en
Feedback

Don't get caught by a cheater! Telemetrio finds and tags such channels 👉 If you want to see the tag, subscribe

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Open in Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Show more
1 278
Subscribers
No data24 hours
-37 days
-1330 days
Posts Archive
یہ کوئی عام تصویر نہیں...!! بظاہر عام سی نظر آنے والی نیشنل جیوگرافک کی اِس تصویر نے ”سال کی بہترین تصویر“ کا ایوارڈ جیتا ھے.
یہ کوئی عام تصویر نہیں...!! بظاہر عام سی نظر آنے والی نیشنل جیوگرافک کی اِس تصویر نے ”سال کی بہترین تصویر“ کا ایوارڈ جیتا ھے. کیوں ؟؟ تصویر کو الٹا کر کے زوم اِن کر کے دیکھیں، وجہ خُود سمجھ میں آجائے گی. زندگی کے روز مرہ کے معاملات میں بھی ہمیں بارہا ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ھے، ہم دیکھ کُچھ اور رہے ہوتے ہیں، نظر کُچھ اور آرہا ہوتا ھے. ہر منظر کا ایک پسِ منظر ہوتا ھے، ضروری نہیں وہ جیسا نظر آرہا ہوتا ھے حقیقت میں بھی ویسا ہی ہو. ظاہری منظر اور پسِ منظر ایک دُوسرے سے یکسر مُختلف اور مُتضاد ہو سکتے ہیں اور اکثر ہوتے بھی ہیں. سچ کی کھوج کے مُسافر ہر چیز کو، ہر منظر کو ” زوم اِن“ کر کے دیکھتے ہیں. چیزوں کو ”زوم اِن“ کر کے دیکھنے کی عادت ڈالیں، اصل سچ کو دونوں بانہیں کھولے بھرپور مُسکراہٹ کے ساتھ اپنا استقبال کرتے ہوئے پائیں گے. ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ‏ایک استاد کا سبق آموز واقعہ 🔷 ایک دن چند طلباء نے اپنے استاد سے کہا، سر آج آپ ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلیں۔ اُستاد نے کہا، ضرور، مجھے تو کرکٹ کا بہت شوق ہے۔ کھیل شروع ہوا تو دیگر کلاسوں کے طلباء بھی میچ دیکھنے میدان میں آگئے سب کی توجہ اُستاد پر تھی۔ پانچ گیندوں پر اُستادِ محترم نے صرف دو رن بنائے اور چھٹی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے۔ طلباء نے شور مچا کر بھرپور خوشی کا اظہار کیا۔ دوسرے دن کلاس میں استاد نے پوچھا کون کون چاہتا تھا کہ میں اس کی گیند پر آؤٹ ہو جاؤں..؟ ‏سب باؤلرز نے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔ وہ ہنس دیئے اور پوچھا، یہ بتاؤ میں کرکٹر کیسا ہوں..؟ سب نے یک زباں ہو کر کہا ،بہت برے۔ پوچھا، اچھا میں استاد کیسا ہوں۔ جواب ملا بہت اچھے۔ استاد نے ہنستے ہوئے کہا، صرف آپ نہیں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میرے ہزارہا طلباء جن میں کئی میرے نظریاتی مخالف ہیں، سب کہتے ہیں کہ میں اچھا استاد ہوں۔ راز کی بات بتاؤں میں جتنا اچھا استاد ہوں، اتنا اچھا طالبِ علم نہیں تھا، مجھے ہمیشہ سبق یاد کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور بات سمجھنے میں وقت لگتا تھا لیکن ‏کیا آپ بتا سکتے ہیں اس کے باوجود مجھے اچھا استاد کیوں مانا جاتا ہے..؟ سر آپ بتائیں، ہمیں نہیں معلوم، طلباء نے جواباََ کہا۔ استاد نے کہا، اپنا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک دن میں اپنے ٹیچر کے گھر دعوت کی تیاری میں ان کی مدد کر رہا تھا۔ فریزر سے برف نکالی، جسے توڑنے کے لئے کمرے میں کوئی چیز نہیں تھی۔ استاد کام کے لئے کمرے سے باہر نکلے تو میں نے مکا مار کر برف توڑ دی اور استاد کے آنے سے پہلے جلدی سے ٹوٹی ہوئی برف دیوار پر بھی دے ماری... ‏استاد محترم کمرے میں آئے تو دیکھا کہ میں نے برف دیوار پر مار کر توڑی ہے۔ انہوں نے مجھے ڈانٹا اور کہا کہ تمہیں عقل کب آئے گی، یوں برف توڑی جاتی ہے۔ میں نے ان کی ڈانٹ خاموشی سے سنی، بعد میں انہوں نے میری اس بیوقوفی کا ذکر کئی جگہ کیا۔ لیکن انہیں آج تک نہیں معلوم کہ برف میں نے مکا مار کر توڑی تھی۔ ‏یہ بات میں نے انہیں اس لیے نہیں بتائی کہ وہ ایک ہاتھ سے معذور تھے، ان کی غیر موجودگی میں، میں نے جوانی کے جوش میں مکا مار کر برف توڑ دی لیکن جب ان کی معذوری کا خیال آیا تو سوچا کہ کہیں میرے طاقت کے مظاہرے سے انہیں احساس کمتری نہ ہو، اس لیے میں نے برف دیوار پر مارنے کی احمقانہ حرکت کی اور کئی سال تک ان کی ڈانٹ سنتا رہا۔ ‏ایک آپ لوگ ہیں، ایک دوسرے کو چیخ چیخ کر ہدایات دے رہے تھے کہ سر کو آوٗٹ کرو۔ یاد رکھو جیتنا سب کچھ نہیں ہوتا، کبھی ہارنے سے بھی زندگی میں جیت کے رستے کھلتے ہیں۔ آپ طاقت میں اپنے اساتذہ اور والدین سے بیشک آگے بڑھ جاتے ہیں لیکن زندگی میں کبھی اپنے اساتذہ اور والدین سے جیتنے کی کوشش نہ کرنا، ایسا کر کے آپ کبھی نہیں ہاریں گے۔ اللہ پاک آپ کو ہر میدان میں سرخرو کرے گا۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 ہمت نہ ہاریں بلکہ سوچ بدلیں🌹 کُمہار مَٹّی سے کُچھ بنا رہا تھا، کہ اُس کی بیوی نے پاس آ کر پُوچھا، کیا کر رہے ہو۔؟ کمہار بولا: حُقَّہ کی چِلَم بنا رہا ہُوں، آج کل بہت بِک رہی ہے، کمائی اچھی ہو جائے گی۔ بیوی نے جواب دیا کہ زِندگی کا مقصد صِرف کمائی کا ذریعہ ہی تَو نہیں، کُچھ اور بھی ہے، تُم میری مانو، آج صُراحی (گھڑا) بناؤ، گرمی ہے، وہ بھی خُوب بِکے گی، مگر! ساتھ ساتھ لوگوں کی پیاس بُجھانے کے کام بھی آئے گی۔ کمہار نے کُچھ سوچا اور مَٹّی کو نئے رُوپ میں ڈھالنا شروع کیا، تَو اچانک مَٹّی نے پُوچھا، یہ کیا کر رہے ہو۔؟ میرا رُوپ بدل دیا، کیوں؟ کمہار نے جواب دیا: میری سوچ بدل گئی ہے، پہلے تُمہارے پَیٹ میں آگ بھر رہا تھا، اب پانی بھرے گا، اور مَخلُوقِ خُدا نفع حاصل کرے گی۔ مٹی بولی: تُمہاری تَو صِرف سوچ بدلی ہے، میری تَو زِندگی بدل گئی ھے، مَیں تکلیف سے نِکل کر آسانی میں آگئی ہوں۔ 🔘 آپ ہمت نہ ہاریں بلکہ اپنی سوچ بدلئے زِندگی خُود بَخُود بدل جائے گی۔ مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہمت ہار جانا کم عقلی کی نشانی ہے۔ 📚 صحیفہ پنجتن، ص50۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ مزید اچھی اچھی پوسٹوں کیلئے اس وٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 اچھی باتیں 🌹 ‏ایک بادشاہ نے اعلان کر رکھا تھا کہ جو اچھی بات کہے گا اس کو چار سو دینار (سونے کے سکے) دیئے جائیں گے...!!!! ایک دن بادشاہ رعایا کی دیکھ بھال کرنے نکلا اس نے دیکھا ایک نوے سال کی بوڑھی عورت زیتون کے پودے لگا رہی ہے بادشاہ نے کہا تم پانچ دس سال میں مر جاؤ گی اور یہ درخت بیس سال بعد پھل دیں گے تو اتنی مشقت کرنے کا کیا فائدہ؟؟؟ بوڑھی عورت نے جواباً کہا ہم نے جو پھل کھائے وہ ہمارے بڑوں نے لگائے تھے اور اب ہم لگا رہے ہیں تاکہ ہماری اولاد کھائے...!!!! بادشاہ کو اس بوڑھی عورت کی بات پسند آئی حکم دیا اس کو چار سو دینار دے دیئے جائیں...!!!! جب بوڑھی عورت کو دینار دیئے گئے وہ مسکرانے لگی...!!!! بادشاہ نے پوچھا کیوں مسکرا رہی ہو؟؟؟ بوڑھی عورت نے کہا کہ زیتون کے درختوں نے بیس سال بعد پھل دینا تھا جبکہ مجھے میرا پھل ابھی مل گیا ہے...!!!! بادشاہ کو اس کی یہ بات بھی اچھی لگی اور حکم جاری کیا اس کو مزید چار سو دینار دیئے جائیں...!!!! جب اس عورت کو مزید چار سو دینار دیئے گئے تو وہ پھر مسکرانے لگی...!!!! بادشاہ نے پوچھا اب کیوں مسکرائی؟؟؟ بوڑھی عورت نے کہا زیتون کا درخت پورے سال میں صرف ایک بار پھل دیتا ہے جبکہ میرے درخت نے دو بار پھل دے دیئے ہیں..!!!! بادشاہ نے پھر حکم دیا اس کو مزید چار سو دینار دیئے جائیں یہ حکم دیتے ہی بادشاہ تیزی سے وہاں سے روانہ ہو گیا...!!!! وزیر نے کہا حضور آپ جلدی سے کیوں نکل آئے؟؟؟ بادشاہ نے کہا اگر میں مزید اس عورت کے پاس رہتا تو میرا سارا خزانہ خالی ہو جاتا مگر عورت کی حکمت بھری باتیں ختم نہ ہوتیں...!!!! 🔹 مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ دل بھی اسی طرح تھکتے ہیں جس طرح بدن تھکتے ہیں۔ لہذا (جب ایسا ہو تو) ان کے لیے لطیف حکیمانہ جملے تلاش کرو۔ (نہج البلاغہ حکمت 197) 🔘 اچھی بات دل موہ لیتی ہے، نرم رویہ دشمن کو بھی دوست بنا دیتا ہے حکمت بھرا جملہ بادشاہوں کو بھی قریب لے آتا ہے اچھی بات دنیا میں دوست بڑھاتی اور دشمن کم کرتی ہے اور آخرت میں ثواب کی کثرت کرتی ہے آپ مال و دولت سے سامان خرید سکتے ہیں مگر دِل کی خریداری صرف اچھی بات سے ہو سکتی ہے۔! 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ■ مزید پوسٹس۔۔۔ دیکھنے کیلئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔ 🔷 زندگی کے کچھ حقائق https://t.me/islamwitheman/5380 🔷 مختلف ممالک کی کہاوتیں https://t.me/islamwitheman/5381 🌹 دانشوروں کے لطیف جملے https://t.me/islamwitheman/5437 🌹 کچھ بہترین حکمتیں https://t.me/islamwitheman/5448 🌷 اچھی زندگی کیلئے کچھ مشورے https://t.me/islamwitheman/5449 🌹 پچاس حکمتیں https://t.me/islamwitheman/5471 🌷 سماجی تعلقات کے اصول https://t.me/islamwitheman/5515 🌹 نوجوانوں کے لیے نصیحت https://t.me/islamwitheman/5514 🌺 منتخب جاپانی کہاوتیں https://t.me/islamwitheman/5520 🌹 پنجابی کہاوتیں https://t.me/islamwitheman/5626 🌹 اچھی باتیں https://t.me/islamwitheman/5663 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 دوسروں کو تکلیف دینے کا انجام 🔷 علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے لکھاہے کہ بعض عارفین سے نقل کیا گیا ہے کہ انھوں نے ایک شخص کو دیکھا، جس کا ہاتھ مونڈھے سے کٹا ہوا تھا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ تیرا کیا قصہ ہے؟ اس نے کہا کہ اے بھائی بڑا عجیب قصہ ہے، وہ یہ ہے کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا، جس نے مچھلی کو شکار کر رکھا ہے، جو مجھے پسند آگئی، میں نے اس سے کہا کہ یہ مچھلی مجھے دے دے۔ اس نے کہا کہ میں نہیں دے سکتا، کیونکہ میں اسی کی قیمت سے اپنے اہل وعیال کی غذا وخوراک کا انتظام کرتا ہوں۔ یہ سن کر میں نے اس کو مارا اور اس سے وہ مچھلی زبردستی لے لی اور چلا گیا۔ وہ کہت اہے کہ میں اس مچھلی کو اٹھا کر لے جا رہا تھا کہ اس مچھلی نے میرے انگوٹھے کو زور سے کاٹ لیا۔ جس سے میں نے بہت ہی درد محسوس کیا۔ حتی کہ شدت تکلیف کی وجہ سے سو بھی نہ سکا اور میرا ہاتھ بھی سوج گیا اور صبح ہوئی تو طبیب کے پاس گیا۔ طبیب نے کہا کہ اب یہ سڑنا شروع ہو گیا ہے؛ لہٰذا انگلی کو کاٹ دو، ورنہ ہاتھ کاٹنا پڑے گا۔ وہ شخص کہتا ہے کہ میں نے اپنی انگلی کٹوا دی مگر یہ تکلیف بڑھ کر ہاتھ میں آگئی، مجھ سے کہا گیا کہ گٹوں تک ہاتھ کٹوا دو، میں نے کٹوادیا۔ مگر تکلیف بازو تک پھیل گئی، تو یہاں تک کاٹ دینا پڑا۔ بعض لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ یہ تکلیف کس سبب سے پیدا ہوئی؟ میں نے مچھلی کا قصہ سنایا، انہوں نے کہا کہ اگر تو پہلی ہی دفعہ مچھلی والے سے مل کر معاف کرا لیتا (تو اس نقصان سے بچ جاتا) اور تیرے اعضا نہ کاٹے جاتے ۔ لہٰذا اب جا کر معافی مانگ لے۔ وہ شخص کہتا ہے کہ میں اس مچھلی والے کے پاس گیا اور معافی مانگی اور یہ سارا قصہ سنایا تو اس نے معاف کر دیا۔ 🔘 اس سے معلوم ہوا کہ کسی کاحق چھیننا اور دبا لینا، کسی کو تکلیف دینا، خدا کو ناراض کر دینا ہے اور اس سے دنیا وآخرت دونوں جگہ مصیبت اٹھانی پڑتی ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ 📚 کتاب الکبائر : ۱۱۴۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

