دعوتِ اسلام
Open in Telegram
دینِ اسلام کی دعوت کا کام سرانجام دینے والا منفرد چینل "دعوت اسلام" جہاں آپ کو دین اسلام کے ہر موضوع پر بادلیل اور باحوالہ جامع اور مفصل تحاریر پڑھنے کو ملیں گی ان شاء اللہ رابطہ بوٹ: @dawatrabta_bot
Show more2 139
Subscribers
No data24 hours
-47 days
+630 days
Posts Archive
2 139
Repost from القسام آفیشل اردو
#القسام_آفیشل_اردو کی طرف سے جاری کردہ۔۔۔
#boycott
#بائیکاٹ
طوفان_الأقصى
2 139
Repost from اردو جہادی فوٹو اور تحریریں
وزیر اطلاعات و ثقافت کے نائب وزیر مہاجر فراہی کہتے ہیں: صوبہ غور کے گورنر ملا احمد شاہ دین دوست نے مجھے بتایا: ایک رات جب بہت بارش اور برفباری ہو رہی تھی، صوبہ غور کے ایک دور دراز ضلع کے ضلعی گورنر نے مجھے وٹس ایپ کے ذریعے ایک پیغام بھیجا جس میں لکھا تھا کہ یہاں ایک خاتون دردِ زہ میں مبتلا ہے، تمام راستے بند ہیں، مقامی ڈاکٹروں نے بہت کوشش کر لی، لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا۔ احمد شاہ دین دوست کہتے ہیں کہ میں نے ضلع مرغاب کے ضلعی گورنر کا پیغام براہ راست امیر المؤمنین کے دفتر بھیجا، کچھ وقت کے بعد امیر المؤمنین کے مرابط نے پیغام بھیجا: آپ انہیں تسلی دیں اور صوبہ ہرات کے گورنر شیخ الحدیث اسلام جار سے رابطہ کریں، ہم بہت جلد ہرات کور سے ایک ہیلی کاپٹر بھیجیں گے۔ میں بھی رات کی تاریکی میں غور کی بارڈر بریگیڈ کے پاس آیا تاکہ اس ہیلی کاپٹر کا انتظار کروں اور ان کے ساتھ چلا جاؤں، کیونکہ شاید پائلٹوں کو راستہ نہ مل سکے۔
دین دوست کے بقول امیر المؤمنین کے مرابط ہرات کے گورنر شیخ اسلام جار اور الفاروق کور کے کور کمانڈر کے ساتھ مستقل رابطے میں تھے، ہم گھڑیاں شمار کر رہے تھے کہ کب موسم ہیلی کاپٹر اڑانے کے لیے کچھ بہتر ہوگا۔
غور کے گورنر مزید کہتے ہیں کہ اس وقت امیر المؤمنین کے مرابط نے مجھے کئی بار ٹیلی فون کیا اور کہا کہ امیر المؤمنین اس موضوع پر تازہ ترین رپورٹ مانگ رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ معاملہ کہاں تک پہنچا۔ رات بارہ بجے کے بعد ضلع مرغاب کے ضلعی گورنر نے اطلاع دی کہ اللہ تعالیٰ نے مسئلہ حل کر دیا۔ میں نے فورا امیر المؤمنین کے دفتر اطلاع کر دی کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔
ان چند واقعات کو پڑھنے کے بعد فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں۔
2 139
Repost from اردو جہادی فوٹو اور تحریریں
امیر المومنین شیخ الحدیث ہیبت اللہ اخوندزادہ حفظہ اللہ شب وروز کیسے گزارتے ہیں
تحریر: سید جمال آغا
آئیے! آج آپ کو امارت اسلامیہ کے أمیر المؤمنین شیخ الحدیث ہیبت اللہ اخوندزادہ بلکہ مسلم ممالک میں طاقتور ترین مسلم سلطان کے معمولات کے بارے کچھ بتاتا ہوں، غور سے پڑھئے!۔۔۔۔۔
دشمن ہمیشہ اس مجاہد شخصیت کو نقصان پہچانے کی کوشش میں رہتے ہیں کہ جس نے دین اسلام کی سربندی اور وطن عزیز کی آزادی کی خاطر اپنا بیٹا قربان کر دیا۔
اس مختصر تحریر میں امیر المؤمنین حفظہ اللہ کے روزمرّہ کاموں اور ان کی چند باتوں پر روشنی ڈالوں گا۔
