en
Feedback

Don't get caught by a cheater! Telemetrio finds and tags such channels 👉 If you want to see the tag, subscribe

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Open in Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Show more
1 286
Subscribers
+124 hours
-27 days
-630 days
Posts Archive
🌷 السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ 🌷 صبحكم اللہ بالخير وأسعد اللہ أيامكم 💐 عیدالاضحٰی آپ کو بہت بہت مبارک ہو۔ 💚  آج کا دن ➖ ہفتہ ☀  07 جون 2025 عیسوی 🌙  10 ذوالحجہ 1446 ھجری ⭐  25 جیٹھ 2082 بکرمی ■ ہفتہ کے اذکار 1۔ یَارَبَّ الْعَالمَِیْن 100 مرتبہ۔ 2۔ یَاغَنِیُّ 1060 مرتبہ۔ 3۔ یاحی یاقیوم 1000 مرتبہ 🔹 مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں: آگاہ ہو جاؤ کہ آج کے دن (روز عید الاضحٰیٰ) کا احترام بہت ہی زیادہ ہے۔ اس دن میں برکت اور گناہوں سے چھٹکارے کی امید کی جاتی ہے۔ تو اس دن اللّہ تعالیٰ کو بہت یاد کیا کرو، اسکے حضور توبہ اور بہت ہی خضوع اور انکساری کے ساتھ مغفرت طلب کر کے ثواب حاصل کیا کرو کیونکہ وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ (📚 مصباح المتهجد للطوسي -٦٦٢) 🤲 اے خداوند متعال ہمیں روز عید کا احترام کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمارے گناہوں کی مغفرت فرما۔ گذشتہ گناہوں کے سلسلے میں ہماری توبہ قبول فرما اور آئندہ گناہوں سے بچنے میں اپنی مدد و نصرت ہمارے شامل حال فرما۔ آج کے دن کا وسیلہ ہماری دلی دینی و دنیاوی جائز خواہشات و حاجات کو پورا فرما۔ اللھم عجل لولیک الفرج۔ آمین یا رب العالمین بحق چہاردہ معصومین علیہم السلام 🌷 التماس دعا: 🌷 سید سجاد حسین ھمدانی 🌷

🔷 قربانی کا جانور خریدتے وقت 🔷 سرکار کو چاہیئے کہ جانوروں کی منڈی میں کَنڈے (ترازو) کی موجودگی کو یقینی بنائے ورنہ سادہ لوح صارفین بیوپاریوں اور قصائیوں کے جھوٹے دعووں کا با آسانی شکار ہو جاتے ہیں اجی اس میں تو کھلا چار من گوشت ہے سوا چار تو کہیں نہیں گیا یا پانچ نہ ہوا تو پیسے واپس لے جانا وغیرہ وغیرہ۔ بندہ پوچھے ماما تونے ہمیں بعد میں ملنا ہے؟ قصائی نے اپنا کمیشن کھرا کرکے تِتر ہو جانا ہے۔ صارف کی آسانی کے لئے ایک کلیہ بتا دیتا ہوں کہ کسی بھی جانور (گائے، بیل وغیرہ) کا گوشت اس کے زندہ وزن کا چالیس سے پینتالیس فیصد ہوتا ہے جسے Dressing percentage کہا جاتا ہے یعنی اگر سو کلو کا جانور ہے تو اس میں سے چالیس سے پینتالیس کلو گوشت نکلے گا البتہ بکروں میں یہ پینتیس سے پچپن فیصد تک ویری کرتا ہے جو کہ نسل اور جسامت پہ منحصر کرتا ہے۔ لیکن عام طور سے پچاس فیصد سے کم ہی ہوتا ہے۔ جانور خریدتے وقت پیٹ کے پْھلاوے پہ نہ جائیں بلکہ اسکی پیٹھ کی صحت دیکھیں اور تھوڑا کامن سینس سے بھی کام لیں مثلآ اگر کوئی یہ کہہ کر بیڑا بیچتا ہے کہ جی اس میں تو پانچ من گوشت ہے اور قیمت سوا دو لاکھ روپے ہے تو بھائی یہ سوچ لیں کہ پچاس ہزار روے من تو پھٹے (قصائی کا عام دنوں کا) کا ریٹ ہے یہ اس بھی کم یا اسی قیمت میں کیوں دے رہا ہے جبکہ عید کی قیمت اس کے علاوہ ہے اور اسی طرح دیسی بکرے کے بغیر پانی کے گوشت کی عام دنوں کی قیمت ایک لاکھ روپے من ہے یعنی پچیس سو روپے کلو۔ خریداری کے وقت یہ ذہن میں ہے کہ قربانی کی قیمت گائے کی فی من گوشت ساٹھ سے پینسٹھ ہزار اور بکرے کی پینتیس سو سے اوپر نہ پڑے۔ البتہ غیر معمولی جسامت اور خوبصورتی کے اضافی پیسے ہو سکتے ہیں جو اپنی حیثیت اور شوق کی بات ہے اور شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا ۔ نوٹ۔ گوشت کا ریٹ مختلف شہروں میں مختلف ہو سکتا ہے۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/6474 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

