en
Feedback
|-|ard Talk جلی کٹی

|-|ard Talk جلی کٹی

Open in Telegram

Cartoonist, Journalist, Researcher Journalism Is Not A Crime ہمارا فیسبک پیج بھی ضرور لائک کریں https://www.facebook.com/profile.php?id=61564417160250&mibextid=ZbWKwL

Show more
1 748
Subscribers
No data24 hours
+207 days
+4330 days
Posts Archive
قیام کرنا پڑے گا، لیکن اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوگی، ہر گھر، گاؤں، اور شہر تباہی کی لپیٹ میں آ چکا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ جلد از جلد اہلیان پاکستان کو جلد از جلد اسلامی نظام کے سائے میں زندگی بسر کرنے کا موقع عطا فرمائے۔آمین۔

عیدالفطر کی مناسبت سے امیر تحریک طالبان پاکستان ابومنصورعاصم مفتی نورولی محسود حفظہ اللہ کا پیغام بِسْمِ اللہ الرّٙحْمٰنِ الرّٙحِیْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ، أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٙنِ الرَّحِيمِ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرة: ۱۸۳) وقال تعالیٰ: وَقَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّىٰ ١٤ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ ١٥ (الأعلى: ۱۴- ۱۵) ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کر دیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تمہارے اندر تقوی پیدا ہو۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور اُس نے فلاح پائی جس نے پاکیزگی اختیار کی ، اور اپنے پروردگار کا نام لیا اور نماز پڑھی۔ سب سے پہلے میں پوری امت مسلمہ کو عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتا ہوں، خصوصاً ان شہداء اور اسیران کے اہلِ خانہ کو دلی مبارکباد دیتا ہوں جنہوں نے جاری اسلامی انقلاب میں بے مثال قربانیاں دیں اور جہاد کو اپنے خون سے سینچا۔ میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا گو ہوں کہ وہ رمضان المبارک کے تمام اعمال (روزے، اعتکاف، نمازیں، عمرے، خیرات و صدقات وغیرہ) کو قبول فرمائے، ان کے گناہوں کو معاف فرمائے، تمام مسلمانوں کو جنت نصیب کرے، امت مسلمہ کی حاجات اور ضروریات کو پورا فرمائے، اور جس آزمائش میں امت مبتلا ہے، اللہ تعالیٰ اسے خیر و عافیت کے ساتھ ختم فرمائے۔ خصوصاً غزہ کے مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور پوری امت کو ان کی مدد کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین۔ محترم بھائیو! اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک (جو کہ مجاہدہ، خواہشات کو کنٹرول کرنے، اور اللہ کی رضا کے لیے اپنی خوشیوں اور خواہشات کو قربان کرنے کا مہینہ ہے) کے اختتام پر ہمیں عید الفطر کی خوشی عطا فرمائی۔ حقیقت میں عید الفطر رمضان المبارک کی نیکیوں کا دنیاوی ثمرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آخرت میں بھی اس کا بہترین اجر و ثواب عطا فرمائے۔ ہمیں چاہیے کہ جس طرح رمضان میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، گناہوں سے بچتے ہیں، اور اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ ایثار و ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہیں، اسی طرح سال کے باقی دنوں میں بھی ان نیک عادات کو جاری رکھیں۔ محترم بھائیو! افسوس کہ رمضان المبارک میں بھی ہمارے ملک (پاکستان) میں ظلم و ستم کا سلسلہ نہ رکا۔ خفیہ ایجنسیوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے علماء کرام کی شہادتوں کا سلسلہ تیز کر دیا، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں عوام پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھا، ظالم اداروں نے عوام کا قتل عام کیا، ان کے گھر جلائے، لاشوں کی بے حرمتی کی، مسخ شدہ لاشیں پھینکیں، کرفیو کے نام پر عوام کو اذیت دی، اور وحشیانہ بمباری کی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس ظلم کے خلاف جو اقدامات اٹھانے چاہیے تھے، وہ نہ اٹھائے جا سکے، اور بعض طبقات نے تو اپنے مفادات کے لیے ظالم قوتوں کی حمایت میں بیانات تک جاری کیے۔ پاکستان کے مسائل (امن وامان، سیاست، معیشت وغیرہ) کسی اتفاقیہ حادثے کے نتیجے میں پیدا نہیں ہوئے، بلکہ اس کے پیچھے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی بڑی سازشیں اور منصوبے کار فرما ہیں۔ پاکستان کے فوجی حکمران کبھی نہیں چاہتے کہ ملک میں استحکام ہو، امن و امان قائم ہو، اور عوام خوشحال ہوں، کیونکہ وہ ہمیشہ انتشار میں اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔ پاکستان کی 78 سالہ تاریخ اس کا واضح ثبوت ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام طبقات سنجیدگی سے اس کے حل کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار کریں اور فوجی تسلط سے نجات کی راہ تلاش کریں، تاکہ مظلوم اقوام کو اسلامی نظام کے مطابق ان کے حقوق مل سکیں۔ میرے مسلمان بھائیو! پاکستان کے حکمرانوں نے اپنے ذاتی مفادات اور مغربی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے برادر اسلامی ملک (افغانستان) کے خلاف جو پالیسی اپنا رکھی ہے، وہ پاکستان کے ساتھ ہر اعتبار (شرعی اور عقلی اعتبار سے) سے کھلی خیانت اور غداری ہے۔ اگر یہ پالیسی نہ بدلی گئی تو اس کے انتہائی سنگین نتائج دونوں ممالک کے عوام کو بھگتنا پڑیں گے، اور خدانخواستہ یہ دشمنی ایسی شکل اختیار کر لے جس کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ پاکستان کے دیندار عوام پر لازم ہے (اور یہی حب الوطنی کا تقاضا بھی ہے) کہ جس طرح افغانستان میں ایک آزاد اسلامی نظام قائم ہوا، امن و سکون آیا، معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہوئی، اسی طرح پاکستان میں بھی اسلامی شریعت کے نفاذ کے لیے متحد ہو جائیں، انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے پیدا کی گئی نفرتوں کو ختم کریں، اور اپنی تمام تر توانائیاں اس بات پر مرکوز کریں کہ خودغرض عناصر اور اداروں سے ملک کو نجات دلائیں۔ یہ ایک مشکل مرحلہ ضرور ہے، کیونکہ اس میں قربانیاں دینی پڑیں گی، لیکن اس کے علاوہ کوئی راستہ بچا نہیں۔ اگر آج اس پر سنجیدگی کے ساتھ کام نہ کیا گیا تو کل سب کو مجبوراً

