دارالایمان فاؤنڈیشن
Open in Telegram
⬇️ @Darulimaanlibrary @TausifDarmi @FatawaDarulimaan
Show moreThe country is not specifiedReligion & Spirituality188 291
365
Subscribers
No data24 hours
No data7 days
No data30 days
Posts Archive
وعلیکم السلام و رحمة الله و بركاته
خطبہ حجۃ الوداع 👇
https://t.me/Darulimaanlibrary/10375
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ خطبہ حج الودع پر کوئی کتاب ہو تو ارسال کردیں مہربانی ہوگی
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَنَامُ وَهُوَ شَابٌّ أَعْزَبُ لاَ أَهْلَ لَهُ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" (صحیح بخاری، كِتَابُ الصَّلاَةِ، بَابُ نَوْمِ الرِّجَالِ فِي المَسْجِدِ، رقم الحدیث:440)
ترجمہ: حضرت عبیداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے نافع رحمہ اللہ نے بیان کیا، اور حضرت نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ وہ اپنی نوجوانی میں جب کہ ان کے بیوی بچے نہیں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں سویا کرتے تھے-
فوائد:
1) سونا چاہیے یہ انسانی فطرت ہے-
2) مسجد میں سو سکتے ہیں-
3) کنوارا شخص بھی مسجد میں سو سکتا ہے-
4) لوگوں کے سامنے لیٹ سکتے ہیں-
5) عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کیا گیا عمل حجت ہے-
6) مسجد کو کسی کی طرف منسوب کر سکتے ہیں یا مسجد کا نام رکھ سکتے ہیں-
7) مسجد سے اپنا تعلق برقرار رکھنا چاہیے نوجوانوں کو بھی خاص طور سے مسجد سے جڑنا چاہیے-
8) مسجد تعمیر کرنا چاہیے-
...................................................................
ابوعبداللہ البسام اعظمی محمدی ممبئی
3/ نومبر 2022 بروز جمعرات
╭─━━━🌷🌻🌷━━━─╮
مطالعہ کر کے عمل کریں
اور صدقہ جاریہ کے لئے
دوسروں کو بھی بھیجیں⬇️
https://t.me/Darulimaanfoundation
╰━━━━━━━━━━━━╯
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ وَأُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَذَكَرَتَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ، فَأُولَئِكَ شِرَارُ الخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ القِيَامَةِ" (صحیح بخاری، كِتَابُ الصَّلاَةِ، بَابٌ: هَلْ تُنْبَشُ قُبُورُ مُشْرِكِي الجَاهِلِيَّةِ، وَيُتَّخَذُ مَكَانُهَا مَسَاجِدَ، رقم الحدیث:427)
ترجمہ: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما دونوں نے ایک کلیسا کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تو اس میں تصویریں تھیں، انہوں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا یہ طریقہ تھا کہ اگر ان میں کوئی نیکوکار ( نیک ) شخص مر جاتا تو وہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس کی تصویریں بنا لیتے پس یہ لوگ اللہ کی نگاہ میں قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے برے ہوں گے-
فوائد:
1) اہل کتاب قبر پرستی کے فتنے میں مبتلا تھے-
2) قبر پر مسجد یا مسجد میں قبر بنانا منع ہے-
3) کنیسہ وغیرہ کے اندر جا سکتے ہیں-
4) غیر مسلم ملک میں سکونت اختیار کر سکتے ہیں-
5) اندھی عقیدت کا فتنہ بڑا سنگین ہوتا ہے-
6) تصویر کے فتنے سے بچنا چاہیے-
7) مشرک سب سے بدترین مخلوق ہے-
8) قیامت برحق ہے-
...................................................................
