en
Feedback
Baloch Raaji Aajoi Sangar | BRAS

Baloch Raaji Aajoi Sangar | BRAS

Open in Telegram

Unity for Victory

Show more
3 210
Subscribers
+524 hours
+607 days
+19930 days

Data loading in progress...

Tags Cloud
No data
Any problems? Please refresh the page or contact our support manager.
Incoming and Outgoing Mentions
---
---
---
---
---
---
Attracting Subscribers
December '24
December '24
+55
in 0 channels
November '24
+802
in 13 channels
Get PRO
October '24
+283
in 0 channels
Get PRO
September '24
+213
in 0 channels
Get PRO
August '24
+423
in 5 channels
Get PRO
July '24
+442
in 4 channels
Get PRO
June '240
in 0 channels
Get PRO
May '240
in 0 channels
Get PRO
April '240
in 0 channels
Get PRO
March '24
+10
in 0 channels
Get PRO
February '24
+1 217
in 5 channels
Get PRO
January '240
in 4 channels
Get PRO
December '230
in 4 channels
Get PRO
November '230
in 0 channels
Get PRO
October '230
in 0 channels
Get PRO
September '230
in 0 channels
Get PRO
August '230
in 0 channels
Get PRO
July '230
in 0 channels
Get PRO
June '230
in 0 channels
Get PRO
May '230
in 0 channels
Get PRO
April '230
in 0 channels
Get PRO
March '230
in 0 channels
Get PRO
February '230
in 0 channels
Get PRO
January '23
+30
in 0 channels
Get PRO
December '22
+30
in 0 channels
Get PRO
November '22
+28
in 0 channels
Get PRO
October '22
+40
in 0 channels
Get PRO
September '22
+738
in 0 channels
Date
Subscriber Growth
Mentions
Channels
09 December+2
08 December+3
07 December+8
06 December+7
05 December+21
04 December+2
03 December0
02 December+7
01 December+5
Channel Posts
14Aug-BRAS.jpg1.07 MB

2
چودہ اگست کی تقریبات نشانے پر ہونگے ۔ براس ‌‎بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) بلوچ عوام کو اطلاع دیتی ہے کہ 14 اگست کو پاکستان کے نام نہاد جشن آزادی کی تقریبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ بلوچ قوم ماضی کی طرح قابض کے تقریبات سے لاتعلق رہے گی۔ بلوچ سرزمین پر یہ تقریبات پاکستانی قبضے کی علامات ہیں۔ چین مقبوضہ بلوچستان میں وسائل کی لوٹ مار میں قابض ریاست پاکستان کا ساتھ دے رہا ہے۔ ہم توسیع پسند قوتوں پر واضح کرتے ہیں کہ مقبوضہ بلوچستان کی ایک انچ زمین پر بھی کسی کو قبضہ کرنے نہیں دیں گے۔ اگر چین مقبوضہ بلوچستان میں پاکستانی قبضہ اور استحصال میں شراکت داری سے باز نہیں آتا تو بلوچ سرمچار قابض ریاست پاکستان اور اس کے شراکت داروں کو عبرتناک سبق سکھائیں گے۔ بلوچ سرمچار گوادر پر قبضے کی پاکستان اور چین کے عزائم و منصوبوں کو سمندر بُرد کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ چینی نمائندے بلوچ قوم کو نام نہاد چین پاکستان اقتصادی راہداری ( سی پیک) کی اہمیت کو سمجھنے کا کہہ رہے ہیں جب کہ وہ خود اس بات کو مسلسل نظرانداز کر رہے ہیں کہ گوادر سمیت پورا بلوچستان ایک مقبوضہ خطہ ہے۔ گوادر میں جاری پراجیکٹس ترقیاتی نہیں بلکہ استحصالی پراجیکٹس ہیں جن کے کامیابی کی صورت میں مقبوضہ بلوچستان میں آبادی کا تناسب تبدیل ہوگا اور بلوچ قوم اپنے ہی وطن میں اقلیت بن کر اپنا قومی شناخت، اپنے وطن اور وسائل پر اختیار کھودے گا۔ چین بلوچ وسائل کی لوٹ مار میں پاکستان کے ساتھ شراکت داری اور اس کی مدد کرنا بند کرے تو اس کے ساتھ بلوچ قوم کی کوئی دشمنی نہیں۔ چین اس بات کو اچھی طرح سمجھ لے کہ بلوچ اپنے وطن کا اختیار کسی بھی دوسری قوم کو نہیں دیں گے اور کسی بھی ایسی قوت کے خلاف انتہائی مزاحمت کی جائے گی جو قابض کا ساتھ دے گی یا براہ راست استحصال کا حصہ بنے گی۔ چین کے علاوہ دیگر ممالک بھی بلوچستان میں سرمایہ کاری سے گریز کریں بلوچستان میں سرمایہ کاری تب ہی ممکن ہوسکے گی جب بلوچ اپنے آزاد وطن کا مالک ہوں گے اور بیرونی سرمایہ کاری کی نوعیت سمیت ''بلوچ قومی سالمیت'' کے فیصلے کا مختار ہوں گے۔ بلوچ قوم کا اقتدار اعلیٰ و اختیار چھین کر جو منصوبے بنائے گئے ہیں یہ بلوچ قومی مفادات کے خلاف ہیں، ساتھ ہی بین الاقوامی اصولوں کے بھی منافی ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اس دور میں ان منصوبوں کے ماحولیات پر بھی منفی اثرات موجود ہیں جو بلوچستان میں تباہی کا باعث ہیں۔ اس لیے شروع دن سے براس ان منصوبوں کے خلاف سخت مزاحمت کر رہی ہے۔ براس کے تمام سرمچاروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ قابض پاکستانی ریاست کے تقریبات سمیت گوادر میں استحصالی منصوبوں و استعماری عزائم کو ناکام بنانے کے لئے ان پر بھرپور حملے کریں۔ یہ سرزمین بلوچ قوم کی ہے اور اس کی آزادی و حفاظت کیلئے بلوچ سرمچار سر بکف ہیں۔ بلوچ خان ترجمان، بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) مورخہ 9 اگست 2024
3 549
3
Panjgur Attack.jpg
5 477
4