امیر المؤمنین کے یومیہ اوقات کار کا شیڈول کچھ اس طرح سے مرتب ہے۔ نمازِ فجر باجماعت ادا کرنے کے فوری بعد قرآن کریم کی تلاوت شروع کرتے ہیں، لیکن پورے اہتمام سے قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ امیر المؤمنین حفظہ اللہ ایک خوش الحان اور باتجوید قاری ہیں جو قرآن کریم کی تلاوت کرتے وقت تجوید کے اصولوں کا مکمل اہتمام کرتے ہیں۔
صبح کی چائے پیتے وقت وہ فتاویٰ کے حوالے سے بعض اہم مسائل کا مطالعہ کرتے ہیں یا بعض کاموں اور دفتری امور سے متعلق بعض ضروری دستاویزات دیکھتے ہیں۔ دفتر پہنچنے کے بعد سرکاری وقت شروع ہونے سے قبل اپنے دفتر کے تمام ملازمین کو یومیہ درس کے طور پر مشکوۃ المصابیح کا درس دیتے ہیں اور پھر سرکاری کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
اسی طرح وہ اپنے کام جاری رکھتے ہیں، پھر نمازِ ظہر کے بعد کھانا کھاتے ہیں اور دوبارہ شیڈول کے مطابق اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات اگر میٹنگ اس طرح سے ترتیب دی گئی ہو کہ اس میں کچھ لوگ اپنا حصہ ڈال رہے ہوں، تو اس میں شریک ہر فرد کو متعلقہ موضوع پر اپنی رائے دینے اور بات کرنے کا پورا وقت دیا جاتا ہے۔
یہ معاملہ اسی طرح جاری رہتا ہے، بعض اوقات صبح سے ایک یا دو بجے تک کام جاری رہتا ہے۔ کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ اہم کاموں کی نگرانی کرنے کی وجہ سے پوری رات نہیں سوتے۔
واضح رہے کہ زعیم امیر حفظہ اللہ ہمیشہ تہجد کی نماز کے لیے اٹھتے ہیں اور بعض اوقات نمازِ فجر سے قبل تلاوت اور مطالعہ بھی کرتے ہیں۔
امیر المؤمنین کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ان مسائل کی پوری گہرائی سے تحقیق کرتے ہیں جو ان سے متعلق ہوں اور ان کے تمام پہلوؤں پر اچھی طرح غور کرتے ہیں، حتیٰ کہ جملوں اور الفاظ کی ترکیب تک پر پوری توجہ دیتے ہیں۔ وہ تمام مسائل پر اسی طرح پوری توجہ دیتے ہیں۔ ان تمام مصروفیات کے ساتھ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ملک کے موجودہ حالات، واقعات اور روزمرہ کے اہم مسائل سے بروقت آگاہ رہیں۔
امیر المؤمنین جب امارت اسلامیہ کے سابق دور میں صوبہ ننگرہار میں قاضی کے فرائض انجام دے رہے تھے تو انہوں کے کبھی تنخواہ نہیں لی۔ جس عدالت میں مامورین نے اپنی ماہانہ تنخواہ وصول کی، وہاں دیگر قاضیوں کے دستخط تو موجود تھے لیکن امیر المؤمنین کے دستخط کی جگہ خالی رہی۔ پتہ چلا کہ تب بھی امیر المؤمنین نے بیت المال سے کوئی تنخواہ وصول نہیں کی۔
درست معلومات کے مطابق، امیر المؤمنین حفظہ اللہ کے خاندان میں کسی کے پاس بھی اب تک سرکاری ملازمت نہیں ہے اور ان سمیت ان میں سے کوئی بھی بیت المال سے تنخواہ وصول نہیں کرتا۔ اگرچہ قریبی ساتھیوں میں باصلاحیت اور قابل لوگ موجود ہیں، لیکن انہوں نے کسی کو سرکاری ملازمت یا بیت المال سے تنخواہ وصول کرنے کی اجازت نہیں دی۔
