ar
Feedback

لا تقع ضحية للمخادعين! تيليمتريو يكتشف ويُميّز هذه القنوات 👉 إذا كنت تريد رؤية العلامة، اشترك

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

الذهاب إلى القناة على Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

إظهار المزيد
1 285
المشتركون
لا توجد بيانات24 ساعات
-67 أيام
-730 أيام
أرشيف المشاركات
🔶 تاریخ کربل 🔶 واقعہ کربلا سے پہلے ہی خدا نے اپنے تمام انبیاء کو کربلا کی سر زمین سے گزارا اور اس پر درد دلسوز واقعہ کی خبر دی انکو اور ہر نبی (ع) نے قاتل امام حسین (ع) پر لعنت کی۔ ■ جس کی تفصیل حاضر خدمت ہے ● حضرت آدم (ع) اور کربلا حضرت آدم (ع) جب زمین پر اتارے گے تو زمین پر آب دانہ کی تلاش میں اطراف زمین میم چلنے لگے۔ اسی دوران کربلا میں وارد ہوئے آپ کا سینہ تنگ ہونے لگا دم گٹهنے لگا پریشانی بڑهنے لگی آخر آپ اس مقام پر آکر کهڑے ہوئے جہاں امام حسین (ع) شہید ہوئے تهے آپ کے پاؤں سے خون جاری ہوگیا۔ ہس یہ ماجرا دیکھ کر جناب آدم (ع) نے اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا اور عرض کیا: اے میرے پروردگار! کیا مجھ سے کوئی گناہ سرزد ہوا ہے جس کی سزا مل رہی ہے۔ میں ہر طرف سے مسلسل سفر کرتا چلا آرہا ہوں کہیں ایسی مصیبت مجھ پر نہیں پڑی جیسی یہاں پڑی ہے؟ آپ کی طرف وحی آئی اے آدم! تجھ سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا یہ وہ زمین ہے جس پر تیرا ایک بیٹا جس کا نام حسین (ع) ہوگا بے جرم و گناہ بڑی بے دردی سے مارا جائےگا، اس لیے تیرا خون جاری ہوا کیونکہ وہ تیرا بیٹا ہے۔ آپ نے پوچها؛ کیا حسین (ع) نبی ہے؟ فرمایا؛ نہیں، بلکہ وہ اخری نبی (ص) کی بیٹی کے بیٹے ہیں۔ آپ نے عرض کیا؛ اس کا قاتل کون ہوگا؟ ندا آئی؛ یذید لع جناب آدم نے پوچها؛ اے جبرئیل (ع) میں اب کیا کروں؟ جبرئیل (ع) فرمایا: اے آدم (ع)! اس قاتل پر لعنت کرو۔ جناب آدم (ع) نے چار بار یزید لع پر لعنت کی ۔ ● حضرت نوح (ع) اور کربلا حضرت نوح (ع) طوفان نوح کے وقت کشتی پر سوار ہوئے تو پوری دنیا کا چکر لگایا، جب کشتی وارد کربلا ہوئی تو زمین کربلا سے لگی تو ہچکولے کهانے لگی جیسے ابهی الٹ جائے گی۔ حضرت نوح (ع) پر خوف طاری ہوا اپنا نورانی چہرا آسمان کی طرف کر کے فرمایا: خدایا! یہ خوف کسی مقام پر بهی طاری نہیں ہوا جو اس مقام پر طاری ہو رہا ہے کیوں ہو رہا ہے یہ خوف مجھ پر طاری؟ جناب جبرئیل (ع) کی آواز آئی؛ یا نبی اللہ! یہ وہ سر زمین ہے جس پر امام حسین (ع) شہید ہونگے جو نبی آخر الزمان کے نواسے ہیں۔ حضرت نوح (ع) نے پوچها؛ حسین (ع) کا قاتل کون ہے؟ جبرئیل نے کہا: وہ جس پر سات آسمانوں اور سات زمینوں کے ساکنین کی لعنت ہے۔ پس جناب نوح (ع) نے چار بار یزید لع پر لعنت کی۔ اس کے بعد آپ کی کشتی گرداب سے نکلی اور مقام جودی پر آکر ٹهہری۔ 📚 حوالہ جات: اسرار الشہادہ ص 80۔ منتخب طریح ص 48۔ ناسخ، جلد 1، ص270، 272. رمزالمصیبہ، جلد 1۔ https://t.me/islamwitheman/3817 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷کربلا 61 ھ سے قیامت تک مدینہ- کربلا🔷 *تحریر آیۃ اللہ سید حمید الحسن عمید جامعہ ناظمیہ لکھنؤ* مدینہ۔ شہر مدینہ۔ جس کے چاروں طرف قدیم آثار ہیں قبیلوں کی یادگاریں ہیں اسلامی تاریخ کی نشانیاں ہر ہر قدم پر ہیں۔ مسجد ذوقبلتین، مسجد قبا، مسجد الرسول، حرم رسول، بقیع غرقد، بدر، اُحد، خندق اور جس شہر میں تاریخ بشریت کے بڑے بڑے لوگوں کے کارنامے نظر آتے ہیں اچھے بھی برے بھی جس شہر کے بہت سے نام ہیں۔ *یثرب، اَثرب، ارض اللہ، ارض الہجرۃ، الایمان، البارۃ و البررۃ، اکالۃ القریٰ، اکالۃ البلدان، الالجرۃ، الجیرۃ، البلاط، البلد، بیت الرسول، الجابرۃ، جبارۃ، جزیرۃ العرب، الجنۃ الحیضۃ، الحرم، حرم رسول اللہ، حسنۃ، الخیرۃ، الدار، دارالابرار، دارالاخیار، دارالایمان، دارالسلامۃ، دارالفتح، دارالہجرۃ، ذات الحجر، ذات الحراء، ذات النخل، سیدۃ البلدان، الشافیۃ، طابۃ، طیبۃ، طائب، العاصمۃ، العذراء، العراء، العروض، الغراء، القاصمۃ، غلبۃ، قبۃ الاسلام، قریۃ الالغار، قریۃ رسول اللہ، قلب الایمان، المبارکۃ، المحبۃ، مُہ خل صدق، المدینۃ، مدینۃ الرسول، المرزوقۃ، المقدسۃ، مضجع الرسول، المرحومۃ، المطیبۃ، المقر، الناجیۃ۔ وغیرہ وغیرہ۔* اے شہر مدینہ مگر ان ناموں میں سے تیرا کوئی نام۔ زمانوں میں، قرنوں میں، صدیوں میں ، نسلوں میں، آبادیوں میں، اتنا پرکشش اتنا پراثر نہ بن سکا جیسا نام تیرے ہی ایک رہنے والے نے تیرے ہی ایک مسافر نے۔ ایک ویرانے کو۔ ایک غیرآباد علاقہ کو ایک ریگستانی زمین کے ٹکڑے کو ایسا عطا کردیا کہ پھر اس کا جیسا مشہور، مقبول، پرکشش نام کرئہ ارض پر کوئی اور بستی کا نہ ہوسکا۔ کربلا۔ کربلا۔ کربلا۔ *اے شہر مدینہ! ایسا کیوں ہوا؟* جبکہ تجھ میں افضل انبیاء ختم المرسلین ہیں، شافع محشر سید الانبیاء ہیں۔ تو اے مدینہ یہ اس لئے ایسا ہوا کہ خود انہیں حضور اکرمؐ نے جس کے لئے فرمایا تھا ’حسین ؑ مجھ سے ہیں میں حسین ؑ سے ہوں‘ ان کے وہی حسین ؑ کربلا میں ہیں۔ تو اے شہر مدینہ اگر رسول حسین ؑ سے ہیں تو بھی کربلا سے ہے۔ کربلا نہ ہوتی تو سب ختم ہوجاتا۔ آج تمام دنیا کے سامنے 1439 ھ کی ابتدا ہے یکم محرم ہے اور یہ تمام زمانہ اسلام کی سچی حقیقی باتوں کو دُہرانے کا زمانہ ہے تاکہ دنیا سمجھ سکے اسلام حسین ؑ ہے حسین ہی اسلام ہیں کربلا اور کربلا والوں نے اپنی شہادتیں پیش کیں مگر تمام مقصد اسلام، مقصد رسولؐ، دین اسلام کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کردیا۔ مکہ اور مدینہ بغیر کربلا نامکمل ہیں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 عشقِ حسین علیہ السلام 🔷 امام حسینؑ جب خاندان کے ساتھ مدینہ سے نکلے، مدینہ سے باہر مضافات میں باغات اور کھیت تھے، وہاں پر اک شخص کی سید الشہداءؑ سے ملاقات ہوئی جس کام نام تھا عبداللہ ابن مطیع الادوی یہ مدینہ میں بڑی مشہور شخصیت تھی اور بڑا تاریخی کردار ہے اور بعد میں یہ امیرمختار سے بھی جاملا پھر امیرمختار کے مخالف بھی ہوا اور امیرمختار کو شہید کرنے والوں میں بھی یہ شامل تھا پھر عبداللہ ابن زبیر سے ملا اور آخر میں مکہ میں قتل بھی ہوگیا۔ عبداللہ ابن زبیر نے جب واقعہ کربلا کے بعد کوفہ پر اپنا تسلط قائم کیاتو اسی عبداللہ ابن مطیع کو کچھ عرصہ کے لئے اپنا والی مقرر کیا۔ یہ کھیتوں میں کام کر رہا تھا سیدالشہداءؑ وہاں سے گزرے یہ امامؑ کو جانتا تھا قریش کے بڑے قبیلے کا سردار بھی تھا۔ اس نے امامؑ کو دیکھا اور پہچان لیا دور سے سلام کیا۔۔ السلام علیک یا اباعبداللہ! اے اباعبداللہ! آپ پرسلام ہو، آپ کہاں جا رہے ہیں؟ امامؑ نے فرمایا؛ الان فمکہ ابھی تومکہ جارہاں ہوں۔ اس نے کہا پھر؟ امامؑ نے فرمایا؛ مکہ کے بعد مکہ پہنچ کر دیکھوں گا اس کو کچھ بھی نہیں بتایا کہ مجھے کہاں جانا ہے میں کیا کرنے والا ہوں؟ جب امامؑ اس کے قریب سے جانے لگے تو کہنے لگا کہ آپ فرزند رسولؐ ہیں، نواسہ رسولؐ ہیں اور باعظمت شخصیت ہیں، میں نے یہ کنواں کھودا ہے کھیتوں کو اور باغ کو پانی دینے کے لئے اس میں پانی کم ہے اور کھارا بھی ہے۔ اتنا پانی کافی نہیں ہے، آپ دعا کریں کہ اللہ اس میں برکت دیدے۔ سیدالشہداءؑ نے کہا ٹھیک ہے تم پانی لے کر آؤ وہ پانی لے کر آیا۔ امامؑ نے ایک گھونٹ لیا منہ میں رکھ کر اسے دوبارہ کنویں کے اندر پھینک دیا اس کا کنواں میں جانا تھا، کنواں چشمہ کی طرح ابلنے لگا اور پانی بھی اس کا میٹھا ہوگیا اور امامؑ نے فرمایا یہ لے تیرا کنواں، اس کا سرشار چشمہ، کھیت اور نخلستان اور تو اسی مقام پر رہ۔ اللہ حافظ! امامؑ خداحافظ کہہ کر چلے گئے۔ اب یہ بھی شخص تھا، امامؑ کو سلام بھی کیا، امامؑ سے برکت بھی لے لی، اس کے کنویں میں، کھیت میں، باغ میں بھی برکت آگئی بعد میں یہ شخص بہت بڑا land lord بنا، آج بھی ابن مطیع کے نام پر جگہ ہے جو قائم اور آباد ہے وہ کنویں جو عبداللہ ابن مطیع نے بنائے تھے، امام حسینؑ کی برکت سے ایک کنواں کئی کنوؤں میں بدل گیا اور اس کو ڈھیر سارا فائدہ ہوا بڑا امیر بن گیا۔ سیدالشہداءؑ نے اس کو برکت تو دیدی لیکن اس کے وجود میں کوئی ایسی چیز نہیں تھی کہ عشق حسینؑ اس کو کھینچ لیتا۔ اس کے برعکس زہیر ابن قین شہداء کربلا میں ہیں یہ امام حسینؑ کو ماننے والا نہیں تھا جبکہ بہت شدید اہلبیتؑ کے بارے میں مکہ، مدینہ اور اطراف کے علاقوں میں پروپیگنڈا ہوا تھا اور بہت سارے لوگ اس پروپیگنڈے کا شکار ہوئے، وہ پروپیگنڈا یہ تھا کہ خلیفہ سوم کو امیرالمؤمنینؑ کے حامیوں نے مارا ہے اور امیرالمؤمنینؑ نے ان کو پناہ دی ہے۔ یہ پروپیگنڈا تھا جو شام سے ہوا، اسکی وجہ سے حجاز کے اور مکہ و مدینہ اور طائف کے رہنے والے لوگ ہمیشہ اہلبیتؑ سے دور ہی رہے ان میں ایک زہیر ابن قین بھی تھے جو اپنے قبیلے کے بڑ ے سردار تھے لیکن اس پروپیگنڈے کا شکار ہوئے، جسطرح آج کل بہت سارے لوگ پروپیگنڈے کا شکار ہیں کچھ رہبر کے بارے میں پروپیگنڈے کا شکار ہیں، کچھ مراجع کرام کے بارے پروپیگنڈے کا شکار ہیں، کچھ علماء کے بارے میں پروپیگنڈے کا شکار ہیں۔۔ لیکن جنکی فطرت عام ہو اور جنکے اندر کشش موجود ہو، جیسے حر کی ذات میں تھی کہ عاشور تک عمرسعد کے ساتھ رہا لیکن چونکہ کشش بہت تھی اس کی فطرت پاک تھی اسلئے آخر میں بدل گیا اور وہاں سے نکل گیا زہیر ابن قین اسی پروپیگنڈے کی وجہ سے امامؑ کے قریب نہیں آنا چاہ رہے تھے، لیکن آخر کار امامؑ نے طلب کیا اور طلب کر کے چند سیکنڈ گفتگو کی جس سے زہیر کی دنیا بدل گئی اور زہیر نے دنیا، مال، قبیلہ اور اپنی زوجہ کو بھی چھوڑدیا۔ کہا؛ تو بھی طلاق لے لے فرمایا! پتہ نہیں مجھے کہاں جانا ہے؟ اور زہیر سب کچھ چھوڑ کر آگئے یہ کشش ہے۔ جو دنیا کے پیچھے ہو، مفادات کے پیچھے ہو، اسے حسینؑ برکت تو دیدیتے ہیں لیکن اسے اپنے کاروان میں شامل نہیں کرتے اس کا رابطہ عاشقانہ نہیں ہوتا جو حسینؑ سے حاجتیں لے لے حسینؑ سے بیٹے مانگ لے، حسینؑ سے اپنی شفاء مانگ لے اور پھر اپنا راستہ الگ کرلیں ان کے اندر کشش نہیں ہوتی۔ http://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

