ISLAM WITH EMAN
前往频道在 Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
显示更多1 286
订阅者
+124 小时
-27 天
-630 天
帖子存档
1 286
کھڑے ہو کر کنگھی کرنے سے دل کمزور ہوتا ہے اور بیٹھ کر کنگھی کرنے سے دل مضبوط ہوتا ہے اور جلد کے امراض دور ہوتے ہیں۔
1 286
گنے کا رس رگوں کو کھولتا ہے، اس میں کوئی درد نہیں ہے اور نہ ہی اس میں کوئی نقصان ہے۔
1 286
🔷 بینک صارفین متوجہ ہوں 🔷
آن لائن فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر آپ کے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کی حفاظت پہلے سے زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں ہزاروں افراد اپنے بینک اکاؤنٹس سے رقوم کی چوری کا شکار ہوئے ہیں، جنہیں ہیکرز نے فیس بک، گوگل ایڈز، ڈومین ہوسٹنگ اور دیگر آن لائن ٹرانزیکشنز کے لیے استعمال کیا۔ اگرچہ درست اقدامات اٹھائے جائیں تو عموماً یہ رقم واپس مل سکتی ہے، مگر اس میں وقت اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اہم حفاظتی تدابیر:
1. مین اکاؤنٹ کا استعمال محدود کریں:
اپنے مین اکاؤنٹ، جس میں زیادہ رقم موجود ہو، سے کبھی بھی آن لائن یا پی او ایس (Point of Sale) ٹرانزیکشن نہ کریں۔ یہ وہ ٹرانزیکشنز ہیں جو آپ شاپنگ مال، پیٹرول اسٹیشن یا دیگر جگہوں پر کارڈ کے ذریعے کرتے ہیں۔
2. آن لائن والٹس کا استعمال کریں:
آن لائن والٹس جیسے نیا پے، سادہ پے، یا دیگر ڈیجیٹل والٹس کا استعمال کریں۔ یہ ایپلیکیشنز نہ صرف مفت میں اکاؤنٹ بنانے کی سہولت فراہم کرتی ہیں بلکہ آپ کو ورچوئل کارڈز بھی مہیا کرتی ہیں۔ آپ کو صرف اپنے مین اکاؤنٹ سے مطلوبہ رقم ان والٹس میں منتقل کرنی ہوگی اور پھر محفوظ طریقے سے ادائیگی کرنی ہوگی۔
3. ورچوئل کارڈز کا فائدہ اٹھائیں:
کچھ بینک جیسے فیصل بینک اور یو بی ایل ورچوئل کارڈز فراہم کرتے ہیں جو صرف آن لائن ٹرانزیکشنز کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ یہ کارڈز ہیکرز کے حملے سے محفوظ رہنے کے لیے بہترین آپشن ہیں۔
4. کارڈ کی حد مقرر کریں:
اپنے کارڈ پر روزانہ یا ماہانہ ٹرانزیکشن کی حد (Limit) مقرر کریں تاکہ کوئی غیر مجاز رقم نکال نہ سکے۔
5. ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن کا استعمال کریں:
ہر ممکن جگہ پر ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن (2FA) کو فعال کریں۔ یہ اضافی سیکیورٹی لیئر آپ کی آن لائن اکاؤنٹس کو زیادہ محفوظ بناتا ہے۔
6. ٹرانزیکشن الرٹس کو فعال کریں:
اپنے بینک سے ہر ٹرانزیکشن کے لیے الرٹس موصول کرنے کا آپشن فعال کریں تاکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کا فوراً پتہ چل سکے۔
7. مشکوک ویب سائٹس اور لنکس سے پرہیز کریں:
کبھی بھی کسی غیر مصدقہ ویب سائٹ پر اپنی بینکنگ معلومات درج نہ کریں۔ مشکوک ای میلز یا لنکس پر کلک کرنے سے بھی گریز کریں۔
8. اپنے سسٹم اور موبائل کی حفاظت کریں:
اپنے کمپیوٹر اور موبائل فون میں اینٹی وائرس سافٹ ویئر انسٹال کریں اور اپنے آپریٹنگ سسٹم کو اپ ڈیٹ رکھیں تاکہ کسی بھی ممکنہ میلویئر حملے سے بچا جا سکے۔
اضافی مشورے:
ہمیشہ کسی بھی ٹرانزیکشن سے پہلے ویب سائٹ کے URL میں "https" چیک کریں۔
عوامی Wi-Fi پر بینکنگ ٹرانزیکشنز کرنے سے گریز کریں۔
اپنے کارڈز کا PIN یا CVV کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
ہر چند ماہ بعد اپنے آن لائن اکاؤنٹس کے پاس ورڈز تبدیل کریں۔
احتیاط کی قیمت ہمیشہ فائدہ مند ہوتی ہے
یہ معمولی لیکن اہم اقدامات آپ کو ممکنہ نقصان سے بچا سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، تھوڑی سی توجہ اور دانشمندی کے ساتھ آپ اپنے قیمتی اثاثوں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
#قراةالعین زینب ایڈووکیٹ
🔷🔷🔷🔷🔷
1 286
🌸 نیک بیوی کی پہچان 🌸
ایک سبق آموز واقعہ صحیح بخاری شریف سے۔۔۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام جب جوان ہوئے، تو قبیلہ جرہم میں شادی کر لی۔ ایک دن ان کے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خیال آیا کہ بیٹے کی خیریت معلوم کریں۔ جب پہنچے تو اسماعیل علیہ السلام گھر پر نہ تھے، بیوی سے معاشی حالات پوچھے۔
اس نے شکایت بھرے انداز میں کہا:
"بہت تنگی ہے، بڑی مشکل سے گزارا ہوتا ہے۔"
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: "اپنے شوہر سے کہنا: 'غَیِّرْ عَتَبَةَ بَیْتِکَ' (اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل دو)"
حضرت اسماعیلؑ واپس آئے، بات سنی اور فرمایا: "وہ میرے والد تھے، ان کا مطلب یہ ہے کہ تم ناشکری کرتی ہو، اس لیے تمہیں رخصت کرتا ہوں۔"
پھر دوسری شادی ہوئی۔ کچھ عرصے بعد حضرت ابراہیمؑ دوبارہ آئے۔ اس بار بھی بیٹے گھر پر نہ تھے۔ نئی بیوی سے حالات پوچھے، تو جواب آیا:
"الحمدللہ! سب کچھ بہت اچھا ہے، اللہ کا شکر ہے۔"
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: "اپنے شوہر سے کہنا: 'ثَبِّتْ عَتَبَةَ بَیْتِکَ' (اپنے دروازے کی چوکھٹ قائم رکھو)"
جب حضرت اسماعیلؑ واپس آئے تو فرمایا: "وہ میرے والد تھے، اور ان کے الفاظ کا مطلب ہے کہ تم شکر گزار ہو، تمہارے ساتھ میری زندگی قائم رہے گی۔"
🔘 سبق:
نیک بیوی وہ ہے جو حالات جیسے بھی ہوں، شکر گزار ہو۔
شکر گزاری، صبر، اور اخلاق — یہی عورت کی اصل خوبصورتی ہے۔
نصیحتیں دینے والا باپ، فرمانبردار بیٹا، اور شکر گزار بیوی — تینوں نے کردار کا حسین نمونہ پیش کیا۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کی طرف وحی نازل فرمائی کہ اس کو کہو کہ کچھ نہ بولو میں تیرا صبر دیکھنا چاہتا ہوں اس کے صدمے نے میرے عرش برداروں کو میرے آسمان کے مکینوں کو رلا دیا ہے مجھے میرے غلبے اور جلال کی قسم اگر اس عابد نے دوسری مرتبہ آواز نکالی تو میں آسمانوں کو زمین پر گرا دوں گا۔
چنانچہ اس عابد نے دوسری مرتبہ آہ نہیں نکالی اور نہ کوئی بات بتائی حتی کہ اس حالت میں اس کا انتقال ہو گیا (رحمہ اللہ علیہ)
چنانچہ جب وہ فوت ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس مردہ عورت میں روح ڈالی (جو عابد کا عمل دیکھ کر دنیا سے کوچ کر گئی تھی) تو عورت نے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا اللہ کی قسم ! یہ مظلوم ہو کر فوت ہوا ہے اس نے زنا نہیں کیا تھا اور میں ابھی تک کنواری ہوں اس کے بعد اس عورت نے گذشتہ رات سارا واقعہ لوگوں کے سامنے نقل کیا تو یہ سن کر جب لوگوں نے اس کا ہاتھ نکالا تو جیسا لڑکی نے بتایا تھا ویسا ہی جلا ہوا تھا۔
یہ دیکھ کر لوگ کہنے لگے کہ اگر ہمیں علم ہوتا کہ اصل حقیقت کیا ہے تو ہم کبھی بھی اس کے جسم کو نہ چیرتے ۔ عابد دو ٹکڑے ہو کر زمین پر گر پڑا اور لڑکی بھی جیسے پہلے (مردہ) تھی ویسے ہی ہو گئی۔ پھر ان دونوں کو دفنانے کے لیے قبریں کھودی گئیں تو اس میں کستوری، عنبر اور کا فور کی خوشبوئیں مہک رہی تھیں اور پھر ان کا جنازہ پڑھنے کے لیے ان کی میتوں کو لایا گیا تو ان کو آسمان سے کسی نے منادی کی۔۔۔
اصبروا حتى نصلى عليها الملائكة
ترجمہ:
صبر کرو یہاں تک کہ فرشتے ان کا جنازہ پڑھ لیں۔
اس کے بعد لوگوں نے ان کا جنازہ پڑھا اور دفن کر دیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی قبر پر چنبلی کو اگایا اور لوگوں نے ان کی قبر پر تختہ دیکھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ۔۔۔
شروع اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بہت بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے اللہ عزوجل کی طرف سے اپنے بندہ اور اپنے ولی (دوست) کی طرف سے میں نے اپنے عرش کے نیچے ایک منبر لگایا اور اپنے فرشتوں کو گواہ بنایا کہ میں نے جنت الفردوس کی پچاس ہزار (۵۰,۰۰۰ ) عورتوں سے اس ولی کا نکاح کیا اور میں اپنے فرمانبرداروں اور مقربین کو ایسے ہی انعام واکرام سے نوازتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنا انعام فرمایا کہ جو اس کی اتباع کرتا ہے اس کے لیے کامیابیاں ہی کامیابیاں ہیں۔ اللہ کے اس ولی نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنے نفس کی اتباع نہیں کی جس کی وجہ سے وہ رب کا مقرب بن گیا۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح تمام مسلمانوں کو نفس کی غلامی سے بچائے۔
