en
Feedback
اسلامی اشعار

اسلامی اشعار

Open in Telegram

اچھے اشعار کا مطالعہ کیا جائے تو وہ انسان کو بھلائی کے راستے پر لگاتے ہیں لیکن اس کے برعکس اگر لغویہ،محبتوں،محض ذکرِ بُتاں اور تذکرۂ شراب و کباب والے اشعار ہوں تو وہ انسان کو تباہی تک لے جاتے ہیں۔ اردو،عربی،فارسی،پشتو،سندھی اشعار کیلئے چینل سے منسلک ہوں ـ

Show more
8 519
Subscribers
No data24 hours
+57 days
-2930 days
Posts Archive
وای بر عِشقی که نارِ او فُسُرد (علّامه اِقبالِ لاهوری) وائے اُس عِشق پر جِس کی آگ بُجھ گئی ہو!۔۔۔ (مُتَرجِم: حسّان خان اباسِینی)

.

امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ (١٨١ھ) یہ اشعار پڑھا کرتے تھے : رُكُوبُ الذُّنُوبِ يُمِيتُ الْقُلُوبَ وَقَدْ يُوْرِثُ الذُّلَّ إِدْمَانُهَا گناہوں کا ارتکاب دلوں کو مردہ کر دیتا ہے، اور مسلسل گناہ ذلیل و خوار کر کے رکھ دیتے ہیں۔ وَتَرْكُ الذُّنُوبِ حَيَاةُ الْقُلُوبِ وَخَيْرٌ لِنَفْسِكَ عِصْيَانُهَا اور گناہوں کو چھوڑنے میں دلوں کی زندگی ہے، اور تمہارے نفس کی بھلائی اس کی بات نہ ماننے میں ہے۔ (التوبة لابن أبي الدنيا : ٩)

هیچ کَس در وادیِ عِشقِ تو یارِ من نشُد غم بسی خوردم ولی کَس غم‌گُسارِ من نشُد (شَمْعی‌ پْرِزْرینی‌) تُمہارے عِشق کی وادی میں کوئی بھی شَخص میرا یار نہ ہُوا۔۔۔ مَیں نے غم بہت کھایا، لیکِن کوئی شَخص میرا غم‌گُسار نہ ہُوا۔۔۔ (مُتَرجِم: حسّان خان اباسِینی)

کیا وہ بساط الٹ گئی؟ ہاں وہ بساط الٹ گئی کیا وہ جواں گزر گئے،ہاں وہ جواں گزر گئے۔ جون

اگر کوئی پوچھ لے تم سے کہ؛ کیا کِیا تم نے آج ؟ تو کترانا مت! یہ کہنے سے کہ؛ مشکل تھا ، پر سانس لی ، اِس دِل کو۔۔۔۔ ایک اور جُھوٹی آس دی، سب ٹھیک ہو گا کہ نِہیں؟ پتہ نہیں! پر۔۔۔۔ میں نے کوشش بہت خاص کی۔

آؤ کہ کسی دُور کی بستی کو چلیں ہم اس شہر خرابی کے خرابات سے نکلو حسیب احمد حسیب

غفلت سے بیدار کرنے والے اشعار اے تمنا کے سمندر میں غوطہ زن! اللہ تجھے ہدایت دے، یہ سستی کیوں؟ تم نے اپنی زندگی نافرمانی اور جہالت میں گنوا دی، ذرا ٹھہرو، اے مغرور انسان، ٹھہرو۔ جوانی کا وقت بیت گیا اور تم غفلت میں رہے، اندھے پن اور گمراہی میں لپٹے ہوئے۔ کب تک تم جانوروں کی طرح بھٹکتے رہو گے؟ اور غنیمت کے وقت میں سوتے رہو گے؟ تمہارا دل گناہوں سے بیدار نہیں ہوتا، افسوس تم پر جس دن پیشانی سے پکڑا جائے گا۔

..

