|-|ard Talk جلی کٹی
Open in Telegram
Cartoonist, Journalist, Researcher Journalism Is Not A Crime ہمارا فیسبک پیج بھی ضرور لائک کریں https://www.facebook.com/profile.php?id=61564417160250&mibextid=ZbWKwL
Show more1 748
Subscribers
No data24 hours
+207 days
+4330 days
Posts Archive
1 748
عوام کی اکثریت میں ظلم و جبر کے خلاف بیداری
عوام کی اکثریت میں ظلم و جبر کے خلاف ایک اچھی سطح کی بیداری اور شدید حساسیت پیدا ہو گئی۔ انہوں نے شیخ حسینہ کی حکومت کو اس وقت گرایا جب اُس نے مظاہرین کا قتلِ عام کیا، حالانکہ وہ مظاہرین صرف سرکاری ملازمتوں میں کوٹے کے نظام میں اصلاح کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مگر جب سکیورٹی اہلکاروں نے ان پر فائرنگ کر کے کئی افراد کو شہید کر دیا، تو مظاہرین کا مطالبہ کوٹے کے نظام کی اصلاح سے بدل کر حکومت کے خاتمے میں تبدیل ہو گیا۔
جب سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کے قتلِ عام کا سلسلہ جاری رکھا، تو عوام نے ان کا مقابلہ اُس طریقے سے کیا جسے ’’انقلابی تشدد‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس دوران انہوں نے ۴۴ پولیس اہلکاروں کو قتل کیا اور ان کی لاشیں پلوں اور سڑکوں پر لٹکا دیں۔ اس سے سکیورٹی فورسز اور عوامی لیگ پارٹی کے حامیوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ عوام اور حکومت کے درمیان یہ جھڑپیں جاری رہیں، اور عوام نے بے مثال بہادری سے گولیوں کا مقابلہ کیا، یہاں تک کہ آخر کار ان کی آنکھیں اس وقت ٹھنڈی ہوئیں جب حکومت کا خاتمہ ہوا اور شیخ حسینہ فرار ہو گئی۔
اس انقلابی بغاوت کے بعد سکیورٹی فورسز اس بات پر مجبور ہو گئیں کہ وہ کچھ ضابطوں کی پابندی کریں، عوام کے جذبات کا لحاظ رکھیں، بے گناہوں کے قتل، ان کا تعاقب، گرفتاری، تشدد اور جبری گمشدگی جیسے جرائم سے باز رہیں۔
اب داعیوں اور سرگرم کارکنوں پر فرض ہے کہ وہ اس عوامی بیداری اور جذبے کو زندہ رکھیں، اور انقلابی روح کو عوام کے دلوں میں روشن رکھیں، تاکہ ریاست دوبارہ اپنے پرانے ظالمانہ طرزِ عمل کی طرف پلٹ نہ سکے۔ ریاست یقیناً ایسی کوشش کرے گی، کیونکہ جدید ریاستیں ظلم و ستم اور انسانی حقوق کی پامالی سے شاذ و نادر ہی بچی رہتی ہیں۔ لہٰذا عوام پر لازم ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق ریاست کو ایسے اقدامات سے روکیں۔ اور یہ، واللہ! سب سے اہم فرض اور اولین ذمہ داریوں میں سے ہے۔
اسی طرح علماء، داعیوں اور سرگرم کارکنوں پر لازم ہے کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کی اکثریت کے درمیان ایک اجتماعی اسلامی بیداری پیدا کریں۔ جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ سیکولر نظام اب تک محفوظ ہے، لہٰذا ایک ہمہ گیر دینی بیداری ناگزیر ہے جو لوگوں میں اس نظام کو رد کرنے کا شعور پیدا کرے اور وہ اسلامی نظام کے قیام کا مطالبہ کریں۔
میں یہاں اُن تمام بھائیوں کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں جو انتخابی سیاست کے راستے پر چل رہے ہیں۔ میرے بھائیو! اپنے طریقۂ کار پر نظر ثانی کرو، ان انتخابات کو چھوڑ دو جن کے جواز پر شریعت کی کوئی مہر نہیں اور نہ ہی عقل یہ مانتی ہے کہ یہ راستہ کامیابی تک پہنچا سکتا ہے۔ اگر تم اس راستے سے پلٹ آؤ گے تو عوام تمہاری پیروی کریں گے اور تم دعوتِ توحید کی فتح اور جمہوریت کے زوال کے سب سے بڑے اسباب میں سے بن جاؤ گے۔ پس لوٹ آؤ، اور جلدی کرو قبل اس کے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے۔
شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں علماء، داعیانِ دین اور اسلامی جماعتوں کے کارکنان اکثر جبری گمشدگی اور سخت ترین تشدد کا شکار ہوتے تھے، جس سے دعوت، اصلاح، سماجی اور جہادی سرگرمیوں کی راہ میں شدید رکاوٹیں پیدا ہوتی تھیں، اور ان کا دائرہ کار نہایت محدود ہو گیا تھا۔
لیکن اب کچھ رکاوٹیں اور پابندیاں ختم ہو گئی ہیں، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ صفیں دوبارہ منظم کی جائیں، اپنی اندرونی کمزوریوں کی اصلاح کی جائے، صلاحیتوں کو بہتر بنایا جائے، ماہر اور با صلاحیت افراد کو منظم کیا جائے، سرگرمیوں اور کوششوں کو بڑھایا اور پھیلایا جائے، تاکہ معاشرے میں ایک عظیم اسلامی بیداری رونما ہو اور اسلامی نظام عوام کا پہلا مطالبہ بن جائے۔
عوام غفلت، فریب اور خیالی خوابوں سے بیدار ہو اور اس یقینی اور فیصلہ کن معرکے کے لیے اپنی تیاری مکمل کرے جو بھارتی ریاست کی بالادستی اور دہشت گرد ہندوتوا نظریے کے خلاف عنقریب برپا ہونے والا ہے۔
عوام میں بھارتی اثرو رسوخ کے خلاف جذبات میں اضافہ
