en
Feedback
🌍دیوان لوح وقلم🌎

🌍دیوان لوح وقلم🌎

Open in Telegram

. فکر انگیزاسلامی,تحقیقی,تاریخی,سیاسیی,سماجی ومعاشی مضامین ومقالات,خطبات جمعہ اور سنی ماہناموں کا خزانہ.

Show more
2 137
Subscribers
No data24 hours
+37 days
+1830 days
Posts Archive
تفسير قران اور وهابي دهرم.pdf1.08 MB

مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما اہل علم پر اعتماد اور حقائق کی توضیح (1)دینی احکام بیان کرنا علمائے اسلام کا فرض منصبی ہے۔جب اصحاب علم مذہبی احکام بیان کریں تو ان پر عمل لازم ہے۔حدیث نبوی میں ہے:(العلماء ورثۃ الانبیاء)علمائے دین ہی اب دینی و شرعی احکام بیان کریں گے۔ختم نبوت کے سبب کسی نبی جدید کی آمد نہیں ہو سکتی۔ (2)علمائے اسلام بشر غیر معصوم ہیں۔ان کی لغزشوں کی تصحیح ان علمائے کرام کو کرنی لازم ہے جو ان لغزشوں پر مطلع ہوں۔ان کی لغزشوں کو صحیح بتانا علمی خیانت اور دین ومذہب کے ساتھ بددیانتی ہے۔ (3)علامہ سید ابن عابدین شامی(1198-1252)نے شرح عقود رسم المفتی کے شروع حصے میں رقم فرمایا کہ فقہ حنفی کی بعض کتابوں میں مرقوم تھا کہ تلاوت قرآن پر اجرت جائز ہے اور یہی مفتی بہ قول ہے۔بہت سے فقہائے کرام نے اس مسئلہ کو اپنی کتابوں میں نقل کر دیا۔ان ناقلین میں سے اکثر حضرات نے یہ بھی فرما دیا کہ طاعات پر اجرت جائز ہے۔بعض نے اس پر تفریع کرتے ہوئے فرمایا کہ حج پر اجرت جائز ہے۔علامہ شامی نے فرمایا کہ یہ صریح خطا ہے۔یعنی ان میں سے کوئی قول صحیح نہیں ہے،بلکہ تلاوت قرآن ودیگر طاعات وحج وغیرہ پر اجرت حرام ہے۔ (4)جن فقہائے کرام نے تلاوت قرآن پر اجرت کو جائز بتایا،یا جو حضرات اس مسئلہ کو اپنی کتابوں میں نقل کئے۔وہ یقینا عہد ماضی کے فقہائے احناف ہیں۔علامہ شامی کی وفات تیرہویں صدی ہجری میں ہوئی،پس وہ فقہائے احناف ان سے پہلے کے ہوں گے یا بعض ان کے معاصر بھی ہو سکتے ہیں۔بہر کیف عہد ماضی کے فقہائے کرام پندرہویں صدی ہجری کے فقہائے کرام سے یقینا علم وفضل،اتباع شرع وتقوی شعاری،حزم واحتیاط اور خوف الہی میں بڑھ کر ہوں گے۔ (5)عہد حاضر کے مسلمانان اہل سنت یہ بتائیں کہ ان فقہائے کرام کے قول کو اختیار کرتے ہوئے آپ لوگ تلاوت قرآن پر اجرت کو جائز مانیں گے یا ان کے قول کو لغزش پر محمول کرتے ہوئے تلاوت وطاعات پر اجرت کو حرام مانیں گے؟ (6)عہد ماضی میں جو اہل حق تھے،وہ جان بجھ کر کسی غلط بات پر اصرار نہیں کرتے تھے اور جو اصرار کرتا،ان کی تردید کی جاتی۔اگر اس پر کوئی شرعی حکم وارد ہوتا تو وہ بھی بیان کیا جاتا۔عصر حاضر کا حال جداگانہ ہے۔ (7)عہد رواں کا حال یہ ہے کہ اگر کسی عالم سے لاشعوری طور پر لغزش ہو گئی ہو تو جو شخص اس کی تصحیح کرے گا،وہ مطعون ہو گا۔ بعض اہل علم کے لئے ان کی لغزش واضح نہیں ہو پاتی ہے تو وہ اس کی تقویت کے لئے مستحکم حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔ چوں کہ میں باب اعتقادیات کی خدمت انجام دیتا ہوں تو اعتقادی امور سے متعلق مختلف قسم کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہوں اور اللہ ورسول(عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)سے مدد مانگ کر مفاسد کو دور کرنے کی کوشش بھی کرتا ہوں۔ طارق انور مصباحی جاری کردہ:10:ستمبر 2026

مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما امام فخر الدین رازی اور شیطانی تاویلات (1)امام اہل سنت قدس سرہُ العزیز کا قول الملفوظ میں منقول ہے کہ امام فخر الدین رازی شافعی علیہ الرحمۃ والرضوان کی وفات کے وقت شیطان نمودار ہوا اور ان سے توحید خداوندی پر دلیل طلب کیا۔انہوں نے جتنے دلائل عقیدۂ توحید پر پیش کیے،شیطان نے ان تمام دلائل کو رد کر دیا،یعنی ہر دلیل کی باطل تاویل کر دی۔اب امام فخر الدین رازی کے پاس دلائل ختم ہو چکے تھے،حالاں کہ وہ اپنے عہد سے آج تک امام المتکلمین کے لقب سے متعارف ہیں،لیکن ابلیس لعین نے تاویلات باطلہ کے ذریعہ ہر دلیل کو رد کر دیا۔ امام رازی کے شیخ طریقت حضرت نجم الدین کبری قدس سرہ العزیز کہیں دور تھے اور بذریعہ کشف حالات کو ملاحظہ فرما رہے تھے،انہوں نے وہیں سے تلقین فرمائی کہ فخر الدین! کہو کہ میں خدا کو بلا دلیل ایک مانتا ہوں۔جب بندہ بلا دلیل خدا کو ایک یقین کرے تو اب شیطان کیا کرے۔ (2)شیطان ملعون نے دلائل توحید کی کیا تاویل باطل کی تھی،وہ تو منقول نہیں،لیکن یہ ضرور سچ ہے کہ حق کے خلاف جو بھی تاویل ہوگی،وہ باطل وفاسد ہی ہو گی۔وہ صحیح تاویل نہیں ہو سکتی۔ (3)مثلا دلائل توحید کی یہ باطل تاویل کی جائے کہ خدا ایک ہے،یعنی خدا ایک جماعت ہے،پس رام بھی خدا ہے اور لچھمن بھی خدا،یزدان بھی خدا ہے اور اہرمن بھی خدا۔ ایسی باطل تاویلیں کچھ لوگوں کو غلط راہ پر ڈال سکتی ہیں اور صحیح تاویل و غلط تاویل کی تمیز بہت آسان نہیں،بلکہ ضلالت وگمرہی کا اہم سبب غلط تاویل ہی ہے۔ اعاذنا الرحمن من تاویل الشیطان امام غزالی(450-505)نے(1) المستصفی فی اصول الفقہ اور (2)فیصل التفرقۃ بین الاسلام والزندقہ میں خاص کر علم تاویل میں ضعف کے سبب فقہائے کرام کو تکفیر کلامی میں بحث کرنے سے منع فرمایا.جب چھٹی صدی ہجری کے فقہائے کرام کے لئے علم تاویل اس قدر مشکل شمار کیا گیا تو پندرہویں صدی ہجری کے فقہائے کرام کا حال کیا ہو گا۔الغرض علم تاویل سے ضروری مقدار میں واقف وآشنا ہونا لازم ہے،ورنہ خود اپنی غلط تاویل کو بھی صحیح سمجھتے رہیں گے اور اپنا اور اپنے متبعین کا دین وایمان تباہ وبرباد کر بیٹھیں گے۔ امام غزالی کے اقوال ہمارے رسالہ:"علم عقائد اور فن کلام:تعلیم اور ضرورت"(ص20-25)میں منقول ہیں۔ (4)پندرہویں صدی ہجری میں اگر بہ تقدیر الٰہی یا کسی اور وجہ سے بعض اہل علم سے لغزش صادر ہو جائے تو وہ اس پر نظر ثانی کرنے سے گھبراتے ہیں اور تاویل کی پناہ لیتے ہیں،اگرچہ وہ تاویل صحیح نہ ہو۔موجودہ ماحول کی بدحالی کے سبب وہ اس پر نظر ثانی کرنے کی ہمت نہیں رکھتے،کیوں کہ اس سے رجوع کرنے پر لوگ ان پر طعن کریں گے اور ان کو کم علم سمجھیں گے،حالاں کہ اہل علم سے ہی تحقیقی لغزش ہو سکتی ہے۔جو تحقیق نہ کر سکتا ہو،اس سے تحقیقی لغزش کیسے ہو گی۔ گرتے ہیں شہ سوار ہی میدان جنگ میں وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے (5)اگر فاسد حالات کے سبب ایسے مجبور ومضطر افراد کی غلط تشریح قبول کر لی جائے تو دین ومذہب تباہ وبرباد ہو جائے گا،لہذا میں ایسے امور پر بحث کرتا ہوں،تاکہ اللہ ورسول(عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کے فضل واحسان سے رفتہ رفتہ حق واضح ہوتا جائے۔ طارق انور مصباحی جاری کردہ:09:ستمبر 2026

احادیث ضعیفہ اور احکام فقہیہ ضعیف احادیث سے متعلق تفصیلی مباحث اور غیر مقلدین کے اعتراض کا جواب کہ مذاہب اربعہ میں ضعیف حدیثوں سے استدلال کیا گیا ہے۔ از: طارق انور مصباحی صفحات:150

تعداد احادیث:دس لاکھ احادیث مرویہ کی تعداد کی تحقیق از: طارق انور مصباحی صفحات:40

احادیث وآثار اور مجتہدین اسلام قول مجتہدین (اذا صح الحدیث فہو مذہبی)کی تشریح از: طارق انور مصباحی صفحات:58

اصول تصحیح وتضعیف احادیث مرویہ کی تصحیح وتضعیف کے اصول وقوانین کا بیان از: طارق انور مصباحی صفحات:211

