|-|ard Talk جلی کٹی
前往频道在 Telegram
Cartoonist, Journalist, Researcher Journalism Is Not A Crime ہمارا فیسبک پیج بھی ضرور لائک کریں https://www.facebook.com/profile.php?id=61564417160250&mibextid=ZbWKwL
显示更多1 748
订阅者
无数据24 小时
+207 天
+4330 天
帖子存档
1 748
Repost from Politics Plus
مولانا حامد الحق کو شہید کروانے والے بھی وہی ہیں جنہوں نے انکے والد مولانا سمیع الحق کو شہید کیا ۔۔۔۔
سنیے اور خود فیصلہ کیجئے ان کے قاتل کون ہیں؟
https://x.com/Polplusorg/status/1895668407829434422?t=SWSsrh93F_jGx1Ptd_sKXg&s=19
1 748
Repost from Politics Plus
❗شہید جاتے جاتے خود بتا گئے ہیں وہ دہشتگرد کون ہیں "ہمیں معلوم ہے کہ فوج ہمیں ٹارگٹ کرتی ہے۔"
https://x.com/Polplusorg/status/1895648815975449049?t=vpvkfu5R7GXFK1yeOV9SJg&s=19
1 748
دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے جامع مسجد میں ہونے والے دھماکے کے حوالے سے تحریک طالبان پاکستان کا اعلامیہ
آج بروز جمعہ المبارک دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں نہایت ہی افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے ،
اطلاعات کے مطابق اس ظالمانہ دھماکے میں شہیدِ ملت اسلامیہ مولانا سمیع الحق مرحوم کے فرزند ارجمند اور جے یو آئی س کے قائد مولانا حامد الحق صاحب سمیت کئی نمازی شھید اور بیس سے زائد شدید زخمی ہوئے ہیں ،ان اللہ وانا الیہ راجعون ۔
تحریک طالبان پاکستان شھداء کے اہلخانہ اور بالخصوص دارالعلوم حقانیہ کے استاتذہ کرام اور طلبہ عزام کے ساتھ غم کی اس دردناک گھڑی میں برابر کے شریک ہے ۔
رب متعال شھداء کی شھادتوں کو قبول اور پسماندگان کو صبر جمیل اور نعم البدل عطاء فرمائے ۔ "آمین "
ماضی قریب میں اسطرح کے افسوسناک واقعات میں جتنے بھی علماء حق اور بالخصوص ریاستی اداروں کے منشاء کے خلاف چلنے والے سیاسی ومذھبی قائدین اور کارکنان نشانہ بنے ہیں ، یہ اسی ناپاک ویہودی سیاست کا تسلسل ہے جو پاکستانی خفیہ اداروں نے سیاسی ومذھبی طبقہ کو دبانے کی خاطر اپنائے رکھی ہے ،
علمائے اسلام کا مقدس خون اس بات پر شاہد ہے کہ وہ اس قسم کے واقعات سے کبھی مرعوب نہیں ہوئے ہیں۔
انہی اداروں نے شھید ملت اسلامیہ مولانا سمیع الحق رحمہ اللہ کے قلم سے تحریک طالبان پاکستان کے مجاھدین کے قتل کا جواز فراہم کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ، مگر فخر ملت اسلامیہ ، دارالعلوم دیوبند ثانی کے روح رواں نے پاکستانی اداروں کے ناجائز مطالبہ کو یکسر مسترد کردیا ، اور اپنے ہم عصروں ( مفتی نظام الدین شامزئی ، شیخ الحدیث شیخ نصیب خان صاحب رحمہما اللہ تعالیٰ) کے قدموں سے قدم ملایا اور نتیجتاً پاکستان کے خفیہ خونخوار اداروں نے ضعیف العمر عالم ربانی کو اسلام آباد میں چھریوں کے واروں سے نہایت سفاکانہ طریقے سے شھید کردیا ۔
آج اسی شھید عالم ربانی کے وارث "مولانا حامد الحق صاحب (جن کی رگوں میں شھید ملت اسلامیہ کا گرم خون گردش کررہا تھا اور جو پاکستانی اداروں کی آنکھوں میں کھٹک رہے تھے) کو بھی آج نہایت چالاکی کے ساتھ راستے سے ہٹادیا۔
مولانا حامد الحق رحمہ اللہ علم وعمل سے مالامال مبلغ حق ، مشفق استاد اور استحکام مدارس کے نڈر داعی تھے ، جن کا پاکیزہ خون رائگاں نہیں جائے گا ، ان شاءاللہ تعالیٰ ۔
یہ حملہ صرف مولانا مرحوم پر نہیں ، بلکہ تمام دینی مدارس ، مذھبی اداروں اور علماء کرام پر حملہ ہے ۔
اگر اہل حق اس قسم کی چالوں سے مرعوب ہوتے تو اسلام کا یہ روشن چراغ کب بجھا ہوتا ۔
آہوں سے سوزِ عشق مٹایا نہ جائے گا
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
محمدخراسانی
ترجمان: تحریک طالبان پاکستان
29/ شعبان المعظم /1446ھـ ق
28/ فروری / 2025 ء
#ٹی_ٹی_پی
#عمر_میڈیا
#محمد_خراسانی
#TTP
#Umar_Media
#Muhammad_Khurasani
ہماری ویب سائٹ:
https://umnews.net
1 748
دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے جامع مسجد میں ہونے والے دھماکے کے حوالے سے تحریک طالبان پاکستان کا اعلامیہ
29/ شعبان المعظم /1446ھـ ق
28/ فروری / 2025 ء
#ٹی_ٹی_پی
#عمر_میڈیا
#محمد_خراسانی
#TTP
#Umar_Media