*قرض اور ادھار* ﮨﻤﯿﺸﮧ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮯ ﮔﺎ... ﮐﮧ ﻗﺮﺽ ﯾﺎ ﺍﺩﮬﺎﺭ ﺻﺮﻑ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ... بلکہ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻭ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ... وﮦ ﺟﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﯾﺎ ﺗﮭﺎ... ﺟﺲ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﺮﮮ ﮐﺮﮐﮯ ﺁﭘﮑﻮ ﺗﻮﺟﮧ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ... جب ﺳﺐ ﮐﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻠﻮﮎ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﻮئی ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺻﺮﻑ ﭼﭗ ﺭﮨﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﭙﺎﭦ ﭼﮩﺮﮦ ﺑﮭﯽ ﺁﭘﮑﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺗﮭﺎ... خاﺹ ﮐﺮ ﺍُﻥ ﮐﺎ ﻗﺮﺽ... ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﺪﻟﮯ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ، ﺑﻐﯿﺮ ﺻﻠﮧ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﺁﭘﮑﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ... ﮐﺎﻡ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ... چاﮨﮯ ﮐﻮئی ﺑﮭﯽ ﮨﻮ... ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﻓﺮﺩ ﮨﻮ... رشتہﺩﺍﺭ ﮨﻮ... ﻣﺤﻠﮧ ﺩﺍﺭ ﮨﻮ... دﻭﺳﺖ، وﺍﺣﺒﺎﺏ، ﯾﺎ ﮐﻮئی ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ، ﺩﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﮨﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﺎ ﮨﻮ... ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﭘﮑﺎ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﮨﻮ... ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻠﻮﺹ ﮐﺎ ﻗﺮﺽ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﭼﮑﺎﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ... اﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻋﺎؤﮞ ﻣﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ... ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﺩﮬﺎﺭ ﭼﮑﺎﻧﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ... جتنا ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺧﺎﻟﺺ ﻣﺤﺒﺖ، ﺗﻮﺟﮧ، ﺍﻭﺭ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻭﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﺳﺐ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﻧﺎ.. ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ... ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ...!!! 🌹 MUSKURAAHTEN 🌹

ہر انسان فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ وہ معاشرہ میں معزز و معتبر مانا جائے او روہ عزت و مقام کو حاصل کرنے کے لیے کوشش و محنت کرتا ہے۔ اس عزت وکمال کو حاصل کرنے کے لیے وہ خود سے مختلف طریقے اختیار کرتا ہے بعض اوقات تو وہ طریقے اسے عزت دلاتے ہیں مگر اکثر طور پر وہ کچھ ایسے راستے پر چل نکلتا ہے کہ جہاں اسے دنیا میں بھی ملامت اٹھانی پڑتی ہے اور آخرت میں بھی ذلت آمیز عقاب چکھنا پڑے گا۔ دین و مذہب فقط چند مخصوص اوقات میں چند خاص طرح کے افعال انجام دینے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ وہ طرز حیات ہے کہ جس کو خالق کائنات نے ہمارے لیے تیار کیا ہے۔ ہم اپنے لیے خود طریقہ حیات ڈھونڈتے ہیں اور دنیا و آخرت کی خواری اٹھاتے ہیں اور اگر ہم اس کے طریقہ کو اختیار کریں کہ جس نے ہمیں خلق کیا اور جو ہماری ساری ضروریات سے آگاہ ہے تو ہم دنیا و آخرت میں عزت و مقام کے ساتھ ساتھ فلاح پا سکتے ہیں۔ حقیقی عزت و کمال تک رسائی اس وقت ممکن ہے جب انسان خالق کے بیان کردہ قانون کی اتباع کرے۔ پس اچھی معاشرت اور بہترین اخلاق وہ ہی ہے جو اللہ نے بیان فرمایا ہے اور اسی کے ذریعے انسان عزت و کمال کو حاصل کر سکتا ہے اور دوسری طرف اخلاق سے عاری انسان اپنے لبادہ کا کفن اوڑھے جسم کا جنازہ اٹھائے پھر تا رہتا ہے کیونکہ جس طرح جسم کی زندگی روح سے مربوط ہے اسی طرح حیات روح اچھے اخلاق سے پیوستہ ہے۔ خلاصۃً اخلاق ’’اچھے کردار اور رویہّ‘‘ کو کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اخلاق کو دین اسلام کا تیسرا بڑا رکن قرار دیا ہے۔ خداوند متعال سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ویسا بننے کی توفیق عطا کرئے کہ جیسا وہ ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات باب اخلاق 🌹 ISLAM WITH EMAN 🌹

