مجلس تحفظ سنت شہر مھدپور
Open in Telegram
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ اس چینل کا مقصد رد فرقہ باطلہ کے متعلق، دلائل کے خواہشمند حضرات کے لئے، تحریر اور pdf کتب اور ویڈیو کی فراہمی چینل دیگر حضرات کو شامل فرماکر عند اللہ ماجور ہوں . *Join & SHARE* https://t.me/Tahaffuz_E_Sunnat
Show more566
Subscribers
No data24 hours
-17 days
+130 days
Posts Archive
♦️ تقلید بمقابلہ منہج اہلحدیث رجسٹرڈ ♦️
اہلحدیث رجسٹرڈ کے غیر رجسٹرڈ عقائد و مسائل
قسط نمبر 14
عنوان: زبان سے نیت کا مسئلہ
قارئین کرام!
دعویٰ تو یہ ہے کہ منہج ایک ہے، دلیل ایک ہے اور معیار صرف قرآن و حدیث ہے۔
لیکن جب ایک ہی مسئلے پر مختلف اہلحدیث رجسٹرڈ علماء کے فتوے سامنے رکھے جائیں تو معاملہ کچھ اور ہی نظر آتا ہے۔
ذرا ملاحظہ فرمائیں:
⬅️ عبادات میں بدعات، ص 126
ترجمہ و تحقیق: زبیر علی زئی المشہور دماغی مریض
مؤقف: نماز یا دوسری عبادات میں زبان سے نیت کرنا نہ نبی ﷺ سے ثابت ہے، نہ کسی صحابی، نہ تابعی اور نہ کسی معتبر امام سے۔
⬅️ اسلامی طرزِ فکر
مرتب: عبدالسلام سلامی
مؤقف: حج و عمرہ کا آغاز زبان سے ادا کی گئی نیت سے ہوتا ہے، یعنی حج و عمرہ کی نیت زبان سے ادا کی جائے گی۔
⬅️ ہدیۃ المسلمین، ص 14
مصنف: زبیر علی زئی
مؤقف: زبان سے نیت کرنا کسی حدیث سے ثابت نہیں۔
⬅️ صلواۃ النبی کے حسین مناظر، ص 323
مصنف: قاری خلیل الرحمٰن جاوید
مؤقف: حج و عمرہ میں زبان سے نیت کرنا ثابت ہے۔
⬅️ البراہین القاطعہ، ص 34
مصنف: محمد عبدالجبار عمر پوری
مؤقف: حج و عمرہ میں زبان سے نیت صحابہ کو تعلیم دینے کے لیے تھی۔
🔥 اب ذرا منہج کا کمال دیکھیے!
ایک طرف کہا جا رہا ہے:
❌ زبان سے نیت ثابت ہی نہیں۔
دوسری طرف کہا جا رہا ہے:
✅ حج و عمرہ میں زبان سے نیت ثابت ہے۔
اور تیسری طرف فرمایا جا رہا ہے:
📚 یہ صحابہ کو تعلیم دینے کے لیے تھی۔
تو جناب! فیصلہ کون کرے گا؟ 🤔
اگر زبان سے نیت ثابت نہیں تو حج و عمرہ میں یہ ثابت کیسے ہوگئی؟
اور اگر حج و عمرہ میں زبان سے نیت ثابت ہے تو پھر ’’نہ صحابی سے ثابت، نہ تابعی سے‘‘ والا اصول کہاں گیا؟
پنجاب کا ایک مشہور کھیل ہے کبڈی!
کھلاڑی میدان میں آتا ہے اور بس: کبڈی! کبڈی! کبڈی!
ادھر اہلحدیث رجسٹرڈ کے علماء کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے:
فتویٰ! فتویٰ! فتویٰ! 😂
ایک طرف ایک فتویٰ، دوسری طرف دوسرا فتویٰ، تیسری طرف تیسرا مؤقف…
اور آخر میں دعویٰ:
’’ہمارا منہج تو ایک ہی ہے!‘‘ 🤣
قارئین کرام
اہلحدیث رجسٹرڈ کا ایک منہج کا نعرہ ایسا ہی ہے جیسے قادیانیوں کا خود کو مسلمان کہنا۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔✍️: A.H.M
🎯🎯🎯🎯
♦️ ہمارے چھتر کی مار، حضرو لائبریری میں چیخ و پکار! ♦️
قارئینِ کرام! ذرا یہ کمال دیکھیے! 😂
نیچے دو اسکرین شاٹس موجود ہیں۔
پہلے اسکرین شاٹ میں زبیر علی زئی کے بیٹے کی ایپ "اشاعت الحدیث" میں دو کتابیں پوری شان و شوکت کے ساتھ موجود ہیں:
📚 نمازِ نبوی
📚 عبادات میں بدعات
اور دونوں کتابیں ہائی لائٹ بھی ہیں۔
اب دوسرے اسکرین شاٹ پر نظر ڈالیے…
دونوں کتابیں غائب! 😳😂
ارے بھئی!
