Pakistan Times International
前往频道在 Telegram
News and unbiased commentary https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
显示更多371
订阅者
+124 小时
无数据7 天
+1830 天
吸引订阅者
六月 '26
六月 '26
+35
在2个频道中
五月 '26
+31
在3个频道中
Get PRO
四月 '26
+43
在4个频道中
Get PRO
三月 '26
+35
在1个频道中
Get PRO
二月 '26
+20
在3个频道中
Get PRO
一月 '26
+47
在6个频道中
Get PRO
十二月 '25
+31
在4个频道中
Get PRO
十一月 '25
+171
在4个频道中
Get PRO
十月 '250
在7个频道中
Get PRO
九月 '25
+144
在1个频道中
Get PRO
八月 '250
在3个频道中
Get PRO
七月 '25
+17
在4个频道中
| 日期 | 订阅者增长 | 提及 | 频道 | |
| 29 六月 | 0 | |||
| 28 六月 | +1 | |||
| 27 六月 | +2 | |||
| 26 六月 | +1 | |||
| 25 六月 | +2 | |||
| 24 六月 | +1 | |||
| 23 六月 | 0 | |||
| 22 六月 | 0 | |||
| 21 六月 | +1 | |||
| 20 六月 | +3 | |||
| 19 六月 | +2 | |||
| 18 六月 | +10 | |||
| 17 六月 | +2 | |||
| 16 六月 | +1 | |||
| 15 六月 | +4 | |||
| 14 六月 | 0 | |||
| 13 六月 | 0 | |||
| 12 六月 | +1 | |||
| 11 六月 | 0 | |||
| 10 六月 | 0 | |||
| 09 六月 | 0 | |||
| 08 六月 | +1 | |||
| 07 六月 | 0 | |||
| 06 六月 | +1 | |||
| 05 六月 | +1 | |||
| 04 六月 | 0 | |||
| 03 六月 | +1 | |||
| 02 六月 | 0 | |||
| 01 六月 | 0 |
频道帖子
تفتان سرحدی پوائنٹ سے ایک ماہ میں اسلام آباد منڈی تک پہنچنے والے کنٹینر میں لائے گئے سیب کے 80 فیصد کریٹ خراب ہو گئے۔
”سبزی منڈی ود مایار“ سے ایک ویڈیو گفتگو میں شاہ زیب نامی تاجر نے بتایا کہ 12 لاکھ روپے کنٹینر کا کرایہ تھا، چار لاکھ روپے ڈیزل کے اخراجات جبکہ بلوچستان کی سرحد پر سکیورٹی حالات کی وجہ سے تاخیر کے باعث 75 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔
| 2 | ایک ماہ سے جاری مسلسل ہراسانی کے بعد گزشتہ رات تقریباً ایک بجے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کے اہلکار، جو بائیس گاڑیوں میں سوار تھے اور جن کی تعداد تقریباً 60 سے 70 کے درمیان تھی، لیڈی پولیس اہلکاروں کے ہمراہ مجھے گرفتار کرنے کے لیے میرے گھر پہنچے۔
اس وقت میں گھر پر موجود نہیں تھی۔ اہلکاروں نے گھر کے دروازے توڑ کر زبردستی اندر داخل ہوئے اور تقریباً پانچ گھنٹے تک گھر کے اندر موجود رہے۔ اس دوران انہوں نے پورے گھر کی تلاشی لی اور گھر میں موجود تمام سامان، بشمول لیپ ٹاپ، کیمرے، موبائل فون، کتابیں، دستاویزات اور زیورات اپنے ساتھ لے گئے۔
اگر ان کا مقصد مجھے گرفتار کرنا تھا تو میری غیر موجودگی کا کنفرم کرنے کے باوجود میرے گھر کے دروازے توڑ کر داخل ہونے کی کیا مقصد تھا؟ میرے گھر میں موجود قیمتی اشیاء کو چوری کرنے، سامان کی توڑ پھوڑ کرنے اور ہمسائیوں کو تشدد اور ہراساں کرنے کا کیا مقصد تھا؟ کس قانون کے تحت یہ سب کچھ کیا جارہا ہے؟
میں متعدد بار یہ واضح کر چکی ہوں کہ اگر میرے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو میں اسے قانونی فورمز پر سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ تاہم ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کے گھر پر رات کے اندھیرے میں دھاوا بولنا، ہمسایوں کو تشدد اور دھمکیوں کے ذریعے خوفزدہ کرنا، اور میرے خاندان کو ہراساں کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مقصد قانون کا نفاذ نہیں بلکہ مجھے اور میرے اہلِ خانہ کو ڈرانا اور خاموش کرانا ہے۔
