en
Feedback
Pearls Of The Salaf (درر السلف)

Pearls Of The Salaf (درر السلف)

Open in Telegram

على منهج السلف الصالح Invite others for your sadqa e jariya :)

Show more
494
Subscribers
No data24 hours
-67 days
-1330 days
Posts Archive
جن کو اللہ سے بہت کچھ مانگنا ہوتا ہے نا وہ اپنا تعلق مسجد سے جوڑ لیتے ہیں۔ پھر ان کو اسی میں سکون اور اطمینان محسوس ہوتا ہے۔
جن کو اللہ سے بہت کچھ مانگنا ہوتا ہے نا وہ اپنا تعلق مسجد سے جوڑ لیتے ہیں۔ پھر ان کو اسی میں سکون اور اطمینان محسوس ہوتا ہے۔ اور جس کو اللہ سے مانگنے کی لذت مل جائے وہ لوگوں سے مانگنے سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ اس کو بس پھر اللہ ہی کافی ہوجاتا ہے أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ [ الزمر 36] کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں؟

هل يجوز للحائض قراءة القرآن من الجوال؟ الجواب: نعم يجوز للحائض قراءة القرآن من الجوال. لأنه لا يأخذ حكم المصحف من حيث اشتراط الطهارة لمسّه. أحمد بن محمد الخليل

’’تئیسویں رات کا اہتمام‘‘ ⇚ضمرہ بن عبد اللہ بن انیس جہنی رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ’’میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! میں دیہات میں رہتا ہوں اور بحمد للہ وہیں نماز پڑھتا ہوں۔ تو آپ مجھے کسی رات (لیلۃ القدر) کے متعلق ارشاد فرما دیں کہ اس رات میں یہاں اس مسجد میں آ جاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : «اِنْزِلْ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ». ’’تیئیسویں کی رات کو آ جانا۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان کے بیٹے (عبد اللہ) سے پوچھا : تو تمہارے والد کیسے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: وہ عصر پڑھ کر مسجد نبوی میں داخل ہو جایا کرتے تھے اور کسی حاجت کے لیے باہر نہ نکلتے تھے، حتیٰ کہ صبح کی نماز پڑھ لیتے۔ پھر نماز صبح کے بعد اپنی سواری مسجد کے دروازے پر پاتے تھے، اس پر بیٹھتے اور اپنے دیہات چلے آتے۔‘‘ (سنن أبي داود : ١٣٨٠) اہلِ مدینہ کے ہاں یہ رات اسی صحابی کی مناسبت سے ’’لیلۃ الجہنی‘‘ کے نام سے معروف تھی، اور اس رات کا خاص اہتمام کیا جاتا تھا، لوگ گھروں سے بالخصوص قیام اللیل کے لیے مسجد نبوی ﷺ پہنچا کرتے تھے۔ (الطبقات لابن سعد: ٤/ ٤٠٠، التمهيد لابن عبد البر :١٣/ ٤٢٦) ⇚سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَأُرَانِي صُبْحَهَا أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ». ’’مجھے شب قدر دکھائی گئی پھر مجھے بھلا دی گئی ۔اس کی صبح میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔‘‘ قَالَ: فَمُطِرْنَا لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ، فَانْصَرَفَ، وَإِنَّ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ. قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُنَيْسٍ يَقُولُ: ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ. راوی بیان کرتے ہیں : تیئسویں رات ہم پر بارش ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی پھر آپ نے سلام پھیرا تو آپ کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی کے نشانات تھے، عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے (لیلۃالقدر) تیئیسویں ہے۔‘‘ (صحیح مسلم : ١١٦٨) ⇚ عبید اللہ بن یزید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : «رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَرُشُّ عَلَى أَهْلِهِ الْمَاءَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ». ’’میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ تئیسویں رات کو اپنے گھر والوں (کو جگانے کے لیے) ان پر پانی چھڑکتے تھے۔‘‘ (المصنف لابن أبي شيبة : ٢/‏٣٢٦، العلل لأحمد : ٢٨٨٠ وسنده صحیح) ⇚ اسود بن یزید بیان کرتے ہیں : «أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تُوقِظُ أَهْلَهَا لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ». ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تئیسویں رات اپنے گھر والوں کو بیدار کیا کرتی تھیں۔‘‘ (من أحاديث سفيان الثوري : ١٤٥، المصنف لابن أبي شيبة : ٢/‏٣٢٦ واللفظ له، صحیح) ... حافظ محمد طاھر (المدينة المنورة، ليلة ٢٣ رمضان ١٤٤٦هـ)

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 🌹خوبصورت Islamify app جو کہ قرآن وحدیث پر مبنی ہے اسے استعمال کریں ابھی ڈؤن لوڈ کریں اور فا
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 🌹خوبصورت Islamify app جو کہ قرآن وحدیث پر مبنی ہے اسے استعمال کریں ابھی ڈؤن لوڈ کریں اور فائدہ اٹھائیں 🌹اس آپ کی بارے میں مزید معلومات حاصل کریں *بزبان حافظ ابو یحییٰ نورپوری حفظہ اللہ سے* https://www.facebook.com/DrHafizAbuYahya/videos/1011826414181157/?mibextid=rS40aB7S9Ucbxw6v https://play.google.com/store/apps/details?id=com.islamify.app

الشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سرگودھا کی مسجد میں تھا، وہاں صدقے کے بارے میں بہت اچھا درس ہوا، میں باہر نکل
الشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سرگودھا کی مسجد میں تھا، وہاں صدقے کے بارے میں بہت اچھا درس ہوا، میں باہر نکلا تو دیکھا کہ وہیل چیئر پر موجود ایک سائل لوگوں سے سوال کر رہا تھا، میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور ساری رقم اسے دے دی۔ وہ تقریباً ایک ہزار روپے تھے۔ اتنی ہی دیر گزری تھی کہ میں سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا کہ مجھے ایک آدمی کا فون آگیا۔ اُس نے کہا کہ شیخ صاحب! میں نے آپ کو تیس ہزار (30000) روپے بھیج دیئے ہیں۔ یہ آپ کے لیے تحفہ ہیں۔ میں حیران ہوا کہ اللہ کی راہ میں ابھی صرف ایک ہزار ہی دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تیس گنا کر کے واپس لوٹا دیا۔ اسی سے ملتا جلتا امام ابن جریج رحمہ اللہ کا قصہ میں نے والد محترم رحمہ اللہ سے متعدد بار سنا ہے۔ امام ابن جریج کے قصہ کے لیے دیکھئے سنن الترمذی (تحت حدیث: 2035 وسندہ حسن)