+5
اصول تخریج احادیث علم تخریج حدیث کے اصول وضوابط کا بیان از:طارق انور مصباحی صفحات:72

علوم حدیث کے دس رسائل حسب ذیل ہیں

مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما پندرہویں صدی ہجری اور جدید اعتقادی نظریات (مضمون اول) سوال:دیوبندی عوام کو سنی کہنا کیسا ہے؟ جواب:جن کو دیوبندی عوام کہا جا رہا ہے،اگر ان کے اندر کسی قسم کی بداعتقادی نہیں ہے،نہ وہ کفر میں مبتلا ہیں،نہ ہی کسی قسم کی ضلالت وگمرہی میں تو ان کو دیوبندی کہنا غلط ہے۔کسی سنی صحیح العقیدہ کو دیوبندی کہنے کا جو حکم ہے،وہ حکم اس قائل پر وارد ہو گا۔ اگر ان کے اندر کچھ نہ کچھ برے عقائد ہیں،مٹلا وہ فاتحہ ونیاز ودیگر معمولات اہل سنت کو شرک وبدعت کہتے ہیں تو وہ کافر فقہی ہیں۔کافر فقہی کو سنی صحیح العقیدہ بتانے والا خود ہی کافر فقہی ہے۔ اگر وہ معمولات اہل سنت کو صرف بدعت وناجائز کہتے ہیں تو گمراہ ہیں۔گمراہ کو سنی صحیح العقیدہ بتانے والا خود ہی گمراہ ہے۔ الحاصل اس نظریہ پر کچھ نہ کچھ حکم ضرور وارد ہوتا ہے۔یہ نظریہ غلط اور باطل ہے۔ فرقہ وہابیہ،دیوبندیہ کی تفصیلی بحث ہمارے رسالہ:"فرقہ وہابیہ:اقسام واحکام"میں ہے۔ طارق انور مصباحی جاری کردہ:07:ستمبر 2026

مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما اہل حق اور اہل باطل میں واضح فرق (1)کلمہ گویان اسلام میں دونوں قسم کے افراد ہیں،یعنی اہل حق بھی ہیں اور اہل باطل بھی۔باطل پرستوں کی علامت ہے کہ وہ حق کو حق جان کر بھی حق کو قبول نہیں کر پاتے ہیں۔کسی وجہ سے ان لوگوں سے توفیق الٰہی مسلوب ہو جاتی ہے۔کسی وجہ سے اللہ تعالی جل شانہ کسی بندے سے اس قدر ناراض ہوجاتا ہے کہ توفیق کا دروازہ اس کے لئے مسدود ہو جاتا ہے۔اس کی کلمہ خوانی اور اس کی طاعت وعبادت سب کچھ بے کار ہو جاتی ہے۔ (2)اہل باطل صریح کفر پر بھی اصرار کرتے ہیں اور اہل حق قول مرجوح کو بھی قبول نہیں کرتے۔یہ اہل حق اور اہل باطل کے درمیان واضح فرق ہے۔ اہل حق کی مثال یہ ہے کہ امام الائمہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ مجتہد مطلق ہیں۔احادیث طیبہ میں ان سے متعلق بشارتیں موجود ہیں۔فقہیات میں ان کی تقلید کرنے والے ان کے تلامذہ اور مقلدین نے ان کے متعدد مسائل کو مرجوح اور ناقابل عمل قرار دیا۔یہ اہل حق کی علامت ہے کہ مرجوح کو بھی مرجوح ہی بتاتے ہیں،اگرچہ وہ مرجوح قول مجتہد مطلق کا ہو۔ اہل باطل کفر صریح کو بھی قبول کر لیتے ہیں،بلکہ اس پر اصرار کرتے ہیں۔مثال یہ ہے کہ شیر خدا حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ نے ان لوگوں کو آگ میں جلا دیا تھا جو لوگ ان کو خدا مانتے تھے،یعنی آپ نے ان کے نظریہ کو کفر صریح قرار دیا،اسی کفر صریح کے سبب ان لوگوں کو موت کی سزا دی۔ آج بھی ملک شام،لبنان اور ترکی میں ایک گروہ ہے جو خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو خدا مانتا ہے۔اس کا نام فرقہ نصیریہ ہے۔سابق شامی صدر بشار الاسد کا تعلق اسی گروہ سے ہے۔ان لوگوں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔ (3)جب اہل حق مجتہد مطلق کا بیان کردہ مرجوح قول بھی قبول نہیں کر پاتے ہیں اور اس کو ناقابل عمل قرار دیتے ہیں تو ما وشما کے قول مرجوح کو کیسے قبول کیا جا سکتا ہے۔جب مرجوح کو قبول نہیں کیا جا سکتا ہے تو قول باطل کو کیسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ نیم رافضیت،تفضیلیت،وہابیہ اور دیابنہ سے متعلق صلح کلیانہ عقائد ونظریات اور اس قسم کے متعدد مفاسد جو برصغیر کے سنی کہلانے والوں میں منتشر ہیں،کیا اہل سنت وجماعت اس کو قبول کر لیں گے، یا کیا جو لوگ غلط نظریات کو قبول کریں گے،وہ سنی رہیں گے؟ بینوا توجروا ایسا ہوتا آیا ہے کہ چند لوگ غلط بات کو قبول کر لیتے ہیں،لیکن غلط نظریات اور خلاف اہل سنت عقائد کو قبول کرنے والے لوگ سنی نہیں ہو سکتے،بلکہ بدعتی ہوں گے۔ (4)میں نے مثالوں سے واضح کر دیا کہ اہل حق مجتہد مطلق کا مرجوح قول بھی قبول نہیں کرتے اور بفضلہ تعالیٰ میں اہل حق ہوں۔ان شاء اللہ تعالی عزوجل میں کسی دوسرے شخص کا یا خود اپنا مرجوح نظریہ یا باطل نظریہ ہرگز قبول نہیں کروں گا۔اپنے غلط وباطل نظریہ کی تصحیح کروں گا اور دیگر اشخاص کے غلط وباطل نظریات کا بطلان ظاہر کروں گا۔ دیگر افراد تو مجتہد مطلق سے فروتر ہی ہیں۔جب مجتہد مطلق کا قول مرجوح قابل قبول نہیں تو ان سے کم رتبہ افراد کا مرجوح یا غلط نظریہ قابل قبول کیسے ہو گا۔ (5)شرعی اصولوں کے مطابق ہمارا اور تمہارا عالم دین ہونا بھی محل نظر ہے۔ہم لوگ سندی عالم ہیں،یعنی کسی ادارے کے مقررہ نصاب کی تکمیل کے بعد عالمیت کی سند پانے والے ہیں۔شرعی عالم دین جن کے بارے میں بتایا گیا کہ ان کے سبب اتنے لوگوں کی بخشش ہو گی۔بعد موت ان کا جسم محفوظ رہے گا اور بھی بہت سی فضیلتیں ہیں۔مجھے تو نہیں لگتا کہ ما وشما اس منزل میں ہیں،بلکہ بعد مردن خود ہماری بخشش کا بھی حال خدا جانے۔اللہ تعالی عزوجل کی رحمت پر معاملہ موقوف ہے۔ہاں،مومن کو مغفرت وبخشش کی امید رکھنے کا حکم ہے اور عذاب کا خوف بھی رکھنا ہے،یعنی امید و بیم دونوں ہونا چاہیے۔ طارق انور مصباحی جاری کردہ:06:ستمبر 2026

مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما مذہب اہل سنت وجماعت اور حقانیت (1)سواد اعظم یعنی اہل سنت وجماعت فضل الٰہی سے حق پر قائم ومستحکم رہے گا۔یہ بات بھی بیان کی گئی ہے کہ اگر ایک ہی آدمی حق پر ہو تو وہی سواد اعظم ہے۔ہاں،اب تک ہر عہد میں ایسا ہی ہوا کہ مسلمانان اہل سنت وجماعت ہی تعداد میں زائد رہے ہیں۔ (2)سواد اعظم میں صرف اصحاب علم ہی نہیں،بلکہ سنی عوام بھی شامل ہیں۔عوام جو اپنے سنی ہونے کا اقرار کرتے ہوں اور کسی قسم کی بدعت اعتقادی میں مبتلا نہ ہوں تو وہ یقینا اہل سنت وجماعت اور سواد اعظم کا حصہ ہیں۔ (3)قرون اولی سے ہی اصحاب علم کے درمیان بعض ایسے غلط نظریات بھی رونما ہوتے رہے ہیں کہ وہ صاحب علم اور اس کے متبعین اہل سنت سے خارج قرار پائے،مثلا حضرت امام حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ کا شاگرد واصل بن عطا نئی راہ اختیار کر لیا۔پھر کچھ لوگ اس کے پیروکار ہو گئے۔یہ سب اہل سنت وجماعت سے خارج قرار پائے۔ عوام اہل سنت جو واصل بن عطا کے نظریات ہی سے بے خبر اور نا آشنا تھے اور وہ خود کو سنی مانتے اور بتاتے رہے اور کسی بدعت اعتقادی سے متصف ہی نہ ہوئے۔وہ یقینا اہل سنت وجماعت ہیں۔ (4)عصر حاضر میں بھی سنی کہلانے والے اہل علم میں سے بعض نیم رافضیت،بعض تفضیلیت،بعض وہابیہ ودیاںنہ سے متعلق ندویانہ نظریات اور اسی قسم کی بعض بدعتوں میں مبتلا ہیں۔ عام طور پر عوام اہل سنت کو اہل علم کی ان اعتقادی بدعات کا علم ہی نہیں،خاص کر جو لوگ دینی امور سے زیادہ وابستگی نہیں رکھتے،وہ کچھ زیادہ بے خبر اور ناواقف وناآشنا رہتے ہیں،لیکن ایسے لوگ خود کو سنی بتاتے ہیں اور کسی بدعت اعتقادی میں مبتلا نہیں ہیں تو یقینا سواد اعظم میں ہیں اور سنی ہیں۔ (5)الحاصل سواد اعظم میں صحیح العقیدہ اہل علم اور صحیح العقیدہ عوام دونوں شامل ہیں۔محض تعلیم یافتگان ہی سواد اعظم نہیں۔ (6)اصول فقہ کی اصطلاحات میں ظاہر،نص،مفسر ومحکم ہیں۔مفسر کو کلامی اصطلاح میں قطعی الدلالت بالمعنی الاخص کہا جا سکتا ہے۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کا صرف ایک ہی معنی ہے۔اس میں کسی دوسرے معنی کی گنجائش نہیں۔اس میں تاویل وتخصیص کی راہ نہیں۔اصول الشاشی سے مسلم الثبوت تک فارغین مدارس یہ بحث پڑھتے رہتے ہیں۔مفسر کو صریح متعین بھی کہا جاتا ہے۔دیوبندیوں کی کفری عبارتیں کفری معنی میں صریح متعین ہیں،لہذا جو اشخاص اربعہ کی کفری عبارتوں اور ان لوگوں کے اوپر نافذ کردہ حکم کفر سے یقینی طور پر واقف وآشنا ہو کر بھی ان لوگوں کو مومن مانے تو وہ بھی ان لوگوں کی طرح کافر کلامی ہے۔ (7)ایک اہل علم نے کہا کہ صریح متعین(قطعی الدلالت بالمعنی الاخص/مفسر)میں بھی تاویل کی گنجائش ہوتی ہے۔وہ کسی کے یہاں مفسر ہو گا اور کسی کے یہاں غیر مفسر ہو گا۔ اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو پھر دیوبندیوں کی کفریہ عبارتیں دیوبندیوں کے یہاں مفسر نہیں ہیں۔اب وہ اشخاص اربعہ کو کافر کلامی نہ مانیں تو وہ خود کافر کلامی نہیں ہوں گے،بلکہ جب دیابنہ کے یہاں اکابر دیوبند کی کفری عبارتیں مفسر ہی نہیں تو وہ مذکورہ قانون کے مطابق اکابر دیوبند کو کافر کلامی ماننے کے سبب خود مجرم ہوں گے۔ حالاں کہ حکم شرع بیان کیا جاتا ہے کہ جو کوئی بھی دیوبندیوں کے کفریات اور اس پر نافذ کردہ حکم کفر سے آشنا ہو کر اکابر دیوبند کو کاف نہ مانے،وہ بھی کافر ہے۔خلیل بجنوری(م1990)کو تکفیر دیابنہ سے سکوت کے سبب کافر کلامی تسلیم کیا گیا اور ایک سو اسی(180)اکابر اہل سنت نے اس فتوی کی تائید و تصدیق کی۔ (8)جس نے رقم کیاکہ مفسر میں بھی تاویل کی گنجائش ہوتی ہے۔ممکن ہے کہ از راہ بشریت ان سے لغزش ہو گئی ہو،لیکن اہل علم قارئین بھی خاموش رہیں تو یہ بے توجہی یا غفلت شعاری ہے،یا پھر گروہ دیوبندیہ کی طرح شخصیت پرستی ہمارے درمیان بھی چپکے چپکے قدم بڑھا رہی ہے۔ (9)خواہ سبب کچھ بھی ہو۔ان شاء اللہ تعالی عزوجل میں اپنا کام بحسن وخوبی انجام دیتا رہوں گا۔ حضرت امیر خسرو قدس سرہ العزیز کا مصرع ہے: ع/ پیمبر شمع محفل بود شب جائے کہ من بودم آور میں کچھ ترمیم کے ساتھ کہتا ہوں: ع / پیمبر شمع محفل بود ہر جائے کہ من بودم ہم نے ہر مجلس میں میر مجلس اپنے رسول مقبول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو تسلیم کیا ہے،لہذا جو قول حکم نبوی کی تشریح کرے،وہ قابل قبول ہے اور لا محالہ سواد اعظم کا قول ہی حکم نبوی کا ترجمان وشارح ہے۔جو قول سواد اعظم کے موافق نہ ہو،اس کو حکم مصطفوی کا ترجمان کیسے تسلیم کیا جائے۔ (10)واضح رہے کہ ہر موضوع پر ہم نے اپنے رسائل میں تفاصیل رقم کر دی ہیں۔بوقت ضرورت ان سے استفادہ کیا جائے۔ طارق انور مصباحی جاری کردہ:5:ستمبر 2026

مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما کیا اسماعیل دہلوی کا کفر لزومی کفر التزامی ہو گیا تھا؟ (1)دعوی کیا جاتا ہے کہ اسماعیل دہلوی کا کفر لزومی کفر التزامی ہو گیا تھا۔جو حضرات ایسا دعوی کرتے ہیں،وہ محض خیالی باتیں پیش کرتے ہیں اور چوں کہ وہ اس پر اصرار کرتے ہیں اور اصحاب علم میں شمار کئے جاتے ہیں،لہذا کچھ لوگ غلط راہ پر جا سکتے ہیں۔ (2)کفر لزومی کے کفر التزامی ہونے کے شرائط ہمارے رسالہ:"کفر لزومی اور فقہا ومتکلمین"میں مرقوم ہیں۔اسی کے باب یازدہم میں یہ تفصیل ہے کہ اسماعیل دہلوی کا کفر لزومی کفر التزامی نہ ہو سکا۔ (3)جو حضرات یہ دعوی کرتے ہیں کہ اسماعیل دہلوی کا کفر لزومی کفر التزامی ہو گیا تھا،وہ حضرات علم عقائد وفن کلام سے کامل مشغولیت نہیں رکھتے ہیں،نیز اگر کوئی علم عقائد سے کامل مشغولیت رکھے اور وسیع النظر اور روشن ذہن بھی ہو،اس کے باوجود خطا ہو جائے تو اس کی لغزش ناقابل قبول ہو گی۔ہاں ،وہ عند اللہ معذور ہوں گے،جب کہ انہوں نے حق کو پانے کے لئے محنت ومشقت کی ہو اور وہ کلامی مسائل میں تحقیق و تدقیق کے اہل بھی ہوں۔ (4)یہ بتایا جائے کہ موجودہ اکابر اہل سنت یا اکابر دیوبند یا اکابر اہل حدیث یا اکابر فرقہ مودودیہ وغیرہا میں کتنے لوگ ہیں جو خاص کر علم عقائد سے مشغولیت رکھتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر جماعت کے اکابر دیگر فنون میں مشغولیت رکھتے ہیں۔بعض فقہ میں،بعض حدیث میں،بعض عربی زبان وادب میں مشغولیت رکھتے ہیں۔علم عقائد تو فن متروک کے خانے میں جا چکا ہے۔لوگ بوقت ضرورت علم عقائد کی طرف متوجہ ہوتے ہیں،خاص کر علم عقائد سے مشغولیت نہیں رکھتے۔ (5)امت مسلمہ کو اطلاع دی جاتی ہے کہ ان شاء اللہ تعالی عزوجل ثم ان شاء الرسول علیہ التحیۃ والثنا میں کسی بھی غلط عقیدے کو جان بجھ کر ہرگز نہیں اپناوں گا،خواہ بہت سے لوگ اس غلط عقیدے کے پیروکار ہوں۔مجھے انسانوں کی بالکل ضرورت نہیں،بس حضور اقدس حبیب کبریا علیہ الصلٰوۃ والسلام میری مدد فرماتے رہیں۔ (6)یہ بھی واضح رہے کہ ان شاء اللہ تعالی قابل بحث نظریہ پر بحث کرتا رہوں گا،خواہ وہ نظریہ کسی بھی عظیم فرد کا ہو۔اور عظمائے دین کے ہی قابل بحث نظریات پر بحث ہو گی،کیوں کہ ان کا ہی اتباع کیا جاتا ہے۔ (7)یہ بھی خیال رہے کہ شخصیات پر کوئی بحث نہیں ہو گی،نہ مباحث میں کسی کا تذکرہ ہو گا۔صرف مسائل پر بحث ہو گی۔جو شخص اپنی غلط بات کو غلط کہتا ہو،وہ دوسروں کی غلط بات کو کیسے صحیح بتا سکتا ہے۔ اگر ذہن شریف میں یہ خیال گزرے کہ ہو سکتا ہے کہ کسی کی شخصیت سےمرعوب ہو کر کسی کی غلط بات کو صحیح بتا دے تو یہ خیال خام ہے۔ایسا وہ کر سکتا ہے جو شخصیات کی طرف متوجہ ہو اور بفضلہ تعالیٰ عہد طالب علمی سے آج تک میں حضور اقدس سرور دوجہاں علیہ التحیۃ والثنا کی طرف متوجہ ہوں۔دین اسلام نے یہی تعلیم دی ہے اور امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے اسی کی تبلیغ کی تھی۔ جان ودل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے کیوں نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا طارق انور مصباحی جاری کردہ:4:ستمبر 2026

