en
Feedback
قافلہ عزیمت(لال مسجد وجامعہ حفصہ)

قافلہ عزیمت(لال مسجد وجامعہ حفصہ)

Open in Telegram

شہدائے لال مسجد و جامعہ حفصہ کا مشن شریعت یا شہادت اج بھی جاری و ساری ہے ۔۔۔ اپ بھی اس مشن میں ہمارا ساتھ دیجئیے !! ہمارا رابطہ ___ qafila313

Show more
2 899
Subscribers
No data24 hours
-117 days
-4330 days
Posts Archive
مولانا عبد العزیز صاحب کو شاباش "" دارالعلوم دیوبند (انڈیا) کے استاد کی طرف سے """ بدنام زمانہ مفتی عبد القوی پر گرفت کرنے پر خطیب لال مسجد اسلام آباد حضرت مولانا عبد العزیز صاحب دامت برکاتہم العالیہ کو خراج تحسین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بازاری مفتی پڑوسی ملک میں جس طرح ایک ادارے کے دفتر سے معروف شیطان کو راندہ کیا گیا وہ مثالی رویہ ہے، یہ شخص مجرد گناہ گار نہیں، خدا کا باغی ہے، اس پر استخفاف کی دفعات عائد ہیں، اس کو اہل معاصی کی مراعات نہیں دی جا سکتیں، وہ عادی عاصی ہے، کبائر کا جشن مناتا ہے، محرمات کو سیلیبریٹ کرتا ہے، خلوت کا فسق ذاتی معاملہ ہے، لائق ستر ہے، علانیہ معصیت کو اس پر قیاس کرنا بے محل ہے، خطا ایک امر ہے؛ جب کہ تمسخر، استہزا اور تماشا سازی امر دیگر ہے، اس نے مذہبی لاحقوں اور سابقوں کے ساتھ آن لائن حرام کاریوں کے ذریعے شریعت کو بازیچہ بنایا ہے، اس کا قضیہ گناہ کا نہیں، تحریف، تلبیس، افترا اور ارتداد کا ہے، اس کو گولی مارنے کی تنبیہ سو فی صد واجبی تھی، ویڈیو نے محظوظ کیا، مزہ آگیا، مولانا صاحب اس واقعے میں ایمان کے اعلی مرتبے پر تھے اور ہم لطف خور ایمان کے تیسرے اور آخری پایے پر، حضرت مولانا کو خراج تحسین پیش ہے۔ محمد فہیم الدین بجنوری استاذ دارالعلوم دیوبند انڈیا 16 مئی 2025ء #دعوت_فکر

⭕️⭕️ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں۔ فوج کے لیے بڑا چیلنج (خصوصی رپورٹ پاکستان نیوز) اسلام آباد (3 مئی 2025) – کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کی مسلسل کارروائیاں ریاستی سیکیورٹی کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ ان کارروائیوں میں روزانہ کی بنیاد پر ملک کے مختلف علاقوں میں فوجی، پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ٹی ٹی پی اب صرف فوجی اہداف تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے خفیہ اہلکاروں کو بھی ٹارگٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کی واضح علامت ہے کہ ٹی ٹی پی کا انٹیلیجنس نیٹ ورک اب نہایت مضبوط ہو چکا ہے، جو درست نشاندہی، معلومات کے حصول اور منظم حملوں میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ٹی ٹی پی جنگجوؤں کی جانب سے مین سڑکوں پر چیک پوسٹیں قائم کر کے سرکاری اہلکاروں کو گرفتار کرنا ایک نیا اور خطرناک رجحان ہے، جس سے ریاستی رٹ کمزور اور سیکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حرکت پر خوف کی صورتحال پیدا ہورہی ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کی جڑیں مقامی سطح پر گہرائی تک سرایت کر چکی ہیں۔ ان علاقوں میں جہاں تنظیم کے جنگجو موجود ہیں، وہاں ٹی ٹی پی کے جنگجووں کی طرف سے مختلف جرائم پیشہ افراد پر قابو پانے بعد عوام میں ان کی قبولیت اور حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹی ٹی پی نے فوجی اقتصادی اداروں کو بھی اپنے اہداف میں شامل کیا ہے ۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف عسکری بلکہ معاشی طور پر بھی ریاست کو کمزور کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ صورتحال اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ٹی ٹی پی جہاں ایک گوریلا تنظیم ہے وہیں وہ ایک منظم نظام، سخت ڈسپلن، اور مضبوط حکمت عملی رکھنے والی عسکری طاقت کی شکل اختیار کر چکی ہے، جو پاکستان کے اندر سیکیورٹی اداروں کیلئے ایک مستقل چیلنج بن گئی ہے۔

