en
Feedback
🌸Salafi Sisters🌸

🌸Salafi Sisters🌸

Open in Telegram

Sharing authentic Islamic ilm based on the Qur'an & Sunnah, following the methodology of the Salaf. Translating & sharing fatwas/content from prominent Salafi scholars Languages: Arabic, English, Urdu, Hindi & Roman Urdu Backup https://t.me/dr_khalidakazi

Show more
3 144
Subscribers
-324 hours
-127 days
-1230 days
Posts Archive
photo content

Feedback from a patient of OCD #الوسواس_القهري
Feedback from a patient of OCD #الوسواس_القهري

الوسواس في الصلاة وعلاجه: التجاهل وعدم الإعادة ✍️ الشيخ سامي هوساوي حفظه الله من أعظم ما يُبتلى به الموسوس في الصلاة أن يأتيه الشيطان بعد الصلاة أو أثناءها فيقول له: لعل صلاتك لم يكن فيها خشوع، ولعل النية لم تكن صحيحة، ولعل النية لم تحضر عند تكبيرة الإحرام، ولعل صلاتك باطلة؛ فيدفعه بذلك إلى إعادة الصلاة مرة بعد مرة. والحقيقة أن الاستجابة لهذه الوساوس لا تنهي المشكلة، وإنما تفتح على الإنسان بابًا من الإعادة لا نهاية له. ولذلك ينبغي للموسوس أن يتعامل معها وفق أمور واضحة: الأمر الأول: الوسواس لا ينقض النية. إذا نوى الإنسان الصلاة وعزم عليها، ثم طرأت عليه وساوس أثناء الصلاة أو بعدها، فلا يلتفت إليها؛ لأن الخاطرة الطارئة لا تنقض النية المستقرة في القلب. الأمر الثاني: تجاهل الوسواس وعدم الاستجابة له. هذا هو العلاج الأساسي للموسوس. فإذا جاءه الشيطان وقال: «أعد الصلاة»، فلا يعيد. وإذا قال: «أعد الوضوء»، فلا يعيد. وإذا قال: «أعد الغسل»، فلا يعيد. وقد يكون التجاهل في البداية شاقًا جدًا، خصوصًا لمن عاش مع الوسواس سنوات، لكن لا بد من الصبر والمجاهدة؛ لأن الاستجابة للوسواس تقويه، بينما تجاهله يضعفه تدريجيًا بإذن الله تعالى. الأمر الثالث: لا تناقش الشيطان. لا تدخل مع الوسواس في جدال طويل: هل كانت النية موجودة؟ وهل جاءت عند التكبير؟ وهل حصل الخشوع؟ وهل الصلاة صحيحة؟ إذا بدأتَ تناقش الوسواس، فتحْتَ له بابًا جديدًا من الأسئلة والشكوك. ولذلك إذا علمتَ أنك نويت الصلاة وأديتها، فلا تلتفت إلى هذه الخواطر، ولا تجعل الشيطان يحول العبادة إلى سلسلة لا تنتهي من المراجعة والإعادة. الأمر الرابع: اعلم أن الموسوس مبتلى، وأن الله سبحانه وتعالى لا يكلف نفسًا إلا وسعها. على الموسوس أن يستقر في قلبه أن الله سبحانه وتعالى رحيم بعباده، وأنه لا يطالبه بما لا يستطيع. قال الله سبحانه وتعالى: ﴿لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ﴾ فلا ينبغي للموسوس أن يحمّل نفسه ما لم يحمّله الشرع، ولا أن يجعل عبادته قائمة على الإعادة المتكررة بسبب الشكوك والخواطر. والقاعدة العملية هنا واضحة: صلِّ الصلاة مرة واحدة، وتوضأ مرة واحدة، واغتسل مرة واحدة، ولا تعد العبادة بسبب الوسواس. فلو استجاب الإنسان للوسواس فقال: سأعيد الصلاة مرة، ثم قال له الشيطان: أعدها ثانية، ثم ثالثة، ثم رابعة، فأين النهاية؟ ولهذا قد يصل الأمر ببعض الموسوسين إلى أن يصلوا الصلاة الواحدة مرات كثيرة، حتى يصيبهم التعب والضيق، وربما انتهى بهم الأمر إلى القنوط وترك الصلاة بالكلية. وقد بلغ الأمر ببعض من ابتُلي بهذا الوسواس أن تستغرق صلاة الظهر منه وقتًا طويلًا جدًا بسبب تكرار تكبيرة الإحرام، إذ كلما قال: «الله أكبر» جاءه الوسواس وقال له: «النية لم تأتِ»، فيعيد التكبير مرة أخرى، ثم يعود الوسواس، حتى يصبح في إعادة مستمرة. فالحل الحاسم هو: التجاهل وعدم الإعادة. ولا يلتفت المسلم إلى قول الشيطان: «صلاتك لا فائدة منها؛ لأنك تفكر أو توسوس أثناءها»، ولا يصدق أن وجود الخواطر والوساوس في الصلاة يجعلها باطلة. بل يصلي كما أمره الله، ولا يعيد صلاته بسبب الوسواس؛ لأن الإعادة ليست علاجًا له، وإنما تزيده قوة وتمكنًا. فاجعل التجاهل وعدم الإعادة جدارًا عازلًا بينك وبين الوسواس؛ فإذا لم تستجب له، انقطع عنه الطريق، وضعف تأثيره عليك بإذن الله تعالى. ✍️ الشيخ سامي هوساوي حفظه الله #مجالس_الإكسير #الوسواس_القهري https://t.me/shykh_sami