امیر المؤمنین کے خاندان کے دو افراد ان مساجد میں امام ہیں جو محکمہ حج و اوقات سے منسلک ہیں، لیکن وہ بیت المال سے تنخواہ وصول نہیں کرتے۔ جب ان کے مقتدی اپنی مرضی سے انہیں کچھ دے دیتے ہیں تو اسی سے وہ اپنی ضروریات زندگی پوری کرتے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل امیر المؤمنین حفظہ اللہ نے ایک مدرسے کا افتتاح کیا، تاکہ بعض حکام کے بچے جو دیگر مدارس نہیں جا سکتے، یہاں تعلیم حاصل کر سکیں اور وہ خود اس جگہ کا انتظام سنبھالیں، لیکن بعد میں انہوں نے اپنی رائے بدل دی کہ شاید دیگر حکام بھی پھر اس طرح مدرسے بنائیں اور ان کا انتظام کرنے لگیں، اس لیے انہوں نے صوبہ قندھار کے شعبہ تعلیم کے سربراہ مولوی نقشبندی صاحب کو بلایا اور انہیں کہا کہ یہ مدرسہ آپ کے حوالے ہے، اساتذہ کے کھانے اور دیگر اخراجات خود ادا کریں۔ مہتمم کے طور پر انہوں نے کاموں کو اس طرح ترتیب دیا کہ اپنے دستخط کے ذریعے بیت المال کے خزانے سے اساتذہ کی تنخواہیں اور مدرسے کے اخراجات وصول کر لیتے تھے، لیکن اپنی کوئی تنخواہ نہیں تھی۔ وجہ یہ کہ مدرسے کا مہتمم امیر المؤمنین حفظہ اللہ کے خاندان کا فرد ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ خاندان کا کوئی فرد بیت المال سے اپنا حق یا ماہانہ تنخواہ حاصل کرے۔
2 139
Repost from اردو جہادی فوٹو اور تحریریں
امیر المومنین شیخ الحدیث ہیبت اللہ اخوندزادہ حفظہ اللہ شب وروز کیسے گزارتے ہیں۔۔۔
إن شاءاللّٰه بہت جلد
#کالم نمبر : 02
2 139
Repost from اردو جہادی فوٹو اور تحریریں
کیسے ایک طالب علم نے روس🇷🇺 اور امریکہ🇺🇸 کو شکست دی ؟؟؟
ملا محمد عمر( طالبان )ایک کہانی📜 ✒ 📌وہ ایک طالب علم تھا 📍بندوق کیوں اٹھائی ❓ 📍ملا عمر نے ایک جماعت طالبان بنائی 🏳 📍اس کا مقصد پہلے تو یہی تھا کہ افغانستان🇦🇫 میں تبلیغ کی جائے شریعت کو نافذ کیا جائے 📍لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کیا جائے 📌جہاد 📍اسی دوران روس نے جب افغانستان🇦🇫 پر حملہ کیا تو ملا عمر روس🇷🇺 کے خلاف لڑتے رہے 📍ان کو راکٹ بھی کہا جاتا تھا کیونکہ وہ راکٹ بڑا اچھا چلاتے تھے 📍اسی دوران وہ چار مرتبہ زخمی ہوئے اور ایک دفعہ ان کی دائیں آنکھ شدید زخمی ہوئی 📍روس🇷🇺 کو شکست دینے کے بعد انہوں نے عمارت اسلامیہ قائم کی 📍جسے پاکستان 🇵🇰سمیت کچھ ممالک نے تسلیم کیا 📍ملا عمر کو دنیا میں سب سے زیادہ شہرت اس وقت ملی 📍جب انہوں نے امریکہ کو9/11 کے ذریعے تباہ کرنے والے اسامہ بن لادن کو پناہ دی 📍امریکہ🇺🇸نے مطالبہ کیا کہ اسامہ کو ہمارے حوالے کر دو 📍لیکن ملا نے ان کو انکار کر دیا 📍جس کی وجہ سے امریکہ نے افغانستان 🇦🇫پر حملہ کر دیا 📍15 سے 20 سال لڑائی کے بعد امریکہ کو شکست ہوئی 📍2001 کے بعد ملا عمر چھپ گئے تھے 📍2013 میں ان کی وفات ہوئی 📍اسلامی معاملات میں انتہائی سخت 📍ان کے ہوتے ہوئے نشے پر پابندی 📍عورتوں کا لباس شریعت کے مطابق 📍ان کا کوئی ذاتی مکان نہ تھا کوئی بینک اکاؤنٹ نہ تھا 📍شاگرد کے کچے مکان میں رہا کرتے تھے 📍گھاس پہ صافہ لیے سو جاتے 📍سادہ لباس سادگی پسند آدمی تھے کہانی پسند آنے پہ ری ایکٹ کریں۔۔
2 139
Repost from اردو جہادی فوٹو اور تحریریں
ایک ایسا کردار جو پہاڑ جیسا مضبوط تھا !۔
تحریر: محمود فاتح
امارت اسلامیہ کے بانی امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد رحمۃ اللہ علیہ ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے ہمیشہ پوری دنیا کے مسلمانوں کا خیال رکھا اور ان کا ایمان پہاڑ کی طرح مضبوط تھا اور کوئی طاقت نہیں اس کی مرضی اور مقصد کو تبدیل کریں.