#Muhammad_Khurasani
ہماری ویب سائٹ:
https://umnews.net
1 748
قسط نمبر :- (09)
تیسری جنگِ عظیم اور دجال :-
وقت کا تیزی سے گذرنا:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس وقت تک قیامت نہیں آسکتی جب تک زمانہ آ پس میں بہت قریب نہ ہو جائے۔ چنانچہ سال مہینے کے برابر مہینہ ہفتہ کے برابر اور ہفتہ دن کے برابر اور دن گھنٹے کے برابر اور گھنٹہ کھجور کی پتی یا شاخ کے جلنے کی مدت کے برابر ہو جاۓ گا۔
( ابن حبان: ج ۱۵ ص ۲۵۲)
فائدہ: وقت میں برکت کا ختم ہو جانا تو اس وقت ہر ایک سمجھ سکتا ہے، کہ کس طرح سے ہفتہ، مہینہ اور سال گذر جاتا ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا۔ روحانیت سے غافل انسان یہ کہ سکتا ہے کہ وقت میں برکت کے کیا معنی؟ جبکہ پہلے کی طرح اب بھی دن چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے، ہفتہ میں اب بھی سات ہی دن ہوتے ہیں؟ وقت میں برکت کے معنی اگر اب بھی کسی کو سمجھنے ہوں تو وہ اپنے دن کے معمولات کو فجر کی نماز کے بعد کرکے دیکھے تو اسکو پتہ چل جائیگا کہ جس کام میں وہ سارا دن صرف کرتا تھا وہی کام اس وقت میں بہت کم عرصے میں ہو جائیگا۔
چاند میں اختلاف ہونا:
عـن أبي هريرة قال قال رسول اللہ ﷺ من اقتراب الساعة التفاح الأهلة وأن يرى الهلال لليلة فيقال هو ابن ليلتين. ( المعجم الصغير: ج ۲ ص ١١٥)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ قیامت کی قریبی نشانیوں میں سے ایک چاند کا پھیل جانا ہے اور یہ کہ پہلی تاریخ کے چاند کو یہ کہا جائیگا کہ یہ دوسری تاریخ کا چاند ہے۔
فائدہ: اس حدیث میں علماء امت کو بہت غور کرنا چاہئے اور جو صورت حال اس وقت مسلم دنیا میں چاند کے اختلاف کے حوالے سے پیدا ہوچکی ہے اسکو ختم کرنا چاہئے۔
جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں پیشن گوئی: عن أبي سعيد الخدري رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ والذي نفسي بيده لا تقوم الساعة حتى تكلم السباع الانس وحتى تكلم الرجل عذبة سوطه وشراك نعله وتخبره فخذه بما أحدث أهله من بعده. هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يخرجاه. وافقه الذهبي رحمہ اللہ. ( مستدرک حاکم: ج ۴ ص ۵۱۵، ترمذی: ۲۱۰۸)
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی، جب تک درندے آدمیوں سے بات نہ کرنے لگیں، اور آدمی کے چابک کا پھندا اور اس کے جوتے کا تسمہ اس سے بات نہ کرنے لگے، اور انسان کی ران اس کو یہ بتایا کرے کہ اسکی غیر موجودگی میں اسکے گھر والوں نے کیا بات کی ہے اور کیا کام کئے ہیں؟
امام حاکم رحمہ اللہ نے اسکو مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس سے اتفاق کیا ہے۔ نیز ترمذی شریف کی روایت کو بھی علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔
فائده ¹: درود وسلام ہو محمد ﷺ پر جنھوں نے ہر میدان میں ہماری رہنمائی فرمائی۔ یہ بیان آپ کا معجزہ ہی کہا جاۓ گا کہ ایک ایسے دور میں آپ ﷺ یہ بات بیان فرما رہے ہیں جہاں جدید ٹیکنالوجی کا موجودہ تصور بھی نہیں تھا۔ لیکن الیکٹرونک چپ (Electronic Chip) کا یہ جدید دور چیخ چیخ کر نبی کریم ﷺ کے بیان کی سچائی کو ثابت کر رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ایسی چپ تیار کی جاچکی ہیں بلکہ زیر استعمال ہیں۔ یہ چپ کسی کو لگائی جاۓ تو دور بیٹھا دوسرا شخص اسکی تمام باتیں سن بھی سکتا ہے اور اس کو دیکھ بھی سکتا ہے، اسکے علاوہ اگر اس چپ کو نکال کر اس کا ڈیٹا (چپ میں موجود مواد) کمپیوٹر وغیرہ میں ڈاؤن لوڈ کیا جائے تو سب کچھ پتہ چل سکتا ہے کہ اس شخص نے آپ کی غیر موجودگی میں کیا کچھ کیا ہے۔ ابھی اس کو ٹانگ یا بازو پر باندھ کر استعمال کیا جارہا ہے، جبکہ بازو یا ران کے گوشت میں پیوست کرنے کے تجربات چل رہے ہیں، اور ممکن ہے کہ یہ بھی ہوچکا ہو۔
فائدہ ²: جانوروں سے گفتگو: آپ سنتے رہتے ہونگے کہ مغربی ممالک جانوروں کی بولی سمجھنے اور ان سے گفتگو کرنے کے لئے مسلسل تجربات کر رہے ہیں۔
ہر قوم کا حکمران منافق ہوگا:
عن أبي بكرة رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ لا تقوم الساعة حتى يسود كل قوم منافقولهم.
