en
Feedback
🇸 🇧 🇱 🇲 🇪 🇩 🇮 🇦

🇸 🇧 🇱 🇲 🇪 🇩 🇮 🇦

Open in Telegram

👉Hikayat (Video+Written) 👉Qurani Ayaat+Ahadees (Arabic+Urdu+English) 👉 WhatsApp Status (Short 30 seconds) 👉 Short texts (Wise words) 👉 Short Videos WhatsApp 👇 https://chat.whatsapp.com/EgIvFjmOtrT4ImbmRTfti3 Telegram 👇 http://T.me/SBLMEDIA

Show more
470
Subscribers
No data24 hours
No data7 days
No data30 days
Posts Archive
کبھی کبھی شام کچھ اس طرح ڈھلتی ہے کہ ہمیں اپنے دل سمیت سب کچھ ڈوبتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ زوال چاہے دن کا ہو یا کسی عروج کا ہمیشہ اداس کر جاتا ہے. کاپی پیسٹ @MSislamicMedia7

🔸 ٹوٹ ٹوٹ کر دل پختہ ہوجاتا ہے ...🔸 ایک وقت آتا ہے کہ انسان بات بات پر شکوے کرنا ختم کردیتا ہے۔۔۔ روٹھ جانا ، منہ بسور لینا ، منانے کے تقاضے کرنا ، اس کی طبیعت سے نکل جاتا ہے۔۔۔ لیکن کیا کوئی ایسا شخص ہوگا جس کی طبیعت سے شکوہ مکمل ختم ہوسکے ....؟؟؟ جب اپنے ساتھ چھوڑ جائیں۔۔۔ جب دل کے قریب بسنے والے امیدیں توڑ دیں۔۔۔ جب کوئی دغا کرے۔۔۔ جب کسی کے چہرے سے مکر کا نقاب اتر جائے۔۔۔ تو شکوہ تو ضرور پیدا ہوگا۔۔۔ ہاں پیدا ہوگا لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ عمر کے ساتھ فہم و تدبر جب بال و پر نکالتے ہیں تو انسان کا ظرف بڑھ جاتا ہے۔۔۔ ہمالہ جیسی وزنی باتیں بھی بے وزن ثابت ہوتی ہیں۔۔۔ ٹوٹ ٹوٹ کر دل پختہ ہوجاتا ہے۔۔۔ پھر انسان اتنا مضبوط ہوجاتا ہے کہ امیدیں ٹوٹنے سے وہ خود نہیں ٹوٹ جاتا۔۔۔ زہر جیسے تلخ رویے وہ خندہ پیشانی اور معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ پی جاتا ہے۔۔۔ لیکن اس مقام تک پہنچتے پہنچتے وہ کئی مرتبہ ٹوٹتا ہے ، گرتا ہے ، بکھرتا ہے ، پل پل مرتا ہے ، تنہائی کاٹتا ہے پھر یہ آہن صفت انسان وجود میں آتا ہے۔ @MSislamicMedia7

بہت اہم ہوتے ہیں وہ لوگ جو صرف پھول نہیـــں دیتے. بلکہ پھولوں کی طرح رکھتے بھی ہیں. @MSislamicMedia7

سیانے کہا کرتے تھے کہ ، ”تم اپنے اندر اپنے بچپن کو کبھی مرنے نہ دینا۔ اس طرح تم بوڑھے نہیں ھو گے. اگر تم اپنے بچپن کو اپنے اندر سنبھال کر نہ رکھ سکے تو پھر تمھیں بوڑھا ھونے سے کوئی روک نہ پائے گا“۔ شاید ھم سب کو ضرورت ھے کہ ھم سب اپنے اندر بچپن کی وہ خوبیاں اُجاگر کریں جو نفرت ، حسد اور اِس جیسی برائیوں سے پاک ھوتی ھیں۔ محبت بچپن کا خاصا ھے۔ معصوم شرارتیں اور بونگیاں ذھنی تندرستی کے لیے بہت ضروری ھے۔ ”اشفاق احمد“ ”زاویہ“ سے اقتباس @MSislamicMedia7

