Don't get caught by a cheater! Telemetrio finds and tags such channels 👉 If you want to see the tag, subscribe 👈
2 321
Subscribers
No data24 hours
No data7 days
-430 days
No data
Post views
No data24 hours
No data48 hours
No data
Engagement rate
No data
Posts per day
Posts Archive
2 321
۔
"ہیلپ۔۔ پپ پلیز مم میری ہیلپ کرو۔۔ مم میرا میرا بےبی۔۔ پپ پلیز ۔۔ دد دا جان۔۔
اسے اپنے آگے بیٹھتے دیکھ اس نے بامشکل اس سے مدد مانگی۔۔ اس وقت وہ کالج کے پہلے دن سے اب تک ہوئی تمام لڑائی بھول چکی تھی۔۔ اس وقت اسے صرف اپنا بےبی یاد تھا۔۔ اور اپنی جنّت۔۔ درد سے دوہری ہوتی وہ مسلسل ایک ہی جملہ دوہرا رہی تھی۔۔ اسے اپنے پیٹ میں آگ سی لگتی محسوس ہو رہی تھی جو لمحہ لمحہ اسکے اندر سانس لیتی زندگی کو جلا رہی تھی۔۔
۔
"بےبی۔۔ حیدر اکمل کی اولاد ہاں۔۔ ایک پاگل لڑکی جسے نا پہننے کا ڈھنگ ہے نا بولنے کا شعور وہ مسز حیدر اکمل ہے۔۔ اسکی اولاد کی ماں۔۔
وہ طنزیہ انداز میں ہنسی۔۔ ریبا نے ناسمجھی سے اسے ہنستے ہوئے دیکھا۔۔ اسے تو اتنا پتہ تھا جب کوئی تکلیف میں ہوتا ہے تو اسکی مدد کرتے ہیں۔۔ اسکی تکلیف دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں پھر۔۔۔ پھر وہ ہنس کیوں رہی تھی۔۔
آج بھی وہ اپنی معصومیت میں سمجھ نہیں پائی کے انسان کے اندر حسد کی بھڑکتی ہوئی آگ اس کی انسانیت کو راکھ کر دیتی ہے۔۔ پھر اسے نا کسی کے درد کی فکر ہوتی ہے نا کسی کے تڑپ کی۔۔ جب اپنی آنکھوں کے دیکھے خواب پورے نا ہو سکیں تو نفرت اور حسد کی دلدل میں دھنسے یہ لوگ دوسروں کی آنکھوں سے بھی خواب نوچ لیتے ہیں۔۔
۔
"کتنا حسین وقت ہوگا وہ بیوی جب ہم اسے اپنے پاس اپنی گود میں لینگے۔۔ اسے محسوس کرینگے۔۔ وہ حیدر اکمل کے عشق کی زندہ نشانی ہوگا۔۔ میری محبت کی ایک جیتی جاگتی تصویر۔۔ ایک حسین گڑیا بلکل میری ریبا جیسی۔۔
درد سے دوہری ہوتی وہ زیر لب حیدر کو پکار رہی تھی۔۔ اسکی سماعت اسکے کہے جملے گردش کر رہے تھے۔۔ آنکھوں سے بہتے گرم سیال میں روانی بڑھتی ہی جا رہی تھی۔۔
"پپ پلیز حح حیدر ککو۔۔ پپ پلیز میرا بےبی۔۔
درد کی شدّت زور پکڑ رہی تھی۔۔ وہ اکھڑتی سانسوں کے درمیان اس سے التجا کر رہی تھی یہ جانے بغیر کے اسے گاڑی سے ہٹ کرنے والی ہی وہی ہے ورنہ اس وقت اسکا یہاں کیا کام۔۔
۔
"تم حیدر اکمل کے لائق نہیں ہو ریبا۔۔ نہیں ہو تم لائق مسز حیدر اکمل بننے کے۔۔
سمجھ رہی ہو۔۔ تم اس لائق نہیں ہو کے وہ تم سے عشق کرے۔۔
اسکے چہرے کو دبوچے وہ نفرت سے پھنکار رہی تھی۔۔ اسکی گرفت اتنی شدید تھی کے اسکے نچلے لب سے ابل ابل کر خون بہنے لگا۔۔
ایک جھٹکے سے اسکا چہرہ چھوڑتی جنونی کیفیت میں اسکے نرم گالوں پر تھپڑ لگاتی وہ اپنی بات پر زور دے کر کہ رہی تھی۔۔
اسکے تھپڑوں سے اسے اپنا چہرہ مسخ ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔۔
۔
"میں اسے بتاؤنگا کے میں اسکی جنّت ہوں۔۔ اور وہ اللہ کی طرف سے ہمارا گفٹ ہے۔
اسکے اپنے کہے جملے اسکے ارد گرد گونج رہے تھے
''یارب المستضعفین ۔۔ اے کمزوروں کے رب۔۔
"" اے کمزوروں کے رب""۔۔
"کسی بھی مشکل وقت میں اللہ کو سب سے پہلے پکارتے ہیں میرے دل "۔۔
حیدر کی آواز کہیں پاس سے ابھری تھی۔۔ اسکے لب سرگوشی کے سی آواز میں ہل رہے تھے۔۔
''یارب المستضعفین ۔۔ اے کمزوروں کے رب ۔۔
وہ بےآب مچھلی کی مانند تڑپ اٹھی تھی۔۔
''یارب المستضعفین۔۔
''یارب المستضعفین۔۔
۔
علیشا کا ہاتھ تھم سا گیا تھا۔۔ وہ اللہ کو پکار رہی تھی۔۔ دل میں خوف سا ابھرا۔۔
"اللہ۔۔ اللہ۔۔ مم بےبی۔۔ حح حیدر۔۔ حید۔۔
"نہیں ۔۔ نہیں ریبا نام مت لو۔۔ نہیں پکارو حیدر کو۔۔ کیوں کے تمہارے لبوں پر یہ نام تمہاری تکلیف کو بڑھا رہا ہے۔۔
اسکی زبان سے حیدر کا نام سن کر آپے سے باہر ہوتے اس نے پے در پے اسکے پیٹ پر کتنے ہی لات دے مارے۔۔
یہ آخری جھٹکا ثابت ہوا تھا۔۔ اسکا تڑپتا وجود بےجان سا ہوتا اب ساکت ہو گیا تھا۔۔
"علیشا رضوان اپنی ریجیکشن کبھی نہیں بھولتی حیدر اکمل۔۔ ہنہ مسز حیدر اکمل۔۔
اسکے بے جان وجود پر حقارت بھری ایک نظر ڈالتی وہ آگے بڑھ گئی تھی۔۔ لیکن ایک جملہ ۔۔ وہ ایک جملہ سماعت سے جیسے چپک کر رہ گیا تھا۔۔
''یارب المستضعفین۔۔
'اے کمزوروں کے رب '۔۔
اسکی سماعت میں ریبا حیدر اکمل کا وہ جملہ بار بار گونج رہا تھا۔۔ اس نے پلٹ کر اسکے بےجان وجود کو دیکھا۔۔
''یارب المستضعفین۔۔
اسے محسوس ہوا جیسے پاس کہیں سے اسکی پکار ابھری ہے۔۔ وہ چیختی ہوئی وحشت زدہ سی بھاگنے لگی۔۔
'اے کمزوروں کے رب '۔ ۔
تو کیا وہ اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر گئی تھی۔۔
_______
۔
"اسے رخصت کب کرے گا تو ریان ؟"۔۔
حیدر نے شرارت سے ساتھ کھڑے فیضی کو دیکھا۔۔
۔
"جب ہمارا بچہ بڑا ہوجائے گا۔۔
جواب فرحان کی جانب سے آیا تھا۔۔
۔
"بھیا آج ہی تو بیوی والا ہوا ہوں یار آج تو میرا مذاق نا بنائے۔۔
فیضی نے مسکین شکل بنا کر انھیں دیکھا۔۔ وہ دونوں ہی ہنس پڑے۔۔
"تو کہاں جا رہا ہے حیدر۔۔ بس انہیں پیمنٹ کر دیں پھر ساتھ ہی چلتے ہیں اندر۔۔
2 321
""جانم ""
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ۵٠ (آخری قسط ) پارٹ ١
۔
ہونٹوں سے چھو لو تم میرا گیت امر کردو
بن جاؤ میت میرے میری پریت امر کردو
تم ہار کے دل اپنا۔۔
میری جیت امر کردو۔۔
ارد گرد سرسراتی ہوائیں اس کے وجود کو چھو کر گزرتی درخت کے پتوں سے ٹکراتی ایک عجب سے پرسراریت بھری آواز پیدا کر رہی تھیں۔۔
۔
"ابھی ابھی لے لونگا اور آجاؤنگا۔۔
گیٹ کے پاس ٹھہر کر اس نے ایک نظر کن انکھیوں سے لان کی دوسری جانب ڈالا جہاں فرحان اور حیدر اب اسٹیج کے پاس رکھے بڑے سے ٹیبل سے تمام گفٹس اٹھا کر اندر لے کر جا رہے تھے۔۔ اور ریان سروس کے لئے آئے لڑکوں سے ٹیبل اٹھوا رہا تھا۔۔
"تنگ نہیں کرونگا حیدر کو۔۔
اسکے ذہن میں اب بھی علیشا کی کہی باتیں گونج رہی تھیں۔۔ پھر فائزہ بیگم کے الفاظ انہوں نے ٹھیک ہی تو سمجھایا تھا اسے اپنے چھوٹے چھوٹے کام خود کرنے چاہئیے۔۔ اس نے جیسے خود کو تسلی دی۔۔ وہ اپنے حیدر سے بہت پیار کرتی ہے۔۔ وہ اسے کسی کے سامنے شرمندہ نہیں کر سکتی۔۔
۔
"میرے حیدر بہت اچھے ہیں اور میں بھی اچھا ہوں۔۔ اپنے بہت سارے کام خود سے کرتا ہوں۔۔ یہ بھی لے لونگا۔۔
مٹھی میں دبائی گاڑی کی چابی پر نظر ڈال کر اس نے ایک بار پھر لان کی جانب دیکھا۔۔ گھر کر داخلی دروازے سے نکلتا حیدر ہنستے ہوئے ریان کے ساتھ لگ رہا تھا جب کے ریان اسے گھور کر دیکھ رہا تھا۔۔
اسکے معصوم چہرے پر دلکش سی مسکراہٹ ابھری۔۔
"یہ اسکی دنیا تھی۔۔ اسکے دا جان اور اسکے حیدر"۔۔
اس نے دھیرے سے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ایک اور وجود کو محسوس کرنا چاہا۔۔ جو وجود پچھلے پانچ ماہ سے اسکے ساتھ جڑا تھا۔۔
"دا جان سے پوچھونگا تمہیں کیا کہینگے"۔۔
اس نے سرگوشی کی سی مسکراتی آواز میں کہا۔۔
اسکی دنیا میں ایک وجود کا اضافہ ہونے جا رہا تھا۔۔ اور بہت خوبصورت اضافہ ہونے جا رہا تھا۔۔
لبوں پر مسکراہٹ لئے وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی گاڑی تک آئی تھی۔۔ کچھ دور کھڑی گاڑی اسے دیکھتے ہی حرکت میں آئی تھی۔۔ وہ تو یہاں حیدر سے دو ٹوک بات کرنے آئی تھی لیکن اب ریبا کو اس پہر پارکنگ میں دیکھ کر وہ طنزیہ مسکرا اٹھی۔۔
"یوں تو پھر یوں ہی سہی مسز حیدر اکمل "۔۔
وہ دور کھڑی بھی سٹریٹ لائٹ کی روشنی میں اسکے لبوں پر مسکراہٹ دیکھ سکتی تھی۔۔ ایک لمحے کے لئے دل اسکی من موہنی صورت پر نرم پڑا اگلے ہی لمحے اسکے ہاتھ اپنے گال تک گئے۔۔ حیدر کی شکایت پر آج اسکے ڈیڈ نے زندگی میں پہلی بار اس پر ہاتھ اٹھایا تھا۔۔ اس نے سرخ ہوتی آنکھوں سے ایک بار پھر ریبا کی جانب دیکھا۔۔
اس سے پہلے کوئی خاص دشمنی نہیں تھی جب تک وہ یہ نہیں جانتی تھی کے وہ پاگل سی لڑکی حیدر اکمل کی بیوی ہے۔۔
"مسز حیدر اکمل "۔۔
لبوں پر زخمی مسکراہٹ لئے فل سپیڈ پر گاڑی چھوڑتے اس نے مسلسل بہتے آنسوں صاف کئے۔۔
۔
"یہ بھی۔۔ کتنے سارے گفٹس لایا ہوں میں حریم کے لئے۔۔ میں اسکا بیسٹ فرینڈ ہوں۔۔ ابھی تک نہیں دیا تھا میں نے گفٹ۔۔ حیدر تو بزی تھے اتنے بزی تھے۔۔ اچھا ہوا میں آ خود خود آگیا..