یہ کتابیں آخر گئیں کہاں؟
کیا اچانک ان پر بھی "منہجِ اہلحدیث رجسٹرڈ" کا کوئی نیا فتویٰ نازل ہوگیا؟ 🤣
اصل کہانی اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے!
جب ہم نے انہی کتابوں سے زبیر علی زئی کی کذبیانیوں اور تضادات کو عوام کے سامنے رکھنا شروع کیا اور ایک ساتھی نے فرضی اہلحدیث رجسٹرڈ بن کر زبیر علی زئی کے بیٹے سے رابطہ کرکے ان اعتراضات کا جواب مانگا، تو ہمارے ساتھی کے مطابق انہیں یہ یقین دہانی کروائی گئی کہ یہ کتابیں، یا اس نوعیت کی کتابیں، جلد ایپ سے ہٹا دی جائیں گی۔
ہم نے بھی سوچا، چلو دیکھتے ہیں "تحقیق" جیتتی ہے یا "ڈیلیٹ" کا بٹن! 😂
تقریباً ایک ماہ بعد آج نتیجہ سامنے آ گیا۔
الحمدللہ!
کتابیں واقعی غائب ہو چکی ہیں۔ 🤣👏
یعنی جب کتاب کے اندر سے اٹھنے والے سوالات کا جواب دینا مشکل ہو جائے تو سب سے آسان حل:
نہ رہے گی کتاب، نہ رہے گا حوالہ؛
نہ رہے گا حوالہ، نہ پوچھے گا کوئی سوال!
کیا زبردست علمی دفاع ہے! 😂
قارئین کرام!
ہم زبیر علی زئی کا وہ حشر کریں گے کہ جس طرح اہلحدیث رجسٹرڈ اپنے امام وحید الزماں کو جوتے کی نوک پہ رکھتے ہیں زبیر علی زئی کو بھی جوتے پہ رکھا جائے گا،
اہل سنت والجماعت احناف دیوبند کے وار کی ابتدا ہی ہوئی ہے کہ باطل کی کتابیں ہٹنا اور مٹنا شروع ہوگئیں ،
﴿إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾
"بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے۔"
سربکف سربلند دیوبند دیوبند
جرات مند غیرت مند دیوبند دیوبند
🎯🎯🎯🎯
زبیری اصول سے امام شافعیؒ بھی دائرۂ اسلام سے باہر!
قارئینِ کرام!
زبیر علی زئی المشہور دماغی مریض نے امام اعظم ابوحنیفہؒ کو تابعی ماننے سے انکار کرنے کے لیے ایک عجیب و غریب ’’اصول‘‘ پیش کیا۔
امام ابوحنیفہؒ کا قول ہے:
«مَا رَأَيْتُ أَفْضَلَ مِنْ عَطَاءٍ»
’’میں نے عطاءؒ سے افضل کسی کو نہیں دیکھا۔‘‘
زبیر علی زئی نے اس سے یہ نتیجہ نکال لیا کہ اگر امام ابوحنیفہؒ نے کسی صحابیؓ کو دیکھا ہوتا تو امام عطاءؒ کو افضل نہ کہتے، لہٰذا امام صاحب نے کسی صحابیؓ کو نہیں دیکھا!
واہ زبیری منطق!
ایک جملہ پکڑا، اس کا مفہومِ مخالف بنایا اور پھر اسی کے بل بوتے پر امام اعظمؒ کی تابعیت ہی ختم کر دی!
مگر ذرا یہی ’’زبیر علی زئی کا منافقانہ اصول‘‘ آگے چلائیں۔
🔥 امام شافعیؒ بھی پھنس گئے!
امام شافعیؒ فرماتے ہیں:
«مَا أَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ كِتَابًا فِي الْعِلْمِ أَكْثَرَ صَوَابًا مِنْ كِتَابِ مَالِكٍ»
’’میں روئے زمین پر علم کے باب میں امام مالکؒ کی کتاب (الموطأ) سے زیادہ صحیح کتاب نہیں جانتا۔‘‘
📚 مناقب الشافعي للبيهقي، ص 507
اب زبیری اصول سے پوچھیں:
کیا امام شافعیؒ کے نزدیک الموطأ قرآنِ کریم سے بھی زیادہ صحیح تھی؟ 😳
اگر نہیں، تو پھر امام ابوحنیفہؒ کے:
«مَا رَأَيْتُ أَفْضَلَ مِنْ عَطَاءٍ»
سے یہ کیوں لازم آیا کہ انہوں نے کسی صحابیؓ کو دیکھا ہی نہیں؟
جناب! جو چھری امام اعظمؒ کے لیے بنائی تھی، اس کی دھار ذرا اپنے اصول پر بھی آزما لیجیے!