photo content

‏"جب فلسطینی بچے پانی کے ایک ایک قطرے کو ترس رہے ہوں تو سمجھ لو کہ پوری امت بے حسی کے صحرا میں بھٹک رہی ہے! " 😢

جو کسی حاکم کو اللہ پر ترجیح دیتا ہے ۔۔۔۔۔ #حکمرانوں_کی_قربت_سے_بچو
جو کسی حاکم کو اللہ پر ترجیح دیتا ہے ۔۔۔۔۔ #حکمرانوں_کی_قربت_سے_بچو

Repost from N/a
شمالی وزیرستان میں ظالم فوج کے کانوائے پر حملہ آج 26 مارچ 2025ء بمطابق 25 رمضان المبارک 1446ھ دن کے دو بجے بنوں میرانشاہ سڑک
شمالی وزیرستان میں ظالم فوج کے کانوائے پر حملہ آج 26 مارچ 2025ء بمطابق 25 رمضان المبارک 1446ھ دن کے دو بجے بنوں میرانشاہ سڑک پر میر علی بائی پاس کے اوپر ظلم و وحشت کی علمبردار آرمی کے کانوائے پر انقلابِ اسلامی پاکستان کے غازیوں نے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے گھات لگا کر حملہ کیا جس میں اللہ کی مدد سے دین دشمن فوج کا بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔ اس کارروائی کی دیگر جزئیات کئی دنوں سے جاری کرفیو کی وجہ سے تاحال نہیں مل پائیں۔ ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ یہ حملہ بنوں میں وحشی آرمی کی طرف سے دو دن قبل ایک نوجوان وقاص کو شہید کرنے کے بدلے میں کیا گیا ہے اور جب تک یہ آرمی وطنِ عزیز کے مسلمانوں پر ظلم و وحشت ڈھاتی رہے گی اور اسلامی نظام کی راہ میں رکاوٹ بنی رہے گی اس پر حملے ان شاء اللہ جاری رہیں گے۔ #انقلاب_اسلامی #انقلاب_اسلامی_پاکستان