( المعجم الاوسط: ج ۴ ص ۳۵۵)
ترجمہ: حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک نہیں آئیگی جب تک ہر قوم کے حکمراں ان (میں) کے منافق نہیں بن جاتے۔
فائدہ: آقائے مدنی ﷺ نے اس حدیث میں امت کے عمومی مزاج کی نشاندہی کی ہے کہ انکے اندر بزدلی، کاہلی اور باطل کے سامنے جھک جانے جیسی بیماریاں پیدا ہو جائیں گی چنانچہ منافقین کی حکمرانی سے بھی انکی ایمانی غیرت جوش میں نہیں آئیگی۔
<===== *جاری ہے* =====>
''ماخوذ از: تیسری جنگِ عظیم اور دجال"
"تصنیف: حضرت مولانا عاصم عمر رحمہ اللہ"
1 748
البم ... د فتحو اوازې
۱۔فتحه به راځي زلمو
🎤حبیب الله محمدي
✍️هاشم سادات
https://archive.org/download/Da-Fatho-Awazay/%DB%B1%DB%94%D9%81%D8%AA%D8%AD%D9%87%20%D8%A8%D9%87%20%D8%B1%D8%A7%DA%81%D9%8A%20%D8%B2%D9%84%D9%85%D9%88%20.mp3
https://www.mediafire.com/file/tkqsmetzrukvq82/۱۔فتحه+به+راځي+زلمو+.mp3/file
1 748
قسط نمبر :- (08)
تیسری جنگِ عظیم اور دجال :-
فالج کا بیان:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: فالج ضرور پھلے گا یہاں تک کہ لوگ اسکو طاعون سمجھنے لگیں گے۔ (اسکے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے)
( مصنف عبدالرزاق: ج ۳ ص۵۹۷)
فائدہ: قرآن کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ ظهـر الفساد في البر والبحر بما كسبت أيدي الناس﴾ کہ خشکی اور سمندر میں فساد پیدا ہوگا لوگوں کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے۔
ممکن ہے انسانیت کے دشمنوں کی جانب سے انسانوں پر ایسے وائرس کے حملے کئے جائیں جو فالج کا سبب بنیں۔ یا پھر ابھی سے لوگوں کو ایسے ٹیکے یا کسی دوائی کے قطرے پلائی جائیں جو آ گے چل کر اس بیماری کا سبب بنیں۔ اس وقت ایسی مشینیں بنائی جاچکی ہیں جنکے ذریعے فضاء میں موجود مختلف بیماریوں کے جراثیم اکٹھے کر کے جراثیمی ہتھیار بنائے جارہے ہیں۔ اور ان سے لوگوں میں بیماریاں پھیلتی ہیں۔
لہٰذا مسلم ممالک کو عالمی یہودی اداروں کی جانب سے دی جانے والی کسی بھی طبی امداد کو پہلے اپنی تجربہ گاہوں میں ٹسیٹ کرا کر ہی عوام تک پہنچانا چاہئے۔ اور کسی بھی ایسی دوائی یا ویکسین کو قبول نہیں کرنا چاہئے جس پر اس کا فارمولا لکھا ہوا نہ ہو۔
پولیو ویکسین کی مہم جس بیہودہ انداز میں چلائی جارہی ہے اسکے بارے میں ملک کے سنجیدہ حلقوں کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ نہ تو کسی کو اسکا فارمولہ پتہ ہے اور نہ یہ علم ہے کہ اسکی خواراک کی مقدار کیا ہے؟ چونکہ غیر معیاری ویکسین کی خبریں پاکستانی اخباروں میں آچکی ہیں جس سے پولیو کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نیز برطانیہ اور بین الاقوامی سائنسدانوں نے اپنی تحقیقات میں پولیو کے قطروں کو ایڈز، ہڈیوں کے کینسر، جنسی کمزوری اور بے شمار مہلک امراض کا بنیادی سبب قرار دیا ہے۔ اسکے سامنے آنے کے بعد ان پر فور پابندی لگنی چاہئے۔
<===== *جاری ہے* =====>
''ماخوذ از: تیسری جنگِ عظیم اور دجال"
"تصنیف: حضرت مولانا عاصم عمر رحمہ اللہ"
1 748
قسط نمبر :- (07)
تیسری جنگِ عظیم اور دجال :-
علماء کے قتل کا بیان:
قال رسول اللہ ﷺ ليأتين على العلماء زمان يقتلون فيه كما يقتل اللصوص فيـاليـت الـعـلـمـاء يومئذ تحامقوا.
( رواه ابوعمر الدانی فی السنن الواردة في الفتن: ج ۳ ص ۶۶۱) ضعيف، فـي سـنـده الـوضـيـن بـن عـطـاء وهـو خزاعی صدوق سئ الحفظ.
( التقريب: ج ۲ ص ۳۳۱، والميزان: ج ۴ ص ۳۳۴)
ترجمہ: حضرت محمد ﷺ نے فرمایا علماء پر ضرور ایسا زمانہ آۓ گا کہ ان کو ایسے قتل کیا جاۓ گا جیسے چوروں کو قتل کیا جاتا ہے، تو کاش کہ اس وقت علماء جان بوجھ کر انجان بن جائیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قسم اس ذات کی جسکے قبضے میں ابو ہریرہ کی جان ہے، علماء پر ایسا وقت ضرور آئے گا جب ان کو موت سرخ سونے سے بھی زیادہ محبوب ہوگی۔ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی قبر پر آۓ گا تو وہ یوں کہے گا کہ کاش میں اسکی جگہ ہوتا۔ ( مستدرک حاکم: ۸۵۸۱)
حاکم رحمہ اللہ نے اس روایت کو شیخین کی شرط پر صحیح کہا ہے اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اس کی توثیق کی ہے۔