🔥 امام شعبیؒ کا معاملہ بھی سن لیجیے
مشہور تابعی امام شعبیؒ حسن بصریؒ کے بارے میں فرماتے ہیں:
«مَا رَأَيْتُ مِنْ أَهْلِ تِلْكَ الْبِلَادِ رَجُلًا قَطُّ أَفْضَلَ مِنْهُ»
’’میں نے اس شہر کے لوگوں میں حسن بصریؒ سے افضل کبھی کوئی شخص نہیں دیکھا۔‘‘
📚 الطبقات الكبرى لابن سعد، ج 9، ص 163
اب زبیری اصول کی رو سے کیا امام شعبیؒ کے نزدیک حسن بصریؒ بصرہ میں بسنے والے حضرت انس بن مالکؓ اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ جیسے صحابہ کرامؓ سے بھی افضل ہوگئے؟
کیا یہاں امام شعبیؒ بھی تابعیت کے درجے سے گر گئے؟
اگر نہیں، تو امام ابوحنیفہؒ کے معاملے میں یہ نیا ’’انکشاف‘‘ کہاں سے آگیا؟
مزے کی بات یہ ہے کہ خود زبیر علی زئی فتاویٰ علمیہ، ص 539 میں امام شعبیؒ کو مشہور ثقہ تابعی مانتے ہیں۔
یعنی امام شعبیؒ کے لیے اصول کا دروازہ کھلا،
امام اعظمؒ کے لیے وہی دروازہ اچانک بند!
🔥 صحابی رسول کا معاملہ بھی پڑھیئے
حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں:
’’میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو نبی کریم ﷺ کے طریقہ، سیرت اور چال چلن میں عبداللہ بن مسعودؓ سے زیادہ مشابہ ہو۔‘‘
📚 صحیح بخاری، حدیث 3762
اب کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ حضرت حذیفہؓ کے نزدیک حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ سے بھی افضل تھے؟
ہرگز نہیں!
لہذا ثابت ہوا
یہ اصول نہیں بلکہ ، یہ تو زبیر علی زئی کی کھلی منافقت دجل و فریب ہے۔
🟢 اور اب اصل علمی جواب
زبیر علی زئی کذاب کا پورا استدلال ایک مفہومِ مخالف اور نفی پر کھڑا ہے، جبکہ امام ابوحنیفہؒ کی حضرت انسؓ سے رؤیت کے بارے میں اثباتی اقوال موجود ہیں۔
اصول کا معروف قاعدہ ہے:
«الْمُثْبِتُ مُقَدَّمٌ عَلَى النَّافِي»
اثبات کرنے والے کی بات نفی کرنے والے کے مقابلے میں مقدم ہوتی ہے۔
اور دلچسپ بات یہ ہے کہ خود زبیر علی زئی کی کتاب ’’مقالات‘‘ جلد 6، صفحہ 165 میں امام ابوحنیفہؒ کی رؤیتِ صحابی کے بارے میں ابن عبدالبر، ذہبی، ابن العماد، ابن حجر عسقلانی، عینی وغیرہ کے نام درج ہیں ۔
تو پھر جناب!
ایک طرف متعدد ائمہ کے اثباتی اقوال، دوسری طرف ایک جملے سے نکالا ہوا مفہومِ مخالف!
اور فیصلہ کس کے حق میں ہونا چاہیے؟
✍️A.H.M
🎯 آخری بات
’’ما رأيت أفضل من فلان‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ بولنے والے نے دنیا میں موجود ہر شخص سے فلان کو مطلقاً افضل قرار دے دیا۔
یہ اپنے سیاق، میدان اور متعلقہ طبقے کے اعتبار سے افضلیت بیان کرنے کا عام اسلوب ہے۔
ورنہ:
الموطأ قرآن سے افضل،
حسن بصریؒ بصرہ کے صحابہؓ سے افضل،
اور ابن مسعودؓ تمام اکابر صحابہؓ و خلفاء راشدین سے افضل!
کیا یہ نتائج کوئی صاحبِ علم قبول کرے گا؟ ہرگز نہیں!
لہٰذا جو اصول دوسروں کے اقوال میں سیاق کے ساتھ سمجھا جاتا ہے، وہ امام اعظمؒ کے خلاف آ کر اچانک ’’مطلق اصول‘‘ کیوں بن گیا؟
بس یہی وہ مقام ہے جہاں زبیر علی زئی المشہور دماغی مریض کا بنایا ہوا اصول، امام اعظمؒ کو گرانے سے پہلے خود اپنے بنانے والے کو ہی ٹھوکر مار دیتا ہے۔
الحمدللہ، امام اعظمؒ کی تابعیت ایک زبیری قیاس سے ختم نہیں ہوتی۔ ❤️
✍️A.H.M
#نوٹ: تحریر میں تمام حوالہ جات کے سکین پیجز پہلے کمنٹ کے رپلائی میں ملاحظہ فرمائیں.
