دعوتِ اسلام
Open in Telegram
دینِ اسلام کی دعوت کا کام سرانجام دینے والا منفرد چینل "دعوت اسلام" جہاں آپ کو دین اسلام کے ہر موضوع پر بادلیل اور باحوالہ جامع اور مفصل تحاریر پڑھنے کو ملیں گی ان شاء اللہ رابطہ بوٹ: @dawatrabta_bot
Show more2 139
Subscribers
No data24 hours
-47 days
+630 days
Posts Archive
2 139
Repost from ❖ اسلامی کتب خانہ ❖
♦️Boycott Products ♦️
نوٹ : اس کتاب میں تصویری شکل میں اسرائیل یا اسرائیل نواز کمپنیوں کے ممنوعہ پروڈکٹس اور ان کی متبادل انڈین مصنوعات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
📢 اس کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔
⊙══════⊙══════⊙
❍ https://t.me/islamikutbkhana ❍ ☜
2 139
Repost from فلسطین اردو
یہودیوں نے دوران جنگ فلسطین کے شفاءخانوں کو انسانوں کے مذبح خانے بنا دیا ہے
2 139
لہٰذا ! اگر فرنگی سامراج کے خود کاشتہ پودوں سے نجات اور خلاصی کی کوئی کرن کسی بھی پاکستانی کے دل ودماغ میں گردش کرتی ہے تو آئیے تحریکِ طالبان پاکستان کی صفوں میں شامل ہوکر اسلامی اور ملی فریضہ کی ادائیگی کے ساتھ حقیقی معنوں میں اسلام کی بہاریں دیکھنے سے لطف اندوز ہوں ۔
محمد خراسانی
ترجمان: تحریک طالبان پاکستان
12/ رمضان المبارک /1445ھـ ق
22/ مارچ 2024 ء
#ٹی_ٹی_پی
#عمر_میڈیا
#محمد_خراسانی
#TTP
#Umar_Media
#Muhammad_Khurasani
ہماری ویب سائٹ:
https://umnews.net
2 139
یوم آزادی ( قرارداد پاکستان) کے حوالے سے تحریک طالبان پاکستان کا اعلامیہ!
23 مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان پیش کی گئی تھی۔ جس کے ذریعہ مسلمانان برصغیر کو جھانسہ دیکر یہ وعدہ کیاگیا تھا کہ مسلمانوں کو انگریز کی غلامی سے نجات دلانے اور ایک آزاد وخود مختار اسلامی ریاست کے قیام کے لئے تحریک چلانی ہے،اس مشن کی خاطر پاکستان کا مطلب کیا "لا الہ الااللہ " کا نعرہ مستانہ بھی بلند کیاگیاتھا,بالآخر نہایت مکاری اور چالاکی کے ساتھ سات برس بعد(14اگست1947میں) اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا گیا،جس کی نہایت بھاری قیمت ( بے تحاشا مالی خسارے کے علاوہ ایک کروڑ افراد کی ہجرتیں،ایک لاکھ خواتین کی عصمت دریاں،دس لاکھ شہادتیں)مسلمانانِ برصغیر کو چکانی پڑی۔
مگر نہایت ہی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ستتر سال گزرنے کے باوجود ایک دن کےلئے بھی وہ مقصد دیکھنے کو نہیں ملا
قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ جیسے اصحابِ بصیرت اکابر علماء دیوبند ( رحمہم اللّٰہ ) نے قیام پاکستان کے متعلق اپنی ایمانی فراست اور علمی بصیرت کی بناء پر جو پیشنگوئیاں زبان پر لائی تھیں، قیام پاکستان کے بعد حرف بحرف پوری ہوئیں ۔
چنانچہ صاحبِ بصیرت وفراست امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے قرارداد پاکستان کا مقصدِ اصلی یوں بیان فرمایا تھا :
1946 میں دہلی جامع مسجد کے سامنے پارک میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
