کا داغ تھا۔ عشق کے عروج کے ایام میں اسے یہ معلوم نہ ہوسکا کہ ایک آنکھ میں یہ عیب ہے۔ طوفانی محبت کے باعث وہ اس سے غافل رہا لیکن جب عشق اپنی تمام منازل طے کرنے کے بعد بلندی سے زوال کی طرف سفر کرنے لگا تو ایک دن عاشق کی نظر اس کی آنکھ کی سفیدی پر پڑی۔
اس شخص نے پوچھا:
یہ آپ کی آنکھ میں موتیا کب سے آگیا ہے؟
عورت نے جواب دیا:
یہ تو آپ کی آشنائی سے قبل بھی تھا لیکن آپ کے لیے اسی دن سے آیا ہے جس دن سے آپ کے عشق کی دنیا میں زوال شروع ہوا ہے۔(6)
■سچا عشق
فرعون مصر کی بیٹی کی خدمت گزار نوکرانی خدا پرست تھی، ایک دن اس کے سر میں کنگھی کرتے ہوئے اس کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی اس نے جلدی سے کنگھی اٹھائی تو اس کے منہ سے خدا کا نام نکل گیا۔
فرعون کی بیٹی نے سوال کیا:
کیا میرے باپ کے علاوہ تیرا کوئی اور خدا بھی ہے؟
نوکرانی نے کہا:
میرا اور تیرے باپ کا اور زمین و آسمان کا رب خدائے یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔
وہ لڑکی بھاگی بھاگی روتی ہوئی اپنے باپ کے پاس پہنچی، فرعون نے بیٹی سے پوچھا؛ کیوں روتی ہے؟ کیا قصہ ہے؟
بیٹی نے روتے ہوئے سارا ماجرا کہہ سنایا کہ یہ میری زیبائش و آرائش کی خدمت پر مامور نوکرانی کہتی ہے، میرا، آپ کا اور اس کا اور زمین و آسمان کا رب کوئی اور ہے جو یکتا و واحد ہے۔
فرعون نے فوری طور پر نوکرانی کو طلب کیا اور اسے کہا:
یہ جو باتیں تو نے میری لڑکی سے کی ہیں اگر اس سے باز نہ آئی تو میں تیرا سر قلم کرا دونگا۔
لیکن نوکرانی نے اس کی دھمکی کو ٹھکرا دیا اور اپنے عقیدہ سے انحراف کے لئے آمادہ نہ ہوئی۔
فرعون نے حکم صادر کیا، اس کے چاروں ہاتھوں اور پیروں میں میخ ٹھونک دی گئی اور میخوں کو زمین میں گاڑ دیا گیا اور اس کے سینہ پر سانپ اور بچھو چھوڑ دیئے گئے۔
فرعون نے کہا:
اپنے دین سے دستبردار ہو جاؤ۔
لیکن اس نوکرانی نے فرعون کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔
فرعون نے حکم صادر کیا:
اس عورت کی بڑی لڑکی کو لا کر اس کے سینہ کے اوپر ذبح کر دیا جائے۔
اس کی بیٹی کو لا کر اس عورت کے سامنے اس کے سینہ کے اوپر ذبح کر دیا گیا لیکن وہ کلمہ توحید سے باز نہ آئی۔
اس عورت کی شیرخوار بیٹی تھی، اسے بھی لا کر اس کے سینہ پر ذبح کر دیا گیا لیکن اس نے اپنے دین سے انحراف نہیں کیا اور بالآخر اسے خود کو بھی ذبح کر دیا گیا۔ اس نے قتل ہونا پسند کیا لیکن انحراف نہ کیا۔(7)
✍سید سجاد حسین ھمدانی
📚حوالہ جات:
(1)سورہ بقرہ آیت165۔
(2)میزان الحکمۃ، 3086۔
(3)موضوعی داستانیں۔
(4)سورہ تحریم آیت 11۔
(5)موضوعی داستانیں۔
(6)داستانہائے کشف الاسرار، ص63۔
(7)داستانہائے کشف الاسرار۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 279
🌼 عورت کا خاوند کے ساتھ رویہ 🌼
حدیث صحیح میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص بڑا عقلمند اور صاحب ثروت تھا، اس کا ایک بیٹا ایک ایسی بیبی سے تھا جو عفیفہ اور صالحہ تھی اور یہ لڑکا شکل و شمائل میں اپنے باپ سے بہت مشابہہ تھا اور دو بیٹے دوسری بیوی سے تھے جو صاحب عفت نہ تھی۔
جب اس شخص کی وفات کا وقت ہوا تو بیٹوں سے یہ کہہ کر مرا کہ میرا کل مال تم میں سے ایک کا ہے۔
اب ہر ایک دعویدار تھا کہ مال میرا ہے۔ آخر مقدمہ قاضی کے پاس گیا۔ قاضی نے کہا کہ فیصلے سے پہلے ان تینوں بھائیوں کے پاس جاؤ جو عقل میں بہت مشہور ہیں۔
حسب الحکم وہ پہلے ان میں سے ایک کے پاس گئے، یہ ایک بوڑھا آدمی تھا، اس نے کہہ دیا کہ میرے فلاں بھائی کے پاس جاؤ جو مجھ سے بھی بڑا ہے۔
چنانچہ اس کے پاس گئے، اسے ادھیڑ عمر کا پایا، اس نے کہا مجھ سے جو بڑا بھائی ہے اس کے پاس جاؤ۔
جب اس کے پاس پہنچے تو اسے جوان پایا۔ پس اپنا حال بیان کرنے سے پہلے اس سے یہ سوال کیا کہ تمھارا چھوٹا بھائی کس سبب سے بوڑھا ہوگیا اور تم جو سب سے بڑے ہو کیونکر جوان ہو؟
اس نے کہا کہ میرے چھوٹے بھائی کی عورت بہت بد ہے اور وہ اس کی بدیوں پر صبر کرتا ہے اس خیال سے کہ وہ کسی اور ایسی بلا میں مبتلا نہ ہوجائے جس پر صبر نہ ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سب سے زیادہ بوڑھا معلوم ہوتا ہے۔
رہا دوسرا بھائی اس کی عورت ایسی ہے کہ کبھی اسے خوشحال رکھتی ہے اور کبھی رنجیدہ۔ اسی وجہ سے وہ ادھیڑ ہے۔
اور میری عورت مجھے ہمیشہ خوش رکھتی ہے اور کبھی آزردہ نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ میں جوان ہوں۔
بھائیوں نے یہ کیفیت سن کر اپنا قصہ اس سے بیان کیا۔ اس نے کہا کہ پہلے تم اپنے باپ کی ہڈیاں نکال کر جلا ڈالو، پھر میرے پاس آنا، میں تمھارا فیصلہ کر دونگا۔
جب وہ چلے تو چھوٹے بھائی نے تلوار اٹھا لی اور دونوں بڑے بھائیوں نے کدالیں لے لیں۔ باپ کی قبر پر پہنچ کر بڑے بھائیوں نے کدالیں لگانی شروع کر دیں کہ قبر کو کھود ڈالیں اور چھوٹے نے تلوار کھینچی کہ میں اپنے باپ کی قبر نہ کھودنے دونگا۔ میں نے دعوٰی چھوڑا۔ جاؤ سب مال تمہی لے لو۔
پھر مقدمہ قاضی کے پاس گیا، قاضی نے تمام مال چھوٹے بیٹے کو دلوا دیا اور بڑوں سے کہہ دیا کہ تم بھی اگر اس مرحوم کی اولاد ہوتے تو جس طرح چھوٹے بیٹے کو محبت فرزندی باپ کی ہڈیاں کھودنے اور جلانے سے مانع ہوئی، تمہیں بھی مانع ہوتی۔
📚تہذیب الاسلام، باب4، ص126۔
✍سید سجاد حسین ھمدانی
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 279
⭕ زبان کے زخم ⭕
ایک لکڑہارے کی شیر کے ساتھ دوستی ہوگئی۔ لکڑہارا جب بھی جنگل میں لکڑیاں کاٹنے جاتا شیر اس کے پاس آجاتا اور دونوں خوب باتیں کرتے۔ لکڑہارا بھی بغیر کسی خوف کے شیر کے پاس بیٹھا رہتا کیونکہ اسے یقین تھا کہ شیر اسے کبھی نقصان نہیں پہنچائے گا۔
