الجامعة الاشرفيه بيت المعارف
Open in Telegram
اس چینل کا مقصد بندگان خدا کو معاشرہ میں پھیلی ہوئی منکرات اور برائیوں سے بچاکر اصلاح نفس کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ بمقتضاء "الدال علی الخیر کفاعله" اپنے دوست و احباب کو بھی چینل میں شمولیت کی دعوت دیں. رابطہ ☜ @Baitul_Maarifbot شامل ہوں⬇️ t.me/baitul_maarif
Show more1 675
Subscribers
No data24 hours
+87 days
+830 days
Posts Archive
بہت سے لوگ تبلیغِ دین کے لئے
حرام و ناجائز طریقے استعمال کرتے ہیں،
ایسے لوگوں کو دین کی ہوا بھی نہیں لگی ہوتی!
یاد رکھیں!
حرام اور ناجائز چیزوں سے دین کی تبلیغ نہیں ہوتی،
ہاں البتہ آپ کے "مفکرِ ملت" اور "مصلحِ امت"
ہونے کی تبلیغ ضرور ہو سکتی ہے۔
ہم اصولِ دین اور شرعی قواعد کے مکلف ہیں،
فوائد اور نتائج کے نہیں۔
تبلیغ وہی ہے جو شرعی اصول و ضوابط کے مطابق ہو۔
اللہ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ دے۔
محمد مجاہد خیرآبادی
*دعوتِ دین* میں *ناجائز ذرائع سے پرہیز* کے بارے میں *علامہ یوسف بنوریؒ* کی اہم نصیحت
(*علامہ یوسف بنوریؒ نے فرمایا کہ*) اس سلسلے میں میں ایک *اصولی بات* کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ ہم لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کے *مکلف نہیں ہیں* کہ جس طرح بھی ممکن ہو لوگوں کو پکا مسلمان بنا کر چھوڑیں، ہاں! اس بات کے *مکلف ضرور ہیں* کہ *تبلیغِ دین* کے لیے جتنے *جائز ذرائع و وسائل* ہمارے بس میں ہیں ان کو اختیار کرکے اپنی پوری کوشش صرف کردیں۔ اسلام نے ہمیں جہاں تبلیغ کا حکم دیا ہے، وہاں *تبلیغ کے باوقار طریقے اور آداب* بھی بتائے ہیں۔ ہم ان طریقوں اور آداب کے دائرے میں رہ کر تبلیغ کے مکلف ہیں۔
اگر ہم *جائز وسائل* کے ذریعے اور *آدابِ تبلیغ* کے ساتھ ایک شخص کو بھی دین کا پابند بنا دیں گے تو ہماری تبلیغ کامیاب ہے، اور اگر *ناجائز ذرائع* اختیار کرکے ہم سو آدمیوں کو بھی اپنا ہم نوا بنا لیں تو اس کامیابی کی اللہ کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ کیونکہ *دین کے احکام کو پامال کرکے جو تبلیغ کی جائے گی وہ دین کی نہیں، کسی اور چیز کی تبلیغ ہوگی۔*
*فلم* (ویڈیو) اپنے مزاج کے لحاظ سے بذاتِ خود اسلام کے احکام کے خلاف ہے، لہٰذا ہم اس کے ذریعے تبلیغِ دین کے مکلف نہیں ہیں۔ اگر کوئی شخص *جائز اور باوقار طریقوں* سے ہماری دعوت کو قبول کرتا ہے تو ہمارے دیدہ و دل اس کے لیے *فرشِ راہ* ہیں، لیکن جو شخص فلم (ویڈیو) دیکھے بغیر دین کی بات سننے کے لیے تیار نہ ہو، اسے فلم (ویڈیو) کے ذریعے دعوت دینے سے ہم معذور ہیں۔ اگر ہم یہ موقف اختیار نہ کریں تو آج ہم لوگوں کے مزاج کی رعایت سے فلم(ویڈیو) کو تبلیغ کے لیے استعمال کریں گے، کل *بے حجاب خواتین* کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا اور *رقص و سرود کی محفلوں* سے لوگوں کو دین کی طرف بلانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس طرح ہم تبلیغ کے نام پر خود *دین کے ایک ایک حکم کو پامال* کرنے کے مرتکب ہوں گے۔