حضرات ! آج میں نے تقریر نہیں کرنی بلکہ چند حقائق ہیں جنہیں بلاتمہید کہنا چاہتاہوں ۔ بات جھگڑے کی نہیں سمجھنے سمجھانے کی ہے،یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ جولوگ اپنے جسم پر اسلامی قوانین نافذ نہیں کرسکتے،جن کا اٹھنا بیٹھنا ، جن کا سونا،جن کا جاگنا،جن کی وضع قطع،جن کا رہن سہن،بول چال،زبان وتہذیب ، کھانا پینا وغیرہ،غرض یہ کہ کوئی چیز بھی اسلام کے مطابق نہ ہو،وہ دس کروڑ افراد کے وطن میں کس طرح اسلامی قوانین نافذ کر سکتے ہیں،یہ ایک فریب ہے، میں یہ فریب کھانے کیلئے ہرگز تیار نہیں ہوں۔
پھر امیرشریعت نے اپنی کلہاڑی دونوں ہاتوں میں اٹھا کر تقسیمِ برصغیر کے بعد مشرقی اور مغربی پاکستان کا نقشہ سمجھانا شروع کیا اور فرمایا:
ادھر مشرقی پاکستان ہوگا ادھر مغربی پاکستان ہوگا درمیان میں چالیس کروڑ ہندو کی متعصب آبادی ہوگی،جس پر انکی اپنی حکومت ہوگی ۔۔۔ اندرونی طور پر پاکستان میں چند خاندانوں کی حکومت ہوگی ، اور یہ خاندان زمینداروں،صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کے خاندان ہوں گے ۔ انگریز کے پروردہ فرنگی سامراج کے خودکاشتہ پودے، سروں،نوابوں اور جاگیرداروں کے خاندان ہوں گے، جو اپنی من مانی کارروائی سے محب وطن اور غریب عوام کو پریشان کرکے رکھ دیں گے ..... اور دس کروڑ مسلمان تین حصوں میں بٹ جائیں گے .
امیر شریعت نے 1947ء کو لاہورمیں ایک اجلاس سے کرب انگیز لہجے میں فرمایا : سیاست دانوں نے (برصغیر کا) جغرافیائی نقشہ اٹھا کر ضرب وتقسیم کی ہے،لیکن اسکی بدولت بڑی مدت کیلئے انسان مرگیا ہے۔برصغیر میں تبلیغ کا دروازہ بند اور جذبہ جہاد ختم کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ہم نے سیاسی حقوق کے حصول کی خاطر دینی فرائض سے بغاوت کردی ہے ۔ (خطبات امیر شریعت)
آج کا پاکستان امیر شریعت کی پیشنگوئیوں پر پوری طرح پورا اترا ہے ۔
آزادی پاکستان کی تحریک میں حصہ لینے والی عظیم شخصیات( علامہ شبیر احمد عثمانی ، علامہ ظفر احمد عثمانی ، علامہ احتشام الحق تھانوی وغیرھم رحمہم اللہ ) نے بھی قیام پاکستان کے بعد ملک کی حقیقی صورتحال دیکھ کر نہایت حسرت وافسوس کا اظہار فرمایا تھا کہ مملکتِ پاکستان جس مقصد کے لئے وجود میں آئی تھی اس سے بہت دور ہٹتی جا رہی ہے۔
قراداد پاکستان منانے والے اہلیانِ پاکستان کو چند باتوں پر غور کی ضرورت ہے۔
دو قومی ( مسلم، ہندو) نظریے کی بنیاد پر حاصل ہونے والے پاکستان کی یہ عظیم قیمت کس کو چکانی پڑی؟ کیا پاکستان خود مختار اور اسلامی ریاست کے طور پر وجود میں آیا؟
کیا انگریز اور اسکی پروردہ اشرافیہ کی غلامی سے نجات حاصل ہوئی ؟
برسر اقتدار کون آئے؟
پاکستان کی داخلہ وخارجہ اور دفاعی پالیسیاں کہاں سے تشکیل پاتی ہیں؟
اقتصادی ،تعلیمی اور معاشرتی حالت اسلامی نظام کی عکاسی کرتی ہے یا مغربی نظام کی ؟
کیا مسلمانوں کا دین،جان، مال اور آبرو محفوظ ہے؟