ایک دن ایک آدمی نے دونوں کو پاس بیٹھے دیکھ لیا۔ وہ بہت حیران ہوا۔ شیر کے جانے کے بعد اس نے لکڑہارے سے کہا کہ مجھے تمہاری عقل پر حیرت ہورہی ہے کہ تم شیر کے پاس بیٹھے رہتے ہو اگر اس نے تمہیں کوئی نقصان پہنچا دیا تو؟
لکڑہارے نے جواب دیا کہ شیر میرا دوست ہے اور مجھے اس پر اعتماد ہے کہ وہ کبھی مجھے نقصان نہیں پہنچائے گا۔
اس آدمی نے کہا کہ مان لیا تمہارا دوست ہے لیکن یہ بھی تو دیکھو کہ وہ ایک درندہ ہے اور تم کسی درندے پر کیسے اعتبار کرسکتے ہو۔ اس کو جب کہیں اور سے خوراک نہ ملی تو وہ تم پر بھی حملہ کر کے تمہیں اپنی خوراک بنا سکتا ہے۔
لکڑہارے نے کہا کہ بات تو تمہاری ٹھیک ہے وہ ایک خونخوار درندہ تو ہے۔ چلو میں آئندہ سے احتیاط کروں گا۔
اتفاق سے لکڑہارے کی یہ بات شیر نے بھی سن لی اسے بہت دکھ ہوا۔ اگلے دن جب وہ لکڑہارے سے ملا تو اسے کہا کہ میری کمر پر کلہاڑی کا ایک وار کرو۔
لکڑہارے نے حیرانی سے پوچھا پاگل تو نہیں ہوگئے میں تم پر کیوں وار کروں گا لیکن شیر ضد کرتا رہا کہ نہیں مجھ پر ایک وار کرو۔
مجبوراََ لکڑہارے نے اس کی کمر پر کلہاڑی سے وار کر دیا۔ شیر کو کافی گہرا زخم آیا لیکن وہ خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔
اس واقعے کے بعد بھی شیر اسی طرح لکڑہارے سے ملتا رہا اور اس کا زخم بھی آہستہ آہستہ بھرتا رہا۔ جب زخم بالکل بھر گیا اور نشان بھی ختم ہوگیا تو اس نے لکڑہارے سے کہا کہ دیکھو تم نے اپنے کلہاڑے سے مجھے جو زخم لگایا تھا وہ بالکل بھر گیا ہے اس کا نشان بھی باقی نہیں رہا لیکن تم نے اس دن مجھے درندہ کہہ کر اور میری دوستی پر شک کر کے اپنی زبان سے جو زخم لگایا تھا وہ آج بھی تازہ ہے۔
لکڑہارا شیر کی یہ بات سن کر بہت شرمندہ ہوا اور وعدہ کیا کہ آئندہ وہ کبھی ایسی کوئی بات نہیں کرے گا جس سے کسی کی دل آزاری ہو۔
آج ہم لوگ اپنا بھی محاسبہ کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی زبان سے کتنے لوگوں کو تکلیف پہنچائی، کتنے لوگوں کا دل دکھایا اور کتنے لوگوں کو ذلیل کیا۔ ہم تو کہہ کر بھول جاتے ہیں لیکن بعض دفعہ ہمارے کہے ہوئے چند لفظ کسی کی زندگی تباہ کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔
خدارا لوگوں کو اپنے الفاظ کے تیروں سے زخمی مت کیجئے۔ آپ اختلاف رائے اور تنقید طنز کے تیر چلائے بغیر بھی کر سکتے ہیں۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 279
🍃زوجہ سے مقاربت کا اسلامی طریقہ🍃
■حضرت امیرالمؤمنینؑ نے فرمایا:
جو شخص اپنی عورت سے مقاربت کا ارادہ کرے تو جلدی نہ کرے کیونکہ عورتوں کو جماع سے پہلے کچھ کام کرنے ہوتے ہیں اور جس وقت کوئی شخص کسی غیر عورت کو دیکھ لے اور اسے وہ پسند آئے تو اسی وقت جاکر اپنی اہلیہ سے جماع کرلے کیونکہ جو کچھ اس میں ہے، وہی اس میں بھی ہے، بہرحال شیطان کو اپنے نفس پر غالب نہ ہونے دے۔ اور اگر زوجہ نہ ہو تو دو رکعت نماز پڑھے اور خدا تعالٰی کی حمد بہت کرے اور محمدؐ و آل محمدؑ پر درود بھیجے اور خدا سے سوال کرے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے اسے عورت عطا فرمائے کہ یہ دعا ضرور مستجاب ہوگی اور خدا اس کو حرام سے بے نیاز کریگا۔
■ حضرت رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ کوے کی سی تین عادتیں سیکھو۔۔۔
چھپ کر جماع کرنا۔
علی الصباح روزی کی تلاش میں جانا۔
دشمنوں سے بہت پرہیز کرنا۔
■ منقول ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ اس خدا کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر کوئی شخص اپنی عورت سے ایسے مکان میں جماع کرے جس میں کوئی جاگتا ہو اور وہ ان کو دیکھے یا ان کی بات یا سانس کی آواز سنے تو اولاد جو اس جماع سے پیدا ہوگی ناجی نہ ہوگی بلکہ زناکار ہوگی۔
حضرت زین العابدینؑ جس وقت مباشرت کا ارادہ فرماتے تھے تو نوکروں کو ٹلا دیتے تھے اور دروازے بند کر دیتے تھے اور پردہ ڈال دیتے تھے۔
لوگوں نے امام جعفر صادقؑ سے دریافت کیا کہ آیا مرد ننگا ہوکر جماع کر سکتا ہے۔
فرمایا؛ نہیں۔ علاوہ بریں نہ روبقبلہ جماع کر سکتا ہے، نہ پشت بقبلہ اور نہ کشتی میں۔
■ کئی معتبر حدیثوں میں حضرت رسول اکرمؐ سے منقول ہے کہ جو شخص اپنی عورت سے جماع کرے وہ مرغ کی طرح اس کے پاس نہ جائے بلکہ پہلے مساس اور دست بازی و خوش طبعی کرے، اس کے بعد جماع کرے۔
■ حدیث معتبر میں حضرت رسول خدا ص سے منقول ہے کہ جب مرد، عورت جماع کریں تو وہ گدھوں کی مانند ننگے نہ ہو جائیں کیونکہ ننگے ہو جانے کی حالت میں فرشتے ان سے دور ہو جائیں گے۔
■ حدیث میں حضرت امام رضاؑ سے منقول ہے کہ حضرت امام جعفر صادقؑ جب جماع کے بعد غسل سے پہلے جماع کا ارادہ فرماتے تھے تو وضو کر لیا کرتے تھے۔
■ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے منقول ہے کہ جب کسی شخص کے جسم میں کوئی درد پیدا ہو یا حرارت اس کے مزاج پر غالب آجائے تو اپنی عورت سے جماع کرے، آرام ہو جائے گا۔
■ معتبر حدیث میں منقول ہے کہ مندرجہ ذیل اوقات میں جماع کرنا مکروہ ہے۔۔۔
1) طلوع صبح صادق سے طلوع آفتاب تک۔
2) غروب آفتاب سے زوال سرخی مغرب تک۔
3) سورج گہن کے دن۔
4) چاند گہن کی رات۔
5) اس رات یا دن میں، جس میں سیاہ و سرخ یا زرد آندھی آئے یا زلزلہ محسوس ہو۔
خدا کی قسم! اگر کوئی شخص ان اوقات میں جماع کرے گا اور اس سے اولاد پیدا ہو گی تو اس اولاد میں ایک عادت بھی ایسی نہ دیکھے گا، جس سے خوشی حاصل ہو کیونکہ اس نے خدا کی غضب کی نشانیوں کو ہیچ سمجھا۔
■ حضرت امام جعفر صادقؑ نے فرمایا کہ جس وقت آفتاب طلوع کرتا ہو یا طلوع کرنے کے بعد ابھی پورا روشن نہ ہوا ہو بلکہ زردی مائل ہو اور اسی طرح ڈوبنے سے پہلے جب روشنی کم ہوگئی ہو اور زردی مائل ہو یا ڈوبتا ہو ان اوقات میں جنب ہونا مکروہ ہے۔