ابوعبداللہ البسام اعظمی محمدی ممبئی
2/ نومبر 2022 بروز بدھ
╭─━━━🌷🌻🌷━━━─╮
مطالعہ کر کے عمل کریں
اور صدقہ جاریہ کے لئے
دوسروں کو بھی بھیجیں⬇️
https://t.me/Darulimaanfoundation
╰━━━━━━━━━━━━╯
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَجَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي المَسْجِدِ مَعَهُ نَاسٌ، فَقُمْتُ فَقَالَ لِي آرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: لِطَعَامٍ، قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: لِمَنْ مَعَهُ قُومُوا، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ" (صحیح بخاری، كِتَابُ الصَّلاَةِ، بَابُ مَنْ دَعَا لِطَعَامٍ فِي المَسْجِدِ وَمَنْ أَجَابَ فِيهِ، رقم الحدیث:422)
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں پایا، آپ کے پاس اور بھی کئی لوگ تھے، میں کھڑا ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کھانے کے لیے؟ ( بلایا ہے ) میں نے کہا کہ جی ہاں! تب آپ نے اپنے قریب موجود لوگوں سے فرمایا کہ چلو، سب حضرات چلنے لگے اور میں ان کے آگے آگے چل رہا تھا-
فوائد:
1) (نماز وغیرہ کے لیے) مسجد جانا چاہیے-
2) مسجد میں بات چیت کر سکتے ہیں (بشرطیکہ کسی کو تکلیف نہ ہو)
3) مسجد میں دعوتِ طعام پیش کر سکتے ہیں-
4) مسجد میں دعوتِ طعام قبول کر سکتے ہیں-
5) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بشر تھے-
6) کسی آدمی کے آگے چلنا بےادبی نہیں ہے-
7) دعوت دینا چاہیے کھانا کھلانا چاہیے-
8) اہل فضل اور اہل علم کا خیال رکھنا چاہیے-
...................................................................
ابوعبداللہ البسام اعظمی محمدی ممبئی
01/ نومبر 2022 بروز منگل
╭─━━━🌷🌻🌷━━━─╮
مطالعہ کر کے عمل کریں
اور صدقہ جاریہ کے لئے
دوسروں کو بھی بھیجیں⬇️
https://t.me/Darulimaanfoundation
╰━━━━━━━━━━━━╯
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى بُصَاقًا فِي جِدَارِ القِبْلَةِ، فَحَكَّهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: "إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي، فَلاَ يَبْصُقُ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ إِذَا صَلَّى" (صحیح بخاری، كِتَابُ الصَّلاَةِ، بَابُ حَكِّ البُزَاقِ بِاليَدِ مِنَ المَسْجِدِ، رقم الحدیث:406)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلے کی دیوار پر تھوک دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچ ڈالا پھر (آپ نے) لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز میں ہو تو اپنے منہ کے سامنے نہ تھوکے کیونکہ نماز میں اس کے منہ کے سامنے اللہ عزوجل ہوتا ہے-
فوائد:
1) مسجد کی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے-
2) موقع ومحل کے اعتبار سے نصیحت کرنا چاہیے-
3) نماز پڑھنا چاہیے-
4) ذمہ دار کو فعال ہونا چاہیے-
5) نماز کی حالت میں اپنے سامنے تھوکنے سے پرہیز کرنا چاہیے-
6) مسجد سے گہرا تعلق رکھنا چاہیے-
7) اللہ تعالیٰ نمازی کے سامنے ہوتا ہے یہ نمازی کے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے-
8) منکر پر روکنا چاہیے-
9) پاکیزگی اور صفائی کا خیال رکھنا چاہیے-
...................................................................