امیر المومنین رحمۃ اللہ نے اسلام کی فتح کے لیے بے شمار قربانیاں دیں، یہاں تک کہ وہ بارہ سال تک اپنے اہل و عیال سے دور رہے۔ ہاں، ثالث عمر رحمۃ اللہ وہ شخص تھا جس نے نہ صرف افغان قوم کے بارے میں سوچا تھا۔ بلکہ اس نے دنیا کے تمام مسلمانوں کا خیال کیا اور اپنے دور حکومت میں اپنے ملک میں مسلمان کے نام سے کسی کو بھی اجازت دی اور اس کی مکمل حمایت کی۔
یہ اس عظیم انسان کے تقویٰ اور اخلاص کی وجہ سے تھا کہ اس کی لشکر آج تک اپنے اہداف پر قائم ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ ثالث عمر رحمۃ اللہ کا جوش و جذبہ آج کے دور کسی میں موجود نہیں ہے اور وہ بہت بڑا صابر تھے۔ اور ہر مشکل میں ثالث عمر صبر کرتا تھا اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے:۔
۔«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ.»۔
ترجمہ؛ اے اہل ایمان صبر و استقامت سے مدد لو اور ذکر الٰہی اور نماز کا سہارا لیا کرو کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے.
امیر المومنین ثالث عمر رحمۃ اللہ ایک عظیم شخصیت تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم کام عطا کیا تھا، ثالث عمر رحمۃ اللہ سب سے بڑی خدمت یہ تھی۔ افغانستان کی قوم کو حملہ آوروں کے خلاف متحد کیا اور سب سے پہلے دنیا کی سپر پاور ہونے کا دعویٰ کرنے والے (امریکہ) اور نیٹو کے خلاف جنگ محدود لوگوں کے ساتھ شروع کی اور ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ اللہ تعالیٰ سپر پاور ہے۔
امیر المومنین ثالث عمر رحمۃ اللہ خدا ان پر رحم کرے – ایک ایسے گھر میں رہتے تھے جہاں کوئی سہولت نہیں تھی۔ نہ صرف اس کی زندگی کی سہولتیں میسر نہیں تھیں۔ مزید یہ کہ قابضین کے ساتھ جنگ کی کوئی سہولت نہیں تھی۔ لیکن اس کا خدا پر کامل بھروسہ تھا، جو ثالث امیر المومنین عمر رحمۃ اللہ کی فتوحات کی چابیاں میں سے ایک تھا – وہ ہمیشہ اللہ تعالٰی پر بھروسہ کرتا تھا۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں توکل کے بارے میں فرماتا ہے:
ایت کا ترجمہ
ترجمہ: جو اللہ پر بھروسہ کرے گا اللہ اس کے لیے کافی ہے۔
توکل کے معنی یہ ہیں کہ بندہ جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ اس کے ساتھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیتا ہے۔ کیونکہ یہ یقینی ہے کہ خدا اس سے زیادہ قابل اور طاقتور ہے اور وہ سب سے بہتر کا تعین کرتا ہے۔
ثالث عمررحمۃ اللہ ایک سادہ اور دیانت دار انسان تھے اور ہمیشہ اپنی بات پر قائم رہنے والے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے اور اسلام کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتے تھے۔ اور وہ ہمیشہ علماء اور بزرگوں سے معاملات میں مشورہ لیتے رہے اور ثالث عمر رحمۃ اللہ وہ واقعی دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک نمونہ ہیں جنہوں نے امت اسلامیہ کو دکھایا کہ اسلام کے دشمنوں سے کیسے نمٹا جاتا ہے۔ اور اپنے آپ کو غلامی اور جبر سے کیسے بچایا جائے۔
اللہ تعالیٰ عمری لشکر کو اسلام کی مضبوط ڈھال بنائے اور مرحوم امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے (آمین)
بشکریہ الامارہ اردو
2 139
Repost from اردو جہادی فوٹو اور تحریریں
إن شاءاللّٰه بہت جلد
#کالم نمبر : 05
ایک ایسا کردار جو پہاڑ جیسا مضبوط تھا !