🎯🎯🎯🎯
شیخ الحدیث محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ
فضائل اعمال حکایات صحابہؓ کے مقدمہ/تمہید میں لکھتےہیں ۔۔۔۔
صفر 1357ھ میں ایک مرض کی وجہ سے چند روز کے لیے دماغی کام سے روک دیا گیا تو مجھے خیال ہوا کہ ان خالی ایام کو اس بابرکت مشغلہ میں گزار دوں...(یعنی اپنی اس تالیف میں صحابہ کی حکایات لکھوں)
اس پر غیرمقلدین نے شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور انکی مایہ ناز تالیف فضائل اعمال پہ طرح طرح کے اعتراضات اٹھائے حتیٰ کہ ان بے شرموں نے حضرت پہ دماغی مریض ہونے کا بھی چرچا کردیا۔۔۔۔
تو آئیے اج ہم اپکو غیرمقلدین کے ایک نامی گرامی محدث علامہ ناصرالدین البانی کی کتابوں اور انکی تحقیق اور دماغی حالت کی سیر کرواتے ہیں اور فیصلہ اپ پہ چھوڑتے ہیں کہ کون واقعی میں دماغی مریض تھا بقول غیر مقلدین کے۔۔۔
موصوف البانی صاحب حدیث جیسے دقیق باریک خطرناک اور حساس کام کے ساتھ کیا کھلواڑ کھیلتے رہے کہ اپنی ایک کتاب میں ایک حدیث کو صحیح لکھا تو اپنی دوسری کتاب میں اسی حدیث کو ضعیف لکھا۔
اور ایک حدیث کو ایک کتاب میں ضعیف لکھا تو دوسری کتاب میں اسی حدیث کو صحیح لکھا۔۔۔۔
ملاحظہ ہو موصوف کی کتابوں سے چند نمونے مشتے از خروارے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1
«أيما رجل كشف ستراً فأدخل بصره...»
غایۃ المرام 423: ضعیف
السلسلة الصحيحة 3463: صحیح
2
«من حدثكم أن النبي ﷺ كان يبول قائماً...»
مشکاۃ 365: ضعیف
السلسلة الصحيحة 201: صحیح
3
«لا شيء في الهام، والعين حق، وأصدق الطيرة الفأل»
ضعیف الجامع 6295: ضعیف
السلسلة الصحيحة 2949: صحیح
4
«أوتي موسى الألواح، وأوتيت المثاني»
ضعیف الجامع 2109: ضعیف
السلسلة الصحيحة 2813: صحیح
5
«بعثت بالحنيفية السمحة»
غایۃ المرام 8: ضعیف
السلسلة الصحيحة 2924: صحیح
6
«لا تشددوا على أنفسكم، فيشدد عليكم...»
ضعیف الجامع 6232 / الضعیفۃ 3468: ضعیف
السلسلة الصحيحة 3124: صحیح
7
«استتروا في صلاتكم ولو بسهم»
ضعیف الجامع 801: ضعیف
السلسلة الصحيحة 2783: صحیح
8
«لا تنتفعوا من الميتة بشيء»
الضعیفۃ 118: ضعیف
السلسلة الصحيحة 3133: صحیح
9
«لا تكرهوا البنات، فإنهن المؤنسات الغاليات»
ضعیف الجامع 6268 / الضعیفۃ 4793
السلسلة الصحيحة 3206: صحیح
10
«إذا ضحى أحدكم فليأكل من أضحيته»
ضعیف الجامع 581
السلسلة الصحيحة 3563: صحیح
ابوداؤد ✍️
🎯🎯🎯🎯
⭕️ Al Ijma Foundation Presents⭕️
الا ان خیر الخير خيار العلماء
Al Ijma magazine ka Shumaara no. 36 Aap Hazraat ki Khidmat me Haazir hai :
Is Shumaare ki highlights yeh hain:
⬇️⬇️⬇️⬇️
* Sajde se Khade Hote Waqt Pehle Haat Uthaana aur Phir Ghutna Uthaana SUNNAT HAI. [Jalsa e Isteraahat MASNOON Nahi hai], [Qist 4]
* Hadees : " [حدیث: إذا قرأ فانصتوا] " par Irshaad ul Haq Asri ke Aiteraazaat ke JAWAABAAT.
. Muhammed bin Ajlaan aur Abu Khalid al Ahmar MUDALLIS Nahi hain.
Download link :
Download Issue no 36 [Right Click, Save as]
https://ulamaehaqulamaedeoband.wordpress.com/2018/07/24/al-ijma-magazine-all-issues/
📚Team📚
AL IJMA FOUNDATION,
kurla west,
Mumbai, India.
