en
Feedback
Sagaar Media

Sagaar Media

Open in Telegram

A social media platform for Baloch writers, Singers and literature.

Show more
5 809
Subscribers
-224 hours
-227 days
-14930 days

Data loading in progress...

Tags Cloud
No data
Any problems? Please refresh the page or contact our support manager.
Incoming and Outgoing Mentions
---
---
---
---
---
---
Attracting Subscribers
September '26
September '26
+20
in 0 channels
August '26
+69
in 1 channels
Get PRO
July '26
+97
in 0 channels
Get PRO
June '26
+51
in 0 channels
Get PRO
May '26
+53
in 0 channels
Get PRO
April '26
+34
in 0 channels
Get PRO
March '26
+27
in 0 channels
Get PRO
February '26
+219
in 5 channels
Get PRO
January '26
+89
in 0 channels
Get PRO
December '25
+88
in 3 channels
Get PRO
November '25
+30
in 1 channels
Get PRO
October '25
+37
in 1 channels
Get PRO
September '25
+20
in 2 channels
Get PRO
August '25
+58
in 3 channels
Get PRO
July '25
+182
in 5 channels
Get PRO
June '25
+165
in 5 channels
Get PRO
May '25
+321
in 2 channels
Get PRO
April '25
+312
in 4 channels
Get PRO
March '25
+1 377
in 8 channels
Get PRO
February '25
+273
in 3 channels
Get PRO
January '25
+423
in 6 channels
Get PRO
December '24
+280
in 4 channels
Get PRO
November '24
+702
in 2 channels
Get PRO
October '24
+595
in 1 channels
Get PRO
September '24
+668
in 2 channels
Get PRO
August '24
+1 255
in 4 channels
Get PRO
July '24
+524
in 3 channels
Get PRO
June '24
+303
in 0 channels
Get PRO
May '24
+317
in 0 channels
Get PRO
April '24
+508
in 1 channels
Get PRO
March '24
+860
in 1 channels
Get PRO
February '24
+304
in 0 channels
Get PRO
January '24
+896
in 1 channels
Get PRO
December '23
+363
in 2 channels
Get PRO
November '23
+688
in 1 channels
Date
Subscriber Growth
Mentions
Channels
08 September0
07 September+3
06 September+2
05 September+3
04 September+8
03 September+1
02 September+2
01 September+1
Channel Posts
بلوچ لبریشن آرمی وطن کی آزادی کے مقدس معرکے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے اپنے تمام عظیم شہدا، سنگت یونس سبزل عرف ملگزار، سنگت دودا عرف سرباز، سنگت ظہیر مینگل عرف ذاکر، سنگت اعجاز احمد مینگل عرف حیات، سنگت علی نواز مینگل عرف فراز، سنگت محمد شاکر شاہوانی عرف عصمت اللہ، سنگت نور احمد نوتیزئی عرف شادین، سنگت میر علی موسیٰ زئی عرف فیاض، سنگت عزیر احمد ماندائی عرف تنویر، سنگت نصیر احمد محمد حسنی عرف سلال، سنگت لال محمد حسنی عرف عدنان اور سنگت یاسر عرف سبزو کی عظیم قربانیوں کو انتہائی عقیدت کے ساتھ سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ ان باہمت فرزندوں کا مقدس لہو اور بے مثال ایثار بلوچ قومی جدوجہد کا تابناک باب اور سرمچاروں کے عزم واستقلال کا بنیادی سرچشمہ ہے۔ بی ایل اے اپنے شہدا کے ارمانوں کی پاسداری کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ قابض فوج اور اس کے نوآبادیاتی استحصالی منصوبوں کے خلاف 'معاشی ناکہ بندی' کی پالیسی پوری سختی کے ساتھ نافذ ہے اور تمام مرکزی شاہراہوں پر یہ معاشی ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی۔ بلوچ سرزمین کے دفاع اور قومی وسائل کے تحفظ کے لیئے سرمچاروں کی کارروائیاں آزاد وخودمختار بلوچستان کے قیام تک ہر محاذ پر تمام تر قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔ #Balochistan #BalochMartyrs

2
No text...