شاعر اور ماتمی انجمنوں کی ذمہ داری شاعر اھل بیت(ع)، نوحہ خوان یا مرثیہ خوان اور ماتمی انجمن بھی ھماری مجالس میں اھم کردار ادا کرتے ھیں، اور ان سب کا عظیم ثواب روایات میں بیان هوا، معصومین علیھم السلام کی سیرت بھی یھی رھی ھے کہ اھل بیت علیھم السلام کی مدح خوانی کرنے والے شاعروںکو تحفہ اور انعامات سے نوازتے تھے، لہٰذا ھمارے شعراء کی بھی ذمہ داری ھے کہ وہ اپنے اشعار کے لئے دینی اھم کتابوں کا مطالعہ کریں تاکہ انھیں سے حاصل شدہ مطالب کے تحت ان کے اشعار هوں، اور اس میں بھی صرف معتبر روایات کی بنا پر اشعار کھیں، اھل بیت علیھم السلام کی مدح میں غلو سے کام نہ لیں، کیونکہ خود معصومین علیھم السلام نے ھمیں غلو سے روکا ھے۔ چنانچہ حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام نے غلو کے بارے میں فرمایا: ”ان مخالفینا وضعوا اٴخباراً فی فضائلنا وجعلوھا علی ثلاثة اقسام: احدھا: الغلو، و ثانیھا: التقصیر فی امرنا، و ثالثھا: التصریح مثالب اعدائنا“۔[7] ”ھمارے مخالفوں نے ھمارے فضائل کے سلسلہ میں بھت سی رواتیں گڑھی ھیں، جن کو تین حصوںمیں تقسیم کیا ھے، ان روایات کا ایک دستہ غلوّ پر مشتمل ھے، اور دوسرے دستہ میں ایسے مطالب بیان هوئے ھیں جن ذریعہ ھماری قدر و منزلت کھٹائی جاتی ھے، اور تیسرا دستہ وہ روایت ھے جن میں ھمارے دشمنوں کو بُرا بھلا کھا گیا ھے اور ان کے عیوب کو آشکار اور برملا کیا گیا ھے“۔ لہٰذا ھمیں اھل بیت کے فضائل بیان کرنے میں غلو سے کام نھیں لینا چاہئے، نیز نہ ھی اھل بیت علیھم السلام کی مدح میں کمی کرنا چاہئے، جو حق ھے وھی بیان هونا چاہئے نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔ نیز ھماری ماتمی انجمنوں اور نوجوانوں کو بھی شھداء کربلا کے ماتم کے لئے آگے بڑھنا چاہئے اور غم حسین منانا چاہئے، کیونکہ غم حسین منانے کا بھت عظیم ثواب ھے، لیکن اگر ھمارا مقصد غم حسین منانا ھے تو پھر ھمیں دوسرے غلط کاموں سے دور رہنا چاہئے، اختلافات اور لڑائیاں ماتم حسین میں!! نھیں ھرگز نھیں!! در حقیقت ماتم کرتے وقت ھماری آنکھوں سے آنسو بہنا چاہئے لیکن بعض نوجوانوں کو ماتم میں ہنستے هوئے دیکھا جاتا ھے تو عجیب لگتا ھے کہ ایک طرف سے یا حسین کھا جارھا ھے اور سینہ پر ماتم هورھا ھے لیکن آنکھ میں آنسوں نھیں تو کوئی بات نھیں ، کم از کم ھماری صورت رونے والوں کی طرح تو هو، اور اگر کوئی ماتم کرتے هوئے مسکرائے تو کتنے افسوس کی بات ھے!! خواتین کی ذمہ داری ھماری مائیں اور بہنیں اس عزاداری میں برابر کی شریک ھیں ، مجالس میں عورتوں کی تعداد بھی کم نھیں هوتی اور ان کی اپنی مخصوص زنانہ مجالس بھی هوا کرتی ھیں بسا اوقات تو ایسا بھی هوتا ھے کھیں اگر مردانہ مجالس برپا نھیں هوتیں تو کم ازکم زنانہ مجالس تو هوتی ھی ھیں، اور مجالس میں جتنا ثواب مردوں کو ملتا ھے اتنا ھی ثواب عورتوں کو بھی ملتا ھے، کیونکہ ثواب میں مرد و عورت برابر ھیں، چنانچہ وہ بھی ذاکر سے دینی مسائل، اعتقادی دلائل اور فضائل و مصائب اھل بیت علیھم السلام سنتی ھیں، اور مجالس میں ان کے رونے کی آوازیں بلند هوتی ھیں ، لیکن ھماری بہنوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ مجالس میں جاتے وقت اھل عزاء جیسے لباس پہنیں، پردہ کا خیال رکھیں، کسی نامحرم مرد پر نگاہ نہ ڈالیں، تاکہ ثواب کی غرض سے مجالس میں جاتی ھیں تو ثواب ھی حاصل کریں ایسا نہ هو کہ ظاھری طور پر تو مجلس جانے کا ارادہ کیا ھے لیکن راستہ میں گناہوں کی مرتکب هوجائیں، لہٰذا پردہ کا پورا پورا خیال رکھیں، اور اپنے شوھر یا ماں باپ کی اجازت کے بغیر گھر سے قدم نہ نکالیں، اور دیگر کاموں میں حضرت زھرا سلام اللہ علیھا کو نمونہ عمل قرار دیں، اور خود کو ان کی کنیز سمجھیں، تاکہ کل روز قیامت شہزادی کے سامنے سرخ رو رھیں ۔ آخر کلام میں ھم خداوندعالم کی بارگاہ میں دست دعا بلند کرتے ھیں کہ وہ ھمیں دیندار بننے کی توفیق عنایت کرے، اور ھر طرح کے گناہوں سے دور رہنے کی توفیق دے، نیز ھماری عزاداری ”مقصد حسینی“ کی تکمیل کا سبب قرار پائے۔(آمین یا رب العالمین) والسلام علیکم و رحمة الله و برکاتہ اقبال حیدر حیدری حواجات: [1] المناقب، ج۴، ص۸۹۔ [2] وسائل الشیعہ، ج ۱۲، ص ۸۔ [3] میزان الحکمة، ح ۱۶۴۹۔ [4] تھذیب الاحکام، ج۶، ص۱۸۰۔ [5] امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے مراتب اور درجات کے سلسلہ میں فقھی کتابوں (توضیح المسائل وغیرہ ) کی طرف رجوع فرمائیں۔ [6] تھذیب الاحکام، ج۶، ص۱۸۱۔ [7] عیون اخبار الرضا ، ج۱ ، ص ۳۰۴. https://t.me/islamwitheman/7054 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