فائدہ: آج کس وحشت وبربریت، بے دردی اور بے حسی کے ساتھ ان عظیم ہستیوں کو قتل کیا جارہا ہے، جو کائنات کے نظام کو فساد اور ظلم سے پاک کرنے کا درس دیتے ہیں۔ جنکی ساری زندگی انسانیت کی فلاح اور کامیابی کا پرچار کرتے گذر جاتی ہے، اللہ کی زمین کو انسانیت کے دشمنوں سے پاک کرنا ہی جنکا مشن ہوتا ہے، انسانیت حیران ہے، عقل محو تماشا ہے، علم کے مینارے خاموش ہیں، دانشور سناٹے میں ہیں، کہ آخر امت کے اس طبقہ سے کسی کو کیا دشمنی ہوسکتی ہے، جو دنیا میں حق اور باطل، خیر اور شر، ظلم اور انصاف کے درمیان طاقت کا توازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر یہ طبقہ نہ ہو تو کائنات کا نظام ہی درہم برہم ہو جاۓ، زمین وفضاء میں طاقت کا توازن بگڑ کر رہ جاۓ، شر، خیر پر غالب آنے لگے اور حق وباطل کے معرکے میں باطل سر چڑھ کر بولنے لگے، انسانیت، ابلیسیت کی لونڈی بن کر رہ جائے، خباثت کے ہاتھوں شرافت کا دامن تار تار کر دیا جاۓ۔
علماء امت کے قتل کو ہر ایک اپنے زاویہ نظر سے دیکھتا ہے، پر کاش نبی ﷺ کے وارثوں کے اس قتل کو نبی ﷺ کی احادیث کی روشنی میں دیکھا جاتا۔ اس وقت جبکہ باطل خیر کے مقابلے میں آخری اور فیصلہ کن جنگ کا اعلان کرچکا ہے، ابلیسیت ہر طرف کھلے عام ننگا ناچ ناچنا چاہتی ہے، اللہ کی حاکمیت و بالادستی کے تصور کو ختم کر کے دجالیت اور یہودیت کا ورلڈ آرڈر لوگوں سے عملاً اور ذہناً منوانا چاہتی ہے۔ تو بھلا ابلیس کے اشاروں اور مشوروں پر کام کرنے والے، ان حق کے میناروں اور امید کے جزیروں کو کیونکر برداشت کرسکتے ہیں جنکے ایک اشارے اور قلم کی حرکت پر دجال کے مضبوط ایوانوں میں دراڑیں پڑسکتی ہیں، یہ نفوس قدسیہ، جو دجالی قوتوں کی "عظیم طاقت‘‘ کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں، اور اس دور میں بھی کلمہ لا الہ کا وہی مفہوم بیان کرنے پر پابند ہیں جس کا اعلان کوہِ صفا پر چڑھ کر آج سے چودہ سو سال پہلے کیا گیا تھا، یہ دجال کے مقدمہ الجیش (Advance Force) کو کس طرح ہضم ہوسکتے ہیں۔
علما حق کے قتل میں براہ راست یہودی خفیہ تحریک فریمیسن ملوث ہے۔ ہمیں اس سے کوئی بحث نہیں کہ بھاڑے کے قاتل کون ناپاک لوگ تھے لیکن آنے والے دن اس بات کو اور واضح کر دینگے کہ ان علماء کو راستے سے ہٹاۓ بغیر فریمیسن اپنے منشور کو پاکستان میں آگے نہیں بڑھا سکتی تھی۔
مولانا اعظم طارق شہید، مفتی نظام الدین شامزئی شہید اور مفتی جمیل خان شہید، مولانا نذیر تونسوی شہید اور مفتی عتیق الرحمن شہید رحمہ اللہ عنہم کی شہادت کے بارے میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ جن خطوط (Lines) پر کام کر رہے تھے وہ عالمی یہوری قوتوں کے لئے ناقابل برداشت ہیں۔ لہٰذا ان حضرات کی شہادت کو فرقہ وارانہ رنگ دینا خود ان شخصیات کی دینی خدمات کو چھوٹا ثابت کرنا ہے۔ جنکے مشن بڑے ہوتے ہیں انکے دشمن بھی بڑے ہوا کرتے ہیں۔
<===== *جاری ہے* =====>
''ماخوذ از: تیسری جنگِ عظیم اور دجال"
"تصنیف: حضرت مولانا عاصم عمر رحمہ اللہ"
1 748
قسط نمبر :- (06)
تیسری جنگِ عظیم اور دجال :-
سب سے پہلے خلافت ٹوٹے گی:
عن أبي أمامة الباهلي رضی اللہ عنہ عن رسول الله ﷺ قال لتنقضن عرى الاسلام غزوة غزوة فكلما انتقضت عروة تشبـت الـنـاس بـالتـى تـليـهـا فأولهن نقضاً الحكم وآخرهن الصلاة.
( شعب الایمان: ج ۴ ص ۳۲۶، المعجم الکبیر: ج ۸ ص ۹۸، مواردالظمآن: ج ۱ ص ۸۷)
*لترجمہ: حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا: اسلام کی کڑیاں ضرور ایک ایک کرکے ٹوٹیں گی، چنانچہ جب ایک کڑی ٹوٹے گی تو لوگ اسکے بعد والی کڑی کو پکڑ لینگے۔ ان میں سب سے پہلے جو کڑی ٹوٹے گی وہ اسلامی نظامِ عدالت کی کڑی ہوگی اور سب سے آخر میں ٹوٹنے والی کڑی نماز کی ہوگی۔
فائدہ: یعنی مسلمان جس چیز کو سب سے پہلے چھوڑیں گے وہ اسلامی عدالتی نظام ہوگا۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ سب سے پہلے ٹوٹنے والی کڑی ’’امانت‘‘ کی ہوگی۔ شریعت کی اصطلاح میں لفظِ امانت بہت وسیع مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ جیساکہ قرآن میں ہے ﴿ انا عرضنا الامانة على السموات والارض والجبال﴾
ترجمہ: بیشک ہم نے’’امانت‘‘ کو زمین و آسمان اور پہاڑوں کو پیش کیا پر انھوں نے اسکا بار اٹھانے سے انکار کر دیا اور وہ اس (اہم ذمہ داری کے بار) سے ڈر گئے اور اسکو انسان نے اٹھالیا۔
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے یہاں امانت کی تفسیر یوں فرمائی ہے۔ ﴿الـذيـن والفرائض والحدود.﴾ ❶ یعنی حقوق، فرائض، اور حدوداللہ یعنی اسلام کے عدالتی نظام سے متعلق احکامات اور یہ سب اسلامی خلافت کے تحت صحیح طور پر انجام پاتے ہیں۔ چنانچہ پہلی چیز جو اس امت سے اٹھے گی وہ خلافت ہوگی جب خلافت اٹھ جائے گی تو اسلامی عدالتی نظام بھی ختم ہو جاۓ گا اور آخری ٹوٹنے والی کڑی نماز کی ہوگی۔
دجال کی آمد کا انکار:
عـن ابـن عبـاس رضی اللہ عنہ خـطب عمر رضی اللہ عنہ فقال إنه سيكون في هذه الامة قوم يكذبون بـالـرجـم ويـكـذبـون بـالـدجـال ويـكـذبون بعذاب القبر ويكذبون بالشفاعة ويكذبون بقوم يخرجون من النار.
