ch
Feedback

不要被骗子欺骗!Telemetrio 会找到并标记这些频道 👉 如果想查看标记,请订阅

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

前往频道在 Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

显示更多
1 284
订阅者
-124 小时
-17 天
-830 天
帖子存档
🔷 ہمیشہ خوش باش نظر آئیں 🔷 ظہیر الدین بابر کے بارے میں پڑھا تھا اسے ایک بار جسم پر خارش ہوگئی، خارش اتنی شدید تھی کہ اگر کوئی کپڑا اس کے جسم سے چھو بھی جاتا تھا تو اس کے منہ سے چیخ نکل جاتی تھی، اس کے مخالف شیبانی خان کو پتا چلا تو وہ عیادت کے بہانے اس کی تکلیف انجوائے کرنے کے لیے آ گیا، بابر کو اطلاع ہوئی تو اس نے سر سے لے کر پائوں تک شاہی لباس پہنا، سر پر تاج رکھا اور دربار میں آ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ شیبانی خان سارا دن اس کے ساتھ بیٹھا رہا، اس نے کھانا بھی اس کے ساتھ کھایا لیکن بابر نے اپنی تکلیف اپنے چہرے اور آواز تک نہیں آنے دی یہاں تک کہ آخر میں شیبانی خان مایوس ہو کر چلا گیا، مہمان جوں ہی محل سے نکلا، بابر نے فوری طور پر اپنا سارا لباس اتار کر پھینک دیا، پورے دربار نے دیکھا، اس کا پورا جسم سرخ تھا اور اس پر بڑے بڑے آبلے بن چکے تھے اور وہ سارا دن انھیں برداشت کرتا رہا تھا۔ 🔘 میری زندگی کا نچوڑ ہے دنیا کو ہمارے دکھوں اور تکلیفوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا لہٰذا ہمیں چاہیے ہم اگر بیمار ہیں تو اپنی بیماری کو گردن سے نیچے چھپا لیں، اسے چہرے پر نہ آنے دیں، ہم اگر غریب ہیں تو غربت ہماری شکل اور ہمارے جسم پر دکھائی نہیں دینی چاہیے۔ ہم اگر ناکام ہیں تو ناکامی ہمارے حلیے، ہماری صورت پر نہیں آنی چاہیے، ہم اگر خوف زدہ ہیں تو خوف ہماری آواز، ہماری آنکھوں اور ہماری شکل پر نظر نہیں آنا چاہیے اور ہم اگر جاہل ہیں تو بھی ہماری جہالت ہماری صورت اور ہماری گفتگو تک نہیں پہنچنی چاہیے، یقین کریں زندگی اچھی گزرتی ہے ورنہ لوگ لوگوں کو جیتے جی دفن کرکے چلے جاتے ہیں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 "اونچائی کا غرور" 🔷 ایک گھنے جنگل میں ایک زرافہ رہتا تھا جس کی گردن سب سے لمبی اور جسم سب سے اونچا تھا۔ وہ خود کو بہت خاص سمجھتا تھا، اور اکثر دوسرے جانوروں کو کمتر جانتا تھا۔ جب کوئی چھوٹا جانور اس سے بات کرنے آتا، وہ سر اوپر کر کے کہتا، "تم لوگ میری گردن کے برابر بھی نہیں ہو، تم لوگ مجھے کیا سکھا سکتے ہو؟" جنگل کے سب جانور اس کے غرور سے پریشان تھے۔ ایک دن جنگل میں شدید آندھی آئی۔ تیز ہواؤں اور طوفان نے ہر چیز کو تہس نہس کر دیا۔ سب جانور اپنی جان بچانے کے لیے زمین کے اندر، درختوں کے نیچے یا بلوں میں چھپنے لگے۔ لیکن زرافہ، جس کی گردن بہت اونچی تھی، کہیں چھپ نہیں سکا۔ طوفان کی شدت سے درخت کی بڑی شاخ ٹوٹ کر اس پر گری اور وہ بری طرح زخمی ہو گیا۔ اب اسے مدد کی ضرورت تھی، لیکن کوئی بھی جانور اس کے پاس نہیں آنا چاہتا تھا کیونکہ وہ سب اس کے تکبر سے دل برداشتہ ہو چکے تھے۔ تب ایک چھوٹے سے کچھوے نے ہمت کی اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا زرافہ کے پاس آیا۔ اس نے زرافہ کو دلاسہ دیا اور دوسرے جانوروں کو بھی مدد کے لیے بلایا۔ سب نے مل کر زرافہ کی دیکھ بھال کی، زخم صاف کیے، اور اسے خوراک دی۔ زرافہ نے پہلی بار اپنے آنسو پونچھے اور کہا، "آج میں نے سیکھا کہ اونچائی سے کسی کی عزت نہیں بڑھتی، بلکہ دوسروں کا احترام کرنے سے دل بڑا ہوتا ہے۔" 🔘 سبق کبھی بھی اپنے قد، طاقت یا حیثیت پر غرور نہ کرو۔ جو دل سے بڑا ہوتا ہے، وہی اصل بڑا ہوتا ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