عوام میں بھارتی اثر و رسوخ، اس کے توسیع پسند منصوبے، دہشت گردانہ رویے، اور ہندو مذہب کے خلاف جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کے مسلمان فطری طور پر بھارتی ریاست اور ہندو دھرم سے نفرت کرتے ہیں، لیکن شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں وہ ان جذبات کا اظہار آزادی سے نہیں کر سکتے تھے، کیونکہ وہ ہر اس شخص کو قتل یا قید کر دیتی تھی جو بھارت کے خلاف کوئی سرگرمی انجام دیتا۔
اس کی سب سے نمایاں مثال طالب علم ’’ابرار فہد‘‘ کا قتل ہے، جو بنگلہ دیش یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (BUET) کا طالب علم تھا۔ اُسے اس کے ساتھیوں نے، جو عوامی لیگ کے حامی تھے، صرف اس وجہ سے بے دردی سے قتل کر دیا کہ اُس نے مشترکہ دریاؤں کے پانی کے معاملے میں بھارت کی ظالمانہ پالیسی پر تنقیدی فیس بک پوسٹ لکھی تھی۔
پس دیکھیں! بھارت کے اثر و رسوخ اور اس کے کارندوں کی ڈھٹائی کس حد تک پہنچ چکی تھی۔
1 748
اس پورے دور میں بھارت کسی بھی دوسری جماعت کے سیکولرازم یا جمہوریت کو تسلیم نہیں کرتا تھا، حالانکہ وہ بھی سیکولر جماعتیں تھیں، سوائے عوامی لیگ اور اس کے اتحادیوں کے۔ بھارت جماعتِ اسلامی کو تو دہشت گرد تنظیم سمجھتا تھا، اور BNP پر بنیاد پرستی اور دہشت گردوں سے اتحاد کے الزامات لگاتا رہا۔
اس حیران کن حکمت عملی کے پیچھے مقصد یہ تھا کہ معتدل سیکولر جماعتوں پر دباؤ ڈال کر انہیں مزید سخت گیر سیکولرازم کی طرف دھکیلا جائے، تاکہ وہ اسلام اور اسلامی جماعتوں سے مزید دور ہو جائیں، خواہ وہ جماعتیں پہلے ہی جمہوری عمل میں شامل ہو کر بہت سے اصولوں سے پیچھے ہٹ چکی ہوں۔ ان جماعتوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ بھارت کو خوش کرنے کے لیے زیادہ غلامانہ رویہ اور وفاداری اختیار کریں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بھارت ان مقاصد میں کچھ حد تک کامیاب بھی رہا۔ چنانچہBNP نے جماعتِ اسلامی سے اپنا اتحاد توڑ دیا، اس سے لاتعلقی اختیار کی اور بائیں بازو کی جماعتوں کے قریب ہو گئی۔ اس نے اپنی قومی حمیت سے بڑی حد تک دستبرداری اختیار کی، بھارت اور اس کے انتہا پسند رہنماؤں کی خوشنودی کے لیے کوشاں رہی اور ان کے ساتھ خوشامدانہ رویہ اپنایا۔
یہ نتیجہ دیکھ کر ایک حساس شخص حیران رہ جاتا ہے اور خود سے سوال کرتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی مظلوم اپنے ظالم سے محبت کرنے لگے اور اسے خوش کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کرے؟
لیکن جو شخص سیکولر ازم کی حقیقت پر گہری نظر ڈالے گا، اسے جواب فوراً سمجھ آ جائے گا کہ سیکولرازم انسان سے غیرت اور جرات چھین لیتی ہے، وہ حمیت، شجاعت، دیانت اور ایمان داری کو قتل کر دیتی ہے، اور انسان کو بزدلی، کمزوری اور ذلت آمیز غلامی کی طرف لے جاتی ہے۔
سیکولر شخص کے نزدیک اصول و اقدار کپڑوں کی مانند ہوتے ہیں، بلکہ ان سے بھی کمتر، وہ جب چاہے انہیں پہن لیتا ہے، اور جب یہ اس کے مفادات، خواہشات یا نفسانی لذتوں سے ٹکرا جائیں، تو فوراً اتار پھینکتا ہے۔
پوری ریاستی مشینری پر قابض ایک آمرانہ جابرانہ نظام
تمام ریاستی اداروں بالخصوص انتظامیہ اور عدلیہ کو حکمران جماعت کے تابع بنا دیا گیا تھا، ایک ایسا نظام تھا جو ہر مخالف کو خاموش کرنے، ہر معترض کو قتل کرنے اور حق گوئی، عدل و انصاف کی دعوت اور حق کو دبانے پر مامور تھا۔
یہ طرزِ حکمرانی نہ صرف اسلامی دعوت اور اسلامی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بنا، بلکہ معاشرے کو الحاد، اخلاقی انحطاط، اور تباہی کی طرف دھکیلتا رہا، قوم کو ذلت، غلامی اور پستی کے گہرے گڑھوں میں دھکیلتا رہا، اور ساتھ ہی ساتھ بھارت کے تسلط کو دن بدن بڑھاتا رہا جب کہ مسلمانوں کی آزادی کو لمحہ بہ لمحہ گھٹاتا رہا۔
اسلام پسندوں پر ظلم وستم اور ان کا قلع قمع
اسلام پسندوں کا قلع قمع، ان پر ظلم، ان کے ابھرنے کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا، ان کے فکر و نظریہ کے پھیلاؤ کو روکنا، اور ریاست و معاشرے پر ان کے اثر کو محدود کرنا، شیخ حسینہ اس پالیسی کو مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے ایک سیاسی جواز کے طور پر استعمال کرتی تھی، تاکہ اس کے استبدادی اقتدار کو بیرونی دنیا میں تسلیم کیا جائے۔
اس نے اسلام پسندوں پر کئی خونی مظالم ڈھائے، جن میں سب سے زیادہ مشہور اور سنگین سانحہ ’’شاہ باغ چوک (مربع شاپلا) کا قتل عام‘‘ تھا، جو پانچ مئی ۲۰۱۳ء کو پیش آیا۔
اسلام پسند ہی ان کے استبدادی دورِ حکومت میں پہلا نشانہ اور سب سے بڑی قربانی بنے، کیونکہ وہی لوگ تھے جو طاغوتی حکومت اور بھارتی تسلط کے خلاف پہلی دفاعی دیوار اور سب سے بڑی مزاحم قوت تھے۔
جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا، اُس کے دورِ حکومت میں ہر اسلامی تحریک کو نشانہ بنایا گیا، لیکن ان تحریکوں اور جماعتوں پر مظالم ڈھانے کی کچھ حدود اور قیود تھیں۔ البتہ جہادی تحریک یا جو لوگ جہادی ہونے کے الزام میں گرفتار کیے جاتے، وہ بدترین اور ہولناک ترین تشدد کا نشانہ بنائے جاتے۔ ان پر مظالم ڈھانے میں کوئی حد یا ضابطہ نہیں تھا، ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا تھا گویا وہ انسان ہی نہ ہوں۔ ان پر کیے گئے ظلم و ستم کا بیان بہت طویل ہے جو اس تحریر میں سما نہیں سکتا۔
اور جب طاغوت حسینہ کا اقتدار ختم ہوا، تو ان بنیادوں میں سے کچھ ختم ہوئیں یا وہ کمزور ہو گئیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بھارتی اثر و رسوخ میں کمی آئی، آمریت کا خاتمہ ہو گیا، اور اس کی جگہ جمہوری، لبرل نظام آ گیا۔ شدت پسند سیکولرازم کو اگرچہ کچھ حد تک نقصان پہنچا، لیکن اس کے برعکس معتدل اور لچکدار سیکولر طرزِ فکر مضبوط ہو گئی۔
ظلم و ستم کے خلاف عوامی بیداری، اور جبر و آمریت کے خلاف ان کی مزاحمت کی برکت سے اسلامی جدوجہد کے لیے نئے افق ظاہر ہوئے، خیر کے عظیم دروازے کھلے اور مثبت تبدیلیاں رونما ہوئیں جنہیں اسلام پسند عناصر اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں استعمال کر سکتے ہیں۔
ذیل میں اس کی کچھ تفصیل پیش کی جاتی ہے:
1 748
بنگلہ دیش کے موجودہ منظر نامے کا جائزہ: مواقع اور ذمہ داریاں
صابر احمد بنگالی
اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے کہ بنگلہ دیش کی عوام نے گزشتہ سال ایک عوامی طلبہ تحریک کے ذریعے شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس تحریک میں دو ہزار مظاہرین شہید ہوئے، جبکہ پچاس ہزار سے زائد زخمی ہوئے، جن میں سے بعض افراد مستقل طور پر معذور ہو گئے۔
ان عظیم قربانیوں کے نتیجے میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ یہ واقعات اور تبدیلیاں مکمل انقلابی نوعیت کی نہیں تھیں، کیونکہ نہ تو دستور میں کوئی بنیادی تبدیلی آئی، نہ فوج میں، اور نہ ہی ریاست کے بنیادی ڈھانچے میں کوئی مثبت تبدیلی آئی۔ یہ کوئی اسلامی انقلاب نہیں، بلکہ ایک عوامی بغاوت تھی، جس میں تمام جماعتوں، طبقات اور تحریکوں نے حصہ لیا۔ اس تحریک میں سیکولر، قوم پرست، بائیں بازو کے افراد، اور مختلف رجحانات رکھنے والے اسلامی گروہوں نے حصہ لیا۔ ان سب کا ایک مشترکہ ہدف تھا: شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ۔
اس لیے کہ شیخ حسینہ کے پندرہ سالہ آمرانہ دور حکومت میں ظلم، جبر، استبداد، محرومی، انتخابی دھاندلی، اقتدار پر قبضہ، قتل و غارت، تشدد، گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں، لوٹ مار اور انسانی حقوق کی پامالیوں نے سب کو متاثر کیا تھا۔ یہاں تک کہ بہت سے لوگ مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہو چکے تھے۔ تب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ راحت اور سہولت عطا فرمائی، اور پانچ اگست ۲۰۲۴ء کو وہ لمحہ آیا جو اللہ تعالیٰ کے اس سچے فرمان کی عملی تفسیر بن گیا:
قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (سورۃ آل عمران: ۲۶)
’’کہو کہ اے اللہ ! اے اقتدار کے مالک ! تو جس کو چاہتا ہے اقتدار بخشتا ہے، اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے عزت بخشتا ہے اور جس کو چاہتا ہے رسوا کردیتا ہے، تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ یقینا تو ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
جی ہاں، یہ عوامی بغاوت واقعی بنگلہ دیش کے مسلمانوں اور اسلام پسندوں کے لیے راحت اور آسانی کا باعث بنی، کیونکہ شیخ حسینہ کی حکومت، جو عوامی لیگ اور اس کی اتحادی بائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل تھی، چار بنیادوں پر قائم تھی۔
بھارت کے لیے سستی غلامی
عوامی لیگ اور اکثر بائیں بازو کی جماعتیں بھارت کی سب سے بڑی اتحادی اور محبوب ترین دوست تھیں، بلکہ بھارت کا سیاسی بازو بن چکی تھیں، جس کے ذریعے وہ پورے ملک پر حکمرانی کرتا، عوام کو کنٹرول کرتا، اور اپنا سیاسی، ثقافتی، اور اقتصادی اثر و رسوخ پھیلاتا۔ وہ ہر اُس شخص یا تحریک کو کچلنے کے لیے استعمال کی جاتی تھیں جو بھارت کے توسیع پسندانہ اور دہشت گردانہ منصوبے کی مخالفت کرتا۔
شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں بھارت کی ہندو انتہا پسند تنظیمیں پورے بنگلہ دیش میں پھیل گئیں۔ ان تنظیموں کا مقصد بنگلہ دیش اور پاکستان کو بھارت میں ضم کر کے ایک ’’اکھنڈ بھارت‘‘ یا ’’رام راج‘‘ قائم کرنا تھا، اور یہ تنظیمیں بنگلہ دیش میں بھارت کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے سرگرم تھیں۔