صدائے ممبر و محراب پس خدا کی پناہ کہ اس سے نغمہ چنگ و رباب بہتر ہے حرم فروش فقیہوں کے حوض کوثر سے مغنیہ کے لبوں کی شراب بہتر
صدائے ممبر و محراب پس خدا کی پناہ کہ اس سے نغمہ چنگ و رباب بہتر ہے حرم فروش فقیہوں کے حوض کوثر سے مغنیہ کے لبوں کی شراب بہتر ہے انگریزوں کے باقیات میں غلام فوج کے ساتھ ساتھ علماء سوء بھی شامل ہیں یہ ہر ظالم کو سراہتے ہیں اس کے لئے دلائل تراشتے ہیں مظلوموں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہیں ! #دعوت_فکر #معرکہ_حق_و_باطل

Repost from N/a
راستہ کھلا ہے : اگر کسی کو تحریک طالبان پاکستان کی قیادت، پالیسی یا نظم و نسق پر کوئی تنقید، مشورہ یا اعتراض ہو، تو لازم ہے کہ اپنے جذبات کو اخلاص، ادب اور اسلامی اخلاق کے دائرے میں سمو کر اپنے دلگئی ذمہ دار کے سامنے پیش کرے۔ الحمدللہ! تحریک کے افراد کا مشورہ رائے تنقید سننے کے لیے ابتدائی سطح سے انتہائی سطح تک ہر جگہ ذمہ داران اور نظام و نظم موجود ہے۔ لہٰذا جو بھی رائے، مشورہ یا شکایت ہو، براہِ راست انہی برادران سے شیئر کی جائے۔ اگر پھر بھی دل مطمئن نہ ہو، تو تنظیمی اصولوں کے مطابق اس بات کا راستہ کھلا ہے کہ شواہد اور دلائل کے ساتھ براہِ راست تحریک کے مشران کرام کے سامنے اپنی بات رکھی جائے۔ مگر یاد رکھیں! عوامی مجالس، یا سوشل میڈیا جیسے عام پلیٹ فارمز پر غیر ذمہ دارانہ تبصرے، بے بنیاد اعتراضات اور لایعنی تنقیدیں تحریک کی عظمت، وحدت اور مبارک جہادی قافلے کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ دشمن کے ایوانوں میں خوشی کی لہر دوڑتی ہے اور ہماری دینی جدوجہد کو مشکوک بنانے میں دشمن کی مدد ہوتی ہے۔ مشورے کے دروازے ہر مخلص کے لیے کھلے ہیں، مگر فتنہ انگیزی اور افتراق کے راستے ہمیشہ ناکامی اور ندامت کی طرف لے جاتے ہیں۔ آئیے! ہم اخلاص کے چراغ روشن کریں، اصلاح کی راہیں ہموار کریں، اور اپنے مجاہد قافلے کی عظمت، شہداء کی قربانیاں، اور دین کے مقدس سفر کی حرمت کو ذاتی خواہشات کی بھینٹ چڑھنے سے بچائیں۔ یاد رکھیں! تحریک کی حفاظت، تحریک کی عزت، اور تحریک کے شہداء کی قربانیوں کا احترام ہر زندہ دل انسان اور مؤمن ضمیر کی اولین ذمہ داری ہے!

جہاد کا ایک مقصد شہادت جہاد دینِ اسلام کی روح ہے جو ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ جانے اور حق کی سربلندی کے لیے جدوجہد کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاد کو مسلمانوں پر اس لیے فرض کیا کہ وہ نہ صرف دین کی حفاظت کریں بلکہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر شہادت کے عظیم مرتبے کو حاصل کریں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ" (تاکہ اللہ تم میں سے کچھ کو شہادت کا رتبہ عطا کرے۔) شہید زمین پر خون بہا کر جنت میں زندگی پاتا ہے۔ ان کی قربانیاں امت کے لیے حیات نو کا پیغام ہوتی ہیں۔ شہادت دراصل ایمان کی سچائی کا اعلیٰ ترین ثبوت ہے۔ شاعر کہتا ہے: شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے لہو شہید کا قوموں کے جسم میں حرارت ہے #دعوت_فکر #معرکہ_حق_و_باطل

"خوشخبری ہے، اس شخص کیلئے، جِس کو اُس کے اپنے عیبوں نے لوگوں کے عیوب سے غافل کر رکھا ہے؛ اور تباہی ہے، اُس شخص کیلئے، جو اپنے عیبوں کو بھول کر لوگوں کے عیوب ٹٹولتا پھرتا ہے !" امام ابنِ القيم رحمه الله (مفتاح دار السعادة : 298/1) #دعوت_فکر #تعلیمات_اسلامیہ