زیر لب کہتی گاڑی کی پچھلی سیٹ سے تمام تحائف اٹھانے کے بعد اس نے ڈیش بورڈ پر رکھا مخملی ڈبہ بھی اٹھایا جو کل حیدر نے اسے حریم کو تحفہ میں دینے کے لئے دیا تھا۔۔
وہ سارے تحائف ہاتھوں میں لئے لبوں پر مسکان لئے گیٹ کی جانب بڑھی۔۔
"اب میں حریم کو لے جا کر دونگا۔۔ ہاہاہا بےبی ایلیفینٹ "۔۔
مخملی ڈبے کو دیکھتی وہ ہلکا سا ہنسی تھی وہ جانتی تھی یہ گفٹ ملنے کے بعد حریم کتنی خفا ہوگی۔۔
اگلے ہی لمحے ایک تیز رفتار گاڑی اسکے وجود کو اڑاتے ہوئے آگے بڑھی تھی۔۔
اسکے ہاتھ سے تحفے دور جا گرے تھے۔۔ وہ خود سڑک کر دوسرے کنارے بےسدھ سا وجود لئے پڑی تھی۔۔ اسکے پیٹ اور سر میں شدید درد اٹھ رہے تھے۔۔ درد سے تڑپتے اس نے آہستہ سے اپنا خون سے بھرا ہاتھ اٹھایا۔۔
"مم میرا خون۔۔ ات اتنا سارا خون۔۔ اللہ اللہ پاک۔۔ مم میرا بےبی۔۔ خون۔۔
بےیقینی اور خوف سے پھیلتی آنکھوں سے اس نے خون سے بھرا ہاتھ دیکھا۔۔
گرنے کے باعث اسکا نچلا لب بری طرح کٹ گیا تھا۔۔ وہ اپنے منہ میں بھی خون کا ذائقہ محسوس کر رہی تھی۔۔ دونوں ہاتھوں سے اپنے پیٹ کو چھو کر وہ بہتی آنکھوں سے کسی کو پکارنا چاہتی تھی۔۔ وہ حیدر اور ریان کو آواز دینا چاہتی تھی۔۔ خوف اور تکلیف سے آواز اندر ہی کہیں دب سی گئی تھی۔۔ اسکا ذہن میں ایک بار پھر وہ اندھیری رات امڈ رہی تھی۔۔ بند ہوتی آنکھوں سے اس نے سامنے کھڑے وجود کو دیکھا۔۔
"علیشا..۔
وہ سرگوشی کی سی آواز میں بولی تھی۔۔ سامنے کھڑی علیشا نے اسکے حرکت کرتے لبوں کو دیکھا۔۔ وہ اسکی آواز نہیں سن پائی تھی۔۔
گھٹنوں کے بل اسکے آگے بیٹھتی وہ غور سے اسکا خون سے بھرا چہرہ دیکھ رہی تھی۔۔
2 321
مہمانوں کے لئے کھانا شروع کروانا تھا تو باہر ریان اور فرحان کو اسکی ضرورت بھی تھی۔۔ اس لئے اس نے کچھ دیر بعد گفٹس نکالنے کا ارادہ کیا۔۔
۔
"تھوڑی سی دیر بعد نا حیدر۔۔
اس نے پیار سے سوال کیا۔۔ پیازی رنگ کے انگرکھا میں ہم رنگ ڈوپٹہ سے حجاب کئے اپنے پھولے گالوں کے ساتھ وہ بےحد حسین لگ رہی تھی۔۔
۔
"بلکل میرے دل ۔۔ بس ابھی مہمان جانے لگینگے نا پارکنگ میں رش کچھ کم ہوگا تو میں اپنی جان کو گفٹس لا دونگا۔۔ ابھی دا جان کو ضرورت ہے نا باہر بیوی۔۔ آپ یہیں رہیں۔۔
نرمی سے اسکے گال تھپتھپاتے اس نے سوالیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھا وہ اثبات میں گردن ہلا گئی۔۔
۔
"خود خود بھی لے سکتا ہوں۔۔ بچہ تھوڑی ہوں۔۔ ہاں خود سے لے لونگا تھوڑی دیر بعد۔۔
زیرلب بولتی وہ حریم کی جانب دیکھنے لگی جو مسکرا کر کسی سے بات کر رہی تھی۔۔ وہ گفٹ کے ساتھ اسکے پاس جانا چاہتی تھی۔۔
حفصہ کے بلانے پر وہ اسکے پاس چلی گئی۔۔ کافی دیر کے بعد آہستہ آہستہ مہمان بھی رخصت ہونے لگے۔۔ حیدر گفٹ لے کر نہیں آیا تھا۔۔ وہ مضطرب سی اٹھ کر سلائڈ ونڈو کے پاس آئی۔۔ وہاں سے پارکنگ صاف نظر آ رہا تھا۔۔ جو اب کافی حد تک خالی ہو چکا تھا۔۔ باہر لان میں البتہ اب بھی کافی رش تھا۔۔ اسے ریان کے ساتھ کام کرتا حیدر نظر آیا۔۔
۔
"سب بزی ہیں۔۔
وہ زیر لب بولتی گیٹ تک آئی تھی۔۔
کچھ سوچ کر لان کے دوسرے دروازے سے جہاں رش کافی کم تھا وہ باہر پارکنگ کی جانب بڑھ گئی۔۔
۔
_______
جاری ہے
2 321
گولڈن جالی دار دوپٹہ کا گھونگھٹ کئے وہ اسکے پہلو میں بیٹھا دی گئی تھی۔۔
اسکے وجود کی لرزش اسے باخوبی محسوس ہو رہی تھی۔۔
۔
"جلدی سے بولو نا قبول ہے۔۔
قاضی کے پوچھنے پر حریم کے چند لمحے خاموشی پر فیضی جلدی سے بولا۔۔ اسکی اس قدر بےصبری وہ سب ہی ہنس پڑے۔۔
۔
"بچی سے زبردستی نہیں کر سکتے۔۔ بیٹا آپ بتائیں۔۔
فیضی کی جلدی پر قاضی نے کچھ خفگی سے اسے دیکھتے اپنا سوال دوبارہ دوہرایا
"قبول ہے۔۔
اب کی بار حریم کی دھیمی سی آواز ابھری تھی۔۔ فیضی نے شکر کا سانس بھرا۔۔
مبارک سلامت کی گونج میں آج وہ اسکے نام ہو گئی تھی۔۔
"آج تو آپ آفیشلی دیورانی بن گئیں ہیں بہنا ۔۔
حفصہ نے پیار سے حریم کو گلے لگایا۔۔ ریان نے بھی اٹھ کر اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے اسے پیار کیا۔۔
ریبا جھک جھک کر اسکے گھونگھٹ کے اندر دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
۔
"چلو بھئی فیضی اب گھونگھٹ اٹھاؤ۔۔
ارسا نے شرارت بھری ایک نظر حریم پر ڈال کر فیضی کو اشارہ کیا۔۔
۔
"رکیں بھابی یار دل تو مضبوط کر لینے دیں۔۔
وہ اب بھی بعض نہیں آیا تھا۔۔
چند لمحے اپنی ڈرامے بازی کے بعد اس نے گھونگھٹ اٹھایا۔۔ مبہوت سا اسے دیکھتا رہ گیا۔۔ ڈریس کی مناسبت سے میک اپ کئے کانوں میں بھاری جھمکے سجائے۔۔ ناک میں نتھنی۔۔ لرزتے لبوں پر گلاب سی رنگت لرزتی پلکوں کی چلمن گرائے وہ اسے کوئی اور ہی حریم لگی تھی۔۔
وہ شان سے صوفے سے اٹھتا ایک گھٹنا نیچے کارپیٹ پر رکھ کر عین اسکے مقابل بیٹھ گیا۔۔ وہ سب حیرانی سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔ وہ کیا کرنے والا تھا۔۔
سمیرہ بیگم نے کچھ گھبرا کر اسے دیکھا جتنا وہ دونوں لڑتے تھے سب کو دھڑکا سا لگا ہوا تھا۔۔
حریم نے ذرا کی ذرا پلکیں اٹھائیں۔۔ سامنے وہ شہزادوں سی مسکراہٹ لئے اسے تک رہا تھا۔۔ اس نے اگلے ہی پل پلکیں جھکائیں۔۔ آج تو اسکے انداز ہی بدلے ہوئے تھے۔۔
۔
"" میری ذندگی کی شب سیاہ میں،
شہزادی آپ روشن ستارے کی مانند طلوع ہوئ،
روشنی بھی وہ جو چاند اور سورج کو شرما رہی ہے اس غلام کی دو آنکھیں حیراں ہو گئیں اس روشنی کو دیکھ کر۔۔ کیا آپ ہمیشہ یونہی اس ناچیز کی زندگی روشنیوں سے بھر دینگی۔۔
اسکے آگے ایک ہتھیلی پھیلاتے وہ گھمبیر لہجے میں بول رہا تھا۔۔
ریبا کے لب سیٹی کے سے انداز میں گول ہوئے جبکے فرحان اور حیدر باقاعدہ ہوٹنگ کر رہے تھے۔۔
فیضی نے حفصہ کی جانب دیکھا وہ مسکرا کر اسے تھمبس اپ کا اشارہ کر رہی تھی۔۔ سمیرہ بیگم نم آنکھوں سے اپنی دونوں بیٹیوں کے چہروں پر خوشی کے ان گنت رنگ دیکھ رہی تھیں۔۔
"حریم سے یس۔۔
ارسا نے خوشی سے کہا۔۔
۔
"یسسس۔۔
ریبا نے زور سے اسے ہلایا۔۔
۔
"تم مجھے کبھی کھانے کا طعنہ نہیں دو گے۔۔
فیضی نے ہنستے ہوئے نفی میں گردن ہلائی۔۔
۔
"دوسری تیسری چوھتی کسی بیوی کے بارے میں نہیں سوچو گے۔۔
شرم و حیا کو کچھ پل کے لئے سائیڈ پر رکھ کر اس نے اگلی شرط بتائی۔۔
۔
"خادم کی سوچیں صرف آپ تک محدود رہینگی۔۔
اس نے دلکشی سے مسکرا کر تصدیق کی تھی۔۔
حیدر اور فرحان کا زبردست قہقہا گونجا۔۔
۔
"یہ تو اتنی ڈیمانڈنگ برائیڈ بنی ہے۔۔ میں اچھا بڑائیڈ بنا تھا نا حیدر۔۔
اسکی ڈیمانڈز پر پریشان ہوتی ریبا یس کے انتظار سے تنگ ہو کر بولی تھی۔۔ حیدر نے محبت سے اسے دیکھا۔۔
"اوہ میرے دل آپ سب سے پیاری برائیڈ بنی تھیں۔۔
اس نے دھیرے سے اسکے کانوں میں سرگوشی کی۔۔
۔
اپنی تمام شرطیں منوا کر اس نے یس کہتے اپنا ہاتھ فیضی کے ہاتھوں میں دیا تھا۔۔
کچھ دیر کے بعد حفصہ حریم کو کمرے میں لے گئی تھی۔۔حیدر ریان فرحان باہر مردوں میں چلے گئے تھے۔۔
۔
"بیوی۔۔ میری جان مہمانوں کے جانے کے بعد آجائینگے اچھا۔۔ آپ نے حفصہ بھابی کے ساتھ رہنا ہے میرے دل۔۔
جاتے جاتے وہ ریبا کو ھدایت کرنا نہیں بھولا تھا۔۔ اسکے سجے سنورے روپ کو جی بھر کر دیکھتا اس کی پیشانی پر لب رکھ کر خود ہی اسکا ہاتھ تھامے وہ ارسا کی جانب آیا۔۔
۔
"ارسا بھابی۔۔ ہم سب باہر مردوں میں ہیں۔۔ ریبا کا دھیان رکھیئے گا پلیز۔۔ یہ حفصہ بھابی کے ساتھ ہی ہونگی۔۔
اسکی فکر پر مسکراتی ارسا نے ریبا کو ساتھ لگا کر اسے تسلی دی۔۔
۔
حیدر۔۔
وہ کچھ قدم ہی آگے بڑھا تھا جب وہ اسے پکارتی اسکے پاس آئی تھی ۔۔
۔
"حیدر وہ میں جو گفٹ لایا تھا۔۔ وہ گاڑی میں ہے۔۔ سب دے رہے ہیں میں حریم کو کچھ نہیں دونگا۔۔
اس نے حیدر کی جانب دیکھتے افسوس سے پوچھا۔۔ حریم کے لئے وہ بہت سے گفٹ لائی تھی۔۔ اسکے مطابق وہ اسکی بیسٹ بڈی تھی۔۔ اور بیسٹ فرینڈ کی شادی میں بہت سارے گفٹ دیتے ہیں۔۔
۔
"اوہ میرے دل گاڑی تو پارکنگ میں ہے۔۔ اس وقت بہت رش بھی ہوگا۔۔ مہمانوں کے جانے بعد باہر کچھ رش کم ہوگا تو لے آئینگے میری جان۔۔
گفٹ گاڑی میں رہ جانے کا سن کر اسے بھی اچھا نہیں لگا تھا۔۔ لیکن باہر پارکنگ میں اس وقت فنکشن میں آئے مہمانوں کی بھی گاڑیاں کھڑی تھیں۔۔ اور لان میں کافی رش بھی تھا۔۔
2 321
وہ کوئی دسویں مرتبہ سامنے آئینے میں اپنا عکس دیکھتا حفصہ سے سوال کر رہا تھا۔۔ جو ہنس ہنس کر دوہری ہو رہی تھی ۔۔
"اتنا تو میں اپنی شادی میں نروس نہیں تھی فیضی جتنا تم اپنے نکاح میں ہو رہے ہو "۔۔
بامشکل اپنی ہنسی کنٹرول کرتے اس نے فیضی کو دیکھا جو ایک بار پھر خود پر پرفیوم سپرے کر رہا تھا۔۔
۔
"آپ کی بہن کو ویسے بھی میں کدو کی شکل والا لگتا ہوں بھابی۔۔
وہ ناک سکڑ کر بولا تھا۔۔
۔
"فیضی میرے بچے تمہارا سولہ اور اسکے آگے کا سارا سنگھار ہو گیا تو آ جاؤ یا ہم اکیلے ہی چلے جائیں تمہاری دلہن لینے۔۔
مصنوعی خفگی سے کہتے ریان نے شانوں سے اسے تھام کر اپنے مقابل کھڑا کیا۔۔
سفید شلوار کمیز اور حریم کے کپڑوں سے کچھ میچ کرتا ویسٹ کوٹ زیب تن کئے بالوں کو سلیقے سے جمائے وہ خوشبوؤں میں بسا دولہا بنا کھڑا تھا۔۔
اس نے محبت سے اسکی پیشانی چومی۔۔
۔
"بہت بڑی ذمہ داری لینے جا رہے ہو آج تم۔۔ کبھی بھی اسے تکلیف دے کر میری تربیت پر حرف نہیں آنے دینا میرے بچے۔۔ تمہارے بھیا کا سر ہمیشہ فخر سے بلند رہنا چاہئیے کے میرے بچے نازک آبگینوں کو سنبھالنا جانتے ہیں۔۔ مرد کی سب سے بڑی کامیابی ہی یہی ہے اسکی ہمراہی میں موجود عورت اسکی دل سے عزت کرتی ہو نا کے کسی قسم کے خوف سے۔۔ وہ خود کو خوش قسمت محسوس کرے تم سے جڑنے کے بعد نا کے اپنی قسمت کو کوستی پھرے۔۔ اسے خود پر رشک آنا چاہئیے کے فیضی مرتضیٰ اسکا شوہر ہے۔۔
لاؤنچ میں آتے فرحان اور ارسا پر ایک محبت بھری نظر ڈال کر اس نے فیضی کو سمجھایا۔۔
۔
"میرے بھیا کو کبھی میری وجہ سے شرمندگی نہیں ہوگی۔۔ آپ کا یہ فخر ہمیشہ برقرار رہے گا بھیا۔۔
اسکے ساتھ لگتا اب وہ سنجیدہ سا بولا تھا۔۔
۔
"مجھے یقین ہے میرے بچے۔۔
فاتح کو حفصہ کی گود میں دیتے وہ مسکرا کر بولا تھا۔۔۔
۔
"تیار ہو گھوڑی چڑھنے کے لئے۔۔
فیضی کے ساتھ لگتے فرحان نے شرارت سے کہا تھا۔۔
۔
"اوہ بابا کا ہادی تو آج ہیرو لگ رہا ہے۔۔
فرحان کی گود میں تیار ھاد کو دیکھ کر فیضی نے زور سے اسکے گال کھینچے ۔۔
۔
"بابا زا ہادی یی پا دی۔۔ زا نو گڈ ۔۔
فیضی کو غصّے سے دیکھتے ھاد نے بلند آواز میں اسکی شکایت فرحان سے کی۔۔
ان سب کا مشترکہ قہقہا گونجا۔۔
۔
"حفصہ ٹھہریں۔۔
ان سب کو باہر کی جانب جاتے دیکھ اس نے حفصہ کی کلائی تھام کر اسے روکا۔۔
۔
"ہم لیٹ ہو رہے ہیں ریان۔۔
اس نے دھیرے سے کہا تھا۔۔
۔
"اتنی پیاری تیاری پہلے دیکھ تو لینے دیں جاناں آج تو آپ صبح سے ہاتھ نہیں آئیں۔۔
نرمی سے اسے تھام کر اپنے مقابل کھڑا کرتے نظروں سے اسے دل میں اتارتے وہ جذب سے بولا تھا۔۔ اسکی نتھنی کو ہولے سے چھوتے وہ اسے سمٹنے پر مجبور کر رہا تھا۔۔
۔
"خوش ہیں۔۔
اسکی موہنی صورت کو جی بھر کر دیکھتے اس نے سوال کیا۔۔ وہ کتنی خوش تھی اسکا اندازہ اسکے چہرے سے باخوبی ہو رہا تھا۔۔
۔
"بہت زیادہ خوش ہوں۔۔
وہ سرشار سی اسکی جانب دیکھ کر بولی۔۔
۔
"اب چلیں ۔۔
وہ اس میں سمٹتی اس سے فرار چاہ رہی تھی۔۔
۔
"یہ لایا تھا آپ کے لئے۔۔ ان کی خوشبوؤں میں بسی آپ پیاری لگتی ہے۔۔
پھولوں کے گجرے اسکی کلائیوں میں سجا کر اس نے مسکرا کر اسے دیکھا جو خود بھی مسکراتی اسکی سنگت میں باہر کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔
۔
"حیدر سے بات ہوئی۔۔ ریبا کو لے کر کیوں نہیں آیا ابھی تک۔۔
ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے فرحان نے ریان سے پوچھا۔۔
۔
"وہ کہ رہا ہے وہ ڈائریکٹ تایا ابو کے گھر آئیگا۔۔ آج ہم دونوں ہی آفس نہیں گئے تو وہ گھر لیٹ گیا تھا۔۔ ریبا کا پیپر بھی تھا آج وہ بھی تھکی ہوئی ہوگی۔۔ میں نے ہی کہا کچھ دیر اسے آرام کرنے دے۔۔
ریان نے تفصیلی جواب دے کر حفصہ کے گرد نامحسوس انداز میں بازو پھیلائے۔
۔
___________
۔
ارتضیٰ مینشن رنگ برنگی فینسی لائٹس سے جگمگا رہا تھا۔۔ وہ چھوٹا سا قافلہ وہاں پہنچا۔۔ فیملی کے علاوہ صرف ارتضی صاحب کے چند دوست تھے جو نکاح میں شرکت کے لئے آئے تھے۔۔
لان کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔۔ کچھ منچلے لڑکے دولہا بنے فیضی کے گرد بھنگڑا ڈال رہے تھے۔۔ وہ خود بھی ان میں شامل ہو چکا تھا۔۔ اپنی شادی کی سب سے زیادہ خوشی تو اسے خود کو تھی۔۔
آخر کار وہ اپنی چاند ستاروں جیسی دلہن لینے آ ہی گیا تھا۔۔ ریبا اور حیدر بھی آ چکے تھے۔۔ اس وقت ریبا ریان سے مل رہی تھی جو ہمیشہ کی طرح اسے سامنے پا کر سب کچھ بھول چکا تھا۔۔
۔
نکاح لاؤنچ میں ہونا تھا۔۔ وہ ریان اور فرحان کے درمیان بیٹھا بےچینی سے سیڑھیوں کی جانب دیکھ رہا تھا جب ارسا اور حفصہ کے درمیان وہ سہج سہج سیڑھیاں اترتی اسکی جانب آ رہی تھی۔۔ اسکی نظریں تو اسکے وجود پر جم سی گئیں تھیں۔۔ اسکی پسند کی گولڈن اور پیچ کلر کی پشواز میں ملبوس بھاری کام والا ڈوپٹہ سیٹ کئے۔۔ میک اپ سے اسکے تیکھے تقوش مزید نکھر سے گئے تھے۔۔
2 321
۔
"ہہوہوہو۔۔ بابا۔۔ بابا ہادی۔۔ شاوووو۔۔
کچھ ہی دیر میں باتھ روم سے اسکے کھلکھلانے کی آواز آ رہی تھی۔۔ وہ مسکرا اٹھی۔۔ یقیناً فرحان اسے نہلا رہا تھا۔۔ چند لمحے بعد ہی وہ تولیہ میں لپٹا فرحان کی گردن میں منہ چھپائے کمرے میں آیا تھا۔۔ اپنی اچھل کود میں وہ فرحان کو بھی بھیگا چکا تھا۔۔
۔
"بابا ہادی مما آئی کوز۔۔
جلدی سے اپنے ننھے ہاتھ آنکھوں پر رکھتے اس نے ارسا کو آنکھیں بند کرنے کہا۔۔
فرحان کا زور دار قہقہا گونجا۔۔
"ہادی کی مما آنکھیں بند کر لیں۔۔ میرا شیر کپڑے چینج کرے گا "۔۔
دوسرے تولیے سے اسکا چہرہ تھپتھپاتے فرحان نے ہنستے ہوئے کہا۔۔
۔
"اپنے شیر کو جلدی سے تیار کر دیں ورنہ زا اسے چھوڑ کر اپنی بےبی ایلیفینٹ کو لینے چلا جائے گا۔۔
اپنی آنکھیں بند کر کے اس نے وارننگ دی۔۔ فیضی نے سب سے کہا تھا کے اگر نو بجے سے ایک سیکنڈ بھی آگے بڑھا تو وہ اکیلا ہی اپنی بارات لے جائے گا۔۔
۔
"اسے ڈائیپر پہنا دو۔۔ میں شاور لے کر آتا ہوں۔۔ پھر ہادی اور بابا ساتھ ساتھ تیار ہونگے۔۔
اسکے سرخ گالوں کو باری باری زور سے چوم کر اس نے ارسا سے کہا جو آنکھیں بند کئے بیڈ کے کنارے بیٹھی ہوئی تھی۔۔
۔
"پہلے اپنے شیر سے اجازت تو لے لیں کے یہ تیار ہیں مجھ سے ڈائیپر پہننے کے لئے۔۔
اس نے ھاد کی جانب شرارت سے دیکھتے کہا۔۔ جو مسلسل فرحان کے سینے میں چھپنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
۔
"ہادی بابا ابھی آ رہے ہیں میری جان۔۔ میرا بیٹا بات مانے گا نا بابا کی۔۔
ھاد کے خاموشی سے بیڈ پر بیٹھ جانے پر اس نے فخریہ انداز میں ارسا کی جانب دیکھا جو حیرانی سے بابا کے فرمانبردار ہادی کو دیکھ رہی تھی۔۔
۔
خود شاور لے کر آنے کے بعد ھاد کو اسکی گود سے لیا۔۔
"بابا ہادی ششرے ۔۔
ارسا نے حیرانی سے فرحان کی جانب دیکھا۔۔ اسکی زبان اسکے بابا ہی سمجھ سکتے تھے۔۔
اگلے ہی لمحے اسکی نظریں جھکیں۔۔ فرحان نے ہنستے ہوئے باڈی سپرے اٹھا کر اسکے آگے لہرایا۔۔ مطلب وہ باڈی سپرے لگانے کے لئے کہ رہا تھا۔۔ اپنے اوپر سپرے کرنے کے بعد فرحان نے ڈریسنگ پر بیٹھے ھاد پر سپرے کیا۔۔ جو اپنے ننھے ہاتھ اوپر اٹھائے گھوم گھوم کر مزے سے سپرے کروا رہا تھا۔۔
۔
"دونوں باپ بیٹے ایک سے ہیں "۔۔
وہ خجل سی ہوتی اپنا سرخ چہرہ لئے کمرے سے ہی نکل گئی۔۔
۔
"ہادی کی ماما تو شرما گئیں۔۔
بیڈ سے کمیز اٹھا کر پہنتے اس نے شرارت سے نچلا لب دبا کر بلند آواز میں کہا تھا۔۔ جو کمرے سے باہر جاتی ارسا نے باخوبی سنا تھا۔۔
"میرا ہینڈسم بیٹا بھی آج کمیز پہنے گا۔۔
مسکراتے ہوئے ھاد کا چھوٹا سا کرتا اسے پہناتے وہ محبت سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔۔ سرخ و سفید رنگت لئے صحت مند سا ھاد سفید کرتے میں بہت پیارا لگ رہا تھا۔۔
"بابا ہادی بشش۔۔
اسے بالوں میں برش پھیرتے دیکھ ھاد نے اپنا سر آگے کیا۔۔
"بابا اپنے بچے کو بھولے نہیں ہیں میری جان۔۔ ابھی برش کر دیتے ہیں۔۔
اسکا بھی چھوٹا سا برش اٹھا کر اسکے سر پر برائے نام بالوں میں پھیر کر اس نے پہلے اس پر پرفیوم سپرے کیا۔۔
مکمّل تیاری کئے اس نے ھاد کا رخ بھی اپنی آئینے کے سامنے کرتے محبت سے سامنے والا عکس دیکھا۔۔ سفید کاٹن کی شلوار کمیز میں چوڑے شانے پر اجرک ڈالے اسکی سنجیدہ شخصیت میں ایک رعب تھا جو اسے ایک الگ سا وقار بخشتا تھا۔۔ اسکے ساتھ کھڑا ھاد چہرے کے تاثرات بھی مکمّل باپ کی طرح کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔بھنویں سکیڑے اپنی کالی آنکھوں سے اپنے باپ کے ساتھ کھڑا وہ بھی سامنے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
۔
"بابا کا شیر۔۔ میری جان۔۔ میرا ہادی۔۔
اسکے تاثرات دیکھ کر فرحان نے ہنستے ہوئے اسکے سر پر پیار کیا۔۔ بدلے میں ھاد نے بھی مڑ کر اسکے سینے پر اپنے لب رکھے۔۔ ڈریسنگ ٹیبل پر وہ کھڑا اسکے سینے تک ہی پہنچ رہا تھا۔۔
۔
"بابا ہادی۔۔
ایک بار پھر اسکے سینے پر لب رکھ اس نے بھی جیسے اپنی محبت کا یقین دلایا تھا۔۔ فرحان نے موبائل اٹھا کر فرنٹ کیمرہ آن کرتے ان دونوں کی ایک تصویر لی۔۔
آئینے میں نظر آتے ارسا کے ہلکے سے عکس پر اسکے لب مسکرائے تھے۔۔
"آجاؤ ادھر۔۔ دونوں بندے مکمّل تمہارے ہیں چھپ کر کس کو دیکھ رہی ہو۔۔
اسکی مسکراتی آواز پر ارسا دروازے کے سائیڈ سے نکلتی انکے قریب آئی تھی۔۔ وائٹ اور گولڈن رنگ کے حسین کامدار جوڑے میں بالوں کو کھلا چھوڑے وہ فرحان کو ہمیشہ کی طرح حسین لگی۔۔
نرمی سے اسے حصار میں لیتے اس نے اس حسین لمحے کو کیمرے کی آنکھ میں قید کیا۔۔ اسکے سینے پر سر رکھ کر کھڑی ارسا اور اسکی گردن میں باہیں ڈالے کھڑا ہادی۔۔
ایک مکمّل منظر تھا۔۔ زندگی کا ایک حسین لمحہ اس تصویر میں قید ہو گیا تھا۔۔
_______
۔
"بھابی اچھا لگ رہا ہوں نا۔۔ دیکھیں ٹھیک سے دیکھیں۔۔
2 321
وہ پرجوش انداز میں سیدھی ہو کر بیٹھتی سمجھنے کے سے انداز میں بولی تھی۔۔
حیدر کے لبوں پر مطمئن سی مسکراہٹ ابھری۔۔ جو وہ سمجھانا چاہتا تھا وہ سمجھ چکی تھی۔۔ وہ جان چکی تھی کے اللہ اسکے باطن کی پاکیزگی کو جانتا ہے۔۔ اس سے محبت کرتا ہے۔۔
۔
"حیدر۔۔
وہ چہرہ اوپر کی جانب اٹھائے محبت سے بولی تھی۔۔ حیدر نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔ وہ جانتا تھا آگے وہ کیا کہنے والی ہے۔۔
۔
"آپ بہت اچھے ہیں۔۔
اپنے چہرے پر رکھے اسکے ہاتھ پر لب رکھتی وہ اپنے مخصوص انداز میں بولی تھی۔۔
۔
"اچھا۔۔ کتنے اچھے۔۔
وہ دھیرے سے اس پر جھکتا شرارت سے بولا۔۔
۔
"دد دا جان جتنے اچھے۔۔
وہ جلدی سے سر ہلا کر فخریہ انداز میں بولی تھی۔۔ اچھائی کی تعریف اسکے دا جان پر آ کر ختم ہوتی تھی۔۔ دا جان سے زیادہ اچھا وہ اسے نہیں کہ سکتی تھی۔۔
۔
"پھر تو میری بیوی پیار بھی مجھ سے دا جان جتنا ہی کرتی ہونگی۔۔
اسکے پھولے گالوں پر اپنے گال رگڑتے وہ مسکراہٹ دبا کر کہ رہا تھا۔۔ دل میں ایک مبہم سی امید تھی کے وہ ہاں کہے گی۔۔
۔
"دا جان سے تھوڑااا سا کم پیار کرتا ہوں۔۔ اتنا تھوڑا سا کم۔۔
انگلیوں سے تھوڑے سے کا اشارہ کرتی وہ اسے بہلا رہی تھی۔۔ دا جان جتنا پیار تو دا جان کا گڈا کسی سے نہیں کر سکتا تھا۔۔
۔
"بیوی آپ جانتی ہیں میں نے فاتح نام کس کے لئے کہا تھا۔۔
اسکے گال کو انگوٹھے کی مدد سے سہلاتے اس نے مسکراہٹ دبا کر اسکی جانب دیکھا جو زور شور سے اثبات میں گردن ہلا رہی تھی۔۔
"دا جان کے بےبی کے لئے اسکا نام فاتح رکھ دیا میں نے۔۔
حیدر بےاختیار ہنس پڑا۔۔
"وہ میں نے ہمارے بےبی کے لئے سوچا تھا۔۔ ریبا اور حیدر کے بےبی کے لئے۔۔
اس کے بالوں پر لب رکھتے اس نے ہنستے ہوئے اسے بتایا جو حیرت سے آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
۔
"ہمارے بےبی کے لئے۔۔ پر بےبی تو نہیں تھا۔۔ اب ابھی تک نہیں آیا ہے۔۔
اس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔
وہ نفی میں گردن ہلاتا ہنس پڑا۔۔
۔
"چلیں اب تو دا جان کے بےبی کا نام فاتح ہو گیا۔۔ ہمارے بےبی کا نام ہم کیا رکھینگے۔۔
گہری نظروں سے اسکی جانب دیکھتے وہ مستقبل کے حسین لمحات کو جی رہے تھے۔۔ آنے والے حسین وقت کا سوچ کر اسکے لبوں پر الوہی سی مسکان بہار دکھا رہی تھی۔۔
"حیدر۔۔ دد دا جان رکھینگے۔۔ میں سب سے پہلے دا جان کی گود میں دونگا اسے۔۔ دا جان اسے پیار کرینگے جیسے مجھے کرتے ہیں۔۔ پھر پھر دا جان اسکا نام رکھ دینگے۔۔ پھر بوگیمبو اور حیدر اسے لے کر اپنا انٹرو دینگے۔۔ میں اسے بتاؤنگا میں اسکی جنّت ہوں۔۔ اور وہ ہمارا گفٹ ہے۔۔ اللہ نے ہمیں اسے گفٹ بنا کر دیا ہے۔۔
۔
وہ جیسے آنے والے حسین لمحات کا پورا نقشہ اسکے آگے کھنچ رہی تھی۔۔ وہ مبہوت سا اسکے معصوم چہرے پر وہ لمحات دیکھ رہا تھا۔۔
۔
"کتنا حسین وقت ہوگا وہ بیوی جب ہم اسے اپنے پاس اپنی گود میں لینگے۔۔ اسے محسوس کرینگے۔۔ وہ حیدر اکمل کے عشق کی زندہ نشانی ہوگا۔۔ میری محبت کی ایک جیتی جاگتی تصویر۔۔ ایک حسین گڑیا بلکل میری ریبا جیسی۔۔
اسکی پھیلی آنکھوں پر لب رکھتے وہ اسے اپنی خواہش بتا رہا تھا۔۔
۔
"نن نہیں گڑیا نہیں۔۔ گڈا۔۔
وہ جلدی سے بولی۔۔
"جو بھی آپکا عکس ہو۔۔ آپ کی طرح معصوم۔۔ پاکیزہ۔۔ ہوبہو آپ جیسا ہو۔۔ آنکھیں۔۔ ناک۔۔ ہونٹ۔۔ اور یہ گال۔۔
اسکے چہرے کے ایک ایک نقش پر محبت سے لب رکھتا وہ جذب کے عالم میں کہ رہا تھا۔۔
"نن نہیں۔۔ وہ وہ دا جان اور آپ جیسا ہوگا۔۔
وہ بھرپور یقین سے بولی تھی۔۔ وہ اسکے یقیں پر مسکرا اٹھا۔۔
_______
چاند کی دودھیا روشنی میں نہائی اس رات میں چاندنی ٹوٹ کر برس رہی تھی۔۔ تاروں کی جھلملاہٹیں عروج پر تھیں۔۔ ہوائیں آہستہ سے گزرتی ہر چیز کو نرمی سے چھو کر اپنے ہونے کا احساس دلا رہی تھیں۔۔ کھڑکی کی ہلکی سی جھری سے چاندنی اندر آتی آئینے پر پڑھ رہی تھی۔۔ جسکے سامنے کھڑی وہ خود کو سنوار رہی تھی۔۔
۔
"ارسا ہادی کے کپڑے تو دے دو۔۔
وہ دونوں باپ بیٹے بیڈ پر لیٹے اسے سجتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔۔ فرحان کی آواز پر اس نے پلکوں پر مسکارہ کا کوٹ لگاتے ایک ہاتھ سے بیڈ کی پائینتی پر رکھے دو بیگز کی جانب اشارہ کر رہی تھی۔۔
۔
"چلو آج مما کو چیلنج کرتے ہیں۔۔ میرا ہادی سب سے اچھا لگے گا۔۔ مما سے بھی زیادہ۔۔
پرشوخ نگاہوں سے آئینے میں نظر آتے اسکے عکس کو دیکھتے اس نے ہادی کو اٹھایا۔۔ آج فیضی کا نکاح تھا۔۔ سب ہی تقریباً تیاری میں مگن تھے۔۔ فیضی کی تیاریاں تو کل سے جاری تھیں۔۔
۔
"بابا ہادی گڈ۔۔ مما نو گڈ۔۔ ہادی بابا ہادی گڈ۔۔
ارسا کو گھور کر اپنے باپ کے سینے سے سر لگاتے وہ بتا رہا تھا کے اسکے بابا اور وہ بہت پیارے ہیں۔۔
آج کے فنکشن کے لئے فرحان نے ھاد کے لئے بھی سفید کرتا پاجامہ لیا تھا۔۔
2 321
"" جانم ""
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ۴٩
سیکنڈ لاسٹ ایپیسوڈ (پارٹ ٢)
۔