🌹 دستور فلاح 🌹 اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی فلاح کی خاطر جس دستور کو اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے بیان فرمایا ہے وہ بنیادی طور پر تین اقسام کا ہے۔ 1۔ عقائد (اصول دین) 2۔اعمال و احکام (فروع دین) 3۔ اخلاقیات قرآن مجید میں بھی ان تینوں قسموں کی اہمیت و تشخیص کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورہ عصر میں ان تینوں اقسام کا ایک ساتھ ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: وَالْعَصْرِ (1) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ (2) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ۔ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔ (سورہ عصر) انسان خسارے میں ہے سوائے ان (انسانوں) کے جو ایمان لائے (عقائد) اور عمل صالح کرتے رہے (فروع دین) اور حق و صبر کی تلقین کرتے رہے۔ (اخلاقیات) اخلاقیات اس حقیقت میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ ہر انسان نقصان سے بچنا چاہتا ہے اور انسان کی عقل اس کو ہر مضر اور نقصاندہ کام کو انجام دینے سے منع کرتی ہے۔ اگرچہ کسی کام سے نقصان پہنچنے کا احتمال بھی ہو تو اس سے بچاؤ کی تدبیر کرنا ضروری ہے اور اگر نقصان یقینی ہو تو اس سے بچنا مزید ضروری ہو جاتا ہے۔ اگر کسی کام کی وجہ سے آنے والے دنوں میں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو حال ہی میں اس سے بچاؤ کی تدبیر کرنا چاہیے۔ بالکل اسی طرح اگر کسی کام سے کوئی فائدہ ملنے کا علم ہو تو عقل انسانی اس عمل کو انجام دینے کی تشویق دلاتی ہے کہ اس سے فائدہ حاصل کر لیں۔ اگر یہ فائدہ و نقصان دنیا سے مربوط ہوں تو اس فائدہ کا حاصل نہ ہونا اور نقصان و ضرر کا اٹھانا قابل برداشت ہیں مگر انبیاء کرامؑ اور ان کے اوصیاءؑ نے ہمیں آخرت کے یقینی فائدہ و نقصان کو بالکل واضح کرکے بیان کر دیا ہے اور ان کی صداقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم آخرت کے فائدہ کے حصول اور اس دائمی و ابدی نقصان سے بچنے کے لیے ابھی سے تدبیر کریں۔ علم اخلاق و اخلاقیات معاشرے میں ہمیں صحیح طریقہ سے رہنے سہنے کے آداب اور لوگوں سے معاشرت کی تربیت دیتا ہے اور اسی علم کی وجہ سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ کون سا عمل ہمارے فائدے کا ہے اور کن کاموں کی وجہ سے ہمیں خسارہ اٹھانا پڑے گا۔ اخلاق اخلاق و اخلاقیات ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں اور ہر ایک مذہب اپنے حساب سے رہنے سہنے اور معاشرت کے کچھ قوانین و ضوابط رکھتا ہے۔ مذہب اسلام کا یہ خاصہ ہے کہ اس سے بہتر تعلیمات و اخلاقیات کسی اور مذہب میں موجود نہیں ہیں اور شریعت اسلام نے ’’اخلاقیات‘‘ کو حد درجہ اہمیت دی ہے۔ اخلاقیات کی اہمیت کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف میں آپؐ کی اس صفت و خوبی کو خصوصی طور پر بیان فرمایا کہ: وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔ (سورہ القلم:4) اور بے شک آپؐ اخلاق کے عظیم مرتبے پر فائز ہیں۔ اور اسی طرح خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اپنی بعثت کا مقصد ’’اخلاقیات‘‘ کو قرار دیا ہے۔ چنانچہ آپؐ سے منقول ہے کہ: انّما بعثتُ لاتمم مکارم الاخلاق۔ بے شک مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔ یہی حسن خلق اور اچھا کردار ہے کہ جس کے ذریعے انسان پوری دنیا کو اپنا بنا سکتا ہے اور دنیاوی فوائد کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی لاتعداد فوائد اچھے اخلاق والے کے منتظر ہیں۔ جیسا کہ امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ: قیامت کے دن کسی شخص کے ’’میزان‘‘ میں حسن خلق سے بہتر کوئی چیز نہیں رکھی جائے گی۔ اخلاق، اسلام سے ہٹ کر کوئی علیٰحدہ چیز نہیں ہے بلکہ اسلامی عقائد و احکام کا عملی نمونہ اخلاق کہلاتا ہے یعنی اخلاق کا کچھ حصہ خالق اور کچھ مخلوق کے ساتھ خاص ہے۔ اس اعتبار سے اخلاق کو دو قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: 1۔ حقوق اللہ اللہ کے ساتھ حسن سلوک یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور ایک بندے پر اس کے مولا کے جتنے حقوق واجب الادا ہوتے ہیں ان کو بطریق احسن انجام دیا جائے۔ 2۔ حقوق العباد حقوق العباد میں اخلاق کو مزید دو قسموں میں تقسم کیا جاتا ہے۔ 1۔ حق النفس یعنی انسان کی اپنی ذات کا بھی اس پہ حق ہے کہ اس سے احسن طریقہ سے پیش آئے انسان کوئی ایسا عمل نہ کرے جو اس کی ذات و نفس کے لیے نقصان دہ ہو تو یہ اس کا اپنے ساتھ حسن خلق ہو گا۔ اسی وجہ سے اسلام نے خود کو تکلیف دینا اور نقصان پہنچانا حرام قرار دیا ہے۔ 2۔ حق الغیر جہاں اسلام نے انسان کی اپنی ذات کی پرواہ کی ہے وہیں اس نے دوسروں کی بھی پرواہ کی ہے اور اس نے دوسروں کی جان و مال کا بھی خیال میں رکھا ہے اور انسان پہ بہت سے افراد کے حقوق کو ضروری قرار دیا ہے جیسا کہ ماں، باپ، ہمسایہ، مؤمن بھائی وغیرہ کے حقوق کہ جن کو انجام نہ دینے سے بہت بڑے خطرہ کا سامنا کرنا ہو گا۔

🔷 سسکتے رشتے ! 🔷 انسان کو اپنے جبڑے میں لگا ھوا دانت چھوٹا سا محسوس ھوتا ھے مگر جب وہ دانت گرتا ھے تو دو دانتوں جیسا بڑا خلا چھوڑ جاتا ھے اور انسان وھاں انگلی رکھ رکھ کر تصدیق کرتا ھے کہ " ھیں واقعی ایک دانت گرا ھے " ؟ کچھ رشتے جب پاس ھوتے ھیں تو اتنے اھم نہیں لگتے ،، مگر جب چلے جاتے ھیں تو اتنا بڑا خلا چھوڑ جاتے ھیں کہ کئ انسان مل کر بھی اس خلا کو پُر نہیں کر سکتے ، ان میں سے ایک رشتہ والدین کا ھے ! یہ جب تک پاس ھوتے ھیں تو ھوش سنبھالتے ھی ان کی پابندیاں جان کھا جاتی ھیں ،، سپارہ پکڑو مسجد جاؤ ، مسجد جاؤ گے تو روٹی ملے گی ، زبردستی "اسکول دفع ھو جاؤ ،، کوئی چھُٹی شُٹی نئیں " سردیوں میں گھسیٹ کر گرم کمبل سے نکالنا ،، بندہ سوچتا ھے کہ کیا ان کی زندگی میں ، کوئی کام میں اپنی مرضی سے کر بھی سکوں گا یا نہیں ،، یہ بہت ڈسٹربنگ تعلق ھوتا ھے ، ھر پسند کے آگے ماں باپ کھڑے نظر آتے ھیں ، ھر رنگ میں بھنگ ڈالنے والے ،، کھیل کے سنسنی خیز لمحات آخری اوورز ، آفریدی کی بیٹنگ اور عین وقت پر ماں کی للکار " خبیث تو ابھی تک مسجد نہیں مرا ؟ امی مسجد ادھر ھی ھے نئیں کہیں جاتی، چلا جاؤں گا ،، بس پانچ بال ھیں ،، مین اگر آج ٹی وی نہ توڑوں تو باپ کی بیٹی نہیں ،، لو جی امی جی کو بھی آج ھی ڈی این اے چیک کرانا تھا ، پھر باپ کو کوسنے " تو مرد بن مرد ،، تجھ سے بچے سنبھالے کیوں نہیں جاتے ؟ ویسے تو مونچھیں گلو بٹ کی طرح رکھی ھوئی ھیں مگر بیٹے کے سامنے بھیگی بلی بنے رھتے ھو " اور باپ کا دروازہ کھول کے بے بسی سے کہنا یار تو چلا جایا کر وقت پہ مسجد ،، ضرور میری بے عزتی کرانی ھوتی ھے ،، اور انسان کا سوچنا کہ اگر شادی " میری امی جیسی بلا " کا نام ھے تو کوئی پیسے بھی دے تو نہیں کرونگا ،، مگر جب یہ چلے جاتے ھیں تو انسان کی دنیا ویران ھو جاتی ھے ، خوشی کے وقت پہلا خیال یہی تو آتا ھے کہ امی کو بتاؤں ، یا ابا کو بتاؤں ،، مگر پھر جھٹکا لگتا ھے کہ وہ تو چلے گئے۔ ڈھونڈ ان کو اب چراغِ رُخِ زیبا لے کر " ! ھر خوشی اپنے بیک گراؤنڈ میں دکھ کی کسک چھوڑ جاتی ھے ،، اللہ پاک کسی کو والدین کا دُکھ نہ دکھائے ! آمین مزید اچھی پوسٹ پڑھنے کے لیے اس چینل کو فالو کریں ۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F 🌹 ISLAM WITH EMAN 🌹