تحریک طالبان پاکستان کے انٹیلیجنس ادارے(ٹی آئی اے) کے آپریشن کے دوران گرفتار ہونے والے،ولایت ڈیرہ اسماعیل خان کی ولسوالی کلاچی سے تعلق رکھنے والے فوجی جاسوس جمیل احمد اور ولایت شمالی وزیرستان کی ولسوالی میرعلی سے تعلق رکھنے والے ایم آئی جاسوس حسین اللہ کے اعتراف جرم پر مبنی ویڈیو کمزور کوالٹی ڈاؤنلوڈ لنک: (23 ایم بی) https://archive.org/download/00397-isi-jasoos-jameel-ahmad-and-hassin-ullah-aitrafi-bayan/00397-ISI_Jasoos_JameelAhmad_And_HassinUllah_Aitrafi_Bayan_LQ.mp4 https://www.mediafire.com/file/phxanitjdhd4k9h/00397-ISI_Jasoos_JameelAhmad_And_HassinUllah_Aitrafi_Bayan_LQ.mp4/file

پھر نہیں کہنا ہمیں تو بتایا نہیں تھا فوج جس وقت پتلونیں چھوڑ کر بھاگے گی تو قوم کو اپنا دفاع خود ہی کرنا ہے 😂😂 https://x.com/Polplusorg/status/1915618922285633684?t=ljGXFltaAHg9FyCMoTWSPw&s=19

خبردار! فارغ مت بیٹھو، اور نہ ہی راحت وسستی کے عادی بنو۔ اور نہ بزدل بنو یہ وقت میدان چھوڑنے کا نہیں،بلکه میدانوں میں کودنے کا ہے ۔کیونکہ جو کمزوری اور خوف کے آگے جھک جائے، وہ کامیابی سے محروم رہ جاتا ہے۔ فضول مشاغل میں خود کو نہ الجھاؤ جبکہ تمہیں اس لمحے خود کو نکھارنے، سنوارنے اور مضبوط بنانے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ایسے درخت کی مانند بن جاؤ جو سخت موسموں میں بھی اپنی جڑیں گہرائی میں مضبوط کیے رکھتا ہے، جو کبھی نہیں مرتا۔ ہوشیار رہو، ایسا نہ ہو کہ تم خود کو کھو دو! سخت دن آئیں گے، تمہاری سوچیں اور جسمیں تو قید ہو سکتی ہیں، لیکن تمہارے ذھن اور سچے نظریات کوئی بھی قید نہیں کرسکتا کیونکہ بہت سے لوگ زندانوں میں جکھڑے ہوئے بھی آزاد سوچ وفکر کے مالک ہوتے ہیں اور بہت سے آزاد لوگ غیروں کی غلامی اور نفسی خواہشات کے قید و بند میں جکھڑے ہوئے ہوتے ہیں ۔ یہ وقت مایوسی، کمزوری یا شکست تسلیم کرنے کا نہیں! نہ ہی یہ وقت فضولیات میں وقت برباد کرنے کا ہے۔ یہ وقت ہے خود کو تیار کرنے کا، خود کو طاقتور بنانے کا۔ جتنا ہو سکے، اپنے آپ کو مضبوط بناؤ... کیونکہ آگے کا سفر تمہاری طاقت کا امتحان لے گا ! #دعوت_فکر

پاکستان میں جہاد کرنے والے سرگرم مجموعات کے نام امارت اسلامیہ کے عظیم راہنما شیخ استاد یاسر رحمہ اللہ کی اہم نصیحت ترتیب و تدوین: حسن غازی امارت اسلامیہ کے عظیم جہادی و نظریاتی راہنما، شیخ استاد یاسر شہید رحمہ اللہ، پاکستان میں مصروف مجاہدین کے ساتھ اپنی نشستوں میں ایک نہایت اہم نکتہ پر بار بار زور دیا کرتے تھے۔ وہ فرمایا کرتے کہ روس کے خلاف جہاد کے وقت بھی مختلف جہادی گروہ تھے، سب نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق جہاد میں کردار ادا کیا۔ جب اللہ تعالیٰ کی مدد سے فتوحات کا وقت آیا اور روس پسپا ہوا، تو اس کے چھوڑے گئے علاقوں پر مختلف مجاہدین نے قبضہ کرلیا۔ مگر بدقسمتی سے آپس کی نااتفاقی اور اختلافات کی وجہ سے مجاہدین کے درمیان جنگ و جدل شروع ہوگئی، جس کا نتیجہ دین اور جہاد کی بدنامی اور کمزوری کی صورت میں نکلا۔ شیخ استاد یاسر رحمہ اللہ کا تجزیہ یہ تھا: مجاہدین کو فتح کے وقت سے پہلے ہی باہم اتحاد و اتفاق پیدا کرنا چاہیے۔ اگر ابتدا میں ہی مختلف گروہوں کے درمیان محبت اور قربت نہ ہو، تو جب قوت اور اختیار ملے گا تو شیطان کو اختلاف ڈالنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔ لہٰذا، جہادی مجموعات کو اپنی ابتدا ہی سے باہم یک جان ہوکر ایک قیادت اور ایک جھنڈے تلے جدوجہد کرنی چاہیے، تاکہ کل کو یہ دوریاں اور اختلافات کسی فتنے کا سبب بن کر ساری قربانیوں کو ضائع نہ کردیں۔ دعوت: آج بھی پاکستان میں سرگرم تمام مجاہدین کو چاہیے کہ امارت اسلامیہ اور خصوصاً شیخ استاد یاسر شہید رحمہ اللہ کی اس قیمتی نصیحت کو حرزِ جان بنائیں، اور پاکستان بھر کے تمام جہادی گروہ تحریک طالبان پاکستان میں شامل ہوکر ایک امیر اور ایک جھنڈے تلے اس جہادی سفر کو اپنی منزلِ مقصود تک پہنچائیں۔ ــــــــــــــــــــــــــ ادارہ بنیان مرصوص برائے نشر واشاعت https://t.me/Banyan_urdu_bot

