en
Feedback
📚 اردو نصیحتیں 📕 Urdu Naseehaten

📚 اردو نصیحتیں 📕 Urdu Naseehaten

Open in Telegram

اِس چینل پر دینی، اخلاقی، اصلاحی، سماجی، اور خوب صورت تحریری گل دستے پیش کیے جائیں گے ۔ اِن شاء اللہ

Show more
2 956
Subscribers
-324 hours
-97 days
-3430 days
Posts Archive
Take a look at my Canva design!
Take a look at my Canva design!

...... ہوشیار.... خبر دار ہر میٹھی بات کرنے والا آپ کا خیرخواہ نہیں ہوتا! ڈاکٹر محمد آدم ہر وہ شخص جو بظاہر آپ کے حق میں اچھی اور چکنی چپڑی باتیں کرے، ضروری نہیں کہ وہ حقیقت میں آپ کا خیرخواہ ہو! وہ آپ کا بدترین دشمن اور مخالف بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو ظاہری نعروں، وقتی تعریفوں اور خوش نما باتوں کے جھانسے میں آنے کے بجائے عقل، بصیرت اور اپنے اعمال کی روشنی میں فیصلے کرنے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایسے لوگوں کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَقُولُونَ بِأَفْوَاهِهِمْ مَا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ﴾ “وہ اپنے منہ سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتی۔” (آلِ عمران: 167) اور ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا: ﴿قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ﴾ “دشمنی ان کے منہ سے ظاہر ہوچکی ہے، اور جو کچھ ان کے سینے چھپا ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔” (آلِ عمران: 118) آج بھی بہت سے افراد، جماعتیں، تنظیمیں اور سیاسی و سماجی گروہ کبھی کھلے طور پر اور کبھی بڑی بڑی تعریفوں اور بظاہر مثبت باتوں کے پردے میں اپنا زہر اگلتے رہتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ان کے زہر اگلنے کے باوجود ہم ان کی بعض مثبت باتوں یا بعض مثبت کاموں سے متاثر ہوکر ان کے جھانسے میں آ جاتے ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ محض چند اچھی باتیں یا چند مثبت کام کسی کی حقیقی نیت اور مجموعی کردار کی ضمانت نہیں ہوتے۔ جس سواری کی لگام آپ کے اپنے ہاتھ میں نہ ہو، اس پر سفر کرتے ہوئے کسی دوسرے کی نیت اور سمت پر مکمل بھروسا کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اپنی فکری، تعلیمی، دینی اور اجتماعی سمت کی باگ ڈور دوسروں کے ہاتھ میں دے دینا بھی دانش مندی نہیں۔ ہمیں اپنی منزل، اپنے اصول اور اپنے فیصلے خود طے کرنے چاہئیں اور دوسروں کی مثبت باتوں کو بھی عقل و بصیرت کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے تعلیمی میدان کو مضبوط کریں، اپنی نئی نسل کی صحیح تعلیم و تربیت کریں، اپنے دین سے وابستگی کو مضبوط بنائیں، اپنے اچھے اور مثبت کاموں کو بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھائیں اور مستقبل کے لیے ایک واضح اور مضبوط لائحۂ عمل اختیار کریں۔ ہماری اصل قوت کسی کی تعریف یا مخالفت نہیں، بلکہ ہمارا کردار، علم، اتحاد، اخلاق، عمل اور اللہ پر توکل ہے۔ مخالف یا ظالم خواہ کتنی ہی چالیں چل لے، بالآخر نقصان اسی کا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ ظلم پائیدار نہیں ہوتا۔ اپنا راستہ درست رکھیے، اپنے اعمال سنواریے، اپنی نسلوں کی تربیت اسلامی دائرے میں کیجیے اور خیر و بھلائی کے کاموں میں ثابت قدم رہیے۔ ان شاء اللہ اللہ تعالیٰ حق پر چلنے والوں کو عزت، استقامت اور ترقی عطا فرمائے گا۔ ان شاء اللہ....

اسے مزید درد، احساس اور آخرت کی فکر کے ساتھ یوں لکھا جا سکتا ہے: 🌙 ذرا ٹھہریے… اور اس صبح کو محسوس کیجیے! 🌿 جب نیند سے آنکھ کھلے تو فوراً یہ دعا پڑھیں: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ ترجمہ: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی عطا فرمائی، اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ 📚 صحیح بخاری کبھی سوچا ہے… یہ صرف آنکھ کھلنے کی دعا نہیں، یہ اللہ کی طرف سے ایک اور موقع ملنے کا اعلان ہے۔ رات کو ہم سوئے تھے… نہ جانے کتنے لوگ یہ سوچ کر سوئے تھے کہ صبح اٹھیں گے، مگر ان کی آنکھ دوبارہ نہ کھلی۔ اور آج اللہ نے ہمیں اٹھا دیا۔ ایک اور صبح عطا کر دی… ایک اور دن دے دیا… ایک اور موقع دے دیا کہ ہم توبہ کرلیں، نماز قائم کرلیں، قرآن سے جڑ جائیں، اپنے رب کو راضی کرلیں۔ 🤲 🌅 مگر ذرا دل سے سوچیے… یہ صبح بھی گزر جائے گی۔ کل ایک نئی صبح آئے گی۔ پھر وہ بھی گزر جائے گی… ایسے ہی ہماری زندگی کی صبحیں آتی اور جاتی رہیں گی۔ لیکن ایک صبح ایسی بھی آئے گی… جو آئے گی تو ضرور، مگر ہمارے لیے واپس کبھی نہیں جائے گی۔ وہ ہماری آخری صبح ہوگی۔ پھر نہ الارم ہوگا، نہ کسی کی آواز ہمیں جگائے گی، نہ یہ موقع ہوگا کہ کہیں: "آج سے فجر نہیں چھوڑوں گی…" اگر کبھی فجر قضا ہوگئی ہے تو آج دل پر ہاتھ رکھ کر عہد کریں: یا اللہ! مجھے معاف فرما، میں نے غفلت کی… مگر اب ان شاء اللہ فجر کو اپنی نیند پر قربان نہیں کروں گی۔ صبح جب آنکھ کھلے گی تو سب سے پہلے تیرے حکم کی طرف اٹھوں گا۔ کیونکہ شاید… یہ صبح میرے پاس آخری موقع ہو۔ 🌿 فجر کی نماز پڑھ لیجیے… اس سے پہلے کہ وہ صبح آ جائے جس میں آنکھ تو کھلے گی، مگر نماز کا موقع نہیں ہوگا۔ اٹھ جائیے… اللہ نے آج پھر آپ کو زندگی دی ہے۔ الحمدللہ رب العالمین۔ 🤲🌿