میرے گھر کو پہنچنے والے تمام نقصان اور اس کارروائی کے نتائج کی ذمہ داری بغدادی پولیس، لیاری پولیس اور سندھ حکومت پر عائد ہوگی۔
سمی دین بلوچ | 36 |
| 3 | ڈائریکٹر ایف آئی اے شہزاد ندیم بخاری کی انسانی اعضاء کی سمگلنگ کےحوالے سے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو
انسانی پیلسنیٹا سے کولیجن شاٹ اور جلد کی گولیاں بنائی جاتی تھیں۔
یہ ایک مضبوط نیٹ ورک ہے جن کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائیاں جاری ہیں
ہسپتالوں کے چھوٹے عملے۔ ایجنٹ اور غیر ملکیوں کے درمیان گٹھ جوڑ تھا۔
کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ جتنے بھی بڑے ریکٹ ہوئے گرفت میں لایا جائیگا۔
5 ملزمان گرفتار ہیں، گرفتار ہونے والوں میں کوئی ڈاکٹر شامل نہیں
گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے، مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں
ملزمان انسانی اعضاء کو پیکنگ کے بعد وینام منتقل کرتے تھے
اسلام آباد میں دو مقامات پر چھاپے مار کر تمام شواہد اکٹھے کیئے گئے
لاہور پشاور اور راولپنڈی میں چھاپے کامیاب رہے ہیں۔
یہ معاملہ کرپشن کے ساتھ انسانی تقدس کی پامالی کا ہے۔
ثناء اللہ خان ڈان نیوز | 320 |
| 4 | ڈی جی خان۔فریال تبسم یہ وہ خاتون ہے جس نے کچھ عرصہ قبل آر پی او ڈیرہ غازیخان کو کھلی کچہری میں شکایت کی تھی کہ انکے ایک ایس ایچ او نے انہیں جنسی ہراساں کیا۔ایس ایچ او کیخلاف کیا کاروائی ہونا تھی کل اس خاتون کو این سی سی آئی اے نے ایک مقدمے میں چھاپہ مار کر گرفتار کیا اور ویمن جیل ملتان منتقل کر دیا گیا۔انصاف کا بول بالا ہو گیا۔اس واقعے کے بعد کوئی اہل دانش یہ سمجھائے کہ دور دراز علاقوں میں بااثر افراد کے ہاتھوں ظلم کا شکار خواتین کیا اب آواز اٹھائیں گے اپنے اوپر ہونے والے مظالم کیخلاف۔یہ کیا پیغام دیا گیا ہے معاشرے کو کہ کمزور کا کوئی حق نہیں انصاف کیلئے کسی فورم پر آواز اٹھائے۔
https://x.com/i/status/2071017246659317820 | 67 |
| 5 | ایئر پورٹ پر اوور سیز پاکستانی سے نامناسب رویہ اور رشوت کا مطالبہ
میرا نام محمد ارشد ہے اور میں گزشتہ 16 سال سے یورپ میں مقیم ہوں۔ میں 11 مئی 2026 کو فلائٹ PK-750 کے ذریعے پاکستان آیا تھا۔ میری واپسی کی فلائٹ PK-749 مورخہ 21 جون 2026 کو تھی۔
میں تقریباً 9:00 بجے ایئرپورٹ پہنچا۔ اندر داخل ہوتے ہی میری ملاقات ایک افسر جناب ارشد خالد سے ہوئی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ میں لیٹ ہو چکا ہوں اور مجھ سے انتہائی غیر مہذب اور نامناسب انداز میں بات کی۔( جیسا کہ تصویر میں بھی ان کا انداز دیکھا جا سکتا ہے) حالانکہ میرے پہنچنے کے بعد بھی کئی دوسرے مسافروں کی بورڈنگ جاری تھی اور وہ میرے بعد ایئرپورٹ میں داخل ہوئے تھے۔
