en
Feedback
🌹 تربیت اولاد 👨‍👩‍👧

🌹 تربیت اولاد 👨‍👩‍👧

Open in Telegram

تربیت اولاد @Tarbeyat_Ulad باقی موضوعات پر چینلز درس قرآن @Daras_Quran تجوید @Daras_Tajweed فقہی مسائل @FiqhiMasayl ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل @Azdawaj اسلامی پوسٹ (انفارمیشن، تاریخی واقعات، اعمال وغیرہ) @MIZ786 سیرت رسول اللہ ص @SadiqhasanQibla

Show more
The country is not specifiedFamily & Children9 831
806
Subscribers
No data24 hours
No data7 days
No data30 days

Data loading in progress...

Similar Channels
No data
Any problems? Please refresh the page or contact our support manager.
Tags Cloud
No data
Any problems? Please refresh the page or contact our support manager.
Incoming and Outgoing Mentions
---
---
---
---
---
---
Attracting Subscribers
February '24
February '24
+22
in 0 channels
January '24
+37
in 0 channels
Get PRO
December '23
+28
in 1 channels
Get PRO
November '23
+18
in 0 channels
Get PRO
October '23
+6
in 0 channels
Get PRO
September '23
+11
in 0 channels
Get PRO
August '23
+10
in 0 channels
Get PRO
July '23
+5
in 0 channels
Get PRO
June '23
+10
in 0 channels
Get PRO
May '23
+11
in 0 channels
Get PRO
April '23
+5
in 0 channels
Get PRO
March '23
+7
in 0 channels
Get PRO
February '23
+4
in 0 channels
Get PRO
January '23
+9
in 0 channels
Get PRO
December '22
+11
in 0 channels
Get PRO
November '22
+16
in 0 channels
Get PRO
October '22
+9
in 0 channels
Get PRO
September '22
+10
in 0 channels
Get PRO
August '22
+14
in 0 channels
Get PRO
July '22
+9
in 0 channels
Get PRO
June '22
+7
in 0 channels
Get PRO
May '22
+8
in 0 channels
Get PRO
April '22
+8
in 0 channels
Get PRO
March '22
+8
in 0 channels
Get PRO
February '22
+10
in 0 channels
Get PRO
January '22
+16
in 0 channels
Get PRO
December '21
+16
in 0 channels
Get PRO
November '21
+10
in 0 channels
Get PRO
October '21
+23
in 0 channels
Get PRO
September '21
+24
in 0 channels
Get PRO
August '21
+14
in 0 channels
Get PRO
July '21
+18
in 0 channels
Get PRO
June '21
+23
in 0 channels
Get PRO
May '21
+23
in 0 channels
Get PRO
April '21
+21
in 0 channels
Get PRO
March '21
+18
in 0 channels
Get PRO
February '21
+32
in 0 channels
Get PRO
January '21
+109
in 0 channels
Get PRO
December '20
+800
in 0 channels
Date
Subscriber Growth
Mentions
Channels
16 February0
15 February+2
14 February+3
13 February0
12 February+2
11 February+3
10 February0
09 February+1
08 February+1
07 February0
06 February+2
05 February+2
04 February+2
03 February+1
02 February0
01 February+3
Channel Posts
لڑکیوں کی تربیت بچوں کی تربیت کیلئے عورت کی مستعدی زیادہ ہے پارٹ نمبر 3/3 بعض لوگ كہتے ہیں كہ عورتوں كو مادی فعالیت اورمسائل زندگی كے حصول سے محروم نہیں ہونا چاہئے ۔ اگرچہ ہم یہ جانتے ہیں كہ اسلام نے عورت كو مالی استقلال دیا ہے لیكن ان لوگوں كے جواب میں كہہ سكتے ہیں كہ عورت، شادی كے ذریعہ متعلق اسلام میں ۔اپنی زندگی كے خرچ كو شوہر كے وسیلہ سے چلا سكتی ہے اور چونكہ خدا نے عورتوں كی تعداد كو ۔ تھوڑے سے فرق كے ساتھ۔ مردوں كی تعداد كے برابر قرار دیا ہے، تو عورت اگر ھد سے زیادہ آزد ہو اور مردوں سے معاشرت كرتی رہے، تو وہ زندگی اور دانہ پانی سے محروم ہو جائے گی، اس لئے كہ یہ عمل، غیر مستقیم طریقے سے، عزوبت كو رواج دیتی ہے، اور عزوبت كا رواج معاشرے میں عورتوں كا ایک گروہ وجود میں لائے گا كہ جن كے پاس زندگی كا خرچ نہیں ہے ۔ لہٰذ وہ مجبور ہو جائیں گی كہ مردوں كے ساتھ ساری امور میں تعاون كریں۔ اور ان كا مردوں كے ساتھ ساتھ رہنا متعاكساً عزوبت كو ایجاد كرنے كے عوامل میں سے ہے، اور یہ نكتہ كسی سے چھپا ہو انہیں ہے ۔ ایسی صورت میں عورت طاقت گھٹانے والے كام كو انجام دیتے ہوئے اپنے ظرافت اور عورت كی عزت كو كھو دے گی اس لئے كہ عورت دكان چلانے اور سامان اٹھانے اور ڈڑائیور بننے كے لئے پیدا نہیں كی گئی ہے بلكہ پیدا كی گئی ہے تاكہ اپنے شور كے لئے ایک اچھی بیوی اور گھر میں بچوں كی تربیت دینے والے ماں بنے ۔ اور گھر اگر ایک ناچیز چھونپڑی بھی ہو تو عورت كے لئے ایک وسیع محل كی حیثیت ركھتی ہے ۔ وہ گھر كے اندر بہتر اپنے امتیازات كی حفاظت كرسكتی نہ كہ تب جب وہ سامان اٹھانے والی ہو یا گاڑی ڈرائیور ہو تو عورت اپنی مناسبت سے جو وظائف ہیں جیسے كہ بچوں كی پرورش اور داخل حقائق كو پورا كرنا اور ایسے معاشرتی مسائل میں شركت كرنا جسے اسلام نے تجویز كیا ہے ۔ ان كے انجام دیکر بہتر اپنی حثیت كی حفاظت كرسكتی ہے ہمیں بلند آواز سے كہنا چاہئے كہ انسانی فطرت ایک عجیب و غریب مھلكہ میں پڑچكی ہے اس لئے كہ حدود و نوامیس الٰہی سے كوسوں دور ہو چكی ہے ۔ اور جلد ہی و تمدن جو كہ بہت زمانہ بیتنے كے بعد بشر كی انتھک كوششوں سے بنا ہے، متلاشی ہو جائے گا۔ (من یتعد حدود اللہ فقد ظلم نفسہ)  جو حدود خداوندی سے گذر جاے، اس نے اپنے آپ پر ظلم كیا ہے جوائن کریں https://t.me/Tarbeyat_Ulad facebook.com/MIZajf786 واٹس ایپ گروپ کیلئے نام لکھ کر اس لنک پر میسج کریں https://wa.me/+923184109288?text=Tarbeyat_Ulad