■ حدیث میں منقول ہے کہ حضرت رسول اکرمؐ نے زیر آسمان اور سرراہ جماع کرنے سے منع فرمایا ہے اور یہ ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص سرراہ جماع کریگا خدا اور فرشتے اور آدمی اس پر لعنت کریں گے۔
■ کئی معتبر حدیثوں میں وارد ہے کہ جس وقت عورت یا مرد حنا وغیرہ کا خضاب باندھے ہوئے ہوں تو جماع نہ کریں۔
■ روایت میں منقول ہے کہ اگر کسی کے پاس کوئی ایسی انگوٹھی ہو جس پر کوئی نام و نقش ہو تو اس انگوٹھی کو اتارے بغیر جماع نہ کرے۔
📚تہذیب الاسلام، باب4۔
■ جو شخص شادی نہ کرنے کی وجہ سے حرام فعل میں مبتلا ہوتا ہو اس پر واجب ہے کہ شادی کرے۔
■ جو عورت حیض و نفاس کی حالت میں ہو اس سے جماع کرنا حرام ہے۔
■ شوہر اپنی جوان بیوی سے چار مہینے سے زیادہ مدت کے لئے ہمبستری ترک نہیں کر سکتا مگر یہ کہ ہمبستری اس کے لیے نقصان دہ یا بہت زیادہ تکلیف کا باعث ہو۔
📚توضیح المسائل آقائے سیستانی
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 279
🌺ممنوع و ممدوح مقاربت بازوجہ🌺
أبو سعید خدرری سے منقول ہے کہ رسول اکرمؐ نے حضرت علیؐ کو وصیت فرمائی اور اس میں فرمایا؛
● اے علیؑ! اپنی زوجہ سے مہینے کے اول، اوسط اور آخر میں جماع نہ کیا کرو کہ اس کو اور اس کے بچوں کو دیوانگی بالخورہ، جذام اور خبط دماغ ہونے کا اندیشہ ہے۔
● یاعلیؑ! نماز ظہر کے بعد جماع نہ کرنا کیونکہ بچہ جو پیدا ہوگا پریشان احوال ہوگا۔
● یاعلیؑ! جماع کے وقت باتیں نہ کرنا اگر بچہ پیدا ہو تو عجب نہیں کہ گونگا ہو۔
● یاعلیؑ! شب عید الفطر کو جماع نہ کرنا کہ اگر بچہ پیدا ہوگا تو اس سے بہت سی برائیاں ظاہر ہونگی۔
● یاعلیؑ! شب عید قربان کو جماع نہ کرنا اگر بچہ پیدا ہوگا تو اس کے ہاتھ کی چھ انگلیاں ہونگی یا چار۔
● یاعلیؑ! میوہ دار درخت کے نیچے جماع نہ کرنا اگر بچہ پیدا ہوا تو یا قاتل و جلاد ہوگا یا ظالموں کا سرگروہ۔
● یاعلیؑ! آفتاب کے سامنے جماع نہ کرنا سوائے اس کے کہ پردہ ڈال لو کیونکہ اگر بچہ پیدا ہوگا تو مرتے دم تک برابر بدحال و پریشان رہیگا۔
● یاعلیؑ! اذان و اقامت کے مابین جماع نہ کرنا کہ اگر بچہ پیدا ہوگا تو خونریزی کی طرف راغب ہوگا۔
● یاعلیؑ! جب تمھاری زوجہ حاملہ ہو تو بغیر وضو کے اس سے جماع نہ کرنا ورنہ بچہ کوردل اور بخیل پیدا ہوگا۔
● یاعلیؑ! شعبان کی پندرھویں کو جماع نہ کرنا ورنہ بچہ پیدا ہوگا تو شوم ہوگا اور اس کے منہ پر سیاہی کا نشان ہوگا۔
● یاعلیؑ! ماہ شعبان کی آخری تاریخ میں جماع نہ کرنا ورنہ بچہ پیدا ہوگا تو لٹیرا اور ظلم دوست ہوگا اور اس کے ہاتھ سے بہت سے آدمی مارے جائیں گے۔
● یاعلیؑ! کوٹھے (چھت) پر جماع نہ کرنا ورنہ بچہ پیدا ہوگا تو منافق و ریاکار و بدعتی ہوگا۔
● یاعلیؑ! جب تم سفر کو جاؤ اس رات کو جماع نہ کرنا ورنہ بچہ پیدا ہوگا تو مال ناحق صرف کریگا اور مسرفین شیاطین کے بھائی ہیں۔ اور اگر کوئی ایسے سفر میں جائے جہاں تین دن کا راستہ ہو تو جماع نہ کرے ورنہ اگر بچہ پیدا ہوا تو ظلم دوست ہوگا۔
● یاعلیؑ! شب دوشنبہ کو جماع کرنا اگر بچہ پیدا ہوا تو قرآن کا حافظ اور خدا کی نعمتوں پر راضی و شاکر ہوگا۔
● یاعلیؑ! اگر تم نے شب سہ شنبہ کو جماع کیا تو جو بچہ پیدا ہوگا وہ اسلام کی سعادت حاصل کرنے کے علاوہ رتبہ شہادت بھی پائے گا۔ منہ سے اس کے خوشبو آتی ہوگی۔ دل اس کا رحم سے پر ہوگا۔ ہاتھ کا وہ سخی ہوگا۔ اور زبان اس کی غیبت و افتراء و بہتان سے پاک ہوگی۔
● یاعلیؑ! تم شب پنجشنبہ کو جماع کرو گے تو جو بچہ پیدا ہوگا وہ حاکم شریعت ہوگا یا عالم۔
اور اگر روز پنجشنبہ ٹھیک دوپہر کے وقت جماع کرو گے تو آخر دم تک شیطان اس کے پاس نہ پھٹکے گا۔ اور خدا اس کو دین و دنیا کی سلامتی عطا فرمائے گا۔
● یاعلیؑ! اگر تم نے شب جمعہ کو جماع کیا تو جو بچہ پیدا ہوگا وہ فصاحت بیانی اور شیریں زبانی میں مشہور ہوگا۔ اور کوئی خطیب (لیکچرار) اس کی ہمسری نہ کر سکے گا۔
اور اگر روز جمعہ بعد نماز عصر جماع کیا تو جو بچہ پیدا ہوگا وہ عقلائے زمانہ میں شمار ہوگا۔
اگر شب جمعہ بعد نماز عشاء جماع کیا تو امید ہے جو بچہ پیدا ہو وہ ابدال میں شمار ہو۔
● یاعلیؑ! شب کی پہلی ساعت میں جماع نہ کرنا کیونکہ اگر بچہ پیدا ہوا تو شاید جادوگر ہو اور دنیا کو آخرت پر اختیار کرے۔
● حضرت امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ شب چہار شنبہ کو ہمبستری نامناسب ہے۔
● حضرت امام موسٰی کاظمؑ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی عورت سے تحت الشعاع میں جماع کرے وہ پہلے اپنے دل میں قرار دے لے کہ خلقت تمام ہونے سے پہلے حمل ساقط ہو جائے گا۔
● حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ شب اول ماہ مبارک میں جماع کرنا مستحب ہے۔
📚تہذیب الاسلام، باب4۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 279
🎅 سبز چائے کے غرارے 🎅
❣️ ایک عورت نے ڈاکٹر سے رجوع کیا:
ڈاکٹر نے پوچھا آپ کو کیا ہوا ہے؟
اس عورت نے جواب دیا:
ڈاکٹر صاحب! جب بھی میرا شوھر گھر تشریف لاتا ہے، مجھے مارتا اور پیٹتا ہے.
ڈاکٹر نے کہا:
جب بھی آپ کا شوھر گھر پر تشریف فرما ہو تو اسی وقت آپ سبز چائے کی پیالی لو اور منہ ڈال کر غرغرے کرو، اس کام کو دو ہفتہ تک انجام دو!!!
پھر دو ہفتہ کے بعد عورت اپنی ظاہری بہترین وضیعت کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کے پاس پہنچی اور ڈاکٹر سے کہا:
سبز چائے کیساتھ غرغرہ کرنا بہت بہتر ثابت ہوا ہے، کیونکہ جب بھی میرا شوہر گھر آتا تھا میں غرغرے کرنا شروع کر دیتی تھی، پھر اس کے بعد میرے شوہر نے مجھے مارنا پیٹنا چھوڑ دیا، اور ہمارا رابطہ بھی بہتر ہو گیا ہے، اور حتی مجھے دوست رکھتا ہے (I Love you) مجھے کہتا ہے. اور بہت کم غصہ ہوتاہے.