🌹 محبتِ رسول ﷺ کا سب سے خوبصورت اظہار 🌹 محبت صرف نعرے لگانے کا نام نہیں… محبت شور و ہنگامے کا نام نہیں… محبت ناچ گانے اور ڈ
🌹 محبتِ رسول ﷺ کا سب سے خوبصورت اظہار 🌹 محبت صرف نعرے لگانے کا نام نہیں… محبت شور و ہنگامے کا نام نہیں… محبت ناچ گانے اور ڈی جے کی آوازوں میں نہیں ملتی۔ محبت تو اس وقت دل میں اترتی ہے جب زبان خاموش ہو کر ادب سے کہے: 🌹 اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ 🌹 نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔" 📖 صحیح مسلم ذرا سوچیں… جس نبی ﷺ سے محبت کا دعویٰ ہے، کیا ہماری زبان ان پر درود بھیجنے سے تر ہے؟ کیا ہماری زندگی ان کی سنت سے سنور رہی ہے؟ کیا ہماری نماز، ہمارے اخلاق اور ہمارے معاملات میں آپ ﷺ کی تعلیمات نظر آتی ہیں؟ سچی محبت وہ ہے جو انسان کو محبوب کے طریقے پر چلائے۔ 🌿 آئیے محبتِ رسول ﷺ کا اظہار شور سے نہیں، درود سے؛ نعروں سے نہیں، سنت سے؛ اور دعووں سے نہیں، عمل سے کریں۔ 🌹 آج کثرت سے درودِ ابراہیم پڑھیں اور اپنے دل کو محبتِ رسول ﷺ سے زندہ کریں۔ 🌹

🌿 یہ کیسی محبت ہے؟ 🌿 محبتِ رسول ﷺ صرف زبان سے دعویٰ کرنے کا نام نہیں، محبت تو یہ ہے کہ زندگی رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق ڈھل جائے۔ آج ہم محبت کے نام پر بہت کچھ کرتے ہیں… گلیاں سجاتے ہیں، محفلیں سجاتے ہیں، کھانے پکاتے ہیں، خوشیاں مناتے ہیں۔ مگر کبھی خاموشی سے اپنے دل سے بھی پوچھا ہے؟ ❓ ہم نے سیرتِ رسول ﷺ کو کتنا پڑھا؟ ❓ ہماری زندگی میں کتنی سنتیں زندہ ہیں؟ ❓ ہماری نماز، اخلاق، معاملات اور لباس میں سنتِ نبوی ﷺ کہاں نظر آتی ہے؟ ❓ کیا وہ کام جنہیں ہم محبت سمجھ کر کرتے ہیں، قرآن و سنت سے ثابت بھی ہیں؟ ذرا غور کیجیے… جس نبی ﷺ سے محبت کا دعویٰ ہے، کیا اُن کی اطاعت بھی ہماری زندگی میں ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ﴾ "کہہ دیجیے! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔" 📖 سورۃ آل عمران: 31 یہ آیت ہمیں محبت کا معیار بتاتی ہے: 🌸 محبت = اتباع 🌸 محبت = سنت 🌸 محبت = فرمانبرداری رسول اللہ ﷺ نے دین پہنچا دیا، اسے مکمل کر دیا اور امت کو خیر کے راستے دکھا دیے۔ لہٰذا ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم اپنے نبی ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں کتنا جگہ دے رہے ہیں۔ 📌 دین صرف منانے کا نام نہیں، دین ماننے، سمجھنے اور عمل کرنے کا نام ہے۔ آئیے! محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ کرنے سے پہلے سنتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی میں زندہ کرنے کا عہد کریں۔ 🤲 اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں اپنے حبیب محمد ﷺ کی سچی محبت پیدا فرمائے، اور ہمیں آپ ﷺ کی سنت پر اخلاص کے ساتھ چلنے والا بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔ ازقلم : بنت محمد اظہر الدین

🌸 جمعہ… ایک اور قیمتی موقع! 🌸 زندگی کی مصروفیات میں نہ جانے کتنے جمعے ہماری آنکھوں کے سامنے سے گزر گئے… مگر ہر جمعہ ہمیں پھ
🌸 جمعہ… ایک اور قیمتی موقع! 🌸 زندگی کی مصروفیات میں نہ جانے کتنے جمعے ہماری آنکھوں کے سامنے سے گزر گئے… مگر ہر جمعہ ہمیں پھر یاد دلاتا ہے کہ اپنے رب کی طرف لوٹ آؤ۔ 📖 سورۃ الکہف کی تلاوت کریں، 🌹نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود بھیجیں، 🤲 قبولیت کی گھڑی تلاش کریں، 💰 صدقہ و خیرات کریں، 🕌 خطبۂ جمعہ خاموشی اور توجہ سے سنیں، 🌅اور اپنے دن کو نیکیوں سے سجا دیں۔ ⏳یہ جمعہ بھی گزر جائے گا… 📌مگر سوال یہ ہے ہم نے اس دن کو اپنی آخرت کے لیے کتنا قیمتی بنایا؟ ✨ آئیے! اس جمعہ کو صرف جمعہ کہنے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے قرآن، درود، دعا اور نیکیوں والا جمعہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو قرآن کے نور سے روشن فرمائے، ہماری دعاؤں کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور ہمارے ہر جمعہ کو ہمارے لیے رحمت و مغفرت کا ذریعہ بنائے۔ آمین 🤲🏻