(*شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں:*) یہ کونسل میں *مولانا (بنوریؒ) کی آخری تقریر* تھی اور غور سے دیکھا جائے تو یہ تمام دعوتِ دین کا کام کرنے والوں کے لیے مولانا کی *آخری وصیت* تھی، جو *لوحِ دل پر نقش کرنے کے لائق* ہے۔
🖋️: *شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم*
📖 *نقوشِ رفتگاں، صفحہ 104-105*
بہ شکریہ: *مشربِ حکیم الامتؒ*
حقیقتِ ذکر اللہ
🎙️ مسیج الامت حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحب جلال آبادی ؒ
#مختصر_کلپ
𝐟𝐨𝐥𝐥𝐨𝐰 𝐨𝐧 𝐖𝐡𝐚𝐭𝐬𝐀𝐩𝐩 ⬇️:
https://tinyurl.com/Baitulmaarif
𝐉𝐨𝐢𝐧 𝐓𝐞𝐥𝐞𝐠𝐫𝐚𝐦: ⬇️
https://t.me/baitul_maarif
❤️ㅤ ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
ویڈیو گیم کا شرعی حکم
شہید اسلام مولانا یوسف لدھیانویؒ
سوال… ویڈیو گیمز جو کہ مغربی ممالک کے بعد اب ہمارے ملک میں رواج پذیر ہیں، اس کے شائقین ہمارے یہاں ایک دو روپے دے کر اپنے شوق کی تکمیل کرتے ہیں، جبکہ اس میں کسی قسم کی کوئی شرط، نہ کسی قسم کے اِنعام کا لالچ دیا جاتا ہے، بلکہ یہ گیم دیگر اُمور کے علاوہ نشانہ بازی وغیرہ پر مشتمل ہوتا ہے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب: ویڈیو گیم اور دیکھنے والوں کے مشاہدے سے جہاں تک پتا چلا اور حقیقت معلوم ہوئی، یہ کھیل چند وجوہات سے شرعاً جائز نہیں۔
اوّل:… اس کھیل میں دِینی اور جسمانی کوئی فائدہ مقصود نہیں ہوتا، اور جو کھیل ان دونوں فائدوں سے خالی ہو، وہ جائز نہیں۔
دوم:… اس میں وقت اور روپیہ ضائع ہوتا ہے، اور ذکر اللہ سے غافل کرنے والا ہے۔
سوم:… سب سے شدید ضرر یہ کہ اس کھیل کی عادت پڑنے پر چھوڑنا دُشوار ہوتا ہے۔
چہارم:… بعض گیم تصویر اور فوٹو پر مشتمل ہوتے ہیں جو کہ شرعاً ناجائز ہے۔
پنجم:… اس کھیل سے بچوں کو اگرچہ دِلی فرحت اور لذّت حاصل ہوتی ہے، لیکن ناجائز چیزوں سے لذّت حاصل کرنا بھی حرام ہے، بلکہ بعض فقہاء نے کفر تک لکھا ہے۔
علاوہ ازیں اس سے بچوں کا ذہن خراب ہوتا ہے اور اس سے بامقصد تعلیم میں خلل واقع ہوتا ہے، پھر بچوں کو پڑھائی اور دُوسرے فائدے والے کاموں میں دِلچسپی نہیں رہتی، وغیرہ۔ ان مذکورہ وجوہات کی بنا پر یہ کھیل، باری تعالیٰ کے ارشاد کا مصداق ہے: “بعض لوگ اپنی جہالت سے کھیل تماشے اختیار کرتے ہیں اور اس میں پیسہ خرچ کرتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو بھٹکادیں اور دِین کی باتوں کو کھیل تماشا بناتے ہیں، انہی لوگوں کے لئے اہانت والا عذاب ہے۔”
(سورہٴ لقمان آیت نمبر:۶)
حضرت حسنؒ ”لہو الحدیث“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ: آیاتِ مذکورہ میں لہو الحدیث سے مراد ہر وہ چیز ہے جو اللہ کی عبادت اور اس کی یاد سے ہٹانے والی ہو، مثلاً فضول لہو و لعب، فضول قصہ گوئی، ہنسی مذاق کی باتیں، واہیات مشغلے اور گانا بجانا وغیرہ۔ واضح رہے کہ مذکورہ آیات کی شانِ نزول اگرچہ خاص ہے، مگر عمومِ الفاظ کی وجہ سے حکم عام رہے گا، یعنی جو کھیل فضول اور وقت و پیسہ ضائع کرنے والا ہے، وہی آیاتِ مذکورہ کی وعید میں داخل ہے۔ چونکہ ویڈیو گیم میں یہ ساری قباحتیں موجود ہیں، اس لئے یہ گیم ناجائز ہے، اس میں وقت اور پیسہ لگانا ناجائز ہے اور اس کو ترک کردینا لازم ہے۔