ڈاکٹر نے کہا: آپ نے خود ملاحظہ کیا کہ جتنا تم اپنی زبان کو قابوں میں رکھو گی اتنا ہی تمہارے میاں بیوی کے درمیان بہترین رابطہ برقرار رہے گا اور بہت سارے مسائل خود بخود حل ہوتے جائیں گے . !!!😊
😂🤡😂
https://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAAHTEN 🎅
1 279
💐 شوہر کا میکہ یا بیوی کا میکہ 💐
ایک روز شوہر نے پرسکون ماحول میں اپنی بیوی سے کہا؛ بہت دن گزر گئے ہیں میں نے اپنے گھر والوں، بہن، بھائیوں اور ان کے بچوں سے ملاقات نہیں کی ہے۔ میں ان سب کو گھر پر جمع ہونے کی دعوت دے رہا ہوں اس لیے براہ مہربانی تم کل دوپہر اچھا سا کھانا تیار کر لینا۔
بیوی نے گول مول انداز سے کہا؛ ان شاء اللہ خیر کا معاملہ ہو گا۔
شوہر بولا: تو پھر میں اپنے گھر والوں کو دعوت دے دوں گا۔
اگلی صبح شوہر اپنے کام پر چلا گیا اور دوپہر ایک بجے گهر واپس آیا۔ اس نے بیوی سے پوچھا:
کیا تم نے کھانا تیار کر لیا؟ میرے گھر والے ایک گھنٹے بعد آ جائیں گے!
بیوی نے کہا:
نہیں میں نے ابھی نہیں پکایا کیوں کہ تمہارے گھر والے کوئی انجان لوگ تو ہیں نہیں لہذا جو کچھ گھر میں موجود ہے وہ ہی کھا لیں گے۔
شوہر بولا:
اللہ تم کو ہدایت دے ... تم نے مجھے کل ہی کیوں نہ بتایا کہ کھانا نہیں تیار کرو گی، وہ لوگ ایک گھنٹے بعد پہنچ جائیں گے پھر میں کیا کروں گا۔
بیوی نے کہا:
ان کو فون کر کے معذرت کر لو ۔۔۔ اس میں ایسی کیا بات ہے وہ لوگ کوئی غیر تو نہیں آخر تمہارے گھر والے ہی تو ہیں۔
شوہر ناراض ہو کر غصے میں گھر سے نکل گیا۔
کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ بیوی نے دروازہ کھولا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ اس کے اپنے گھر والے، بہن، بھائی اور ان کے بچے گھر میں داخل ہو رہے ہیں!
بیوی کے باپ نے پوچھا: تمہارا شوہر کہاں ہے؟
وہ بولی: کچھ دیر پہلے ہی باہر نکلے ہیں۔
باپ نے بیٹی سے کہا:
تمہارے شوہر نے گزشتہ روز فون پر ہمیں آج دوپہر کے کھانے کی دعوت دی ۔۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دعوت دے کر خود گھر سے چلا جائے!
یہ بات سُن کر بیوی پر تو گویا بجلی گر گئی۔ اس نے پریشانی کے عالم میں ہاتھ ملنے شروع کر دیے کیونکہ گھر میں موجود کھانا اس کے اپنے گھر والوں کے لیے کسی طور لائق نہ تھا البتہ یقینا اس کے شوہر کے گھر والوں کے لائق تھا۔
اس نے اپنے شوہر کو فون کیا اور پوچھا: تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ دوپہر کے کھانے پر میرے گھر والوں کو دعوت دی ہے۔
شوہر بولا: میرے گھر والے ہوں یا تمہارے گھر والے ۔۔۔ فرق کیا پڑتا ہے۔
بیوی نے کہا:
میں منت کر رہی ہوں کہ باہر سے کھانے کے لیے کوئی تیار چیز لے کر آجاؤ، گھر میں کچھ نہیں ہے۔
شوہر بولا:
میں اس وقت گھر سے کافی دُور ہوں اور ویسے بھی یہ تمہارے گھر والے ہی تو ہیں کوئی غیر یا انجان تو نہیں۔ ان کو گھر میں موجود کھانا ہی کھلا دو جیسا کہ تم میرے گھر والوں کو کھلانا چاہتی تھیں.. "تاکہ یہ تمہارے لیے ایک سبق بن جائے جس کے ذریعے تم میرے گھر والوں کا احترام سیکھ لو" !
(لوگوں کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرو جیسا تم خود ان کی طرف سے اپنے ساتھ معاملہ پسند کرتے ہو)
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 279
🔷 انسان کے اعمال 🔷
نبی کریمؐ ایک سفر سے واپس آ رہے تھے، ایک جگہ آپ نے پڑاؤ ڈالا، بستی قریب تھی، ایک عورت تھی جس کا تنور تھا، اس نے لشکر کی روٹیاں بھی پکائیں، جب پکا کر فارغ ہو گئی تو صحابہ کرامؓ سے کہنے لگی۔۔۔
میں تمہارے صاحب سے بات کرنا چاہتی ہوں، صحابہ کرامؓ اُسے نبی کریمؐ کے پاس لے آئے۔
کہنے لگی اللہ کے پیارے رسولؐ! میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتی ہوں۔
فرمایا: پوچھو
کہنے لگی: میں ماں ہوں، تنور میں روٹیاں لگاتی ہوں، میرا ایک چھوٹا سا بچہ ہے، میں اس کو آگ کے قریب آنے نہیں دیتی کہ اس کو کہیں گرم ہوا نہ لگ جائے، خود آگ میں ڈبکیاں لگاتی ہوں، روٹی لگانے اور نکالنے کے لیے۔ لیکن میں اپنے بچے کو گرم ہوا کا لگنا بھی پسند نہیں کرتی، تو میں نے آپ سے سُنا تھا کہ ساری دنیا کی ماؤں کی محبتوں کو جمع کر دیا جائے، اس سے ستر گناہ زیادہ بندوں سے اللہ پاک محبت کرتے ہیں تو اللہ پاک بندے کو جہنم میں جانا کیسے پسند فرمائیں گے؟
حدیثِ پاک میں آتا ہے کہ نبی کریمؐ نے یہ بات سُن کر سر جھکایا، مبارک آنکھوں میں آنسو آنے لگے، روتے رہے، روتے رہے، حتیٰ کہ جبرائیلؑ اللہ کا پیغام لے کر آئے، میرے محبوب! اس عورت کو بتا دیں؛
"وما ظلمھم اللہ ولکن کانوا انفسھم یظلمون۔"
ترجمہ:
"اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا، انہوں نے اپنی جانوں پر خود ظلم کیا"
اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری، کیونکہ اللہ تو چاہتا ہے کہ یہ بچ جائیں، لیکن بات یہ ہے کہ توبہ نہیں کرتے، توبہ کی طرف آتے ہی نہیں، بلکہ رب کی ماننے کے بجائے شیطان کی مانتے پھرتے ہیں، اور توبہ کو ضائع کرتے ہیں، بھول جاتے ہیں، تو یہ تو اپنے عمل کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے۔
(کذافی المرقات واللمعات۔ گناہوں کے پہاڑ اور بخشش کا سیلاب212)
کتاب: اہل دل کے تڑپا دینے والے واقعات۔
http://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 279
⭕ اللہ تک پہنچنے کا طریقہ ⭕
حضرت بہلول دانا ؒ کے زمانے میں بغداد کے بادشاہ کی دلی
تمنا تھی کہ حضرت بہلول دانا ؒ اس سے ملاقات کریں لیکن
آپؒ کبھی بھی بادشاہ کے دربار میں تشریف نہ لے گئے۔۔۔
ایک دن یوں ہوا کہ بادشاہ چھت پر بیٹھا تھا کہ اس نے
حضرت بہلول دانا ؒ کو شاہی محل کے قریب سے گزرتے
دیکھا . فورًا حکم دیا کہ حضرت بہلول داناؒ کو کمند ڈال
کر محل کی چھت پر کھینچ لیا جائے۔۔۔
چنانچہ ایسا ہی کیا گیا . جب آپؒ بادشاہ کے سامنے پہنچے
تو بادشاہ نے پوچھا یہ فرمائیے آپ اللہ تک کیسے پہنچے۔؟
فرمایا : جس طرح آپ تک پہنچا . بادشاہ نے عرض کی
” میں سمجھا نہیں ” فرمایا ، ” اے بادشاہ ! اگر میں خود
آپ تک پہنچنا چاہتا تو نہا دھو کر ، لباس فاخرہ پہن کر ،
دربان کی منتیں کر کے محل کے اندر داخل ہوتا۔۔۔
پھر عرضی پیش کرتا ، پھر گھنٹوں انتظار کرتا ، پھر بھی
ممکن تھا کہ آپ میری درخواست رد کر دیتے۔۔۔
لیکن جب آپ نے خود مجھے بلانا چاہا تو محض کچھ
لمحوں میں ہی اپنے سامنے بلا لیا . اسی طرح جب اللہ