ابوعبداللہ البسام اعظمی محمدی ممبئی
31/ اكتوبر 2022 بروز سوموار
╭─━━━🌷🌻🌷━━━─╮
مطالعہ کر کے عمل کریں
اور صدقہ جاریہ کے لئے
دوسروں کو بھی بھیجیں⬇️
https://t.me/Darulimaanfoundation
╰━━━━━━━━━━━━╯
عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا حِذَاءَهُ، وَأَنَا حَائِضٌ، وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ، قَالَتْ: وَكَانَ يُصَلِّي عَلَى الخُمْرَةِ" (صحیح بخاری، كِتَابُ الصَّلاَةِ، بَابُ إِذَا أَصَابَ ثَوْبُ المُصَلِّي امْرَأَتَهُ إِذَا سَجَدَ، رقم الحدیث379)
ترجمہ: ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور میں حائضہ ہونے کے باوجود بھی ان کے سامنے ہوتی، اکثر جب آپ سجدہ کرتے تو آپ کا کپڑا مجھے چھو جاتا تھا، میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ چٹائی پر نماز پڑھتے تھے-
فوائد:
1) نماز پڑھنا چاہیے-
2) فرائض کے علاوہ نوافل گھر میں پڑھنا چاہیے-
3) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بشر تھے-
4) نمازی کا کپڑا اگر عورت سے ٹچ ہو جائے تو کوئی حرج نہیں ہے اس سے وضو اور نماز میں کوئی خرابی نہیں ہوگی-
5) عورت اپنے حیض کی مدت میں ناپاک رہتی ہے لیکن اس کا کپڑا ناپاک نہیں رہتا ہے (البتہ جہاں ناپاکی کا خون لگے گا، کپڑے کا وہی حصہ ناپاک ہوگا)
6) چٹائی پر نماز پڑھنا چاہیے-
7) جب بیوی مخصوص ایام سے ہو تو اس سے کنارہ کشی نہیں اختیار کرنا چاہیے-
8) کپڑے پہن کر نماز پڑھنا چاہیے-
...................................................................
ابوعبداللہ البسام اعظمی محمدی ممبئی
30/ اكتوبر 2022 بروز اتوار
╭─━━━🌷🌻🌷━━━─╮
مطالعہ کر کے عمل کریں
اور صدقہ جاریہ کے لئے
دوسروں کو بھی بھیجیں⬇️
https://t.me/Darulimaanfoundation
╰━━━━━━━━━━━━╯
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلاَمٌ، فَنَظَرَ إِلَى أَعْلاَمِهَا نَظْرَةً، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: "اذْهَبُوا بِخَمِيصَتِي هَذِهِ إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةِ أَبِي جَهْمٍ، فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا عَنْ صَلاَتِي" (صحیح بخاری، كِتَابُ الصَّلاَةِ، بَابُ إِذَا صَلَّى فِي ثَوْبٍ لَهُ أَعْلاَمٌ وَنَظَرَ إِلَى عَلَمِهَا، رقم الحدیث:373)
ترجمہ: ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک مرتبہ دیکھا، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ میری یہ چادر ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور ان کی انبجانیہ والی چادر لے آؤ، کیونکہ اس چادر نے ابھی نماز سے مجھ کو غافل کر دیا-
فوائد:
1) نماز پڑھنا چاہیے-
2) نماز خشوع وخضوع کے ساتھ پڑھنا چاہیے-
3) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بشر تھے-
4) نقش و نگار والی چادر استعمال کر سکتے ہیں لیکن نماز میں نہیں-
5) جس چیز سے نماز میں خلل واقع ہو اسے ہٹا دینا چاہیے-
6) ہدیہ دینا چاہیے-
7) ہدیہ قبول کرنا چاہیے-
8) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کا علم نہیں تھا-
9) ہدیہ کا سامان میں اگر کچھ خرابی ہو تو واپس کرکے اسی جیسا دوسرا طلب کر سکتے ہیں-
10) چادر وغیرہ کا نام رکھ سکتے ہیں-
...................................................................
ابوعبداللہ البسام اعظمی محمدی ممبئی
29/ اكتوبر 2022 بروز سنیچر
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الفَجْرَ، فَيَشْهَدُ مَعَهُ نِسَاءٌ مِنَ المُؤْمِنَاتِ مُتَلَفِّعَاتٍ فِي مُرُوطِهِنَّ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ مَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ" (صحیح بخاری، كِتَابُ الصَّلاَةِ، بَابٌ: فِي كَمْ تُصَلِّي المَرْأَةُ فِي الثِّيَابِ، رقم الحدیث:372)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں کئی مسلمان عورتیں اپنی چادریں اوڑھے ہوئے نماز میں شریک ہوتی تھیں، پھر جب وہ سب اپنے گھروں کو واپس جاتیں تو اس وقت انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا-
فوائد:
1) نماز پڑھنا چاہیے-
2) صبح جلد بیدار ہونا چاہیے-
3) عورت مسجد جا سکتی ہے-
4) نماز فجر میں بھی عورت مسجد جا سکتی ہے-
5) فجر کی نماز غلس میں پڑھنا چاہیے-
6) رات میں بھی مسجد جانا ہو یا کبھی باہر نکلنا ہو تو عورت کو نقاب اور حجاب کی پابندی کرنا چاہیے گرچہ چاروں طرف اندھیرا ہی کیوں نہ ہو-
7) عورت کو مکمل پردہ کرنا چاہیے-
8) خواتین کو چاہیے کہ نماز کے بعد جلد گھر واپس ہو جائیں-
9) عورت کا حجاب ایسا ہونا چاہیے کہ اجنبی مرد عورت کو پہچان نہ سکے-
...................................................................
