ch
Feedback

不要被骗子欺骗!Telemetrio 会找到并标记这些频道 👉 如果想查看标记,请订阅

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

前往频道在 Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

显示更多
1 284
订阅者
-124 小时
-17 天
-830 天
帖子存档
🔷 جانور اپنا علاج کیسے کرتے ہیں؟ 🔷 وہ ایک چڑیا تھی جو کانٹے دار تاروں کے جنگلے میں پھنس گئی تھی۔ اس نے آزاد ہونے کے لیے پَر پھڑپھڑائے۔ اس کوشش میں اس کی ایک طرف کی پسلی زخمی ہوگئی اور وہ جنگلے میں جھولنے لگی۔ ایک رحم دل لڑکے نے اسے مصیبت میں دیکھا تو نہایت احتیاط سے جنگلے سے باہر نکال کر گھر لے آیا اور اس کی مرہم پٹی کرکے چھوڑ دیا۔ چڑیا نچلی پرواز کرتی ہوئی ایک درخت پر جا بیٹھی۔ سب سے پہلے اس نے چونچ کی مدد سے پٹی کھولی اور پھر زخم کے اردگرد کے بال نوچ ڈالے۔ تین دن بعد چڑیا کا زخم بالکل ٹھیک ہوگیا۔ اس نے اپنا علاج سورج کی کرنوں سے کیا تھا۔ایک چڑیا ہی کیا ہر پرندہ اور چوپایہ زخمی یا بیمار ہونے کی صورت میں اپنا علاج خود کرتا ہے۔ وہ انسانوں کی طرح ڈاکٹروں اور طبیبوں کے پاس نہیں جاتا۔ آئیے دیکھتے ہیں حیوانی دنیا کے باسی اپنا علاج خود کس طرح کرتے ہیں؟ پہاڑی چوہے زخمی ہوجائیں تو اپنے زخموں کو جراثیم اور دھول سے بچانے کے لیے ان پر درخت کا گوندھ لگا لیتے ہیں۔ اسی طرح ریچھ بھی اپنے زخموں کو صاف کرنے کے بعد انہیں گوند یا صاف مٹی سے چھپالیتا ہے اور پانی سے بھی بچائے رکھتا ہے۔ماہرین کے مشاہدے کے مطابق ہُدہُد اپنی ٹوٹی ہوئی ہڈی پر گیلی مٹی یا درختوں کی باریک جڑوں کا پلستر سا باندھ لیتا ہے اور چند دن بعد بالکل ٹھیک ہوجاتا ہے۔ جب کوئی جنگلی جانور زخمی ہوجاتا ہے تو وہ وہ اپنا ٹھکانہ تبدیل کرکے کسی پرسکون جگہ پر چلا جاتا ہے اور دوا کے طور پر مختلف اقسام کی جڑی بوٹیاں کھاتا ہے۔ شیر اور بھیڑیئے جیسے گوشت خور جانور بیمار ہونے کی صورت میں گوشت کھانا چھوڑ دیتے ہیں اور سبزیوں پر گزارہ کرتے ہیں، ریچھ کی پرہیزی غذا ان دنوں میں بیر اور جڑیں ہوتی ہے اور ہرن درختوں کی چھال کھاتا ہے۔حیوانوں کی ان حفاظتی تدابیر کا مشاہدہ کرتے ہوئے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ وہ ان پودوں اور جڑی بوٹیوں کا علم رکھتے ہیں جو مختلف بیماریوں میں فائدہ دیتی ہیں۔ یہ نکتہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پرانے زمانے میں انسان نے علم طب کی ابتدائی باتیں جانوروں ہی سے سیکھی تھیں۔ مثلاً نیولا سانپ کومارنے کے بعدایک خاص پودے کی پتیاں کھالیتا ہے جو سانپ کے زہر کو زائل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مرغی برسات کے دنوں میں اپنے بچوں کو (اس موسم کی بیماریوں سے بچانے کی خاطر) نرم نرم گھاس تلاش کرکے کھلاتی ہے۔ بندر کو ’’جلدی‘‘ بیماریوں میں نیم کی کونپلیں توڑ توڑ کر کھاتے دیکھا گیا ہے۔ جب جنگلی جانور بخار میں مبتلا ہوتے ہیں تو ایسی جگہ ڈیرہ ڈالتے ہیں جو نہ صرف سایہ دار ہوتی ہے بلکہ وہاں کی ہوا صاف اور پانی بھی قریب ہوتا ہے۔ بخار کی شدت کم ہونے یا بخار ٹوٹنے تک وہ صرف پانی پیتے ہیں اورکچھ کھاتے نہیں۔ اسی طرح جس جانور کو جوڑوں یا عضلات کی تکلیف ہوتی ہے وہ ایسی جگہ رہائش اختیار کرتے ہیں جہاں سورج کی روشنی براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ آخری عمر میں یعنی بڑھاپے میں ریچھ اور دوسرے کئی جانور گرم چشمے تلاش کرتے ہیں اور روز باقاعدگی سے وہاں جاکر غسل کرتے ہیں۔ جن جانوروں کو جوئیں یا پسو پڑجاتے ہیں وہ مٹی میں لوٹنیاں لگاتے دیکھے گئے ہیں۔ آپ اس عمل کو ’’غسل خاکی‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔ماہرین کے مشاہدے کے مطابق جانور موسمی تبدیلیوں کے ساتھ اپنی غذائیں بھی تبدیل کرتے ہیں۔ انڈے دینے والی چڑیاں کیلشیم کی کمی پوری کرنے کی غرض سے ساحل سمندر پر جاکر گھونگھے چن چن کر کھاتی ہیں اور ہرنیاں میلوں دور تک ایسے پانی کی تلاش میں جاتی ہیں جس میں کیلشیم کی مقدار زیادہ ہو۔ جب کسی زخمی عضو کے ٹھیک ہونے کا امکان صفر ہوجائے تو ڈاکٹر مجبوراً اسے کاٹ دیتے ہیں تاکہ دوسرے جسمانی حصے خطرے سے محفوظ رہیں۔ آپ کو یہ جان کر یقیناً حیرت ہوگی کہ جانور بھی اس آخری طریقہ علاج کی شُدبُد رکھتے ہیں۔ جب وہ ایسی صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں تو اپنے ناقابل علاج عضو کو مختلف طریقوں سے جسم سے علیحدہ کردیتے ہیں۔ جب کسی جانور یا پرندے کا کوئی عضو جال میں پھنس جاتا ہے تو وہ اسے دانتوں یا چونچ کی مدد سے کاٹ کر آزاد ہوجاتا ہے کیونکہ یہ بے زبان بھی جانتے ہیں کہ زندگی ایک عضو سے زیادہ قیمتی ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 دو مرتبہ دفن ہونے والی خاتون 🔷 1705ء: دو مرتبہ دفن ہونے والی آئرش خاتون مارگوری میکال کی عجیب و غریب کہانی ملیریا کے باعث مارگوری کی اچانک موت ہو گئی، اور وبا کے ڈر سے اسے جلدی دفنا دیا گیا۔ اس کے شوہر نے شادی پر اسے ایک قیمتی انگوٹھی تحفے میں دی تھی، جو اس کی موت کے بعد بھی اس کی انگلی میں موجود تھی۔ سوجن کے باعث اس کے شوہر سے انگوٹھی نہ اتاری جا سکی۔ یہی انگوٹھی قبر چوروں کی نظر میں آ گئی رات کے اندھیرے میں، چور اس کی قبر کھودنے لگے اور لاش تک پہنچ گئے۔ لیکن لاکھ کوشش کے باوجود انگوٹھی نہ نکل سکی، تو انہوں نے انگلی کاٹنے کا فیصلہ کیا۔ جیسے ہی چھری چلی، انگلی سے خون کی ایک دھار نکلی اور پھر… اچانک لاش ہلی اور چیخنے لگی!! چور خوف سے چیختے ہوئے بھاگ نکلے! مارگوری زندہ ہو چکی تھی! وہ کپکپاتے قدموں سے گھر پہنچی، جہاں اس کا شوہر، ڈاکٹر، اور بچے اس کی موت پر سوگ منا رہے تھے۔ دروازے پر دستک ہوئی… اس کے شوہر نے افسردگی سے کہا: "اگر تمہاری ماں زندہ ہوتی، تو میں قسم کھاتا کہ یہ اس کی دستک ہے!" دروازہ کھولا گیا، اور سامنے مارگوری کھڑی تھی، کفن میں ملبوس، اس کی انگلی سے خون ٹپک رہا تھا! یہ منظر دیکھ کر اس کے شوہر کو دل کا دورہ پڑا اور وہ وہیں جان سے گیا! مارگوری نے بعد میں دوسری شادی کی، بچے پیدا کیے، اور ایک لمبی زندگی گزاری۔ جب اس کی حقیقی موت ہوئی، تو اسے آئرلینڈ کے شنکیل قبرستان میں دفنایا گیا، جہاں اس کی قبر پر یہ الفاظ لکھے گئے: "زندگی ایک مرتبہ، موت دو مرتبہ" Lived Once, Buried Twice منقول۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/6057 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