’’آؤ آؤ کیا پوچھنے آئے ہو؟‘‘۔ مجمع میں سے ایک ہٹا کٹا نوجوان دو قدم آگے بڑھا ’’ماسٹر صاحب!وہ پوچھنا تھا کہ چڑیل کو کیسے پکڑا جائے؟‘‘۔ ماسٹر نے کچھ لمحے بات سنی، پھر تیوری چڑھائی’’کون سی چڑیل، کیسی چڑیل، کوئی چڑیل وڑیل نہیں ہوتی‘‘۔ گاؤں والوں کی دبی دبی ہنسی نکل گئی، وہی نوجوان پھر بولا’’ لیکن ماسٹر صاحب! جو بھی رات کو قبرستان والے راستے میں بوہڑ کے درخت کے نیچے سوتا ہے مر جاتا ہے، گاؤں کے تین لوگ مارے جا چکے ہیں‘‘۔ ماسٹر نے کتاب بند کی اور بڑے پیار سے بولا ’’دیکھو! یہ تو پرائمری کا بچہ بھی بتا سکتا ہے کہ درخت دن کو آکسیجن اور رات کو کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں اسی وجہ سے رات کو کسی بھی درخت کے نیچے سونے سے آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے اور سونے والے کی موت ہو جاتی ہے، اس میں کسی چڑیل کا کوئی ہاتھ نہیں‘‘۔ یہ سنتے ہی ساری فضا قہقہوں سے گونج اٹھی۔ نہلے نے فخریہ انداز میں میری طرف دیکھا ’’دیکھا! کر دی نا پاگلوں والی بات‘‘۔ میں نے ماسٹر کی طرف دیکھا جو لوگوں کے قہقہے سن کر دانت پیس رہا تھا۔ گاؤں کا رنگ ریز آگے بڑھا ’’ماسٹر صاحب! کالا رنگ کیسے بنتا ہے؟‘‘۔ ماسٹر نے گردن اُس کی طرف گھمائی’’بھئی کالا رنگ کوئی رنگ نہیں ہوتا،یوں سمجھ لو جس چیز میں کسی رنگ کی ملاوٹ نہ ہو یعنی بے رنگ ہو وہ کالی ہوتی ہے‘‘۔ سب لوگ ہنستے ہوئے لوٹ پوٹ ہو گئے ، سوال کرنے والے نے بلند آواز کہا ’’اوئے پاگل ماسٹر میرے بال سفید ہیں، میں ہر چوتھے دن خضاب لگاتا ہوں پھر یہ سفید سے کالے کیسے ہو جاتے ہیں؟‘‘ قہقہے بلند ہو گئے ماسٹر ایک دم کھڑا ہو گیا، سب لوگ چوکنے ہو گئے، ایک اور سوال آیا ’’ماسٹر صاحب! چاند پر کھڑے ہو کر زمین پر پتھر پھینکا جائے تو کتنی دیر بعد نیچے گرتا ہے؟‘‘۔ ماسٹر کے لہجے میں بے بسی امڈ آئی’’دیکھو! چاند اوپر نہیں زمین کے سامنے ہے اس لیے چاند پر کھڑے ہو کر زمین نیچے نہیں اوپر نظر آئے گی۔‘‘سب کی بتیسیاں نکل آئیں ۔ یوں لگا جیسے پورے مجمع کو کسی نے مشترکہ گدگدی کی ہو، ماسٹر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، دیکھتے ہی دیکھتے وہ نیچے جھکا اور تیزی سے اینٹ اٹھا لی ایک ہڑبونگ سی مچی اور سب لوگ پیچھے ہٹ گئے، میں نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور ماسٹر صاحب کے قریب پہنچ گیا۔ ماسٹر غضبناک نگاہوں سے مجھے گھورنے لگا، نہلا اور دیگر گاؤں والے چیخ چیخ کر مجھے پیچھے ہٹنے کا کہہ رہے تھے۔ میں نے ایک نظر گاؤں والوں پر ڈالی، پھر ماسٹر صاحب کے پاس آکر پوری عقیدت سے ان کے اینٹ والے ہاتھ پر بوسہ دیا اور بولا ’’ماسٹر صاحب! جہالت کا سمندر دلیل کے پتھر سے پار نہیں ہوتا۔‘‘ ماسٹر صاحب کے ہونٹ کپکپائے، اینٹ ہاتھوں سے چھوٹی، آنکھوں میں نمی سی تیر گئی___!! 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/6096 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 زیادہ علم سے انسان پاگل ہو جاتا ہے 🔷 بچپن میں سنتے تھے کہ *زیادہ علم حاصل کرنے سے انسان پاگل ہو جاتا ہے*، بہت دفعہ سوچا کہ علم انسان کو پاگل کیسے کر سکتا ہے؟ . لیکن اب میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ واقعی ایسا ہوتا ہے ۔میں نے اس کا عملی مظاہرہ دیکھا ہے، اکثر گھر میں بذریعہ ڈاک کتابیں موصول ہوتی ہیں اور جس وقت پوسٹ مین آتا ہے عین اُسی وقت میرا مالی جیرا بھی پودوں کی تراش خراش میں مصروف ہوتا ہے، لہذا کتابیں وہی وصول کرتا ہے، میرے صحن میں لیموں کا ایک پودا ہے جس پر ہر موسم میں لیموں لگتے ہیں، اُس روز میں کچھ لیموں توڑ رہا تھا کہ مین گیٹ کی بیل ہوئی۔ جیرا مالی پودوں کو پانی دے رہا تھا، اُس نے پانی کا نل بند کیا اور گیٹ سے باہر چلا گیا، تھوڑی دیر بعد وہ واپس آیا تو اُس کے ہاتھ میں ایک بنڈل تھا جس کی پیکنگ بتا رہی تھی کہ اندر کتابیں ہیں، میں نے وہیں پیکٹ کھولا اور کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا، جیرا مالی میرے قریب ہوا اور آہستہ سے بولا صاحب زیادہ کتابیں پڑھنے سے علم کی تاپ چڑھ جاتی ہے۔ . میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور مسکرایا یہ سب خیالی باتیں ہیں چاچا علم کی وجہ سے ایسا نہیں ہوتا، یہ سنتے ہی جیرے مالی نے کندھے پر پڑا اپنا کپڑا اتار کر پسینہ پونچھا اور غور سے میری طرف دیکھا، صاحب جی! ہمارے گاؤں میں ایک ایسا بندہ موجود ہے، میرے کان کھڑے ہو گئے، ’’کون ہے وہ؟‘‘۔ جیرے مالی نے دانت نکالے’’ماسٹر غاؤں غاؤں‘‘ پتا چلا کہ جیرے کے گاؤں میں گذشتہ پچاس سالوں میں ایک ہی شخص پڑھا لکھا ہے اور وہ بھی پاگل ہو چکا ہے۔ شہر کے کسی سکول میں ہیڈ ماسٹر تھا، پھر واپس گاؤں چلا آیا اور اب ہاتھ میں اینٹ اٹھائے غاؤں، غاؤں کرتا پھرتا ہے، جیرے مالی کا گاؤں دور دراز کے کسی علاقے میں تھا لیکن مجھ پر تجسس کا بھوت سوا ر ہو چکا تھا، میں نے پوچھا کہ ’’چاچا کیا میں تمہارے گاؤں جاکر اُس ماسٹر کو دیکھ سکتا ہوں؟‘‘۔ جیرے نے کندھے اچکائے’’جب مرضی دیکھ لیں، لیکن ہمارے گاؤں کا راستہ بڑا خراب ہے، گاڑی نہیں جائے گی۔‘‘ میں جلدی سے بولا ’’ٹرین یا بس تو جاتی ہو گی؟‘‘۔ اُس نے اثبات میں سر ہلایا’’صرف بس جاتی ہے لیکن دو بسیں بدلنا پڑتی ہیں۔‘‘ . میں نے جیرے سے اُس کے گاؤ ں کا ایڈریس لیا، حوالے کے لئے ایک نام معلوم کیا اورہفتہ کی رات روانہ ہو گیا، تین گھنٹے کے طویل سفر کے بعد گاؤں پہنچا تو شام ہو چکی تھی، راستہ واقعی خراب تھا، پورا انجر پنجر ہل گیا، سخت تھکن ہو رہی تھی، لہذا گاؤں میں داخل ہوتے ہی چاچے جیرے کے بتائے ہوئے بندے کا پوچھا اور وہاں پہنچ گیا۔ یہ بندہ چاچے جیرے کا بہنوئی ’’نہلا‘‘ تھا اور گاؤں میں کافی اثر و رسوخ رکھتا تھا، بڑی محبت سے ملا اور بیٹھک میں خاص طور پر میرے لئے بستر لگوایا، رات کے کھانے میں اُس سے گفتگو ہوئی تو میں نے جان بوجھ کر ماسٹر غاؤں، غاؤں کا ذکر چھیڑ دیا، نہلے نے قہقہہ لگایا’’وہ تو جی پاگل ہے، اینٹ دے مارے گا‘‘۔ میں نے لسی کا ایک گھونٹ بھرا ’’کیا وہ کسی کو بھی دیکھتے ہی اینٹ مار دیتاہے؟‘‘۔ نہلے نے نفی میں سرہلایا، ’’نہیں! ویسے تو باتیں کرتے رہیں تو لگتا ہی نہیں کہ پاگل ہے، لیکن بحث تھوڑی لمبی ہو جائے تو اچانک اینٹ اٹھا لیتا ہے‘‘۔ . میں نے سرکھجایا، اگر واقعی ایسا تھا تو ماسٹر غاؤں غاؤں سے ملنا بہت ضروری تھا، میں جاننا چاہتا تھا کہ علم نے اُسے کیسے پاگل کیا، نہلے سے طے پایا کہ صبح وہ گاؤں والوں کے ساتھ مجھے ماسٹر سے ملوانے لے جائے گا، اگلے دن ناشتے کے بعد سارے گاؤں والے اکٹھے ہو گئے۔ اُن کے چہروں پر ایسی خوشی تھی گویا کسی میلے میں جا رہے ہوں، میں نے نہلے سے پوچھا کہ یہ لوگ ساتھ کیوں جا رہے ہیں؟ نہلے نے قہقہہ لگایا’’بس جی! شغل میلے کے شوقین ہیں، ویسے بھی یہ لوگ ماسٹر کے دماغ کو زیادہ سمجھتے ہیں، یہی ماسٹر سے بات چیت کریں گے، آپ نے بس پیچھے رہ کر دیکھنا ہے کہ ماسٹر کیسے پہلے پاگلوں والی باتیں کرتا ہے اور پھر اینٹ اٹھاتا ہے۔۔۔ . ‘‘میں نے ایک اہم سوال کیا’’ کیا ماسٹر صاحب کے گھر والے بھی ساتھ رہتے ہیں؟ ‘‘۔ نہلا ہنس پڑا . ’’نہیں! وہ شہر میں ہیں،صرف ماسٹر ہی تماشا لگانے کے لیے یہاں رہ گیا ہے‘‘۔ دس منٹ بعد ہم سب ماسٹر غاؤں، غاؤں کی رہائش گاہ کے قریب پہنچ گئے۔ اُن کے گھر کے باہر شیشم کا ایک درخت لگا ہوا تھا، میں نے دور سے دیکھا کہ گھنی چھاؤں میں ایک ساٹھ پینسٹھ سالہ عمر رسیدہ شخص کرسی پر بیٹھا عینک لگائے کوئی کتاب پڑھ رہا ہے، گاؤں کے سب لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر محتاط انداز میں آگے بڑھنے لگے۔ نہلے نے میرا ہاتھ پکڑ کر وہیں روک لیا، گاؤں والے ماسٹر کے تھوڑا اور پاس آگئے، شائد ماسٹر کو بھی لوگوں کی آمد محسوس ہو گئی تھی، اُس نے یکدم کتاب سے نظریں اٹھائیں اور لوگوں کی طرف دیکھا، کچھ دیر تک وہ اُنہیں گھورتا رہا، پھر اچانک اُس کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی،