شیخ حسینہ نے بھارت کے ساتھ ایسے معاہدے اور وعدے کیے جو سراسر بھارت کے مفاد میں اور بنگلہ دیشی مسلمانوں کے مفادات کے یکسر خلاف تھے۔
عوام کے درمیان یہ بات عام ہو چکی تھی کہ شیخ حسینہ ہمارے ملک کو سکم، حیدرآباد، یا کم از کم بھوٹان جیسے انجام کی طرف لے جا رہی ہے۔1
متشدد سیکولرازم کی حمایت
شیخ حسینہ نے انتخابات میں ان بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کیا تھا جو اسلاموفوبیا کو اپنا نظریہ مانتی ہیں۔ جو شخص بھارت کی بنگلہ دیش سے متعلق پالیسی اور حکمت عملی پر غور کرتا ہے، وہ یہ بات صاف سمجھ سکتا ہے کہ بھارت ہمیشہ چاہتا ہے کہ بنگلہ دیش پر ایسا سیاسی گروہ قابض ہو جو نئی دہلی کے مفادات کا خیال رکھے اور شدت پسند سیکولرازم کو اپنا نصب العین بنائے۔ اسی وجہ سے بھارت نے عوامی لیگ کی آمرانہ پالیسیوں اور زیادتیوں کی بھی حمایت کی، حتیٰ کہ دیگر سیکولر جماعتوں پر کیے جانے والے مظالم پر بھی خاموشی اختیار کیے رکھی، جیسے بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (BNP)جو نسبتاً معتدل سیکولر پالیسی رکھتی تھی۔
اس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ شیخ حسینہ کے سکیورٹی اہلکاروں نے BNP کے ایک بڑے رہنما صلاح الدین احمد،جو سابق وزیرِ مملکت اور BNP کے مشترکہ سیکریٹری جنرل تھے، کو زبردستی غائب کیا اور انہیں بھارتی سرزمین پر چھوڑ دیا (بلکہ سیدھے بھارتی سکیورٹی اداروں کے حوالے کیا)، جہاں انہیں غیر قانونی داخلے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ وہ نو سال تک بھارت کی جیل میں قید رہے اور تب ہی رہا ہوئے جب شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔
ایسی اور بھی کئی مثالیں موجود ہیں، لیکن طوالت کے باعث ہم ان سب کا ذکر نہیں کر رہے۔
1 748
Repost from N/a
قوم کے محافظ یا قاتل ؟
فیصلہ وقت کرے گا!
#انقلاب_اسلامی
#انقلاب_اسلامی_پاکستان
https://x.com/IIP_Media
https://t.me/IIP_Media
1 748
یقیناً، اللہ پر بھروسہ رکھنے کے بعد، ہمارے پاس وہ طاقت اور صلاحیت موجود ہے کہ ہم انسانیت کے لیے وہ مطلوبہ تبدیلی لائیں جس کے نتیجے میں ایک پاکیزہ زندگی حاصل ہو، ظلم و جور کا خاتمہ ہو، ان شاء اللہ۔
اور افغانستان اس حقیقت کا شاہدِ عدل ہے، اور اسی راہ پر آپ کے بھائی مجــ.ـاہــ.ـدین صومالیہ میں، مغربِ اسلامی کے خطے میں، جزیرۂ عرب میں، اور برصغیر میں رواں دواں ہیں۔
ہم اس مقصد کے حصول کے لیے درج ذیل اُمور کی دعوت دیتے ہیں:
علماء، داعیانِ دین اور تمام مصلحین پر لازم ہے کہ وہ امت کو روافض اور یہودیوں کے خطرے سے خبردار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں، کیونکہ یہ دونوں گروہ امتِ مسلمہ کے لیے سخت ترین شر اور ضرر کا باعث رہے ہیں، اور مسلمانوں پر بیشتر مصیبتیں تاریخ کے ہر دور میں انہی کی وجہ سے رونما ہوئیں۔ یہ بات ’’سبیل المجرمین‘‘ کو واضح کرنے کے دائرے میں آتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عوام پر حق و باطل کے راستے خلط ملط ہو گئے ہوں۔ لہٰذا یہ دعوت اور تبلیغ ہر اُس ممکن ذریعہ سے کی جانی چاہیے جس سے مسلمانوں پر حقیقت واضح ہو، چاہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں۔ اسی طرح، علماء پر یہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امت کو یہ خوش خبری دیں کہ اسلام کی صبحِ نو طلوع ہونے والی ہے، اور نصرت و تمکین کا وعدہ اُس رب تعالیٰ کی طرف سے ہے جو اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ نیز، مسلمانوں کو اپنے دین کی طرف پلٹنے کی دعوت دیں، کیونکہ اسی میں ان کی دنیاوی نجات اور اخروی فلاح مضمر ہے۔
مسلمانوں کو کلمۂ توحید کے گرد جمع کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے، کیونکہ ہمارے درمیان اتحاد کے اسباب، اختلاف کے اسباب سے کہیں بڑھ کر موجود ہیں، اور، الحمدللہ، ہمارے پاس قوت و طاقت کے جو اسباب ہیں، وہ ہمارے تمام دشمنوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ ہمیں صرف اپنے نبی ﷺ کی ہدایت کی طرف لوٹنا ہے، جو امت کے اتحاد، عزت، اور کامیابی کا واحد راستہ ہے۔
اہلِ سنت کی قوت کو ہر مقام پر مضبوط کرنا اور انہیں امتِ مسلمہ کے احیاء کے لیے متحرک اور تیار کرنا نہایت ضروری ہے، نیز مجاہدین کے اس مؤقف کی حمایت اور تائید کی جائے جو وہ دشمنانِ امت کے خلاف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ تمام مسلمانوں کو دعوت دی جائے کہ وہ ان مجاہدین کی پشت پناہی کریں، چاہے وہ پناہ دینے کے ذریعے ہو، یا مال و وسائل کے ذریعے، یا افرادی قوت کے ذریعے، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں، ان شاء اللہ، جو امت کی کھوئی ہوئی عزت اور غلبے کو دوبارہ واپس لائیں گے۔
