en
Feedback
Nurul Huda نور الھدیٰ

Nurul Huda نور الھدیٰ

Open in Telegram
474
Subscribers
No data24 hours
No data7 days
No data30 days
Posts Archive
انسان کا سب سے بہترین دوست اللہ ہے، جو مشکل ہو یا آسانی، رات ہو یا دن، کبھی بھی، کہیں بھی، کسی بھی حال میں اکیلا نہیں چھوڑتا۔ ناراض ہوتا ہے تو بہت جلدی مان بھی جاتا ہے، کبھی رسوا نہیں کرتا۔ ہمیشہ ساتھ رہتا ہے، ہمیشہ ساتھ دیتا ہے۔ اور اللہ سے دوستی کے بعد پھر ایک وقت آتا ہے جب آپ کو تنہائی سے ڈر نہیں لگتا، اکیلا رہنا برا نہیں لگتا، آنکھوں میں لوگوں کی وجہ سے آنسو نہیں آتے، ہونٹوں پر ہر وقت مسکراہٹ رہتی ہے، اور ہم سے کوئی بات کرے نہ کرے، دل مطمئن رہتا ہے۔ ❤️ 💯

*_کبھی کبھی مایوسی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ کچھ سمجھ نہیں آتا، راستہ دھندلا سا لگنے لگتا ہے، لیکن ایسے لمحے میں، ہر قدم پر، اللّٰـــہ کی کوئی آیت، کوئی دعا، یا نبیﷺ کی کوئی حدیث آپ کا ہاتھ تھام لیتی ہے، بس شرط یہ ہے کہ آپ رُکیں نہیں، کیونکہ ہدایت خاموشی سے آتی ہے لفظوں میں، سجدوں میں، اور یقین کے ایک چھوٹے سے چراغ میں۔_* > •°•✨🌸♥️🌻💦•°•

اقعاء کی صورتیں - العلماء https://alulama.org/iqa-ki-suratin/

“آج کے زمانے میں لوگوں سے بھلائی کی توقع نہ رکھو، بلکہ ان سے صرف یہ امید رکھو کہ وہ تمہیں ایذا نہ پہنچائیں۔ کیونکہ جو شخص آج تمہیں اپنی اذیت سے محفوظ رکھے، وہ گویا تمہیں بڑے بڑے انعامات عطا کرنے والا ہے۔” معاوية بن قرّة رحمه الله تاريخ دمشق/ ابن عساكر ٢٧٠/٥٩

۔ *۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* *ماڈرن لباس،غلط تفسیر اور لاکھوں فالورز* *۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* *اختر سہیم فیضی* *۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* آج ایک ویڈیو نظر سے گزری۔ ایک نوجوان، جس نے کورٹ پینٹ اور انگریزی ٹوپی پہن رکھی تھی، قرآنِ کریم کا ترجمہ اور تفسیر بیان کر رہا تھا۔قرآن صحیح سے پڑھ بھی نہیں پارہا ہے اور من مانی تفسیر کررہا ہے حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ویڈیو کو لاکھوں لوگوں نے دیکھا، جبکہ اگر یہی موضوع کوئی مستند عالمِ دین بیان کرے تو بعض اوقات ہزار ویوز بھی مشکل سے آتے ہیں۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے! دین لباس، اندازِ گفتگو یا انگریزی الفاظ سے نہیں سیکھا جاتا، بلکہ علم، سند اور صحیح فہم سے سیکھا جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ صرف اس لیے متاثر ہو جاتے ہیں کہ بولنے والا جدید لباس پہنے ہوئے ہے، روانی سے انگریزی الفاظ بولتا ہے یا اس کی ویڈیو خوب ایڈٹ کی گئی ہے، حالانکہ وہ قرآنِ مجید کی تلاوت بھی صحیح نہیں کر پاتا۔ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ یہ کوئی عام کتاب نہیں کہ جس کا جی چاہے، اپنی رائے سے اس کا ترجمہ اور تفسیر شروع کر دے۔ قرآن کی تفسیر کے اصول ہیں، عربی زبان کا گہرا علم چاہیے، احادیث، آثارِ صحابہ اور ائمۂ تفسیر کی رہنمائی درکار ہوتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر علم کے ماہر پیدا کیے ہیں، اور دین کے ماہر علماءِ حق ہیں۔ اگر ایک شخص قرآن صحیح پڑھ ہی نہیں سکتا، تو وہ دوسروں کو قرآن کا مفہوم کیسے سکھائے گا؟ آج سوشل میڈیا نے ایک خطرناک مزاج پیدا کر دیا ہے کہ جس کے زیادہ ویوز ہوں، وہی بڑا عالم سمجھا جاتا ہے۔ یاد رکھیں! ویوز، لائکس اور فالوورز کبھی بھی حق و باطل کا معیار نہیں ہوتے۔ اگر ایسا ہوتا تو انبیائے کرام علیہم السلام کے مخالفین ہمیشہ باطل نہ ہوتے۔ شیطان کی ایک بڑی چال یہ بھی ہے کہ لوگوں کو علماءِ حق سے بدظن کر دیا جائے، تاکہ وہ دین ان لوگوں سے سیکھیں جن کے پاس نہ علم ہے، نہ سند، نہ صحیح فہم۔ جب امت علماء سے کٹ جاتی ہے تو گمراہی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ لہٰذا دین سیکھنا ہے تو مستند علماء کے پاس جائیں، ان کی تفاسیر سنیں، ان کے دروس سے استفادہ کریں۔ ایسے سینکڑوں علماء موجود ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگیاں قرآن و سنت کے علم میں صرف کر دی ہیں۔ دین کو سوشل میڈیا کی چمک دمک سے نہیں، بلکہ دلیل، علم اور اہلِ علم سے پہچانیے۔ یاد رکھیں: جدید لباس علم کی دلیل نہیں، اور زیادہ ویوز حق کی ضمانت نہیں۔ حق وہی ہے جو قرآن و سنت کے مطابق ہو اور جسے اہلِ علم نے صحیح دلیل کے ساتھ بیان کیا ہو۔ ۔