”ان الامر بالمعروف والنھی عن المنکر سبیل الانبیاء، ومنھاج الصالحین، فریضة عظیمة بھا تقام الفرائض، و تاٴمن المذاھب، وحل المکاسب، وترد المظالم وتعمر الارض، وینتصف من الاعداء ویستقیم الامر، فانکروا بقلوبکم، والفظوا بالسنتکم، وصکّوا بھا جباھھم، ولا تخافوا فی الله لومة لائم۔۔۔“[4] ” امر بالمعروف اور نھی عن المنکر انبیاء (علیھم السلام) کا راستہ اور صالحین کا طریقہ کار ھے، یہ ایسا عظیم فریضہ ھے جس کے ذریعہ دوسرے تمام واجبات برپا هوتے ھیں، ان دو واجبوں کے ذریعہ راستہ پُر امن، درآمد حلال اور ظلم و ستم دور هوتا ھے، ان کے ذریعہ زمین آباد هوتی ھے اور دشمنوں سے انتقام لیا جاتا ھے اور صحیح امور انجام پاتے ھیں، لہٰذا اگر تم کسی برائی کو دیکھو تو (پھلے) اس کا دل سے انکار کرو اور پھر اس انکار کو اپنی زبان پر لاؤ ، اور پھر اپنے ھاتھوں سے (برائیوں سے باز نہ آنے والے کے) منھ پر طمانچہ ماردو، اور راہ خدا میں کسی طرح کی سرزنش اور ملامت سے نہ گھبراؤ“[5] اسی طرح امام باقر علیہ السلام معاشرہ میں پھیلتی هوئی برائیوں کے سامنے خاموش رہنے والے افراد کو متنبہ کرتے هوئے فرماتے ھیں: ”اوحی الله تعالیٰ الی شعیب النبی(ع) إنی لمعذب من قومک مائة اٴلف: اربعین اٴلفا من شرارھم، وستین الفاً من خیارھم، فقال یارب ھوٴلاء الاشرار، فما بال الا خیار؟ فاوحی الله عزّ وجلّ الیہ: اٴنھم داھنوا اھل المعاصی، ولم یغضبو الغضبی“۔[6] ”خداوندعالم نے جناب شعیب نبی علیہ السلام پر وحی نازل کی کہ میں تمھاری قوم کے ایک لاکھ آدمیوں پر عذاب نازل کروں گا، جس میں چالیس ہزار بُرے لوگ هوں گے، اور ساٹھ ہزار اچھے لوگ، یہ سن کر حضرت شعیب (علیہ السلام) نے خداوندعالم کی بارگاہ میں عرض کی: بُرے لوگوں کا حال تو معلوم ھیں لیکن اچھے لوگوں کو کس لئے عذاب فرمائے گا؟ خداوندعالم نے دوبارہ وحی نازل فرمائی کہ چونکہ وہ لوگ اھل معصیت اور گناھگاروں کے ساتھ سازش میں شریک رھے، اور میرے غضب سے غضبناک نھیں هوئے“۔ یعنی برے لوگوں کو برائی کرتے دیکھتے رھے اور ان خدا کے قھر و غضب سے نہ ڈرایا۔ مصائب میں ضعیف روایات سے اجتناب امام حسین علیہ السلام اور خاندان عصمت و طھارت کے مصائب پر گریہ کرنا اور آنسوں بھانا بھت عظیم ثواب رکھتا ھے، جیسا کہ متعدد احادیث میں اس مسئلہ کی طرف اشارہ هوا ، لہٰذا ھمیں چاہئے کہ امام حسین اور اھل بیت علیھم السلام کے مصائب پر روئیں اور آنسوں بھائیں، ھمارے ذاکرین کو اس بات پر توجہ رکھنا چاہئے کہ رونے اور رلانے کے سلسلہ میں معتبر مقاتل سے روایات بیان کریں، اور ضعیف روایتوں کے بیان سے اجتناب کریں، کیونکہ یہ بات مسلم ھے کہ ھماری احادیث کے درمیان بعض جعلی روایات بھی شامل کردی گئی ھے، یہ ھماری مجبوری ھے، لیکن خداوندعالم نے ھمیں عقل جیسی عظیم الشان نعمت سے نوازا ھے، لہٰذا ھمیں اپنی عقل سے کام لینا چاہئے، مثال کے طور پر جب ھم نے ائمہ معصومین علیھم السلام کو مستحکم دلائل کے ذریعہ معصوم مان لیا اور یہ قاعدہ ثابت کردیا کہ معصوم سے کوئی غلطی اور خطا سرزد نھیں هوسکتی، چاھے وہ نبی هو یا امام، تو پھر اسی کسوٹی پر ھمیں روایات کو دیکھنا هوگا، اگر کسی روایت میں کسی معصوم کی طرف خطا یا غلطی کی نسبت دی گئی ھے تو وہ روایت صحیح نھیں هوسکتی، لہٰذا درایت کو روایت پر قربان نھیں کیا جاسکتا۔ جیسا کہ بعض ذاکرین بیان کرتے ھیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی آخری عمر میں لوگوں کو جمع کرکے کھا کہ جس کسی کا مجھ پر کوئی حق هو وہ آئے اور اپنا حق لے لے، چنانچہ مجمع سے ایک شخص نے کھا: یا رسول اللہ! ایک مرتبہ جنگ میں آپ نے کوڑا هوا میں لھرایا لیکن وہ مجھے لگ گیا، میں اس کا بدلہ لینا چاھتا هوں، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کھا: آؤ اور مجھ سے بدلہ لے لو، وہ شخص اٹھا اور آپ کے پاس آیا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی پیٹھ حاضر کردی، اس نے کھا: یا رسول اللہ! جس وقت میری پیٹھ پر کوڑا لگا تھا تو اس وقت میری پیٹھ برہنہ تھی، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی قمیص نکال دی، لیکن وہ شخص کوڑا مارنے کے بجائے آپ کی پیٹھ کا بوسہ لینے لگا۔۔۔۔۔ جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اس حدیث میں رسول اسلام کو لوگوں کے حقوق پر توجہ رکھنے والا قرار دیا ھے لیکن اس روایت میں بڑے سلیقہ سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف خطا اور غلطی کی نسبت دی گئی ھے کہ راستہ میں غلطی سے کوڑا لگ گیا، تو اگر ھم معصومین علیھم السلام کو معصوم مانتے ھیں تو اس قاعدہ کے تحت اس روایت کو صحیح نھیں مان سکتے کیونکہ اس میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف غلطی کی نسبت دی گئی ھے، لہٰذا ھمیں روایات نقل کرنے سے پھلے مسلم اصول اور قواعد کے تحت تجزیہ و تحلیل کرنا چاہئے تاکہ عوام الناس سے ایسی ضعیف روایتیں نہ پہنچیں، اور ان کے عقائد میں تزلزل پیدانہ هو۔