میں نے مؤدبانہ طور پر انہیں بتایا کہ میری فلائٹ کا مقررہ وقت 11:45 بجے تھا اور اس وقت صرف 9:00 بجے تھے۔ بظاہر فلائٹ کے وقت میں ایک گھنٹے کی تبدیلی کی گئی تھی، لیکن مجھے اس تبدیلی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
اس کے باوجود جناب ارشد خالد بار بار یہ کہتے رہے کہ میں لیٹ ہوں اور مجھے فلائٹ میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن پھر 20 ہزار مانگ لیئے جس پر جب میں نے رقم دینے سے انکار کیا تو انہوں نے مجھے بورڈنگ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اور کہا کہ 20 ہزار کے بغیر سوچنا بھی مت
میں نے کئی منٹ تک انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہ مانا اور میں سفر نہ کر سکا، میرا ٹکٹ ضائع ہو گیا، اور مجھے پورے دن شدید ذہنی اذیت، پریشانی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
میں گزشتہ 16 سال سے یورپ میں مقیم ہوں اور میرے پاس تمام ضروری سفری دستاویزات موجود ہیں۔ ایک فرد کے غیر مناسب رویے کی وجہ سے مجھے مالی نقصان اور شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مجھے امید ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات اور انکوائری کر کے مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اوور سیز پاکستانی
محمد ارشد
ٹکٹ نمبر: 2142431511028 | 85 |
| 6 | 没有文字... | 75 |
| 7 | گزشتہ رات 26/06/2026 تقریباً دو بجے آٹھ سے نو رینجرز اور ایف سی کی گاڑیوں نے گوجرہ پولیس لائن کے قریب صدر مدینہ مارکیٹ راجہ ابرار مصطفیٰ کے گھر دھاوا بولا ۔ رینجرز اور ایف سی اہلکاروں نے گھر میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی، گھر کے افراد کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا، اور مدینہ مارکیٹ کے صدر راجہ برار مصطفیٰ کو اپنے ساتھ لے گئے۔
گھر سے موبائل فون، پاسپورٹ اور دیگر سامان بھی ساتھ لے گئے، جبکہ گھر میں نصب کیمرے بھی اتار کر لے گئے۔
صدر مدینہ مارکیٹ راجہ برار مصطفیٰ کو حراست میں لے جانے کے بعد تشدد کیا گیا اور ان سے ایک ویڈیو بیان ریکارڈ کروایا گیا۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ اگلے روز دکانیں کھلوائی جائیں، بصورتِ دیگر دکانیں جلانے کی کارروائی کی جائے گی اور اس کی ذمہ داری انہی پر عائد کی جائے گی۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ اگر پریس کانفرنس نہ کی گئی تو دکانیں جلانے کے بعد انہی کے خلاف ریاست کی جانب سے ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
اس کے بعد انہیں واپس چھوڑ دیا گیا۔ آج ہونے والی پریس کانفرنس اور دکانیں کھلنے کے عمل کو اسی مبینہ دباؤ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ ریاستی جبر کی ایک مثال ہے اور ایسے اقدامات عوام میں ریاستی اداروں کے خلاف مزید نفرت پیدا کرنے کا سبب بنیں گے۔ اگر کاروبار اور ٹرانسپورٹ کو اس نوعیت کے دباؤ کے ذریعے بحال کیا جائے تو یہ قابلِ مذمت ہے اور ریاستی عوام کے ساتھ کھلم و کھلی دشمنی کے مترادف ہو گی۔
