en
Feedback
<<کچھ دل سے❤>>

<<کچھ دل سے❤>>

Open in Telegram

اس چینل میں ڈیلی قرآنی ویڈیو، رسول اللہﷺ کی احادیث مع تشریح، مختلف سیریز، سلف صالحین کے اقوال،علماء کے بیانات، درود، اقوال زریں اور مزید عمدہ تحریریں ارسال کیے جاتے ہے۔

Show more
2 230
Subscribers
-124 hours
-17 days
-1930 days
Posts Archive
قال رجل: كنت أمشي مع سفيان بن عيينة، إذ أتاه سائل فلم يكن معه ما يعطيه، فبكى. فقلت: يا أبا محمد ما الذي أبكاك؟ قال: أي مصيبة أعظم من أن يؤمل فيك رجل خيراً فلا يصيبه. (وفيات الأعيان ۲ /٣٩٣) ایک شخص بیان کرتا ہے: میں سفیان بن عیینہؒ کے ساتھ چل رہا تھا کہ ایک سائل (مانگنے والا) ان کے پاس آیا، لیکن ان کے پاس اسے دینے کے لیے کچھ نہ تھا، تو وہ رونے لگے۔ میں نے عرض کیا: اے ابو محمد! آپ کو کس چیز نے رُلا دیا؟ انہوں نے فرمایا: ”اس سے بڑھ کر اور کون سی مصیبت ہو سکتی ہے کہ ایک شخص تم سے خیر اور بھلائی کی امید لگائے، مگر وہ تمہیں اس سے نہ مل سکے؟“ یعنی سفیان بن عیینہؒ کے دل میں یہ احساس تھا کہ کسی محتاج نے مجھ سے بھلائی کی امید رکھی، لیکن میں اس کی امید پوری نہ کر سکا۔یہ میرے لیے بہت بڑی محرومی اور مصیبت ہے۔ *واقعی یہ نیک لوگوں کے دل کی کیفیت تھی کہ وہ دوسروں کو فائدہ نہ پہنچا سکنے پر غمگین ہوتے تھے* *جبکہ یہاں حالت یہ ہے کہ لوگ شر پہنچانے کے لیے پریشان رہتے ہیں۔*

photo content

*نماز کے احکام ومسائل سیریز(4)* *نماز میں شک ہونا* سوال: میں کبھی کبھی نماز میں بھول جاتی ہوں کہ میں نے سورۂ فاتحہ پڑھی ہے یا نہیں۔ اس پر میں سورۂ فاتحہ دوبارہ پڑھ لیتی ہوں۔ کیا میرا یہ عمل درست ہے یا مجھے سجدہ سہو کرنا ہوگا؟ جواب: بعض لوگوں کو دوران نماز کثرت سے وسوسے لاحق ہوتے رہتے ہیں اور انہیں قرأت یا تشہد میں شک پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ انسان پوری یکسوئی اور حضور قلب سے نماز ادا کرے تاکہ وسوسے اور اوھام کم سے کم ہوں، پھر بھی اگر شک غالب رہے اور عام عادت قرأت کرنے کی ہو، تو ایسی صورت میں قراءت کا اعادہ و تکرار مکروہ ہے اور اگر احتیاطا اعادہ ہو جائے تو سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا۔ …شیخ ابن جبرین… فتاوی برائے خواتین،ص:۱۱۳

نماز کے احکام ومسائل سیریز(3) دورانِ نماز موذی چیز کو مارنا سوال: اگر دوران نماز بچھو وغیرہ نظر آ جائے تو کیا اسے مارا جا سکتا ہے؟ جواب: دوران نماز اگر کوئی بھی نقصان دہ چیز سامنے آئے تو اسے ختم کیا جا سکتا ہے مثلاً اگر دوران نماز موبائل کی گھنٹی بجنا شروع ہو جائے یا بجلی بند کرنے کی ضرورت پڑے اور بجلی کا بٹن سامنے ہو تو ایسے حالات میں موبائل یا بجلی بند کی جا سکتی ہے اگر بچھو نظر آئے تو اسے بھی دوران نماز مارا جا سکتا ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’تم نماز میں دو سیاہ جانوروں یعنی سانپ اور بچھو کو مار دیا کرو۔(ترمذی، الصلوۃ:۳۹۰) اس حدیث کے پیش نظر دوران نماز کسی بھی نقصان دہ چیز کو ختم کیا جا سکتا ہے، اگر بچھو وغیرہ نظر آئے تو اسے بھی مارا جا سکتا ہے۔ (واللہ اعلم) فتاویٰ اصحاب الحدیث،ج:٤،ص:٨٠

