en
Feedback
📚 اردو نصیحتیں 📕 Urdu Naseehaten

📚 اردو نصیحتیں 📕 Urdu Naseehaten

Open in Telegram

اِس چینل پر دینی، اخلاقی، اصلاحی، سماجی، اور خوب صورت تحریری گل دستے پیش کیے جائیں گے ۔ اِن شاء اللہ

Show more
2 954
Subscribers
-124 hours
-107 days
-3230 days
Posts Archive
یہ تحریر اُردو ترجمہ: --- کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں آپ اپنا وقت اس سے زیادہ دیتے ہیں جو آپ خود کو دیتے ہیں، اُن کے لیے اپنا دل کھول دیتے ہیں اس سے پہلے کہ اپنا دروازہ کھولیں، اُن کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں، اُن کی غیرموجودگی میں اُن کا دفاع کرتے ہیں، اُن کی مصیبت میں اُن کا ساتھ دیتے ہیں، اُن کی خوشی پر ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے وہ آپ کی اپنی خوشی ہو – پھر وہ لمحہ آتا ہے جب آپ کو پتہ چلتا ہے کہ یہ سب کچھ اُن کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا تھا، اور وہ آپ میں ایک ذریعے یا عارضی اسٹیشن کے سوا کچھ نہیں دیکھتے تھے جو ضرورت ختم ہوتے ہی ختم ہو جاتا ہے۔ تکلیف کسی کے جانے سے نہیں – ہر انسان اپنی پسند میں آزاد ہے – لیکن تکلیف اس بات سے ہے کہ کچھ لوگ مخلصانہ موقفوں کا ایک طویل وقت ایک لمحے کی مصلحت، ایک معمولی سی بات، یا تنگ نظری کی وجہ سے بھول جاتے ہیں۔ تب آپ کو احساس ہوتا ہے کہ مسئلہ آپ کی وفاداری میں نہیں تھا، بلکہ اس میں تھا کہ آپ نے اپنا اعتماد اُن لوگوں کو دیا جو اعتماد کی قدر نہیں جانتے۔ دنوں نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ سچا بھائی تالیوں کے وقت نہیں بلکہ خاموشی کے وقت ظاہر ہوتا ہے، اور سہارا خوبصورت الفاظ کی تعداد سے نہیں بلکہ اُن موقفوں کی تعداد سے ماپا جاتا ہے جو اُس نے آپ کے ساتھ بغیر کسی مطالبے کے گزارے ہیں – کیونکہ صرف موقف ہی وہ زبان ہے جو جھوٹ نہیں جانتی۔ اور باوجود اس سب کے جو میں نے دیکھا، میں مایوسی کو اپنے اصول بدلنے نہیں دوں گا۔ میں وفادار رہوں گا کیونکہ وفا ایک اخلاق ہے، کوئی سودا نہیں۔ میں بھلائی کرتا رہوں گا کیونکہ بھلائی اپنے لوگوں کو پسند کرتی ہے، اس لیے نہیں کہ ہر کوئی اس کا مستحق ہے۔ اور میں دنوں کو حقائق سے پردہ اٹھانے دوں گا – وہ ایسے قاضی ہیں جو غلطی نہیں کرتے، اور ایسا آئینہ ہے جو کسی کی خوشامد نہیں کرتا۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے اپنے پیاروں کو دھوکا دیا اور پہلی ہی آزمائش پر موقف رکھنے والوں کا ساتھ چھوڑ دیا – تو وہ یاد رکھیں کہ زندگی ایک چکر ہے، دن بھولتے نہیں، اور جو وفا بوئے وہ محبت کاٹتا ہے، اور جو دھوکا بوئے گا ایک دن وہ اپنے کیے کی کڑواہٹ چکھے گا۔ اور آخر میں، مجھے افسوس اس بات کا نہیں کہ میں وفادار رہا، بلکہ افسوس اس بات کا ہے کہ میں نے وفا اُن لوگوں کو دی جنہیں اس کی قدر معلوم نہیں۔ پھر بھی میں اس یقین پر قائم رہوں گا کہ انسان کا اندازہ اُس کے آس پاس کے لوگوں کی تعداد سے نہیں، بلکہ اُس کے اصولوں کی قدر سے ہوتا ہے، اور اصیل شخص اصیل ہی رہتا ہے چاہے وہ اکیلا ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ عزت اور وفا کو کسی سامعین کی ضرورت نہیں، بلکہ ایک زندہ ضمیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ سلام ہے ہر اس دل پر جس نے وفا کا مطلب پہچانا، اور جسے مفادات نے بدلا نہیں اور حالات نے تبدیل نہیں کیا۔ 👌👌👌

🌿 مغرب کے ساتھ ہی جمعہ کی مبارک ساعتیں شروع ہو چکی ہیں۔ ذرا سوچیے...! کتنی تیزی سے وقت ہماری زندگی سے رخصت ہو رہا ہے۔ نہ جان
🌿 مغرب کے ساتھ ہی جمعہ کی مبارک ساعتیں شروع ہو چکی ہیں۔ ذرا سوچیے...! کتنی تیزی سے وقت ہماری زندگی سے رخصت ہو رہا ہے۔ نہ جانے کتنے جمعے ہماری زندگی سے گزر چکے، اور نہ معلوم کتنے باقی ہیں۔ ہر گزرتا لمحہ ہمیں اپنی آخری منزل، یعنی موت، کے مزید قریب کر رہا ہے۔ 😥 اس لیے اس مبارک جمعہ کو غنیمت جانیے۔ اپنی زبان کو کثرتِ درودِ پاک ﷺ سے تر رکھیے، اور سورۂ الکہف کی تلاوت کا اہتمام کیجیے۔ کون جانتا ہے... شاید یہ جمعہ ہماری زندگی کا آخری جمعہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مبارک دن کی قدر کرنے، اپنی مغفرت حاصل کرنے، اور اپنی رحمتوں سے بھرپور حصہ پانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