#RightsMovementAJK | 85 |
| 8 | چکوال والے واقعے میں آسٹریلوی حکومت کے انوالو ہونے کے بعد سی سی ڈی پر شدید پریشر تھا۔ ماورائے عدالت قتل والی اپروچ پر پوری قوم احتجاج کررہی تھی۔ محسوس ہورہا تھا کہ اس انتہائی اندوہناک واقعے نے، جاہل قوم کو سوتے میں سے جگادیا ہے۔
پھر سرگودھا کا تازہ واقعہ، سی سی ڈی کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا بن کر آیا۔ اس پر عوامی جذبات بھی مشتعل تھے۔ مجرم ایک انتہائی عام سا بندہ تھا۔ اس کی موت لازمی سیلیبریٹ ہونی تھی اور کسی قسم کا پریشر آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا
یہ سی سی ڈی کے لیے اپنے امیج کو بحال کرنے کی ایک perfect opportunity تھی
لہذا "پولیس مقابلے" میں ثابت شدہ مجرم کو ٹھکانے لگا کر واپس واہ واہ کروالی گئی
عوام یہ بھول گئی کہ چکوال واقعے میں، ایک معصوم بچی کو گولیوں سے چھلنی کردینے والے بھی تو مجرم تھے۔ انھیں کیوں چھوٹ مل گئی؟
سرگودھا واقعہ اوپن اینڈ شٹ کیس تھا۔ مجرم بمعہ اقبال جرم موجود تھا۔ اس کیس کو عدالتوں کے زریعے پایہ تکمیل تک پہنچانا کچھ مشکل نہیں تھا۔ عوام کو انصاف اور عدالتی نظام کے پیچھے کھڑا یونا چاہیے تھا۔ مجرم کو پھانسی کے پھندے تک پہنچانا کچھ مشکل نہ تھا
اس مجرم کے ساتھ ساتھ، اس واردات میں اور کون ملوث تھا؟ واقعے کا پس منظر کیا تھا، یہ سب کچھ ہمیشہ کے لیے دبا دیا گیا
صد افسوس۔۔۔۔۔۔۔۔
اس قوم کی جہالت خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے یا شاید حد سے بھی آگے نکل چکی ہے
جہاں جاہل بستے ہوں، وہاں جذبات کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہے
سرگودھا واقعہ ہوا تو قوم چکوال بھول گئی
صرف کچھ دنوں کے اندر بھول گئی
کتنی کھوکھلی اور ہلکی قوم ہوچکی۔۔۔۔۔۔
مقتدرہ بہت اچھی طرح جانتی ہے کہ یہ قوم محض جذباتی قسم کا ریوڑ ہے۔ انسانی شکل میں چوپائے ہیں۔ انھیں emotionally manipulate کرنا انتہائی آسان کام ہے۔ انھیں سرے سے شعور ہی نہیں کہ ادارے، انصاف اور قانون کیا ہوتا ہے
اب ان چوپایوں کا، عدل و انصاف کی طرف دھیان تک نہیں جاتا۔ ان کی مثال ان پالتو جانوروں جیسی ہوچکی کہ جنھیں پنجرے میں بند کر دو تو وہ آزادی کی بجائے، دانہ پانی مانگنے لگتے ہیں
اس ایکشن سے، سی سی ڈی اور اس کے مؤجد نے، عوام کی ہمدردیاں واپس حاصل کرلیں۔ انھیں یہ باور کروادیا کہ "آن اسپاٹ" قتل ہی بہترین قدم ہے۔ یہ عدالتیں وغیرہ وقت کا ضیاع ہیں۔ عوام نے خوش دلی سے یہ تسلیم بھی کرلیا۔ مقتدرہ عین یہی چاہتی ہے
ہارڈ اسٹیٹ میں آئین، عدالت، انصاف، قانون وغیرہ کی کوئی جگہ نہیں۔ یہ سب بائی ڈیزائن ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ عوام اس کا خیر مقدم کررہی ہے۔
خوفناک صورتحال یہ نہیں ہوتی کہ مظلوم کے خلاف ظالم کھڑے ہوں
خوفناک ترین صورتحال یہ ہوتی ہے کہ مظلوم، خود ہی ظالم کے ساتھ کھڑے ہوجائیں۔ اس ملک میں اب یہ ہورہا ہے۔۔۔۔۔!!!!