*جنت کی دعائیں* 🌸✨ اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ اے اللّٰہ! میں تجھ سے جنت مانگتی ہوں۔ 🤲🌹 اللّٰهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اے اللّٰہ! مجھے جنت والوں میں شامل فرما۔ 🕌💚 اللّٰهُمَّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ اے اللّٰہ! مجھے بغیر حساب جنت میں داخل فرما۔ 🌟📜 اللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ اے اللّٰہ! ہمیں جنت النعیم کے وارث بنا۔ 🏡🌴 اللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي الْفِرْدَوْسَ الْأَعْلَى اے اللّٰہ! مجھے فردوس اعلیٰ عطا فرما۔ ☁️🦋

> *🍃جنت کی دعائیں* *اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ* اے اللّٰہ! میں تجھ سے جنت مانگتی ہوں۔ *اللّٰهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ* اے اللّٰہ! مجھے جنت والوں میں شامل فرما۔ *اللّٰهُمَّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ* اے اللّٰہ! مجھے بغیر حساب جنت میں داخل فرما۔ *اللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ* اے اللّٰہ! ہمیں جنت النعیم کے وارث بنا۔ *اللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي الْفِرْدَوْسَ الْأَعْلَى* اے اللّٰہ! مجھے جنت الفردوس عطا فرما۔

🌙 ذرا غور کیجیے… اللہ تعالیٰ کیسے جگا رہے ہیں! اللہ تعالیٰ کو اپنے رسولِ کریم ﷺ سے ایک عظیم کام لینا تھا، تو سورۃ المزمل کی ابتدائی آیات نازل فرما کر اپنے رسول ﷺ کو رات کی عبادت کے لیے بیدار فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ۝ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا﴾ "اے چادر اوڑھنے والے! رات کو قیام کیا کریں، مگر تھوڑا۔" 📖 سورۃ المزمل: 1-2 ذرا سوچیں… 🥺 دنیا سو رہی ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو جگا رہے ہیں۔ کیونکہ آگے ایک عظیم ذمہ داری تھی، اور اس ذمہ داری کے لیے رات کے سجدوں میں اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنا تھا۔ اور ہم؟ ہم بھی تو رسول اللہ ﷺ کی امت ہیں۔ ❤️ ہم اپنے نبی ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، تو کیا ہم آپ ﷺ کی اتباع کی کوشش نہیں کریں گے؟ تہجد فرض نہیں، مگر یہ کتنی عظیم سنت اور کتنی خوبصورت عبادت ہے کہ ہم بھی رات کے کسی حصے میں نیند چھوڑ کر اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوں۔ 🌙 آئیے آج صرف یہ تحریر پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں… ایک نیت کرلیں۔ 🤲🏻 "یا اللہ! جیسے تیرے رسول ﷺ راتوں میں تیرے سامنے کھڑے ہوتے تھے، ہمیں بھی تہجد کی پابندی کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں اپنے نبی ﷺ کی سچی اتباع کرنے والا بنا دے۔" آمین یا رب العالمین۔ 🌿

🌙 جمعہ کی خوبصورت یاد دہانی 🌙 مغرب کی اذان کے ساتھ ہی جمعہ شروع ہو چکا ہے۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے… ایک اور جمعہ ہماری
🌙 جمعہ کی خوبصورت یاد دہانی 🌙 مغرب کی اذان کے ساتھ ہی جمعہ شروع ہو چکا ہے۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے… ایک اور جمعہ ہماری زندگی میں آ گیا ہے۔ 😢 نہ جانے کتنے جمعے آئے اور گزر گئے، اور ہم سمجھتے رہے کہ اگلا جمعہ بھی تو آئے گا… لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ جمعہ بھی ہماری زندگی سے گزر جائے گا، اور شاید اگلا جمعہ ہمیں نصیب ہو یا نہ ہو۔ تو آئیے! اس جمعے کو غفلت میں نہ گزاریں۔ اپنے رب کو یاد کریں، توبہ کریں، دعائیں مانگیں، اور اپنے نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درودِ ابراہیمی پڑھیں۔ 🌿 📖 سورۃ الکہف کی تلاوت بھی ضرور کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھنے کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ کیا معلوم… ہماری زندگی کا یہ جمعہ ہی اللہ کی طرف لوٹنے سے پہلے آخری جمعہ ہو۔ 😢 اس لیے وقت کو ضائع نہ کیجیے، آج کا جمعہ اللہ کے نام کر دیجیے۔ 🤲🏻 اللہ تعالیٰ ہمیں اس جمعے کی قدر کرنے، کثرت سے درود پڑھنے، سورۃ الکہف کی تلاوت کرنے اور اپنی رضا والے اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲🏻🌸

🌿 صحت اور جوانی کو غنیمت جانیے 🌿 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ» “دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ خسارے میں ہیں: صحت اور فراغت۔” صحیح بخاری ذرا اپنے آس پاس دیکھیے… 😢 کتنے لوگ آج ہسپتالوں میں صرف صحت کی ایک سانس کے لیے ترس رہے ہیں۔ کسی کو بیماری نے بستر تک محدود کر دیا، کسی کی آنکھیں اپنے بچوں کے لیے رو رہی ہیں، اور کوئی صرف یہ چاہتا ہے کہ کاش وہ دوبارہ پہلے کی طرح چل سکے، نماز پڑھ سکے اور اپنے اپنوں کے ساتھ بیٹھ سکے۔ میری ایک دوست بھی کینسر جیسی مہلک بیماری سے گزر رہی ہے۔ اس کے تین معصوم بچے ہیں، جن میں سب سے چھوٹی بچی ابھی صرف سوا سال کی ہے۔ دل کانپ جاتا ہے یہ سوچ کر کہ وہ ننھی بچی اپنی ماں کو دیکھ کر شاید بیماری کو نہیں سمجھتی… اسے تو صرف ماں کی گود چاہیے۔ 😭 اور ماں؟ وہ اپنے بچوں کو دیکھ کر نہ جانے کتنی دعائیں کرتی ہوگی: “یا اللہ! میرے بچوں کو میرے بغیر بے سہارا نہ کرنا…” ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ آج ہماری سانسیں چل رہی ہیں، ہمارے قدم چل رہے ہیں، ہم اپنے بچوں کو دیکھ سکتے ہیں، اپنے والدین کے پاس بیٹھ سکتے ہیں اور سجدے میں جا سکتے ہیں۔ لیکن افسوس… ہم ان نعمتوں کی قدر اکثر تب کرتے ہیں جب وہ ہم سے چھننے لگتی ہیں۔ آج اگر آپ صحت مند ہیں تو الحمدللہ کہیے۔ آج اگر والدین زندہ ہیں تو ان کے پاس بیٹھ جائیے۔ آج اگر بچے آپ کے پاس ہیں تو انہیں محبت دیجیے۔ آج اگر سجدے کی طاقت ہے تو اللہ کے سامنے جھک جائیے۔ کل کا انتظار مت کیجیے… کیا خبر جس نعمت کو ہم آج معمول سمجھ رہے ہیں، کل اسی کے لیے ہماری آنکھیں ترس رہی ہوں۔ 😢 🌿 بیماری آنے سے پہلے صحت کو غنیمت جان لیجیے۔ 🌿 بڑھاپا آنے سے پہلے جوانی کو غنیمت جان لیجیے۔ 🌿 موت آنے سے پہلے زندگی کو نیکی میں لگا لیجیے۔ 🤲 یا اللہ! تمام بیماروں کو کامل شفا عطا فرما، اس ماں کو صحت دے، اس کے معصوم بچوں کو اپنی حفاظت میں رکھ، اور ہمیں اپنی صحت، جوانی اور زندگی کی قدر کرنے والا بنا۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲😭 *ازقلم : بنت محمد اظہر الدین*