🔷️ اھداف عزاداری 🔷️ اگر ھم عزاداری کرتے ھیں تو اس کا کوئی ھدف اور مقصد هونا چاہئے، کیونکہ ھر عمل کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور هوتا ھے، لہٰذا اگر ھم مجالس برپا کرتے ھیں ، آنسو بھاتے ھیں ، سینہ زنی کرتے ھیں، وقت صرف کرتے ھیں اور پیسہ خرچ کرتے ھیں تو اس کا مقصد کیا ھے؟ ھمیں اس بات پر توجہ دینا چاہئے کہ اگر یہ سب کچھ انجام دیتے ھیں تو کس مقصد کے تحت؟ چنانچہ اگر ھم عزادری کا مقصد سمجھنا چاھیں تو سب سے پہلے ھمیں حضرت امام حسین علیہ السلام کے قیام کا مقصد سمجھنا هوگا، کیونکہ جس مقصد کے تحت ھمارے مولا و آقا حضرت امام حسین علیہ السلام نے اتنی بڑی قربانی پیش کی کہ جس کی تاریخ میں مثال نھیں ملتی، اپنی اور اپنے عزیز و اقارب کے قربانی پیش کی، تو ضرور کوئی مقصد رھا هوگا، آپ نے مدینہ سے روانگی کے وقت وہ مقصد لوگوں کے سامنے واضح کردیا تھا، چنانچہ امام حسین علیہ السلام کا فرمان ھے: ”۔۔۔ و انما خرجت اطلب الصلاح فی امة جدی محمد (ص) اٴرید آمر بالمعروف وانھیٰ عن المنکر، اٴسیر سیرة جدی، و سیرة ابی علی بن ابی طالب“۔[1] ترجمہ: ”میں اپنے جد رسول اللہ کی امت کی اصلاح کے لئے نکل رھا هوں، میں امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کرنا چاھتا هوں،اور میں اپنے نانا اور اپنے والد گرامی علی بن ابی طالب علیہ السلام کی سیرت پر عمل کروں گا“۔ پس معلوم یہ هوا ھے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام امت اسلام کی اصلاح، امر بالمعروف اور نھی عن المنکر، حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت علی علیہ السلام کی سیرت بتانے کے لئے مدینہ سے روانہ هوئے، لہٰذا ھمیں بھی امت اسلامیہ کی اصلاح کے لئے قدم بڑھانا چاہئے، معاشرہ میں پھیلی هوئی برائیوں کو ختم کرنا چاہئے، اور امر بالمعروف اور نھی عن المنکر جیسے اھم فریضہ پر عمل کرنا چاہئے، نیز سیرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور سیرت علی علیہ السلام پر عمل کرتے هوئے اس کو لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہئے، اور جب ھماری مجالسوں میں ان باتوں پر توجہ دی جائے گی تو یقینا عزاداری کے مقاصد پورے هوتے جائیں گے ھمارا معاشرہ نمونہ عمل قرار پائے گا، اور معنوی ثواب سے بھرہ مند هوگا، لیکن اگر ھم نے معاشرہ میں پھیلتی هوئی برائیوں کو ختم کرنے کی کوشش نہ کی، اور لوگوں کو نیکیوں کا حکم نہ دیا تو مقصد حسینی پورا نہ هوگا، ھم برائیوں میں مبتلا رھیں اور خود کو امام حسین علیہ السلام کا ماننے والا قرار دیں، ھمارے معاشرے میں برائیاں بڑھتی جارھی هوں اور ھم خود کو امام صادق علیہ السلام کے مذھب کا پیرو کار قرادیں، واقعاً ھمیں شرم آنا چاہئے، چنانچہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”کونوا لنا زیناً و تکونوا علینا شیناً“[2] (اے ھمارے شیعوں ھمارے لئے زینت کا باعث بنو، ھماری بدنامی کا باعث نہ بنو) واقعاً یہ غور و فکر کا مقام ھے!! کتنے افسوس کا مقام ھے کہ قوم میں بعض نئی نئی چیزیں پیدا هو رھی ھیں اور ھم خاموش بیٹھے ھیں ، اگر ھم نے ابھی سے ان پر توجہ نہ کی تو وہ نئی چیزیں ، نئی چیزیں نھیں رہ جائیں گی بلکہ وہ دین کا جزبن جائیں گی، اور اس وقت ان کا ختم کرنا مشکل هوگا، لیکن جو لوگ بدعت ایجاد کرتے ھیں کیا وھی عند اللہ و رسول(ص)جواب دہ هوں گے، علماء اور ذاکرین کی کوئی ذمہ داری نھیں ھے، ھرگز ایسا نھیں ھے، بلکہ ھم سب ذمہ دارھیں۔ چنانچہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بدعت کے سلسلہ میں علماء کو ذمہ داری کا احساس دلاتے هوئے فرماتے ھیں: ”جب میری امت میں بدعتیں ظاھر هونے لگیں تو علماء کی ذمہ داری ھے کہ وہ اپنے علم و دانش کے ذریعہ میدان میں آئیں (اور ان بدعتوں کا مقابلہ کریں) اور اگر کوئی ایسا نھیں کرتا تو اس پر خدا کی لعنت اور نفرین هو!“[3] امر بالمعروف و نھی عن المنکر ھم یھاں پر امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کی اھمیت کے سلسلہ میں معصومین علیھم السلام سے منقول چند احادیث کو بیان کرتے ھیں، تاکہ اس کی اھمیت کا اندازہ لگایا جاسکے، کیونکہ ھمارے معاشرہ کے بعض ذمہ دار حضرات بھی اس فریضہ الٰھی کی نسبت کم توجہ دیتے ھیں، جبکہ ھمارے یھاں جس طرح فروع دین میں نماز واجب ھے، اسی طرح امر بالمعروف و نھی عن المنکر بھی واجب ھے، ھم خود تو نیکیاں انجام دیتے رھیں اور جنت میں جانے کی کوشش کرتے رھیں لیکن اپنے بھائی بہنوں کے سلسلہ لاپرواھی کریں، ھم خود تو برائیوں سے دور رھتے هوں اور خود جہنم کی جلتی هوئی آگ سے ڈرتے هوئے برائیوں سے دور رھیں لیکن اپنے رشتہ داروں اور اپنی قوم والوں کے بارے میں توجہ نہ کریں!! ھمیں معصومین کے کلام پر توجہ کرنا هوگی، تاکہ ھمیں معلوم هوجائے کہ امر بالمعروف و نھی عن المنکر کی کتنی زیادہ اھمیت ھے، چنانچہ امام محمد باقر علیہ السلام نے اس سلسلہ میں فرمایا:

photo content

🔷 شیعہ عجیب قوم ہے 🔷 اس کائنات میں شیعہ ایک عجیب قوم ہے بلکہ بہت ہی عجیب قوم ہے.... عالم انسانیت میں لوگ پیسہ اکٹھا کرتے ہیں.... خوشی کے لیے۔ صدیوں سے جبر سہتی یہ مظلوم قوم پیسہ اکٹھا کرتی ہے زھراءؑ بتولؑ کے لختِ جگر حسینؑ کو رونے کے لئے۔ 🔹 کمیٹیاں ڈال کر خواتین روپیہ روپیہ جمع کرتی ہیں تاکہ محرم میں حسینؑ کے رونے والوں کو کھانا کھلا سکیں۔ 🔹 ان کے بچے بہت عجیب ہوتے ہیں۔۔۔ محرم شروع ہوتا ہے۔۔۔ کالے کپڑے پہن لیتے ہیں، سبیلیں لگاتے ہیں، سروں پر "مظلوم امام حسینؑ" پٹیوں پر لکھوا کر باندھتے ہیں۔ بیٹیاں سروں پر چادریں لیے امام حسینؑ کی پاک بہنوں اور بیٹیوں کو رونے کے لیے امام بارگاہ جاتی ہیں۔ یہ سب کام محرم میں ہوتے ہیں... لیکن میں نے چند واقعات ایسے بھی سنے ہیں کہ بے اختیار چیخیں نکل جاتی ہیں۔ 🔹 اولاد کے رشتے کریں.... تو امام ضامن باندھتے ہیں۔ بیٹوں کو سہرا باندھتے ہیں۔۔۔ تو اکبرؑ کی جوانی پڑھتے ہیں۔ مہندی لگاتے ہیں.... تو قاسمؑ کی شہادت پڑھتے ہیں۔ 🔹 سخی عباسؑ کا علم لگا کر خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ گھر کو گھر کہتے ہیں۔ 🔹 بچوں کو ماما بابا کہنے سے پہلے یا علیؑ سکھاتے ہیں۔ 🔹 ان کے بچے بولنا بعد میں سیکھتے ہیں... لیکن!!! یا حسینؑ پر ماتم کرنا پہلے سیکھتے ہیں۔ 🔹صدیوں کا جبر سہتی پروپیگنڈوں کو برداشت کرتی یہ رونے والی قوم بس روئے جا رہی ہے۔ صرف محرم نہیں بلکہ محرم کے علاوہ بھی ان کی زندگیاں کربلا اور علیؑ کے گرد گھومتی ہیں۔ 🔹 یہ قسمیں بھی اٹھائیں تو کہتے ہیں۔۔۔ پاک حسینؑ دی قسم، سخی عباسؑ دی قسم، کوئی سنگین مسئلہ ہو تو کہتے ہیں علمِ عباسؑ کے نیچے قسم اٹھا کے دو۔ 🔹 ناراض ہوں تو کہتے ہیں... مولاؑ سے شکایت کروں گا۔ 🔹 السلام علیکم، یا علیؑ مدد کہہ کے میلوں دور کے ایک دوسرے کے شناسا بن جاتے ہیں۔ 🔹 ان کے بچے بچپن سے اپنے گھر اپنے لوگوں کو روتا دیکھتے ہیں۔ یہ لوگ چولہے پر بھی ذکرِ امامؑ کرتے ہیں۔ 🔹 عموماً خوش اخلاق ہوتے ہیں، طبعاً ظریف ہوتے ہیں۔ ان کے ہاں شاعر ادیب کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ ان کے خطیب نہایت عمدہ اور شاندار ہوتے ہیں۔ 🔹 کچھ واقعات ایسے ہیں جن کی چھاپ جعفری معاشرے پر اس قدر گہری ہے کہ اسے الگ کرنا نا ممکن ہے۔ ایک کربلا، دوسرا شام۔ 🔹 لاہور کی ایک عدالت کے جج راحت کاظمی کرسی عدالت پر تشریف فرما تھے کہ سنتری نے آواز لگائی- "زینب حاضر ہو۔۔۔" کاظمی صاحب روتے ہوئے کرسی چھوڑ گئے۔ (مولا تب بھی ایسی ہی گرمی تھی تب بھی ریت ایسے ہی گرم تھی جب آپ تین دن کے بھوکے پیاسے شہید کیے گئے تھے) 🔹 ملتان میں ایک شاہ صاحب ہوتے تھے جو مجلس عزا میں دھاڑیں مار مار کے روتے تھے ان کا نام پیر دھاڑ شاہ رکھ دیا گیا... کہتے ہیں یہ بزرگ بازار سے گزر رہے تھے کہ ان کے کانوں میں آواز آئی۔۔۔ "زینب جلدی کر شام تھیونڑ آلی اے" (زینب جلدی کرو شام ہونے والی ہے) یہ بزرگ دھاڑیں مار مار کے رونے لگے.... لوگوں نے وجہ پوچھی... تو کہتے ان مستورات سے کہو یا یہ نام تبدیل کرلیں یا زینب کو بازار نہ آنے دیا جائے۔ ہم چودہ سو سال سے یہی تو رو رہے ہیں کجا زینبؑ کجا شام۔ 🔹 یہ واقعی عجیب لوگ ہیں... اپنے جوانوں کی موت پر کہتے ہیں۔۔۔ مولاؑ تیرے اکبرؑ دے وڈے ارمان۔ بھائیوں کی موت پر کہتے ہیں۔۔۔ تیرے غازیؑ دے وڈے ارمان۔ قتل ہوں مارے جائیں تو جنازے لبیک یاحسینؑ کی صداؤں میں دفن کرتے ہیں۔ مردے کا کندھا ہلا کے کہہ رہے ہوتے ہیں... سن اور سمجھ جب فرشتے سوال کریں تو کہنا۔۔۔ اللہ میرا رب ہے، محمدؐ رسول ہیں، قرآن میری کتاب ہے، اور علیؑ سے مہدیؑ تک ائمہ میرے پیشوا و رہبر ہیں۔ 🔘 عجیب لوگ ہیں یہ بہت ہی عجیب۔ خداوند متعال ان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 اول مَاہِ محرّم کے اعمال 🔷 ■ اعمال شب اول مَاہِ محرّم پہلی رات مَاہِ محرّم: (سیدؒ نے اقبال میں اس رات کی چند نمازیں ذکر کی ہیں۔ جو درج ذیل ہیں۔۔۔ (۱) دو رکعت نماز، ہر رکعت میں سورہ حمد اور سورہ توحید۔ (۲) دو رکعت نماز، پہلی رکعت میں سورہ حمد و سورہ انعام اور دوسری رکعت میں سورہ حمد و سورہ یٰسٓ۔ (۳) دو رکعت نماز۔ ہر رکعت میں سورہ حمد اور گیارہ مرتبہ قل ھواللہ احد۔ روایت میں ہےکہ رسولؐ خدا نے فرمایا کہ جو شخص اس رات میں دو رکعت نماز پڑھے اور صبح کو جو سال کا پہلا دن ہے روزہ رکھے وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے سال بھر نیکی کی پابندی کی ہو اور وہ تمام سال محفوظ رہے گا اور اگر موت آگئی تو جنت میں جائے گا اور سیدؒ نے اس ماہ کےچاند کے لئے ایک طولانی دعا ذکر کی ہے اور اگر ممکن ہو تو اس رات میں دعا و نماز اور قرآن کے ساتھ بیدار رہے۔ 📚 حوالہ: مفاتیح الجنان 562۔ ■ أعمال روز اول مَاہِ محرّم واضح ہو کہ محرم ہجری سال کا آغاز ہے۔ اس میں دو عمل ہیں۔۔۔ (۱) روزہ رکھنا کہ روایت ریّان بن شبیب میں امام رضا علیہ السلام سے مروی ہے کہ جو اس دن روزہ رکھے اور خدا کو پکارے خدا اس کی دعا کو ضرور قبول کر لے گا جیسے کہ جناب زکریا ؑ کی دعا قبول ہوئی ہے۔ (۲) زیارت امام رضا علیہ السلام۔ اور منقول ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پہلی محرم کو دو رکعت نماز پڑھتے تھے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہاتھوں کو بلند کر کے یہ دعا تین بار پڑھتے تھے۔۔۔ "اَللّٰهُمَّ اَنْتَ الْاِلٰهُ الْقَدِيْمُ وَ هٰذِهِ سَنَةٌ جَدِيْدَةٌ فَاَسْاَلُكَ فِيْهَا الْعِصْمَةَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَ الْقُوَّةَ عَلٰى هٰذِهِ النَّفْسِ الْاَمَّارَةِ بِالسُّوْۤءِ وَ الْاِشْتِغَالَ بِمَا يُقَرِّبُنِيْۤ اِلَيْكَ يَا كَرِيْمُ يَا ذَا الْجَلَالِ وَ الْاِكْرَامِ يَا عِمَادَ مَنْ لَا عِمَادَ لَهُ يَا ذَخِيْرَةَ مَنْ لَا ذَخِيْرَةَ لَهُ يَا حِرْزَ مَنْ لَا حِرْزَ لَهُ يَا غِيَاثَ مَنْ لَا غِيَاثَ لَهُ يَا سَنَدَ مَنْ لَا سَنَدَ لَهُ يَا كَنْزَ مَنْ لَا كَنْزَ لَهُ يَا حَسَنَ الْبَلَاۤءِ يَا عَظِيْمَ الرَّجَاۤءِ يَا عِزَّ الضُّعَفَاۤءِ يَا مُنْقِذَ الْغَرْقٰى يَا مُنْجِيَ الْهَلْكٰى يَا مُنْعِمُ يَا مُجْمِلُ يَا مُفْضِلُ يَا مُحْسِنُ، اَنْتَ الَّذِيْ سَجَدَ لَكَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَ نُوْرُ النَّهَارِ وَ ضَوْءُ الْقَمَرِ وَ شُعَاعُ الشَّمْسِ وَ دَوِيُّ الْمَاۤءِ وَ حَفِيْفُ الشَّجَرِ يَاۤ اَللّٰهُ لَا شَرِيْكَ لَكَ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا خَيْرًا مِمَّا يَظُنُّوْنَ وَ اغْفِرْ لَنَا مَا لَا يَعْلَمُوْنَ وَ لَا تُؤَاخِذْنَا بِمَا يَقُوْلُوْنَ حَسْبِيَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ اٰمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَ مَا يَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُوْلُوْا الْاَلْبَابِ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَيْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ۔" ● شیخ طوسیؒ نے فرمایا ہے کہ محرم سے پہلے دس دنوں کو روزہ مستحب ہے لیکن عاشورہ کے دن روزہ کے بجائے عصر تک کھانے پینے سے امساک کرنا چاہئے اور اس وقت بہت تھوڑی سی خاکِ شفا استعمال کرے اور سیدؒ نے پورے مہینہ کے روزہ کی ہے کہ روزہ روزہ دار کو ہر گناہ سے محفوظ رکھتا ہے۔ 📚 حوالہ: مفاتیح الجنان 562۔ https://t.me/islamwitheman/7048 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ماۂ محرم اور ہم 🔷 خون حسین میں ڈوبی ہے محرم کی ہر شام، میں کیسے کہہ دوں نیا سال مبارک.............؟ جہاں تمام اقوام اپنے سال کی ابتداء خوشیاں منا کر کرتی ہیں شیعہ قوم کا یہ امتیاز ہے کہ ہمارے سال کا آغاز غم اور ماتم سے ہوتا ہے وہ بھی آل محمدؑ پر کئے گئے ظلم کا غم، یہ بات ہماری اپنے دین اور عقائد سے وابستگی کی بہترین علامت ہے. لیکن جہاں محرم کا مہینہ ہمارے عقائد کے مظہر کے طور پر سامنے آتا ہے وہیں اسکے کئی اور پہلو ہیں جن پر ہمیں نظر کرنی ہوگی. محرم کا مہینہ ہمارے لئے جذبات اور مذھبی احساسات سے بھرا ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے لیکن کیا وہ جذبات فقط ذوالجناح کو مس کرنے تک یا پھر قمعه زنی پر مناظرے کرنے تک یا پھر کالے کپڑے سلوانے تک ہی محدود ہونا چاہیے؟ ذرا سوچئے کہ من حیث القوم کیا ہم محرم اور تحریک امام حسینؑ کا حق ادا کر رہے ہیں؟ کیا امام حسینؑ نے اپنی جان فقط اس لئے قربان کی تھی کہ ہم ہاتھوں میں کالا دھاگہ لگائیں یا پھر صرف ذوالجناح کی شبیہ نکالیں؟ یقیناً یہ ساری اشیاء شعائر حسینی میں سے ہیں اور مستحسن ہیں لیکن کیا یہ مقصود بالذات ہیں؟ کیا امام حسینؑ کی تحریک کا مقصد یہی سب کچھ تھا؟ خود امام حسینؑ سے پوچھ لیتے ہیں. امام حسینؑ کا ایک معروف خطبہ ہے جو انھوں نے منٰی میں دیا تھا جسے ابن شعبہ الحرانی نے اپنی تحف العقول میں نقل کیا ہے. میں یہ پورا خطبہ تو نقل نہیں کر سکتا البتہ امام حسینؑ نے اس خطبہ کی ابتداء میں 4 آیات کی تلاوت کی ہے جو اس خطبہ کا بھی اور تحریک حسینی کا بھی لب لباب ہے اور وہ میں آپکی خدمت میں نقل کرتا ہوں: ١. لولا ينهيهم الربانيون والأحبار عن قولهم الاثم... سورةالمائدة آية ٦٦ ترجمہ: بھلا کیوں نہیں روکتے ہیں انکے علماء اور اہل الله انکو گناہ کی بات سے اور حرام خوری سے، بہت برا ہے جو وہ کرتے ہیں. ٢. لعن الذين كفروا من بني إسرائيل - إلى قوله - لبئس ما كانوا يفعلون سورةالمائدة آية ٧٨-٧٩ ترجمہ: لعنتی قرار پائے بنی اسرائیل میں سے کفار داؤد اور عیسٰی کی زبان سے کیونکہ انہوں نے گناہ کیے اور حد سے تجاوز کیا وہ ایک دوسرے کو برائی سے نہیں روکتے تھے جسے وہ انجام دیتے تھے کتنا برا ہے جو وہ کرتے ہیں. ٣. فلا تخشوا الناس واخشون. سورةالمائدة آية ٤٧ ترجمہ: اور لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو. ٤. المؤمنون والمؤمنات بعضهم أولياء بعض يأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر. سورةالتوبة آية ٧٢ ترجمہ: مومن مرد اور مومنہ عورتیں ایک دوسرے کے ولی ہیں جو آپس میں امربالمعروف اور نھی عن المنكر کرتے ہیں. 🔷 ان چار آیات کو غور سے پڑھیں اور پھر امام حسینؑ کی وہ معروف وصیت جو انہوں نے محمد ابن حنفیہ کو دی تھی جو تاریخ اور مقتل کی کتب میں موجود ہے اسکو بھی یاد رکھیں کہ امام حسینؑ نے فرمایا: "میں تو صرف اصلاح امت کی غرض سے نکلا ہوں اور چاھتا ہوں کہ امربالمعروف اور نھی عن المنكر کروں." جی ہاں تحریک امام حسینؑ کا اصل ھدف اصلاح امت اور دعوت الی الحق ہے. امام حسینؑ کا مقصد امت کو بیدار کرنا ہے. لیکن کیا ہم یہ کام انجام دے رہیں ہیں؟ اس وقت تمام دنیا میں مسلمانوں پر زوال طاری ہے. تقریبا ہر جگہ جہاں بھی کوئی معرکہ ہے وہاں مسلمان اسکا کم از کم ایک فریق تو ضرور ہے. یا مسلمان مر رہا ہے یا آپس میں خود کو مار رہا ہے. شیعہ حضرات کیلئے بھی بڑا مشکل دور چل رہا ہے، عسکری محاذ پر بھی اور باقی شعبوں میں بھی. 🔷 محرم کے مہینہ میں شیعہ عوام میں ایک نیا دینی جذبہ اور روح پھونکنا چاہیے اور ہمارے وجود کو امام حسینؑ کی تحریک اصلاح اور بیداری سے بھر دینا چاہیے لیکن اس ماہ میں جو چیز سب سے زیادہ بھرتی ہے وہ علماء و ذاکرین حضرات کی جیبیں ہیں. محرم کا مہینہ اصلاح اور دعوت الی الحق کے بجاۓ صرف ذاکرین کی وضع کردہ روایات کا مہینہ بن جاتا ہے. 🔷 کسی عیسائی نے امام محمد الشیرازی سے کیا خوب کہا تھا "اگر ہمارے پاس بھی حسینؑ ہوتا تو ہم ساری دنیا کو عیسائی بنا دیتے." 🔷 واقعا امام حسینؑ اور کربلا کی صورت میں ہماری قوم کے پاس کتنا عظیم سرمایہ اور نعمت ہے لیکن افسوس کہ ہم اسے درک نہیں کر پا رہے. وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی قوم کو کسی کے مرہون منت نہ چهوڑیں بلکہ خود محرم کو ویسا بنائیں جیسا ہونا چاہیے. 🔷 یقینا محرم کا پیغام انقلابی ہے لیکن انقلاب کا تقاضہ ہر جگہ عسکری تحریک یا جلوس نہیں ہوتا بلکہ میری راۓ تو یہ ہے کہ اس زمانے میں جو چیز ہماری قوم کو سب سے زیادہ سرفراز کرسکتی ہے وہ علم اور علمی تحریک ہے. اگر آپ اپنے دشمن کو موجودہ زمانے میں نظریاتی طور پر شکست نہیں دے سکتے تو عسکری محاذ پر تو شکست دینے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا. الله سے دعا ہے کہ ہمیں امام حسین علیہ السلام کی معرفت نصیب کرے اور انکے اور انکے اصحاب باوفا کے اقدام پر ثابت قدم رکھے۔ https://t.me/islamwitheman/7049 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