ایک انتھراپالوجسٹ نے ایک افریقی قبیلے کے بچوں کےلئے ایک کھیل پیش کیا۔ اس نے ایک درخت کے قریب ایک میوے کی ٹوکری رکھی اور بچوں
ایک انتھراپالوجسٹ نے ایک افریقی قبیلے کے بچوں کےلئے ایک کھیل پیش کیا۔ اس نے ایک درخت کے قریب ایک میوے کی ٹوکری رکھی اور بچوں کو کہا جو پہلے یہاں پہنچے گا وہ یہ انعام جیتے گا۔ دوڑ کا آغاز ہوا تو سب نے ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑے اور اکٹھے دوڑے پھر سب نے مل کر پھلوں کا لطف اٹھایا۔ یہ منظر دیکھ کر اس انتھراپالوجسٹ نے بچوں سے پوچھا کہ آپ اکٹھے کیوں دوڑے اگر آپ الگ الگ دوڑتے تو کسی ایک کو سارے پھل کھانے کا موقع ملتا۔ بچوں نے اپنی مقامی زبان میں ایک لفظ کہا اہو نٹو۔۔۔۔ یعنی ہم۔سب غمگین ہیں تو ایک شخص کیسے خوش ہوسکتا ہے انکے معاشرتی نظام میں اہو نٹو کا مطلب ہے۔ میں ہوں کیونکہ ہم ہیں۔ میرے خیال میں یہ قبیلہ خوشی کا راز جانتا تھا وہ راز جو فی زمانہ فی زمانہ ہمارا معاشرہ کھو چکا ہے۔ 🌹🌹❤️🌹🌹

جو چیز کسی کو زیادہ مقدار میں دی جانے وہ ہمیشہ ضائع ہی ہوتی ہے، چاہے وہ توجہ ہو، احساس ہو یا محبت ہو، یا پھر اپنی زندگی کا قیمتی ترین وقت ۔۔۔۔۔!!! 🍁🥀🍁

photo content

■ ماہ رجب کے حوالے سے پوسٹس لنکس۔۔۔ https://t.me/islamwitheman/2943 🔷️ ماہ رجب المرجب https://t.me/islamwitheman/2945 🔷️ لیلةالرغائب کی فضیلت اور اعمال https://t.me/islamwitheman/2961 🌹 ولادت باسعادت امام محمد باقرؑ https://t.me/islamwitheman/2964 🌹 تعارف امام محمد باقرؑ https://t.me/islamwitheman/2965 🌹 شہادت حضرت امام علی النقیؑ https://t.me/islamwitheman/2968 🌹 امام ہادیؑ کی ہدایات https://t.me/islamwitheman/2969 🌹 ولادت باسعادت امام علی نقیؑ https://t.me/islamwitheman/2971 🌹 ولادت مبارک امام علی النقیؑ https://t.me/islamwitheman/2972 🌹 ولادت باسعادت شہزادہ علی اصغرؑ https://t.me/islamwitheman/2980 🌹 ولادت باسعادت امام محمد تقیؑ https://t.me/islamwitheman/2987 🌹 حضرت امام محمد تقیؑ https://t.me/islamwitheman/2989 🌹 امام جوادؑ کی تبلیغی روش https://t.me/islamwitheman/2990 🔷️ ایام البیض https://t.me/islamwitheman/2996 🔷️ 13 رجب رات و دن کے اعمال https://t.me/islamwitheman/2997 🌹 ولادت باسعادت حضرت علیؑ https://t.me/islamwitheman/3009 🌹 فضائل مولود کعبہ حضرت علیؑ https://t.me/islamwitheman/3010 🌹 بمناسبت یوم ولادت امام علیؑ https://t.me/islamwitheman/3011 🌹 حضرت علیؑ کا مقام و مرتبہ https://t.me/islamwitheman/3012 🌹 امت کا بہترین فرد https://t.me/islamwitheman/3013 🌹 یعسوب الدین مولا علیؑ https://t.me/islamwitheman/3014 🌹 حضرت علیؑ کی جسمانی قوت https://t.me/islamwitheman/3015 🌹 حضرت علیؑ سے سات سوال https://t.me/islamwitheman/3016 🔷️ وصیت مولا علیؑ موت کے متعلق https://t.me/islamwitheman/3017 🌹 مولا علیؑ کے متعلق ویڈیوز https://t.me/islamwitheman/3018 https://t.me/islamwitheman/3019 https://t.me/islamwitheman/3020 https://t.me/islamwitheman/3021 🌹 حضرت امام علی علیہ السلام https://t.me/islamwitheman/3027 🌹 لفظ مولا پر زبردست تحقیق https://t.me/islamwitheman/3029 🌹 شہادت جناب زینب عالیہؑ https://t.me/islamwitheman/3034 🌹 عقیلہ بنی ہاشمؑ https://t.me/islamwitheman/3035 🌹 جناب زینبؑ اور نماز شب https://t.me/islamwitheman/3036 🌹 حضرت ام البنینؑ https://t.me/islamwitheman/3041 🌹 زیارت ام البنین سلام اللہ علیھا https://t.me/islamwitheman/3042 🌹 ولادت باسعادت سکینہؑ بنت الحسینؑ https://t.me/islamwitheman/3046 🌹 ولادت باسعادت بیبی سکینہؑ https://t.me/islamwitheman/3047 🔷️ کونڈوں کی نیاز https://t.me/islamwitheman/3058 🔷️ نذر و نیاز امام جعفر صادقؑ https://t.me/islamwitheman/3059 🔷️ کونڈے اور لکڑہارے کا واقعہ https://t.me/islamwitheman/3060 🌸 نذر و منت https://t.me/islamwitheman/3061 🔷️ کونڈے https://t.me/islamwitheman/3062 🔷️ غزوہ خیبر https://t.me/islamwitheman/3082 🌹 حضرت امام موسٰی کاظمؑ https://t.me/islamwitheman/3093 🌹 شھادت امام کاظم علیہ السلام https://t.me/islamwitheman/3094 🌹 باب الحوائج امام موسٰی کاظمؑ https://t.me/islamwitheman/3095 🌹 امام موسٰی کاظمؑ https://t.me/islamwitheman/3096 🌹 امام موسٰیؑ ابن جعفر الکاظمؑ https://t.me/islamwitheman/3097 🌹 امام موسٰی کاظمؑ کی اولادیں https://t.me/islamwitheman/3098 🌹 حیاتنامہ حضرت ابوطالبؑ https://t.me/islamwitheman/3104 🌹 تاریخ حضرت ابوطالبؑ https://t.me/islamwitheman/3105 🌹 27 رجب معراج یا بعثت رسولؐ؟ https://t.me/islamwitheman/3120 🌹 بعثت پیغمبر اسلامؐ https://t.me/islamwitheman/3121 🌹 27 رجب المرجب https://t.me/islamwitheman/3122 🌹 اعمال شب و روز 27 رجب https://t.me/islamwitheman/3123 🌹 معراج https://t.me/islamwitheman/3124 🌹 ماہ رجب میں روزے کی اہمیت https://t.me/islamwitheman/3126 🌹 28 رجب المرجب https://t.me/islamwitheman/3129 🌹 امام حسینؑ کی مدینہ سے روانگی https://t.me/islamwitheman/3130 🌹 قبل از روانگی وصیت امام حسینؑ https://t.me/islamwitheman/3131 🌹 واقعہ معراج النبیؐ https://t.me/islamwitheman/3132 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