شہزاد حسین | 88 |
| 9 | انہوں نے نومبر 2017 میں جنوبی کوریا کے 5.4 شدت کے پوہانگ زلزلے کا بھی ذکر کیا، جو ملک کے پہلے تجرباتی جیو تھرمل پاور پلانٹ میں پانی ڈالنے کی وجہ سے آیا تھا۔
گیارڈینی نے اشارہ کیا کہ "بغیر محسوس کیے، انہوں نے ایک بڑی فالٹ لائن میں پانی ڈالنا شروع کیا جس سے ایک بہت سنگین زلزلہ آیا"۔
انہوں نے اصرار کیا، "ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ہمیں زیرِ زمین نہیں جانا چاہیے، بلکہ ہمیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ اسے زیادہ محفوظ طریقے سے کیسے کیا جائے"۔ | 72 |
| 10 | آخر کیوں سائنسدان ایلپس میں زلزلے پیدا کر رہے ہیں؟
سوئٹزرلینڈ کے جنوبی حصے میں محققین نے ایک زیرِ نگرانی ماحول میں زمین کو لرزا کر ہزاروں چھوٹے زلزلے پیدا کیے ہیں، کیونکہ وہ زلزلہ پیما سرگرمیوں (seismicity) کے بارے میں ایسی معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں جو خطرات کو کم کر سکیں
سوئٹزرلینڈ کے جنوبی حصے میں محققین نے ایک زیرِ نگرانی ماحول میں زمین کو لرزا کر ہزاروں چھوٹے زلزلے پیدا کیے ہیں، کیونکہ وہ زلزلہ پیما سرگرمیوں (seismicity) کے بارے میں ایسی معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں جو خطرات کو کم کر سکیں۔
اس منصوبے کے اہم محققین میں سے ایک، ڈومینیکو گیارڈینی نے سوئس الپس کے بہت نیچے ایک تنگ سرنگ کی چٹانی دیوار میں پڑنے والی دراڑ کا معائنہ کرتے ہوئے کہا، "یہ ایک کامیابی تھی!"
زیورخ میں سوئس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ETH Zurich) کے جیولوجی کے پروفیسر نے نارنجی رنگ کا چمکدار جمپ سوٹ اور ہیلمٹ پہن کر اپنا ہیڈ لیمپ آن کیا تاکہ وہ قریب سے دیکھ سکیں۔
انہوں نے جوش و خروش سے کہا، "ہمیں زلزلے کی لہریں محسوس ہوئیں،" انہوں نے وضاحت کی کہ مقصد یہ تھا کہ "یہ سمجھا جا سکے کہ جب زمین حرکت کرتی ہے تو گہرائی میں کیا ہوتا ہے"۔
گیارڈینی BedrettoLab میں کھڑے تھے جو کہ 'فرکا ریلوے ٹنل' کی طرف جانے والی 5.2 کلومیٹر لمبی ہوا دار سرنگ کے بیچ میں بنائی گئی ہے۔
گیارڈینی نے بتایا کہ کیچڑ والے فرش پر بچھی کنکریٹ کی سلیبوں پر چلنے والی خصوصی الیکٹرک گاڑیوں کے ذریعے پہنچنے والی یہ گہری زیرِ زمین لیبارٹری زلزلوں کو پیدا کرنے اور ان کا مطالعہ کرنے کے لیے بہترین جگہ ہے۔
انہوں نے کہا، "یہ بہترین ہے، کیونکہ ہمارے اوپر ڈیڑھ کلومیٹر اونچا پہاڑ ہے... اور ہم فالٹ لائنوں (زمین کی دراڑیں) کو بہت قریب سے دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کیسے حرکت کرتی ہیں، کب حرکت کرتی ہیں، اور ہم انہیں خود بھی حرکت دے سکتے ہیں"۔