فوجی اقتصادی اداروں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے تحریک طالبان پاکستان کا اعلامیہ 18/شوال المکرم/1446ھـ ق 16/ اپریل / 2025 ء #آپ
فوجی اقتصادی اداروں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے تحریک طالبان پاکستان کا اعلامیہ 18/شوال المکرم/1446ھـ ق 16/ اپریل / 2025 ء #آپریشن_الخندق #ٹی_ٹی_پی #عمر_میڈیا #محمد_خراسانی #OperationAlkhandaq #TTP #Umar_Media #Muhammad_Khurasani ہماری ویب سائٹ: https://umnews.net

پنجاب کی غیور اقوام کے نام تحریک طالبان پاکستان کا اعلامیہ 18/شوال المکرم/1446ھـ ق 16/ اپریل / 2025 ء #آپریشن_الخندق #ٹی_ٹی_پ
پنجاب کی غیور اقوام کے نام تحریک طالبان پاکستان کا اعلامیہ 18/شوال المکرم/1446ھـ ق 16/ اپریل / 2025 ء #آپریشن_الخندق #ٹی_ٹی_پی #عمر_میڈیا #محمد_خراسانی #OperationAlkhandaq #TTP #Umar_Media #Muhammad_Khurasani ہماری ویب سائٹ: https://umnews.net

#چریکی___ٹارگٹ کلر اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا يسمي رجل طائفة چریکی یا ٹارگٹ کلر اپنی ذات میں مہارت اور اخلاص سے لبریز ایک مکمل لشکر ہوتا ھے ۔۔۔۔ جو تنِ تنہا ایک مست اور بے لگام ظالم لشکر کو نفسیاتی طور پر پسپا کرتا ھے ۔۔۔ بعض صورتوں میں چریکی ،فدائی سے بھی بازی لے جاتا ھے ۔۔۔ یقینًا ہر غیرت مند مسلمان چریکی بن سکتا ھے ضروری نہیں کہ آپ نے نائن ایم ایم پسٹل میں تخصص کیا ہو ۔۔۔ بلکہ آپ اپنے دستیاب وسائل سے باآسانی یہ نیک کام سرانجام دے سکتے ہیں آپ کے علاقے میں رہنے والے فوجی ، ایف سی والے اور سی ٹی ڈی اہلکار جب چھٹیوں میں گھر آتے ہیں یہ آپ کا آسان شکار ہوں گے بڑے شہروں میں سیف سٹی کے عنوان سے سیکیورٹی کیمرے نصب ہوتے ہیں اس لئے شکار کے لئے ان جگہوں کا انتخاب کریں جہاں کیمرے نصب نہ ہوں.. پولیو ویکسین والوں کی حفاظت میں تعینات پولیس اہلکاروں کی خفیہ طور پر حفاظت ہوتی ھے ان کا شکار کرنے والے دوست مناسب حکمت عملی اپنائیں ۔۔۔ چوں کہ یہ عملیات صرف اللہ تعالٰی کی رضا کے لئے کئے جاتے ہیں تو یقینًا اللہ تعالٰی ان سے واقف ہوتا ھے اسی لئے کسی کو بھی ہرگز اپنا راز دار نہ بنائیں اور ان عمليات میں امنیت کے لئے رازداری کا اہتمام ہوتا ھے اس لئے اخلاص سے لبریز ہوکر قبولیت کی سند پالیتےہیں !! #دعوت_فکر #تعلیمات_اسلامیہ #جہاد_فرض_عین_ہوچکا #اس_نظام_بدی_سے_بغاوت_کریں

"یہ اسلــحہ ضبط نہیں ہوگا، یہ اسلـحہ ہمارے ہاتھوں میں ہے... یا ہم فلسطیــن کو اس سے آزاد کرائیں گے یا اس کے ساتھ فنا ہو جائیں گے۔" قائد خلیل الحیہ #دعوت_فکر #مزاحمت_کی_علامت