🎅 پیش کرنے کا انداز 🎅 دو عورتیں آفس میں ایک دوسرے سے بات چیت اسطرح کر رہی تھی.... "میری تو کل شام اچھی گزری" آپ کی کیسی رہی؟ بہت بری, میرے میاں گھر آئے تین منٹ میں کھانا کھایا اور سو گئے۔ تمہارے ساتھ کیا ہوا؟ پہلی عورت "بہت ہی زبردست! میرے میاں گھر آئے, وہ مجھے کھانے کے لیے باہر لے گئے کھانے کے بعد ہم نے لمبی واک کی جب ہم گھر آئے تو ہم نے سارے گھر کو کینڈل سے روشن کیا. یہ سب بالکل خواب سا لگ رہا تھا" دوسری طرف ان دونوں کے شوہر آفس میں آپس میں بات کر رہے تھے, میاں نمبر ون: دوسرے سے "آپکی شام کیسی گزری؟ میاں نمبر ٹو: " بہت اچھی, میں گھر گیا کھانا میز پر تھا کھایا اور سو گیا. آپ سناؤ؟ میاں نمبر ون: بہت مشکل تھی یار! میں گھر گیا کھانا بھی نہیں پکا تھا کیونکہ میں نے بجلی کا بل ادا نہیں کیا تھا تو گھر کی بجلی کٹی ہوئی تھی پھر مجھے باہر کھانے کے لیے بیوی کو لے جانا پڑا. کھانے کا بل اتنا زیادہ بنا تھا کہ واپس گھر آنے کے لیے کرایہ ہی نہیں بچا تھا. تو پھر ہمیں گھنٹوں چل کر آنا پڑا. جب گھر آئے تو سارا گھر اندھیرے میں ڈوبا تھا تو روشنی کے لیے موم بتیاں جلانی پڑیں!!" 😂😂🤡😂😂 🔘 سبق: اس لطیفے سے ایک بہترین سبق سیکھنے کو ملتا ہے کہ "حقیقت چاہے کچھ بھی ہو پیش کرنے کا انداز اعلی ہونا چاہے" https://t.me/muskuraahten 🎅 MUSKURAAHTEN 🎅