🔷 بندروں سے مقابلہ 🔷 ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک گاوں میں ایک بوڑھا شخص ٹوپیاں فروخت کر رہا تھا دوپہر کا وقت تھا ۔ وہ بہت تھک چکا تھا ۔ اور اسے بہت بھوک لگی تھی ۔ وہ ایک سیب کے درخت کے پاس پہنچا تو اس نے سوچا کچھ سیب توڑ کر کھا لیتا ہوں لیکن وہ درخت پر نہیں چڑھ سکتا تھا ۔ اس لیے وہ سیب توڑ کر نہیں کھا سکا ۔ لیکن اس نے سوچا کیونا اس درخت کی چھاوں میں تھوڑی دیر آرام کرلیتا ہوں اس نے اپنی گھٹڑی رکھی اور درخت کے نیچے آرام کرنے کے لیے سو گیا ۔ درخت پر بہت سے بندر تھے بندروں نے اس کی گھٹڑی کھول کر اس میں ٹوپیاں لے کر درخت پر چڑھ گیے ۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ بہت سے بندر اس کی گھٹڑی میں سے ٹوپیاں لیکر درخت پر ادھر اودھر اوچھل کود کر رہے ہیں اس نے بندروں کو بہت ڈرایا لیکن بندر اس کی نقل کرتے اور اس کا مزاق اراتے وہ بہت پریشان ہوا ۔ اس نے ایک ترکیب سوچی وہ زمین سے پتھر اٹھا بندروں کو مارتا بندر اسے درخت سے سیب توڑ مارتے اس طرح بندروں نے بہت سیب توڑ کر اس شخص کو مارے اس شخص نے سارے سیب اکھٹے کیے اور پیٹ بھر کر سیب کھاے اور بہت خوش ہوا اس سوچا کہ وہ جو کچھ کرتا ہے بندر اس کی نقل کرتے ہیں اس نے ایک ٹوپی پہن رکھی تھی اس بندروں سے ٹوپیاں واپس لینے کےلیے ایک چال چلی اس اپنے سر سے اپنی ٹوپی زمین پر پھینک دی بندروں نے اپنے سر سے ٹوپیاں زمین پر پھینک دی ۔ اس نے جلدی ساریاں ٹوپیاں اکٹھی کی اپنی گٹھڑی میں رکھ دی ۔ اور بندروں کا مذاق اڑانے لگا بندر بہت شرمندہ ہوئے اور اس کا منہ دیکھتے رہ گئے اس طرح اس نے اپنے ذہن کا استعمال کرکے بندروں سے اپنی ساری ٹوپیاں حاصل کر لی اور بہت خوش ہوا وہاں چل دیا ۔ 🔘 اس کہانی سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ ہمیشہ ذہن کا استعمال کر کے انسان کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