314
3
بلوچ لبریشن آرمی وطن کی آزادی کے مقدس معرکے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے اپنے تمام عظیم شہدا، سنگت یونس سبزل عرف ملگزار، سنگت دودا عرف سرباز، سنگت ظہیر مینگل عرف ذاکر، سنگت اعجاز احمد مینگل عرف حیات، سنگت علی نواز مینگل عرف فراز، سنگت محمد شاکر شاہوانی عرف عصمت اللہ، سنگت نور احمد نوتیزئی عرف شادین، سنگت میر علی موسیٰ زئی عرف فیاض، سنگت عزیر احمد ماندائی عرف تنویر، سنگت نصیر احمد محمد حسنی عرف سلال، سنگت لال محمد حسنی عرف عدنان اور سنگت یاسر عرف سبزو کی عظیم قربانیوں کو انتہائی عقیدت کے ساتھ سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ ان باہمت فرزندوں کا مقدس لہو اور بے مثال ایثار بلوچ قومی جدوجہد کا تابناک باب اور سرمچاروں کے عزم واستقلال کا بنیادی سرچشمہ ہے۔ بی ایل اے اپنے شہدا کے ارمانوں کی پاسداری کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ قابض فوج اور اس کے نوآبادیاتی استحصالی منصوبوں کے خلاف 'معاشی ناکہ بندی' کی پالیسی پوری سختی کے ساتھ نافذ ہے اور تمام مرکزی شاہراہوں پر یہ معاشی ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی۔ بلوچ سرزمین کے دفاع اور قومی وسائل کے تحفظ کے لیئے سرمچاروں کی کارروائیاں آزاد وخودمختار بلوچستان کے قیام تک ہر محاذ پر تمام تر قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔ #Balochistan #BalochMartyrs
1
4
31 اگست کو چاغی کے علاقے نوکچاہ میں قابض پاکستانی فوج کے ساتھ ہونے والی شدید جھڑپوں میں دشمن کے ایک اعلیٰ آفیسر سمیت 16 اہلکا
31 اگست کو چاغی کے علاقے نوکچاہ میں قابض پاکستانی فوج کے ساتھ ہونے والی شدید جھڑپوں میں دشمن کے ایک اعلیٰ آفیسر سمیت 16 اہلکار ہلاک اور بڑی تعداد میں زخمی ہو گئے۔ 4 گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والی ان جھڑپوں میں بی ایل اے کے 10 سرمچار سنگت ظہیر مینگل عرف ذاکر، سنگت اعجاز احمد مینگل عرف حیات، سنگت علی نواز مینگل عرف فراز، سنگت محمد شاکر شاہوانی عرف عصمت اللہ، سنگت نور احمد نوتیزئی عرف شادین، سنگت میر علی موسیٰ زئی عرف فیاض، سنگت عزیر احمد ماندائی عرف تنویر، سنگت نصیر احمد محمد حسنی عرف سلال، سنگت لال محمد حسنی عرف عدنان اور سنگت یاسر عرف سبزو شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔ #Chaghi #Balochistan #Martyrs
317
5
مزید برآں، قلات کے علاقوں گراڑی اور مہلبی میں کوئٹہ تا کراچی شاہراہ پر سرمچاروں نے سیندک استحصالی پروجیکٹ کی گاڑیوں اور قابض
مزید برآں، قلات کے علاقوں گراڑی اور مہلبی میں کوئٹہ تا کراچی شاہراہ پر سرمچاروں نے سیندک استحصالی پروجیکٹ کی گاڑیوں اور قابض فوج کے کا نوانے کو حملوں میں نشانہ بنا کر بھاری نقصان پہنچایا۔ قبل ازیں، گزشتہ ماہ مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ سے سرمچاروں نے قابض فوج کے آلہ کار شکیل احمد کٹبار (سکنہ ٹیپل) کو اس وقت حراست میں لیا جب وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بھتہ خوری میں مصروف تھا۔ دورانِ تفتیش شکیل نے اعتراف کیا کہ وہ ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کا آلہ کار اور نام نہاد 'پاکستان زندہ باد' تنظیم کا فعال رکن ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ قابض فوج کے لیئے مخبروں کی بھرتی میں بھی ملوث رہا ہے۔ تفتیش کے دوران شکیل کٹبار نے اپنے دیگر ساتھیوں کے نام اور تفصیلات بھی افشا کیں۔ قومی غداری کے جرم میں بلوچ قومی عدالت کے فیصلے کے تحت شکیل کٹبار کو سزائے موت دی گئی۔ #Balochistan #Kalat
309
6
7 ستمبر: کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں سرمچاروں نے ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے کارندے رحمت سعید ولد سعید محمد (سکنہ کرک) کو
