مجموعة الداعیــــان لتعلیــم القـــرآن
Open in Telegram
درس قرآن(تفسیر ابن کثیر)منتخب احادیثِ مبارکہ،اقوال السلف،علماء کرام کے اوڈیو،ویڈیو بیانات،فضائل اعمـال،ردِ الحـاد،تـزکیة النفـوس،قبر جنت و جہنم کا تذکرہ ،اصلاحی تحریریں وغیرہ کے موضاعات پر پوسٹیں ڈالی جائیں گی
Show more2 127
Subscribers
No data24 hours
-47 days
-2530 days
Posts Archive
نماز کے احکام ومسائل سیریز(3)
دورانِ نماز موذی چیز کو مارنا
سوال: اگر دوران نماز بچھو وغیرہ نظر آ جائے تو کیا اسے مارا جا سکتا ہے؟
جواب: دوران نماز اگر کوئی بھی نقصان دہ چیز سامنے آئے تو اسے ختم کیا جا سکتا ہے مثلاً اگر دوران نماز موبائل کی گھنٹی بجنا شروع ہو جائے یا بجلی بند کرنے کی ضرورت پڑے اور بجلی کا بٹن سامنے ہو تو ایسے حالات میں موبائل یا بجلی بند کی جا سکتی ہے اگر بچھو نظر آئے تو اسے بھی دوران نماز مارا جا سکتا ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’تم نماز میں دو سیاہ جانوروں یعنی سانپ اور بچھو کو مار دیا کرو۔(ترمذی، الصلوۃ:۳۹۰)
اس حدیث کے پیش نظر دوران نماز کسی بھی نقصان دہ چیز کو ختم کیا جا سکتا ہے، اگر بچھو وغیرہ نظر آئے تو اسے بھی مارا جا سکتا ہے۔ (واللہ اعلم)
فتاویٰ اصحاب الحدیث،ج:٤،ص:٨٠
ابو العالیہ ہمیشہ لوگوں کو حصول علم کی ترغیب دیا کرتے تھے اور تحصیل علم کی راہوں کی نشاندہی کیا کرتے تھے۔ آپ کہا کرتے تھے:
علم کے حصول میں اپنے آپ کو عاجز و در ماندہ کرلو۔ اور علم سے متعلق بکثرت سوال کیا کرو۔ یہ بات جان لو کہ علم دو آدمیوں ایک شرمیلے اور دوسرے متکبر کے سامنے اپنے پہلو نہیں جھکا ہے۔
شرمیلا آدمی اپنی شرم کے باعث اور متکبر اپنی کبریائی کے زعم میں سوال نہیں کرتا۔
(تذکرہ تابعین 290)
نماز کے احکام ومسائل سیریز(2)
کسی نے اول شب وتر پڑھ لیے پھر آخر شب قیام کیا
سوال: میں نے اول شب وتر پڑھ لیے پھر آخر شب قیام کیا، تو اب نماز کیسے پڑھوں؟
جواب: اگر آپ نے اول شب وتر پڑھ لیے تھے پھر توفیق الٰہی سے آخر شب قیام میسر آیا، تو اس صورت میں وتروں کے علاوہ دو دو رکعتیں نماز پڑھیں۔ نبیﷺ کا ارشاد مبارک ہے:
(لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ)ایک رات میں دو بار وتر نہیں ہے۔‘‘
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے کہ نبیﷺ وتروں کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ آپﷺ لوگوں کو وتروں کے بعد نماز کے جواز کے بارے میں بتانا چاہتے تھے۔ واللہ اعلم
…شیخ ابن اب باز…
فتاوی برائے خواتین،ص:١٠٩
Repost from 🌹 Islamic Quiz 🌹
2487. جب تین شخص کسی سفر پر نکلے تو کیا کرنا چاہئے...؟؟؟
تابعی ابن محیریز رحمہ اللہ اپنے غلام کے ساتھ سودا لینے گئے۔ پیسے کچھ کم پڑ گئے۔ غلام نے دکاندار کو اشارہ کیا کہ یہ معروف امام ہیں، رعایت کرو۔ ابن محیریز غلام سے کہنے لگے : ”نکل جاؤ، ہم اپنے مال سے سودا خریدتے ہیں، اپنے دین سے نہیں۔“
(الإخلاص والنية لابن أبي الدنيا : ١٥)
حذیفہ مرعشی رحمہ اللہ نے یوسف بن اسباط رحمہ اللہ کو لکھا : "مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے اپنا دین دو دو ٹَکوں کے عوض بیچ ڈالا ہے۔ تم نے ایک دودھ والے سے پوچھا: ’’یہ کتنے کا ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’یہ آپ کیلیے سدس (چھٹے حصے) کا ہے۔‘‘ تم نے کہا: ’’نہیں، ثمن (آٹھویں حصے) کا۔‘‘ اس نے کہا: ’’چلیں ٹھیک، یہ آپ کا ہوا۔‘‘ کیونکہ وہ تمہیں پہچانتا تھا!!"
(أخلاق العلماء للآجري : ٣٨)
نماز کے احکام ومسائل سیریز(1)
ظہر کی سنتیں
سوال: اگر کوئی ظہر سے پہلے سنتیں نہیں پڑھ سکا تو کیا فرض نماز کے بعد انہیں ادا کیا جا سکتاہے، اس سلسلہ میں ہماری قرآن و حدیث کے مطابق راہنمائی فرمائیں۔
جواب: اگر بھول جائے یا سو جانے یا دیر سے آنے کی وجہ سے سنتیں رہ جائیں تو ان کی قضا ادا کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے : ’’جو شخص کسی نماز کو بھول جائے یا نماز کے وقت سویا رہے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے جب یاد آئے تو اس وقت پڑھ لے۔“ (صحیح بخاری، الصلوٰۃ:۵۹۷)
اس طرح اگر مصروفیت کی وجہ سے سنتیں رہ جائیں تو مصروفیت ختم ہونے کے بعد انہیں پڑھا جا سکتا ہے۔ چنانچہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ایک مرتبہ مصروفیت کی وجہ سے ظہر کے بعد والی دو سنتیں نہیں پڑھ سکے تھے تو آپﷺ نے عصر کے بعد مصروفیت کے اختتام پر انہیں ادا کیا تھا۔(صحیح بخاری٬السھو:۱۲۳۳)
ان احادیث کی روشنی میں اگر نماز ظہر سے پہلے والی سنتیں رہ جائیں تو انہیں نماز کے بعد ادا کیا جا سکتا ہے لیکن پہلے نماز ظہر کے بعد والی دو سنتیں پڑھی جائیں پھر ان کے بعد پہلی چار سنتیں ادا کی جائیں۔(واللہ اعلم)
فتاوی اصحاب الحدیث٬ص:۱۲۱
اللہ سبحانہ وتعالی نے جن کاموں کا حکم دیا ہے ان پر عمل کرنے کا ثواب اور بدلہ دس گنا رکھا ہے اور جن کاموں سے منع کیا ہے ان سے رکنے کا اجر اور بدلہ ایک گنا ہی رکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس پر عمل کرنا نہی سے رکنے کی نسبت زیادہ محبوب عمل ہے۔ اگر یہ بات اس کے الٹ ہوتی تو نیکی کا بدلہ ایک گنا ہوتا اور برائی سے بچنے کا اجر دس گنا،یا کم از کم دونوں کا اجر برابر ہوتا۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ | الفوائد