یوم ترویہ اور یوم عرفہ کی ایک وجہ تسمیہ
یوم ترویہ اور یوم عرفہ کی ایک وجہ تسمیہ

■ ماہ ذوالحجہ کی مناسبت سے پوسٹس لنکس۔۔۔ https://t.me/islamwitheman/3699 🌹 عقد حضرت علیؑ و سیدہ زہراءؑ https://t.me/islamwitheman/3676 🌷 نور کی نور سے شادی https://t.me/islamwitheman/3677 🌹خطبۂ عقد حضرت علیؑ و زھراءؑ https://t.me/islamwitheman/3678 🌹 سیدہ زھراءؑ کا حق مہر اور جہیز https://t.me/islamwitheman/3679 🌸 حضرت ابوذر غفاریؓ https://t.me/islamwitheman/3683 🌹 حضرت ابوذرؓ کا اسلام قبول کرنا https://t.me/islamwitheman/3684 🌺 حضرت ابوذرؓ کے فضائل https://t.me/islamwitheman/3685 🌼 حضرت ابوذرؓ کی جلاوطنی https://t.me/islamwitheman/3686 🍁 حضرت ابوذرؓ کی وفات https://t.me/islamwitheman/3687 🌹 رسول اکرمؐ سے عشقِ ابوذرؓ https://t.me/islamwitheman/3688 🌹 شہادت امام محمد باقر https://t.me/islamwitheman/3690 🔷️ امام حسین کی مکہ سے روانگی https://t.me/islamwitheman/3693 🌺 یوم عرفہ کی فضیلت https://t.me/islamwitheman/3698 🌺 یوم عرفہ کے اعمال https://t.me/islamwitheman/3699 🔷️ شہادت حضرت مسلم و طفلان https://t.me/islamwitheman/3701 🌹 سفیر امام حسین https://t.me/islamwitheman/3702 🔷️ ذوالجناح اور گائے https://t.me/islamwitheman/3704 🔷️ مولوی جی https://t.me/islamwitheman/3705 🔷️ قربانی کا گوشت https://t.me/islamwitheman/3706 🔷️ قربانی کے احکام https://t.me/islamwitheman/3716 🔷️ حلال گوشت جانور کے حرام اعضاء https://t.me/islamwitheman/3717 🔷️ قربانی کا صحیح وقت https://t.me/islamwitheman/3718 🌹 عید قربان کے 5 افضل عمل https://t.me/islamwitheman/3721 🔷️ شہادت طفلان حضرت مسلم https://t.me/islamwitheman/3723 🌹 ولادت مبارک امام علی النقی https://t.me/islamwitheman/3726 🌹 عید غدیر مبارک https://t.me/islamwitheman/3744 🌹 مختصر واقعۂ غدیر https://t.me/islamwitheman/3745 🌹 عید غدیر کیدن اطعام وانفاق کا ثواب https://t.me/islamwitheman/3746 🌹 غدیر خم میں پیغمبرؐ کا خطبہ https://t.me/islamwitheman/3747 🌹 اعمال عید غدیر بمعہ آثار و ثواب https://t.me/islamwitheman/3748 🔷 روزِ عید غدیر اس زیارت کو پڑھیں https://t.me/islamwitheman/3749 🌹 جشن عید غدیر https://t.me/islamwitheman/3750 🌹 تکمیل دین https://t.me/islamwitheman/3751 🌹عید غدیر کے اسماء و اوصاف t.me/islamwitheman/3756 🌺احتجاج حضرت زهراءؑ، حدیث غدیر t.me/islamwitheman/3757 🌺عید غدیر، عیدِ اکبر t.me/islamwitheman/3758 🌹سیدہ زھراءؑ کی رخصتی t.me/islamwitheman/3760 💝حضرت علیؑ و فاطمہؑ کی شادی t.me/islamwitheman/3762 🌴شہادت حضرت میثم تمارؓ اسدی t.me/islamwitheman/3765 t.me/islamwitheman/3766 🌹مولا علیؑ اور میثم تمارؓ t.me/islamwitheman/3767 🌷مباہلہ نبوت و امامت کی حقانیت t.me/islamwitheman/3773 🔷آیت مباہلہ t.me/islamwitheman/3775 🔷اعمال عید مباہلہ t.me/islamwitheman/3776 🔷آیت ولایت t.me/islamwitheman/3780 🌹مباہلہ کا مختصر واقعہ t.me/islamwitheman/3781 🔷آیت مباھلہ، امام رضاؑ کا استدلال t.me/islamwitheman/3782 🌹ولادت باسعادت بیبی سکینہؑ t.me/islamwitheman/3784 🌷26 ذوالحجه روزِ ایثارِ اهلبیتؑ t.me/islamwitheman/3785 🔷️واقعہ حرہ t.me/islamwitheman/3799 🔷ذوالحجہ کی آخری تاریخ کی نماز t.me/islamwitheman/3801 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

