ISLAM WITH EMAN
前往频道在 Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
显示更多1 285
订阅者
-324 小时
-77 天
-730 天
帖子存档
1 285
صاحب اولاد بھی لکھا ہے. لیکن آپکے کسی بچے یا زوجہ کی ثقہ روایات سے ہمیں کچہ معتبر مواد نہ مل سکا. البتہ آپکی والدہ کا کربلا میں موجود ہونا قوی روایات سے ثابت نہیں ہے. وہ اس واقعے سے قبل فوت ہوچکی تهیں، بعضوں نے انکی کربلا میں موجودگی کو بهی بیان کیا ہے. واللہ العالم.
الا لعنةالله على القوم الظالمين.
بحوالہ
(1) البحار 98/186
(2) البحار 45/32
(3) الکافی 5/361
(4) الارشاد 236
(5) السرایر 153
(6) مقاتل الطالبیین 80
( 7)المناقب 109
(8) روضہ الصفا
(9) البحار 45/65
(10) تاریخ طبری 7/357
(11) اللہوف -1
(12) مثیر الاحزان 35
(13) اسد الغابہ 1/ 191
(14) نفس المہموم 277-278-279.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔴 شہادت ھمشکل پیغمبر 🔴
اصحاب و انصار کی شہادتوں کے بعد حسینؑ کے پاس انکے قریبی رشتہ داروں کے علاوہ کوئی باقی نہ رہا. اس دوران حسینؑ کے جوان بیٹے علی بن الحسینؑ الاکبر نے جنگ کی اجازت طلب کی. انکی والدہ ام لیلی بنت ابی مرہ بن مسعود تهیں.
على اكبرؑ كے نانا جناب عروہ بن مسعود عرب کے نامور ترین لوگوں میں شمار ہوتے تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا تو قریش نے کہا تها کہ اگر اللہ نے نبوت دینی ہی تهی تو دو عظیم شہروں کے کسی بڑے آدمی کو دیتا اس بڑے آدمی سے مراد جناب عروہ تهے جو ام لیلی کے دادا تهے.
اسلام کے بعد یہ اسلام میں بھی نامور ترین فرد رہے اور ایک موقع پر انہیں رسول اللہ نے "شبیہ عیسی" قرار دیا. اور فرمایا:
"اسلام کے چار سردار ہیں ان میں سے ایک جناب عروہ بن مسعود ہیں."
پس حسینؑ نے علی اکبرؑ کو اجازت دی اور آسمان کی طرف رخ کر کے فرمایا:
"اے اللہ! گواہ رہنا. ایسا جوان ان کی طرف جنگ کیلیے نکلا ہے جو سیرت و گفتار و اخلاق میں سب سے زیادہ تیرے نبی کے مشابہ تها. اور جب ہم تیرے نبی کی زیارت کے مشتاق ہوتے تو اس جوان کی زیارت کرتے تهے.
اے اللہ! اس قوم پر آسمان سے برکت روک دے. اور انکے بیچ تفرقہ ڈالدے. ان کے حاکموں کو ان پر راضی نہ رکھ. انہوں نے ہمیں بلا کر ہماری مدد نہ کی."
پهر عمر بن سعد کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:
"اے ابن سعد! تجھے کیا ہوگیا ہے. اللہ تجھ سے تیرے صلہ ارحام کو قطع کرے جسطرح تو نے ہماری رسول اللہ سے قرابت کا خیال نہ کیا. اور تمہیں برکت نہ دے. اور جلد تم پر ایک ایسے شخص کو مسلط کرے جو تمہیں تمہارے بستر پر ہی قتل کرے."
پهر یہ آیت پڑھی:
"بیشک اللہ نے آدم و نوح و آل عمران کو دو جہانوں پر منتخب کیا ہے. اور ذریتوں میں سے بعض کو بعض پر چنا ہے بیشک اللہ سننے اور جاننے والا ہے."
🔻 اذن ملنے کے بعد علی اکبر میدان جنگ میں آئے. اور یہ رجز پڑها:
"میں علیؑ ابن الحسینؑ ہوں. ہم اللہ کے گہر اور نبی ص کے سب سے زیادہ حقدار ہیں. میں تم پر ایسا وار کرونگا جیسا کہ ایک ہاشمی علوی جوان کو کرنا چاہیے. واللہ ہم پر زنا زادہ حکومت نہیں کرسکتا ہے."
جناب علی اکبرؑ نے شدید حملہ کیا اور 120 ملاعین کو واصل جہنم کیا. پهر پیاس کی شدت غالب آئی تو خیمہ گاہ واپس آئے اور بابا کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا:
"بابا! لوہے کی گرمی نے مجھے جهلسا دیا ہے اور پیاس کی شدت مجھے مارے ڈال رہی ہے کیا پانی کا بندوبست ممکن ہے.؟"
روایت میں ہے کہ حسینؑ یہ سنکر روئے. اور فرمایا:
"واغوثاہ! بیٹے علی اکبرؑ! میدان جہاد میں جاؤ دشمن سے مقابلہ کرو عنقریب تمہارے جد رسول اللہ تمہیں کوثر سے سیراب کرینگے. پهر کبھی تمہیں پیاس نہیں لگے گی."
بعض روایتوں میں ہے کہ حسینؑ نے علی اکبر سے فرمایا:
"اپنی زبان میری زبان میں دیدو."
پس علی اکبر نے ایسا کیا اور جلدی سے زبان باہر نکالی اور کہنے لگے:
"بابا! آپ کی زبان میری زبان سے زیادہ خشک ہے."
پس دوبارہ میدان میں آئے. مزید 60 کوفیوں کو واصل جہنم کیا. بعض روایات کیمطابق آپ نے کل 200 ملاعین کو قتل کیا.
بالاخر "مرہ بن منقذ ملعون" آگے بڑھا اور کہا:
"مجھ پر سب عربوں کا بار گناہ ہو اگر میں اس جوان کو قتل نہ کروں."
اس دوران جب علی اکبرؑ جنگ میں مصروف تھے کہ اس لعین نے موقع پا کر ان پر ایک کاری وار کیا. جس سے آپ زخمی ہوکر زمین پر گرے اور دشمنوں نے نبی اکرم کی شبیہ کو تلواروں سے ٹکرے ٹکرے کردیا.
انا للہ وانا الیہ راجعون.
ابو الفرج کی روایت کیمطابق ایک تیر جناب علی اکبر کے حلق پر لگی تهی جس سے آپ اپنے خون میں نہا گئے تھے پهر آپ نے اپنے مظلوم بابا کو آواز دی:
"بابا جان! آپ پر میرا سلام ہو یہ میرے نانا رسول اللہ ہیں جو آپ کو سلام کہہ رہے ہیں. اور فرماتے ہیں کہ آپ بهی ان کیطرف آنے میں جلدی کریں."
حمید بن مسلم کہتا ہے. جب جوان بیٹے کی آواز حسینؑ کے کانوں میں آئی تو آپ نے فرمایا:
"اے میرے بیٹے! جنہوں نے تجھے قتل کیا اللہ انکو ہلاک کرے. یہ لوگ حرمت رسول ص کو پایمال کرنے پر کسقدر جری ہوگئے ہیں."
پس روتے جاتے تهے اور فرماتے تھے:
"علی اکبر! تمہارے بعد دنیا کی زندگی پر خاک ہو."
"روضہ الصفا" میں ہے کہ حسین اس مصیبت پر بآواز بلند ایسا روئے کہ اسطرح آپکو اس سے قبل روتے نہیں دیکھا گیا.
شیخ مفید کی روایت کیمطابق جناب زینب کبری سلام اللہ علیہا علی اکبرؑ کی نعش پر بهائی سے پہلے پہنچیں. حسینؑ نے بہن کو واپس کیا اور جوانان بنی ہاشم سے فرمایا کہ:
"آگے بڑھو اور اپنے بهائی کی لاش کو خیمہ گاہ لے جاو."
مورخین میں یہ اختلاف ہے کہ اہل بیت کے پہلے شہید جناب علی اکبر ہیں یا جناب عبد اللہ بن مسلم بن عقیل؟
محمد بن شہر آشوب نے انکی عمر 18 سال بیان کی ہے. جبکہ شیخ مفید نے 19 سال کچھ مہینے لکھا ہے اسطرح یہ امام زین العابدین علیہ السلام سے کم عمر تهے. بعضوں نے آپکی عمر مبارک 25 سال لکھی ہے.
بعضوں نے آپکو
1 285
🔷 9 اور 10 محرم کا روزہ 🔷
♦کیا 9 اور 10 محرم الحرام کا روزہ رکھنا حرام ہے؟
♦جواب:
یومِ عاشورہ 10 محرم کا روزہ رکھنا رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای کے نزدیک مکروہ ھے اور بعض مجتھدین مثلا آیت اللہ وحید خراسانی کے نزدیک احتیاط واجب کی بنا پر حرام ھے۔
♦آیت اللہ سیستانی کے نزدیک بھی 10 محرم کا روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ اور محرم کی پہلی، تیسری اور ساتویں تاریخ کا روزہ رکھنا تاکیدی مستحب ہے۔
(حوالہ: توضیح آیت اللہ سیستانی)
♦ شیخ طوسیؒ نے فرمایا کہ محرم کے پہلے نو دنوں کے روزے رکھنا مستحب ہیں مگر یوم عاشورہ کو عصر تک کچھ نہ کھائے پیئے، عصر کے بعد، تھوڑی سی خاک شفا سے فاقہ شکنی کرے، سید نے پورے ماہ محرم کے روزے رکھنے کی فضیلت لکھی اور فرمایا ہے کہ اس مہینے کے روزے انسان کو ہر گناہ سے محفوظ رکھتے ہیں۔ (سوائے یوم عاشور کے کیونکہ اس دن کا روزہ مکروہ ہے اور بعض مجتہدین کے نزدیک حرام ہے)
(حوالہ: مفاتیح الجنان)
♦ امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
عاشور (10 محرم) کے روزہ کا ذکر نہ کتابِ خدا میں ہے نہ سنتِ رسول میں....
یہ امام حسین علیہ السلام کے قتل کے بعد سُنتِ آِل زیاد قرار پائی ہے۔
(حوالہ: فروعِ کافی، جلد3، ص322)
♦علامہ مجلسی نے زادالمعاد میں فرمایا ہے کہ بہتر ہے کہ نویں اور دسویں محرم کا روزہ نہ رکھے کیونکہ بنی امیہ اور ان کے پیروکار ان دو دنوں کو امام حسینؑ کو قتل کرنے کے باعث بڑے بابرکت وحشمت تصور کرتے ہیں اور ان دنوں میں روزہ رکھتے تھے، انہوں نے بہت سی وضعی حدیثیں حضرت رسول اکرمؐ کی طرف منسوب کر کے یہ ظاہر کیا کہ ان دو دنوں کا روزہ رکھنے کا بڑا اجر و ثواب ہے حالانکہ اہلبیت سے مروی کثیر حدیثوں میں ان دو دنوں اور خاص کر یوم عاشور کا روزہ رکھنے کی مذمت آئی ہے۔
♦ 10 محرم کے دن روزے کی نیت کے بغیر کھانا پینا ترک کئے رہیں اور عصر کے بعد تھوڑے سے پانی وغیرہ سے فاقہ شکنی کریں..