تحریر: محمود فاتح
2 139
Repost from اذانِ سحر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس نے ایمان و احتساب کے ساتھ رمضان (کی راتوں) میں قیام کیا، اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے۔
(صحیح بخاری)
#حدیث
#رمضان #Ramadan
#اذان_سحر #AzaaneSahar
2 139
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ملاکنڈ میں فوج کا قومی لشکر بنانے کی مذموم کوششوں کے حوالے سے تحریک طالبان پاکستان کا پیغام
مجاہدینِ اسلام کے مقابلے میں پاکستان کے برائے نام سیکیورٹی اداروں کی ناکامی طشت از بام ہو چکی ہے ، اس لئے خود پیچھے رہ کر عوام کو طالبان کے مقابلے میں لانے کی مذموم کوششیں مختلف علاقوں میں جاری ہیں، چنانچہ گزشتہ دن ضلع ملاکنڈ میں فوجی غنڈوں نے مختلف ملکان کو جمع کرکے قومی لشکر بنانے پر زور دیا ، اور مختلف حیلوں بہانوں سے عوام کو ورغلانا چاہا۔
مگر اب پاکستانی عوام یہ بات بخوبی جان چکی ہے کہ فوج ملکی بجٹ کا اسی فیصد کھا کر جنگی ساز و سامان کے ہوتے ہوئے اس لئے ناکام ہے کہ طالبان پاکستانی عوام کو فوجی ظلم سے نجات دلانے کی اہلیت و صلاحیت رکھتے ہیں، اور عملاً بھی اچھے انداز سے فوجی غنڈوں کو نکیل ڈال رکھی ہے ۔
اس موقع پر ہم ملاکنڈ کے غیور عوام کو بھی یاد دہانی کرانا چاہتے ہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ظالمانہ پالیسیوں کا حصہ بننے کی بجائے اپنے بیٹوں (مجاہدین اسلام) کے دست و بازو بن کر ملک میں جاری ظلم و ستم کے خاتمے میں بنیادی کردار ادا کریں ۔
اللہ تعالیٰ وطنِ عزیز (پاکستان) کو اسلامی نظام کے سایہ میں امن و امان کی نعمت سے مالامال فرمائے ۔آمین
محمدخراسانی
ترجمان: تحریک طالبان پاکستان
08/رمضان المبارک/1446ھـ ق
08/ مارچ / 2025 ء
#ٹی_ٹی_پی
#عمر_میڈیا
#محمد_خراسانی
#TTP
#Umar_Media
#Muhammad_Khurasani
ہماری ویب سائٹ:
https://umnews.net
2 139
Repost from اذانِ سحر
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچوں نمازیں، جمعہ دوسرے جمعے تک اور رمضان دوسرے رمضان تک، ان گناہوں کا کفارہ ہیں جو ان کے درمیان ہوں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔
(صحیح مسلم)
#حدیث
#رمضان #Ramadan
#اذان_سحر #AzaaneSahar
2 139
پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کی شاطرانہ چال کا سلسلہ جاری
پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے سیکیورٹی تھریٹ جاری ہوا ہے کہ طالبان کے ٹارگٹ کلرز کی ایک تشکیل شیخ امین اللہ صاحب سمیت کئی افراد کو مارنے کیلئے شہر میں داخل ہوچکی ہے ـ
تحریک طالبان پاکستان بارہا اس بات کی وضاحت کرچکی ہے کہ ہمارا ہدف صرف اور صرف سیکیورٹی ادارے اور ان کے آلہ کار ہیں سیاسی اور مذہبی پارٹیاں ہمارا ہرگز ہدف نہیں ـ پاکستان میں انہی خفیہ اداروں کی طرف سے علماء کو شہید کرنے کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے جس سے وہ اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں ـ
تحریکِ طالبان پاکستان علماء کے قتل کو امت مسلمہ کا ضیاع سمجھتی ہے اور علماء کے تحفظ اور اسلامی نظام کے نفاذ کی خاطر ہی اس مقدس جہاد کو جاری رکھے ہوئے ہے ـ
محمدخراسانی
ترجمان: تحریک طالبان پاکستان
07/رمضان المبارک/1446ھـ ق
07/ مارچ / 2025 ء
#ٹی_ٹی_پی
#عمر_میڈیا
#محمد_خراسانی
#TTP
#Umar_Media
#Muhammad_Khurasani
ہماری ویب سائٹ:
https://umnews.net
2 139
17. آخر میں، میں پوچھنا چاہوں گا کہ اگر بھارت پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو ایسی صورت حال میں ٹی ٹی پی کیا کرے گی؟