*تخریجِ حدیث کے اہم علمی و اصولی فوائد* تخریجِ حدیث محض کسی حدیث کے مصدر کی نشان دہی کا نام نہیں، بلکہ اس کے طرق و اسانید کے استقصا، رواۃ کے احوال و مراتبِ جرح و تعدیل کی معرفت، اور مختلف طرق کے تقابل کے ذریعے حدیث کی سند و متن سے متعلق متعدد علمی و اصولی حقائق کے انکشاف کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا تخریج کا فقط یہ مطلب و مقصد نہیں کہ کسی حدیث کے متن کا مصدر تلاش کرلیا جائے، بلکہ اس کے ضمن میں رجالِ اسناد، ان کے حالات، اور ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال سے واقفیت بھی حاصل ہوتی ہے۔ خصوصاً جب حدیث کے متعدد مصادر اور طرق جمع کیے جائیں تو ان کے باہمی تقابل سے ایسے کئی امور واضح ہوتے ہیں جو محض ایک سند یا ایک مصدر کو دیکھنے سے معلوم نہیں ہوتے۔ تخریجِ حدیث کے اہم فوائد میں سے درج ذیل دس قابلِ ذکر ہیں: (1) مصدرِ حدیث کی معرفت حدیث کن کتبِ حدیث میں، کس مقام پر اور کس سند کے ساتھ مروی ہے، اس کے مصادر کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ (2) حدیث کے مختلف طرق کو جمع کرنا ایک ہی حدیث کی متعدد اسانید و روایات کو یکجا کیا جاتا ہے، جس سے اس کے مختلف طرق کا مجموعی نقشہ سامنے آجاتا ہے۔ (3) اسانید کی حیثیت اور اتصال و انقطاع کی تعیین متعدد طرق کے باہمی تقابل سے اسانید کی کیفیت واضح ہوتی ہے اور یہ معلوم کرنے میں مدد ملتی ہے کہ سند متصل ہے یا منقطع، نیز کسی راوی کے سقوط یا سند میں کسی علت کا احتمال تو نہیں۔ (4) تعددِ طرق کی وجہ سے صحتِ حدیث آشکارا ہونا بعض اوقات متعدد طرق سامنے آنے سے حدیث کی صحت اور قوت مزید واضح ہوجاتی ہے اور اس کی قبولیت کے قرائن مضبوط ہوجاتے ہیں۔ (5) تدلیس و عنعنہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے شبہِ ضعف کا دور ہونا کسی مدلس راوی کے عنعنہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے احتمالِ ضعف کو دیگر طرق کی روشنی میں دور کیا جاسکتا ہے، خصوصاً جب کسی دوسرے طریق میں سماع کی صراحت موجود ہو۔ (6) اختلاط کی وجہ سے سند میں پیدا ہونے والے شبہِ ضعف کا دور ہونا اگر کسی راوی کے اختلاط کی وجہ سے اس کی روایت کے بارے میں شبہ پیدا ہو تو متعدد طرق کے تقابل سے یہ متعین کرنے میں مدد ملتی ہے کہ روایت اختلاط سے قبل کی ہے یا بعد کی۔ (7) غریب لفظ یا روایت کا صحیح مفہوم واضح ہونا مختلف طرق میں وارد ہونے والے الفاظ کے تقابل سے کسی غریب یا مشکل لفظ کی توضیح اور روایت کا صحیح مفہوم واضح ہوسکتا ہے۔ (8) شذوذ کا انکشاف اور اس کا ازالہ متعدد طرق کے تقابل سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ کسی راوی کی روایت زیادہ ثقہ رواۃ کی روایت کے خلاف تو نہیں، یوں شذوذ کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ (9) ادنیٰ سے اعلیٰ تک پہنچ جانا متعدد اسانید کی معرفت سے سند کے مراتب کا علم ہوتا ہے اور بسا اوقات ایک نازل سند کے ساتھ کوئی سندِ عالی بھی دستیاب ہوجاتی ہے، جس سے روایت ادنیٰ سے اعلیٰ تک پہنچ جاتی ہے۔ (10) حدیث کی حیثیت کا تعین کہ مرفوع ہے یا موقوف متعدد طرق کے جمع و تقابل سے یہ متعین کرنے میں مدد ملتی ہے کہ حدیث کی انتہائے سند نبی کریم ﷺ تک پہنچتی ہے، لہٰذا مرفوع ہے، یا صحابی رضی اللہ عنہ پر منتہی ہوتی ہے، لہٰذا موقوف ہے۔ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ۔ ابو الحسن

مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما ماہنامہ پیغام شریعت(دہلی)کا اشاریہ (1)ماہنامہ پیغام شریعت(دہلی)کا اشاعتی سلسلہ 2016 سے 2020 تک جاری رہا۔سال 2020میں لاک ڈاؤن نافذ ہو جانے کے سبب اس کی طباعت واشاعت موقوف ہو گئی۔ (2)اب ماہنامہ پیغام شریعت(دہلی) کا متبادل میگزین ماہنامہ امام اعظم(لکھنو)شائع کیا جا رہا ہے۔ (3)ماہنامہ پیغام شریعت(دہلی)کا اشاریہ مرتب کر کے نشر کیا جا چکا ہے۔ماہنامہ پیغام شریعت کی یادوں کو محفوظ کر دینے کے واسطے اصحاب لوح و قلم کے تاثرات مطلوب ہیں۔یہ تاثرات اسی اشاریہ میں شامل کر دیئے جائیں گے۔ (4)خاص طور پر ماہنامہ پیغام شریعت(دہلی)کے قلم کاران ومحررین اور قارئین ومتعلقین سے گزارش ہے کہ اپنے تاثرات بھیجیں جن میں ماہنامہ پیغام شریعت(دہلی)کے احوال و کوائف/اس کے مندرجات ومشمولات/اس کے انقلابی اثرات/اس کے امتیازات وخصائص یا اس سے متعلق کسی اہم امر کا ذکر ہو۔تاثر مختصر ہو یا طویل،ہر قسم کے تاثرات قابل قبول ہیں۔ (5)تاثرات وتحریرات میرے واٹس ایپ پر ارسال فرمائیں۔ماہنامہ پیغام شریعت کے جملہ قلم کاروں کے موبائل نمبر محفوظ نہیں ہیں،لہذا اسی تحریری گزارش کے پیش نظر اپنی تحریریں بھیجتے جائیں۔ طارق انور مصباحی جاری کردہ:02:ستمبر 2026

دو ماہی اذان اقصی ربیع الاول.pdf

اشاریہ:ماہنامہ پیغام شریعت(دہلی) ماہنامہ پیغام شریعت(دہلی)کے 2016 سے 2020 تک کے شماروں کے عناوین و مضامین اور قلم کاران ومحررین کی تفصیلی فہرست از:طارق انور مصباحی صفحات:70