جب ابلیس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تو اس وقت کوئی اور شیطان نہیں تھا، تو پھر اسے کس نے ورغلایا؟ سب کے لیے ایک سوچنے اور غور کرنے والا سوال! بہت ہی اہم سوال: جب شیطان نے اللہ کی نافرمانی کی، تو اس کا شیطان کون تھا؟ یہ جاننے کے لیے کہ ہمارا حقیقی شیطان کون ہے، یہ چند سطریں پڑھیں: "نفس" کا لفظ انتہائی حساس اور اہم ہے، اور یہ قرآن کریم کی متعدد آیات میں ذکر ہوا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سورة ق میں فرماتا ہے: {وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ} "اور ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو وسوسے اس کے دل میں اٹھتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں اور ہم اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔" ہم اللہ عزوجل پر ایمان رکھتے ہیں، اس کا ذکر کرتے ہیں، مسجد میں نماز پڑھتے ہیں، قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، صدقہ دیتے ہیں... وغیرہ۔ اس کے باوجود ہم سے گناہ اور غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں! تو ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے حقیقی دشمن کو چھوڑ دیا اور ایک کمزور دشمن کے پیچھے لگ گئے۔ اللہ تعالیٰ اپنی محکم کتاب میں فرماتا ہے: {إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا} "بیشک شیطان کا مکر (اور چال) کمزور ہے۔" اصل اور حقیقی دشمن تو (نفس) ہے۔ جی ہاں... نفس ایک ٹائم بم اور انسان کے اندر موجود ایک سرنگ (لغم) کی مانند ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سورة الإسراء میں فرماتا ہے: {اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا} "پڑھ اپنا نامہ اعمال، آج اپنا حساب لینے کے لیے تو خود ہی کافی ہے۔" اور سورة غافر میں فرماتا ہے: {الْيَوْمَ تُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ ۚ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ} "آج ہر نفس کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا، آج کوئی ظلم نہیں، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔" اور سورة المدثر میں فرماتا ہے: {كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ} "ہر نفس اپنے اعمال کے بدلے گروی ہے۔" اور سورة النازعات میں فرماتا ہے: {وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ} "اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اپنے نفس کو خواہشات سے روکا۔" اور سورة التكوير میں فرماتا ہے: {عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَتْ} "تب ہر نفس جان لے گا کہ وہ کیا پیش کر کے لایا ہے۔" غور کریں کہ یہ تمام آیات لفظ "نفس" کے گرد گھومتی ہیں، تو یہ نفس آخر کیا ہے؟ علماء کرام فرماتے ہیں کہ وہ تمام جھوٹے معبود جن کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی تھی (جیسے اللات، العزى، مناة، سواع، ود، يغوث، يعوق، اور نسر)... یہ تمام بت تو توڑ دیے گئے، مگر ایک جھوٹا معبود ایسا ہے جس کی آج بھی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: {أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ} "کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا؟" اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نفس کی خواہش انسان پر غالب آ جاتی ہے تو وہ کسی شرعی حکم یا دینی مانع پر کان نہیں دھرتا، بلکہ وہی کرتا ہے جو اس کا دل چاہتا ہے۔ امام بوصیری اپنی بردہ میں فرماتے ہیں: "نفس اور شیطان دونوں کی مخالفت کرو اور ان دونوں کی نافر مانی کرو۔" قابیل کے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کرنے کے واقعے کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: {فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ} "پس اس کے نفس نے اسے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر دیا۔" جب آپ کسی ایسے شخص سے پوچھیں جو کسی گناہ میں مبتلا ہوا اور بعد میں تائب و نادم ہوا کہ "تمہیں اس کام پر کس نے ابھارا؟" تو وہ کہے گا: "مجھے شیطان نے بہکایا تھا!" اس کی اس بات سے ایسا لگتا ہے جیسے ہر برے کام کے پیچھے صرف شیطان ہی ہو۔ حالانکہ گناہوں اور معاصی کا سبب یا تو شیطان ہوتا ہے یا پھر برائی پر ابھارنے والا نفس (نفسِ امارہ)۔ شیطان یقیناً خطرناک ہے... لیکن نفس اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے! انسان پر شیطان کا داخلہ غفلت اور بھول کے ذریعے ہوتا ہے، وہ انسان کو ثواب و عذاب سے غافل کر دیتا ہے جس کی وجہ سے انسان گناہ کر بیٹھتا ہے۔ اللہ عزوجل اپنی کتاب میں فرماتا ہے: {وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي ۚ إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ} "اور میں اپنے نفس کی پاکی بیان نہیں کرتا، بیشک نفس تو برائی پر ابھارنے والا ہی ہے۔" آخر میں، ہم بارگاہ الٰہی میں عاجزی کے ساتھ دعا گو ہیں: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ۔ آ مین ثم آمین ثناءاللہ حسین:7/8/26 اسلام آباد