عام طور پر، زلزلوں کا مطالعہ کرنے والے محققین معلوم فالٹ لائنوں کے پاس سینسر لگاتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، BedrettoLab میں محققین نے ایک پہلے سے منتخب کردہ فالٹ کو سینسرز اور دیگر آلات سے بھر دیا اور پھر خود حرکت پیدا کرنے کی کوشش کی۔
اس تجربے کے لیے، جسے FEAR-2 کا نام دیا گیا ہے، پورے یورپ سے درجنوں سائنسدانوں نے اپریل کے آخر میں چار دن گزارے اور سرنگ کی چٹانی دیواروں میں کیے گئے بور ہولز میں 750 کیوبک میٹر پانی داخل کیا، جس کا مقصد 1 شدت کا زلزلہ پیدا کرنا تھا۔
گیارڈینی نے کہا، "ہم کوئی نیا فالٹ پیدا نہیں کرتے، ہم صرف اس کی حرکت کو آسان بناتے ہیں"۔
حفاظتی وجوہات کی بنا پر تجربے کے دوران سرنگ میں کوئی انسان موجود نہیں تھا، اور تمام معاملات کو شمالی سوئٹزرلینڈ میں ETH Zurich کی لیب سے ریموٹ کے ذریعے کنٹرول کیا گیا۔
چھوٹے سمال سیزمک ایونٹس (Seismic events)
آخر کار، ٹارگٹڈ فالٹ کے ساتھ ساتھ تقریباً 8,000 چھوٹے سیزمک ایونٹس پیدا ہوئے، لیکن حیرت انگیز طور پر یہ اصلی فالٹ کے عمودی (perpendicular) دوسری دراڑیں میں بھی پیدا ہوئے، جن کی مقامی شدت -5 سے -0.14 کے درمیان تھی۔
گیارڈینی نے کہا، "ہم اس شدت (میگنیٹیوڈ) تک نہیں پہنچ سکے جو ہم نے مقرر کی تھی، لیکن ہم اس کے بالکل قریب پہنچ گئے"
انہوں نے اصرار کیا کہ یہ اپنے آپ میں ایک بڑی کامیابی ہے، کیونکہ لیب کے ماحول میں ننھے زلزلے پیدا کرنے کی پہلے بھی کوششیں کی گئی تھیں، لیکن "اس پیمانے پر اور اتنی گہرائی میں کبھی نہیں"۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ نتائج اگلے جون میں دوبارہ کوشش کرنے پر BedrettoLab میں 1 شدت تک پہنچنے کے لیے بہترین 'انجکشن اینگل' کا تعین کرنے میں مدد کریں گے۔
ریکٹر سکیل پر شدت کی پیمائش لوگارتھمک (logarithmically) ہوتی ہے، جس میں ہر مکمل نمبر کا اضافہ ناپی گئی لہروں میں دس گنا اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
صفر سے نیچے کی شدت بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ گیارڈینی نے بتایا کہ سب سے بڑے زلزلے (-0.14 شدت) کے دوران اگر کوئی فالٹ کے پاس کھڑا ہوتا، تو اسے "1.5 G" کی رفتار (اسٹینڈرڈ گریویٹی سے 1.5 گنا زیادہ) محسوس ہوتی۔
انہوں نے سمجھایا کہ وہ شخص "ہوا میں ایک بڑی چھلانگ کے ساتھ اڑ جاتا"۔
حفاظت
سطحِ زمین پر کچھ بھی محسوس نہیں کیا گیا، اور گیارڈینی نے اس بات پر زور دیا کہ ایک موجودہ فالٹ کو ہموار (lubricating) کر کے ٹیم قدرتی خطرے میں صرف "تقریباً ایک فیصد" اضافہ کر رہی تھی۔
انہوں نے اصرار کیا کہ یہ تجربہ مکمل طور پر "محفوظ" تھا۔
گیارڈینی نے اس تحقیق کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا: "اگر ہم یہ سیکھ لیں کہ ایک خاص سائز کا زلزلہ کیسے پیدا کرنا ہے، تو ہم یہ بھی جان جائیں گے کہ انہیں کیسے پیدا ہونے سے روکنا ہے"۔