🔷 اردگرد کا خیال رکھیں 🔷 استاد دامن کا ایک چاہنے والا اُن کے لیے دیسی گھی میں پکے دو پراٹھے لے کر آیا۔ استاد دامن نے پراٹھے ایک طرف رکھے اور اُٹھ کر ایک بڑا سا پیالہ لیا جس میں چینی ڈالی۔ ایک پراٹھے کو توڑا اور پیالے میں ڈھیر ساری چوری بنا لی۔ پھر اُٹھے اور کمرے کے چاروں کونوں میں وہ چوری زمین پر ڈال دی اور واپس بیٹھ کر مہمان کو کہا کہ لو ایک پراٹھا مل کر کھائیں۔ مہمان پریشانی سے زمین پر گری چوری پر نظریں مرکوز کیے تھا کہ اچانک بڑے بڑے سائز کے بتہ سے چوہے کونوں کھدروں سے نکلے اور تیزی سے چوری کھانے لگے۔ مہمان نے حیران ہو کر پوچھا کہ استادمحترم یہ کیا۔ہنس کر جواب دیا چوری ہے اور چوہے کھا رہے ہیں۔ اس میں حیرانی کی کیا بات ہے۔ میرے کمرے کے چاروں طرف دیکھو۔ میری ساری عمر کی کمائی۔ میرا خزانہ میری کتابیں تمہیں ہر طرف نظر آئیں گی۔ چوہے خوش ذائقہ چوری کے عادی ہیں۔ ان کو اب کتابوں کے کاغذوں کا بے مزہ ذائقہ اچھا نہیں لگتا۔ اس لیے چوہوں کو چوری کھلانے کا فائدہ یہ ہے کہ میری کتابیں محفوظ ہیں۔میرا خزانہ محفوظ ہے۔ تم بھی اگر اپنے کسی بھی خزانے کو محفوظ رکھنا چاہتے ہو تو یاد رکھو اردگرد لوگوں کا خیال رکھو۔ انہیں چوری ڈالتے رہو۔ سدا سکھی رہو گے۔ پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد استاد نے مہمان سے مخاطب ہو کر پھر کہا ۔ زندگی بھر کے لیے ایک بات یاد رکھ۔ رب العزت زندگی میں جب بھی کبھی تمہیں کچھ دے۔ اُس میں سے کچھ حصہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو ضرور بانٹ دیا کرو ۔ کیونکہ لوگوں کی ہر اُس چیز پرنظر ہوتی ہے جو تمہارے پاس آتی ہے۔ یہ لوگ کوئی اور نہیں تمہارے قریبی عزیز اور اچھے دوست ہیں۔ ان کا خیال رکھنا تمہارا اخلاقی اور مذہبی فریضہ بھی ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 آج کا کام کل پر مت ڈالیں 🌹 قیمتی موقع جو ہاتھ سے نکل گیا۔ سبق آموز ایک زمانے کی بات ہے، ایک مزدور ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔ اس کی زندگی کا سارا دارومدار روز کی مزدوری پر تھا۔ روزانہ وہ زمین کھودتا، مٹی گدھے پر لادتا، اور اسے بیچ کر اپنا پیٹ پالتا۔ ایک دن، جب وہ زمین کھود رہا تھا، اچانک اس کے ہاتھ ایک چمکدار پتھر لگا۔ وہ نہایت خوبصورت اور روشن تھا، لیکن مزدور کو اُس کی کوئی پہچان نہ تھی۔ اُس نے سوچا شاید یہ کوئی خوبصورت کنکر ہے، لہٰذا اسے رسی میں باندھ کر اپنے گدھے کی گردن میں لٹکا دیا اور چل پڑا۔ اسی گاؤں میں ایک تاجر کی چھوٹی سی کریانے کی دکان تھی۔ جب اُس نے گدھے کی گردن میں لٹکتے ہوئے چمکتے پتھر کو دیکھا تو رک گیا۔ اُس نے مزدور سے پوچھا، "یہ چمکتا ہوا پتھر کیا ہے؟" مزدور نے سادگی سے جواب دیا: "بس مٹی کھودتے وقت ملا تھا، خوبصورت لگا، اس لیے گدھے کو پہنا دیا۔" تاجر کو وہ پتھر پسند آیا۔ اُس نے مزدور سے وہ پتھر پچاس روپے میں خرید لیا اور دکان کی ترازو پر سجا دیا۔ اب جو بھی دکان پر آتا، اُس پتھر کو دیکھ کر تعریف کیے بغیر نہ رہتا۔ کچھ دن بعد ایک سنار دکان پر آیا۔ اس کی نظر جیسے ہی اس چمکتے پتھر پر پڑی، وہ ٹھٹک گیا۔ غور سے دیکھنے کے بعد اُس نے فوراً پہچان لیا کہ یہ کوئی عام پتھر نہیں بلکہ ایک نایاب ہیرا ہے۔ اس نے فوراً تاجر سے پوچھا، "یہ قیمتی پتھر کہاں سے آیا؟" تاجر نے بےفکری سے جواب دیا، "بس ایک مزدور سے 500 روپے میں خریدا تھا، مجھے لگا سجاوٹ کے لیے اچھا ہے۔" سنار بولا، "کیا تم یہ مجھے بیچنا چاہو گے؟" تاجر نے کہا، "ہاں، اگر0 100 روپے دو، تو لے جاؤ۔" لیکن سنار نے بخل سے کام لیا اور کہا: "میں 800 روپے دے سکتا ہوں، اگر منظور ہو تو ٹھیک، ورنہ میں چلا جاتا ہوں۔" تاجر نے مسکرا کر کہا: 1000 سے کم نہیں۔ سنار دل میں سوچنے لگا کہ اگلے دن آ کر شاید 900 روپے میں خرید لے گا، اور یوں وہ خالی ہاتھ واپس چلا گیا۔ اسی شام، ایک دوسرا سنار، جو اتفاق سے اُس گاؤں سے گزر رہا تھا، راستے میں اس کی گاڑی خراب ہو گئی۔ وہ تاجر کی دکان پر رکا اور جیسے ہی اس کی نظر اُس چمکتے پتھر پر پڑی، اُس نے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا۔ فوراً 1000 روپے نکالے اور وہ پتھر خرید لیا۔ اگلے دن پہلا سنار واپس آیا اور جب اُس نے دیکھا کہ پتھر غائب ہے تو فوراً پوچھا: "وہ پتھر کہاں گیا؟" تاجر نے ہنستے ہوئے جواب دیا: "کل شام ایک اور صاحب آئے اور 1000 روپے میں لے گئے۔" یہ سن کر سنار کا چہرہ لال ہوگیا۔ غصے میں بولا: "تم نے کتنی بڑی بیوقوفی کی! وہ ایک معمولی پتھر نہیں، بلکہ ایک انمول ہیرا تھا!" تاجر نے خاموشی سے جواب دیا: "جناب، میں نے تو سچ میں نہیں جانا کہ وہ کیا تھا۔ لیکن افسوس، آپ جانتے تھے... پھر بھی صرف 200 روپے بچانے کے چکر میں اسے کھو دیا۔ تو بےوقوف کون ہوا؟" 🔘 اس کہانی میں چھپے تین عظیم سبق موجود ہیں۔۔۔ 1. ہر وقت کنجوسی مت کرو: سستی صرف وہاں دکھاؤ جہاں واقعی ضروری ہو، ورنہ کئی قیمتی موقعے ہاتھ سے نکل سکتے ہیں۔ 2. مواقع پہچانو: بعض اوقات ہم خود کو بہت عقل مند سمجھ کر سنہری مواقع گنوا دیتے ہیں۔ 3. فوری عمل کرو، وقت کا انتظار مت کرو: جیسا کہا گیا ہے: "کل کا کام آج کر لو، اور آج کا ابھی!"کیونکہ صحیح وقت "ابھی" ہے۔ 🔹 زندگی ایک ہیرا ہے، بس اسے پہچاننے کی نظر ہونی چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جو چیز آپ کو مقدر بنا سکتی ہے، وہ آپ صرف 200 روپے کے لالچ میں گنوا بیٹھیں! 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 اچھے لوگوں کی قدر کریں 🔷 چیونٹیوں کی بستی میں ایک ننھی سی چیونٹی رہتی تھی۔ وہ نہ سب سے طاقتور تھی، نہ سب سے تیز، نہ ہی سب سے عقلمند، مگر اُس میں ایک خوبی تھی جو اُسے دوسروں سے مختلف بناتی تھی: وہ دوسروں کی تکلیف نظر انداز نہیں کر سکتی تھی۔ اگر کوئی تھک کر اناج کا دانہ گھونسلے تک نہ لے جا سکتا، تو وہ مدد کرتی۔ اگر کوئی لڑکھڑا کر گر جاتا، تو وہ اُسے اٹھاتی۔ اگر بارش سے سرنگیں گر جاتیں، تو وہ سب سے پہلے مرمت کے لیے پہنچتی۔ چیونٹیوں کو اُس کی موجودگی کی عادت ہو گئی تھی۔ وہ جانتی تھیں کہ اگر اناج گر جائے گا تو وہ اُٹھا لے گی، اگر راستہ ادھورا رہ جائے گا تو وہ مکمل کرے گی، اگر کوئی تھک جائے گا تو وہ کندھا دے گی۔ اور کسی نے اُس سے یہ نہیں پوچھا: کیا تم خود تھکی ہوئی نہیں ہو؟ دن بہ دن وہ نہ صرف اپنا کام کرتی، بلکہ دوسروں کا بھی۔ اُسے کبھی آرام کا وقت نہیں ملتا، مگر وہ خود کو سمجھاتی: "بس تھوڑا سا اور، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دوسروں کے لیے آسانی ہو۔" ایک دن اُس نے محسوس کیا کہ اُس کی ٹانگیں تھکن سے کانپ رہی ہیں۔ وہ پہلے کی طرح اناج نہیں اُٹھا پا رہی تھی۔ اُس کی کمر درد کر رہی تھی، اور اُس کی آنکھیں تھکے ہوئے انداز میں ختم نہ ہونے والے کام کو دیکھ رہی تھیں۔ مگر وہ چیونٹیوں کو مایوس نہیں کر سکتی تھی۔ جب ایک چیونٹی نے اُس سے مدد مانگی، تو اُس نے آخری ہمت جمع کر کے ہاں کر دی۔ جب دوسری نے کام مکمل کرنے کو کہا، تو اُس نے دانت بھینچ کر سر ہلا دیا۔ جب تیسری نے کہا، "تمہارے پاس تو ہمیشہ وقت ہوتا ہے، میری بھی مدد کرو"، تو اُس نے پھر انکار نہیں کیا۔ اور پھر وہ ہوا جس کی اُسے بھی امید نہ تھی۔ تمام ذمہ داریوں کے بوجھ تلے اُس کی ٹانگیں جواب دے گئیں۔ وہ زمین پر گر گئی۔ گزرنے والی چیونٹیوں نے دیکھا بھی نہیں کہ وہ اب حرکت نہیں کر رہی۔ پہلے کسی نے اُس کی غیر موجودگی پر دھیان نہ دیا۔ "یقیناً وہ جلد واپس آ جائے گی،" وہ کہتی رہیں۔ مگر دن گزرتے گئے، اور کام بگڑنے لگا۔ گرنے والے اناج کوئی نہیں اُٹھاتا۔ کندھا دینے والا کوئی نہیں۔ سرنگوں کی مرمت کرنے والا کوئی نہیں۔ چیونٹیوں کی زندگی مشکل ہونے لگی۔ ایک ایک کر کے اُنہیں احساس ہوا: وہ اُن سے کہیں زیادہ کام کرتی تھی جتنا وہ سمجھتے تھے۔ وہ اُسے ڈھونڈنے نکلیں، مگر وہ کہیں نہ ملی۔ اور صرف ایک بوڑھی چیونٹی، جو بستی کے کنارے رہتی تھی، ایک دن آہ بھر کر بولی: "وہ جا چکی ہے۔ اُسے یہ سمجھ آ گئی کہ اُس کی محنت کو اُس کے جانے تک کوئی نہ سمجھا۔" "مگر اُس نے ہمیں بتایا کیوں نہیں؟!" چیونٹیاں پریشان ہو گئیں۔ "کیا تم میں سے کسی نے کبھی پوچھا کہ وہ کیسی ہے؟" چیونٹیاں خاموش ہو گئیں۔ اُنہیں احساس ہوا: وہ اُس کی مدد کو اپنا حق سمجھتے تھے۔ وہ ہمیشہ موجود تھی، ہمیشہ سہارا دیتی، ہمیشہ مشکلوں سے نکالتی۔ اور جب وہ خود مشکل میں تھی، کسی نے نوٹس بھی نہ لیا۔ 🔘 سبق: ہر معاشرے میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کی پریشانیوں کو اپنا بوجھ بنا لیتے ہیں۔ وہ مدد کرتے ہیں، سہارا دیتے ہیں، دوسروں سے زیادہ محنت کرتے ہیں۔ وہ تھکے ہوتے ہوئے بھی "ہاں" کہتے ہیں۔ وہ دوسروں کی زندگی آسان بناتے ہیں، مگر کوئی اُن سے نہیں پوچھتا کہ وہ خود کیسے ہیں۔ اور ایک دن جب اُن کی ہمت جواب دے دیتی ہے اور وہ چلے جاتے ہیں، تب جا کر لوگوں کو سمجھ آتا ہے کہ وہ کتنے اہم تھے۔ مگر کیا وہ کبھی واپس آئیں گے؟ ❗اگر آپ کی زندگی میں بھی ایسا کوئی ہے، تو اُس کے گرنے کا انتظار نہ کریں۔ ابھی پوچھ لیں: "کیا تم پریشان ہو؟ کیا میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں؟" ایک دن، یہ سوال سب کچھ بدل سکتا ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