امت کے وہ افراد جو علمی، مالی، فنی، فکری یا دیگر کسی بھی میدان میں صلاحیت رکھتے ہیں، اُن پر لازم ہے کہ وہ دشمنانِ اسلام سے ہر قسم کا انحصار ختم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہوں، اور اپنی تمام توانائیوں کو امت کے مفاد میں اس انداز سے بروئے کار لائیں کہ امت کی تعمیر و ترقی اور اس کے قیام میں حقیقی کردار ادا کر سکیں۔
اور آخر میں ہم اس امر کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے اس مؤقف میں ایران کی رافضی حکومت کے علاوہ اس ملک میں بسنے والے اہلِ سنت مسلمانوں کو اور ان عام شیعہ عوام کو جو اپنی حکومت کے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف معرکہ آرائی میں شریک نہیں، اس سے مستثنیٰ سمجھتے ہیں۔ بلکہ ہم ان کے لیے عافیت، سلامتی، اور اس حکومت کے ظلم و استبداد سے نجات کی دعا کرتے ہیں۔
اے اللہ! امتِ اسلام کے لیے رشد و ہدایت والا ایک ایسا نظام قائم فرما، جس میں تیرے اولیاء کو عزت نصیب ہو، اور تیرے دشمنوں کو ذلت و رسوائی، جس میں نیکی کا حکم دیا جائے اور برائی سے روکا جائے۔
اے اللہ! عرب و عجم کے تمام ظالموں کو اپنی گرفت میں لے لے، اے اللہ! یہود و نصاریٰ اور ان کے تمام حلیفوں کو نیست و نابود فرما، اے اللہ! اپنی اس قوت سے جو کبھی مغلوب نہیں ہوتی، انہیں ہلاک فرما، اور ہمیں اپنی اس عزت کے ذریعے ان پر فتح عطا فرما، جس پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔
وسبحان ربك رب العزة عما يصفون، وسلام على المرسلين، والحمد لله رب العالمين.
۳ محرم ۱۴۴۷ھ بمطابق ۲۸ جون ۲۰۲۵ء
1 748
اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اسلام میں تو پیدا ہوئے، مگر باطل کی تفصیلات سے ناآشنا رہے، چنانچہ ان پر مومنوں کے راستے کی کچھ تفصیلات مجرموں کے طریقے سے مشتبہ ہو گئیں۔ کیونکہ یہ اشتباہ تب ہی پیدا ہوتا ہے جب دونوں میں سے کسی ایک یا دونوں راستوں کا علم کمزور ہو۔ جیسا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’اسلام کی گرہیں ایک ایک کرکے اس وقت ٹوٹتی ہیں جب اسلام میں ایسے لوگ پیدا ہوں جو جاہلیت کو نہ جانتے ہوں۔‘
یہ حضرت عمر کے علم کی عظمت کا ثبوت ہے، کیونکہ اگر کوئی جاہلیت اور اس کے احکام کو نہ پہچانے اور جاہلیت کا مطلب ہر وہ بات ہے جو رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کے خلاف ہو جو یقیناً جاہلیت ہی ہے۔
پس جو شخص مجرموں کی باطل اور گمراہی کے راستے کو نہ پہچانے اور وہ اس پر واضح نہ ہو، تو قریب ہے کہ وہ ان کے بعض طریقوں کو مومنوں کا طریقہ سمجھ بیٹھے۔
اور یہی کچھ اس امت میں بھی واقع ہوا ہے، بہت سے اعتقادی، علمی اور عملی معاملات ایسے داخل کر دیے گئے جو در حقیقت مجرموں اور کفار کا طریقہ تھے، مگر جن لوگوں نے ان کی حقیقت کو نہ جانا، انہوں نے انہیں مومنوں کے طریقے میں شامل کر دیا، ان کی طرف بلایا اور جنہوں نے ان کی مخالفت کی، اسے کافر قرار دیا اور اس کے خلاف ان امور کو بھی حلال سمجھا جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے۔
یہی حال بہت سے بدعتی فرقوں کا ہوا جیسے جہمیہ، قدریہ، خوارج، روافض اور ان جیسے دوسرے گروہ، جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کا جامہ پہنایا۔‘‘1
آج جو جنگ یہودی ریاست اور اس کے ساتھ مغربی بلاک امریکہ کی قیادت میں ایک جانب، اور ایران اور اس کے حامیوں کی طرف سے دوسری جانب لڑی جا رہی ہے، یہ دراصل ہمارے دشمنوں کے درمیان جنگ ہے، جس میں نہ ہمارا کوئی اونٹ ہے، نہ کوئی خیمہ (یعنی ہمارا اس میں کوئی حصہ یا مفاد نہیں)۔
ایسی حالت میں کسی ایک فریق کا ساتھ دینا حماقت کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ جو بھی فریق غالب آئے گا، بعد میں ہمیں ہی نشانہ بنائے گا۔ بلکہ ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو ہی ختم کر ڈالیں۔
یہودیوں کے جرائم انبیاء کے زمانے سے معروف ہیں، اور چونکہ ان کی دشمنی بالکل ظاہر اور واضح ہے، اس لیے ان کے بارے میں مزید وضاحت کی حاجت نہیں۔
اسی طرح رافضیوں کے جرائم بھی ہمارے تاریخی تجربے میں ثبت ہیں۔ محض یاددہانی کے لیے عرض ہے کہ:
خلافتِ علی کے اختتام کے بعد سے رافضی سازشوں میں مصروف رہے اور امتِ مسلمہ کے خلاف چالیں چلتے رہے۔
فلسطین کی فتح اور معرکہ حطین کو، جو صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں ہوا، تاخیر صرف اسی وجہ سے ہوئی کہ رافضیوں نے صلاح الدین ایوبی کو قتل کرنے کی کوشش کی، اور صلیبیوں کو مصر پر قابض ہونے کی راہ دینے کی کوشش کرتے رہے۔
بغداد میں عباسی خلافت کا خاتمہ تاتاریوں کے ہاتھوں شیعہ وزیر ابن العلقمی کی سازشوں کی بدولت ہوا اور اس جیسی کئی خونی سازشیں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔
ہمارا حالیہ دور بھی اس سے مستثنیٰ نہیں، گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد طالبان حکومت کو گرانے میں انہوں نے امریکہ کا ساتھ دیا، پھر عراق پر حملے میں مدد کی اور جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے بیس سالہ جہاد کے بعد طالبان نے دوبارہ اقتدار حاصل کیا، تو انہی رافضیوں نے ان کے اقتدار کو روکنے کی کوشش کی۔
اسی طرح جزیرۂ عرب میں اہلِ سنت کی قوت کو کچلنے میں بھی انہوں نے امریکی منصوبوں پر عمل درآمد میں مدد کی۔
یہ تمام باتیں صرف دعوے نہیں بلکہ صوتی و عکسی شواہد کے ساتھ دستاویزات کی صورت میں موجود ہیں۔
اس موقع پر ہم رابطۃ علماء المسلمین کے اُس بیان کی تعریف کرتے ہیں، جو انہوں نے جاری کیا۔ جس بیان میں مسلمانوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ متحارب فریقین کی اصل حقیقت سے غفلت نہ برتیں، کیونکہ ان دونوں کی اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی، زمانۂ نبوت اور خلافتِ راشدہ ہی سے عیاں اور بے نقاب ہے۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن علماء کو امت کی طرف سے بہترین جزا دے، اور انہیں امت کے ان نگرانوں اور راہنماؤں میں شامل فرمائے، جو حق کو نمایاں کرنے، عقیدے کا دفاع کرنے اور مجرموں کے راستے کو واضح کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔
اگرچہ شرعی اور اخلاقی فریضہ یہ ہے کہ امت، اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ، غزہ اور فلسطین میں اپنے مظلوم بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو، تاہم یہ دانائی اور حکمت کے خلاف ہو گا کہ یہی ایک مسئلہ ہمیں ان دیگر سنگین اور حساس مسائل سے غافل کر دے، جو امت کے حق میں کسی طور غیر اہم نہیں۔
ہمارا اصل فریضہ آج یہ ہے کہ ہم بطور امتِ مسلمہ، اپنی شناخت، اپنی خودم ختاری اور اپنی حقانی شریعت کے ساتھ دنیا کے سامنے اُبھر کر آئیں،ایسی شریعت جو صرف اللہ کی بندگی کی طرف بلاتی ہے اور انسانیت کو غیر اللہ کی غلامی سے نجات دلاتی ہے، تاکہ وہ صرف اُسی کی بندگی کرے جس کا کوئی شریک نہیں۔
1 748
اسرائیل ایران جنگ
صہیونیوں اور ایران کے مابین جنگ کی بابت بیان
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد لله الذي جعل الظلمات والنور، ثم الذين كفروا بربهم يعدلون، والصلاة والسلام على البشير النذير، الهادي إلى سواء السبيل، وعلى آله وصحبه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين.
أما بعد:
حق اور باطل کا معرکہ ازل سے جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ حق ایک ہی ہے، اس میں کوئی تعدد نہیں، جبکہ باطل کی کئی صورتیں اور رنگ ہیں۔ لیکن حق اپنی اصل میں ہمیشہ ثابت و قائم رہتا ہے، وہ باطل کی تبدیلیوں اور مختلف شکلوں سے متاثر نہیں ہوتا، کیونکہ وہ خود حق سبحانہ وتعالىٰ کی جانب سے نازل کردہ ہے۔
ہمارے پاس اُس کی وحی موجود ہے، جس کی حفاظت کی اللہ نے خود ضمانت لی ہے، یعنی اس کی کتاب اور اُس کے نبی ﷺ کی سنت۔
اور باطل، چاہے جتنے بھی رنگ بدل لے، یا حق کا لباس پہننے کی کوشش کر لے، مگر آخر کار حق ہی اس پر غالب آتا ہے اور اسے مٹا کر رکھ دیتا ہے۔
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ ۭ (سورۃ الأنبياء:18)
’’بلکہ ہم تو حق بات کو باطل پر کھینچ مارتے ہیں، جو اس کا سر توڑ ڈالتا ہے، اور وہ ایک دم مل یا میٹ ہوجاتا ہے۔‘‘
بلاشبہ امت مسلمہ تاریخ کے ہر دور میں اہلِ باطل کے حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہے، جو اس امت کو اس کے دین سے ہٹانے اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر ایسے ہر دور میں اہلِ علم اور اہلِ جہاد زبان اور تلوار سے ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی نصرت کے دروازے کھول دیتا ہے، حق غالب ہوجاتا ہے اور باطل کا جھاگ، خواہ وہ لوگوں کی آنکھوں میں کتنا ہی پُھولا ہوا نظر آئے، مٹ کر رہ جاتا ہے۔
آج کے دور میں بھی ہماری امت جس آزمائش سے دوچار ہے، وہ یہ ہے کہ مشرق و مغرب کے ظالم حکمرانوں نے امتِ مسلمہ پر تسلط جما رکھا ہے۔ امت مشرق کے جابروں کے پنجے سے نکلتی نہیں کہ مغرب کے طاغوت اس پر غلبہ پا لیتے ہیں۔
اور غالباً اس صورتِ حال کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب وہ شدید کمزوری ہے جسے امت نے ماضی میں بھی جھیلا اور آج تک اس سے دوچار ہے۔ اسی طرح علماء اور مصلحین کی رہنمائی کا کمزور پڑ جانا اور ان کے اثر و رسوخ کی محدودیت بھی ایک بڑا سبب ہے، جو اُن پر مسلط کردہ پابندیوں، قید و بند اور مسلسل نگرانی کا نتیجہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مجاہدین کی حقیقت کو مسخ کرنا اور اُن پر طعن و تشنیع بھی ایک منظم مہم کا حصہ رہا ہے۔