7 ستمبر: کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں سرمچاروں نے ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے کارندے رحمت سعید ولد سعید محمد (سکنہ کرک) کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ مذکورہ کارندے پر بی ایل اے کی انٹیلی جنس ونگ 'زراب' مسلسل نظر رکھے ہوئے تھی۔ آلہ کار رحمت قابض فوج کے لیے مخبری کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی جارحیت میں بھی دشمن کے ہمراہ ہوتا تھا۔ اسی روز خاران کے علاقے البت میں سرمچاروں نے قابض فوج کے مرکزی کیمپ پر اسنائپر حملے میں ایک اہلکار کو ہلاک کردیا، جبکہ کیمپ پر مارٹر گولے داغ کر دشمن کو مزید جانی ومالی نقصان پہنچایا۔ #Balochistan #Quetta #Kharan
289
7
6 ستمبر : نوشکی کے علاقے کلی نوکجو میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے اہم کارندے اور نام نہاد 'باپ' پارٹی کے رکن عبد الرحما
6 ستمبر : نوشکی کے علاقے کلی نوکجو میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے اہم کارندے اور نام نہاد 'باپ' پارٹی کے رکن عبد الرحمان لانگو کے ٹھکانے پر چھاپہ مار کر اسے ہلاک کر دیا۔ مذکورہ شخص طویل عرصے سے قابض فوج کی سرپرستی میں ڈیتھ اسکواڈ کے مسلح جتھے کی سربراہی کر رہا تھا اور مخبروں کی بھرتی سمیت شہریوں کے گھروں پر چھاپوں میں بھی معاونت فراہم کرتا تھا۔ آلہ کار عبد الرحمان لانگو قابض فوج کی ایماء پر نام نہاد ریلیاں اور جشن کی تقاریب منعقد کرواتا تھا، جس کے عوض قابض فوج نے اس کے جتھے کو علاقے میں بھتہ خوری، ڈکیتی اور منشیات کے کاروبار کی کھلی چھوٹ دے رکھی تھی۔ #Balochistan #Noshki
276
8
5 ستمبر: مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں سرمچاروں نے قابض فوج کے 2 کمانڈوز کو اس وقت ہلاک کر دیا جب وہ علاقے میں پیش قدمی کی کوشش
5 ستمبر: مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں سرمچاروں نے قابض فوج کے 2 کمانڈوز کو اس وقت ہلاک کر دیا جب وہ علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کررہے تھے۔5 ستمبر: قلات کے علاقے مہلبی میں بی ایل اے کے اسنائپر نے قابض فوج کے ایک اہلکار کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ کوئٹہ تا قلات مرکزی شاہراہ پر جمع تھے۔ اسی شب مستونگ کے علاقے دشت میں سرمچاروں نے شدید جھڑپوں کے دوران قابض فوج کو بھاری نقصان پہنچایا۔ 6 ستمبر: جھل مگسی کے علاقے کوٹڑو میں سرمچاروں نے قابض فوج کے زیرِ استعمال ایک ریسٹ ہاؤس کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا کر تباہ کر دیا۔ اسی روز سرمچاروں نے قلعہ عبداللہ سے متصل غزا بند کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے زیرِ استعمال ایئرپورٹ سائٹ پر حملہ کرکے وہاں موجود کمپیوٹرز، دیگر آلات اور عمارت کو نذرِ آتش کرکے مکمل تباہ کر دیا۔ #Balochistan #Mastung #Jhalmagsi
293
9
3 ستمبر، پشین میں زیارت کراس کے مقام پر بلوچ لبریشن آرمی کے ہر اول دستے 'فتح اسکواڈ' نے ایک مہلک اور کامیاب حملے میں قابض پاک
3 ستمبر، پشین میں زیارت کراس کے مقام پر بلوچ لبریشن آرمی کے ہر اول دستے 'فتح اسکواڈ' نے ایک مہلک اور کامیاب حملے میں قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو نشانہ بنایا۔ قلعہ سیف اللہ اسکواٹس اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کی 134 ونگ کی 4 گاڑیاں اس حملے کی زد میں آئیں، جن میں سے ایک ملٹری ٹرک سمیت 2 گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ سرمچاروں نے قابض فوج کے 18 اہلکاروں کو ہلاک کرکے ان کا تمام اسلحہ و حربی سامان ضبط کر لیا، جبکہ 5 زخمی اہلکار موقع سے بھاگ نکلے۔ ہلاک ہونے والے اہلکاروں میں نائیک اسماعیل، سپاہی بلال، سپاہی عبد الرحمٰن، سپاہی فخر الدین، سپاہی کنکھب، سپاہی عرفان، سپاہی اکبر، سپاہی عطاء محمد، سپاہی رضوان، سپاہی محمد طفیل، نائیک محمد ایوب، سپاہی اولیاس خان، سپاہی واجد علی، سپاہی محمد اشفاق، حوالدار لطف الرحمن اور نائیک زین اللہ شامل ہیں۔ سرمچاروں کے ایک اور دستے نے زیارت کراس سے متصل خانی بابا کے مقام پر ایک استحصالی کمپنی کی سائٹ کا کنٹرول حاصل کر کے وہاں موجود گاڑیوں سمیت 14 بھاری مشینریوں کو تباہ کردیا۔ سرمچاروں نے کمپنی کے حراست میں لیئے گئے اہلکاروں کو تنظیمی پالیسی کے تحت بعد میں رہا کر دیا۔ #Balochistan #Ziarat
288
10
3 ستمبر: تمپ کے علاقے ملانٹ میں سرمچاروں نے قابض فوج کے کیمپ پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغ کر دشمن کو نقصان پہنچایا، مزید