☀ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🌷 صبحكم اللہ بالخير والعافیہ 💥 نیا عیسوی سال 2024ء مبارک ھو۔ 💚  آج کا دن ➖ بدھ ☀  یکم جنوری 2025ء عیسوی 🌙  29 جمادی الثانی 1446 ھجری ⭐  20 پوہ 2081 بکرمی ■ بدھ کے اذکار 1۔ یاحی یاقیوم 100 مرتبہ۔ 2۔ یامتعال 541 مرتبہ۔ 3۔ حسبی الله و نعم الوكيل 1000 مرتبہ۔ 🔹 آج یکم جنوری عیسوی سال کا پہلا دن ھے۔ آج بس ایک ھندسہ بدلا ہے۔ وہی صبحیں وہی شامیں۔ آج اس وقت میرے پاس آپ کے لئے ڈھیر ساری دعائیں ہیں۔ دعا کا کوئی رنگ نہیں ھوتا مگر دعا رنگ ضرور لاتی ھے۔ اللہ ربّ العالمین سے دعا ھے کہ وہ آپکو ہر اس نعمت سے سرفراز فرماۓ جس میں آپ کے لیے خیر و برکت ھو، عزت و وقار ھو، راحت و سکون ھو، صحت و تندرستی ھو، ترقی و خوشحالی ھو، دنیا و آخرت کی بھلائی ھو...!! دعا ھے اس"رحیم" سے کہ آپ پر "رحم" فرمائے۔ دعا ھے اس"رب العزت" سے کہ آپکی "عزت" کی حفاظت فرمائے، دعا ھے اس "غنی" سے کہ آپکو خوب "نوازے"، دعا ھے اس "مالک کائنات" سے کہ آپکو ھر "سچی خوشی" دے، دعا ھے اس "مشکل کشا" سے کہ آپ کی "مشکلات" دور فرمائے اور آپ کو صحتمند توانا دراز زندگی عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بحق چہاردہ معصومین علیہم السلام ☀ التماس دعا: ☀ سید سجاد حسین ھمدانی ☀ https://t.me/islamwitheman/5080 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

دعا ہے کہ یہ نیا سال آپ اور ہم سب کے لئے امن، سکون، صحت تندرستی، خوشحالی اور خوشیوں کا باعث ہو۔ اللہ تبارک و تعالٰی آپ سب کو
دعا ہے کہ یہ نیا سال آپ اور ہم سب کے لئے امن، سکون، صحت تندرستی، خوشحالی اور خوشیوں کا باعث ہو۔ اللہ تبارک و تعالٰی آپ سب کو خوشیاں اور آسانیاں عطا فرمائے اور خوشیاں اور آسانیاں بانٹنے والا بنائے رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ بحق مولا و پنجتن پاک ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھیں ۔۔۔ آمین یا رب العالمین 🌹🌹❤️🌹🌹

🌹 نیا سال مبارک ہو۔ 👈 نئے سال کے بارے پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔ 🔘 پھر ایک نیا سال https://t.me
🌹 نیا سال مبارک ہو۔ 👈 نئے سال کے بارے پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔ 🔘 پھر ایک نیا سال https://t.me/islamwitheman/4587 🌹 عیسوی سال نو https://t.me/islamwitheman/4588 🔷 نیا سال اور ہماری ذمہ داری https://t.me/islamwitheman/4589 🌹 ہیپی نیو ایئر https://t.me/islamwitheman/4591 🔷 طلسماتی صدی کا نیا سال مبارک https://t.me/islamwitheman/5084 🌹 نیا سال اور شکرگزاری https://t.me/islamwitheman/5085 🔷 سو سال پہلے والوں کے خیالات https://t.me/islamwitheman/5086 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