ان تمام عوامل کے نتیجے میں بہت سے مسلمانوں کے لیے حق و باطل خلط ملط ہو گئے۔ چنانچہ انہوں نے حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھ لیا اور ایسے وقت میں مجرموں کو یہ موقع ملا کہ وہ امت میں کھلم کھلا فساد برپا کریں۔
یہی وجہ ہے کہ آج حق پرست علماء، دیانتدار قائدین اور مجاہدین پر یہ ذمہ داری پہلے سے کہیں بڑھ کر عائد ہوتی ہے کہ وہ مجرموں کے راستے کو واضح کریں، انہیں بے نقاب کریں، عوام کو ان سے خبردار کریں اور مومنوں کے راستے کو نمایاں کریں، اس کی حمایت کریں اور اسے تقویت پہنچائیں۔
اس حوالے سےامام ابنِ قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِيْنَ (سورۃ الانعام: ۵۵)
’اور ہم اسی طرح نشانیاں تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں (تاکہ سیدھا راستہ بھی واضح ہوجائے) اور تاکہ مجرموں کا راستہ بھی کھل کر سامنے آجائے ۔‘
اور اللہ تعالیٰ کا یہ بھی فرمان ہے:
وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا (سورۃ النساء: ۱۱۵)
’ اور جو شخص اپنے سامنے ہدایت واضح ہونے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرے، اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرے، اس کو ہم اسی راہ کے حوالے کردیں گے جو اس نے خود اپنائی ہے، اور اسے دوزخ میں جھونکیں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔‘
اللہ تعالیٰ نے مومنین کا راستہ تفصیل سے بیان فرمایا، مجرموں کا راستہ بھی تفصیل سے واضح کیا اور دونوں کے انجام کو بھی پوری وضاحت کے ساتھ ذکر فرمایا۔ اِن کے اعمال اور اُن کے اعمال، اِن کے دوست اور اُن کے دوست، اُن پر اللہ کی طرف سے محرومی اور اِن پر اس کی توفیق مرحمت ہونا، یہ سب تفصیل سے بیان کیا۔ جن اسباب کے ذریعے اللہ نے مومنین کو توفیق دی اور جن اسباب سے مجرمین کو بدبختی میں مبتلا کیا، ان سب کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا، کھول کر واضح کیا اور پوری شرح و وضاحت کے ساتھ ان دونوں طریقوں کو سامنے رکھ دیا۔
1 748
منقول ہے کہ صلاح الدين ايوبي رحمه الله نے ہنسنا مسکرانا چھوڑ دیا تھا جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے تاریخی جملہ کہا:
"میں کیسے مسکرا سکتا ہوں، کھانا اور پانی میرے لیے کیسے ذائقہ دار لگ سکتا ہے جبکہ مسجد الاقصی صلیبیوں کے ہاتھ میں ہے۔ مجھے اللہ تعالی سے شرم آتی ہے کہ میں مسکراؤں"
1 748
Repost from اذانِ سحر
”تم ہمیں کمزور نہ دیکھو گے، نہ ہمیں گھبرایا ہوا پاو گے اور نہ ہی ہمارے پیچھے ہٹنے کا کوئی نشان تمہیں ملے گا۔ تمہارے لیے ہماری پاس صرف تلوار اور آگ ہے!‘‘
ابو عبیدہ حفظہ اللہ
1 748
آج بھی میرے خیالوں کی تپش زندہ ہے
میرے گفتار کی دیرینہ روش زندہ ہے
آج بھی ظلم کے ناپاک رواجوں کے خلاف
میرے سینے میں بغاوت کی خلش زندہ ہے
جبر و سفاکی و طغیانی کا باغی ہوں میں
نشئہ قوّتِ انسان کا باغی ہوں میں
شاعر:مولانا عامر عثمانی
آواز:ندیم حشمی
دریا آباد،یو پی
🔗 Usmanbaloch عُثمان بلوچ (@Usmanbaloch318)
📲 @twittervid_bot
1 748
Repost from N/a
پیشہ ور قاتلو!
اب بس بھی کرو
خون پینے کی تمہاری پیاس
ظلم ڈھانے کی یہ عادتیں
اب ختم بھی کرو!
اب بس بھی کرو!
#انقلاب_اسلامی
#انقلاب_اسلامی_پاکستان
https://x.com/IIP_Media
https://t.me/IIP_Media
1 748
ان سے جا ملو!
(سانحۂ لال مسجد پر لکھا گیا ایک مکالمہ)
یہ کیا ہے؟
ملبے کا ڈھیر!
یہاں پہلے کیا تھا؟
"لال مسجد"
یہ اس قدر لال کیوں ہے؟
یہاں خون گرا ہے
کس کا خون؟
حفاظِ قرآن کا، معلماتِ دین کا، برقعہ پوش بچیوں کا، علمائے حق کا...
یہ خون کس نے گرایا ہے؟
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ یہ میرے دوستوں نے گرایا ہے،
برطانوی طاغوت کہتا ہے درست گرایا ہے،
نیٹو کا سربراہ کہتا ہے مزید گرنا چاہیے
خون تو سامنے کی سڑک پر بھی گرا ہے؟
وہ دوسرا خون ہے
وہ کس کا ہے؟
وردی والوں کا
وہ کیا چاہتے ہیں؟
جو امریکہ چاہتا ہے
امریکہ کیا چاہتا ہے؟
مساج سنٹر، قحبہ خانے، ویڈیو سنٹر، آغا خانی سکول، اور بہت کچھ!
کیا کچھ؟
خاندانی منصوبہ بندی (اور اسقاطِ حمل) کے مراکز، این جی اوز کے جال، ٹی وی و کیبل چینلز، انٹرنیٹ کلب، مخلوط تعلیم، میراتھن ریس!
امریکہ یہ سب کچھ کیوں چاہتا ہے؟
امریکہ کے دوستوں سے پوچھو
امریکہ کے دوست کون ہیں؟
جو اس کی خاطر اپنی وردیاں لال کروا رہے ہیں
یہ وردی والے خون میں نہا کر کہاں جا رہے ہیں؟
کم از کم وہاں نہیں جا رہےجہاں وہ برقعہ پوش بچیاں شہید ہو کر جا رہی ہیں!
کیوں؟
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے!
پھر وردی والے ایسا کیوں کرتے ہیں؟
آڈر آڈر ہوتا ہے!
آڈر جہنم میں لے جائے تو؟
پھر بھی وہ آڈر ہی رہتا ہے!