(حوالہ: مفاتیح الجنان)
♦لہذا 10 محرم کو روزہ نہ رکھا جائے بلکہ بہتر ھے کہ فاقہ کیا جائے (یعنی اذان فجر سے لے کر اذانِ عصر تک کچھ کھایا پیا نہ جائے اور عصر کے وقت فاقہ کھول لیا جائے.... اگر کوئی فاقہ رکھے تو وہ چاہے تو دن میں کسی بھی وقت عصر سے پہلے بھی کچھ کھا پی کر اسے ختم کر سکتا ہے ....فاقہ توڑنا گناہ نہیں ہے البتہ زیادہ ثواب ہے کہ عصر تک کچھ نہ کھائے پیئے)
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔴 حضرت عباس علمدارؑ کی شہادت 🔴
واقعہ کربلا کے وقت حضرت عباس علیہ السلام کی عمر تقریباً 33 سال کی تھی۔
امام حسین علیہ السلام نے آپ کو لشکر حق کا علمبردار قرار دیا۔
امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں کی تعداد 72 یازیادہ سے زیادہ سو افراد پر مشتمل تھی اور لشکر یزیدی کی تعداد تیس ہزارسے ذیادہ تھی مگر حضرت عباس علیہ السلام کی ہیبت و دہشت لشکر ابن زياد پر چھائی ہوئی تھی۔
کربلامیں کئی ایسے مواقع آئے جب عباس علیہ السلام جنگ کا رخ بدل سکتے تھے لیکن امام وقت نے انھیں لڑنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس جنگ کا مقصد دنیاوی لحاظ سے جیتنا نہیں تھا۔
امام جعفر صادق علیہ السلام حضرت ابوالفضل العباس کی عظمت و جلالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے:
”چچا عباس کامل بصیرت کے حامل تھے وہ بڑے ہی مدبر و دور اندیش تھے انہوں نے حق کی راہ میں بھائی کا ساتھ دیا اور جہاد میں مشغول رہے یہاں تک کہ درجۂ شہادت پر فائز ہوگئے آپ نےبڑا ہی کامیاب امتحان دیا اور بہترین عنوان سے اپناحق ادا کر گئے۔"
10 محرم کو امام حسین علیہ السلام نےان کو پیاسے بچوں خصوصاً اپنی چار سالہ بیٹی سکینہؑ بنت الحسینؑ کے لئے پانی لانے کا حکم دیا مگر ان کو صرف نیزہ اور علم ساتھ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کوشش میں انھوں نے اپنے دونوں ھاتھ کٹوا دیئے اور شہادت پائی۔ اس دوران ان کو پانی پینے کا بھی موقع ملا مگر تین دن کے بھوکے پیاسے شیر نے گوارا نہیں کیا کہ وہ تو پانی پی لیں اور خاندانِ رسالت پیاسا رہے۔ شہادت کے بعد جیسے باقی شہداء کے ساتھ سلوک ھوا ویسے ہی حضرت ابوالفضل العباسؑ کے ساتھ ہوا۔ ان کا سر کاٹ کر نیزہ پر لگایا گیا اور جسمِ مبارک کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا۔(1) ان کا روضہ اقدس عراق کے شہر کربلا میں ہے جہاں پہلے ان کا جسم دفن کیا گیا اور بعد میں شام سے واپس لا کر ان کا سر دفنایا گیا۔ دریائے فرات جو ان کے روضے سے کچھ فاصلے پر تھا اب ان کی قبر مبارک کے اردگرد چکر لگاتا ہے۔
ضو وہ شیشے میں کہاں جو الماس ميں ہے
سارے عالم کی وفا حضرت عباسؑ ميں ہے.
📚 بسطامی، تحفۂ حسینیہ، ص78۔ عربی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔴 ذكرِ شہادت ابوالفضل العباسؑ 🔴
ابوالفضلؑ صحیفۂ کربلا میں "لوح محفوظ" کی حیثیت رکھتے ہیں. شجاعت، کرامت، بلندی کردار، اطاعت وفا اور تسلیم جب یہ ساری صفات ذات والا صفات عباسؑ میں جمع ہوئیں تو وہ ابوالفضل کہلانے میں حق بجانب ہوئے.
دنیا میں پانی پلا کر ساقی بنتے دیکھے ہیں لیکن عباسؑ کائنات کا پہلا اور آخری سقا ہے جن کا مشکیزہ چهدا، پانی گرا، لیکن عباسؑ پھر بھی ساقی عطاشی کرب و بلا ہے.
احسن الخالقین خالق نے جب عباسؑ کی تخلیق کی تو ان میں ظاہری و باطنی ایسے کمالات رکھ دیئے کہ عباسؑ "احسن تقویم" کی زندہ مثال بن گئے.
بلاشبہ جس بہن کا عباسؑ جیسا بھائی ہو وہ بهلا کیسے سوچے گی کہ انکے ہاتھوں میں رسن بندهیں گے. بیشک عباسؑ یہ حق رکھتے ہیں کہ ان کے متعلق امام سجادؑ یہ فرمائیں کہ
"ہمارے چچا عباس کی اللہ کے پاس قیامت کے دن ایسی منزلت ہوگی کہ سارے شہداء مقام و مرتبہ و بلندی حضرت ابوالفضل پر رشک کریں گے."
پهر فرمایا؛
"اللہ نے میرے چچا عباس کو ان کے قطع شدہ بازوؤں کے عوض دو پر عنایت کئے جن کے ذریعے وہ جنت میں اپنے چچا جعفر طیار کیطرح پرواز کرتے ہیں."
نفس المہموم کی روایت ہے کہ جب عباسؑ اجازت لینے آئے تو حسینؑ نے اجازت دینے سے قبل ہی شدید گریہ کرنا شروع کردیا. پھر فرمایا:
"بھیا! تم میرے لشکر کے علمدار ہو. جب تم چلے جاؤ گے تو میرا لشکر بکھر جائیگا."
تو عباسؑ نے جواب دیا؛
"مولا! میرا سینہ غم سے بوجھل ہے. اور اب شہیدان راہ وفا کےبعد عباس کے اندر جینے کی خواہش باقی نہیں رہی. میں ان منافقوں سے اپنا انتقام لینا چاہتا ہوں."
لیکن حسینؑ نے فرمایا:
"بھیا! پهر ان بچوں کیلیے پانی کی کوئی سبیل تلاش کرو."
پس عزیزو! ابوالفضل بحکمِ امامؑ گهوڑے پر سوار ہوئے. مشک کو ہاتھوں میں لیا. اور فرات کی طرف چلے. چار ہزار ملاعین نے شیرِ خدا کے شیر کو گھیرا. تب عباسؑ نے یہ رجز پڑها:
"میں موت سے نہیں ڈرتا جب موت مجھ سے نزدیک ہو. میری جان، پاک مصطفٰیؐ کی جان، حسینؑ پر قربان ہو. میں عباس ہوں اور میں ضرور ان بچوں کو سیراب کرونگا اور اس بارے میں کسی بهی خطرے کی پرواہ نہ کرونگا."
عباسؑ نے 80 ملعونوں کو واصل جہنم کیا اور باقی دشمنان ابوالفضل کی ہیبت سے ایسے پراگندہ ہوئے کہ دور دور تک بھاگ کھڑے ہوئے.
عباسؑ نہر علقمہ میں داخل ہوئے. پانی سے مشک کو بهرا. عباسؑ چاہتے تو پانی پی سکتے تھے. لیکن اللہ رے وفا و مروت و احساس تشنگئ اطفال کہ عباس نے چلو سے پانی پھینک دیا.
فرات سے باہر آئے. مشک کو بائیں کندھے پر رکھا. اب عباسؑ کی ساری توجہ خیمہ گاۂ حسینی کیطرف ہے. ادھر ظالموں نے چاروں طرف سے ابوالفضل کو گھیرے میں لیا.
عباسؑ زبردست مزاحمت کے ساتھ آگے بڑھے. عباسؑ کی ساری توجہ مشک پر ہے کہ یہ کسی نہ کسی طریقہ سے حسینؑ کے بچوں تک پہنچ جائے.
پس عزیزو! ایک ایسا لمحہ آیا جب "نوفل الازرق" لعین نے وار کرکے عباس کا دایاں بازو جدا کیا تو عباسؑ نے یہ رجز پڑها:
"واللہ! اگرچہ تم نے میرا داہنا ہاتھ کاٹ ڈالا ہے لیکن میں اپنے دین اور امامِ برحق فرزندِ نبی کا دفاع کرتا رہونگا."
پهر ابوالفضلؑ نے مشک کو بائیں ہاتھ پر منتقل کیا. نوفل ملعون نے دوسرا وار آپکی بائیں کلائی پر کیا اور بایاں بازو بهی شہید ہوا.تو ابوالفضلؑ نے یہ رجز پڑها:
"اے عباس کی جان! کفار سے خوفزدہ نہ ہو. تجهے نبی کی ہمراہی میں جنت کی بشارت ہو. واللہ انہوں نے سرکشی کرکے میرا بائیں ہاتھ کاٹ دیا ہے. پس اے اللہ انہیں جہنم کی حرارت کا مزہ چکھا دے."
اب سقا ہو تو ایسا کہ مشک کو دانتوں میں دبایا. چشمِ فلک نے آج تک ایسا ساقی نہ دیکھا ہوگا. اسی لیے تو عباسؑ باب المراد و باب الحوائج بنے.
پس عزیزو!
اتنے میں ایک تیر جب مشک پر آ لگا اور پانی بہہ گیا. اسی دوران دوسرا تیر عباسؑ کے سینہ اقدس میں پیوست ہوا. اس لمحہ عباسؑ گهوڑے سے زمین کربلا پر گرے. اور حسینؑ کو آواز دی. "ادرکنی یا اخاہ"
الطریجی کہتے ہیں کہ عباسؑ نے حسینؑ کو ندا تب دی جب ایک ملعون نے گرز آہنی سے سر مبارک قمر بنی ہاشم پر وار کیا. پس عباسؑ نے ندا دی.
السلام علیک یا اباعبداللہ.
ابن نما لکھتے ہیں کہ حکیم بن طفیل لعین نے عباسؑ کو تیر مارا تھا. پس جب عباسؑ شہید ہوئے تو حسینؑ نے فرمایا:
"اب میری کمر ٹوٹ گئی. اور میری تدبیریں کارگر نہ رہیں."
بعض روایتوں میں حکیم بن طفیل اور زید بن ورقاء الجہنی کو عباسؑ کا قاتل کہا گیا ہے. ان دونوں نے کمین گاہ سے چھپ کر ایک کھجور کے درخت کے پیچھے سے آپکے بازوؤں پر وار کیا تها.
حسینؑ نے عباسؑ کی لاش کو علقمہ پر رہنے دیا. شاید خم شدہ کمر کے بعد جوان بهائی کی لاش اٹھانا حسینؑ کیلئے آسان نہ تھا. اللہ اکبر
سلام ہو آپ پر اے فرزندِ امیرالمؤمنینؑ.
اللہ کی لعنت ہو آپکے قاتلین پر.