🔘 اس واقعہ کو پڑھ کر یہ سبق ملتا ہے کہ نفس کی اتباع کبھی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ نفس انسان کو ہمیشہ عیش و عشرت اور غلط خواہشات کا دلدادہ بناتا ہے اور پھر نفس کے باعث انسان جہنم کی طرف چلا جاتا ہے۔ نیز آپ اس واقعہ سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ زنا پہلی امتوں میں کتنا قبیح اور برا فعل سمجھا جاتا تھا اور اس کی سزا ان لوگوں نے کتنی سخت رکھی تھی اور اس عابد نے اپنے جسم کو اتنی شدید تکلیف میں مبتلا کیا لیکن جہنم کے خوف کی وجہ سے زنا کی طرف نہیں گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ جہنم کی ہولناکیاں اپنے اندر کتنی شدت رکھتی ہیں اور جہنم کی آگ کتنی سخت ہے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” النار لکبری“ کہ وہ سب سے بڑی آگ ہے اور حدیث شریف میں ہے کہ تمہاری یہ (دنیا کی) آگ دوزخ کی آگ کا سترہواں (۷۰) حصہ ہے۔
اے مسلمانان عالم! زنا کی شدت اور ہلاکت خیزیوں کا اندازہ قرآن وحدیث اور تاریخ اسلام کے واقعات میں آئے ہوئے ان کھلے اور واضح احکامات کو پڑھ کر ہو جاتا ہے۔ جس سے ہر مسلمان کو یہ فکر کرنی چاہیے کہ وہ اس گناہ عظیم کا مرتکب ہونے سے بچے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے واضح راستے بیان کر دیئے ہیں جن پر چل کر انسان خود کو عذاب علیم (درد ناک عذاب) سے محفوظ رکھ سکتا ہے پس عقلمند وہی ہے جو گناہوں کی اس پرخار وادی سے اپنا دامن بچا کر گذر جائے۔
📚 بحوالہ بے حیائی آغاز سے انجام تک۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/6666
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
🔷 زنا سے بچنے کا ایک واقعہ 🔷
زنا سے بچنے والے ایک بزرگ کا سبق آموز واقعہ۔۔۔
ابن عباسؓ کعب بن احبار سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے بتایا کہ بنی اسرائیل میں ایک صدیق (اول درجہ کا ولی) تھا جو عبادت میں منفرد مقام رکھتا تھا یہ ایک عرصہ تک اپنی خانقاہ میں عبادت کرتا رہا اسکے پاس روزانہ صبح و شام بادشاہ وقت حاضری دیتا تھا اور اس سے پوچھا کرتا تھا کہ آپ کی کوئی ضرورت ہے؟ تو وہ جواب دیتا "اللہ میری ضرورت کو خوب جانتا ہے"
اللہ تعالیٰ نے اس عابد کی خانقاہ پر انگور کی ایک بیل اگا دی تھی جو ہر روز ایک انگور اٹھاتی (یعنی ایک انگور لگتا) تھی جب اس عابد کو پیاس لگتی تو وہ اپنا ہاتھ آگے بڑھاتا تو پانی ابل پڑتا تھا اور یہ اس پانی کو پی کر پیاس بجھا لیتا تھا اس طرح ایک طویل عرصہ گزر گیا۔
ایک مرتبہ اس عابد کے پاس مغرب کے وقت ایک عورت گذری جو نہایت حسین و جمیل تھی اس عورت نے پکار کر کہا کہ اے اللہ کے بندے۔
اس بزرگ عابد نے کہا لبیک!
یہ سن کر وہ عورت کہنے لگی کیا تمہیں تمہارا رب دیکھ رہا ہے؟
اس نے فرمایا کہ وہ اللہ ایک ہے، قہار ہے، حی و قیوم ہے، دلوں کے اسرار سے واقف ہے اور جو قبروں میں ہیں ان کا اٹھانے والا ہے۔
عورت یہ سن کر کہنے لگی مجھ سے میرا شوہر دور ہے (اس لیے مجھے ایک رات کے لیے اپنے پاس ٹھکانہ دے دو)
بزرگ نے یہ سن کر اس عورت سے کہا کہ اوپر آجاؤ۔
پس وہ عورت اوپر چڑھ گئی اور اس بزرگ کی خانقاہ میں پہنچ گئی۔ وہاں پہنچنے کے ساتھ ہی اس عورت نے اپنے جسم سے کپڑے اتار پھینکے اور ننگی کھڑی ہو گئی اور اس عابد کے سامنے اپنا ننگا بدن ظاہر کر دیا۔
یہ منظر دیکھ کر اس بزرگ نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور فرمایا تو تباہ ہو جائے اپنے آپ کو ڈھانپ لے۔
یہ سن کر اس عورت نے جواب دیا تیرا کیا جاتا ہے اگر تو آج رات مجھ سے فائدہ اٹھا لے۔
بزرگ نے یہ سن کر اپنے نفس سے مخاطب ہو کر کہا اے نفس تو کیا کہتا ہے؟
نفس کہنے لگا اللہ کی قسم میں تو فائدہ اٹھاؤں گا۔ یہ سن کر بزرگ نفس سے مخاطب ہو کر کہنے لگا تو تباہ ہو جائے کیا تو گندھک کے دوزخ کے کپڑے مانگتا ہے؟ آگ کے پاٹ مانگتا ہے۔ میری عرصہ کی عبادت ضائع کرنا چاہتا ہے؟ پھر کہنے لگا ہر زانی کی بخشش نہیں اور اس کا عذاب مٹنے کو نہیں۔ میں ڈرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تجھ پر ایسا ناراض ہو کہ پھر کبھی راضی نہ ہو۔
لیکن اس بزرگ کے نفس نے اس کو اس عورت کے متعلق خوب بہکایا تو بزرگ نے نفس سے مخاطب ہو کر پھر کہا میں تیرے سامنے (دنیا کی) چھوٹی آگ پیش کرتا ہوں۔ اگر تو اس کو برداشت کر گیا تو اس رات اس لڑکی سے نفع حاصل کر لوں گا۔