2
لڑکیوں کی تربیت بچوں کی تربیت کیلئے عورت کی مستعدی زیادہ ہے پارٹ نمبر 2/3 لوگوں كے اعمال كے ذریعہ خشكی اور تری میں فساد تباھی ظاہر ہوگئی تاكہ انھیں اپنے اعمال كے بعض نیتجے تک پہنچادے، شاید (ان كے بدلے عمل كے نتائج) انھیں اپنے اعمال سے لوٹنے پر مجبور كرے۔  اگر كوئی دنیاوی امور میں مطالعہ كرے اور آج كل كے مختلف معاشروں كے علل اور عوامل میں دقت علمی سے چھان بین كرے، تو سمجھ لے گا كہ عوام كی اكثر شكایتیں اور پیچھے رہنا اور معاشرتی مشكلات اور مالی اور اقتصادی گھبراہٹیں ان كی بنیاد، عورتوں كی بے حدو بی پردگی بیحیائی اور تھتک ہے۔  ہاں عورتوں كے عادات اور فطرتوں میں سے ایک، اپنی حفاظت اور حیاء ہے ۔ لیكن مرد ہمیشہ انھیں بہكانے اور اغواكرنے كے چكر میں رہتے ہیں اور رہیں گے ۔ اور چاہتے ہیں كہ اس فطری بات كو ان كے اندر مارڈالیں ۔ اور انھیں بی پردگی اور بیحیائی كے میدان میں ڈھكیل دیں۔ اور اس بہكانے میں كامیاب بھی ہوچكے ہیں اور قطعی طور پر، اس بہكانے والی آزادی كے مقابلے میں تسلیم ہونے كی وجہ سے عورتیں اپنے تمام حقوق كھو چكی ہیں اور اس كے عوض میں كچھ بھی حاصل نہیں كیا ہے عورت، عفت اور صحیح پردے كے سایہ میں، عزت دار تھی، لیكن اب مبتذل اور بے مقدار ہوگئی ہے ۔ اور عورت كی بے پردگی اور بیحیائی حقیقت میں اپنا بدن دكھانے میں مبالغہ ہے اور ہر كھلے طور پر دكھائی جانے والی چیز، دھیرے دھیرے مبتذل اور كم مقدار ہوتی جاتی ہے ۔اور جوانوں كی شادی سے روگردانی عورتوں كی مفرط بے پردگی كے آثار میں سے ہے تو عورت اپنے جسم كو دكھانے كی وجہ سے، اپنی عزت كھو بیٹھی ہے عورت كا وجود گھر كے اندر روحی ضرورتوں میں سے ایک ضرورت ہے ۔ مردا س كے ذریعہ سے اپنے سكون كو بر قرار ركھتا ہے:  (ومن آیاتہ ان خلق لكم من انفسكم ازواجا لتسكنوا الیھا، وجعل بینكم مودۃ ورحمۃ ان فی ذلك لآیات لقوم یتفكرون) اس كی آیتوں میں سے ایک آیت یہ ہے كہ اس نے تمہارے لئے تم سے ہی زوجہ قرار دیئے تاكہ اس كے ذریعہ آرام پاسكو، اور تمہارے درمیان محبت اور دوستی كو قرار دیا ۔ اس بات میں كچھ علامتیں ہیں سوچنے والے لوگوں كے لئے۔  عورت، دنیا میں سب سے اونچی اور اہم ذمہ داری نبھانے كے لئے سب سے اہم سرمایہ ہے، اور وہ زمہ داری؛ بچوں اور نونہالوں كی تربیت ہے اسے چاہئے كہ بچوں كو اخلاق اور ادب كے اصول ومبادی اور فضیلت و انسانیت كو سكھائے ۔ فلسفہ دانوں اور مربیوں نے گھر كی اہمیت اور خاندان كے ماحول كے اثر كے بارے میں بہت باتیں كہی ہیں۔ لیكن عورت آج كل كی دنیا میں غلط اور فاسد تعلیم كی وجہ سے اپنی ذمہ داریوں سے بہت بہت دور ہو چكی ہے ۔ اور ایسی ذمہ داریاں اس پر آئیں كہ جس كے دباؤ كے نیچے اس نے اپنے نسوانی عزت واحترام كو كھو دیا ہے اور یہ آج كی ذمہ داریاں، فاحشہ خانوں میں آناجانا اپنے آپ كو دكانوں، سینما ہال، اور ٹی وی پر دكھانا ہے اور شہرت پرستوں نے ھنر كی حمایت كرنے كی آڑ میں عورتوں كی زندگی میں خطرناک حالات كو ایجاد كیا ہے كہ جس كے مفاسد بشریت كتنے كتنے سالوں تک برداشت كرتی رہے گی۔  آج تمام لوگوں كے لئے، معاشروں كے اخلاقی فسادات، تماماً قابل دید ہے كہ تاریخ بشریت میں ایسا فساد كبھی نہیں دیكھا گیا ہے ۔ اگر انسان كی حیات اور ترقی، شہوت كے دلدل میں پھسنا ہی ہے؛ تو ایک ایسی طرز حیات منتخب كرنا چاہئے جو كہ تمام بڑے انسانی فطریات جیسے ناموس كے بارے میں غیرت ركھنا اور شرف و عفت و پاكدامنی كو دوست ركھنا، ان سب كو ختم كر دینا چاہئے۔ اگر انسان كی خلقت جانوروں كی طرح اور ان جیسی شرائط كے ساتھ ہوتی تو ظاہر سی بات ہے كہ جانوروں كی طرح زندگی گذارتا لیكن انسان، انسان خلق ہوا ہے ۔ وہ اس كے باوجود كہ شہوت كو اپنے اندر محسوس كرتا ہے ۔ لیكن اس كے ساتھ ساتھ كچھ معنوی بر تریاں اپنے اندر دیكھتا ہے كہ قطعاً جن سے جانور محروم ہے ۔ جو لوگ بیحیائی كو مباح تصور كرتے ہیں بہكانے والے بہانوں كے ذریعے چاہتے ہیں كہ حقیقتوں كو پردہ كے نیچے چھپائے ركھیں اور تصور كرتے ہیں كہ عورتون كی عفت كا مطلب ان كا محدود كرنا ہے ۔ كہنا چاہئے:كیا عورتوں كا اپنی طبیعت كی مناسبت سے ظریف ذمہ دارریوں میں مشغول ہونا، ان كا محدود كرنا ؟ تو اس صورت میں چاہئے كہ جو بھی اپنی ذمہ داریاں پر عمل كرتا ہے، محدود ہے اور تنگنی میں ہے۔  لیكن عورت كے استقلال كا مسئلہ ۔ ایک طرح سے۔ اس بات كے خلاف ہے كہ وہ ایک مرد كی زوجہ ہو، اس لئے كہ مرد اور عورت كے درمیان كچھ ایسے التزام اور پابندیاں متقابلاً موجود ہیں جو كہ ان كے استقلال كی مخالفت كرتے ہیں۔ لیكن چونكہ لكھنے والے اور قصہ گو افراد محبت اور عشق كے علاوہ اور مرد اور عورت كی خیانت كے قصوں كے علاوہ كوئی اور بیان ان كے پاس نہیں ہے، اس استقلال كی عورتوں كو لالچ دیتے ہیں تاكہ اس كو میاں بیوی اور زوجیت كے مابین التزامات اور تعہدات سے خارج كردیں جاری ہے۔۔ جوائن کریں https://t.me/Tarbeyat_Ulad facebook.com/MIZajf786
169
3