نوح علیہ السلام کی کشتی سے متعلق کئی حیرت انگیز اور ایمان افروز باتیں روایات اور اسلامی کتب میں بیان کی گئی ہیں۔ یہاں چند اہم اور حیرت انگیز پہلو پیش کیے جا رہے ہیں: --- 1. اللہ کے حکم سے کشتی کی تیاری: نوح علیہ السلام نے کشتی کسی دریا یا سمندر کے قریب نہیں بلکہ خشک زمین پر بنائی، جہاں پانی کا تصور بھی نہیں تھا۔ لوگوں نے انہیں پاگل سمجھا اور مذاق اڑایا، لیکن نوح علیہ السلام کو یقین تھا کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ --- 2. وحی کے مطابق ڈیزائن: یہ کشتی عام انسانی عقل سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی وحی سے تیار کی گئی تھی۔ اس میں ہر چیز کا تعین اللہ کے علم کے مطابق کیا گیا، چاہے وہ اس کا سائز ہو یا اس کے طبقات۔ --- 3. تین منزلہ کشتی: روایات کے مطابق کشتی کے تین طبقات تھے: نچلا حصہ جانوروں کے لیے درمیانی حصہ انسانوں کے لیے اوپری حصہ پرندوں اور ہوا کے لیے یہ ایک حیرت انگیز انتظام تھا، جس میں ہر مخلوق کے لیے مناسب جگہ بنائی گئی۔ --- 4. ہر جانور کا ایک جوڑا: اللہ کے حکم سے ہر جانور اور پرندے کا ایک نر و مادہ جوڑا کشتی میں سوار ہوا تاکہ طوفان کے بعد زمین پر مخلوقات کی دوبارہ آبادکاری ہو سکے۔ --- 5. شدید ترین طوفان: ایسا شدید اور عالمی طوفان آیا جس میں زمین سے پانی اُبل پڑا اور آسمان سے موسلا دھار بارش برسنے لگی۔ پوری دنیا پانی میں ڈوب گئی، صرف کشتی میں سوار لوگ اور جانور ہی بچ سکے۔ --- 6. نوح علیہ السلام کا صبر و استقامت: 950 سال تک نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا، لیکن جب قوم نے انکار کیا تو اللہ کا عذاب آیا۔ ان کا صبر اور استقلال انسانیت کے لیے ایک مثال ہے۔ --- 7. کشتی کا ٹھراؤ جبلِ جودی پر: جب طوفان ختم ہوا تو کشتی ایک پہاڑ پر آ کر ٹھہر گئی، جسے "جبلِ جودی" کہا جاتا ہے۔ یہ پہاڑ آج کے ترکی کے علاقے میں واقع ہے، اور بعض محققین کے مطابق وہاں آج بھی کشتی کے آثار موجود ہیں۔ ---