Repost from N/a
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته السؤال: کیا عشاء کے بعد چار رکعت نماز پڑھنے کی کوئی خاص فضیلت صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ جو شخص عشاء کے بعد چار رکعتیں پڑھے، اسے لیلۃ القدر میں چار رکعت نماز پڑھنے کے برابر ثواب ملتا ہے؟ نیز اس سلسلہ میں حضرت ابن عباس رضی الله عنهما کی جو روایت پیش کی جاتی ہے، اس کی کیا حقیقت ہے؟ وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته الجواب بعون الله الوهاب: اس سلسلہ میں نبی اکرم صلى الله عليه وسلم سے تقریبا پانچ روایات بیان کی گئی ہیں، لیکن عشاء کے بعد چار رکعتوں کو لیلۃ القدر کی چار رکعتوں کے برابر قرار دینے والی کوئی بھی مرفوع حدیث صحیح نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے صحیح روایات میں سے ایک حضرت ابن عباس رضی الله عنهما کی روایت ہے، جو صحیح بخاری میں موجود ہے۔ حضرت ابن عباس رضی الله عنهما فرماتے ہیں: «بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا، فَصَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ، ثُمَّ قَالَ: نَامَ الْغُلَيِّمُ، أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا، ثُمَّ قَامَ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، أَوْ خَطِيطَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ.» ترجمہ: "میں اپنی خالہ میمونہ بنت حارث رضی الله عنها، جو نبی صلى الله عليه وسلم کی زوجہ تھیں، کے گھر رات کو ٹھہرا۔ نبی صلى الله عليه وسلم بھی اس رات ان کے ہاں تھے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر اپنے گھر تشریف لائے اور چار رکعت نماز پڑھی، پھر سو گئے۔ اس کے بعد بیدار ہوئے اور فرمایا: بچہ سو گیا ہے؟ یا اسی مفہوم کا کوئی لفظ فرمایا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ میں بھی کھڑا ہوا اور آپ صلى الله عليه وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا، تو آپ نے مجھے اپنی دائیں جانب کر دیا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے پانچ رکعت نماز پڑھی، اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، پھر سو گئے، یہاں تک کہ میں نے آپ صلى الله عليه وسلم کے خراٹے کی آواز سنی، پھر آپ صلى الله عليه وسلم نماز کے لیے تشریف لے گئے۔" (صحيح البخاري: 117، 697) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے عشاء کے بعد چار رکعتیں پڑھیں، پھر سو گئے اور بعد میں رات کو قیام فرمایا۔ لہٰذا عشاء کے بعد چار رکعت نفل پڑھنا درست ہے، اور اگر کوئی شخص تھکا ہوا ہو اور رات کے آخری حصے میں اٹھنے کے بجائے عشاء کے بعد ہی قیام اللیل کر لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ اس حدیث میں اس کے لیے اصل موجود ہے۔ البتہ اس صحیح حدیث میں کہیں بھی یہ نہیں ہے کہ عشاء کے بعد پڑھی جانے والی چار رکعتوں کا ثواب لیلۃ القدر میں چار رکعت پڑھنے کے برابر ہے۔ اس تعلق سے جو روایات مروی ہیں، ان میں سے کوئی بھی مرفوع روایت صحیح نہیں ہے۔ شیخ البانی رحمہ الله نے بھی اس طرح کی تمام روایات کو ضعیف قرار دیا ہے۔ البتہ اس تعلق سے متعدد صحابہ کرام رضی الله عنهم کے آثار موجود ہیں کہ وہ عشاء کے بعد چار رکعت پڑھتے تھے۔ بعض آثار میں یہ بھی منقول ہے کہ ان چار رکعتوں کو لیلۃ القدر کی چار رکعتوں کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ یہاں ایک اہم بات کی وضاحت ضروری ہے کہ بعض کتب میں جسے "حدیث" کے لفظ سے بیان کیا جاتا ہے، وہ دراصل حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنه کا قول ہے، نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی مرفوع حدیث نہیں۔ لہٰذا اسے حدیثِ نبوی کہنا درست نہیں۔ اس کے بارے میں کعب الاحبار رحمہ الله سے بھی بعض اقوال منقول ہیں۔ کعب الاحبار تابعین میں سے تھے اور پہلے یہودی تھے، پھر اسلام میں داخل ہوئے۔ ان سے بہت سی ایسی روایات اور اقوال بھی منقول ہیں جو اہل کتاب سے منتقل ہوئے تھے۔ اس لیے اہل علم نے ان سے منقول اسرائیلی روایات کے بارے میں احتیاط کی ہے اور ہر بات کو محض ان کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے حجت نہیں مانا۔ بعض اہل علم نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ چونکہ صحابہ کرام رضی الله عنهم فضائل اعمال کے معاملہ میں بہت زیادہ اہتمام کرتے تھے، اس لیے اگر کعب الاحبار یا کسی اور اہل کتاب سے کسی عمل کی فضیلت منقول ہوئی ہو تو ممکن ہے کہ بعض صحابہ کرام نے اسے سن کر اس پر عمل کیا ہو۔ بہرحال یہ ایک الگ بحث ہے کہ یہ قول اصل میں کہاں سے منتقل ہوا اور کس نے کس سے نقل کیا۔ ہمارے لیے اصل اور اہم بات یہ ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم سے عشاء کے بعد چار رکعتوں کو لیلۃ القدر کی چار رکعتوں کے برابر قرار دینے والی کوئی صحیح مرفوع حدیث ثابت نہیں ہے۔ ثانيا: اگر اس عمل کی یہ غیر معمولی فضیلت واقعی نبی اکرم صلى الله عليه وسلم سے ثابت ہوتی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے لیلۃ القدر کے بارے میں جس قدر صحابہ کرام رضی الله عنهم کو ترغیب دی، اس موقع پر اس فضیلت کو بھی ضرور بیان فرمایا ہوتا۔ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم رمضان کے آخری عشرے میں لیلۃ القدر کو تلاش کرتے، راتوں کو عبادت کے لیے جاگتے، اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور صحابہ کرام رضی الله عنهم کو اس رات میں عبادت کی ترغیب دیتے تھے۔ اس سلسلہ میں صحیح احادیث موجود ہیں۔ لہٰذا اگر عشاء کے بعد صرف چار رکعتیں پڑھنے کا ثواب واقعی لیلۃ القدر کی چار رکعتوں کے برابر ہوتا تو نبی اکرم صلى الله عليه وسلم اسے صحابہ کرام رضی الله عنهم سے بیان فرماتے، صحابہ کرام اس پر عمل کرتے، اور یہ فضیلت صحیح احادیث میں نقل ہوتی۔ لیکن ایسا کوئی صحیح مرفوع ثبوت موجود نہیں ہے۔ لہٰذا یہ بات درست نہیں کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کا معمول یہ تھا کہ آپ عشاء کے بعد چار رکعتیں پڑھتے تھے اور یہ چار رکعتیں لیلۃ القدر میں چار رکعت پڑھنے کے برابر تھیں۔ البتہ عشاء کے بعد چار رکعت نماز پڑھنا بذاتِ خود درست ہے۔ کوئی شخص انہیں عام نفل کے طور پر پڑھے یا قیام اللیل کی نیت سے پڑھے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ صحیح بخاری کی مذکورہ حدیث سے عشاء کے بعد چار رکعت پڑھنے کا اصل ثابت ہوتا ہے۔ اگرچہ علامہ البانی رحمہ الله کا موقف یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی الله عنهم سے منقول متعدد آثار کو جمع کرنے کی صورت میں اس فضیلت کو مرفوع حدیث کے حکم میں قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ ان کے نزدیک ایسی فضیلت محض ذاتی رائے سے بیان نہیں کی جا سکتی۔ تاہم یہ بات متن کے اعتبار سے راجح معلوم نہیں ہوتی؛ کیونکہ اگر یہ واقعی نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی بیان کردہ فضیلت ہوتی تو آپ صلى الله عليه وسلم کے عہد میں اس کا واضح بیان اور اس پر صحابہ کرام رضی الله عنهم کا عام عمل اور پھر صحیح مرفوع روایات میں اس کا نقل ہونا متوقع تھا۔ لہٰذا راجح اور صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ عشاء کے بعد چار رکعت پڑھنا جائز اور ثابت عمل ہے، لیکن اسے لیلۃ القدر کی چار رکعتوں کے برابر قرار دینا نبی اکرم صلى الله عليه وسلم سے کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ اس خاص فضیلت کے بارے میں صحیح حدیث نہ ہونے کی وجہ سے اسے نبی صلى الله عليه وسلم کی طرف منسوب کرنا یا اس کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا درست نہیں کہ یہ لیلۃ القدر کی چار رکعتوں کے برابر ہے۔ والله أعلم بالصواب. د. طارق صفي الرحمن المباركفوري حفظه الله #فقه_الصلاة https://t.me/drtariq_mubarakpuri