بحوالہ:
1) نفس المہموم 305- 306-307
2) مقاتل الطالبیین 84-85
3) الخصال للصدوق 68
4) مثیر الاحزان 37
5) عمدہ الطالب 323.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🌹 شجاعتِ حضرتِ عبّاسؑ 🌹
تاریخ نے شجاعتِ حضرتِ عبّاسؑ کو اس طرح نقل کیا ہے: کالجبل العظیم و قلبہ کا الّطود الجسیم لانّہ کان فارسا ہماما و بطلا ضرغاما و کان جسوراعلیٰ الطّعن والضرب فی میدان الکفّار۔
ترجمہ:
وہ بلندی میں کوہِ عظیم کی مانند، قوّت میں ان کا قلب بلند و وسیع پہاڑ کی طرح شجاعِ بے مثال، شیرِ ضرغام تھے۔ جنگ میں کفار ہمّت اور مردانگی کی داد دیتے تھے(1)
روایت میں ہے کہ جنگِ صفین میں ایک جوانِ نقابدار لشکرِ امیرالمؤمنینؑ سے نکلا، جس سے ہیبت اور شجاعت ظاہر ہوتی تھی جسکی عمر تقریبا سولہ سال ہوگی اور جنگ کرنے کے لیے مبارز طلب کرنے لگا معاویہ نے ابوشعثاء کو حکم دیا کہ
جنگ کرے ابوشعثاء نے کہا؛ شام کے لوگ مجھے ہزار سوار کے برابر سمجھتے ہیں میرے سات بیٹے ہیں، میں ان میں سے ایک کو بھیجتا ہوں وہ اس کا کام تمام کر دیگا، اور اس نے اپنے ایک بیٹے کو بھیجا لیکن وہ قتل ہوگیا۔ اسیطرح اس نے اپنے ساتوں بیٹوں کو بھیجا اور سب قتل ہوتے رہے۔
ابوشعثاء نے جب یہ دیکھا، دنیا اسکی نظر میں تاریک ہوگئی وہ خود بھی میدان میں آیا اور وہ بھی جہنم واصل ہوا۔
جب لوگوں نے شجاعت کے اس ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر کو میدان میں دیکھا تو کسی کی ہمّت نہ ہوئی کہ کوئی اس شجاع بے مثال کے مقابلہ میں جاتا وہ جوان اپنے لشکر کی طرف پلٹ گیا۔ اصحابِ امیرالمؤمنین حیرت زدہ تھے کہ یہ جوان کون ہے لیکن جب نقاب رخ سے ہٹی تو پتا چلا کہ قمرِ بنی ہاشم حضرتِ ابوالفضل العباسؑ ہیں۔(2)
شجاعتِ حضرتِ عبّاسؑ کا اس روایت سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ وہ چیزیں جو اہلبیت کے لشکر سے لوٹی گئیں تھیں ان میں پرچمِ حضرت عبّاسؑ بھی تھا۔ جب یہ تمام اشیاء یزید کے سامنے پیش کی گئیں تو یزید کی نگاہ اس پرچم پر گئی وہ غور سے اس پرچم کو دیکھتا رہا اور تعجّب سے کبھی اٹھتا تھا، کبھی بیٹھتا تھا۔
کسی نے سوال کیا؛ امیر کیا ہوا کہ اس طرح مبہوت اورحیرت زدہ ہو؟
یزید نے پوچھا؛ یہ پرچم کربلا میں کس کے ہاتھ میں تھا؟
کہا؛ عبّاسؑ برادرِ حسینؑ کے ہاتھ میں۔
یزید کہتا ہے کہ؛ مجھے تعجّب اس علمبردار کی شجاعت پر ہے۔
پوچھا کیوں؟
کہا؛ دیکھو پورا پرچم حتیّٰ اس کی لکڑی پر تیروں اور دوسرے اسلحوں کے نشانات ہیں صرف اس ایک جگہ کے جہاں سے اس کو پکڑ ا گیا ہے یہ جگہ کاملا محفوظ ہے۔ اسکا مطلب ہے کہ تیر اور دوسرے اسلحے اس جگہ بھی لگے لیکن اس بہادر نے عَلَم کو اپنے ہاتھ سے رہا نہیں کیا، آخری وقت تک اس پرچم کی حفاظت کرتا رہا، جب اسکا ہاتھ گرا تب پرچم گرا۔
📚حوالہ جات؛
1۔ خصایص العباسیہ ص 118 و 119۔
2۔ فرسان الھیجاء، ج1، ص10193۔ چہرۂ درخشان قمر بنی ہاشم ابوالفضل العبّاس ص190۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﮯ ﻣﺠﻤﻊ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮﮞ، ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺩ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺍﻟﻔﻀﻞ ﺍﻟﻌﺒﺎﺱؑ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﭖؑ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﻠﻮﺏ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﺒﺎﺱؑ ﻧﻮﺭ ﮐﮯ ﮨﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮦٔ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺳﮯ ﺳﺎﻃﻊ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﺑﺰﻡ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮒ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻋﻈﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻥ ﻭ ﺷﻮﮐﺖ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﺿﻊ ﻭ ﺧﺎﺷﻊ ﺗﮭﮯ، ﺟﻨﺎﺏ ﻋﺒﺎﺱؑ ﺁﮐﺮ ﺻﺪﺭ ﻣﺠﻠﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺟﺴﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺷﺪﺕ کے ﺳﺎﺗﮫ ﺧﻮﻑ ﻭ ﺍﺿﻄﺮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﺗﮭﺎ۔
ﺟﻨﺎﺏ ﻋﺒﺎﺱؑ ﻧﮯ ﺍﮨﻞ ﺑﺰﻡ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﺩ ﺳﮯ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯼ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺭﯼ ﺁﺋﯽ، ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻢ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮﺵ ﻭ ﺣﻮﺍﺱ ﺍﮌﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮨﻼﮐﺖ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﺩﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺣﻖ ﮐﻮ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻭﮞ، ﺟﻮ ﺩﻟﯿﻠﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ کیں۔
ﺟﻨﺎﺏ ﻋﺒﺎﺱؑ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﻣﯿﮞ نے ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺪﺭ ﺑﺰﺭﮔﻮﺍﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦؑ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻦؑ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦؑ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻋﻠﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﺍﻥ ﺟﻠﯿﻞ ﺍﻟﻘﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﻟٰﮩﯽ ﺍﺳﺎﺗﯿﺪ ﺳﮯ ﻋﻠﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﺗﮏ پہنچا ﮨﻮﮞ ﺟﺐ کہ ﺗﻢ ﺍپنے ﺩﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﺷﮏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ، ﮐﯿﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﻼﻡ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﺪﺑﺨﺖ ﮨﮯ! ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﺻﻮﻝ ﻭﻗﻮﺍﻋﺪ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﺟﺎﮨﻞ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﺋﯿﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺣﻘﺎﺋﻖ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﻣﯿﮞ اﻥ ﺍﺻﻮﻝ ﻭ ﻗﻮﺍﻋﺪ ﮐﺎ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﻭ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﮐﻮ ﻭﺣﯽٔ ﺍﻟٰﮩﯽ ﮐﮯ ﺳﺮﭼﺸﻤﮧ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ: ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺍﻧﻘﺪﺭ ﺻﻔﺎﺕ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ: ﮐﺮﻡ، ﺻﺒﺮ، ﺍﯾﺜﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﺎﺩ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺻﻔﺎﺕ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﻭ ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﯽ ﺟﺐ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﺪ، ﺧﻮﺩﭘﺴﻨﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﺭﯾﺎ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺟﯿﺴﯽ ﺭﺫﯾﻠﮧ ﺻﻔﺎﺕ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺳﺖ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ منہ ﭘﺮ ﻣﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺧﻄﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺧﻮﻑ ﻭ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﮯ ﺗﻮﺳﻞ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﺮﺗﺴﻠﯿﻢ ﺧﻢ ﮐﯿﺎ۔
📚حوالہ جات:
ﻋﯿﻮﻥ ﺍﻻﺧﺒﺎﺭ، ٦٨٢ ﺏ ،٣١ ﺡ ۔ ٣٢١۔
ﺍﺳﺮﺍﺭ ﺍﻟﺸﮩﺎﺩﺓ، ﺹ۔ ٣٢٤۔
ﺍﻟﻌﺒﺎﺱ، ﻣﺮﺣﻮﻡ ﻣﻘﺮﻡ ، ١٦٩ ﺧﻼﺻﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﺧﺼﺎﻝ ﺻﺪﻭﻕ، ﺝ ١، ﺹ ٦٧، ﺑﺎﺏ '' ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﺟﺰ ﺩﺭ ﺳﮧ ﻣﻮﺭﺩ ﺭﻭﺍ ﻧﯿﺴﺖ۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🌹 علمی فضیلت ابوالفضل عباسؑ 🌹
ﺁﯾﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﯿﺮﺟﻨﺪﯼ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ: ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺍﻟﻔﻀﻞ ﺍﻟﻌﺒﺎﺱؑ ﺍہلبیتؑ ﮐﮯ ﺍﮐﺎﺑﺮ، ﺍﻓﺎﺿﻞ، ﻓﻘﮩﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍﯾﺴﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ جنہوﮞ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺯﺍﻧﻮﺋﮯ ﺍﺩﺏ ﺗﮩﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﻣﺮﺣﻮﻡ ﻣﻘﺮﻡ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ: ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦؑ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﻭﺗﺮﺑﯿﺖ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻋﺎﻟﻢ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﮯ ﺍﺳﺮﺍﺭ ﻭﺭﻣﻮﺯ ﻣﻨﺠﻤﻠﮧ ﻋﻠﻢ ﻣﻨﺎﯾﺎ ﻭﺑﻼﯾﺎ (ﯾﻌﻨﯽ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ) ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ (ﺟﯿﺴﮯ ﺣﺒﯿﺐ ﺑﻦ ﻣﻈﺎﮨﺮ، ﻣﯿﺜﻢ ﺗﻤﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺭُﺷَﯿﺪ ﺣﺠﺮﯼ ﻭﻏﯿﺮﮦ)
ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻣﻌﻘﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦؑ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﻋﻠﻢ ﺳﮯ ﺳﺮﻓﺮﺍﺯ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻮﺭ ﭼﺸﻢ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺭﮦٔ ﺟﮕﺮ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻠﻮﻡ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﺭﮐﮭﯿﮟ؟ ﺟﺒﮑﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﻭﺍﺳﺘﻌﺪﺍﺩ ﺍﻥ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﯽ! ﮐﯿﺎ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻮﻻ ﻭﺁﻗﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺍﻟﻔﻀﻞ ﺍﻟﻌﺒﺎﺱؑ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﻥ ﻋﻠﻮﻡ ﮐﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﻭﺍﺳﺘﻌﺪﺍﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ؟
ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﻧﮩﯿﮟ، ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ! ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﺆﻣﻨﻴﻦؑ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﺷﯿﻌﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻮ ﻋﻠﻮﻡ ﻭﻣﻌﺎﺭﻑ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﻭﺍﺳﺘﻌﺪﺍﺩ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻠﻮﻡ ﺳﮯ ﺳﺮﻓﺮﺍﺯ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﭼﮧ ﺟﺎﺋﯿﮑﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻧﻮﺭ ﭼﺸﻢ ﻭﭘﺎﺭﮦٔ ﺟﮕﺮ، ﻧﮧ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺟﻮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﺴﺐ ﻋﻠﻮﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﻭﺍﺳﺘﻌﺪﺍﺩ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻓﺮﺯﻧﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﯽ۔
ﻣﺨﺘﺼﺮ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺎﺱؑ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮩﻦ ﺯﯾﻨﺐ ﮐﺒﺮﯼٰؑ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺳﺠﺎﺩؑ ﮐﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﭘﮭﻮﭘﮭﯽ ﺯﯾﻨﺐ ﻋﺎﻟﻤﮧ ﻏﯿﺮ ﻣﺘﻌﻠﻤﮧ ﮨﯿﮟ (ﯾﻌﻨﯽ ﮐﺴﯽ کے ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺯﺍﻧﻮﺋﮯ ﺍﺩﺏ ﺗﮩﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ) ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﺒﺎﺱؑ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻋﺎﻟﻢ ﻏﯿﺮﻣﺘﻌﻠﻢ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﮐﺮﺑﻼ، ﻗﻤﺮ ﺑﻨﯽ ﮨﺎﺷﻢ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺍﻟﻔﻀﻞ ﺍﻟﻌﺒﺎﺱؑ ﻃﯿﺐ ﻭ ﻃﺎﮨﺮﻧﻔﺲ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮎ ﻭﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﻃﯿﻨﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻋﻈﯿﻢ ﺍﺧﻼﺹ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﻣﮑﻤﻞ ﻣﺼﺪﺍﻕ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ:
''ﻣٰﺎ ﺍَﺧﻠَﺺَ ﻋَﺒﺪ ﻟِﻠّٰﮧِ ﻋَﺰَّﻭَﺟَﻞَّ ﺍَﺭﺑَﻌِﯿﻦَ ﺻَﺒﺎﺣﺎً ﺍِﻻّٰ ﺟَﺮَﺕ ﯾَﻨﺎﺑﯿﻊُ ﺍﻟﺤِﮑﻤَﺔِ ﻣِﻦ ﻗَﻠﺒِﮧِ ﻋَﻠﯽٰ ﻟِﺴٰﺎﻧِﮧِ"
"ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺩﻥ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﮮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﻠﺐ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﮯ ﭼﺸﻤﮯ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔"
ﭘﺲ ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻭﻣﺮﺍﺣﻞ ﮐﻮ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﻭﺧﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯾﺌﮯ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﺭﺫﺍﺋﻞ ﺳﮯ ﻣﻨﺰﮦ ﻭﻣﺒﺮﮦ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﻓﻀﺎﺋﻞ ﺳﮯ ﺁﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﻮ، ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﺍﻗﺪﺱ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻋﻠﻮﻡ ﻭﻣﻌﺎﺭﻑ ﮐﮯ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﻣﺘﺠﻠﯽ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ، ﻋﻠﻢ ﻟﺪﻧﯽ ﮨﻮ؟
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺩﻟﯿﻞ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﮐﮧ ﻗﻤﺮ ﺑﻨﯽ ﮨﺎشم ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﻭﺟﺪﺍﻧﯽ ﮨﮯ، ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺑﺮﮨﺎﻧﯽ ﻋﻠﻮﻡ ﻭﻣﻌﺎﺭﻑ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﮨﺮ ﺗﮭﮯ، ﻣﻌﺼﻮﻡؑ ﮐﺎ ﮐﻼﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ:
"ﺍِﻥَّ ﺍﻟﻌَﺒّﺎﺱَ ﺑﻦَ ﻋﻠﯽٍّ ﺯُﻕَّ ﺍﻟﻌِﻠﻢَ ﺯُﻗّﺎً۔"
"ﺑﮯ ﺷﮏ ﻋﺒﺎﺱ ﺑﻦ ﻋﻠﯽ ﮐﻮ ﺑﭽﭙﻦ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻋﻠﻢ ﺳﮯ ﺳﯿﺮ ﻭﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺩﺍﻧﮧ ﺑﮭﺮﺍﺗﺎ ﮨﮯ۔"
ﻣﺮﺣﻮﻡ ﻣﻘﺮﻡ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ:
ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﯽ ﺗﺸﺒﯿﮧ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺑﺪﯾﻊ ﺍﺳﺘﻌﺎﺭﮦ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ''ﺯﻕ'' ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺩﺍﻧﮧ ﺑﮭﺮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺗﻨﮩﺎ ﺩﺍﻧﮧ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻗﺎﺩﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯽؑ ﮐﮯ ﮐﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺍﺳﺘﻌﺎﺭﮦ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﻘﺎﺋﮯ ﺳﮑﯿﻨﮧ ﺑﭽﭙﻦ ﮨﯽ ﺳﮯ ﺣﺘٰﯽ ﺁﻏﻮﺵِ ﻣﺎﺩﺭ ﺳﮯ ﻋﻠﻮﻡ ﻭﻣﻌﺎﺭﻑ ﮐﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﻭﺍﺳﺘﻌﺪﺍﺩ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﺗﮭﮯ۔
ﺍﯾﮏ ﺗﻌﺠﺐ ﺧﯿﺰ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﻮﺛﻘﯿﻦ ﻧﮯ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺮﺑﻼ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻠﻢ ﭘﺮ ﻏﺮﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﺗﮑﺒﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﮭﮯ، ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺍﻟﻔﻀﻞ ﺍﻟﻌﺒﺎﺱؑ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻋﻠﻮﻡ ﻭﻣﻌﺎﺭﻑ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﺷﮩﺪﺍﺀ ﭘﺮ ﺍﻣﺘﯿﺎﺯ ﺣﺎﺻﻞ ﺗﮭﺎ ﺑﺤﺚ ﻭﮔﻔﺘﮕﻮ ﮨﻮﺋﯽ، ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﻣﻐﺮﻭﺭ ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﺮﺍﻧﻘﺪﺭ ﺧﺼﻮﺻﯿﺎﺕ ﻣﻨﺠﻤﻠﮧ ﻋﻠﻮﻡ، ﻧﻤﺎﺯ ﺷﺐ، ﻣﺴﺘﺤﺒﯽ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺯﮨﺪ ﻭﺗﻘﻮﯼٰ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﺀ ﭘﺮ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﺒﺎﺱؑ ﮐﮯ ﺑﺮﺗﺮ ﮨﮯ! ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﺒﺎﺱؑ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﻓﻀﺎﺋﻞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﺮﺗﺮﯼ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﻓﻀﺎﺋﻞ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺯ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﺑﺮﺍﺑﺮﯼ ﻋﻠﻢ ﻭ ﻓﻘﮧ (ﮐﮧ ﺟﻦ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﻭﮦ ﻣﺪﻋﯽ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺍﻟﻔﻀﻞ ﺍﻟﻌﺒﺎﺱؑ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ) ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﺑﺰﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﺴﺎﺭﺕ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺗﻌﺠﺐ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﺮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ ﺗﮑﺒﺮ ﻭﻏﺮﻭﺭ ﭘﺮ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﻑ ﻻﺣﻖ ﺗﮭﺎ۔
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩن ﻣﺠﻤﻊ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺍﺱ ﻣﺮﺩ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺑﺎﺧﺒﺮ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﻤﺮﺍﮨﯽ ﭘﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺷﺎﻣﻞ ﺣﺎﻝ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔ ﭘﺲ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ، ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺩﻕ ﺍﻟﺒﺎﺏ ﮐﯿﺎ، ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﺒﺎﺱؑ ﮐﮯ ﺣﺮﻡ ﻣﻄﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﻟﻮﮒ ﺣﺮﻡ ﻣﻄﮩﺮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﭼﻠﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﻣﺸﺎﮨﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﺮﺩ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﺳّﯽ ﺑﺎﻧﺪﮬﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﺳّﯽ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺳﺮﺍ ﺿﺮﯾﺢ ﻣﻄﮩﺮ ﺳﮯ ﻣﺘﺼﻞ ﮐﺌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﯾﮧ ﻭ ﺯﺍﺭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻤﻞ ﭘﺮ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﻭ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔
ﺟﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ کہا کہ؛
جب میں کل کی شب سویا تو میں نے
1 285
🔪🗡⚔ قمه زنی ⚔🗡🔪
●■حجت الاسلام قرائتی فرماتے ہیں:
قمهزنی سے پرهیز کی مبلغین بزرگوار کی تاکید کے باوجود ایک شهر میں لوگ اپنے اعتقادات کی خاطر اسے چھوڑ نہیں رہے تھے. ہم سے کہا گیا کہ آپ وہاں جائیں اور انہیں اس سے روکیں. ماه محرم کے ایام تھے، کیونکہ ہمارے آنے کا اعلان کیا ہوا تھا اور لوگوں نے ٹیلیویزن پر دیکھا ہوا تھا، مسجد میں جمع ہوگئے.
جب داخل ہوا تو لوگوں نے کہا: آقا قرائتی قمهزنی کے بارے میں کہنے آئے ہیں.
میں نے کہا: میرا کام کیا ہے؟
انہوں نے کہا: آپ معلم قرآن ہیں.
میں نے کہا: معلم قرآن کے عنوان سے مجھے قبول کرتے ہو؟
انہوں نے کہا: جی قبول کرتے ہیں لیکن حرف قمه نہ کہیں، فقط قرآن سے بات کریں.
میں نے بورڈ پر لکھا:
«بسم الله الرحمن الرحیم - یا ایها الذین آمنوا لا تقولوا راعنا و قولوا انظرنا» (سورہ بقرہ ۱۰۴)؛
«اے ایمان والوں! "راعنا" مت کہو، بلکه کہو: "انظرنا".» اسکے بعد توضیح دی که:
«یا ایها الذین آمنوا» یعنی: اے مؤمنین .
«لا تقولوا راعنا و قولوا انظرنا»
راعنا مت کہو بلکه انظرنا کہو یعنی کیا؟ اسکا قصه کچھ اس طرح ہے که: پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم خطبہ کے حال میں تھے، نیچے بیٹھے ایک شخص نے کہا: راعنا، یعنی میری مراعات بھی کریں.
یعنی آہستہ سے بات کریں اور کمزور فہم افراد کا بھی خیال رکھیں.
یہ کلمه راعنا مثل گوشت ہے که اسے آلو کے ساتھ بھی پکایا جاسکتا ہے اور سبزی کے ساتھ بھی.
«راعنا» کو اگر «رعی» سے لیا جائے اسکے معنی «ہماری مراعات کریں» ہوتے ہیں اور اگر «رعن» سے ہو تو اسکے معنی بےوقفوف بنانے کے ہیں.
جب مسلمان «راعنا» کہتے تھے تو انکا هدف مقدس تھا و معنی «ہماری مراعات کریں» کا اراده کرتے تھے، لیکن یهودی اس کلمے سے سوء استفاده کرتے، کہتے تھے:
مسلمان اپنے پیغمبر کو کہتے ہیں ہمیں بےوقوف بناؤ. یہاں آیت نازل ہوئی:
«یا ایها الذین آمنوا لا تقولوا راعنا و قولوا انظرنا»؛
«اے ایمان والوں! "راعنا" مت کہو، بلکه کہو: "انظرنا".»
یعنی جس کلمے سے دشمن سوء استفاده کرتے ہیں، اسے استعمال نہ کرو.!!
اس آیه کی تفسیر کے بعد کہا: جب آپ قمه لگاتے ہیں تو آپکا هدف مقدس ہوتا ہے اور عشق امام حسین علیه السلام میں یہ کام کرتے ہیں، لیکن یورپی نیوز چینلز نے آپکے اس کام کو ۱۲ مرتبہ دکھا کر کہا ہے که شیعه خودآزاری کے مرض میں مبتلا ہیں. دشمن آپکے اس کام سے یوں سوء استفاده کرتا ہے.
■ آج آپکا یہ کام صدر اسلام میں مسلمانوں کے «راعنا» کہنے کی طرح ہے که دشمن اس سے سوء استفاده کرتا تھا اور قرآن کریم نے اس آیه کے ذریعہ اس دور اور آج کے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے که:
•●■ ہر اس کام سے پرهیز کریں که جس سے دشمن سوء استفاده کرتا ہے. پس آج کیونکہ دشمن آپکی قمه زنی سے سوء استفاده کرتا ہے، لہذا آپ قمه نہ لگائیں.
انہوں نے کہا: اب سمجھ گئے، آج کے بعد قمه نہیں لگائیں گے.!
📚 (مجله مبلغان، شماره 39 فروردین 1382)
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 285
🔷 تم نے دیکھ لیا 🔷
تم نے 1949ء میں شیعہ کافر کے نعروں اور اشتہاروں کو چھپوا کے دیکھ لیا۔
تم نے 1950ء میں ہم پر دوران جلوس پتھراؤ اور لاٹھی چارج کروا کے دیکھ لیا۔
تم نے 1954ء میں لاہور احمدی تحریک کی آڑ میں ہماری املاک کو لوٹ کر دیکھ لیا۔
تم نے 1955ء میں لاہور مرکزی جلوس شبیہ ذولجناح پر کھولتا ہوا تیل پھینک کر دیکھ لیا۔
تم نے 1958ء ٹھہری میں مجلس کا گھیراؤ کر کے دو سو سے زیادہ عزاداروں کو ذبح کر کے دیکھ لیا۔
تم نے 1962ء کے محرم میں پورے پاکستان میں شیعہ مخالف فساد کروا کے دیکھ لیا۔
تم نے 1970ء میں کوئٹہ میں چاقو، تلواروں کے وار سے عزاداروں کو قتل کر کے دیکھ لیا۔
تم نے 1974ء کے فساد کے بعد بھی دیکھ لیا۔
تم نے 1977ء سے 1988ء تک بدترین ریاستی جبر ظلم استبداد کے بعد بھی دیکھ لیا۔
تم نے 1981 میں کالعدم سپاہ صحابہ کے وجود میں آنے کے بعد بھی دیکھ لیا۔
تم نے 1986ء اور 1988ء میں سرکاری سرپرستی میں کروائے گئے فسادات کے بعد بھی دیکھ لیا۔
تم نے 1990ء سے 1999ء میں بدترین ٹارگٹ کلنگ اور سانحہ مومن پورہ لاہور کے بعد بھی دیکھ لیا۔
تم نے 2000ء سے 2010ء تک مساجد، امام بارگاہوں، مجالس اور جلوس ہائے عزاء میں خود کش دھماکوں کے بعد بھی دیکھ لیا۔
تم نے 2005ء سے 2012ء تک پاراچنار میں جنگ کا نتیجہ بھی دیکھ لیا۔
تم نے 2010ء سے 2021ء تک ہزارہ نسل کشی کے بعد بھی دیکھ لیا۔
تم نے ہمارا بسوں سے اتر کر شناخت کر کے قتل کیا جانا دیکھ لیا۔
تم نے ہمارا درہ آدم خیل کوہاٹ بنوں میں بس سے اتار کر سڑک پر ذبح کیا جانا دیکھ لیا۔
تم نے قافلہ زیارت کا واپسی پر خود کش حملوں کا شکار ہونا دیکھ لیا۔
تم نے ہمارے قتل عام پر سنچری سانگ دیکھ لیا۔
تم نے ہمارے خلاف کفر کے فتوے دیکھ لیے۔
تم نے ہمارے خلاف پراپگنڈہ کر کے دیکھ لیا۔
تم نے دوران جلوس ہمارا کٹ جانا مگر علم عباس کو جھکنے نہ دینا دیکھ لیا۔
تم نے ہم میں اپنے کارندے پلانٹ کروا کے دیکھ لیا۔
تم نے ہم پر جھوٹی ایف آئی آڑ کٹوا کے دیکھ لیا۔
تم نے ہمارے گھروں پر پتھراؤ کر کے دیکھ لیا۔
تم نے ہمیں بےگناہ اسیر کر کے دیکھ لیا۔
تم نے اخبارات اور میڈیا کو استعمال کر کے دشمنان اہل بیت کی حمایت و مدح کر کے دیکھ لیا۔
تم نے ایام عزا کے دوران شمالی علاقوں کی سیر کی ترویج کر کے دیکھ لیا۔
تم نے پچھلے بیس برس میں میڈیا میں عزاداری کی ترویج کو محدود کر کے دیکھ لیا۔
تم نے ہمارے جوانوں کو بچوں کو لاپتہ کر کے دیکھ لیا۔
تم نے پچھلے برس یزید زندہ باد کا نعرہ لگا کے دیکھ لیا۔
تم نے بائیکاٹ غدیر کا ٹرینڈ چلا کے دیکھ لیا۔
تم نے لبرلز اور ملحدوں سے عزاداری پر جملہ بازی کروا کے دیکھ لیا۔
الغرض بنی امیہ، بنی عباس، بنی سلجوق، خلافت عثمانیہ اور مغلوں کے دور کے بعد جو حربہ ظلم اور طریقہ جبر تم کر سکتے تھے تم نے کر لیا۔ نام حسین بلند تھا ہے اور رہے گا کیونکہ۔۔۔
بدلہ ہے کربلا میں _ تقاضہ انقلاب
نیزے پہ اب جو سر ہے وہی سر بلند ہے
جب یہ سب کچھ کر کے دیکھ لیا ہے۔ ہم لاپتا ہو کر بھی اپنا پتہ رکھتے ہیں۔ تو پھر اب فرش عزا پر بھی آکر دیکھ لو۔ غم حسین کو اپنا کر سبیل حسین اور لنگر حسین کر کے دیکھ لو اور نیاز میں مولا حسین سے حریت لے جاؤ کیونکہ در حسین آج بھی حر بناتا ہے اطاعت کے گر سکھاتا ہے... بندگی وہی ہے جو کربلا میں عطا ہوتی ہے پھر خانہ کعبہ میں جھکائی جاتی ہے...