الا ان خیر الخير خيار العلماء
⭕️ الاجماع فاؤنڈیشن ⭕️ کا مجلہ الاجماع کا شمارہ نمبر 36 آپ حضرات کی خدمت میں حاضر ہے :
اس شمارے کی خصوصیات یہ ہیں :
⬇️⬇️⬇️⬇️
* الروض الشہودفي تقدیم الركبتين عند السجود ،[والردّ على الألباني والحويني ومقبل الوداعی بالبرهان المسدود][سجدے سےکھڑے ہوتے وقت، پہلے’’ ہاتھ‘‘اور پھر’’ گھٹنا ‘‘اٹھانا سنت ہے،اورجلسہ استراحت مسنون نہیں ہے ] ،[قسط۴]
* صحیح مسلم کی حضرت ابو موسی الاشعری ؓ اور حضرت ابوہریرۃ ؓ کی [حدیث: إذا قرأ فانصتوا] پر، اثری صاحب کے فضول اعتراضات کے جوابات۔
*محمد بن عجلان ؒ(م۱۴۸ھ) اورسلیمان بن حیان،ابو خالد الاحمرؒ(م۱۹۰ھ)،مدلس نہیں ہیں۔
Download link :
Download Issue no 36 [Right Click, Save as]
https://ulamaehaqulamaedeoband.wordpress.com/2018/07/24/al-ijma-magazine-all-issues/
منجانب :
الاجماع فاؤنڈیشن،الہند۔
اس پوسٹ کی باریکی صرف صاحب علم ہی جان سکتا ہے
ایک سکین میں دیکھیں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان جسے عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے سیدنا بلال کو سکھائی تھی۔۔۔۔
دوسری سکین میں عبداللہ بن زید کو جو اذان سکھائی جارہی ہے تو ساتھ میں یہ بھی فرمایا گیا کہ وکذا لاقامۃ کہ اسی طرح اقامت بھی کہو۔۔۔۔
یعنی کا اول سکھانے والا استاد عبداللہ بن زید
اور سب سے اول اذان دینے والا سیدنا بلال جسے اذان عبداللہ بن زید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر سکھائی تھی۔۔۔تو جیسے اذان دوہری ثابت ہوگئی اقامت بھی اسی طرح دوہری ثابت ہوگئی۔۔۔
دونوں سکین زبیرعلی زئی غیرمقلد کی کتابوں سے
اور اب یہاں ایک غیرمقلد کی جہالت کا معائنہ بھی کرلیں۔۔
https://www.facebook.com/share/p/19qqz9CVUt/
نتیجہ: یعنی اس اذان کی اصل سنت اور بنیاد مدینہ منورہ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ہی رکھی تھی، جبکہ حجاج بن یوسف نے بعد میں مکہ مکرمہ میں اپنے دور میں اس کو نافذ کیا! اصل کو چھوڑ کر مکہ کے نفاذ کی وجہ سے حجاج کی طرف نسبت کرنا سراسر ہٹ دھرمی ہے۔
قارئین کرام!
سنابلی کی چلاکی یہاں دم توڑ جائے گی ملاحظہ فرمائیں
♦️خود امام عطاءؒ کے قول میں تضاد و اضطراب:
امام شافعیؒ نے اپنی عالمگیر کتاب "کتاب الأم" (ج 1، ص 224) میں امام عطاءؒ کا قول ان الفاظ میں نقل فرمایا ہے:
"وقد كان عطاء ينكر أن يكون عثمان أحدثه ويقول أحدثه معاوية"
ترجمہ: اور امام عطاءؒ اس بات کا انکار کرتے تھے کہ اسے عثمانؓ نے شروع کیا، اور وہ فرماتے تھے کہ اسے حضرت امیر معاویہؓ نے شروع کیا۔
لیجیے! ایک جگہ سنابلی صاحب کا پیش کردہ قول حجاج کا نام لیتا ہے اور دوسری جگہ امام شافعیؒ کی نقل کردہ روایت میں حضرت امیر معاویہؓ کا نام ہے۔ ایک ہی تابعی سے دو متضاد اور مختلف نسبتیں ثابت کرتی ہیں کہ امام عطاءؒ کی طرف اس قول کی نسبت سخت مضطرب اور ناقابلِ اعتماد ہے۔
نیز اہلحدیث رجسٹرڈ کے بڑے مانے جانے والے محقق زبیر علی زئی المشہور دماغی مریض نے مصنف عبد الرزاق کے بنیادی راوی الدبری پہ جرح کر رکھی ہے (قیام رمضان ص 47) لہذا جب بنادی راوی ہی مجروح ہے تو سنابلی صاحب کا مصنف سے قول لینا کچھ معنی نہیں رکھتا
تیسرا اعتراض اور اس کا مدلل رد
اعتراض: "صحیح بخاری کی حدیث میں اسے 'ندا' کہا گیا ہے، جسے صرف 'الارم' یا معمولی اطلاع سمجھا جائے، شرعی اذان نہیں!"