کو اپنے بندے کی کوئی ادا پسند آتی ہے تو اسے لمحوں
میں قرب کی وہ منزلیں طے کروا دی جاتی ہیں جو بڑے
بڑے عابدوں کیلئے باعث رشک بن جاتی ہیں۔۔۔
Copied
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 279
🔷 اللہ سے محبت 🔷
بغداد میں ایک بدمعاش نے ایک عورت کو پکڑ لیا اور خنجر نکال کر اسکے گلے پر رکھ دیا۔ لوگ دور سے ڈر سہم کر تماشہ دیکھ رہے تھے، مگر کسی کی جرأت نہیں تھی کہ وہ اس عورت کو اس بدمعاش کے چنگل سے آزاد کرائے۔
اتنے میں ایک بزرگ کا وہاں سے گزر ہوا وہ اس بدمعاش کے قریب ہوئے اسکے کان میں کچھ کہا اور آگے بڑھ گئے۔
اس بدمعاش پر لرزہ طاری ہوگیا اور ایک دم بے ہوش ہوکر گر پڑا، خنجر ہاتھ سے گرگیا اور وہ عورت وہاں سے بھاگ گئی۔ لوگ بھی سارے حیران تھے کہ یہ کیا ماجرا ہوا۔
جب بدمعاش ہوش میں آیا تو لوگوں سے اس بدمعاش نے پوچھا کہ
"یہ بزرگ کون تھے؟"
حاضرین میں کسی نے پکار کرکہا؛ "زمانے کے ولی بشر حافی"
وہ بدمعاش بولا؛ انہوں نے میرے کان میں کہا۔۔۔
"تیرے اس فعل کو اللہ پاک دیکھ رہا ہے۔"
میں خوف سے کانپ اٹھا اور مجھ پر لرزہ ہوگیا مجھے احساس ہوا کہ میں کتنا بے شرم اور بے غیرت ہوں کہ مجھے میرا رب دیکھ رہا ہے اور میں پھر بھی بے حیائی کا کام کر رہا ہوں۔ بس مجھے اس احساس نے تڑپا کر گرایا اور میں بے ہوش ہوگیا۔
کہتے ہے کہ وہ بدمعاش نہایت چیخیں مار مار کر روتا تھا کہ خوف کی وجہ سے اسکو بخار ہوا اور ایک ہفتے کے اندر اندر اسکی وفات ہوگئی۔
عزیزم! عورت سے محبت کرنے والا محبوبہ کی موجودگی میں غیر عورت پر ہرگز نظریں نہیں ڈالتا ہم کیسے عاشق ہیں کہ اللہ اور رسول سے محبت کے دعوے بھی کرتے ہیں اور گناہوں پر قائم بھی رہتے ہیں۔
جو کرتا ہے تو چھپ چھپ کر اہل جہاں سے...
کوی دیکھ رہا ہے تجھے آسمان سے...!!
Copied
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 279
🎅 جیسی نیت ویسی مراد 🎅
ریلوے اسٹیشن پر ٹرین رکی. مسافر اترے اور کئی سوار ھوئے۔ جب بالکل ٹرین چلنے کا وقت ھوا ہلکی سی ٹرین کھسکنے لگی تو ٹرین میں بیٹھے ایک مسافر نے دوسرے سے کہا کہ دیکھو تماشہ....
اس نے جلدی سے چلتی ٹرین سے ھاتھ باھر نکال کر اخبار والے کو آواز دی کہ اخبار دیدو اور اپنا جعلی سکہ اسکو تھما دیا اور اس سے اخبار لے لیا...
ٹرین تیزی سے پلیٹ فارم کراس کر گئی اس نے خوب قہقہے لگائے اور ساتھی سے کہا دیکھا میرا کمال..؟
کچھ منٹ بعد جب اخبار کھول کر پڑھنے لگا تو کچھ خبریں پرانی سی محسوس ھوئیں... غور سے دیکھا تو... اوہ یہ تو پچھلے ھفتہ کا اخبار ھے.
اب کی دفعہ قہقہے لگانے کی باری ساتھی مسافر کی تھی اور مسافر بولا؛ واقعی آج تماشہ دیکھا.
😂🤡😂
جیسی نیت ویسی مراد . جو دو گے لوٹ کر آئیگا دھوکہ چاھے دیانت داری ..
محبوب الرحمٰن
https://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
1 279
ترجمہ:
"تم میں سے کسی شخص کو کیا چیز روکتی ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرے، خواہ وہ زندہ ہوں یا وفات پا چکے ہوں؟ ان کی طرف سے نماز پڑھے، صدقہ دے، حج کرے اور روزہ رکھے۔ جو کچھ وہ ان کی طرف سے کرے گا، اس کا اجر اسے بھی ملے گا، اور اللہ تعالیٰ اس کی نیکی اور صلہ رحمی کی وجہ سے اس کے لیے بہت زیادہ خیر میں اضافہ فرمائے گا۔"
📚 الکافی، ج 2، کتاب الایمان والکفر، باب البر بالوالدین
🌸 2۔ والدین کی طرف دیکھنا بھی عبادت
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
مَنْ نَظَرَ إِلَى أَبَوَيْهِ نَظَرَ مَاقِتٍ وَهُمَا ظَالِمَانِ لَهُ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً۔
اس روایت میں والدین کے ساتھ بدسلوکی اور ان کی طرف تحقیر و نفرت کی نگاہ سے دیکھنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔
📚 الکافی، ج 2، باب العقوق
🌿 3۔ والدین کو خوش کرنا
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:
إِنَّ أَبِي عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَظَرَ إِلَى رَجُلٍ مَعَهُ ابْنُهُ يَمْشِي وَالِابْنُ مُتَّكِئٌ عَلَى ذِرَاعِ الْأَبِ، قَالَ: فَمَا كَلَّمَهُ أَبِي عَلَيْهِ السَّلَامُ مَقْتًا لَهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا۔
یہ روایت والدین کے ادب اور ان کے ساتھ ایسا طرزِ عمل اختیار کرنے کی اہمیت بیان کرتی ہے جو ان کے مقام کے شایانِ شان ہو۔
📚 الکافی، ج 2، باب العقوق
🌹 4۔ والدین کے ساتھ نیکی بڑے واجبات میں سے ہے
امام علیؑ سے منقول ہے:
بِرُّ الْوَالِدَيْنِ أَكْبَرُ فَرِيضَةٍ۔
ترجمہ:
"والدین کے ساتھ نیکی سب سے بڑے فرائض میں سے ہے۔"
📚 غرر الحکم و درر الکلم
🌺 5۔ والدین کی نافرمانی
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
مَنْ نَظَرَ إِلَى أَبَوَيْهِ نَظَرَ مَاقِتٍ وَهُمَا ظَالِمَانِ لَهُ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً۔
ترجمہ:
"جو شخص اپنے والدین کی طرف نفرت اور ناراضی کی نگاہ سے دیکھے، اگرچہ وہ اس پر ظلم ہی کیوں نہ کر رہے ہوں، اللہ اس کی نماز قبول نہیں کرتا۔"
📚 الکافی، ج 2، باب العقوق
مجلس میں اس روایت کے ساتھ یہ نکتہ بہت مؤثر ہے:
والدین سے اختلاف ہو سکتا ہے، مگر اختلاف کی صورت میں بھی بدتمیزی، تحقیر اور دل آزاری مؤمن کا طریقہ نہیں۔
🌿 6۔ والدین کے لیے دعا
قرآن کی تعلیم:
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
ترجمہ:
"اے میرے پروردگار! ان دونوں پر رحم فرما، جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔"
📖 سورۂ اسراء، آیت 24
یہ دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ والدین کی خدمت صرف عملی ذمہ داری نہیں بلکہ عبادت اور شکرگزاری بھی ہے۔۔
🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷
1 279
11۔ والدین کی وفات کے بعد بھی ان کا حق
امام صادقؑ کی روایت کے مطابق والدین کی وفات کے بعد بھی ان کے لیے:
نماز
صدقہ
حج
روزہ
دعا
جیسے اعمال کا ثواب پہنچایا جا سکتا ہے۔
مجلس کا مؤثر جملہ:
والدین کی قبر بند ہو سکتی ہے،
مگر اولاد کی نیکی کا راستہ بند نہیں ہوتا۔
12۔ امام زین العابدینؑ کی دعا
صحیفۂ سجادیہ میں امام زین العابدینؑ والدین کے لیے دعا کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أَهَابُهُمَا هَيْبَةَ السُّلْطَانِ الْعَسُوفِ، وَأَبَرُّهُمَا بِرَّ الْأُمِّ الرَّؤُوفِ۔
مفہوم:
"اے اللہ! مجھے ایسا بنا کہ میں اپنے والدین کا ادب اس طرح کروں جیسے سخت گیر بادشاہ کا ادب کیا جاتا ہے، اور ان کے ساتھ ایسی نیکی کروں جیسے شفیق ماں نیکی کرتی ہے۔"
پھر امامؑ دعا کرتے ہیں کہ والدین کی اطاعت اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک انہیں اپنی آنکھوں کے لیے نیند سے بھی زیادہ محبوب اور پیاسے کے لیے ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ خوشگوار ہو۔
📚 صحیفۂ سجادیہ، دعائے 24
13۔ والدین کی اطاعت ایمان سے تعلق رکھتی ہے
روایات میں رسولِ اکرم ﷺ سے منقول ہے کہ والدین کی اطاعت و نیکی ایمان کے اہم مظاہر میں سے ہے۔
یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ معصیتِ خدا میں کسی کی اطاعت نہیں؛ والدین کا احترام اور حسنِ سلوک اپنی جگہ، جبکہ اللہ کی نافرمانی میں اطاعت نہیں کی جاتی۔
14۔ والدین کی خدمت سب سے عظیم فرائض میں
امیرالمؤمنین امام علیؑ سے منقول ہے:
بِرُّ الْوَالِدَيْنِ أَكْبَرُ فَرِيضَةٍ۔
ترجمہ:
"والدین کے ساتھ نیکی سب سے بڑے فرائض میں سے ہے۔"
📚 غرر الحکم؛ یہ مضمون روایات کے مجموعوں میں بھی نقل ہوا ہے۔
15۔ والدین کا شکر، اللہ کا شکر
امام رضاؑ سے منقول ہے:
إِنَّ اللَّهَ... أَمَرَ بِشُكْرِ اللَّهِ وَالْوَالِدَيْنِ، فَمَنْ لَمْ يَشْكُرْ وَالِدَيْهِ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ۔
ترجمہ:
"اللہ نے اپنے شکر اور والدین کے شکر کا حکم دیا ہے؛ پس جو اپنے والدین کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔"
📚 روایاتِ حقوقِ والدین میں منقول
16۔ والدین کی خدمت کا اثر نسلوں تک
امام صادقؑ:
بَرُّوا آبَاءَكُمْ يَبَرَّكُمْ أَبْنَاؤُكُمْ۔
ترجمہ:
"اپنے والدین سے نیکی کرو تاکہ تمہاری اولاد تم سے نیکی کرے۔"
📚 الکافی، ج 5،
17۔ والدین بوڑھے ہوجائیں تو ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے
قرآن کہتا ہے:
إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ۔
"اگر ان دونوں میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہنا۔"
📖 سورۂ اسراء، 17:23
یعنی والدین کی کمزوری کے وقت اولاد کا صبر، محبت اور خدمت مزید بڑھنی چاہیے۔
18۔ والدین کے لیے عاجزی اختیار کرنا
قرآن فرماتا ہے:
وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ۔
"اور رحمت کے ساتھ ان کے لیے عاجزی کا بازو جھکا دو۔"
📖 سورۂ اسراء، 17:24
یہ صرف مالی خدمت نہیں؛ لہجہ، رویہ، چہرہ اور گفتگو بھی خدمت کا حصہ ہیں۔
19۔ والدین کے لیے دعا
قرآن ہمیں سکھاتا ہے:
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا۔
ترجمہ:
"اے میرے پروردگار! ان دونوں پر رحم فرما، جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔"
📖 سورۂ اسراء، 17:24
20۔ آخری اور بہت اہم سبق
اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک صرف اس وقت نہیں جب وہ ہماری مرضی کے مطابق ہوں؛ بلکہ امام باقرؑ کی روایت میں نیک یا بد ہونے کی صورت میں بھی والدین کے ساتھ نیکی کا حکم بیان ہوا ہے۔
🌹 مجلس کا اختتامی پیغام
مؤمنین!
ماں نے ہمیں چلنا سکھایا،
باپ نے ہمیں چلنے کا راستہ دیا۔
ہماری پہلی دعا سے پہلے
انہوں نے ہمارے لیے دعائیں کیں۔
ہم بولنا سیکھنے سے پہلے
ان کے دل نے ہماری خاموشی سمجھ لی۔
اس لیے جب والدین زندہ ہوں تو:
ان کی خدمت کرلو،
ان کے پاس بیٹھ لو،
ان کا ہاتھ چوم لو،
ان کی بات سن لو،
ان کے دل کو خوش کرلو۔
کیونکہ ایک دن ایسا بھی آتا ہے کہ انسان کے پاس دولت ہوتی ہے، گھر ہوتا ہے، اولاد ہوتی ہے، مگر ماں کی آواز اور باپ کا سایہ واپس نہیں آتا۔
اور اگر والدین دنیا سے جاچکے ہیں تو آج ہی ان کے لیے دعا، صدقہ اور ایصالِ ثواب کا اہتمام کریں۔
:
🌿 1۔ والدین کی طرف محبت سے دیکھنا
امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے:
مَا يَمْنَعُ الرَّجُلَ مِنْكُمْ أَنْ يَبَرَّ وَالِدَيْهِ حَيَّيْنِ أَوْ مَيِّتَيْنِ، يُصَلِّيَ عَنْهُمَا، وَيَتَصَدَّقَ عَنْهُمَا، وَيَحُجَّ عَنْهُمَا، وَيَصُومَ عَنْهُمَا، فَيَكُونَ الَّذِي صَنَعَ لَهُمَا وَلَهُ مِثْلُ ذَلِكَ، فَيَزِيدُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِبِرِّهِ وَصِلَتِهِ خَيْرًا كَثِيرًا۔
1 279
🌹 عظمت والدین کے بارے احادیث 🌹
روایاتِ اہلِبیتؑ کی روشنی میں — 20 احادیث۔۔۔
1۔ والدین کے ساتھ نیکی، اللہ کی معرفت کی علامت
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
بِرُّ الْوَالِدَيْنِ مِنْ حُسْنِ مَعْرِفَةِ الْعَبْدِ بِاللَّهِ، إِذْ لَا عِبَادَةَ أَسْرَعُ بُلُوغًا بِصَاحِبِهَا إِلَى رِضَا اللَّهِ مِنْ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ۔
ترجمہ:
"والدین کے ساتھ نیکی بندے کی اللہ کے بارے میں اچھی معرفت کی علامت ہے، کیونکہ والدین کے ساتھ نیکی سے بڑھ کر کوئی عبادت انسان کو اللہ کی رضا تک اتنی جلدی پہنچانے والی نہیں۔"
📚 بحار الأنوار، ج 74، ص 77
مجلس کا نکتہ:
اگر کوئی شخص اللہ کی رضا چاہتا ہے تو والدین کے ساتھ اس کا رویہ اس کی عبادت کا اہم آئینہ ہے۔
2۔ والدین جنت اور جہنم کا ذریعہ
رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:
كُنْ بَارًّا وَاقْتَصِرْ عَلَى الْجَنَّةِ، وَإِنْ كُنْتَ عَاقًّا فَاقْتَصِرْ عَلَى النَّارِ۔
ترجمہ:
"والدین کے ساتھ نیکی کرنے والے بنو، تمہارا انجام جنت ہے؛ اور اگر والدین کے نافرمان بنو گے تو تمہارا انجام جہنم ہے۔"
📚 الکافی، ج 2، ص 348
3۔ والدین چاہے نیک ہوں یا گناہ گار
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:
ثَلَاثٌ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِأَحَدٍ فِيهِنَّ رُخْصَةً... وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ بَرَّيْنِ كَانَا أَوْ فَاجِرَيْنِ۔
ترجمہ:
"تین امور ایسے ہیں جن میں اللہ نے کسی کو رخصت نہیں دی... ان میں سے ایک والدین کے ساتھ نیکی ہے، خواہ وہ نیک ہوں یا بدکردار۔"
📚 الکافی، ج 2، ص 162؛ تہذیب الاحکام، ج 6، ص 350
مجلس کا نکتہ:
اولاد کا فرض یہ نہیں کہ وہ والدین کے کردار کا فیصلہ کرے؛ اس کا فرض ہے کہ جائز حدود میں ان کے ساتھ ادب و احسان کرے۔
4۔ ماں کا حق تین مرتبہ
امام جعفر صادقؑ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے والدین کے ساتھ نیکی کے بارے میں پوچھا تو فرمایا:
اِبْرِرْ أُمَّكَ، اِبْرِرْ أُمَّكَ، اِبْرِرْ أُمَّكَ، اِبْرِرْ أَبَاكَ...