میں ان دونوں کو شٹ اپ کال دینا چاہتا تھا مگر کیا کرتا ؟۔ اک جانب بیگم مجھے ادھیڑے جا رہی تھی دوسری جانب سائرہ اپنا رونا رو رہی تھی جس کو سن پر بیگم اپنا شروع ہو جاتی۔ میں تو وہاں بس کوسنے سننے بیٹھا ہوا تھا۔ مجھے لگنے لگا کہ یہاں میری گیسٹ اپیرئنس کس کام کی۔ میں نے بیگم کو ٹوکنا چاہا کہ چلو اب واپس چلیں۔ دل میں سوچ رہا تھا کہ نشست اب ختم ہو۔ منگنی سائرہ کی اور باتیں مجھے ۔۔۔ بیگم: آپ کیوں اٹھنا چاہ رہے ہیں۔ بیٹھیں ابھی اسے تو سمجھائیں ناں کچھ۔ میں: میرے سمجھانے کو اب کیا رہ گیا ہے بیگم ؟ سب اعلیٰ اعلیٰ اور چنیدہ مثالیں تو آپ دے چکی ہیں۔ سائرہ: مہدی بھائی آپ بتائیں میں کچھ غلط کہہ رہی ہوں کیا ؟ اس سے قبل کہ میں بولتا ، بیگم گونجی بیگم: ان سے کیا غلط صحیح پوچھ رہی ہو۔ میری بات سنو۔ ان کو غلط صحیح کا پتا ہوتا تو یہ گھر کے کاموں میں میرا ہاتھ نہ بٹاتے ؟ الٹا یہ گند ڈالتے ہیں۔ سائرہ: آپی مگر میرا دل نہیں مان رہا۔۔ بیگم: اوہو ، ان کو دیکھو۔ جب ان کا رشتہ آیا اور میری آپی نے مجھے بتایا تو میں ان کی فین تھی۔ ان کو پڑھتی تھی۔ مجھے لگا یہ بہت سلجھے ہوئے انسان ہوں گے۔ اب دیکھو ناں یہ اچھے تو ہیں مگر بچے ہی ہیں۔ ان کو بھی مجھے ہی سنبھالنا پڑتا ہے۔ ہر وقت علامہ اقبال بنے رہتے ہیں۔ خیالوں میں گم۔ جب پوچھو جواب آتا ہے " میں کچھ سوچ رہا تھا"۔ یا میں کچھ لکھ رہا تھا۔ سائرہ: آپی شکر کریں مہدی بھائی ڈیسنٹ انسان ہیں۔ بولتے بھی کم ہیں۔ بیگم: پھر بولنے کی بات کی۔ تم کبھی ان کے گھر میں جلے کٹے طعنے سنو۔ بولتے کم ہیں !!!!! میں: آپ دونوں آپس میں سلسلہ کلام جاری رکھیں۔ مجھے اجازت دیں۔ میں ذرا گھر جا کر آئینے کے سامنے اپنے آپ پر غور کر لوں۔ رات کا 1 بج رہا ہے۔ بلآخر رات ایک بجے نشست تمام ہوئی۔ سائرہ نیم رضامند ہو گئی۔ بیگم اور میں گھر واپس لوٹے۔ میں آئینے کے سامنے کھڑا خود کو دیکھ رہا تھا۔ بیگم مجھے دیکھ رہی تھی۔ میں نے آئینے سے جڑی اپنی مرحومہ ماں کی تصویر دیکھتے کہا " کیا اتنا برا ہوں میں ماں ؟ " ۔ بیگم کی آواز آئی" اگر میں ایسا نہ کہتی تو وہ کیسے سمجھتی کہ کمپرومائز کر کے ہی زندگی گزاری جا سکتی ہے ؟ اس کو احساس تو دلانا تھا کہ کوئی شخص پرفیکٹ نہیں ہوتا "۔ پھر اس نے مجھے مسکرا کے دیکھا اور بولی “ آپ کے لیے پنک ٹی( کشمیری چائے) بنا کر لاتی ہوں”۔ رات ڈیڑھ بجے اس نے چائے بنائی۔اس کا موڈ ایکدم فریش تھا۔ مجھے چائے کا کپ تھمایا۔ پاس بیٹھی۔ میں نے چائے کی چسکی لی اور کہا " یار ایک دو دن تک وہ عظمت (میرا کولیگ اور دوست) کے ہاں چلنا ہے۔ وہ پھر بھابھی سے لڑ بیٹھا ہے۔ عظمت کو میں سمجھاؤں گا کہ بیگم سے کمپرومائز کیا ہوتا ہے۔ تم بس سننا" ۔۔ اس نے سنتے ہی قہقہہ لگایا " ہاں مجھے پتا تھا آپ کسی نہ کسی صورت بدلہ لے کر رہیں گے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ بات کو بھول جائیں۔ مجھے میری سہیلیاں کہتی ہیں کہ تم کتنی خوش قسمت ہو، نہ تمہیں ساس سسر ملے نہ ہی نند ، دیور جیٹھ ہیں۔ اپنے گھر میں مرضی کی مالکن ہو۔ مگر ان کو کیا معلوم کہ مجھے جو شوہر ملا وہ آل ان ون ہے۔کسی کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتے"۔۔🥹 بندہ خدا کو راضی کر سکتا ہے مگر بیگمات کو نہیں۔ اس راز کو جو سمجھ گیا گویا اس نے گرہستی کا راز پا لیا۔ مجھے ان مردوں پر چڑ چڑھتی ہے جو بیوی سے بحث کرنے لگتے ہیں۔بھائی شادی ٹوٹل تسلیم و رضا کا دوسرا نام ہے۔ یہ بندگی کی ایک شکل ہے۔ نہیں یقین تو پھر چوں چاں کر کے دیکھ لیجئیے۔ مجھے کیا۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/6054 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 بیگم صاحبہ 🔷 میرے گھر کے بالکل سامنے والے گھر میں ان کی بیٹی کی منگنی کی تقریب تھی۔ وہ چونکہ ہمسائے بھی ہیں اور میری بیگم کے ساتھ اس لڑکی کی دوستی بھی ہے لہذا بیگم اس تقریب میں مدعو تھی۔ یہ گھر کے اندر مختصر سی تقریب تھی۔ چند مہمان تھے۔ رات گئے تقریب ختم ہوئی تو بیگم گھر آتے ہی میرے پاس آئی۔ بولی " وہ ناں آپ میرے ساتھ ذرا سامنے والے گھر چلیں۔ دراصل آنٹی بہت پریشان ہو رہی ہیں۔ ان کی بیٹی ہے ناں جس کی ابھی منگنی ہوئی اس نے پریشان کیا ہوا ہے۔ اس کو سمجھائیں۔ وہ کہتی ہے کہ جس سے منگنی ہوئی وہ بہت موٹا ہے۔ مجھے پسند نہیں آیا حالانکہ ایسی بات نہیں"۔ یہ کہتے ہوئے اس نے لڑکے کی تازہ تصویر مجھے اپنے موبائل پر دکھائی، پھر بولی " یہ دیکھیں اچھا بھلا تو ہے۔ آپ اسے سمجھائیں گے وہ سمجھ جائے گی"۔ میں نے بیگم کو جواب عرض کیا کہ بیگم ان کے گھر کا معاملہ ہے، میں کیوں خوامخواہ سمجھانے کا ٹھیکہ لے لوں؟ اس کے بڑے بزرگ سمجھائیں جنہوں نے رشتہ طے کیا۔ یہ سن کر اس نے کہا کہ بڑے بزرگ کون ہیں ؟ یتیم بچی ہے، صرف آنٹی ہیں یا اس کا ایک بھائی ہے جو دبئی میں برسر روزگار ہے۔ آنٹی نے ہی کہا ہے کہ مہدی کو کہو تو ہی آپ کو کہہ رہی ہوں۔ میں پھر بھی نہیں جانا چاہتا تھا مگر اک جانب بیگم کی ضد اور دوسری جانب یہ خیال آیا کہ آنٹی نے اگر کہا ہے تو حقوق ہمسائیگی ادا کر دینا چاہیئے۔ میں نے چلتے ہوئے کہا " بیگم، بات یہ ہے کہ بات زیادہ تم کرو گی۔ میں جہاں سمجھوں گا کہ مجھے کچھ اضافہ کرنا یا کہنا ہے تو کہہ دوں گا۔ وہ لڑکی ہے اس کے مستقبل کا معاملہ ہے لہذا میں کوئی زور نہیں ڈالنے والا کہ اب اگر آنٹی نے منگنی کر دی تو لازمی مان جاؤ۔ ظاہر ہے یہ اس کی دلی رضامندی والا معاملہ ہے۔ اگر وہ قائل نہیں ہوتی تو اسے پریشرآئز کرنے کی سوچنا بھی نہ"۔ صاحبو، بس یہیں سے اس کہانی کا آغاز ہوا جس کا انجام میرے لئے دل شکن سا تھا۔ وہاں پہنچے۔ ڈرائنگ روم میں بیٹھے۔ اب سین کچھ یوں ہے کہ بیگم اور وہ لڑکی آمنے سامنے صوفے پر بیٹھے ہیں اور میں دونوں کے بیچ الگ سنگل صوفے پر۔ یعنی ایک تکون سے بنی ہوئی ہے۔ اب آپ گفتگو ملاحظہ فرمائیں ان دونوں کی بیگم: دیکھو سائرہ ! مجھے اور میرے ہسبنڈ کو تو لڑکا مناسب لگا ہے۔ اس کا وزن کوئی اتنا زیادہ تو نہیں۔ دیکھو! وہ تمہارا ہم عمر ہے شکر کرو۔ مجھے اور ان کو دیکھو ہماری عمر میں کتنا فرق ہے۔ ہاں مانا کہ یہ موٹے نہیں ، وہ بھی وزن کم کر لے گا۔ کمپرومائز تو کرنا پڑتا ہے ناں۔ تم بھی کرو سائرہ: مہدی بھائی اور آپ کی عمر کا فرق معلوم بھی نہیں ہوتا بینش باجی، دوسرا مہدی بھائی بولتے بھی کم ہیں۔ وہ تو بول بھی فر فر رہا تھا۔ مجھے ایسے باتونی لڑکے اچھے نہیں لگتے۔ لڑکے کو کچھ تو میچور ہونا چاہیئے ناں مہدی بھائی ؟ (میری جانب دیکھتے ہوئے ) بیگم: رہنے دو یار !! تم کو کیا بتاؤں یہ گھر میں کتنا گند ڈالتے ہیں۔ باہر سے آتے ہی کتنا شور کرتے ہیں کہ پانی دو، ٹھنڈا شربت دو، چائے دو وغیرہ۔ اور ان کے کیمرے، ساز و سامان بھی میں ہی سنبھالتی ہوں۔ یہ تو صرف اپنی چیزیں ادھر ادھر پھیلاتے ہیں۔ کہیں موزے، کہیں شوز، کہیں لیپ ٹاپ پڑا ہے تو کہیں کچھ۔ ان کی میچورٹی کو رہنے ہی دو۔۔ سائرہ: آپی! اتنا سب چل جاتا ہے مگر جس کے ساتھ ساری عمر بسر کرنی ہے وہ کچھ فٹ تو ہو۔ اوور ویٹ تو نہ ہو۔ اور کم سے کم منگنی پر تو منہ بند رکھے۔ اتنا شوخا انسان اچھا ہوتا ہے کیا ؟ بیگم: ارے یار ! تم کو کیا پتا مرد کیسے ہوتے ہیں۔ ان کو ہی دیکھ لو یہ کیا کم شوخے ہیں ؟ میں بھی تو رہ رہی ہوں ناں۔ یہ بھی شوخے ہیں۔ جہاں کوئی خوبصورت لڑکی دیکھ لیں وہیں آنکھیں پھاڑ پھاڑ اسے دیکھتے رہتے ہیں۔ دیکھو کچھ تو کمپرومائز کرنا پڑتا ہے۔ پرفیکٹ انسان تو کسی کو نہیں ملا کرتا ناں۔۔ سائرہ: آپی! کمپرومائز تو میں کر لوں مگر کچھ دل کو بھی تو لگے ۔ نہ اس کی زبان رکتی ہے اور نہ اس کا وزن کنٹرول میں ہے۔ مہدی بھائی آپ بتائیں میں کیا کروں؟ بیگم: زبان کی کیا بات کی۔ یہ جو ہیں یہ مجھے سارا دن چھیڑتے رہتے ہیں۔ ان کی زبان کونسا رک جاتی ہے۔ یہ ایسا ایسا طعنہ دیتے ہیں کہ عام انسان ویسا سوچ بھی نہیں سکتا۔ مجھے پوچھو کہ ایک رائیٹر کی بیوی ہونا کیسا ہوتا ہے۔ تم کو کمپرومائز کا کیا پتا!!! سائرہ: مگر آپی جتنا وہ باتونی ہے اور جیسے وہ میرے ساتھ منگنی کے وقت صوفے پر بیٹھا چپک رہا تھا مجھے لگتا ہے اس کے کئی چکر ہوں گے۔ اس کو اتنی تمیز بھی نہیں کہ تھوڑی سپیس دے کر بیٹھتا۔ بیگم: لو چکروں کی کیا بات کی تم نے۔ مرد ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ان کو ہی دیکھ لو ان کے کوئی کم چکر لگتے ہیں تمہیں ؟ ۔ ان کی بھولی صورت پر نہ جانا۔اتنی لڑکیوں کے میسجز و کالز آتی ہیں ان کو۔ ہر وقت یہ موبائل سے چپکے ہوتے ہیں۔ جب دیکھو کسی نہ کسی لڑکی سے چیٹ ہو رہی ہو گی ۔۔۔