آپ کے مسائل اور انکا حل - جلد ہفتم
#فتاوی
𝐟𝐨𝐥𝐥𝐨𝐰 𝐨𝐧 𝐖𝐡𝐚𝐭𝐬𝐀𝐩𝐩 ⬇️:
https://tinyurl.com/Baitulmaarif
𝐉𝐨𝐢𝐧 𝐓𝐞𝐥𝐞𝐠𝐫𝐚𝐦: ⬇️
https://t.me/baitul_maarif
❤️ㅤ ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
حضرت والا تھانویؒ کا اہلِ خانہ کے حقوق کا غیر معمولی اہتمام
حکیم الامت مجدد الملت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ
فرمایا کہ ذکر کرنے کی تو بات نہ تھی، مگر چونکہ ضرورت ہے اس لیے کہتا ہوں کہ میرے گھر والوں سے معلوم کیا جائے کہ میں اپنے گھر والوں پر کس قدر حکومت کرتا ہوں اور ان سے کیا کیا خدمتیں لیتا ہوں۔ الحمدللہ! میں نہ خود مقید ہوتا ہوں، نہ دوسروں کو مقید کرتا ہوں، بادشاہوں کی سی زندگی بسر ہوتی ہے۔ میرا معمول ہے کہ گھر جا کر دیکھا کہ تازی روٹی نہیں پکی تو باسی روٹی کھا لی، اور اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ دیکھا کہ وہ کسی کام میں مشغول ہیں، خود اپنے ہاتھ سے روٹی لے لی، پانی بھر کے پاس رکھ لیا، برتن لے کر اپنے ہاتھ سے سالن لے لیا اور بیٹھ کر کھا لیا، بلکہ یہاں تک کرتا ہوں کہ دیکھتا ہوں کہ وہ روٹی وغیرہ پکانے میں مشغول ہیں اور اُن کو کسی چیز کی ضرورت ہے، اکثر گھروں میں ایسا ہوتا ہے، مثلاً پانی کی ضرورت ہے، اپنے ہاتھ یا نل سے یا گھڑے سے لوٹا بھر کر دے دیتا ہوں، اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جا کر جب دیکھا کہ فارغ ہیں تو کہہ دیا کہ کھانا لاؤ، وہ بیچاری دے دیتی ہیں۔ ان باتوں کی رعایت رکھنا ضروری ہے۔ اور مشغولی، عدمِ مشغولی ہی پر کیا موقوف ہے۔ انسان ہی تو ہے، ہر وقت طبیعت یکساں نہیں رہتی، کسی وقت خادم کی طبیعت پر کسل ہوتا ہے اور اپنی طبیعت بشاش دیکھی، اپنے سب کام اپنے ہاتھ سے کر لیے۔ غرضیکہ اس کا کوئی معمول یا التزام نہیں کہ وہی کریں۔ سو اگر حدود میں رہتے ہوئے اور ان کے راحت و آرام کا خیال کرتے ہوئے ان سے خدمت بھی لی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں، آخر ہیں کس مرض کی دوا، لیکن بے مروتی اور بے رحمی اور ظلم کا درجہ تو نہ ہونا چاہیے۔
📖 ماخوذ از: الافاضات الیومیہ جلد 2 ملفوظ 1
+3
اشتہار شائع کرکے اور لوگوں کو دعوت ديکر شیخ کے ساتھ اجتماعی اعتکاف کا طریقہ قابلِ اجتناب ہے
جامعہ دارالعلوم کراچی کا فتویٰ
مصدقہ از شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
#فتاوی
𝐟𝐨𝐥𝐥𝐨𝐰 𝐨𝐧 𝐖𝐡𝐚𝐭𝐬𝐀𝐩𝐩 ⬇️:
https://tinyurl.com/Baitulmaarif
𝐉𝐨𝐢𝐧 𝐓𝐞𝐥𝐞𝐠𝐫𝐚𝐦: ⬇️
https://t.me/baitul_maarif
❤️ㅤ ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉعنوان : صبر سے گھر سنورتا ہے
اور غصے سے بگڑتا ہے
🎙️حضرتِ اقدس حضرت شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم
𝐟𝐨𝐥𝐥𝐨𝐰 𝐨𝐧 𝐖𝐡𝐚𝐭𝐬𝐀𝐩𝐩 ⬇️:
https://tinyurl.com/Baitulmaarif
𝐉𝐨𝐢𝐧 𝐓𝐞𝐥𝐞𝐠𝐫𝐚𝐦: ⬇️
https://t.me/baitul_maarif
❤️ㅤ ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
طواف وداع کیے بغیر چلا گیا تو اس کاحکم یہ ہے کہ میقات سے پہلے پہلے اس پر رجوع واجب ہے ،
