ISLAM WITH EMAN
前往频道在 Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
显示更多1 285
订阅者
无数据24 小时
-67 天
-730 天
帖子存档
1 285
*مردوں کا کان چھدوانا*
مرد کے لیے کانوں کو چھیدوا کر بالیاں وغیرہ ڈالنا شرعاً کیسا ہے؟
✍️حسن راجپوت
اسلامی شریعت میں مردوں کے لیے کان چھیدوانا اور بالیاں یا دیگر زیورات پہننا جائز نہیں، کیونکہ یہ عورتوں کے ساتھ مشابہت (تشبہ بالنساء) کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ قرآن کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور فرامین اہل بیت علیہم السلام سے منع ہے۔ اس کے علاوہ، یہ عمل اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں تبدیلی اور شیطانی وسوسوں کی پیروی کے مترادف ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کیا ارشاد فرمایا ہے
1.
👈سورۃ النساء (4:119)
وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ ۚ وَمَن يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِّن دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِينًا
ترجمہ: "اور میں انہیں گمراہ کروں گا، اور انہیں (باطل) امیدیں دلاؤں گا، اور انہیں حکم دوں گا کہ وہ جانوروں کے کان کاٹ دیں، اور انہیں حکم دوں گا کہ وہ اللہ کی بنائی ہوئی خلقت کو بگاڑ دیں۔ اور جو شخص اللہ کے بجائے شیطان کو اپنا ولی بنائے، وہ یقیناً کھلا نقصان اٹھائے گا۔"
: اس آیت میں شیطان کی طرف سے خلقتِ الٰہی میں تبدیلی کا ذکر ہے۔ مردوں کا عورتوں کی طرح زیورات پہننا فطرتِ مردانہ سے انحراف ہے، جو کہ شیطان کے کام ہیں۔
👈سورۃ الروم (30:30)
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ
ترجمہ: "پس اپنا رخ خالص دین کی طرف رکھو، اس فطرت کے مطابق جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا۔ اللہ کی بنائی ہوئی خلقت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ یہی دین قیم ہے۔"
یہ آیت فطرتِ الٰہی پر قائم رہنے کی تلقین کرتی ہے۔ مردوں کا عورتوں کی طرح بالیاں پہننا فطرتِ مردانہ سے ہٹ کر ہے اور حرام ہے۔
2. احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
حدیث:
👈عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المتشبهين من الرجال بالنساء والمتشبهات من النساء بالرجال.
ترجمہ: "سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں میں سے ان پر لعنت فرمائی جو عورتوں سے مشابہت اختیار کریں، اور عورتوں میں سے ان پر لعنت فرمائی جو مردوں سے مشابہت اختیار کریں۔"
(صحیح بخاری، کتاب اللباس، حدیث نمبر: 5546؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر: 5887)
: بالیاں پہننا عورتوں کی زینت کا حصہ ہے۔ مرد کا یہ عمل عورتوں کے ساتھ مشابہت کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ حرام ہے۔
حدیث:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "صنفان من أهل النار لم أرهما..."
(صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2128)
: یہ حدیث غیر فطری اور غیر شرعی اعمال کی ممانعت کو واضح کرتی ہے۔
👈3. اہل بیت علیہم السلام کے فرامین
اہل بیت علیہم السلام نے خلقتِ الٰہی میں تبدیلی کو شیطانی عمل قرار دیا ہے۔
👈امام محمد باقر علیہ السلام:
قال الإمام الباقر عليه السلام: "إنّ تغيير خلق الله هو الخروج عن فطرة التوحيد والطاعة لله، وهو من وسوسة الشيطان."
ترجمہ: "خلقتِ الٰہی میں تبدیلی فطرتِ توحید اور اللہ کی اطاعت سے نکلنا ہے، اور یہ شیطان کے وسوسوں سے ہے۔"
(ماخوذ از: تفسیر القمی، ج1، ص143، سورۃ النساء کی تفسیر)
👈امام جعفر صادق علیہ السلام:
قال الإمام الصادق عليه السلام: "من اتبع الشيطان في تغيير خلق الله فقد خسر خسرانًا مبينًا."