( فتح الباری: ج ۱۱ ص ۴۲۶)
ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور یہ بیان فرمایا: اس امت میں کچھ ایسے لوگ ہونگے جو رجم (سنگسار) کا انکار کرینگے، عذابِ قبر کا انکار کریں گے اور دجال (کی آمد) کا انکار کریں گے اور شفاعت کا انکار کرینگے، اور ان لوگوں (یعنی گنہگار مسلمانوں) کے جہنم سے نکالے جانے کا انکار کریں گے۔
فائدہ: یہودیوں کے مال پر پلنے والی "این جی اوز" اپنے آقاؤں کے اشاروں پر آئے دن اسلامی قوانین کا مذاق اڑاتی رہتی ہیں اور ان کو ختم کرنے کی باتیں کرتی ہیں۔
اس وقت حدود آرڈینینس کی بحث چل رہی ہے اور اس کو اس طرح پیش کیا جارہا ہے گویا یہ کسی انسان کے بناۓ ہوۓ قوانین ہیں۔ اسی طرح کئی عرب مفکر ہیں جو رجم اور دیگر اسلامی قوانین کو اس دور میں (نعوذ باللہ) ازکارِ رفتہ (Old Fashioned) قرار دے چکے ہیں۔ نیز دجال کی آمد کا انکار کرنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔ اور آنے والے دنوں میں اس مسئلے کو اختلافی بنا دیا جائے گا۔
--------------------------------------------
❶ تفسیر قرطبی: ج ۲۲ ص ۵۶
<===== *جاری ہے* =====>
''ماخوذ از: تیسری جنگ عظیم اور دجال"
"تصنیف: حضرت مولانا عاصم عمر رحمہ اللہ"
1 748
قسط نمبر :- (05)*
تیسری جنگِ عظیم اور دجال :-
منافق بھی قرآن پڑھے گا:
عن أبي هريرة رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ ﷺ قال سيأتى على امتى زمان تكثر فيه القراء وتقل الفقهاء ويقبض العلم ويكثر الهرج قالوا وما الهرج يا رسول الله قـال الـقـتـل بينكم ثم يأتي بعد ذلك زمان يقرأ القرآن رجال لا يجاوز تراقيهم ثـم يـأتـى مـن بـعد ذلك زمان يجادل المنافق الكافر المشرك بالله المؤمن بمثل ما يقول هذا حديث صحيح الاسناد ولم يخرجاه. وافقه الذهبي رحمہ اللہ.
( المستدرک على الصحيحين: ج ۴ ص۵۰۴)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا میری امت پر ایک ایسا زمانہ آئیگا کہ ان میں قراء بہت ہونگے اور دین کی سمجھ رکھنے والے کم ہوگئے۔ علم اٹھالیا جائیگا اور ہرج بہت زیادہ ہو جائیگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یہ ہرج کیا ہے؟ فرمایا تمہارے درمیان قتل۔ پھر اسکے بعد ایسا زمانہ آئیگا کہ لوگ قرآن پڑھیں گے حالانکہ قرآن انکے حلق سے نہیں اتریگا، پھر ایسا زمانہ آئیگا کہ منافق، کافر اور مشرک مومن سے (دین کے بارے میں) جھگڑا کرینگے۔ حاکم رحمہ اللہ نے اس کو صحیح کہا ہے اور علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے اس سے اتفاق کیا ہے۔
فائدہ: اس وقت ہر طرح کے پڑھے لکھے لوگ کثرت سے موجود ہیں مختلف علوم میں تخصص اور ماسٹر کرایا جارہا ہے لیکن دین کی سمجھ رکھنے والے خال خال ہی نظر آتے ہیں، جو شان ہمارے اسلاف میں نظر آتی تھی کہ باطل کو ہزار پردوں میں بھی پہچان لیا کرتے تھے اب وہ بات بہت کم دیکھنے میں آتی ہے۔ قرآن کی سمجھ اور قرآن کا علم اہلِ علم طبقے میں بھی مفقود نظر آتا ہے حالانکہ اور علوم میں انتہائی توجہ صرف کی جاتی ہے۔ معلومات کا سمندر تو بہت نظر آتا ہے لیکن علم کا فقدان ہے۔
منافق اور مشرک قرآن کی آیات کو آڑ بناکر اہلِ حق سے بحث ومبادی کرتے نظر آتے ہیں اور اپنے باطل اقدامات کو قرآن وسنت سے ثابت کرنے کی کوشش کر تے ہیں۔
حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا میں جن باتوں کا اپنی امت پر خطرہ محسوس کرتا ہوں ان میں زیادہ خوف والی بات یہ ہے کہ ان کیلئے مال کی زیادتی ہو جائے گی جس کی وجہ سے ایک دوسرے سے حسد کریں گے اور آپس میں لڑیں گے اور ان کیلئے قرآن کا پڑھنا آسان ہو جائے گا۔ چنانچہ اس قرآن کو ہر نیک، فاسق و فاجر اور منافق پڑھے گا اور یہ لوگ فتنے پھیلانے اور اس کی تاویل کی غرض سے اس کے ذریعہ مومن سے جھگڑا کریں گے۔ حالانکہ اللہ تعالی کے سوا اس کی تاویل وتفسیر کو کوئی نہیں جانتا (یعنی وہ آیات جن کا علم صرف اللہ ہی کو ہے) اور جو علم میں پختہ کار ہوں گے وہ بھی (ان آیات کے بارے میں) یوں کہیں گے کہ ہم اس قرآن پر ایمان لاۓ۔ ( الآحاد والمثانی: ج ۴ ص ۴۵۳)