پنجگور حملے میں نام نہاد ڈیتھ اسکواڈ کے 3 کارندے ہلاک اور 5 زخمی کردیئے – براس مورخہ 28 جولائی 2024 بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کی امبریلا آرگنائزیشن بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) کے ترجمان بلوچ خان نے میڈیا میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ براس کے سرمچاروں نے 25 جولائی بروز جمعرات پنجگور میں قابض پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی تشکیل کردہ نام نہاد ڈیتھ اسکواڈ کے تین کارندوں کو ہلاک اور پانچ کو زخمی کردیا۔ ترجمان نے کہا کہ بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) کے سرمچاروں کو پنجگور کے علاقے کیلکور میں نام نہاد ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں کی موجودگی کی اطلاع ملی، جس پر سرمچاروں نے فوری کاروائی کرتے ہوئے کیلکور میں کرکی کے مقام پر مذکورہ کارندوں کو گھیرے میں لیکر ان پر حملہ کردیا۔ بلوچ خان نے مزید کہا کہ سرمچاروں کے حملے میں تین ڈیتھ اسکواڈ کارندے ناصر، جمل ولد نزروک اور اسحاق ولد نزروک موقع پر ہلاک ہوگئے سرمچاروں نے ان کا اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا جبکہ اس حملے میں مزید پانچ کارندے زخمی کردیئے گئے۔ مذکورہ کارندے ملا سیفو اور سعید لانٹو کی سربراہی میں قومی جرائم میں ملوث تھے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ حملے کے دوران ڈیتھ اسکواڈ کارندوں کو بچانے کیلئے قابض فوج کی گن شپ ہیلی کاپٹروں نے شیلنگ کی تاہم وہ سرمچاروں کو نقصان پہنچانے اور اپنے کارندوں کو بچانے میں ناکام رہے۔ ترجمان نے آخر میں کہا کہ بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے ہم ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ براس مکمل بلوچ قومی آزادی تک یہ جنگ جاری رکھے گی۔
4 725
5
BRAS.jpg
4 600
6
نام نہاد آپریشن عزم استحکام نسل کشی کا تسلسل ہے، بھرپور دفاع کیا جائیگا ۔ براس بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کی امبریلا آرگنائزیشن بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) کے ترجمان بلوچ خان نے میڈیا میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قابض پاکستانی فوج کی طرف سے نام نہاد آپریشن عزم استحکام شروع کرنے کا اعلان دراصل بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی میں شدت لانے کا برملا اعلان ہے۔ براس کی اتحادی تنظیمیں کسی قسم کی فوجی جارحیت کیخلاف اپنی قوم اور اپنی سرزمین کا بھرپور انداز میں دفاع کریں گے اور جارح افواج کو شکست سے دوچار کریں گے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن کوئی نئی بات نہیں، قابض پاکستانی فوج سنہ ۱۹۴۸ سے بالعموم اور گذشتہ دہائیوں سے بالخصوص، بلوچستان میں فوجی جارحیت، نسل کشی اور آپریشنوں میں ملوث ہے، جنکا مقصد بلوچ سرزمین پر پاکستانی قبضے کو استحکام و طوالت بخشنا ہے۔ اسی فوجی جارحیت کیخلاف بلوچ عوام اپنی قوم و وطن کے دفاع و آزادی کیلئے مسلح جدوجہد کررہے ہیں۔ قابض پاکستانی فوج جس فوجی جارحیت کا آپریشن کا نام دیتا ہے، وہ دراصل قبضہ، فوجی دراندازی، جارحیت اور نسل کشی ہے۔ جس طرح بلوچ سرمچار دہائیوں سے بلوچ قوم و وطن کی دفاع میں قابض فوج سے مدمقابل رہے ہیں، اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے براس کی اتحادی تنظیمیں اپنی رینکس میں مزید بہتر صف بندیاں کرکے، نام نہاد آپریشن عزم استحکام کیخلاف اپنی قوم کا بھرپور دفاع کرینگے۔ بلوچ خان نے مزید کہا کہ بلوچ سرمچاروں کی کامیاب حملوں اور دفاعی پالیسیوں نے بلوچستان میں سیپک سمیت چین کے تمام استحصالی پروجیکٹس کو ناکامی سے دوچار کردیا ہے، لہٰذا بلوچستان میں چین کے ڈوبتے سرمایہ کاری کو تحفظ دینے اور بچانے کیلئے چین کے دباو پر نام نہاد آپریشن عزم استحکام کا اعلان کیا گیا ہے، تاکہ بلوچستان میں نسل کشی تیز کرکے، چینی سرمایہ کاری و استحصالی پروجیکٹس کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ مذکورہ آپریشن چین کو یہ یقین دہانی کیلئے شروع کی جارہی ہے کہ قابض پاکستانی فوج بلوچستان میں چینی کے سرمایہ کاری کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے بلوچستان میں لاشوں کے ڈھیر لگانے سے نہیں کترائے گا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) کی اتحادی تنظیمیں، نام نہاد آپریشن عزم استحکام کیخلاف اپنی دفاعی جنگ میں تیزی کا اعلان کرتے ہیں۔ جسکے تحت نا صرف قابض فوج اور اسکے تنصیبات بلکہ چینی مفادات پر بھی حملوں میں شدت لائی جائیگی۔
4 367
7
BRAS - Unity For Victory
9 140
8
In last two weeks, Baloch Raaji Aajoi Sangar (BRAS) freedom fighters executed 161 armed operations against the enemy forces. The objective of these attacks was to make it clear to the occupying forces and the world that Baloch nation will never accept slavery. BRAS will continue to further intensify its attacks against the occupying state.