نام کتاب:: فلاح و نجات نمبر ماہنامہ پیغام شریعت(دہلی)کی تاریخ ساز پیش کش *فلاح ونجات نمبر* اس میں بھارتی مسلمانوں کے سیاسی,معاشی,سماجی حالات اور اس میں بہتری کی تدابیر سے متعلق ارباب علم ودانش کے مقالات ہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات کے اسباب اور اس کے تدارک کی تدبیریں رقم کی گئی ہیں۔ ناشر:ادارہ پیغام شریعت دہلی (ڈیجیٹل ایڈیشن) طارق انور مصباحی مدیر:ماہنامہ پیغام شریعت دہلی

مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما کون تمہارا سچا مددگار اور حقیقی مہربان؟ (1)جب قرآن وحدیث میں بتایا جا چکا ہے کہ بندوں کا سچا مددگار اور حقیقی خیر خواہ اور بہت زیادہ مہربان اللہ تعالی جل شانہ ہے تو مسلمانوں کو اس پر ایمان رکھنا ہی ہے اور اہل ایمان کو تو اسی اصول کے مطابق زندگی بھی گزارنا چاہئے۔ (2)اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔عبادتوں کے ساتھ دیگر وہ تمام اسلامی تعلیمات بھی پیش نظر رکھیں اور اپنے تمام نظریات کو اسلامی ہدایات کے موافق کرتے جائیں۔اسی میں بھلائی ہے۔ (3)جب دنیا ہی میں لوگ کام نہیں آتے ہیں تو آخرت میں کیا کام آئیں گے۔اپ دوسروں کے کام آئیں،تاکہ بوقت مصیبت دوسرے لوگ آپ کے کام آئیں۔اچھے لوگ احسان فراموشی نہیں کرتے۔جس کے ساتھ آپ نے بھلائی کی ہو،پس اگر وہ اچھا انسان ہے تو ضرور بوقت ضرورت آپ کی مدد کو آئے گا۔چند لوگ احسان فراموش بھی ہوتے ہیں۔ان کو نظر انداز کریں۔دنیا میں ہمیشہ اچھے اور برے ہر قسم کے لوگ رہے ہیں۔ (4)دنیا عیش وعشرت کا مقام نہیں،بلکہ مصیبتوں سے بھری ہوئی اور آزمائشوں سے گھری ہوئی ہے۔حسب ضرورت صبر وتحمل،کبھی کسی کی غلطیوں سے چشم پوشی،کبھی اپنی ضرورت پر دوسروں کی ضرورت کو ترجیح دے کر اور خاص کر اپنے رشتہ داروں سے حسن سلوک کر کے زندگی گزارتے جائیں۔برے لوگوں کو دوست نہ بنائیں۔نہ غلط قسم کے لوگوں سے الجھنے کی کوشش کریں۔بچتے بچاتے ،اللہ تعالی کی طاعت وعبادت کرتے،اپنے نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم سے محبت کرتے، ان کی تعظیم بجا لاتے اور صالحین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دنیاوی زندگی کی تکمیل کریں۔اللہ آپ کا بھلا کرے۔خدا حافظ طارق انور مصباحی جاری کردہ:29:اگست 2026

مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما محدثین اور اہل حدیث میں فرق (1)علم والوں کو اہل علم،منطق والوں کو اہل منطق،ہند میں رہنے والوں کو اہل ہند،مغربی ممالک میں رہنے والوں کو اہل مغرب کہا جاتا ہے۔اسی طرح علم حدیث میں مشغولیت رکھنے والوں کو محدث اور اہل حدیث کہا جاتا ہے۔ (2)ابن عبد الوہاب نجدی کے وہ متبعین جو ترک تقلید کر کے حدیث پر عمل کا دعوی کرنے لگے،وہ بھی خود کو اہل حدیث کہنے لگے۔ جب متقدمین کی کتابوں میں اہل حدیث کا لفظ آتا ہے تو غیر مقلدین بہت خوش ہو جاتے ہیں،حالاں کہ وہاں اہل حدیث سے غیر مقلدین مراد نہیں،بلکہ محدثین مراد ہیں۔ (3)اگر لوگ اپنی جماعت کا نام صحابہ رکھ لیں اور پھر اسلامی کتابوں میں صحابہ کا لفظ دیکھیں تو خوش ہوں اور خیال کریں کہ یہ ہماری جماعت کا ذکر ہے تو یہ یقینا غلط خیال ہے۔ اسی طرح متقدمین کی کتابوں میں لفظ اہل حدیث کو دیکھ کر غیر مقلدین کا خوش ہونا اور اہل حدیث سے غیر مقلد مراد لینا یقینا غلط ہے۔متقدمین کی کتابوں میں اہل حدیث سے محدثین مراد ہیں اور محدثین مقلد تھے اور بعض محدثین مجتہد بھی تھے جیسے حضرات ائمہ اربعہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین۔ان میں سے دو مجتہد یعنی امام مالک اور امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہما کی شہرت محدث کی حیثیت سے ہے۔ طارق انور مصباحی جاری کردہ:26:اگست 2026