فائدہ: مال کی زیادتی اس وقت عام ہے اور عرب ممالک میں مال کی ریل پیل ہے جسکی وجہ سے تمام فتنے جنم لے رہے ہیں۔ قرآن کا پڑھنا اتنا آسان ہوگیا کہ اب اسکو مختلف ٹی وی چینلز پر عربی رسم الخط کے ساتھ انگلش رسم الخط میں بھی پیش کیا جارہا ہے۔ اس طرح اگر کسی کو عربی میں قرآن نہیں پڑھنا آتا تو وہ انگریزی رسم الخط میں پڑھ سکتا ہے۔ ہر فاسق ومنافق آج قرآن پڑھتا نظر آتا ہے بلکہ اس میں بغیر علم کے اپنی رائے زنی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ ترکی، مصر، تیونس اور امارات کے بعد اب ہمارے ملک میں بھی قرآن کی تفسیر وہ لوگ کر رہے ہیں جنکو ذرہ برابر بھی علم نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایک طرف فلموں اور ڈراموں میں کام کرتے ہیں اور امت کو بے حیائی اور بے شرمی کا درس دیتے ہیں اور دوسری جانب اللہ کی کتاب کی ان آیات میں رائے زنی کرتے ہیں جس کا علم اللہ نے اپنے پاس رکھا ہے۔
<===== *جاری ہے* =====>
''ماخوذ از: تیسری جنگ عظیم اور دجال"
"تصنیف: حضرت مولانا عاصم عمر رحمہ اللہ"
1 748
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں پر ایساز مانہ آۓ گا کہ اس میں لوگ سود کھائیں گے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ فرماتے ہیں کہ کسی نے پوچھا کیا تمام لوگ (سود کھائیں گے)؟ تو حضرت محمد ﷺ نے فرمایا "ان لوگوں میں سے جو شخص سود نہیں کھائے گا اس کو سود کا کچھ غبار پہنچے گا۔
فائدہ: یہ حدیث اِس دور پر کتنی صادق آتی ہے۔ آج اگر کوئی سود کھانے سے بچا ہوا بھی ہے تو اسکو سود کا غبار ضرور پہنچ رہا ہے۔ اور نام نہاد دانشوروں کے ذریعے سودی کاروبار پر اسلام کا لیبل لگا کر امت کو سود کھلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
<===== *جاری ہے* =====>
''ماخوذ از: تیسری جنگ عظیم اور دجال"
"تصنیف: حضرت مولانا عاصم عمر رحمہ اللہ"
1 748
قسط نمبر :- (04)
تیسری جنگ عظیم اور دجال :-
مساجد کو سجانے کا بیان:
عـن أنس بن مالك قال قال رسول اللہ ﷺ لا تقوم الساعة حتى يتباهى الناس في المساجد.
( صحیح ابن خزیمہ: ج ۲ ص ۲۸۲، صحیح ابن حبان: ج ۴ ص ۴۹۳)
ترجمہ: حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک لوگ مسجدوں (میں آنے اور بنانے) میں ایک دوسرے کو دکھاوا نہ کرنے لگیں۔
فائدہ: مطلب یہ ہے کہ لوگ مسجدوں میں آتے وقت بھی ایسے انداز میں آئینگے کہ ایک دوسرے کو اپنی دولت و سطوت دکھانا مقصود ہوگا، اور مسجدیں بنانے میں بھی دکھاوا ہوگا۔ ہر علاقے ولے ایک دوسرے سے خوبصورت مساجد بنانے کی کوش کرینگے۔
عن ابى الدرداء رضى الله تعالى عنه قال اذا زخرفتم مساجدكم وحليتم مصاحفكم فالدمار عليكم.
( رواه الحكيم الترمذي في نوادر الاصول عن ابي اللرداء ووقفه ابن المبارك في الزهد وابن ابي الدنيافى المصاحف عن ابى الدرداء) ( كشف الخفاء: ج ١ ص ٩٥)
ترجمہ: حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا جب تم اپنی مساجد کو سجانے لگو گے اور اپنے قرآن کو (زیور وغیرہ سے) آراستہ کرنے لگو گے تو تمہارے اوپر ہلاکت ہوگی۔
عـن بـن عبـاس قـال مـا كثرت ذنـوب قـوم إلا زخرفت مساجدها وما زخـرفـت مـسـاجـدها إلا عند خروج الدجال. فيه اسحاق الكعبي وليث بن ابی سليم وهما ضعيفان.
( السنن الواردة في الفتن : ج ۴ ص ۸۱۹)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب کسی قوم کے گناہ زیادہ ہو جاتے ہیں تو انکی مسجدیں بہت زیادہ خوبصورت بنائی جاتی ہیں۔ اور خوبصورت مساجد دجال کے خروج ہی کے وقت میں بنائی جائیں گی۔
(اس روایت میں اسحاق الکعبی اور لیث ابن ابی سلیم دونوں راوی ضعیف ہیں۔)
فائدہ: ٹھیک کہتے ہیں کہ غلامی میں قوموں کی سوچیں بھی الٹ جاتی ہیں۔ آج اگر کسی علاقے میں خوبصورت مسجد نہ ہو تو اس علاقے والوں کو یوں سمجھا جاتا ہے جیسے اللہ کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، جبکہ جہاں مسجد خوبصورت بنی ہو ان کو کہا جاتا ہے کہ یہ بڑے دین دارلوگ ہیں لیکن کسی کو پتہ نہیں کہ اللہ کی نظر میں ان کی کیا حقیقت ہے؟
اگر کوئی اہلِ دل ان احادیث کا عملی تجربہ کرنا چاہتا ہے تو کچھ دن ان علاقوں کی مسجدوں میں سجدے کرکے دیکھے جہاں مسجدیں کچی اور سادہ ہوتی ہیں، پھر اس کو سجدوں کی حلاوت کا احساس ہوگا۔
عـن عـلـي رضی اللہ عنہ أنه قال يأتي على الناس زمان لا يبقى من الاسلام إلا إسمه ولا مـن الـقـرآن إلا رسـمـه يـعـمرون مساجدهم وهى من ذكر الله خراب شر أهل ذلك الزمن علما ئهم منهم تخرج الفتنة واليهم نعود.