”یہ ہم نہیں کرسکتے۔“ سیکریٹری نے جواب دیا۔"حضور! جو ہم کرسکتے تھے،وہ ہم نے کردیا ہے۔بلکہ ہم تو یہاں تک کرسکتے ہیں کہ اگر تم مرجاؤ تو تمہاری بیوی کو وظیفہ دے سکتے ہیں۔اگر تم درخواست دو تو،ہم وہ بھی کرسکتے ہیں۔“ ”میں ابھی زندہ ہوں۔"شاعر رک رک کر بولا۔”مجھے زندہ رکھو۔“ ”مصیبت یہ ہے۔"سرکاری اکادمی کا سیکرٹری ہاتھ ملتے ہوئے بولا۔ ”ہمارامحکمہ صرف کلچرل سے متعلق ہے۔ درخت کاٹنے کامعاملہ قلم دوات سے نہیں، آری کلہاڑی سے متعلق ہے۔ اس لئے ہم نے فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کو لکھ دیا ہے۔اور ارجنٹ لکھا ہے۔" شام کو مالی نے دبے ہوئے آدمی کو بتایا،”کل فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کے آدمی آکر اس درخت کو کاٹ دیں گے اور تمہاری جان بچ جائے گی۔“ مالی بہت خوش تھا۔ دبے ہوئے آدمی کی صحت جواب دے رہی تھی مگر وہ کسی نہ کسی طرح اپنی زندگی کے لئے لڑے جارہا تھا۔ کل تک، صبح تک۔۔۔۔۔ کسی نہ کسی طرح اسے زندہ رہنا ہے۔ دوسرے دن جب فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کے آدمی آری کلہاڑی لے کر پہنچے ، تو ان کو درخت کاٹنے سے روک دیا گیا ۔ معلوم ہوا کہ محکمہء خارجہ سے حکم آیا تھا کہ: اس درخت کو نہ کاٹا جائے ۔ وجہ یہ تھی کہ اس درخت کو دس سال پہلے حکومت پی ٹو نیا کے وزیراعظم نے سیکرٹریٹ کے لان میں لگایا تھا ۔ اب اگر یہ درخت کاٹا گیا تو اس امر کا شدید اندیشہ ہے کہ حکومت پی ٹو نیا سے ہمارے تعلقات ہمیشہ کے لیے بگڑ جائیں گے ۔ ’’مگر ایک یہ آدمی کی جان کا سوال ہے ۔ ‘‘ ایک کلرک غصّہ سے چِلّایا ۔ ’’دوسری طرف دو حکومتوں کے تعلقات کا سوال ہے ۔ ‘‘ دوسرے کلرک نے پہلے کلرک کو سمجھایا ۔ ’’اور یہ بھی تو سمجھو کہ حکومت پی ٹو نیا ہماری حکومت کو کتنی امداد دیتی ہے ۔ کیا ہم ان کی دوستی کی خاطر ایک آدمی کی زندگی کو بھی قربان نہیں کرسکتے;238;‘‘ ’’شاعر کو مرجانا چاہیے ۔ ‘‘ ’’بلاشبہ!‘‘ انڈر سیکرٹری نے سپرنٹنڈنٹ کو بتا یا : ’’آج صبح وزیراعظم دورے سے واپس آئیں گے ۔ آج چار بجے محکمہء خارجہ اس درخت کی فائل ان کے سامنے پیش کرے گا ۔ جو وہ فیصلہ دیں گے ،وہی سب کو منظور ہوگا ۔ ‘‘ شام کے پانچ بجے خود سپرنٹنڈنٹ شاعر کی فائل لے کر اس کے پاس آیا ۔ ’’سنتے ہو!‘‘ آتے ہی وہ خوشی سے فائل کو ہلاتے ہوئے چِلّا ےا ۔ ’’وزیراعظم نے اس درخت کو کاٹنے کا حکم دیا ہے اور اس واقعہ کی ساری بین الاقوامی ذمہ داری اپنے سر لے لی ہے ۔ کل یہ درخت کاٹ دیا جائے گا اور تم اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرلوگے ۔ ‘ ’’سنتے ہو!آج تمہاری فائل مکمل ہوگئی ۔ ‘‘سپرنٹنڈنٹ نے شاعر کے بازو کو ہلاکرکہا ۔ مگر شاعر کا بازو سرد تھا ۔ آنکھوں کی پُتلیاں بے جان اور چیونٹیوں کی ایک لمبی قطاراس کے منہ میں جارہی تھی ۔ اس کی زندگی کی فائل بھی مکمل ہوچکی تھی ۔ منقول 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/6469 https://t.me/islamwitheman/6470 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