3 ستمبر: تمپ کے علاقے ملانٹ میں سرمچاروں نے قابض فوج کے کیمپ پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغ کر دشمن کو نقصان پہنچایا، مزید برآں تمپ شہر میں قابض فوج کے کیمپ پر گرنیڈ لانچر سے گولے داغ کر نشانہ بنایا گیا جبکہ مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں قابض فوج کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا جس میں دشمن کو سنگین جانی ومالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ #Tump #Balochistan
279
11
2 ستمبر: مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں 'گُرو' کے مقام پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کی ایک بکتر بند گاڑی کو آئی ای ڈی دھماکے
2 ستمبر: مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں 'گُرو' کے مقام پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کی ایک بکتر بند گاڑی کو آئی ای ڈی دھماکے سے تباہ کرنے کے بعد قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ اس طویل جھڑپ میں قابض فوج کے 4 اہلکار ہلاک اور 7 سے زائد زخمی ہوگئے۔ دریں اثناء قلات کے علاقے توک میں سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے پر مسلح حملہ کرکے دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ 3 ستمبر: سوراب کے علاقے ہاجیکہ میں بلوچ لبریشن آرمی کے اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ (ایس ٹی او ایس) نے قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے ریموٹ کنٹرول دھماکے میں نشانہ بنایا۔ اس شدید دھماکے میں قابض فوج کی ایک گاڑی مکمل تباہ ہوگئی اور 7 اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ #Balochistan #Mastung #Surab
292
12
ا دسمبر کو خاران کے علاقے البت میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا، جس سے دشمن کو شدید نقصا
ا دسمبر کو خاران کے علاقے البت میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا، جس سے دشمن کو شدید نقصان پہنچا۔ مزید برآں، قلات کے علاقے گراڑی میں سرمچاروں نے کوئٹہ تا کراچی مرکزی شاہراہ پر قابض فوج کو اس وقت حملے میں نشانہ بنایا جب وہ اپنے لیئے بکتر بند گاڑیاں منتقل کررہی تھی۔ اس حملے میں قابض فوج کو جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 3 بکتر بند گاڑیاں بھی شدید متاثر ہوئیں۔ کیچ (تربت) کے علاقے دشت میں قابض پاکستانی فوج کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کے دوران بلوچ لبریشن آرمی کے دو سرمچار، سنگت یونس سبزل عرف ملگزار اور سنگت دودا عرف سرباز، شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گئے۔ #Kharan #Kalat #Turbat #Balochistan
307
13
1 ستمبر: گوادر کے علاقے پسنی میں زیرو پوائنٹ پر بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے بیک وقت پولیس و لیویز کی مشترکہ پوسٹ سمیت کسٹ
1 ستمبر: گوادر کے علاقے پسنی میں زیرو پوائنٹ پر بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے بیک وقت پولیس و لیویز کی مشترکہ پوسٹ سمیت کسٹمز اور کوسٹل پولیس کی چوکیوں پر حملہ کرکے ان کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔ سرمچاروں نے چوکیوں سے اسلحہ و دیگر حربی سامان تحویل میں لینے کے بعد پوسٹوں کو نذرِ آتش کر کے تباہ کردیا۔ اس دوران سرمچاروں نے مختلف مقامات پر چیک پوائنٹس قائم کر کے اسنیپ چیکنگ کا عمل جاری رکھا، جبکہ کوسٹل پولیس کی گاڑیوں میں پیش قدمی کرنے والی قابض پاکستانی فوج کی کوشش کو سرمچاروں نے موثر حملے سے ناکام بنا کر انہیں پسپا ہونے پر مجبور کردیا #Balochistan #Gwadar
310
14
سگار میڈیا کے نئے فیسبوک اکاؤنٹ کو فولو کریں ⬇️ https://www.facebook.com/share/1Prqx24uxb/
329
15
28 کارروائیوں میں قابض فوج کے 52 اہلکار ہلاک، چوکیوں پر کنٹرول اور اسلحہ ضبط - بلوچ لبریشن آرمی بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں
28 کارروائیوں میں قابض فوج کے 52 اہلکار ہلاک، چوکیوں پر کنٹرول اور اسلحہ ضبط - بلوچ لبریشن آرمی بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے یکم ستمبر سے 7 ستمبر کے دوران 28 مختلف کارروائیوں میں قابض پاکستانی فوج کے 52 اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ یہ کارروائیاں پسنی، خاران، قلات، تربت، مستونگ، سوراب، تمپ، پشین، جھل مگسی، نوشکی، چاغی اور کوئٹہ میں سرانجام دی گئیں۔ ان کارروائیوں کے دوران قابض فورسز کی چوکیوں اور گاڑیوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے علاوہ بھاری مقدار میں اسلحہ ودیگر جنگی سامان تحویل میں لے لیا گیا۔ قابض فوج کے ساتھ مختلف مقامات پر ہونے والی جھڑپوں میں بی ایل اے کے 12 سرمچار شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔ #Balochistan #BLA
338
16
+8
No text...
381
17
The Baloch Liberation Army pays its highest tributes and red salutes to the great sacrifices of all its martyrs who embraced martyrdom in the sacred battle for the freedom of the motherland: Sangat Younus Sabzal alias Mulguzar, Sangat Doda alias Sarbaz, Sangat Zaheer Mengal alias Zakir, Sangat Ijaz Ahmed Mengal alias Hayat, Sangat Ali Nawaz Mengal alias Faraz, Sangat Muhammad Shakir Shahwani alias Ismatullah, Sangat Noor Ahmed Notezai alias Shadin, Sangat Mir Ali Moosazai alias Fayyaz, Sangat Uzair Ahmed Mandai alias Tanveer, Sangat Naseer Ahmed Muhammad Hassani alias Salal, Sangat Lal Muhammad Hassani alias Adnan, and Sangat Yasir alias Sabzo. The sacred blood and unprecedented devotion of these brave sons form a glorious chapter in the Baloch national struggle and serve as the primary source of resolve and fortitude for the Sarmachars. Upholding the aspirations of its martyrs, the BLA reiterates its pledge that the policy of "economic blockade" against the occupying army and its colonial exploitative projects is strictly enforced and will remain in effect across all primary highways. Armed operations by Sarmachars to defend the Baloch motherland and protect national resources will continue with full strength on all fronts until the establishment of an independent and sovereign Balochistan. Jeeyand Baloch Spokesperson: Baloch Liberation Army Date: September 7, 2026
346
18
September 4: In the Khadkoocha area of Mastung, Sarmachars eliminated two commandos of the occupying army as they attempted to advance into the area. September 5: At Mahalbi in Kalat, a BLA sniper targeted an occupying army personnel as troops gathered on the main Quetta-Kalat highway. On the same night, Sarmachars inflicted heavy losses on the occupying army during intense clashes in Dasht, Mastung. September 6: In the Kotro area of Jhal Magsi, Sarmachars blew up and destroyed a rest house used by the occupying army using explosives. On the same day, Sarmachars attacked an airport site used by the occupying Pakistani army at Ghazaband, adjacent to Killa Abdullah, destroying computers, other equipment, and the rest house building by setting them on fire. In Killi Nokjo, Nushki, Sarmachars raided the hideout of Abdul Rehman Langov, a key agent of the occupying Pakistani army and member of the so-called 'BAP' party, eliminating him. The said agent had long been leading an armed Death Squad group under the patronage of the occupying army and was involved in recruiting informers and assisting in raids on civilian homes. Agent Abdul Rehman Langov organized so-called rallies and celebration events at the behest of the occupying army, in return for which the occupying forces granted his gang full leeway for extortion, robbery, and drug trafficking in the region. September 7: In the Hazar Ganji area of Quetta, Sarmachars shot and killed Rehmat Saeed, son of Saeed Muhammad (resident of Karak), an agent of Military Intelligence (MI). The agent was