میقات سے باہر رہنے والے آفاقی لوگوں پر حج کے بعدمنی سے واپس آنے کے بعد میقات سے باہر جانے سے پہلے طواف وداع کرنا واجب ہے، البتہ طوافِ زیارت کے بعد کوئی بھی نفلی طواف کیا وہ طوافِ وداع کے قائم مقام ہوجائے گا، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر آپ نے طوافِ زیارت کے بعد کوئی اورنفلی طواف کیا ہے تو زیارت کے لیے طائف جاسکتےہیں، لیکن اگر کوئی طواف نہیں کیا تو طوافِ وداع کرنے سے پہلے میقات سے باہر نکلنے کی صورت میں دم لازم ہوگا، تاہم طائف سے واپسی پر عمرہ کا احرام باندھ کر دوبارہ آنے سے دم ساقط ہوجائے گا، البتہ ایسا کرنا بُرا ہے، اور میقات سے عمرہ کا احرام باندھ کر واپس آکر پہلے عمرہ کیا جائے اور اس کے بعد پھر طوافِ وداع کیا جائے۔(شامی 2/553، بدائع 2/142) فقط واللہ اعلم
نسبتِ اکابر کی حفاظت اہلِ سلسلہ کی ذمہ داری ہے (قسط ۲)
گزشتہ روز مولانا عبدالستار صاحب بوڈیہ والے کے متعلق ہماری تحریر کے جواب میں ایک صاحب نے یہ بات پیش کی کہ: ’’مولانا عبدالستار صاحب حضرت جلال آبادیؒ کے خلیفہ تھے، اس کا تذکرہ بھائی جانؒ کے سامنے ہو گیا تھا، اور بھائی جانؒ نے اپنی طرف سے بھی مولانا عبدالستار صاحب کو اجازت دی تھی۔‘‘
اس کے متعلق پہلی گزارش تو یہ ہے کہ حضرت جلال آبادیؒ کے خلفاء کی فہرست بھائی جانؒ نے شائع کروائی تھی۔ جب انہیں یہ معلوم تھا کہ مولانا عبدالستار صاحب کو حضرت جلال آبادیؒ نے اجازتِ بیعت دی ہے تو پھر اس فہرست میں ان کا نام درج کیوں نہیں کروایا گیا؟ بھائی جانؒ کا انتقال حضرت جلال آبادیؒ کی رحلت کے تقریباً بیس سال بعد ہوا۔ اس دوران سلسلہ کے کن اکابر کے سامنے اس بات کو پیش کیا گیا کہ مولانا عبدالستار صاحب کو حضرت جلال آبادیؒ نے اجازتِ بیعت دی ہے؟
مزید اس معاملے میں بھائی جانؒ کے خلفاء کی جو فہرست ہمارے پیشِ خدمت ہے، اس میں ساتویں نمبر پر مولانا عبدالستار صاحب بوڈیہ کا نام درج ہے۔
یہاں ایک اصول ذہن نشین فرما لیں۔ ہمارے حضرت تھانویؒ کے سلسلے کے بزرگ جب کسی کو اجازت مرحمت فرماتے تھے، اور وہ پہلے سے کسی بزرگ کے مجاز ہوتے، تو اپنی فہرست میں ضرور اس بات کا تذکرہ فرماتے ہیں کہ ان کو پہلے سے فلاں بزرگ سے اجازت حاصل ہے۔ بھائی جانؒ کے خلفاء کی فہرست ملاحظہ فرمائیں، نویں نمبر پر جب ایک صاحب کا نام درج ہے تو ان کے نام کے ساتھ باقاعدہ یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ ان کو پہلے سے کس بزرگ سے اجازت حاصل ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر مولانا عبدالستار صاحب کو حضرت جلال آبادیؒ سے اجازت حاصل تھی، اور انہوں نے بھائی جانؒ کے سامنے بھی اس کا اظہار فرمایا تھا، اور بھائی جانؒ نے اس بات پر اعتماد بھی کر لیا تھا، تو پھر مولانا عبدالستار صاحب کے نام کے ساتھ فہرست میں اس بات کا تذکرہ کیوں نہیں کیا گیا؟
(یہ طریقہ تو مولانا عبدالستار صاحب کا ایجاد کردہ معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے بزرگوں کے تربیت یافتہ مجازین کو اپنی طرف متوجہ کرکے اعزازی اجازت دے دی جائے، پھر خود ہی فیس بک پر اعلان کیا جائے کہ یہ مولانا عبدالستار صاحب کے خلیفۂ اجل ہیں، اور ان کی اصل نسبت کو حذف کر دیا جائے۔ ہمارے بزرگ ان سب خرافات سے بری ہیں۔)