🥀 "بہو نہیں... کسی کی بیٹی ہے، اسے بے بس نہ کریں۔۔۔ ایک بیٹی جب اپنے باپ کا گھر چھوڑتی ہے تو صرف ایک دروازہ بند نہیں ہوتا... اس کی پوری دنیا بدل جاتی ہے۔ وہ اپنے والدین کی محبت، اپنے بچپن کی یادیں، اپنے محفوظ آنگن اور ہر اس رشتے کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے جس کے سہارے اس نے زندگی گزاری ہوتی ہے۔ وہ نئے گھر میں یہ سوچ کر قدم رکھتی ہے کہ یہاں اسے عزت ملے گی، اپنائیت ملے گی، محبت ملے گی... مگر جب اس کا استقبال محبت سے نہیں بلکہ طعنوں سے ہو... جب جہیز کو اس کی عزت کا پیمانہ بنا دیا جائے... جب ہر بات پر اسے کمتر، حقیر اور بے وقعت محسوس کرایا جائے... جب اس کے آنسو بھی کسی کو نظر نہ آئیں... تو وہ بولنا چھوڑ دیتی ہے۔ اس کی ہنسی پہلے خاموش ہوتی ہے... پھر اس کی خواہشیں مر جاتی ہیں... اور آخر میں وہ خود زندہ رہ کر بھی اندر سے ٹوٹ جاتی ہے۔ وہ کئی بار سوچتی ہے: "اگر یہ گھر بھی میرا نہیں... تو پھر میرا گھر ہے کہاں؟" نہ وہ والدین کو اپنا دکھ سنا سکتی ہے کہ وہ پریشان ہوں گے، نہ سسرال میں کوئی اس کی فریاد سننے والا ہوتا ہے۔ وہ بس رات کے اندھیرے میں اپنے رب کے سامنے ٹوٹ کر رو پڑتی ہے۔ یاد رکھیں... کسی عورت کو بے بس کرنا طاقت نہیں، ظلم ہے۔ کسی کی بیٹی کی عزت چھین لینا بہادری نہیں، انسانیت کی شکست ہے۔ جس گھر میں عورت کے آنسو معمول بن جائیں، وہاں سکون نہیں رہتا۔ بیٹی کو عزت دیجیے... کیونکہ وہ آپ کے گھر صرف رشتہ نبھانے نہیں آتی، وہ اپنا پورا وجود آپ کے سپرد کر دیتی ہے۔ اس کے دل کو مت توڑیے... کیونکہ ٹوٹے ہوئے دل کی آہ عرش تک پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔

🌙✨ اگر آج آپ غمگین ہیں... ✨🌙 😔 اگر دل پر غموں کا بوجھ ہے... 😢 اگر آنکھیں خاموشی سے آنسو بہا رہی ہیں... 🥀 اگر روح ہر چیز سے تھک چکی ہے... 🤲 تو یقین رکھیں... اللہ آپ کو دیکھ رہا ہے۔ وہ آپ کے ہر آنسو سے واقف ہے، ہر تکلیف کو جانتا ہے، ہر خاموش دعا کو سن رہا ہے، اور آپ کے لیے ایسے فیصلے فرما رہا ہے جو آپ کی زندگی بدل سکتے ہیں۔ 🌸 🌧️ کبھی کبھی زندگی کی سب سے تاریک رات... 🌅 سب سے روشن صبح کی نوید لے کر آتی ہے۔ 🌙 آج رات سونے سے پہلے... ⏰ تہجد کے لیے الارم ضرور لگائیں۔ 🤲 اپنے رب سے ملاقات کی نیت کریں۔ کیا معلوم... ✨ یہی رات قبولیت کی رات ہو۔ ✨ یہی سجدہ آپ کے غموں کا خاتمہ بن جائے۔ ✨ یہی دعا تقدیر کے بند دروازے کھول دے۔ ✨ اور اللہ اسی رات آپ کو وہ عطا فرما دے جس کا آپ مدتوں سے انتظار کر رہے ہیں۔ 🌌 جب ساری دنیا سو رہی ہوگی... 🤲 آپ کا رب آپ کو اپنی بارگاہ میں بلا رہا ہوگا۔ 📿 آج ہی الارم لگائیں۔ ⏰ 🌙 تہجد کی نیت کریں۔ 🤲 اور اپنے رب سے وہ مانگیں جو صرف وہی عطا کر سکتا ہے۔ 🌺 کیا خبر... یہی رات آپ کی زندگی کی سب سے خوبصورت رات بن جائے۔ ⏰ ابھی الارم لگائیں... اور اپنے رب کے ساتھ تنہائی کے ان قیمتی لمحوں کو ضائع نہ کریں۔ 🌙🤲

🌸 *ماں کی توجہ* ایک چھوٹی بچی ہر روز اپنی ماں کے پاس آ کر کہتی: "امی... مجھے دیکھیں!" لیکن ماں کے ہاتھ میں ہمیشہ موبائل ہوتا
🌸 *ماں کی توجہ* ایک چھوٹی بچی ہر روز اپنی ماں کے پاس آ کر کہتی: "امی... مجھے دیکھیں!" لیکن ماں کے ہاتھ میں ہمیشہ موبائل ہوتا۔ وہ مسکرا کر کہتی: "بس ایک منٹ..." یہ "ایک منٹ" دنوں، ہفتوں اور مہینوں میں بدل گیا۔ ایک دن بچی نے اپنی ڈرائنگ ماں کے سامنے رکھی۔ اس میں ایک گھر تھا... ایک چھوٹی سی بچی تھی... اور ماں کے چہرے کی جگہ ایک موبائل بنا ہوا تھا۔ ماں کچھ لمحوں کے لیے خاموش رہ گئی۔ اسے احساس ہوا کہ بچے صرف ہمارے الفاظ نہیں، ہماری ترجیحات بھی پڑھنا سیکھ جاتے ہیں۔ 💭 غوروفکر: آج میرا بچہ میری توجہ پا رہا ہے... یا صرف میرا "ایک منٹ" سن رہا ہے؟