🌹 میری بیٹیاں میری جنت 🌹 . اللہ پاک نے مجهے تین بیٹیاں دیں۔ تیسری بیٹی فوت هو گئی۔ یہ تحریر میری باقی کی دونوں بیٹیوں کے رشتے طے کرنے کے بارے میں ہے۔ بڑی بیٹی دسویں میں پہنچی، چهوٹی نویں میں تو ایک دن مجھے اُنکی شادی کی فکر هوئی۔ وه ساری رات میں نے جاگ کر جائے نماز پر گزاری ۔ صبح تک میں دل میں فیصلہ کر چکا تھا کہ اب مناسب وقت ہے، مجھے بچیوں کی شادی کر دینی چاہئے۔ پہلا مرحلہ بیٹیوں کی دادی نانی کو قائل کرنا تھا۔ نانی تو فورا مان گئیں، دادی اماں کو منانے میں چند دن لگ گئے لیکن جیسے تیسے میں نے سب کو راضی کر لیا۔ اب رشتہ کی تلاش شروع هوئی سب سے پہلے میں نے اپنی انا کو مار دیا کہ جوان بیٹیوں کے باپ کو مونچھ اونچی رکھنا کچھ مشکل هوتا هے۔ سوچتے سوچتے بیگم صاحبہ کے فسٹ کزنز کا خیال آیا اور تیسرے چوتھے دن هم میاں بیوی اُن کے قصبہ میں موجود تھے۔ لڑکوں کا زمینداره اور زرعی ادویات کا آبائی بزنس تھا۔ جبھی اُدهر پہنچے تو چهوٹے داماد صاحب نیکر پہن کر گلی میں گولیاں کهیل رهے تھے۔ بیگم صاحبہ گاڑی میں رهیں اور میں اُتر کر اُسکے ساتھ گولیاں کھیلنے لگ گیا۔ مجهے یاد هے کہ اس دن بلیو رنگ کے تهری پیس سوٹ کیساتھ میں نے سرخ ٹائی لگائی هوئی تھی۔ چمکتی دمکتی نسان ڈبل کیبن پاس تھی۔ آتے جاتے لوگ اتنا سوٹڈ بوٹڈ بنده گلی میں بنٹے کهیلتا دیکھ کر ہنس رہے تھے لیکن مجهے جو حساب لگانا تھا میں نے لگا لیا۔ پتلی پتلی گلیوں سے گزرتے نالیوں کی گندگی سے بچتے بچاتے داماد حضرات کے تین چار مرلہ مکان میں پہنچے۔ دیکھا تو بڑے داماد صاحب تیسری چھت پر پتنگ اُڑا رہے تھے، میں بھی چھت پر چڑھ گیا۔ ماهر پتنگ باز هوں۔ دس منٹ پتنگ بازی کی اور لڑکے کے بارے جو اندازه لگانا تھا لگایا۔ اُن کی والده بیوه خاتون تھیں۔ پندره منٹ ان سے گپ شپ کی۔ یعنی کل ملا کر قریبا پینتیس منٹ وهاں رکے۔ ایک گھنٹے بعد هم ساسو جی کے پاس سرگودها موجود تھے۔ اماں ساس سے بات کی کہ آپکے بهتیجوں کو بیٹیوں کے رشتے دینا چاهتا هوں۔ سوالی سا بن کر گیا تھا۔ جواب میں اُن سے جو جو طعنہ سننا پڑا وه کبھی نہیں بھولوں گا۔ بہر طور ساسو ماں اور اُنکا بڑا صاحبزاده رشتے کی بات چلانے پر رضا مند هو گئے۔ ساری بات یکطرفہ اور میری طرف سے تھی حتی کہ مرحومہ بیگم صاحبہ بھی یہ رشتے کرنے پر هچکچا رہی تھیں لیکن بیٹیوں کے بہتر مستقبل کی خاطر ایسا کرنا ضروری تھا۔ هر اچهی بُری بات برداشت کرنا پڑی۔ لڑکے والوں کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ یہ آدمی کبھی ہمیں رشتے دے گا۔ کچھ بے یقینی اور کچھ خوشی کی ملی جلی کیفیت میں چند دن بعد وه لوگ میرے گھر رشتہ مانگنے آئے۔ دل سے تو میں رشتے دے چکا تها۔ صرف رواج پورا کیا۔ اُنکے تیسرے چکر پر شادی کی تاریخ مقرر هو گئی اور آخر کار 2012_11_13 کی صبح اللہ کے پاک نام سے دعا مانگ کر شام کو دونوں بچیوں کی رخصتی کر دی۔ جس وقت میں نے شادی کی تاریخ دی۔ میرے پاس بقدر ضرورت رقم نہیں تھی۔ چند دوستوں سے اُدهار لیکر بچیوں کی رخصتی کی اور اگلے چند سال میں وه قرض واپس کرتا رہا۔ اِس وقت میری دونوں بیٹیوں کے تین تین بچے ہیں۔ جوں جوں اللہ پاک نے انہیں بچے دئیے, انکا وافر رزق بھی ساتھ دیا۔ داماد حضرات نے قصبہ کی اضافی آبادی میں نیا بنگلہ، دو قسم کا نیا کاروبار اور مذید ایک مربع زرعی اراضی خرید لی ہے۔ بیٹیاں میرے گهر کی نسبت اپنے گهروں میں زیاده سکھی ہیں۔ گهر کی ایک نکر میں لیٹ کر گزرے دنوں کا حساب لگاتا رہتا ہوں۔۔۔ گریڈ انیس کا ایک افسر خود سے لڑکے والوں کے گھر گیا اور جا کر گند سے ابلتی نالیوں والی پانچ فٹ چوڑی گلی کے چهوٹے سے مکان میں اپنی دو بیٹیوں کے رشتے دے آیا۔ کیا میرا فیصلہ صحیح تھا۔۔؟ وقت نے ثابت کیا کہ میرا نیک نیتی اور اللہ کی رضا کی خاطر مناسب وقت پر کیا گیا فیصلہ بالکل صحیح تھا۔ تعلیم انسان کو پالش کر دیتی ہے لیکن میں نے بیٹیوں کی تعلیم پر انکی شادی کو ترجیح دی، جس گاڑی میں مجھے بیٹیوں کو بٹھانا تھا اگر میں دیر کرتا تو وه گاڑی کبھی بھی میرا انتظار نہ کرتی۔ عورت کی تکمیل ماں بن کر ہوتی ہے۔ اپنی بیٹیوں کو دلہن بنا دیکهتا میرا خواب اور انکے اندر کی عورت کو مکمل کرنا میرا فرض تھا۔ اب جب ان کی گود میں انکے اپنے بچے دیکهنا ہوں تو دل کی گہرائی سے سارے جہان کی بیٹیوں کیلئے دعا نکلتی هے۔ یہ پھولوں جیسی ساری بیٹیاں اپنے اپنے باغ میں اپنے بچوں کیساتھ ہنستی مسکراتی رہیں۔ . شاید میری دونوں بیٹیاں میرے اور دوزخ کی آگ کے درمیان ڈهال بنیں گی۔ اللہ کے هاں گواهی دیں گی کہ ہمارے باپ نے ہمارا حق ادا کرنے میں کوتاہی نہیں کی۔ شاید روز قیامت پل صراط سے نیچے آگ میں گرنے لگوں تو میری بیٹیاں مجھے تهام لیں ... منقول۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