وہ چاۓ کا بڑا کپ تھامے کمرے میں داخل ہوا اسے کمرے میں موجود نہیں پا کر اس نے بالکنی میں دیکھا۔۔ وہ اداس سی بالکنی میں لگے مختلف پھولوں کے درخت کے پاس کھڑی گہری سوچ میں گم محسوس ہو رہی تھی۔۔گلابی اور سفید لائننگ والی ڈھیلی سی شرٹ پہنے ساتھ سفید رنگ کی ٹراؤزر میں ملبوس حیدر کی شال کو اپنے سینے سے لگائے اپنے ہاتھوں سے دبوچ کر کھڑی تھی۔۔ جو اسکی ذہنی اضطراب کو صاف ظاہر کر رہی تھی۔۔ پھولے سرخ گالوں پر ٹھنڈ سے مزید سرخی نمایاں ہو رہی تھی۔۔
حیدر نے بےساختہ لب بھینجے ۔۔ کچھ سوچ کر اس نے سائیڈ ٹیبل پر پڑا اپنا فون اٹھایا۔۔ دوسری جانب کال جا رہی تھی۔۔
۔
"واسلام۔۔ کیسے مزاج ہیں آپ کے رضوان صاحب۔۔
جی کام تو نہیں خیر مشورہ ضرور دینا چاہتا ہوں آپ کو۔۔ علیشا صاحبہ کو ذرا انکے حدود کا تعین کروا دیں رضوان صاحب۔۔ میری زوجہ محترمہ سے خاصی بدتمیزی کی ہے انہوں نے۔۔ مجھے امید ہے آپ اچھی طرح سمجھا لینگے۔۔ یوں بھی الیکشن قریب ہیں۔۔ ہم شریفوں کی بہت ضرورت پڑنے والی ہے آپ کو۔۔
۔
اگلی جانب سے تسلی دئے جانے پر اس نے طنزیہ مسکراہٹ لبوں پر لئے فون کو دیکھتے کال ڈسکنیکٹ کی۔۔
۔
"حیدر کے دل۔۔ میری جان کے ٹکرے اتنی خاموشی۔۔
اسے نرمی سے اپنے حصار میں لیتے وہ سرگوشی کی سی آواز میں بولا تھا۔۔
۔
"میں اچھا نہیں ہوں۔۔
وہ خود بھی اپنی آواز بامشکل سن پائی تھی۔۔ وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔۔
۔
"سب سب کو اتنا سب کہتے۔۔ مم میری وجہ سے۔۔ میں اچھا نہیں بولتا ہوں۔۔ آ آپ کو بھی کہا۔۔ دد دا جان کو بہت سارا کچھ کہا تھا۔۔ پر حیدر۔۔ میں میں تو اچھا ہو رہا ہوں نا۔۔ میں سچ میں اچھا ہوا ہوں حیدر۔۔ وہ حفاظت وہ اللہ کے لئے لیتا ہوں۔۔ دد دکھاوا نہیں کرتا۔۔ حیدر۔۔ مم میں دکھاوا نہیں کرتا ہوں۔۔ اللہ سے بہت پیار کرتا ہوں۔۔ بہت سارا پیار کرتا ہوں۔۔
وہ روندھی آواز میں کہتی اپنا سر اسکے سینے پر ٹکا گئی۔۔
اس نے اسے روکا نہیں تھا۔۔ وہ سن لینا چاہتا تھا جو وہ سوچ رہی تھی۔۔
۔
"اس نے کہا دد دکھاوا ہے۔۔ پپ پھر تو اللہ بھی ناراض ہو جائے گا۔۔ اللہ کو بھی تو دکھاوا پسند نہیں نا۔۔ اللہ مجھ سے ناراض ہو گیا تو میں کیا کرونگا حیدر۔۔ اللہ کو تو کب کبھی ناراض نہیں کرتے۔۔
آہستہ آہستہ اسے اپنی شرٹ گیلی ہوتی محسوس ہو رہی تھی وہ یقیناً رو رہی تھی۔۔ اس نے نرمی سے اسکے بالوں سے پونی نکال کر بالوں میں انگلیاں پھیریں۔۔ بولا اب بھی کچھ نہیں۔۔ آج وہ صرف اسکی سننا چاہتا تھا۔۔ یہ سچ تھا وہ دنیا والوں کی زبان نہیں پکڑ سکتا تھا لیکن اپنی بیوی کو پرسکون کیسے کرنا ہے وہ جانتا تھا۔۔
۔
"آپ انسٹیٹیوٹ جا رہی ہیں نا ریبا۔۔ وہاں آپ کو کیا سیکھاتے ہیں۔۔
اسے یونہی اپنی آغوش میں لئے وہ احتیاط سے بالکنی میں رکھے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔
۔
"بب بہت سارا کچھ سیکھایا میم نے۔۔ وہ وہ قرآن بھی سیکھاتی ہیں۔۔ انہوں نے بتایا اللہ اس کے ذریعے بات کرتا ہے۔۔ مم میں ابھی زیادہ نہیں سیکھا ہوں نا اس لئے اللہ مجھ سے زیادہ باتیں نہیں کرتا۔ لیکن میں سیکھ رہا ہوں پورا سیکھ لونگا۔۔
آنسوں سے تر گالوں کو اسکی شرٹ سے رگڑتے اس نے دھیرے سے کہا۔۔
۔
"یہ بتایا کے اللہ آپ سے کتنا قریب ہے۔۔
اسکے چہرے کو ہاتھوں میں بھرتے اس نے مسکرا کر سوال کیا۔۔ کچھ سوچ کر اس نے زور زور سے اثبات میں سر ہلایا۔۔
۔
"اللہ شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے "۔۔
اس نے جیسے رٹا ہوا جملہ سر ہلا کر اسے سنایا تھا۔۔ اسکی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔۔ اسکی بیوی رٹے بہت اچھی طرح لگاتی تھی۔۔ لیکن یہ سچ تھا وہ باتیں نہیں بھولتی تھی خاص کر اسکی باتیں۔۔
۔
"شہ رگ کسے کہتے ہیں میرے دل۔۔
ایک ہاتھ سے اسکے بالوں کو پیچھے کی جانب کرتے اس نے نرمی سے سوال کیا۔۔
وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔۔
"شہ رگ انسان کی وہ رگ ہوتی ہے جسے رگ جان کہتے ہیں۔۔ جانتی ہیں دل سے جڑی اس رگ کے کٹنے سے انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔۔ اللہ نے کیوں کہا کے وہ اس بھی زیادہ قریب ہے ریبا۔۔ کیوں کے یہ رگ ہمارے دلوں کو جاتی ہے۔۔ اللہ نے اس رگ سے متعلق نہیں کہا وہ شانوں سے ہوتی اس رگ کے قریب ہے۔۔ وہ آپ کے دل تک جاتی رگ سے بھی قریب ہے ریبا۔۔ وہ آپ کے دل سے بھی بستا ہے وہ جانتا ہے جو آپ سوچتی ہیں۔۔ جو آپ چاہتی ہیں۔۔ آپ کی خواہشات کا علم ہے اسے۔۔
دھیرے سے جھک کر نامحسوس انداز میں اسکی شہ رگ پر لب رکھتے وہ سرگوشی کے سے انداز میں کہ رہا تھا۔۔ وہ محصور سی اسے سنتی اسکی باتیں جیسے سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
۔
"اللہ مجھ سے ناراض نہیں ہوگا۔۔
وہ زیر لب بولی تھی۔۔
۔
"حیدر اللہ جانتا ہے میں دکھاوا نہیں کرتا میں سچ میں اچھا ہو گیا ہوں۔۔ اللہ مجھ سے بلکل ناراض نہیں ہوگا۔۔ وو وہ جانتا ہے میں اس سے پیار کرتا ہوں۔۔ وہ بھی مجھ سے پیار کرے گا۔۔
2 321
۔
"معافی مانگے۔۔
۔
"واٹ۔۔۔ میں معافی مانگوں اس سے آپکا دماغ صحیح ہے حیدر۔۔
وہ تنک کر بولی تھی۔۔ لفظ حیدر پر ریبا نے گھور کر اسے دیکھا لیکن پھر حیدر کے ہاتھوں کا دباؤ محسوس کرتے وہ خاموش رہی۔
۔
"جی مس علیشہ رضوان آپ۔۔ آپ معافی مانگیں گی میری بیوی یعنی مسز ریبا حیدر اکمل سے۔۔ ورنہ اتنا میں انجان نہیں ہوں جتنا آپ مجھے سمجھ رہی ہیں۔۔ مجھے ان معاملات کا بھی علم جنکا شاید آپ کبھی نہیں چاہیں گی کے رضوان صاحب کو علم ہو۔۔
اطمینان سے کہ کر ریبا کو اپنے حصار میں لیتے وہ علیشا کے مقابل کھڑا کر چکا تھا۔۔
۔
"معافی مانگے۔۔
اسکی دھاڑ پر آس پاس کھڑے سٹوڈنٹس کو بھی سانپ سا سونگ گیا تھا۔۔ علیشا رضوان کا اس طرح کبھی کسی سے سامنا جو نہیں ہوا تھا۔۔
۔
"سوری۔۔
قہر باز نظروں سے ریبا کو دیکھتی وہ بولی تھی۔۔
۔
"اٹس اوکے۔۔ اور آیندہ میری ریبا سے متعلق ایک لفظ بھی کہنے سے پہلے سوچ لیجیے گا کے یہ مسز حیدر اکمل ہیں۔۔ آپ کے والد کے مقام کے پیچھے اس نام کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔۔ اور آپ کے والد کبھی نہیں چاہینگے یہ نام انکے بیک سے ہٹے۔۔ چلیں بیوی۔۔
بڑے سبھاؤ سے اسے اسکی حیثیت بتاتا وہ ریبا کو بازو کے حلقے میں لئے گاڑی کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔
کتنی ہی نظریں رشک اور حسرت بھری نگاہوں سے اس چھوٹی سی لڑکی جسے آدھا کالج پاگل کہتا تھا اسکا نصیب دیکھ رہی تھی۔۔
۔
"بیوی۔۔ کچھ کہا کیوں نہیں آپ نے میری جان۔۔
اسکی سیٹ بیلٹ باندھ کر اس نے رخ اسکی جانب کیا جو دونوں ہاتھوں کی پشت سے آنسوں صاف کر رہی تھی۔۔
۔
"خود لڑنے منع کیا تھا۔۔ اتنا سارا ڈانٹا تھا۔۔
گالوں کو رگڑتی وہ غصّے سے بولی تھی جیسے ساری غلطی ہی اسکی ہو۔۔
۔
"اوہ میرے دل۔۔ اب وہ کچھ نہیں کہے گی میری جان کو۔۔
نرمی سے اسکے گال سہلاتے اس نے محبت سے کہا۔۔
۔
_____
جاری ہے۔۔
2 321
گلابی رنگ کی پرنٹڈ شرٹ پر ہم رنگ ڈوپٹہ سلیقہ سے شانوں پر پھیلائے لمبے بالوں کی ایک پونی کئے وہ خاصی کیوٹ لگ رہی تھی۔۔ لیکن اگلے ہی پل اسکی مسکراہٹ سمٹی۔۔ اس لڑکے کی نظریں یاد کرتے حریم پر اسے ایک بار غصّہ آیا جو اب بھی اس سے نان اسٹاپ بولتی کھانے میں مصروف تھی۔۔
۔
"رکو۔۔ رکھو یہ نائف اور سٹرو نیچے۔۔
اس نے سنجیدگی سے کہتے اسکے ہاتھ سے خود ہی نائف لے کر پلیٹ پر رکھا۔۔
۔
"تمہیں کھانا ہے تو کھاؤ نا مجھے کھانے کے بیچ میں کیوں روک رہے ہو۔۔ اپنے لئے آرڈر کرو اور کھاؤ۔۔
اسکے اس طرح روکنے پر خائف ہوتی اسکے تاثرات نہیں دیکھ سکی۔۔
"یہ ڈوپٹہ ابھی اسی وقت طریقہ سے سر سے لو۔۔ اور اس مفلر سے خود کو کوور کرو۔۔
۔
"فیضی کیا ہو گیا ہے تمہیں۔۔ کوئی سستی بھنگ پی کر آئے ہو۔۔ اتنی گرمی میں مفلر بھی لوں اور تمہاری مفلر میں کیوں کدو کی شکل والے۔۔
ناسمجھی سے اسے دیکھتے وہ بھی دبے دبے غصے میں بولی۔۔
۔
"تمہیں سمجھ نہیں آ رہی۔۔ ابھی اسی وقت ڈوپٹہ سر سے لو۔۔ جو کہا ہے وہ کرو۔۔
اسکے جانب جھکتے وہ سرد لہجے میں بولا تھا۔۔
۔
"فیضی لوگ دیکھ رہے ہیں کیا کر رہے ہو۔۔ میں لے رہی ہوں ڈوپٹہ سر سے۔۔
کانپتے ہاتھوں سے سر پر ڈوپٹہ رکھتے آس پاس لوگوں پر نظر ڈالتے اس نے بھرائے لہجے میں کہا۔۔
۔
"کھاؤ اور چلو گھر۔۔
۔
"نہیں کھانا نہیں کچھ بھی۔۔ گھر چلو ۔۔
پلکوں کو جھپک کر آنسوں پر بند باندھتی وہ کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔ ساتھ اپنے سارے شاپنگ بیگز بھی ہاتھوں میں اٹھائے۔۔
وہ ایک گہری نظر اس پر ڈال کر آگے بڑھا۔۔ بل پے کر کے اسکے ہاتھوں سے زبردستی بیگز لے کر اسکا ہاتھ تھاما۔۔
وہاں سے نکلتے وقت کاؤنٹر پر وہ لڑکا اپنی ناک پر پٹی کئے کھڑا تھا جسے حریم تو نہیں دیکھ پائی البتہ فیضی اب بھی اسے گھورتا ہوا آگے بڑھا تھا۔۔
۔
"آئندہ شال یا بڑی چادر لئے بغیر گھر سے نہیں نکلو گی تم۔۔ یہ بھی کوور کرو خود پر۔۔
گاڑی سٹارٹ کرتے مفلر اسکی جانب بڑھایا۔۔
"کیا کہ رہا ہوں سمجھ آ رہی ہے۔۔
سختی سے کہتے مفلر کھول کر سٹال نما بناتے خود ہی اسکے شانوں پر پھیلایا۔۔
۔
"مجھے نہیں کرنی ہے تم سے شادی۔۔ میں نکاح کر وقت انکار کر دونگی۔۔ خواہ مخواہ کا رعب جھاڑتا ہے یہ مجھ پر منحوس آدمی۔۔
ٹپ ٹپ کرتے آنسوں تیزی سے گرتے اسکا چہرہ پل میں بھگو گئے تھے۔۔
اسکا یہ لہجہ ہضم ہی کب ہو رہا تھا۔۔
۔
"کر دینا انکار۔۔
۔
"میری شادی کی شاپنگ خراب کر دی منحوس آدمی۔۔ بنا لنچ کے بھی کوئی شاپنگ ہوتی ہے۔۔ نہیں ہوتی نا۔۔ میں تمہیں ساری زندگی معاف نہیں کرونگی۔۔
۔
"نہیں کرنا معاف۔۔ ساری زندگی ساتھ تو رہو گی نا۔
مسکراہٹ دبا کر کہتے اس نے ٹشو اسکی جانب بڑھایا۔۔ جسے جھپٹنے کے سے انداز میں لیتی وہ زور شور سے رو رہی تھی ۔۔
۔
________
۔
"یہ لو انکو بھی دیکھو۔۔ یہ جعلی مولانیوں کو بھی دیکھنا تھا ہم نے۔۔ آدھا سال تو پورے کپڑے نہیں تھے۔۔ اور اب یہ شٹل کوک بن کر آتی ہیں۔۔
اگزیمینیشن روم سے نکل کر پارکنگ کی جانب جاتی ریبا کو دیکھ کر علیشا نے کہا تھا۔۔ آس پاس کھڑے سٹوڈنٹس قہقہا لگا کر ہنس پڑے۔۔
اسکا سکارف میں چھپا بھرا بھرا وجود وہاں بہت سے لوگوں کو متوجہ کر رہا تھا۔۔
۔
"نہیں حیدر خفا ہوتے ہیں۔۔
اسے خونخوار نظروں سے دیکھتی ریبا نے ہاتھ میں تھامے بوتل سے اسکے سر پر بھر پور حملہ کرنا چاہا لیکن حیدر کی ناراضگی کا خیال آتے ہی وہ خاموشی سے پارکنگ کی جانب بڑھنے لگی۔۔
۔
"آتا ہوں۔۔ کھاتا ہوں۔۔ ابھی تک بچپنا ختم نہیں ہوا اور امّاں بننے چلی ہیں۔۔
ایک بار پھر اسکے آتے وہ حقارت سے بولی تھی۔۔
۔
"ارے دکھلاوا ہے سارا معصومیت کا۔۔
اسکے ساتھ کھڑی لڑکی کی جانب سے آواز آئی تھی۔۔
ریبا کی گرفت بوٹل پر مزید مظبوط ہوئی تھی۔۔ پھولے گال آنسوں سے تر ہو رہے تھے۔۔
۔
"نن نہیں دکھاوا نہیں۔۔ میں سچ میں اچھا۔۔ اچھا ہو گیا ہوں۔۔
اپنے کپڑوں کی جانب دیکھتی وہ تڑپ کر بولی تھی۔۔ وہاں موجود اس پر ہنستے ہوئے لوگوں کو دیکھتی وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کے وہ اسکی ذات پر ہنس رہے ہیں یا اسکی ظاہری حالت پر۔۔
۔
"میری بیوی کو دکھاوا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے مس علیشہ۔۔ میری ریبا کیا ہیں یہ انکا شوہر اچھے سے جانتا ہے۔۔ اسکے لئے آپ جیسے لوگوں کی گواہی کی ضرورت نہیں ہے۔۔ آپ کیا ہیں یہ میں نہیں بتا رہا کیوں کے اپنا باطن آپ مجھ سے زیادہ اچھی طرح جانتی ہونگی۔۔ آئندہ میری بیوی کے بارے میں بات کرنے سے پہلے اپنے پوشیدہ معاملات پر بھی ایک نظر ضرور ڈال لیجیے گا۔۔
۔
ریبا کو بازو کے حلقے میں لیتے وہ سرد لہجے میں کہ رہا تھا ۔۔ وہ دور ہی سے ریبا کو آتے دیکھ چکا تھا۔۔ لیکن پھر ان سب کو اسکے آگے پیچھے ہوتے دیکھ اسے کچھ گڑبڑ ہونے کا احساس ہوا۔۔