🔸نہ دکھ سدا رہتا ہے اور نہ سکھ ...🔸 وقت کی ایک خوبصورتی ہے کہ یہ کبھی بھی ایک جیسا نہیں رہتا۔مشکل ہو تو آسانی بھی مل ہی جاتی ہے۔ حالات چاہے جتنے بھی کٹھن ہوں، مشکلات کے بادل جتنے بھی کالے کیوں نہ ہوں، آسانی کی صبح کا سورج ضرور طلوع ہوتا ہے۔نہ دکھ سدا رہتا ہے اور نہ سکھ۔ ایسے ہی ناکامی اور کامیابی بھی ہمیشہ کےلیے نہیں ہے۔ اس لیے سب سے اہم بات یہ کہ انسان کو کبھی بھی مایوس نہیں ہونا چاہئے۔بلکہ مشکلات کے آنے پر، مایوسی کے اندھیروں میں بھی امید اور یقین کا چراغ جلاتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ اگر انسان مایوسی کے اندھیرے میں امید کا چراغ جلاتا ہے تو اس کی روشنی انسان کے وجود کو منور کردیتی ہے۔اس روشنی سے انسان باطنی اور ظاہری طریقے سے مزید مضبوط ہوجاتا ہے۔ وہ سمجھ جاتا ہے کہ یہ ناکامیاں اور مشکل وقت سب عارضی ہے۔ وہ اس حقیقت سے آشنا ہوجاتا ہے کہ یہ زوال، یہ مشکلات سب انسان کی ہمت کو جانچنے کےلیے قدرت نے پیمانے بناے ہوئے ہیں۔ کیونکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان اپنی فتح اور کامیابی سے اتنا مضبوط نہیں ہوتا، جتنا وہ اپنے زوال اور ناکامی سے مضبوط ہوتا ہے @MSislamicMedia7

اگر انسان میں اتنی قابلیت ہے کہ وہ بےجان پتھروں کو جوڑ کے اتنے خوبصورت شاہکار بنا سکتا ہے تو نرم ونازک احساسات رکھنے والے ٹوٹے دلوں کو جوڑ کے پتھر ہونے سے کیوں نہیں بچا سکتا...!! @MSislamicMedia7

زندگی میں چاہے جس بھی مقام پر پہنچو بس اتنے قابل ضرور ہو جانا کہ تم کسی کا انتخاب بن سکو مجبوری نہیں۔ جو تمہیں منتخب کرے تم اُس کا وقار بنو اُس کی برداشت نہیں۔ @MSislamicMedia7

🌹 استقامت بغیر مقصد کے نہیں آئ گی۔ 🌹 جتنا مقصد واضح اور بڑا ہوگا اُسی قدر استقامت نصیب ہوگی۔ @MSislamicMedia7

*🔸کچھ لوگ جوان کیوں نظر آتے ہیں ...؟🔸* کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ لوگ اپنی اصل عمر سے چھوٹے نظر آتے ہیں اور اس کی وجہ کیا ہوتی ہے؟ ان کے سینے کی کشادگی، ان کی نیک نیتی اور ان کے لوگوں کے بارے نظریات حسد و کینہ سے پاک ہونے کی وجہ سے ہر ہفتے ان کے چہرے کے خلیات کی تجدید ہوتی رہتی ہے۔ ان کے مثبت خیالات جو ان کے جسم کے خلیات کو زندہ رکھتے ہیں ان کے چہرے کی سکن ہر وقت غصے سے یا جلنے بھننے سے سکڑتی نہیں ہے ان کی معاف کرنے والی روحیں اور خوش مزاج دل جو ان کے دماغوں میں خوشی کو پمپ کرتی ہیں اور وہ دشمن اور دوست کے ساتھ مستقل مسکراہٹوں کے ساتھ پیش آتے ہیں جس وجہ سے خون کی گردش چہرے کو تازہ رکھتی ہے ان کے دل خود کو اکثر ملامت کرتے ہیں کہ کسی دوسرے کے حقوق کی ادائیگی میں کمی کوتاہی نہ کریں اسی احتیاط میں سنبھل کر رہتے ہیں اور غموں پریشانیوں سے صاف رہتے ہیں ان کے چہروں پر قناعت کے آثار نمودار ہوتے ہیں یہاں تک کہ جب ان کے ملازمین بھی زیادتی کر لیں تو وہ یہ سوچ کر چپ ہوجاتے ہیں کہ مظلوم ہونا ظالم ہونے سے ہزار درجہ بہتر ہے اور جو قناعت جیسے ہنر میں ماہر ہو وہ کبھی ڈپریشن ٹینشن ہارٹ پرابلم ذہنی دباؤ اور دلی گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوتا جبکہ یہی مسائل انسان کو جلد بوڑھا کر دیتے ہیں لہذا اپنے دلوں کو حسد تکبر کینہ جلن سے پاک رکھیں جوان رہیں گے قناعت صبر اور کشادہ دل رکھیں حسین رہا کریں گے۔ @MSislamicMedia7