ابوعبداللہ البسام اعظمی محمدی ممبئی
28/ اكتوبر 2022 بروز جمعہ
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِرِ رَحِمَهُ اللہُ قَالَ: صَلَّى جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي إِزَارٍ قَدْ عَقَدَهُ مِنْ قِبَلِ قَفَاهُ وَثِيَابُهُ مَوْضُوعَةٌ عَلَى المِشْجَبِ، قَالَ لَهُ قَائِلٌ: تُصَلِّي فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا صَنَعْتُ ذَلِكَ لِيَرَانِي أَحْمَقُ مِثْلُكَ وَأَيُّنَا كَانَ لَهُ ثَوْبَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" (صحیح بخاری، كِتَابُ الصَّلاَةِ، بَابُ عَقْدِ الإِزَارِ عَلَى القَفَا فِي الصَّلاَةِ، رقم الحدیث:352)
ترجمہ: حضرت محمد بن منکدر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تہبند باندھ کر نماز پڑھی جسے انہوں نے سر تک باندھ رکھا تھا اور آپ کے کپڑے کھونٹی پر ٹنگے ہوئے تھے، ایک کہنے والے نے کہا کہ آپ ایک تہبند میں نماز پڑھتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ میں نے ایسا اس لیے کیا کہ تجھ جیسا کوئی احمق مجھے دیکھے، بھلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو کپڑے بھی کس کے پاس تھے؟
فوائد:
1) ایک کپڑے میں بھی نماز پڑھ سکتے ہیں بشرطیکہ وہ کپڑا ستر کو چھپانے والا ہو اور اس کا کندھا ڈھکا ہو-
2) اگر ایک ہی کپڑا ہو تو ازار کو سر کے پچھلے حصے تک لے جا کر باندھ دینا چاہیے کیونکہ ستر کے ساتھ کندھے کا چھپانا ضروری ہے-
3) اہل فضل کی تکریم بجا لانا چاہیے ان سے زیادہ بحث ومباحثہ نہیں کرنا چاہیے-
4) کپڑے کو اچھی طرح رکھنا چاہیے، کھونٹی وغیرہ پر لٹکانا چاہیے-
5) گھروں میں کھونٹی وغیرہ لگا سکتے ہیں-
6) عہد نبوت میں غربت بہت زیادہ تھی دیکھیے عہد نبوت میں دو کپڑے صحابہ کرام کو میسر نہ تھے-
7) کبھی کبھی عمل کرکے لوگوں کو بتانا چاہیے تاکہ لوگ صحیح سے سیکھ سکیں-
8) سوال کرنا چاہیے-
9) نماز میں ٹوپی لگانا ضروری نہیں ہے ننگے سر بھی نماز پڑھ سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے-
10) نماز کی پابندی کرنا چاہیے-
11) ازار (لنگی) پہننا چاہیے-
...................................................................
ابوعبداللہ البسام اعظمی محمدی ممبئی
27/ اكتوبر 2022 بروز جمعرات
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: "فَرَضَ اللَّهُ الصَّلاَةَ حِينَ فَرَضَهَا، رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فِي الحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلاَةُ السَّفَرِ، وَزِيدَ فِي صَلاَةِ الحَضَرِ" (صحیح بخاری، كِتَابُ الصَّلاَةِ، بَابٌ: كَيْفَ فُرِضَتِ الصَّلاَةُ فِي الإِسْرَاءِ؟ رقم الحديث:350)
ترجمہ: ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے نماز میں دو دو رکعت فرض کی تھی، سفر میں بھی اور اقامت کی حالت میں بھی، پھر سفر کی نماز تو اپنی اصلی حالت پر باقی رکھی گئی اور حالت اقامت کی نمازوں میں زیادتی کر دی گئی-
فوائد:
1) نماز فرض ہے، لہٰذا نماز کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے-
2) سفر میں بھی نماز فرض ہے-
3) ابتداء میں نماز دو دو رکعت فرض ہوئی تھی-
4) سفر میں نماز قصر کے ساتھ پڑھنا ہے یعنی چار رکعت والی نماز دو رکعت-
5) ہمارے دین میں بڑی سہولت اور آسانی ہے-
6) نسخ کا ثبوت-
7) سفر کرنے کا جواز-
...................................................................