دعا مانگنے سے تھک مت جاؤ
دعا مانگنے سے تھک مت جاؤ

دعا مانگنے سے تنگ مت آؤ
دعا مانگنے سے تنگ مت آؤ

دعا رحمت کی کنجی
دعا رحمت کی کنجی

photo content

🔷 ناد علی پڑھنا کیسا ہے۔ 🔷 سوال: «نَادِ عَلِيّ» کی سند کے بارے وضاحت فرمائیں اور کیا اس کا وِرد کرنا یا بطور دعا پڑھنا صحیح ہے، یا نہیں؟ جواب: «نَادِ عَلِيّ» اگرچہ شیعہ حدیث کی کتبِ اربعہ میں موجود نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی صحیح سند معلوم  ہے، لیکن بہرحال اسے بعض قدیم شیعہ کتب میں سند کے بغیر  بطور دعا، مخصوص عمل  یا شعر  کے طور پر نقل کیا گیا ہے۔ 1️⃣: ابراہیم کفعمی (متوفی 905ھ) نے اپنی کتاب المصباح-جنة الأمان الواقية و جنة الإيمان الباقية – کے باب ادعیہ الضالہ و الآبق(گمشدہ چیزیں اور بھاگے ہوئے غلام کے لوٹانے کی دعاؤں) دعاؤں کے باب میں لکھا ہے: "گمشدہ چیزوں اور بھاگے ہوئے غلام کی واپسی کے لیے جن اعمال کا ذکر ہوا ہے، اُن میں اِن دو  بیت (شعر) کا تکرار کرنا بھی ہے": نَادِ عَلِيّاً مَظْهَرَ الْعَجَائِبِ    تَجِدْهُ عَوْناً لَكَ فِي النَّوَائِبِ كُلُّ هَمٍّ وَ غَمٍّ سَيَنْجَلِي  بِوَلَايَتِكَ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ 📚 (المصباح (للكفعمي): ص 183) 2️⃣: علامہ مجلسی(1111ھ) نے بحار الانوار کی ج20 ص73 میں امیرالمومنین ع سے منسوب دیوان کے اہل سنت شارح قاضی کمال الدین میرحسین میبدی یزدی(متوفی 909ق یا 911ق) سے یوں نقل کیا ہے: 📜 وَ يُقَالُ إِنَّ النَّبِيَّ ص نُودِيَ فِي هَذَا الْيَوْمِ‏ (يَوْمَ أُحُدٍ):  نَادِ عَلِيّاً مَظْهَرَ الْعَجَائِبِ   تَجِدْهُ عَوْناً لَكَ فِي النَّوَائِبِ‏ كُلُّ غَمٍّ وَ هَمٍّ سَيَنْجَلِي   بِوَلَايَتِكَ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ‏ "کہا جاتا ہے  کہ پیغمبر اکرم کو اس دن ( جنگ احد کے دن) یوں پکارا گیا:  نَادِ عَلِيّاً..."۔ 3️⃣: اسی طرح علامہ مجلسی ہی نے اپنی ادعيه و زيارات‌ کی کتاب مفتاح الجنان (زاد المعاد) میں انہی اشعار کو گمشدہ چیز  کو پانے کے لیے بطور " عمل" ذکر کرتے ہوئے کہا ہے: لِلْمَفْقُودِ وَ الضَّالَّةِ: اقْرَأْ هَذَا الشِّعْرَ وَ كَرِّرْهُ: نَادِ عَلِيّاً مَظْهَرَ الْعَجَائِبِ ... يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُ‌؛ (مفتاح الجنان (مجلسی): ص561) "گمشدہ کے لیے یہ شعر پڑھو اور اس کا تکرار کرو: نَادِ عَلِيّاً..."۔ 4️⃣: محدث نوری (متوفی ۱۳۲۰ھ) نے مستدرک الوسائل میں "نادِ علی" کے انہی اشعار کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا ہے: رَأَيْتُ بِخَطِّ الشَّهِيدِ رَحِمَهُ اللَّهُ" ذَكَرَ لِرَدِّ الضَّائِعِ وَ الْآبِقِ تَكْرَارَ هَذَيْنِ الْبَيْتَيْنِ؛ "میں نے شہید رحمہ اللہ کی تحریر میں دیکھا ہے کہ انہوں نے گمشدہ چیزوں اور بھاگے ہوئے غلام کی واپسی کے لیے اِن دو  بیت (شعری مصرے) کے بار بار پڑھنے  کا عمل ذکر کیا ہے"۔ 📚[مستدرک الوسائل: ج15 ص483] 💥 واضح رہے کہ مذکورہ کتابوں میں اگرچہ "ناد علی" کا ذکر ہوا ہے، لیکن اس  کی کوئی "سند" ذکر نہیں ہوئی۔ 5️⃣: مخفی نہ رہے کہ "ناد علی" کے یہ اشعار بعض اہل سنت منابع میں بھی نقل ہوئے ہیں؛ مثلا کتاب ناسخ التواریخ میں مذکورہ اشعار کے بارے میں کہا گیا  ہےکہ ان اشعار کے ساتھ خدا نے پیغمبر اکرم ﷺ کو مخاطب قرار دیا ہے۔ 📚(ناسخ التواریخ: ج1 ص355) 6️⃣: واضح رہے کہ "نادِ علی" کا ایک اور قدرے طویل متن بھی ہے جسے علامہ باقر مجلسی نے اپنی ادعيه و زيارات‌ کی کتاب مفتاح الجنان (زاد المعاد) میں بطور " دعا" ذکر کیا ہے اور اسے [دعاء نَادِ عَلِيّاً مَظْهَرَ الْعَجَائِبِ] کا نام دیا ہے، جو "ناد علی کبیر" کے نام سے مشہور ہے۔ 📚[مفتاح الجنان (محمد باقر مجلسی): ص429، 430،مطبوعہ بیروت، موسسہ الاعلمی، 1423ھ]   🔰 نادِ علی کا وِرد کرنا یا اسے بطور دعا پڑھنا کیسا ہے؟ 👈 واضح رہے کہ "ناد علی" سمیت جن دعاؤں کی سند معلوم نہ ہو، انہیں ثواب کی امید کی نیت سے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ 👈 اس سلسلہ میں  ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ عبادات کے حوالے سے روایات کا  معتبر منابع سے استناد ضروری ہے، لیکن دعاؤں وغیرہ میں  معتبر منابع یا سند سے اثبات ضروری نہیں ہے بلکہ صرف یہی کافی ہے کہ دعا کا متن اسلامی تعلیمات کے خلاف نہ ہو۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بعض روایات میں اس بات کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے کہ ہر انسان اپنے الفاظ میں دعا مانگے۔ 💫👈 *خلاصہ یہ کہ مسلمانوں کے درمیان مشہور "نادِ علی" بعض قدیم شیعہ کتب میں نقل ہوئی ہے، اگرچہ اس کے لیے کوئی معتبر سند بیان نہیں ہوئی ؛ لیکن اس کے باوجود اسے دعا، وظیفہ یا وِرد  کے طور پر، تبرک کے ارادے سے پڑھنے میں شرعی اعتبار سے کوئی حرج نہیں ہے۔* واللہ اعلم وَ السَّلامُ عَلى‏ مَنِ اتَّبَعَ الْهُدى‏ ✍ مولانا سید توقیر عباس کاظمی (Phd اسلامک اسٹڈیز) 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