👈 اتنی بڑی کائنات کے ایک چھوٹے سے سیارے پہ لاکھوں سالوں کی تاریخ میں چند سالوں کے لیے آیا ہوا انسان کیسے سمجھ لیتا ہے کہ میں ہی سب کچھ ہوں"' @MSislamicMedia7

*عورت کی عزت اس کے شوہر سے ہوتی ہے جو عورتیں اپنے شوہر کی برائیاں کرتی ہیں وہ اپنی کم عقلی میں اپنی عزت خود گنوا بیٹھتی ہیں اعلیٰ ظرف رکھنے والی عورتیں اپنے شوہر کو شہزادہ بنا کر خود کو شہزادی بنا لیتی ہیں @MSislamicMedia7

Photo from Muhammad Sarmad Latif
Photo from Muhammad Sarmad Latif

. 🔷 سنہری باتیں...🔷 🔹... اچھا ساتھی وہ ہے جسے دیکھنا تمہیں خدا کی یاد میں مصروف کردے۔ جس کی گفتگو تمہارے علم میں اضافہ کرے اور جس کا عمل آخرت کی یاد دلائے۔ 🔹... اپنی زبان کی حفاظت کرو کیوں کہ عزت اور ذلت کی یہی زمہ دار ہے۔ 🔹... اکثر لوگ زبان کے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے۔ 🔹... جو غلطی نہیں کرتا وہ فرشتہ ہے۔ جو غلطی کر کے ڈٹ جائے وہ شیطان ہے اور جو غلطی کر کے فوراً توبہ کرلے وہ انسان ہے۔ 🔹... دنیا میں بہترین اور مخلص رشتے وہی ہیں جہاں ناراضگی کے بعد معمولی سی مسکراہٹ اور ہلکی سی معذرت سے تعلق پہلے جیسا ہو جائے۔ 🔹... زندگی میں سادگی اپناؤ ، جتنی سادہ تمہاری زندگی ہوگی اتنی پریشانیاں کم ہوں گی۔ 🔹... مقدر اتنی بار بدلتا ہے جتنی بار بندہ اللّٰه تعالیٰ عزوجل سے رجوع کرتا ہے۔ 🔹... چار چیزوں کو چار چیزوں سے دھویا کرو: زبان کو اللّٰه تعالیٰ عزوجل کے ذکر سے ، آنکھوں کو آنسوؤں سے ، گناہوں کو استغفار سے اور دل کو خوف خدا سے۔ 🔹... گھر وہ ہے جہاں اللّٰه تعالیٰ عزوجل کا ذکر ہوتا ہو اور جس گھر میں اللّٰه تعالیٰ عزوجل کا ذکر نہ ہو وہ تو قبرستان ہے۔ لہٰذا اپنے گھروں کو اللّٰه تعالیٰ عزوجل کے ذکر سے آباد کرو۔ @MSislamicMedia7

Photo from Muhammad Sarmad Latif
Photo from Muhammad Sarmad Latif

شکست اور ناکامی دونوں زندگی کا حصہ ہیں...اگر شکست اور ناکامی نہ ہو تو...انسان سیکھ ہی نہیں سکتا...لہذا جسے درد سہنا آ گیا وہی سیکھ سکتا ہے...!!! @MSislamicMedia7

👈 جس نے کوشش کی اس نے حاصل کر لیا ' اور جو سویا رہا اس نے خواب دیکھے۔ @MSislamicMedia7