اے محسن اعظم تیرا دم بھرتے رہیں گے
ماتم تیرا ہر دور میں ہم کرتے رہیں گے
تو لکھ چھپے پردہ میں اے روح یزیدی!
لعنت تیری تصویر پہ ہم کرتے رہیں گے
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷 آل رسولؐ سے نفرت 🔷
کیا آپ نے کبھی سنا کہ کسی نے فتوٰی ٰ مانگا ہو کہ شیعہ کی عام محفل میں بیٹھنا حرام ہے یا نہیں، کیا کسی مولوی نے فتوٰی ٰ دیا؟
کیا کبھی کسی نے کہا کہ شیعہ کے گھر میں جانے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟ کیا کبھی کسی مولوی نے فتوٰی دیا؟
کیا کبھی کسی نے کہا کہ شیعہ عام حالات میں بھی شربت میں تھوک ڈالتے ہیں؟ کیا کسی مولوی نے شربت پینے کو حرام قرار دیا؟
کیا کسی نے کہا کہ شیعہ عام حالات میں کھانے میں خون ملاتے ہیں؟ کیا کسی مولوی نے کھانے کو حرام قرار دیا؟
کیا کسی نے کہا کہ کسی شیعہ کے سیاسی جلوس میں جانا حرام ہے؟ کیا کسی مولوی نے فتوٰی دیا؟
کیا کبھی کسی نے پوچھا کہ شیعہ عام حالات میں بھی خواتین کے ساتھ غلط فعل کرتے ہیں؟ کیا کبھی کسی مولوی نے ایسا فتوٰی ٰ دیا؟
میں نے آج تک نا ہی ایسا سوال سنا اور نا ہی ایسا فتوٰی ٰ پڑھا۔ پاکستان بھر میں شیعہ حضرات کاروبار کرتے نظر آتے ہیں۔ دوکان کے نام سے علم ہو جاتا ہے کہ یہ شیعہ ہے۔ دوکاندار کے نام سے علم ہو جاتا ہے کہ یہ شیعہ ہے۔ دوکان میں لگی تصویروں سے ظاہر ہو جاتا ہے مگر وہاں سب پانی پیتے ہیں، چائے بھی پیتے ہیں، کھانا بھی کھاتے ہیں اور محفلیں بھی سجتی ہیں مگر کبھی کسی کو شک نہیں ہوتا کہ اس میں تھوک ملائی ہو گی یا خون ملایا ہو گا۔ آپ نے کبھی سوچا کہ ایک حالت میں شیعہ کے ساتھ کھانا پینا اور اٹھنا بیٹھنا حلال ہوتا ہے لیکن دوسرے ہی لمحے وہی سب کچھ حرام ہو جاتا ہے؟ یہ سب سوال اور اعتراضات صرف ایک معاملہ سے منسلک ہیں۔ اور وہ عزاداری اہلبیت علیہم السلام ہے۔
مجلس میں جانے سے نکاح ٹوٹتا ہے؟
ہاں نکاح فاسق ہو جاتا ہے۔
کیا شیعہ سبیل میں تھوک ملاتے ہیں؟
ہاں شیعہ ایسا کرتے ہیں۔
کیا شیعہ نیاز میں خون ڈالتے ہیں؟
بالکل ڈالتے ہیں۔
کیا شیعہ شام غریباں میں بدفعلی کرتے ہیں؟
جی بالکل کرتے ہیں۔
کیا شیعہ جلوس میں جانا حرام ہے؟
بالکل حرام ہے۔
کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ شیعوں سے نفرت ہے؟ نہیں یہ نفرت آل رسول سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل تشیع سے بھی تب نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے اور پروپیگینڈا کیا جاتا ہے جب وہ محمد و آل محمد علیھم السلام کا غم منا رہے ہوتے ہیں۔
یہ شیعہ دشمنی دراصل اہلبیت علیہم السلام سے دشمنی ہے ورنہ عام حالات میں شیعہ بہت اچھے لگتے ہیں لیکن جوں ہی عزاداری کرتے ہیں تو دشمن نظر آتے ہیں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷 فقط رونا کافی نہیں ہے 🔷
خطرناک ترین چیز جو روز عاشورا مشاہدے سے گزری وہ یہ ہے کہ ، لوگ امام حسین علیہ السلام کو قتل بھی کر رہے تھے اور رو بھی رہے تھے ۔ جس وقت حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے امام علیہ السلام کے جسم اطہر پر دل خراش بین کئے تو عمر سعد اور اس کا سارا لشکر بھی وہ بین سن کر رویا۔
سوال یہ ہے کہ ، اس رونے کا کوئی فائدہ ہے؟؟ عمر سعد کے رونے کی کتنی اہمیت ہے؟ شمر ذی الجوشن کے رونے کی کیا حیثیت ہے؟؟ یہ ایک عبرت کا مقام ہے۔!
یاد رکھیں ۔۔۔ امام حسین علیہ السلام کے اہداف و نظریات کی مخالفت یا ان کا قتل امام حسین علیہ السلام کی ہی مخالفت اور قتل ہے، یزید بھی حسین علیہ السلام کے جسم کا نہیں ان کے ہدف ونظریے کا دشمن تھا، وہ حسین علیہ السلام کے نظریے کو ختم کرنا چاہتا تھا اور ان کے ہدف سے خائف تھا۔
لہذا ہمیں خدا سے دعا کرنی چاہیے کہ ہمیں ان افراد میں سے قرار نہ دے جو حسین علیہ السلام اور حسینی ہدف و مقصد کو قتل بھی کرتے ہوں اور روتے بھی ہوں۔
شھید ایت الله باقر الصدر
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷 کربلا میں نماز ظہر کا قیامت خیز منظر 🔷
جب قوم جفاکار نےفرزندرسول ص کو نماز پڑھنے کی مہلت نہ دی اور نابکار جنگ موقوف کرنے پر راضی نہ ہوئے تو امام علیہ السلام نے بطور نماز خوف نماز ادا کرنے کا تہیہ کر لیا ۔
جناب سعید بن عبداللہ جو کہ ایمان و ایقان کے پیکر تھے امام علیہ السلام کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہو گئے
جدھر سے تیر یا تلوار یا نیزہ کا کوئی وار ہوتا تھا یہ آگے بڑھ کر اپنے سینہ پر لے لیتے تھے
چنانچہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ادھر امام علیہ السلام نے نماز کا سلام پھیرا اور ادھر جناب سعید بن عبداللہ جو زخموں سے چھلنی ہو چکے تھے زخموں کی تاب نہ لا کر زمین پر گر گئے
جناب سعید کے بدن پر تلواروں اور نیزوں کے زخموں کے علاوہ تیرہ تیر جسم مبارک میں پیوست تھے
گرتے ہوئے کہا اے اللہ ان لوگوں پر اس طرح لعنت کر جس طرح قوم عاد و ثمود پر کی تھی
اور جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میرا سلام پہنچا
میرے رنج و الم کی ان کو اطلاع دے کیونکہ میں نے تیرے ثواب کی خاطر ذریت رسول کی نصرت کی ہے
جناب سعید بن عبد اللہ نے آخری وقت سید الشہداء کو مخاطب کر کے عرض کیا یابن رسول اللہ ص اے فرزند رسول ص کیا میں نے عہد پورا کر دیا؟
امام علیہ السلام نے فرمایا نعم ہاں۔ وانت امامی فی الجنۃ تم مجھ سے پہلے جنت میں جاؤ گے
اس کے بعد ان کی روح قفس عنصری سے جنت الفردوس کی طرف پرواز کر گئی۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
📚 سعادت الدارین فی مقتل الحسینؑ، ص368، پی ڈی ایف (علامہ الشیخ محمد حسین نجفی مدظلہ العالی)
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🌹 ثار الله کے معنی 🌹
❶ثار عربی میں انتقام کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور خون کا معنی بھی دیتا ہے۔(۱)
’’ثاراللہ‘‘ کے مختلف معانی ذکر ہوئے ہیں جن میں سے ہرایک کی خاص تفسیر کی ضرورت ہے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ خداوند امام حسینؑ کا ولّئ دم ہے یعنی امام حسینؑ کا دشمنوں سے انتقام خود خدا لیگا، کیونکہ سیدالشہداء کا کربلا میں قتل کرنا حریم الٰہی پر تجاوز تھا اور خدا کے مقابل قرار پانا تھا، خلاصہ یہ کہ اہلبیتؑ آل اللہ ہیں۔ لہٰذا انکی شہادت بھی اس خون کا گرانا ہوگا جو خداوند سے منسوب ہے۔(۲)
اگرچہ یہ اصطلاح قرآن میں وارد نہیں ہوئی لیکن آیات قرآن کیساتھ اسکی توجیہ کی جاسکتی ہے۔ خداوند فرماتا ہے:
ومن قتل مظلوماً فقد جعلنا لولیہ سلطانا۔(۳)
’’جو شخص مظلوم مارا جائے ہم نے اس ولی کیلئے سلطنت (حق قصاص) قرار دی ہے‘‘
پس جو بھی ظلم کیساتھ قتل ہوجائے اس کے ورثہ کو حق قصاص ہے اور چونکہ اہلبیتؑ خصوصاً امام حسینؑ ظلم کیساتھ راہ خدا و حق و حقیقت کی خاطر مارے گئے ہیں لہٰذا ان کا ولّئ دم اورخونخواہ خود خدا ہے، پس ثاراللہ کے معنی یہ ہوں گے کہ امام حسینؑ کے خون کا بدلہ خداوند سے متعلق ہے، خداوند ہی اما م حسینؑ کے خون کا بدلہ لیگا۔ یہ اصطلاح امام حسینؑ اور خداوند کے درمیان شدید تعلق و ہم بستگی سے حکایت کرتی ہے جو خون خدا سے متعلق ہے اس کا خداوند خود انتقام لے گا۔(۴)
❷ اگر ثار خون کے معنی میں ہو تو قطعی طور پر اسکے حقیقی معنی مراد نہیں ہونگے بلکہ ایک طرح کی تشبیہ، کنایہ اور مجاز ہوگا کیونکہ خداوند جسم تو رکھتا نہیں کہ اس کا خون ہو، لہٰذا یہ معقول کو محسوس سے تشبیہ دینے کے باب سے ہوگا یعنی جیسے خون بدن میں حیاتی فعالیت انجام دیتا ہے اسیطرح امام حسینؑ نے بھی دین خدا کیلئے یہی کام کیا اور نہضت عاشورہ سے اسلام کو زندگی ملی۔
❸ اس بارے میں روایات سے استفادہ شدہ عرفانی نظر سے بھی بڑا نورانی نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے، حضرت علیؑ کو ’’اسد اللہ‘‘ اور ’’یداللہ‘‘جیسے القاب دئیے گئے ہیں اور حدیث قرب نوافل میں رسولؐ خدا نے فرمایا کہ خداوند فرماتا ہے:
ماتجب الی عبدی بشئی احب الی مما افترضت علیہ وانہ لیتجب الی بالنافلہ حتی احبہ فاذا اجبتہ کنت سمعہ الذی یسمع بہ وبصرہ الذی یبصر بہ ولسانہ الذی ینطق بہ و یدہ التی یبطش بھا ورجلہ التی بھا اذا دعائی احببتہ واذا سألتی اعطیتہ۔(۵)
’’میرا بندہ واجبات سے پسندیدہ ترین چیز کے ساتھ میرے نزدیک اظہار محبت نہیں کرتا ،وہ نوافل کے ذریعے میرے نزدیک اظہار محبت کرتا ہے یہانتک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے ہنسنے، بولنے وغیرہ کا ذریعہ بن جاتا ہوں، وہ جب مجھے پکارے تو میں اسے جواب دیتا ہوں جب کچھ مانگے تو اسے عطا کرتا ہوں‘‘
اس روایت سے یہ بات واضح ہے کہ اولیائے الٰہی زمین میں خلیفہ خدا اور مظہر افعال الٰہی ہیں، خداوند کا جسم نہیں ہے جو وہ انجا م دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اپنے اولیاء کے ذریعے اس کا اظہار کرتا ہے، جب اپنے بندے تک مدد پہنچانا چاہتا ہے تو اپنے اولیاء کو پہنچاتا ہے اور جب وہ چاہتا ہے کہ اسکی طرف سے دین کے احیاء کیلئے قربانی دی جائے خون بہایا جائے تو اسے بھی اپنے اولیاء کی شہادت کے ذریعے اظہار کرتا ہے، اسی وجہ سے جیسے حضرت علیؑ بدست قدرت خدا (یداللہ) ہیں۔ اسیطرح امام حسینؑ بھی ثاراللہ اور خون خدا ہیں، لہٰذا زیارت عاشورہ میں ہے:
السلام علیک یا ثاراللّٰہ وابن ثارہ والوتر الموتور۔
’’سلام ہو آپ پر اے خون خدا اور خون خدا کے بیٹے اور سلام ہو آپ پر آپ یگانہ دہر‘‘
مرحوم ابن قولویہ نے بھی زیارت صفحہ ۱۷و ۲۰ میں یہ جملہ نقل کیا ہے:
وانک ثاراللّٰہ فی الارض والدم الذی لا یدرک ترتہ احد من اھل الارض وال یدرکہ الا اللّٰہ وحدہ(۶)
جیسے بدن میں خون کا کردار حیاتی کردار ہے اس کے ہونے سے زندگی ہے اور نہ ہونے سے زندگی نہیں ہے۔ حضرت علیؑ اور امام حسینؑ کا وجود مقدس بھی خدا کے نزدیک اور دین میں اسی کردار کا حامل ہے اگر آپ نہ ہوتے تو نہ اسلام ہوتا نہ دین ہوتا۔
ہاں جب تک امام حسینؑ کا نام اور یاد زبانوں پر ہے، جب تک عشق حسینؑ دلوں میں جوش مار رہا ہے، جب تک آپکی ولایت کی حرارت دلوں کو گرما رہی ہے اور جب تک یاحسینؑ کی آوازیں زمین و آسمان میں گونج رہی ہیں تب تک نام خدا اور یاد خدا زندہ ہے کیونکہ آپ نے اپنی پور ی ہستی و کائنات راہ خدا میں قربان کردی، اس دور کے ریاکاروں اور تحریف گروں کے چہروں سے نقاب اتار دی اور نبوی و علوی خالص اسلام لوگوں پر آشکار کردیا، لہٰذا آپ کا خون بھی اتنا عظیم ہو گا کہ ثاراللہ کہلایا۔
📚 مأخذ
۱۔ اطریحی، مجمع البحرین ج۱ ص۲۳۷، محمد فرہنگ فارسی ج۱ ص ۱۱۸۵، مفردات راغب، ص۸۱۔
۲۔ محدثی جواد، زیارت عاشورہ ص۱۴، عزیزی تہرانی، اصغر شرح زیارت عاشورہ ص۳۵۔
۳۔ اسراء/۳۳۔
۴۔ فرہنگ عاشورہ
۵۔ محاسن برقی ج۱، ص۲۹۱۔
۶۔ کامل الزیارات ص۳۶۸،۴۰۶۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷 شہزادۂ قاسمؑ کی شہادت 🔷
امام حسن علیہ السلام جب دنیا سے جا رہے تھے اور زہر کی وجہ سے جگر کے ٹکڑے ہو کر نکل رہے تھے تو امام حسنؑ ایک عالم کرب میں تھے۔ جب آخری وقت آیا تو آپؑ نے فرمایا: میرا قاسم کہاں ہے؟ ذرا بلالو اس وقت جنابِ قاسمؑ کی عمر صرف تین سال کی تھی۔
جنابِ قاسمؑ کو لایا گیا تین سال کا بچہ، امام حسنؑ نے سینے سے لگایا اُس کا منہ چوما۔ بہت دیر تک سینے سے لگائے ہوئے روتے رہے۔ اب باپ کو جو روتے دیکھا تو یہ بچہ بھی چیخ چیخ کر رونے لگا۔ امام حسنؑ نے خاموش کروایا اور فرمانے لگے: بیٹا قاسم! تم بہت چھوٹے ہو، اس لئے تم سے کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ بس اتنی سی بات بھولنا نہیں، یہ تعویذ تمہارے بازو پر باندھے دیتا ہوں جب کبھی تمہیں سب سے زیادہ سخت وقت دنیا میں معلوم ہو کہ اس سے زیادہ سخت وقت نہیں آسکتا تو ذرا اس کو کھول کر دیکھ لینا اور قاسم کی ماں سے کہنا کہ ذرا اس کا خیال رکھنا، یہ گم نہ ہونے پائے۔
تعویذ بندھا ہوا ہے، عاشور کا دن آگیا اب بچے کی عمر ہے تیرہ سال امام حسینؑ اپنے بھائی امام حسنؑ کے عاشق تھے۔ یہ عام کتابوں میں ہے کہ جب کبھی امام حسنؑ اور امام حسینؑ ایک جگہ بیٹھ جاتے تھے تو امام حسینؑ بڑے بھائی کے سامنے گفتگو نہیں کرتے تھے اتنی بات تھی اور اتنا احترام تھا۔
عاشور کا دن جب آیا تو یہ بچہ کئی دفعہ آیا، کئی بچوں کی لاشیں آگئیں جنابِ زینبۜ کے بچوں کی لاشیں حسینؑ لے آئے اور بھی ایک دو بچوں کی لاشیں آگئیں یہ بچہ گھر میں جاتا تھا اور پھر نکلتا تھا اور چچا کے پاس آتا تھا۔ میرا یہ خیال ہے کہ ماں بھی کہتی تھیں کہ بیٹا ابھی تک اجازت نہیں لی چنانچہ آتے تھے جنابِ قاسمؑ اور عرض کرتے تھے، چچاجان! مجھے بھی تو اجازت دیجئے امام حسینؑ بچے کی صورت دیکھتے تھے اور بھائی حسنؑ یاد آجاتے تھے۔ امام حسینؑ گلے سے لگا کر رو دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ بیٹا! ابھی ذرا ٹھہر جاؤ جنابِ قاسمؑ اس اُلجھن میں تھے کہ اب کیا کروں؟
چچا اجازت نہیں دیتے۔
ایک مرتبہ خیال آیا کہ بابا نے کہا تھا کہ جب دنیا میں سب سے زیادہ سخت وقت آجائے تو اس تعویذ کو دیکھ لینا۔ جنابِ قاسمؑ ایک طرف چلے گئے۔ وہاں جاکر کھولا یہ تعویذ تو اس میں لکھا تھا کہ بیٹا قاسم! جس دن تم تعویذ کھولو گے، وہ عاشورہ کا دن ہوگا میرا بھائی چاروں طرف سے گھر چکا ہوگا۔ بیٹا! اگر میں موجود ہوتا تو اپنے بھائی پر سے اپنی جان قربان کر دیتا۔ میں نہ ہوں گا، تم ہو گے۔ میری عزت کا خیال رکھنا۔ جس وقت جنابِ قاسمؑ نے یہ پڑھا تو اس خط کو لے کر آئے اور کہا کہ چچا جان! اب ذرا یہ خط تو دیکھ لیجئے، میں کیا کروں، میں کس طرح نہ جاؤں میدان میں؟ میرے بابا کی وصیت ہے جو آج مجھے معلوم ہو رہی ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے وہ خط پڑھا بھائی کی محبت یاد آگئی، قاسم کو سینے سے چمٹا لیا اور کافی دیر تک روتے رہے امامؑ بیہوش ہو کر گر پڑے۔
تمام واقع کربلا میں آپ کسی کتاب میں نہ دیکھیں گے کہ امام حسین علیہ السلام کسی کی رخصت کے وقت بیہوش ہوئے ہوں، یہاں تک کہ جنابِ علی اکبرؑ گئے ہیں تو امام حسینؑ نے خود سوار کیا ہے خود اپنا عمامہ اُتار کر علی اکبرؑ کے سر پر رکھا لیکن قاسمؑ کی روانگی کے وقت بھائی حسنؑ کو یاد کرتے ہوئے اتنا روئے کہ بیہوش ہو گئے۔
جب ہوش میں آئے تو جنابِ قاسمؑ نے عرض کی کہ اب تو اجازت دیجئے فرماتے ہیں کہ بیٹا جاؤ! اب میں کیا کروں، مگر اپنی ماں سے تو پوچھ لو۔ آئے جنابِ قاسم، دروازے میں کھڑی ہیں اُمّ فروہ، دیکھتے ہی کہتی ہیں: بیٹا! اجازت مل گئی؟ قاسمؑ نے کہا: اماں مل گئی فرماتی ہیں: اچھا بیٹا جاؤ اور ماں کو سرخرو کرو جنابِ قاسمؑ آئے اور امیرالمومنین علیہ السلام کے پوتے تھے، آخر دادِ شجاعت دی مگر چاروں طرف سے جب گھر گئے تو کسی کی تلوار لگی، کسی کا نیزہ لگا گھوڑے سے جو گرے تو عزادارانِ اہلِ بیت! اِدھر کے گھوڑے اُدھر گزر گئے اور اُدھر کے گھوڑے اِدھر گزر گئے تیرہ سال کا بچہ، اس کی ہڈیوں اور گوشت میں تھا کیا، مگر گرتے گرتے آواز دی، چچاجان! اب میں جا رہا ہوں، ایک مرتبہ زیارت کروا دیجئے۔
حسینؑ روتے ہوئے آئے، یزیدیوں کو تلوار سے ہٹایا۔ قاسمؑ کی لاش پر پہنچے مگر قاسمؑ کی ایسی حالت تھی کہ دنیا سے جا چکے تھے قاسم کو اُٹھایا، منہ پر منہ رکھا، سینے کو سینے سے ملایا مگر تیرہ سال کے بچے کی لاش کی حالت یہ تھی کہ پاؤں زمین پر گھسٹتے ہوئے آ رہے تھے، ہوا کیا؟ گھوڑوں نے وہ کیا جو کسی شہید کے ساتھ نہیں ہوا۔ جب خیمے میں پہنچے تو زینبۜ انتظار میں تھیں۔ امام حسین علیہ السلام نے قاسمؑ کی لاش زمین پر لٹا دی۔ ماں خیمے کے ساتھ کھڑی ہوئی ہیں اور دیکھ رہی ہیں۔ جب تک حسینؑ رہے، روئی نہیں، جب حسینؑ باہر نکلے، ایک مرتبہ کہا: بیٹا قاسم! ارے دولہا بن کر آ گئے، مجھے تم نے سرخرو کر دیا۔
📚 روایات عزا، علامہ حافظ کفایت حسین نور اللہ مرقدہ۔
https://t.me/islamwitheman/7089
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔴 شہادت حضرت قاسم علیہ السلام 🔴
یہ یاد رہے کہ شہزادہ قاسم علیہ السلام کو اپنے چچا حسین علیہ السلام سے اجازت بڑی مشکل سے ملی تھی.