ابوعبداللہ البسام اعظمی محمدی ممبئی
26/ اكتوبر 2022 بروز بدھ
╭─━━━🌷🌻🌷━━━─╮
مطالعہ کر کے عمل کریں
اور صدقہ جاریہ کے لئے
دوسروں کو بھی بھیجیں⬇️
https://t.me/Darulimaanfoundation
╰━━━━━━━━━━━━╯
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْكَسَفَتْ الشَّمْسُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلْنَا فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى انْجَلَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا وَادْعُوا حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ" (صحیح بخاری، کِتَابُ الكُسُوفِ، بَابُ الصَّلاَةِ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ، رقم الحدیث:1040)
ترجمہ: حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ سورج کو گرہن لگنا شروع ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اٹھ کر جلدی میں) چادر گھسیٹتے ہوئے مسجد میں گئے، ساتھ ہی ہم بھی گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا، یعنی گرہن ختم ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا کہ سورج اور چاند میں گرہن کسی کی موت وہلاکت سے نہیں لگتا، لیکن جب تم گرہن دیکھو تو اس وقت نماز اور دعا کرتے رہو جب تک گرہن ختم نہ ہو جائے-
فوائد:
1) ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت متواضع تھے، آپ صحابہ کرام کو وقت دیتے تھے-
2) نیک لوگوں کی صحبت میں رہنا چاہیے-
3) دینی مجالس میں شریک ہونا چاہیے-
4) سورج گرہن یا چاند گرہن کے وقت تماشا نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ نماز کی خاطر جلد مسجد جانا چاہیے-
5) کسوف کی نماز جماعت سے پڑھی جائے گی-
6) کسوف کی نماز مسجد میں ادا کی جائے گی-
7) مسجد بنانا چاہیے-
8) کسوف کی دو رکعت ہے-
9) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بشر تھے-
10) نیک اور اہم کام میں جلدی کرنا چاہیے-
11) جلد بازی میں اگر چادر گھسیٹ رہا ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے-
12) سورج گرہن یا چاند گرہن کسی کی موت کی بنا پر نہیں لگتا ہے-
13) گرہن لگتے ہی فوراً نماز پڑھنا چاہیے-
14) گرہن میں نماز کے ساتھ ساتھ دعا اور توبہ واستغفار بھی مطلوب ہے-
15) جہاں گرہن لگے گا اور جہاں کے لوگ دیکھیں گے وہیں کے لوگ گرہن کی نماز پڑھیں گے-
16) منکر پر رد کرنا چاہیے، باطل نظریات اور باطل افکار پر رد کرنا چاہیے-
17) کسوف کی نماز عام نمازوں سے قدرے طویل پڑھی جائے گی-
18) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کا علم نہیں تھا-
...................................................................