8 982
9
+1
BRAS- 9 Feb-01.jpg
7 867
10
بلوچ خان ترجمان، بلوچ راجی آجوئی سنگر مورخہ 9 فروری 2024
5 924
11
اسی درمیان پاکستانی فوج نے اپنے بکتربند گاڑیوں کے ساتھ سرمچاروں کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی، سرمچاروں نے دشمن فوج کو جدید اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا، حملے میں پاکستانی فوج کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ‎براس کے سرمچاروں نے آٹھ فروری کے دن ناصرآباد پولنگ اسٹیشن پر دستی بم سے حملہ کیا۔ ‎براس کے سرمچاروں نے آٹھ فروری کے دن ھیر آباد میں قائم نام نہاد انتخابی پولنگ اسٹیشن پر حملہ کیا اور وہاں پولیس و ایجنٹوں پر فائر کرکے انہیں بھگا دیا جبکہ ووٹنگ پرچیاں اور کاغذ نذرآتش کردیئے۔ ‎براس کے سرمچاروں نے 7 فروری کی رات پل آباد تمپ میں ایک پولنگ اسٹیشن پر راکٹوں اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ ‎براس کے سرمچاروں نے مند کے علاقے بلوچ آباد گرلز اسکول میں قائم نہاد انتخابی پولنگ اسٹیشن پر حملہ کرکے لیویز اہلکاروں اور پولنگ ایجنٹس کو بھگا کر پولنگ بند کردی، سرمچاروں نے لیویز اہلکاروں اور ایجنٹس کو بلوچ ہونے کی بنیاد پر چھوڑ دیا۔ براس کے سرمچاروں نے آٹھ فروری کو صبح دس بجے مشکے بنڈکی میں قائم پاکستانی فورسز کی چوکی اور پولنگ اسٹیشن کو خودکار اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ ایک اور حملے میں براس کے سرمچاروں نے آٹھ فروری سہ پہر 3 بجے مشکے تنک میں قائم پاکستانی فورسز کی چوکی اور پولنگ اسٹیشن کو خودکار اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ ‎براس کے سرمچاروں نے سات فروری تربت کے علاقے تنزگ اور پٹھان کوْر میں دو انتخابی دفاتر پر خودکار اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ حملے کے وقت انتخابی دفتر میں سیکیورٹی اہلکار بھی موجود تھے۔ بلوچ راجی آجوئی سنگر ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ نام نہاد انتخابات میں قابض پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کے پیرول پر اس انتخابی ڈرامے میں شامل افراد ہمارے نشانے پر ہونگے۔
5 753
12
بلوچ قوم نے نام نہاد پاکستانی انتخابات کو مسترد کرکے آزادی کے حق میں اپنا اظہار کیا – براس بلوچ راجی آجوئی سنگر کے سرمچاروں نے گذشتہ دو روز میں قابض پاکستانی فوج، ان کے آلہ کاروں اور پولنگ اسٹیشنوں کو مختلف نوعیت کے 24 حملوں میں نشانہ بنایا جبکہ مجموعی طور پر دو ہفتوں کے دوران سرمچاروں نے دشمن پر 161 حملے کیئے۔ ان حملوں کا مقصد قابض فوج سمیت دنیا پر واضح کرنا تھا کہ بلوچ غلامی کو کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ بلوچ راجی آجوئی سنگر قومی غلامی کیخلاف اپنے حملوں میں شدت لائے گی۔ بلوچ قوم نے نام نہاد پاکستانی انتخابات میں حصہ نہ لیکر بلوچ قومی آزادی کے حق میں اپنا اظہار کیا۔ قابض پاکستانی فوج نے میر و معتبرین، سرداروں و دیگر شکلوں میں موجود اپنے آلہ کاروں کے ذریعے بلوچ عوام کو زبردستی ان کے گھروں سے نکال کر نام نہاد انتخابی ڈرامے کو دنیا کے سامنے کامیاب دکھانے کی کوشش کی تاہم بلوچ قوم نے قابض کے ان نام نہاد انتخابات کو مسترد کرکے آزاد بلوچ وطن کے حق میں اپنا ووٹ دے دیا۔ بلوچ سرمچاروں کے ساتھ تعاون کرنے پر قوم کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ایک بار پھر واضح کرتے ہیں کہ ان حملوں میں سرمچاروں کو عوامی نقصانات سے بچنے کیلئے واضح ہدایات کی گئی تھیں۔ اس لیئے حملوں کی شدت کم رکھی گئی تھی۔ براس سرمچاروں نے گذشتہ روز کوئٹہ میں دوپہر کے وقت نام نہاد پاکستانی انتخابات کے پولنگ اسٹیشن کو سریاب روڈ پر خان زئی کے مقام پر آئی ای ڈی نصب کرکے نشانہ بنایا، دھماکے میں انتخابی امیدوار نور اللہ لہڑی زخمی ہوگئے جبکہ پولنگ اسٹیشن کو شدید نقصان پہنچا۔ سرمچاروں نے کوئٹہ، سریاب، غریب آباد میں دو بجے کے قریب ایک اور پولنگ اسٹیشن کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے کوئٹہ میں مغربی بائی پاس پر کلی خلی پولنگ اسٹیشن کو اس وقت آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا جب نام نہاد انتخابات کی گنتی جاری تھی۔ براس سرمچاروں نے گذشتہ روز مغرب کے وقت خضدار میں کھنڈ کے مقام پر قابض پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کی تشکیل کردہ نام نہاد ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ شفیق مینگل کے دست راست شہزاد غلامانی کی گاڑی کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا جس میں وہ زخمی ہوگئے جبکہ ان کے گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔ براس سرمچاروں نے 6 فروری بروز منگل مچھ میں قابض پاکستانی فوج کے ایک گاڑی کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنانے کے بعد خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ حملے میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک اور کم از کم تین زخمی ہوگئے۔ براس کے سرمچاروں نے آٹھ فروری کی صبح بالگتر ساکی میں پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کو خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا، حملے میں دشمن فوج کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ ‎ایک اور حملے میں براس کے سرمچاروں نے بالگتر ساکی میں واٹر سپلائی پر قائم پاکستانی فوج کی چوکی کو نشانہ بنایا۔ حملے میں ایک دشمن اہلکار ہلاک اور مزید ایک زخمی ہوگیا۔ براس کے سرمچاروں نے آٹھ فروری کی صبح آواران کے علاقے پیراندار کچھ اور ڈھل بیدی کے درمیان قابض پاکستانی فوج کے پیدل اہلکاروں پر حملہ کیا، حملے میں پاکستانی فوج کا ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ براس کے سرمچاروں نے آٹھ فروری کی رات نو بجے خضدار کے علاقے گریشہ گونی میں پولنگ اسٹیشن کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا، حملے کے وقت قابض فوج کے اہلکار وہاں موجود تھے۔ براس کے سرمچاروں ایک اور حملے میں خضدار کے علاقے نال گریشگ جاورجی میں پولنگ اسٹیشن کو دستی بم اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ براس کے سرمچاروں نے 8 فروری کو جھاؤ علی محمد گوٹھ کے پولنگ اسٹیشن پر رات آٹھ بجے کے قریب حملہ کیا، جبکہ جھاؤ کے مختلف علاقوں میں سرمچاروں نے شاہراہ پر رات نو بجے تک ناکہ بندی کی۔ براس کے سرمچاروں نے آٹھ فروری کی شام چھ بجے کیچ کے علاقے تجابان میران زین کور میں قائم پاکستانی فوج کی چوکی پر حملہ کیا، حملے میں فورسز کو جانی و مالی نقصانات اٹھانے پڑے۔ سرمچاروں نے 8 فروری کی شام گورکوپ میں پاکستانی فوج کی چوکی پر خودکار ہتھیارں سے حملہ کیا، حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ براس کے سرمچاروں نے 8 فروری کی صبح تمپ پل آباد میں ایک پولنگ اسٹیشن کو ٹائمر بم سے نشانہ بنایا۔ دھماکے میں پولنگ اسٹیشن کو شدید نقصان پہنچا۔ ‎براس کے سرمچاروں نے 7 فروری کی شام کُلاھو بازار میں علاقہ مکینوں سے نام نہاد انتخابات میں ووٹ نہ ڈال کر مسترد کرنے کے حوالے سے گفتگو کی جبکہ سرمچاروں نے رات کو پولنگ اسٹیشن کو نشانہ بنایا۔ ‎براس کے سرمچاروں نے 08 فروری کو ھوت آباد میں نام نہاد انتخابی پولنگ اسٹیشن پر حملہ کرکے ووٹ کے انتخابی پرچے اور بکس نذرآتش کردیئے، بلوچ ہونے کی بنیاد پر پولیس اور پولنگ ایجنٹوں کو تنبیہہ کرکے چھوڑ دیا گیا۔ سرمچاروں نے انتخابی گاڑی اور موٹرسائیکلوں پر فائرنگ کرکے ان کے ٹائر تباہ کردیا۔
4 905
13
+1
BRAS-8Feb-01.jpg
5 283
14
بلوچستان بھر میں مزید 25 حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ براس بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) کے سرمچاروں نے 25 حملوں میں قابض پاکستانی فوج اور نام نہاد انتخابات کے پولنگ اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا۔ براس کے سرمچاروں نے آج دوپہر ایک بجے کے قریب آپسی کھن میں تین گاڑیوں پر مشتمل قابض پاکستانی فوج کے قافلے پر خودکار و بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، قافلے میں شامل ایک گاڑی حملے کی زد میں آئی جس کے نتیجے میں تین فوجی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔ ایک اور کارروائی میں آپسی کھن میں سرمچاروں نے صبح آٹھ بجے کے قریب پولنگ اسٹیشن کو بم حملے میں نشانہ بنایا۔ براس سرمچاروں نے صبح نو بجے کے قریب کیچ کے علاقے مند گوک رودان کور میں قابض پاکستانی فوج کے پیدل اہلکاروں کو مسلح حملے میں نشانہ بنایا، حملے میں دو دشمن اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ سرمچاروں نے رودان کوہ کے مقام پر ایک اور کارروائی یں قابض پاکستانی فوج کے چوکی کو نشانہ بنایا۔ حملے میں دشمن اہلکاروں کو جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ براس سرمچاروں نے صبح نو بجے کے قریب گومازی میں پولنگ اسٹیشن کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا، مذکورہ پولنگ اسٹیشن کو دس بجے کے قریب ایک اور دستی بم حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ سرمچاروں نے کیچ کے علاقے شاہرک میں بارہ بجے کے قریب قابض پاکستانی فوج کے کیمپ کو نشانہ بنایا، حملے میں دشمن اہکاروں کو جانی و مالی نقصانات اٹھانے پڑے۔ براس سرمچاروں نے آج صبح پٹھان کوْر میں نام نہاد انتخابی پولنگ اسٹیشن کو راکٹوں سے نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے صبح آٹھ بجے کے وقت گوکدان پولنگ اسٹیشن پر راکٹ فائر کرکے نشانہ بنایا جس سے پولنگ اسٹیشن کو شدید نقصان پہنچا۔ سرمچاروں نے دو بجے کے قریب گوکدان کلز پولنگ اسٹیشن کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ ایک اور کارروائی میں چار بجے کے قریب سرمچاروں نے گوکدان کلز پولنگ اسٹیشن پر فائرنگ کی۔ سرمچاروں نے شام چار بجے کے قریب مند ھوزئی میں ایک پولنگ اسٹیشن کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ براس سرمچاروں نے صبح دس بجے خاران قلعہ کے مقام پر نام نہاد انتخابات کے پولنگ اسٹیشن کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا جس سے پولنگ اسٹیشن کو شدید نقصان پہنچا۔ سرمچاروں نے گیارہ بجے کے قریب خاران ریسٹ ہاؤس میں قائم پولنگ اسٹیشن کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ براس سرمچاروں نے پنجگور خدابادان میں پولنگ اسٹیشن کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے گومازی میں شہید کیپٹن جہانگیر کے گھر پر قائم قابض پاکستانی فوج کی چوکی پر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں دشمن فوج کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ براس کے سرمچاروں نے 7 فروری کی رات دس بجے کے قریب کیچ کے علاقے ناصر آباد میں قابض پاکستانی فوج اور نام نہاد ڈیتھ اسکواڈ کے 7 گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا، دھماکے کی زد میں آنے سے قابض فوج کی ایک گاڑی تباہ ہوگئی جس میں سوار چار اہلکار موقع پر ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ سرمچاروں نے 7 فروری کی رات آواران کے علاقے ڈھل بیدی میں پولنگ اسٹیشن کو راکٹوں سے نشانہ بنایا۔ براس سرمچاروں نے 7 فروری کو تمپ میں ایک پولنگ اسٹیشن کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ ایک اور کارروائی میں 7 فروری کی رات سرمچاروں نے شاہی تمپ میں پولنگ اسٹیشن کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ براس سرمچاروں نے گذشتہ رات بھمن میں نام نہاد پولنگ اسٹیشن کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے 7 فروری کی رات آٹھ بجے قریب گوکدان میں پولنگ اسٹیشن کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا اور قابض فوج کے چوکیوں کو نذرآتش کردیا۔ سرمچاروں نے 7 فروری کو تربت کے علاقے چاہسر میں ایک پولنگ اسٹیشن کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ براس سرمچاروں نے 7 فروری کو سندھ کے علاقے تھرڑی، محبت میہڑ، دادو اور میہڑ سٹی میں دو پولنگ اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے 5 فروری کو مستونگ میں کاریز سور میں پیپلز پارٹی امیدوار نور احمد بنگلزئی کے دفتر کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ بلوچ راجی آجوئی سنگر کے سرمچاروں نے مختلف علاقوں میں ریاستی آلہ کاروں کیلئے گشت جاری رکھی۔ سرمچاروں نے اس دوران مختلف علاقوں میں شاہراہوں پر ناکہ بندی کی۔ قابض ریاست نے پورے بلوچستان میں میر و معتبرین، سرداروں و دیگر کی شکل میں اپنے آلہ کاروں کے ذریعے لوگوں کو دھونس و دھمکی دیکر نام نہاد انتخابات کے روز اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ مذکورہ آلہ کاروں کو براس جلد ہی کارروائی کرکے ان کے منطقی انجام تک پہنچائے گا۔ بلوچ خان ترجمان، بلوچ راجی آجوئی سنگر مورخہ 8 فروری 2024
4 553
15
+1
BRAS-7 Feb-01.jpg
3 822
16