أبوالفرج الاصفهانى کہتے ہیں مجھ سے أحمد بن عيسى نے اپنے اسناد سے حميد بن مسلم کی زبانی یہ روایت بیان کی.
اتنے میں ایک نوجوان (قاسم) ہماری جانب نکلا اسکا چہرہ گویا چاند کے ٹکرے کی طرح تھا... ہاتھ میں تلوار تھی، قمیص اور پائجامہ زیب تن کیا ہوا تھا، پیروں میں نعلین تھے.... ان میں سے ایک کا تسمہ ٹوٹا ہوا تھا اور میں نہیں بھول سکتا وہ بایاں تسمہ تھا....
پس عمرو بن سعيد بن نفيل الأزدي نے اسے دیکھ کر کہا والله میں اس (قاسم) کو قتل کرونگا.
میں نے کہا سبحان الله! کیا چاہتے ہو؟ کیا تمہارے لئے وہ لوگ کافی نہیں جنہوں نے اسے گھیر رکھا ہے؟
تو اس نے کہا واللہ میں انکو ضرور قتل کرونگا یہ کہہ کر میری طرف رخ پھیرے بغیر آگے بڑھا اور اس نوجوان (قاسم) کے سر پر پیچھے سے تلوار سے حملہ کیا. تب تک یہ نوجوان (قاسم) ستر کے قریب دشمنوں کو مارچکا تھا...
پس اس ضربت کے بعد یہ نوجوان (قاسم) پکارا چچاجان! میری مدد کو آئیے.
حسین علیہ السلام مثل شکاری باز کی سرعت کے میدان کو نکلے دشمنوں پر حملہ آور ہوئے. قاسم کے قاتل پر حملہ کیا اس نے آپکا وار اپنے ہاتھ پر روکا جس سے اسکا بازو کٹ کر رہ گیا اور ایک رگ پر لٹکنے لگا. اس نے مدد کیلیے آواز دی تو فوج یزید اسے بچانے کیلئے آگے بڑھی اس دوران خوب گرد و غبار اٹھا گہمسان کی جنگ ہوئی.
حسین علیہ السلام جب بھتیجے کے سرہانے پہنچے تب وہ جان کنی کے عالم میں تھے اور وہ زمین پر ایڑیاں رگڑ رہے تھے.
یہ دیکھ کر آپ نے شدید گریہ کیا اور فر مایا:
اس قوم پر خدا کا غضب نازل ہو جس نے تمہیں قتل کیا اور تیرے جد کو اپنا دشمن بنالیا....
مجھ پر کسقدر شاق ہے کہ تو مجھے پکارے اور تجھے جواب نہ دے سکوں اور جب جواب دوں تو تجھے اسکا کوئی فائدہ نہ ہو....
واللہ کسقدر حملہ آوروں کی کثرت ہے ناصروں کی قلت ہے
پهر قاسم علیہ السلام کی لاش کو سینے سے لگا کر خیمہ گاہ کی جانب چلے اور میں (حمید بن مسلم راوی) دیکھ رہا تھا کہ اس نوجوان کے پیر اس حال میں زمین پر خط دیتے جاتے تھے پھر حسین علیہ السلام نے انکا لاشہ اپنے فرزند علی اکبر علیہ السلام کے لاشے کے پہلو میں رکھ دیا۔۔۔۔
الا لعنةالله علی القوم الظالمين.
📚 حوالہ جات:
اللہوف،
نفس المہموم،
بحار الانوار،
مقتل القاسم.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔴 7 محرم الحرام، پانی کی بندش 🔴
عبید اللہ بن زیاد ملعون نے عمر بن سعد کو خط لکھا: اے عمر سعد! حسین (ع) اور پانی کے درمیان حائل ہو جاؤ اور ان پر سختی کرو اور حتی انہیں ایک قطرہ پانی بھی نہ پینے دو.
جب یہ خط پہنچا تو ابن سعد نے عمر بن حجاج کو 500 نفری دے کر فرات پر تعینات کیا اور حکم دیا کہ امام حسین علیہ السلام کے لشکر کو پانی مت اٹھانے دو. سات محرم کے بعد اہل حرم آسانی سے پانی حاصل نہيں کر سکے.
امام سجاد علیہ السلام فرماتے تھے:
"وقد منع ابي من الماء الذي كان مطلقا للسباع والوحوش."
ترجمہ:
میرے والد کو پانی سے محروم رکھا گیا جس سے درندے اور وحشی جانور تک آزادانہ سیراب ہوتے تھے.
عمر ابن سعد کے حکم پر پانی اور اہلیبیت علیہم السلام کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تاکہ اہلیبیت علیہم السلام اور انکے اصحاب تک پانی کا ایک قطرہ تک نہ پہنچ سکے.
عبدالله بن حصین ازدی نے (اسکا شمار قبیلہ بجلیہ کے خاندان سے تھا) بلند آواز سے پکار کر کہا:
اے حسین کیا پانی کی طرف دیکھتے ہو؟ گویا وہ رنگت میں آسمان کا جگر ہے. خدا کی قسم تم لوگ اس میں سے ایک قطرہ بھی نہیں چکھ سکو گے یہانتک کہ پیاس سے مر جاؤ.
تو امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:
خدایا اسے پیاس سے مار اور اسے کبھی نہ بخشنا۔
حمید بن مسلم کہتا ہے:
خدا کی قسم! اسکے بعد اسکی بیماری میں اسکی عیادت کی تو میں نے اسے دیکھا کہ وہ پانی پیتا تھا یہانتک کہ اسکی پیاس نہیں بجھتی تھی پھر وہ قے کرتا اور چیختا کہ ہاۓ پیاس....
پھر پانی پیتا ور پھر قے کر دیتا وہ پیاس سے تڑپتا یہانتک کہ اسکی روح نکل گئی خدا اس پر لعنت کرے.
📚 تذکرةالاطہار، صفحہ: 289۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
" فذبح الطفل من الاذن الی الاذن"
امامؑ مظلوم نے خون علی اصغر علیہ السلام ہاتھوں میں اکٹھا کر کے فضا میں اچھال دیا اور فرمایا :
" ثم رجع بالطفل مذبوحاً و دمہ یجری علی صدر الحسین"
اے خدا ! اس قوم پہ گواہ رہنا گویا انہوں نے نذر مان رکھی ہے کہ خاندان وحی کے ایک فرد کو بھی باقی نہ چھوڑا جائے
اس کے بعد آپؑ اس مقتول بچے کو لئے واپس چلے آئے اس حالت میں کہ بچے کے گلوئے اقدس کا خون آپؑ کے سینہ مبارک پر بہہ رہا تھا۔(٤)
■ سپہر کاشانی مرحوم اس طرح لکھتے ہیں کہ جناب علی اصغر علیہ السلام چھے ماہ کے تھے اور بھوک و پیاس کی وجہ سے مادر گرامی کے دودھ کا چشمہ بند ہو چکا تھا اور معصوم شہزادہ مسلسل گریہ کر رہے تھے۔ امام علیہ السلام نے جب بچے کی حالت دیکھی تو کہا میرے بچے کو میرے پاس لاو تاکہ میں اس سے وداع کر لوں۔ آپؑ نے بچے کو ہاتھوں میں لے کر چوما۔ اسی اثنا میں حرملہ بن کاہل اسدی ملعون نے تیر مار کر بچے کو ذبح کر دیا۔ صاحب عوالم کی روایت کے مطابق امامؑ مظلوم نے جناب علی اصغر علیہ السلام کے بدن کو ان کے خون میں غلطاں کیا اور اپنے گھوڑے سے اترے اس بچے پہ نماز پڑھی اور اپنی تلوار سے زمیں میں گڑھا کھود کر بچے کو دفن کر دیا۔(٥)
■ ایک روایت میں یوں بھی ملتا ہے کہ آپؑ معصوم کو اپنے ہاتھوں میں لے کر لشکرِ اعداء کے سامنے آئے تو فرمایا:
اے لوگو! تم نے میرے شیعوں اور میرے اہلبیت کو قتل کر دیا اور میرے ساتھ کئے ہوئے وعدۂ بیعت کو توڑ دیا۔ مجھ سے ہاتھ اٹھا لو تاکہ میں اپنے جد کے حرم مطہر کی طرف چلا جاؤں یا کم از کم مجھے پانی دے دو اب میرے سوا ان عورتوں اور بچوں کا کوئی نہیں رہا جو نیزہ و تلوار چلا سکے۔
ویلکم اسقوا ھذا الر ضیع اما ترونہ کیف یتلظی عطشا من غیرذنب اتاہ الیکم۔
وائے ہو تم پر اس بچے کو پانی دے دو کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ یہ مچھلی کی طرح تڑپ رہا ہے باوجود اس کے کہ اس نے تمہارا کوئی گناہ نہیں کیا امامؑ کا کلام ابھی ختم ہی ہوا تھا کہ ناگاہ حرملہ بن کاہل اسدی ملعون نے امامؑ مظلوم کی طرف تیر چلایا۔ یہ تیر بچے کے گلوئے اقدس کو ذبح کر گیا۔(٦)
خوازمی اس طرح لکھتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام گھوڑے سے اترے اور بچے کو دفن کرنے کے لئے زمین کو کھودا۔ بچے کے بدن کو خون سے غلطاں کیا اس پر نماز پڑھی اور دفن کر دیا۔(٧)
شوشتری مرحوم اس ضمن میں لکھتے ہیں کہ بعض روایات کے مطابق امام حسین علیہ السلام نے شیر خوار بچے کے لئے قبر کھودی اور اسے دفن کر دیا۔ شاید اس راز کی چند وجوہات ہوں۔
۱۔ ممکن ہے کہ تنہائی کی وجہ سے بچے کو سپرد خاک کر دیا ہو۔
۲۔ اس لئے خود دفن کیا کہ دوسرے شہیدوں کی طرح بچے کا سر بدن سے جدا نہ ہو۔
۳۔ اس لئے دفن کر دیا کہ (دوسرے شہداء کی طرح) تین روز تک زمین پر برہنہ و عریاں نہ پڑا رہے۔
۴۔ تاکہ گھوڑوں کے سموں کے نیچے پامال نہ ہو۔
۵۔ امام علیہ السلام اور اہل حرم تاب نہیں رکھتے تھے کہ اس بچے کے بدن کو دوسری بار اس حالت میں دیکھیں۔(٨)
لیکن افسوس مسلمانوں نے امامؑ مظلوم کی اس خواہش کو بھی پورا نہیں ہونے دیا۔ ابو خلیق سے جب مختار نے پوچھا ! ملعون میدان کربلا میں تیرا دل میرے آقا امام حسینؑ پر نہیں دکھا؟ اس نے کہا ہاں ایک موقع ایسا آیا کہ میں نے خدا سے اپنی موت مانگی تاکہ حضرت کی یہ حالت نہ دیکھ سکوں۔ جناب مختار نے پوچھا کہ وہ کونسی حالت تھی؟ اس ملعون نے جناب علی اصغر علیہ السلام کی شہادت کا واقعہ بیان کیا اور امامؑ مظلوم کے بچے کو دفن کرنے کا تذکرہ بھی کیا۔ پھر کہتا ہے کہ ان ظالموں نے اس بچے کے بدن کو پھر بھی سلامت نہ چھوڑا۔ گیارہ محرم کو جب تمام شہداء کے سر فخر و مباہات کے اظہار کے لئے نیزون پر بلند کئے گئے اور انعام کے حصول کے لئے ابن زیاد کے پاس لائے گئے تو ابو ایوب غنوی جو بیلداروں کا سرکردہ تھا اس کو شہداء میں سے ایک کا سر نہ ملا تو اس نے بیلداروں کو حکم دیا کہ زمینِ کربلا کو کھودو اور اس بچے کی لاش تلاش کرو جب لاش جناب علی اصغر علیہ السلام برآمد ہوئی تو ان ظالموں نے سر کو کاٹا اور نیزے پہ سوار کر کے کوفہ لے آئے۔(٩)
📚 حوالہ جات:
١۔ سیدابن طاؤس، لہوف۔
۲۔ سبط ابن جوزی، تذکرۃ الخواص۔ ص۱۴۳۔ نفس المہموم، ص۳۵۰۔
٣۔ مقتل ابی مخنف، ص۱۳۰۔
٤۔ ریاض القدس، ج۲، ص۱۱۰۔
٥۔ ناسخ التواریخ، ج۲، ص363.