جواب:
خود اپنے ہی پیر پر کلہاڑی:
صحیح بخاری کی حدیثِ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے، جہاں انہوں نے جمعہ کی تینوں پکاروں (پہلی اذان، خطبے کی اذان، اور اقامت) سب کے لیے ایک ہی لفظ "النداء" استعمال فرمایا ہے۔
اگر سنابلی صاحب اور ان کے حواریوں کی معکوس منطق کو تسلیم کر لیا جائے کہ لفظ "ندا" سے اذانِ عثمانی "الارم" بن جاتی ہے، تو پھر صحابیِ رسول کی اسی گواہی کی رو سے خطبے کی دوسری اذان اور نماز کی اقامت کو بھی معاذ اللہ "الارم" ماننا پڑے گا! کیونکہ حدیث میں تینوں کے لیے یہی ایک لفظ "ندا" موجود ہے۔
شریعتِ اسلامیہ اور عربی لغت میں اذان کا حقیقی نام ہی "ندا" ہے، جیسا کہ قرآنِ پاک میں بھی ارشارِ باری تعالیٰ ہے: ﴿إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ﴾۔
قرآن کی اس آیت میں ندا کا ترجمہ سبھی نے اذان ہی کر رکھا ہے لہذا سنابلی صاحب کا یہ جاہلانہ اعتراض محض بغض صحابہ اور جہالت کے علاوہ کچھ نہیں ۔
چوتھا اعتراض اور اس کا مدلل رد
اعتراض: "حجاج بن یوسف کی بدعت کو صحابہ کرامؓ کے کھاتے میں ڈال کر معاذ اللہ صحابہ کو بدعتی ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے!"
جواب:
اجماعِ امت اور سنتِ خلفائے راشدین پر طعن:
رسول اللہ ﷺ کا واضح فرمانِ گرامی ہے: "فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ" (ترمذی)۔
امام بخاریؒ نے صحیح بخاری میں حضرت عثمانؓ کا عمل نقل کر کے ثابت کیا کہ یہ عمل امت اور صحابہ میں "دستور و سنت" بن گیا۔
مزید حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ بخاری کی روایت کے آخری حصے «فَثَبَتَ الْأَمْرُ كَذٰلِكَ» کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"اور تمام شہروں میں لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اس فعل کو اختیار کر لیا۔"
📚 فتح الباری شرح صحیح البخاری، جلد 6، کتاب الجمعہ، صفحہ 507۔
خلیفہ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اس بابرکت اور اجماعی عمل کو "حجاج بن یوسف کی بدعت" قرار دینا دراصل خلافتِ راشدہ، تمام صحابہ کرامؓ کے تبحرِ علمی اور اجماع پر ننگی چوٹ کرنے کے مترادف ہے۔
حاصلِ کلام:
صحابیِ رسول حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کی صحیح و صریح گواہی کو ٹھکرا کر، ایک تابعی کے مشکوک، شکی اور مضطرب قول کی آڑ میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اجماعی عمل کو "حجاج کی بدعت" قرار دینا، دین کی خدمت نہیں بلکہ بغضِ صحابہ اور حدیث و سنت سے دجل و فریب کی بدترین مثال ہے۔
ثابت ہوا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی یہ اذان:
صحیح بخاری اور مستند کتبِ حدیث سے ثابت و صحیح ہے۔
اس پر تمام صحابہ کرامؓ کا اجماع حاصل تھا۔
اسے حجاج بن یوسف کی طرف منسوب کرنا سند کی جہالت، شک، روایات کی تحریف اور بغضِ صحابہ کا نتیجہ ہے۔
واللہُ الموفق والمستعان✍️ A.H.M
🎯🎯🎯🎯
امام بخاری اور دیگر محدثین پر ابو نصر السجزی کی جانب سے بدعت اور سلف کی مخالفت کا الزام و جرح :
۔۔۔۔
بعض حضرات نے متکلمین اہل سنت اور سنی علم الکلام کی مخالفت میں کچھ کتابوں کی ترویج کا سلسلہ اپنایا ہوا ہے