🔷 بندروں سے مقابلہ 🔷 ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک گاوں میں ایک بوڑھا شخص ٹوپیاں فروخت کر رہا تھا دوپہر کا وقت تھا ۔ وہ بہت تھک چکا تھا ۔ اور اسے بہت بھوک لگی تھی ۔ وہ ایک سیب کے درخت کے پاس پہنچا تو اس نے سوچا کچھ سیب توڑ کر کھا لیتا ہوں لیکن وہ درخت پر نہیں چڑھ سکتا تھا ۔ اس لیے وہ سیب توڑ کر نہیں کھا سکا ۔ لیکن اس نے سوچا کیونا اس درخت کی چھاوں میں تھوڑی دیر آرام کرلیتا ہوں اس نے اپنی گھٹڑی رکھی اور درخت کے نیچے آرام کرنے کے لیے سو گیا ۔ درخت پر بہت سے بندر تھے بندروں نے اس کی گھٹڑی کھول کر اس میں ٹوپیاں لے کر درخت پر چڑھ گیے ۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ بہت سے بندر اس کی گھٹڑی میں سے ٹوپیاں لیکر درخت پر ادھر اودھر اوچھل کود کر رہے ہیں اس نے بندروں کو بہت ڈرایا لیکن بندر اس کی نقل کرتے اور اس کا مزاق اراتے وہ بہت پریشان ہوا ۔ اس نے ایک ترکیب سوچی وہ زمین سے پتھر اٹھا بندروں کو مارتا بندر اسے درخت سے سیب توڑ مارتے اس طرح بندروں نے بہت سیب توڑ کر اس شخص کو مارے اس شخص نے سارے سیب اکھٹے کیے اور پیٹ بھر کر سیب کھاے اور بہت خوش ہوا اس سوچا کہ وہ جو کچھ کرتا ہے بندر اس کی نقل کرتے ہیں اس نے ایک ٹوپی پہن رکھی تھی اس بندروں سے ٹوپیاں واپس لینے کےلیے ایک چال چلی اس اپنے سر سے اپنی ٹوپی زمین پر پھینک دی بندروں نے اپنے سر سے ٹوپیاں زمین پر پھینک دی ۔ اس نے جلدی ساریاں ٹوپیاں اکٹھی کی اپنی گٹھڑی میں رکھ دی ۔ اور بندروں کا مذاق اڑانے لگا بندر بہت شرمندہ ہوئے اور اس کا منہ دیکھتے رہ گئے اس طرح اس نے اپنے ذہن کا استعمال کرکے بندروں سے اپنی ساری ٹوپیاں حاصل کر لی اور بہت خوش ہوا وہاں چل دیا ۔ 🔘 اس کہانی سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ ہمیشہ ذہن کا استعمال کر کے انسان کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