2 321
نہیں وہ اگلے سال تو نہیں پڑھے گی۔۔
۔
جلدی جلدی تیار ہو کر وہ ٹیبل پر آئی تو ناشتہ تیار تھا۔۔ اپنے قریب کر کے اسکے بالوں کی پونی ٹیل بناتے حیدر اس سے مختلف سوالات بھی کر رہا تھا۔۔ جنکا جواب وہ مزے سے سینڈوچز کھاتی کچھ صحیح اور کچھ غلط دی رہی تھی۔۔
۔
"چلیں آجائیں۔۔
اسکا سکارف سیٹ کر کے ضرورت کی چیزیں اسکے ہاتھ میں دیتے اس نے گاڑی کی چابی اٹھائی۔۔
۔
"اگر میں فیل ہو گیا تو میں پھر کبھی نہیں پڑھونگا نا حیدر۔۔
وہ کھڑکی سے باہر دیکھتی مزے سے بولی تھی۔۔
۔
"پڑھنا آپ نے ہے حیدر کی جان۔۔ فیل ہو گئیں تو اسی سیمسٹر میں۔۔ فیل نہیں ہوئیں تو نیکسٹ سیمسٹر میں۔۔
اس نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا تھا۔۔ اسکے نا پڑھنے کے شوق سے وہ واقعی پریشان تھا ۔۔ وہ چیزیں جلدی پک کر لیتی تھی پڑھتی بھی اچھا تھی۔۔ لیکن پڑھنا نہیں چاہتی تھی۔۔
۔
"بیوی واپسی پر آپ کو میں ہی پک کرونگا ۔۔ اکیلے نہیں نکلنا ہے میرے دل۔۔
کالج کی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کر کے اس نے اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔
جو پھولے گالوں کے ساتھ اثبات میں گردن ہلا رہی تھی۔۔
زیر لب کچھ پڑھتے اس پر حصار کر کے اسکی پیشانی پر لب رکھے۔۔
۔
"حیدر۔۔ میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں "۔۔
آنکھوں کو پھیلا کر کہتی اسکے ہاتھوں کو آنکھوں سے لگا کر لب رکھتی وہ حیدر کا ضبط آزما رہی تھی۔۔
اس نے ہمیشہ کی طرح اسکی بات پر سر کو خم دیا۔۔
۔
"اب جائیں۔۔ اور فیل ہونے والا کوئی کام نہیں کرنا ہے۔۔ حیدر کی جان کی تیاری سب سے اچھی ہے۔۔
اسکی چھوٹی ناک پر چٹکی بھرتے اس نے پیار سے اسے دیکھا وہ اسکے اس طرح کرنے پر کھلکھلا رہی تھی۔۔
کچھ دور کھڑی دو جلتی آنکھوں نے بھی یہ منظر حسد سے دیکھا تھا۔۔
۔
________
۔
"دیکھو بےبی ایلیفینٹ اب مزید تم ایک بھی شاپ پر گئی نا تو میں تمہاری یہ ساری چیزیں یہیں چھوڑ کر بھاگ جاؤنگا۔۔
اسے گھوم پھر کر دوبارہ اسی شاپ پر جاتے دیکھ فیضی نے تپ کر کہا تھا۔۔
دو دن بعد انکا نکاح تھا اور ریان کے کہنے پر آج وہ اسے نکاح کی شاپنگ کروانے لایا تھا۔۔ وہ شاپنگ کے معاملے میں بھی خاصی بھوکی واقع ہوئی تھی۔۔
۔
"اور اگر تم نے اپنی یہ کدو جیسی زبان سے سڑے کریلے جیسی باتیں کرنا بند نہیں کیں تو میں نکاح سے انکار کر دونگی۔۔ پھر یہ جو تمہاری چھ سات بیویوں کے ارمان ہیں نا۔۔ ایک سے بھی جاؤ گے۔۔
وہ مزے سے کہتی اس بوتیک میں ایک بار پھر گھس چکی تھی۔۔
۔
"نہیں نہیں یار فیضی
دل کے ارمان اس موٹی بھینس کے ساتھ پانی میں نہیں بہانا ہے۔۔
ہمیں تو بہت آگے تک جانا ہے۔۔
ابھی تو چار دلہن اور لانا ہے۔۔
وہ اپنی بےسڑی آواز میں گنگناتا اسکے پیچھے گیا۔۔
۔
"حریم ملکہ عالیہ۔۔ کچھ پسند آیا یا ناچیز یونہی آپ کے ٹرک جتنے سامان لے کر گھومتے رہے گا۔۔
حریم کو ایک کے بعد ایک ڈریس ریجیکٹ کرتے دیکھ فیضی نے دانت پیس کر مسکراتے ہوئے کہا۔۔
۔
"کدو کی شکل والے۔۔ چپ سے کھڑے رہو۔۔ تمہیں کیا پتہ شاپنگ کا۔۔ اور ویسے بھی مجھے ابھی یہ سب ٹرائے بھی کر کے دیکھنا ہے۔۔
۔
"کیااااا۔۔ یہ یہ سارے۔۔
فیضی نے پھٹی آنکھوں سے اسکے آگے رکھے کپڑوں کے ڈھیر کو دیکھا۔۔
۔
"حریم میری آخری شادی تھوڑی ہے۔۔ مجھے آگے مزید شادیاں بھی کرنی ہے باقی کی شاپنگ اس میں کر لینا یار۔۔
مظلومیت سے کہتے آخر میں وہ چہکا۔۔
۔
"فیضی۔۔ اگر تم نہیں چاہتے کے میں اس دوکان میں سب کے سامنے تمہارہ جنازہ نکالوں تو چپ سے کھڑے رہو۔۔
وہ دبا دبا سا چیخی تھی۔۔
اور پھر اپنے کہے کے مطابق اس نے واقعی تمام جوڑے ٹرائ کئے تھے۔۔
پورے ایک گھنٹے کے بعد وہ اس بوتیک سے نکلی تو فیضی کے ہاتھوں میں چار بیگز کا مزید اضافہ ہو چکا تھا۔۔
۔
"سنو یہ جو تمہارے ڈھائی من کی نازک کلائیاں ہے یہ صرف نوچنے اور کھانے کے لئے بنی ہیں کیا ؟۔۔ کچھ کام بھی لے لیا کرو ان سے۔۔
کچھ بیگز اسکے ہاتھ میں تھماتے وہ تپ کر بولا تھا۔۔ کاؤنٹر پر کھڑا لڑکا دانت نکالے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
"کیا ہے۔۔
کاٹ کھانے والے انداز میں کہتے اس نے اسے گھورا۔۔ وہ ہنوز دانت نکالے حریم کو تک رہا تھا۔۔ اسکے چہرے کے تاثرات پل بھر میں سنجیدہ ہوئے۔۔ نا محسوس انداز میں حریم کے گرد ایک بازو حائل کرتے اس نے اسے اپنی دوسری جانب کیا۔۔ جب کے وہ اپنی دھن میں بڑبڑاتی محسوس ہی نہیں کر پائی۔۔
۔
"مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔ مجھے ابھی کچھ کھانا ہے۔۔
منہ بنا کر کہتی وہ اسکے ہی جانب دیکھ رہی تھی۔۔
۔
"تم جا کر بیٹھو۔۔ میں بس دو منٹ میں آتا ہوں۔۔
اسکے سنجیدہ تاثرات پر وہ حیران ہوتی اسے دیکھنے لگی پھر اسکے ہاتھوں سے بیگز لے کر کندھے اچکاتی فوڈ کورٹ کی جانب بڑھ گئی۔۔
۔
کچھ دیر کے بعد ہی وہ بھی فوڈ کورٹ میں آ گیا تھا۔۔ وہ آرڈر رسیو کر کے کھانا بھی شروع کر چکی تھی۔۔ فیضی نے مسکرا کر اسے دیکھا جو ارد گرد سے بےپرواہ مزے سے کھا رہی تھی۔۔
2 321
فرحان نے ہنستے ہوئے اسے خود میں بھینجا۔۔ وہ خود بھی اسکے سینے میں منہ چھپا گیا۔۔ جیسے ارسا کو دیکھنے بھی نہیں دے گا۔
۔
"ہادی۔۔۔ تھوڑے سے ماما کے بھی بن جاؤ۔۔
خود بھی فرحان کے سینے پر سر رکھتی وہ پیار سے بولی تھی۔۔
۔
"نو ہادی بابا۔۔
وہ فرحان کے سینے سے لگا دوسری جانب منہ کئے بولا تھا۔۔
۔
"ہادی۔۔ بابا کا بیٹا بہت پیارا ہے نا۔۔ تھوڑا سا پیار ماما کو کرنے دیتے ہیں ہمم۔۔
ارسا کے اترے چہرے کی جانب دیکھتے فرحان نے نرمی سے ھاد کا رخ اسکی جانب کر کے ھاد کے ہاتھ اسکے چہرے پر رکھے۔۔ وہ نم آنکھوں سے مسکراتی اسکے ہاتھوں کو لبوں سے لگا گئی۔۔
۔
"نو اوں اوں۔۔ مما ہادی۔۔ ہادی بابا۔۔
اسکی آنکھوں پر ننھے ہاتھ پھیرتے اس نے مما کو بھی ہادی بنایا۔۔ لیکن ہادی ہنوز بابا کا ہی تھا۔۔ وہ تو اتنے میں ہی خوش تھی۔۔
۔
"یو ہادی بابا نو۔۔ ھششش۔۔
اسے اپنے بابا کے پاس سے دور ہٹاتے فرحان کے اوپر اپنے انداز میں پھیل کر لیٹ گیا۔۔ فرحان نے مسکرا کر بازو پھیلائے اسے لیٹنے کا اشارہ کیا۔۔
۔
"بس اب سو جاؤ۔۔
اسکے گال پر لب رکھتے وہ دوسرے ہاتھ سے اسے دھیرے دھیرے تھپک رہا تھا۔۔
ھاد کے سو جانے کے بعد نرمی سے اسے درمیان میں لیٹا کر وہ خود کچھ اونچا ہو کر لیٹ گیا۔۔
۔
"کیا ہوا اتنی ڈسٹرب کیوں ہو۔۔ یہاں آؤ۔۔
اسکے پریشان چہرے پر ایک نظر ڈال کر اسے قریب آنے کا اشارہ کیا۔۔ وہ اسکے سینے سے لگتی دونوں ہاتھ اسکے گرد باندھ گئی۔۔ فرحان کے لبوں پر بےاختیار مسکراہٹ ابھری۔۔
۔
"ھاد کی وجہ سے پریشان ہو ؟۔۔
اسکی بالوں میں انگلیاں پھیرتے اسنے دریافت کیا۔۔
۔
"میں اسکے رویے پر فکر مند ہوں فرحان۔۔ یہ باقی بچوں جیسا نہیں ہے۔۔ بہت الگ ہے۔۔ یہ تمام دن بلکل خاموش رہتا ہے۔۔ نا عام بچوں کی طرح کھیلتا ہے۔۔ نا شور کرتا ہے۔۔ فاتح ابھی صرف پانچ مہینے کا ہے وہ کھیلتا ہے۔۔ وہ آوازیں نکالتا ہے۔۔ ھاد ایسا نہیں کرتا فرحان۔۔ میں اسکے قریب آتی ہوں اسکے کام کرتی ہوں تو یہ مجھے ویسا رسپونس نہیں کرتا جیسے بچے ماؤں کو کرتے ہیں۔۔ مم مجھے پیار نہیں کرنے دیتا۔۔ کسی کو بھی پیار نہیں کرنے دیتا۔۔ وہ لاؤنچ۔۔ لاؤنچ کے صوفے پر بیٹھ کر دروازے کو دیکھتا ہے فرحان۔۔ یہ بس آپ کا انتظار کرتا ہے۔۔ آپ آتے ہیں تو اسکے چہرے پر جو خوشی ہوتی ہے وہ میں بیاں نہیں کر سکتی۔۔ آپ کے آنے کے بعد یہ بلکل چینج ہو جاتا ہے۔۔ جو چیزیں پورے دن نہیں کرتا وہ بس آپ کے ساتھ آپ کے سامنے کرتا ہے۔۔ آپ کے ہاتھ سے کھاتا ہے۔۔ کھیلتا ہے آپ کے ساتھ۔۔ باتیں کرتا ہے۔۔ آپ کی باتیں سنتا ہے آپ کو پیار کرتا ہے۔۔ اور اور سب کے حصّے کا پیار آپ سے ہی لیتا ہے۔۔ یہ مجھ سے کیوں نہیں کرتا فرحان۔۔ مجھ سے باتیں کیوں نہیں کرتا۔۔
آہستہ آواز میں کہتے آخر میں وہ بری طرح رو دی تھی۔۔
فرحان نے سنجیدگی سے اسکی جانب دیکھا۔۔ پھر خود سے لگے ھاد کو جو اسکے پیر سے لپٹا سو رہا تھا۔۔
۔
"ارسا۔۔ تم بہت زیادہ سوچ رہی ہو۔۔ وہ ٹھیک ہے۔۔ وہ تم سے بھی بہت زیادہ پیار کرتا ہے۔۔ وہ کچھ مختلف ضرور ہوگا لیکن ہمارا بیٹا ہے۔۔
اسکے بالوں پر لب رکھتے فرحان نے سادہ سے لہجے میں اسے سمجھایا۔۔
۔
"یہ بہت شدّت پسند ہوتا جا رہا ہے فرحان۔۔ دو سال کا بھی نہیں ہوا ابھی۔۔ یہ ابھی سے آپ کے قریب کسی کو برداشت نہیں کرتا۔۔ میں سوچ رہی ہوں جب ہمارے دوسرے بچوں کو کیسے آپ کے قریب برداشت کریگا۔۔
اپنے دھن میں سوں سوں کر کے کے بول رہی تھی۔۔ اسے اپنی جانب پرشوخ نگاہوں سے تکتے دیکھ کر سٹپٹا گئی۔۔
"ابھی ھاد بہت چھوٹا ہے۔۔ اور جب ہمارے دوسرے بچے آئینگے تب یک یہ تھوڑا سا بڑا ہو جائے گا ۔۔
مسکراہٹ دبا کر اسکے سرخ ہوتے چہرے کو تکتے اس نے دھیرے سے کہا تھا۔۔
۔
"اور دوسرے بچوں کو سنبھالنے کے لئے تم ہو نا۔۔ بھئی ہم باپ بیٹے کے درمیان تو کوئی نہیں آئیگا۔۔
۔
"فرحان میں نے یونہی ایک بات کی ہے۔۔
اسکے سینے میں منہ چھپاتی وہ منمنائی تھی۔۔ اسکا جاندار قہقہا گونجا۔۔
اسے قریب کر کے ھاد کو بھی اپنے سینے پر لیٹاتا وہ سرشار سا اسکی سرخ ہوتی رنگت دیکھ کر ہنس رہا تھا۔۔
۔
___________
سورج کی کرنیں اسکی زندگی کے چہرے سے منعکس ہو کر اسکی کائنات کو روشن کر رہی تھیں۔۔ اس نے دھیرے سے اسکے پھولے گال کو چھوا۔۔ آج اسکا پہلا پیپر تھا۔۔
۔
"بیوی اٹھیں جلدی سے ورنہ لیٹ ہو جائینگے۔۔
اسے نرمی سے اٹھا کے بیٹھاتے حیدر نے اسکے گال تھپتھپائے۔۔
۔
"میں اٹھ گیا ہوں۔۔
اسکے کندھے پر سر رکھ کر دوبارہ سوتی وہ نیند میں ڈوبی آواز میں بولی تھی۔۔
۔
"بیوی فیل ہو جائینگی آپ پھر اگلے سال بھی پڑھنا پڑے گا۔۔
حیدر نے آخری حربہ آزمایا۔۔ وہ جلدی سے آنکھیں کھولتی اٹھ بیٹھی۔۔
2 321
اسے نرمی سے تھام کر اس نے دوسری جانب آملیٹ پلٹا۔۔
۔
"میں نے بنایا ہے۔۔
اسکے ہاتھوں سے پلیٹ لیتی وہ جتا کر بولی تھی۔۔ حیدر نے مسکرا کر سر کو خم دیا۔۔ ٹوسٹ ہوئے بریڈ اسکے آگے رکھ کر چاۓ کا کپ بھی رکھا۔۔
"یہ صبح والا ناشتہ ہوتا ہے۔۔ رات میں کچھ اور اچھا اچھا بناتے ہیں۔۔ آپ کو کچھ نہیں آتا ہے۔۔
بریڈ میں انڈا ڈال کر بھر پور انداز میں انصاف کرتی اسکے شکوے ابھی بھی جاری تھے۔۔
۔
"اوہ میری جان۔۔ حیدر کو یہی آتا ہے نا ہم تو گزارا کرتے ہیں نا میرے دل پیٹ بھرنے کے لئے جو آتا ہے بنا لیتے ہیں۔۔
اس نے مسکرا کر کہتے اسکے ہاتھ سے ایک بائیٹ لینا چاہا۔۔ ریبا نے فورا ہاتھ پیچھے کئے تھے۔۔
"صرف میں بھوکا ہوں۔۔
اپنے ہاتھ اس سے دور کر کے کھاتے وہ مزے سے بولی۔۔ حیدر صدمہ سے اسکی جانب دیکھنے لگا۔۔
۔
"بیوی۔۔ میری جان آپ مجھے نہیں کھانے دینگی۔۔
اس نے صدمہ سے اسے دیکھتے پوچھا۔۔ جواباً اس نے زور شور سے نفی میں گردن ہلاتے صاف ہری جھنڈی دکھائی۔۔
۔
"ریبا میں آپ کے لئے روز ناشتہ بناتا ہوں۔۔
اس نے جیسے اسے یاد دلایا۔۔
۔
"میں آپ کو دعائیں دیتا ہوں۔۔
اگلی جانب سے گال پھولا کر جتایا گیا۔۔
۔
"دعائیں۔۔۔
وہ صدمے سے خوش رنگ آملیٹ کو دیکھتے زیر لب بڑبڑایا۔۔ اسکی بیوی نے پہلی بار اس طرح کچھ بنایا تھا اور اسکے بدلے وہ اسے دعاؤں پر ٹرخا رہی تھی۔۔
۔
"اچھا آجائیں۔۔
اس نے دوسرے بریڈ میں آملیٹ ڈال کر دونوں ہاتھوں سے اسکے جانب بڑھائے۔۔
۔
حیدر نے مصنوعی خفگی سے اسے دیکھتے چاۓ کا کپ ہاتھ میں اٹھایا۔۔
۔
"پلیز لے لیں۔۔
کچھ مشکل سے چیئر سے اٹھ کر وہ اسکے نزدیک آتی آنکھیں پٹپٹا کر بولی تھی۔۔
اسے بےاختیار اس پر پیار آیا۔۔