حضرت کعب بن احبار فرماتے ہیں کہ اس بزرگ نے یہ کہنے کے بعد دیئے (چراغ) کو تیل سے بھر دیا اور بتی کو موٹا کر دیا اس منظر کو وہ عورت بھی دیکھ رہی تھی اور اس بزرگ کی اپنے نفس سے گفتگو بھی سن رہی تھی۔ پھر اس بزرگ نے چراغ کو جلانے کے بعد اپنا ہاتھ اس جلتی بتی پر رکھ دیا یہ بتی جل رہی تھی لیکن اس بزرگ کے ہاتھوں کو نہیں جلاتی تھی۔
یہ دیکھ کر بزرگ چیخ کر کہنے لگے تجھے کیا ہے؟ جلاتی کیوں نہیں؟ تو وہ بتی اس کا انگوٹھا کھا گئی (یعنی جل گیا) پھر اس کی انگلیاں کھا گئی۔ پھر اسکا ہاتھ کھا گئی۔
یہ منظر دیکھ کر اس عورت نے زور دار چیخ ماری اور دنیا سے کوچ کر گئی پھر اس بزرگ نے اس عورت کے جسم کو اس کے کپڑوں سے ڈھانپ دیا۔
جب صبح ہوئی تو ابلیس لعین نے چیخ کر کہا اے لوگو! فلاں بیٹی سے فلاں عابد شخص نے زنا کیا ہے اور زنا کرنے کے بعد اس کو قتل کر دیا ہے۔
چنانچہ جب یہ خبر بادشاہ تک پہنچی تو بادشاہ اپنے لشکر اور رعایا کے ساتھ سوار ہوا اور عبادت خانے تک پہنچ گیا جہاں وہ راہب عبادت کیا کرتا تھا وہاں پہنچ کر بادشاہ زور سے چیخا تو عابد نے اس کو جواب دیا۔ بادشاہ نے عابد سے پوچھا کہ فلاں کی بیٹی فلاں کہاں ہے؟
عاند نے کہا یہیں پہ میرے پاس موجود ہے۔
بادشاہ یہ سن کر عابد سے کہنے لگا اس کو کہو کہ وہ میرے پاس آئے۔
بزرگ نے کہا وہ مر چکی ہے۔
یہ سن کر بادشاہ کہنے لگا چونکہ وہ زنا کے لیے رضامند نہیں ہوئی حتی کہ تو نے ایک جان کو قتل کر دیا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ پھر بادشاہ نے غضبناک ہو کر اس عبادت خانہ کو گرا دیا اور عابد کی گردن میں زنجیر ڈالی اور اسے گھسیٹنے لگا اور عورت کی لاش کو وہاں سے اٹھا دیا گیا اور اس عبادت خانے کو گرا دیا گیا۔
اس وقت کے لوگوں کا دستور تھا کی زانی کو آرے کے ساتھ چیر دیا کرتے تھے۔ عابد کا ہاتھ جو رات کے واقعہ میں جل گیا تھا اسے عابد نے ہاتھ کی آستین میں چھپایا ہوا تھا اور وہ عابد واقعہ کی حقیقت کسی کو نہیں بتا رہا تھا۔
چنانجہ آرے کو عابد کے سر پر رکھا اور جلادوں کو حکم دیا گیا کہ آرا چلا دو چنانچہ حکم ملتے ہی جلادوں نے تعمیل کی اور آرا چلا دیا جب آرا عابد کے دماغ تک پہنچا تو اس کی آہ نکل گئی۔
1 286
🔷 سرِ امام حسینؑ راہب کے کلیسا میں 🔷
راہب نے سرِ مقدس کو صندوق سے نکالا اور خون آلود خاک آلود سر کو مُشک و عنبر اور عرقِ گلاب سے دھو کر نفیس و ظریف سجادہ زمین پر بچھایا اور اس پر رکھا۔
"کافوری شمعیں اردگرد روشن کیں اور حیرت سے اس نورانی سر کو دیکھا۔ وہ زار و قطار روتا، آنسو بہاتا اور دل جلی آہیں بھرتا تھا"
پھر زانوئے ادب طے کرکے بیٹھ گیا اور رو کر سر کی طرف دیکھا اور کہا:
'اے کائنات کے سرورؑ کے سر! اور اے آدمؑ کی اولاد سے بہتر کے سر! مجھے یقین ہوگیا ہے کہ آپؑ اس جماعت سے ہیں جس کی صفات میں نے تورات و انجیل میں پڑھی ہیں۔ آپؑ کو ہستئ خدا کی حقانیت کی قسم! جس نے آپؑ کو یہ مقام و منزلت عطا فرمائی کہ تمام محترماتِ کائنات، خواتینِ عظام آپؑ کی زیارت کو آئیں اور آپؑ پر گریہ و زاری کرتی رہیں۔ مجھے بتائیے کہ آپؑ کون ہیں؟
فوری طور پر ذوالجلال کے حکم سے وہ سرِ مطہر بولا اور فرمایا:
میںؑ زمانے کا ستم رسیدہ ہوں، کوفیوں کی تلوار کا شہید ہوں اور شامیوں نے مجھے خون میں غلطاں کیا۔ میںؑ اپنے شہر سے اور اپنے خاندان سے دور پیغمبرِؐ اسلام کا فرزند ہوں۔
راہب نے عرض کی اے مظلومؑ! میں آپؑ کے قربان جاؤں ذرا واضح فرمائیں۔
امامؑ نے فرمایا: اے راہب! میرے حسب و نسب کا پوچھتا ہے یا میری پیاس کے متعلق پوچھتا ہے؟
اگر نسب پوچھتا ہے تو میںؑ پیغمبرِ اکرمؐ کا فرزند اور والئؐ مدینہ کی بیٹیؑ کا بیٹاؑ ہوں اور پھر امامؑ نے اپنے اوپر ہونے والے تمام مصائب سنائے۔ وہ راہب صبح تک آہ و نالہ میں مشغول رہا۔ کبھی روتا، کبھی ماتم کرتا اور کبھی نوحہ کرتا اور کبھی افسوس سے ہاتھوں کو رگڑتا تھا۔
صبح کو یہ راہب اپنے کمرے سے نکلا اور وہاں موجود تمام نصرانیوں کو جمع کیا اور اُنکو تمام واقعات سے مطلع کیا خود بھی روتا رہا اور تمام نصرانیوں کو بھی رلاتا رہا۔ وہ اسقدر روئے کہ فرطِ غم میں گریبان چاک کرلئے اور سر میں خاک ملالی نیز نوحہ کرتے ہوئے امام زین العابدینؑ کے پاس آئے۔