الخندق عملیات(6) جنوبی وزیرستان کے علاقے شوال اور خیسورہ میں رائل انڈین آرمی پر مائن دھماکوں کے مناظر ولایت کرم کے علاقے بگن میں مجاہدین کی طرف سے فوجی گاڑیوں پر گھات حملے کی ویڈیو شمالی وزیرستان کی ولسوالی شیواہ میں مجاہدین کا پولیس گاڑی پر حملہ اور پھر اس کو آگ لگانے کی ویڈیو کمزور کوالٹی ڈاؤنلوڈ لنک: (34  ایم بی) https://archive.org/download/00392-operation-al-khandaq-06/00392-Operation_AlKhandaq_06_LQ.mp4 https://www.mediafire.com/file/pgeo9o6fsdxunwx/00392-Operation_AlKhandaq_06_LQ.mp4/file

امت مسلمہ میں اختلافات کے نقصانات اور وحدتِ صفوف کی دعوت تحریر: حسن غازی تاریخِ اسلام کا ہر ورق گواہ ہے کہ جب بھی امتِ مسلمہ نے اخوت، محبت، بھائی چارے اور وحدتِ صفوف کا دامن تھاما، اللہ رب العزت نے اسے عزت، غلبہ اور فتوحات سے سرفراز فرمایا۔ اور جب بھی امت نے باہمی اختلاف، حسد، بغض، کینہ، تنظیمی انا اور شخصی تعصب کی راہوں کو اختیار کیا، تو زوال، رسوائی اور تباہی نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اسلام کا پیغام سراسر وحدت، اتفاق اور بھائی چارے کا پیغام ہے۔ دینِ اسلام امت کو ایک جماعت، ایک قیادت اور ایک صف میں کھڑے ہونے کا حکم دیتا ہے تاکہ باطل کے سامنے امت بنیان مرصوص (سیسہ پلائی) دیوار بن سکے۔ لیکن افسوس! امت مسلمہ کی تاریخ میں بارہا ایسے مقام بھی آئے کہ ذاتی مفادات، چھوٹے چھوٹے گروہی تعصبات اور تنظیمی اناؤں نے امت کی طاقت کو منتشر کر دیا۔ قتیبہ بن مسلم رحمہ اللہ کا واقعہ: ایک ناقابلِ فراموش سبق خلافتِ بنو امیہ کے عظیم سپہ سالار، فاتحِ ماوراء النہر، قتیبہ بن مسلم رحمہ اللہ کی مثال آج بھی اہلِ جہاد اور ملتِ اسلامیہ کے لیے عبرت کا مینار ہے۔ وہی قتیبہ بن مسلم جن کے رعب و دبدبہ سے پورا براعظم ایشیا لرزتا تھا۔ وہی قتیبہ جنہوں نے ناقابلِ تسخیر قلعے فتح کیے، اور فتوحات کی ایسی تاریخ رقم کی کہ آج بھی مورخین رشک کرتے ہیں۔ لیکن جب خلافت میں اختلافات نے سراٹھایا، جب مرکزی نظام کمزور ہوا، جب لوگوں نے اپنی جماعتیں، الگ گروہ اور ذاتی مفادات کو مقدم جاناز تو وہی قتیبہ تنہا رہ گئے۔ ان کے مخالفین نے ان کے خلاف سازش کی، اور وہ شہید کر دیے گئے۔ یوں اسلامی فتوحات کا ایک سنہرا باب بند ہوا، اور امت ایک جلیل القدر سپہ سالار سے محروم ہو گئی۔ یہ واقعہ آج ہمیں یہی پیغام دے رہا ہے کہ باہمی اختلافات، تنظیمی تقسیم اور قیادت سے انحراف امت کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ داعشی خوارج کا فتنہ: اختلاف کا بھیانک انجام قریبی تاریخ میں داعش کے فتنہ پر بھی نگاہ ڈالیں۔ کس طرح انہوں نے جہاد کے مقدس نام پر امت میں انتشار، تکفیر، فساد اور خانہ جنگی کی آگ بھڑکائی۔ کس طرح ایک امیر، ایک جماعت اور ایک جھنڈے کی دعوت کے نام پر پہلے محبت کی بات کی، اور پھر جب مقاصد میں رکاوٹ دیکھی، تو دوسری جماعتوں اور مجاہدین پر لعن طعن، تہمت، فتوے اور حتیٰ کہ قتل و قتال کا بازار گرم کر دیا۔ ان کے تکبر اور جہالت کا یہ عالم تھا کہ جو ان کے ساتھ بیعت نہ کرے، اسے واجب القتل قرار دیتے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شام و عراق کے میدان ویران ہو گئے، خراسان میں جہاد کمزور پڑ گیا، مجاہدین کی صفوں میں انتشار آ گیا اور دشمنانِ اسلام کو فائدہ پہنچا۔ مگر کیا وہ اپنے مذموم مقصد میں کامیاب ہو سکے؟ کیا انہوں نے وحدتِ صفوف قائم کی؟ کیا اسلام کا غلبہ ہوا؟ نہیں! نہ ان کا دین سلامت رہا، نہ ان کی عزت، نہ ان کی جماعت اور خود بھی رسوائی و بربادی ان کا مقدر بنی۔ پاکستانی مجاہدین کے لیے پیغام و دعوت آج پاکستان میں بھی جہاد کے مختلف محاذوں پر متعدد تنظیمات، جماعتیں اور افراد سرگرمِ عمل ہیں۔ ہر کوئی اللہ کا کلمہ بلند کرنا چاہتا ہے، لیکن تنظیمی اختلافات، قیادت کے تنازعات اور ذاتی اناؤں نے امت کے اس مقدس محاذ کو بھی متاثر کیا ہے۔ لہٰذا وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہی ہے کہ تمام متحرک جہادی تنظیمات، محاذی گروہ اور اہلِ ایمان اپنے اختلافات ختم کریں، اپنی چھوٹی جماعتوں، گروپوں اور محدود سوچ سے نکل کر ایک امیر، ایک جماعت اور ایک جھنڈے تلے متحد ہو جائیں۔ اور اس مقصد کے لیے پاکستان میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے والی سب سے بڑی، منظم ترین اور قدیم جہادی تحریک، "تحریک طالبان پاکستان" کے پلیٹ فارم سے بڑھ کر کوئی مضبوط و محفوظ قافلہ نہیں۔ آج اللہ کا شکر ہے کہ تحریک طالبان پاکستان ایک باصلاحیت، متفق، دیانت دار اور مجاہد عالم دین، محترم امیرِ تحریک الشیخ ابو منصور عاصم، مفتی نور ولی محسود حفظہ اللہ کی زیرِ قیادت اپنی صفیں منظم کر رہی ہے۔ امارت اسلامیہ افغانستان سے اخوت و بھائی چارے کے رشتے میں بندھی، باطل کے خلاف صف آرا، اور امت مسلمہ کی امید بن کر اُبھری ہے۔ اس لیے ہم دعوت دیتے ہیں: آئیے! اس مقدس قافلے میں شامل ہو کر دشمنِ دین قوتوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔ اپنے چھوٹے چھوٹے تنظیمی تعصبات چھوڑ کر، اپنی ذات سے نکل کر، امت کی فلاح اور اسلام کے غلبے کے لیے "تحریک طالبان پاکستان" کے سائے تلے جمع ہو جائیں۔ تاکہ ہم مل کر پاکستان کے اس مقدس جہاد کو کامیابی، ثمرات اور مقاصدِ شہادت تک پہنچا سکیں۔ اللہ ہمیں وحدت و اتفاق کی توفیق عطا فرمائے، اور امیرِ تحریک الشیخ مفتی ابو منصور عاصم حفظہ اللہ کی قیادت میں شانہ بشانہ کھڑے ہونے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین یارب العالمین ــــــــــــــــــــــــــ ادارہ بنیان مرصوص برائے نشر واشاعت https://t.me/Banyan_urdu_bot