آدمی کو کاٹنے والی تجویز پیش کرنے والے نے پرزور احتجاج کیا، ”آپ جانتے نہیں ہیں۔آج کل پلاسٹک سرجری کتنی ترقی کرچکی ہے۔ میں تو سمجھتا ہوں اگر اس آدمی کو بیچ میں سے کاٹ کر نکال لیا جائے تو پلاسٹک سرجری کے ذریعے دھڑ کے مقام پر اس آدمی کو پھر سے جوڑا جا سکتا ہے۔“ اب کے فائل کو میڈیکل ڈپارٹمنٹ میں بھیج دیا گیا۔ میڈیکل ڈپارٹمنٹ نے اس پرفوراً ایکشن لیا۔ اور جس دن فائل ان کے محکمہ میں پہنچی،اس کے دوسرے ہی دن اپنے محکمے کا سب سے قابل پلاسٹک سرجن تحقیقات کے لیے بھیج دیا۔ سرجن نے دبے ہوئے آدمی کو اچھی طرح ٹٹول کر، اس کی صحت دیکھ کر،خون کا دباؤ، سانس کی آمدورفت، دل، پھیپڑوں کی جانچ کرکے رپورٹ بھیج دی: "کہ اس آمی کا آپریشن تو ہوسکتا ہے، اور آپریشن کامیاب ہوجائے گا،مگر آدمی مرجائے گا۔“ لہٰذا یہ تجویز بھی مسترد کردی گئی۔ رات کو مالی نے دبے ہوئے آدمی کو دال بھات کھلایا۔ حالاں کہ ان کے چاروں اطراف پولیس کا پہرہ تھاکہ کہیں لوگ قانون کو ہاتھ میں نہ لے لیں۔ درخت کو خود سے ہٹوانے کی کوشش نہ کریں۔مگر ایک پولیس کانسٹیبل کو رحم آگیا۔ اس نے مالی کو دبے ہوئے آدمی کو کھانا کھلانے کی اجازت دے دی۔ مالی نے دبے ہوئے آدمی سے کہا، ”تمہاری فائل چل رہی ہے۔ امید ہے کل تک فیصلہ ہوجائے گا۔“ دبا ہوا آدمی کچھ نہیں بولا۔مالی نے پھر کہا۔ ”یہاں تمہارا کوئی وارث ہے تو اس کا اتا پتا دیں۔ میں انہیں خبردینے کی کوشش کروں گا۔“ ”میں لاوارث ہوں۔“ دبے ہوئے آدمی نے بڑی مشکل سے کہا۔ مالی افسوس ظاہرکرتا ہواوہاں سے ہٹ گیا۔ رات کو مالی نے دبے ہوئے آدمی کے منہ میں کھچڑی کے لقمے ڈالتے ہوئے اسے بتایا۔ ”اب معاملہ اوپر چلاگیا ہے۔۔۔ سنا ہے کل سیکرٹریٹ کے سارے سیکرٹریوں کی میٹنگ ہوگی۔ اس میں تمہارا کیس رکھا جائے گا۔امید ہے سب کام ٹھیک ہوجائے گا۔“ دبا ہوا آدمی آہ بھر کے آہستہ سے بولا۔ ؎ ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک مالی نے اچبنھے سے منہ میں انگلی دبائی، حیرت سے بولا۔ ”کیا تم شاعر ہو؟“ دبے ہوئے آدمی نے آہستہ سے سرہلایا۔ دوسرے دن مالی نے چپراسی کو بتایا، چپراسی نے کلرک کو۔ تھوڑے ہی عرصے میں سیکرٹریٹ میں یہ افواہ پھیل گئی کہ دبا ہواآدمی شاعر ہے۔بس پھر کیا تھا،لوگ جوق در جوق شاعر کو دیکھنے کے لیے آنے لگے۔ اس کی خبر شہر میں بھی پھیل گئی۔ اور شام تک محلے محلے سے شاعر جمع ہونا شروع ہوگئے۔ سیکرٹریٹ کا لان بھانت بھانت کے شاعروں سے بھر گیا۔ اور دبے ہوئے آدمی کے گرد ایک مشاعرہ بپاہوگیا۔ سیکرٹریٹ کے کئی کلرک اور انڈر سیکرٹریز تک، جنہیں شعر وادب سے لگاؤ تھا۔ وہ رک گئے۔ کچھ شاعر دبے ہوئے آدمی کو اپنی غزلیں اور نظمیں سنانے لگے۔ جب یہ پتہ چلا کہ دبا ہوا آدمی ایک شاعر ہے، تو سیکرٹریٹ کی سب کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ چونکہ دباہوا آدمی ایک شاعر ہے۔ لہٰذا اس فائل کا تعلق نہ ایگری کلچرل ڈپارٹمنٹ سے ہے نہ ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ سے، بلکہ صرف کلچرل ڈپارٹمنٹ سے ہے۔کلچرل ڈپارٹمنٹ سے استدعاکی گئی کہ جلد سے جلد اس معاملے کا فیصلہ کرکے اس بدنصیب شاعر کو اس شجرِ سایہ دار سے رہائی دلائی جائے۔ فائل کلچرل ڈپارٹمنٹ کے مختلف شعبوں سے گزرتی ہوئی ادبی اکیڈمی کے سیکریٹری کے پاس پہنچی۔ بے چارہ سیکریٹری اسی وقت اپنی گاڑی میں سوار ہوکر سیکریٹریٹ پہنچااور دبے ہوئے آدمی سے انٹرویو لینے لگا۔ ”تم شاعر ہو؟“اس نے پوچھا۔ ”جی ہاں!“دبے ہوئے آدمی نے جواب دیا۔ ”کیا تخلص کرتے ہو؟“ ”اوس۔ؔ“ ”اوس!!!ؔ“ سیکرٹری زور سے چیخا۔”کیا تم وہی اوس ہو جس کا مجموعہ ”اوس کے پھول“ حال میں ہی شائع ہو اہے؟" دبے ہوئے آدمی نے اثبات میں سرہلایا۔ ”کیا تم ہماری اکادمی کے ممبر ہو؟“سیکرٹری نے پوچھا۔ ”نہیں۔“ ”حیرت ہے!“ سیکریٹری زور سے چیخا،" اتنا بڑا شاعر،”اوس کے پھول“ کا مصنف،اور ہماری اکادمی کا ممبر نہیں ہے۔۔!! اف۔۔!اف!!کیسی غلطی ہوگئی ہم سے!!کتنا بڑا شاعر، اور کیسے گوشہء گمنامی میں دبا پڑا ہے!" ”گمنامی میں نہیں، ایک درخت کے نیچے دبا ہوں۔براہ کرم مجھے اس درخت کے نیچے سے نکالیے۔“ ”ابھی بندوبست کرتاہوں۔“ سیکریٹری فوراً بولا۔ اور فوراً جا کر اس نے اپنے محکمے میں رپورٹ کی۔ دوسرے دن سیکرٹری بھاگابھاگا شاعر کے پاس آیا اور بولا،”مبارک ہو!! مٹھائی کھلاؤ! ہماری سرکاری اکادمی نے تمہیں اپنی مرکزی کمیٹی کاممبر چُن لیا ہے۔ یہ لو پروانہء انتخاب۔“ ”مگر مجھے اس درخت کے نیچے سے تو نکالو۔“ دبے ہوئے آدمی نے کراہ کرکہا۔اس کی سانس بڑی مشکل سے چل رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ شدید تشنج اور کرب میں مبتلا ہے۔