انہوں نے کہا کہ یہ خاص طور پر زیرِ زمین سرگرمیوں جیسے کھدائی اور نکاسی (extraction) کے سلسلے میں اہم ہے، مثال کے طور پر ٹیکساس میں فریکنگ انڈسٹری کے گندے پانی کو ٹھکانے لگانے سے پیدا ہونے والے زلزلے۔ | 81 |
| 11 | عبدالرحمان کے بھائی کو گزشتہ 12 سال سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ عبدالرحمن کے دوسرے بھائی، حبیب الرحمان، جو اپنے بھائی کی گمشدگی کے بارے میں شواہد اکٹھے کر رہے تھے، کو چمکنی پولیس نے 6 جون 2026 کو ایک جعلی پولیس مقابلے میں قتل کر دیا تھا۔ حال ہی میں، ان کے والد کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔ اب باقی بھائیوں اور عبدالرحمن کو بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اگر عبدالرحمان کو کچھ ہوا تو ڈی ایچ آر قصورواروں کے خلاف قانونی کارروائی کرے گا۔
آمنہ مسعود جنجوعہ
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
Sent from WhatsApp
wa.me/15722710247?source=exsh | 190 |
| 12 | اسے کہتے ہیں اندھیر نگری اور چوپٹ راج ۔
ایک اوور سیز پاکستانی کے اکاونٹ سے ایف بی آر نے 2 کروڑ 26 لاکھ روپے نکال لئے بغیر کسی مقدمے کے، بغیر اطلاع دیئے۔ اور اوپر سے سب سے بڑی بے غیرتی کی بات ہے کہ بینک نے ایف بی آر کو اجازت بھی دے دی کہ تم اکاونٹ سے پیسے نکال سکتے ہو۔ اب ہر پاکستانی کو چاہئے فوری طور پر اپنے پیسے بینکوں سے نکلوائے ورنہ یہ پاکستانی بینک آپ کے خون پینے کی کمائی ہڑپ جائیں گے
فیاض شاہ | 84 |
| 13 | پاکستان بھر کی عدالتوں پر 120 ارب سے زائد سالانہ خرچ کیا جاتا ہے جبکہ CCD کا بجٹ ساڑھے 5 ارب ہے۔
جب فیصلے CCD سے کروانے ہیں تو ہمارا 115 ارب سالانہ کیوں ضائع کیا جاتا ہے؟؟؟؟ | 87 |
| 14 | آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی تنظیم OCAC نے وزیرِ پیٹرولیم کو خط لکھا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں اچانک گرنے سے مہنگا سٹاک سستا بیچ کر انہیں قریبا 104 ارب نقصان ہوا۔ حکومت اس نقصان کا ازالہ کرے
خط میں بس یہ نہیں لکھا کہ سستا تیل ڈبل قیمت پر بیچ کر کتنے سو ارب منافع ہوا تھا
شفقت چوہدری | 182 |
| 15 | انصافیوں کے سیاسی شعور کا اس وقت یہ لیول ہے کہ ایک بریکنگ نیوز آئی کہ کشمیر کی ہائی کورٹ نے، تحریک انصاف کو بطور پارٹی لڑنے کی اجازت دے دی۔ بظاہر یہ خوشی کی خبر ہے
لیکن سارے انصافی اس پر متفق ہیں کہ یہ ایک ٹریپ ہے جس کا مقصد ایکشن کمیٹی کو بیک فٹ پر دھکیلنا ہے۔ اکثر انصافی خود کہہ رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے امیدواران کو ووٹ نہیں ڈالنا
انصافی جب پالش کرتے تھے، تو زمین آسمان ملا دیا کرتے تھے
اب جب جنگ پر آمادہ ہیں، تو ان کا سیاسی شعور بھی اسی ٹکر کے لیول پر جاکر آپریٹ کررہا ہے