( تفسیر قرطبی: ج ۱۲ ص ۲۸۰)
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ قریب ہے کہ لوگوں پر ایسا وقت آئے گا کہ اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کے صرف الفاظ رہ جائیں گے، وہ مسجدیں تعمیر کریں گے حالانکہ وہ اللہ کے ذکر سے خالی ہوگی۔ اس زمانے میں لوگوں میں سب سے بدترین علماء ہوں گے۔ انہی سے فتنے نکلیں گے اور ان ہی میں واپس لوٹیں گے۔
فائدہ ¹: اگرچہ اس وقت مسلمانوں کی تعداد ایک ارب چالیس کروڑ تک ہے لیکن اسلام کی حالت کیا ہے کہ کسی ایک ملک میں بھی اسلامی نظام نہیں ہے، زبان سے تو سب کلمہ پڑھ رہے ہیں کہ اللہ تیرے سوا کسی کو حاکم نہیں مانیں گے لیکن عملاً صورت حال یہ ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر سیکڑوں معبود (حاکم) بنا رکھے ہیں۔ سجدے میں گر کر اللہ کی برتری کا اعلان کرنے والوں کی تعداد تو بہت ہے پر حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے اللہ کی حاکمیت اعلی کو انسانوں کے بنائے ہوئے کفریہ جمہوری نظام کے ہاتھوں فروخت کر دیا ہے۔ جو کلمہ مسلمان پڑھتا ہے وہ اسکا اللہ کے ساتھ ایک معاہدہ ہے کہ اب وہ اللہ کے علاوہ ہر قوت کا، ہر نظام کا اور ہر طاغوت کا انکار کرلیا اور نہ تو زبان سے اور نہ ہی اپنے عمل سے اس معاہدے کی خلاف ورزی کریگا۔ لیکن آج کے مسلمان اللہ کو بھی راضی رکھنا چاہتے ہیں اور طاغوت کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ قرآن نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا ﴿ ذلك بـانـهـم قالوا للذين كرهوا ما نزل الله سنطيعكم في بعض الامر﴾ یہ (گمراہی) اس وجہ سے ہے کہ انھوں نے ان (کافر لوگوں سے جنھوں نے اللہ کے نازل کردہ (یعنی قرآن) سے نفرت کی، یہ کہا کہ ہم بعض باتوں میں تمہاری پیروی کرینگے۔ (یعنی قرآن کی ساری باتیں نہیں مانیں گے کچھ تمہاری بھی مانیں گے)۔
فائدہ ²: اس روایت میں علماء سے مراد علماء سوء ہیں۔ علماء سوء کے بارے میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ اگر بنی اسرائیل کے علماء کا حال دیکھنا ہو تو علماء سوء کو دیکھے لو۔ ( الفوز الکبیر)
سود کا عام ہو جانا:
عن أبي هريرة أن رسول اللہ ﷺ قال يأتى على الناس زمان يأكلون فيه الـربـا قـال قيـل لـه الناس كلهم قال من لم يأكله منهم ناله من غباره.
( ابوداؤد: ج ۳ ص۲۴۳، مسند احمد: ج ۲ ص ۴۹۴، مسندابی یعلی: ج ۱۱ ص ۱۰۶)
1 748
قسط نمبر :- (03)
تیسری جنگ عظیم اور دجال :-
سرخ آندھی اور زمین کے دھنس جانے کا عذاب:
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب میری امت پندرہ خصلتوں کا ارتکاب کرے گی تو ان پر بلائیں نازل ہوں گی۔ پوچھا گیا کہ یارسول اللہ ! وہ کون سے افعال ہوں گے؟ فرمایا: جب مالِ غنیمت کو اپنی دولت سمجھا جائے گا، اور امانت کو غنیمت کی طرح سمجھا جاۓ، اور زکوٰۃ کو تاوان سمجھا جائے، اور آدمی اپنی بیوی کی اطاعت کرے گا، اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے گا، اور اپنے دوست کے ساتھ احسان کرے گا، اور اپنے باپ کے ساتھ بے وفائی کرے گا، اور مساجد میں آوازیں بلند کی جائیں گی، اور قوم کا سب سے ذلیل آدمی قوم کا حاکم ہوگا، اور آدمی کا اکرام اس کے شر سے بچنے کے لئے کیا جائے گا، اور شراب پی جائے گی، (کثرت سے) اور (مرد) ریشم پہنیں گے، اور گانے والیاں، اور گانے بجانے کے آلات بنالئے جائیں گے، اور اس امت کے بعد کا طبقہ پہلے لوگوں پر لعنت کرے گا، پس اس وقت انتظار کرنا سرخ آندھی کا، یا زمین کے دھنس جانے کا، یا چہرے مسخ ہو جانے کا۔
( ترمذی شریف ج ۴ص ۴۹۴، المعجم الاوسط ج: ۱ ص ۱۵۰)
فائدہ: اس حدیث میں مالِ غنیمت کو اپنی دولت سمجھنے کے بارے میں آیا ہے۔ اس سے مجاہدین کو بہت ہوشیار رہنا چاہئے۔ مال غنیمت میں بغیر امیر کی اجازت کے کوئی تصرف نہیں کرنا چاہئے۔ ابلیس ہر انسان کو اسکی نفسیات کے اعتبار سے ہی گمراہ کرنا چاہتا ہے۔ سو اس بارے میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ بلکہ بیت المال میں بھی بغیر اجازت کے کوئی دست درازی نہیں کرنی چاہئے۔ اسی طرح مجاہدین شیطان کے دھوکہ سے بیچ کر اپنے جہاد کو مقبول بناسکتے ہیں۔ ورنہ کتنے ہی لوگ برس ہا برس تک جہاد کرتے رہتے ہیں لیکن تھوڑی سی مالی خیانت کی وجہ سے اپنا جہاد خراب کر بیٹھتے ہیں۔ اسلئے اس راستے کی نزاکتوں کو ہر ساتھی کو سمجھنا چاہئے۔
شراب اس وقت بھی عام ہے۔ پاکستان اگرچہ ابھی اس سے محفوظ ہے لیکن جس روشن خیالی کی جانب اسکو لیجایا جارہا ہے اور اس کا حال تیونس اور ترکی جیسا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جہاں مسجد کے باہر شراب کی دکان ہوتی ہے۔
پہلی امتوں کی روش اختیار کرنا:
عن أبي سعيدن الخدري قال قال رسول الله لتتبعن سنن الذين من قبلكم. شبراً بشر وذراعاً بذراع حتى لو دخلوا في حجر ضب لاتبعتموهم قلنا يا رسول الله اليهود والنصارى قال فمن.
