ch
Feedback

不要被骗子欺骗!Telemetrio 会找到并标记这些频道 👉 如果想查看标记,请订阅

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

前往频道在 Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

显示更多
1 283
订阅者
无数据24 小时
-17 天
-830 天
帖子存档
🔷 فضول کے بہانے 🔷 اگر نوکری نہیں مل رہی، تو رو دھو کر، ڈپریشن کا اسٹیٹس لگا کر یا اوور تھنکنگ کے بہانے بنانے سے کوئی آپ کو نوکری دینے نہیں آئے گا! دنیا کو آپ کے مسائل سے کوئی غرض نہیں، یہاں ہر بندہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اگر آپ اس جنگ میں ہار مان چکے ہیں، تو معاف کیجیے، آپ واقعی پڑھے لکھے جاہل ہیں! پڑھا لکھا ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ صرف کتابیں رٹ کر خود کو عظیم سمجھنے لگیں، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے مسائل کے حل تلاش کرنا جانتے ہوں۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ آپ نے ڈگری کو کامیابی کی چابی سمجھ لیا اور جیسے ہی حقیقت کا سامنا ہوا، تو ڈپریشن میں چلے گئے۔ بھائی! اگر پڑھے لکھے ہو، تو بازار میں بیٹھ کر چائے بیچو، موٹر مکینک بنو، فری لانسنگ کرو، ای کامرس سیکھو، بزنس کا آئیڈیا نکالو، لیکن ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر "بیروزگاری بہت ہے" کا رونا مت رو! سچ سننا ہے؟ تم نکمے ہو! جی ہاں سچ میں، تم خود ایک نمبر کے نکمے اور نکھٹو ہو جو ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہو اور محنت کی بجائے قسمت اور صرف دعاؤں سے سب کچھ بھیک میں لینا چاہتے ہو۔ کیونکہ تمہیں سکھایا گیا تھا کہ پڑھائی ہی سب کچھ ہے، پڑھ لکھ جاؤ کچھ بن جاؤ گے لیکن یہ کسی نے نہیں بتایا نہ تم نے خود جاننے کی کوشش کی کہ یہ دنیا ہنر مندوں کی ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی اسپیشلسٹ، ڈیجیٹل مارکیٹرز، اور سکلڈ ورکرز پیسہ بنا رہے ہیں، اور تم؟ فیس بک پر نوکری کے لیے بھیک مانگ رہے ہو؟ اگر واقعی اپنی حالت بدلنی ہے، تو خود کو ایک چپیڑ مارو، آئینے میں دیکھو اور خود سے کہو: بس بہت ہو گیا! اب میں وہی کروں گا جو پیسہ لائے، عزت لائے، اور مجھے اس ڈپریشن سے نکالے! پھر دیکھنا، کیسے دنیا تمہیں راستے دکھاتی ہے! 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ارواح کا ااپنے گھروں میں آنا 🔷 اإِنَّ أَرْوَاحَ اَلْمُؤْمِنِينَ تَأْتِي كُلَّ جُمُعَةٍ إِلَى اَلسَّمَاءِ اَلدُّنْيَا بِحِذَاءِ دُورِهِمْ وَ بُيُوتِهِمْ يُنَادِي كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ بِصَوْتٍ حَزِينٍ بَاكِينَ يَا أَهْلِي وَ يَا وُلْدِي وَ يَا أَبِي وَ يَا أُمِّي وَ أَقْرِبَائِي اِعْطِفُوا عَلَيْنَا يَرْحَمْكُمُ اَللَّهُ بِالَّذِي كَانَ فِي أَيْدِينَا وَ اَلْوَيْلُ وَ اَلْحِسَابُ عَلَيْنَا وَ اَلْمَنْفَعَةُ لِغَيْرِنَا وَ يُنَادِي كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ إِلَى أَقْرِبَائِهِ اِعْطِفُوا عَلَيْنَا بِدِرْهَمٍ أَوْ بِرَغِيفٍ أَوْ بِكِسْوَةٍ يَكْسُوكُمُ اَللَّهُ مِنْ لِبَاسِ اَلْجَنَّةِ ثُمَّ بَكَى اَلنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ بَكَيْنَا مَعَهُ فَلَمْ يَسْتَطِعْ اَلنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ أَنْ يَتَكَلَّمَ مِنْ كَثْرَةِ بُكَائِهِ ثُمَّ قَالَ أُولَئِكَ إِخْوَانُكُمْ فِي اَلدِّينِ فَصَارُوا تُرَاباً رَمِيماً بَعْدَ اَلسُّرُورِ وَ اَلنَّعِيمِ فَيُنَادُونَ بِالْوَيْلِ وَ اَلثُّبُورِ عَلَى أَنْفُسِهِمْ يَقُولُونَ يَا وَيْلَنَا لَوْ أَنْفَقْنَا مَا كَانَ فِي أَيْدِينَا فِي طَاعَةِ اَللَّهِ وَ رِضَائِهِ مَا كُنَّا نَحْتَاجُ إِلَيْكُمْ فَيَرْجِعُونَ بِحَسْرَةٍ وَ نَدَامَةٍ وَ يُنَادُونَ أَسْرِعُوا صَدَقَةَ اَلْأَمْوَاتِ۔ (مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل ج 2، ص 484. پیغمبر اکرم (صلى الله عليه وآله) نے فرمایا: مؤمنین کی ارواح ہر جمعہ آسمانِ دنیا میں اپنے گھروں اور رہائش گاہوں کے قریب آتی ہیں اور ان میں سے ہر ایک غمگین آواز میں روتے ہوئے پکارتا ہے: اے میرے گھر والو! اے میرے بچو! اے میرے والد! اے میری والدہ! اے میرے رشتہ دارو! اس مال کے وسیلے سے ہم پر رحم کرو (اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے) جو ہمارے ہاتھ میں تھا لیکن اب حساب و کتاب ہم پر ہے اور فائدہ دوسروں کو پہنچ رہا ہے۔ ہر ایک اپنی اولاد اور عزیزوں کو پکارتا ہے: ہم پر رحم کرو، ہمیں ایک درہم، ایک روٹی یا ایک کپڑا دو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں جنت کا لباس عطا فرمائے۔ یہ سن کر نبی اکرم (صلى الله عليه وآله وسلم) رو پڑے اور ہم سب بھی ان کے ساتھ رو دیے۔ آپ (صلى الله عليه وآله) شدتِ غم سے گفتگو نہ کر سکے پھر فرمایا: یہ تمہارے دینی بھائی ہیں جو خوشحالی اور نعمتوں میں تھے مگر اب مٹی اور خاک ہو چکے ہیں۔ وہ خود کو ہلاکت اور بربادی کے ساتھ پکارتے ہیں اور حسرت سے کہتے ہیں: ہائے افسوس! کاش ہم نے جو کچھ ہمارے ہاتھ میں تھا اسے اللہ کی اطاعت اور رضا میں خرچ کیا ہوتا تو آج ہمیں تمہاری مدد کی ضرورت نہ ہوتی۔ پھر وہ ندامت اور حسرت کے ساتھ لوٹ جاتے ہیں اور پکارتے ہیں: مرنے والوں کےلیے صدقہ دینے میں جلدی کرو! 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/98 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ذہین عورت سے محبت 🔷 میرے نزدیک ذہین عورت سے محبت نہیں کرنی چاہیے!! ۔۔ یہ وصل کے خوابیدہ لمحوں میں بھی اپنی ایک آنکھ کو ہجر کے وسوسے سے جگائے رکھتی ہے، یہ عشق و محبت کے دعووں پہ آنکھیں بند کر کے یقین کرنے کے بجائے لہجوں کو پرکھتی ہوئی عمل پہ نظر رکھے گی۔ ۔۔ مرد اسکی آنکھوں کو اپنی ہتھیلی سے ڈھانپ کے شرارت نہیں کر سکتا، یہ چاند میں محبوب کا چہرہ دیکھ کر گیت نہیں بنے گی۔ مرد اس کو عنایات کی بخشش سے جیت نہیں پائیں گے، اِس کے دل تک رسائی کا ذریعہ گولڈ اور ڈائمنڈ کی جیولری نہیں ہوگی۔ محبت چاند تارے توڑ لانے یا فلک کے پار جانے کی بے وقوفانہ گفتگو پہ یہ پلکیں جھپکاتی شاید مسکرا دے لیکن اس مسکراہٹ کا مطلب صرف یہ ہی ہو گا کہ مرد بکواس کر رہا ہے، فضول باتیں ہیں. ۔۔ مرد اسے دعووں سے وقتی طور پہ متاثر تو کر سکتے ہیں لیکن اس کو ہمیشہ کے لیے بہلاووں کی نیند نہیں سلا سکتا۔ اگر کبھی کبھار وہ اپنے عاشق کے الفاظ پر غور کر بھی لے تو ان میں بھی عملی کھوج کرے گئی اور جو دعویٰ محض زبانی کلامی ہوتے ان سے تو محبت کا شعلہ مزید مر جاتا ہے ۔۔ ذہین عورت سے محبت کرنے کے لیے محض گفتار و آداب کا غازی ہونا کافی نہیں، ایسی عورت سے محبت کرنا جنگ عظیم میں فتح حاصل کرنے جیسا ہے۔ صرف رومانوی باتوں سے عورتوں کی یہ قسم کمبخت نہ خوش ہوتی ہے نہ خوش ہونے دیتی ہے!! 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ہمیشہ خوش باش رہیں 🔷 ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے پوچھا: یہ میرے نوکر مجھ سے زیادہ کیسے خوش باش پھرتے ہیں؟ جبکہ ان کے پاس کچھ نہیں اور میرے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے؟ وزیر نے کہا: بادشاہ سلامت اپنے کسی خادم پر قانون نمبر ننانوے کا استعمال کر کے دیکھیے۔ بادشاہ نے پوچھا: اچھا، یہ قانون نمبر ننانوے کیا ہوتا ہے ؟ وزیر نے کہا: بادشاہ سلامت ایک صراحی میں ننانوے درہم ڈال کر صراحی پر لکھیے، اس میں تمہارے لئے سو درہم ہدیہ ہے، رات کو کسی خادم کے گھر کے دروازے کے سامنے رکھ کر دروازہ کھٹکھٹا کر ادھر اُدھر چھپ جائیں اور تماشہ دیکھ لیجیے۔ بادشاہ نے یہ تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا اور جیسے وزیر نے سمجھایا تھا ، ویسے ہی کیا، صراحی رکھنے کے بعد دروازہ کھٹکھٹایا اور چھپ کر تماشہ دیکھنا شروع کر دیا. دستک سن کر اندر سے خادم نکلا، صراحی اٹھائی اور گھر چلا گیا. درہم گِنے تو ننانوے نکلے، جبکہ صراحی پر لکھا سو درہم تھا. خادم نے سوچا: یقیناََ ایک درہم کہیں باہر گرا ہوگا. خادم اور اس کے سارے گھر والے باہر نکلے اور درہم کی تلاش شروع کر دی. ان کی ساری رات اسی تلاش میں گزر گئی . خادم کا غصہ اور بے چینی دیکھنے لائق تھی ۔ اس نے اپنے بیوی بچوں کو سخت سست بھی کہا کیونکہ وہ درہم تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے. کچھ رات صبر اور باقی کی رات بَک بَک اور جھَک جَھک میں گزری. دوسرے دن یہ ملازم محل میں کام کرنے کیلئے گیا تو اس کا مزاج مکدر، آنکھوں سے جگراتے ، کام سے جھنجھلاہٹ، شکل پر افسردگی عیاں تھی۔ بادشاہ سمجھ چکا تھا کہ ننانوے کا قانون کیا ہوا کرتا ہے۔ 🔘 لوگ ان 99 نعمتوں کو بھول جاتے ہیں جو الله تبارک و تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائی ہوتی ہیں. اور ساری زندگی اس ایک نعمت کے حصول میں سرگرداں رہ کر گزار دیتے ہیں جو انہیں نہیں ملی ہوتی۔ اور وہ ایک نعمت بھی الله کی کسی حکمت کی وجہ سے رُکی ہوئی ہوتی ہے جسے عطا کر دینا الله کیلئے بڑا کام نہیں ہوا کرتا. لوگ اپنی اسی ایک مفقود نعمت کیلئے سرگرداں رہ کر اپنے پاس موجود ننانوے نعمتوں کی لذتوں سے محروم مزاجوں کو مکدر کر کے جیتے ہیں۔ حاصل ہو جانے والی ننانوے نعمتوں پر الله تبارک و تعالٰی کا احسان مانیے اور ان سے مستفید ہو کر شکر گزار بندے بن کر رہیے. 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 شادی میں تاخیر 🔷 پاکستان میں ایم فل اب ایک نارمل ڈگری ہو گئی ہے یعنی یونیورسٹی لیول تک پہنچنے والے زیادہ تر سٹوڈنٹس ایم فل تک پڑھتے ہیں۔ ہر ایک یونیورسٹی میں ایم فل کے کئی پروگرامز ہیں اور ہر ایک میں سینکڑوں سٹوڈنٹس ہوتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر تقریباً سب میں ہی لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ ہماری یونیورسٹی میں پہلے پانچ دس فیصد سے زیادہ لڑکیاں نہیں ہوتی تھیں لیکن اب کچھ کلاسز میں تو اسی نوے فیصد تک لڑکیاں ہوتی ہیں۔ ایم فل مکمل کرنے والی لڑکی اگر کسی بھی کلاس میں فیل نہ ہوئی ہو تب بھی وہ چوبیس پچیس سال کی ہو چکی ہوتی ہے۔ ایم فل کی کلاس میں شاید ہی کوئی شادی شدہ لڑکی ہوتی ہے۔ اکثر لڑکیوں کے والدین ایم فل مکمل تک ہر رشتے کو دیکھے بغیر ہی انکار کرتے رہتے ہیں کہ ابھی تو ہماری بیٹی پڑھ رہی ہے۔ ایم فل مکمل ہونے کے بعد رشتے دیکھنے شروع کیے جاتے ہیں اور اکثر والدین بیٹیوں سے کہتے ہیں کہ جاب کرو اپنا جہیز بناؤ پھر شادی ہو پائے گی۔ اس وجہ سے اب ایک بڑی تعداد کی شادی تیس سال کے بھی بعد میں جا کر ہوتی ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ لڑکیاں اور ان کے والدین اپنے سے کم تعلیم یافتہ، کم حیثیت اور کم کمانے والے سے شادی پر راضی نہیں ہوتے۔ دوسری طرف کوئی بھی لڑکا اپنے سے بڑی لڑکی سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔ اور اگر کوئی لڑکا کسی اچھی پوسٹ پر ہوتا ہے تو وہ اگر لڑکی کے پیسے اور جاب کو نہ دیکھ رہا ہو تو پھر وہ اپنے سے آٹھ دس سال چھوٹی لڑکی کو ترجیح دیتا ہے۔ ہاں اپنی ہم عمر لڑکی سے شادی صرف اسی صورت میں کرتا ہے جب اسے لڑکی سے زیادہ اس کی جاب یا پیسے پر نظر ہو۔ ایسے میں اکثر اچھے رشتے کی تلاش میں لڑکی کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد بھی کئی قیمتی سال ضائع ہوجاتے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اچھے رشتے ملنے کے چانس کم ہوتے جاتے ہیں۔ شادی تو تیس کے بعد جا کر ہوتی ہے لیکن جنسی خواہش اور ضرورت تو بلوغت کے بعد ہی لڑکے اور لڑکی دونوں میں شروع ہو جاتی ہے۔ اتنے سال تک اس کو دبا کر رکھنا اور پاکباز رہنا، وہ بھی آج کے دور میں کسی کے لیے بھی بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو معلوم تو سب کو ہے کیونکہ اپنے بیٹوں کی شادی کرتے ہوئے وہ یہی سب دیکھ رہے ہوتے ہیں اور کر رہے ہوتے ہیں لیکن اپنی بیٹی کے لیے وہ اس حقیقت کو پتہ نہیں کیوں فراموش کر دیتے ہیں۔ یہ وہ کڑوا سچ ہے جو کوئی بھی سننا نہیں چاہتا۔ لڑکی کی شادی کے لیے بہترین عمر اٹھارہ سے چوبیس سال ہے لیکن اکثر والدین اور لڑکیاں خود تعلیم کے نام پر اسے گزار دیتے ہیں۔ میں یہ ہرگز نہیں کہتا کہ اٹھارہ سال عمر ہوتے ہی فوراً شادی کر دیں لیکن میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ لڑکی کے بالغ ہوتے ہی کوئی بھی رشتہ آئے تو اسے بغیر پرکھے کبھی بھی نہ ٹھکرائیں۔ اور اس وجہ سے تو بالکل بھی نہیں کہ لڑکی ابھی پڑھ رہی ہے۔ اگر آپ نے سولہ سالہ تعلیم دلوا دی ہے تو پھر سب سے پہلے اپنی بیٹی سے اس کی پسند پوچھیں اور اسے یقین دلائیں کہ اس کی پسند اگر کوئی ہے تو وہاں اس کی شادی کردی جائے گی۔ مزید یہ کہ ذات برادری سے نکل آئیں۔ بچوں کو تعلیم دلوا کر شعور دلوایا ہے تو پھر ان کی پسند کو بھی اہمیت دیں۔ یاد رہے کہ ذات برادری کو اہمیت دینے والی آپ کی یہ آخری جنریشن ہے۔ اس فضول ضد سے جتنی جلدی نکل آئیں آپ کے اور آپکی اولاد کے لیے اتنا اچھا ہے۔ یہ بے ربط خیالات ہیں لیکن اگر ویسے یہ سب آپ کو سمجھ نہیں آرہی تو پھر کل چودہ فروری کو کسی بھی یونیورسٹی کا چکر لگا لیں کہ وہاں کتنے سٹوڈنٹس آئے ہیں۔ یونیورسٹی کے پاس واقع ریسٹورنٹس میں جوڑوں کو بھی دیکھ لیں اور پاس موجود ہوٹلز کو بھی چیک کر لیں کہ وہاں ریٹس دنوں کی بجائے گھنٹوں کے حساب سے کیوں بتائے جا رہے ہیں۔ اور یہ سب آپ کسی بھی یونیورسٹی میں جا کر دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ کھل کر نہیں لکھ سکتے۔ منقول۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

پاکستان چوک سی ایس ایس سمیت پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے مقابلہ جات کے امتحانات میں پوچھا جانے والا ایک اہم سوال " پاکستان چوک ک
پاکستان چوک سی ایس ایس سمیت پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے مقابلہ جات کے امتحانات میں پوچھا جانے والا ایک اہم سوال " پاکستان چوک کہاں ہے اور اسے پاکستان چوک کیوں کہا جاتا ہے" ہمارے ملک کے تمام صوبوں کو ملانے والا پاکستان چوک ڈیرہ غازی خان شہر میں واقع ہے اس چوک کے مشرق کی طرف کی پنجاب، مغرب کی طرف 102 کلومیٹر کی مسافت پر بلوچستان شمال کی طرف 229 کلومیٹر دور خیبر پختونخوا اور جنوب کی سمت 217 کلو میٹر کی دوری پر سندھ واقع ہے۔۔ ملک کے تمام صوبوں کی سڑکیں اس چوک پر آ کر ملتی ہیں پاکستان چوک میں ایک جہاز نصب کیا گیا ہے جس وجہ سے اسے جہاز چوک بھی کہا جاتا ہے سی ایس ایس سمیت مقابلے کے تمام چھوٹے بڑے امتحانات میں پاکستان چوک کےحوالے سے سوال پوچھا جاتا ہے طلبہ کا کہنا تھا پاکستان چوک ڈی جی خان کی اہمیت کو بڑھاتا ہے ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے پاکستان چوک ڈی جی خان کا اہم ترین مقام ہے مستقبل قریب میں سیاحت کے اعتبار سے میں یہ ڈی جی خان کا بہترین سپاٹ ہو گا #rafaqatzamanabbasi #foryouシ #couple #nature