قابض پاکستانی فوج و نام نہاد انتخابی مہم پر 20 حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں – براس بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) کے سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج اور نام نہاد انتخابی مہم کو مختلف نوعیت کے 20 حملوں میں نشانہ بنایا۔ براس سرمچاروں نے آج شام پانچ بجے کے قریب آواران کے علاقے نونڈرہ میں قابض پاکستانی فوج کے ایک کیمپ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دشمن فوج کو بھاری جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ حملے کے بعد دشمن فوج کی ایک ہیلی کاپٹر ، ہلاک و زخمی اہلکاروں کو لیجانے کیلئے مذکورہ کیمپ پہنچی۔ سرمچاروں نے خضدار کے علاقے گریشہ، گواراست میں صبح گیارہ بجے کے قریب پیپلز پارٹی کے انتخابی دفتر کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ براس سرمچاروں نے کیچ کے علاقے سامی میں دشمن فوج کے مرکزی کیمپ پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغے، حملے کے نتیجے میں حفاظتی چوکی کے باہر جمع پانچ اہلکاروں میں سے تین زخمی ہوگئے۔ سرمچاروں نے آج مستونگ میں محمد شہی پولنگ اسٹیشن پر تعینات پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا، دھماکے میں کم از دو اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔ سرمچاروں نے سات بجے کے قریب پنجگور کے علاقے پروم ریش پیش میں قائم پاکستانی فوج کے ایک کیمپ پر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ حملے کے نتیجے میں دشمن فوج کو جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ سرمچاروں نے آج پنجگور کے علاقے چتکان غریب آباد میں نام نہاد انتخابات کیلئے پولنگ اسٹیشن کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ پنجگور میں ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے نو بجے کے قریب پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کفایت اللہ کے رہائشگاہ پر دستی بم سے حملہ کیا۔ سرمچاروں نے دس بجے کے قریب پنجگور خدابادان میں سراوان میں نام نہاد انتخابات کے سراوان پولنگ اسٹیشن پر گرنیڈ لانچر سے گولے داغ کر نشانہ بنایا۔ براس سرمچاروں نے گذشتہ روز 6 فروری کو پنجگور کے علاقے سوردو میں نیشنل پارٹی کے عبدالقدیر ساجدی کے رہائشگاہ پر گرنیڈ لانچر سے گولے داغ کر نشانہ بنایا، مذکورہ مقام نام نہاد انتخابی مہم کیلئے استعمال ہورہا تھا۔ براس سرمچاروں نے گذشتہ شب کوئٹہ، سریاب میں کلی احمد خان زئی کے مقام پر آئی ای ڈی نصب کرکے ایک پولنگ اسٹیشن کو تباہ کردیا۔ سرمچاروں نے 6 فروری کو خاران کے علاقے جوژان میں نام نہاد انتخابی کے پولنگ اسٹیشن کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے 6 فروری کی دوپہر تمپ کے علاقے ملانٹ میں پاکستانی فوج کے پیدل اہلکاروں کو ریموٹ کنٹرولڈ بم حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 3 دشمن اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے۔ سرمچاروں نے 6 فروری کو کیچ کے علاقے بالگتر ساکی میں پاکستانی فوج کے کیمپ پر تین اطراف سے بھاری و خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں دشمن فوج کو بھاری جانی و مالی نقصانات اٹھانا پڑا۔ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 6 فروری کو دشمن میرانی ڈیم جنگول بازار کے پولنگ اسٹیشن کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ دریں اثناء سرمچاروں نے آٹھ بجے کے قریب تمپ کے علاقے رودبن میں پاکستانی فوج کے کیمپ پر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس میں دشمن کو جانی و مالی نقصانات اٹھانا پڑا۔ سرمچاروں نے ایک اور کارروائی میں تمپ کے علاقے بالیچہ میں پاکستانی فوج کے کو راکٹ و دیگر بھاری ہتھیاروں نشانہ بنایا۔ حملے میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ براس سرمچاروں نے گذشتہ شب دشت کے علاقے کنچتی میں پولنگ اسٹیشن کو نشانہ بنایا۔ براس سرمچاروں نے 6 فروری کی رات ڈیرہ مراد جمالی میں ڈیرہ شاخ پٹھان ڈپ کے مقام پر پولیس کے گشتی ٹیم پر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس میں انہیں نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ سرمچاروں نے سبی کے علاقے بختیار آباد میں ریلوے اسٹیشن پر مامور پاکستان فوج کے اہلکاروں کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا، دھماکے کے نتیجے دشمن اہلکاروں کو جانی نقصانات اٹھانا پڑا۔ براس سرمچاروں نے 6 فروری کی رات آواران کے علاقے مشکے تنک میں قابض پاکستانی فوج کے کیمپ پر حملہ کرکے دشمن فوج کو جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا۔ براس کے سرمچاروں نے آج 7 فروری کی شب تربت تا مند شاہراہ پر ھیرآباد کے مقام پر ناکہ بندی کی۔ ایک گھنٹے سے زائد سرمچاروں نے شاہراہ پر گاڑیوں کی چیکنگ کی۔ مذکورہ حملوں کی ذمہ داری بلوچ راجی آجوئی سنگر قبول کرتی ہے۔ براس بلوچ قوم سے اپیل کرتی ہے کہ وہ پاکستانی نام نہاد انتخابات کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنی ہزاروں سال کی تاریخ، تمدن، شناخت اور قومی آزاد ریاست کی تشکیل کی بحالی کی قومی کوششوں کی حمایت کریں۔ بلوچ خان ترجمان، بلوچ راجی آجوئی سنگر مورخہ 7 فروری 2024