ابوعبداللہ البسام اعظمی محمدی ممبئی
25/ اكتوبر 2022 بروز منگل
╭─━━━🌷🌻🌷━━━─╮
مطالعہ کر کے عمل کریں
اور صدقہ جاریہ کے لئے
دوسروں کو بھی بھیجیں⬇️
https://t.me/Darulimaanfoundation
╰━━━━━━━━━━━━╯
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ الخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُعْتَزِلًا لَمْ يُصَلِّ فِي القَوْمِ، فَقَالَ: يَا فُلاَنُ! مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ فِي القَوْمِ؟ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلاَ مَاءَ، قَالَ: "عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ" (صحیح بخاری، كِتَابُ التَّيَمُّمِ، بَابٌ، رقم الحدیث:348)
ترجمہ: حضرت عمران بن حصین خزاعی رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو (صف سے) الگ دیکھا اور اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے فلاں! تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روک دیا، اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے غسل کی ضرورت ہو گئی اور پانی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم کو پاک مٹی سے تیمم کرنا تھا، بس وہ تمہارے لیے کافی ہو جاتا-
فوائد:
1) نماز پڑھنا چاہیے-
2) سوال کرنا چاہیے-
3) پانی نہ ملے تو تیمم کرنا چاہیے-
4) نماز کبھی معاف نہیں ہے-
5) جس پر غسل واجب ہو جائے اور پانی نہ ملے تو ناپاکی سے پاکی حاصل کرنے کے لیے تمیم کرنا چاہیے-
6) ہمارے دین میں بڑی آسانی ہے-
7) منکر پر روکنا چاہیے اور عمدہ نصیحت کرنا چاہیے-
8) باجماعت نماز پڑھنا چاہیے-
9) امام کو نماز کے بعد مقتدی کی طرف رخ کرنا چاہیے-
10) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کا علم نہیں تھا-
11) نماز کے لیے طہارت شرط ہے-
12) نظافت وطہارت کا خیال رکھنا چاہیے-
13) حق بات بیان کرنے میں شرم نہیں محسوس کرنا چاہیے-
...................................................................
ابوعبداللہ البسام اعظمی محمدی ممبئی
24/ اكتوبر 2022 بروز سوموار
╭─━━━🌷🌻🌷━━━─╮
مطالعہ کر کے عمل کریں
اور صدقہ جاریہ کے لئے
دوسروں کو بھی بھیجیں⬇️
https://t.me/Darulimaanfoundation
╰━━━━━━━━━━━━╯
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ، ثُمَّ جَهَدَهَا فَقَدْ وَجَبَ الغَسْلُ" (صحیح بخاری، كِتَابُ الغُسْلِ، بَابٌ: إِذَا التَقَى الخِتَانَانِ، رقم الحدیث:291)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مرد عورت کے چہار زانو میں بیٹھ جائے اور اس نے (ہمبستری کے واسطے) کوشش کی تو غسل واجب ہو گیا-
فوائد:
1) اشارہ و کنایہ میں گفتگو کرنا چاہیے-
2) ہر بات ہر جگہ نہیں کہنا چاہیے بلکہ شرم وحیا کا لحاظ بھی رکھنا چاہیے-
3) جائز طریقے سے اپنی جنسی ضرورت پوری کر سکتے ہیں-
4) شادی کرنا چاہیے-
5) جماع کے وقت انزال نہ بھی ہو تب بھی غسل واجب ہو جاتا ہے اسی طرح جب ختنہ ختنے سے مل جائے تب بھی غسل واجب ہو جاتا ہے-
6) جماع یہ موجبات غسل میں سے ہے-
7) نظافت وطہارت اسلام کا ایک اہم حکم ہے-
8) حق بات بیان کرنے میں نہیں شرمانا چاہیے-
...................................................................
ابوعبداللہ البسام اعظمی محمدی ممبئی
23/ اكتوبر 2022 بروز اتوار
╭─━━━🌷🌻🌷━━━─╮
مطالعہ کر کے عمل کریں
اور صدقہ جاریہ کے لئے
دوسروں کو بھی بھیجیں⬇️
https://t.me/Darulimaanfoundation
╰━━━━━━━━━━━━╯
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ: نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَرْقُدْ وَهُوَ جُنُبٌ" (صحیح بخاری، كِتَابُ الغُسْلِ، بَابُ نَوْمِ الجُنُبِ، رقم الحدیث:287)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال پوچھا کہ کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! وضو کرکے جنابت کی حالت میں سو سکتے ہو، یعنی اس میں کوئی حرج نہیں ہے-
فوائد:
1) سوال کرنا چاہیے-
2) بیوی سے فائدہ اٹھانا چاہیے-
3) ہمبستری کے بعد سونے سے پہلے وضو کر لینا چاہیے-
4) سونا چاہیے-
5) غسل میں تاخیر کر سکتے ہیں بشرطیکہ کوئی نماز فوت نہ ہو-
6) جنابت کی حالت میں سونا درست ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے-
7) وضو کرنا چاہیے-
...................................................................