🔷 جامن کا پیڑ 🔷 کرشن چندر کی مشہور کہانی پڑھیں جسے بھارت میں دسویں جماعت کے نصاب سے ہٹا دیا گیا ہے۔ رات کو بڑے زور کا جھکڑ چلا۔ سیکریٹریٹ کے لان میں جامن کا ایک درخت گرپڑا۔ صبح جب مالی نے دیکھا تو اسے معلوم ہوا کہ درخت کے نیچے ایک آدمی دبا پڑا ہے۔مالی دوڑا دوڑا چپراسی کے پاس گیا،چپراسی دوڑا دوڑا کلرک کے پاس گیا، کلرک دوڑا دوڑا سپرنٹنڈنٹ کے پاس گیا،سپرنٹنڈنٹ دوڑا دوڑاباہر لان میں آیا۔ منٹوں میں درختوں کے نیچے دبے ہوئے آدمی کے گرد مجمع اکٹھا ہوگیا۔ ”بے چارہ!جامن کا پیڑ،کتنا پھل دار تھا!" ایک کلرک بولا۔ "اور اس کی جامنیں کتنی رسیلی ہوتی تھیں۔“ دوسرا کلرک یاد کرتے ہوئے بولا۔ ”میں پھلوں کے موسم میں جھولی بھرکے گھر لے جاتا تھا۔" " میرے بچے اس کی جامنیں کتنی خوشی سے کھاتے تھے۔“تیسرا کلرک تقریباً آبدیدہ ہوکر بولا۔ "مگریہ آدمی۔۔!!!" مالی نے دبے ہوئے آدمی کی طرف اشارہ کیا۔ "ہاں، یہ آدمی۔۔۔۔!" سپرنٹنڈنٹ سوچ میں پڑ گیا۔ ”مرگیا ہوگا!اتنا بھاری تنا جس کی پیٹھ پر گرے وہ بچ سکتا ہے؟“دوسرا چپراسی بولا۔ دبے ہوئے آدمی نے بمشکل کراہتے ہوئے کہا۔ ”نہیں!میں زندہ ہوں۔“ ”درخت کو ہٹا کر اسے جلدی سے نکال لینا چاہیے۔"مالی نے مشورہ دیا۔ ”مشکل معلوم ہوتا ہے۔"ایک کاہل اور موٹاچپراسی بولا، ”درخت کا تنا بہت بھاری اور وزنی ہے۔" ”کیا مشکل ہے۔ "مالی بولا،”اگر سپرنٹنڈ نٹ صاحب حکم دیں تو ابھی پندرہ بیس مالی چپراسی، کلرک لگاکر درخت کے نیچے سے دبے ہوئے آدمی کو نکالا جاسکتا ہے۔" ”مالی ٹھیک کہتا ہے۔ "بہت سے کلرک ایک دم بول پڑے، "لگاؤ زور، ہم تیار ہیں۔"ایک دم بہت سے لوگ درخت اٹھانے کو تیار ہوگئے۔ ”ٹھہر و!!!" سپرنٹنڈنٹ بولا:"میں انڈر سیکریٹری سے مشورہ کرلوں۔" سپرنٹنڈنٹ انڈرسیکریٹری کے پاس گیا، انڈر سیکریٹری ڈپٹی سیکریٹری کے پاس گیا، ڈپٹی سیکریٹری جوائنٹ سیکریٹری کے پاس گیا،جوائنٹ سیکریٹری چیف سیکریٹری کے پاس گیا۔چیف سیکریٹری نے جوائنٹ سیکریٹری سے کچھ کہا، جوائنٹ سیکریٹری نے ڈپٹی سیکریٹری سے کہا، ڈپٹی سیکریٹری نے انڈر سیکریٹری سے کہا۔ فائل چلتی رہی۔اس میں آدھا دن گزرگیا۔ دوپہر کے کھانے پر دبے ہوئے آدمی کے گرد بہت بھیڑ جمع ہوگئی تھی۔لوگ طرح طرح کی باتیں کررہے تھے۔ کچھ من چلے کلرکوں نے معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیناچاہا، وہ حکومت کے فیصلے کاانتظار کیے بغیر درخت کو خود سے ہٹانے کا تہیہ کررہے تھے، کہ اتنے میں سپرنٹنڈنٹ فائل لیے بھاگا بھاگا آیا اور بولا: ”ہم لوگ خود سے اس درخت کو نہیں ہٹا سکتے۔