عورت کا کردار کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے جب وہ سیدھے راستے پر چلتی ہے تو اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ اور شاند
عورت کا کردار کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے جب وہ سیدھے راستے پر چلتی ہے تو اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ اور شاندار بنا دیتی ہے اس کے برعکس اگر وہ خود غلط راستوں اور گمراہی کا انتخاب کر لے تو وہ نہ صرف اپنی ذات کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ پورے خاندانی نظام کو تباہ کر دیتی ہے🥀🫠

🌿 اگر تم زندگی کی آزمائشوں سے ٹوٹ چکے ہو... تو یہ چند لمحے اپنے رب کے نام کر دو۔ 🌿 کبھی ایسا لگتا ہے کہ اب ہمت ختم ہو گئی ہے... دعائیں جیسے آسمان تک پہنچ ہی نہیں رہیں... آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں... اور دل بار بار یہی کہتا ہے: "یا اللہ! آخر کب تک؟" اگر آج تمہارا دل بھی یہی کہہ رہا ہے... تو اپنے رب کی قدرت کو یاد کرو۔ 🌊 نوح علیہ السلام کے سامنے طوفان تھا، مگر اللہ پر توکل، طوفان سے بڑا تھا۔ 🔥 ابراہیم علیہ السلام کے سامنے دہکتی آگ تھی، مگر یقین اتنا مضبوط تھا کہ آگ بھی اللہ کے حکم سے سلامتی بن گئی۔ 🌊 موسیٰ علیہ السلام کے سامنے سمندر تھا اور پیچھے فرعون کا لشکر، مگر ایک یقین نے سمندر کو راستہ بنا دیا۔ 🕳️🤲 یوسف علیہ السلام کنویں میں تھے، پھر قید خانے میں بھی رہے، مگر انہوں نے اپنے رب سے امید نہیں توڑی، اور اللہ نے انہیں عزت عطا فرمائی۔ 🐋🌌 یونس علیہ السلام تاریکیوں کے اندر تاریکی میں تھے، مگر ایک سچی پکار نے نجات کا دروازہ کھول دیا۔ 🤲🩺 ایوب علیہ السلام برسوں بیماری میں رہے، مگر شکوہ نہیں کیا، صبر کیا، اور اللہ نے شفا عطا فرمائی۔ 🤲🏻 زکریا علیہ السلام نے بڑھاپے میں بھی دعا کرنا نہیں چھوڑی، اور اللہ نے انہیں ایسی خوشی عطا فرمائی جس کا دنیاوی اسباب سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا۔ اب اپنے دل سے ایک سوال کرو... کیا تمہاری آزمائش، طوفان سے بڑی ہے؟ کیا تمہارا غم، آگ سے زیادہ شدید ہے؟ کیا تمہاری بے بسی، سمندر کے سامنے کھڑے موسیٰ علیہ السلام سے بڑھ کر ہے؟ کیا تمہاری تنہائی، کنویں یا مچھلی کے پیٹ کی تاریکی سے زیادہ ہے؟ اگر نہیں... تو پھر اپنے رب سے امید کیوں کم ہو گئی؟ یاد رکھو... اللہ دیر کر سکتا ہے، مگر اپنے بندے کو چھوڑتا نہیں۔ وہ آزماتا ہے، مگر تنہا نہیں چھوڑتا۔ وہ رلاتا ہے، مگر بے مقصد نہیں رلاتا۔ ہر آنسو، ہر سجدہ، ہر دعا... اس کے علم میں ہے۔ تمہاری کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی... ہو سکتا ہے آج کا صبر، کل کی سب سے بڑی خوشخبری بن جائے۔ 🤲 اس لیے ہمت نہ ہارو، دعا نہ چھوڑو، سجدے نہ چھوڑو، اور اپنے رب پر توکل کبھی نہ چھوڑو۔ جس رب نے اپنے انبیاء علیہم السلام کو ہر آزمائش سے نکالا، وہی رب آج بھی زندہ و قائم ہے، اور وہ تمہاری دعا بھی سننے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ ازقلم : بنت محمد اظہر الدین صاحب

⚠️ یہ صرف ایک ویڈیو نہیں... ہر والدین کے لیے ایک آئینہ ہے! ⚠️ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہے۔ اس میں ایک باپ نے اپنے بیٹے سے فجر کی نماز چھوڑنے پر کمپیوٹر واپس لے لیا۔ سوچیے...! جس باپ نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے کمپیوٹر خریدا، وہی باپ جب دیکھتا ہے کہ یہی سہولت اس کے بچے کو اللہ کی نماز سے دور کر رہی ہے، تو وہ خاموش نہیں رہنا چاہئے ، بلکہ ایک سخت فیصلہ کرتا ہے۔ ❓ہم خود سے پوچھیں... کیا ہم نے کبھی اپنے بچوں سے یہ پوچھا کہ فجر پڑھی؟ یا صرف یہ پوچھتے ہیں: "موبائل چارج ہے؟" "آن لائن کلاس ہوئی؟" "یا گیم کھیلتے ہے تو دیکھ کر اگنور کرتے ہے؟" آج بہت سے گھروں میں موبائل اور کمپیوٹر کھلونا بن چکے ہیں، جبکہ نماز، قرآن اور مسجد اجنبی ہوتے جا رہے ہیں۔ یاد رکھیے! وہ باپ کامیاب نہیں جس نے اولاد کو صرف دنیا کی ہر سہولت دے دی، بلکہ وہ باپ کامیاب ہے جس نے اپنی اولاد کو سجدہ کرنا سکھا دیا۔ آج اگر ہم اپنی اولاد کو نماز کا پابند نہیں بنائیں گے، تو کل یہی اسکرینیں ان کے ایمان، اخلاق اور وقت کو نگل جائیں گی۔ سورۃ طہ : 132 ﴿وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۖ لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا ۖ نَحْنُ نَرْزُقُكَ ۗ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى﴾ ترجمہ: "اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہو۔ ہم تم سے روزی نہیں مانگتے، ہم ہی تمہیں روزی دیتے ہیں، اور اچھا انجام تقویٰ والوں کے لیے ہے۔" 🤲 اے اللہ! ہماری اولاد کے دلوں میں نماز، قرآن اور دین کی محبت پیدا فرما، اور ہمیں ان کی صحیح تربیت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔ ازقلم : بنت محمد اظہر الدین صاحب