لوز سے ٹراؤزر اور کرتی میں بھرے بھرے جسامت سمیت پھولے گلابی گالوں کے ساتھ اسے تکتی وہ اپنے ہاتھوں کی جانب اشارہ کر رہی تھی۔۔
کچھ دیر اسے دیکھتے رہنے کے بعد حیدر نے اسے کھلانے کا اشارہ کیا۔۔ وہ کھلکھلا کر اسکے قریب ہوتی اسکے منہ میں ڈالنے لگی۔۔
۔
"ناٹ بیڈ۔۔
وہ واقعی متاثر ہوا تھا۔۔
۔
"سے گڈ۔۔
اس نے آنکھیں پھیلا کر گڈ پر پورا زور لگا کر غصے سے کہا۔۔
۔
"اوہ میرے دل آپ کی بنائی چیز کو کون کافر برا کہ سکتا ہے۔۔
اپنے گال اسکے پھولے گالوں سے میس کرتے وہ گھمبیر لہجے میں بولا تھا۔۔
۔
"یہ چبھتے ہیں۔۔
اسکی شیو کی چبھن محسوس کرتی وہ منہ بنا کر بولی۔۔اسکا جاندار قہقہا گونجا تھا۔۔ اگلے ہی لمحے وہ مزید اسکے گالوں سے اپنے مس کر رہا تھا وہ ہاتھ پیر مارتی کھلکھلا کر اسے دور کرنے کی کوشش کرتی اسکے سینے پر اپنے نرم ہاتھوں سے مکے برسا رہی تھی۔۔ خوشیاں باہیں پھیلائے انھیں اپنی آغوش میں لئے کھڑی تھیں۔۔۔ زندگی مسکرا رہی تھی۔۔ دور کھڑی تقدیر قہقہے لگا رہی تھی۔۔
۔
________
"بابا۔۔ ہادی لی زا نو گڈ۔۔ زا ہادی یا پا ہادی نو لی۔۔
شان سے باپ کے سینے پر بیٹھا وہ سارے دن کی باتیں اسے ہی بتا رہا تھا۔۔ ہاتھوں پر لوشن لگاتی ارسا لبوں پر مسکراہٹ لئے حسرت بھری نگاہوں سے اسے تک رہی تھی۔۔ وہ تمام دن خاموش رہنے والا بچہ اپنے بابا کے سامنے یوں چہکتا ہوا بہت مختلف لگتا تھا۔۔
۔
"فیضی تنگ کرتا ہے میرے بیٹے کو۔۔
اسکے ننھے ہاتھوں پر پیار کرتے فرحان نے کچھ سمجھتے ہوئے سے ہلایا۔۔ وہ اب بھی حیران سی انھیں دیکھ رہی تھی۔۔ وہ کبھی بھی ھاد کی باتیں پوری طرح نہیں سمجھ پاتی تھی۔۔ اور فرحان یوں سمجھ لیتا تھا جیسے کوئی مشکل ہی نا ہو۔۔
۔
"لی بابا زا ہادی پا لی۔۔ ہادی نو۔۔ زا نو گڈ۔۔ ہادی بابا۔۔ ہادی زا نو۔۔
وہ اپنے سرخ و سفید گال فرحان کے چہرے کے قریب کرتا اسے بتا رہا تھا کے فیضی اسے یہاں پیار کرتا ہے اسے نہیں پسند ۔۔ ہادی صرف اپنے بابا کا ہے ۔۔
۔
"بابا کی جان کل فیضی کو منع کر دینگے کے بابا کے ہادی کو یہاں پیار نہیں کیا کرے۔۔ یہ تو صرف بابا کا ہے۔۔
اسکے انداز پر ہنستے ہوئے اس نے اسکے گالوں کو چوما۔۔ ھاد نے جلدی سے اپنا دوسرا گال آگے کیا۔۔
ارسا ہنستی ہوئی اپنی جگہ پر آ بیٹھی وہ جانتی تھی آگے کیا ہونے والا ہے۔۔
وہ ایک ایک کر کے فرحان کے آگے اپنے ہاتھ پیر رکھ رہا تھا۔۔ اور فرحان مسکراتے ہوئے اسے پیار کر رہا تھا۔۔
"بابا ہادی ییی۔۔
ہاتھ پیر گال ساری جگہ پیار لینے کے بعد اس نے اپنا سر بھی آگے کیا۔۔ فرحان نے ہنستے ہوئے اسکے بال پر لب رکھے۔۔
۔
"سارے دن یہ کسی کو پیار نہیں کرنے دیتا ہے یہاں تک کے مجھے بھی نہیں۔۔ اور بابا کے آنے کے بعد اسے ہر جگہ پیار چاہئیے ہوتا ہے۔۔ مجال ہے جو ایک حصّہ بھی یہ کبھی مس ہونے دے۔۔
اسکے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو لبوں سے لگاتی ارسا کچھ خفگی سے بولی تھی۔۔
۔
"بھئی ہادی بابا کا ہے نا۔۔
2 321
"" جانم ""
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ۴٩
(سیکنڈ لاسٹ ایپیسوڈ) پارٹ ١
۔
پرکیف سے گزرتے دن انتظار کی شدّت لئے مزید خوبصورت ہوتے جا رہے تھے۔۔ ساتھی من پسند ہو تو سفر حسین ہی لگتا ہے۔۔ اسکی زندگی کا سفر بھی حسین تھا۔۔ نوازے گئے لوگ اور کیسے ہوتے ہیں ؟ اندر کہیں سے آواز آئی تھی۔۔
۔
اس نے محبت بھری نظر اپنے پہلو میں بیٹھی اس حسین گڑیا پر ڈالی۔۔
ہاں ایسے ہی تو ہوتے ہیں نوازے گئے لوگ۔۔ جنہوں نے جسکی خواہش کی اللہ نے انکے لئے حلال بنا دیا۔۔ دل سے ایک مطمئن سی آواز آئ تھی۔۔
اس نے جھک کر احتیاط سے اسکے ماتھے پر لب رکھے۔۔
"نن نہیں۔۔ آپ مجھے ڈسٹرب کر رہے ہیں۔۔ میں اتنا پڑھتا ہوں۔۔ اتنا سارا پڑھتا ہوں ۔۔ آپ کی وجہ سے فیل ہو جاؤنگا۔۔
کتاب سے سر اٹھاتے اس نے غصّے سے سرخ ہوتے چہرے سے اسے گھور کر دیکھا۔۔
وہ پورے بیڈ پر کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔۔ کل اسکا پہلا پیپر تھا۔۔ جسکی تیاری وہ پورے انہماک سے کر رہی تھی۔۔ حیدر اور ریان کے بھر پور مخالفت کے باوجود بھی وہ امتحانات دے رہی تھی۔۔ اور فرحان اس میں اسکا پورا ساتھ دے رہا تھا۔۔
۔
"بیوی۔۔ یہ اکویشنز ہیں میری جان انہیں یاد نہیں کرتے میرے دل۔۔ آپ کو سارے سولو کروائے ہوئے ہیں ۔۔
حیدر نے ناجانے کتنی ہی بار سمجھائی ہوئی بات اسے ایک بار پھر بتائی۔۔
۔
"میں انٹیلیجینٹ ہوں۔۔ میں سب یاد کرتا ہوں۔۔
سر ہلا کر فخر سے کہتی وہ ایک بار پھر رٹا لگانے میں مصروف ہو چکی تھی۔۔
حیدر نفی میں گردن ہلا کر اسکے نزدیک آیا۔۔
۔
"ریبا اسے یاد نہیں کر سکتے میری جان۔۔
اسے خود سے کچھ نزدیک کرتے اس نے ایک بار پھر نرمی سے سمجھانا چاہا۔۔
"شششش۔۔
اسے خاموش کرواتی وہ زور شور سے سر ہلاتے اپنے کام میں مصروف تھی۔۔
وہ تو حیرانی سے سر پکڑے اسے یوں رٹے لگاتے دیکھ رہا تھا۔۔
۔
"ریبا خاموش۔۔
اسے نرمی سے تھام کر اس نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔۔ وہ بولتے بولتے اچانک چپ ہوتی آنکھوں کو مزید پھیلائے اسکی جانب دیکھنے لگی۔۔
۔
"یہاں بیٹھیں۔۔ یہ سارے پرابلمز سولو کرنے ہے آپ نے ۔۔
ایک پیج میں چھ سات پرابلمز لکھ کر اس نے سنجیدگی سے اسکے جانب بڑھائے۔۔
۔
"ابھی میں یاد کر رہا ہوں۔۔
وہ منمنائی تھی۔۔
۔
"کوئی یاد نہیں کر رہیں کچھ یاد نہیں کرنا ہے۔۔ اسے سولو کرنا ہے۔۔
اسکا رجسٹر اسکی گود میں رکھتے اس نے سولؤ کرنے کا اشارہ کیا۔۔
اس نے منہ بسور کر اسکے ہاتھ سے وہ پیج لیا۔۔ خاموشی سے سولو کرنے لگی۔۔ حیدر نے مسکراہٹ دبا کر اسکی جانب دیکھا وہ گال مزید پھلائے سولو کر رہی تھی۔۔ کچھ دیر کے بعد اس نے دونوں ہاتھوں سے رجسٹر اسکی جانب بڑھائے۔۔
جسے حیدر نے یونہی سنجیدہ تاثرات چہرے پر لئے تھام لیا۔۔
اس نے تمام پرابلمز صحیح سولو کی تھیں۔۔ پھر وہ رٹا کیوں لگا رہی تھی ۔۔
"بیوی آپ کو آتے تو ہیں یہ میری جان "۔۔
اس نے حیرانی سے اسے دیکھا۔۔
۔
"مجھے سارے یاد ہیں۔۔
فخر سے آنکھیں پھیلائے اس نے سارے پر خاصا زور دیتے بک اسکے آگے لہرائی۔۔ وہ سر پکڑ کر رہ گیا۔۔ اس نے ساری سولیوشنز رٹی ہوئی تھی۔۔ لیکن وہ سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔۔
۔
"بس اب سو جائیں بہت ہو گیا۔۔ ویسے بھی آپ کو سب یاد ہے۔۔
بیڈ سے اسکی بکھری کتابیں سمیٹ کر اس نے لیٹنے کا اشارہ کیا۔۔ وہ ہنوز بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی۔۔
۔
"بھوکا ہوں۔۔
حیدر بےاختیار ہنس پڑا۔۔
۔
"حیدر کو تو صرف سینڈوچز بنانے آتے ہیں۔۔ مما کی طرح اچھے اچھے کھانے تو نہیں بنا سکتا۔۔
اس نے شرارت سے اسے دیکھتے کہا۔۔
۔
"کچھ نہیں آتا۔۔ کچھ بھی نہیں آتا آپ کو۔۔ میں خود انڈا بنا لونگا۔۔ میں اور کوکو کھا لینگے۔۔
غصّے میں اسکی جانب دیکھتی وہ جوش میں بیڈ سے اٹھی تھی۔۔ حیدر نے مسکراہٹ دبا کر اسکا ہاتھ تھام کر نیچے اتارا۔۔
۔
"کوکو آجاؤ۔۔ ہم خود بنا لینگے ۔۔
تن فن کرتی کچن کی جانب بڑھتی وہ ساتھ میں کوکو کو بھی آوازیں دے رہی تھی۔۔ وہ خود بھی اسکے پیچھے آیا۔۔
۔
"کچھ بھی نہیں آتا ہے۔۔ میں کتنا ٹیلنٹڈ ہوں۔۔ اتنا ٹیلنٹڈ بیوی بنا ہوں۔۔
بڑبڑاتی ہوئی فریج سے تین انڈے نکال کر کاؤنٹر پر رکھے۔۔ ایک انڈا سلپ ہو کر فرش پر گرا تھا۔۔ حیدر نے ہنستے ہوئے مزید دو انڈوں کو گرنے سے بچایا۔۔
۔
وہ بہت مہارت سے آملیٹ بنا رہی تھی۔۔ حیدر نے حیرانی سے اسکی جانب دیکھا ورنہ پہلے وہ اپنے ساتھ اپنے کپڑوں کو بھی انڈا کھلاتی تھی۔۔ مما نے آملیٹ بنانا سیکھا دیا تھا۔۔
بریڈ ٹوسٹ کرتے وہ محبت سے اسے دیکھ رہا تھا جو منہ ہی منہ بڑبڑاتی اب فرائے کر رہی تھی۔۔ اپنے ایک ہاتھ سے چہرہ چھپائے پلکوں کی جھڑی سے فرائینگ پین کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔ وہ جانتا تھا وہ فرائے نہیں کر سکتی۔۔
پہلے تو وہ انڈا بوئل کرتی تھی۔۔
۔
"بس بن گیا ہٹیں میں فرائے کر دوں۔۔
2 321
"تم کدو کی شکل والے۔۔ ہمیشہ نقصان ہی کرنا میرا۔۔
وہ صدمے سے زمین پر گری چوکلیٹ دیکھتی چیخ اٹھی تھی۔۔
۔
"آرام سے لڑکی۔۔ دو ہفتے بعد کا شوہر ہوں تمہارا۔۔
وہ فخر سے کہتا اسکے نزدیک آیا تھا۔۔
۔
""میرے کپڑوں کے لئے شامیانے سلوانے ہونگے تمہیں۔۔ اور کھانے کے لئے۔۔
وہ اسکی ساری باتیں دوہراتی ہوئی کڑے تیوروں سے اسے گھورتی آگے بڑھی تھی۔۔
۔
"مذاق مذاق تھا۔۔ بےبی ایلیفینٹ۔۔ پورا پورا مذاق تھا۔۔
اس نے جلدی سے صفائی دی۔۔
۔
"دو ہفتے بعد کے شوہر زندگی چاہتے ہو نا تو شکل گم کرو اپنی یہاں سے کدو منحوس کہیں کا۔۔
۔
"ہائے میں تو انتظار میں ہوں کے کب تم محبت پیار سے صبح صبح میرے سرہانے بیٹھ کر کہو گی۔۔ سرتاج۔۔ اٹھیں آپ کی زوجہ ناشتہ لے کر حاضر ہوئی ہے۔۔
اس نے ڈرامائی انداز میں کہتے اسکی جانب دیکھا۔۔ جو آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھ بلکے گھور رہی تھی۔۔
۔
"اپنے موٹے حسین بلکے نہیں صرف جمیل ہاتھوں سے میرے بال سنوارو گی۔۔ ہائے۔ ۔
وہ ڈرامائی انداز میں کہتے دل پر ہاتھ رکھے پیچھے کی جانب ہوتا بولا تھا۔۔
اگلے ہی لمحے اسکے منہ سے حقیقتاً ہائے نکلی تھی۔۔ حریم نے دونوں ہاتھ پورے زور سے اسکے سینے پر مارے تھے نتیجتاً وہ نیچے گرنے کے سے انداز میں بیٹھا تھا۔۔
"بےبی ایلیفینٹ۔۔ تمہیں تو میں۔۔
وہ کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
"بدلہ پورا ہوا۔۔
وہ ہاتھ جھاڑتے مزے سے بولی تھی۔۔
۔
"گفٹ لایا تھا اپنی فیوچر وائف کے لئے۔۔
خوبصورت پیکنگ میں لپٹا باسکیٹ اسکے حوالے کرتا وہ ایک آنکھ دبا کر بولا تھا۔۔
"بےشرم۔۔
وہ سرخ سی ہوتی باسکیٹ تھام گئی۔۔
۔
"ہائے میری بےبی ایلیفینٹ کدو کی شکل والے سے شرما رہی ہے۔۔
وہ اسکے کانوں کے پاس سرگوشی کرتے کمرے سے نکلا۔۔
۔
"منحوس انسان۔۔
پیچھے وہ خجل سی ہوتی باآواز بلند بڑبڑائی۔۔
_____
جاری ہے۔۔
2 321
۔
"حیدر۔۔
وہ آنکھیں پھیلائے پکار رہی تھی۔۔
۔
"جی بیوی۔۔
۔
"یہ بھی پہنا دیں۔۔ سامنے رکھے جیولری باکس سے اس نے مخملی ڈبہ حیدر کے حوالے کیا۔۔ اس میں وہی جھمکے تھے جو اس نے مال میں اسکے لئے پسند کئے تھے۔۔ اسکے لبوں پر جان دار مسکراہٹ ابھری۔۔ اسکی پسند کے لئے ہی صحیح لیکن اسکی بیوی جیولری میں بھی انٹرسٹ لینے لگی تھی۔۔
احتیاط سے اسکے دونوں کانوں میں جھمکے سجائے۔۔
اسکا پرنور روپ اسے الگ سا حسن بخش رہا تھا۔۔ حیدر نے بےاختیار نظریں چرائیں۔۔ وہ اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کے اسے آنکھ بھر کر دیکھتے اسے خوف سا محسوس ہونے لگا کے اسکی زندگی کو کہیں اسکی ہی نظر نا لگ جائے۔۔
۔
سٹالر اسکے چہرے کے گرد لپیٹ کر اس نے اسے بیڈ پر بیٹھایا۔۔
"یہ پی لیں۔۔
جوس کا گلاس اسکے ہاتھوں میں دیتے پینے کا اشارہ کیا۔۔ وہ سر ہلاتی گھونٹ گھونٹ بھرنے لگی۔۔ آدھا گلاس خالی کر کے اسکی جانب بڑھایا۔۔ جسے وہ ہنستے ہوئے تھام گیا۔۔
۔
___________
۔
"اتنی تیاری جاناں۔۔
اپنے بلکل سامنے نک سک سے تیار کھڑی حفصہ کو دیکھ کر وہ مسکرا کر بولا تھا۔۔ اس نے محبت سے اسے دیکھا۔۔
۔
"اپنے دیور کے لئے لڑکی دیکھنے جا رہی ہوں۔۔ بڑی بھابی ہوں میں۔۔
بالوں کو پیچھے کی جانب کرتے وہ مان سے بولی۔۔ ریان مسکرا اٹھا۔۔
۔
"اپنی بہن کے لئے بھی جا رہی ہیں۔۔
اس نے جیسے اسے یاد دلایا تھا۔۔
۔
"آپ کی نسبت سے جو رشتے مجھ سے جڑے ہیں۔۔ مجھے اچھا لگتا ہے میں ان سے پکاری جاؤں۔۔ آپ کی نسبت سے جانی جاؤں۔۔
وہ موہنی سی مسکان لبوں پر سجائے مگن سی بول رہی تھی۔۔
ریان نے مسکراتے ہوئے اسکے بالوں کو اپنے ہاتھ میں لیا۔۔ دھیرے دھیرے انھیں بل دیتے بریڈ ٹیل بنا کر ہاتھ اسکے آگے کئے۔۔ حفصہ نے ہنستے ہوئے کلپ اسکے ہاتھ میں تھما دیا۔۔