جب نصاریٰ کی نظر امام سجادؑ پر پڑی تو دیکھا چند قیدی خواتین و بچے جنہیں زنجیروں اور رسیوں سے باندھا ہوا ہے وہ پریشان حال خاک پر سوئے ہوئے ہیں۔ نصرانیوں نے جب قیدیوں کی یہ حالت دیکھی تو انکی چیخیں نکل گئیں اور زار و قطار رونے لگے گریبان چاک کئے اور امام سجادؑ کے قدموں میں گر پڑے اور کلمہء شہادت پڑھ کے مسلمان ہوگئے۔ پھر راہب نے وہ واقعات بیان کئے جو رات کو اس نے دیکھے تھے اور عرض کی کہ میں قربان جاؤں ہمیں اجازت دیں تاکہ ہم کلیسا سے باہر جاکر لشکر ابنِ زیاد پر شب خون لگائیں، انکے ظلموں کی وجہ سے ہمارے دلوں میں غصوں کو ہم خالی کرسکیں۔ اگر ہم قتل ہوگئے تو آپؑ کا نُدبہ ہونگے۔
امامؑ نے انکے حق میں دعا کی اور فرمایا: تمہارا اسلام لانا قبول ہے اور لشکرِ ابن زیاد کو اپنے حال پر چھوڑ دو۔ بہت جلدی انکو اپنے کیے کی سزا ملے گی۔ ہم تو اللہ کی قضا و قدر پر راضی ہیں۔
📚 (مدینہ سے مدینہ تک، ص 486،487)
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
*میری طرف سے بھی کچھ برتن دھولینا*
ایران اور عراق جنگ کے دوران ایرانی کمانڈر شہید عباس بابائی نے امام خمینی سے ملنے کے بعد کہا:
میری آپ سے ایک گزارش ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں بیان کر دیتا ہوں۔
*امام خمینی نے ان کو اجازت دی تو شہید بابائی نے کہا:*
مجھے کچھ ایسے اوقات کی چھٹی چاہئے جس میں جنگ کے امور کے انجام دہی میں کسی مشکل کا سامنا نہ ہو۔
امام خمینی نے ان سے جنگ کے اس خطرناک صورت حال میں چھٹی لینے کی وجہ پوچھی تو شہید بابائی نے جواب میں کہا :
محرم شروع ہوا ہے میں شہر کے جنوب کے کچھ ایسے امام بارگاہوں میں، جہاں لوگ مجھے نہیں پہچانتے ہیں، جاکے عزاداروں کو چائے، پانی اور برتن دھونا چاہتا ہوں اس لئے چھٹی کی ضرورت ہے۔
*امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:*
*میں ایک شرط پر چھٹی دونگا اور وہ یہ ہے کہ جب بھی عزاداروں کے برتن دھونے لگو تو میری طرف سے بھی کچھ برتن دھولینا۔*
*شھید عباس بابائی*
🏴 *لبیک یا حسین* 🚩
*شکستہ کوزوں کو پھینکو عمل کے جام بھرو*
*امام عصر عج کی خاطر اٹھو قیام کرو*
1 286
مومن اوندھے منہ (الٹا) نہیں سوتا اور اگر تم کسی کو اس طرح سوتے پاؤ تو اسے جگا دو۔ اور اس حالت مین اسے مت چھوڑو۔
1 286
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اس چینل پر صرف دینی پوسٹ اور سوالات و جوابات بھیجے جائیں گے
و علیکم السلام............
https://t.me/durr_ul_najaf
1 286
جس نے بھنگ کا استعمال کیا اس نے گویا کعبہ کو ستر بار گرایا، ستر مقرب ملائکہ کو قتل کیا، 70 انبیائے مرسل کو شہید کر ڈالا، 70 قرینوں کو جلا ڈالا، خدا کی طرف 70 مرتبہ پتھر پھینکے، اور وہ شرابی ، زانی، سودخور اور چغل خور کی نسبت خدا کی رحمت سے زیادہ دور ہے۔
1 286
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اس چینل پر صرف دینی پوسٹ اور سوالات و جوابات بھیجے جائیں گے
و علیکم السلام............
https://t.me/durr_ul_najaf
1 286
سفید کوا ایک حقیقی پرندہ ہے۔
بھلے ہی "سفید کوا" کا لفظ محاوراتی طور پر استعمال کیا جاتا ہے لیکن فی الحقیقت دنیا میں ہزاروں سفید کوے اور سفید زاغ (Ravens) پائے جاتے ہیں۔
مذکورہ کوؤں کے صرف پر ہی نہیں چونچ اور پیر بھی سفید یا سفیدی مائل ہوتے ہیں۔
۔
سفید کوے Albino Crow کا تناسب کیا ہے ؟
سفید کوا ایک نایاب پرندہ ہے ۔ ہر 10 ہزار کوؤں میں سے محض 1 کوا سفید ہوتا ہے۔
۔
کیا سفید کوا ایک الگ نسل ہے ؟
نہیں ۔۔۔ البائنو کوا الگ سپیشیز نہیں ہے ۔ یہ وہ کوے ہیں کہ جو جینیاتی خرابی کے باعث melanin نامی وہ پگمنٹ نہیں پیدا کر پاتے کہ جو ان کو سیاہ رنگت بخشتا ہے۔
نتیجتاً ان کی رنگت سفید ہوتی ہے۔
۔
سفید کوے کہاں ملتے ہیں ؟
یوں تو سفید کوؤں کو دنیا بھر میں مختلف مقامات پر شاذ و نادر دیکھا جاسکتا ہے لیکن سفید کوا دیکھنے کے زیادہ واقعات امریکہ اور بھارت میں ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
1 286
🔷 انسان کی تعمیر 🔷
جب قدیم چینیوں نے محفوظ زندگی گزارنے کی خواہش کی، تو انہوں نے دیوارِ چین بنائی اور یہ سوچا کہ اس کی بلندی کی وجہ سے کوئی اس پر چڑھ نہیں سکے گا۔
لیکن دیوار کی تعمیر کے پہلے سو سال کے دوران، چین تین بار حملوں کا شکار ہوا!! ہر بار دشمن کے جتھے نہ تو دیوار کو توڑنے کی کوشش کرتے اور نہ ہی اس پر چڑھنے کی!!