under constant surveillance by BLA's intelligence wing, 'ZIRAB'. Collaborator Rehmat carried out espionage for the occupying army and accompanied them during regional aggressions. On the same day, at Albat in Kharan, Sarmachars killed one personnel in a sniper attack at the main camp of the occupying army, and fired mortar shells at the camp, inflicting further casualties and material damage on the enemy. Furthermore, on the Quetta-Karachi highway at Garari and Mahalbi in Kalat, Sarmachars targeted vehicles of the Saindak exploitative project and an occupying army convoy in attacks, causing heavy losses. Earlier, last month in the Khadkoocha area of Mastung, Sarmachars detained Shakeel Ahmad Katbar (resident of Teepul), an agent of the occupying army, while he was engaged in extortion with his accomplices. During interrogation, Shakeel confessed to being an agent of Military Intelligence (MI) and an active member of the so-called 'Pakistan Zindabad' organization. He admitted to being involved in recruiting informers for the occupying army. During interrogation, agent Shakeel Katbar exposed the names and details of his accomplices. For committing national treason, Shakeel Katbar was executed under the decision of the Baloch National Court. On August 31, in intense clashes with the occupying Pakistani army at Nokchah in Chagai, 16 enemy personnel, including a senior officer, were killed and a large number injured. During these clashes lasting over four hours, 10 BLA Sarmachars, Sangat Zaheer Mengal alias Zakir, Sangat Ijaz Ahmed Mengal alias Hayat, Sangat Ali Nawaz Mengal alias Faraz, Sangat Muhammad Shakir Shahwani alias Ismatullah, Sangat Noor Ahmed Notezai alias Shadin, Sangat Mir Ali Moosazai alias Fayyaz, Sangat Uzair Ahmed Mandai alias Tanveer, Sangat Naseer Ahmed Muhammad Hassani alias Salal, Sangat Lal Muhammad Hassani alias Adnan, and Sangat Yasir alias Sabzo attained martyrdom.
303
19
52 Occupying Army Personnel Killed, Checkpoints Captured, and Arsenal Seized in 28 Operations - BLA Sarmachars (Freedom Fighters) of the Baloch Liberation Army (BLA) killed 52 personnel of the occupying Pakistani army in 28 different operations from September 1 to September 7. These operations were executed across Pasni, Kharan, Kalat, Turbat, Mastung, Surab, Tump, Pishin, Jhal Magsi, Nushki, Chaghi, and Quetta. During these operations, apart from gaining control over checkpoints and vehicles of the occupying forces, a large quantity of weapons and military equipment was seized. Twelve BLA Sarmachars attained martyrdom during clashes at various locations with the occupying army. September 1: At Zero Point in Pasni, Gwadar, BLA Sarmachars launched a simultaneous attack on a joint Police and Levies post, as well as Customs and Coastal Police checkpoints, establishing complete control over them. After seizing weapons and military hardware from the checkpoints, Sarmachars set fire to and destroyed the posts. During this time, Sarmachars established checkpoints at various locations and conducted snap checking, while repelling an advance attempt by the occupying Pakistani army in Coastal Police vehicles through an effective attack, forcing them to retreat. On the same day, Sarmachars ambushed a convoy of the occupying Pakistani army at Albat in Kharan, inflicting severe losses on the enemy. Furthermore, at Garari in Kalat, Sarmachars targeted the occupying army on the main Quetta-Karachi highway as it was transporting armored vehicles for itself. The occupying army suffered