اگر یہ سب کچھ انگریز کے پروردہ،فرنگی سامراج کے خود کاشتہ پودوں،سروں،نوابوں اور جاگیرداروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے،تو ایسی قوم کو یومِ پاکستان منانے پر خوشی نہیں بلکہ شرم اور حسرت کے مارے مرنا بہتر ہے۔چہ جائے کہ ایسی ذلت ورسوائی کی زندگی پر رضامندی اور خوشی کا اظہار کیاجائے ۔
2 139
ہمارا جہاد اسلامی نظام کے قیام کے لیے ہے، عملی طور پر یہ لازم و شرعی سیاست نہیں کہ ہم بیک وقت پوری دنیا سے براہ راست جنگ کریں۔
ہمارا نظریہ، سوچ، عقیدہ وفکر عالمی ہے کہ ہم اسلام کا پرچم پوری دنیا پر لہرائیں گے اور اسلامی نظام پوری دنیا پر قائم کریں گے البتہ دایرہ کار و دایرہ اختیار ایک خاص علاقے تک محدود ہے۔
الشیخ مفتی ابو منصور عاصم مفتی نورولی محسود صاحب حفظہ اللہ
(امیرِ تحریک طالبان پاکستان)
ــــــــــــــــــــــــــ
ادارہ بنیان مرصوص برائے نشر واشاعت
https://t.me/Banyan_urdu_bot
2 139
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اصحاب رسول ﷺ کے بارے فرماتے ہیں:
وَمَا سَنَّہُ الْخُلَفَائُ الرَّاشِدُوْنَ فَإِنَّمَا سَنُّوْہُ بِأَمْرِہٖ، فَہُوَ مِنْ سُنَّتِہٖ۔
(فتاویٰ شیخ الاسلام : ۱؍۲۸۲)
ترجمہ: خلفائے راشدین جو طریقۂ عمل جاری کریں وہ حضور کے حکم سے ہے، اسی لئے وہ آپ کی سنت ہے۔
2 139
💠 رمضان کا اَدب و احترام کرنا ۔۔۔۔ !!
رمضان المُبارک کے مہینےکو تمام مہینوں کے سردار ہونے کا شرف حاصل ہے، نبی کریمﷺنے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہوئے اسے اللہ تعالیٰ کا مہینہ قرار دیا ہے لہٰذا اِس کا حد درجہ ادب و احترام کرنا چاہیئے اور اس میں کسی بھی ایسے عمل سے اجتناب کرنا چاہیئے جو اس مہینے کی حرمت کو پامال کرنے کے زمرے میں آتا ہو۔ مثلاً : روزہ خوری کرنا ، گناہوں کا ارتکاب کرنا وغیرہ ۔
نبی کریمﷺکااِرشاد ہے: رمضان کی حرمت کی تعظیم کرو اِس لئے کہ اُس کی حُرمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑی حرمت ہے پس تم اُسے پامال مت کرنا ، بیشک رمضان میں نیکیوں (کا اَجر)اور گناہوں(کے وَبال)کو بڑھادیا جاتا ہے۔(کنز العمال عن الدّیلمی: 24269)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنا فرماتی ہیں:
جب رمضان المُبارک آتا تو نبی کریم ﷺ کا رنگ متغیرہوجاتا ، آپ کی نمازیں زیادہ ہوجاتیں ،آپ دعاء میں گڑگڑانے لگتے ،اور آپ پر خوف طاری ہوتا ۔(شعب الایمان :3353)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مَروی ہے کہ نبی کریمﷺ اِرشاد فرماتے ہیں :
رمضان کے مہینے میں (اللہ تعالیٰ سے)ڈرتےرہنا کیونکہ اِس مہینے میں نیکیوں(کے اجر)کو اِس قدر بڑھادیا جاتاہے جتنا رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں نہیں بڑھایا جاتا، اِسی طرح گناہوں(کے وَبال)کو بھی (اِس قدر بڑھادیا جاتا ہےجتنا رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں نہیں بڑھایا جاتا)۔(طبرانی اوسط:4827)
2 139
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ اگر کسی شخص کو اسلحہ کے زورپر لوٹا جائے یا امید یہ ہو کہ اگر وہ شخص اپنا مال نہیں دے گا تو قتل کردیا جائے گاتو کیا وہ شخص اپنے دفاع میں لوٹنے والے کو قتل کرسکتاہے ؟ (۱) اگر چور مارا جائے تو اس کا حکم کیا ہوگا؟ (۲) اگر وہ شخص اس دروان میں مارا جائے تو اس کا حکم کیا ہوگا؟