🕌عید کی نماز t.me/islamwitheman/3569 🌹عید کا پیغام t.me/islamwitheman/3570 🌷عید مبارک t.me/islamwitheman/3571 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

💝 السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ 💐 صباح العید عید الفطر کے پر مسرت و سعید موقع پہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف و تمام مراجع کرام اور آپ کی خدمت میں دل کی گہرائیوں سے تمام عبادات کی قبولیت کی دعا کے ساتھ مبارک باد پیش کرتا ہوں. 💚  آج کا دن ➖ سوموار ☀  31 مارچ 2025 عیسوی 🌙  یکم شوال المکرم 1446 ھجری ⭐  18 چیت 2082 بکرمی ■ سوموار کے اذکار ِ1۔ یَا قَاضِیٓ الْحَاجَاتْ 100 مرتبہ 2۔ یَا لَِطیْفُ 129 مرتبہ 3۔ سبحان اللہ والحمد لله 1000 مرتبہ 🌹 عید کے معنی و مفہوم کلمۂ'' عید''''عاد یعود'' سے مشتق ہے اور اس کے مختلف معنی ذکر ہوئے ہیں ، جن میں سے ایک ''لوٹنا اور واپس ہونا'' ہے ، شوّال کے پہلے دن کو بھی ''عید'' اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اس دن ہر سال خوشی پلٹ کر آتی ہے۔ 🌹 حضرت علی علیہ السلام نے کسی عید کے موقع پر فرمایا: آج صرف ان لوگوں کی عید ہے جن کے روزے قبول اور عبادتیں مقبول ہیں؛ یاد رکھو! جس دن (انسان ) خدا کی نافرمانی نہ کرے وہ دن اس کے لئے عید اور خوشی کا دن ہوتا ہے۔ (نہج البلاغہ، کلمات قصار، ۴۲۸) 🤲 بارالٰہا! اس دن کے واسطے سے جسے مسلمانوں کے لئے عید اور حضرت محمدۖ کے لئے ذخیرہ، شرافت، کرامت اور فضیلت قرار دیا ہے، میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ محمد وآل محمد پر دورد بھیج اور مجھے ہر اس خیر میں داخل فرما جس میں تو نے محمدۖ وآل محمدۖ کو داخل کیا ہے، اور ہر اُس برائی سے دور رکھ جس سے تو نے محمد ۖوآل محمدۖ کو دور رکھا ہے، تیرا درود و سلام ہو اُن پر! بارالٰہا! میں تجھ سے اُس خیر کو طلب کرتا ہوں جو تیرے صالح بندے طلب کرتے ہیں اور تجھ سے پناہ طلب کرتا ہوں تمام اُن چیزوں سے جن سے تیرے مخلص بندوں نے پناہ طلب کی ہے۔ آمین یارب العالمین بحق چہاردہ معصومین علیہم السلام 💝 التماس دعا: 💝 سید سجاد حسین ھمدانی 💝