ترجمہ: "جو شخص شیطان کی پیروی کرتے ہوئے اللہ کی خلقت کو تبدیل کرتا ہے، وہ کھلا نقصان اٹھاتا ہے۔"
(ماخوذ از: وسائل الشیعہ، ج12، ص223)
👈امام علی رضا علیہ السلام:
قال الإمام الرضا عليه السلام: "إنّ الله خلق الرجل على فطرة الرجولة والمرأة على فطرة الأنوثة، فمن تشبّه بغير فطرته فقد عصى الله."
ترجمہ: "اللہ نے مرد کو مردانگی کی فطرت پر اور عورت کو نسوانیت کی فطرت پر پیدا کیا۔ جو شخص اپنی فطرت کے خلاف مشابہت اختیار کرے، اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔"
(ماخوذ از: عیون اخبار الرضا، ج2، ص45)
👈امام حسن عسکری علیہ السلام:
قال الإمام العسكري عليه السلام: "التشبّه بالنساء من الرجال والتشبّه بالرجال من النساء من الكبائر التي نهى الله عنها."
ترجمہ: "مردوں کا عورتوں سے مشابہت اور عورتوں کا مردوں سے مشابہت اختیار کرنا ان بڑے گناہوں میں سے ہے جن سے اللہ نے منع کیا۔"
(ماخوذ از: بحار الانوار، ج74، ص312)
: اہل بیت علیہم السلام کے یہ اقوال واضح کرتے ہیں کہ مردوں کا عورتوں کی طرح زیورات پہننا فطرتِ الٰہی سے انحراف اور شیطان کی پیروی ہے، جو کہ حرام ہے۔اہل سنت
1 285
*💥ستلج، راوی اور چناب میں 3 ستمبر تک انتہائی اونچے درجے کا سیلاب جاری رہنے کا خدشہ*
*🌼پنجاب میں سیلاب سے 30 اموات، ہزاروں دیہات زیر آب، 15 لاکھ سے زائد شہری متاثر ، 4 لاکھ 81 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل، ملتان سے 3 لاکھ افراد کی نقل مکانی، بلوچستان میں 2 ستمبر کو سیلاب داخل ہونے کا خدشہ*
1 285
یہ "Flood Routing Map" پاکستان کے پانچ بڑے دریاؤں (سندھ، جہلم، چناب، راوی، ستلج) میں سیلابی پانی کے بہاؤ کا وقت (Lag Time) ظاہر کرتا ہے، جو مختلف مقامات سے گزرتے ہوئے بحرِ عرب تک پہنچتا ہے۔
اس نقشے میں 1990–2020 کے درمیان نظرِ ثانی شدہ وقت (سبز رنگ) اور
1960–1990 کے پرانے وقت (سرخ رنگ) کا تقابلی جائزہ دیا گیا ہے۔
1. دریائے سندھ (Indus River)
دریائے سندھ، پاکستان کا سب سے بڑا دریا ہے، جو اس نقشے میں گلگت بلتستان کے اسکردو سے شروع ہو کر بحرِ عرب میں جا گرتا ہے۔ اس کے مختلف اسٹیشنز اور Lag Times درج ذیل ہیں:
اسکردو سے پرتاب برج: 12 گھنٹے
پرتاب برج سے بشام: 19 (پرانا) / 18 (نیا)
بشام سے تربیلا ڈیم: 6 گھنٹے
تربیلا سے کالا باغ (کابل دریا کے ملاپ کے بعد): 26 گھنٹے
کالا باغ سے چشمہ: 12 گھنٹے
چشمہ سے تونسہ: 58 (نیا) / 61 (پرانا)
تونسہ سے گڈو: 84 (نیا) / 72 (پرانا)
گڈو سے سکھر: 32 (نیا) / 24 (پرانا)
سکھر سے کوٹری: 173 (نیا) / 178 (پرانا)
2. دریائے جہلم (Jhelum River)
دریائے جہلم کشمیر کے علاقے کوہالہ سے شروع ہو کر منگلا ڈیم سے گزرتا ہے:
کوہالہ سے منگلا ڈیم: 5 گھنٹے
منگلا سے رسول: 18 (نیا) / 17 (پرانا)
رسول سے چناب کے ساتھ ملحقہ: 64 گھنٹے
3. دریائے چناب (Chenab River)
یہ دریا بھارت کے زیرِ انتظام جموں سے آکر پاکستان کے مختلف مقامات سے گزرتا ہے:
اکھنور سے مارالہ: 5 (نیا) / 6 (پرانا)
مارالہ سے کھنکی: 9 (نیا) / 9 (پرانا)
کھنکی سے قادرآباد: 6 گھنٹے
قادرآباد سے تریمو: 64 (نیا) / 48 (پرانا)
تریمو سے پنجند: 81 (نیا) / 84 (پرانا)
4. دریائے راوی (Ravi River)
یہ دریا نسبتاً چھوٹا مگر اچانک سیلابی ریلوں کے لیے مشہور ہے:
مادھوپور سے جسار: 12 گھنٹے
جسار سے شاہدرہ: 22 (نیا) / 24 (پرانا)
شاہدرہ سے بلوکی: 19 (نیا) / 18 (پرانا)
بلوکی سے سدھنائی: 48 (نیا) / 56 (پرانا)
سدھنائی سے پنجند: 63 (نیا) / 60 (پرانا)
5. دریائے ستلج (Sutlej River)
ستلج بھارت سے آ کر پاکستان میں داخل ہوتا ہے:
ہریکے سے گنڈا سنگھ والا: 19 (نیا) / 24 (پرانا)
گنڈا سنگھ والا سے سلیمانکی: 53 (نیا) / 48 (پرانا)
سلیمانکی سے اسلام: 60 (نیا) / 42 (پرانا)
اسلام سے پنجند: 74 (نیا) / 72 (پرانا)
نوٹ : 2023 کے فلڈ میں جب تک اسلام سے سیلاب چل رہا تھا بہاولپور کی انتظامیہ غفلت میں ڈوبی رہی اور بہاول پور برج کے نیچے مٹی کو صاف نہ کر سکی جس کی وجہ سے آدم واہن سے پیچھے لال سہنارا تک بڑی آبادی نے نقصان جھیلا ۔مطلب کوئی بھی دریا کہیں بھی انتظامی غلفت کی وجہ سے نقصان کرتا ہے تو اس کو جان بوجھ کر سمجھا جائے وجہ وقت کی قلت نہیں ہوتی بلکہ انتظامیہ کی غلفت ہوتی ہے۔
ہمیں فالو کر لیں شکریہ
#pakistan_river_updates
1 285
*💥ستلج، راوی اور چناب میں 3 ستمبر تک انتہائی اونچے درجے کا سیلاب جاری رہنے کا خدشہ*
*🌼پنجاب میں سیلاب سے 30 اموات، ہزاروں دیہات زیر آب، 15 لاکھ سے زائد شہری متاثر ، 4 لاکھ 81 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل، ملتان سے 3 لاکھ افراد کی نقل مکانی، بلوچستان میں 2 ستمبر کو سیلاب داخل ہونے کا خدشہ*
1 285
🛑 اگلے 12 سے 18 گھنٹوں کے درمیان سیلاب کے خدشات، گوجرانوالہ، گجرات اور لاہور ڈویژن میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، محکمہ موسمیات
1 285
🛑:Emergency Alert:
دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر بہاو میں اضافہ (180410 کیوسک) اور انتہائی اونچے درجے کا سیلاب
1 285
🛑دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر خطرناک حالت میں تبدیل ہوگیا ہے شہری ہوشیار رہیں
🛑Emergency Alert ⚠️
1 285
🛑⚠️ ناروال کے عوام الرٹ رہیں :
نارروال میں نالہ ڈیک میں بڑا پانی کا ریلہ آنے والا ہے، محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں، الرٹ جاری
1 285
*الرٹ 🛑 پنجاب: چناب، راوی اور ستلج میں سیلاب سے ہر طرف تباہی، 1470 گاؤں زیر آب، 14 لاکھ افراد متاثر، 28 اموات*
*🌼کھڑی فصلیں تباہ، مال مویشی بارش کی نذر، جھنگ کو بچانے کیلئے ریواز بند توڑ دیا گیا، سیالکوٹ میں دوبارہ سیلاب کا خدشہ*
1 285
*💥بھارت کی آبی جارحیت جاری، مقبوضہ کشمیر سے دریائے جہلم میں بھی پانی چھوڑ دیا*
مظفر آباد: بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے اور اب مقبوضہ کشمیر سے دریائے جہلم میں بھی پانی چھوڑدیا گیا۔