ان کو اپنی کوتاہ نظر اور جلد بازی پر مشتمل یکروزہ یا ایک ہی نشست میں کتاب کے فٹافٹ صفحے پلٹانے اور پھر ان پر ناقص تبصروں سے لگتا ہے کہ انہوں نے بس عقل و فلسفے کے مقابلے میں خالص قرآن و حدیث پر مشتمل کتب کا تعارف کروایا ہے جو کہ
سلف کا مذہب ہے یا علی الاقل محدثین کا مذہب ہے
ساتھ یہ خوش نظر آتے ہیں کہ دیکھو ان کتب میں امام اشعری اور دیگر متکلمین اہل سنت کا رد موجود ہے
ایسے ہی حضرات کے ضمن میں شیخ ابو نصر السجزی کی کتابیں بھی ہیں
جن میں سے ابھی ابھی ان کی ایک کتاب منظر عام پر آگئی ہے جس کا نام الابانہ ہے
اس میں انہوں نے امام بخاری۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے شاگرد اور بڑے فقیہ امام کرابیسی کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ دونوں سلف کی مخالفت میں مبتلا ہوگئے
۔ امام عبداللہ بن سعید بن کلاب پر عجیب جھوٹ و افتراء نقل کیا ہے کہ یہ حقیقت میں عیسائی تھے اور منافقت کرتے ہوئے اسلام ظاہر کیا جبکہ مقصد نصرانیت کو اسلام میں چپ کر پھیلانا تھا والعیاذ باللہ
اور اسی طرح امام ابو العباس القلانسی ۔
پھر ان تمام یعنی امام بخاری سے لے کر القلانسی وغیرہ کے بارے میں لکھا ہے کہ
یہ سب بدعت کی گھاٹیوں میں اتر گئے
۔۔۔
اس سے پہلے ان حضرات نے ایسے کتابوں کی ترویج بھی اسی احساس کے ساتھ کی ہے کہ ان کتب میں متکلمین کا برکس نکالا گیا ہے
جیسا کہ ذم الکلام للھروی
حالانکہ ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ ذرا کتاب کے اندر جھانک کر تو دیکھ لیتے کہ وہ کن کن کا نام لے کر بقول آپ کے ان کا برکس نکال رہے ہیں ؟
ان میں سر فہرست ہمارے اور خود انہی لوگوں کے بھی ۔امام اعظم ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب تھے
ان کے علاؤہ امام ابوذر الھروی راوی صحیح بخاری۔
امام ابن حبان ۔ امام ابوبکر الاسماعیلی وغیرہ جیسے ائمہ حدیث شامل تھے
تو اب آپ بتا دیں کہ اگر
امام اعظم ابوحنیفہ ۔ اور ان کے اصحاب
امام بخاری۔ امام کرابیسی
امام ابوذر الھروی
امام ابوبکر الاسماعیلی امام عبداللہ بن سعید بن کلاب ۔جن کو ہمارے ائمہ نے ائمہ اہل سنت میں سے شمار کیا ہے۔
اور اسی طرح امام ابو العباس القلانسی یہ سب آپ کے ہاں مذموم علم الکلام والے متکلمین اور بدعتی ہیں
۔تو یارا ہم بدعتی ہی صحیح ۔۔۔
بہر کیف عبارت ملاحظہ ہو :
وقالت طائفة ممن يرد على المعتزلة كحسين الكرابيسي الذي كان عراقي المذهب ثم انتهل مذهب الشافعي، ومحمد بن إسماعيل البخاري صاحب الصحيح، والأول كان صدرًا في الفقه، والثاني كان مقدمًا في معرفة الحديث، ولكنهما قد مُحنا بمخالفة السلف في هذه المسألة، وكأبي محمد بن كلاب، وقيل إنه كان نصرانيًا فلما أسلم قالت له أخته: ما هذا؟ فقال: اسكتي، فقد دسست النصرانية في الإسلام، وأبي العباس القلانسي، في آخرين كلهم قالوا: القرآن كلام الله غير مخلوق ولا محدث، ولكن ألفاظنا به وتلاوتنا له وكتبنا إياه مخلوقة لأنها من أفعال العباد. ومن أصول السنة أن القرآن غير مخلوق وأن أفعال العباد مخلوقة، وقد صرح البخاري بنيسابور بالاحتجاج بما ذكرناه لما سئل عن اللفظ بالقرآن وهجر على ذلك، فجمعوا بين مسألتين من الأصول وحملوا إحداهما على الأخرى واستعملوها في موضع واحد، فأوردهم صنعهم هذا بعض مشاريع البدع.