🔷️اعمال شب عیدالفطر t.me/islamwitheman/3567 🕌عید کی نماز t.me/islamwitheman/3569 🌹عید کا پیغام t.me/islamwitheman/3570 🌷عید مبارک t.me/islamwitheman/3571 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

پاکستان میں شوال کا چاند نظر آگیا 🌙✨ عید سعید الفطر خوشیوں مسکراہٹوں رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ آپ اور آپ کے اہل خانہ کو بہت بہت مبارک ہو آپ کی تمام عبادات و اطاعات و مناجات بارگاہِ پروردگار عالی میں قبول و منظور ہوں اور آئندہ سال بھی صحت و سلامتی کے ساتھ یہ ایام نصیب ہوں🤲❤️ ‎#عید_الفطر ‎#EidAlFitr2025 | ‎#EidMubarak  

photo content

🌴ماہ رمضان کے متعلق پوسٹس🌴 https://t.me/islamwitheman/3320 🌛استقبال ماہ رمضان t.me/islamwitheman/3330 🌛وجہ تسمیہ ماہ رمضان t.me/islamwitheman/3331 🌺ماہ رمضان یا رمضان t.me/islamwitheman/3341 🌺فضیلت ماہ رمضان t.me/islamwitheman/3343 🌷استقبال ماہ رمضان کی دعا t.me/islamwitheman/3344 💐ماہ رمضان میں نماز کیبعد کی دعا t.me/islamwitheman/3346 🌛ماہ رمضان کے اسماء و صفات t.me/islamwitheman/3347 🌴فضیلت ماہ رمضان و روزہ t.me/islamwitheman/3348 👹شیطان کی قید t.me/islamwitheman/3350 🌛اعمال ماہ رمضان شب و روز اول t.me/islamwitheman/3351 🍀یوم الشک کا روزہ t.me/islamwitheman/3352 🌹امام حسینؑ کابچپن میں پہلاروزہ t.me/islamwitheman/3353 🍃 اعمال ماہ رمضان t.me/islamwitheman/3374 🌷روزے کا فلسفہ t.me/islamwitheman/3375 🌷فلسفة الصوم t.me/islamwitheman/3376 🔷روزے کے مراتب t.me/islamwitheman/3377 🍁روزے کے آثار و جزاء t.me/islamwitheman/3378 🍁گالی دینے کا روزے پر اثر t.me/islamwitheman/3379 🍃احاديث بسلسلہ ماہ رمضان t.me/islamwitheman/3380 🌷کثیرالسفر کیلئے احکام روزہ t.me/islamwitheman/3381 🌸جن پر روزہ رکھنا واجب نہیں t.me/islamwitheman/3382 🕌ماہ رمضان کی نافلہ نمازیں t.me/islamwitheman/3383 🌼مبطلات و مکروہات روزہ t.me/islamwitheman/3385 🔶تقديم الصلاة علی الافطار t.me/islamwitheman/3386 🔷افطار میں تأخير t.me/islamwitheman/3387 🌴وقت افطار اور وقت غروب t.me/islamwitheman/3388 ♻افطاری کیلئے بہترین چیز t.me/islamwitheman/3389 🌴افطاری کرانے کا ثواب t.me/islamwitheman/3390 🔷افطاری t.me/islamwitheman/3391 🌹گولڈن روزہ t.me/islamwitheman/3392 🌷روزہ دار اور دانتوں کا علاج t.me/islamwitheman/3393 🔶بحالت روزہ انجکشن و ڈرپ لگوانا t.me/islamwitheman/3394 ❄روزہ کی حالت میں بلغم نگلنا t.me/islamwitheman/3395 🌹 خوشبودار چیز سے استفادہ کرنا t.me/islamwitheman/3396 🔷روزے کی قضا، کفارہ t.me/islamwitheman/3397 🌴کھجور احادیث میں t.me/islamwitheman/3398 🌴نبیذ شربت t.me/islamwitheman/3399 🌻ایک مریض کا روزہ t.me/islamwitheman/3401 🌹وفات جناب فاطمہ بنت اسد t.me/islamwitheman/3405 🌹ام المؤمنين جناب خدیجہؑ t.me/islamwitheman/3416 🌹حضرت خدیجہؑ کبرٰی کی وصیتیں t.me/islamwitheman/3417 🌹حضورؑ کے نزدیک مقام خدیجہؑ t.me/islamwitheman/3418 🌹جناب خدیجہؑ کی عظمت و اہمیت t.me/islamwitheman/3419 🌹زیارت خدیجةالکبرٰیؑ t.me/islamwitheman/3420 📄دعائے مجیر t.me/islamwitheman/3423 t.me/islamwitheman/3426 🔷شہادت جناب قنبرؑ t.me/islamwitheman/3432 🔷شہادت امیر مختار ثقفی t.me/islamwitheman/3434 🌸مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی t.me/islamwitheman/3435 🔷مختار ثقفی علماء کی نظر میں t.me/islamwitheman/3436 🌹حضرت امام حسن علیہ السّلام t.me/islamwitheman/3452 t.me/islamwitheman/3452 🌷محمد بن ابی بکر t.me/islamwitheman/3455 ❤️فتح جنگ بدر مبارک t.me/islamwitheman/3459 t.me/islamwitheman/3460 🌺شب قدر کی فضیلت t.me/islamwitheman/3464 🌺شب قدر کی شان t.me/islamwitheman/3465 🌺شب قدر اور حضرت موسٰیؑ t.me/islamwitheman/3466 🌺کونسی رات شب قدر؟ t.me/islamwitheman/3467 🌺شبھائ قدر کے مشترکہ اعمال t.me/islamwitheman/3468 🌺اعمال 19 ماہ رمضان t.me/islamwitheman/3469 🔷️دعائے جوشن کبیر t.me/islamwitheman/3471 🌺شب قدر میں عمل قرآن t.me/islamwitheman/3472 🌹ضربت حضرت علی علیہ السلام t.me/islamwitheman/3474 t.me/islamwitheman/3475 🌹حضرت علیؑ کی وصیت t.me/islamwitheman/3482 🌹حدیث سفینہ t.me/islamwitheman/3488 🌹حدیث باب مدینةالعلم t.me/islamwitheman/3489 🔷️یوم فتح مکّہ t.me/islamwitheman/3494 🌷اعتکاف کی فضیلت t.me/islamwitheman/3496 🔷 اِعْتِکاف کی فضیلت و احکام t.me/islamwitheman/4295 🌹شھادت حضرت علیؑ t.me/islamwitheman/3500 🔷️ابن ملجم کا انجام t.me/islamwitheman/3502 🌺شب قدر و نزول قرآن t.me/islamwitheman/3507 🔷️الوداع ماہ رمضان t.me/islamwitheman/3528 🔷نماز قضائے عمری کی حقیقت t.me/islamwitheman/3529 🔷️یوم القدس کی مختصر تاریخ t.me/islamwitheman/3530 🔷️اسرائیل ایک ناجائز ریاست t.me/islamwitheman/3532 🌷فطرہ و احکام t.me/islamwitheman/3537 t.me/islamwitheman/2324 🌹عید یا سوگ؟ t.me/islamwitheman/3539 🌹استحباب نماز عیدین t.me/islamwitheman/3540 🌹نماز عید کے حوالے سے چند شبہات t.me/islamwitheman/3541 🌹دعائے رویت ہلال t.me/islamwitheman/3566 🔷️اعمال شب عیدالفطر t.me/islamwitheman/3567 🕌عید کی نماز t.me/islamwitheman/3569 🌹عید کا پیغام t.me/islamwitheman/3570