photo content

مولا علی علیہ السلام کے 18 بیٹوں کے اسماء گرامی
مولا علی علیہ السلام کے 18 بیٹوں کے اسماء گرامی

photo content

photo content

🔷 کیمو سگنلز 🔷 انسانی جسم لاشعوری سطح پر ایسے کیمیائی سگنلز خارج کرتا ہے جو دوسروں پر خاموشی سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان سگنلز کو "کیموسگنلز" کہا جاتا ہے، اور یہ ہماری جسمانی کیفیت، جذبات اور ارادوں کو لفظوں کے بغیر بھی دوسروں تک منتقل کرتے ہیں۔۔۔ جب کوئی انسان کسی خاص جذباتی کیفیت، جیسے خوشی، خوف یا غصے میں ہوتا ہے، تو اس کے جسم سے مخصوص کیمیکل خارج ہوتے ہیں۔ یہ کیمیکل اردگرد موجود لوگوں کے حسی نظام کو متاثر کرتے ہیں، اور وہ بھی اس جذباتی کیفیت کو جزوی طور پر محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا موڈ، ہماری کیفیت صرف ہمارے اندر محدود نہیں رہتی بلکہ فضا میں پھیل کر دوسروں کو بھی متاثر کرتی ہے۔۔۔ اگر کسی گھر میں مسلسل پریشانی، ذہنی دباؤ یا تناؤ کا ماحول ہو، تو وہاں آنے والا شخص، چاہے وہ اُس گھریلو مسئلے سے واقف نہ بھی ہو، عجیب سی بے چینی، بوجھ یا گھٹن محسوس کرنے لگتا ہے۔ حالانکہ اسے کسی نے کچھ بتایا نہیں، کوئی شور نہیں ہے، لیکن فضا میں موجود خاموش تناؤ کیموسگنلز کی صورت میں اُس پر اثر انداز ہو رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح، کسی جگہ اگر بہت سکون اور محبت بھرا ماحول ہو، تو وہاں آنے والے کو بغیر کسی بات چیت کے راحت اور اعتماد کا احساس ہوتا ہے۔۔۔ درگاہیں، مزار، یا عبادت گاہیں — وہاں جانے والے اکثر افراد یہ کہتے ہیں کہ جیسے ہی وہ اس جگہ داخل ہوتے ہیں، انہیں ایک عجیب سا سکون، خالی پن یا ذہنی ہلکا پن محسوس ہوتا ہے۔ اس کیفیت کو روحانیت "مثبت توانائی" یا "پُرسکون فضا" کہتی ہے، مگر سائنسی زاویے سے دیکھا جائے تو یہ دراصل وہاں موجود افراد کے اخراج کردہ مثبت کیموسگنلز ہوتے ہیں جو سالوں سے عبادت، دعا، ذکر، اور محبت کے جذبات سے جُڑے ہوتے ہیں۔ یہ کیمیائی سگنلز فضا میں بس جاتے ہیں اور جو بھی وہاں آتا ہے، وہ ان کی موجودگی سے لاشعوری طور پر متاثر ہو کر سکون محسوس کرتا ہے۔۔۔ روحانیت کے زاویے سے دیکھا جائے تو یہی کیموسگنلز دراصل دلوں اور روحوں کے درمیان ایک نادیدہ رابطہ ہیں۔ صوفیاء کرام ہمیشہ اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ انسان کی نیت، اس کا باطنی سکون یا اضطراب، دوسروں پر اثر ڈال سکتا ہے۔ دل کی حالت چہرے سے جھلکتی ہے" یا "کسی کی صحبت انسان کو بنا بھی سکتی ہے اور گرا بھی سکتی ہے"، تو دراصل وہ اسی لاشعوری سطح کے اثرات کی طرف اشارہ کر رہے ہوتے ہیں جنہیں آج کیموسگنلز کہا جاتا ہے۔۔۔ کیموسگنلز، سائنس اور روحانیت کے درمیان ایک دلچسپ مشترکہ نکتہ ہیں۔ سائنس انہیں دماغ اور جسم کی کیمیکل زبان کہتی ہے، جبکہ روحانیت انہیں دلوں کی ہم آہنگی یا روحانی تاثیر کا نام دیتی ہے۔ دونوں ہی اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ انسان ایک مکمل کائنات ہے، جو اپنی موجودگی سے دوسروں کو خاموشی سے متاثر کرتا ہے — چاہے وہ خود اس کا شعور رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