جواب:
(۱) جی ہاں! اپنی جان یا مال کے دفاع میں حملہ آور شخص یا چوری کرنے والے کو قتل کردینا جائز ہے، قتل کرنے والے کو کوئی گناہ یا اس پر کوئی مالی معاوضہ وغیرہ لازم نہ ہوگا کذا في الدر (مع الرد ۱۰/ ۱۹۱، ۱۹۲ ط مکتبہ زکریا دیوبند)۔
(۲) اوپر آگیا کہ اگر چور مارا گیا تو قاتل پر کوئی گناہ وغیرہ نہ ہوگا۔
(۳) یہ شخص اگر مارا گیا تو شہید ہوگا، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: من قُتل دون مالہ فہو شہید (مشکاة شریف: ص ۳۰۵ بحوالہ بخاری ومسلم) اور حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی روایت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: من قتل دون دینہ فہو شہید ومن قتل دون دمہ فہو شہید ومن قتل دون مالہ فہو شہید ومن قتل دون أہلہ فہو شہید (حوالہ بالا ص: ۳۰۶ بحوالہ سنن ترمذی، سنن ابوداوٴد اور سنن نسائی)
2 139
Repost from عالمی اخبار
افغانستان میں بھی امارت اسلامی کے حکام کی جانب سے رمضان کا چاند نظر آنے کا اعلان کر دیا گیا اور آج پیر 11 مارچ کو افغانستان میں پہلا روزہ رکھا جائے گا۔
اعلان میں کہا گیا ہے کہ کندھار صوبے کے میوند ضلع میں کئی افراد نے چاند دیکھنے کی شہادت دی تھی۔ افغان حکومت کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاھد نے ٹویٹر پر اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق چاند کی مستند شہادتیں موصول ہوئی ہیں۔
2 139
Repost from عالمی اخبار
طالبان ذرائع کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار کے درمیان اختلافات ختم ہو گئے ہیں، اور الاحرار کے مرکزی رہنما عمر خراسانی اور کمانڈروں کو اہم عہدے دئیے گئے ہیں۔
2 139
Repost from Hardtalk جلی کٹی
یہ اس امت کے بچے ہیں جس کا سعودی حکمران 500 بلین ڈالر ایک نیا شہر بسانے پر لگاتا ہے، جس کا قطری حکمران 220 بلین ڈالر فٹبال ٹورنمنٹ پر لٹاتا ہے، جس کا مصری حکمران 58 بلین ڈالر نئے دارلحکومت کی تعمیر پر لگاتا ہے۔
یہ اس امت کے بچے ہیں جس کے پاکستانی حکمرانوں کے پاس 6 لاکھ فوج،جدید جنگی طیارے، ایٹمی ہتھیار اور میزائل سب موجود ہیں، جس کے ترک حکمرانوں کے پاس 3.5 لاکھ کی افواج جدید جنگی جہاز، ہیلی کپٹر، ٹینک سمیت موجود ہے، جس کے سعودی حکمرانوں کے پاس وہ سارے اسلحے موجود ہیں جو مغرب کے پاس ہیں۔
یعنی مسئلہ امت کے پاس مالی وسائل یا جنگی قوت کا نہیں،مسئلہ یہ حکمران اور یہ نظام ہے جو اسلام اور مسلمانوں سے مخلص نہیں۔ اگر ہمیں اپنے بچوں کو یوں بھوکے مرتا دیکھنا گوارہ نہیں تو ہمیں اپنی کوشش کا محور و مرکز اس نظام کو بدلنے میں لگانا ہوگا۔ یہ قومی ریاستیں، یہ سرمایادارانہ سودی معیشت، یہ جمہوریت، آمریت اور بادشاہتیں،پچھلے سو سال کچھ نہ دے سکیں اگلے سو سال بھی کچھ نہیں دیں گی۔ اب بھی اگر ہم اس مغربی ورلڈ آرڈر کو چھوڑ کر ایک نئے ورلڈ آرڈر، یعنی خلافت کی طرف نہیں بڑھتے تو افسوس ہے ہم پر۔