آزاد کشمیر کے سٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) کے مطابق بھارتی مقبوضہ علاقے سے آزاد کشمیر میں دریائے جہلم میں پانی چھوڑا گیا ہے، بھارت کی طرف سے چھوڑا گیا پانی کا ریلا کنٹرول لائن چکوٹھی کے مقام سے آزاد کشمیر میں داخل ہوگیا۔
ایس ڈی ایم اے کے مطابق دریائے جہلم میں چکوٹھی کے مقام سے پانی کی مقدار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث مظفر آباد، ہٹیاں بالا اور نیچے کی طرف منگلا تک کے علاقوں میں پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے لہٰذا احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
ایس ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ دریا اور ندی نالوں کے کنارے غیر ضروری آمد و رفت سے گریز کریں، مویشیوں اور قیمتی سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں اور بچوں کو دریاؤں اور برساتی نالوں کے قریب نہ جانے دیں۔
خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے پنجاب کے دریاؤں میں پانی چھوڑے جانے کے بعد تین بپھرے دریاؤں راوی، چناب اور ستلج نے تباہی مچا دی، دریاؤں کے کنارے آباد بستیاں اور فصلیں زیر آب آ گئیں جبکہ ہزاروں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے۔
1 285
*🛑💥پنجاب میں سیلاب سے 20 اموات، چنیوٹ اور جھنگ کو بچانے کیلئے بند میں دھماکے سے شگاف ڈال دیا گیا*
*🌼چیف سیکریٹری پنجاب کی زیرصدارت اجلاس میں جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کیلئے بند میں شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا گیاتھا، ننکانہ، شیخوپورہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں دریا کے اطراف فوری انخلا کا حکم، سیالکوٹ میں 16 لاشیں برآمد*
پنجاب کے تینوں دریاؤں میں سیلابی صورتحال برقرار ہے، دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے پیش نظر جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کے لیے رواز پل کے قریب بند میں دھماکے سے شگاف ڈال دیا گیا ہے، چیئرمین پی ڈی ایم اے پنجاب کا کہنا ہے کہ صوبے میں سیلاب کے باعث کم ازکم 20 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، بیشتر اموات ڈوبنے سے ہوئیں، سیالکوٹ میں ڈوبنے والے 16 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے چناب میں سیلاب کے پیش نظر رواز برِج کے قریب بند میں دھماکے سے شگاف ڈال دیا گیا ہے۔
ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق رواز جھنگ شہر کو سیلاب سے محفوظ رکھنے کے لیے شگاف ڈالا گیا ہے، دریائے چناب کے پاٹ سے شہریوں کے انخلا کو یقینی بنا لیا گیا ہے، انہوں نے ہدایت کی کہ فیصل آباد اور جھنگ انتظامیہ الرٹ رہے اور تمام افسران فیلڈ میں موجود رہیں۔