گرچه قلبِ هیچ‌کس بر اشک و غم‌هایم نسوخت من به چشمِ هر که دیدم اشکِ غم را، سوختم (شفیقه یارقین 'دیباج') اگرچہ کسی بھی شخص کا دل میرے اشک و غموں پر نہ جلا (غمگین نہ ہوا)۔۔۔ [لیکن] میں نے بھی جس بھی شخص کی چشم میں اشکِ غم دیکھا، میں جل گئی (غمگین و رحم دل ہو گئی)۔

ڈیرا اسماعیل خان کے شاعر عطا اللہ خان گنڈاپور کی ایک غزل سے چند ابیات : پیری و هر لحظه بیماری عذابِ اکبر است خوش بُوَد یک‌بار مردن از به بستر زیستن عمر رسیدگی اور ہر وقت بیماری بہت بڑا عذاب ہے. ایک بار (میں) مرنا بستر پر پڑے زندہ رہنے سے بہتر ہے. ناتوانی‌ها و بیماری و تنگیِ معاش گر همین پیری‌است، از مرگ است بدتر زیستن ناتوانیاں، بیماری اور تنگیِ معاش، اگر یہی پیری(بڑھاپا) ہے تو یہ موت سے بدتر زندگی ہے. چیست مردن از وبالِ زندگی وا رستن است خوش بُوَد نازیستن از خوار و مضطر زیستن (عطا الله خان 'عطا') مرنا کیا ہے؟ زندگی کے وبال سے نجات پانا ہے! زندہ نہ رہنا خوار و مضطر جینے سے بہتر ہے

روز در فکرِ شبِ دیجورم شب در اندوه و غمِ فردایم (شفیقه یارقین 'دیباج') میں روز کے وقت شبِ تاریک کی فکر میں ہوتی ہوں، اور شب کے وقت روزِ فردا کے اندوہ و غم میں ہوتی ہوں۔

اگرچه زیستم دُور از تو عُمری همیشه مِهرِ پاکت در دلم بود (اکبر عبدالله) اگرچہ میں نے ایک عُمر تم سے دُور زندگی کی، [لیکن] تمہاری پاک محبّت ہمیشہ میرے دل میں تھی۔

درونم را به نورِ خود برافروز زبانم را ثنایِ خود درآموز (نظامی گنجوی) [اے خُدا!] میرے درُون کو تم اپنے نُور سے روشن کر دو، اور میری زبان کو تم اپنی ثنا سِکھا دو۔

دُعائیہ بیت: رهی پیشم آور که فرجامِ کار تو خُشنود باشی و من رستگار (نظامی گنجوی) [اے خُدا!] وہ راہ میرے پیش میں لاؤ کہ [جس سے] بالآخر تم خوشنود ہو جاؤ اور میں نجات یاب [ہو جاؤں]۔

می‌دهم خود را نویدِ سالِ بهترسالهاست گرچه هر سالم بتر از پار می آید فرود (مهدی اخوان‌ثالث) سالوں سے میں خود کو بہتر سال کی خوشخبری دیتا ہوں اگرچہ میرا ہر سال گذشتہ(سال) سے بدتر ہوتا ہے۔

از ظُلمتِ خود رَهایی‌ام دِه با نُورِ خود آشنایی‌ام دِه (نظامی گنجوی) [اے خدا!] مجھ کو میری تاریکی سے نجات و خَلاصی دو، [اور] تم اپنے نُور کے ساتھ مجھ کو آشنائی دو۔

چاک اسی غم سے گریبان کیا ہے میں نے کون کھولے گا ترے بند قبا میرے بعد غافل
چاک اسی غم سے گریبان کیا ہے میں نے کون کھولے گا ترے بند قبا میرے بعد غافل

غابوا عن العينِ والأيامُ تُشغلُهم ‏أمّا عن القلبِ لا واللهِ ما غابوا " گردشِ ایام نے جنہیں آنکھوں سے اوجھل کر دیا بخدا دل میں ہر وقت مقیم رہتے ہیں وہ

راہ سخت و شیشہء عمرِ گرامی نازک است صحبتِ مینا و خارا تا کجا خواہد گذشت زندگی کی راہ سخت پتھریلی ہے اور عمرِ عزیز کا شیشہ نازک ہے، مینا (شیشے) اور سخت پتھر کی صحبت آخر کہاں تک بھی جائے گی؟