لڑکیوں کی تربیت بچوں كی تربیت كے لئے عورت كی مستعدی زیادہ ہے پارٹ نمبر 1/3 باہر كی ہر مشقت كاموں میں عورتوں كی مردوں كے ساتھ شركت، ایک ایسا موضوع ہے كہ جسے فطرت بشر اور آج كے علوم تمام طور پر اسے تقبیح كرتے ہیں۔ اس لئے كہ عورت طبیعتاً تولید نسل اور تربیت فرزند كے لئے خلق كی گئی ہے ۔ وہ ہر مشقت معاشرتی ذمہ داریوں كو اپنے عہدہ پر نہیں لے سكتی اور مردوں كے ساتھ ان كے طاقت فرساكاموں میں نہیں شریک ہو سكتی ہے ۔ جس كا نتیجہ یہ ہوگا كہ اپنے گھر كو چھوڑ دے اور ان كے بچے جو كہ ماں كی محبت اور حمایت كے سخت محتاج ہیں گلیوں اور سڑكوں پر رہا ہو جائیں۔  عورت كی زندگی كا مرفہ ہونا ایک فطری بات ہے، اسی لئے كے لوگوں نے درک كر لیا ہے كہ عورتیں كو حتی الامكان اور زیادہ تر گھر كے داخلی كاموں میں مصروف ہونا چاہئے لیكن بعض جگہوں پر وحشی قوم كے لوگ، افریقا اور آسٹریلیا كے جنگلوں میں دوسری طرح زندگی گذارتے ہیں، یعنی مرد تو گھر پر بیكار بیٹھتے ہیں اور عورتیں گھر سے باہر، بڑی سختی كے ساتھ ہر مشقت كام كر كے اپنے پریوار كے لئے وسائل زندگی فراہم كرتی ہیں اور شوہر كے لئے كھانا پینا لاتی ہیں۔  علم نے اس باتے میں اپنے آخری بیان اور كلام كو اظہار كیا ہے اور ہم یہاں پر، فرانس كے فلسفہ دان اگوست كنت كی كتاب برنامہ سیاسی میں سے ایک خلاصہ لاتے ہیں۔  شائستہ یہ ہے كہ عورتوں كی زندگی سكون وآرام كے ساتھ ہو۔اور مردوں كے كاموں كی ذمہ درای ان پر نہ ہو۔ اس لئے كہ یہ اعمال انھیں اپنی طبیعی ذمہ داریوں كے راستے سے ہٹا دیتے اور ان كے فطری مواھب كو تباہ كر دیتے ہیں۔ اسی بنا پر عورت كی زندگی كا خرچہ مرد دیتا ہے بغیر اس كے كہ كوئی مادی نفع والا كام اس سے كرانا چاہئے ۔ جیسا كہ مؤلفین فلاسفہ، شاعر پیشہہ لوگ اور تمام دنشمندوں كو اپنے ذوق اور علم سے فائدہ اٹھانے كے لئے سكون اور آرام اور فراغت كی گھڑیاں چاہئے ہیں۔ اسی طرح عورتیں بھی اپنی انسانی اور سماجی ذمہ داریاں جیسے حمل اور پیدائش، بچوں كی تربیت، گھر داری كے لئے، اسی طرح كے اوقات فراغت كا ہونا ضروری ہے۔  پیروا گراف اس فرانسی فلسفہ دان كے نظریوں كا نچوڑ ھے۔  لیكن بعض محققین نے، عورتوں كے لئے اپنی طبیعی فطرت سے خارج ہونا تجویز كیا ہے اور حقائق علمی سے ۔ تجدید حیات اجتماعی كے دعوے سے اور اپنے نوشتوں كو رواج دینے كے لئے۔ چشم پوشی اختیار كیا ہے اس جیسی باتوں نے چاہے مشرق اور چاہے مغرب میں اپنا اثر دكھایا ہے، اس لئے كہ لوگ سطحی كتابیں اور قصے۔ جو كہ ان كی شہوت اور جنسی تمایلات سے موافق ہو۔ پڑھنے كی طرف زیادہ رغبت دكھاتے ہیں ۔ اور نتیجتاً ایک عمومی اتفاق اس نظرے كی اصالت پر حاصل ہو گیا ہے ۔ اور اس كے نتیجے میں، آج كے انسانی معاشرے كو جنون سے دو چار كر دیا ہے اور عورتیں گھروں كو چھوڑ كر باہر كے پر مشقت كاموں كا استقبال كرتی ہیں۔ اور مرد وعورت كے ملاپ كا اثر سماجی زندگی میں ایسی عادتوں كا رواج ہے جو كہ صحیح زندگی سے موافقت نہیں ركھتی ہیں ۔ لڑكیوں كی عزویت رائج ہو گئی اور جریدوں نے بھی لوگوں كے اس شہرت یافتہ نظرے كی تائید میں مددكیا ہے ۔ اور والدین اپنے لڑكیوں كے لئے ایسے جرائد كو پڑھنے كے لئے فراہم كرتے ہیں وہ بھی اپنے قیمتی اوقات كو ایسے بے ثمر امور میں ضائع كرتے ہیں۔ اسی طرح سے بچے آئندہ میں ہر كام كے علوم ھنر وسے محروم ہیں ۔ البتہ اس طرح كے نوشتوں كے مطالب بچوں كے مزاج پر بہت بڑا اثر ركھتے ہیں۔  لیكن جب انسان میں كسی چیز كی عادت ہو جاتی ہے، وہ عادت ہمیشہ ترقی كرتی رہے گی یہاں تک كہ اپنے منہا درجہ اور سب سے آخری حالت پر پہنچ جائے۔ یہاں تک كہ عورتوں كا نیم برہینہ ہونا، تھیٹر كے اسٹیج پر تقریباً پوری برھنگی میں بدل گئی اور زندگی كے عام مرحلوں میں بھی ایسا ہوا اور اس عادت كا اثر دریاؤں كے كنارے اور فاحشہ خانوں میں عملی طور پر دیكھا جاتا ہے جاری ہے۔۔ جوائن کریں https://t.me/Tarbeyat_Ulad facebook.com/MIZajf786 واٹس ایپ گروپ کیلئے نام لکھ کر اس لنک پر میسج کریں https://wa.me/+923184109288?text=Tarbeyat_Ulad
120
4
تربیت اولاد دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی ضروری ہے یہاں دینی تعلیم سے کیا مراد ہے بچوں کو موبائل یا کمپیوٹر دینا کیسا ہے؟ قسط نمبر 3⃣ مولانا موسی رضا صاحب جوائن کریں https://t.me/Tarbeyat_Ulad facebook.com/MIZajf786 واٹس ایپ گروپ کیلئے نام لکھ کر اس لنک پر میسج کریں https://wa.me/+923184109288?text=Tarbeyat_Ulad
134
5
لڑکیوں کی تربیت لڑکی ایک ارزشمند انسان ہے 🌹 پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے بہترین حق كو لڑكیوں كے لئے قرار دیا، اور ایک ایسے زمانے میں جب كہ لڑكیاں، انسانی حقوق اور حیات كے حقوق سے بھی محروم تھیں؛ انھیں زندگی كے تمام حقوق دیئے قرآن مجید، لڑكیوں كی دردناک اور تأسف بار حالت كو عصر جاھلیت میں اس طرح تصویر كشی كرتا ہے: "اور جب خود ان میں سے كسی كو لڑكی كی بشارت دی جاتی ہے تو اس كا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ خون كے گھونٹ پینے لگتا ہے ۔قوم سے منھ چھپاتا ہے كہ بہت بُری خبر سنائی گئی ہے اب اس كو ذلت سمیت زندہ ركھے یا خاک میں ملادے یقیناً یہ لوگ بہت بُرا فیصلہ كررہے ہیں (سورہ نحل آیت ۵۸۔۵۹) اب جب كہ صدیاں گذر چكی ہیں بشریت كی دنیا متوجہ ہوگئی ہے كہ لڑكی بھی لڑكے كی طرح ایک انسان ہے كہ جسے بھی حقوق زندگی سے بہرہ مند ہو نا چاہئے 🌹رسول اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "جس كے پاس بیٹی ہو اگر وہ اس كے تربیت كرے اور اس كو اچھے عمل كی تعلیم دے اسے كھلائے اور اس كی خوراک میں بہتری كو مدنظر ركھے اور جن نعمتوں كو خدا نے اس كے حوالے كیا ھے اسے لڑكی كے اوپر خرچ كرنے میں دریغ نہ كرے تو ایسا شخص آتش جہنم سے دائیں اور بائیں دونوں جانب سے بچتا ہوا وارد بہشت ہوجائے گا (محجۃ البیضاء، ج۲، ص۶۴) *لڑكے نعمت، اور لڑكیاں حسنات ہیں* یہاں تک كہ بعض روایات میں آیا ہے كہ عورتیں، مردوں سے زیادہ خدا ان پر رأفت اور مہربانی كرتا ہے: 🌷 امام علی رضا علیہ السلام سے روایت ہے كہ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خدا عورتوں پر مردوں سے زیادہ مہربان ہے۔ اس زمانے میں جب كہ لڑكیوں كو گری ہوئی نظروں سے دیكھا جاتا تھا جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس كی حفاظت اور تربیت كے لئے حكم فرمایا:ایک عاقلانہ تدبیر كے ذریعہ، لوگوں كو اس كی انسانی حیثیت كی طرف متوجہ فرمایا: حمزۃ بن عمران سے مروی ہے كہ ایک آدمی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كی خدمت میں آیا پیغمبر(ص) كے پاس ایک دوسرا شخص بھی تھا۔ آنے والے آدمی نے اسے بچہ پیدا ہونے كی خوشخبری سنائی اس شخص كا رنگ بدل گیا۔ رسول (ص) نے فرمایا:كیا پیدا؟ اس نے عرض كیا: خٰیر ہے ۔ فرمایا: كہو۔عرض كیا: میں گھر سےنكلاتھا جب كہ میری عورت پیدائش كے درد میں مبتلا تھی مجھے خبر مل كہ اس نے ایک لڑكی كو جنم دیا ہے ۔ پیغمبر (ص) نے فرمایا: زمین اس كی دیكھ بھال كرے گی اور آسمان اس پر سایہ كرے گا اور خدا اسے روزی پہنچائے گا ۔ اس كے بعد اصحاب كی طرف رخ كیا اور فرمایا: جس كے پاس ایک لڑكی ہے اس كا بوجھ وزنی ہے، اور جس كے پاس دو لڑكیاں ہیں اس كی مدد كرنے چاہئے اور اگر تین لڑكیاں ہوں تو جنگ كا وجوب اس پر سے ہٹا دیا جاتا ہے، اور جس كے پاس چار لڑكیاں ہوں اے خدا بندے! اسے قرضہ دو، اور اے خدا بندے! اس پر ترحم كرو۔ (بحار الانوارج ۲۳، ص۱۱۴) 🌷 امام جعفر صاد ق علیہ السلام نے فرمایا: جب كوئی اپنی لڑكیوں كی موت كی آرزو كرے تو وہ انكی خدمت كے اجرو ثواب سے محروم ہوتا ہے اور گناہگار بن كر خدا كی ملاقات كرے گا (بحار الانوارج ۲۳، ص۱۱۴) لڑكیوں كے حقوق كی تائید و تثبیت كے لئے اور ان كی دیكھ بھال كے لئے لوگوں كو ترغیب دلانے كے لئے 🌹 جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر كوئی شخص تین لڑكیاں یا تین بہنوں كے زندگی كا خرچ چلائے تو جنت اس پر واجب ہو جاتی ہے ۔ عرض كیا گیا: كیا دو لڑكیاں اور دو بہنیں بھی؟ فرمایا: ہاں۔عرض ہوا: كیا ایک لڑكی اور بہن بھی؟ فرمایا: ایک لڑكی اور ایک بہن بھی لڑكیوں كے لئے اونچی پڑھائی اسلام میں لڑكیوں اور عورتوں كے لئے علم میں آگے بڑھنے كے لئے كوئی حد نہیں قرار دی گئی ہے۔ اور علوم كو ھر انسان چاہے مرد یا عورت كے لئے جہاں تک ممكن ہو اور استعداد بھی ہو اسلام سے مطلوب اور ضروری سمجھتا ہے اور عورت كو بھی اس جہت سے كبھی بھی محدود نہیں كیا ہے۔ تاریخ اسلام میں ایسی مشہور و نامور عورتیں گزری ہیں جو كہ درجہ عالیۂ اجتہاد اور بعض علوم میں تخصص كے درجہ پر پہنچ چكی ہیں جوائن کریں https://t.me/Tarbeyat_Ulad facebook.com/MIZajf786 واٹس ایپ گروپ کیلئے نام لکھ کر اس لنک پر میسج کریں https://wa.me/+923184109288?text=Tarbeyat_Ulad
131
6
تربیت اولاد جب بچہ پیدا ہو تو والدین کی ذمہ درایاں قسط نمبر 2⃣ مولانا موسی رضا صاحب جوائن کریں https://t.me/Tarbeyat_Ulad facebook.com/MIZajf786 واٹس ایپ گروپ کیلئے نام لکھ کر اس لنک پر میسج کریں https://wa.me/+923184109288?text=Tarbeyat_Ulad
143
7
لڑکیوں کی تربیت لڑكی آئندہ میں ہونے زوجہ خاندان كی پرورش كرنے والی ہے پارٹ نمبر 2/2 رُسو كہتا ہے: بچہ ماں كی چاہت كے حساب سے تربیت پاتا ہے اگر تم چاہتے ہو كہ تمھارا بچہ شرف و فضیلت كا مفہوم درک كرلے تو تمہیں چاہئے كہ بچہ كی ماں كی تربیت كرو۔  شاید سب سے پہلا امر جس پر عنایت و توجہ لازم ہے وہ بچہ كی سلامتی ہو۔اور اس پر توجہ حتیٰ ولادت سے پہلے لے كر ولادت كے بعد بھی جاری رہتی ہے لہٰذا لڑكی كو یہ سكھانے كہ سخت ضرورت ہے كہ حامل ہونے كا مطلب كیا ہے؟ حاملہ ہونے كی صحیح صورت كیا ہے؟ اور جنین (بچہ) پر توجہ كس طرح سے ركھنی چاہئے اسے حفظان صحت كے تمام اصولوں كی حتی الامكان سیكھانا چاہئے اور اسی طرح اپنی اور بچے كی جسمانی ورزش، پاك و پاكیزہ اور كھلی فضا، سورج كی اہمیت اور خوراك و صاف صفائی كے اصولوں كو سكھانا چاہئے اسی طرح مناسب لباس كی قسمیں بچے كو بیماریوں سے بچانے كے طریقے اور اگر بیمار ہو جائے تو اس كے علاج معالجہ سے وابستہ امور كی جانكاری ركھنا چاہئے ۔اور ہر گز ان مہم امور كی تعلیم خرافات اور انسانوں كی مدد سے نہیں ہونا چاہئے واضح ہے كہ لڑكی، اس طرح كے امور كو صرف كتابوں سے اور كلام استاد سے نہیں سیكھتی، بلكہ مدرسہ اور گھر میں اپنے مشاہدات اور تجربات سے بھی سیكھتی ہے ۔ اسی بنا پر لڑكیوں كی مربیوں كو چاہئے كہ اپنی نصیحتیں اور مشوروں كو اپنے شاگردوں كے تجربات كے ساتھ ہم آھنگ كر لیں۔ یعنی اگر ممكن ہو تو كچھ عملی كلاسیں لڑكیوں كے لئے ركھیں، خاص طور سے بچے كی صفائی اور نہلانے دھلانے جیسے امور ہیں اس کے علاوہ كی ماں كی توجہ بچے كی جسمی حوائج كی طرف ہونی چاہئے، اخلاقی اور عقلی جہات كی طرف بھی اھتمام ہونا چاہئے ۔لیكن اس میں بچے كے مراحل زندگی اور پرورش كو بھی ملحوظ نظر ركھنا چاہئے۔ لہٰذا لڑكی كو سیكھنا چاہئے كہ كس بچہ كو بُری عادتوں سے روكا جا سكتا ہے اور كس طرح اطاعت، فرمانبرداری، خود اعتمادی اور دوسروں كے حقوق كا احترام اور اس جیسی اچھی عادتوں كو اس كے اندر پیدا كیا جائے ۔اور جان لے كہ كس طریقے سے كسی مسئلے كو حل كرنا اور اس كا واب ڈھونڈھنے كے احساس كو بچہ كے اندر جگائے اور اس كے اندر تفكر اور استنباط كی طاقت كو ابھارے۔ آئندہ میں ماں بننے كے لئے ایک لڑكی كی تربیت میں بہتر ہے كہ اس جیسی علمی تعلیمات كو عملی طریقوں كے ساتھ مطابقت دی جائے ۔یعنی اسے ذمہ داری دیا جائے كہ گھروں میں اور ٹہلنے كی جگہوں پر بچوں كی دیكھ بھال كرے۔ اور بچوں كے سن كی مناسبت سے جو كھیل ہیں انھیں سیكھے تاكہ عملی طور پر بچہ كی حاجتوں كو سمجھ سكے ۔آخر میں اس بات كا ذكر ضروری ہے كہ ماں كی زندگی كا سب سے اہم كردار اور مظاہرہ، وہ پاكیزہ اور پاک محبت ہے كہ جس كے ساتھ اسے اپنے فرزند سے پیش آنا چاہئے جوائن کریں https://t.me/Tarbeyat_Ulad facebook.com/MIZajf786 واٹس ایپ گروپ کیلئے نام لکھ کر اس لنک پر میسج کریں https://wa.me/+923184109288?text=Tarbeyat_Ulad