محرم کا چاند نظر آگیا! امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: جب محرم کا چاند نظر آتا تھا تو ہمارے والد (امام موسٰی کاظم علیہ السلام) کے لبوں سے ہنسی جاتی رہتی تھی، اور دس دنوں تک غم اور اندوہ کا ان کے چہرے مبارک پر غلبہ ہوتا تھا، اور جب عاشور کا دن ہوتا تھا تو وہ دن میرے بابا کی آہ و بکاء اور گریہ و زاری کا دن ہوتا تھا اور وہ فرماتے تھے؛ یہ وہی دن ہے جس دن حسینؑ ابن علیؑ کو شہید کیا گیا۔ 📚 امالی شیخ صدوق، ص128، مجلس نمبر27۔ https://t.me/islamwitheman/7046 ⚫ ISLAM WITH EMAN ⚫

photo content

photo content

photo content

photo content

📢 چینل کو سپورٹ کریں - BOOST کریں 🤲 السلام علیکم ورحمۃ اللہ الحمدللہ ہمارا چینل @islamwitheman ٹیلیگرام کی نظر میں "مقبول چینل" بن چکا ہے 💚 ٹیلیگرام نے ہمیں نئے فیچرز دیے ہیں۔ کسٹم ڈیزائن، گیو وے، خصوصی اسٹیکرز وغیرہ۔ لیکن یہ فیچرز تب ملیں گے جب ہمارے چینل کو زیادہ Boost ملیں گے۔ بوسٹ کیا ہے؟ چینل کو فری میں سپورٹ/ووٹ دینا۔ نوٹ: صرف Telegram Premium ⭐ والے یوزر Boost کر سکتے ہیں۔ یوزر کے نام کے ساتھ سٹار کا نشان ہوتا ہے۔ اگر آپ کے پاس Premium ہے تو آپ ہمارے چینل کو فری میں Boost دے سکتے ہیں۔ ہر Premium یوزر ہر مہینے 3 چینلز Boost کر سکتا ہے، بغیر کوئی اضافی پیسہ لگائے۔ آپ کا 1 بوسٹ ہمارے لیے بہت بڑی مدد جتنے زیادہ Boost ہوں گے، چینل اتنا پروفیشنل بنے گا۔ پھر ہم آپ کے لیے گیو وے بھی کر سکیں گے ان شاءاللہ 🎁 👇 چینل کو Boost کرنے کے لیے یہاں کلک کریں: https://t.me/islamwitheman?boost بس "Boost this Channel" والا نیلا بٹن دبا دیں۔ 5 سیکنڈ کا کام ہے۔ اگر آپ کے پاس Premium نہیں تو کوئی بات نہیں۔ آپ کی دعائیں ہی ہمارے لیے کافی ہیں 🤲 جزاکم اللہ خیرا۔ آپ کے سپورٹ سے ہی یہ سفر چل رہا ہے۔ سید سجاد حسین ھمدانی ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 استاد و شاگرد کا مکالمہ 🔷 جس برادر نے بھی یہ مکالمہ لکھا ہے کمال کردیا---- آپ بھی پڑھیے۔۔۔ شاگرد....استاد جی میں نے پنڈی والوں سے معزرت کر لی ھے اور اب لالہ موسی میں محرم پڑھنے کا طے ھو گیا ھے. استاد...پر کیوں شاگرد....استاد جی پچھلے تین سال سے پنڈی والوں کے پاس پڑھ رھا ھوں...بڑے کنجوس ھیں...دس دنوں کا دو لاکھ سے زیادہ ایک پائی بھی نہیں دیتے... استاد....پر محرم میں تو ابھی دس دن رہ گئے ھیں...پنڈی والے اب کیا بندوبست کریں گے..? شاگرد....کچھ کر ھی لیں گے....استاد جی لالہ موسی والوں سے میں نے پانچ لاکھ میں طے کیا ھے...اور ساتھ تین لاکھ کی دو مجلسیں بھی وہ نزدیکی علاقہ میں سودا کرا دیں گے...انہوں نے وعدہ کیا ھے.... استاد....پرمیں نے سنا ھے لالہ موسی میں مجمع کی اکثریت غالی عقیدہ ھے...? شاگرد....وہ آپ فکر نہ کریں...وہ تومیں ان کے مزاج کے ساتھ اڈجسٹ کر لوں گا.....ڈر یہ ھے کہ وھاں چند دانے پڑھے لکھے بھی ھیں.....کہیں ان میں سے کوئی نہ بول پڑے.. استاد....میں نے تو تم کو کہا تھا کہ پڑھ لو...اور کچھ دن کسی مدرسہ میں لگا لو....بندہ چغما تو دے سکے... شاگرد...استاد جی اگر میں پرائمری میں تیسری بار فیل نہ ھوتا تو میرا اپنا دل یہی تھا....پر تیسری دفعہ فیل ھوا...تو ابا جی نے مجھے اپنے ساتھ بھٹےپر اینٹیں تھاپنے پر لگا لیا...یہ تو شکر ھے کہ میری آواز میں سُر تھی..کہ میں آپ کا سوزی بن گیا....اور آج آپ کی دعا سے میرا بھی اک نام ھے.... استاد....لیکن یہ بھی خیال رکھنا کہ لالہ موسی میں دوسری جگہ قاضی وسیم پڑھ رھا ھے... اور بڑا محنتی ذاکر ھے....وہ گانا ریلیز ھونے سے پہلے اس طرز کو ممبر پہ لے آتا ھے...وہ مجمع کھینچ لے گا... شاگرد....استاد جی آپ کا نمک کھایا ھے....آپ سن لیں گے...قاضی وسیم سے محرم اچک نہ لیا...تو در بتول سےپنیا ھی نہیں... استاد...وہ تو ٹھیک ھے بیٹا....پر قاضی وسیم کے مقابلہ کیلئے خرچ کرنا پڑتا ھے... شاگرد....آپ شیدے سے پوچھ لو..کل ھی انڈین گانوں کی تین ھزار کی کیسٹ خرید کر گاڑی میں رکھی ھیں....دوران سفر ھم خوب ریاض کرتے ھیں....بس کچھ شاعری مل جائے...تو وسیم کو چوتھی محرم تک زیرو نہ کروں تو میرا نام نہیں.... استاد جی بس تھوڑا سا ڈر ھے تو چند پڑھے لکھوں کا...کہ انہوں نے کچھ پوچھ لیا...تو...میرے پاس تو آپ کے رٹے رٹائے مضمونوں کے سوا کچھ بھی نہیں... استاد....یہ فکر نہ کر..پہلی بات تو یہ ھے کہ کسی پڑھے لکھے نے تیری مجلس میں آکے لینا ھی کیا ھے? اور اگر آ بھی جائے تو پوچھنے کی جرآت نہیں کرے گا.....بس ھر مجلس میں تو نے چند گُر اپنانے ھیں....یہ گُر اچھی طرح یاد کرلے... شاگرد....استاد جی وہ گُرکیا ھیں? استاد ....۱....ایک تو ھر مجلس میں بار بار کہو کہ میں تو ادنی سا طالب علم ھوں...اس سے پوچھنے والے سوچیں گے..کہ اب اس سے کیا پوچھنا..? ۲....سامعین کو بتاؤ کہ میں آج فضائل کی معراج کرانا چاھتا ھوں...صرف حلالی میرے ساتھ سفر کر سکیں گے....اس طرح کوئی مجمع میں حرامی نہیں بنے گا.... ۳...ایک اور نفسیاتی تالا لگاتے رھو کہ جس نے مانا وہ سلیمان بنا...جس نے سوچا وہ شیطان بنا....اس طرح جس نے بھانپ بھی لیا....کہ تم بلنڈر مار رھے ھو...کوئی اس ڈر سے نہیں پوچھے گا کہ اب بولوں گا..تو شیطان کہلواؤں گا... ۳...اور اگر باوجود اس کے کوئی تم سے سوال کر ھی لے....تو اب تم پزل ھو گئے تو پھر تو گئے....? نہایت ادب سے اپنی بات کو کسی بھی معصوم امام کے قول سےمنسوب کر دینا....پھر بولنے والے کو مجمع خود سنبھال لےگا.. شاگرد....استاد جی...پر کسی نے امام کے قول کا حوالہ مانگ لیا تو...? تو تم.....کنفیڈنس کے ساتھ ڈمی کتابوں کا حوالہ دے دینا....لسان اواعظین....اجارت المظلومین....وغیرہ...پھر ڈھونڈتے رھیں یہ کتابیں...? سر دست تم جان چھڑا لو... شاگرد...اُستاد جی....واقعی استاد استاد ھی ھوتا ھے.....سچی بات تو یہ ھے کہ آج مجھ جیسا جاھل اگر لاکھوں میں کھیل رھا ھے..تو یہ آپ کی عنایت ھے.... استاد.....چھڈ...اب پمپ نہ مار....تو قوم کو دعا دے....جس کی قران....نہج البلاغہ...صحیفہ کاملہ....مسجد....اور مقصد حسینء سے ناواقفیت کی بنا پر ھماری روٹیاں بنی ھوئی ھیں..... اور ان عالم نما بھیڑیوں کو دعا دے جنہوں نے قوم کو منتشرکردیا ھے...اب لوگ تیری اور میری بات کو مجتھدین کے فتاوی سے ذیادہ مان لیتے ھیں..... (مومنین سے نہایت معزرت کے ساتھ.....مقصد تنقید نہیں.....سمجھانا ھے....) https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ایام عزا کا پیغام 🔷 اعمال برائے دو ماہ آٹھ دن (۱) با وضو مجلس میں جائیں (۲) سادہ لباس پہنیں اور سادہ غذا استعمال کریں تاکہ یاد رہے کہ آپ پرسہ دار سیدہء عالمین علیہا السلام ہیں۔ (۳) اپنے مرحومین کو مجلس کے ثواب میں شامل کریں۔۔ تاکہ انکی ارواح بھی ماجورِ عزا ھوں۔ (۴) خود محض رسمی ثواب کے لئے مجلس میں نہ جائیں بلکہ طرز عمل میں انقلاب اور تبدیلی کے لئے مجلس میں شرکت کریں۔۔ امامِ زمان عجل اللہ فرجہ (علیہ السلام) کے حضور حاضری کا تصور پیش نگاہ رکھا جائے (۵) مصائب کے وقت گریہ اور گریہ کے وقت دعا کریں (۶) بہتر ہے کہ مجلس میں جاتے وقت اپنے ساتھ ایک نوٹ بک بھی Note book لیتے جائیں اور اہم نکات کو قلمبند کر یں (۷) نمائش اور تکبر سے بچیں - زبان، رنگ، نسل اور علاقہ کی دیواریں گرا کر اخوت اور عزاداری کی برکات میں اضافہ کی کوشش کریں ۔ (۸) عزاداری میں ایک دوسرے کی غیبت ،ادھر ادھر کی باتوں اور گروہ بازی یا دلآزاری کے موضوعات سے پرہیز کریں۔۔ برداشت، اور صبر کی قوت کو اپنے نفس کیلئے عزاداری کا ثمرہ قرار دیں (۹) اپنے مال اور فکر و عمل سے مراکز عزا کے نظام کی مدد کریں۔۔ (۱۰) عزاخانوں میں سیکیورٹی کے امور پر ذمہ داری سے متوجہ رہیں۔۔ اور ملک و معاشرے کے قوانین کا احترام کریں۔۔ (۱۱) امام بارگاہوں اور مراکز کی صفائی کا خاص خیال رکھیں. کوشش کریں کہ دروازہء اھلبیت ع پر مہمان کی بجائے نوکر بن کر پہنچیں اور عزاخانہ کوئی خدمت انجام دیکر لوٹیں۔۔ (۱۲) ماں باپ بچوں کو اپنے ساتھ رکھیں اور بچوں کو مجلس با ادب بیٹھ کر سننے ، ماتم اور نوحہ میں شریک ھونے ، اور احترامِ شعائر کرنے کا سلیقہ سکھائیں۔۔۔ (۱۳) خواتین شرعی حجاب کی رعایت کریں اور پرسہ داری و حصول علم کے سوا مجلس میں روزمرہ دلچسپیوں پر گفتگو سے پرھیز کریں تاکہ ارواحِ معصومین علیھم الصلوۃ والسلام کو اذیت نہ پہنچے (۱۴) عزادار اوقاتِ مجالس کی پابندی کریں تاکہ خطیب یا عالم کے عنوان کا تسلسل آپ کے لئے برقرار رہے (۱۵) علما و ذاکرین معصومین علیھم الصلوۃ والسلام کے سامنے اپنی جواب دہی کو یاد رکھیں۔ مجمع چھوٹا ہو یا بڑا پوری جدت کے ساتھ تعلیمات آل محمد علیھم الصلوۃ والسلام کو لوگوں تک پہونچائیں اور سنت حسینی ع میں امر بالمعروف و نہی از منکر کو دھراتے رہیں ۔۔ سامعین تک شھادتِ عظمی کے دائمی مقاصد اور مصائب حسینی کو بھر پور جذبہ اور تاثیرِ عزا کیساتھ پہنچانا اھل منبر کی بنیادی ذمہ داری ہے۔۔.. (۱۶) ان ایام میں زیارت وارثہ اور زیارت عاشورہ کثرت سے پڑھیں.. (۱۷) گریہ و ماتم کے اخلاص اور مقصدیت کو مکمل معرفت سے بجا لائیں ۔۔۔ فقط رسم نبھانے کی بجائے مقصد کی ادائیگی کے ذریعہ نصرتِ امامِ زمانہ عجل اللہ فرجه کا جذبہ لیکر شریک ھوں (۱۸) با معرفت شیعیت کی راسخ اور مستند آبائی اقدار کی حفاظت کریں۔ علمِ اھل البیت علیھم الصلوۃ والسلام اور مراجعِ مذھبِ اھل البیت علیھم الصلوۃ والسلام سے کاٹنے والی جدید سامراجی سازشوں سے خود کو محفوظ رکھیں۔۔ اور اتحاد بین المومنین و المسلمین کا ھدف مسلسل یاد رکھیں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