بلکہ ہر بار وہ دربان کو رشوت دیتے اور دروازے سے داخل ہو جاتے۔ چینی دیوار بنانے میں مصروف تھے اور دربان کی تربیت کو بھول گئے تھے..!
انسان کی تعمیر، ہر چیز کی تعمیر سے پہلے آتی ہے اور یہی چیز آج ہمارے طلبا کو درکار ہے۔
ایک مستشرق کہتا ہے.. اگر تم کسی قوم کی تہذیب کو تباہ کرنا چاہتے ہو تو تین طریقے ہیں:
1/ خاندان کو تباہ کرو۔
2/ تعلیم کو تباہ کرو۔
3/ رہنماؤں اور ماہرین کو گرا دو۔
*خاندان کو تباہ کرنے کے لیے: (ماں) کے کردار کو ختم کرو، اسے یہ محسوس کرواؤ کہ "گھر کی عورت" کہلانے میں شرم ہے۔
*تعلیم کو تباہ کرنے کے لیے: (استاد) کو بے وقعت کرو، اس کی اہمیت کو کم کرو تاکہ اس کے طلبا اس کی بے عزتی کریں۔
*رہنماؤں کو گرانے کے لیے: (علماء، محققین، اور دانشوروں) کو نشانہ بناو، ان کی قدر و قیمت کو کم کرو، ان پر شک کرو تاکہ کوئی ان کی بات نہ سنے اور ان کی پیروی نہ کرے۔
اگر (باشعور ماں) غائب ہو جائے
اور اگر (مخلص استاد) غائب ہو جائے
اور اگر (رہنما اور ماہرین) گر جائیں
تو پھر نوجوانوں کو اقدار کی تعلیم کون دے گا!
📚 کتاب "مستقبل کا مطالعہ" از ڈاکٹر مصطفی محمود رحمہ اللہ سے۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
🔷 نوک نیزہ پر تلاوت قرآن 🔷
نوک نیزہ پر امام حسین کا سر مبارک کس ایت کی تلاوت کر رہا تھا؟
🔷 ارشاد شیخ مفید میں درج ہے کہ زید بن ارقم روایت کرتے ہیں کہ ابن زیاد کے دربار میں مظلوم کربلا کا مقدس سر میرے پاس سے گزرا جو نیزے کی نوک پر سوار تھا جبکہ میں اپنی جگہ بیٹھا ہوا تھا، جب وہ میرے پاس سے گزرا تو وہ کچھ پڑھ رہا تھا، میں نے توجہ کے ساتھ کان لگا کر سنا تو وہ سورہ کہف کی نویں آیت کی تلاوت کر رہا تھا: ام حسبت ان اصحاب الکھف والرقیم کانو من ایا تنا عجبا "کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ اصحاب کہیف ورقیم (غار اور کتے والے) ہماری تعجب کے قابل نشانیوں میں سے تھے۔" خدا کی قسم میں یہ منظر دیکھ کر لرز گیا اور بلند آواز کے ساتھ کہا کہ فرزند رسول آپ کا مقدس سر اصحاب کہف سے زیادہ حیران کن اور تعجب آور ہے۔
🔷 امام حُسین علیہ السلام کے سر مبارک سے تلاوت کا دوسر واقعہ حران میں ہوا۔
کوفہ سے شام جاتے ہوئے کاروان حریت چلتے چلتے حران نامی ایک جگہ کے نزدیک پہنچ گیا، اس شہر کی چوٹی پر یحیٰی خزائی نامی یہودی کا مکان تھا۔ وہ استقبال کے لئے آیا اور قیدیوں کا تماشہ دیکھنے لگا اور اس کی نگاہ حضرت امام حُسین کے سر مبارک پر پڑ گئی، اس نے دیکھا کہ آپ کے مبارک لبوں سے کوئی آواز آرہی ہے، اس نے جب کان لگا کر سنا تو وہ سورہ شعراء کی 227 کی تلاوت رہا تھا: وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون "اور عنقریب ظالموں کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام کو پلٹ جائیں گے۔" یہ مظر دیکھ کر یحیٰی حیران و پریشان ہوگیا، اس نے پوچھا یہ کس کا سر ہے۔؟ حسین بن علی کا، اس نے کہا۔ یہودی نے کہا کہ اگر اس کا دین برحق نہ ہوتا تو یہ کرامت اس سے ہرگز ظاہر نہ ہوتی۔ اس نے یہ کہا اور زبان پر کلمہ جاری کر دیا اور مسلمان ہوگیا
📚 یہ مضمون الکفیل انٹرنیشنل کی ویب سائیٹ سے کاپی کیا گیا۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
🔷 امیر تیمور: شام کے پردرد مصائب 🔷
سوچو ذرا... کیسا وہ لمحہ ہوگا... جب یزید ابنِ معاویہ نے اپنے بھرے دربار میں، ہزاروں تماشائیوں کے سامنے، بغیر کسی احساس کے صدا لگائی:
ذرا ان عورتوں کا تعارف کرواؤ، یہ کون کون بیبیاں ہیں؟
آہ... یا سجادؑ... ہائے وہ بیمار، کمزور، زنجیروں میں جکڑا ہوا قیدی... جس نے اس ایک جملے کو سنا یوگا اور شاید اس کے بعد کچھ سننے کی سکت ہی نہ رہی ہو۔
کربلا کا دشت ایک طرف... مگر واللہ! شام کے یہ لمحے اس سے کہیں زیادہ ستم خیز تھے!