ہم کونسے درجے پر فائز ہیں؟ 🎙️فضیلة الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب انسان کسی مصیبت یا پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے، تو اس کے ردِعمل کے لحاظ سے چار درجات ہیں: ١. جازع (بے صبری کرنے والا) یہ شخص حرام کام کا مرتکب ہوتا ہے۔ وہ اللہ رب العالمین کے فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کرتا ہے، چیختا چلاتا ہے یا دل میں شکوے پالتا ہے۔ یہ درجہ گناہ کا ہے... ٢. صابر (صبر کرنے والا) اس شخص نے اپنا واجب (فرض) ادا کر دیا۔ صابر وہ ہے جسے مصیبت ناگوار گزرتی ہے، وہ اسے کڑوا گھونٹ اور مشقت سمجھتا ہے، لیکن وہ خود کو قابو میں رکھتا ہے اور اپنی زبان یا عمل سے کسی حرام کام کا ارتکاب نہیں کرتا... ٣. راضی (رضا بالقضا والا) اس کا درجہ صابر سے بلند ہے۔ اسے اس مصیبت کی اتنی پرواہ نہیں ہوتی کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ وہ اللہ کے فیصلے پر کامل طور پر راضی رہتا ہے اور اس کے دل میں کوئی پچھتاوا یا حسرت باقی نہیں رہتی... ٤. شاکر (شکر ادا کرنے والا) یہ سب سے اعلیٰ درجہ ہے کہ انسان مصیبت پر اللہ کا شکر ادا کرے۔ اس کے شکر کی دو وجوہات ہوتی ہیں: پہلی وجہ: وہ اپنے سے بڑی مصیبت میں مبتلا لوگوں کو دیکھتا ہے اور شکر کرتا ہے کہ اللہ نے اسے اتنی بڑی آزمائش سے بچا لیا۔ دوسری وجہ: اسے یقین ہوتا ہے کہ اس تکلیف کے بدلے اس کے گناہ جھڑ رہے ہیں اور (صبر کی صورت میں) اللہ کے ہاں اس کے درجات بلند ہو رہے ہیں۔ "ہم اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں مصیبتوں کے وقت بھی شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔" 📚 ( الشرح الممتع (٣٩٥/٥) https://t.me/UrduNaseehaten

🌿✨ مایوسی سے امید کی طرف — اللہ کی رحمت پر یقین ✨🌿 🍃 کبھی زندگی ہمیں ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں دل تھک جاتا ہے، آنکھ
🌿✨ مایوسی سے امید کی طرف — اللہ کی رحمت پر یقین ✨🌿 🍃 کبھی زندگی ہمیں ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں دل تھک جاتا ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اور سمجھ نہیں آتا کہ آگے کیسے بڑھیں… 🥀 مگر یاد رکھیں… 🌱 آپ کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ 🌸 🌿 جس رب نے ایک ننھے سے بیج کو مٹی کے اندھیرے سے نکال کر پھول بنا دیا، وہ آپ کی زندگی میں بھی خوبصورت بہار لا سکتا ہے۔ 🌷 🍃 خود کو بے مقصد مت سمجھیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ آپ کی زندگی قیمتی ہے، آپ کا وجود بے معنی نہیں۔ 🌱 🤲🏻 اگر دل بوجھل ہے تو لوگوں کے سامنے نہیں تو اپنے رب کے سامنے دل کھول دیں۔ 🌙 سجدے میں کہہ دیں: "یا اللہ! میں تھک گئی ہوں، مجھے سنبھال لے۔ مجھے وہ راستہ دکھا جس میں تیری رضا اور میرے لیے خیر ہو۔" 🌿 🌱 پھر آہستہ آہستہ آگے بڑھیں… 🍃 ایک دن، ایک قدم، ایک دعا۔ 🍃 🌸 یقین رکھیں، مشکل وقت ہمیشہ نہیں رہتا، مگر اللہ کی رحمت ہمیشہ رہتی ہے۔ 🌿 🍃 مایوسی کو دل میں جگہ نہ دیں؛ اپنے رب کی رحمت سے امید وابستہ رکھیں۔ 🌷 🌿✨ آپ قیمتی ہیں… اور آپ کی زندگی اللہ کی عطا ہے۔ ✨🌿 *ازقلم : بنت محمد اظہر الدین*

اپنے شوہر کی معصومیت اور نیک نیتی پر میں حیران رہ گئی تھی مجھے احساس ہوا تھا کہ اج ہم دنیا میں جہاں جی رہے ہیں وہاں اس دنیا کے قائم رہنے میں میرے شوہر جیسے بہت سارے لوگوں کا ہاتھ ہے ورنہ جس طرح کے ہمارے اعمال ہیں ہم لوگوں پر کب کا اللہ تعالی کا قہر اور عذاب نازل ہو چکا ہوتا میں جس دن سے اس گھر میں ائی ہوں اس دن سے لے کر اج تک میری کوئی نماز قضا نہیں ہوئی اس دن سے لے کر اج تک مجھے کبھی کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور یہ سب کچھ یقینا صرف اسی وجہ سے ہے کہ یہ گھرانہ مکمل طور پر دین اسلام پر عمل پیرا ہے اختتام اگر تحریر پسند ائے تو پڑھنے کے بعد شیئر ضرور کر دیں۔۔۔