ترجمہ:
"اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرو، اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرو، اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرو، پھر اپنے باپ کے ساتھ نیکی کرو۔"
📚 الکافی، ج 2، ص 162
5۔ والدین کے ساتھ اچھا سلوک، اولاد کے لیے بھی خیر
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
بَرُّوا آبَاءَكُمْ يَبَرَّكُمْ أَبْنَاؤُكُمْ۔
ترجمہ:
"اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرو، تمہاری اولاد تمہارے ساتھ نیکی کرے گی۔"
📚 الکافی، ج 5، ص 554
مجلس کا نکتہ:
جو سلوک ہم اپنے والدین کے ساتھ کرتے ہیں، وہی ہماری اولاد کے لیے ایک خاموش تربیت بن جاتا ہے۔
6۔ والدین کی خدمت، عمر اور رزق میں برکت
رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:
مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُمَدَّ لَهُ فِي عُمْرِهِ وَأَنْ يُزَادَ فِي رِزْقِهِ فَلْيَبَرَّ وَالِدَيْهِ وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ۔
ترجمہ:
"جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی عمر دراز ہو اور اس کے رزق میں اضافہ ہو، اسے چاہیے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرے اور صلۂ رحمی کرے۔"
📚 وسائل و دیگر مصادر میں منقول؛ مجموعۂ روایات میں بھی درج ہے۔
7۔ والدین کی طرف محبت سے دیکھنا
روایات میں آیا ہے:
نَظَرُ الْوَلَدِ إِلَى وَالِدَيْهِ حُبًّا لَهُمَا عِبَادَةٌ۔
ترجمہ:
"اولاد کا اپنے والدین کو محبت کی نگاہ سے دیکھنا عبادت ہے۔"
📚 بحار الأنوار، ابواب البر بالوالدین
یہ روایت والدین کے ساتھ محبت، احترام اور قلبی تعلق کی اہمیت بیان کرتی ہے۔
8۔ والدین کو "اُف" کہنا بھی منع ہے
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
لَوْ عَلِمَ اللَّهُ شَيْئًا أَدْنَى مِنْ أُفٍّ لَنَهَى عَنْهُ، وَهُوَ مِنْ أَدْنَى الْعُقُوقِ۔
ترجمہ:
"اگر اللہ تعالیٰ 'اُف' سے بھی کم کوئی چیز جانتا تو اس سے بھی منع فرماتا؛ اور 'اُف' کہنا والدین کی نافرمانی کی معمولی ترین صورتوں میں سے ہے۔"
📚 الکافی، ج 2، ص 349 کے حوالے سے منقول
9۔ والدین کو سخت نظروں سے دیکھنا
اسی روایت میں امام صادقؑ فرماتے ہیں:
وَمِنَ الْعُقُوقِ أَنْ يَنْظُرَ الرَّجُلُ إِلَى وَالِدَيْهِ فَيُحِدَّ النَّظَرَ إِلَيْهِمَا۔
ترجمہ:
"والدین کی نافرمانی میں یہ بھی شامل ہے کہ انسان اپنے والدین کو سخت اور غضب ناک نگاہ سے دیکھے۔"
📚 الکافی، ج 2، باب العقوق
10۔ والدین دنیا سے چلے جائیں تو بھی نیکی کا دروازہ بند نہیں ہوتا
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
مَا يَمْنَعُ الرَّجُلَ مِنْكُمْ أَنْ يَبَرَّ وَالِدَيْهِ حَيَّيْنِ أَوْ مَيِّتَيْنِ...
ترجمہ:
"تم میں سے کسی شخص کو کیا چیز روکتی ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرے، خواہ وہ زندہ ہوں یا وفات پاچکے ہوں؟"
پھر امامؑ نے والدین کی طرف سے نماز، صدقہ، حج اور روزہ انجام دینے کا ذکر فرمایا۔
📚 بحار الأنوار، ج 74، ص 46
1 279
🔷 سب سے زیادہ میٹھی چیز 🔷
ایک مرتبہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیز کو آدھی سلطنت دینے کو کہا ، لیکن ساتھ میں کچھ شرائط بھی عائد کیں۔
وزیر نے لالچ میں آکر شرائط جاننے کی درخواست کی بادشاہ نے شرائط 3 سوالوں کی صورت میں بتائیں۔
سوال نمبر 1: دنیا کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے؟
سوال نمبر 2 : دنیا کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے؟
سوال نمبر 3 : دنیا کی سب سے میٹھی چیز کیا ہے ؟
بادشاہ نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ وہ ان تین سوالوں کے جواب ایک ہفتہ کے اندر اندر بتائے بصورت دیگر سزائے موت سنائی جائے گی۔
وزیر نے سب پہلے دنیا کی بڑی سچائی جاننے کے لئے ملک کے تمام دانشوروں کو جمع کیا اور ان سے سوالات کے جواب مانگے۔۔۔
انہوں نے اپنی اپنی نیکیاں گنوائیں۔ لیکن کسی کی نیکی بڑی اور کسی کی چھوٹی نکلی لیکن سب سے بڑی سچائی کا پتہ نہ چل سکا۔
اس کے بعد وزیر نے دنیا کا سب سے بڑا دھوکا جاننے کے لئے کہا تو تمام دانشور اپنے دیئے ہوئے فریب کا تذکرہ کرتے ہوئے سوچنے لگے کہ کس نے کس کو سب سے بڑا دھوکا دیا لیکن وزیر اس سے بھی مطمئن نہیں ہوا اور سزائے موت کے خوف سے بھیس بدل کر وہاں سے فرار ہوگیا۔۔
چلتے چلتے رات ہوگئی، اسی دوران اس کو ایک کسان نظر آیا جو کھرپی سے زمین کھود رہا تھا۔
کسان نے وزیر کو پہچان لیا، وزیر نے اس کو اپنی مشکل بتائی جسے سن کر کسان نے اس کے سوالوں کے جواب کچھ یوں دیئے۔۔۔
دنیا کی سب سے بڑی سچائی موت ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا دھوکا زندگی ہے۔
تیسرے سوال کا جواب بتانے سے پہلے کسان نے کہا کہ میں اگر تمہارے سارے سوالوں کے جواب بتادوں تو مجھے کیا ملے گا، سلطنت تو تمہارے ہاتھ آئے گی۔
یہ سن کر وزیر نے اسے بیس گھوڑوں کی پیشکش کی اور اسے ہی اصطبل کا نگران بنانے کی بھی پیشکش کی۔
کسان نے یہ سن کر جواب دینے سے انکار کر دیا.