یہی تو وہ وقت تھا جب مجھے تاریخ کا وہ واقعہ جو بزرگوں سے روایت میں سنا تھا یاد آگیا ...
امیر تیمور کا شام میں داخلہ۔
عزادارو… جب تیمور نے شام پر قبضہ کیا تو صرف ایک فاتح کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک محبِ اہلِ بیت کی حیثیت سے اُس کے قدم شام کی خاک پر پڑے۔
اُس کا دل بھرا ہوا تھا۔ دلی کیفیت کچھ ایسی تھی جیسے صدیاں پہلے زینبؑ کی آہیں شام کے آسمان میں گونج رہی ہوں اور تیمور اُن کو سن رہا ہو!
قبضے کے فوراً بعد اُس نے چن چن کر دشمنانِ اہل بیت کا خاتمہ شروع کیا۔مگر اسی دوران شام کے رئیس اُس کے دربار میں آئے۔ بڑی نرمی سے، عاجزی کے ساتھ عرض کی:
حضور، اس شہر کا سب سے بڑا، سب سے باعزت خاندان ہمارا بادشاہی خاندان ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ بادشاہ کی بیٹی سے شادی فرما لیں، وہ نہایت شریف، باحیا اور عفیفہ ہے۔
تیمور خاموش رہا… کچھ لمحے زمین کی طرف دیکھتا رہا… پھر آہستگی سے سر اُٹھایا اور وہ جملہ کہا جو صدیوں بعد بھی بازارِ شام کو تھرا دیتا ہے:
بازاروں کو سجایا جائے… خصوصاً بازارِ شام کو… خوب آراستہ کیا جائے!
سب چونک اٹھے، مگر کچھ نہ کہہ سکے۔ حکم تھا… بجا لایا گیا۔
بازار کی تزئین ہوئی، سجاوٹ ہوئی، پھر تیمور نے حکم دیا کہ اُس لڑکی کو شاہی لباس دیا جائے، زیورات دیے جائیں اور حمام میں بھیجا جائے تاکہ وہ عروسی لباس میں تیار ہو۔
لیکن اس کے بعد اُس نے جو حکم دیا… وہ تاریخ کے رخ پر ایک ایسا طمانچہ تھا جس کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔
تیمور نے اپنے ایک خادم کو بلایا اور کہا:
ایک لاغر، بوسیدہ، تھکا ہوا اونٹ حمام کے دروازے پر لے جاؤ… جب وہ لڑکی حمام سے نکلے، اُسے اس اونٹ پر بٹھاؤ… اور اُسے بازارِ شام سے گزارو…!
جب خادم یہ حکم بجا لانے کے لیے اونٹ لے کر حمام کے دروازے پر پہنچا، تو لوگ حیران ہو کر پوچھنے لگے:
یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ لڑکی بازار سے اس طرح کیوں گزرے گی؟
خادم نے جواب دیا:
بادشاہ کا حکم ہے… خبردار! کوئی اس کے گرد پردہ نہ ڈالے… کسی کو اس کے قریب آنے کی اجازت نہیں۔
یہ سننا تھا کہ پورے شہر میں جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔ لوگ چیخ اُٹھے، فریاد لے کر تیمور کے دربار میں دوڑے۔
کہنے لگے: حضور! یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ یہ تو کبھی جاہلیت کے زمانے میں بھی نہ ہوا تھا!
تیمور نے سکون سے اُن کی بات سنی… اور پھر وہ الفاظ کہے جو تاریخ کی رگوں میں سوز بھر دیتے ہیں:
ہاں… جاہلیت میں ایسا نہیں ہوتا تھا لیکن تمھارے نزدیک تو یہ سب کچھ جائز ہے نا؟ تمھارے بازار میں زینبؑ، کلثومؑ، سکینہؑ و علی کی بیٹیاں ننگے سر، زنجیروں میں جکڑی ہوئی، تماشائیوں کے بیچ سے گزریں… تب تم کہاں تھے؟
ایک شامی بزرگ نے رو کر کہا:
جناب! وہ بادشاہ کی بیٹی ہے… بڑی پاکدامن ہے…!
یہ سننا تھا کہ تیمور کا چہرہ فق ہو گیا، سینے پر ہاتھ مارا… ایک دلدوز چیخ ماری… اور زمین پر گر پڑا!
کچھ لمحے بعد جب ہوش آیا، تو اُس کی زبان سے وہ کلمات نکلے جن سے زمین کانپ گئی:
ارے بے غیرتو! کوئی رسولؐ سے بڑھ کر ہے؟ کوئی رسولؐ کی بیٹیوں سے زیادہ عفیف ہے؟ یہ بازار وہی نہیں جہاں زینبؑ کو تماشائیوں میں بے چادر گزارا گیا؟ آج تم فریاد کرتے ہو؟ اور کل تم ہنستے رہے؟ کل تمہاری زبان بند تھی… آج تمہیں عزت کا خیال آ گیا؟
ہائے سجادؑ… کیسے سہا ہوگا وہ منظر… جب تماشائیوں کے بیچ تم سے پوچھا گیا: یہ عورتیں کون ہیں؟ اور تمہاری زبان سے وہ سچ نکلا جو قیامت تک جلے گا:
"ہم وہ ہیں جن کے ردائیں چھین لیی گئیں… جن کے سروں سے چادریں اتار لی گئیں… جن کے بھائی کربلا میں سو چکے… اور جن کی عزتیں شام کے بازار میں نیلام ہوئیں!"
😢😢😢😢😢
Copy....
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
🔷 خوددار عورت لاوارث میت 🔷
اجنبی مرد کو صرف عورت کا جسم اور محرم مردوں کو عورت کی پاکدامنی، عفت، شرم و حیا اور ناقابل گسستہ رشتے اور ارتباط درکار ہوتا ہے!!