خلیفتہ المسلمین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مسلمانوں کے سپہ سالار حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے نام مکتوب
خلیفتہ المسلمین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مسلمانوں کے سپہ سالار حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے نام مکتوب

میری کُل عمر! ”جس دن میں نے افغانستان کے مجاہد لوگوں کے درمیان رہنا شروع کیا، میں نے محسوس کیا کہ میں زندوں میں سے ہوں۔ لہٰذا، میں اپنی کل عمر کو ساڑھے آٹھ سال سمجھتا ہوں سات سال افغان جہاد میں اور ایک سال اور چھ ماہ فلسطین کے جہاد میں۔ بغیر جہاد کے، لوگ مردہ، ذلیل، محکوم اور بزدل ہیں... ان میں اور مردوں میں کوئی فرق نہیں۔“ – شیخ عبداللہ بن یوسف عزام شہیدؒ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان کاوہ مال کتنا عمدہ ہے جسے اس نے حلال طریقوں سےجمع کیاہو اور پھر اسےاللہ کے راستے میں (جہاد کےلیے)یتیموں کےلیےمسکینوں کےلیےوقف کردیاہو لیکن جوشخص ناجائز طریقوں سےجمع کرتاہےتووہ ایک ایسا کھانے والا ہے جو کبھی آسودہ نہیں ہوتا اور وہ مال قیامت کےدن اسکےخلاف گواہ بن کر آئے گا۔ صحیح بخاری کتاب: جـہـــاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ باب: باب: اللہ کی راہ (جـہـــاد) میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان۔ حدیث نمبر: 2842

ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کے مدرسے کے ایک طالب علم کا خواب اور اسکی تعبیر اقتباس ؛ عمرثالث مصنف : قاری عبدالستار سعید مترج
ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کے مدرسے کے ایک طالب علم کا خواب اور اسکی تعبیر اقتباس ؛ عمرثالث مصنف : قاری عبدالستار سعید مترجم : جلال الدین حسن یوسفزئی

Repost from N/a
بنوں میں ظالم فوج کی وحشت کا ایک اور واقعہ بیان از غازی رشید احمد ترجمان انقلابِ اسلامی پاکستان آج 24 مارچ 2025ء بمطابق 23 رمضان المبارک 1446ھ سہ پہر وطنِ عزیز کے شہر بنوں میں راستے سے گزرتے ہوئے موٹرسائیکل سوار دو نوجوان بھائیوں پر ظالم و وحشی فوج نے اچانک بلا وجہ فائرنگ کر کے ایک کو شہید اور دوسرے کو زخمی کر ڈالا۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ شہید ہونے والے ہمارے بھائی کی مغفرت فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنے ان مسلمان بھائیوں کے دکھ کا مداوا کرسکیں اور ان کے دلوں کی ٹھنڈک کا باعث بن سکیں۔ آج کا یہ افسوسناک واقعہ وطنِ عزیز کی تاریخ کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ شاید ہی کوئی دن گزرتا ہو جس دن یہ دہشت و وحشت کی علامت صلیبیوں کی آلۂ کار آرمی اس ملک کے باشندوں پر آتش و آہن نہ برساتی ہو۔ خیبر سے بولان تک روزانہ کتنے ہی مسلمان اس وحشی فوج کی وحشت کا شکار ہو کر اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں اور اس فوج کے تکبر اور غرور میں کچھ کمی واقعی نہیں ہوتی۔ آج پھر یہ بات ہم پر واضح ہورہی ہے کہ ہندوؤں اور یہود کے آگے جھک جانے والی اس آرمی کی تمام بہادری اور تمام اعلیٰ کارکردگی اپنے ہی ہم وطن نہتے مظلوموں کے خلاف نظر آتی ہے، اور عوام کے ٹیکسوں سے پلنے والی اس فوج کی صلاحیتیں زیادہ تر اپنی ہی عوام کو کچلنے اور مارنے کے لیے استعمال ہوتی ہے ۔ اس موقع پر وطنِ عزیز کے دانشمندوں اور اہلِ فکر کی توجہ اس نکتے کی طرف مبذول کروانا چاہیں گے کہ انگریز کے ہاتھوں تربیت یافتہ اس فوج کی تربیت ہی ایسے ہوئی ہے کہ جس میں اس کو عوام پر اپنا رعب قائم کرنے یا اپنے دفاع کو یقینی بنانے کے لیے نہتے عوام کو کچل ڈالنے اور صفحۂ ہستی سے مٹانا سکھایا جاتا ہے۔ مشرقی پاکستان،بلوچستان اور قبائل کے گلی کوچے ہمارے اس دعوے کے شاہد ہیں ۔ چنانچہ ہمیں چاہیے کہ ہم اس فوج کے ظلم کے آگے بند باندھیں اور مسلمان عوام کی طرف اٹھنے والی ان کی بندوقوں کی نالوں کو توڑ ڈالیں۔ اٹھیے! اس سے پہلے کہ فوج کے اس ظلم کا اگلا شکار آپ یا آپ کا کوئی قریبی ہو۔ #انقلاب_اسلامی #انقلاب_اسلامی_پاکستان