وزیر نے سوچا کہ یہ تو آدھی سلطنت کا خواب دیکھ رہا ہے۔ وزیر جانے لگا تو کسان بولا کہ اگر بھاگ جاؤ گے تو ساری زندگی بھاگتے رہو گے اور بادشاہ کے بندے تمہارا پیچھا کرتے رہیں گے اور اگر پلٹو گے تو جان سے مارے جاؤگے۔
یہ سن کر وزیر رک گیا اور کسان کو آدھی سلطنت کی پیشکش کی لیکن کسان نے اسے لینے سے انکار کر دیا۔ اتنے میں ایک کتا آیا اور پیالے میں رکھے ہوئے دودھ میں سے آدھا پی کر چلا گیا۔
کسان نے وزیر سے کہا مجھے آدھی سلطنت نہیں چاہیے بس تم اس بچے ہوئے دودھ کو پی لو تو میں تمہارے تیسرے سوال کا جواب بتادوں گا۔
یہ سن کر وزیر تلملا گیا مگر اپنی موت اور جاسوسوں کے ڈر سے اس نے دودھ پی لیا۔ وزیر نے دودھ پی کر کسان کی طرف دیکھا اور اپنے سوال کا جواب مانگا۔
تو کسان نے کہا کہ
دنیا کی سب سے میٹھی چیز انسان کی غرض ہے، جس کے لئے وہ ذلیل ترین کام بھی کر جاتا ہے...
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 279
🔵 اندھا اور لنگڑا 🔵
وہ اداسی سے میرے سامنے آ کر بیٹھ گئی ..
میں نے ناک کی نوک پر دھرے چشمے کے اوپرسے اسے مسکرا کر دیکھا اور سمجھ گیا کہ آج پھر موسم ابر آلود ہے ممکن ہے گرج چمک کے ساتھ بارش بھی ہوئی ہو مطلع صاف ہونے میں وقت لگے گا، اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا اس نے ہاتھ بڑھا کر میرا لیپ ٹاپ بند کر دیا اور بولی
"ماموں میں آج بہت اداس ہوں"
میں نےاس کے سر پر چپت لگائی اور کہا
"لو تو اس میں کون سی نئی بات ہے؟"
نہیں کریں ناں بھئی؟
وہ مصنوعی ناراضگی سے بولی۔
تو میں نے پیار سے اسے اپنے قریب کر لیا
"اچھا بتاؤ کیا بات ہے ہم ہیں نا!
دیکھو ہم ماموں ہی نہیں پکے والے دوست بھی تو ہیں"
میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
کچھ دیر دیکھتا رہا مگر آج وہ کافی اداس تھی میں نے کہا۔
"ہوا کیا ہے باجی؟
بہن سے پانی پت کی لڑائی ہوئی ہے یا امی نے آئی ایم ایف کی طرح فنڈ منظور کرنے سے انکار کر دیا ہے۔؟
وہ بولی
"نہیں بھئی"
میں نے کہا۔۔
اچھا کچھ بولو تو؟
ماموں آخر یہ میری فرینڈز ایسی کیوں ہیں، مجھے سمجھتی ہی نہیں اور پھر
شکایتوں کا پنڈورا بکس کھل گیا۔ میں توجہ سے سننے لگا مجھے معلوم تھا بیٹیوں کا آدھا مسئلہ سننے سے حل ہو جاتا ہے جب وہ خوب بول کر چپ ہوئی تو بادل کافی چھٹ چکے تھے۔
میں نے دو انگلیوں سے اس کی ناک پکڑی اور کہا بس؟
کچھ اور؟
اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔ میں نے کہا دیکھو میری پیاری ایک گاؤں میں آگ لگ گئی سارے گاؤں والے بھاگ گئے مگر وہاں ایک اندھا تھا اور ایک لنگڑا۔ وہ باقی رہ گئے لنگڑے نے اندھے سے کہا؛ جان بچانی ہے تو مجھے کندھے پر بٹھا لو میں راستہ بتاؤں گا، تم چلنا ہم دونون بھی بچ جائیں گے اور پھر یہی ہوا وہ دونوں بھی بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔۔۔۔ کہانی ختم
مگر اس کہانی سے میرا کیا تعلق ؟
وہ حیرت سے بولی۔
میں نے مسکرا کر کہا؛
ہے نا تعلق!
دیکھو! بیٹی زندگی میں ہم میں سے کوئی مکمل نہیں ہر ایک میں خامیاں ہیں اور اچھی زندگی کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے اردگرد موجود لوگوں کی خامیوں کے ساتھ چلنا سیکھیں دیکھو پرفیکٹ تو یہاں کوئی بھی نہی،
جب بھی دوسروں کے عیب برے لگنے لگیں تو خود سے پوچھو کہ کیا میں پرفیکٹ ہوں؟ نہیں تو پھر بس دوسرا بھی نہیں ہے، ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ گزارا کرنا ہو گا۔۔۔۔
دیکھو! بیٹی دوسروں کی خوبیوں اور اپنی خامیوں پر نظر رکھو، ان کی وکیل اور اپنے لئے جج بنو، انہیں رعایت دو تب ہی زندگی اچھی گزر سکے گی۔۔۔
میں نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا؛ میری بچی اس دنیا میں ساری خواہشات تو بادشاہوں کی بھی پوری نہیں ہوتیں، نہ ہی ہم سب کو اپنی پسند کے لوگ اپنے اردگرد جمع کرنے کا موقعہ ملتا ہے، ہمیں اکثر بس "گزارہ " کرنا ہوتا ہے اپنی مرضی تو بس جنت میں چلے گی اور خووووب چلے گی،
وہ مسکرا دی۔۔۔۔
خود کلامی۔۔۔زبیر منصوری
http://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 279
🔷 حماقت خدائی قہر 🔷
حضرت عیسیٰ علیہ السلام تیز تیز قدم اُٹھاتے ہوئے ایک پہاڑ کی طرف جا رہے تھے۔ ایک آدمی نے بُلند آواز سے پُکار کر کہا۔۔۔
"اے خُدا کے نبیؑ! آپ اِس وقت کہاں تشریف لے جا رہے ہیں، آپ کے پیچھے کوئی دشمن بھی نظر نہیں آ رہا پھر آخر آپ کی وجہ خوف کیا ہے۔؟"
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:
"میں ایک احمق آدمی سے بھاگ رہا ہوں، تُو میرے بھاگنے میں خلل مت ڈال۔"
اُس آدمی نے کہا:
"یاحضرت آپ کیا وہ مسیح علیہ السلام نہیں ہیں جن کی برکت سے اندھا اور بہرا شفایاب ہو جاتا ہے۔؟"
آپؑ نے فرمایا: "ہاں"
اُس آدمی نے کہا:
"کیا آپ وہ بادشاہ نہیں ہیں جو مُردے پر کلامِ الہٰی پڑھتے ہیں اور وہ اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔؟"
آپؑ نے فرمایا: "ہاں"
اُس آدمی نے کہا:
"کیا آپ وہ ہی نہیں ہیں کہ مٹی کے پرندے بنا کر اُن پے دَم کر دیں تو وہ اُسی وقت ہَوا میں اُڑنے لگتے ہیں۔؟"
آپؑ نے فرمایا: "بیشک میں وہی ہوں۔"
تو اُس شخص نے حیرانگی سے پوچھا کہ "اللہ نے آپ کو اِس قدر قوت عطا کر رکھی ہے تو پھر آپ کو کس کا خوف ہے۔؟"
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:
"اُس رب العزت کی قسم کہ جس کے اسمِ اعظم کو میں نے اندھوں اور بہروں پر پڑھا تو وہ شفایاب ہو گئے، پہاڑوں پر پڑھا تو وہ ہٹ گئے، مُردوں پر پڑھا تو وہ جی اُٹھے لیکن وہی اسمِ اعظم میں نے احمق پر لاکھوں بار پڑھا لیکن اُس پر کچھ اثر نہ ہُوا۔"
اُس شخص نے پوچھا:
"یاحضرت! یہ کیا ہے کہ اسمِ اعظم اندھوں، بہروں اور مُردوں پر تو اثر کرے لیکن احمق پر کوئی اثر نہیں کرتا حالانکہ حماقت بھی ایک مرض ہے۔؟"
تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا؛ "حماقت کی بیماری خُدائی قہر ہے۔"
درسِ حیات: "بیوقوف کی صحبت سے تنہائی بہتر ہے۔"
📚 حکایاتِ رومیؒ، جلال الدین رومی حکایت نمبر6۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