ہم لوگ محکمہء تجارت سے متعلق ہیں۔اور یہ درخت کا معاملہ ہے جو محکمہ ء زراعت کی تحویل میں ہے۔اس لیے میں اس فائل کو ارجنٹ مارک کرکے محکمہ ء زراعت میں بھیج رہاہوں۔ وہاں سے جواب آتے ہی درخت کو ہٹادیا جائے گا۔“ دوسرے دن محکمہء زراعت سے جواب آگیا کہ درخت محکمہء تجارت کے لان میں گرا ہے۔ اس لئے درخت کو ہٹوانے یا نہ ہٹوانے کی ذمہ داری محکمہء تجارت پر عائد ہوتی ہے۔یہ جواب پڑھ کر محکمہ ء تجارت کو غصہ آگیا۔انہوں نے فوراً لکھاکہ: پیڑوں کو ہٹوانے یا نہ ہٹوانے کی ذمہ داری محکمہء زراعت پر عائد ہوتی ہے۔محکمہء تجارت کا اس معاملے میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسرے دن بھی فائل چلتی رہی۔شام کو جواب آگیا کہ ہم اس معاملہ کوہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ کے سپرد کررہے ہیں۔کیوں کہ یہ ایک پھلدار درخت کا معاملہ ہے اورایگری کلچرل ڈپارٹمنٹ صرف اناج اور کھیتی باڑی کے معاملہ میں فیصلہ کرنے کا مجاز ہے۔ جامن کا پیڑ ایک پھل دار پیڑ ہے،اس لیے یہ پیڑہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ تیسرے دن ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ سے جواب آگیا۔بڑا کڑا جواب تھا،اور طنزآمیز۔ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ کا سیکرٹری ادبی مزاج کا آدمی معلوم ہوتا تھا۔ اس نے لکھا تھا: ”حیرت ہے! اس سمے میں جب ہم درخت اگاؤ اسکیم بڑے پیمانے پر چلارہے ہیں،ہمارے ملک میں ایسے سرکاری افسر موجود ہیں جو درختوں کو کاٹنے کامشورہ دیتے ہیں۔اور وہ بھی اک پھل دار درخت کو! اور وہ بھی جامن کے درخت کو۔ جس کا پھل عوام بڑی رغبت سے کھاتے ہیں۔ہمارا محکمہ کسی حالت میں اس پھلدار درخت کو کاٹنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔“ ”اب کیا کیا جائے!!“ ایک منچلے نے کہا۔" اگر درخت کاٹا نہیں جاسکتا تو اس آدمی کو کاٹ کر نکال لیا جائے۔“ ”یہ دیکھئے!“ اس آدمی نے اشارہ سے بتایا،”اگر اس آدمی کو عین بیچ میں سے، یعنی دھڑکے مقام سے کاٹا جائے،تو آدمی ادھر سے ادھر نکل آئے گا۔ آدھا آدمی ادھر سے باہر آجائے گا اور درخت وہیں کا وہیں رہے گا۔" ”مگر اس طرح تو میں مرجاؤں گا۔" دبے ہوئے آدمی نے احتجاج کیا۔ ”یہ بھی ٹھیک کہتا ہے۔“ کلرک بولا۔

قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنا اہلبیت علیھم السلام کی سنت ہے۔
قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنا اہلبیت علیھم السلام کی سنت ہے۔

قربانی کا گوشت غریبوں کو کھلاؤ
قربانی کا گوشت غریبوں کو کھلاؤ

قربانی کا جانور خردیدنے میں بھاؤ تاؤ کرنا
قربانی کا جانور خردیدنے میں بھاؤ تاؤ کرنا

قرض صدقے سے بہتر ہے
قرض صدقے سے بہتر ہے

غمگین آدمی کے سامنے اظہار خوشی کرنا خلاف ادب ہے
غمگین آدمی کے سامنے اظہار خوشی کرنا خلاف ادب ہے

اس شخص سے لین دین نہ کرو جس سے تم اپنا حق نہ لے سکو
اس شخص سے لین دین نہ کرو جس سے تم اپنا حق نہ لے سکو

اپنے ایمان کو صدقہ دے کر محفوظ رکھو اور اپنے مال و دولت کو زکات دے کر محفوظ بناؤ اور دعا کے ذریعے بلاء و مصیبت کی موجوں کو اپ
اپنے ایمان کو صدقہ دے کر محفوظ رکھو اور اپنے مال و دولت کو زکات دے کر محفوظ بناؤ اور دعا کے ذریعے بلاء و مصیبت کی موجوں کو اپنے اپ سے دور رکھو

مصیبت کے وقت اہلبیت علیھم السلام کے وسیلے سے اللہ سے مدد مانگو
مصیبت کے وقت اہلبیت علیھم السلام کے وسیلے سے اللہ سے مدد مانگو

صدقہ بھیک مانگنے والوں کی بجائے اپنے قربت داروں کو دو اس میں زیادہ اجر ہے
صدقہ بھیک مانگنے والوں کی بجائے اپنے قربت داروں کو دو اس میں زیادہ اجر ہے

دو باتوں میں تلخ ہوتی ہے ایک تو آئے روز مکان بدلنا دوسرے روٹی بازار سے خریدنا
دو باتوں میں تلخ ہوتی ہے ایک تو آئے روز مکان بدلنا دوسرے روٹی بازار سے خریدنا