آپ انھیں ماضی کا پالشی، اور باجوہ قوم کا باپ ہے وغیرہ کہہ کر طعنہ دیتے ہیں تو ان کے اس موجودہ شعور کے حق میں بھی دو لفظ لکھ لیا کیجیے
شہزاد حسین | 104 |
| 16 | اگرتمام بلوچستان کی سٹرکیں پکی کردیں اور سولر دے دیں، پھر بھی آپ بلوچستان کے مقروض ہوں گے، پاکستان پشتونوں، بلوچوں، سندھیوں، سرائیکیوں اور اب کشمیریوں کیلئے جیل بن رہا ہے، محمود خان اچکزئی | 97 |
| 17 | اب پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان لوگوں کی فلاح پر خرچ نہیں کرتا۔ 18ویں ترمیم اور این ایف سی کے تحت عوام کی فلاح صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔۔۔تعلیم، صحت، پینے کا صاف پانی، انفرااسٹرکچر اور باقی سب چیزیں۔۔۔اۤپ صوبوں کو پیٹرولیم لیوی میں سے انکا حصہ نہیں دیتے۔۔ صوبائی سرپلس بھی نارملائز ہوگیا ہے:
محمد زبیر | 138 |
| 18 | تین گھنٹے ہوئے کوئٹہ سے کراچی آمد پر ہم حب چوکی رینجرز چیک پوسٹ پر پھنسے ہوئے ہیں بسوں کی لمبی قطاریں۔۔۔۔ پورے بلوچستان سے کراچی سندھ میں داخلے کا واحد راستہ اور رینجرز کے چار سپاہی تلاشی پر معمور۔۔۔۔۔ تمام بسوں میں خواتین ، بچوں ، بزرگوں اور مریضوں کی بڑی تعداد انتہائی پریشانی میں مبتلا۔۔۔ کوئی پرسان حال نہیں۔۔۔۔۔ فورسز کو چند لیٹر ایرانی ڈیزل سے غرض۔۔۔۔ عوام'الناس کی پریشانیاں جائیں بھاڈ میں۔۔۔۔۔ یہ چیک پوسٹیں دھشت گردوں کو پکڑنے کےلیئے نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کے دلوں میں نفرت پالنے کا سبب بن رہی ہیں 8 گھنٹوں کا سفر 14 گھنٹوں کا بنایا جاتا ہے۔۔۔۔
خدارا ہوش کے ناخن لیں۔۔۔۔
گھر گھر سے بچے بچیاں پہاڑوں پر جا رہی ہیں تمھارے رویوں کی وجہ سے۔۔۔۔۔
سعید احمد بلوچ
امیر جماعت اسلامی ضلع گوادر | 138 |
| 19 | اسرائیل نے ایران میں اسٹارلنک سسٹمز اسمگل کیے تھے، سابق اسرائیلی وزیر اعظم کا اعتراف
یروشلم میں منعقدہ جے این ایس انٹرنیشنل پالیسی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے بینیٹ نے، جو 2021 سے 2022 تک اسرائیل کے وزیراعظم رہے تھے، کہا کہ انہوں نے ’’ہزاروں اسٹارلنک رسیورز حاصل کر کے ایران اسمگل کرنے کا عمل شروع کیا تھا، جس سے انٹرنیٹ اور سوشل نیٹ ورکس کی مسلسل دستیابی ممکن بنائی جا سکتی تھی۔‘‘
ڈی ڈبلیو اردو | 113 |
| 20 | کشمیر میں لوگ دھرنہ دے کر بیٹھے عورتیں ،بچے ، جوان وہ کون ہیں؟ وہ دہشتگرد ہیں کیا ؟ آجکل اگر کسی کو دہشتگرد کہتے تو یہ اعزاز ہے ہم سب کو دہشتگرد بنادیا گیا انسداد دہشتگردی کی عدالت میں کیس لگے ہوئے جو آواز اٹھاتا اس کو دہشتگرد قرار دے دیتے۔ آج تک ہمیں ایک اصلی دہشتگرد نہیں دکھایا ایک دہشتگرد دکھا دیں دہشتگردی کے نام کو مزاق بنا دیا ہے اپنا حق مانگنا دہشتگردی نہیں ہے اپنی آزادی اپنے حقوق مانگنا ہر پاکستانی کا حق ہے.
علیمہ خان | 107 |
现已上线!2025 年 Telegram 研究 — 年度关键洞察 