۔۔۔۔۔۔الابانہ ج 2 ص 116 تا 120 بہر کیف
بشکریہ حضرت مولانا ارشد علی صاحب حفظہ اللہ
🎯🎯🎯🎯
+1
کن کن غیر مقلدین نے اب تک اپنی عورتوں کا ختنہ کرواکر علامہ البانی کی تحقیق پر عمل کیا ہوا ہے ؟؟
برانہیں ماننا یہ فقہی مسئلہ ہے اور بد تمیز لوگ تو پوسٹ سے دور ہی رہیں ۔۔
اور ہاں صرف الزامی حوالوں سے خفت مٹانے والے تحقیقی جواب دیں کیونکہ پوسٹ اسی واسطے نشر کیا گیاہے۔۔ابوداؤد
🎯🎯🎯🎯
علامہ البانی غیرمقلد اور زبیرعلی زئی غیرمقلد نے امت کے لئے یہ خاص ترغیب مدون کر رکھی ہے کہ ضعیف احادیث کو بالکل ترک یعنی چھوڑ دیا جائے۔۔۔
ہم کہتے ہیں ایسا اجمالی دعوی کرنا درست نہیں اس میں محدثین کے نزدیک تفصیل ہے۔۔۔
اور اگر البانی اور زبیرعلی زئی کے اس مجمل دعوے کو بلا تفصیل مانا جائے تو احادیث کا بڑا ذخیرہ ضائع ہونا یقینی لازم آئے گا کیونکہ صرف البانی اور زبیرعلی زئی کے مابین سینکڑوں احادیث کی صحت اور ضعف میں اختلاف ہے مطلب ایک ہی حدیث کو البانی صحیح یا حسن کہتا ہے جبکہ زبیرعلی زئی اسی حدیث پر ضعف کا حکم لگاتا ہے تو کیا ان احادیث کو ترک کردیا جائے؟
بعض غیر مقلدین اپنی کم فہمی کی وجہ سے حنفیہ کے چند اختلافی مسائل پہ اعتراضات کرتے رہتے ہیں کہ فلاں فلاں مسئلہ ان کا حدیث کے خلاف ہے اور یہ امام کا قول لے کر حدیث کا انکار ہے۔۔
تو ان غیرمقلدین سے عرض ہے کہ جیسے اپ البانی اور زبیرعلی زئی کی حدیث میں صحت و ضعف کے حکم کو لینے سے حدیث کے مخالفین نہیں بنتے تو حنفیہ کس اصول سے بنے؟
ابوداؤد ✍️
🎯🎯🎯🎯
💢 تقلید بمقابلہ منہج اہلحدیث رجسٹرڈ 💢
♦️ اہلحدیث رجسٹرڈ کے غیر رجسٹرڈ عقائد و مسائل ♦️
قسط نمبر 13
عنوان: جرابوں پر مسح کا مسئلہ
وضو کے بعد جرابیں پہنیں تو مسح ہو سکتا ہے یا نہیں؟
یہ کوئی ایسا پیچیدہ مسئلہ نہیں کہ جسے سمجھنے کے لیے سمندر پار سے کوئی نیا منہج درآمد کرنا پڑے! 😄
مگر اہلحدیث رجسٹرڈ کے ہاں معاملہ کچھ یوں نکلا کہ ایک ہی مسئلہ، ایک ہی جماعت، ایک ہی منہج کے دعویدار… لیکن فتوے الگ الگ!
اتنے تو میری جرابوں میں دھاگے نہیں،
جتنے جرابوں کے مسئلے پر اہلحدیث رجسٹرڈ کے ہاں فتوے ہیں! 😂
ملاحظہ فرمائیں:
🔹 قاری خلیل الرحمن جاوید — صلواۃ النبی کے حسین مناظر ص106
♦️بےوضو پہنی گئی جرابوں پر مسح نہیں کیا جا سکتا۔
🔹 زبیر علی زئی — فتاویٰ علمیہ ص525
✅ بغیر وضو کیے بھی جرابوں پر مسح کیا جا سکتا ہے۔
🔹 شیخ عبدالرحمن عزیز — صحیح نماز نبوی ص49
♦️ بغیر وضو جرابوں پر مسح نہیں کیا جا سکتا۔
🔹 عبدالمنان نورپوری — احکام و مسائل ج2 ص155
✅ بغیر وضو جرابوں پر مسح کیا جا سکتا ہے۔
🔹 بشیر احمد حسیم — مختصر محمدی نماز ص11
♦️ بغیر وضو کیے جرابوں پر مسح نہیں کیا جا سکتا۔
🔹 علی محمد سعیدی — فتاویٰ علمائے حدیث ص92
♦️ جرابوں پر مسح جائز نہیں۔
🔹 حافظ عبد الستار حماد — فتاویٰ اصحاب الحدیث ص67
✅ ہر قسم کی جراب پر مسح جائز ہے۔
🔹 سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی — فتاویٰ نذیریہ ص327
♦️ جرابوں پر مسح جائز نہیں۔
🔹 مبشر حسین لاہوری — نماز نبوی با تصویر ص53
✅ جرابوں پر مسح جائز ہے۔
📌 اب ذرا غور فرمائیے!
ایک ہی مسئلہ، مگر کہیں جائز، کہیں ناجائز؛ کہیں بغیر وضو جراب پہننے کے باوجود مسح درست اور کہیں درست نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ عام آدمی آخر کس کے ’’منہج‘‘ کو پکڑے؟
اگر جواب یہ ہے کہ ہر عالم نے دلیل کی روشنی میں اجتہاد کیا ہے تو پھر یہی حق دوسروں کو بھی دیجیے۔
اور اگر دوسروں کے اختلاف کو تقلید اور منہج کی خرابی کہا جائے، تو پھر اپنے گھر کے ان اختلافات کا نام کیا رکھا جائے؟
جرابیں ایک ہیں، مسئلہ ایک ہے، کتاب و سنت کا دعویٰ ایک ہے…
مگر فتوے اتنے کہ بندہ جراب پہننے سے پہلے فتویٰ ہی ڈھونڈتا رہ جائے! 😂
یہ ہے جناب ’’ایک منہج‘‘ کی ایک اور خوبصورت جھلک!
جاری ہے ۔۔۔۔۔✍️ A.H.M
🎯🎯🎯🎯
