ch
Feedback

不要被骗子欺骗!Telemetrio 会找到并标记这些频道 👉 如果想查看标记,请订阅

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

前往频道在 Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

显示更多
1 278
订阅者
无数据24 小时
-37 天
-1330 天
帖子存档
*جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اُس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اُس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں* ۔۔۔ یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے حالانکہ مسیح نے کہا تھا کہ "اے بنی اسرائیل! اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی" *جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اُس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اُس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں* ۞ یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے، حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اگر یہ لوگ اپنی اِن باتوں سے باز نہ آئے تو ان میں سے جس جس نے کفر کیا ہے اُس کو درد ناک سزا دی جائے گی ۞ پھر کیا یہ اللہ سے توبہ نہ کریں گے اور اس سے معافی نہ مانگیں گے؟ اللہ بہت درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے ۞ مسیح ابن مریمؑ اِس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول تھا، اُس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے، اس کی ماں ایک راستباز عورت تھی، اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے، دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں، پھر دیکھو یہ کدھر الٹے پھر ے جاتے ہیں ۞ القرآن - سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 72 تا 75۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

🔷 شلجم اور سیب 🔷 شلجم سیب سے دس گنا زیادہ مفید..! چند روز قبل سفر کے دوران گھر جاتے ہوئے چھوٹی بہن نےبتایا کہ ڈی ٹائپ کالونی فیصل آباد کے ایک نیک بزرگ طبیب حافظ اقبال صاحب کہتے تھے شلجم، سیب سے دس گنا زیادہ مفید ہے..! میں نے یہ بات سن کر حسب عادت تحقیق شروع کی اور کوشش کی کہ مزید مستند فوائد تلاش کئیے جائیں اور دیکھا جائے کہ یہ عام سی ، سستی سبزی اتنے مہنگے سیب سے دس گنا زیادہ بہتر کیسے ہے.. ؟ تحقیق سے معلوم ہوا کہ شلجم خاص طور پر پٹھوں کی کمزوری، کمر درد ٹانگوں کے درد، دل، جگر، آنکھوں، ہڈیوں، جوڑوں کا درد، یورک ایسڈ کم کرتا ہے، کولیسٹرول نارمل کرتا ہے قبض دور کرتا ہے شلجم ابال کر بیسن کے ساتھ گوندھ کر روٹی بنا کر کھانے سے شگر کنٹرول کرنے میں معاون ہے البتہ گندم چھوڑنا ہوگی. چونکہ اس میں فائبر زیادہ ہے سلاد کے طور پر کھانے سے پیٹ بھر جاتا ہے وزن کم کرنے والوں کا دوست ہے. آئیے ایک قابل بھروسہ ویب سائٹ کے تعاون سے سیب اور شلجم میں موجود مفید اجزاء کا تناسب دیکھتے ہیں. سب سے اہم بات شلجم میں سیب سے 10 گنا زیادہ وٹامن سی ہوتا ہے یعنی سیب میں 24 فیصد شلجم میں 200فیصد. وٹامن B1 سیب میں 7 فیصد شلجم میں 29 فیصد. وٹامن B6 سیب میں 14 فیصد شلجم میں 58 فیصد سوڈیم سیب میں 0 اور شلجم میں 32 فیصد پوٹاشیم سیب میں 12 اور شلجم میں 39 فیصد کیلشیم سیب میں 5 اور شلجم میں 43 فیصد میگنیشیم سیب میں 5، شلجم میں 22 فیصد فاسفورس سیب میں 7 اور شلجم میں 33 فیصد آئرن سیب میں 8، شلجم میں 36 فیصد مینگنیز سیب میں 6، شلجم میں 42 فیصد کاپر سیب 10، شلجم 61. زنک سیب 2 فیصد، شلجم 21 فیصد. سیلینئیم سیب میں 0 زیرو، شلجم میں 11 فیصد فائبر سیب 9، شلجم 13 فیصد. پروٹین سیب 1 فیصد، شلجم 6 فیصد اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں اگر سیب دستیاب نہ ہو، مہنگا ہو تو شلجم مناسب قیمت میں بآسانی دستیاب ہوسکتا ہے. اگر سیزن نہ ہو تو اسے قدرتی سرکہ میں اچار بنا کر سال بھر محفوظ رکھ سکتے ہیں. روزانہ کسی بھی نئی شکل میں نیا ذائقہ بنا کر استعمال کر سکتے ہیں. شلجم کو چھیل کر باریک باریک ٹکڑوں میں کاٹ کر رسی میں پرو کر سکھا لیتے ہیں پھر پورا سال اسے استعمال کر سکتے ہیں جب میں نے سرچ کیا کہ دنیا بھر میں اس سے کیا، کیا بنایا جاسکتا ہے تو یہ سب سامنے آیا شلجم سلاد،. بھجیا، سوپ ، حلوہ، کانجی، اچار، کسٹرڈ، چٹنی، کباب، جیم، کیک، آئسکریم جی ہاں آئسکریم بھی ۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ 📚 یہ معلومات مختلف ہیلتھ آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 میاں بیوی کا تعلق.... 🔷 دوست نے کہا کہ میاں بیوی کے مابین اختلاف یا لڑائی کہاں نہیں ہے لیکن کہیں یہ تعلق زندگی بھر قائم رہتا ہے اور کہیں مہینوں بلکہ دنوں میں ختم ہو جاتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ میاں بیوی کے تعلق کو ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ دھکے کا تعلق ہے، یہ دھکے سے چلتا ہے، یہ دھکا شوہر لگا لے یا بیوی۔ آپ کو سوسائٹی میں ایسے خاندان بھی مل جائیں گے کہ شادی کے شروع میں وہ لڑائی ہوئی کہ بیوی کے جہیز کا سامان ٹرک بھر کر واپس میکے پہنچ گیا لیکن آج نہ صرف ان میاں بیوی کی اولاد ہے بلکہ ان کے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں بھی ہیں۔ میاں بیوی کے تعلق میں یہ خواہش کرنا کہ اختلاف اور لڑائی نہ ہو، تو یہ بالکل غلط خواہش ہے۔ صحت مند زندگی کے لیے جتنا اختلاف ضروری ہے، اتنا ہی لڑائی بھی لیکن یہ دونوں چیزیں اس وقت آپ کے لیے عذاب بن جاتی ہیں جبکہ آپ کو لڑائی کرنا تو خوب آتی ہے لیکن صلح کا تجربہ نہیں ہے۔ قرآن مجید نے تو ازواج مطہرات تک کو طلاق کی دھمکی دی۔ یہ رشتہ ہی ایسا ہے کہ کاؤنسلنگ کرنے والے بیچارے خود بعض اوقات کاؤنسلنگ کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ تو اگر آپ اختلاف اور لڑائی نہیں کرتے تو آپ ذہنی طور بیمار ہیں لیکن اگر زندگی کو آپ نے متوازن بنانا ہے تو پھر کچھ چیزیں مزید سیکھیں۔ میاں بیوی کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کو منانا اور ماننا سیکھیں۔ اگر شوہر کو منانا آتا ہو اور بیوی جلدی ماننے والی نہ ہو تو لڑائی آزمائش میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اگر شوہر نے منانا سیکھ لیا ہے تو بیوی کو ماننا سیکھنا پڑے گا یا اس کے برعکس سمجھ لیں۔ میاں بیوی کا آئیڈیل تعلق وہ ہے کہ جس میں محبت موجود ہو کہ قرآن مجید نے کہا کہ اللہ عزوجل نے اس رشتے میں محبت اور الفت ڈال دی ہے۔ اب یہ محبت ہر جگہ موجود ہوتی ہے لیکن میاں بیوی دونوں اس کے اظہار سے ڈرتے ہیں کہ دوسرا سر چڑھ جائے گا۔ میاں بیوی کا رشتہ ایسا ہے کہ اگر کچھ عرصہ ایک ساتھ گزار لیں تو ان کے لیے ایک دوسرے سے علیحدہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن اس مشکل کو وہ محبت کا نام دینا تو کجا اسے محبت سمجھنے سے بھی کتراتے ہیں اور اس کی وجوہات کئی ایک ہیں، کچھ معاشرتی ہیں اور کچھ نفسیاتی ہیں۔ پس جب تک اختلاف اور لڑائی میں دونوں ایک دوسرے کی طرف دل سے کھچاؤ محسوس کرتے رہیں تو یہ محبت کی حالت میں ہیں، چاہے اس کا اظہار نہ بھی کریں۔ لڑائی اور اختلاف میں ہلکی سی گرہ لگ جاتی ہے، بس تھوڑی سی توجہ، یا حوصلے، یا صبر، یا انانیت کو ترک کر دینے سے وہ گرہ کھل جاتی ہے اور بڑی سے بڑی لڑائی بھی یوں محسوس ہوتی ہے کہ جیسے کچھ تھا ہی نہیں۔ بس اس گرہ کو کھولنا سیکھیں، اور یہ سیکھنا تبھی آئے گا جبکہ انانیت کم ہو جائے اور انانیت کو کم کرنے کا ایک نسخہ یہ ہے کہ. اگر شوہر بیوی کو دیکھے کہ آج گھر کے کام کاج سے کافی تھک گئی ہے تو اس کے پاؤں دبا دے اور بیوی اگر شوہر کو دیکھے کہ باہر سے کافی تھکا ہارا آیا ہے تو اس کے پاؤں دبا دے۔ کچھ ہی عرصے میں انانیت جاتی رہے گی اور منانا، ماننا بھی سیکھ جائیں گے۔ اللہ جلد مان جانے والے پر رحم فرمائے اور منانے والے پر تو دوگنا رحم فرمائے کہ اس کی قربانی زیادہ ہے اور اسی کی وجہ سے گھر کا ادارہ قائم ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5565 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ناداں کی دوستی 🔷 نادان کی دوستی دشمنی سے بدتر ہے۔۔۔ ایک اژدہا ریچھ کو کھینچ رہا تھا۔ ایک دلاور پہلوان ادھر سے گزرا اور ریچھ کی مدد پر آمادہ ہوا۔ اژدہے کی سخت گرفت سے ریچھ چلایا تو دلاور پہلوان نے اس کو اژدہے کے قبضے سے چھٹرا دیا اور وہ داؤں پیچ بھی جانتا تھا اور قوت بھی رکھتا تھا۔ اس نے اژدہے کو مار ڈالا۔ اژدہے کو اس نے ایسے داؤں سے بے بس کیا کہ ریچھ جسمانی ہلاکت سے بچ گیا۔ اژدہے میں قوت تو بہت ہوتی ہے مگر داؤ پیچ وہ نہیں جانتا۔ غرض ریچھ کو اژدہے سے چھٹکارا ملا اور اس جواں مرد پہلوان کی ہمتِ مردانہ کا شکر گزار ہوا تو سگِ اصحابِ کہف کی طرح اس کے ساتھ ہو گیا۔ وہ شخص تھکا ہوا تھا۔ ایک جگہ آرام لینے کے لیے لیٹ گیا اور ریچھ از راہِ محبت پاسبانی کرنے لگا۔ راہ گیر نے جو یہ حال دیکھا تو پوچھا کہ اے بھائی خیر تو ہے۔ یہ ریچھ تیرا کون ہے؟ اس نے سارا قصہ اور اژدہے کا واقعہ سنا دیا۔ راہ گیر نے کہا، ارے سادہ دل! ریچھ پر اعتبار مت کر۔ نادان کی دوستی دشمنی سے بد تر ہے۔ جس چال سے بھی ممکن ہو اسے مار بھگا۔ اس نے جواب دیا کہ خدا کی قسم تو از راہِ حسد کہتا ہے ورنہ بجائے اس کے ریچھ بن کے اس کی محبت کو دیکھتا۔ اس نے کہا کہ نادانوں کی محبت بہت چکنی چپڑی ہوتی ہے لیکن میرا یہ حسد اس کی محبّت سے بہتر ہے۔ ارے بھلے مانس! میں ریچھ سے تو کم نہیں ہوں۔ اس کو ترک کر دے تاکہ میں تیرا رفیق رہوں۔ میرا دل بُری فال کے خیال سے لرزنے لگتا ہے۔ اس ریچھ کے ساتھ کسی گھنے جنگل میں نہ جائیو۔ میرا دل جو کانپتا ہے سو یہ وہم نہیں ہے بلکہ یہ خدا کا نور ہے۔ جھوٹا دعویٰ اور خواہ مخوا کی ترنگ نہیں ہے۔ میں مومن ہوں اور مومن خدا کے نور سے دیکھتا ہے۔ دیکھ خبردار اس آتش کدے سے دور بھاگ۔ اس نے بہت کہا مگر اس بےوقوف نے ایک نہ سنی۔ بدگمانی آدمی کے آگے بڑی چکلی دیوار ہو جاتی ہے۔ ناصح نے کہا کہ جب تو دوستی کی بات نہیں مانتا تو لے الوداع۔ اس نے جواب دیا کہ چل اپنا راستہ لے۔ تو میرا ایسا غمخوار کہاں کا آیا۔ چلتے چلتے اس نے پھر کہا کہ دیکھ میں تیرا دشمن نہیں ہوں۔ تیرے لیے بھلائی اسی میں ہے کہ تو میرے ساتھ ہو لے۔ اس نے کہا کہ مجھے اب نیند آرہی ہے تو میرا پیچھا چھوڑ اور اپنا راستہ لے۔ وہ بدگمان نادان اور نااہل تھا۔ اس نے اپنے کتّے پن کی وجہ سے عقل مند ناصح پر حسد کی تہمت لگائی اور ریچھ کو محبت اور وفا کا پتلا سمجھا۔ آخر کار اس مسلمان نے نادان سے کترائی لی اورمنہ میں لاحول پڑھتا ہوا اپنا راستہ لیا اور اپنے جی میں کہا کہ جب نصیحت، اصرار، زبردستی سے اس کی بدگمانی اور بڑھتی ہے تو پند و نصیحت کی راہ بند ہو گئی اور ایسے لوگوں سے منہ پھیر لینا واجب ہو گیا۔ ادھر جب وہ شخص سو گیا اور ریچھ مکھیاں جھلتا رہا۔ مکھیاں بار بار آنے لگیں اور یہ بار بار اڑاتا رہا۔ اس طرح اس نے کئی بار اس جوان کے منہ پر سے مکھیاں اڑائیں مگر مکھیاں باربار پلٹ کر وہیں جمع ہو جاتی تھیں۔ آخر کار بیزار ہو کر ایک طرف دوڑا ہوا گیا اور پہاڑ سے ایک بڑا پتھر اٹھا لایا۔ اس نےدیکھا کہ مکھیوں کے گچھے کے گھچے اس نیند کے متوالے کے منہ پر چمٹے ہوئے ہیں۔ بس اس نے پتھر اٹھایا اور اس ارادے سے یہ کہ مکھیاں نہ اڑیں نہ منہ پر بیٹھیں سونے والے کے منہ پر مارا۔ پتھر نے سونے والے کا منہ خشخاش کی طرح پاش پاش کردیا اور لوگوں کے لیے یہ ضرب المثل بنا دیا کہ نادان کی محبت اس ریچھ کی محبت کے برابر ہے۔ نادان کی دوستی سے تنہائی اچھی ہے___ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

تین چار دن بعد بڑی آپا کو خیال آیا کہ صفائیوں میں ایسا لگیں ہیں کہ کھانا پکانے پہ زور ہی نہ دیا ، تو اعلان کیا آج ہم کھیر پکائیں گے۔ ایسی لذیذ کھیر کیا کبھی کسی نے بنائی ہوگی۔رات بھر دودھ گاڑھا ہوتا رہا۔ قلاقند ڈلی۔ گھر کا بچہ بچہ اس شاہکار کھیر کے انتظار میں تھا کہ کب یہ کھانے کو ملے گی۔ رات کے کھانے کے بعد خوبصورت مٹی کے پیالے میں سجی کھیر لائی گئی۔ سب نے جلدی جلدی کٹوریوں میں نکالی لیکن جس کے منہ میں پہلا چمچ گیا آخ آخ کرتا بھاگا۔ کیا ہو گیا " بڑی آپا نے حیرت سے دیکھا اور چمچ بھر کھایا ، دل متلا گیا کڑوی تھو۔ شکر کی جگہ کیا نمک ڈالی تھی انہوں نے!!! دماغ چکرا گیا۔ ابھی کچھ ہی دیر پہلے تو وہ آج کی عورتوں کی نااہلی اور سستی پہ بیان دے رہی تھیں کیسے جھٹ پٹ کھیر بناتی ہیں۔ بھلا ان کو کیا پتہ کہ کیسے جان جھوکوں میں ڈال کے رات رات بھر دودھ میں گھونٹا لگا کہ چاول کو سل پہ گھنٹوں باریک کر کے کھیر بنتی ہے۔ اور اب کیا کہیں کون اس گھنٹوں پکی کھیر کو کھائے گا۔ کلی کی، سونف کھا کہ اماں کے کمرے میں آ کے خاموشی سے لیٹ گئیں۔ آج تو ہمت ہی نہ تھی کہ کچن سمیٹتیں، رات گئے تک کئی کئی بار ریک چمکاتیں، چولہے صاف کرتیں ، پوچے لگاتیں۔ " کیا ہوا بیٹے۔ " اماں بی نے ان کی تکیے میں سے سڑ سڑ کرتی آواز سن کے پوچھا۔ " اس قدر محنت سے کھیر بنائی۔ دو دن لگ گئے۔ پتہ نہیں غلطی سے نمک گر گئی۔ لیکن کھیر کھانے کے لائق نہ رہی۔ " روئی روئی آواز آئی ۔ " وہ دن کیسا ہوگا جب جان کھپا کے کیے جانے والے کام زرا زرا سی ریا کاری اور دکھاوے کی وجہ سے قابل قبول نہ ہوں گے۔ تمہارا اس رونے کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں اس دن برباد ہو جانے والے اعمال کے رونے سے" "اماں کیا کہہ رہی ہیں" بڑی آپا اٹھ کے بیٹھ گئیں۔ " بٹیا رانی محنت سے کھیر پکائی ، لیکن ایک نمک نے اس محنت کو صفر کیا، ہمارے نیک اعمال میں بھی اگر لوگوں کی تعریف چاہنے کا نمک آ جائے تو رب کریم کی بارگاہ میں قابل قبول نہ رہیں گے۔ دھتکارے پڑے ہوں گے، کھیر کے ڈونگے کی طرح " بی اماں نے نرمی سے محنتی بیٹی کو دیکھا۔ " اماں" "لوگوں کو سہولت دینے والی بن جاو، کام کرو تو جتاو نہیں ، بتاؤ نہیں ، نیت اگر قدر دان رب کے لیے خالص کر لو تو پھر دنیا کے کسی شخص کی تعریفیں تمہیں خوش نہ کریں۔ کام کام اور کام کے ساتھ کچھ وقت اپنے لیے رکھو، کچھ اچھا سنو، کچھ اچھا پڑھو، کچھ اچھا دیکھو، کسی اہل دل کے پاس بیٹھو، کچھ سیکھو، کچھ سکھلاو، بس اپنی نیت خالص کر لو۔" بڑی آپا خاموشی سے سن رہی تھیں۔ بات واضح تھی۔ قبول کرنا نہ کرنا اب ان کا کام، دھیرے سے اٹھیں، وضو کر کے کسی مہربان کے آگے سجدہ ریز ہونے ، ندامت کے آنسو بہانے۔ بی اماں مسکرادیں جانتی تھیں کہ ، ماؤں کو بعض دفعہ تیار لذیذ کھیر میں نمک ملانا پڑتا ہے تاکہ زندگی کھٹ مٹھی سی رہے ، نمکیں کھیر کی طرح بدمزہ نہ ہو جائے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5600 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

بڑی آپا کی آمد کے ساتھ ہی سب گبھرا کے ادھر ادھر غیر ضروری طور پہ مصروف ہوگئے۔ بڑی بھابھی نے ایک ہی جھٹکے میں الماری سے تہہ شدہ کپڑے گرائے اور ان کوڈھیر کی صورت میں رکھ کہ دوبارہ تہہ کرنا شروع کر دیا۔ ہاتھ اتنا ہلکے چلا رہی تھیں گویا کہ کمزور سیل والا برقی کھلونا ہوں۔ منجھلی بھابھی نے سرف اور اسپنج اٹھایا اور جلدی جلدی دروازے رگڑنا شروع کر دیے۔ چھوٹی بھابھی نےادھر ادھر نظر ڈالی کہ فوری طور پہ کیا کریں ، سامنے ہی تانیہ تولیے سے سر رگڑتی نظر ائی، اس کو پکڑا اور غسل خانے میں گھس گئیں ، مل مل کہ نہلانے لگیں۔ تانیہ لاکھ رو رو کے فریاد کرتی رہی ، " اماں ابھی تو نہلایا ہے آپ نے ۔ معاف کر دیں بار بار کیوں مل رہیں ہیں۔ میں کوئی میلا کپڑا ہوں !!!" لیکن چھوٹی بھابھی جانتی تھیں کہ بڑی آپا نے اگر فارغ دیکھ لیا تو ان کے قیام کے دوران ایک طویل لیکچر سننا پڑے گا۔ اس سے تو آسان تھا وہ تانیہ کو دو کیا دس بار نہلا دیتیں۔ بڑی آپا کی آمد بھی اچانک ہوتی تھی ورنہ تو بھابھیاں سارے ہفتے کے کام اٹھا کہ رکھتیں اور ان کی سواری باد بہاری کے اترتے ہی شروع کر دیتیں۔ مگر لاکھ پوچھنے پر بھی وہ نہ بتاتیں کس دن اور کب آئیں گی۔ بس دروازے پہ جب زور دار طریقے سے بیل بجاتیں تو سب کو پتہ چل جاتا اور ہڑبڑا کے جس کو جو کام آتا شروع کردیتا۔ بڑی آپا پہلے ساؤتھ افریقہ میں رہتی تھیں، چھ ماہ پہلے انکی پاکستان مستقل تشریف آوری نے تو ایک نئے ہی دور کا آغاز کیا تھا۔ جس کا نام تھا کام ، کام اور بس ہر دم ہر لمحے سب کو دیکھا کے کام۔ اور جو کوئی اس بات کو نہ مانتا وہ گھنٹوں پکڑ کر اس کو قائل کرنے کی کوشش کرتیں جس کو سننے سے آسان تھا کہ تہہ لگائے کپڑے دوبارہ فولڈ کر لیے جاتے ، پالش شدہ دروازوں کو صاف کر کر کے رنگ اتار لیتے، نہلائے ہوئے بچوں کو سہہ بار نہلا دیتے۔ آج بھی بڑی آپا نے آتے ہی طائرانہ نگاہ سب پر ڈالی، ساری بھابھیاں کسی نہ کسی کام میں لگیں تھیں۔ اماں بی اطمینان سے بستر پہ دراز کوئی کتاب پڑھ رہیں تھیں۔ " اماں بی کو کون سمجھائے کہ کام کرنا کتنا ضروری ہے ۔ کتنی فرصت سے کتاب پڑھ رہی ہیں۔" سیدھا باورچی خانے میں گئیں ، سالن تیار تھے ،دھلے برتن ، چمکتا سنک، کہیں کوئی کمی نظر نہ آئی۔ " سب ماسیوں کا کام ہے بھئی" ۔ عقابی نظروں سے ادھر ادھر دیکھا ، آخر کار چائے کی پیالیوں کے نیچے جمی پرانی چائے کے نشان نظر آ گئے۔ "یہ دیکھو اتنی توفیق نہیں کہ زرا سا رگڑ کے کپ دھلوا لے کوئی۔" جھٹ اسپنج نکالا اور رگڑنا شروع کر دیا۔ بھابھیاں بچاریاں الماری کئی بار صحیح کرکے ، دروازے چمکا کے، بچے نہلا کے نکلیں تو بڑی آپا ابھی تک وہی کپ رگڑ رہی تھیں۔ تینوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارہ کیا کہ اب کیا کریں۔ خیر مرتے کیا نہ کرتے ۔ اندر آئیں اور کھانا نکالنا شروع کیا۔ سب دستر خوان پہ بیٹھ گئے ۔ آپا کا انتظار تھا لیکن وہ پیالیاں مانجھ رہی تھیں۔ 'آ جائیں آپا کھانا کھا لیں٫" "آ رہی ہوں بھئی۔ زرا یہ کپ تو چمکا دوں " ہاتھ پونچھتی آئیں۔ " آپا کہاں آتے ہی کاموں میں لگ گئیں!" چھوٹے بھائی نے جان بوجھ کے چھیڑا۔ " کیا کروں عمیر گندگی برداشت نہیں ہوتی۔ کام کرنے کی ایسی عادت ہے ہمیںں، باہر رہ کہ کیا بتائیں۔ یہاں جیسے عیش کہاں باہر والوں کے !! ماسیاں آ رہی ہیں ،جا رہی ہیں ۔ کوئی فکر ہی نہیں۔" بڑی آپا نےکینڈا کے سرد موسمموں جیسی برفیلی سانس لے کے کہا۔ چھوٹی بھابھی نے کچا چبا جانے والی نظروں سے میاں کو دیکھا۔ " اماں اس بار پندرہ دن کے لیے رہنے آئی ہوں۔ اویس کو کہہ کے آئی ہوں کہ اماں کے گھر رہوں گی، زرا بھابھیاں کی مدد ہو جائے۔ بچوں میں لگی رہتی ہیں بچاریاں ، گھر نہیں سنبھال پاتیں۔ ڈسٹ بن گندے، طغروں پہ گرد ، میں زرا کام سکھا دوں تو آؤں گی۔" بہت خوش ہوئے ۔ کہنے لگے " بھئی ضرور جاؤ ۔ والدین کی خدمت بڑا اجر ہے۔" " ہاں خوش کیوں نہ ہوں گے اتنے دن آزادی منائیں گے ہمارے دولہا بھائی " بڑی بھابھی نے جل کے سوچا۔ اور زور سے آلو کو دانتوں میں دبا لیا۔ بس اب تو شامت ہی آ گئی ۔ غسل خانے کے نل ہوں یا لان میں لگے گملے ، ہر چیز کو مل مل کے دھویا جانے لگا۔ بڑی آپا نہ صرف صفائی کرتیں بلکہ ڈنکے کی چوٹ پہ کرتیں۔ بس نہ چلتا کہ اخبار میں خبر چھپوا دیں۔ " کہ آج رحمت ہاؤس کی کنڈیاں جو کثرت استعمال سے چکنی اور میلی ہو گئی تھیں عظمت آرا بیگم نے خوب رگڑ کہ ایسی کر دیں ہیں کے گمان ہوتا ہے نئی لگوائی ہیں" احد نے پھپو کو آئیڈیا دیا کہ آپ صفائی سے قبل اور اس کے بعد کے عنوان سے تصویر کھینچ کے واٹس ایپ خاندانی گروپ پہ ڈال دیا کرہں۔ یہ تو خوب ہی خیال تھا، پنکھے چمکانے ہوں یا کرسیوں کے اندرونی حصے کو سرف سے صاف کرنا سب کی تصویریں کھنچی گئیں ، خوب خوب کھنچی گئیں۔ بھابھیاں تو عاجز آ گئیں۔ " ساؤتھ افریقہ والوں کا اللہ بھلا کریں یہ کس کو بھیج دیا۔ " چھوٹی بھابھی روتے ہوئے کہتیں۔۔