بارش کی رحمت، انسانیت کی ذمہ داری الحمد للہ! ☔🌧️ اللہ تعالیٰ کی رحمت موسلا دھار بارش کی صورت میں برس رہی ہے۔ یہ بارش خشک زمین کو زندگی دیتی ہے، درختوں کو سرسبز کرتی ہے اور دلوں کو تازگی بخشتی ہے۔ مگر ذرا ایک لمحے کے لیے اُن چہروں کے بارے میں بھی سوچیے... وہ مزدور، جو صبح گھر سے صرف اس امید پر نکلتا ہے کہ آج کی مزدوری سے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی لے جائے گا، بارش کی وجہ سے خالی ہاتھ واپس لوٹ آتا ہے۔ وہ غریب خاندان، جن کے کچے گھر پانی سے بھر گئے ہیں... وہ مسافر، بیمار، بوڑھے اور بے سہارا لوگ، جو اس بارش میں مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں ایک مومن کا دل صرف اپنی خوشی پر نہیں، بلکہ دوسروں کے درد پر بھی دھڑکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى﴾ "اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔" (سورۃ المائدہ: 2) اگر اللہ نے ہمیں آسائش دی ہے تو آئیے، اس رحمت کے موسم میں کسی کے لیے رحمت بن جائیں۔ کسی مزدور کی مدد کر دیجیے... کسی بھوکے کو کھانا کھلا دیجیے... کسی پریشان حال کا ہاتھ تھام لیجیے... اور اگر کچھ بھی ممکن نہ ہو تو کم از کم اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھا لیجیے۔ یاد رکھیے! کبھی کبھی آپ کی معمولی سی مدد، کسی کے گھر کا چولہا جلا دیتی ہے، کسی ماں کی آنکھوں کے آنسو پونچھ دیتی ہے، اور کسی بچے کے چہرے پر مسکراہٹ واپس لے آتی ہے۔ اے اللہ! اس بارش کو ہمارے لیے رحمت، برکت اور خیر کا ذریعہ بنا، اور ہر مصیبت زدہ، غریب اور پریشان حال مسلمان کی مدد فرما۔ آمین۔ ازقلم : بنت محمد اظہر الدین صاحب https://t.me/UrduNaseehaten

بات نہیں سنی جائے گی اور یوں ہم بے شمار مواقع ضائع کر دیتے ہیں۔ اگر آپ یہ کتاب پڑھنا چاہیں تو مجھ سے واٹس ایپ پر فری لے سکتے ہیں۔ 📞 0337 4769499 (کیرئیر مینٹور: ایچ۔ایم۔زکریا)