ابوعبداللہ البسام اعظمی محمدی ممبئی
22/ اكتوبر 2022 بروز سنیچر
╭─━━━🌷🌻🌷━━━─╮
مطالعہ کر کے عمل کریں
اور صدقہ جاریہ کے لئے
دوسروں کو بھی بھیجیں⬇️
https://t.me/Darulimaanfoundation
╰━━━━━━━━━━━━╯
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: "كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبَرَّزَ لِحَاجَتِهِ، أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَيَغْسِلُ بِهِ" (صحیح بخاری، كِتَابُ الوُضُوءِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي غَسْلِ البَوْلِ، رقم الحدیث:217)
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضاء حاجت کے لیے باہر تشریف لے جاتے تو میں آپ کے پاس پانی لاتا آپ اس سے استنجاء فرماتے تھے یعنی صفائی کرتے تھے-
فوائد:
1) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بشر تھے-
2) آزاد شخص سے خدمت لے سکتے ہیں-
3) اہل فضل کی خدمت کرنا چاہیے-
4) قضاء حاجت کے بعد اچھی طرح اگلی پچھلی شرم گاہ پانی سے دھلنا چاہیے-
5) طہارت کا خیال رکھنا چاہیے-
6) پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قضاء حاجت کی ضرورت پڑتی تھی-
7) قضاء حاجت کے لیے دور جانا چاہیے-
...................................................................
ابوعبداللہ البسام اعظمی محمدی ممبئی
21/ اكتوبر 2022 بروز جمعہ
╭─━━━🌷🌻🌷━━━─╮
مطالعہ کر کے عمل کریں
اور صدقہ جاریہ کے لئے
دوسروں کو بھی بھیجیں⬇️
https://t.me/Darulimaanfoundation
╰━━━━━━━━━━━━╯
عَنِ المُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَأَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ، فَقَالَ: "دَعْهُمَا، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا" (صحیح بخاری، كِتَابُ الوُضُوءِ، بَابُ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَيْهِ وَهُمَا طَاهِرَتَانِ، رقم الحدیث:206)
ترجمہ: حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، تو میں جھکا تاکہ میں آپ کے موزے اتار ڈالوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں رہنے دو، کیونکہ میں نے ان دونوں کو وضو کی حالت میں داخل کیا تھا یعنی وضو میں پاؤں دھل کر موزہ پہنا تھا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کیا-
فوائد:
1) سفر کرنا چاہیے-
2) سفر میں بھی دین سیکھنا اور سکھانا چاہیے-
3) بڑے بزرگوں کی خدمت کرنا چاہیے-
4) وضو کے درمیان گفتگو کر سکتے ہیں-
5) مناقشہ کرنا چاہیے-
6) موزہ پر مسح کرنا جائز ہے-
7) موزے کے اوپری حصہ پر مسح کرنا ہے-
8) جب وضو کی حالت میں موزہ پہنیں گے تبھی موزہ پر مسح کر سکتے ہیں-
9) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بشر تھے-
10) موزہ پہننا چاہیے-
...................................................................
ابوعبداللہ البسام اعظمی محمدی ممبئی
20/ اكتوبر 2022 بروز جمعرات
╭─━━━🌷🌻🌷━━━─╮
مطالعہ کر کے عمل کریں
اور صدقہ جاریہ کے لئے
دوسروں کو بھی بھیجیں⬇️
https://t.me/Darulimaanfoundation
╰━━━━━━━━━━━━╯
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الخَلاَءَ، فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا قَالَ: "مَنْ وَضَعَ هَذَا؟ فَأُخْبِرَ فَقَالَ اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ" (صحیح بخاری، كِتَابُ الوُضُوءِ، بَابُ وَضْعِ المَاءِ عِنْدَ الخَلاَءِ، رقم الحدیث:143)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے واسطے تشریف لے گئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی وہیں قریب میں رکھ دیا، (باہر نکل کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کس نے رکھا ہے؟ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا گیا تو آپ نے فرمایا، اے اللہ! اس کو دین کا فقیہ بنا دے-
فوائد:
1) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بشر تھے-
2) پیشاب پاخانہ کرنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے-
3) بڑوں کی خدمت کرنا چاہیے-
4) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیب داں نہیں تھے-
5) سوال کرنا چاہیے-
6) وضو بنانا چاہیے-
7) جو ہمارا کام بنا دے اس کے حق میں دعا کرنا چاہیے-
8) علم دین کی فضیلت کا علم-
9) دعا قبول ہوتی ہے اس لیے دعا مانگنا چاہیے-
10) بنا ہاتھ اٹھائے بھی دعا کر سکتے ہیں-
...................................................................