دلوں میں تیرے بارے میں غلط فہمی پیدا ہو گئی تھی- وہ خیال کرنے لگے کے تو مکروفریب کا جال بچھائے بیٹھا ہے- یہ بات ہمیں پسند نہیں کہ یہ لوگ بدنصیبی اور گمراہی میں گرفتار ہوں اور اللہ والوں کے بارے میں بد گمانی رکھیں- اس لئے ہم نے تیری یہ کرامت سب پر ظاہر کر دی - یہ چراغ ان لوگوں کی خیر خواہی کے لیے روشن کیا گیا ہے اس الہام کے بعد درویش نے مستانہ وار نعرہ لگایا اور ربُّ العزت کی تسبیح کرتا ہوا سجدہ میں گر گیا- اور خوب رویا کہ مالک تو جو کرتا ہے وہ عین حکمت ہے ہم سب کی لغزشیں معاف فرما- *درسِ حیات* ★اپنے عہد کی پاسداری کرو- ★جب کوئی مسلمان ہوتا ہے گویا وہ اپنے رب سے عہد کرتا ہے کہ اے اللہ ربُّ العزت! میں تیرے احکامات کی پیروی کروں گا- ★ جو خدا کے ساتھ عہد کر کے توڑتا ہے اسے نقصان اٹھانا پڑتا ہے- @MSislamicMedia7