ٹیچرس ڈے کے موقع پر گفٹ لینا
ٹیچرس ڈے کے موقع پر گفٹ لینا

ٹیچرز ڈے منانا ہماری شریعت کا حصہ نہیں ہے۔

ابو العالیہ ہمیشہ لوگوں کو حصول علم کی ترغیب دیا کرتے تھے اور تحصیل علم کی راہوں کی نشاندہی کیا کرتے تھے۔ آپ کہا کرتے تھے: علم کے حصول میں اپنے آپ کو عاجز و در ماندہ کرلو۔ اور علم سے متعلق بکثرت سوال کیا کرو۔ یہ بات جان لو کہ علم دو آدمیوں ایک شرمیلے اور دوسرے متکبر کے سامنے اپنے پہلو نہیں جھکا ہے۔ شرمیلا آدمی اپنی شرم کے باعث اور متکبر اپنی کبریائی کے زعم میں سوال نہیں کرتا۔ (تذکرہ تابعین 290)

*عورتوں کو مسجد جانے سے نہ روکیں!*
*عورتوں کو مسجد جانے سے نہ روکیں!*

سورۃ فصلت:٢٠-٢٢ || سعود الشریم

نماز کے احکام ومسائل سیریز(2) کسی نے اول شب وتر پڑھ لیے پھر آخر شب قیام کیا سوال: میں نے اول شب وتر پڑھ لیے پھر آخر شب قیام کیا، تو اب نماز کیسے پڑھوں؟ جواب: اگر آپ نے اول شب وتر پڑھ لیے تھے پھر توفیق الٰہی سے آخر شب قیام میسر آیا، تو اس صورت میں وتروں کے علاوہ دو دو رکعتیں نماز پڑھیں۔ نبیﷺ کا ارشاد مبارک ہے: (لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ)ایک رات میں دو بار وتر نہیں ہے۔‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے کہ نبیﷺ وتروں کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ آپﷺ لوگوں کو وتروں کے بعد نماز کے جواز کے بارے میں بتانا چاہتے تھے۔ واللہ اعلم …شیخ ابن اب باز… فتاوی برائے خواتین،ص:١٠٩

*کیا اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا غلط ہے؟* https://www.instagram.com/reel/DcyUBrLtwEV/?igsi=MWtycjNjZmMxeWE4bQ==

تابعی ابن محیریز رحمہ اللہ اپنے غلام کے ساتھ سودا لینے گئے۔ پیسے کچھ کم پڑ گئے۔ غلام نے دکاندار کو اشارہ کیا کہ یہ معروف امام ہیں، رعایت کرو۔ ابن محیریز غلام سے کہنے لگے : ”نکل جاؤ، ہم اپنے مال سے سودا خریدتے ہیں، اپنے دین سے نہیں۔“ (الإخلاص والنية لابن أبي الدنيا : ١٥) حذیفہ مرعشی رحمہ اللہ نے یوسف بن اسباط رحمہ اللہ کو لکھا : "مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے اپنا دین دو دو ٹَکوں کے عوض بیچ ڈالا ہے۔ تم نے ایک دودھ والے سے پوچھا: ’’یہ کتنے کا ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’یہ آپ کیلیے سدس (چھٹے حصے) کا ہے۔‘‘ تم نے کہا: ’’نہیں، ثمن (آٹھویں حصے) کا۔‘‘ اس نے کہا: ’’چلیں ٹھیک، یہ آپ کا ہوا۔‘‘ کیونکہ وہ تمہیں پہچانتا تھا!!" (أخلاق العلماء للآجري : ٣٨)