ٹک ٹاک: شہرت کی سیڑھی یا قبر کی دہلیز؟ ثنا یوسف۔۔۔ ایک اور روشن چہرہ، جو اسکرین پر آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا، اب قبر کی مٹی تلے مدھم ہو چکا ہے۔ آخرکار، شہرت کی اس مصنوعی دوڑ کا "مقدر" گولی نکلا۔ ٹک ٹاک پر چند سیکنڈ کی ویڈیوز، اور حقیقت میں زندگی کا آخری سین۔ یہ سوشل میڈیا نہیں، ایک سلو پوائزن ہے – آہستہ آہستہ زہر، جو شہرت کے خواب دکھا کر زندگی نگل لیتا ہے۔ پہلے فالوورز کے نشے میں مدہوش، پھر کردار کی حدود سے باہر، اور آخر میں خون میں لت پت۔ کاش انسٹاگرام کے فلٹرز کی طرح، موت پر بھی کوئی فلٹر لگتا! جو لوگ اس "کانٹینٹ" پر تالیاں بجاتے ہیں، دل والے ایموجی پھینکتے ہیں، وہ ذرا خود کو آئینے میں دیکھیں۔ قاتل صرف بندوق تھامنے والا نہیں ہوتا، قاتل وہ بھی ہوتا ہے جو گمراہی کو تفریح سمجھتا ہے، جو بے حیائی کو "بولڈ کانٹینٹ" کہہ کر پروموٹ کرتا ہے۔ اب آتے ہیں "والدین" نامی اس معصوم کردار کی طرف… جنہوں نے بچوں کو اسکرین دی، لیکن زندگی کا اسکرپٹ لکھنا بھول گئے۔ جنہوں نے موبائل تو پکڑا دیا، لیکن تربیت کا چارجر ساتھ لگانا گوارا نہ کیا۔ جن کے نزدیک بچوں کو مصروف رکھنے کا بہترین طریقہ ٹک ٹاک تھا ..."بس خاموش رہیں، موبائل کھیلنے دو!" جنہوں نے غیرت اور تہذیب کو پرانی باتیں سمجھا، اور بچے کو "سیلیبریٹی" بننے پر فخر کیا۔ جو اُس وقت نہیں روکتے جب سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ جو اپنی اولاد کی موت کا گڑھا اپنے ہی ہاتھوں سے کھودتے ہیں۔اور پھر ساری عمر ماتم کرتے ہیں۔ اور سترہ سال! وہ عمر جہاں زندگی صرف خواب بنتی ہے، وہاں اس کا جنازہ اٹھا۔ تو لیجیے، سنا یوسف کی کہانی بھی ختم ہوئی۔ اب اگلی باری کس کی ہے؟ فیصلہ آپ کے فالو بٹن کے نیچے چھپا ہے… 🔷🔷🔷🔷🔷

🔷 پہلی صدی عیسوی میں بیت الخلاء 🔷 جب دنیا کے بیشتر خطوں میں رفع حاجت کیلئے کوئی مناسب انتظام نہ تھا اور نہ ہی اس مقصد کیلئے کوئی مخصوص مقام مختص کیا جاتا تھا۔ لوگ گھروں سے باہر دور کہیں کھیتوں میں یا ویرانوں میں جا کر رفع حاجت کرتے تھے۔ قدیم روم کی تہذیب میں اس وقت بھی پبلک ٹائیلٹ کا باقاعدہ ایک نظام متعارف تھا۔ جس کے تحت آبادی کی ضرورت کے مطابق عوامی بیت الخلاء تعمیر کئے جاتے تھے جہاں پر ایک چھت کے نیچے بیک وقت تقریباً 20 لوگ بیٹھ کر فراغت حاصل کر سکتے تھے۔ پہلی صدی عیسوی میں قائم ہونے والے ان بیت الخلاؤں کی تعمیر طبقاتی تقسیم کے مطابق کی جاتی۔ یہ انفرا سٹرکچر عموماً عوام، افسرانِ بالا اور حکمرانوں کی ضروریات کو مدِ نظر رکھ کر تعمیر کیا جاتا تھا، جبکہ استنجا یا صفائی کا تصور اس وقت بھی ان کے ہاں موجود تھا۔ ایک خاص قسم کی لکڑی کے آگے سپنج نما کپڑا باندھ کر اسے سرکہ یا نمک والے پانی میں بھگویا جاتا تھا اور پھر اسی مخصوص آلہ جسے ٹیرسوریم tersorium کہا جاتا تھا کی مدد سے غلاظت کو صاف کیا کرتے تھے۔ استعمال کرنے کے بعد اسے بعد میں آنے والے شخص کیلئے وہیں چھوڑ دیا جاتا۔ ان لیٹرینوں کے درمیان میں پتھریلی چٹانوں کو تراش کر ٹینک نما سٹرکچر بنایا جاتا تھا جس میں نمک اور سرکے والا محلول پڑا ہوتا تھا اور وہ اس ٹیرسوریم کو اس میں بھگو کر نیپی واش کیا کرتے تھے۔ یہ عوامی بیت الخلاء روم کے ہر شہر میں کثرت سے تعمیر کئے گئے تھے۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/6456 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