رینڈی پاش یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کا پروفیسر تھا وہ پوری یونیورسٹی میں مشہور تھا‘ اساتذہ سے لے کر طالب علم تک یونیورسٹی کے تمام لوگ اسے بے انتہا پسند کرتے تھے، وہ ’’پرسن آف دی ائیر‘‘ اور دنیا کی سو متاثر کن شخصیات کا ایوارڈ بھی حاصل کر چکا تھا‘ اسے اپنا کام بھی پسند تھا اور وہ فیملی لائف بھی انجوائے کر رہا تھا لیکن پھر اچانک 2006ء میں اس کی طبیعت خراب ہوئی، وہ ہسپتال گیا، چیک اپ کرایا تو پتا چلا اس کے لبلبے میں کینسر ہے، وہ ہسپتال میں داخل ہوا اس کا آپریشن ہوا اور وہ صحت یاب ہو گیا۔ 2007ء کے آخر میں اس کی طبیعت دوبارہ خراب ہو گئی، ڈاکٹروں نے معائنہ کیا اور اسے بتایا کینسر واپس آ گیا ہے اور اس مرتبہ یہ جگر تک پھیل چکا ہے لہٰذا عملاً اس کے پاس تین سے چار ماہ بچے ہیں، ڈاکٹروں نے اسے بتایا اس کے پاس اب دو آپشن ہیں تم اپنا باقی وقت ہسپتال میں گزار دو یا پھر اپنے خاندان کے ساتھ ہنسی خوشی ٹائم گزار کر دنیا سے رخصت ہو جاو، یہ اس کے لیے خوف ناک تھی لیکن قدرت نے اسے حوصلے اور عقل سے نواز رکھا تھا چناں چہ وہ یہ صدمہ برداشت کر گیا‘ اس کا اس نئی صورت حال میں پہلا فیصلہ جاب چھوڑنا تھا‘ اس نے یونیورسٹی کو اطلاع دی اور یونیورسٹی کو اپنا آخری لیکچر دینے کی درخواست کر دی‘ یونیورسٹی کی روایت ہے یہ اپنے پروفیسرز کو ریٹائرمنٹ سے قبل ’’فائنل ٹاک‘‘ کا موقع دیتی ہے‘ فائنل ٹاک کا موقع سب پروفیسرز کو ملتاتھا لیکن اس کا معاملہ مختلف تھا‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ ایک مرنے والے پروفیسر کی آخری تقریر تھی‘ بہرحال قصہ مختصر 18 ستمبر 2007ء کو پروفیسر کو اپنے طالب علموں‘ اساتذہ‘ پٹس برگ شہر کے اہم لوگوں اور میڈیا سے گفتگو کا موقع ملا‘ اس نے اپنی گفتگو کا موضوع ’’ریلی اچیونگ یور چائلڈ ہڈ ڈریمز‘‘ رکھا‘ وہ لیکچر کمال تھا‘ اس نے نہ صرف شرکاء کو زندگی کا مختلف پہلو دکھایا بلکہ طالب علموں کو کام یابی کا ایسا راستہ بھی بتادیا جو نظروں سے اوجھل تھا۔ ہال میں ایک صحافی جیفری زاسلو (Jeffrey Zaslow) بھی موجود تھا‘ وہ اس لیکچر سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے ’’دی لاسٹ لیکچر‘‘ کے نام سے رینڈی پاش کے لیکچر کو کتابی شکل دے دی‘ یہ کتاب 8 اپریل 2008ء کو شائع ہوئی اورتیزی سے مقبول ہو گئی‘ رینڈی نے اس لیکچر کے بعد خود کو اپنی فیملی تک محدود کر لیا۔ بہرحال قصہ مختصر 25 جولائی 2008ء کو رینڈی پاش فوت ہو گیا لیکن وہ جاتے جاتے دنیا کو دی لاسٹ لیکچر جیسی شان دار کتاب دے گیا۔ رینڈی پاش کے لیکچر میں بے شمار کہانیاں اور زندگی کے سبق تھے لیکن ایک کہانی سب سے اہم ہے۔ رینڈی نے بتایا میں جوانی میں اپنے والد اور بیٹے کو ڈزنی لینڈ لے گیا‘ پارک میں ایک ٹرین چلتی ہے‘ ہم جب ایک ٹرین سٹیشن پر پہنچے تو میرے والد نے عجیب فرمائش کر دی‘ انہوں نے کہا‘ میں بچپن سے ٹرین کے انجن میں ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ کر سفر کرنا چاہتا تھا لیکن مجھے پوری زندگی یہ موقع نہیں ملا‘ کیا تم میرے لیے اس انجن ڈرائیور کو راضی کر سکتے ہو‘ میں نے چند لمحے سوچا اور پھر انجن ڈرائیور کے پاس چلا گیا‘ میں نے اس کے کان میں کچھ کہا اور اس نے فوراً ہاں کر دی‘ میں نے والد اور بیٹے کو ساتھ لیا اور ہم تینوں انجن میں ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ گئے‘ ہم نے پورے پارک کا چکر لگایا‘ ڈرائیور راستے میں ہمیں انجن اور ٹرین کے بارے میں بتاتا رہا‘ اس نے پٹڑی کے سائز‘ انجن کی قسمیں اور ٹرین کی ہسٹری بھی بتائی اور اپنی زندگی کے اہم ترین واقعات بھی سنائے‘ وہ ہماری زندگی کا یاد گار ترین سفر تھا‘ ہم نے اسے خوب انجوائے کیا یوں میرے والد کا سپنا پورا ہو گیا‘ میرا بیٹا بھی خوش ہو گیا اور مجھے بھی ٹرین اور انجن کے بارے میں نئی معلومات مل گئیں بہرحال ہم جب سٹیشن پر اترے تو میرے والد نے میرا شکریہ ادا کیا اور اس کے بعد پوچھا تم نے ڈرائیور کے کان میں کیا کہا تھا جس کے فوراً بعد وہ ہمیں انجن میں بٹھانے پر راضی ہو گیا‘ میں نے انہیں ہنس کر جواب دیا‘ میں نے اسے سیدھا سادا بتایا تھا انجن میں سفر میرے والد کے بچپن کاخواب ہے اگر تم ان کا یہ ڈریم پورا کر دو تو میں تمہارا ممنون رہوں گا اور اس نے فوراً ہاں کر دی‘ رینڈی نے اس کے بعد اپنے بیٹے سے کہا‘ بیٹا یہ یاد رکھو ہم زندگی میں بے شمار مواقع صرف انکار کے خوف سے ضائع کر دیتے ہیں جب کہ دوسری طرف 90 فیصد لوگ انجن ڈرائیور ہوتے ہیں‘ انہیں کبھی کسی نے درخواست ہی نہیں کی ہوتی‘ ان سے کبھی کسی نے پوچھا ہی نہیں ہوتا‘ رینڈی نے یہ واقعہ سنا کر طالب علموں کو مشورہ دیا تم زندگی میں دوسروں سے جو بھی چاہتے ہو وہ کھل کر ان سے کہو‘ اپنی بات‘ اپنی حسرت دل میں چھپا کر نہ لے جائو‘ میں تمہیں گارنٹی کرتا ہوں تمہیں نوے فیصد ہاں میں جواب ملے گا‘ صرف دس فیصد لوگ تمہیں انکار کریں گے لیکن تم اگر کوشش کرو تو وہ بھی مان جائیں گے‘ لوگ دروازہ کھول کر ہمارے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں لیکن ہم خود سے یہ فیصلہ کر کے بیٹھ جاتے ہیں ہمیں انکار ہو جائے گا یا ہماری

ذرا اپنی اولاد کے چہروں کو غور سے دیکھیے... پھر دل سے کہیے: الحمد للہ! کیونکہ یہی وہ نعمت ہے جس کے لیے نہ جانے کتنے گھر برسوں
ذرا اپنی اولاد کے چہروں کو غور سے دیکھیے... پھر دل سے کہیے: الحمد للہ! کیونکہ یہی وہ نعمت ہے جس کے لیے نہ جانے کتنے گھر برسوں سے دعاؤں میں بھیگ رہے ہیں، کتنی آنکھیں ہر رات اشک بہاتی ہیں، اور کتنے دل ایک ننھی سی آواز سننے کو ترس رہے ہیں۔ اگر اللہ نے آپ کی گود آباد کی ہے تو اس نعمت کی قدر کیجیے، شکر ادا کیجیے، اور اپنی اولاد کو ایمان، اخلاق اور محبت کی بہترین تربیت دیجیے۔ نعمتیں صرف ملنے سے نہیں، ان کا شکر ادا کرنے سے باقی رہتی ہیں۔ ﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ﴾ اللہ تعالیٰ ہماری اولاد کو نیک، صالح، دین کا خدمت گزار اور ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔ آمین

ہمیشہ ایک بات یاد رکھیے... 🤔🏠 اپنے گھر کی ہر بات لوگوں کو مت بتائیے۔ کیونکہ جو آج آپ کے آنسو پونچھ رہا ہے، ضروری نہیں کہ کل
ہمیشہ ایک بات یاد رکھیے... 🤔🏠 اپنے گھر کی ہر بات لوگوں کو مت بتائیے۔ کیونکہ جو آج آپ کے آنسو پونچھ رہا ہے، ضروری نہیں کہ کل وہی شخص آپ کے آنسوؤں کی وجہ نہ بن جائے۔ 😢🔄 وقت بدلتا ہے، دل بدلتے ہیں، اور کبھی کبھی رشتے بھی بدل جاتے ہیں۔ ❤️‍🩹 وہی باتیں، جو آپ نے اعتماد سے بتائی تھیں، طعنوں کی صورت میں لوٹ آتی ہیں اور دل کو زخمی کر دیتی ہیں۔ 🔪🗣️ اپنے گھر کی عزت، اپنے رشتوں کی کمزوریاں، اور اپنے دل کے راز ہر کسی کے سامنے نہ کھولیے۔ 🤐🔒 یاد رکھیے! 📌 ہر سننے والا رازدار نہیں ہوتا، اور ہر مسکرانے والا خیرخواہ نہیں ہوتا۔ 😶‍🌫️😏 اپنے دکھ لوگوں کے دروازوں پر نہیں، اللہ تعالیٰ کے حضور رکھیے۔ 🤲🕌 وہی ایسا رب ہے جو بغیر طعنہ دیے سنتا ہے، بغیر کسی کو بتائے پردہ رکھتا ہے، اور ناممکن حالات میں بھی راستہ نکال دیتا ہے۔ ✨🛤️ اپنے رازوں کی حفاظت کیجیے، کیونکہ ٹوٹا ہوا اعتماد اکثر کبھی دوبارہ نہیں جڑتا۔ 💔🚫 ┄┅════❁❁════┅┄۔    📚 *اردو نصیــــــــحتیں*🌹 ┄┅════❁❁════┅┄۔ *ٹیـــلی گــــرام لنــــــــك:* t.me/UrduNaseehaten *فيــــس بـــك پیـــج لنـــك:* https://www.facebook.com/UrduNaseehaten/

مقولہ ہے کہ آٹھ آدمی ایسے ہیں جنھیں ذلت اٹھانی پڑے تو انھیں اپنے سوا کسی کو ملامت نہیں کرنی چاہیے: ایک وہ جو ایسے دسترخوان پر جا پہنچے جہاں اسے بلایا نہ گیا ہو۔ دوسرا وہ جو کسی کے گھر میں اسی صاحبِ خانہ پر حکم چلانے لگے۔ تیسرا وہ جو کم ظرف لوگوں سے فضل و احسان کی امید رکھے۔ چوتھا وہ جو دو آدمیوں کی گفت گو میں بے اجازت مداخلت کرے حالاں کہ انھوں نے اسے اس میں شریک نہ کیا ہو۔ پانچواں وہ جو صاحبِ اقتدار کی توہین کرے۔ چھٹا وہ جو ایسے معاملے میں دخل دے جس سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ ساتواں وہ جو ایسی مجلس میں جا بیٹھے جس کا وہ اہل نہ ہو۔ اور آٹھواں وہ جو اپنی بات ایسے شخص سے کہتا رہے جو نہ اسے سننے پر آمادہ ہو، نہ اس کی طرف توجہ کرے۔ (المستطرف في كل فن مستظرف، الأبشيهي) [ترجمانی: طاہر اسلام عسکری]

پوشیدہ حل "دیارِ نفاق میں صداقت کا جنازہ ایک بستی تھی۔ وہاں مسجد کا منبر سچ بولتا تھا۔ منبر پر ایک مولوی کھڑا تھا۔ نام اس کا علم نہیں، کام اس کا بس "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" تھا۔ اس کی آنکھوں میں قرآن تھا، زبان پر نبی ﷺ کی سیرت، اور جیب میں فقر۔ بستی کے کچھ "سردار" تھے۔ ان کا کاروبار سود، ان کی محفل غیبت، ان کی سیاست منافقت۔ مولوی نے ایک جمعہ میں بس اتنا کہا: *"اللہ فرماتا ہے: وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ"* بس یہی جملہ ان کے کلیجے میں کانٹا بن گیا۔ پھر کیا ہوا؟ *تہمت کا بازار سج گیا۔* "یہ فتنہ ہے" "یہ فرقہ وار ہے" "یہ چندہ کھاتا ہے" "اس کی نیت خراب ہے" ثبوت؟ کوئی نہیں۔ گواہ؟ خواہش۔ فیصلہ؟ ہجوم نے کر دیا۔ ایک دن اذان سے پہلے مولوی کا سامان مسجد کے باہر رکھا تھا۔ موذن نے کہا: "حضرت! بستی والوں کا حکم ہے... آپ کہیں اور چلے جائیں" مولوی نے آسمان کی طرف دیکھا، مسکرا کر کہا: *"فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ"* "پس اچھا صبر اور اللہ ہی مددگار ہے اس پر جو تم بیان کرتے ہو" اور وہ چلا گیا۔ خالی ہاتھ، مگر سر اٹھا کر۔ *تلخ سچ* بستی خوش ہو گئی۔ منبر اب "نرم" ہو گیا۔ سود حلال ہو گیا، غیبت عبادت۔ 3 مہینے بعد اسی بستی میں زلزلہ آیا۔ مسجد کی دیواریں تو نہ گریں، مگر دلوں کی دیواریں گر گئیں۔ تب لوگوں کو یاد آیا: "وہ مولوی کہا گیا؟ جو ہمیں روکتا تھا" *پوشیدہ حل - زہر میں تریاق* 1. *ردِ عمل مت دیں، ردِ کردار دیں* تہمت کا جواب تقریر سے نہیں، کردار سے دیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام پر تہمت لگی تو وہ جیل گئے، مگر نکل کر عزیزِ مصر بنے۔ وقت سب سے بڑا وکیل ہے۔ 2. *خاموش ہجرت* نبی ﷺ نے فرمایا: _"المؤمن الذي يخالط الناس ويصبر على أذاهم"_ "وہ مومن بہتر ہے جو لوگوں میں رہے اور ان کی ایذا پر صبر کرے" اگر بستی زہر بن جائے تو ہجرت کر لو۔ مکہ چھوڑ کر مدینہ بنا --- تاریخ لکھتی ہے امام احمد بن حنبل کوڑے لگے، ابن تیمیہ کو قید کیا گیا۔ آج ان کے نام لیتے ہیں، تہمت لگانے والوں کا نام مٹی کھا گئی *آخر میں بس ایک جملہ: دیے کو پھونک سے بجھانے والے سمجھتے ہیں کہ اندھیرا جیت گیا۔ انہیں خبر نہیں کہ دیا بجھ کر بھی اپنی روشنی کی گواہی دے جاتا ہے۔ اللہ ہر مظلوم مولوی کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔

کیا آپ جانتے ہیں؟ جب شیطان آپ سے کوئی بڑا گناہ نہیں کروا پاتا، تو وہ کیا کرتا ہے؟ وہ ہار نہیں مانتا۔ پھر وہ ایک اور راستہ اختیار کرتا ہے آپ کے ذہن پر حملہ۔ وہ آپ کے دل میں ایسے خیالات ڈالنا شروع کر دیتا ہے جو آہستہ آہستہ آپ کا سکون چھین لیتے ہیں۔ ...بے چینی ....حد سے زیادہ سوچنا ...ہر وقت مستقبل کی فکر ...مایوسی ...دل کا گھبرانا اور ایسے وسوسے جن کا کوئی انجام نہیں ہوتا۔ پھر ایک کے بعد ایک سوال آپ کے دل میں اترنے لگتے ہیں۔ میرا رزق کہاں سے آئے گا؟ اگر میرے ساتھ کچھ برا ہو گیا تو؟ اگر میرا مستقبل ویسا نہ ہوا جیسا میں چاہتا ہوں تو؟ اگر میری دعائیں قبول نہ ہوئیں تو؟ ...اور پھر یہ سوال ختم نہیں ہوتے۔ ...ایک وسوسہ ختم ہوتا ہے۔ تو دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔شیطان کا مقصد صرف یہ نہیں ہوتا کہ آپ پریشان رہیں، بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے۔ کہ آپ کا یقین کمزور ہو جائے۔ آپ کا توکل ڈگمگا جائے۔ آپ کی دعائیں کم ہو جائیں۔ آپ کا دل قرآن سے دور ہو جائے۔ اور آپ آہستہ آہستہ اپنے رب سے دور ہوتے چلے جائیں۔ :ﷲ تعالیٰ نے فرمایا إِنَّمَا ذُلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ "یہ شیطان ہی ہے جو لوگوں کے دلوں میں خوف ڈالتا ہے۔" ( آل عمران،175) !!...یاد رکھیں ہر وہ خیال جو آپ کو ﷲﷻ سے دور کرے۔ ہر وہ خوف جو آپ کے توکل کو ختم کر دے۔ ہر وہ وسوسہ جو آپ کو مایوسی میں دھکیل دے۔ اُسے اپنے دل میں گھر مت بنانے دیں۔ جب ایسے خیالات آئیں، تو فوراً رُک جائیں۔ ،اور دل سے کہیں آمَنتُ بِاللّٰهِ "میں ﷲﷻ پر ایمان لایا۔" ،پھر پڑھیں أعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّحِيمِ "میں شیطان مردود سے ﷲﷻ کی پناہ مانگتا ہوں۔" وضو کریں۔ دو رکعت نفل ادا کریں۔ استغفار کریں۔ اور اپنے رب سے بات کریں۔ ،کیونکہ شیطان چاہتا ہے کہ آپ سوچتے رہیں۔ لیکن ﷲﷻ چاہتا ہے کہ آپ اُسے پُکاریں۔ ،یہ بھی یاد رکھیں ہر پریشانی یا ہر ذہنی بیماری شیطان کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اس کی طبی یا نفسیاتی وجوہات بھی ہوتی ہیں اور ایسی صورت میں علاج کروانا بھی ﷲﷻ ہی کے دیے ہوئے اسباب اختیار کرنا ہے۔ ،اور آخر میں اگر کبھی آپ کا دل بہت زیادہ گھبرا جائے۔ تو ایک بات ضرور یاد رکھیں۔ شیطان آپ کے خیالات جانتا نہیں وہ صرف اُنہیں اُبھارنے کی کوشش کرتا ہے۔ ،لیکن ﷲﷻ آپ کے دل کا ہر حال جانتا ہے۔ آپ کے ہر آنسو سے واقف ہے۔ آپ کی ہر خاموش دعا سُنتا ہے۔ اور آپ کے اُس درد کو بھی جانتا ہے جسے آپ کسی انسان کو کبھی بتا نہیں پاتے۔ !!...اس لیے اپنے وسوسوں سے گفتگو بند کر دیں اور اپنے رب سے گفتگو شروع کر دیں۔ !!....یقین رکھیں جو دلﷲﷻ سے جُڑ جاتا ہے، شيطان أس کا سکون چھیننے کی بہت کوشش کرتا ہے مگر ﷲﷻ کا سہارا اُس کے ہر وسوسے سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے.