🔷 بہکاوہ 🔷 یہ کہانی ہمیں ایک بہت اہم سبق دیتی ہے کہ بعض اوقات دوسروں کی باتوں پر یقین کرنا ہماری سب سے بڑی غلطی بن سکتی ہے۔ یہ ایک محبت کرنے والے جوڑے کی کہانی ہے جو آٹھ سال تک محبت، عزت اور سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔ ان کی مالی حالت عام سی تھی، لیکن ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے بے حد محبت تھی۔ 🔥 جب زہر آہستہ آہستہ داخل ہوتا ہے… ایک دن ایک نئی ہمسائن آئی اور باتوں ہی باتوں میں اولاد نہ ہونے کا ذکر چھیڑ دیا۔ عورت پہلے تو مطمئن تھی، لیکن اس ہمسائن کی باتوں نے اس کے دل میں شک اور اضطراب پیدا کر دیا۔ "کیوں نہ ہم ٹیسٹ کروائیں؟" یہ سوال اس کے دل میں بیٹھ گیا۔ شوہر نے بیوی کی خواہش کا احترام کیا اور دونوں نے فوری ٹیسٹ کروا لیے۔ اگلے دن شوہر نے رپورٹس وصول کیں اور جب وہ گھر واپس آیا تو چہرے پر اداسی اور مایوسی نمایاں تھی۔ "مجھے معاف کرنا، میں بانجھ ہوں، میں اولاد پیدا نہیں کر سکتا۔" بیوی نے صبر کا مظاہرہ کیا اور اپنے شوہر کو محبت اور تسلی دی کہ یہ سب اللہ کی مرضی ہے۔ 🔥 زہر کا دوسرا وار… چند دن بعد وہی ہمسائن دوبارہ آئی اور اس بار طلاق کا مشورہ دیا۔ "تم جوان ہو، خوبصورت ہو، تمہیں ایک ایسے شوہر کی ضرورت ہے جو تمہیں ماں بننے کا خواب دے سکے!" یہ بات بیوی کے دل میں گھر کر گئی۔ وہ تذبذب کا شکار رہی، لیکن بالآخر اپنے شوہر سے طلاق مانگ لی۔ "میں ماں بننا چاہتی ہوں، میں تمہارے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی۔" شوہر حیران رہ گیا، اس نے یاد دلایا کہ چند دن پہلے تو وہ صبر کرنے کو تیار تھی، لیکن بیوی نے اپنی ضد پر اصرار کیا۔ 😢 حقیقت جب بے نقاب ہوئی… شوہر نے ایک لمحے کے لیے خاموشی اختیار کی اور پھر ایک لفافہ نکالا… "یہ ہے اصل رپورٹ، پڑھ لو!" بیوی کے ہاتھ کانپنے لگے جب اس نے حقیقت پڑھی… "میں نہیں، بلکہ تم بانجھ ہو!" یہ حقیقت سن کر بیوی کی دنیا اندھیر ہو گئی۔ اس کا دل شرمندگی اور پچھتاوے سے بوجھل ہو گیا۔ وہ روتی ہوئی شوہر کے قدموں میں گر گئی، معافی مانگنے لگی، اور بتایا کہ ہمسائن نے اس کے دل میں زہر گھولا تھا۔ ❤️ محبت کی معافی… شوہر نے بردباری اور حکمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا: "یہ آخری بار ہے جب تم نے کسی غیر کی باتوں پر یقین کیا، آئندہ کسی کی سازش کا شکار نہ بننا۔ میں تمہیں اسی طرح چاہتا ہوں، جیسے تم ہو۔" یہ سن کر بیوی نے اپنے شوہر کی محبت کو حقیقی طور پر پہچان لیا۔ 🔘 سبق جو ہمیں ملتا ہے: ✔️ ہمیشہ اپنے رشتے پر اعتماد رکھیں – باہر والوں کی باتوں میں نہ آئیں۔ ✔️ غلط فہمیاں پیدا کرنے والوں سے دور رہیں – جو لوگ جلانے، ورغلانے اور شک پیدا کرنے کی کوشش کریں، ان کی باتوں پر دھیان نہ دیں۔ ✔️ محبت میں قربانی سب سے بڑی چیز ہے – اگر کوئی واقعی آپ سے محبت کرتا ہے، تو وہ آپ کے ساتھ کسی بھی حال میں رہے گا۔ ✔️ رشتے دوسروں کی باتوں سے نہیں ٹوٹتے، بلکہ خود کے فیصلوں سے ٹوٹتے ہیں۔ 💖 محبت تب ہی کامیاب ہوتی ہے جب ہم ایک دوسرے کو سمجھنے اور سننے کی کوشش کریں، نہ کہ باہر کے لوگوں کی باتوں پر یقین کریں! 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 حکیمہ بیوی کی کہانی 🌹 ایک شوہر کہتا ہے: میں ایک مشن کے لیے تین دن کے لیے سفر پر گیا۔ جب میں دوسرے ملک پہنچا تو میں نے اپنی بیوی اور بیٹے کی خیریت جاننے کے لیے فوراً فون کیا، کیونکہ میں ان کی جدائی کا عادی نہیں ہوں۔ میری شادی کو تین سال ہو چکے ہیں، لیکن افسوس، کسی نے میری کال کا جواب نہیں دیا۔ تین دن گزر گئے اور میرا فون میرے ہاتھ سے نہیں چھوٹا، میں ہر ربع گھنٹے یا آدھے گھنٹے میں کال کرتا رہا، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ میں نے بے حد پریشان ہو کر اپنے بھائی اور بہن کو بلایا تاکہ وہ میری چھوٹی سی فیملی کی حالت جانچیں، اور انہوں نے مجھے تسلی دی۔ میں نے انہیں یقین نہیں کیا اور اپنی بیوی کی ماں (اپنی خالہ) سے رابطہ کیا، تو انہوں نے بھی مجھے تسلی دی۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں ان کی کال کا انتظار کر رہا ہوں، لیکن میرا انتظار لمبا ہوتا گیا۔ دن گزرتے گئے، جیسے تین ماہ کی طرح، اور میں اندر سے غصے سے بھر رہا تھا، کبھی حیرت میں مبتلا ہوتا اور کبھی مختلف خیالات میں گم ہوتا۔ اکثر مجھے خوفناک وسوسے آتے۔ آخرکار، میں اپنے ملک واپس آیا، اور جیسے ہی میں نے وطن کی زمین پر قدم رکھا، میں گھر کی طرف بھاگا۔ اور جب میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، تو میری بیوی نے دروازہ کھولا۔ وہ مکمل زینت میں تھی اور مجھے شاندار استقبال کیا، جبکہ میرے بچے کی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں اور وہ دوڑ رہا تھا، اور میں نہیں جانتا تھا کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ جلد ہی حیرت کی جگہ غصہ لے لیتا ہے۔ میں نے اپنی بیوی سے اس بے حسی کی وجہ پوچھی، اور میں نے تقریباً اپنے سفر کو ختم کرنے کا ارادہ کیا، کیونکہ میرے دماغ میں مختلف شکایات چل رہی تھیں۔ میری بیوی نے سکون سے جواب دیا: "کیا تم نے اپنی والدہ سے رابطہ کیا؟" میں نے جواب دیا اور کچھ سمجھ نہیں آیا۔ "میں نے اپنی والدہ سے رابطہ نہیں کیا تاکہ آپ کی خیریت جان سکوں۔" اس نے کہا: "یہی احساس تم نے ان دنوں میں محسوس کیا ہے، وہی احساس تمہاری والدہ نے بھی اس وقت محسوس کیا جب تم نے کئی دنوں تک ان سے رابطہ نہیں کیا۔ وہ تمہاری آواز سننے کے لیے بے چینی سے منتظر رہتی ہیں، اور جب تم ان سے رابطہ نہیں کرتے تو وہ شوق اور محبت سے بھری ہوتی ہیں، اور ان کے دل میں وسوسے آ جاتے ہیں اگر تم زیادہ دور رہو۔ میں نے تمہیں کئی بار متنبہ کرنے کی کوشش کی، لیکن کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ مجھے یہ پیغام تم تک پہنچانے کے لیے یہ سب سے بہتر طریقہ لگا، میرے عزیز شوہر۔" میں نے اپنی بیوی کی عقل کی پختگی پر شرمندگی سے سر جھکایا، اور میں نے سبق اچھی طرح سمجھ لیا۔ اس نے مجھے میری گاڑی کی چابی دی اور میرے کان میں سرگوشی کی: "تمہاری جنت تمہارا انتظار کر رہی ہے۔" میں اپنی پہلی محبت، اپنی ماں کے پاس روانہ ہوا، بعد میں میں نے اپنی حکیمہ بیوی سے ایک سبق سیکھا جو میں زندگی بھر نہیں بھولوں گا، اور میں اس کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے خود کو اور وقت کو سنبھالنے کا موقع دیا، اس سے پہلے کہ پچھتاوا فائدہ نہ دے۔ شکریہ اس حکیمہ بیوی کا، شکریہ اس کی ماں کا جس نے اسے بہترین تربیت دی، شکریہ میری ماں کا جس نے مجھے اس کا انتخاب کرنے دیا، اور شکریہ اللہ کا جس نے مجھے رحم کیا اور مجھے غفلت سے جگایا۔ ہماری مائیں۔ 🔘 ہماری جنتیں ہیں، لہذا انہیں کبھی نہ بھولیں، چاہے ہر روز ایک کال ہی کریں، یہ سب سے کم ہے۔ ان کے دل ہم سے ملاقات کے منتظر ہیں، وہ ہمیشہ ہمارے لیے دعا کرتی ہیں اور ہمیں یاد کرتی ہیں۔ ان کے دل کی نرمی اور محبت انہیں ہر بار ہمیں کال کرنے سے روکتی ہے، کیونکہ وہ ہمیں پریشان نہیں کرنا چاہتی ہیں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 نیکی کر دریا میں ڈال 🌹 ایک آدمی رات کے تین بجے ہائی وے پر سفر کر رہا تھا کہ اس کی نظر ایک بوڑھی عورت پر پڑی۔ وہ بیچاری سڑک کے کنارے اپنی گاڑی میں بیٹھی تھی۔ وہ سمجھ گیا کہ اس کی گاڑی خراب ہو گئی ہو گی۔ رات کا ایسا پہر تھا اور ہائی وے کے دونوں طرف گھنا جنگل تھا۔ وہ پریشان ہو گیا اور سوچا کہ اگر اس نے بوڑھی عورت کی مدد نہیں کی تو اس پر کوئی جنگلی جانور بھی حملہ آور ہو سکتا تھا۔ اس نے اپنی گاڑی ایک طرف پارک کی اور اتر کر اس عورت کی گاڑی کے پاس چلا گیا۔ عورت اسے دیکھ کر گھبرا گئی اور بولی کہ کیا چاہتے ہو؟ اسے لگا کہ شاید یہ میرے پیسے چھینے گا یا مجھ سے کوئی قیمتی چیز چرائے گا۔ وہ شخص سمجھ گیا کہ وہ عورت اس پر شک کر رہی تھی۔ وہ گیا اور جا کر اپنی گاڑی سے سٹیپنی نکال لایا۔ اس نے اس بوڑھی عورت کی گاڑی کے قریب آکر بولا کہ میڈم پلیز پریشان نہ ہوں۔ میں صرف آپ کا نیا ٹائر لگا رہا ہوں۔ اس نے سٹیپنی گاڑی کے نیچے سیٹ کی اور گاڑی کو اونچا کرنے لگا۔ کافی مشکل سے اس نے پچھلا ٹائر اتارا اور نیا ٹائر لگا دیا۔ اس کے نٹس کسنے میں اس آدمی کو بہت طاقت لگانی پڑی۔ اتنے میں پہلی بار اس بوڑھی عورت نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا اور بولی کہ بیٹا آپ کا بہت شکریہ اگر ابھی آپ میری مدد کو نہ رکتے تو اللہ جانے کیا ہو تا؟ آدمی نے آخری نٹ ٹھیک سے ٹائٹ کیا اور اس کو تسلی دی کہ اب وہ جا سکتی ہے۔ اس نے پوچھا کہ اپنا نام تو بتاتے جاؤ، میں دعاؤں میں یاد رکھوں گی۔ اس شخص نے بولا کہ میں ’مائیکل‘ ہوں۔ وہ آدمی اپنی گاڑی میں جا بیٹھا، بوڑھی عورت اس کی گاڑی کے پاس آئی اور اسے پیسے دینے کے لیے اپنا بٹوا پھرولنے لگی۔ آدمی نے بولا کہ بہت شکریہ مجھے آپ کے پیسے نہیں چاہیے تھے۔ اور خدا حافظ کہہ کر چلتا بنا۔ وہ عورت گاڑی تھوڑا آگے لے کر گئی تو ایک موٹل آگیا۔ وہ اندر گئی اور ویٹرس کو آرڈر دیا۔ اس نے دیکھا تو ویٹرس امید سے تھی اور لگتا تھا کہ اس کا آٹھواں ماہ چل رہا تھا۔ اس نے ویٹرس کو مسکرا کر دیکھا کیونکہ وہ سوچ رہی تھی کہ اس بیچاری کی ضرور کوئی مجبوری ہی ہوگی تو یہ اس حالت میں بھی کام کر رہی ہے۔ اس بوڑھی عورت کو رہ رہ کر پنے محسن کا خیال آرہا تھا کہ اس نے اتنی نیکی کی اور کچھ بھی نہ مانگا۔ جب اس نے کھانا کھا لیا تو ویٹرس بل ٹیبل پر دھر کر چلی گئی۔ بوڑھی عورت نے اتنے پیسے رکھے کہ اس میں پورے سو ڈالر اصلی بل کی رقم سے اوپر تھے۔ ویٹرس آئی اور بل اٹھا کر لے گئی۔ وہ چینج لے کر واپس آئی تو دیکھا کہ بوڑھی عورت جا چکی تھی اور ٹیبل پر ایک نوٹ رکھا تھا جس پر لکھا تھا کہ آج میرے ساتھ کسی نے بہت بڑی نیکی کی تھی۔ بس سمجھو کہ میں وہی نیکی تمہیں لوٹا رہی ہوں۔ یہ سو ڈالر تمہاری ٹپ ہیں۔ وہ لڑکی بہت خوش ہوئی اور اپنے گھر کی طرف نکل پڑی۔ اس نے گھر جا کر اپنے سوئے ہوئے شوہر کو گال پر کس کیا اور سوچا کہ خدا بھی کتنا مہربان ہے کہ عین جس وقت اس کو پیسوں کی ضرورت پڑی تو اس نے بندوبست کر دیا۔ وہ جانتی تھی کہ ایک ماہ بعد اسے ان پیسوں کی ضرورت ڈیلیوری کے لیے پڑنی تھی۔ اسے نجانے کیوں اپنے خاوند پر بہت پیار آرہا تھا۔ اس نے دھیمے سے بولا : شب بخیر مائیکل! اور سو گئی۔ 🔘 بہت سے ایسے واقعات ہیں جن کو ہم بس ایک نظر پڑھ کر بھول جاتے ہیں اگر آپ کسی کے ساتھ نیکی کرتے ہیں تو اس کے اجر کی امید اللہ سے رکھیں نہ کہ جس کے ساتھ نیکی کی ہو کیونکہ اللہ ہی سب سے زیادہ اور جو اپ کے خق میں بہترین ہے وہ دے گا۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻓﻮﻥ ﺳﮯﺧﻔﯿﮧ ﮐﯿﻤﺮﮦ ﮐﯿﺴﮯ ﮈﮬﻮﻧﮉیں؟ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻓﯿﻤﯿﻠﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺴﯽ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﭨﻞ ﯾﺎ ﻻﺝ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻨ
ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻓﻮﻥ ﺳﮯﺧﻔﯿﮧ ﮐﯿﻤﺮﮦ ﮐﯿﺴﮯ ﮈﮬﻮﻧﮉیں؟ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻓﯿﻤﯿﻠﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺴﯽ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﭨﻞ ﯾﺎ ﻻﺝ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﭨﮩﺮﮮ ﮨﻮﮞ ﻭﮨﺎﮞ ﺧﻔﯿﮧ ﮐﯿﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﻧﺎ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ، ﻭﺭﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺳﺎﺯﺵ ﯾﺎ ﻓﺤﺶ ﺣﺮﮐﺎﺕ ﮐﮯ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﺷﮑﺎﺭ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ﺁﺋﯿﮯ۔!ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻓﻮﻥ ﺳﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﮯ ﺧﻔﯿﮧ ﮐﯿﻤﺮﮮ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﮈﮬﻮﻧﮉﺍ ﺟﺎﻧﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﮬﮯ ۔ ( 1 ) ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﺩﯾﮟ۔ ( 2 ) ﺍﺏ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﮐﺎ ﮐﯿﻤﺮﮦ ﺁﻥ ﮐﺮﯾﮟ ۔ ( 3 ) ﮐﯿﻤﺮﮦ ﺁﻥ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺧﺎﺹ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﯿﻤﺮﮮ ﮐﺎ ﻓﻠﯿﺶ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ۔ ( 4 ) ﺍﺏ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﮐﮯ ﮐﯿﻤﺮﮮ ﮐﻮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻃﺮﻑ ﮔﮭﻤﺎﺗﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ، ( 5 ) ﮐﯿﻤﺮﮮ ﮐﻮ ﮔﮭﻤﺎﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﮔﺮ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺍﺳﮑﺮﯾﻦ ﭘﺮﺳﺮﺥ ﺭﻧﮓ ﮐﺎ ﺩﮬﺒﮧ ﻧﻈﺮ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺧﻔﯿﮧ ﮐﯿﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﺏ ﺁﭖ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﺭﮨﺘﮯ ﮬﻮﮰ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺟﻮ ﮐﯿﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮨﻮﮐﺮ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻨﮯ۔ﺍﺱ ﻣﯿﺴﺞ ﮐﻮ ﮨﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﺎ ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﮬﮯ. ہماری عزتیں محفوظ رہیں.

میں نے اس سے پوچھا ’’لیکن تم والد کو پیسے کیسے دیتے ہو؟ ان کا سورس آف انکم تو کوئی نہیں‘‘ وہ ہنس کر بولا ’’میں نے اپنی تنخواہ کا آدھا حصہ ان کے نام ٹرانسفر کر دیا ہے‘ یہ رقم سیدھی ان کے اکاؤنٹ میں آتی ہے‘ چیک بک بھی ان کے پاس ہے‘ یہ رقم نکلواتے ہیں اور اپنی جیب اور الماری میں رکھ لیتے ہیں اور وہاں سے نکال نکال کر مجھے دیتے رہتے ہیں۔ میں نے سبزی اور فروٹ کی ذمے داری بھی ان کو سونپ دی ہے‘ ملازمین ان سے پیسے لیتے ہیں اور فروٹ اور سبزی خرید کر کچن میں دیتے ہیں‘ دودھ اور گوشت بھی ابو کی ڈیوٹی ہے‘ یہ خود دودھ خریدتے ہیں‘ دودھی کو ’’پے منٹ‘‘ بھی کرتے ہیں‘ گوشت کی دکان سے بھی انھی کا رابطہ ہے‘ جس دن قصاب کے پاس اچھا گوشت ہوتا ہے یہ ابو کو فون کر کے بتا دیتا ہے اور ابو جی خوش ہو جاتے ہیں۔ میں کپڑے بھی ان کی مرضی کے خریدتا ہوں اور اگر آپ جیسے دوست آ جائیں تو ان سے پیسے مانگ کر انھیں چائے کافی بھی پلاتا ہوں‘ اس سے میرے والد کی صحت بھی اچھی ہو گئی اور ہمارے تعلقات بھی‘‘ وہ خاموش ہو گیا‘ میں نے اس سے عرض کیا ’’آپ یہ بھی دیکھیں آپ کو یہ حقیقت اس وقت پتا چلی جب آپکا اپنا بیٹا خود مختار ہوا اور آپ نے خود کو نیچے والا ہاتھ محسوس کیا‘‘ اس نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ میں نے عرض کیا ’’ہم سب کی یہی ٹریجڈی ہے‘ ہمیں زندگی کی حقیقتوں کا ادراک اس وقت ہوتا ہے جب وقت کا پہیہ گھوم کر ہمارے پاس آجاتا ہے‘ مجھے چند دن قبل کامیڈین اور اداکار افتخار ٹھاکر کا ایک کلپ دیکھنے کا اتفاق ہوا‘ ٹھاکر صاحب نے اس میں بتایا‘ میرابھائی رات کو عموماً لیٹ گھر واپس آتا تھا‘ میرے والد اس کے انتظار میں صحن میں بے چین ہو کر پھرتے رہتے تھے‘ وہ جب آتا تھا تو والد اس سے صرف اتنا پوچھتے تھے تم کہاں رہ گئے تھے اور اس کے بعد سونے کے لیے چلے جاتے تھے۔ یہ روز کا معمول تھا‘ بھائی ایک رات زیادہ لیٹ ہو گئے‘ وہ واپس آیا اور والد کو پریشان دیکھا تو ناراض ہو کر بولا‘ ابو آپ ساری رات صحن میں کیوں پھرتے رہتے ہیں‘ میں اب بڑا ہو گیا ہوں‘ آپ مجھے بچہ سمجھنا بند کریں‘ والد نے یہ سن کر صرف اتنا کہا‘ بیٹا میں اللہ سے صرف اتنی دعا کر رہا تھا یہ تمہیں جلد سے جلد صاحب اولاد بنائے تاکہ تمہیں میری پریشانی کا اندازہ ہو سکے۔ اللہ کی کرنی کیا ہوئی؟ میرے بھائی کی شادی ہو گئی‘ اللہ تعالیٰ نے اسے اولاد کی نعمت سے نوازدیا‘ بیٹا ذرا بڑا ہوا تو اس نے بھی رات گھر سے غائب ہونا شروع کر دیا‘ ایک رات میرا بھتیجا لیٹ ہو گیا‘ میرا بھائی باہر تھڑے پر بیٹھ کر اس کا انتظار کر رہا تھا‘ والد آئے اور بھائی کو تسلی دے کر بولے‘ بیٹا تم کیوں پریشان ہو رہے ہو تمہارا بیٹا اب سیانا ہو گیا ہے‘ یہ کوئی بچہ تو نہیں‘ آ جائے گا‘ یہ سن کر بھائی کو اپنی جوانی یاد آ گئی‘ وہ اٹھا اور والد کی ٹانگوں سے لپٹ کر رونا شروع کر دیا‘ افتخار ٹھاکر صاحب نے یہ واقعہ سنا کر کہا‘ میرے بھائی کو والد کی تکلیف کا احساس اس وقت ہوا جب یہ خود باپ بنا اور اس کے بیٹے نے بھی وہ غلطی شروع کر دی جو یہ جوانی میں کرتا تھا‘‘۔ یہ سن کر میرے دوست کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ہم اس دوران کافی شاپ پہنچ گئے‘ کافی کا آرڈر دیا اور اس کے بعد میں نے اسے اپنا واقعہ سنایا‘ میں نے بتایا‘ آج سے 20 سال قبل میرے گھر کی پانی کی موٹر خراب ہو گئی تھی‘ گرمیوں کے دن تھے‘ خوف ناک دھوپ پڑ رہی تھی اور میں مکینک کے ساتھ کھڑا ہو کر موٹر ٹھیک کرا رہا تھا‘ میرے والد مجھے بار بار کہہ رہے تھے گرمی بہت زیادہ ہے‘ دھوپ ہے‘ سائے میں آ جاؤ‘ تمہیں سن اسٹروک ہو جائے گا لیکن میں ان کا مشورہ اگنور کر رہا تھا۔ میرا خیال تھا میں نے اگر موٹر ٹھیک نہ کرائی تو ٹینکی میں پانی ختم ہو جائے گا‘ ابا جی کہتے رہے اور میں اگنور کرتا رہا‘ یہ سلسلہ تھوڑی دیر چلتا رہا‘ والد اس دوران اندر گئے‘ میرے بیٹے کو اٹھا کر لائے اور اسے میرے ساتھ دھوپ میں کھڑا کر دیا‘ میں نے تڑپ کر احتجاج کیا‘ اباجی یہ چھوٹا بچہ ہے اور آپ نے اسے دھوپ میں کھڑا کر دیا‘ آپ کتنے ظالم ہیں۔ میرے والد اس وقت تک برآمدے میں بیٹھ چکے تھے‘ وہ ہنسے اور اونچی آواز میں کہا‘ بیٹا تم بھی میرے بیٹے ہو اگر تم اپنے بیٹے کو دھوپ میں برداشت نہیں کر سکتے تو میں اپنے بیٹے کو دھوپ میں کیسے دیکھ سکتا ہوں چناں چہ جب تک تم میرے بیٹے کو دھوپ میں کھڑا رکھو گے اس وقت تک تمہارا بیٹا بھی دھوپ میں رہے گا۔ مجھے شروع میں برا لگا لیکن پھر میں نے ٹھنڈے دل سے سوچا تو میرے والد کی بات ٹھیک تھی‘ میں اگر اپنے بچے کی تکلیف نہیں دیکھ سکتا تھا تو میرے والد میری تکلیف کیسے برداشت کر سکتے تھے؟‘‘ میں نے اس کے بعد اس سے کہا ’’ہم سب کی بدقسمتی ہے ہم حقیقتوں کو اس سے پہلے انڈر اسٹینڈ نہیں کر پاتے جب تک ہم خود اس صورت حال کا شکار نہیں ہوتے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5885 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ابو پچاس روپے ہیں؟ 🔷 ابو پچاس روپے ہیں۔؟ ’’تم نے ابھی صبح تو ہزار روپے لیے تھے‘ اب دوبارہ مانگ رہے ہو‘‘ بزرگ نے حیرت سے پوچھا‘ دوست نے شرما کر جواب دیا ’’ابو اب چوہدری صاحب آ گئے ہیں‘ انھیں بھی کافی پلانی پڑے گی‘ صبح کے ہزار روپے صبح کے دوستوں پر خرچ ہو گئے‘‘۔ بزرگ نے جیب میں ہاتھ ڈالا‘ گن کر سو سو روپے کے دس نوٹ نکالے اور اس کے بعد لمبی دعا دی‘ ہم باہر آ گئے‘ کافی شاپ گھر سے ذرا سے فاصلے پر تھی‘ ہم پیدل چل پڑے‘ میں نے راستے میں دوست سے پوچھا ’’کیا تم اب بھی اپنے والد سے پیسے لیتے ہو؟‘‘ میرے دوست نے ہنس کر سر ہاں میں ہلایا اور بولا ’’بالکل میں روزانہ کئی مرتبہ والد صاحب سے پیسے لیتا ہوں‘کبھی پچاس روپے‘ کبھی سو روپے اور اگر تم جیسا کوئی معزز مہمان آ جائے تو پانچ سو اور ہزار روپے بھی لے لیتا ہوں‘‘۔ میں یہ سن کر حیران ہوا اور پھر پوچھا ’’آپ پچاس سال کی عمر میں والد سے پیسے لینے والے پہلے شخص ہو‘ اللہ نے آپ کو بہت کچھ دے رکھا ہے‘ آپ کے اپنے بچے بھی بڑے ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود والد سے روزانہ پیسے مانگنا مجھے منطق سمجھ نہیں آئی‘‘۔ میرا دوست مسکرایا‘ رکا‘ اپنا دایاں ہاتھ نیچے رکھا اور بایاں اس کے اوپر رکھ کر بولا ’’آپ بتاؤ ہمارے دو ہاتھ ہیں‘ ایک نیچے والا ہاتھ جسے ہم لینے والا ہاتھ کہتے ہیں اور دوسرا اوپر والا ہاتھ ہے جسے ہم دینے والا ہاتھ کہتے ہیں‘ ان دونوں میں سے افضل کون سا ہے؟‘‘۔ میں نے فوراً جواب دیا ’’اوپر والا یعنی دینے والا ہاتھ‘‘ اس نے مسکرا کر دیکھا اور پھر پوچھا ’’آپ اب ذرا فرض کرو آپ پوری زندگی اوپر والا ہاتھ رہے ہو‘ آپ نے عمر بھر اپنی اولاد اور دائیں بائیں موجود لوگوں کو صرف دیا ہو لیکن پھر اچانک آپ نیچے والا ہاتھ بن جائیں اور آپ کو معمولی معمولی ضرورت کے لیے دوسروں کی طرف دیکھنا پڑے تو پھر آپ کی فیلنگ کیا ہو گی؟‘‘ میں نے ذرا سا سوچ کر کہا ’’آپ بالکل ٹھیک کہتے ہیں‘ انسان اپنے آپ کو کمتر اور محتاج سمجھے گا‘‘۔ وہ مسکرایا اور پھر بولا ’’بالکل صحیح میرے والد پوری زندگی اوپر والا ہاتھ رہے‘ ہم جوانی تک ان سے مانگتے تھے‘ جوتے لینے ہوں یا کپڑے یا پھر مہمان ہوں ہم ابو سے پیسے مانگ کر اپنا خرچ چلاتے تھے‘ ابو ہمارا واحد سورس آف انکم تھے لیکن پھر ہم معاشی طور پر آزاد ہوتے چلے گئے اور والد کے سورس آف انکم کم ہوتے چلے گئے۔ ابو نے پوری زندگی کسی سے مانگا نہیں تھا‘ میں نے دیکھا یہ مجھ سے بھی نہیں مانگتے تھے‘ ان کی جیب مہینہ مہینہ خالی رہتی تھی‘ جوتے اور کپڑے بھی پرانے ہو جاتے تھے اور اگر ان کو دوا کی ضرورت پڑتی تھی تو بھی یہ خاموش رہتے تھے‘ میں شروع شروع میں اس رویے پر غصہ کرتا تھا۔ میرا خیال تھا والدین کا اپنی اولاد کی دولت پر حق ہوتا ہے لیکن مجھے اندازہ ہی نہیں تھا اوپر والا ہاتھ کبھی نیچے نہیں آ سکتا اور اگر اسے کبھی آنا پڑجائے تو اس کے لیے مر مٹنے کا مقام ہوتا ہے‘ میرے والد خود کو محتاج سمجھنے لگے تھے اور آہستہ آہستہ کمرے تک محدود ہو گئے تھے۔ میرا خیال تھا یہ بڑھاپے کی وجہ سے ہو رہا ہے‘ والد کی عمر 75 سال ہو چکی ہے‘ یہ علیل بھی رہنے لگے ہیں چناں چہ یہ ایکٹو لائف سے نکل رہے ہیں لیکن پھر میرے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا‘ میرا بیٹا 17 سال کا تھا‘ اس نے اچانک مجھ سے پیسے لینا بند کر دیے۔ میں نے تحقیق کی تو پتا چلا یہ تعلیم کے ساتھ ساتھ آن لائین کام کرتا ہے اور اسے اس سے ٹھیک ٹھاک آمدنی ہو جاتی ہے چنانچہ اب اسے جیب خرچ کی ضرورت نہیں رہتی‘ یہ ماں اور اپنی بہنوں کوبھی پیسے دینے لگا۔ آپ یقین کریں مجھے برا لگا اور میں خود کو غیر ضروری اور محتاج سا محسوس کرنے لگا‘ مجھے اس وقت سمجھ آئی اوپروالا ہاتھ جب نیچے والا بنتا ہے تو اسے کتنی تکلیف ہوتی ہے‘ مجھے اس وقت اپنے والد کی تکلیف کا اندازہ ہوا‘ میں سیدھا ان کے پاس گیا اور بچپن کی طرح ان سے پوچھا‘ ابو کیا آپ کے پاس پچاس روپے ہیں۔ میرے والد اس وقت اداس بیٹھے تھے‘ آپ یقین کریں یہ الفاظ ان کے کانوں سے ٹکرانے کی دیر تھی‘ ان کے جسم میں توانائی آ گئی‘ یہ سیدھے ہو کر بیٹھے‘ بے اختیار جیب میں ہاتھ ڈالا اور 50 روپے نکال کر میرے ہاتھ پر رکھ دیے‘ مجھے پچاس روپے دینے کے بعد ان کی باڈی لینگوئج ہی بدل گئی‘ یہ چہکنے لگے۔ بس وہ دن ہے اور آج کا دن ہے میں اپنے والد سے روزانہ ایک دو مرتبہ پیسے مانگتا ہوں‘ میں ان سے باہر جانے سے قبل اجازت بھی لیتا ہوں‘ یہ شروع میں انکار کرتے ہیں‘ حالات کی خرابی کا شکوہ کرتے ہیں‘ احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں اور اس کے بعد مجھے جانے کی اجازت دے دیتے ہیں‘ اس سے میرے ان کے ساتھ تعلقات بھی اچھے ہو گئے ہیں اور یہ خوش بھی ہیں‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔

ایک انٹرنیٹ،ایک فون کا کمال تحریر/رئوف کلاسرا 👇 بس ایک انٹرنیٹ کنکشن اور ایک فون آپ کے پاس ہو تو گھر بیٹھے آپ پوری دنیا کو لوٹ سکتے ہیں۔ یہ نتیجہ ہے جو حالیہ اکنامسٹ میگزین کی رپورٹ میں دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے دنیا میں اس وقت سالانہ 500 ارب ڈالرز کا آن لائن فراڈ ہورہا ہے۔ پہلے آپ کو افریقہ کی شہزادیوں کی ای میل آتی تھیں کہ ہمارا خرانہ یا کروڑں ڈالرز کے بنک اکاونٹ کے لیے آپ کی مدد درکار ہے۔ آپ کو وہ ڈالرز ٹرانسفر کرنے کا جھانسہ دیتے تھے ۔ اب وہ سب کچھ پرانا ہوچکا۔ اب نئی دنیا ہے اور نئے فراڈ اورفراڈیے۔ چلیں عام آدمی کو چھوڑیں کہ وہ لالچ میں آن لائن فراڈ کا شکار ہورہا ہے۔ آپ امریکہ کسناس کے ایک چھوٹے سے بنک سی ای او کے بارے میں کیا کہیں گے جو امریکن بنکنگ ایسوسی ایشن کا بھی ممبر تھا۔ اسے سب کچھ پتہ تھا کہ آن لائن فراڈ کیسے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے خاندان سے محبت کرنے والا پارٹ ٹائم ایک چرچ میں پادری بھی تھا۔ وہ ایسا بندہ بھی نہیں تھا کہ کوئی غلط کام کرے۔ وہ اپنے تئیں ایک چلاک اور سمجھدار سرمایہ کار تھا جسے راتوں رات امیر بننے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ بلکہ وہ کرپٹو کرنسی کی تجارت کے زریعے بہت پیسہ بنا چکا تھا۔ لیکن اسے ایشیاء اور دیگر ملکوں سے اپنا پیسہ ٹرانسفر کرانے کے لیے مشکلات کا سامنا تھا اور اس کے لیے اس کچھ مزید کیش درکار تھا تاکہ وہ پیرورک کر کے اپنے کروڑں ڈالرز گھر منگوا سکے۔ اس بنکر نے چھ ماہ میں ایک نامعلوم کرپٹو کرنسی اکاونٹ میں نہ صرف اپنی ساری سیونگ ٹرانسفر کر دیں بلکہ اپنی بیٹی کی یونیورسٹی داخلے کی فیس بھی جو الگ رکھی ہوئی تھی وہ بھی بھیج دی۔ وہ یہاں تک نہیں رکا بلکہ اس نے اپنے چرچ کے ریزور فنڈ کی رقم بھی اس نامعلوم کرپٹو اکاونٹ میں بھیج دی۔ ابھی فلم باقی تھے۔ جس بنک کا وہ سی ای او تھا اس کا بھی 47 ملین ڈالرز بھی اس نے اس نامعلوم اکاونٹ میں ٹرانسفر کیا تاکہ وہ ایشاء اور دیگر ملکوں سے اپنا فنڈ ٹرانسفر کرا سکے۔ یوں بنک نقصان میں جانے لگا اور 2023 میں وہ واحد بنک تھا جو امریکہ میں نقصان میں گیا۔ جب ایف بی آئی نے ایکشن شروع کیا تو موصوف پر فراڈ اور دھوکے کے الزامات لگائے گئے۔ وہ پھر یہ سب کچھ جان کر بھی ماننے کو تیار نہ تھا کہ اس کے ساتھ فراڈ ہوا تھا اور اس نے نہ صرف اپنی سیونگ، بیٹی کی یونیوسٹی فیس، چرچ کا فنڈ اور بنک کا 47 ملین ڈالرز ایک فراڈیے کے ہاتھوں ڈبو دیا تھا۔ اس وقت وہ جیل میں ہے اور پتہ نہیں وہ فراڈیا کہاں عیاشی کررہا ہوں جس نے اس کو آن لائن اتنا یقین دلا دیا تھا کہ وہ اب ارب پتی بن چکا تھا بس اسے امریکہ فنڈز ٹرانسفر دستاویزات تیار کرانے کے لیے پچاس ملین ڈالرز کی ضرورت تھی۔وہ بھیج دے تاکہ وہ ٹرانسفر دستاویزات تیار کر کے اسے امریکہ بھیج دے۔ دنیا بھی کیا کیا دونوں “چالاک اور چ “لوگوں سے بھری پڑی ہے۔اس وقت وہی موصوف امریکن جیل میں چوبیس سال کی سزا بھگت رہے ہیں۔وہ ابھی بھی ماننے کو تیار نہیں ہے کہ اس کے ساتھ فراڈ ہوا ہے۔اسے ابھی بھی لگتا ہے کہ اس کے اربوں باہر رکھے ہیں۔ اندازہ کریں ظالموں نے اپنے شکار کو آن لائن لوٹنےآپریشن کا نام pig butchering رکھا ہوا تھا۔ #RaufKlasra #Pakistan 🔷🔷🔷🔷🔷

🔷 خالی کشتی 🔷 جن کو غصہ زیادہ آتا ہے انہیں یہ حکایت یاد رکھنی چاہیے۔ خالی کشتی 🛶 (بدھ مت کی قدیم اخلاقی کہانی ) ایک بھکشو نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی خانقاہ سے نکل کر کہیں دور اکیلا مراقبہ کرے گا۔ اس نے ایک کشتی بنائی اور جھیل کے وسط میں جا کر ٹھہر گیا۔ اس نے پوری توجہ سے اپنے نفس کے احوال پر نظر کی اور آنکھیں بند کر کے مراقبہ و گیان میں مشغول ہو گیا۔ چند گھنٹے وہ اسی کیفیت میں گم رہا مگر پھر اسے اچانک ایک اور کشتی کی آواز سنائی دی جو تیرتے ہوئے اس کی کشتی سے ٹکڑا رہی تھی۔ بند آنکھوں کے ساتھ اس نے محسوس کیا کہ اس کے اندر غصے کا احساس پیدا ہو رہا ہے ، وہ آنکھیں کھول کر اپنا سکون غارت کرنے والی کشتی کے ملاح پر چلاّنے ہی لگا تھا کہ اس نے دیکھا کہ کشتی تو بالکل خالی ہے اور پاس کہیں کوئی ناخدا بھی نہیں ہے۔ لنگر ٹوٹنے کے بعد وہ کہیں کنارے سے بہہ نکلی تھی۔ یہ ماجرا دیکھ کر اسے ادراک ہوا کہ غصہ تو اس کے اپنے نفس کے اندر ہے بس کسی خارجی وجود کے ٹکڑاؤ کی دیر ہے اور اس کا سارا اشتعال باہر نکل آتا ہے۔ چناچہ اس نکتے کو دماغ میں بٹھا کر وہ واپس خانقاہ چلا گیا۔ اور اس کے بعد اپنی پوری زندگی اگر کبھی بھی وہ کسی ایسے انسان سے ملا جس کی بات یا حرکت پر اسے غصہ محسوس ہوا تو وہ اطمینان سے اپنے نفس میں یہ مذاکرہ کرتے ہوئے خاموش رہا کہ دوسرا شخص محض ایک خالی کشتی ہے ، غصہ خود میری اپنی ذات میں ہے۔۔۔۔۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 شاہانہ زندگی 🔷 اگرﻗﺎﺭﻭﻥ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ۔۔۔ ﺁﭘﮑﯽ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﮮ ﭨﯽ ﺍﯾﻢ ﮐﺎﺭﮈ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﺰﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻥ ﭼﺎﺑﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮩﺘﺮ ھے ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻋﺎﺟﺰ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﻗﺎﺭﻭﻥ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﺑﯿﺘﮯ ﮔﯽ..؟ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﺮﯼٰ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ۔۔۔ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﮭﮏ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺻﻮﻓﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺗﺨﺖ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺁﺭﺍﻡ ﺩﮦ ھے ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﯽ..؟ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻗﯿﺼﺮ ﺭﻭﻡ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ۔۔۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺷﺘﺮ ﻣﺮﻍ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﮯ ﺟﻦ ﭘﻨﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﮨﻮﺍ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﭘﻨﮑﮭﮯ ﺍﻭﺭﺍﮮ ﺳﯽ ﮐﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﯾﮟ ﺣﺼﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ..؟ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮐﺎﺭ ﻟﯿﮑﺮ ﮨﻼﮐﻮ ﺧﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻓﺮﺍﭨﮯ ﺑﮭﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺋﯿﮯ.. ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﭘﺮ ﻏﺮﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻤﻨﮉ ﮨﻮﮔﺎ..؟ ﮨﺮﻗﻞ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺧﺎﺹ ﻣﭩﯽ ﺳﮯ ﺑﻨﯽ ﺻﺮﺍﺣﯽ ﺳﮯ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﯿﮑﺮ ﭘﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍِﺱ ﺁﺳﺎﺋﺶ ﭘﺮ ﺣﺴﺪ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ.. ﺗﻮ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻓﺮﺝ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﭼﮯ ﮔﺎ..؟ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻡ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮐﺮ ﻏﺴﻞ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ.. ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ ﺍﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ کا ہیٹر یا گیزر ﺩﯾﮑﮫ ﻟﮯ ﺗﻮ..؟ ﺟﻨﺎﺏ ﺁﭖ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﯽ ﺭﺍﺣﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺭھے ﮨﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﭻ ﯾﮧ ھے ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺁﭖ ﺟﯿﺴﯽ ﺭﺍﺣﺖ ﮐﺎ ﺳﻮﭺ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ.. ﻣﮕﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺠﯿﺌﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﯿﮟ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺼﯿﺐ ﺳﮯ ﻧﺎﻻﮞ ﮨﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ.. ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮﮞ ھے ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺟﺘﻨﯽ ﺭﺍﺣﺘﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﺳﻌﺘﯿﮟ ﺑﮍﮪ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺳﯿﻨﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺗﻨﮓ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ھے..... ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﮧ ﭘﮍﮬﯿﺌﮯ ، ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺠﯿﺌﮯ.. ﺧﺎﻟﻖ ﮐﯽ ﺍﻥ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 کوئی بات نہیں۔۔۔🌹 ایک بار میں گھر میں داخل ہوا تو دیکھا کہ بیگم کے چہرے کا رنگ خوف سے اڑا ہوا ہے، پوچھنے پر ڈرتے ڈرتے بتایا کہ "کپڑوں کے ساتھ میرا پاسپورٹ بھی واشنگ مشین میں دھل گیا ہے۔۔!، یہ خبر میرے اوپر بجلی بن کر گِری۔ مجھے چند روز میں ایک ضروری سفر کرنا تھا۔ میں اپنے سخت ردعمل کو ظاہر کرنے ہی والا تھا کہ اللہ کی رحمت سے مجھے ایک بات یاد آ گئی، اور میری زبان سے نکلا "کوئی بات نہیں۔۔۔!"، اور اس جملے کے ساتھ ہی گھر کی فضا نہایت خوشگوار ہوگئی۔ پاسپورٹ تو دھل چکا تھا، اور اب ہر حال میں اُس کو دوبارہ بنوانا ہی تھا، خواه میں بیگم پر غصے کی چنگاریاں برسا کر اور بچوں کے سامنے ایک بدنما تماشہ پیش کر کے بنواتا، یا بیگم کو دلاسہ دے کر بنواتا، جو چشم بد دور ہر وقت میری راحت کے لئے بے چین رہتی ہیں۔ سچ بات یہ ہے کہ مجھے اس جملے سے بے حد پیار ہے، میں نے اس کی برکتوں کو بہت قریب سے اور ہزار بار دیکھا ہے۔ جب بھی کسی دوست یا قریبی رشتہ دار کی طرف سے کوئی دل دکھانے والی بات سامنے آتی ہے، میں درد کشا اسپرے کی جگہ اس جملے کا دم کرتا ہوں، اور زخم مندمل ہونے لگتا ہے۔ اپنوں سے سرزد ہونے والی کوتاہیوں کو اگر غبار خاطر بنایا جائے تو زندگی عذاب بن جاتی ہے، اور تعلقات خراب ہوتے چلے جاتے ہیں، لیکن "کوئی بات نہیں" کے وائپر سے دل کے شیشے پر چھائی گرد کو لمحہ بھر میں صاف کیا جاسکتا ہے، اور دل جتنا صاف رہے اتنا ہی توانا اور صحت مند رہتا ہے۔ بچوں کی اخلاقی غلطیوں پر تو فوری توجہ بہت ضروری ہے، لیکن ان کی چھوٹی موٹی معمولی غلطیوں پر "کوئی بات نہیں" کہہ دینے سے وه آپ کے دوست بن جاتے ہیں، اور باہمی اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ بچہ امتحان کی مارک شیٹ لے کر سر جھکائے آپ کے سامنے کھڑا آپ کی پھٹکار سننے کا منتظر ہو، اور آپ مسکراتے ہوئے سر پر ہاتھ پھیرکر فرمائیں "کوئی بات نہیں، اگلی بار اور محنت کرنا، چلو آج کہیں گھومنے چلتے ہیں" تو آپ اندازه نہیں کر سکتے کہ بچے کے سر سے کتنا بھاری بوجھ اتر جاتا ہے، اور ایک نیا حوصلہ کس طرح اس کے اندر جنم لیتا ہے۔ میں نے اپنے بچوں کو کچھ دعائیں بھی یاد کروائی ہیں، ساتھ ہی اس جملے کو بار بار سننے اور روانی کے ساتھ ادا کرنے کی مشق بھی کرائی ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ کبھی یہ جملہ بروقت زبان پر نہیں آتا تو اس ایک لمحے کی غفلت کا خمیازه بہت عرصے تک بھگتنا پڑتا ہے، طبیعت بدمزہ ہو جاتی ہے، اور ایک مدت تک کڑواہٹ باقی رہتی ہے۔ تعلقات میں دڑار آجاتی ہے، اور برسوں تک خرابی باقی رہتی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ یہ جملہ یادداشت کا حصہ بننے کے بجائے شخصیت کا حصہ بن جائے۔ وقفے وقفے سے پیش آنے والے معاشی نقصانات ہوں، یا ہاتھ سے نکل جانے والے ترقی اور منفعت کے مواقع ہوں، یہ جملہ ہر حال میں اکسیر سا اثر دکھاتا ہے، ایک دانا کا قول ہے کہ "نقصان ہو جانا اور نقصان کو دل کا بوجھ بنانا یہ مل کر دو نقصان بنتے ہیں، جو ایک خساره ہو چکا وه تو ہو چکا، تاہم دوسرے خسارے سے آدمی خود کو بچا سکتا ہے، اس کے لئے صرف ایک گہری سانس لے کر اتنا کہنا کافی ہے کہ "کوئی بات نہیں۔۔!" یاد رہے کہ یہ دوا جس طرح کسی چھوٹے نقصان کے لئے مفید ہے، اسی طرح بڑے سے بڑے نقصان کے لئے بھی کار آمد ہے۔ ایک مومن جب "کوئی بات نہیں" کو الہٰی رنگ میں ادا کرتا ہے، تو اُسے "انا اللہ وانا الیہ راجعون" کہا جاتا ہے۔ بسا اوقات ایک ہی بات ایک جگہ صحیح تو دوسری جگہ غلط ہوتی ہے۔ "کوئی بات نہیں" کہنا بھی کبھی آدمی کی شخصیت کے لئے سم قاتل بن جاتا ہے، جیسے کوئی شخص غلطی کا ارتکاب کرے تو چاہیے کہ اپنی غلطی کے اسباب تلاش کر کے ان سے نجات حاصل کرے، نہ کہ "کوئی بات نہیں" کہہ کر غلطی کی پرورش کرے۔ خود کو تکلیف پہنچے تو آدمی "کوئی بات نہیں" کہے تو اچھا ہے، لیکن انسان کسی دوسرے کو تکلیف دے اور اپنی زیادتی کو "کوئی بات نہیں" کہہ کر معمولی اور قابلِ نظرانداز ٹھہرا لے، تو یہ ایک گِری ہوئی حرکت شمار ہوگی۔ اسی طرح جب کوئی ملک یا اداره مفاد پرستوں کے استحصال اور نااہلوں کی نااہلی کا شکار ہو رہا ہو اور "کوئی بات نہیں" کہہ کر اصلاح حال کی ذمہ داری سے چشم پوشی اختیار کر لی جائے، تو یہ ایک عیب قرار پائے گا۔ معاشرے میں کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی ہو رہی ہو اور لوگ اس جملے سے اپنے ضمیر کی آواز کو دبانے کی کوشش کریں، تو یہ انسانیت کے مقام سے گر جانا تصور ہوگا۔ 🔘 آخر میں صرف اتنا کہونگا کہ، "یہ جملہ دل کی دیوار پر آویزاں کرنے کے لائق ہوتا ہے، اگر یہ دل کی کشادگی برقرار رکھے، تعلقات کی حفاظت کرے اور دنیاوی نقصان ہونے پر بھی انسان کی تسلی کا سامان بنے۔ اور یہی جملہ مکروه اور قابل نفرت ہو جاتا ہے اگر یہ عزم بندگی، احساس ذمہ داری، احترامِ انسانیت اور جذبہ خود احتسابی سے غافل ہونے کا سبب بن جائے۔۔۔! 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 والد ہمیشہ بھلائی چاہتا ہے 🔷 میرے والد جب کبھی میرے کمرے میں آتے اور دیکھتے کہ بتی جل رہی ہے اور میں کمرے میں نہیں ہوں، تو کہتے: "تم بتی کیوں نہیں بجھاتے؟ اتنی بجلی کیوں ضائع کرتے ہو؟" جب وہ واش روم میں جاتے اور نل سے پانی ٹپک رہا ہوتا، تو زور سے کہتے:-- "تم نل کو اچھی طرح بند کیوں نہیں کرتے؟ اتنی پانی کی بربادی کیوں ہو رہی ہے؟" ہمیشہ وہ میرے اوپر تنقید کرتے اور مجھ پر الزام لگاتے کہ میں سُستی کا شکار ہوں چھوٹی اور بڑی ہر بات پر ٹوکتے، یہاں تک کہ بیماری کی حالت میں بھی پھر ایک دن آیا جب مجھے نوکری ملی، وہ دن جس کا میں بے صبری سے انتظار کر رہا تھا۔ آج میں اپنی زندگی کی پہلی نوکری کے لیئے انٹرویو دینے جا رہا تھا۔ یہ ایک بڑی کمپنی میں ایک معزز ملازمت کے لیئے تھا۔ دماغ میں خیال آتا تھا کہ اگر میں منتخب ہو گیا تو اس گھر کو چھوڑ کر چلا جاؤں گا اور اپنے والد کے مسلسل نصیحتوں سے چھٹکارا حاصل کر لوں گا۔ صبح سویرے اُٹھا، بہترین کپڑے پہنے، خوشبو لگائی اور نکلنے لگاکہ دروازے کے پاس کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو والد مسکراتے ہوئے کھڑے تھے، حالانکہ ان کی آنکھوں میں بیماری کے آثار نمایاں تھے۔ انہوں نے مجھے کچھ پیسے دیے اور کہا: - "میں چاہتا ہوں کہ تم پُر اعتماد رہو اور کسی سوال سے نہ ڈرو۔" میں نے یہ نصیحت سن کر بیزاری سے مسکرایا، اندر سے سوچ رہا تھا کہ یہ بھی وقت ہے نصیحت کرنے کا، جیسے وہ میری خوشی کے لمحے کو خراب کرنا چاہتے ہوں۔ میں گھر سے نکلا، ٹیکسی میں بیٹھ کر کمپنی کی طرف روانہ ہو گیا۔ جب میں وہاں پہنچا تو حیران رہ گیا نہ کوئی دربان تھا اور نہ کوئی استقبالیہ کا عملہ، بس کچھ ہدایتی بورڈز لگے ہوئے تھے جو انٹرویو کے کمرے کی طرف رہنمائی کر رہے تھے۔ جیسے ھی میں دروازے میں داخل ہوا، دیکھا کہ دروازے کا ہینڈل اپنی جگہ سے نکلا ہوا ہے اور ٹوٹنے کے قریب ہے۔ مجھے فوراً اپنے والد کی نصیحت یاد آئی کہ مثبت رہو، تو میں نے فوراً ہینڈل کو درست کیا۔ آگے چلتے ہوئے دیکھا کہ باغ میں پانی بھر گیا ہے، ایک تالاب کا پانی بہہ رہا تھا، شاید مالی اسے بند کرنا بھول گیا تھا۔ مجھے والد کی پانی کے ضیاع پر ناراضگی یاد آئی، میں نے نل کی رفتار کم کر دی اور پانی کے پائپ کا رخ دوسرے تالاب کی طرف کر دیا۔ عمارت کے اندر پہنچا اور سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے دیکھا کہ روشنی کی بتی دن کے وقت جل رہی ہے۔ مجھے والد کا چہرہ یاد آیا اور فوراً بتی بجھا دی۔ جب میں انٹرویو کے کمرے میں پہنچا، تو دیکھا کہ بہت سے لوگ جاب حاصل کرنے کے لیئے موجود ہیں۔ سب کی طرف دیکھتے ہوئے، میں نے سوچا کہ میں ان کے سامنے کتنا معمولی سا نظر آ رہا ہوں۔ پھر یہ دیکھا کہ جو بھی انٹرویو دینے جا رہا ہے، چند منٹوں میں واپس آ رہا ہے۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ لوگ اپنی تمام قابلیت کے باوجود کامیاب نہیں ہو سکے، تو میں کیسے ہو سکتا ہوں؟ میں نے انٹرویو چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن جیسے ہی میں اٹھنے لگا تو اسی وقت، میرا نام پکارا گیا۔ میں نے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کرکے کمرے میں داخل ہو گیا۔ سامنے تین افراد بیٹھے تھے، انہوں نے مسکرا کر پوچھا:-- "آپ کب اس نوکری کو سنبھالنا چاہتے ہیں؟" مجھے لگا جیسے وہ مذاق کر رہے ہوں۔ میں نے اپنے والد کی نصیحت یاد کی کہ پُر اعتماد رہو۔ میں نے کہا: "جب میں امتحان میں کامیاب ہو جاؤں گا، تب سنبھالوں گا۔" ایک نے کہا: "آپ کامیاب ہو چکے ہیں۔" میں حیران رہ گیا کہ کسی نے مجھ سے کوئی سوال نہیں پوچھا، اور انہوں نے بتایا کہ میرا امتحان ہو چکا ہے۔ پھر ایک صاحب نے کہا:-- "ھم نے کمپنی میں کچھ جگہوں پر خرابیاں جان بوجھ کر رکھیں تھیں تاکہ دیکھ سکیں کہ کون امیدوار انہیں ٹھیک کرتا ہے، اور آپ نے ہر غلطی کو درست کیا۔" اس لمحے، میرے سامنے سب کچھ ماند پڑ گیا۔ میں نے اپنے والد کی تصویر دیکھنا شروع کی۔ وہ سخت مزاج جو ہمیشہ میری بھلائی چاہتا تھا۔ مجھے گھر واپس جانے اور ان کے ہاتھ چومنے کی شدید خواہش ہوئی۔ جب میں گھر پہنچا تو وہاں لوگوں کا ہجوم دیکھا۔ سب کے چہروں پر دکھ کے آثار تھے۔ میں بہت دیر سے پہنچا تھا۔ میرے والد تو چلے گئے اور میں اُن کی محبت اور نصیحتوں کی قدر کرنے میں دیر کر گیا۔ والد صاحب ، آپ نے ہمیشہ مجھے درست راستہ دکھایا، اور میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 مغربی تہذیب اور عورت ۔۔۔۔ 🔷 1۔ اس مغربی تہذیب نے عورت کو اسٹیج پر گانا گانے کی اجازت دے دی۔۔۔۔۔ جبکہ ۔۔۔۔ خدا نے اسے اذان اور اقامت کہنے سے روک دیا ۔۔۔۔ تاکہ اس کی آواز کی نرمی اور عفت کو محفوظ رکھا جا سکے۔ 2۔ کافروں نے اسے اسٹیج پر اداکاری کرنے کی اجازت دے دی۔ جبکہ ۔۔۔۔ خدا نے ان پر جمعہ کی نماز یا باجماعت نماز بھی فرض نہیں کی۔۔۔۔ تاکہ عزت کو محفوظ رکھا جا سکے۔ 3۔ بے شرموں نے عورت کو اولمپکس اور مقابلوں کا چیمپئن بنایا۔ جبکہ ۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اسے صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے سے روک دیا ۔۔۔۔ تاکہ عصمت و حیا کو محفوظ رکھا جا سکے۔ 4۔ وہ عورت کو کھیل دیکھنے اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے اسٹیڈیم میں لے گئے۔ جبکہ خدا نے عورت کو دین کی حمایت کے لیے بھی (جہاد) نکلنے سے منع کیا، تاکہ اس کی نسوانیت اور عفت کو محفوظ رکھا جا سکے۔ 5۔ وہ عورت کو گھر سے نکال کر شاہراہوں میں لے گئے ۔۔۔ عورت کی خوبصورتی کو مزید ظاہر کرنے کے لئے میک اپ کو اس پر انڈیل دیا۔۔۔۔۔ جبکہ ۔۔۔۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اسے پازیب پہننے سے منع کیا۔۔۔۔ تاکہ اس پازیب کی آواز سے ،مرد، عورت کے پوشیدہ حسن کے تصور تک نہ پہنچ سکے۔ اہل مغرب کے وحشی درندے ۔۔۔۔ عورت کی آزادی ، بالکل بھی نہیں چاہتے۔۔۔۔ بلکہ وہ عورت تک پہنچنے کی آزادی چاہتے ہیں ۔۔۔۔ 🔘 وَاللَّهُ يُرِيدُ أَن يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَ يُرِيدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ أَن تَمِيلُوا مَيْلًا عَظِيمًا۔* (النساء: 27) ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ تم پر اپنی رحمت فرمانا چاہتا ہے ۔۔۔ اور جو لوگ خواہشات و شہوات کی پیروی کر رہے ہیں ، وہ چاہتے ہیں کہ۔۔۔ تم سیدھی راہ سے بہت دور ہو جاؤ۔ اے ہمارے رب عزوجل ہم تجھ سے تمام مسلم خواتین کے لئے پردہ اور عفت و حفاظت کی درخواست کرتے ہیں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 مرد پر رحم کریں 🔷 مرد کمزور مخلوق ہے اس پر رحم کریں۔ ـعزتِ نفس بادشاہت کے برابر ہے۔ اھلِ عرب کہتے ہیں: عزّة النفس تُضاهي جاه الملوك عزتِ نفس {خوداری} بادشاہوں کی حیثیت کے مشابہ ہوتی ہے۔ معزز عزت پر مر جاتا ہے۔ لئیم [کمینہ] عزت سے زیادہ دولت کو ترجیح دیتا ہے۔ ٹک ٹاک"فیسبک" یوٹیوب وغیرہ پر عزتیں بیچ کر دولت بنانا کمی کمین لوگوں کے ہاں رائج ہے۔ نسلی انسان کبھی عزت پر سمجھوتا نہیں کرتا۔ ایسوں کو دیکھنے" فالو کرنے" لائک کمنٹ کرنے سے آپ میں بھی گھٹیا پن کے جراثیم پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ پھر مرد یا عورت خاندانی ہونے کے باجود بے نسلے لوگوں جیسی حرکات کرنا شروع کر دیتا ہے۔ لہذا اپنے فالو کئے ہوئے گروپ لائک کئے ہوئے پیج اور سبسکرائب کئے ہوئے چینلز پر نظرِ ثانی کریں۔ غیرت آہستہ آہستہ مرتی ہے۔ کل جسے آپ کے باپ دادا بے حیائی" بے غیرتی کہتے تھے آج آپ وہی کام کر رہے ہیں تو تسلیم کریں آپ کے خون میں غیرت کی کمی اور غیر کی آمیزش ہو گئی ہے۔ مبالغے میں ایک شعر ہے کل جنہیں چُھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر آج وہ رونقِ بازار نظر آتے ہیں اس معاشرے کی اور تنزلی کیا ہوگی کہ کل تک یہاں جس کام پر غیرت اتنی تھی کہ بندے مار دیئے جاتے آج وہی کام سرِ عام ہوتے ہیں بازارِ حسن میں رنگ رنگ کی بولیوں سے اپنے طرف بلانے والیوں اور سوشل میڈیا پر شارٹ کلپس جاری کرنے والیوں میں کیا فرق ہے؟ وہ بھی مردوں کو مائل کرتی ہیں یہ بھی مائل کر رہی ہیں۔ پھر وہ طوائفہ اور یہ خاندانی کیسے ہیں؟ اسی طرح مذہبی خواتین بھی ہاتھوں" پاؤں حتی کہ برقعے میں نیز دستانوں میں ہاتھ کی تصاویر لگانے کا مقصد مَردوں کو ہی دکھا کر مائل کرنا پھر آپ میں اور طوائفہ کے مائل کرنے میں کیا فرق ہوا؟ پھر آپ کو کوئی میسج کرے " بات کرے تو آپ حاجن کیوں بن جاتی ہیں؟ یہ بھی فیمنزم کی بیہودہ سوچ ہے کہ مرضی کے مرد کے ساتھ ہر حد پار کر لی جائے اور جو پسند نہ آئے اس کی تشہیر کر دی جائے پھر اپنا رونا دھونا شروع کر دیا جائے پھر مَردوں کی نگاہوں کا قصور اور مردانہ فکر کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا جائے۔ مرد کمزور ترین مخلوق ہے۔ جی ہاں مرد دنیا کی کمزور ترین مخلوق ہے جو جنسِ مخالف کو دیکھ کر قابو میں نہیں رہ پاتا آپ آگ بھڑکانے کے بعد حاجن نہ بن جایا کریں محرم کے سوا کسی سے بات نہ کریں خواہ عالم و مفتی ہو خواہ کسی عمر کا شخص ہو` مرد کمزور مخلوق ہے اس پر رحم کریں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content