ایک امیر اور ایک نظم و ضبط کے ماتحت جہاد کی ضرورت و اہمیت تحریر: حسن غازی الحمدللہ! مجاہدینِ پاکستان نے اپنی جہادی تاریخ کے ہر مرحلے میں یہ حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھی اور اپنے عمل سے محسوس کی کہ جب بھی صفوں میں بے نظمی آئی، قیادت تقسیم ہوئی، اور نظم و ضبط کی زنجیر کمزور پڑی — تو صفِ جہاد کو پیچھے ہٹنا پڑا، اور مجاہدین کو وقتی طور پر ہجرت کی زندگی اختیار کرنا پڑی۔ مگر! اللہ کا شکر ہے کہ دشمن صرف زمین جیت سکا، ہمارے حوصلے، ہمارا ایمان، اور ہمارا مقصد اُس کے قابو میں نہ آیا۔ کیونکہ اصل شکست ہدف سے پیچھے ہٹنا ہوتا ہے، اور الحمدللہ مجاہدینِ پاکستان آج بھی اپنی منزل پر قائم ہیں۔ ذرا نگاہ دوڑائیے! امارت اسلامیہ افغانستان نے کس طرح ایک امیر اور منظم قیادت کے زیرِسایہ جہاد کیا۔ ہر سازش، ہر رکاوٹ اور ہر فتنہ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، قربانیاں دیں، اور بالآخر آج اللہ کے فضل سے افغانستان کی سرزمین پر امارت اسلامیہ کے نام سے اسلامی نظام قائم ہے۔ یہ کامیابی اُس اتحاد، اجتماع اور اطاعتِ امیر کا ثمر ہے جسے انہوں نے سینے سے لگایا تھا۔ اسی طرح اگر مجاہدینِ پاکستان بھی اس پاک سرزمین پر اللہ کا نظام نافذ دیکھنا چاہتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ پاکستان میں کفریہ، استعماری، اور ظالمانہ نظام کا خاتمہ ہو — تو لازم ہے کہ صفوں میں اتحاد پیدا کریں، بد نظمی سے بچیں، اور ایک امیر اور ایک تحریک کے نظم و ضبط کے تحت جدوجہد جاری رکھیں۔ ہم تحریک طالبان پاکستان کے لوائح اور جھنڈے تلے جہاد جاری رکھیں گے۔ جو شخص بھی اس راہِ عزیمت میں ہمارے ساتھ شریک ہونا چاہے، وہ تحریک کے اصول و ضوابط کے مطابق ہم سے بیعت کرے، اور اس قافلۂ حق میں شامل ہو۔ ہماری کامیابی امارت، اطاعت اور اتحاد میں ہے — اور ہار تفرقہ، خودسری اور نافرمانی میں۔ لہٰذا آؤ! اس قافلے کا حصہ بنو، امیر کی اطاعت کرو، تحریک کی صفوں میں شامل ہو جاؤ، تاکہ ہم مل کر پاکستان کو بھی امارت اسلامیہ پاکستان بنا سکیں۔ الشیخ مفتی ابو منصور عاصم حفظہ اللہ امیرِ تحریک طالبان پاکستان ــــــــــــــــــــــــــ ادارہ بنیان مرصوص برائے نشر واشاعت https://t.me/Banyan_urdu_bot