*توحید کے بعد سب سے بڑا حق… والدین کا ہے۔ 😭* اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾ "اور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ بہترین سلوک کرو۔" (سورۃ الإسراء: 23) کیا آپ نے کبھی اپنے بوڑھے باپ کے چہرے کو غور سے دیکھا ہے…؟ وہی چہرہ، جو کبھی آپ کی ہر خواہش پوری کرنے کے لیے دھوپ میں جلتا تھا… آج جھریوں سے بھر چکا ہے۔ کیا آپ نے کبھی اپنی بوڑھی ماں کے ہاتھوں کو دیکھا ہے…؟ وہی ہاتھ، جنہوں نے راتوں کو جاگ جاگ کر آپ کو سینے سے لگایا… آج کانپتے ہیں… اور شاید آپ کا چہرہ چھونے سے بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں آپ کو ناگوار نہ گزرے۔ ایک وقت تھا… آپ ایک قدم بھی نہیں چل سکتے تھے… وہ آپ کو گود میں اٹھا کر میلوں چلتے تھے۔ آج وہ چند قدم چلنے سے تھک جاتے ہیں… اور ہم کہتے ہیں: "کتنی بار بلاتے ہیں!" "ہر وقت کچھ نہ کچھ چاہیے!" "بہت مشکل ہو گئی ہے!" کاش… ایک لمحے کے لیے ہم اپنے بچپن کو یاد کر لیں۔ ہم نے بھی تو انہیں ہزاروں بار آواز دی تھی… انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا: "میں تھک گئی ہوں۔" "میرے پاس وقت نہیں۔" "تم بوجھ ہو۔" وہ ہمارے لیے جیتے رہے… اور ہم…؟ کیا ہم ان کے بڑھاپے کا سہارا بن سکے؟ یاد رکھیں… جب ماں باپ دنیا سے چلے جاتے ہیں تو ان کا خالی کمرہ صرف ایک کمرہ نہیں رہتا… وہ عمر بھر کا ایک ایسا زخم بن جاتا ہے جو کبھی نہیں بھرتا۔ پھر انسان ان کی ایک آواز، ایک دعا، ایک مسکراہٹ، ایک ڈانٹ… حتیٰ کہ ایک بار "بیٹا!" سننے کے لیے بھی ترستا رہ جاتا ہے۔ اگر آج آپ کی ماں آپ کو آواز دے رہی ہے… اگر آج آپ کا باپ آپ کا انتظار کر رہا ہے… تو اللہ کی قسم! آپ دنیا کے خوش نصیب ترین انسان ہیں۔ جائیے… ان کے پاس بیٹھئے… ان کا ہاتھ تھام لیجیے… ان کی پیشانی چوم لیجیے… اور کہیے: "امی! ابو! اگر مجھ سے کبھی دل دکھا ہو تو مجھے معاف کر دیجیے۔" ایسا نہ ہو… کل آپ ان کی قبر سے لپٹ کر رو رہے ہوں… اور آپ کے آنسو مٹی میں جذب ہو جائیں… مگر جواب دینے والا کوئی نہ ہو۔ والدین کی خدمت اس وقت کیجیے جب وہ آپ کی آواز سن سکتے ہیں، نہ کہ اس وقت جب صرف آپ کی سسکیاں ان کی قبر تک پہنچ رہی ہوں۔ 😭🤲 https://t.me/UrduNaseehaten

اگر آپ کے ماں باپ زندہ ہیں؟ تو آپ دنیا کے امیر ترین انسان ہیں…! 😭 ذرا ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیں… اگر آج آپ کے فون پر "امی" یا "ابو" کا نام کبھی دوبارہ نہ چمکے تو…؟ اگر آج وہ آواز، جو ہر روز آپ کو پکارتی ہے، ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے تو…؟ اگر ایک دن آپ گھر لوٹیں اور وہ دروازہ تو کھل جائے، مگر ماں کی دعا اور باپ کی شفقت نہ ملے تو…؟ اس دن آپ کے پاس سب کچھ ہوگا… مگر ماں باپ نہیں ہوں گے۔ جن کے لیے آج ہمارے پاس وقت نہیں، کل انہی کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے دل روئے گا۔ جن کی باتیں آج ہمیں لمبی لگتی ہیں، کل انہی آوازوں کی ایک گونج سننے کے لیے کان ترس جائیں گے۔ جن کی کمزور چال دیکھ کر ہم بے صبر ہو جاتے ہیں، کل انہی قدموں کی آہٹ ڈھونڈتے رہ جائیں گے۔ ماں باپ بوڑھے نہیں ہوتے… وہ ہماری زندگی کی آخری پناہ گاہ ہوتے ہیں۔ جب وہ چلے جاتے ہیں تو انسان عمر بھر یتیمی کا ایک ایسا درد اپنے سینے میں لیے پھرتا ہے، جسے کوئی دولت، کوئی رشتہ اور کوئی کامیابی نہیں بھر سکتی۔ اگر آپ کے والدین زندہ ہیں تو آج ہی ان کے پاس بیٹھیں، ان کا ہاتھ تھامیں، ان کی پیشانی چومیں، ان سے محبت سے بات کریں، ان سے معافی مانگیں، ان کے لیے دعا کریں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ آپ کے لیے اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔ کل شاید آپ کے پاس رونے کے لیے آنسو ہوں… مگر جن کے لیے رونا ہوگا، وہ آپ کے سامنے نہ ہوں۔ ماں باپ کی قدر ان کے جانے کے بعد نہیں، ان کی زندگی میں کیجیے۔ کیونکہ قبر پر رکھے ہوئے پھول، زندگی میں دیے گئے احترام کا بدل نہیں بن سکتے۔ 😭🤲