93
8
لڑکیوں کی تربیت لڑكی آئندہ میں ہونے زوجہ خاندان كی پرورش كرنے والی ہے پارٹ نمبر 1/2 ازدواج، مرد اور عورت كے درمیان اتفاق واتحاد پیدا كرنے كے ایک مقدس ربط كا نام ہے جوكہ ایک نئی عمارت معاشرہ كے اندر كھڑی كرنا ھے اور اس میں عورت كا كردار بہت اھم ہے كہ جسے اللہ نے اس كے لئے مقرر كیا ھے اور وہ اہم كردار اور الٰہی ذمہ داری بچوں کو دیكھ بھال اور ان كی تربیت و پرورش ہے یہ ذمہ داری خدائی سنت ہے اور تاریخی واقعات نیز قانون طبیعت بھی اس ذمہ داری كو عورت كے اوپر لازم سمجھتا ہے اور چونكہ ازدواج ایک قسم كا عورت ومرد كے درمیان روحی و مادی اشتراک ہے لہٰذا مرد و عورت كی نزدگی میں خوشی وخوشبختی بھی، محبت، تفاھم اور ایک دوسرے كا احترام و عزت كے بغیر پائیہ كمال كو نہیں پہنچ سكتی۔ اور سعادتمندی خانوادگی زندگی كے تمام امور كو صحیح تدبیر سے چلانے كے بغیر حاصل نہیں ہو سكتی لہٰذا اس اہم امر كی ذمہ داری پہلے مرحلے میں گھر كی پرورز كرنے والی عورت كے كاندھوں پر ھے۔  اور چونكہ آج كی لڑكی كل كی ہونے والی بیوی ہے لہٰذا معاشرہ اورماں باپ كی ذمہ داریوں میں سے ایک یہ ہے كہ اپنی لڑكیوں كو میاں بیوی كی زندگی كے معنیٰ و مفہوم سے آگاہ كریں اور اس كی اہمیت كو گوشزد كریں تاكہ وہ آئندہ میں گھریلو زندگی كے تحفظ كے لئے كوشش كرے۔ اور لڑكیوں كی ذمہ داریوں میں سے ایک یہ ہے كہ گھریلو مشكلات كو جانتی رہیں ۔ جو مدارس لڑكیوں كی تربیت كرتےہیں ضروری ہے كہ ان مدارس میں میل جول كا پر سكون ماحول قائم ہو اور وہاں پر یہ سكھا یاجائے كہ كس طرح دوسروں كی خدمت كی جاتی ہے كسی طرح فداكاری اور دوسروں كی مدد كی جاتی ہے۔ اس طرح كی تمرینات كا اثر یہ ہوگا كہ لڑكیاں كل كی شائستہ بیویاں بنیں گی اور اپنے شوہروں كے ساتھ سكون وچین كی زندگی بسر كریں گی اور ہر وقت چاہے خوشی كا موقع ہو یا تكلیف دہ حالات ہوں سب میں شوہر كی بہترین مدد گار ثابت ہوں گی لڑكی آئندہ میں گھر كی پرورش كرنے والی ہے ۔ اس لئے كہ گھر چلانا اج كی دنیا میں ایک قابل توجہ فن كی حیثیت ركھتا ہے كہ جس نے مربیوں كے لئے ضروری بنا دیا ہے كہ لڑكیوں كی تعلیم كے طریقوں میں تبدیلی لائیں اور ان كی درسیات میں جدید درسی سبجیكٹ اور علمی معارف كا اضافہ كریں تاكہ لڑكیوں كو آمادہ كریں تاكہ وہ آئندہ میں، گھر كے لئے ایک شائستہ پرورش كرنے والی بن سكیں۔ انھیں درسی سبجیكٹ میں سے ایک، حفظان صحت اور تندرستی سے متعلق علوم ہیں بیماری سے روک تھام اور ان كا مناسب علاج ہے ۔ اسی طرح غذا تیار كرنے اور انھیں مختلف اشتہار دلانے والی جذاب شكل و صورت دینا اور مرغوب بنانے سے متعلق فنون ہیں خیاطی (سلائی) كپڑوں كے مختلف قسموں كو پہچاننا اور لباس كے محفوط ركھنے كے طریقے گھر كے مالی امور كی تدبیر اور اس طرح كے دیگر فنون و معارف بھی ان میں شامل ہونا چاہئے یہ بھی بہت مناسب ہے كہ ان تمام چیزوں كے ساتھ ساتھ كچ ہنر و فن سے متعلق دوروس كو جو كہ گھر كے لئے مختص ہیں انھیں بھی وہ سیكھیں مثال كے طور پر گھر كے لئے كن اسباب و سائل كو انتخاب كیا جائے پھولوں كو كس طرح سجایا جائے وغیرہ جو كہ سلیم وصحت مند ذوق كی عكاسی كرتے ہیں۔  لڑكیوں كے اندر جو مہم ترین جذبہ، مدرسہ پیداسكتا ہے وہ لڑكی ہونے پر فخر كا جذبہ ہے اور ایسے ہم اعمال پر فخر ومباھات كرنا ہے كہ جو گھر كے مربی كو ضرور انجام دینا چاہئے اسی طرح كی تعلیمات سے لڑكیاں گھریلو امور سے آئندہ ذوق و شوق پید كر لیں گی جس كا نتیجہ یہ ہوگا كہ لڑكیاں گھریلوں كاموں كو ایک اہم ھنر تصور كریں گی اور ان كے دل كی گہرائیوں میں یہ احساس پیدا ہو جائے گا كہ ان كے وجود كا اصلی اور آخری مقصد ۔۔۔وہ خود چاہے جتنی لكھی كیوں نہ ہوں۔۔۔ ایک بہترین اور نمونہ كہے جانے كے قابل گھر كو بنانا اور ایک آئیڈیل پریوار كی بنیاد ركھنا ہے اور بالاخر ان كا یہ جذبہ ایک ترقی یافتہ معاشرہ تیار كرنے میں بڑا موثر ہوگا۔  ایک بہت بڑی غلطی یہ ہے كہ كوئی تصور كرلے كہ ماں كی ذمہ داری صرف فرزند پیدا كرنا ہے درحالیكہ جو ماں باپ صاحب فرزند ہو جانے كے بعد ان كی تربیت پر توجہ نہ دیں انھوں نے خود اور معاشرہ دونوں كو بہت سخت نقصان پہنچایا ہے ۔ بچوں كی تربیت میں پہلا دور بڑی اہمیت كا حامل ہے جس كے بارے میں ماہرین نفسیات دانشمندوں اور مربیوں نے بہت سے مقال لكھ ڈلے ہیں كیونكہ اس پہلے دور میں تہذیب وادب اور بچے كہ شخصیت سنوانے والے اسباب و علل كی بنیاد پڑتی ہے واضح سی بات ہے كہ ماں ہی مدرسہ كی تعلیم تربیت سے پہلے كے مرحلہ میں پہلی مربی ہے لہٰذا لازم ہے كہ كل كی ماں بننے كے لئے لڑكیوں كی اچھی طرح تربیت كی جائے اور ماؤں كو چاہئے كہ اپنی لڑكیوں كو بچوں كی زندگی میں آنے والے مختلف ادوار كی تعلیم دیں اور انھیں تربیت كے جملہ امور سے آگاہ كریں
74
9
تربیت اولاد حاملہ ماں کی ذمہ داریاں اور واجبات قسط نمبر 1⃣ مولانا موسی رضا صاحب جوائن کریں https://t.me/Tarbeyat_Ulad faceboo