نمبر دے دیا ہمارا سفر اختتام کو پہنچا جب میں پاکستان میں گھومنے پھرنے کے بعد واپس فرانس اپنے والدین کے پاس چلی گئی تو میں نے وہاں جا کر ان کو اس شخص کے بارے میں بتایا اور پھر ان کو اپنے دل کے حالات بتائے پھر ان کو بتایا کہ میں اس شخص سے شادی کرنا چاہتی ہوں میرے والدین نے اس کا اتا پتہ پوچھا تو میں نے ان کو ساری روداد سنا دی کہ میں کس طرح اور کہاں اس سے ملی ہوں اور کتنا اس کو جانتی ہوں میری بات سن کر میرے والدین مسکرائے اور کہا کہ تم ایسا کرو پہلے اس سے پوچھو اگر وہ تم سے شادی کے لیے راضی ہو تو پھر اس کی ہم سے بات کرواؤ پھر ہم تصدیق کر لیں گے اس کو ڈھونڈ لیں گے میں نے اس شخص سے بات کی اس نے کہا کہ میں نے اپنا یہ حق اپنے والدین کو دے رکھا ہے میں نے اس کے والدین کا نمبر لیا اس کے والدین سے بات کی اس کے والدین کو اپنا سب کچھ بتایا انہوں نے کہا ہم اپنے بیٹے کی مرضی جاننے کے بعد اپ سے بات کریں گے رابطہ کریں گے میں ان کا انتظار کرنے لگی ٹھیک 15 دن بعد مجھے اس شخص کے والدین کی کال ا گئی انہوں نے کہا کہ اپ لوگ ہماری دعوت پر روس ائیں رشیا کے متعلق سن کر میرے والدین حیران رہ گئے خیر ہم نے ان کی دعوت قبول کر لی اور ہم لوگ رشیا چلے گئے ایک بار پھر وہاں ہمارا سارا خاندان اپس میں ملا وہیں پہ ہمارا رشتہ طے ہوا اور پھر فیصلہ ہوا کہ ہم سب لوگ مل کر عمرہ کرنے کے لیے جائیں گے وہاں ہی ہم نکاح کے بندھن میں بندھ جائیں گے پھر ہم نے بالکل ایسے ہی کیا اور یوں میری شادی ہو گئی شادی کے بعد میں نے اپنے شریک حیات جو کہ کبھی میرا شریک سفر تھا اس سے پوچھا کہ تمہارا اخلاق اتنا بہترین کیوں ہے تو وہ میری بات سن کر حیران ہوا اور پھر کہا کہ تم کو نہیں پتہ اسلام میں اخلاق کی کتنی اہمیت ہے اسلام کی بنیاد ہی اخلاق ہے پھر میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہ اتنا بڑا کاروبار کیسے کھڑا کیا تو اس نے جواب دیا کہ میں نے صرف کوشش کی یہ سب کچھ میرے والدین کی دعاؤں کو نتیجہ تھا میں اج جہاں پر کھڑا ہوں میں اسے اپنے والدین کی دعاؤں کا نتیجہ ہی سمجھتا ہوں پھر اس نے مجھ سے پوچھا کہ میری کس چیز نے تمہیں سب سے زیادہ متاثر کیا ہے تو میں نے اسے بتایا کہ تمہاری سب سے زیادہ بات جو مجھے پسند ائی ہے وہ اس کھلے ڈلے ماحول میں رہتے ہوئے بھی اسلامی نظریات کو مد نظر رکھنا ہے میری بات سن کر انہوں نے مجھے بتایا کہ پتہ ہے میں ان اسلام نظریات کو مد نظر کیوں رکھتا ہوں میں نے اس کے جواب میں کہا کہ مجھے بھلا یہ سب کچھ کیسے پتہ ہوگا؟ میری بات سن کر اس نے جواب دیا کہ ایک بار میں نے کوئی ایسا عمل کیا تھا کوئی ایسا کام کر لیا تھا جس کی وجہ سے میری والدہ مجھ سے ناراض ہو گئی تھی شاید وہ کام شرع کے خلاف تھا میں نے وہ حرکت اپنے غیر مسلم دوست کے کہنے پر کی تھی تب میری ماں نے مجھے کہا تھا کہ بیٹا یاد رکھنا یہ دوستی یاری یہ تعلق واسطے اور یہ دنیا کے کام یہاں ہی رہ جائیں گے وہاں تمہارے ساتھ صرف تمہارے کیے گئے اعمال جائیں گے اج جس چھوٹی سی خوشی کے لیے تم نے اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈالا ہے تمہیں اندازہ بھی ہے کہ اس سے تمہارا اللہ تم سے کتنا ناراض ہوا ہوگا اللہ کے رسول تم سے کتنا ناراض ہوا ہوگا اور قبر میں یا روز محشر تم کتنی سزا کے مستحق ٹھہرو گے اگر تم میری اولاد ہو تو ائندہ کبھی بھی کوئی ایسا عمل نہ کرنا جس کی وجہ سے تمہارے رب اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم یا تمہاری والدہ کو پسند نہ آئے اور وہ رنجیدہ ہوں یاد رکھنا تمہارا ایمان واحد ایسی چیز ہے جو تمہارے ساتھ قبر میں جائے گا جتنا تمہارا ایمان مضبوط ہوگا اتنا ہی تمہیں اللہ اور اس کے رسول کا قرب ملے گا اور جتنا تمہارا ایمان کمزور ہوگا اتنے ہی تم اللہ اور اس کے رسول سے دور ہوتے جاؤ گے اس لیے زندگی میں کوئی بھی ایسا کام نہ کرنا جو تجھے اسلام کے اصولوں کے خلاف جا کر کرنا پڑے میری والدہ نے مجھے فقط پانچ سے سات منٹ کا یہ لیکچر دیا والدہ کی بات اختتام کو پہنچ گئی اس کے بعد کبھی میری والدہ کو مجھے سمجھانے کی نوبت نہیں ہے مجھے پتہ چل گیا کہ میں نے کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا اگر میں کہیں تذبذب کا شکار ہوتا ہوں الجھ جاتا ہوں یا مجھے خوف ہوتا ہے کہ میں یہاں کوئی فیصلہ کروں گا تو غلط کر بیٹھوں گا تب میں اپنی والدہ سے ڈسکس کر لیتا ہوں اگر میری والدہ مجھے مکمل طور پر مطمئن نہیں کر سکتی تو وہ مجھے کہتی ہیں تم کسی عالم سے مشورہ کر لو والدہ کی اس دن کی نصیحت سے لے کر اج تک میں نے کوئی ایسا عمل اپنی طرف سے جان بوجھ کر نہیں کیا جس کی وجہ سے مجھے اللہ تعالی اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا اپنی والدہ کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا

نگہت غوری صاحبہ جو کہ کاروباری خاتون ہے اور روس میں مقیم ہیں وہ اپنے ایک دلچسپ سفر کے متعلق بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ بالکل 100 فیصد ٹھیک مقولہ ہے جو لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی انسان کو پہچاننا ہو یا اس کی خصلتوں کے بارے میں جاننا ہو تو اس کے ساتھ سفر کر لو اس کے بعد وہ اپنی روداد سناتی ہیں کہ ایک بار وہ امریکہ سے پاکستان ارہی تھی ان کے پاس بزنس کلاس کی ٹکٹ تھی ان کا بتانا ہے کہ وہ شروع سے ہی بیرون ملک رہی ہیں ان کی پرورش یورپ میں ہوئی ہے ان کی پیدائش بھی وہیں کی ہے اور پھر تعلیم کے لیے وہ امریکہ منتقل ہوئی ان کے والدین فرانس میں رہتے ہیں اور اپنا کاروبار کرتے ہیں وہ فرانس سے امریکہ اپنے کسی دوست کی شادی کا فنکشن اٹینڈ کرنے کے لیے گئی تھیں اور پھر وہاں کچھ دن رکی رہی اپنے باقی دوستوں سے ملاقات کی اس کے بعد وہ پاکستان ارہی تھیں پاکستان انے کے لیے ان کے پاس جرمنی کی ایک نجی ایئر لائن کی ٹکٹ تھی ٹکٹ بزنس کلاس تھی وہ کہتی ہیں کہ جب سفر شروع کرنے سے پہلے میں اپنی فلائٹ میں سیٹ پر جا کر بیٹھی تو میرے پہلو والی سیٹ بھی کسی پاکستانی بزنس مین کی تھی وہ انتہائی خوبصورت اور نوجوان شخص تھا میں اس کو دیکھتے ہی اس کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئی اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں وہ ا کر اپنی سیٹ پر بیٹھا اسی دوران اس نے بیل بجائی تو ایئر ہوسٹس ان کے پاس اگئی انہوں نے ایئر ہوسٹس سے سرگوشی میں کوئی بات کی ائیرہوسٹس نے نفی میں سر ہلایا تو ائیرہوسٹس کا جواب سن کر وہ تھوڑے متذبذب دکھائی دیے جب بھی اپ کے پڑوس میں کچھ ایسا ہو جاتا ہے اپ کی توجہ خود بخود ان کی طرف منتقل ہو جاتی ہے گو کہ میرے بالکل ساتھ بیٹھے ہوئے وہ اتنے سرگوشیوں میں بات کر رہے تھے کہ میں ان کی بات سمجھ نہیں پا رہی تھی تھوڑی دیر دونوں اپس میں گفتگو کرتے رہے پھر وہ صاحب ایرہوسٹس کے ساتھ اٹھ کر پیچھے اکانومی کلاس میں گیا ہے مگر تھوڑی دیر بعد وہ اسی میزبان خاتون کے ہمراہ واپس اگئے واپس ا کر میزبان خاتون مجھ سے مخاطب ہوئی اور پوچھا کہ ان صاحب کا کہنا ہے اپ میرے ساتھ سفر کرتے ہوئے اگر کسی قسم کی تکلیف محسوس کرتی ہیں تو اپ کو کسی خاتون کے ساتھ ایڈجسٹ کر دیتے ہیں تاکہ اپ کا سفر اسانی سے گزر جائے؟ میرے لیے یہ ایک انہونی بات تھی کیونکہ میں جس ماحول میں رہی تھی وہاں ایسا ہونا تو دور کے بعد ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا مجھے بھلا اس شخص کے ساتھ بیٹھنے سے کیا فرق پڑتا لیکن پھر بھی میں نے اخلاق کا دامن ہاتھ میں رکھتے ہوئے جواب دیا کہ مجھے ان کے ساتھ سفر کرنے میں کسی قسم کی کوئی دشواری نہیں ہے اگر ان کو میری وجہ سے کوئی پرابلم ہو تو یہ اپنی سیٹ ضرور بدل سکتے ہیں جب میں نے یہ بات کی تو وہ صاحب ڈائریکٹ مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ دراصل میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ غیر مرد ہونے کے ناطے اپ میری وجہ سے سفر میں تنگ نہ ہوں کیونکہ سفر لمبا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ اپ کا سکون میری وجہ سے خراب ہو اس شخص کا لہجہ اتنا دھیما تھا کہ جب وہ مجھ سے مخاطب تھا تو شاید ایئر ھوسٹس اس کی بات نہیں سن پا رہی تھی میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور ہم دونوں اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے جیسے ہی ہمارا جہاز محو پرواز ہوا تو میں اپنے موبائل میں مشغول ہو گئی اور انہوں نے اپنا لیپ ٹاپ کھول لیا میں موبائل چلاتے چلاتے سو گئی اسی دوران پتہ نہیں کیا ہوا کہ مجھے شدید قسم کی کھانسی ہونے لگی یہ میرے لیے زندگی کا پہلا موقع تھا کہ میں اتنی شدید کھانسی کر رہی تھی یہاں تک کہ مجھے کسی کو مدد کے لیے بلانے کا بھی موقع مل نہیں رہا تھا ان صاحب نے جو اپنا کام کر رہے تھے وہ اسی وقت چھوڑ دیا اپنا لیپ ٹاپ بند کر دیا فضائی میزبان کو بلایا اس سے پانی لانے کے لیے کہا میرے لیے پانی اگیا مجھے پانی پلایا گیا جب میرے کچھ حواس بحال ہوئے تو میں نے ان کا شکریہ ادا کیا فضائی میزبان نے مجھ سے پوچھا کہ اور کسی قسم کی کوئی ضرورت ہو تو بتاؤ جہاز کے اندر ایک ڈاکٹر بھی موجود ہے اگر اپ کو طبی معائنہ کروانا ہے تو بھی بتائیں میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس وقت میں ٹھیک ہوں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے اپ جا سکتی ہیں میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور وہ فضائی میزبان میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے وہاں سے چلی گئی اس کے بعد میں نے اپنی سیٹ پر ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کا بھی شکریہ ادا کیا اسی دوران ہماری گفتگو شروع ہو گئی اس شخص کے بولنے کا انداز اتنا پیارا تھا جیسے کوئی شخص واعظ کر رہا ہو اواز اتنی رسیلی ہو کے اس کے الفاظ سن کر اس کا لہجہ دیکھ کر غیر مسلم بھی اسلام قبول کر لے میں اس شخص سے بہت متاثر ہوئی اتنا متاثر کہ وہ میرے دل میں اتر گیا میں نے اس سے نمبر لے لیا تاکہ بعد میں بھی اس سے رابطے میں رہ سکوں پہلے پہلے وہ نمبر دینے سے انکاری رہا پھر میں نے اس کو بتایا کہ مجھے بزنس میں اپ کی رہنمائی کی ضرورت ہوگی اگر اپ مجھ پر یہ احسان کر سکتے ہیں تو کر دیں اس پر اس شخص نے مجھے اپنا