قبل ازیں ، لاہور میں چیف سیکریٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی زیر صدارت سیلاب کی صورتحال سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے پیش نظر جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کے لیے رواز پل کے قریب بند میں شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
شاہدرہ کے مقام پر انتہائی خطر ناک اونچے درجے کا سیلاب
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر انتہائی خطر ناک اونچے درجے کا سیلاب ہے، بلوکی ہیڈورکس کے مقام پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے، جسڑ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب جبکہ سدھنائی ہیڈورکس پر پانی کا بہاؤ معمول پر ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے چناب پر مرالہ کے مقام پر نچلے، خانکی کے مقام پر درمیانے اور قادرآباد کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ ہیڈ تریمو کے مقام پر پانی کا بہاؤ معمول کی سطح پر ہے اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی خطر ناک اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر درمیانےاور اسلام ہیڈورکس پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبے بھر کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ریلیف سرگرمیاں جاری ہے، دریائے راوی میں سیلاب کے پیش نظر تھیم پارک، موہلنوال، مرید وال، فرخ آباد، شفیق آباد، افغان کالونی، نیو میٹر سٹی اور چوہنگ ایریا سے محفوظ انخلا مکمل کرلیا گیا جبکہ طلعت پارک بابوصابو میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن تیزی سے جاری ہے۔
علاوہ ازیں، لاہور میں پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے 4 بلاکس میں پانی داخل ہوگیا تاہم رہائشیوں کو بروقت نکال لیا گیا، لاچیوالی اسکول کے ریلیف کیمپ میں 70 سے زائد افراد مقیم ہیں۔
لاہور میں 1988 میں اتنا پانی آیا تھا، ڈی جی پی ڈی ایم اے
پنجاب پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) عرفان علی کاٹھیا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں سیلاب کے باعث کم از کم 20 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں زیادہ تر اموات ڈوبنے کے واقعات میں ہوئیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر ہلاکتیں گوجرانوالہ ڈویژن میں ڈوبنے کے واقعات کے نتیجے میں ہوئیں جبکہ ریسکیو سروسز کی کسی غفلت کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب حکومت ہر متاثرہ خاندان کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دے گی۔
1 285
💞 شوہر اور بیوی لباس کی مانند 💞
*هُنَّ لِباسٌ لَكُم وأنتُم لِباسٌ لَهُنّ¤*
قرآن میں یہ لطیف تشبیہ (بیوی کو شوہر کے لیے اور شوہر کو بیوی کے لیے لباس قرار دینا) نہایت دقیق اور تربیتی نکات پر مشتمل ہے۔ ان میں سے چند یہ ہیں:
🔹 *عیوب چھپانا اور آبرو بچانا*
لباس انسان کے عیوب کو ڈھانپتا اور اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کرتا ہے۔ اسی طرح میاں بیوی کو چاہیے کہ ایک دوسرے کی کمزوریوں کو چھپائیں اور ایک دوسرے کی عزت کو محفوظ رکھیں۔