تربیت اولاد حاملہ ماں کی ذمہ داریاں اور واجبات قسط نمبر 1⃣ مولانا موسی رضا صاحب جوائن کریں https://t.me/Tarbeyat_Ulad facebook.com/MIZajf786 واٹس ایپ گروپ کیلئے نام لکھ کر اس لنک پر میسج کریں https://wa.me/+923184109288?text=Tarbeyat_Ulad
88
10
لڑکیوں کی تربیت 🌹جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، لڑكیوں كی پرورش و تربیت كی اہمیت كے سلسلہ میں فرماتے ہیں: (من كان لہ انبۃ فادبھا واحسن ادبھا، وغذاھا فاحسن غذائھا، واسبغ علیھا من النعم التی اسبغ اللہ علیہ، كانت لہ میمنۃ ومیسرۃ من النار الی الجنۃ) (محجۃ البیضاء، ج۲، ص۶۴) جس كے پاس بیٹی ہو اگر وہ اس كے تربیت كرے اور اس كو اچھے عمل كی تعلیم دے اسے كھلائے اور اس كی خوراک میں بہتری كو مدنظر ركھے اور جن نعمتوں كو خدا نے اس كے حوالے كیا ھے اسے لڑكی كے اوپر خرچ كرنے میں دریغ نہ كرے تو ایسا شخص آتش جہنم سے دائیں اور بائیں دونوں جانب سے بہشت ہوجائے گا ایک حكیمانہ ضرب المثل ہے كہ معاشرہ، ماؤں كی محنتوں كا نتیجہ ہے لہٰذا ماں خاندان كا ركن، اور خاندان پورے معاشرے كا ركن ہے۔ اور جب تک آج كی لڑكی كل كی تاریخ ساز ماں ہے پھر یہ كیسے ہو سكتاھے كہ اس گروہ كو نظر انداز كر دیا جائے اور اس كی تعلیم و تربیت اور پرورش كے لئے كوئی اقدام نہ كیا جائے۔ 🌹 اسی لئےپیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: (خیر اولادكم البنات) تمہاری بہترین اولاد لڑكیاں ہیں (بحار الانوار، ج۲۳، ص۱۱۳) حقیقت و واقعیت سے دور كی بات نہیں كہہ رہے ہیں كیونكہ ہمارا اعتقاد ہے كہ معاشرتی زندگی میں ترقی گھریلو زندگی میں ترقی سے ہی ممكن ہے اور سماج اور معاشرہ بھی پریوار سے ہی تشكیل پاتا ہے اس لئے كہ پریوار سب سے چھوٹا انسانی معاشرہ ہے لہٰذا پریوار معاشرہ كی بنیاد ھے اور چونكہ ماں پریوار كا ركن ہوتی ھے اور اس كی معلومات سے خاندانی زندگی كے لیول كو اونچا كرنے میں قابل توجہ اثر ركھتی ہے لہٰذا پہلے مرحلہ میں اسے چاہئے كہ پریوار اور گھریلو امور كو نظم و ضبط دے اور بچوں كی تربیت اور ماحول كو پر سكون اور آرام دہ بنایا اس كی عظیم ذمہ داری ہے۔ اور چونكہ لڑكیوں كی تعداد كائنات میں لڑكوں سے زیادہ ھے اگر ان كی تربیت میں سہل انگاری سے كام لیا گیا تو معاشرہ اپنی آدھی سے زیادہ قوت و طاقت میں نقصان اٹھائے گا عورت تخلیق كو ثمر بخش بنانے میں اہم كردار ركھتی ہے ۔ زندگی میں كچھ ایسے اعمال ہیں كہ جن كو مرد صحیح طریقہ سے انجام نہیں دے سكتے جیسے بچوں كی تربیت نونہالوں كی تعلیم، درد مندوں سے ہمدردی بیماروں كی دیكھ دیکھ اور اسی جیسے بہت سے سماجی اور گھریلو كام كہ جنھیں عورتیں ہی بڑے حوصلہ اور صبر شكیبائی كے ساتھ انجام دینے كی قدرت ركھتی ہیں۔  لہٰذا ضروری ہے كہ مربی لوگ لڑكیوں كے طبیعی حق كو ملحوظ ركھتے ہوئے ان كی خداداد استعداد اور ان كی شخصیت كو ترقی دینے كی كوشش كریں۔ اور اگر ہم چاہتے ہیں كہ ایک باعظمت معاشرہ، تابناک مستقبل كا حامل معاشرہ كی بنیاد ركھیں تو پھر ہمیں ان كی تعلیم و تربیت پر كافی اہتمام كرنا ہوگا اور ان كی تربیت میں عورت ذات كی خاص صفات اور ان كے طبیعی رجحانات كو بھی مد نظر ركھتے ہوئے مناسب روش اپنانی ہوگی جوائن کریں https://t.me/Tarbeyat_Ulad facebook.com/MIZajf786 واٹس ایپ گروپ کیلئے نام لکھ کر اس لنک پر میسج کریں https://wa.me/+923184109288?text=Tarbeyat_Ulad
84
11
تربیت اولاد بچوں کو عزت کا معیار بتائیے پارٹ نمبر 1⃣1⃣ آخری پارٹ ڈاکٹر کنول قیصر جوائن کریں https://t.me/Tarbeyat_Ulad facebook.com/MIZajf786 واٹس ایپ گروپ کیلئے نام لکھ کر اس لنک پر میسج کریں https://wa.me/+923184109288?text=Tarbeyat_Ulad
1
12
تربیت اولاد بچوں کو عزت کا معیار بتائیے پارٹ نمبر 1⃣1⃣ آخری پارٹ ڈاکٹر کنول قیصر جوائن کریں https://t.me/Tarbeyat_Ulad facebook.com/MIZajf786 واٹس ایپ گروپ کیلئے نام لکھ کر اس لنک پر میسج کریں https://wa.me/+923184109288?text=Tarbeyat_Ulad
120
13
والدین کی خدمت جہاد سے بہتر ہے پارٹ نمبر 2/2 🌷حضرت امام نقی (علیہ السلام) نے فرمایا: اَلعُقُوْقُ یُعْقِّبُ الْقِلَّةَ وَیُوٴَدِّیْ اِلٰی الذِلَّةِ "والدین کی ناراضگی سے (روزی کی) کمی اور ذلت پیچھا کرتی ہے۔" عاقِ والدین گدائی و بد نصیبی کا سبب بنتا ہے مدینہٴ منورہ کے ایک دولت مند جوان کے ضعیف ماں باپ زندہ تھے۔ وہ جوان ان کے ساتھ کسی قسم کی نیکی نہیں کرتا تھا اور انہیں اپنی دولت سے محروم کیے ہوئے تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس جوان سے اس کا سب مال و دولت چھین لیا۔ وہ ناداری ، تنگ دستی اور بیماری میں مبتلا ہو گیا اور مجبوری و پریشانی انتہا کو پہنچ گئی۔ 🌹جناب رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا جو کوئی ماں باپ کو تکلیف پہنچاتا ہے اُسے اس جوان سے عبرت حاصل کرنی چاہیئے۔ دیکھو ! اس دنیا میں اس سے مال ودولت واپس لے لی گئی ، اس کی ثروت و بے نیازی فقیری میں اور صحت بیماری میں تبدیل ہو گئی۔ اس طرح جو درجہ اس کو بہشت میں حاصل ہونا تھا ، وہ ان گناہوں کے سبب اُس سے محروم ہو گیا۔ اس کی بجائے آتشِ جہنم اس کے لیے تیار کی گئی ۔ (سفینة البحار) 🌷 حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے منقول ہے کہ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹے حضرت یو سف (علیہ السلام) سے ملاقات کرنے مصر تشریف لائے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنی ظاہری سلطنت اور شان و شوکت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے والد بزرگوار کے احترام کے لیے اپنی سواری سے نیچے نہیں اُترے تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ اپنا ہاتھ کھولیے، آپ (علیہ السلام) نے جب ہاتھ کھولا تو اس سے ایک روشنی نکلی اور آسمان کی طرف بلند ہوئی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دریافت کیا یہ نور جو میرے ہاتھ سے نکلا اور آسمان کی جانب چلا گیا ، یہ کیا تھا؟ جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا ، نبوت کا نور آپ (علیہ السلام) کے صلب سے باہر نکل گیا۔ کیونکہ آپ (علیہ السلام) نے اپنے والد کا احترام بجا نہیں لایا تھا اس لیے آپ (علیہ السلام) کے بیٹوں میں سے کسی کو پیغمبری نہیں ملے گی۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے والد بزرگوار کے احترام میں سواری سے نیچے نہیں اُترے لیکن یہ تکبّر اور بے اعتنائی کی وجہ سے نہیں تھا۔ کیونکہ انبیائے کرام (علیہم السلام) ہر قسم کے گناہوں سے پاک و پاکیزہ ہوتے ہیں۔ البتہ اپنی سلطنت اور شان و شوکت کا اعلیٰ مقام برقرار رکھنے اور رعایا پر رُعب و دبدبہ بٹھانے کی خاطر تھا۔ عاق والد ین کا بُرا انجام عاق والدین کے وضعی آثار میں سے ایک اثر بُرا انجام ہے۔ اس کے بر عکس والدین کے ساتھ نیکی کرنے سے عاقبت سنور جاتی ہے۔ جیسا کہ 🌷امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: مَنْ اَحَبَّ اَنْ یُّخَفِّفَ اللّٰہُ عَنْہ سَکَرَاتَ الْمَوْتِ فَلَیْکُنْ لِقَرَابَتِہِ وَصُوْلاً وَّلوَالِدَیْہِ بَارّاً فَاِذَا کَانَ کَذٰلِکَ ھَوَّنَ اللّٰہُ عَلَیْہِ سَکَرَاتَ الْمَوْتِ وَلَمْ یَصبَہُ فِیْ حیٰوتہٍ فَقْرٌ اَبَداً (سفینة البحار جلد ۲ ص ۶۸۷) "جس کی خواہش ہو کہ جان کنی کی کیفیت اس پر آسان ہو جائے، اسے اپنے رشتہ داروں سے صلہٴ رحم اور والدین کے ساتھ نیکی بجا لانا چاہیئے۔ جب کوئی ایسا کرے گا تو خداوند عالم موت کی سختیاں اس پر آسان کر دے گااور وہ شخص زندگی بھر کسی پریشانی و تنگ دستی میں نہ ہوگا۔" ❤️والدین کی دعا جلد مستجاب ہوتی ہے ماں باپ اولاد کے حسن سلوک کے یا بد سلوکی کے نتیجے میں جو بھی دعا کرتے ہیں، وہ بارگاہِ الٰہی میں ضرور قبول ہوتی ہے۔ اس بارے میں بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں۔ اس سلسلے کی ایک روایت دعائے مشلول کی فضیلت میں نقل ہوئی ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک نوجوان کا اپنے باپ کی بد دعا کے نتیجے میں سیدھا ہاتھ بے کار ہو گیاتھا۔ وہ نوجوان باپ کی وفات کے بعد متواتر تین سال مسجد الحرام میں ساری رات بارگاہِ رب العزت میں گڑ گڑا کر دعائیں کرتا تھا۔ ایک دن 🌷مولائے متقیان حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) کو اس نوجوان پر ترس آیا۔ چنانچہ آپ نے اُسے دعائے مشلول تعلیم فرمائی۔ اور وہ نوجوان اس دعا کی برکت سے شفا یاب ہو گیا۔ 🌸ماں حسنِ سلوک کی سب سے زیادہ سزا وار ہے ماں کے ساتھ نیکی کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ چنانچہ 🌹حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ماں کے ساتھ اچھے برتاؤ کے سلسلے میں تین مرتبہ تکراراً حکم دیا ہے اور چوتھی مرتبہ باپ سے نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے دریافت کیا گیاکہ والدین میں کس کا حق زیادہ ہے؟ آپ نے فرمایا: کیا ماں وہی ہستی نہیں ہے جس نے مدتوں تجھے اپنے رحم میں اٹھائے رکھا اور اس کے بعد وضعِ حمل کی سختیاں برداشت کیں؟ پھر اپنی چھاتی سے تیرے لیے غذا مہیا کی۔ پس ماں کا حق سب سے زیادہ ہے۔مستدرک 628 تحریر : شہید آیت اللہ دستغیب شیرازی رح ترتیب: سید مبشر نقوی https://t.me/Tarbeyat_Ulad facebook.com/MIZajf786
82
14
والدین کی خدمت جہاد سے بہتر ہے پارٹ نمبر 1/2 🌷حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ ایک آدمی 🌹حضرت رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں راہِ خدا میں جہاد کرنے کا شوق رکھتا ہوں۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا، پس راہ خدا میں جہاد کرو ۔ بے شک اگر تم مارے گئے تو اللہ کے نزدیک زندہ رہو گے اور رزق پاؤ گے اور اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمے ہو گا۔ اگر سلامتی کے ساتھ واپس آئے تو گناہوں سے اس طرح پاک ہوگے جس طرح بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے ۔ اس شخص نے کہا، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) میرے والدین زندہ ہیں اور بڑھاپے کی حالت میں ہیں اور مجھ سے کافی انس رکھتے ہیں۔ مجھ سے جدائی ان کو پسند نہیں۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا اگر ایسا ہے تو ان کی خدمت میں ٹھہر جا۔ قسم اس خدا کی جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے، والدین سے ایک دن رات انس میں رہنا ایک سال کے مسلسل جہاد سے افضل ہے۔ یہ روایت بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے منقول ہے کہ فرمایا: کُنْ بَارَاً وَّ اقْتَصِرْ عَلٰی الجَنَّة، وَاِنْ کُنْتَ عَاقاً فَاقْتَصِرْ عَلَی النَّارَِ "والدین کے خدمت گار بن کر جنت میں مقام حاصل کر لو اور اگر والدین کے عاق ہو گئے تو جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لو۔" والدین سے نیکی گناہوں کا کفارہ ہے ماں باپ سے نیکی بہت سارے گناہوں کا کفارہ ہے۔ چنانچہ روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت 🌹رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ ، ایسا کوئی بُرا کام باقی نہیں بچا جس کا میں مرتکب نہ ہوا ہوں۔ کیا میرے لیے توبہ ہے؟ آنحضرت نے فرمایا، جاؤ، باپ کے ساتھ نیکی کرو تاکہ تمہارے گناہوں کا کفارہ ہو ۔ جب وہ نکل گیا تو آپ نے فرمایا اگر اس کی ماں زندہ ہوتی تو اس کے ساتھ نیکی کرنا زیادہ بہتر ہوتا۔ والدین کی خوشنودی خدا کی خوشنودی ہے 🌹آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا ارشاد ہے: رِضیٰ اللّٰہِ مَعَ رِضیٰ الْوَلِدَیْنِ وَسَخَطُ اللّٰہِ مَعَ سَخَطِ الْوَالِدَیْنِ (بحارالانوار) "والدین کی رضامندی میں اللہ کی رضا ہے اور ان کی ناراضگی میں اللہ کی ناراضگی ہے۔" آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے مزید ارشاد فرمایا: بَیْنَ الْاَنْبِیَاءِ وَالْبَارِدَرَجَةٌ وَبَیْنَ الْعَاقِ وَالْفَرَاعِنَہِ دَرَکَةُ (مستدرک) "والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا بہشت میں پیغمبروں سے صرف ایک درجہ کے فرق پر ہو گا۔ اور والدین کا عاق شدہ جہنم میں فراعنہ سے صرف ایک درجہ نیچے ہو گا۔" والدین کے ساتھ نیکی کرنے والے کے لیے ملائکہ کی دعائیں 🌷حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں: بِرُّالوَالِدَیْن اَکْبَرُ فَرِیضَةٍ۔ "والدین کے ساتھ نیکی کرنا واجباتِ الٰہیہ میں سب سے بڑا فریضہ ہے۔" 🌹حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ کے دو فرشتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے: اللّٰھُمَّ احْفِظِ الْبارِیْنَ بِعِصْمَتِکَ (مستدرک) "خدایا! والدین کے ساتھ نیکی کرنے والوں کو (تمام برائیوں اور آفتوں) سے محفوظ رکھ۔"دوسرا فرشتہ کہتا ہے: اللّٰھُمَّ اَھْلِکِ العَاقِیْنَ بِغَضَبکَ (مستدرک) "خداوندا! جن لوگوں سے ان کے والدین ناراض ہیں، انہیں اپنے غضب کے ذریعہ ہلاک فرما۔" اس میں شک نہیں کہ فرشتوں کی دعا قبول درگاہ الٰہی ہوتی ہے عاق کا دنیوی اثر مذکورہ احادیث میں عاق والدین کے لیے آخرت کے عقوبات بیان ہوئے ہیں۔ عاق ہونا ایک ایسا گناہ ہے کہ اس کے وضعی و طبعی آثار اور ردّ عمل آخرت سے پہلے ہی اسی دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں۔ چنانچہ 🌹حضرت خاتم الانبیاء نے فرمایا: ثَلَاثَةٌ مِّنَ الذّنُوْبِ تُعْجِّلُ عُقُوْبَتُھَا وَلَاتُوٴَخِرُ الْآخِرَةَ عُقُوْقُ الوالِدَیْنِ وَالْبَغْی عَلٰی النَّاس وَکُفْرِ الْاِحسانِ (بحارالانوار) "گناہوں میں تین گناہ ایسے ہیں جن کی سزا عجلت سے اس دنیا میں دی جاتی ہے اور قیامت تک تاخیرنہیں کی جاتی۔ ان میں سے پہلے والدین کا عاق ہونا، دوسرے اللہ کے بندوں پر ظلم کرنا اور تیسرے احسان پر ناشکری کرنا۔" 🌷حضرت امام محمدباقر (علیہ السلام) نے فرمایا: صَدَقَةُ السِرِتُطْفِیْءُ غَضَب الرَّبِ وَبِرُّالْوَالِدَیْنِ وصِلَةُ الرَّحِمِ یَزیدَانِ فِیْ الْاَجَلِ (بحارالانوار) "مخفی طور پر صدقہ دینا پروردگار کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور والدین کے ساتھ نیکی و قرابت داروں سے صلہٴ رحم عمر کو دراز کرتا ہے۔ " ایک اور حدیث میں فرمایا: البِرُّ وَصَدَقَةُ السِّرِّ یَنْفِیَانِ الفَقْرَ وَیَزِیْدَان فِیْ العُمرِ وَیَدْفَعَانَ عَںْ سَبْعِیْنَ مَیْتَةَ سُوْءٍ (بحارالانوار) "ماں باپ سے نیکی اور پوشیدہ خیرات کرنے سے فقر دور ہوتا ہے اور یہ دونوں عمر کو طویل کرتے ہیں اور ستر قسم کی بُری موت اس سے دور ہوتی ہے۔" جاری ہے۔۔ جوائن کریں https://t.me/Tarbeyat_Ulad facebook.com/MIZajf786 https://wa.me/+923184109288?text=Tarbeyat_Ulad
90
15
تربیت اولاد بچوں کو اسلامی تعلیمات دیں اور اس کے فائدے بتائیں پارٹ نمبر 9⃣ ڈاکٹر کنول قیصر جوائن کریں https://t.me/Tarbeyat_Ulad facebook.com/MIZajf786 واٹس ایپ گروپ کیلئے نام لکھ کر اس لنک پر میسج کریں https://wa.me/+923184109288?text=Tarbeyat_Ulad
76
16
دورِ حاضر میں اولاد پر والدین کی وجہ سے مصیبت... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جوائن کریں https://t.me/Tarbeyat_Ulad face
دورِ حاضر میں اولاد پر والدین کی وجہ سے مصیبت... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جوائن کریں https://t.me/Tarbeyat_Ulad facebook.com/MIZajf786 واٹس ایپ گروپ کیلئے نام لکھ کر اس لنک پر میسج کریں https://wa.me/+923184109288?text=Tarbeyat_Ulad
119
17
کیا عبد الحسین ، عبد علی یا عبد الزھرا نام رکھنا صحیح ھے ؟ جوائن کریں https://t.me/Payam_Aytullah_O_Marjy_Uzam 🌹پیام آیت الل
کیا عبد الحسین ، عبد علی یا عبد الزھرا نام رکھنا صحیح ھے ؟ جوائن کریں https://t.me/Payam_Aytullah_O_Marjy_Uzam 🌹پیام آیت اللہ و مراجع عظام 🌹
84
18
اولاد کے عالمِ دین بننے کی دعائیں بھی کیجئے سید عابد حسین زیدی صاحب قبلہ جوائن کریں https://t.me/Tarbeyat_Ulad facebook.com/MIZajf786 واٹس ایپ گروپ کیلئے نام لکھ کر اس لنک پر میسج کریں https://wa.me/+923184109288?text=Tarbeyat_Ulad
83
19
تربیت اولاد بچوں کی عمر، فطرت کے مطابق تربیت کریں پارٹ نمبر 8⃣ ڈاکٹر کنول قیصر جوائن کریں https://t.me/Tarbeyat_Ulad facebook.com/MIZajf786 واٹس ایپ گروپ کیلئے نام لکھ کر اس لنک پر میسج کریں https://wa.me/+923184109288?text=Tarbeyat_Ulad
97
20
طلاق کا اثر بچوں پر بشکریہ سبیل میڈیا جوائن کریں https://t.me/Tarbeyat_Ulad facebook.com/MIZajf786 واٹس ایپ گروپ کیلئے نام لکھ کر اس لنک پر میسج کریں https://wa.me/+923184109288?text=Tarbeyat_Ulad
85