𝐓𝐚𝐰𝐡𝐞𝐞𝐝 𝐤𝐢 𝐀𝐡𝐦𝐢𝐲𝐚𝐭 🔢 t.me/kkews001
𝐓𝐚𝐰𝐡𝐞𝐞𝐝 𝐤𝐢 𝐀𝐡𝐦𝐢𝐲𝐚𝐭 🔢 t.me/kkews001

photo content

photo content

photo content

photo content

السؤال: أعاني من وسواس شديد في غسل الجنابة؛ فعندما أبدأ الغسل أنوي رفع الجنابة والغسل الواجب، وقبل أن أنتهي من الغسل يأتيني وسواس يقول: «هذا غسل سنة»، فأعيد الغسل مرات عديدة، وقد يصل الأمر إلى خمس مرات أو أكثر، وأحيانًا أعيد الصلاة للسبب نفسه. فماذا أفعل؟ وهل إذا طرأت هذه الوسوسة أثناء الغسل انتقضت نيتي؟ الجواب: هذه المسألة تُبنى على القاعدة التي ينبغي أن تُحفظ جيدًا: الوسواس لا ينقض النية. فإذا أصابت الإنسانَ الجنابة، ثم شرع في الاغتسال وهو ناوٍ غسل الجنابة الواجب، فهذه هي نيته المعتبرة، ولا يلتفت إلى ما يطرأ عليه أثناء الغسل من وساوس وخطرات. فإذا جاءه الوسواس أثناء الغسل وقال له: «هذا غسل سنة»، فلا يعمل بهذه الخاطرة، ولا ينقض نيته، ولا يعيد الغسل؛ لأن هذه الخاطرة ليست نيةً جديدة، وإنما هي وسواس شيطاني. والأصل أن الإنسان إذا علم أنه قد أصابته الجنابة، ثم شرع في الغسل قاصدًا رفع الجنابة، فإنه يغتسل غسل الجنابة الواجب. ولا يُلتفت بعد ذلك إلى الشكوك الطارئة والخواطر التي تأتيه بغير اختياره. وهنا قاعدة مهمة: الأضعف لا ينقض الأقوى. فالوسواس مجرد خاطرة عارضة، وأما النية فهي أمر مستقر في القلب، وقد حصلت بالفعل عند ابتداء الغسل؛ فلا يُترك اليقين لأجل وسواس طارئ. وعليه، فإذا بدأتَ غسل الجنابة بنية رفع الجنابة، ثم جاءك أثناء الغسل وسواس يقول: «هذا غسل سنة»، فاثبت على نيتك، وأتمم غسلك، ولا تلتفت إلى الوسواس، ولا تعِد الغسل بسببه. وهذا الحكم مهم جدًا لمن ابتُلي بالوسواس القهري، سواء في الغسل أو الوضوء أو الصلاة؛ لأن الاستجابة للوسواس وإعادة العبادة كلما ألقى الشيطان في النفس شكًا لا تعالج المشكلة، بل تزيدها قوة. فالشيطان قد يقول للإنسان: «أعد الغسل مرة أخرى، أعد الوضوء مرة أخرى، أعد الصلاة مرة أخرى». فإذا استجاب له الإنسان وأعاد، فلن يتركه الشيطان، بل سيعود إليه مرة ثانية وثالثة؛ لأن استجابة الإنسان للوسواس تعلم الشيطان أنه استطاع التأثير عليه، فيزداد إلحاحًا عليه. ولهذا فإن العلاج العملي هو تقوية النفس على التجاهل وعدم الاستجابة. قد يكون التجاهل في البداية شاقًا جدًا، وقد يشعر الإنسان بضيق شديد وتوتر وكأنه لا يستطيع الاحتمال، لكن عليه أن يصبر ولا يستجب للوسواس. ومع الاستمرار في التجاهل، يضعف الوسواس تدريجيًا بإذن الله تعالى. فالشيطان كلما وجد منك استجابةً قويت وسوسته، وكلما وجد منك تجاهلًا وعدم مبالاة، ضعفت وسوسته وانحسر تأثيره. ولهذا نقول لمن ابتُلي بالوسواس: لا تُعد الغسل بسبب الوسواس، ولا تُعد الوضوء بسبب الوسواس، ولا تُعد الصلاة بسبب الوسواس. إذا ثبتت النية، فلا تلتفت إلى الخاطر الطارئ؛ لأن الوسواس لا ينقض النية. الشيخ سامي هوساوي حفظه الله #الوسواس_القهري #مجالس_الإكسير https://t.me/shykh_sami