جواب: بھارت کے ساتھ جتنے بھی مسائل پر اختلاف چلا آرہا ہے وہ دونوں ریاستوں کے بعض خود غرض عناصر نے عالمی قوتوں کے مقاصد کی خاطر برپا کئے ہیں۔ ان مسائل کا کوئی تعلق دونوں ممالک کے عوام اور اقوام سے نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے اختلاف اور جنگوں میں قربانی کے بکرے عوام، خاص طور پر مسلمان ہی ہوتے ہیں، ہم دونوں ممالک میں کسی کے حق میں نہیں ہیں کہ وہ اپنے مفادات کی خاطر عوام پر ظلم ڈھائے۔ ہم خراسانی صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہیں گے کہ انہوں نے ہمیں اس انٹرویو کے لیے وقت دیا۔
اختتامیہ جیسے جیسے پاکستان حکمرانی، سیکیورٹی اور نظریاتی اختلافات کے چیلنجز سے گزر رہا ہے، ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کا کردار بحث کا ایک اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ کچھ لوگ انہیں ریاستی پالیسیوں کے خلاف ایک جائز مزاحمتی قوت سمجھتے ہیں، جبکہ دیگر ان کے طریقہ کار اور مستقبل کے نظریے پر سوال اٹھاتے ہیں۔ یہ انٹرویو ٹی ٹی پی کے مؤقف کو براہ راست عوام کے سامنے رکھتا ہے تاکہ وہ خود ان کے دعووں اور ارادوں کا جائزہ لیں۔ بالآخر، یہ فیصلہ پاکستانی عوام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ دیکھیں کون ان کے قومی مفادات سے ہم آہنگ ہے اور کون سا راستہ ملک کو استحکام اور عدل کی طرف لے جا سکتا ہے۔
2 139
13. ہم کچھ عرصے سے دیکھ رہے ہیں کہ داعش خراسان نے ٹی ٹی پی کے خلاف اپنی پروپیگنڈہ مہم میں اضافہ کر دیا ہے۔ وہ اکثر قبائلی یا سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بناتے ہیں جن کا ٹی ٹی پی سے کچھ تعلق ہے، جیسے مولوی فقیر محمد کے کزن، صوفی حمید، یا ان سے پہلے مفتی بشیر احمد۔ حال ہی میں، انہوں نے کرم میں فرقہ وارانہ کشیدگی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ ٹی ٹی پی داعش خراسان کے اثر و رسوخ کو کیسے محدود کرے گی؟
جواب: داعش خراسان سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے، اور جن حضرات کے نام آپنے گنوائے انکو ہدف بنانا پاکستانی ریاستی اداروں کاعمل ہے، جسکی بارہا ہم نے وضاحت کی ہے۔ البتہ داعش خراسان کے نام سے ریاستی ادارے سوء استفادہ کرکے اسطرح دینی علماء کرام اور قومی مشران کو ھدف بنا کر داعش خراسان پر انکا ملبہ ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں۔
14. بلوچستان میں، بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) جیسے عسکریت پسند گروپ بہت سرگرم ہیں۔ یہ دونوں گروہ سیکولر ہیں اور پاکستان کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف ٹی ٹی پی پاکستان کو تقسیم کرنے کے خلاف ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور اس کا مقصد پورے ملک میں شریعت کا نفاذ ہے۔ ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے، کیا BLA اور BLF ٹی ٹی پی کے مقاصد کے لیے خطرہ ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ٹی ٹی پی ان سے کیسے نمٹے گی؟
جواب: بی ایل اے ہو یا بی ایل ایف وہ سب اپنے جائز حقوق کے لئے برسر پیکار ہیں، فی الحال انکا جو دعویٰ اور مسلح مزاحمت جاری ہے وہ درست ہے، اور ہمارے مقاصد میں حائل نہیں بلکہ مفید ہے۔ ہاں جب ہم بلوچستان میں سلطہ حاصل کریں گے تو تمام گروہوں کیساتھ افہام وتفہیم سے مسائل حل کریں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