🔹 *سختیوں سے حفاظت*
لباس انسان کو گرمی، سردی اور دوسری آفات سے بچاتا ہے۔ اسی طرح میاں بیوی کو چاہیے کہ زندگی کی سختیوں اور خوشیوں، سرد و گرم حالات میں ایک دوسرے کا سہارا اور ڈھارس بنیں۔
🔹 *گہرا تعلق اور بیگانگی سے دوری*
لباس اور پہننے والے کے درمیان بہت قریبی اور صمیمی تعلق ہوتا ہے، جس میں کوئی اجنبی داخل نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح میاں بیوی کا رشتہ ایسا ہونا چاہیے کہ کوئی بیگانہ شخص ان کی زندگی میں مداخلت نہ کرے اور نہ ہی ان کے رازوں سے آگاہ ہو، تاکہ فتنے کا دروازہ بند رہے۔
🔹 *آرام اور سکون کا ذریعہ*
لباس انسان کے لیے سکون کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے لیے سکون و آرام کا ذریعہ ہیں۔ قرآن نے رات کو بھی "لباس" کہا ہے: «وجَعَلنَا اللَّيلَ لِباسا»، اور اسی رات کو سکون کا وقت بھی فرمایا: «هُوَ الَّذي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيلَ لِتَسكُنوا فيه»۔ یہی تعبیر میاں بیوی کے رشتے کے بارے میں بھی آئی ہے: «هُنَّ لِباسٌ لَكُم وأنتُم لِباسٌ لَهُنّ» اور «و مِن آياتِهِ أن خَلَقَ لَكُم مِن أنفسِكُم أزوجاً لِتَسكُنوا إلَيها وجَعَلَ بَينَكُم مَوَدَّةً ورَحمَة»۔
🔹 *زینت اور عزت کا باعث*
لباس انسان کی زینت ہے اور اس کے وقار کو بڑھاتا ہے۔ اسی طرح شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے لیے زینت ہیں۔ دونوں کے ساتھ ہونے سے انہیں خاندان اور سماج میں ایک نیا مقام اور عزت حاصل ہوتی ہے جو پہلے نہیں تھی، اسی لیے لوگ بھی ان سے زیادہ احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں۔
📚 تفسیر تسنیم، جلد۹، ص460-461۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
*پاسورڈ*
تقریباً چھ مہینے پہلے، میرے پڑوسی نے مجھ سے وائی فائی کا پاسورڈ مانگا، میں نے دے دیا کیوں کہ اس میں میرا کچھ نہیں جاتا تھا۔ میرے ان کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔
کل جب میں گھر آ رہا تھا تو وہ دروازے پر کھڑے تھے۔ میں حسبِ معمول ان سے سلام دعا کرنے رک گیا۔ وہ خوشی خوشی بتانے لگے کہ انہوں نے نیٹ فلکس لے لیا ہے۔ اس پر میں نے مذاق میں کہا، مجھے ٹی وی دیکھنے کا وقت نہیں ملتا لیکن آپ مجھے اپنا پاسورڈ دے دیں تاکہ میں بھی کچھ شوز دیکھ سکوں تو بہت مہربانی ہو گی۔
قریب سے ان کی بیوی کی آواز آئی جو گاڑی میں بیٹھی تھی، ہم پاسورڈ نہیں دے سکتے، کیوں کہ میں اس کی ادائیگی کرتی ہوں اور شیئر نہیں کر سکتی۔
یک دم گہری خاموشی چھا گئی۔
اس شخص نے معذرت کی۔
میں نے کہا کوئی بات نہیں اور ہم دوسرے موضوعات پر بات کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد ان کی بیوی گھبرائی ہوئی باہر آئی اور انہیں بلانے لگی۔ میرا پڑوسی گھر کے اندر چلا گیا۔