۔
"آپ نے پکارا جانا ہی میری نسبت سے میری جان۔۔ میرا نام آپ کے نام کے ساتھ بچپن سے جڑا ہے۔۔ اور یہ ہمیشہ جڑا رہے گا۔۔
اسکے ماتھے پر بوسہ دیتے وہ عقیدت سے بولا تھا۔۔
۔
"اچھا شریک حیات اللہ کی جانب سے انسان کے لئے بہترین تحفہ ہوتا ہے کیوں کے یہ وہ واحد رشتہ ہوتا ہے جن سے ہماری روح جڑی ہوتی ہے۔۔ وہ روح کی تسکین کا ذریعہ ہوتا ہے۔۔ اور آپ وہ ہیں میرے لئے۔۔ اللہ کا دیا بہترین تحفہ۔۔ روح کی تسکین کا ذریعہ۔۔
اسکے ڈوپٹہ نرمی سے اسکے سر پر سجاتے وہ نرم مسکراہٹ لئے بول رہا تھا۔۔ وہ سرشار سی اسے سن رہی تھی۔۔
۔
"بھیا۔۔ آپ کے نکلتے نکلتے میری بارات کا وقت ہوجائے گا اب تو آجائیں۔۔
باہر سے فیضی کی آواز آئی وہ دونوں ہنس پڑے۔۔
"صحیح کہتی ہے حریم ترسا ہوا آدمی ہے یہ "۔۔
ریان نے ہنستے ہوئے حریم کی بات دوہرائی۔۔
۔
__________
۔
وہ سب اس وقت ارتضیٰ مینشن میں موجود تھے۔۔ ریان اور فرحان ارتضیٰ صاحب کے ساتھ باتوں میں مشغول تھے۔۔ ھاد خاموشی سے فرحان کے گود میں بیٹھا اسکے ہاتھوں پر اپنے ننھے ہاتھ رکھے اسکی انگلیوں سے کھیل رہا تھا۔۔
فیضی اور حریم کے نکاح کی ڈیٹ دو ہفتوں بعد کی رکھی گئی تھی۔۔ حریم ڈنر کے وقت ان سب کے پاس آ کر بیٹھی تھی۔۔ اور اس وقت سے چھپتی پھر رہی تھی۔۔
۔
"کیسی ہے میری بیٹی۔۔ ماما کی یاد نہیں آتی میری گڑیا کو۔۔
سمیرہ بیگم کے حفصہ سے لاڈ ختم نہیں ہو رہے تھے۔۔
۔
"ریان بزی ہوتے ہیں مما اور انکے بغیر کہیں جانا مجھے اچھا نہیں لگتا۔۔
وہ دھیرے سے مسکرا کر بولی تھی۔۔ انہوں نے دل ہی دل میں اسکی بلائیں لیں۔۔
۔
"ارسا بیٹا کیسی ہو تم۔۔ ماشاءالله کتنی پیاری لگ رہی ہے میری بیٹی۔۔
حفصہ کو ساتھ لگانے کے بعد انہوں نے ارسا کو بھی ساتھ لگایا۔۔ اسکی آنکھیں ہمیشہ کی طرح نم ہوئیں تھیں۔۔ مائیں اتنی پیاری ہوتی ہیں اس نے کب محسوس کیا تھا۔۔
۔
"ٹھیک ہوں ماما۔۔
اس نے حفصہ کے ہی انداز میں انھیں ماما کہا۔۔ انہوں نے اسکی پیشانی کو چوم کر اثبات میں سر ہلایا۔۔
کچھ ہی دیر میں ریبا بھی حیدر کے ساتھ آ گئی تھی۔۔
"دا جان۔۔
ریان مسکراتے ہوئے اسکے استقبال میں کھڑا ہوا۔۔
"دا جان کا گڈا۔۔ راجہ بیٹا۔۔ یہاں آجائیں میرا پیارا بچہ۔۔
وہ فورا اسکے سینے سے لگی تھی۔۔
۔
"کیسا ہے میرا بچہ۔۔
اسکی پیشانی چوم کر اس نے پیار سے پوچھا۔۔
"ٹھیک ہوں دا جان۔۔
وہ دھیرے سے بولتی اسکے ساتھ بیٹھ گئی تھی۔۔
۔
"ڈیٹ فکس میری۔۔ اور یہاں میری دلہن ہی نظر نہیں آئی پتہ نہیں کہاں چھپی بیٹھی ہے بےبی ایلیفینٹ۔ ۔
وہ بڑبڑآتا ہوا سب پر ایک نظر ڈالتا اس کے کمرے میں آیا۔۔
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی چوکلیٹ کھا رہی تھی۔۔
"استغفرالله۔۔ فیضی بیٹے آدھا بجٹ راشن کا تیار کر لے۔۔
وہ باآواز بلند بڑبڑاتا کمرے میں داخل ہوا۔۔
حریم اچھل کر کھڑی ہوئی۔۔ ہاتھ میں تھامی چوکلیٹ زمین پر گری۔۔
2 321
۔
"یہ کیا کہ دیا میں نے۔۔
اس نے غصے سے آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو گھورا۔۔ کیا ضرورت تھی اسکے سامنے یہ بات کہنے کی۔۔
۔
وہ بےچینی سے کمرے میں ٹھہلتی اسکا انتظار کر رہی تھی۔۔ جب وہ تولیہ سے بال رگڑتا کمرے میں آیا۔۔ وہ سرعت سے آگے بڑھی۔۔ وہ جو تولیہ اسٹینڈ پر رکھنے لگا اسکے ہاتھوں سے لے کر خود اسٹینڈ پر رکھے فرحان صاف نظر انداز کرتا ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھ گیا۔۔ اسکے ہیئر برش اٹھانے سے پہلے ہی وہ خود اٹھا چکی تھی۔۔ فرحان نے سنجیدگی سے اسے دیکھا جیسے کہنا چاہ رہا ہو اب کیا باقی ہے۔۔
ہلکا سا مسکراتے اسکے بالوں پر برش پھیرنے لگی۔۔
"رومنٹک ہونے کی ناکام کوشش کرنے میں میرے بال نا بگاڑو"۔۔
سرد آواز میں کہتے اسکے ہاتھ سے برش لیا جسے وہ اسکے بالوں میں چلاتی پتہ نہیں اسے کیا بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ ارسا کھلکھلا کر ہنس پڑی۔۔
فرحان بے اختیار پہلو بدل کر رہ گیا۔۔ دل نے شدّت سے یہ منظر مزید دیکھنے کی خواہش کی تھی۔۔
۔
"ایک جادو دکھاؤں آپ کو فرحان صاحب "۔۔
اسکے ہاتھ سے پرفیوم لے کر لاڈ سے اس پر سپرے کرتے وہ سرگوشی کی سی آواز بولی تھی۔۔ فرحان کو لگا آج وہ اس پر غصہ نہیں کر سکے گا۔۔
انگلیوں سے اسکے بال سنوارتے وہ پنجوں کے بل کچھ اونچی ہوئی۔۔
۔
"یہ دیکھیں دنیا کا سب سے حسین چہرہ۔۔ ارسا فرحان مرتضیٰ کا چہرہ۔۔
ھاد کے انداز میں اسکے گردن میں اپنا آدھا چہرہ چھپاتی وہ مسکراتے لہجے میں بولی تھی۔۔ اسکے اشارے پر فرحان نے ٹرانس کی سی کیفیت میں آئینے کی جانب دیکھا۔۔
آئینے میں اسکے مکمّل عکس کے ساتھ اسکا عکس جگمگا رہا تھا۔۔ اسکے گال کے جلا ہوا حصّہ فرحان کی گردن میں چھپ گیا تھا۔۔ اسکے سرخ و سفید چہرے کے ساتھ اپنا چہرہ جوڑ کر کھڑی وہ نم آنکھوں سے مسکرائی تھی۔۔
۔
"یہ ہے ارسا فرحان مرتضیٰ ۔۔ فرحان مرتضیٰ کا عشق۔۔ اور دنیا کا سب سے حسین چہرہ "۔۔
اسے پوری طرح اپنے آگے کھڑے کرتے وہ اسکی نم آنکھوں میں آنکھیں گاڑے مظبوط انداز میں بولا تھا۔۔
"اور یہ ہے ارسا فرحان کا عشق۔۔ اس چہرے کے حسن کا راز۔۔ فرحان مرتضیٰ ۔۔
اسکی جانب گھومتی وہ بھی اسی کے انداز میں بولی تھی۔۔
فرحان نے سر کو خم دیتے پورے حق سے یہ حسین اظہار وصول کیا ۔۔
۔
"آپکا باڈی گارڈ کہاں ہے۔۔ آج ابھی تک سننے کے لئے نہیں ملا۔۔ بابا مما نو بابا ہادی ۔۔
اسکے انداز پر وہ ہنس پڑا۔۔
"میرے باڈی گارڈ کو خبر ہی نہیں ہے کے میں آپ کے پاس ہوں۔۔ پچھلی جانب سے آیا ہوں۔۔ آج اپنی بیگم کے شکوے دور کرنے کا ارادہ تھا۔۔
وہ دلکشی سے مسکراتا اسکے بالوں کو ٹھیک کرتا ہوا بولا تھا۔۔
۔
"ہفتے میں ایک دو بار یہ کوشش کر لیا کریں۔۔
ایک ادا سے کہتی وہ پیچھے ہوئی۔۔
"آپ اتنے شکوے نہیں رکھا کریں اپنے دل میں۔۔ بندہ پورا آپ کا ہے "۔۔
وہ بھی اپنے انداز میں کہتا اسکا دل دھڑکا گیا۔۔
۔
________
۔
"بیوی۔۔ ابھی تک چینج نہیں کیا میری جان۔۔
وہ مکمّل تیار ہو کر اسے جگانے آیا تھا جو اب بھی بیڈ پر سست سی کمفرٹر منہ تک اوڑھے لیٹی ہوئی تھی۔۔ گھنٹے بھر پہلے ہی وہ لوگ فائزہ بیگم کو سی آف کر کے آئے تھے۔۔ شام میں انھیں تایا ابو کے گھر جانا تھا۔۔ اسکے بعد ریان نے کہا تھا واپسی پر آج وہ ریبا کو اپنے ساتھ لے کر جائے گا جس پر اس نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔۔
۔
"دا جان کے پاس نہیں جانا میرے دل "۔۔
نرمی سے اسکے گال سہلاتے اس نے تشویش سے پوچھا۔۔
۔
"اٹھا نہیں جا رہا۔۔
وہ نم آنکھوں سے بولی تھی۔۔ حیدر کو اسکی رنگت زرد پڑھتی محسوس ہوئی۔۔
۔
"ریبا کیا ہوا میری جان۔۔
کمفرٹر اس پر سے ہٹا کر اس نے نرمی سے اسے بیٹھایا۔۔
۔
"وہ ساری میڈیسن دے دیں۔۔ ساری کھا لونگا پھ پھر ٹھیک ہو جاؤنگا۔۔
روہانسی ہو کہتے اس نے میڈیسن باکس کی جانب اشارہ کیا ۔۔
۔
"آپ مجھے بتائیں میرے دل۔۔ کیسا فیل ہو رہا ہے ؟۔۔
اس نے نرمی سے اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔
۔
"اچھا نہیں لگ رہا۔۔
وہ بےچین سی ہو رہی تھی۔۔
۔
"کہیں تکلیف ہے ؟۔۔
اس نے دھیرے سے پوچھا۔۔ اس نے سر جھکائے نفی میں گردن ہلائی۔۔
"اچھا کوئی بات نہیں آپ لیٹ جائیں۔۔ دا جان کے پاس تھوڑا لیٹ چلے جائینگے۔۔
۔
"نہیں۔۔ اب ابھی جاؤنگا۔۔
وہ جلدی سے کھڑی ہوتی اپنے کپڑے اٹھا کر ڈریسنگ روم کی جانب بھاگی۔۔
کچھ دیر کے بعد وہ اسکے دئے کپڑوں میں ملبوس روم میں آئی تھی۔۔
بلیک کھلے پائینچوں کے ٹراؤزر کے ساتھ رائل بلیو گھٹنوں تک آتی سٹائلش کرتی میں ملبوس جسکے آستین اور دامن پر سیاہ موتیوں کا باریک کام ہوا تھا۔۔ وہ گیلا چہرہ ہی لئے اسکے پاس آ گئی تھی۔۔ حیدر نے نرمی سے اسکا چہرہ خشک کیا۔۔ اسکے بالوں کی ہمیشہ کی طرح پونی ٹیل بنا کر کپبرڈ سے اسکا سٹالر نکالا۔۔
2 321
رہا تھا وہ اڑھ کر چلا جائے ساتھ ان سب کو بھی ڈائریکٹ وہاں ٹرانسفر کر دے۔۔
۔
"بھابی۔۔ حفصہ بھابی۔۔ جلدی کریں نا۔۔ ہمیں جانا بھی ہے آپ کے میکے۔۔
وہ کوئی دسویں بار لاؤنچ میں بیٹھا حفصہ کو پکار رہا تھا۔۔
۔
"مجھے اپنے میکے جانے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔۔ ہاں تمہیں اپنے سسرال جانے کی بہت جلدی ہو رہی ہے۔۔ لو سنبھالو کچھ دیر اسے۔۔ تیار ہونا ہے مجھے۔۔
فاتح کو اسکی گود میں دے کر وہ ہنستی ہوئی بولی تھی۔۔ آج صبح سے گھر پر رہ کر اس نے انکے ساتھ سارے کام جلدی جلدی کروائے تھے اور اب شور ڈال رکھا تھا۔۔
۔
"آجا۔۔ چاچو کا بچہ۔۔ شادی کرنی ہے۔۔
گول مٹول سے فاتح کو ہلکا سا اچھالتے وہ اس سے باتوں میں مشغول ہو گیا تھا۔۔
۔
"فیضی خبر دار جو میرے بچے کے سامنے یہ بات کی۔۔ ورنہ بلکل تمہاری طرح بن جائے گا وہ۔۔
کمرے میں جاتی حفصہ نے ہانک لگائی تھی۔۔
۔
"ہادی۔۔ وہاں کیوں کھڑے ہو۔۔ آجاؤ۔۔ زا پاس آؤ۔۔
کچھ دور کھڑے ھاد کو دیکھ کر اس نے پیار سے اپنے پاس بلایا۔۔ فرحان کو آنے میں آج کچھ دیر ہو گئی تھی۔ . اور یہ بات ھاد کے چہرے پر صاف لکھی نظر آ رہی تھی۔۔ وہ گم سم سا کھڑا دروازے کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔
کچھ دیر پہلے ہی وہ سو کر اٹھا تھا۔۔ ارسا نے تیار کر کے فیضی کو اشارہ کرتے اسے لاؤنچ میں بیٹھا دیا تھا۔۔
۔
"زا۔۔
اس نے فیضی کے مخصوص نام سے پکارا۔۔
۔
"ہمم آجاؤ۔۔ دیکھو فاتح بھی تیار ہو گیا ہے۔۔ آج ہم زا کے بمپر پرائز میں جائینگے۔۔
خوشی سے کالر جھٹکتے اس نے ھاد کو اپنی جانب آنے کا اشارہ کیا۔۔
وہ اپنے ننھے قدم اٹھاتا اسکی جانب آنے لگا۔۔ اسکے قریب آ کر اس نے دونوں بازو پھیلائے فیضی نے مسکراتے ہوئے صوفے پر بیٹھا لیا۔۔ اپنی عمر کے مطابق وہ خاصا سمجھدار بچہ تھا۔۔ وہ اور بچوں کی طرح کھیلتا نہیں تھا۔۔ اسے کھیلنے کے لئے صرف اپنے بابا چاہئیے تھے۔۔
۔
"زا ہادی بابا نو۔۔
کچھ دیر خاموشی سے بیٹھے رہنے کے بعد اس نے بھرائے لہجے میں معصومیت سے کہا۔۔ فیضی دنگ سا اسے دیکھتا رہ گیا۔۔ مطلب وہ فرحان کا انتظار کر رہا تھا۔۔ اسے ڈھونڈھ رہا تھا۔۔ وہ چھوٹا سا بچہ اسکے بھائی کی محبت میں بہت آگے جانے والا تھا۔۔
۔
"ہادی۔۔ ہادی کے بابا بس آ رہے ہیں بیٹا۔۔ ہادی روئے گا تو بابا کو برا لگے گا۔۔
فاتح کو پاس رکھے پرام میں ڈال کر فیضی نے اسے گود میں اٹھایا۔۔ اسکی شدّت پسندی وہ سب دیکھ رہے تھے لیکن اسکی محبت اس نے آج دیکھی تھی۔۔
۔
"ابھی آ جا رہے ہیں بس ہادی کے بابا۔۔
اسکے گالوں پر پیار کرتے فیضی نے محبت سے کہا۔۔ اگلے ہی لمحے ھاد نے اپنا چہرہ پیچھے کیا تھا۔۔
۔
"نو ہادی بابا۔۔ بابا ہادی۔۔
ہاتھوں سے گال کو صاف کرتے اس نے فیضی کو دیکھا۔۔ فیضی نفی میں گردن ہلا کر رہ گیا۔۔ وہ کیسے بھول گیا کے ہادی صرف بابا کا ہے۔۔
۔
_______
۔
اپنی تیاری کو فائنل ٹچ دیتے اس نے آئینے میں نظر آتا اپنا عکس دیکھا۔۔فیروزی شفون کی خوبصورت گھٹنوں تک آتی فروک میں اسکی گندمی رنگت کھل سی گئی تھی۔۔ ہاتھوں میں تھوڑی تھوڑی چوڑیاں ڈالنے کے بعد اس نے فرحان کے دئے کنگن پہنے۔۔ گھنگھریالے بالوں کو پیچھے کھلے چھوڑ کر آدھے بالوں پر کیچر لگایا۔۔
اسے کبھی بھی یوں سجنے سنورنے کا شوق نہیں رہا تھا۔۔ لیکن اب وہ ارسا فرحان تھی۔۔ اسکی آنکھوں میں اپنے لئے وارفتگی دیکھنا اسے اچھا لگتا تھا۔۔
اسکے لبوں پر بےساختہ مسکان ابھری۔۔ اندر داخل ہوتے فرحان نے یہ منظر دیکھا تھا۔۔ اور بےخود سا دیکھتا رہ گیا۔۔ وہ اب کانوں میں چھوٹے چھوٹے سے آویزے پہن رہی تھی۔۔ دائیں کان میں آویزے پہنتے اسکے ہاتھ پل بھر کو ساکت ہوئے۔۔ ہلکا ہلکا سا میک اپ اسکے گال پر موجود اس نشان کو چھپا نہیں پایا نہیں تھا۔۔