السؤال: أعاني منذ فترة من وسواس شديد في النية قبل الصلاة؛ فعندما أحدد النية لصلاة العشاء مثلًا، وأقول: «الله أكبر»، يأتيني أثناء التكبير خاطر أو صوت في رأسي يقول: «لا، هذه نية المغرب»، فأخاف أن تكون نيتي قد تغيرت، وأتوتر وأعرق ويضيق صدري، حتى أصبحت أخاف من الذهاب إلى المسجد. فهل هذه الخواطر تنقض النية؟ الجواب: هذه المسألة تحتاج إلى فهم أصلٍ مهم، وهو أن الوسواس لا ينقض النية. فلو توضأ الإنسان وهو عازم على صلاة العشاء، ثم قضى حاجته وهو عازم على صلاة العشاء، ثم خرج إلى المسجد وهو يقصد صلاة العشاء، ودخل المسجد وهو يقصد صلاة العشاء، وسمع أذان العشاء وجزم بأنه أذان العشاء، ثم وقف في الصف وهو عازم على صلاة العشاء، ثم جاءته خاطرة أو وسوسة تقول له: «إنها صلاة المغرب»، فهذه الخاطرة لا تنقض نيته. فالنية محلها القلب، ولا تتغير بمجرد الخواطر والوساوس التي تطرأ على الإنسان بغير اختياره، ولا سيما إذا كان يعلم في نفسه أنه قصد صلاة العشاء وعزم عليها. بل إن أفعال هذا الشخص وأحواله كلها شواهد واضحة على نيته: من وضوئه، وقضاء حاجته، وخروجه إلى المسجد، ودخوله فيه، ووقوفه في الصف، ثم تكبيره للصلاة؛ فهذه كلها قرائن وشواهد بيِّنة على أنه قصد صلاة العشاء. أما الصوت أو الخاطر الشيطاني الذي يأتيه فيقول: «لا، هذه صلاة المغرب»، فليس نيةً جديدة، وإنما هو وسواس شيطاني. وعليه: الوسواس لا ينقض النية. وهذه قاعدة ينبغي أن تُحفظ جيدًا، خصوصًا لمن ابتُلي بالوسواس القهري: لا تلتفت إلى الوسواس، ولا تعِد النية بسببه، ولا تفتش في قلبك عن النية بعد أن عزمت عليها؛ لأن الالتفات إلى الوسواس والاستجابة له يزيده ويقويه. فما دام الإنسان قد قصد صلاة العشاء وعزم عليها، ثم عرض له خاطر يخالف ذلك من غير اختيار منه، فنيته صحيحة، وصلاته صحيحة، ولا يلتفت إلى هذه الخواطر. الشيخ سامي هوساوي حفظه الله #الوسواس_القهري #مجالس_الإكسير https://t.me/shykh_sami