چند منٹ بعد پڑوسی اور اس کی بیوی مجھے بلانے آئے اور بتایا کہ وائی فائی پاسورڈ قبول نہیں کر رہا۔ میں نے ان کی طرف دیکھا، اور جواب دیا کہ میں نے پاسورڈ بدل دیا ہے، کیوں کہ یہ میری محنت کی کمائی سے لیا گیا ہے اور میں اسے شیئر نہیں کر سکتا۔
اس کی بیوی کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی، لیکن میں نے کہا، بی بی، نیٹ فلکس بھلے آپ کا ہے، لیکن نیٹ ورک میرا تھا۔ جیسے آپ شیئر نہیں کر سکتیں، ویسے ہی میں بھی شیئر نہیں کروں گا۔
وہ خاموشی سے مڑے اور دروازہ بند کر کے چلے گئے۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے کبھی بات نہیں کی۔
یہ کہانی میری نہیں ہے، لیکن اس سے میں نے سبق سیکھا ہے۔
دوستی دو طرفہ ہونی چاہیئے۔
محبت دو طرفہ ہونی چاہیئے۔
ہر تعلق دو طرفہ ہونا چاہیئے۔
اب میرا ارادہ ہے کہ خاموشی کا جواب خاموشی سے، غیر حاضری کا جواب غیر حاضری سے، پیار کا جواب پیار سے، دوستی کا جواب دوستی سے اور وفاداری کا جواب وفاداری سے دوں۔ جذبات یک طرفہ نہیں، دو طرفہ ہونے چاہئیں۔
اگر آپ صرف لینے میں اچھے ہیں، تو کچھ دینا بھی سیکھ لیں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
قانُونِ فطرت تو یہی ہے کہ
گدھی
گدھے کو ہی جنم دیتی ہے
ہمارے ہی اجداد،
جو انگریز کا ایک من وزن صرف ایک روپے میں راولپنڈی سے مری تک لے کر جاتے،
ان کے پاؤں میں جوتی تک نہیں ہوتی،
پنڈی سے مری ستر کلومیٹر کا سفر ایک من وزن اٹھا کر دو دن میں مکمل ہوتا.
یہ لوگ انگریز کی خدمت کرتے،
اپنی پیٹھ پر سوار کر کے سیر کراتے اور
انگریز خوش ہو کر اپنا بچا ہوا کھانا انہیں دے دیتا..
ہمارے اجداد نے ہی انگریزوں کی نوکریاں کیں.
تنخواہ لے کر اپنے ہی لوگوں سے لڑتے رہے.
انگریز نے ہندوستان پر سو سال حکومت کی،
اس دوران کبھی بھی انگریزوں کی مجموعی تعداد پچیس ہزار سے زیادہ نہیں رہی.
انگلینڈ میں ایک مائیگریشن رجسٹر ہے۔
جس میں برطانیہ سے ہندوستان جانے والے 15،447 فوجیوں کے نام لکھے ہوئے ہیں.
تین لاکھ ہندوستانی تھے جو انگریزی فوج میں بھرتی ہوئے.
بنگال رجمنٹ،
پنجاب رجمنٹ،
بلوچ رجمنٹ انگریزوں نے بنائی۔
برصغیر کے بُھوکے ننگے،
دو چار روپے ماہانہ وظیفے پر لڑنے مرنے کو تیار تھے.
پلاسی کی جنگ میں سراج الدولہ کے خلاف انگریزی فوج میں نوے فیصد ہندوستانی ہی تھے،
غداری کرنے والا بھی میر جعفر ہی تھا.
سلطان حیدر علی اور اس کے بیٹے ٹیپو سلطان کے خلاف چار جنگیں لڑنے والے کون تھے؟
کوئی اور نہیں۔
میرے اور آپ کے اجداد تھے۔۔۔
انگریزوں کے خلاف سندھ حر پگاڑو کے لڑے اور
انگریزوں کا ساتھ مری بلوچ، بگٹی بلوچ نے دیا
بدلے میں سانگھڑ میں ان کو جاگیریں ملیں
سرنگاپٹم سے میسور تک میر جعفر نے کس طرح سلطان سے غداری کی،
انگریز کو کس طرح وفاداری بیچی..
سب کچھ لکھا ہؤا ہے۔
بس آنکھیں کھول کر پڑھنے والا چاہیے ۔
علامہ اقبال نے کہا تھا:-
*جعفر از بنگال و صادق از دکن*
*ننگِ دیں، ننگِ قوم، ننگِ وطن*
پنجاب میں رنجیت سنگھ جو انگریزوں کو مشکل وقت دکھا رہا تھا،
مُسلمانوں کو اس کے خلاف جہاد پر لگا دیا. ا.