15. جیسا کہ آپ جانتے ہیں، آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور حملے نے، جس کی ذمہ داری اس وقت ٹی ٹی پی کی اعلیٰ قیادت نے قبول کی تھی، پاکستان میں تقریباً ہر ایک کو ٹی ٹی پی کے خلاف بنا دیا تھا۔ پچھلے کچھ سالوں سے، ٹی ٹی پی خود کو اے پی ایس حملے اور اس جیسے واقعات سے دور رکھے ہوئے ہے۔ کیا ٹی ٹی پی ان رہنماؤں کی مذمت کرتی ہے جنہوں نے اے پی ایس حملے کا حکم دیا؟ متاثرین کو انصاف کیسے اور کب ملے گا؟
جواب: تحریک طالبان پاکستان کے اھداف واضح ہیں (تمام سیکیورٹی ادارے)، جہاں تک اے پی ایس حملے کا تعلق ہے تو وہ سابقہ قیادت کے دوران پیش آیا تھا، جسکی شفاف تحقیق کےلئے ہم بارہا وضاحت کرچکے ہیں کہ اسکی تحقیق ہونی چاہئے کہ بچوں کو کس نے مارا تھا؟ مدثر اقبال کے نام سے جس نے اس فوجی آپریشن میں حصہ لیا تھا اسکا وضاحتی بیان آج بھی ریکارڈ پر موجود ہے، کہ بچوں کو انہوں نے اس آپریشن کے آپریشنل کمانڈر میجر جواد کے آڈر پر قتل کردیا تھا، تاکہ وہ اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے مجاہدین کو بچوں کے سفاکانہ قتل سے بدنام کریں۔ لہذا اے پی ایس کے بچوں کے ورثہ کو انصاف فراہم کرنا ریاستی مجرموں کی ذمہ داری ہے، نہ کہ ٹی ٹی پی کی۔
16. مسئلہ کشمیر، خاص طور پر کشمیر میں عسکریت پسندی کے بارے میں ٹی ٹی پی کے کیا خیالات ہیں؟ ہم نے ٹی ٹی پی کے بیانات میں دیکھا ہے کہ ٹی ٹی پی کا کوئی غیر ملکی ایجنڈا نہیں ہے اور وہ پاکستان تک محدود ہے۔ تاہم کشمیر کو عوام پاکستان کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ ٹی ٹی پی مسئلہ کشمیر کو کس نظر سے دیکھتی ہے؟
جواب: مسئلہ کشمیر کو گھمبیر بنانے اور اس مسئلہ پر سودے بازی کرنے والے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارا کوئی خارجی ایجنڈا نہیں ہے۔ البتہ مسئلہ کشمیر کشمیری اقوام کے اختیار کا مسئلہ ہے۔ ہمارا سلطہ آنے کے بعد کشمیری اقوام کی مرضی اور تفاھم سے اس مسئلہ کو حل کیا جائے گا۔
2 139
5. ٹی ٹی پی پشتون قوم پرستی کو کس نظر سے دیکھتی ہے؟ ٹی ٹی پی کے پشتون قوم پرست نہ ہونے کے دعووں کے باوجود، بہت سے حمایتی پشتون قوم پرست ہیں، اور اسی جنگی میدانوں میں اور ٹی ٹی پی کے سیمیناروں میں پنجابیوں کے لیے نسلی گالیاں دینے والے جنگجوؤں اور ارکان کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں، اگر ایسا سلوک برداشت نہیں کیا جاتا تو ٹی ٹی پی اس سے کیسے نمٹتی ہے؟ کیا اس طرح کے رویوں پر کوئی سزا ہے؟
جواب: پہلے اس بات کی وضاحت کی گئی ہے، کہ تحریک طالبان پاکستان قومی تعصبات یا لسانی بنیادوں پر قائم نہیں ہوئی ہے، البتہ اگر پاکستان میں کوئی قوم پرست جماعت اپنے جائز حقوق کے لئے آواز یا اسلحلہ اٹھاتی ہے تو ہم انکے ساتھ کوئی اختلاف نہیں رکھتے بلکہ انکے جائز مطالبات کی تائید کرتے ہیں، اور اس بارے میں انکی معاونت کارِخیر سمجھتے ہیں۔ یہ بات قطعاً غلط ہے کہ ہمارے سیمیناروں میں پنجابیوں کو نسلی گالیاں دی گئی ہیں، تحریک طالبان پاکستان اس طرح قوم پرستی جسمیں دیگر اقوام کی تذلیل ہوتی ہے، کو جاھلیت اور حرام کام تصور کرتی ہے، اگر ہمارے کسی کارکن پر اس طرح کا کوئی جرم ثابت ہو جائے تو اس کو متعلقہ مسؤولین کی طرف سے سزا دی جاتی ہے، اور اسطرح جرائم کے روک تھام کے لئے مرکزی اور ولایتی سطح پر مختلف ادارے اور مسؤولین موجود ہیں۔
6. تیسرے اور چوتھے سوال سے متعلق، کیا ٹی ٹی پی پاکستان میں غیر پشتونوں کے خلاف نسل پرستی کی اجازت دے گی، یا کسی بھی قسم کی نسل پرستی کے خلاف مضبوط پالیسیاں ہوں گی؟