خدا سے عہد کرنا🌹 ایک درویش دُور اندیش دنیا سے منہ موڑ کر اپنے مالک سے ناتا جوڑ کر دشوار گزار پہاڑیوں میں رہا کرتا تھا- تنِ تنہا عبادت الہی کی خوشبو میں دن رات مست رہتا اور دنیا پرست لوگوں کے نفس کی بَدبُو سے پریشان دماغ ہو جاتا- جنگل میں ہزار ہا درخت پھلوں اور میووٓں کے تھے- اس درویش خدا مست کی خوراک یہی جنگلی پھل اور میوے تھے- ان چیزوں کے علاوہ اور کچھ نہیں کھاتا تھا-ایک دن بیٹھے بٹھائے نہ جانے کیا خیال آیا کہ خدا سے ایک عجیب و غریب عہد کر بیٹھا کہ اے میرے اللہ! میں آئندہ ان درختوں سے نہ خود میوہ توڑوں گا- نہ کسی اور کو کہوں گا کہ مجھے پھل توڑ کے دے- میں وہ پھل نہ کھاؤں گاجسے ڈالیاں زمین سے اونچا رکھیں- میں وہ پھل اور میوہ کھاؤں گا جو ہوا کے جھونکوں سے خود جھڑ کر زمین پر آن گرے- غرض اس طرح کا عہد اس مردِ درویش نے خدا سے کر لیا اور مدّتوں اس پر قائم رہا- ایک دفعہ قدرت خدا کی پانچ دن گزر گئے کسی درخت سے کوئی پھل نہ گرا- بھوک کی آگ نے درویش کو بے قرار اور مضطرب کر دیا کسی پَل چین نہیں آ رہا تھا - اسی عالم میں جنگل سے گزرتے ہوئے ایک امرود کا درخت دیکھا جس کی ڈالیاں زرد زرد اور بڑے بڑے امرودوں سے بھری ہوئی تھیں- درویش وہاں کھڑا ہو کر حسرت بھری نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگا- درویش نے بڑا صبر کیا اور خود کو قابو میں رکھا- یکایک زور کی ہوا چلی درویش کو کچھ سہارا ہوا- مگر کافی دیر تک پھل ٹوٹ کر زمین پر نہ گرا - صبر حد سے گزر گیا- درویش کا نفس بے قابو ہو گیا- معدے کے اندر سےہُوک اٹھی اور خدا سے جو عہد استوار کیا تھا وہ توڑ بیٹھا فوراً ہاتھ بڑھا کر امرود توڑ لیا اور پیٹ کی آگ بجھا لی - *”عہد ٹوٹ گیا-“* غیرتِ خداوندی حرکت میں آئی ان دشوار گزار پہاڑوں میں چوروں اور قزاقوں کا ایک گروہ آگیا- راتوں کو وہ گروہ شہروں اور بستیوں میں جا کر لُوٹتا اور دن کو واپس آ کر وہاں رہتا- کوتوال کو ان قزاقوں کے بارے میں اطلاع ہو گئی- کوتوال نے سپاہیوں کی ایک بڑی جماعت بھیجی- انہوں نے اس پہاڑی اور جنگل کا گھیراؤ کر لیا- اس درویش کا مسکن بھی قریب ہی تھا- سپاہیوں نے تمام چوروں کو گرفتار کر لیا- درویش باوا کو بھی ان کا ساتھی سمجھ کر پکڑ لیا- کوتوال نے حکم دیا،انھیں جیل میں بند کر دو- چند دنوں کے بعد عدالت میں مقدمہ پیش ہوا- بعد میں یہ فرمان جاری ہوا کہ ہر ایک کا بایاں پاؤں اور دایاں ہاتھ کاٹ دیا جائے- جلَّاد نے کوتوال کا حکم ملتے ہی تلوار چلانی شروع کر دی- وہ ساری جگہ نالہ و شیون سے گونج اٹھی درویش کا دایاں ہاتھ کٹ گیا- جلَّاد ان کا بایاں پاؤں کاٹنے کے لیے تیار ہو رہا تھا کہ یکایک ایک گھڑ سوار تیزی سے وہاں نمودار ہوا اور جلَّاد سے لکارا:”ارے مردود! زرا دھیان کر یہ شخص بہت بڑا شیخ اور ابدالِ وقت ہے- تو کیا ظلم ڈھا رہا ہے - اب خدا کے عذاب کا انتظار کر-“ گھڑ سوار کی یہ آواز سنتے ہی جلَّاد کے ہاتھ سے تلوار چھُوٹ گئی-عالمِ وحشت میں بھاگا سیدھا کوتوال کے پاس گیا اور اسے حادثے سے آگاہ کیا- کوتوال کے ہوش اڑ گئے- لرزاں و ترساں برہنہ سر اور برہنہ پاؤں درویش کی خدمت میں ہاتھ باندھے حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا:” اے خدا کے مقبول بندے! مجھے خبر نہ تھی آپ کون ہیں؟ میں نے آپ پر سخت زیادتی کی ، لاعلمی میں یہ خطا سرزد ہو گئی ہے ، خدا کے لیے آپ ہمیں بخش دیجیے-“ درویش نے کہا:”اس میں تمھارا کوئی قصور نہیں جس گناہ کی پاداش میں میرا ہاتھ کاٹا گیا ہے اس کو میں جانتا ہوں- تجھے ان حالات کی کیا خبر لہذا تم بے فکر رہو- لوگوں میں اب اس درویش کا نام ہتھ کٹا شیخ مشہور ہو گیا-“ ایک دفعہ ایک آدمی بے وقت اور بغیر اجازت لئے جھونپڑی میں گھس آیا - آگے کیا دیکھتا ہے کہ مردِ قلندر اپنے دونوں ہاتھوں سے خرقہٓ درویشی میں پیوند لگا رہا ہے - اس نے حیرت سے دانتوں میں انگلی دے کر کہا:” حضرت میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں؟ آپ کے تو دونوں ہاتھ صحیح سلامت ہیں، لوگ خواه مخواہ کہتے ہیں کہ آپ کا دایاں ہاتھ کٹا ہوا ہے-“ درویش نے کہا” ارے او میری جان کے دشمن تو جھونپڑی میں بغیر اجازت کیوں آگیا؟-“ اس نے ندامت سے عرض کیا: ” حضرت مجھے آپ کی زیارت کا بے حد اشتیاق تھا اس شوقِ ملاقات سے مغلوب ہو کر یہ غلطی کر بیٹھا-“ درویش نے اس کی محبت اور خلوص دیکھ کر کہاکہ:” اب تو آ گیا ہے تو ادہر بیٹھ جا - لیکن خبردار ! جو کچھ تو نے دیکھا اس کا ذکر میری زندگی میں ظاہر نہ کرنا-“ انسان کے چاہنے یہ نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا - ان کی گفتگو کے دوران ملاقات کے لیے جھونپڑی کے باہر کافی لوگ اکٹھے ہو چکے تھے- انہوں نے بھی کسی سوراخ سے شیخ کو دونوں ہاتھوں سے پیوند لگاتے دیکھ لیا تھا- ان سب پر درویش کی کرامت کا راز کھل گیا- درویش نے دل میں کہا :” اے میرے اللہ! اس حکمت سے تو ہی خوب آگاہ ہے- میں جتنا اس کو چھپانا چاہتا تھا - اتنا ہی تو نے اسے ظاہر کر دیا ہے- “ اسی وقت درویش کو القاء ہوا جب تیرا ہاتھ چوروں کے ساتھ کاٹا گیا تھا - لوگوں کے

Photo from Muhammad Sarmad Latif
Photo from Muhammad Sarmad Latif

اگر آپ پوری دنیا پر قابو پانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے آپ پر قابو پائیں۔ @MSislamicMedia7