ابوعبداللہ البسام اعظمی محمدی ممبئی
19/ اكتوبر 2022 بروز بدھ
╭─━━━🌷🌻🌷━━━─╮
مطالعہ کر کے عمل کریں
اور صدقہ جاریہ کے لئے
دوسروں کو بھی بھیجیں⬇️
https://t.me/Darulimaanfoundation
╰━━━━━━━━━━━━╯
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتِ النِّسَاءُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَلَبَنَا عَلَيْكَ الرِّجَالُ، فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا مِنْ نَفْسِكَ، فَوَعَدَهُنَّ يَوْمًا لَقِيَهُنَّ فِيهِ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ، فَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُنَّ: "مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ ثَلاَثَةً مِنْ وَلَدِهَا، إِلَّا كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: وَاثْنَتَيْنِ؟ فَقَالَ: وَاثْنَتَيْنِ" (صحیح بخاری، كِتَابُ العِلْمِ، بَابٌ: هَلْ يُجْعَلُ لِلنِّسَاءِ يَوْمٌ عَلَى حِدَةٍ فِي العِلْمِ؟ رقم الحدیث:101)
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ عورتوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ (آپ سے فائدہ اٹھانے میں) مرد ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں، اس لیے آپ اپنی طرف سے ہمارے لیے بھی کوئی دن خاص فرما دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرما لیا، اس دن عورتوں سے آپ نے ملاقات کی اور انہیں وعظ فرمایا اور (مناسب) احکام سنائے جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا اس میں یہ بات بھی تھی کہ جو کوئی عورت تم میں سے اپنے تین (لڑکے) آگے بھیج دے گی (یعنی اس کی زندگی میں اس کی اولاد کی وفات ہو جائے اور ماں صبر کرے) تو وہ اس کے لیے دوزخ سے پناہ بن جائیں گے اس پر ایک عورت نے کہا، اگر دو بچے وفات پا جائیں؟ آپ نے فرمایا ہاں! اور دو (کا بھی یہی حکم ہے)
فوائد:
1) دینی علم میں تنافس ہونا چاہیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی فکر کرنا چاہیے-
2) مرد عورت دونوں برابر نہیں ہیں-
3) دعوت وتبلیغ کا کام کرنا چاہیے-
4) خواتین میں بھی دعوت وتبلیغ اور تعلیم کا کام کرنا چاہیے-
5) خواتین کو بھی دینی تعلیم حاصل کرنا چاہیے-
6) نصیحت یا دینی پروگرام کے لیے وقت اور جگہ متعین کرنا جائز ہے-
7) سوال کرنا چاہیے-
8) جہنم برحق ہے-
9) والدین کی موجودگی میں جس کے بچے وفات پا گئے تو یہ بچے والدین کے لیے ذخیرہ آخرت ہیں-
10) وعدہ پورا کرنا چاہیے-
11) نصیحت کرنا چاہیے-
12) موقع ومحل کے اعتبار سے عنوان منتخب کرنا چاہیے-
13) سامعین کی رعایت کرنا چاہیے-
14) شادی کرنا چاہیے-
15) اولاد کی فضیلت کا علم-
...................................................................
ابوعبداللہ البسام اعظمی محمدی ممبئی
18/ اكتوبر 2022 بروز منگل
╭─━━━🌷🌻🌷━━━─╮
مطالعہ کر کے عمل کریں
اور صدقہ جاریہ کے لئے
دوسروں کو بھی بھیجیں⬇️
https://t.me/Darulimaanfoundation
╰━━━━━━━━━━━━╯