انگریز دار العلوم دیوبند کے سالانہ دورے کرتا تھا،
اکابرین دیوبند کو وظائف دیتا تھا.
اکابرین بریلوی اور اہلِ حدیث بھی حکومتی وظیفے لیتے رہے ہیں۔۔۔۔
اسلام کی آمد سے اب تک 1500 سالوں میں پوری دنیا میں اتنے
پِیر ، دَستگیر ،
وَلی ،
محدث ، مجدد ،
قطب ،
مُفسر ، مناظر ،
مقرر پیدا نہیں ہوۓ،
جتنے انگریز کے 100 سالہ دور میں برصغیر میں پیدا ہوئے تھے۔۔۔
کوئی لمحےکرواتا رہا،
کسی نے نبیﷺ کے نور یا بشر پر مسلمانوں میں پھوٹ ڈالی ،
کسی نے حیات و ممات پر مسلمانوں کو دست و گریباں کروایا
یہ سب انگریز وظائف دے کر اپنی سلطنت کو دوام بخشنے اور مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے کرواتے رہے ہیں۔۔۔۔
آپ کا کیا خیال ہے، پاکستان آزاد ہو گیا ہے؟
انگریز کی بنائی رجمنٹ آج بھی حکمران ہے. عوام آج بھی محکوم ہے۔
آج بھی راشن کی قطاروں میں مر رہے ہیں۔
اور اشرافیہ آج بھی انگریزی وفاداری نبھا رہی ہے.
جب کئی سال بعد دنیا کی تاریخ لکھی جائے گی تو ایک قوم
"*المجرمین پاکستان*"
کے بارے میں بھی تاریخ لکھی جائے گی ۔۔۔
مؤرخ لکھے گا۔۔۔
قومِ عاد۔۔۔
قوم ثمود۔۔۔
اور قومِ لُوط کے سارے مجموعی گناہ اس قوم میں پائے جاتے تھے۔۔۔
یہ ایک ایسی قوم تھی جو نام تو اللہ کا لیتی تھی،
مگر مانتی اپنے اپنے اپنے آلہ کاروں کو تھی۔۔۔
ایک ایسی قوم تھی جس کو تعلیم صرف جاہل بنانے کے لئے دی جاتی تھی۔۔
ایک ایسی قوم تھی جس کے مذہبی پیشوأ،
خود تو دنیا کی ہر آسائش سے لطف اندوز ہوتے تھے،
مگر ان کو غربت افلاس کے فائدے بتا کر جنت کے ٹکٹ دیتے تھے۔
ان کے حکمران بادشاہوں کی طرح زندگی گزارتے تھے۔
مگر اس قوم کے نچلے طبقے کے پاس کھانے کو روٹی نہیں تھی۔۔۔
مؤرخ لکھے گا:-
اس قوم کا انصاف بکتا تھا۔
طاقتور کے لئے علیحدہ قانون،
اور غربأ کے لئے الگ قانون تھا۔
اس قوم کے قاضی اُنہی کی طرح کرپٹ اور انصاف سے عاری تھے۔۔۔
لکھا جائے گا:-
اس قوم کے سیاستدان خود غرض،
نا اہل اور بےحس تھے۔
مگر یہ قوم ایسے سیاستدانوں کو اپنا مسیحا سمجھتی تھی اور
اُن کے لئے ایک دوسرے کی گردن کاٹنے کو بھی تیار رہتی تھی۔
ایک ایسی قوم تھی جو لمبی لمبی دعائیں اور بددعائیں کرتی تھی۔
مگر اس کا عملی کردار انتہائی ناگفتہ بہہ اور بیہودہ تھا۔۔۔
ایک ایسی قوم تھی جس میں حرام خور عزت دار کہلاتے تھے
اور
محنت کر کے کھانے والے کمی کمین۔۔۔
منقول۔۔۔
🔷🔷🔷🔷🔷