( بخاری: ج ۳ ص ۱۲۷۴، مسلم: ج ۴ ص ۲۰۵۴، صحیح ابن حبان: ج ۱۵ ص ۱۹۵)
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم ضرور پہلے لوگوں کی روش اور طریقہ کی مکمل طور پر اتباع کرو گے۔ یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوۓ تو تم بھی ان کی اتباع میں اس میں داخل ہوگے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ سے ہم نے دریافت کیا یا رسول اللہ (پہلے والوں سے مراد) یہود ونصاریٰ ہیں؟۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تو اور کون ہیں؟ (یعنی وہی ہیں)۔
فائدہ: اس وقت مسلمانوں کے اندر اکثر وہ بیماریاں پائی جاتی ہیں جن میں پہلی امتیں مبتلاء تھیں۔ زناء، شراب، جوا، بے ایمانی، ناحق قتل کرنا، اللہ کی کتاب میں تحریف کرنا، نبی ﷺ کی سیرت و تعلیمات کو مسخ کرکے پیش کرنا، یہودیوں کی طرح دین کی ان باتوں پر عمل کرنا جو نفس کو اچھی لگتی ہیں اور ان باتوں کو پسِ پشت ڈال دینا جو نفس پر دشوار ہوں، یتیموں اور بیواؤں کا مال کھانا، طاقتور کے خوف یا مالدار سے پیسہ لینے کے لئے احکامِ الٰہی میں تحریف وتاویل کرنا وغیرہ۔
<===== *جاری ہے* =====>
''ماخوذ از: تیسری جنگ عظیم اور دجال"
"تصنیف: حضرت مولانا عاصم عمر رحمہ اللہ"
1 748
قسط نمبر :- (02)
تیسری جنگ عظیم اور دجال :-
مدینہ منورہ سے آگ کا نکلنا:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ’’قیامت اس وقت تک نہیں آۓ گی جب تک کہ حجاز سے ایک آگ نہ بھڑک اٹھے، جو بصریٰ کے اونٹوں کی گردن روشن کر دے گی۔ ( بخاری ومسلم)
فائدہ: اس حدیث میں جس آگ کا ذکر آیا ہے اس آگ کے بارے میں حافظ ابن کثیر اور دیگر مورخین کا کہنا ہے کہ اس آگ کے نمودار ہونے کا حادثہ پیش آچکا ہے۔ یہ آگ جمادی الثانی ۶۵۰ھ جمعہ کے دن مدینہ منورہ کی بعض وادیوں سے نمودار ہوئی اور تقریباً مہینوں تک چلی۔ راویوں نے اس کی کیفیت دیکھی ہے کہ اچانک حجاز کی جانب سے وہ آگ نمودار ہوئی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آگ کا پورا ایک شہر ہے اور اس میں قلع یا برج اور کنگورے جیسی چیزیں موجود ہیں، اس کی لمبائی چار فرسخ اور چوڑائی چار میل تھی۔ آگ کا سلسلہ جس پہاڑ تک پہنچتا اسکو شیشے اور موم کی طرح پگھلا دیتا۔ اس کے شعلوں میں بجلی کی کڑک جیسی آواز اور دریا کی موجوں جیسا جوش تھا۔ اور یہ محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کے اندر سے سرخ اور نیلے رنگ کے دریا نکل رہے ہوں، وہ آگ اسی کیفیت کے ساتھ مدینہ منورہ تک پہنچی مگر عجیب بات یہ تھی کہ اس کے شعلوں کی طرف سے جو ہوا مدینہ منورہ کی طرف آرہی تھی وہ ٹھنڈی تھی۔ علماء نے لکھا ہے کہ اس آگ کی لپیٹیں مدینہ کے تمام جنگلوں کو روشن کئے ہوئے تھیں، یہاں تک کہ حرم نبوی اور مدینہ کے تمام گھروں میں سورج کی طرح روشنی پھیل گئی تھی، لوگ رات کے وقت اس کی روشنی میں اپنے سارے کام کاج کرتے تھے، بلکہ ان دنوں میں اس علاقے کے اوپر سورج اور چاند کی روشنی ماند ہوگئی تھی۔
مکہ مکرمہ کے بعض لوگوں نے یہ شہادت دی کہ وہ اس وقت یمامہ اور بصری میں تھے تو وہ آگ انھوں نے وہاں بھی دیکھی۔
اس آگ کی عجیب خصوصیات میں سے ایک یہ تھی کہ یہ پتھروں کو تو جلاکر کوئلہ کر دیتی تھی لیکن درختوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ کہتے ہیں جنگل میں ایک بہت بڑا پتھر تھا جس کا آدھا حصہ حرم مدینہ کی حدود میں تھا اور آدھا حصہ حرم مدینہ سے باہر تھا۔ آگ نے اس آدھے حصہ کو جلاکر کوئلہ کر دیا جو حرم مدینہ سے باہر تھا لیکن جب آگ اس حصہ تک پہنچی جو حرم میں تھا تو ٹھنڈی پڑگئی۔ اور پتھر کا وہ آدھا حصہ بالکل محفوظ رہا۔
بصریٰ کے لوگوں نے اس بات کی گواہی دی کے ہم نے اس رات آگ کی روشنی میں جو حجاز سے ظاہر ہو رہی تھی، بصریٰ کے اونٹوں کی گردنوں کو روشن دیکھا۔
( البدایہ والنہایہ: ابن کثیر)
<===== *جاری ہے* =====>
''ماخوذ از: تیسری جنگ عظیم اور دجال"
"تصنیف: حضرت مولانا عاصم عمر رحمہ اللہ"
1 748
جو شخص اپنے دین کی تکریم چاہتا ہے ۔۔۔۔۔
#حکمرانوں_کی_قربت_سے_بچو
✍️ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ
مترجم: مولانا عبد الرحمن
1 748
⭐️💫⭐️💫⭐️
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🔊 نشید کا نام :-
لبیک محمد ﷺ
🔸🔸🔸
ہم اپنی جانیں ہاریں گے
اولادوں کو واریں گے
ہم تیرے دشمن مارے گے
جو آںٔیں گے پہچان میں
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
💫⭐️💫⭐️💫
1 748
تم انکی دنیا میں سے جو کچھ بھی پاو گے وہ اسکے برابر تمہارے دین میں میں سے لے لیں گے
#حکمرانوں_کی_قربت_سے_بچو
✍️ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ
مترجم: مولانا عبد الرحمن