ڈیوڈ گاگنز (David Goggins) دنیا کے سب سے مضبوط ذہنی صلاحیت رکھنے والے انسانوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ امریکی نیوی سیل (Navy SEAL) کے سابق اہلکار، الٹرا رنر اور مصنف ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان اپنے دماغ کو قابو میں کر کے کس طرح ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ یہاں ان کے سکھائے ہوئے 7 اہم ترین اسباق اردو میں پیش ہیں: --- ### 1۔ 40 فیصد کا قانون (The 40% Rule) جب آپ کا دماغ آپ سے کہتا ہے کہ "بس اب میں تھک گیا ہوں اور مزید کچھ نہیں کر سکتا،" تو حقیقت میں آپ ابھی صرف اپنی 40 فیصد صلاحیت تک پہنچے ہوتے ہیں۔ باقی 60 فیصد طاقت آپ کے اندر محفوظ ہوتی ہے۔ گاگنز کا کہنا ہے کہ جب آپ اس تھکن کے باوجود آگے بڑھتے رہتے ہیں، تو آپ اپنے ذہن کی اصل طاقت کو انلاک (unlock) کرتے ہیں۔ ### 2۔ جوابدہی کا آئینہ (The Accountability Mirror) گاگنز کہتے ہیں کہ اپنے آپ سے جھوٹ بولنا بند کریں۔ وہ خود ایک آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی خامیوں کو کاغذ پر لکھ کر چپکا دیتے تھے (جیسے: "تم موٹے ہو"، "تم سست ہو")۔ جب تک آپ آئینے میں دیکھ کر اپنی سچائی اور کمزوریوں کو تسلیم نہیں کریں گے، آپ خود کو بدل نہیں سکتے۔ خود سے مخلص ہونا ہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ ### 3۔ دماغ کو قابو کرنا (Taking Souls) جب آپ کسی مشکل مقابلے، نوکری یا امتحان میں ہوں، تو اپنی محنت اور کارکردگی سے سامنے والے (یا اپنے حریف) پر ایسا ذہنی غلبہ حاصل کر لیں کہ وہ دنگ رہ جائے۔ اس کا مطلب کسی کو نقصان پہنچانا نہیں، بلکہ اپنی محنت سے دوسروں کا حوصلہ پست کرنا اور خود کو سب سے آگے لے جانا ہے۔ ### 4۔ کوکی جار کا تصور (The Cookie Jar) جب زندگی میں بہت مشکل وقت آئے اور آپ ہار ماننے والے ہوں، تو اپنے دماغ کے "کوکی جار" (بسکوٹ کے ڈبے) میں ہاتھ ڈالیں۔ اس خیالی ڈبے میں آپ کی زندگی کی وہ تمام پرانی کامیابیاں اور مشکلات موجود ہیں جن پر آپ پہلے فتح پا چکے ہیں۔ اپنے ماضی کی مشکلات کو یاد کریں کہ "جب میں اس وقت نہیں ہارا، تو اب کیوں ہاروں؟" یہ چیز آپ کو فوری حوصلہ دے گی۔ ### 5۔ تکلیف سے پیار کرنا (Embrace the Suck) کامیابی کا راستہ آرام دہ نہیں ہوتا۔ اگر آپ کو وزن کم کرنا ہے، پڑھائی کرنی ہے یا کوئی بڑا مقصد حاصل کرنا ہے، تو آپ کو اس کے لیے ہونے والی تکلیف، صبح جلدی اٹھنے اور سخت محنت سے پیار کرنا پڑے گا۔ گاگنز کے مطابق، آرام پسندی انسان کو کمزور بناتی ہے، جبکہ تکلیف انسان کو فولاد بناتی ہے۔ ### 6۔ اپنے ذہن کے مالک بنیں (Master Your Mind) اگر آپ اپنے دماغ کو نہیں چلائیں گے، تو آپ کا دماغ آپ کو چلائے گا۔ صبح جب الارم بجتا ہے اور دماغ کہتا ہے کہ "تھوڑی دیر اور سو جاؤ، باہر سردی ہے،" تو اسی وقت آپ کو اپنے دماغ کو حکم دینا ہے کہ "نہیں، مجھے اٹھنا ہے"۔ زندگی کے فیصلے اپنے آرام کے مطابق نہیں، بلکہ اپنے نظم و ضبط (Discipline) کے مطابق کریں۔ ### 7۔ کبھی بھی مطمئن نہ ہوں (Never Settled) چاہے آپ نے زندگی میں کتنا ہی بڑا مقصد کیوں نہ حاصل کر لیا ہو، کبھی بھی یہ نہ سوچیں کہ "بس میں نے کر لیا"۔ گاگنز کے نزدیک زندگی ایک مسلسل سفر ہے۔ ایک پہاڑ سر کرنے کے بعد، دوسرے اونچے پہاڑ کی تلاش شروع کر دیں۔ ہمیشہ سیکھتے رہیں اور خود کو چیلنج کرتے رہیں کیونکہ جمود (رک جانا) ذہنی موت ہے۔ https://t.me/UrduNaseehaten