جواب: اس قسم کے خلافِ شرع امور کی نہ اجازت دی جاسکتی ہے، اور نہ ہی کوئی خلافِ شرع پالیسی بنانے کی گنجائش ہے۔
7. ٹی ٹی پی پاکستان میں نسلی اور قبائلی کشیدگی، خاص طور پر پشتون - پنجابی کشیدگی کو کیسے حل کرے گی؟
جواب: پاکستان میں نسلی، قبائلی، لسانی ومذہبی تعصبات اور کشیدگیوں کا سر چشمہ فوجی اسٹیبلشمنٹ ہے، یہ تمام کشیدگیاں تب تک ختم نہیں ہو سکتی ہیں، جب تک انکا زمامِ کار ریاست کے ہاتھوں میں ہو۔ اس قسم کی کشیدگیاں ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اہلیان پاکستان ریاستی اداروں کو لگام ڈالنے کے لئے تحریک طالبان پاکستان کا ساتھ دیں۔
8. ٹی ٹی پی ایک مناسب عوامی امیج بنانے کی کوششوں میں کیوں پیچھے ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب قوم مضبوط قیادت کی تلاش میں ہے؟ مزید برآں، ٹی ٹی پی کی موجودہ ترجیحات کیا ہیں
جواب: تحریک طالبان پاکستان اس وقت اہلیانِ پاکستان کے امنگوں کے عین مطابق ریاستی غنڈوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے، ہمارے علم کے مطابق اہلیان پاکستان کے روشن مستقبل کے توقعات تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ ہیں، حقائق یہی ہیں کہ پوری قوم ریاستی جبر سے نالاں ہے، اور کسی نجات دہندہ کے تلاش میں ہیں، مگر ہمارے اور عوام کے درمیان ریاستی اداروں نے بے بنیاد پروپیگنڈوں کے ذریعے سے بڑا فاصلہ پیدا کیا ہے، جو اب کافی حد تک بے اثر ہو کر رہ گیا ہے۔ ہماری ترجیحات میں ایک اہم ترجیح ہمارے اور عوام کے درمیان بنائے گئے خلیج کا خاتمہ بھی ہے۔
9. اب میں کرم کے موضوع پر بات کرنا چاہوں گا۔ ٹی ٹی پی متاثرین کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے کرم تنازعہ کو کیسے حل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے؟
جواب: ضلع کرم میں شیعہ سنی فسادات کی جڑ بھی پاکستانی ریاستی ادارے ہی ہیں، اگر ریاستی ادارے یہاں کے فسادات کے پیچھے سے ہٹ جائیں تو کوئی تنازعہ باقی نہیں رہ سکتا، اس تنازعہ کا درست حل اُسوقت نکالا جاسکتا ہے جب فوج اس گیم سے بے دخل ہو جائے۔
10. ٹی ٹی پی ایران کی حمایت یافتہ زینبیون بریگیڈ سے کیسے نمٹے گی، جو سنیوں، خاص طور پر سنی عسکریت پسندوں کے خلاف دشمن ہے، اور شام میں آپ جیسے سنی عسکریت پسندوں کے خلاف لڑنے کی تاریخ رکھتی ہے
جواب: پاکستان میں صرف ایرانی حمایت یافتہ بریگیڈز نہیں بلکہ اس قسم کے کافی سارے خفیہ وعلانیہ دہشتگردی پھیلانے والے بریگیڈز ریاستِ پاکستان کے بنائے ہوئے پائے جاتے ہیں، ایسی جماعتوں کا زوال اور ترقی ریاستی اداروں کے زوال اور ترقی سے وابستہ ہے، ان سب فسادات کا حل اسی ایک نقطہ میں موجود ہے کہ پاکستان کا جرنیلی طبقہ انکی پشت پناہی سے ہاتھ کھینچے۔
11. داعش خراسان کے بارے میں ٹی ٹی پی کے خیالات کیا ہیں؟
جواب: داعش خراسان کا کوئی وجود ہمارے خطے میں نہیں ہے، البتہ داعش خراسان کے نام سے استفادہ کرتے ہوئے کچھ افراد کو پاکستان کے ریاستی ادارے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ٹریننگ دیکر خطے کے مختلف ممالک اور بالخصوص افغانستان کے خلاف بطورِ پراکسی استعمال کرتے ہیں۔
12. داعش خراسان ٹی ٹی پی اور اس کے مقاصد کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے؟
جواب: داعش خراسان ہمارے مقاصد کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے، کیونکہ انکا وجود ان خطوں میں نہیں ہے جہاں ہماری عملداری ہے۔ البتہ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ پاکستان کے ریاستی ادارے اس نام سے سوء استفادہ کرتے ہوئے مختلف مقاصد حاصل کرتے ہیں۔