𝐓𝐚𝐰𝐡𝐞𝐞𝐝 𝐤𝐢 𝐀𝐡𝐦𝐢𝐲𝐚𝐭 🔢 t.me/kkews001
𝐓𝐚𝐰𝐡𝐞𝐞𝐝 𝐤𝐢 𝐀𝐡𝐦𝐢𝐲𝐚𝐭 🔢 t.me/kkews001

Repost from N/a
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته السؤال: شیخ محترم! جس طرح ایک مشرک اگر شرک کی حالت میں مر جائے تو وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا اور کبھی جنت میں داخل نہیں ہوگا، کیا اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے ان وارثوں کو، جو میراث کے شرعی طور پر مستحق ہیں، ان کا حق میراث نہ دے اور اسی حالت میں وفات پا جائے، تو کیا وہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا اور کبھی جنت میں داخل نہیں ہوگا؟ جزاكم الله خيرا وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته الجواب بعون الله الوهاب: صورت مسئولہ میں دو مختلف چیزوں کے درمیان موازنہ کیا گیا ہے، حالانکہ دونوں کے احکام میں بہت فرق ہے۔ مشرک، جس نے کبھی اسلام قبول نہیں کیا اور شرک کی حالت میں وفات پائی، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے: ﴿إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا﴾ ترجمہ: "بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اس کے علاوہ جسے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے، اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرے تو وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا۔" (النساء: ١١٦) لہٰذا جو شخص شرک کی حالت میں مر گیا، اس کے لیے مغفرت نہیں ہے اور وہ جہنم میں ہمیشہ رہے گا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ﴾ ترجمہ: "بے شک جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے گا، اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔" (المائدة: ٧٢) البتہ حقوق العباد میں کسی کا حق مار لینا، خواہ وہ حق میراث ہی کیوں نہ ہو، کبیرہ گناہ ہے، لیکن یہ شرک کے حکم میں نہیں ہے۔ ایسا شخص اگر مسلمان ہے تو اس کے بارے میں یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا۔ حقوق العباد کا معاملہ نہایت سنگین ہے۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کا حق مار کر دنیا سے چلا جائے اور اس حق کی ادائیگی یا صاحب حق سے معافی حاصل نہ کی ہو تو آخرت میں اس کا معاملہ صاحب حق کے ساتھ ہوگا۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مفلس کی حدیث میں اس کی وضاحت فرمائی ہے، ارشاد نبوی ہے: «أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟ ... إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ، أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ» ترجمہ: "کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ ... میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال ناحق کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا۔ چنانچہ اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی، اور اگر اس کے ذمہ حقوق ادا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو ان لوگوں کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔" (صحيح مسلم: ٢٥٨١) لہٰذا جس شخص نے وارثوں کا حق میراث مارا ہے، اس کے بارے میں دو صورتیں ہوسکتی ہیں: اگر اس کے پاس نیکیاں ہیں تو قیامت کے دن مظلوموں اور حق داروں کو اس کی نیکیاں دی جائیں گی، اور اگر حقوق ادا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، پھر وہ اپنے اعمال کے مطابق عذاب کا مستحق ہوگا۔ لیکن ایسا مسلمان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں نہیں رہے گا۔ اہل توحید میں سے جو لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے، وہ اپنے گناہوں کے مطابق عذاب پانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی مشیت، مغفرت اور شفاعت کے ذریعہ جہنم سے نکالے جائیں گے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اہل توحید کو جہنم سے نکالے جانے کے بارے میں فرمایا: «يُخْرَجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّـهُ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً» ترجمہ: "جس شخص نے لا إله إلا الله کہا اور اس کے دل میں ذرہ برابر بھی خیر تھی، اسے جہنم سے نکال لیا جائے گا۔" (صحيح مسلم: ١٩٣) لہٰذا مشرک اور گناہ گار مسلمان کے درمیان اس اعتبار سے واضح فرق ہے کہ مشرک اگر شرک کی حالت میں مرے تو ہمیشہ جہنم میں رہے گا، جبکہ موحد مسلمان اگر کبیرہ گناہ کی وجہ سے جہنم میں جائے تو ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا۔ البتہ حقوق العباد کا معاملہ انتہائی سنگین ہے، اس لیے جس شخص نے وارثوں کا حق میراث روک رکھا ہو، اسے چاہیے کہ زندگی ہی میں ان کا حق ادا کرے اور اگر کسی کا حق مار چکا ہے تو اس سے معافی حاصل کرے۔ محض یہ کہہ دینا کہ "اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا" کافی نہیں، بلکہ جہاں تک ممکن ہو صاحب حق کا حق واپس کرنا ضروری ہے۔ والله تعالى أعلم. د. طارق صفي الرحمن المباركفوري حفظه الله #علم_الفرائض https://t.me/drtariq_mubarakpuri