ہر عورت ایک بار ضرور پڑھیں!!
✍ از قلم: لقمان اختر
سناٹے سے گونجتا کمرہ، بند دروازے کے پیچھے مہینوں سے خاموش پڑی لاش، اور آس پاس نہ کوئی آنکھ اشک بار، نہ کوئی ماتم، نہ کوئی دعا۔ بس دیواریں تھیں، جو چیخ چیخ کر اس عورت کی تنہائی کی گواہ تھیں، جو کبھی اپنی خودمختاری پر نازاں تھی، جس نے رشتوں کے ریشمی بندھنوں کو آزادی کی زنجیر سمجھ کر توڑ دیا، جو فیمینزم کے افیون سے مدہوش ہو کر اپنے خاندان، بھائی، باپ، اور سب سے بڑھ کر اپنے رب سے بھی روٹھ گئی تھی۔
"اداکارہ حمیرا اصغر" ایک خوبصورت چہرہ، ایک آزاد "عورت، ایک مشہور نام" لیکن کیا واقعی وہ کامیاب تھی؟
پولیس اہلکار جب اس کے بھائی کو فون کرتا ہے تو جواب ملتا ہے:
"اس کے والد سے بات کریں"
اور جب والد کو فون کیا جاتا ہے تو ایک باپ کی زبان سے نکلتا ہے:
"ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں، ہم بہت پہلے اس سے ناطہ توڑ چکے، لاش ہے تو جیسے چاہو دفناؤ"
فون بند ہو جاتا ہے، مگر سوال کھلا رہ جاتا ہے کہ وہ کون سی زندگی تھی جو باپ کے دل کو اتنا سخت کر گئی؟ وہ کون سا راستہ تھا جو بھائی کی غیرت کو خاموش کرا گیا؟ وہ کون سی سوچ تھی جس نے ایک جیتے جاگتے وجود کو مہینوں لاش بنا کر سڑنے کے لیے چھوڑ دیا؟
یہ محض ایک واقعہ نہیں، یہ فیمینزم کی وہ بھیانک تصویر ہے، جو اشتہارات میں خوشنما، تقاریر میں متاثرکن، اور سوشل میڈیا پر انقلابی لگتی ہے، مگر اندر سے کھوکھلی، تنہا اور اندھیرے سے لبریز ہوتی ہے۔
فیمینزم کا آغاز عورت کے حقوق سے ہوا، مگر انجام اس کی تنہائی پر ہو رہا ہے۔
فیمینزم نے عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے مقدس رشتوں سے نکال کر صرف "خود" بنا دیا اور یہی "خود" آخرکار اُسے اکیلا کر گیا۔
خاندان کا ادارہ، جسے صدیوں کی تہذیب نے پروان چڑھایا، جس میں قربانیاں، محبتیں، ناراضگیاں، مان، اور رشتہ داریوں کی حرارت موجود تھی، اسے آج کی عورت نے "زنجیر" سمجھ کر کاٹ دیا۔ اور جب وقت کی تیز دھوپ نے جلایا، تو کوئی سایہ دار درخت ساتھ نہ تھا۔
فیس بک کی دوستیں، انسٹاگرام کے فالورز، ٹوئٹر کی آزادی کے نعرے, سب خاموش تھے۔
باپ کا دروازہ بند تھا، بھائی کا دل پتھر ہو چکا تھا، اور ماں شاید برسوں پہلے رو رو کر مر چکی تھی۔
عجیب معاشرہ ہے یہ بھی، جہاں اگر بیٹی نافرمان ہو تو باپ ظالم کہلاتا ہے، اور اگر باپ لاتعلق ہو جائے تو بیٹی کی خودمختاری کا جشن منایا جاتا ہے۔
عورت جب گھر سے نکلے، تو "طاقتور" کہلاتی ہے،
جب طلاق لے، تو "باہمت" بن جاتی ہے،
جب رشتے توڑے، تو "بغاوت" نہیں بلکہ "خود شعوری" قرار پاتی ہے۔
اور جب مر جائے، تنہا، بوسیدہ لاش کی صورت،
تو سارا معاشرہ خاموش تماشائی بن جاتا ہے۔
کاش حمیرا اصغر نے جانا ہوتا کہ فیمینزم، ماں کی گود جیسا تحفظ نہیں دے سکتا۔
کاش وہ سمجھ پاتی کہ باپ کی ڈانٹ، محبت کی ایک گونج ہوتی ہے، اور بھائی کی غیرت، عزت کی چادر ہوتی ہے۔
کاش وہ جان پاتی کہ مرد دشمنی کا نام عورت دوستی نہیں، بلکہ یہ فکری گمراہی ہے جو عورت کو اس کے رب، اس کے دین، اور اس کی فطرت سے کاٹ دیتی ہے۔
عورت مضبوط ضرور ہو، خودمختار بھی ہو، لیکن وہ اپنے اصل سے جُڑی رہے,
وہ ماں کا پیار، باپ کی شفقت، بھائی کی غیرت، اور شوہر کی رفاقت کو بوجھ نہ سمجھے۔
ورنہ فیمینزم کی راہ میں جو منزل ہے، وہ تنہائی، بے رُخی، اور بے گور و کفن لاش ہے۔
حمیرا اصغر چلی گئی,
لیکن فیمینزم کی دُھند میں گُم اور کتنی بیٹیاں ایسی ہی گم ہو رہی ہیں,
بس ہمیں تب ہوش آتا ہے،
جب تعفن زدہ لاش دیواروں سے سوال کرنے لگتی ہے۔۔۔
"آزادی چاہیے تھی نا؟ لے لو… مگر اب میرے پاس کوئی نہیں!"💔💔💔
فاعتبروا.........
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
وہ شخص دانش مند نہیں جو ایسے لوگوں سے بنا کر نہ رکھے جن کے ساتھ بنا کر رکھے بغیر چارہ نہ ہو۔