5 170
17
BRAS-6Feb.jpg
4 775
18
قابض پاکستانی فوج و نام نہاد انتخابی مہم پر 15 حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں – براس بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) کے سرمچاروں نے گوادر، بلیدہ، پنجگور، خضدار، حب، خاران اور نوشکی میں قابض پاکستانی فوج اور نام نہاد انتخابی دفاتر کو مختلف نوعیت کے 15 حملوں میں نشانہ بنایا۔ براس سرمچاروں نے 4 فروری کو دو بجے کے قریب گوادر کے علاقے نلینٹ میں نلانی کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرولڈ آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا، دھماکے کے نتیجے میں پاکستانی فوج کے متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوگئے۔ دشمن فوج نے ہمیشہ کی طرح اپنے نقصانات چھپانے کی کوشش کی۔ ایک اور کارروائی میں براس سرمچاروں نے 2 فروری کی شب بلیدہ کے علاقے گِلی میں قابض پاکستانی فوج کے ایک پوسٹ پر دو اطراف سے حملہ کیا، سرمچاروں نے دشمن فوج پر راکٹ اور گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغے اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ حملے میں دشمن فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا پڑا۔ گذشتہ رات سرمچاروں نے آواران کے علاقے پیرندر ڈھل بیدی اور حسن گوٹھ میں نیشنل پارٹی کے سربراہ میر یعقوب قمبرانی کے گھر پر دستی بم سے سے حملہ کیا گیا، دریں اثناء گیارہ بجے کے قریب میر غفور کے گھر کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ مذکورہ افراد کو پہلے ہی تنبیہہ کیا گیا کہ نام نہاد انتخابی مہم چلانے سے گریز کریں، یہ حملے بھی بطور وارننگ کیے گئے جن میں جانی نقصانات سے بچنے کیلئے احتیاط کی گئی۔ سرمچاروں نے 5 فروری کو ہیرونک میں قابض پاکستانی فوج کے چیک پوسٹ پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغ کر دشمن کو جانی و مالی نقصانات سے دو چار کیا۔ براس سرمچاروں نے 2 فروری کو پنجگور شہر میں نام نہاد پاکستانی انتخابی امیدوار و سابق وزیر رحمت صالح کے رہائشگاہ، 4 فروری کو انتخابی امیدوار حاجی اسلام کی رہائشگاہ، 5 فروری کو خدابادان میں انتخابی امیدوار و سابق پاکستانی وزیر اسد بلوچ اور تسپ میں حاجی عطاء اللہ کے انتخابی دفتر کو گرنیڈ لانچر سے گولے داغ کر نشانہ بنایا۔ براس سرمچاروں نے 5 فروری کو حب شہر میں پیپلز پارٹی کے انتخابی دفتر کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے 5 فروری کو مزید دو کارروائیوں میں خاران شہر میں واپڈا کالونی میں واپڈا آفس کے پولنگ اسٹیشن اور گرلز سیکنڈری اسکول کے پولنگ اسٹیشن کو دستی بم حملوں میں نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے 5 فروری کی شب نوشکی شہر میں الیکشن کمیشن کے دفتر کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا، دھماکے میں دفتر کو نقصان پہنچا۔ براس سرمچاروں نے 5 فروری کو گریشگ سریج میں الیکشن کمیشن کے دفتر کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ ایک کارروائی میں 5 فروری کی شب گریشگ سریج میں پاکستانی فوج کے چیک پوسٹ کومسلح حملے میں نشانہ بنایا جس میں دشمن فوج کو جانی و مالی نقصانات اٹھانے پڑے۔ نام نہاد انتخابی مہم پر ہمارے حملے جاری رہینگے۔ ہم عوام سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ انتخابی دفاتر اور امیدواروں سے محفوظ فاصلے پر رہیں۔ براس سرمچار جانی نقصانات کو کم کرنے کیلئے محتاط طریقے کے تحت کارروائیاں کررہے ہیں تاہم ہم واضح کرتے ہیں کہ ہماری کارروائیاں شدت اختیار کرینگے۔ بلوچ خان ترجمان، بلوچ راجی آجوئی سنگر مورخہ 6 فروری 2024
5 062
19
BRAS-3Feb.jpg
5 047
20