Repost from N/a
بنوں میں ظالم فوج کی وحشت کا ایک اور واقعہ بیان از غازی رشید احمد ترجمان انقلابِ اسلامی پاکستان #انقلاب_اسلامی #انقلاب_اسلامی
بنوں میں ظالم فوج کی وحشت کا ایک اور واقعہ بیان از غازی رشید احمد ترجمان انقلابِ اسلامی پاکستان #انقلاب_اسلامی #انقلاب_اسلامی_پاکستان

+3
تحریک طالبان پاکستان کا ہفتہ وار اخبار "منزل" شمارہ نمبر (64) منگل، 25 مارچ 2025ء بمطابق 25 رمضان المبارک 1446ھ

Repost from Voice Of Pakistan
🚨کالعدم ٹی ٹی پی میں ایک اور عسکریت پسند گروپ کی شمولیت،
⭕️ کالعدم ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے اپنے تازہ جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ سے ایک اور عسکریت پسند گروپ نے کمانڈر ایوبی ملنگ کی قیادت میں کالعدم تنظیم کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کے ہاتھ پر ہجرت اور جھاد پر بیعت کی ہے اور اس بات کا عہد کیا ہے کہ شریعت کی روشنی میں کالعدم تنظیم کی تمام شرعی لوائح اور پالیسیوں کی پاسداری کریں گے۔

ان کے نظریات اپنی جگہ، لیکن بات زمانہ ہوا بہن بیٹیوں تک آئی ہوئی ہے۔ آمنہ مسعود جنجوعہ سے سمی دین بلوچ تک۔ ظالموں کا رویہ ایک سا ہے۔ ظالموں میں لائقِ شکست ہونے کی تمام "صفات" موجود ہیں، بس مظلوم اپنے اندر وہ صفت پیدا کر لیں جو انہیں "فاتح" بنائے گی: یعنی کامل اتباعِ شریعت! https://x.com/MoinuddinShami_/status/1904564535152738764?t=ep8rGd89jShFK4G9BEhqIg&s=19

اس سال انکی کمر ٹوٹ جائے گی تابوت اٹھا اٹھا کے ان شاءاللہ
اس سال انکی کمر ٹوٹ جائے گی تابوت اٹھا اٹھا کے ان شاءاللہ