جھنڈا+جہالت امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ کچھ لوگوں نے رسمی عبادت تو سیکھ لی مگر علم کو ضائع کردیا، پس (جہالت کی وجہ سے) انہوں نے امتِ محمدیہ کو تلواروں سے کاٹ ڈالا۔ اگر وہ حقیقی عالم حاصل کرلیتے تو ایسا نہ کرتے۔(مفتاح دارالسعادۃ لابن القیم) حقیقی علم اور اسکے تقاضوں کو پس پشت ڈالنے کی وجہ سے پھر یہی تو ہوتا ہے کہ یہاں ہمارا جھنڈا چلے گا، فلاں کا نہیں۔ او بھائی کس مقصد کیلئے لوگوں کو اکھٹا کیا؟؟ کیا پیغام دینا چاہ رہے ہو؟؟ اور کر کیا رہے ہو؟؟ جہل کی وجہ سے اگر خارجیوں نے امت کا خون بہایا ہے تو تم نے جہل کی وجہ سے امت کو مختلف ٹولیوں میں تقسیم کر رکھا ہے اور کررہے ہو۔ #دعوت_فکر

ایک امیر، ایک جھنڈا، ایک جماعت: کامیابی کا راز تحریر: سیف الدین ہلال "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا" دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی قوم یا جماعت اتحاد و اتفاق کا دامن تھام لیتی ہے، اور اپنی صفوں میں انتشار و تفریق کو جگہ نہیں دیتی، تو اللہ رب العزت اسے کامیابی و نصرت سے نواز دیتا ہے۔ اور جب بھی امت مسلمہ نے گروہ بندیوں، شخصی مفادات اور اناؤں کے طوفان میں اپنے قدم کھو دیے، تو وہ اپنی ہی تلواروں کا شکار بنی اور دشمن اس کے سینے پر سوار ہوا۔ امارت اسلامیہ افغانستان کی بیس سالہ جدوجہد اس اتحاد و یگانگت کی روشن مثال ہے۔ ان کی کامیابی کا راز یہی تھا کہ وہ ایک امیر کے تحت، ایک جھنڈے تلے، اور ایک منظم جماعت کی صورت میں متحد رہے۔ جو بھی مہاجر افغانستان میں جہاد کے لیے آتا، وہ اسی امارت کی بیعت میں شامل ہو کر اس کارواں کا حصہ بن جاتا۔ کسی کو اپنی الگ جماعت یا گروہ بنانے کی اجازت نہ تھی۔ امارت کے ابتدائی ادوار میں بھی جب کبھی گروہ بندیاں ہوئیں، تو وہی ہوا جو تاریخ کا المیہ ہے — خون ریزی، فساد اور دشمن ایجنسیوں کی دراندازی۔ مگر جیسے ہی وہ ایک تحریک کی صورت میں مجتمع ہوئے، آج وہ ایک مستحکم اسلامی ریاست کی صورت میں دنیا کے نقشے پر موجود ہیں، الحمدللہ۔ اسی طرح صومالیہ کی تحریک "الشباب المجاہدین" کی بڑھتی ہوئی قوت اور ترقی کا راز بھی یہی ہے کہ وہاں کسی دوسرے گروہ یا تنظیم کو عسکری سرگرمیوں کی اجازت نہیں۔ جو گروہ یا جماعت اس وحدت کے دائرے سے باہر نکلی، اسے بے دردی سے کچل دیا گیا۔ کیوں کہ تاریخ کا سبق ہے کہ جب صفوں میں انتشار پیدا ہو، تو دشمن اپنی ایجنسیاں اور ایجنٹس داخل کر کے تحریکوں کو آپس میں لڑا دیتا ہے، اور جہاد کے ثمرات ضائع ہو جاتے ہیں۔ آج صومالیہ میں توحید کا پرچم لہرانے کی تیاریاں مکمل ہیں، ان شاءاللہ۔ اسی اصول کی روشنی میں پاکستان کا اسلامی انقلابی مستقبل بھی اسی وقت روشن ہوگا، جب ہم "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا" کی عملی تصویر بن کر ایک امیر، ایک جھنڈے اور ایک منظم تحریک کے تحت جمع ہو کر جہاد اور دعوت کا فریضہ ادا کریں گے۔ اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی عسکری و دعوتی تحریک "تحریک طالبان پاکستان" ہے، جس کے ساتھ ملک بھر کے تقریباً ساٹھ سے زائد چھوٹے بڑے جہادی مجموعے شامل ہوچکے ہیں، اور ہر دن اس کی دعوت و برکت سے مزید لوگ جوق در جوق شریک ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے جہادی منظرنامے میں جتنے بھی ماضی کے نقصان اور فتنہ و فساد برپا ہوئے، ان سب کی بنیادی وجہ یہی الگ الگ گروہ، حلقے اور قیادتیں تھیں، جن کا دشمن ایجنسیوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اپنے ایجنٹس کو شامل کیا اور صفوں میں انتشار پیدا کر کے مجاہدین کو ایک دوسرے کا گلا کاٹنے پر مجبور کیا۔ آج بھی وقت کی سب سے بڑی پکار اور امت مسلمہ کے نوجوانوں، مجاہدین، اور مخلص اہل اسلام کے لیے سب سے اہم دعوت یہی ہے کہ وہ اپنی ذات کی انا، قبائلی تعصب، اور شخصی مفادات سے بلند ہو کر صرف اللہ کی رضا، اسلامی نظام کے قیام، مظلوم مسلمانوں کی نصرت اور ظالم طاغوتی نظام کے خاتمے کی خاطر تحریک طالبان پاکستان کی چھتری تلے متحد ہو جائیں۔ اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ میں شریک ہو کر رب العزت کی نصرت اور شہادت کی نعمت حاصل کریں۔ ماضی کے خونریز واقعات کا غیرجانبدار تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ پاکستان میں عسکری و فکری جہاد کے لیے تحریک طالبان پاکستان کے سوا کسی اور گروہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں۔ اور جو اس حقیقت سے آنکھ چرا کر الگ راہ اختیار کرے گا، وہ یا تو خود دشمن کے ہاتھوں استعمال ہوگا، یا امت کے اتحاد کو نقصان دے گا۔ آئیے! اپنی اناؤں کو دفن کر کے، باطل جمہوری، سودی، اور طاغوتی نظام کے خلاف ایک امیر، ایک جھنڈے اور ایک منظم تحریک کے سائے تلے جمع ہو جائیں۔ تاکہ رب العزت کی مدد ہمارے شامل حال ہو، اور ہم پاکستان کو طاغوتی زنجیروں سے نکال کر ایک صالح اسلامی ریاست بنا سکیں، ان شاءاللہ۔ "وما علینا الا البلاغ" #دعوت_فکر #تعلیمات_اسلامیہ #اس_نظام_بدی_سے_بغاوت_کریں

پچھلی امتوں میں اللہ تعالی کی سنت یہ تھی کہ قوم کی سرکشی پر انبیاء علیہم السلام بدعاء فرماتے تو اللہ تعالی آسمانی عذاب نازل فرماکر سرکشوں کو صفحہ ہستی سے مٹادیتے جبکہ امتِ محمدیہ میں اللہ تعالی کی سنت یہ ہے کہ اسلحہ اٹھانے کے بعد اللہ تعالی امت کے ہاتھوں سرکشوں کی گرفت فرماتے ہیں: قَاتِلُوۡہُمۡ یُعَذِّبۡہُمُ اللّٰہُ بِاَیۡدِیۡکُمۡ وَ یُخۡزِہِمۡ وَ یَنۡصُرۡکُمۡ عَلَیۡہِمۡ وَ یَشۡفِ صُدُوۡرَ قَوۡمٍ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۙ۱۴﴾ #دعوت_فکر #جہاد_فرض_عین_ہوچکا