کام کی وجہ سے نماز مؤخر نہ کریں
کام کی وجہ سے نماز مؤخر نہ کریں

سورۃ الحجر:٢٢ ||عمیر شمیم

نوجوانوں کے لیے اس واقعے میں بہت ہی اہم سبق ہے کہ نکاح کے معاملے میں حیا اور سادگی کے ساتھ خود قدم اٹھانا چاہیے اور رشتے کے ل
نوجوانوں کے لیے اس واقعے میں بہت ہی اہم سبق ہے کہ نکاح کے معاملے میں حیا اور سادگی کے ساتھ خود قدم اٹھانا چاہیے اور رشتے کے لیے جائز اور باوقار طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر آپ کسی کو پسند کرتے ہیں تو بجائے اس کے کہ آپ ناجائز تعلقات میں پڑیں،اپنے گھر والوں کے ذریعے باعزت اور شرعی طریقے سے نکاح کا پیغام بھیجیں۔ #HazratFatimaRA #Engagement #IslamicHistory #AhlulBayt# HazratAli https://www.instagram.com/reel/DcvoNCItAot/?igsi=MTcwd2p1NnFiNjJkNQ==

نوجوانوں کے لیے اس واقعے میں بہت ہی اہم سبق ہے کہ نکاح کے معاملے میں حیا اور سادگی کے ساتھ خود قدم اٹھانا چاہیے اور رشتے کے لیے جائز اور باوقار طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر آپ کسی کو پسند کرتے ہیں تو بجائے اس کے کہ آپ ناجائز تعلقات میں پڑیں،اپنے گھر والوں کے ذریعے باعزت اور شرعی طریقے سے نکاح کا پیغام بھیجیں۔ https://www.instagram.com/reel/DcvoNCItAot/?igsi=MTcwd2p1NnFiNjJkNQ==

نماز کے احکام ومسائل سیریز(1) ظہر کی سنتیں سوال: اگر کوئی ظہر سے پہلے سنتیں نہیں پڑھ سکا تو کیا فرض نماز کے بعد انہیں ادا کیا جا سکتاہے، اس سلسلہ میں ہماری قرآن و حدیث کے مطابق راہنمائی فرمائیں۔ جواب: اگر بھول جائے یا سو جانے یا دیر سے آنے کی وجہ سے سنتیں رہ جائیں تو ان کی قضا ادا کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے : ’’جو شخص کسی نماز کو بھول جائے یا نماز کے وقت سویا رہے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے جب یاد آئے تو اس وقت پڑھ لے۔“ (صحیح بخاری، الصلوٰۃ:۵۹۷) اس طرح اگر مصروفیت کی وجہ سے سنتیں رہ جائیں تو مصروفیت ختم ہونے کے بعد انہیں پڑھا جا سکتا ہے۔ چنانچہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ایک مرتبہ مصروفیت کی وجہ سے ظہر کے بعد والی دو سنتیں نہیں پڑھ سکے تھے تو آپﷺ نے عصر کے بعد مصروفیت کے اختتام پر انہیں ادا کیا تھا۔(صحیح بخاری٬السھو:۱۲۳۳) ان احادیث کی روشنی میں اگر نماز ظہر سے پہلے والی سنتیں رہ جائیں تو انہیں نماز کے بعد ادا کیا جا سکتا ہے لیکن پہلے نماز ظہر کے بعد والی دو سنتیں پڑھی جائیں پھر ان کے بعد پہلی چار سنتیں ادا کی جائیں۔(واللہ اعلم) فتاوی اصحاب الحدیث٬ص:۱۲۱

*اللہ کی محبت سب سے اعلیٰ*
*اللہ کی محبت سب سے اعلیٰ*

سورۃ المائدۃ:٣٢ || طارق محمد

میت کی طرف سے صدقہ کرنا جائز ہے
میت کی طرف سے صدقہ کرنا جائز ہے