یہ گہرا سوال بھی نظر میں رہنا چاہیے کہ “کیا امارت اسلامی بجائے خود اِس خطرے سے آگاہ نہیں ہے کہ وہ امریکا، جس کو اسلحہ اور ایئربیس سونپ دینے کی باتیں اُڑائی جا رہی ہیں، وہ کس حوالے، گارنٹی اور ثبوت کی بنیاد پر امارت اسلامی جیسے مسلمانوں کی امید کے مرکز خطے کو باقی رہنے دینا چاہے گا؟” یاد رہے کہ طالبان اس خطرے سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ان کا ماضی — جب انہوں نے اسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے کرنے سے انکار کیا اور امریکا کے ساتھ 2001 سے 2021 تک کی طویل جنگی، سیاسی اور سفارتی جدوجہد یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ مغربی طاقتوں پر بھروسا کرنے کے بجائے اپنی خود مختاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ عرب سمیت کئی ممالک میں امریکی اڈوں کی موجودگی سے متاثر اُن کی خارجہ پالیسی طالبان کے لیے ایک واضح سبق ہے کہ “امریکا کو دی جانے والی ایسی رعایت طالبان کی آزادی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ امریکا پر بھروسہ ان کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔” پروپیگنڈے کا مقصد اور حقیقت: مختلف جگہوں سے اٹھنے والا یہ پروپیگنڈا شاید اس خواہش کی بنیاد پر جنم لے رہا ہے کہ طالبان کو کمزور دکھایا جائے، تاکہ خطے میں امریکی بلاک کا اثر و رسوخ بڑھ سکے۔ جب کہ زمینی حقائق مختلف کہانی سنا رہے ہیں۔ طالبان نے نہ تو بگرام ایئربیس واپس کرنے کی کوئی بات کی ہے اور نہ ہی اسلحے کی سپردگی کا کوئی اشارہ دیا ہے۔ عرب ملک کی وساطت کا دعویٰ بھی بے بنیاد ہے۔ کیوں کہ اس کی کوئی تصدیق نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی منطقی جواز نظر آتا ہے کہ آخر کوئی عرب ملک اس تنازع میں کیوں کر شامل ہونا چاہے گا؟! کیا وہ طالبان کو کمزور کرنا چاہتا ہے یا امریکا کے مفادات کو آگے بڑھانا چاہتا ہے؟ دوسری طرف بدلے میں طالبان کو کیا ملے گا؟ کیا امریکا امن پسند ملک بن گیا ہے؟ کیا امریکا کو جنگ اور اسلحے سے نفرت ہو گئی ہے، اس لیے وہ اپنے ہتھیاروں سمیت تمام تمام دنیا، خصوصا طالبان سے بھی اسلحہ لے کر تلف کر دینا چاہتا ہے؟ کیا امریکا طالبان کو اُنہیں امریکا و دیگر علاقائی طاقتوں کی طرف سے درپیش دفاعی مسائل کے باوجود انہیں اسلحے سے تہی دست کر کے گارنٹی کے طور پر اپنا اسلحہ اور نیوکلئر نظام بحرِ اوقیانوس کے بھی “برمودا ٹرائی اینگل” میں پھینک رہا ہے، جہاں سے اسلحے کی واپسی کا کوئی چانس ہی باقی نہ رہے؟! تاکہ نہ رہے بانس، بہ بجے بانسری؟! اِن سوالات کے جوابات غائب ہیں، جو طالبان کی طرف سے اسلحے اور بگرام ایئر بیس کو امریکا کے حوالے کرنے کے دعووں کو افواہِ محض ثابت کرتے ہیں۔ اِس سب کے باوجود “اگر کسی کو پھر بھی یقین نہیں آتا تو وہ اُس وقت کا انتظار کرے، جس میں لوگوں کی ایسی خواہشات اور افواہیں بجائے خود جھوٹ ثابت ہو جائیں گی”۔ میرا خیال ہے کہ یہ وقت جلد آئے گا۔ کیوں کہ طالبان کا موقف واضح ہے اور ان کے اقدامات ان کے بیانات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ پروپیگنڈا چلانے والوں کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ لہذا وقت کے ساتھ یہ افواہیں دم توڑ جائیں گی۔ سیاسی مقصد اور نفسیاتی عنصر: دوسری طرف یہ خیال بھی تقویت پکڑتا جا رہا ہے کہ بظاہر اس پروپیگنڈے کے پیچھے نہ صرف سیاسی مقاصد ہیں، بلکہ ایک نفسیاتی عنصر بھی نظر آ رہا ہے۔ طالبان کی خود مختاری اور ان کی فوجی / جہادی طاقت کو تسلیم کرنا کچھ حلقوں کے لیے مشکل ہو رہا ہے۔ اسی لیے ایسی کہانیاں گھڑی جا رہی ہیں۔ جیسا کہ واضح ہے کہ “امارت اسلامی خود کو امریکا کے رحم و کرم پر چھوڑنے” کے بجائے تاریخی حوالوں کے ساتھ اپنی بقا اور دفاع کو ترجیح دے رہی ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے، جو تاریخ اور موجودہ حالات دونوں سے عیاں ہے۔ یہ پروپیگنڈا ناکام ہو گا۔ کیوں کہ یہ تاریخ اور حال دونوں کے برخلاف ہے۔ طالبان کی خود مختاری ان کی طاقت ہے، اور یہ افواہیں اسے کمزور نہیں کر سکتیں۔ https://x.com/IEAUrduOfficial/status/1904438553343578605?t=z1BjIciLw994FCXfSkHffQ&s=19