٦- مہیج الاحزان، ص۲۴۳ِ
٧۔ مقتل الحسین خوارزمی، ج۲،ص
٨۔ الخصائص الحسینیہ، ص۲۹باب الجنائز۔۔
٩۔ ریاض القدس، ج۲، ص۱۰۴،۱۰۵۔
https://t.me/islamwitheman/7086
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷 شہادت شہزادہ علی اصغرؑ 🔷
■ جب امام حسین علیہ السلام کے تمام اصحاب، عزیز و اقارب درجہ شہادت پر فائز ہو گئے میدان کرب و بلا میں امام حسین علیہ السلام کی ذات تنہا رہ گئی، کوئی بھی یاور، ناصر و مددگار باقی نہ رہا اس وقت زمانے کے شہنشاہ نے استغاثہ بلند کیا۔ امامؑ کا استغاثہ بلند کرنے کا مقصد کسی دنیادار سے مدد طلب کرنا نہیں تھا بلکہ کریم و رؤف امامؑ کا حالتِ غربت میں بھی کرامتِ بخشش کا در کھلا تھا اور لوگوں کو صدا دے رہے تھے کہ کوئی ہے۔ جو اپنے مقدر کو مثلِ حر بدلنا چاہتا ہے۔ جو اس سفینہ نجات پر سوار ہونا چاہتا ہے۔ جو اپنا خون راہِ خدا میں دے کر حیاتِ جاوداں حاصل کرنا چاہتا ہے۔
ھل من ناصر ینصرنا؟
ھل من ذاب یذب عن حرم رسول اللہ؟
ھل من موحد یخاف اللہ فینا؟
ھل من مغیث یرجوا اللہ باغاثتنا؟
ھل من معین یرجوا ما عند اللہ فی اعانتنا؟
نواسۂ رسولؐ میدانِ کربلا کے تپتے صحرا، اصحاب و عزیز و اقارب کی لاشوں کے درمیان کھڑے ہو کر کہہ رہے تھے۔
ہے کوئی جو حرمِ رسولؐ کا دفاع کرے؟
ہے کوئی خدا پرست کہ ہمارے بارے میں خدا سے ڈرے؟
ہے کوئی داد رس کہ خدا سے صلہ کی امید میں ہماری مدد کرے؟
ہے کوئی مددگار جو اس امید پر ہمارا ساتھ دے کہ ہم خدا کے حضور اس کی مدد (شفاعت) کریں؟
مخدراتِ عصمت نے حضرت کی صدائے استغاثہ سنی تو صدائے گریہ بلند کی۔ امام علیہ السلام خیام کی طرف تشریف لائے اور اپنی بہن جناب عقیلہ بنی ہاشم سلام اللہ علیھا سے فرمایا:
'' ناولنی ولدی الصغیر حتی اودعہ"
میرا کمسن بچہ لائیے تاکہ میں اس سے وداع کر سکوں۔
آپؑ جناب علی اصغرؑ کو لے کر خیمے سے باہر آئے اور جب چاہا کہ بچے کا بوسہ لوں تو حرملہ بن کاہل اسدی نے بچے کو تیر کا نشانہ بنایا۔ وہ تیر شہزادے کے گلوئے اقدس میں پیوست ہو گیا اور شہزادے کو ذبح کر گیا۔ امامؑ مظلام نے حضرت زینب سلام اللہ علیھا سے فرمایا: بچے کو لے لیجیے پھر اپنے ہاتھوں کو بچے کی گردن سے ٹپکتے ہوئے خون سے بھرا اور آسمان کی طرف اچھال دیا اور کہا
'' ھون علی مانزل بی انہ بعین اللہ"
جو بات مجھ پر آنے والی مصیبتوں کو آسان کر دیتی ہے وہ یہ ہے کہ خداوند متعال دیکھ رہا ہے۔
امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس خون کا ایک قطرہ بھی زمین پر واپس نہیں آیا۔(١)
■ سبط ابن جوزی "تذکرۃ الخواص" میں نقل کرتے ہیں کہ جب امام علیہ السلام نے دیکھا کہ فوج اشقیا آپؑ کو قتل کرنے پہ مصر ہے تو آپؑ نے قرآن مجید کو ہاتھوں میں لیا اور کھول کر سر پہ رکھا اسی حالت میں لشکر یزید سےفرمایا:
بینی و بینکم کتاب اللہ و جدی رسول اللہ یا قوم! بم تستحلون دمی؟
نواسہ رسولؐ فرماتے ہیں میرے اور تمہارے درمیان خدا کی کتاب اور میرے جد رسولِخداؐ حکم ہیں۔ اے لوگو! تم میرے خون کو کس طرح حلال سمجھتے ہو؟ کیا میں تمہارے پیغمبرؐ کا بیٹا نہیں ہوں؟ کیا تم لوگوں تک میرے نانا کا فرمان نہیں پہنچا کہ آپ نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں فرمایا تھا :
" ھذان سیدان شباب اھل الجنۃ"
بھرے مدینہ سے رسولِخداؐ جن ہستیوں کو مباہلہ کے لیے لے کر گئے تھے ان میں مولا امام حسینؑ بھی تھے لیکن روز عاشورہ میدان کربلا میں امامؑ فرما رہے ہیں اگر تمہیں میری باتوں کا یقین نہیں آتا تو جابر، زید بن ارقم اور ابو سعید خدری سے پوچھ لو۔ جب آپؑ لشکر اشقیاء سے احتجاج کر رہے تھے۔ تو آپؑ کی نظر طفل صغیر پہ پڑی جو پیاس کی شدت اور گرمی کی حدت سے رو رہا تھا۔ امام علیہ السلام نے بچے کو ہاتھوں پہ لیا اور فرمایا:
" یاقوم! ان لم تر حمونی فارحموا ھذا الطفل"
پس فوج اشقیاء میں سے ایک شخص نے اس بچے کی طرف تیر چلایا اور اسے ذبح کر دیا امام مظلوم نے گریہ کیا اور کہا:
" اللھم احکم بیننا و بین قوم دعونا لینصرونا فقتلونا"
خدایا! ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما کہ جہنوں نے ہمیں اس لئے بلایا کہ ہم آپ کا ساتھ دیں گے اور اب اس کے بدلے ہمیں قتل کر رہے ہیں۔ امامؑ کا کلام ختم ہوا کہ ندائے غیب آئی۔
" فنوی من الھواء دعہ یاحسین فان لہ مرضعاً فی الجنۃ"
اے حسین! اس بچے کو ہماری طرف بھیج دو کہ اس کے لئے بہشت میں دایہ موجود ہے۔(۲)
■ بعض نے اس طرح نقل کیا ہے کہ امامؑ مظلوم بچے کو لے کر لشکر کے سامنے آئے اور اپنے ہاتھوں پہ بلند کر کے فرمایا:
" اما ترونہ کیف یتلظیٰ عطشاً فاسقوہ شربۃ من الماء"
کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ یہ بچہ پیاس کی شدت سے کس طرح تڑپ رہا ہے اسے پانی دے دو لشکرِ اشقیاء کے بعض افراد ایک دوسرے کو سرزنش کرنے لگے اور کہنے لگے کہ کیا ہو جائے گا اگر ہم اس بچے کو پانی دے دیں؟ بچے تو بچے ہوتے ہیں بچوں کا کیا قصور ہے پس لشکر کے درمیان ایک ہلچل سی مچ گئی۔ عمر سعد ملعون نے جب یہ دیکھا کہ قریب ہے کہ لشکر بغاوت کر دے تو اس نے حرملہ ملعون کو کہا :
اقطع کلام الحسین
یہ ملعون گھوڑے کے ساتھ ایک بلند مقام پہ آیا اور گھوڑے سے اتر کر اس نے بچے کی طرف تیر چلایا جس سے بچے نے مرغ بسمل کی طرح تڑپتے ہوئے جان دے دی۔(٣)
1 285
🔴 شہادت علی اصغر علیہ السلام 🔴
شہزادہ علی اصغر علیہ السلام کی حالت مخدوش ہو چکی تھی کیونکہ پانی نہ ملنے کی وجہ سے آپ کی مادر گرامی کا دودھ بھی بالکل خشک ہو گیا تھا اور یہ چھ ماہ کا بچہ بے حس و حرکت پڑا ہوا تھا.
جناب امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ علی اصغر کو لاؤ کہ میں اس کو بھی وداع کر لوں. یہ فرما کر آپ نے ارشاد کیا:
ویل لهولاءالقوم اذا کان جدک محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم خصمهم.
ترجمہ:
اس قوم شقاوت اثر کا برا ہو کہ انہوں نے تمھارے جد بزرگوار محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دشمنی کی.
پس اس بچہ کو ہاتهوں پر اٹھا کر خیمہ سے باہر تشریف لائے اور فوج مخالف کے مقابل کھڑے ہو کر ارشاد فرمانے لگے کہ:
اے پروردگار میرے خزانہ میں اس لعل کے سوا کوئی دوسرا موتی نہیں ہے میری دلی خواہش ہے کہ میں اس کو بھی تیری راہ میں تصدق کروں.
یہ کہہ کر حضرت امام حسین علیہ السلام نے اس قوم جفاکار کو مخاطب کر کے کہا:
اے کوفیان بے حیا اور اے دوستداران آل معاویہ تم نے مجھ کو تو گنہگار اور قصوروار یقین کر لیا ہے اب اس نادان بچہ کی نسبت تم کیا تہمت لگاتے ہو. اس کو تو پانی دو کہ شدت عطش سے اس کی ماں کا دودھ خشک ہو گیا ہے اور اس وجہ سے اس کی زندگی کی امید نہیں کی جا سکتی.
کسی نے جواب نہ دیا.
حرملہ ابن کاہل اسدی نے ایک تیر مارا جو علی اصغر علیہ السلام کے حلق پر آ لگا خون کا دڑیڑا جاری ہوا اور شہزادہ علی اصغر شہید ہو گئے.
امام عالی مقام نے چلو میں اس خون ناحق کو لے کر آسمان کی طرف پھینکا اور کمال صبر و استقلال سے فرمایا:
خدائے سبحان تعالٰی ھمارے ان مصائب کو دیکھ رہا ہے یہ تو تمام مصائب ہم پر آسان ہیں.
اے پروردگار میرے بچے کا خون ناحق ناقہ صالح علیہ السلام کے قتل سے آسان نہیں ہے تو اس کا نعم البدل اس سے بہتر عنایت فرما.
علامہ سبط ابن جوزی جو سواداعظم اہل سنت میں اکابر علماء سے شمار ہوتے ہیں اپنی کتاب تذکرہ خواص الآئمہ میں لکھتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کے دعا فرمانے کے بعد ہاتف نے ندا دی
"دعہ یا حسین فان لہ مرضعہ فی الجنة"
ترجمہ:
یا حسین اس بچہ کو رخصت کرو اس کے لئے ایک دایہ بہشت عنبر سرشت میں مقرر کر دی گئی ہے.
شرح شافیہ میں لکھا ہے کہ پھر اس کے بعد امام حسین علیہ السلام گھوڑے سے اترے. اس بچہ پر نماز پڑھی اور ذوالفقار سے قبر کهود کر دفن کر دیا.
انا للہ وانا الیہ راجعون.
الا لعنةالله علی القوم الظالمين.
📚 ذبح عظيم، صفحہ: 443.
https://t.me/islamwitheman/7084
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