کامی کا دل دھڑکنے لگا۔ جوگی وہاں بیٹھا چاروں طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ سیدھا جھونپڑی کی طرف چلا گیا۔ مٹی کا برتن جس میں دوا تھی، وہیں پڑا ہوا تھا۔ کامی کا دل چاہا کہ نشانہ لے کر اسے توڑ دے۔ اسے خطرہ تھا کہ اگر نشانہ ٹھیک نہ لگا تو کھٹکا ضرور ہو گا۔ پھر جیسے ہی اس نے پتھر نشانے کے لئے اوپر اٹھایا اور خود بھی سیدھا ہوا تو جوگی جھونپڑے سے نکل کر چولہے کی طرف بڑھنے لگا۔ وہ اب بھی چوکنا تھا۔ کامی دھڑام سے زمین پر گرا اور آواز سناٹے میں ابھری۔ جوگی ایک دم اچھل پڑا۔ اب کامی کا بچنا مشکل تھا لہٰذا وہ پتھر کو لئے ایک دم کھڑا ہو گیا۔ کامی نے ایک دم وہ پتھر جوگی کو مارا۔جوگی جو پہلے ہی تیار تھا، ایک طرف ہو گیا۔کامی نے دوڑ لگا دی، جوگی بھی اس کے پیچھے تھا۔ کامی نے جھک کر پتھر اٹھایا اور پوری طاقت سے جوگی کو مارا لیکن خوش قسمتی سے وہ ایک بار پھر بچ گیا۔ جوگی نے دوڑنا بند کر دیا۔ کامی بھی رک گیا۔ جوگی واپس پلٹا اور آہستہ آہستہ جھونپڑی کی طرف جانے لگا۔ اچانک جوگی نے اس پر پتھر دے مارا۔ کامی ہوشیار کھڑا تھا، وہ جھکا اور جھکنے کے بعد تیزی سے کھڑا ہوا اور پھر پوری طاقت سے جوگی کو پتھر دے مارا۔ پتھر جوگی کی ناک پر لگا اور پھر دوسرا پتھر اس کے سر پر لگا، جوگی زمین پر گرا اور اس کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی۔ کامی نے عمر کو ساتھ لیا اور جاتے ہوئے اس نے سیاہ مادہ زمین پر گرا دیا۔ دونوں جنگل میں بھوکے پیاسے بھٹکتے رہے اور جنگل بھی خوفناک تھا۔ آخر صبح ہونے کے بعد وہ جنگل سے نکل چکے تھے۔ 🔘 کامی اپنے دوست سے محبت نہ رکھتا تو اتنا بڑا خطرہ مول نہ لیتا اور شاید اس کا دوست جوگی کا بیٹا بن کر رہ چکا ہوتا لیکن کامی کی جرات نے اپنے دوست کو موت کے منہ سے نکال لیا۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5647 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 دوستی کی جیت 🔷 کامران اور عمر کی دوستی پوری کالونی میں مشہور تھی۔ دونوں ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے۔ سب کامران کو پیار سے کامی کہتے تھے۔ ایک دفعہ عمر، ٹیچر سے پانی پینے کا پوچھ کر گیا لیکن پھر اس کی واپسی نہیں ہوئی۔جوں جوں وقت گزر رہا تھا، کامی پریشان ہو رہا تھا۔چھٹی کے وقت کامی، عمر کے گھر گیا اور کہا ”آنٹی! عمر، ٹیچر سے پانی کا پوچھ کر گیا تھا لیکن واپس نہیں آیا، کیا وہ گھر آ گیا ہے؟“ اس بات سے عمر کے گھر والے پریشان ہو گئے۔ اب کامی کو ایک جوگی کی باتیں یاد آنے لگیں، ایک دن جوگی نے کہا تھا ”اب میں بوڑھا ہونے والا ہوں، کاش کوئی میرا بیٹا ہوتا، اس کو میں تمام نسخے بتاتا اور وہ خوب دولت کماتا“۔اتنا کہہ کر جوگی نے چمکدار نظروں سے عمر کی طرف دیکھا تھا۔ اس پر عمر نے جوگی سے کہا تھا کہ ”آپ سمجھیں میں آپ کا بیٹا ہوں، مجھے تمام نسخے بتائیں۔“ یہ تمام باتیں کامی نے عمر کے والد کو بتا دیں اور کہا ”ہو نہ ہو، یہ جوگی کی کارستانی معلوم ہوتی ہے۔“ اب ہر کوئی جوگی کی تلاش میں نکل گیا۔ کامران چلتے چلتے جنگل پہنچ گیا۔ شام کے سائے بڑھ رہے تھے اور کامی لگاتار چل رہا تھا۔وہ واپس مڑنے ہی والا تھا کہ اسے زمین پر گری ہوئی کاپی نظر آئی، کاپی اٹھائی تو وہ عمر کی تھی۔ کامی کو سراغ مل چکا تھا، اب وہ واپس نہیں جا سکتا تھا۔ رات ہو گئی تھی، اب اسے ڈر لگ رہا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ وہاں بد روحیں رہتی ہیں، جو لوگ بھی جنگل میں گئے، وہ واپس زخمی ہو کر آئے۔ ابھی وہ سوچ رہا تھا کہ اسے دور آگ کا شعلہ نظر آیا۔کامی نے سوچا، ضرور کوئی انسان وہاں ہے اور یہی وقت ہے اپنے دوست کی مدد کرنے کا، ہو سکتا ہے جوگی صبح عمر کو کہیں اور لے جائے۔ کامی آہستہ آہستہ بغیر آواز پیدا کئے آگ کے قریب آ گیا۔ وہ رک گیا، اس کا سانس پھول چکا تھا۔ اس نے آگ سے پرے نظر ڈالی تو اسے ایک جھونپڑی نظر آئی۔ کامی جلدی سے آگے بڑھا اور دوسرے درخت کے تنے کی طرف گیا پھر رک گیا۔ وہ آگ کے قریب ہو گیا اور دیکھا کہ ایک پتھروں کا چولہا بنا ہوا ہے، آگ پر کوئی برتن رکھا ہوا ہے، جس میں کچھ پک رہا ہے۔ وہ بار بار جھونپڑی کو گھور رہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ جھونپڑی میں کوئی ہے۔ اچانک جھونپڑی سے کوئی باہر نکلا، یہ وہی جوگی تھا، جو سکول کے باہر بیٹھ کر بچوں کو کہانیاں سنایا کرتا تھا۔ جوگی برتن پر جھکا کچھ دیکھتا رہا، پھر جھونپڑی میں چلا گیا۔جھونپڑی کی پشت پر ایک درخت تھا، کامی آہستہ آہستہ اس درخت کے پیچھے چھپ گیا، اب اسے جھونپڑی ہی نہیں بلکہ اندر کا بھی سب کچھ نظر آ رہا تھا۔ ایک طرف سے پردہ ہٹا ہوا تھا۔ اس نے دیکھا کہ عمر رسیوں سے بندھا ہوا ہے۔اس کا دل چاہا کہ بھاگ کر عمر کی رسیاں کھول دے مگر احتیاط لازم تھی۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اپنے دوست کو چھڑاتے چھڑاتے خود بھی پھنس جائے۔ جوگی پھر اندر آیا اور بندھے ہوئے عمر سے مخاطب ہو کر بولا ”برخوردار! بس پانچ منٹ ٹھہر جاؤ، دوا تیار ہو رہی ہے۔ جب تمہیں پلاؤں گا تو تم اپنی یادداشت بھول جاؤ گے، بس تمہیں یہی یاد ہو گا کہ تم میرے بیٹے ہو“۔ عمر بولا ”تت تت، تم تم ایسا نہیں کر سکتے، مجھے چھوڑ دو“۔ جوگی غصے سے بولا ”تم ہی نے تو مجھے کہا تھا کہ مجھے اپنا بیٹا سمجھو اور تمام نسخے مجھے دے دو“۔ عمر بولا ”میں نے تو تمہیں انسانی ہمدردی کے لئے کہا تھا۔لعنت بھیجتا ہوں میں ایسی دولت پر، تمہیں احساس نہیں کہ میرے گھر والوں پر کیا بیت رہی ہو گی“۔ جوگی بولا ”مجھے دوسروں سے کیا لینا دینا، مجھے تو تمہاری ضرورت ہے۔ اگر میں کامیاب ہو گیا تو تمہیں میں بہت دور لے جاؤں گا، جہاں ہمارا ڈیرا ہو گا، بے وقوف لڑکے یہاں تمہاری چیخ و پکار کوئی نہیں سنے گا۔ میں تمہیں جب وہ دوا پلاؤں گا تو تمہیں اپنے آپ کا بھی ہوش نہیں رہے گا اور جو کچھ میں کہوں گا، وہی تم کرو گے“۔ ”تم پاگل ہو“ ایک دم عمر پوری قوت سے چیخا۔ ”بس دو منٹ ٹھہرو“۔یہ کہہ کر جوگی جھونپڑی سے باہر نکل گیا۔ کامی نے سوچا کہ یہی وہ وقت ہے اپنے دوست کو چھڑانے کا۔ وہ یہ سوچ کر دھڑکتے دل کے ساتھ جھونپڑی میں داخل ہوا۔ جب عمر نے کامی کو دیکھا تو کامی نے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی اور سرگوشیانہ انداز میں بولا ”شاید میں تمہیں جلدی کھول نہ سکوں لیکن تم فکر نہ کرو، میں تمہیں دوائی پلانے نہیں دوں گا“۔ اتنا کہہ کر وہ تیزی سے باہر نکل گیا اور پھر درخت کے عقب میں چھپ گیا۔ اس نے قریب پڑا ہوا ایک پتھر پکڑ لیا تاکہ برتن پر دے مارے لیکن جوگی جھونپڑی میں واپس نہ آیا۔ کامی دبے پاؤں آہستہ آہستہ چولہے کی طرف بڑھا۔جوگی سیاہ چیز کو برتن میں انڈیل رہا تھا۔کامی پیٹ کے بل لیٹا رہا، اس کی نظریں جوگی پر مرکوز تھیں۔ اچانک جوگی نے دوائی چکھی اور مطمئن انداز میں سر ہلانے لگا۔ ”ظالم انسان!“ کامی بڑبڑایا اور یہی بڑبڑاہٹ اسے لے ڈوبی، جوگی ایک دم ہوشیار ہو گیا، جیسے اسے احساس ہو کہ اس کے نزدیک کوئی دوسرا بھی موجود ہے۔ وہ چوکنا ہو گیا۔