‏اسلحے اور بگرام ایئربیس بارے زمینی حقائق؟! تحریر: محمد افغان جب 20 مارچ 2025 کو امارت اسلامی نے امریکی قیدی جارج گلیزمن کو رہا کیا تو اس واقعے نے نہ صرف عالمی سطح پر توجہ حاصل کی، بلکہ کچھ صحافیوں اور سوشل میڈیا پر متحرک افراد نے امارت اسلامیہ کے حوالے سے ایک نیا منافرانہ پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ دعوے کیے گئے کہ طالبان نے نہ صرف امریکی قیدی رہا کر دیا ہے ، بلکہ وہ امریکا کے دباؤ میں آ کر بگرام ایئربیس اور افغانستان میں چھوڑا ہوا امریکی اسلحہ بھی واپس کرنے پر راضی ہو گئے ہیں۔ یہ دعوے اس وقت مزید دل چسپ ہو گئے، جب ساتھ ہی یہ جھوٹ بھی پھیلایا جانے لگا کہ “کسی عرب ملک کی وساطت سے اس معاملے پر بات چیت جاری ہے۔” سوال یہ ہے کہ کیا یہ دعوے زمینی حقائق سے مطابقت رکھتے ہیں؟ افغانستان کے زمینی حقائق کے مطابق یہ دعوے محض افواہوں اور خواہشات کا ایک مجموعہ ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس تناظر میں پروپیگنڈوں اور افغان معروضی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے حقیقت کو واضح کرتے ہیں۔ زمینی حقائق کا جائزہ: سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جارج گلیزمن کی رہائی ایک حقیقت ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق طالبان نے اس امریکی شہری کو، جو بظاہر ڈیلٹا ایئرلائن کا میکینک اور 2022 سے قید میں تھا، 20 مارچ 2025 کو رہا کیا گیا ہے۔ یہ رہائی قطر کی ثالثی کے تحت طے شدہ معاہدے کا حصہ تھی، جس میں قیدیوں کے تبادلے کی بات کی گئی تھی۔ البتہ اس سے آگے بگرام ایئربیس اور امریکی اسلحے کی واپسی کے دعووں کی کوئی زمینی حقیقت نہیں ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ڈیڑھ ماہ قبل واضح کیا تھا کہ “افغانستان میں چھوڑا ہوا اسلحہ “مالِ غنیمت” ہے اور بگرام ایئربیس افغان عوام کی ملکیت ہے۔” انہوں نے کہا تھا کہ “اِن دونوں چیزوں کو کسی کو سونپنے کی “کوئی گنجائش نہیں ہے۔” یہ بیان طالبان کے موقف کو مضبوطی سے ظاہر کرتا ہے کہ ‘وہ اپنے کنٹرول میں موجود وسائل کو لازمی دفاعی ہتھیار کے طور پر دیکھتے ہیں، نہ کہ کسی کے حوالے کرنے کی چیز کے طور پر!’ دوسری طرف میڈیا میں اٹھنے والے پروپیگنڈے کے پیچھے ممکنه طور پر کچھ سیاسی اور علاقائی محرکات ہو سکتے ہیں۔ امارت اسلامی کے ساتھ تناؤ رکھنے والے کچھ علاقائی اور عالمی حلقوں کی طرف سے یہ پروپیگنڈا شاید اسی تناؤ کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد طالبان کو کمزور دکھا کر علاقائی دباؤ بڑھانا ہے۔ جب کہ حقائق اس پروپیگنڈے کی حمایت کرتے نہیں دکھائی دیتے۔ بگرام ایئربیس، جو 2021 میں امریکی انخلا کے بعد سے طالبان کے قبضے میں ہے، اور چھوڑا ہوا اسلحہ—جس کی مالیت اربوں ڈالر بتائی جاتی ہے—طالبان کے لیے نہ صرف فوجی اثاثہ ہے، بلکہ ان کی خود مختاری کا سیاسی اور علامتی ثبوت بھی ہے۔ طالبان نے امریکی انخلا کے بعد سے ان وسائل کو اپنی حکومت کے استحکام کے لیے استعمال کیا ہے۔ اسے واپس کرنے یا اسلحہ حوالے کرنے کا کوئی سرکاری اعلان یا خفیہ ثبوت موجود نہیں ہے۔ اس تناظر میں یہ دعویٰ کہ وہ انہیں واپس کرنے پر راضی ہو گئے ہیں، نہ صرف غیر منطقی ہے، بلکہ طالبان کی دو دہائیوں کی جدوجہد کے تاریخی سیاق سے بھی میل نہیں کھاتا۔ تجزیہ: یہ خیال درست ہے کہ اسلحے اور بگرام ایئر بیس بارے کیے جانے والے یہ دعوے “خبر نہیں، بلکہ امارت اسلامی کو کمزور دیکھنے والوں کی نہ صرف خواہشات ہیں، بلکہ ایک منظم کوشش کا حصہ بھی ہیں، جو طالبان کی خود مختاری کو چیلنج کرنے کی نیت سے کی جا رہی ہیں۔ ان افواہوں کے جھوٹ ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ امارت اسلامی بجائے خود اس بات کا سرکاری اعلان کر چکی ہے کہ امریکا ہی کیا، کسی کو بھی افغانستان میں موجود اسلحے اور فوجی اڈوں پر دسترس نہیں دی جا سکتی۔” جب کہ تاریخی طور پر بھی طالبان نے کبھی اپنی خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ طالبان کو اپنے تابع دیکھنے والے حلقوں کو واضح رہنا چاہیے کہ طالبان ایک منظم حکومت ہیں، وہ کسی کا پراکسی گروہ نہیں ہیں! میرا خیال ہے کہ یہ پروپیگنڈا اس لیے بھی ناکام ہو گا، کیوں کہ طالبان کی موجودہ پوزیشن—چاہے اسے پسند کیا جائے یا نہ کیا جائے—کمزوری کی نہیں، بلکہ ایک خاص خود اعتمادی کی عکاسی کرتی ہے۔ طالبان نے سال 2021 میں امریکی انخلا کے بعد اپنے کنٹرول کو مضبوط کیا ہے اور اسلحہ اور اڈوں کو اپنی طاقت کا حصہ بنایا ہے۔ لہذا افغانستان میں کسی بھی نوعیت کا اسلحہ، چاہے وہ روس کا چھوڑا ہوا ہو یا امریکا کا، اور افغانستان میں بگرام جیسے کوئی بھی فوجی اڈے امریکا یا کسی بھی غیر افغان طاقت کے حوالے کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ‘افغانستان میں طالبان کو تہی دست کر کے امارت اسلامی مخالف گروہ جیسے داعش، امریکا اور نیٹو وغیرہ کو ایک بار پھر دہشت گردانہ جنم لینے دیا جائے، تاکہ وہ افغانستان کو دوبارہ بدامنی کا گڑھ بنا دیں۔’

راستہ جو اب واضح ہوا ! #Gaza #Resistance #Ummah
راستہ جو اب واضح ہوا ! #Gaza #Resistance #Ummah

راستہ جو اب واضح ہوا۔۔۔۔۔ #Gaza #Resistance #Ummah
راستہ جو اب واضح ہوا۔۔۔۔۔ #Gaza #Resistance #Ummah