photo content

🔷 فرانسیسی عورتوں کی خفیہ چال 🔷 قرون وسطیٰ کی فرانسیسی عورتوں کی خفیہ چال! کہا جاتا ہے کہ قرون وسطیٰ کے ایک پرانے فرانسیسی شہر میں عورتوں نے ایک نرالی اور چالاک تدبیر اپنا رکھی تھی، جس سے ان کے شوہر نہ صرف گھر کے وفادار رہتے بلکہ بیویوں کے بغیر خود کو بےبس محسوس کرتے۔ ہر صبح، جب سورج مدھم روشنی بکھیرتا، یہ عورتیں اپنے شوہروں کے ناشتے میں نہایت معمولی مقدار میں زہر ملا دیتیں۔ زہر اتنا کم ہوتا کہ فوری طور پر کوئی نقصان نہ پہنچتا، مگر اس کا اثر شام ڈھلتے ہی ظاہر ہونے لگتا۔ رات کو جب شوہر گھر لوٹتے تو بیویاں بڑی محبت سے ان کے لیے ایک خاص شربت تیار کرتیں، جو درحقیقت اس زہر کا تریاق ہوتا۔ اگر شوہر وقت پر واپس آتے، تو انہیں یہ شربت پلا دیا جاتا اور وہ بالکل ٹھیک ہو جاتے، لیکن اگر وہ کہیں اور وقت گزارتے یا دیر سے گھر لوٹتے، تو زہر کی شدت بڑھ جاتی، جس سے انہیں سر درد، متلی، سانس لینے میں دشواری، افسردگی اور شدید کمزوری محسوس ہونے لگتی۔ جتنا زیادہ وقت وہ گھر سے دور رہتے، اتنی ہی تکلیف بڑھتی جاتی۔ رفتہ رفتہ یہ خوف ان کے لاشعور میں بیٹھ گیا کہ گھر اور بیوی کی موجودگی ہی انہیں صحت مند رکھ سکتی ہے۔ وہ جب بھی گھر سے دور ہوتے، تو بےچینی محسوس کرتے، اور یہ یقین کر بیٹھے کہ ان کے جسم اور دماغ کی سلامتی کا راز ان کی بیویوں کے ساتھ رہنے میں ہے۔ یوں، عورتوں نے بڑی خاموشی اور چالاکی سے اپنے شوہروں کو گھر سے جُڑے رکھنے کا ایسا جال بُن دیا، جس سے وہ کبھی نکل ہی نہ سکے۔۔!! 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/6043 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

چار چیزیں
چار چیزیں

photo content

photo content