🔷 کبھی کھیر میں نمک ملانا پڑتا ہے 🔷 کچھ دن پہلے میں ایک شاپنگ مال کے باہر کھڑا اپنی بیگم کا انتظار کر رہا تھا کہ ایک بہت خوش پوش اور شستہ زبان بولنے والے صاحب نے میری گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹایا۔ کہنے لگے میری کچھ خواہشیں ہیں۔ کیا آپ پوری کر دیں گے؟میں نے بھی کچھ ویسا ہی سوچا، جیسا اس وقت آپ سوچ رہے ہیں۔ میں میں نے شیشہ نیچے کیا اور ان کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ انھوں نے بہت محبت سے مجھ سے ہاتھ ملایا اور اپنا تعارف کروایا:میرا نام طیب ہے۔۔۔۔کیا ہم آپ سے بات کر سکتے ۔۔؟؟میں گاڑی سے اترا اور ان کی جانب متوجہ ہوا اور کہا: "جی فرمائیے"۔طیب خان ہے میرا نام۔۔۔۔ میں 78 سال کا ہوں۔ میری کچھ خواہشیں ہیں۔ کیا آپ پوری کر دیں گے؟میں نے بھی کچھ ویسا ہی سوچا، جیسا اس وقت آپ سوچ رہے ہیں۔ میں ان کو لیکچر دینے کے موڈ میں تھا کہ اللہ تعالیٰ سے مانگیں وغیرہ۔ مگر میں نے سوچا کہ یہ جو بھی ہے۔۔۔ سچا ہے یا مکار، اسے میرے پاس اللہ پاک نے ہی بھیجا ہے۔۔۔ تو کیوں نہ پہلے اس سے اس کی بات سن لوں۔ میں نے کہا جی میں کوشش کروں گا، آپ حکم فرمائیں۔ ان کے چہرے پر ایک حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات ابھرے۔ انھوں نے کہا، کیا واقعی آپ کوشش کریں گے؟ میں نے انھیں یقین دلایا اور تحمل سے ان کی بات سننے کیلئے ان کی جانب متوجہ ہوا۔میں ایک ٹیکسٹائل مل کا مالک تھا۔ پچھلے سیاسی دور میں بھتہ نہ دینے پر مجھے قتل کی دھمکیاں ملیں تو سب کچھ چھوڑ کر بنگلہ دیش چلا گیا اور وہاں گارمنٹس فیکٹری لگا لی۔ کچھ عرصہ تو سسٹم ٹھیک چلا مگر پھر مجھے میرے بنگالی پارٹنر نے دھوکہ دیا اور مجھے نہ صرف وہاں سے بھگا دیا بلکہ میرا سب کچھ کھا گیا۔ پاکستان واپس آیا تو میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ مل بند پڑی تھی اور سرمایہ کاری کیلئے بھی کچھ نہیں تھا۔ بڑے بیٹے نے مل اپنے نام کروائی اور مجھے گھر سے نکال دیا۔ مل کی جگہ اس نے کالونی بنا دی۔ میں کچھ عرصہ تو اپنی بہن کے ساتھ رہا مگر ان کے شوہر کو اچھا نہیں لگتا تھا اس لیے میں وہاں سے بھی نکل آیا۔ بیٹے سے ملا مگر اس نے ذلیل کرکے نکال دیا۔ پھر میں ایک مسجد میں گیا اور وہاں کے امام صاحب سے مسجد کی خدمت اور بچوں کو پڑھانے کی درخواست کی اور رہنے کیلئے جگہ مانگی، تو وہ مان گئے۔ چار سال سے وہیں ہوں۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ بن ٹھن کر نکلوں اور کافی پیوں۔ میں دن میں تین کپ کافی پیتا تھا۔ کافی کا مجھے جنون تھا۔ اب جب بھی کبھی ایک دو ماہ بعد دل کرتا ہے تو اپنی واحد پوشاک یہ کپڑے پہن کر یہاں آتا ہوں اور کسی ایک شخص کو جو مجھے اللہ والا دکھتا ہے، میں کافی پلانے کی درخواست کرتا ہوں۔ مان جائے تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور نہ مانے تو واپس چلا جاتا ہوں۔۔۔۔۔ "کیا آپ مجھے کافی پلا سکتے ہیں؟" میں زمین سے جیسے چپک کر رہ گیا تھا۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔ آنکھیں نم تھیں۔ میں نے ان کا ہاتھ تھاما اور بیگم کو فون کیا کہ وہ میرے فون پر ہی لوٹے، کیونکہ میں ایک دوست کے ساتھ کافی پینے جا رہا ہوں۔ پاس ہی گلوریا جینز کے کیفے پر لے جا کر میں نے طیب صاحب کو ان کی پسند کی کافی اور کیک کھلایا۔ انھوں نے دو مگ پیئے۔ ہم نے مزید باتیں نہیں کی اور خاموشی سے کافی پینے کے بعد باہر نکل آئے۔ میں نے ان کو مسجد تک چھوڑنے اور ان کی کچھ مالی امداد کرنے کی اجازت چاہی، تو بولے: "تاثیر صاحب اب اور کوئی خواہش باقی نہیں رہی۔ اللہ پاک آپ کو بہت زیادہ عطاء فرمائے۔ آمین"مجھ سے مصافحہ کیا اور چلے گئے۔ میں کھڑا ان کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا اور وہ بغیر پیچھے مڑے بہت شان سے چلتے ہوئے میری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے۔ کسی کی خواہش کی تکمیل کیلئے سوچا نہ کریں اور ہر کسی کو لیکچر نہ دیا کریں۔ یہ جو آپ کے در پر دستک دیتے ہیں نا، یہ اللہ کے مہمان ہوتے ہیں۔ ان کی قدر کیا کریں۔ کیونکہ وقت ایک سا نہیں رہتا۔

🌹 قرض کی ادائیگی کا انوکھا واقعہ 🌹 کسی شخص نے کسی دوست سے تین ہزار دینار قرض لیا اور واپسی کی تاریخ مقرر ہوگئی۔ مگر ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہو۔ اُس شخص کا کاروبار معطل ہو گیا اور وہ بالکل کنگال ہوکر رہ گیا۔ قرض خواہ نے تاریخِ مقررہ پر پہنچ کر قرضہ کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ اُس مقروض نے معذرت چاہی کہ بھائی میں مجبور ہوں میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ قرض خواہ نے قاضی کے ہاں دعویٰ دائر کر دیا۔ قاضی صاحب نے اُس مقروض کو طلب کیا اور سماعت کے بعد اُس مقروض کو ایک ماہ کی مہلت دی اور کہا کہ اِس قرضہ کی واپسی کا انتظام کرو۔ مقروض عدالت سے باہر آیا اور سوچنے لگا کہ کیا کروں۔۔۔؟؟؟ الحاصل اُس نے عاجزی اور زاری کے ساتھ مسجد کے ایک گوشے میں بیٹھ کر درودِ پاک پڑھنا شروع کر دیا۔ جب ستائیس دن گزر گئے تو اُسے رات کو ایک خواب دکھائی دیا، کوئی کہنے والا کہتا ہے اے بندے! تو پریشان نہ ہو، اللہ تعالیٰ کارساز ہے تیرا قرض ادا ہوجائے گا، تو علی بن عیسیٰ وزیرِ سلطنت کے پاس جا اور جاکر اُسے کہہ قرض ادا کرنے کے لیے مجھے تین ہزار دینار دے دے۔ جب میں بیدار ہوا تو بڑا خوشحال تھا۔ پریشانی ختم ہو چکی تھیں لیکن یہ خیال آیا کہ اگر وزیر کوئی دلیل یا نشانی طلب کریں تو میرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ دوسری رات ہوئی جب آنکھ سو گئی تو قسمت جاگ اُٹھی۔ مجھے آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دیدار نصیب ہوا۔حضور (ص) نے بھی علی بن عیسیٰ کے پاس جانے کا ارشاد فرمایا، جب آنکھ کھلی تو خوشی کی انتہا نہ تھی۔ تیسری رات پھر اُمّت کے والی صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لاتے ہیں اور پھر حکم فرماتے ہیں کہ وزیر علی بن عیسیٰ کے پاس جاؤ اور اُسے یہ فرمان سنا دو۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (ص) میں کوئی دلیل یا علامت چاہتا ہوں جو کہ اس ارشاد کی صداقت کی دلیل ہو۔ یہ سُن کر حضور اکرم (ص) نے میری عرض کی تحسین فرمائی اور فرمایا کہ اگر وزیر تجھ سے کوئی علامت دریافت کرے تو کہہ دینا اس کی سچائی کی علامت یہ ہے کہ آپ نمازِ فجر کے بعد کسی کے ساتھ کلام کرنے سے پہلے پانچ ہزار درودِ پاک کا تحفہ دربارِ رسالت میں پیش کرتے ہو جسے اللہ تعالیٰ اور کراماً کاتبین کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یہ فرما کر سیّد دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم تشریف لے گئے۔ میں بیدار ہوا، نمازِ فجر کے بعد مسجد سے باہر قدم رکھا اور آج مہینہ پورا ہوچکا تھا، میں وزیر کی رہائش گاہ پر پہنچا اور وزیر سے سارا قصہ کہہ سنایا۔ جب وزیر نے کوئی دلیل طلب کی اور میں نے حضور محبوبِ کبریا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد سنایا تو وزیر خوشی اور مسرت سے چمک اٹھا اور کہا؛ مرحبا! برسول اللہ حقًا اور پھر وزیر اندر گیا اور نو ہزار دینار لے کر آگیا۔ اُن میں سے تین ہزار گن کر میری جھولی میں ڈال دیے اور فرمایا یہ تین ہزار قرضہ کی ادائیگی کے لیے اور پھر تین ہزار اور دیے کہ یہ تیرے بال بچوں کا خرچ اور پھر تین ہزار اور دیے اور کہا یہ تیرے کاروبار کے لیے۔ اور ساتھ ہی وداع کرتے وقت قسم دے کر کہا اے بھائی! تو میرا دینی اور ایمانی بھائی ہے خدارا یہ تعلق و محبت نہ توڑنا اور جب بھی تجھے کوئی کام، کوئی حاجت درپیش ہو، بلا روک ٹوک آجانا میں تمھارے کام دل و جان سے کیا کروں گا۔ میں وہ رقم لے کر سیدھا قاضی صاحب کی عدالت میں پہنچ گیا اور جب فریقین کو بلاوا ہوا تو میں قاضی کے ہاں پہنچا اور دیکھا کہ قرض خواہ مبہوت کھڑا ہے۔ میں نے تین ہزار گن کر قاضی صاحب کے سامنے رکھ دیے۔ اب قاضی صاحب نے سوال کر دیا کہ بتا تو یہ اتنی دولت کہاں سے لے آیا ہے۔؟ حالانکہ تو مفلس اور کنگال تھا۔ میں نے سارا واقعہ بیان کر دیا ۔ قاضی صاحب یہ سن کر خاموشی سے اٹھ گئے اور گھر سے تین ہزار دینار لے کر آگئے اور فرمایا ساری برکتیں وزیر ہی کیوں لوٹ لے، میں بھی اُسی سرکار کا غلام ہوں، تیرا یہ قرضہ میں ادا کرتا ہوں۔ جب صاحبِ قرض نے یہ ماجرا دیکھا تو وہ بولا کہ ساری رحمتیں تم لوگ ہی کیوں سمیٹ لو، میں بھی ان کی رحمت کا حقدار ہوں، یہ کہہ کر اس نے تحریر کر دیا کہ میں اِس کا قرض اللہ جل جلالہ و رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے معاف کر دی۔ اور پھر مقروض نے قاضی سے کہا کہ آپ کا شکریہ! لیجیے اپنی رقم سنبھال لیجیے! تو قاضی نے کہا اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت میں جو دینار لایا ہوں وہ واپس لینے کو ہرگز تیار نہیں ہوں، یہ آپ کے ہیں آپ لے جائیں۔ تو میں بارہ ہزار دینار لے کر گھر آگیا اور قرضہ بھی معاف ہوگیا۔ یہ برکت ساری کی ساری درودِ پاک کی ہے۔ مشکل جو سر پہ آ پڑی تیرے ہی نام سے ٹلی مشکل کشا ہے تیرا نام، تجھ پر دُرود و سلام 📚 جذب القلوب، صـ263 بحوالہ آبِ کوثر۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 اجر رسالت 🌹 ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺩﮨﻠﯽ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﭘﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﻧﺎﻣﯽ ﺷﺨﺺ ﺁﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﻼﺗﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ، ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﻧﮯﺍﻧﮭﯿﮟ ﺑﮍﯼ ﺗﮑﺮﯾﻢ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﭘﯿﺎﻟﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ۔ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯽ ﮐﺮ ﺟﺐ ﺍﺱ بزرگ ﮐﺎ ﺩﻝ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕا: ﻣﺎﻧﮓ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﮯ؟ نور حیات ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﻮ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ! ﺍس اللہ کے بندے ﻧﮯ ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﺎ ﮨﻨﺪﺳﮧ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﺏ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ……… ، ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻭﻟﯽ ﮔﺰﺭﮮ۔ ﻧﻮﺭﺣﯿﺎﺕ ﻧﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ، ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ: ﻣﺎﻧﮓ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﻧﻮﺭﺣﯿﺎﺕ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﻼﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮﺩ ﺧﺪﺍ ﺍﯾﮏ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﮈﺍﻝ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺻﻔﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﻭﮞ، ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺻﻔﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ۔ ﺍﺏ ﻧﻮﺭﺣﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺩﺱ ﺭﻭﭘﮯ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﻣﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻭﻟﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﮮ، ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯽ ﮐﺮ ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﯽ ہتھیلی ﭘر ﺍﯾﮏ ﺻﻔﺮ ﮈﺍﻝ ﺩﯼ۔ ﺍﻭﺭ اب ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻧﻔﻊ ﻣﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻗﻄﺐ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ، ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯽ ﮐﺮ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﺎﻧﮕﻮ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮨﻮ۔؟ ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﻼﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺻﻔﺮ ﮐﺎ ﻣﺰﯾﺪ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﺍﺏ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﺯاﻧﮧ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﮨﻮﺗﺎ۔۔۔۔ ﺩﻥ ﺑﮧ ﺩﻥ نور حیات ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﺎﻟﺪﺍﺭ ﮨﻮﮔﯿﺎ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﻮ ﺧﯿﺮ ﺑﺎﺩ کہہ ﺩﯾﺎ۔ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﻣﺎﮦ ﮔﺰﺭﮮ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭨﮯ۔ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﺐ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺑﮯ ﺁﺑﺎﺩ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﻼﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔۔؟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯﮐﮩﺎ: ﺣﻀﺮﺕ! ﻭﮦ ﯾﮧ ﮐﺎﺭﺧﯿﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﻓﺮﻣﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﭼﻠﻮ۔ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﻝ ﻭ ﻣﻨﺎﻝ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ، ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮐﮭﺎﺅ! ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺁﮔﮯ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﭩﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﭩﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺻﻔﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﻗﻌﺖ ﻧﮧ ﺭﮨﯽ، ﺍﺳﮯ ﺟﻮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻣﻠﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﮐﯿﻮنکہ ﺍﺻﻞ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺻﻔﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻭﺟﻮﺩ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ تھا۔ ﺑﻼ ﺗﻤﺜﯿﻞ ﻭ ﺗﺸﺒﯿﮧ اہل بیت النبوۃ علیھم السلام ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ 1……… ، ﻧﻤﺎﺯ، ﺭﻭﺯﮦ، ﺣﺞ، ﺯﮐﻮﺓ، ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﻋﺒﺎﺩﺍﺕ ﺻﻔﺮﯾﮟ؛ ﯾﮧ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺳﻮ، ﮨﺰﺍﺭ، ﻻﮐﮫ، ﮐﺮﻭﮌ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ اہلبیتِ ﺭﺳﻮﻝ (ص) ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺑﮯ ﻗﯿﻤﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﺟﺘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ۔ "قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰىؕ" (سورہ شوری:23) اے رسول آپ کہدیں: میں اس (تبلیغ رسالت) پر تم سے کوئی اجر، کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا مگر قرابتداروں کی مودت۔ ﺧﺪﺍ ﮨﻤﺎﺭﺍ "ﺍﯾﮏ" ﺳﻼﻣﺖ ﺭﮐﮭﮯ !! 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 فیسک پر غلط رابطے 🔷 شادی شدہ ہو کر کسی عورت سے چکر چلانے یا ساری رات کسی عورت سے فیسبک یا وٹس ایپ پر باتیں کرنے کا شوق دل میں اٹھے تو شوق سے اپنا شوق پورا کریں۔۔۔ لیکن شوق پورا کرنے سے پہلے ایک بار حضرت علامہ اقبال (رح) والا پوز بنا کر سوچئے کہ اگر آپ کی بیوی کسی مرد سے چکر چلائے یا ساری رات کسی مرد سے فیس بک یا وٹس ایپ پر باتیں کرے تو آپ کو کیسا لگے گا۔۔؟ اگر آپ بین الاقوامی بے غیرت نہیں تو یقیناً برا لگے گا۔ بس فیس بک انگریزی کے دو لفظوں سے بنا ہوا ہے۔۔۔ 1- فیس face 2- بک book پہلا لفظ فیس (facee) یعنی چہره، یہاں آپ اللہ تعالٰی کے اس فرمان کو ضرور یاد رکھئے: (یَّوۡمَ تَبۡیَضُّ وُجُوۡہٌ وَّ تَسۡوَدُّ وُجُوۡہٌ) ترجمہ: اس دن جس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے ۔ (آل عمران 106) جن کے چہرے روشن ہوں گے درحقیقت قیامت کے دن وہی لوگ کامیاب ہوں گے اور یہ وه لوگ ہوں گے جو دنیا میں ایمان لائے اور نیک عمل کئے. اس کے بر عکس کفر و شرک اور گناه و معاصی کرنے والوں کے چہرے سیاہ اور کالے ہوں گے. اب آپ کو اختیار ہے کہ فیس بک کا اچھا یا غلط استعمال کر کے آپ کون سے چہرے والوں میں شامل ہونا پسند کریں گے. دوسرا لفظ بک (book) یعنی کتاب، یہاں آپ اللہ کے اس فرمان کو ضرور یاد رکھئے: وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ ۖ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا (13) اقْرَأْ كِتابَكَ كَفَىٰ مِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا (14) ترجمہ: ہم نے ہر انسان کی برائی بھلائی کو اس کے گلے لگا دیا ہے اور بروز قیامت ہم اس کے سامنے اس کا نامہ اعمال نکالیں گے جسے وہ اپنے اوپر کھلا ہوا پا لے گا۔ [اس سے کہا جائے گا] لے! خود ہی اپنی کتاب آپ پڑھ لے۔ آج تو آپ ہی اپنا خود حساب لینے کو کافی ہے۔ (الإسراء 13-14) یعنی یہاں فیس بک پر جو کچھ بھی آپ کر رہے ہیں وہ آپ کے نامہ اعمال میں لکھا جا رہا ہے اور وہ محفوظ ہو رہا ہے، کل قیامت کے دن وه نامہ اعمال آپ کو دیا جائے گا اور کہا جائے گا لیجئے خود پڑھئے آپ نے فیس بک پر کیا کچھ کیا ہے۔ 