personnel casualties in this attack, while three armored vehicles sustained severe damage. During clashes with the occupying Pakistani army in the Dasht area of Kech (Turbat), two BLA Sarmachars, Sangat Younus Sabzal alias Mulguzar and Sangat Doda alias Sarbaz, attained martyrdom. September 2: At 'Garo' in the Khadkoocha area of Mastung, Sarmachars destroyed an armored vehicle of the occupying Pakistani army in an IED blast before ambushing the convoy. In the prolonged clash, four personnel of the occupying army were killed and more than seven injured. Meanwhile, at Took in Kalat, Sarmachars launched an armed attack on an occupying army convoy, inflicting heavy human and material losses on the enemy. September 3: In the Hajika area of Surab, BLA's Special Tactical Operations Squad (STOS) targeted an occupying Pakistani army convoy in a remote-controlled blast using an explosive-laden vehicle. In this powerful explosion, one occupying army vehicle was completely destroyed and seven personnel were killed on the spot. On the same day, at Malant in Tump, Sarmachars fired multiple grenade launcher rounds at an occupying army camp, causing losses, in addition, an occupying force’s camp in Temp city was targeted using grenade launcher, while an ambush attack on an occupying army convoy in Khadkoocha, Mastung inflicted severe personnel and material damage on the enemy. Furthermore, at Ziarat Cross in Pishin, BLA's vanguard unit, the 'Fateh Squad', targeted an occupying Pakistani army convoy in a deadly and successful attack. Four vehicles belonging to the Qilla Saifullah Scouts and Frontier Corps (FC) 134 Wing came under attack, two of which, including a military truck, were destroyed in direct hits. Sarmachars killed 18 personnel of the occupying army and seized all their weapons and military equipment, while five injured personnel fled the scene. The killed personnel include Naik Ismail, Sepoy Bilal, Sepoy Abdul Rehman, Sepoy Fakharuddin, Sepoy Kankhab, Sepoy Irfan, Sepoy Akbar, Sepoy Ata Muhammad, Sepoy Rizwan, Sepoy Muhammad Tufail, Naik Muhammad Ayoub, Sepoy Owais Khan, Sepoy Wajid Ali, Sepoy Muhammad Ashfaq, Havildar Lutfe Rehman, and Naik Zainullah. Another squad of Sarmachars took control of an exploitative company's site at Khani Baba, adjacent to Ziarat Cross, destroying 14 heavy machines along with vehicles present there. Sarmachars later released the detained company personnel under organizational policy.
296
20
5 ستمبر: قلات کے علاقے مہلبی میں بی ایل اے کے اسنائپر نے قابض فوج کے ایک اہلکار کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ کوئٹہ تا قلات مرکزی شاہراہ پر جمع تھے۔ اسی شب مستونگ کے علاقے دشت میں سرمچاروں نے شدید جھڑپوں کے دوران قابض فوج کو بھاری نقصان پہنچایا۔ 6 ستمبر: جھل مگسی کے علاقے کوٹڑو میں سرمچاروں نے قابض فوج کے زیرِ استعمال ایک ریسٹ ہاؤس کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا کر تباہ کر دیا۔ اسی روز سرمچاروں نے قلعہ عبداللہ سے متصل غزا بند کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے زیرِ استعمال ایئرپورٹ سائٹ پر حملہ کرکے وہاں موجود کمپیوٹرز، دیگر آلات اور عمارت کو نذرِ آتش کرکے مکمل تباہ کر دیا۔ نوشکی کے علاقے کلی نوکجو میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے اہم کارندے اور نام نہاد 'باپ' پارٹی کے رکن عبد الرحمان لانگو کے ٹھکانے پر چھاپہ مار کر اسے ہلاک کر دیا۔ مذکورہ شخص طویل عرصے سے قابض فوج کی سرپرستی میں ڈیتھ اسکواڈ کے مسلح جتھے کی سربراہی کر رہا تھا اور مخبروں کی بھرتی سمیت شہریوں کے گھروں پر چھاپوں میں بھی معاونت فراہم کرتا تھا۔ آلہ کار عبد الرحمان لانگو قابض فوج کی ایماء پر نام نہاد ریلیاں اور جشن کی تقاریب منعقد کرواتا تھا، جس کے عوض قابض فوج نے اس کے جتھے کو علاقے میں بھتہ خوری، ڈکیتی اور منشیات کے کاروبار کی کھلی چھوٹ دے رکھی تھی۔ 7 ستمبر: کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں سرمچاروں نے ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے کارندے رحمت سعید ولد سعید محمد (سکنہ کرک) کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ مذکورہ کارندے پر بی ایل اے کی انٹیلی جنس ونگ 'زراب' مسلسل نظر رکھے ہوئے تھی۔ آلہ کار رحمت قابض فوج کے لیے مخبری کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی جارحیت میں بھی دشمن کے ہمراہ ہوتا تھا۔ اسی روز خاران کے علاقے البت میں سرمچاروں نے قابض فوج کے مرکزی کیمپ پر اسنائپر حملے میں ایک اہلکار کو ہلاک کردیا، جبکہ کیمپ پر مارٹر گولے داغ کر دشمن کو مزید جانی ومالی نقصان پہنچایا۔ مزید برآں، قلات کے علاقوں گراڑی اور مہلبی میں کوئٹہ تا کراچی شاہراہ پر سرمچاروں نے سیندک استحصالی پروجیکٹ کی گاڑیوں اور قابض فوج کے کا نوانے کو حملوں میں نشانہ بنا کر بھاری نقصان پہنچایا۔ قبل ازیں، گزشتہ ماہ مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ سے سرمچاروں نے قابض فوج کے آلہ کار شکیل احمد کٹبار (سکنہ ٹیپل) کو اس وقت حراست میں لیا جب وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بھتہ خوری میں مصروف تھا۔ دورانِ تفتیش شکیل نے اعتراف کیا کہ وہ ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کا آلہ کار اور نام نہاد 'پاکستان زندہ باد' تنظیم کا فعال رکن ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ قابض فوج کے لیئے مخبروں کی بھرتی میں بھی ملوث رہا ہے۔ تفتیش کے دوران شکیل کٹبار نے اپنے دیگر ساتھیوں کے نام اور تفصیلات بھی افشا کیں۔ قومی غداری کے جرم میں بلوچ قومی عدالت کے فیصلے کے تحت شکیل کٹبار کو سزائے موت دی گئی۔ 31 اگست کو چاغی کے علاقے نوکچاہ میں قابض پاکستانی فوج کے ساتھ ہونے والی شدید جھڑپوں میں دشمن کے ایک اعلیٰ آفیسر سمیت 16 اہلکار ہلاک اور بڑی تعداد میں زخمی ہو گئے۔ 4 گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والی ان جھڑپوں میں بی ایل اے کے 10 سرمچار سنگت ظہیر مینگل عرف ذاکر، سنگت اعجاز احمد مینگل عرف حیات، سنگت علی نواز مینگل عرف فراز، سنگت محمد شاکر شاہوانی عرف عصمت اللہ، سنگت نور احمد نوتیزئی عرف شادین، سنگت میر علی موسیٰ زئی عرف فیاض، سنگت عزیر احمد ماندائی عرف تنویر، سنگت نصیر احمد محمد حسنی عرف سلال، سنگت لال محمد حسنی عرف عدنان اور سنگت یاسر عرف سبزو شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔ بلوچ لبریشن آرمی وطن کی آزادی کے مقدس معرکے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے اپنے تمام عظیم شہدا، سنگت یونس سبزل عرف ملگزار، سنگت دودا عرف سرباز، سنگت ظہیر مینگل عرف ذاکر، سنگت اعجاز احمد مینگل عرف حیات، سنگت علی نواز مینگل عرف فراز، سنگت محمد شاکر شاہوانی عرف عصمت اللہ، سنگت نور احمد نوتیزئی عرف شادین، سنگت میر علی موسیٰ زئی عرف فیاض، سنگت عزیر احمد ماندائی عرف تنویر، سنگت نصیر احمد محمد حسنی عرف سلال، سنگت لال محمد حسنی عرف عدنان اور سنگت یاسر عرف سبزو کی عظیم قربانیوں کو انتہائی عقیدت کے ساتھ سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ ان باہمت فرزندوں کا مقدس لہو اور بے مثال ایثار بلوچ قومی جدوجہد کا تابناک باب اور سرمچاروں کے عزم واستقلال کا بنیادی سرچشمہ ہے۔ بی ایل اے اپنے شہدا کے ارمانوں کی پاسداری کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ قابض فوج اور اس کے نوآبادیاتی استحصالی منصوبوں کے خلاف 'معاشی ناکہ بندی' کی پالیسی پوری سختی کے ساتھ نافذ ہے اور تمام مرکزی شاہراہوں پر یہ معاشی ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی۔ بلوچ سرزمین کے دفاع اور قومی وسائل کے تحفظ کے لیئے سرمچاروں کی کارروائیاں آزاد وخودمختار بلوچستان کے قیام تک ہر محاذ پر تمام تر قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔ جیئند بلوچ ترجمان، بلوچ لبریشن آرمی بتاریخ: 7 ستمبر 2026
291