اسکی مسکراہٹ پل بھر کو سمٹی۔۔ ان لبوں پر سے مسکراہٹ کا سمٹنا پیچھے کھڑے شخص کو تڑپا گیا تھا۔۔
سنجیدگی سے اسے دیکھتے وہ اسکے پیچھے آ کھڑا ہوا۔۔
"کمال است۔۔
کمال اسسسست۔۔
اسکے بالوں میں منہ چھپاتے وہ بےخود سا بولا تھا۔۔
ارسا نم آنکھوں سے کھلکھلا اٹھی۔۔
۔
"آپ کی باتیں میرے اوپر سے گزرتی ہیں ہادی کے بابا۔۔
وہ ہنستی ہوئی پیچھے مڑی تھی۔۔ اسکے سینے پر سر ٹکا کر شرارت سے بولی۔
۔
"باہر سے آیا ہوں یار گندہ ہو رہا ہوں۔۔ رکو باتھ لے کر آتا ہوں پھر سر رکھ لینا۔۔
اسکے سجے سنورے روپ پر ایک بھر پور نظر ڈال کر وہ مسکرا کر بولا۔۔
۔
"آپ مجھے تمام داغ سمیت اپنا سکتے ہیں۔۔ میں اس عارضی دھول کی وجہ سے دور ہو جاؤں۔۔
اسکی کوٹ سے نظر نا آنے والی دھول صاف کرتی وہ کرب سے بولی تھی۔۔
فرحان نے لب بھینجے۔۔ ایک نظر اس پر ڈال کر آہستہ سے اسے دور کرتے وہ خاموشی سے بیڈ پر رکھے اپنے کپڑے اٹھاتا باتھ روم کی جانب بڑھ گیا۔۔
2 321
فرق نہیں پڑھتا۔۔آپ نے میری تربیت ایسی نہیں کی کے میں محبت بھی سودے کی طرح کروں مما۔۔ اپنی بیوی کے چھوٹے چھوٹے کام اپنے ہاتھوں سے کرنا مجھے پسند ہے مما۔۔ آپ بابا کے سارے کام اپنے ہاتھوں سے کیوں کرتی ہیں۔۔
ریبا کو ساتھ لگا کر اپنے نزدیک کھڑا کرتے پراعتماد انداز میں کہتے اس نے انکی جانب دیکھا۔۔۔
"کیوں کے آپ ان سے محبت کرتی ہیں۔۔ اپنا فرض اپنی ذمہ داری سمجھ کر کرتیں تو کبھی نا کبھی اکتا جاتیں لیکن آپ آج تک بابا کے کاموں کو اپنے ہاتھوں سے کرنے سے بےزار نہیں ہوئیں۔۔ اسکی وجہ محبت ہے۔۔
میں اپنی بیوی سے عشق کرتا ہوں مما۔۔ ساری زندگی انکی معصومیت کو انجوائے کر سکتا ہوں۔۔ تمام عمر انکے چھوٹے چھوٹے کام اپنے ہاتھوں سے کرتے فخر سے کر سکتا ہوں۔۔ باخدا میں کبھی بےزار نہیں ہو سکتا۔۔ کیوں کے میں محبت نبھا سکتا ہوں۔۔ کرنے اور نبھانے میں یہی فرق تو ہوتا ہے۔۔
مجھے اپنی بیوی پر فخر ہے ماما۔۔ اپنی محبت پر فخر ہے کیوں کے میری ریبا مجھ سے اس سے کہی زیادہ محبت کرتی ہیں۔۔
اپنی جانب غور سے دیکھتی ریبا پر محبت بھری ایک نظر ڈال کر اس نے مسکرا کر انکے جانب دیکھا۔۔
" میری بیوی مجھے اسی طرح پسند ہے سادہ اور معصوم۔۔ ہر طرح کی چالاکیوں سے نابلد۔۔ اور جہاں تک بچوں کی پرورش کا سوال ہے تو میں پورے وثوق سے کہتا ہوں میرے بچوں کی میری ریبا سے زیادہ اچھی پرورش کوئی لڑکی نہیں کر سکتی۔۔ انکی معصومیت سے انہیں کوئی نقصان نہیں ہو سکتا کیوں کے انکی حفاظت میری ذمہ داری ہے۔۔ اللہ نے میری زندگی کی ساتھ یونہی تو نہیں بنایا نا ریبا کو۔۔ وہ جانتا ہے کس کے لئے کیا بہتر ہے۔۔ ہے نا بیوی۔۔
اپنی بات مکمّل کر کے اس نے اسکی پھیلی ہوئی آنکھوں میں دیکھا۔۔ اس نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا۔۔
"اللہ سب جانتا ہے۔۔
حیدر نے دھیرے سے مسکراتے فائزہ بیگم کو دیکھا جو نم آنکھوں سے انھیں دیکھ رہی تھیں۔۔
۔
"پراؤڈ آف یو۔۔
اسکے ماتھے کو چومتے انہوں نے کانپتے لہجے میں کہا تھا۔۔ حیدر نے مسکرا کر ایک بازو کے حلقے میں انھیں لیا۔۔
۔
"آئی لوو یو۔۔ ویسے آپ کو نہیں لگتا میں محبت کے معاملے میں اپنے بابا پر گیا ہوں۔۔
اس نے شرارت سے کہتے آنکھ دبائی۔۔
۔
"بدمعاش باپ بیٹے دونوں ایک سے ہو۔۔
انہوں نے مصنوعی خفگی سے اسے گھورتے چپت لگائی۔۔
۔
"اب لے جاؤ اسے۔۔ کب سے کھڑی ہے بچی۔۔
ریبا کے جانب دیکھ کر انہوں نے شفقت سے کہا۔۔ انکا بیٹا اسکے ساتھ خوش تھا۔۔ ہاں بات کرنا بھی وہ سیکھ جائے گی۔۔
۔
"وہ میں ابھی آتا ہوں۔۔
حیدر کو روک کر وہ کمرے سے باہر بھاگی۔۔
۔
"آرام سے ریبا۔۔
پیچھے وہ دونوں ہی فکر سے بول پڑے۔۔ اسکی جلدی پر حیدر بھی پریشان تھا۔۔
کچھ دیر بعد وہ کمرے میں لوٹی تو اسکے ہاتھوں میں سرخ رنگ کی ایک بڑی سی خوبصورت چادر تھی۔۔ انکے نزدیک آ کر دونوں ہاتھوں سے وہ چادر انکی جانب بڑھائی۔۔
انہوں نے استهفامیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھا۔۔
حیدر نے حیرانی سے اسے دیکھا یہ چادر ہمیشہ وہ خود سے لگا کر محسوس کرتی تھی جیسے اسکی خوشبو اپنے اندر اتارنے کی کوشش کرتی تھی۔۔ اسے یاد تھا رخصتی کے وقت بھی اس نے یہی چادر پہنی ہوئی تھی۔۔
۔
"میں جب برائیڈ بنا تھا دا جان نے کہا تھا اس میں سے ماما کی خوشبو آتی ہے۔۔ مجھے ماما کی خوشبو پسند تھی نا اس لئے میں اسے اپنے پاس رکھتا تھا۔۔ پہلے سب کے پاس ماما ہوتی تھیں میرے پاس نہیں تھیں تو میں اسکی اسے لے لیتا تھا۔۔ آپ نے کہا آپ ماما ہیں۔۔ میرے پاس بھی ماما ہیں تو یہ آپ لینگی تو بوگیمبو خوش ہوگا۔۔
کچھ اونچی ہو کر جیسے تیسے وہ چادر انکے گرد پھیلا کر اس نے چمکتی آنکھوں سے انکی جانب دیکھا۔۔ وہ ساکت سی سامنے کھڑی اس گلابی گڑیا جیسی لڑکی کو دیکھ رہی تھیں۔۔ جو انکے حیدر کے کندھوں سے بھی کچھ نیچے آتی تھی۔۔ جو اپنی حرکتوں سے کبھی کبھی ذچ کر دیتی تھی۔۔ لیکن ہاں وہ الگ تھی۔۔ صحیح کہا تھا حیدر نے وہ مختلف تھی۔۔ کیوں کے وہ منفرد تھی۔۔ بہت مشکل اور تکلیف دہ باتیں وہ بہت آسانی سے کر جاتی تھی۔۔
۔
"اتنا بڑا رتبہ دے رہی ہو مجھے میری جان۔۔
انہوں نے شدّت جذبات سے مغلوب ہو کر اسے خود میں بھینج لیا۔۔ حیدر اب بھی حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ مطلب اس چادر کو وہ یونہی ہاتھوں میں لے کر نہیں بیٹھتی تھی۔۔ وہ اس میں سے اپنی مما کی موجودگی محسوس کرنے کی کوشش کرتی جو اب وہ اسکی ماں میں محسوس کر رہی تھی۔۔
وہاں موجود دونوں نفوس جانتے تھے وہ محض چادر نہیں تھی جو وہ انکے حوالے کر رہی تھی وہ اسکی زندگی کا قیمتی سرمایا تھی۔۔ وہ اپنی ماں کی خوشبو ان میں ڈھونڈھ رہی تھی۔۔
۔
________
اگلے دن فیضی سورج کے ساتھ ہی طلوع ہو گیا تھا۔۔ صبح سے پورے گھر کو سر پر اٹھائے رکھا تھا۔۔ ریان اور فرحان تو اسکی جلدی سے تنگ آ کر یونہی آفس چلے گئے کے باہر ناشتہ کر لینگے۔۔ ارسا اور حفصہ نے کچن میں ہی بامشکل ناشتہ کیا تھا۔۔ ھاد اور فاتح کو وہ خود ناشتہ کروا چکا تھا۔۔ باقی کام بھی وہ انکے سر پر سوار ہو کر کروا رہا تھا اسکا بس نہیں چل
2 321
اسکا چہرہ اونچا کر کے اس نے نرمی سے سوال کیا۔۔
۔
"میرا خون لے لیا۔۔ اتنا سارا خون تھا۔۔
اپنے بازو آگے کر کے دکھاتی اسے اب بھی اپنے خون کا غم تھا۔۔
اس نے نرمی سے اسکا ہاتھ تھام کر اپنے آگے کیا۔۔
۔
"اس سے ٹیسٹ ہونے ہیں میری جان۔۔
حیدر نے اسے سمجھانا چاہا۔۔
۔
"تھوڑا سا لیتے ہیں نا۔۔ میں خود دے دیتا تھوڑا سا۔۔
وہ اب بھی اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی تھی۔۔
۔
"اب وہ تو چلا گیا۔۔ چلیں اپنے دل کا بہت سارا خون بنا لینگے ہم۔۔ آج سے فروٹس زیادہ کھانے ہیں۔۔
اسکی تھوڑی پر لب رکھتے اس نے مسکراہٹ دبا کر کہا۔۔
۔
"دا جان کے پاس جانا ہے۔۔
اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے اس نے اسکا پسندیدہ سوال کیا۔۔ اس نے جلدی سے اثبات میں گردن ہلائی۔۔
۔
"کل مما کو ایئر پورٹ ڈراپ کرنے کے بعد میں اپنی بیوی کو ایک بہت اچھا سا ڈنر کرواؤنگا اور پھر ہم دا جان کے پاس جائینگے۔۔
اسنے اگلے دن کا پورا پروگرام اسکے گوش گزار کیا۔۔
۔
"ڈنر دا جان کے ساتھ کر سکتا ہوں۔۔
اس نے دھیرے سے سوال کیا۔۔ حیدر نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
۔
"آپ کی ماما کہاں جا رہی ہیں ؟۔۔
کچھ دیر کے بعد اس نے دھیرے سے سر اٹھاتے اس سے سوال کیا۔۔
۔
"ماما لاہور جا رہی ہیں میری جان۔۔ بابا کے کچھ کام مزید ڈیلے ہو گئے ہیں اس لئے وہ نہیں آ سکتے تو مما اب بابا کے ساتھ آئینگی۔۔
حیدر نے تمام معلومات اسے بتائیں۔۔
وہ اسکی بات سن کر جلدی سے اٹھی۔۔
"مجھ سے خفا ہوئیں ہیں۔۔
یروں میں سلیپر اڑھستے وہ باہر کی جانب بڑھی۔۔
۔
"بیوی آرام سے میری جان۔۔
وہ پیچھے سر پکڑ کر رہ گیا۔۔
۔
"حیدر کی ماما۔۔
وہ اپنی پیکنگ کر رہی تھیں جب وہ انکے کمرے میں داخل ہوئی۔۔
۔
"نہیں میری ماما۔۔
انکے کچھ کہنے سے پہلے ہی جلدی سے تصحیح کی۔۔
۔
"یہاں آئیں۔۔
انکے لبوں پر بےاختیار مسکراہٹ ابھری۔۔ نرمی سے اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا۔۔ وہ جلدی سے انکے قریب آئی۔۔
انہوں نے بڑھ کر اسے ساتھ لگایا۔۔
۔
"وہ آپ مجھ سے خفا ہو کر جا رہی ہیں۔۔ نہیں جائیں پلیز۔۔ میں سیکھ رہا ہوں آپ کی طرح کہنا۔۔ میں اچھا ہوں۔۔ اور آپ کی باتیں بھی تو مان لیتا ہوں۔۔
انکے ساتھ لگانے پر وہ بھرائے لہجے میں بولی تھی۔۔
۔
"نہیں میری جان۔۔ آپ سے خفا ہو کر نہیں جا رہی۔۔ آپ کے بابا وہاں اکیلے ہیں۔۔ حیدر آپ کو کو اکیلا نہیں چھوڑتے نا۔۔ میں بھی اپنے شوہر کو اکیلے نہیں چھوڑ سکتی۔۔ آپ کے بابا اپنے کاموں سے فارغ ہو جائیں تو پھر آؤنگی میری جان۔۔
انہوں نے نرمی سے اسے سمجھایا۔۔ تین مہینوں سے وہ انکے ساتھ تھی اسکی تربیت کی گواہ تو وہ خود تھیں۔۔ ریان نے واقعی اسکی تربیت بہت اچھے انداز میں کی تھی۔۔ اس نے کبھی انکی بات سے انکار نہیں کیا تھا انکے آگے بولنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔۔ وہ معصوم تھی وہ جانتی تھیں لیکن اسکی معصومیت سے اسے کوئی نقصان ہو یہ نہیں چاہتی تھیں۔۔
۔
دروازے پر کھڑے حیدر نے محبت سے اسکی جانب دیکھا۔۔ وہ خود بھی اندر آ گیا۔۔
"مم مجھے ماما بہت اچھی لگتی ہیں۔۔ میرے پاس کبھی بھی مما نہیں تھیں۔۔ آپ پلیز نہیں جائیں۔۔
انکے ساتھ لگی وہ روتی ہوئی بولی تھی۔۔ انہوں نے مسکرا کر اسکی جانب دیکھا۔۔
۔
"ماما تو بہت ڈانٹتی بھی ہیں۔۔ پھر بھی اچھی لگتی ہیں۔۔
انہوں نے مسکراہٹ دبا کر سوال کیا۔۔ وہ ہمیشہ روتی ہوئی یہی کہتی تھی کے وہ اسے ڈانٹتی ہیں۔۔
۔
"ہا ہاں پھر بھی لگتی ہیں۔۔ حیدر نے بھی ڈانٹا پھر بھی حیدر اچھے لگتے ہیں۔۔ آپ تو مجھے اتنے سارے کھانے بنا کر کھلاتی ہیں۔۔ حیدر کو وہ بنانے بھی نہیں آتے۔۔ حیدر ہمیشہ مجھے سینڈوچ بنا کر کھلاتے ہیں۔۔ انکو کچھ نہیں آتا۔۔ آپ نے وہ ساگ بھی کھلائی تھی اور وہ حلوہ بھی۔۔ اب میں کیسے کھاؤنگا۔۔
انھیں یاد کرنے کی ساری وجوہات بتاتے وہ ایک بار پھر رونے لگی تھی۔۔ اسے پچھلے تین مہینوں کا کھانا اور ناشتہ یاد آرہا تھا۔۔ طرح طرح کے ذائقہ دار کھانوں کا خیال آتے ہی اس نے روتے ہوئے غصّے سے حیدر کی جانب دیکھا۔۔ جو بےچارہ ناسمجھی سے اسکی خود پر غصہ کرنے کی وجہ ڈھونڈھ رہا تھا۔۔
۔
"ماما۔۔ آپ حیدر کو ریسیپیز بھیج دیا کرینگی۔۔
کافی دیر سوں سوں جاری رکھنے کے بعد اس نے سر اٹھا کر انکی جانب دیکھا۔۔ وہ ہنس پڑیں۔۔
۔
"بلکل بھیج دیا کرونگی۔۔ پر اسکے لئے میری بیٹی کو ماما کی بیٹی بننا پڑے گا۔۔ بیٹیوں کی طرح بولنا ہوگا۔۔ خود میں تھوڑی سی سمجھ داری پیدا کر لیں ریبا۔۔ تاکے کوئی آپ کی معصومیت کا فائدہ نہیں اٹھا سکے۔۔
انہوں نے سنجیدگی سے اسکے بالوں کو سنوارتے جواب دیا۔۔
۔
"ریبا یہاں آئیں۔۔
حیدر کی آواز ابھری۔۔ وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتی اسکے پاس آ کھڑی ہوئی۔۔
۔
"ریبا جیسی ہیں مجھے ویسی ہی پسند ہیں مما۔۔ جس طرح بات کرتی ہیں۔۔ جس طرح رہتی ہیں۔۔ سب میں پہلے سے جانتا تھا مما ۔۔ یہ سب جاننے کے باوجود میں نے ریبا سے محبت کی بلکل اسی طرح جیسی وہ ہیں پھر اب میں انھیں کیوں بدلنے کی کوشش کروں۔۔ جس حد تک وہ میرے لئے خود کو تبدیل کر چکی ہیں یہ میرے لئے بہت ہے۔۔ لوگ کیا کہتے ہیں دنیا کیا کہے گی۔۔ اس سے مجھے کوئی
Content available for users 18+
By signing in to the service, you confirm that you are 18 years of age or older.