آج بھی ہندوستان میں حضرت جلال آبادیؒ سے منسلک بہت سے حضرات حیات ہیں، جو حضرت جلال آبادیؒ کے بہت قریب رہے ہیں، اور حضرت جلال آبادیؒ کی رحلت کے بعد بھی جلال آباد سے ان کا تعلق رہا ہے۔ اہلِ سلسلہ کے نزدیک وہ حضرات ثقہ اور قابلِ اعتماد ہیں، اور وہ سب مولانا عبدالستار صاحب کے دعوے کی تردید کرتے ہیں۔
لہٰذا ایسے معاملے میں جذبات یا شخصی تعلقات کے بجائے حضرت جلال آبادیؒ کے طریقۂ کار، اکابر کے معمولات اور سلسلے کے مستند شواہد کو سامنے رکھنا چاہیے، تاکہ کسی بزرگ کی طرف ایسی نسبت منسوب نہ ہو جو حقیقت کے خلاف ہو، اور آنے والی نسلیں کسی غلط انتساب یا مغالطے کا شکار نہ ہوں۔
بندہ عبدالغفور الٰہ آبادی
یک از خدام حضرت شاہ جلال آبادیؒ
*نسبتِ اکابر کی حفاظت اہلِ سلسلہ کی ذمہ داری ہے*
نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ، أَمَّا بَعْدُ!
تصوف و سلوک میں کسی بزرگ کی طرف اپنی نسبت ظاہر کرنا اور خود کو کسی بزرگ کا مجازِ بیعت قرار دینا نہایت نازک اور اہم معاملہ ہے۔ اس کا اثر بعد میں آنے والوں پر بہت زیادہ پڑتا ہے، اور اگر اس معاملے میں بے احتیاطی برتی جائے تو آگے چل کر اس شخص سے وابستہ مجازین کا سلسلہ ہی منقطع ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اگر کہیں اس سلسلے میں بے احتیاطی یا کسی غلط نسبت کا معاملہ سامنے آئے تو اہلِ سلسلہ پر لازم ہے کہ صحیح حقیقت کو واضح کرکے سامنے رکھا جائے، تاکہ کل آنے والی نسلیں کسی غلط نسبت اور مغالطے کا شکار نہ ہوں۔
ایسا ہی ایک معاملہ ہمارے مسیح الامت حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحب جلال آبادیؒ کی نسبت کے ساتھ کچھ سالوں سے ہندوستان میں پیش آ رہا ہے۔
*مولانا قاری عبدالستار صاحب بوڈیہ والے گزشتہ کچھ سالوں سے اپنے آپ کو حضرت جلال آبادیؒ کا خلیفہ ظاہر کر رہے ہیں*، اور اس اظہار کی وجہ سے بہت سے بڑے اور معزز حضرات بھی مغالطے میں آ گئے ہیں۔ اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں چند حقائق کی وضاحت کر دی جائے۔
پہلی بات یہ سمجھنے کی ہے کہ جب آج مولانا عبدالستار صاحب سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ کو حضرت جلال آبادیؒ سے اجازت حاصل ہے؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہاں، حضرتؒ نے میرے کان میں کہا تھا کہ آپ کو اجازت ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ حضرت جلال آبادیؒ جب کسی کو اجازت عطا فرماتے تھے تو اس کا نام باقاعدہ فہرست میں لکھواتے تھے، لیکن مولانا عبدالستار صاحب کا نام اس فہرست میں موجود نہیں ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ حضرت جلال آبادیؒ کے انتقال کے بعد بھائی جانؒ نے حضرت جلال آبادیؒ کے مجازین کی فہرست شائع کروائی، اور مولانا عبدالستار صاحب کا بھائی جانؒ سے سالہا سال تک تعلق رہا۔ تو اگر وہ حضرت جلال آبادیؒ کے مجاز تھے، تو مولانا عبدالستار صاحب نے بھائی جانؒ کے سامنے اس کا اظہار کرکے اپنا نام اس فہرست میں شائع کیوں نہیں کروایا؟