Repost from N/a
Assalamu alaikum wa rahmatullahi wa barakatuh Sawal: Umrah karte waqt agar koi shakhs tawaf mein idtiba na kar sake, ya bhool jaye, ya kisi majboori ki wajah se na kare, to us ke Umrah ka kya hukm hai? Kya us par koi fidyah ya dam lazim hoga? Jazakumullahu khairan. Jawab: Wa alaikum assalam wa rahmatullahi wa barakatuh Al-jawab bi ‘awnillahi al-Wahhab: Idtiba ka matlab yeh hai ke ihram ki chadar ko daayin baghal ke neeche se nikaal kar us ke dono kinaron ko baayen kandhe par daal diya jaye, jis se daaya kandha khula rahe. Nabi ﷺ ne tawaf ke mauqe par is tarh kiya hai. Hazrat Ibn Abbas radiyallahu anhuma se riwayat hai: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنَ الْجِعْرَانَةِ، فَطَافُوا بِالْبَيْتِ، وَجَعَلُوا أَرْدِيَتَهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ، وَقَذَفُوهَا عَلَى عَوَاتِقِهِمُ الْيُسْرَى.» Tarjuma: "Rasulullah ﷺ aur aap ke Sahaba ne Ji'ranah se Umrah kiya, chunanche unhon ne Baitullah ka tawaf kiya aur apni chadaron ko apni baghalon ke neeche se nikaal kar un ke kinaray apne baayen kandhon par daal liye." (Sunan Abi Dawud: 1884) Tawaf ke andar idtiba sunnat hai, wajib nahin. Is liye agar koi shakhs idtiba na kar sake to us ke Umrah mein koi kharabi nahin aayegi. Us par na koi fidyah lazim hoga, na dam, aur na tawaf ke sahih hone par koi asar padega, kyunke yeah Umrah ke wajibat mein se nahin, balke tawaf ki sunnaton mein se hai. Chunanche agar kisi shakhs ke kandhe par zakhm ho, ya shadeed garmi, dhoop, sardi ya kisi doosri pareshani ki wajah se woh idtiba na kar sake to us par koi harj nahin. Isi tarh agar woh bhool jaye aur idtiba na kare, tab bhi koi fidyah ya dam lazim nahin hoga. Albatta jo shakhs idtiba kare, to yeah sunnat par amal hai aur zyada behtar hai, aur use is ka ajr o sawab hasil hoga. Wallahu ta'ala a'lam. Dr. Tariq Safiur Rahman Mubarakpuri hafidahullah #فقه_الحج_والعمرة https://t.me/drtariq_mubarakpuri

Repost from N/a
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته السؤال: عمرہ کرتے وقت اگر کوئی شخص طواف میں اضطباع نہ کر سکے، یا بھول جائے، یا کسی مجبوری کی وجہ سے نہ کرے، تو اس کے عمرہ کا کیا حکم ہے؟ کیا اس پر کوئی فدیہ یا دم لازم ہوگا؟ جزاكم الله خيرا وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته الجواب بعون الله الوهاب: اضطباع کا مطلب یہ ہے کہ احرام کی چادر کو دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر اس کے دونوں کناروں کو بائیں کندھے پر ڈال دیا جائے، جس سے دایاں کندھا کھلا رہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے طواف کے موقع پر اس طرح کیا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی الله عنهما سے روایت ہے: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنَ الْجِعْرَانَةِ، فَطَافُوا بِالْبَيْتِ، وَجَعَلُوا أَرْدِيَتَهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ، وَقَذَفُوهَا عَلَى عَوَاتِقِهِمُ الْيُسْرَى.» ترجمہ: "رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کیا، چنانچہ انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور اپنی چادروں کو اپنی بغلوں کے نیچے سے نکال کر ان کے کنارے اپنے بائیں کندھوں پر ڈال لیے۔" (سنن أبي داود: 1884) طواف کے اندر اضطباع سنت ہے، واجب نہیں۔ اس لیے اگر کوئی شخص اضطباع نہ کر سکے، تو اس کے عمرہ میں کوئی خرابی نہیں آئے گی، اور اس پر نہ کوئی فدیہ لازم ہوگا اور نہ دم، اور نہ طواف کی صحت پر کوئی اثر پڑے گا۔ کیونکہ یہ واجباتِ عمرہ میں سے نہیں بلکہ طواف کی سنتوں میں سے ہے۔ چنانچہ اگر کسی شخص کے کندھے پر زخم ہو، یا شدید گرمی، دھوپ، سردی یا کسی دوسری پریشانی کی وجہ سے وہ اضطباع نہ کر سکے، تو اس پر کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح اگر وہ بھول جائے اور اضطباع نہ کرے، تب بھی کوئی فدیہ یا دم لازم نہیں ہوگا۔ البتہ جو شخص اضطباع کرے، تو یہ سنت پر عمل ہے اور زیادہ بہتر ہے، اور اسے اس کا اجر و ثواب حاصل ہوگا۔ والله تعالى أعلم. د. طارق صفي الرحمن المباركفوري حفظه الله #فقه_الحج_والعمرة https://t.me/drtariq_mubarakpuri

photo content

Repost from N/a
photo content

Repost from N/a
photo content