🔘 خلاصہ کلام: اگر آپ چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن آپ کا فیس روشن ہو اور آپ اپنی بک یعنی نامہ اعمال دائیں ہاتهہ میں پا کر خوش ہوں تو آپ فیس بک (Facebook) کا اچھا استعمال کیجئے. اچھی چیزیں پوسٹ اور اپلوڈ کیجئے، کفریہ و فسقیہ، گناہ و معصیت اور بے حیائی و برائی کی چیزیں پوسٹ کرنے یا لائک اور شیئر کرنے سے پرہیز کیجئے. . آج آپ مضبوط ہیں اور آپ کے بیوی بچے کمزور لیکن جس دن آپ کے جسم نے بوڑھاپے کی چادر اوڑ لی تب آپ کمزور اور آپ کے بیوی بچے مضبوط ہوں گے۔ بس اگر آج آپ ان کے نہ ہوئے تو کل وہ آپ کے نہیں ہوں گے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت کے راستے پر گامزن کرے۔ آمین یارب العالمین منقول۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ■ مزید پوسٹس۔۔۔ 🔷 مختلف ویبسائٹس https://t.me/islamwitheman/4886 ❤️ ڈیجیٹل فاسٹنگ https://t.me/islamwitheman/5181 🔷 فیس بک ایک شکارگاہ ہے۔ https://t.me/islamwitheman/5190 🔷 فیسبک پر گندی ویڈیوز بین کریں https://t.me/islamwitheman/5191 🔷 خفیہ کیمرے https://t.me/islamwitheman/5218 🔷 فیس بک کی دنیا https://t.me/islamwitheman/5256 🔷 فیسبک پر پوک کرنا https://t.me/islamwitheman/5282 🔷 اٹیچمنٹ https://t.me/islamwitheman/5289 🔷 فیسک پر غلط رابطے https://t.me/islamwitheman/5597 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 گلی محلے کے دکاندار 🔷 کچھ دن پہلے کسی کام سے ایک قریبی محلے میں میرا جانا ہوا۔ دوپہر کا وقت تھا، گرمی عروج پر تھی. گلی میں جنرل سٹور ٹائپ دکان دیکھی تو سوچا کولڈ ڈرنک پی کر دماغی توازن ٹھنڈا کیا جائے. میں نے بائک روکی اور دکاندار کہ جس کی عمر پچاس کے قریب تھی، سے یخ کولڈ ڈرنک طلب کی اور لیکر دکان کے باہر شیڈ کے نیچے سائیڈ پر کھڑا ہو کے خود کو بوسٹ آپ کرنے لگا. اتنے میں ایک پیاری سی بچی جو کہ جسمانی خدوخال سے بلوغت کی حدوں کو چھو رہی تھی مگر چہرے کی معصومیت اور انداز و اطوار سے میرے اندازے کے مطابق 10 سال سے زائد عمر کی نہ تھی۔ دکان پر آئی اور بظاہر کرخت نظر آنے والے دکاندار سے 1.5 لیٹر کوک دینے کو کہا... ساتھ ہی وہ فرنٹ ڈیسک پر پڑی ٹافیوں, نمکو, سلانٹی وغیرہ میں سے بھی چیزیں چننے لگی. دکاندار نہایت شفقت اور محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچی کو چیزوں کے ریٹ بھی بتانے لگا اور بچی کیساتھ خوش گپیاں بھی کرنے لگا ۔۔۔ اور میں اسکو نوٹس کرنے لگا. خیر میں دکان کے باہر سائیڈ پر اس اینگل سے کھڑا تھا کہ دکاندار مجھے نہیں دیکھ سکتا تھا جبکہ دکاندار اور بچی مجھے صا ف نظر آرہے تھے... اسی اثنا میں دکاندار نے خوش گپیاں کرتے کرتے بچی کے گال پر ہاتھ لگایا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بچی کے ابھرتے نسوانی نقوش پر چٹکی کاٹ لی...... بچی اسکی اس حرکت پر ہونٹ بھینچ کر شرمانے لجانے لگی اور ٹماٹر کی طرح سرخ ہو کر سکڑنے سمٹنے لگی... اور جلدی جلدی چیزیں لیکر بھاگ گئی. .. ممکن ہے ایسا پہلی بار ہوا ہو اسکے ساتھ یا قریبی دکان پر آنے کے باعث ایسا روز ہوتا ہو اسکے ساتھ..... مگر میرے مشاہدے کے مطابق بچی کا اسکی اس حرکت پر خفا نہ ہونا اور بس نا سمجھی میں شرمانا صاف ظاہر کر رہا تھا کہ دکاندار موصوف پہلے بھی بچی کو ہراساں کرتا رہتا ہوگا. بہرحال میں اس صورتحال پر کشمکش میں تھا کہ کیا ایکشن لوں... اسے لعن طعن کروں... لوگوں کو جمع کروں....؟ مگر چونکہ میں اس محلے میں اجنبی تھا اس لیے خاموشی اختیار کر لی مبادا کہ محلے کے اس شریف دکاندار کو بے قصور سمجھ کر لوگ مجھے ہی جھوٹے الزام میں نہ دھر لیں.... میں نے چبھتی نگاہوں سے اسے بوتل کے پیسے ادا کیے اور وہاں سے روانہ ہوگیا. بس اس واقعے نے مجھے ایک نئی تحریک دی. معاشرتی و اخلاقی مسائل سے وابستہ کیسوں کی تو میں خود سے تلاش میں رہتا ہوں.. بس پھر کیا تھا... گرمی اور مصروفیت کی پروا نہ کرتے ہوئے میں نے اگلے تین روز میں اپنا محدود سا شہر چھان مارا.... حتی المقدور ہر محلے کی ہر ایک گلی کا وزٹ کیا... جہاں گلی میں دکان نظر آتی اور وہاں چھوٹی بچیاں بھی موجود ہوتیں تو وہاں رک کر بہانے سے کوئی چیز لیتا... یا دکاندار کی نفسیات کو پرکھ کر مزید مشاہدے کیلئے بوتل بھی پی لیتا...جسے ختم کرنے میں مجھے 15 منٹ ضرور لگتے.... پھر ڈائری میں دکان کا نام اور لوکیش نوٹ کرتا اور آگے نکل جاتا... یوں اس ریسرچ آپریشن کے تین دنوں میں , میں نے 28 بوتلیں پی اور 70 عدد شاہی میوے, طلسیاں, ہیوٹ والی ٹافیاں بھی جمع کیں..... مگر اس سے حاصل ہونے والا مشاہدہ میرے لئیے کسی خزانے سے کم نہ تھا.....!!! دوستو۔۔! زیادہ تر مسجدوں کے امام اور سکول ٹیچر ہی چھوٹے بچے اور بچیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے میں مشہور ہیں... مگر کیا آپ نے اپنے گلی محلے کے دکانداروں پر بھی کبھی غور کیا... ؟؟؟ انکی عمر پر مت جائیے گا... دکان چلانے والے نوجوان لڑکوں سے لیکر عمر رسیدہ بوڑھوں تک کی حرکتوں کا جائزہ لیا....؟؟؟ مگر میں نے لیا.... 232 دکانوں کے مشاہدے کے بعد صرف 78 دکانداروں کو میں نے چھوٹے بچے بچیوں کی حد تک ٹھیک پایا...جبکہ بقیہ 154 دکانداروں کی حرکتیں چھوٹی بچیوں کیساتھ ذومعنی اور بے مطلب, بے مقصد مذاق پر مشتمل تھیں... جبکہ ان کے ساتھ ہاتھ کا مذاق اور انھیں ٹچ کرنا بھی معمول کی بات تھی.... !! ایک دکاندار اگر ایک باپ کے سامنے بھی اسکی چھوٹی بچی کے گال پر پاتھ پھیرے تو باپ کو بہت اچھا لگے گا کہ شریف انسان میری بچی سے بہت انسیت رکھتا ہے...مگر میں اپنی ریسرچ کے مطابق اسکے پیچھے چھپی شیطانیت کو پرکھ سکتا ہوں... ان دکانداروں میں کچھ ہمارے اپنے اور کچھ غیر ہوتے ہیں.... غیر تو ایک طرف مگر زیادہ تر اپنے ہی چھوٹی رشتہ دار بچیوں پر جنسی نگاہ رکھتے ہیں... بچیاں ان سے مانوس بھی ہوتی ہیں اور کسی کو کچھ بتاتی بھی نہیں.... لہذا میں اپنی ریسرچ کو اپنے شہر میں کس طرح قانونی کارروائی میں استعمال کروں گا یہ ایک الگ معاملہ ہے... مگر میرا فرض تھا کہ آپکو بھی اس میں شریک کر کے باور کرا دوں کہ بحثیت والدین آپ کو کیسے اپنے بچوں کو محفوظ رکھنا ہے. آپ سب سمجھ دار ہیں. ایسی برائیوں کی روک تھام کے طریقے بھی آپکو بخوبی پتا ہیں بس اب عمل کرنے کا وقت ہے۔ انتخاب۔۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 ایک عورت کو صدقے کا اجر 🌹 ایک عورت کا عبرتناک واقعہ۔۔۔ بنی اسرائیل کی ایک عورت اپنے بچے کو لے کر جنگل سے گزر رہی تھی۔ اچانک ایک بھیڑیا آیا اور اس نے عورت پر حملہ کر دیا۔ جب بھیڑیے نے حملہ کیا تو وہ کمزور دل عورت گھبرا گئی۔ جس کی وجہ سے اس کا بیٹا اس کے ہاتھ سے نیچے گر گیا۔ اس بھیڑیے نے اس بچہ کو اٹھایا اور بھاگ گیا۔ جب ماں نے دیکھا کہ بھیڑیا میرے بیٹے کو منہ میں ڈال کر لے جا رہا ہے تو ماں کی مامتا نے بھی جوش مارا اور اس کے دل سے ایک آہ نکلی۔ جیسے ہی اس کی آہ نکلی تو اس نے دیکھا کہ ایک جواں مرد سا آدمی درخت کے پیچھے سے اس بھیڑیے کے سامنے آیا اور بھیڑیے نے جب اچانک کسی کو اپنے سامنے دیکھا تو وہ بھی گھبرا گیا۔ جس کی وجہ سے بچہ بھیڑیا کے منہ سے نیچے گر گیا اور وہ بھاگ گیا۔ اس نوجوان نے بچے کو اٹھایا اور لا کر اس کی ماں کے حوالے کر دیا۔ وہ ماں کہنے لگی کہ تُو کون ہے٬ جس نے میرے بچے کی جان بچائی؟ اس نے کہا میں عرش کے قریب رہنے والا ایک فرشتہ ہوں۔ اللّٰه رب العزت نے مجھے آپ کی مدد کے لیے بھیجا ہے۔ وہ عورت کہنے لگی کہ میرا ایسا کون سا عمل ہے جس کی وجہ سے اللّٰه نے تجھے میری مدد کے لیے بھیجا ہے؟ فرشتے نےکہا کہ ایک روز آپ اپنے گھر میں بیٹھی ہوئی کھانا کھا رہی تھی٬ عین اسی وقت کسی سائل نے آپ کے دروازے پر (روٹی) کا ٹکڑا مانگا۔ آپ کے گھر میں اس وقت وہی روٹی تھی جو آپ کھا رہی تھی۔ آپ نے اس وقت سوچا کہ میں اللّٰه کے نام پر سوال کرنے والے کو خالی کیسے بھیجوں؟ تم نے اپنے ہاتھ کا لقمہ منہ میں ڈالنے کی بجائے پلیٹ میں رکھ دیا۔ گویا کہ تم نے اپنے منہ کا لقمہ فقیر کو دے دیا اور اس لقمہ کی برکت سے اللّٰه نے تیرے بچے کو بھیڑیا کے لقمہ بننے سے بچا لیا٬ تُو نے اپنا منہ کا لقمہ نکال کر فقیر کو دیا تو اللّٰه نے بھیڑیا کا لقمہ نکال کر تیری گود میں واپس لوٹا دیا۔ Copied... 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌺 نیکی کا ارادہ 🌺 سچا واقعہ ۔۔۔۔ پسینے میں شرابور عبدالغفور نے پرانا عمارتی سامان بیچنے والی دکان پر سائیکل کو بریک لگائے؛ اس کی اکھڑی ہوئی سانس سے اندازہ کرنا مشکل نہ تھا کہ وہ طویل مسافت طے کر کے آیا ہے؛ سائیکل سے اُترتے ہی اس نے دکاندار کو تیس روپے دیتے ہوئے دس پرانی اینٹیں طلب کیں۔ دکاندار اپنے ملازم سے اینٹیں دینے کا کہہ کر خود اخبار پڑھنے میں مصروف ہو گیا۔ عبدالغفور نے اینٹیں احتیاط سے کیرئیر کے ساتھ باندھیں اور سائیکل کو گھسیٹتا ہوا پیدل ہی روانہ ہو گیا۔ دکاندار اچانک کسی خیال سے چونکا اور اخبار ایک طرف رکھ کر عبدالغفور کو جاتے ہوئے دیکھنے لگا۔ وہ سوچنے لگا کہ یہ شخص جو ایک عرصہ سے ہر دوسرے تیسرے دن دس اینٹیں خرید کر لے جاتا ہے ان کا کیا کرتا ہو گا۔؟ اتفاق سے اگلے ہی دن عبدالغفور اس کی دکان پر دس اینٹیں خریدنے کیلئے پھر آ گیا۔ دکاندار کے تجسس نے اس سے سوال کرنے پر مجبور کر دیا؛ اس نے عبدالغفور کو بیٹھنے کیلئے اور ملازم لڑکے کو چائے لانے کیلئے کہا۔ عبدالغفور اس عزت افزائی پر حیران ہوتے ہوئے قریب ہی پڑے موہڑے پر بیٹھ کر سوالیہ نظروں سے دکاندار کو دیکھنے لگا؛ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد دکان دار نے گفتگو کا آغاز کیا۔۔۔ ”اگر برا نہ مانو تو میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ جو تم ہر دوسرے تیسرے دن دس اینٹیں لے جاتے ہو ان کا کیا کرتے ہو؟“ عبدالغفور نے ذرا سے توقف کے بعد جھجکتے ہوئے جواب دیا: ”مجھے دراصل پندرہ سو اینٹوں کی ضرورت ہے جو میں اکٹھی خریدنے کے قابل نہیں ہوں؛ دیہاڑی دار مزدور ہوں، کبھی کام ملتا ہے کبھی نہیں، جس دن کام مل جاتا ہے اس دن میری کوشش ہوتی ہے کہ میں کچھ اینٹیں خرید کر جمع کر لوں۔" ”پندرہ سو اینٹیں کس مقصد کیلئے اکٹھی کر رہے ہو؟“ ”گھر کے صحن کی دیواریں اونچی کر کے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نصیحت پر عمل کرنے کیلئے۔“ ”وہ مبارک نصیحت کیا ہے؟“ ”ایک شخص نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ اس کا اچھا بھلا کاروبار کچھ عرصے سے انتہائی مندے کا شکار ہو گیا ہے، تنگدستی کی وجہ سے دو وقت کی روٹی پوری کرنے کیلئے اُدھار کی نوبت آگئی ہے۔ نبی پاک نے اس شخص کی باتیں ہمدردی کے ساتھ سننے کے بعد مشورہ دیا کہ وہ اپنے گھر کے صحن کی دیواریں اونچی کر لے، سب ٹھیک ہو جائے گا ان شاء اللہ۔ وہ شخص حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مزید کوئی سوال کیے بغیر رخصت ہو گیا۔ کچھ ہی دن بعد اس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر انتہائی مسرت بھرے لہجے میں بتایا کہ اس کا کاروبار چمک اٹھا ہے اور الحمدللہ قرض بھی اُتارنے کے قابل ہو گیا ہے؛ لیکن اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ صحن کی دیواروں کا رزق میں تنگی سے کیا تعلق تھا۔؟ نبی اکرم (ص) نے مسکراتے ہوئے اُسے سمجھایا کہ اُس کی گلی سے ایک یہودی گھوڑے پر سوار ہو کر گزرتا تھا؛ دیواریں چھوٹی ہونے کی وجہ سے صحن میں کام کاج کرتی اس کی بیوی پر یہودی کی نظریں پڑتی تھیں، اسی بے پردگی کی وجہ سے رزق میں تنگی آ رہی تھی، دیواریں اونچی ہونے سے بے پردگی ختم ہو گئی اور رزق میں برکت آ گئی۔“ سبحان اللہ!!! دکاندار کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ ”قصبے کے آخر میں برگد والی گلی میں میری ایک چھوٹی سی کھولی ہے۔ عبدالغفور نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، جہاں میں اپنی آٹھ اور سات سالہ دو بیٹیوں کے ساتھ رہتا ہوں۔ صحن کی دیواریں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ میری کوشش ہے کہ اس سے پہلے کہ بیٹیاں بڑی ہوں صحن کی دیواریں مکمل کر کے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدایت پر عمل کر لوں تاکہ بے پردگی کی نحوست سے بچا رہوں۔ بہت نیک جزبہ ہے، کتنی اینٹیں حمع کر چکے ہو اب تک؟ عبدالغفور نے اُنگلیوں پر حساب لگا کر بتایا کہ تین سو سے کچھ زیادہ ہی ہو گئی ہیں۔ چائے آ گئی تھی، دکاندار نے چائے پیالی میں انڈیلتے ہوئے سرگوشی کی: ”تم فکر نہ کرو؛ تمہارے صحن کی دیواریں مَیں مکمل کروا دوں گا۔“ ”جی آپ؟“ ”مجھے امید ہے کہ تم مجھے اس نیک کام سے نہیں روکو گے اور میری یہ بھی خواہش ہے کہ تم میری دکان پر مستقل ملازم کی حیثیت سے کام کرو۔“ عبدالغفور کی آنکھوں میں نمی تیر گئی، وہ غیر ارادی طور پر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے سوچنے لگا کہ.. رب تعالیٰ کتنا کریم ہے کہ نیک کام کے ارادے پر ہی اپنے بندے پر عنایات کے دروازے کھول دیتا ہے۔... 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

انوشہ نے بھی صاف جواب دے دیا کہ میں کسی بھی قیمت پر اس کی والدہ کے ساتھ نہیں رہوں گی اس کی والدہ کی خدمت کرنا میری ذمہ داری نہیں ہے اور اپنے والدین کے ساتھ اپنے گھر اگئی۔ مگر اتے ہوئے اس نے کھانے کی کوئی چیز بنا کر اس میں زہر ملا کر حسنات کی والدہ کو کھلا دیا حسنات کی غیر موجودگی میں وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ اپنے گھر پہنچ گئی اور پیچھے حسنات کی والدہ کا انتقال ہو گیا یوں ماں کے اچانک موت پر اسے گہرا صدمہ پہنچا۔ جبکہ اس کی فیملی کے ڈاکٹر نے اس کی والدہ کی موت کو طبعی موت ماننے سے انکار کر دیا ڈاکٹر اور باقی خاندان کی ضد کے باوجود بھی حسنات نے والدہ کا پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کر دیا اور والدہ کو دفن کر دیا۔ مگر کہتے ہیں نا کہ قتل چھپانے سے بھی نہیں چھپتا۔ جس برتن میں حسنات کی والدہ کے لیے کھانا بنایا گیا تھا اس برتن میں کچھ کھانا بچا ہوا تھا وہ کھانا کچھ کیڑے مکوڑوں اور چھپکلی نے بھی کھانے کی کوشش کی تھی اور وہ سب برتن میں مرے پڑے تھے چونکہ گھر میں فوتگی ہو چکی تھی اور دوسری طرف اس کی بیوی بھی روٹھ کر جا چکی تھی تو گھر کے ذاتی استعمال والے برتن کافی دن تک دھلے نہیں تھے ایسے ہی پڑے ہوئے تھے جن میں خاص طور پر کھانے کا وہ برتن موجود تھا کیونکہ وہ برتن جو فوتگی پر استعمال ہو رہے تھے وہ دھل رہے تھے لیکن گھر کا سارا کام ویسے کا ویسے ہی پڑا تھا جب حسنات نے اس برتن کی حالت دیکھی اور اس میں مرے ہوئے کیڑوں کو دیکھا تو اسے لوگوں کی باتیں یاد ائیں جو اس بات کے قائل نہیں تھے کہ اس کے والدہ کی موت طبعی ہوئی ہے۔ حسنات نے اپنے ذرائع استعمال کرتے ہوئے اس برتن کو چیک کروایا تو ثابت ہو گیا کہ اس برتن میں زہر تھا حسنات نے اسی وقت اپنی بیگم انوشہ کو طلاق دے دی اور اس پر پولیس کیس کر دیا۔ انوشہ کو گرفتار کر لیا گیا اور اس نے اپنا جرم قبول کر لیا اسے جیل بھیج دیا گیا جہاں وہ اج بھی اپنی سزا پوری کر رہی ہے مگر اج بھی لوگ حیران ہیں کہ اتنا پیارا جوڑا کیسے طلاق تک پہنچ گیا اور پھر بات طلاق پر نہیں رکی انوشہ نے اپنی ساس کا قتل کر دیا اور بات یہاں بھی نہیں رکی بلکہ انوشہ کو جیل ہو گئی۔ اج انوشا اپنی سزا پوری کر رہی ہے گو کہ اس کے میکے والوں نے اپنی پوری طاقت استعمال کی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اسے اس کیس سے بچا لیا جائے مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں کیونکہ سامنے ان کا مخالف کوئی کمزور نہیں تھا بلکہ انہی کی طرح مضبوط گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور پھر جس کی ماں مری ہوتی ہے وہ مضبوط نہ بھی ہو تو مضبوط ہو جاتا ہے۔ اگر انوشہ کو قانونی کاروائی سے بچا بھی لیا جاتا اس کو سزا سے بچا بھی لیا جاتا یقینا پھر بھی حسنات اپنی ماں کے قتل کا بدلہ ضرور لیتا یہ بات اس نے انوشہ کو عدالت میں پیشی کے موقع پر کہہ دی تھی اور اس کا لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ واقع ہی ایسا کرتا۔ انوشہ کا غرور اسے لے ڈوبا نہ تو کبھی حسنات نے اس کے ساتھ کوئی لڑائی کی تھی نہ اس کے کسی کام میں مداخلت کی تھی بس فرق صرف اتنا تھا کہ حسنات اپنی والدہ پر توجہ دیتا تھا اس کی خدمت کرتا تھا اور اس بات سے اس کی بیوی جیلس ہوتی تھی اس کا یہ حسد اس کے تکبر میں بدلا اس کے تکبر نے اسے مجبور کیا اور انوشہ کو قاتل بنا دیا ایک اچھا بھلا ہسنتا بستا گھرانہ لمحوں میں اجڑ کر تباہ ہو گیا۔ انوشہ جیل میں قید ہے اور ہر ملنے والے کو بتاتی ہے کہ ۔۔۔ بھلے ہی اپ کے شوہر کو اپ سے جتنی بھی محبت ہو کبھی بھی اپنے شوہر کی اس کی ماں کے ساتھ محبت کو نہ ازمانا باپ بیٹے ماں بیٹے یا ماں بیٹی کی محبت میں انے کی کوشش کبھی نہ کرنا اپ کی اپ کے شوہر سے محبت الگ مقام رکھتی ہے اور اپ کے شوہر کی اس کے والدین سے محبت الگ مقام رکھتی ہے۔ مگر افسوس کہ انوشہ نے خود اس بات پر عمل نہیں کیا وہ اس بات کو نہیں سمجھ سکی اج وہ قید میں ہے اپنے اعمال کی سزا بھگت رہی ہے اس کی نصیحت اچھی بھی ہے پائیدار بھی ہے مگر وہ جس مقام پر کھڑی ہے وہاں اس کی یہ نصیحت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ لوگ اس کی نصیحت پر توجہ نہیں کرتے اسی لیے ائے دن ہمارے معاشرے میں کئی انوشہ پیدا ہو رہی ہیں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5592 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 انوشہ کی انا اور غرور 🔷 اسے طلاق ہوئی تھی یہ حیرت کی بات تھی، ہر کوئی حیران تھا۔ گو کہ طلاق پہلے بھی لڑکیوں کو ہوتی ائی ہے اور شاید ہوتی بھی رہے گی لیکن کچھ لڑکیاں کچھ نکاح ایسے ہوتے ہیں جن میں طلاق کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ کچھ جوڑے اپس میں اتنی محبت و شگفتگی کے ساتھ رہتے ہیں کہ ان میں طلاق کے متعلق سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ یہ جوڑا بھی ان۔ہی پیار و محبت والے جوڑوں میں سے ایک تھا۔ لڑکی کا نام انوشہ عمران تھا۔ ایک اچھے گھرانے سے تعلق تھا وہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھی وہاں دوران تعلیم کسی لڑکے کی اس پر نظر پڑی اور وہ پہلی نظر میں دل ہار بیٹھا۔ انوشہ اپنی خوبصورتی میں علاقے بھر میں مثال تھی اس کا کردار بھی انتہائی اچھا تھا ہاں البتہ جیسے اچھے خاندانوں کا تھوڑا بہت غرور گھر کے تمام افراد میں پایا جاتا ہے وہ غرور اس میں بھی تھا۔ اس کے علاوہ اس میں کسی قسم کی کوئی برائی نہیں تھی۔ حسب و نصب اچھا تھا رہن سہن اچھا تھا۔ کھانا پینا اچھا تھا۔ جب انوشہ کو اس بات کی خبر ہوئی کہ اس کا کوئی چاہنے والا اس پہ دل ہار بیٹھا ہے تو اس نے اس کا دل نہ توڑا اس کی تذلیل نہ کی اسے مختصر لفظوں میں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ ہمارے ہاں ایسا کوئی رواج نہیں ہے۔ ہمارے ہاں شادیاں اپنے ہی خاندانوں میں ہوتی ہیں۔ میں تمہاری محبت سے انکار نہیں کرتی لیکن بہتر ہے کہ تم اپنا راستہ بدل لو۔ تم جتنا مرضی بہترین چیز کا انتخاب کر لو اگر وہ چیز تمہارے پاس نہیں ہے اور تمہاری نہیں ہو سکتی تو تمہارے اس انتخاب کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ میں تم کو یہی مشورہ دوں گی کہ تم کو اگر انتخاب کرنا ہی ہے تو کسی ایسی لڑکی کا کرو جو تمہارا ساتھ دے سکے۔ انوشہ کی بات سن کر اس لڑکے نے جواب دیا تھا کہ میرا انتخاب ٹھیک ہے اور میں جس چیز کا انتخاب کرتا ہوں اسے حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہوں یہانتک کہ اسے حاصل کر لیتا ہوں اور تمہیں پانے کے لیے میں کسی بھی حد تک جاؤں گا۔ مجھے یقین ہے کہ میں تمہیں پا لوں گا۔ اس کی بات سن کر انوشہ خاموش ہو گئی اور دونوں اپنی اپنی راہ پر چل دیے۔۔۔۔۔ وقت گزرتا گیا دونوں کی تعلیم مکمل ہو گئی تعلیم کے بعد انوشہ گھر بیٹھ گئی کیونکہ اسے اپنے مستقبل کو لے کر کوئی فکر نہیں تھی۔ ملازمت کا شوق نہیں تھا۔ بس تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا وہ اس نے پورا کر لیا تھا۔ گھر میں اللہ تعالی کا دیا ہوا سب کچھ تھا کسی چیز کی کوئی کمی نہیں تھی۔ جبکہ دوسری طرف حسنات جو کہ انوشہ کا چاہنے والا تھا اس کے پاس بھی مال و دولت کی ریل پیل تھی حسب و نصب بہترین تھا زمین جائیداد سب کچھ تھا مگر چونکہ وہ اپنے گاؤں کے وڈیرے خاندان سے تھا اس لیے انہیں سرکاری ملازمت کی ضرورت رہ جاتی تھی خاص طور پر پولیس اور ضلعی انتظامیہ میں ان کے لوگ تعینات تھے ان کی نظر میں یہ سب کچھ گاؤں میں اپنی دھاک بٹھانے کے لیے ضروری تھا۔ اسی لیے تعلیم سے فارغ ہوتے ہی حسنات نے بھی ملازمت کے لیے تگ و دو شروع کر دی تھی کیونکہ پہلے خاندان میں افیسر بھی تھے سیاسی پشت پناہی بھی تھی اس لیے تھوڑی بہت تگ و دو کے بعد اس نے ملازمت حاصل کر لی اور وہ تحصیلدار بھرتی ہو گیا۔ سرکاری ملازم بن جانے کے بعد حسنات نے اپنے گھر والوں کے سامنے اپنی محبت کا اظہار کیا اور کہا کہ اسے کسی بھی حالت میں اسی لڑکی سے شادی کرنی ہے۔ اس کے گھر والوں نے انوشہ کے متعلق تحقیق کی جب ان کو انوشہ پسند اگئی تو انہوں نے اس کا رشتہ بھیجا۔ انوشہ کے گھر والوں نے انکار کر دیا مگر وہ لوگ کوشش کرتے رہے یہانتک کہ بہت ساری کوشش منتوں سماجتوں کے بعد انہوں نے لڑکی کے گھر والوں سے ہاں کروا لی اور انوشہ رخصت ہو کر حسنات کی دلہن بن کر اس کے گھر اگئی۔ انوشہ کو یہاں اپنے میکے سے بھی زیادہ عزت ملی پیار ملا اور اختیار بھی ملا۔ مگر یہاں اس نے حسنات کے والدین کے ساتھ اچھا رویہ نہ رکھا اس بات کو لے کر دونوں میاں بیوی میں کھٹ پھٹ رہنے لگی مگر یہ گھر کی بات گھر سے باہر نہ گئی یہانتک کہ انوشہ کے گاؤں میں جب کبھی حسنات جاتا تو کسی کو یہ محسوس نہ ہونے دیتا کہ ان دونوں میاں بیوی میں کسی قسم کی کوئی دوری ہے نہ کبھی اپنے باقی گھر والوں یا رشتہ داروں کے سامنے کسی کو یہ بات محسوس ہونے دی۔ اس نے یہ سب کچھ تب تک سنبھالے رکھا جب تک اس کے والد زندہ تھے اور اسے سپورٹ حاصل تھی والد کے انتقال کے بعد انوشہ نے جب اس کی والدہ کے ساتھ بدتمیزی شروع کر دی تو بات حسنات کی برداشت سے باہر ہو گئی۔ حسنات اور اس کی بیوی کے درمیان اختلافات رہنے لگے اور یہ اختلافات اتنے بڑھے کہ حسنات اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھانے لگا۔ انوشے کے گھر والوں نے دخل اندازی کی تو حسنات نے ان کو صاف صاف کہہ دیا کہ یہ میری والدہ کو گھر نہیں رہنے دینا چاہتی اور میں اپنی والدہ کو اپنی بہنوں کی دہلیز پر نہیں چھوڑ سکتا اگر یہ میری والدہ کی خدمت کر سکتی ہے تو ٹھیک ہے نہیں تو اپ اس کو ساتھ لے جائیں۔

🔷 انپڑھ باپ 🔷 مختصر کہانی اور بڑی عبرت۔۔۔ ایک بزرگ آدمی پہلے دن کی کلاس کے لیئے ادب کی فیکلٹی میں داخل ہوا۔ طلباء نے احتراماً کھڑے ہو کر اسے استاد سمجھا، مگر وہ خاموشی سے ان کے درمیان بیٹھ گیا۔ کلاس کے بعد طلباء اس کے ارد گرد جمع ہو گئے اور اس سے استفسار کیا کہ وہ کون ہے؟ اس نے کہا: "میں ایک موچی ہوں، جوتے مرمت کرتا ہوں۔ میرے سات بیٹے ہیں، جو سب ڈاکٹر، انجینئر، اور ایک افسر ہیں، اور میری ایک بیٹی فارماسسٹ ہے۔ ایک دن ہم سب خاندان کے ساتھ بیٹھے تھے اور میرے بچے کسی علمی موضوع پر بات کر رہے تھے۔ میں نے بھی اپنی رائے دی، تو میرے ایک بیٹے نے کہا: 'بابا، معاف کیجیے گا، ہم ایک علمی موضوع پر بات کر رہے ہیں اور آپ کو اس کا علم نہیں ہے۔' بیٹے کے اس جواب نے مجھے بہت دکھ دیا، لیکن میں نے خاموشی اختیار کی۔ اگلے دن میں نے جاکر نویں جماعت کی نصابی کتابیں خریدیں اور انہیں اپنی دکان میں بغیر کسی کے علم کے پڑھنا شروع کر دیا۔ میں نے امتحان دیا اور کامیاب ہو گیا، اور یہ بات بھی کسی کو نہیں بتائی۔ پھر میں نے کالج کی کتابیں خریدیں اور تین سال تک انہیں پڑھا، یہاں تک کہ مجھے امتحان دینے کی اجازت مل گئی۔ میں نے امتحان دیا اور کامیاب ہو گیا، اور اب تک میرے گھر والوں کو کچھ معلوم نہیں۔ آج میں نے یونیورسٹی کی تعلیم کا آغاز کیا ہے، اور ان شاء اللہ جب میں گریجویٹ ہو جاؤں گا، تو اپنے بچوں کو بلا کر کہوں گا: 'یہ ڈگری اس موچی کی ہے جس نے آپ سب کو پالا، تعلیم دی، اور آپ کی شادیاں کیں، تاکہ وہ آپ کے ساتھ بات چیت میں شریک ہو سکے۔'" 🔘 علم حاصل کرو گود سے گور تک۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ■ مزید پوسٹس۔۔۔۔ 🌹 جہالت اور آگاہی https://t.me/islamwitheman/5463 🔷 دنیا کا واحد گناہ جہالت ھے https://t.me/islamwitheman/5545 🔷 جہالت، روایت، عقیدہ https://t.me/islamwitheman/5570 🔷 خود کو بدلیں https://t.me/islamwitheman/5575 🌹 انپڑھ باپ https://t.me/islamwitheman/5591 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 دمہ کا علاج 🔷 دمہ کسی بھی قسم کا ہو، بانس کے رگڑے ہوئے پتوں سے ختم ہوسکتا ہے اور یہ عمل صرف آٹھ دن کا ہے مریض کو پہلے دن سے افاقہ ہوتا ہے۔ بانس کا مربہ بھی صبح شام کھانے سے تیز ترین افاقہ ہوتا ہے نہایت لذیذ بھی ہوتا ہے۔۔۔۔احباب دو چار ہفتے استعمال کر لیں۔ احباب سے گزارش ہے کہ سانس، الرجی اور دمہ کے مریضوں کو یہ ضرور ضرور استعمال کروائیں۔ بانس کا مربہ اور بانس امراض پھیپھڑا میں اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے اور یہ نسخہ بارھا ذاتی آزمودہ ہے حتی کہ دمہ کا جڑ سے خاتمہ کرتا ہے۔ دمہ بیشک 30 سال پرانا ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔ پرانی سے پرانی کھانسی کا بھی خاتمہ کرتا ہے۔ جو دوست بھی اسے پڑھیں صدقہ جاریہ سمجھ کر آگے پھیلائیں۔ بانس بہت کمال کا پودا ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ 📚 یہ معلومات مختلف ہیلتھ آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 غیر غذائی اشیاء کھانا (Pica) 🔷 آپ نے کبھی ایسے لوگوں کو دیکھا ہوگا جو مٹی، گاچی، دیوار سے پینٹ، کچے چاول یا دیگر غیر غذائی اشیاء کھانے کی طلب محسوس کرتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف حیرت انگیز ہے بلکہ ایک نفسیاتی اور طبی حالت کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے "پیکا" PICA کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری انسانی دماغ کے ایک پیچیدہ نظام کی خرابی کا نتیجہ ہے، جہاں دماغ غیر متوازن یا غلط سگنلز کے ذریعے انسان کو غیر غذائی اشیاء کھانے کی ترغیب دیتا ہے۔.. پیکا کا تعلق بنیادی طور پر جسم میں غذائی کمی اور دماغی سگنلز کی خرابی سے ہے۔ جب جسم میں آئرن، زنک، یا دیگر اہم معدنیات کی کمی ہوتی ہے تو دماغ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے مختلف اشیاء کھانے کے سگنلز بھیجتا ہے۔ یہ سگنل عام طور پر غذائی اشیاء کے لیے ہوتے ہیں، لیکن کبھی کبھار یہ غلط اشیاء، جیسے مٹی یا پینٹ، کی طرف مائل کر دیتے ہیں۔ دماغ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ چیزیں جسم کی ضرورت کو پورا کر سکتی ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ اشیاء نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔.. مثال کے طور پر، کم عمر بچے پیکا کا شکار ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان کا دماغ ابھی نشوونما کے مراحل میں ہوتا ہے اور وہ اپنے ارد گرد کی چیزوں کو کھانے کے ذریعے جانچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کسی بچے کو غذائی کمی کا سامنا ہو، جیسے آئرن کی کمی، تو دماغ مٹی یا چاک جیسی اشیاء کو غذائی متبادل سمجھ سکتا ہے۔ یہ عمل دماغ کے اس نظام کی خرابی کو ظاہر کرتا ہے جو جسمانی ضروریات اور خوراک کے درمیان تعلق قائم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، حاملہ خواتین، خاص طور پر وہ جو غذائی کمی یا ہارمونل تبدیلیوں کا سامنا کرتی ہیں، بھی پیکا کا شکار ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح، ذہنی دباؤ، جذباتی صدمے یا نفسیاتی بیماریوں کا شکار بالغ افراد بھی اس عادت میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔۔۔ پیکا صرف جسمانی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے نفسیاتی پہلو بھی گہرے ہیں۔ ذہنی دباؤ، صدمہ، یا دیگر نفسیاتی عوامل اس عادت کو بڑھا سکتے ہیں۔ جب دماغ سکون یا تسلی کی تلاش میں ہوتا ہے اور قدرتی طریقے سے یہ نہیں مل پاتی، تو وہ غیر غذائی اشیاء جیسے مٹی یا پینٹ کو ایک عارضی تسلی کا ذریعہ سمجھ لیتا ہے۔ یہ عادت ایک دفاعی میکانزم کے طور پر کام کرتی ہے، جہاں فرد ذہنی کشمکش سے بچنے یا اس سے فرار پانے کے لیے غیر معمولی طریقوں کو اختیار کرتا ہے، جس سے پیکا کی علامات مزید بڑھ سکتی ہیں۔۔۔ پیکا کے اثرات انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر شدید ہو سکتے ہیں۔ غیر غذائی اشیاء کھانے سے معدے کے مسائل، زہریلے مادوں کا جسم میں داخل ہونا، یا غذائیت کی کمی کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، مٹی یا پینٹ کھانے سے جسم میں سیسے جیسے زہریلے مادے شامل ہو سکتے ہیں، جو دماغی نشوونما کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اسی طرح، مٹی کھانے سے پیٹ میں کیڑے یا انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔۔۔ پیکا کا علاج اس کی وجوہات کو سمجھ کر کیا جا سکتا ہے۔ اگر مسئلہ غذائی کمی کی وجہ سے ہے تو متوازن خوراک اور ضروری وٹامنز اور معدنیات کی فراہمی سے اس عادت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ اگر مسئلہ نفسیاتی ہو تو ماہرین نفسیات کی مدد لینا ضروری ہے۔ تربیتی سیشنز اور مشاورت کے ذریعے متاثرہ افراد کی ذہنی حالت کو بہتر کیا جا سکتا ہے، تاکہ وہ غیر غذائی اشیاء کھانے سے بچ سکیں۔۔۔ یہ مسئلہ ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہمارا دماغ کتنا طاقتور اور کبھی کبھار کتنا غلط سمت میں جا سکتا ہے۔ پیکا انسانی جسم کی ضرورتوں، دماغی سگنلز، اور رویوں کے درمیان ایک پیچیدہ تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ 📚 یہ معلومات مختلف ہیلتھ آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 بندوبست 🔷 "ہیلو مجھے ایک عدد رشتہ درکار ہے، کیا میں درست جگہ پر آئی ہوں؟" فیشن ایبل خاتون نے قدرے تیز لہجے میں کہا، رافعیہ نے سر اٹھا کر دیکھا تو ایک درمیانے قد کی بھرے جسم کی حامل خاتون اس کے سامنے کھڑی سوالیہ نظروں سے رافعیہ کی طرف دیکھ رہی تھی۔ "تشریف رکھیں، آپ کو کس کے لیے رشتہ درکار ہے؟" رافعیہ نے اس سے پوچھا۔ "خود اپنے لئے، کیا میں شادی کے قابل نہیں ہوں؟" خاتون نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ رافعیہ نے اس کے خدو خال کی طرف نگاہ ڈالی تو وہ پینتیس سال سے کچھ اوپر کی معقول صورت خاتون تھی، انداز سے وہ کسی امیر خاندان سے تعلق رکھتی ہو گی۔ "نہیں ایسی بات نہیں، ہم اپنے کلائنٹ کی ضرورت اور خواہش کے مطابق رشتہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، آپ کو کس قسم کا رشتہ درکار ہے؟" رافعیہ نے محتاط انداز میں کہا۔ رافعیہ نے محسوس کیا کہ خاتون کافی تیز طبیعت کی مالک ہے اور لہجے سے بھی فخریہ انداز جھلکتا ہے۔ "ایک ایسا ساتھی جو میری طبیعت اور مزاج کو سمجھ سکے اور میرے خیالوں پر پورا اتر سکے، میری پسند اور ناپسند کو سمجھتا ہو، دولت، آسائش کی مجھے کوئی طلب نہیں، وہ میرے پاس بہت ہے۔" "اور ہاں مجھے غصہ جلدی آتا ہے، اس حالت میں آگے سے وہ کچھ نہ بولے، بلکہ میرے غصے کو ختم کرنے کے لئے نرم و ملائم ہوجائے۔" خاتون نے گویا بڑی راز کی بات بتائی۔ رافعیہ دل ہی دل میں مسکرائی بھی اور اسے غصہ بھی آیا کہ خاتون کو رشتے میں صرف اپنی ذات ہی نظر آتی ہے دوسرا اس کے بارے میں کیا رائے قائم کرتا ہے اسے ذرا پرواہ نہیں، وہ کچھ سوچنے لگی، پھر اچانک اس کے چہرے پر مسکراہٹ سی پھیل گئی، اس کی نظر میں ایک رشتہ تھا، اگرچہ وہ اس کے معیار پر تو پورا نہیں اترتا تھا لیکن ان دونوں کا ٹاکرا کروا کر اس خاتون کو زندگی کی حقیقتوں کے بارے میں آگاہ کیا جاسکتا تھا۔ "میری نظر میں ایک رشتہ ہے، اگرچہ وہ بھی آپ کی طبیعت اور مزاج سے ملتے جلتے لگتے ہیں، مگر پھر بھی اگر آپ کہیں تو ہم انھیں یہاں بلا کر ملاقات کروا سکتے ہیں۔" رافعیہ نے خاتون کی طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھا۔ "ٹھیک ہے آپ انھیں ملاقات کے لیے بلا لیں، مجھے میسج کر دینا، میں بھی آجاؤں گی۔" یہ کہہ کر اس نے پرس اٹھایا اور بڑے ناز چلتی بنی۔ رافعیہ نے اس کے جاتے ہی اپنے دست راست فیصل کا نمبر ملایا اور اسے کال پر ساری صورتحال سے آگاہ کر دیا۔ "فیصل آپ کے لئے بڑی امیر خاندان کا رشتہ ہے، اگر آپ چاہیں تو اسے ہینڈل کرسکتے ہیں۔" رافعیہ نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔ "بھئی مجھے مال دولت سے کوئی دلچسپی نہیں، مجھے ایک ایسی بیوی درکار ہے جو مجھے زندگی کے ہر موڑ پر آسانی سے سمجھ سکے اور ایک لچکدار ساتھی ثابت ہو۔" فیصل نے ترش سے لہجے میں کہا۔ اچھا جناب آپ کل وقت پر آجائیں، ملاقات میں خاتون کو خود ہی قائل کرنے کی کوشش کرنا۔ رافعیہ نے ہنستے ہوئے کہا۔ ٹھیک ہے میں آجاؤں گا۔ یہ کہہ کر فیصل نے کال ختم کر دی۔ اگلے روز فیصل وقت پر دفتر پہنچ گیا، وہ خاتون بھی پہلے ہی سے وہاں موجود تھیں، سلام علیکم، مجھے دیر تو نہیں ہوئی؟ فیصل نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ "مردوں کو وہاں وقت کا احساس خوب ہوتا ہے جہاں کوئی دلکش عورت موجود ہو۔" خاتون بولی۔ یہاں تو کوئی ایسی دلکش عورت کا نام و نشان نظر نہیں آتا۔ فیصل نے جوابا کہا۔ انسان کا حسنِ نظر فوت ہو جائے تو کچھ عقل ہی سے کام لے لے۔ خاتون نے بھی جلتی پر تیل چھڑکا۔ "میرے خیال ہمیں اپنے مقصد کی طرف آنا چاہیے۔" رافعیہ نے محتاط انداز میں کہا۔ "یہی وہ مقصد ہے جس سے آپ ملوانا چاہ رہی تھیں ، مجھے تو ان میں کہیں سے بھی ایک اچھے شوہر کے آثار نظر نہیں آتے۔" خاتون نے طنز کیا۔ "ویسے آپ کو اس دنیا میں اپنے مطلب کا شوہر تو مشکل ہی سے دستیاب ہوگا۔ فیصل نے بھی طنز کیا۔ آپ غمزدہ نہ ہوں، اسے تلاش کرنا میرا کام ہے، آپ کیوں ہلکان ہو رہے ہیں؟ خاتون نے ترش رو ہوکر کہا۔ شوق سے کیجئے تلاش، اللہ رحم ہی کرے اس بندے پر، پتا نہیں اسے کس گناہوں کی سزا ملے گی۔ فیصل نے بھی حد ہی کردی۔ کیا مطلب ہے آپ کا، حد میں ہی رہیں تو اچھا ہوگا" خاتون نے غصے میں پھنکارتے ہوئے کہا اور ایک جھٹکے سے کھڑی ہوئی اور رافعیہ سے کہنے لگی؛ اس قسم کے واہیات رشتے کراتے ہیں آپ، جن کو عورت کے ادب و احترام کا بھی پاس نہیں۔ عورت کا احترام تو ہم اچھے سے کرتے ہیں، مگر عورت بھی تو اخلاقیات کا دامن نہ چھوڑے نا۔ رافعیہ نے سمجھاتے ہوئے کہا۔ بس جی اپنے پاس رکھیں یہ اخلاقیات، ہمیں سب پتا ہے کہ کس سے کس لہجے میں بات کرنی ہے، ہم بھی اسی دنیا میں رہتے ہیں۔ خاتون نے غصے سے پاؤں پٹخے اور زور سے دروازہ کھول کر چلتی بنی، یہ کیا چیز تھی؟ فیصل نے غصے سے کہا۔ ہمارے معاشرے کی آزاد عورت تھی، جو ایک عدد خاوند کا بندوبست کرنے آئی تھی۔ رافعیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 بیوی سے جھگڑا 🔷 ایک شوہر کہانی بیان کرتا ہے۔۔۔ میں نے اپنی بیوی سے کسی بات پر دو مہینے تک ناراضگی رکھی۔ نہ اس سے بات کی اور نہ گھر میں کھانا کھایا۔ پھر ہم نے بات چیت کی، اتفاق ہوا اور صلح ہو گئی۔ وہ مسئلہ حل ہو گیا جس کی وجہ سے میں ناراض تھا۔ لیکن میں نے محسوس کیا کہ میری بیوی اب اکیلے سونے کی عادی ہو چکی تھی۔ اس نے کہا، پوری زندگی میں سونے سے پہلے کتاب پڑھا کرتی تھی، لیکن تم سے شادی کے بعد میں تمہیں روشنی سے تنگ نہیں کرنا چاہتی تھی، اس لیے چھوڑ دیا تھا۔ اور جب تم نے مجھ سے منہ موڑا، تو میں اپنی پرانی عادت کی طرف واپس چلی گئی اور اس میں سکون پایا۔ پہلے جب وہ کمرے میں آتی تھی تو میری سانسوں کی خوشبو کو پسند کرتی تھی، اور اب مجھے یوں لگتا ہے جیسے اسے اس کی عادت نہیں رہی، حالانکہ وہ مجھ سے 20 سینٹی میٹر دور سونا بھی برداشت نہیں کرتی تھی۔ اب وہ میرے کھانے میں نمک کی مقدار پر کوئی تبصرہ نہیں کرتی، جیسے کہتی تھی، 'دھیان رکھو، تمہارا بلڈ پریشر بڑھ جائے گا'۔ کیونکہ وہ اس بات کی عادی ہو چکی تھی کہ میں باہر کھانا کھاتا ہوں، اور اب اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کھانے میں نمک زیادہ ہے یا کم۔ پہلے وہ ہر وقت میرے ساتھ بات چیت کرتی تھی، لیکن اب وہ خاموش ہے، اپنے مطالعہ یا سلائی میں مصروف رہتی ہے۔ مجھے لگا کہ میں نے اپنی ناراضگی میں کوئی جیت حاصل کی ہے، لیکن حقیقت میں میں نے بہت کچھ کھو دیا جس کی اہمیت کا مجھے پہلے اندازہ نہیں تھا۔ اور جو قیمت میں نے ادا کی، وہ اُس چھوٹی جیت سے کہیں زیادہ تھی جو میں نے حاصل کی۔ 🔘 کاش مرد یہ سمجھ سکیں کہ عورت دراصل مرد کا آئینہ ہوتی ہے۔ اگر کبھی کوئی جھگڑا ہو جائے تو فورا صلح کر لیں جھگڑا طویل نہ ہونے دیں ورنہ آپ کو بہت کچھ کھونا پڑ سکتا ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