اگر کوئی یہ کہے کہ انہوں نے اخلاص اور تواضع کی وجہ سے اپنی اجازت کو مخفی رکھا، تو پھر حضرت جلال آبادیؒ کے انتقال کے تقریباً تیس سال بعد اس بات کا اعلان کیوں کیا جا رہا ہے؟
ہمارے بزرگوں کے یہاں ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی کا رواج نہیں تھا، لیکن جب کل تک یہ معاملہ اخفا میں تھا تو آج ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی کے ذریعہ اس کی اس قدر نمائش کیوں؟
حضرت جلال آبادیؒ کو قریب سے دیکھنے والے حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ حضرتؒ اپنے پیر و مرشد، امت کے حکیم اور ملت کے مجدد حضرت تھانویؒ کی تعلیمات اور اُن کے مشرب کی کتنی پاسداری فرماتے تھے۔ حضرت جلال آبادیؒ کے یہاں کسی کو اتنی آسانی سے بیعت نہیں کیا جاتا تھا، جتنی آسانی سے مولانا عبدالستار صاحب کے ذریعہ آنے والے نامور علماء کو اعزازی خلافت دی جا رہی ہے۔ ان کے قریبی احباب نامور علماء کو وہاں بیان کے لیے مدعو کرتے ہیں، اور واپسی کے وقت انہیں اعزازی اجازت عطا کر دی جاتی ہے، پھر دوسرے روز یہ اعلان سامنے آتا ہے کہ فلاں بڑے مدرسے کے مدرس، مولانا عبدالستار صاحب کے خلیفۂ اجل ہیں۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ مولانا عبدالستار صاحب کی آخری عمر میں ان سے یہ سب کچھ اس غرض سے کروایا جا رہا ہو کہ کل کو ان قریبی احباب کے لیے یہ دکان خوب سجی سجائی تیار رہے؟
خدارا! اہلِ سلسلہ جن کو اس معاملے کی تمام حقیقتیں معلوم ہیں، وہ اس حقیقت کو اُن علماء کے سامنے ضرور رکھیں جو حضرت جلال آبادیؒ کی نسبت سے وہاں حاضر ہو رہے ہیں، اور علانیہ طور پر عوام کے سامنے بھی اس غلط نسبت کی تردید کرنا اہلِ سلسلہ پر لازم ہے، تاکہ حضرت جلال آبادیؒ کی صحیح نسبت محفوظ رہے اور بعد میں آنے والے لوگ کسی غلط نسبت اور مغالطے کا شکار نہ ہوں۔
*ہندوستان میں اس وقت حضرت جلال آبادیؒ کے واحد خلیفہ (مجازِ بیعتِ) حیات ہیں، جن کا نام حضرت مفتی عبدالرحیم صاحب مدراسی دامت برکاتہم ہیں۔ پلمنیر آندھرا پردیش میں بڑے ادارہ کے بانی و مہتمم ہیں، ماشاء اللہ دین کی خدمت اخفا کے ساتھ، اپنے بزرگوں کے طریقہ پر انجام دے رہے ہیں*۔
اکابر کی صحیح نسبتوں کی حفاظت اہلِ سلسلہ کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ ایسے معاملات میں نہایت احتیاط، دیانت اور ذمہ داری کے ساتھ حقائق کو واضح کرنا ضروری ہے، تاکہ ہمارے اکابر کی صحیح نسبتیں محفوظ رہیں اور بعد میں آنے والی نسلیں کسی غلط انتساب یا مغالطے کا شکار نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اکابر کی نسبتوں کی حفاظت کرنے، حق کو حق سمجھنے اور اسے واضح طور پر بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
بندہ عبد الغفور اشاعتی، الہ آبادی،
Follow the Baitul Ma’arif official channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Va7ytAQ1t90hteK4L82z
Follow the Baitul Ma’arif official channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Va7ytAQ1t90hteK4L82z