کیوں؟
بڑے کا آڈر ہے
بڑا تو خدا ہے!
وہ بھی بڑا ہے
کون؟
جو کہتا ہے انا ربکم الاعلیٰ
تو کیا یہ وردی والا حرام موت مرا ہے؟
مفتیانِ کرام سے پوچھو
مفتیانِ کرام تو قبروں میں چلے گئے
پھر جیو ٹی وی والوں سے فتویٰ لے لو
وہاں تو مذمتی بیان چل رہا ہے
کس کا؟
سیاست دان کا
کس کی مذمت میں؟
دونوں کی مذمت میں
کون دونوں؟
بُش کے دوستوں، دشمنوں دونوں کی مذمت میں
دوستوں کی مذمت کیوں؟
جمہوریت کا تقاضا ہے
دشمنوں کی مذمت کیوں؟
قانون کی پاس داری ضروری ہے
قانون تو انگریز کا ہے، کافروں کا ہے؟
قانون... قانون ہوتا ہے، جیسے آڈر... آڈر ہوتا ہے!
اچھا تو یہ سیاست دان حق کیوں بیان نہیں کرتے؟
ابھی زیرِ تربیت ہیں
کہاں؟
یو ایس ایڈ (USAID) اور پلڈیٹ (PILDAT) والوں کے ہاں
پھر مجاہدین کدھر ہیں؟
کشمیر کے سرد خانوں میں
طالبان کہاں گئے؟
تعذیب خانوں کی نذر ہو گئے
حق گو علماء کہاں گئے؟ شامزئیؒ اور غازیؒ کدھر گئے؟
قبروں میں
ان کے جانشین کہاں کھو گئے؟
"لا پتہ" ہیں
پتہ کہاں سے چلے گا؟
پینٹاگون سے
مسلمان کہاں ہیں؟
مسلمان کمزور ہیں!
کیا مسلمان کھانا کھاتے ہیں؟
جی ہاں
پانی پیتے ہیں؟
جی ہاں
ہل چلاتے ہیں؟
جی ہاں
قرآن پڑھتے، پڑھاتے ہیں؟
جی ہاں
پھر کیوں کمزور ہیں؟
جہاز نہیں ہیں، میزائل نہیں ہیں، دشمن مضبوط ہے
کیا دشمن کے پاس ایمان ہے؟
نہیں
شوقِ شہادت ہے؟
نہیں
شہیدی حملے کرنے والے ہیں؟
نہیں
پھر دشمن کیسے مضبوط ہوا؟
ہم کمزور ہیں
کیا کمزوری ہے؟
موت سے ڈر لگتا ہے!
اصل بات یہ ہے
یہ ڈر کیسے دور ہو گا؟
جو موت سے نہیں ڈرتے، ان سے جا ملو!
احسن عزیز شہیدؒ
(مجلّہ حطّین، شمارہ: ۲)
https://x.com/AhsanAziz_/status/1942544510518481006?t=9SfWNoLsjncDo2tqyJ2U_w&s=19
1 748
Repost from Voice Of Pakistan
🚨 ٹی ٹی پی کا دعویٰ: لکی مروت میں تین فوجی اہلکار "شہداء کی لاشوں" کی بے حرمتی کے انتقام میں قتل
‼️ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ضلع لکی مروت میں تین فوجی اہلکاروں کو قتل کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ کارروائی ان سات عسکریت پسندوں کی لاشوں کی مبینہ بے حرمتی کے ردعمل میں کی گئی، جو شمالی وزیرستان کے علاقے حسن خیل میں ایک فوجی آپریشن کے دوران مارے گئے تھے۔
ٹی ٹی پی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے افراد کا تعلق لکی مروت سے تھا اور ان کی لاشیں جب واپس کی گئیں تو ان کے چہروں پر مبینہ طور پر تیزاب ڈال دیا گیا تھا، جس سے وہ ناقابل شناخت ہو گئی تھیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ "ہم اپنے شہداء کی لاشوں کی بے حرمتی کبھی برداشت نہیں کریں گے۔ یہ عمل اسلامی اقدار اور انسانیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔"
تنظیم نے واضح کیا کہ وہ آئندہ بھی اپنے شہداء کا انتقام لے گی، تاہم اس نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائیاں شریعت کے اصولوں کے مطابق کی جائیں گی۔
1 748
وہ اسلامی جہاد جو مسلمانوں کی ہمہ گیر آزادی اور اسلامی نظام کے قیام کے لیے شروع کیا جائے ، اسکا عقیدہ ، نظریہ اور حکمت عملی بھی اسلام ہی سے اخذ ہونی چاہئیے نہ کہ محض آزادی کے نام پر ایسی تحریک بنائی جائے جسکا اصل نتیجہ فکری، سیاسی، ثقافتی اور سماجی لحاظ سے مغرب کی گود میں دوبارہ گرنا ہو، اور اسلامی غلبے نفاز شریعت کے خلاف کھڑے ہونے کی صورت اختیار کرے ۔۔۔
فضیلتہ الشیخ مولوی عبدالہادی مجاہد دامت برکاتہم کی پشتو تصنیف "مدرسہ اور مبارزہ" کے اردو ترجمے سے اقتباس
1 748
Repost from N/a
آرمی چیف عاصم منیر کے آقا ٹرمپ کی منظوری کے بعد وزیرستان میں ایک اور آپریشن کی تیاریاں شروع
#انقلاب_اسلامی
#انقلاب_اسلامی_پاکستان
https://x.com/IIP_Media
https://t.me/IIP_Media
1 748
پرانے لوگ ہیں ہم، عہدِ نو میں جیتے ہیں
ہماری جانچ کو، مَعیار تو ہمارا ہو!
نہ پوچھو حالِ چمن مجھ سے، چاہتا ہوں یہ
جو دیکھتا ہوں وہ خود تم پہ آشکارا ہو
اُنھیں نہ دیکھنا جو ایک بازی جیت آئے
تجربہ اُس سے بھی لینا جو جنگ ہارا ہو!
احسن عزیز شہیدؒ
(محبت فیصلہ کن ہے)