۔ *۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* *جو ہمیں مصروف بھی رکھتا ہے اور محروم بھی* *۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* *اختر سہیم فیضی( امام وخطیب مسجد محمدیہ ہبلی کرناٹک)* *۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* آج انسان نے اپنی زندگی میں ایسے بے شمار مشغلے پیدا کر لیے ہیں جن کا نہ دنیا میں کوئی حقیقی فائدہ ہے اور نہ آخرت میں کوئی وزن۔ گھنٹوں موبائل پر بے مقصد اسکرول کرنا، دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنا، فضول بحثوں میں وقت ضائع کرنا، ہر خبر پر تبصرہ کرنا، ہر معاملے میں بلا ضرورت رائے دینا اور بے فائدہ گفتگو میں مصروف رہنا... یہ سب ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ حالانکہ یہ ہمارے اصل مشغلے نہیں تھے، مگر ہم نے خود انہیں اپنا محبوب مشغلہ بنا لیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جس وقت کو عبادت، والدین کی خدمت، بچوں کی دینی تربیت، دعوتِ دین، نیکی کے کاموں اور اپنی اصلاح میں صرف ہونا چاہیے تھا، وہ وقت فضول مشاغل کی نذر ہو رہا ہے۔ پھر ہم شکوہ کرتے ہیں کہ زندگی میں سکون نہیں، وقت میں برکت نہیں اور نیکیوں کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی شخصیت اس کے محبوب مشغلے سے پہچانی جاتی ہے۔ جس چیز میں انسان اپنا قیمتی وقت، توجہ اور دلچسپی صرف کرتا ہے، آہستہ آہستہ وہی اس کی زندگی کا رخ متعین کر دیتی ہے۔ عاقل وہی ہے جو اپنے مشغلے کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرے، کیونکہ انسان کی زندگی کا بڑا حصہ اسی میں گزر جاتا ہے جسے وہ اپنا محبوب مشغلہ بنا لیتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آج جسے ہم نے اپنا محبوب مشغلہ بنا رکھا ہے، وہ ہمیں مصروف بھی رکھتا ہے اور محروم بھی۔ ہم دن بھر مصروف تو رہتے ہیں، مگر ایسی مصروفیت کا کیا فائدہ جو ہمیں دین و دنیا کی حقیقی خیر سے محروم کر دے؟ وقت تو گزر ہی جاتا ہے، لیکن اس کا حاصل نہ اللہ کی رضا بنتا ہے، نہ علم میں اضافہ، نہ اعمالِ صالحہ، نہ خاندان کے حقوق کی ادائیگی اور نہ ہی اپنی اصلاح۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے قیمتی وقت کی قدر کرنے، اسے نفع بخش کاموں میں صرف کرنے اور ہر اس مشغلے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے جو ہمیں دین و دنیا کی بھلائی سے محروم کر دے۔ آمین۔ https://t.me/NHIMC/7754 ۔