کوئٹہ، خاران، قلات، آواران، کیچ و پنجگور میں 14 حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں – براس بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) کے سرمچاروں نے بلوچستان کے مختلف علاقوں کوئٹہ، خاران، قلات، آواران، کیچ اور پنجگور میں مختلف نوعیت کے 14 حملوں میں قابض پاکستانی فوج اور نام نہاد انتخابی مہم چلانے والے دفاتر و امیدواروں کو نشانہ بنایا۔ براس سرمچاروں نے آج 3 فروری کو آٹھ بجے کے قریب قلات کے علاقے منگچر میں جے یو آئی کے انتخابی دفتر کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ دریں اثناء سرمچاروں نے ایک اور کارروائی میں قلات شہر میں قابض پاکستانی فوج کے میس پر راکٹ گولے داغ کر نشانہ بنایا۔ حملے کے نتیجے میں دشمن فوج کو شدید جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ گذشتہ شب دس بجے کے قریب براس سرمچاروں نے کیچ کے علاقے تجابان، کرکی میں قابض پاکستانی فوج کے ایک چیک پوسٹ پر بھاری و خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ حملے میں قابض فوج کے کم از کم دو اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ انہیں مالی نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ براس سرمچاروں نے 2 فروری کو کوئٹہ میں مشرقی بائی پاس پر مگسی اسٹاپ کے مقام پر صبح دس بجے کے قریب نام نہاد پاکستانی انتخابات کیلئے مہم چلانے والے دفتر کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 2 فروری کو اسی مقام پر شام چھ بجے کے قریب انتخابی دفتر کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا تھا۔ براس سرمچاروں نے گذشتہ شب خاران میں قابض پاکستان کی سابق کٹھ پتلی وزیر داخلہ و نام نہاد انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نون کے امیدوار شعیب نوشیروانی کے رہائشگاہ کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ مذکورہ رہائشگاہ کو انتخابی مہم کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ شعیب نوشیروانی، نواب اکبر خان بگٹی کے شہادت کے وقت بلوچستان کے وزیر داخلہ تھے۔ ایک بار پھر قابض پاکستانی فوج کی پشت پناہی میں مذکورہ شخص انتخابی ڈھونگ کے ذریعے وزیر بن کر قبضہ گیر کے مفادات کو استحکام بخشنے کیلئے کوشاں ہے۔ سرمچاروں نے گذشتہ رات قلات شہر کے قریب مغلزئی کے مقام پر پیپلز پارٹی کے انتخابی مہم کے دفتر کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ براس سرمچاروں نے 31 جنوری کو کیچ کے علاقے کرکی میں سی پیک روٹ پر قائم پاکستانی فوج کے پوسٹ پر حملہ کرکے شدید جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا۔ براس کے سرمچاروں نے 30 جنوری کو کیچ میں کولواہ کے علاقے بلور میں قابض پاکستانی فوج کے ایک چوکی کو خودکار ہتھیاروں سے حملہ کرکے نشانہ بنایا، حملے کے نتیجے میں دشمن کو جانی نقصانات اٹھانے پڑے۔ سرمچاروں نے 31 جنوری کو آواران کے علاقے مشکے تنک میں ساڑھے دس بجے کے قریب پاکستانی فوج کے کیمپ پر حملہ کرکے دشمن فوج کو شدید جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ سرمچاروں نے ایک اور کارروائی میں 31 جنوری کی رات آٹھ بجے کے قریب مشکے اوگار میں دشمن فوج کے کیمپ کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ براس سرمچاروں نے اکتیس و یکم فروری کی رات ایک بجے کے قریب کیچ کے علاقے ہوشاپ میں پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ پر راکٹ و گرنیڈ لانچروں سے گولے داغ کر نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے 31 جنوری کی رات پنجگور کے علاقے کیلکور سہاکی میں واٹر سپلائی پر قائم قابض فوج کے چوکی کو خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ براس سرمچاروں نے 28 جنوری کو آواران کے علاقے کنیچی میں پاکستانی فوج کے کیمپ پر خودکار و بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں دشمن فوج کو شدید جانی و مالی نقصانات اٹھانے پڑے۔ بلوچ راجی آجوئی سنگر پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ قابض ملک پاکستان کی طرف سے مقبوضہ بلوچستان میں نام نہاد انتخابات کو مکمل مسترد کرتے ہیں اور اس انتخابی ڈھونگ کو بلوچستان پر پاکستان کے جبری قبضہ کو طول دینے کا ایک حربہ سمجھتے ہیں۔ بلوچ آزادی پسند قوتیں قابض کے دوسرے پرپگنڈہ حربوں کی طرح اس نام نہاد انتخابی حربے کا بھی بلوچ قوم کی تعاون سے بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے اسے ناکام بنادیں گے۔ براس واضح کرتی ہے کہ انتخابی مہم چلانے والوں پر ہونے والے حملوں میں سرمچاروں نے عوامی نقصانات سے بچنے کیلئے محتاط طریقہ اختیار کیا ہے۔ ہم بلوچ عوام سے اپیل کرتے ہیں ہے کہ وہ نام نہاد انتخابی مہم سے محفوظ فاصلہ رکھیں تاکہ انہیں کسی قسم کا جانی و مالی نقصان اٹھانا نہ پڑے۔ قابض پاکستانی فوج اور نام نہاد انتخابی مہم پر ہمارے حملے جاری رہیں گے۔ بلوچ خان ترجمان، بلوچ راجی آجوئی سنگر مورخہ 3 فروری 2024
5 460