↩ 23 ذوالحجہ : 24-زبالہ، (اس منزل پر امام علیہ السلام کو قیس بن مسہر کی شہادت کی خبر موصول ہوئی اور نافع بن ہلال سمیت چند افراد کا قافلہ حسینی میں شامل ہوا. مرحوم شیخ مفید و علامہ مجلسی کےمطابق اسی تاریخ میں جناب مسلم و ہانی کی شہادت کی خبر پہونچی. بعض مقاتل میں لکھا ہے کہ امام حسین ؑ نے یہاں بھی اعلان کیا کہ جو جانا چاہے چلا جائے). ↩ 25 ذوالحجہ : 25-بطن العقبہ، (امام علیہ السلام کی عمرو بن لوزان سے ملاقات اور عمر کا آپ کو واپسی کا مشورہ. امام صادقؑ سے روایت ہے کہ جب امام حسینؑ وادیٔ عقبہ کی بلندی پرتشریف لائے تو آپ ؑنے اصحاب سےفرمایا: میں نہیں دیکھتا خود کو مگر یہ کہ دشمن کے ہاتھوں قتل کیا جاؤں گا. اصحاب نے پوچھا کیوں یا ابا عبداللہ؟ فرمایا: میں نے خواب دیکھا کہ کچھ کتّے مجھ پر حملہ کر رہے ہیں اور ان میں سےایک کتّا انتہائی موذی اور جُزامی 'سفید داغ والا' ہے). 26-عمیہ، 27-واقصہ، ↩ 26 ذوالحجہ: 28-شِراف یا اشراف، (اس مقام پر امام ؑ نے حکم دیا کہ جتنا ہو سکے پانی ذخیرہ کر لیں. اس مقام پر تین بڑے کنویں تھے جن کا پانی بہت شیریں تھا. اسی مقام پر ظہر کے قریب کوفہ سے آتے ہوئے ایک لشکر کو دیکھا، یہ حُر کا لشکر تھا). 29-تالاب ابومسک، 30-جبل ذی حم (امام عالی مقام علیہ السلام کا حُر کے لشکرّ سے سامنا هوا حر نے اپکا راستہ روکا اور کوفہ کی جانب بڑهنے نہ دیا)، 31-بیضہ (اس مقام پرامام علیہ السلام نے اپنے اصحاب اور حر کو مشہور خطبہ دیا)، 32-مسیجد، 33-حمام، 34-مغیثہ، 35-ام قرون، 36-عذیب (کوفہ کا راستہ عذیب سے قادسیہ اور حیرہ کی جانب تھا. لیکن امام علیہ السلام نے راستہ بدل دیا اور کربلا میں اترے)، 37-قصر بنی مقاتل (امام علیہ السلام کی عبید اللہ بن حرّ جعفی سے ملاقات ابن حر نے امام علیہ السلام کی طرف سے نصرت کی دعوت رد کردی)، 38-قطقطانہ، 39-کربلا (وادی طَفّ). دو محرم الحرام سنہ61 ہجری کو امام عالی مقام علیہ السلام اپنے اصحاب و عیال کو لیکر کربلا میں اترے..!!! قرار فاتح خیبر علم حسین کا ہے ہر اک نشان سے بہتر علم حسین کا ہے کوئی بھی راستہ روکے یہ رک نہیں سکتا زمانہ لاکھ جھکائے یہ جھک نہیں سکتا. https://t.me/islamwitheman/7038 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷️ منازل قافلہ حسینی 🔷️ 22 رجب سنہ 60 هجری کو معاویہ هلاک هوا، اسکے بعد اسکا خلف یزید ابن معاویہ تخت ملوکیت پر متمکن هوا. امام عالی مقام علیہ السلام کا سفر یزید کی بیعت کے انکار سے عاشور کے دن آپ کی شہادت تک 175 دن تک جاری رہا.. دس محرم 61 هجری کی سہ پہر کو سیدہ سلام اللہ علیها کا لال جسکا بچپن میں رونا بهی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف دیتا تها.... وہ اس دنیا سے پہاڑ جیسے مصائب سمیٹ کر رخصت هوا...! 3 شعبان 60 هجری کو بیعت یزید سے انکار کے بعد امام حسین علیہ السلام نے مکہ کی طرف ہجرت کی اور 12 دن مدینہ میں رہے. امام عالی مقام علیہ السلام نے 4 مہینے اور 10 دن مکہ میں قیام کیا. 23 دن کی مدت مکہ سے کربلا تک سفر میں صرف ہوئی. 2 محرم سے 10 محرم تک کربلا میں قیام کیا. اگر سفر اسراء اور قیام شام نیز 20 صفر 61 ھ تک واپس کربلا آمد کے مجموعی کم از کم 40 دن اور واپس مدینہ پہونچنے کے 20 ایام اضافہ کئے جائیں تو قافلہ حسینی کا کل سفر کم از کم 235 دن سے زیادہ کا ہو گا. (والله اعلم) 🔻 مکہ سے کربلا منزل بہ منزل 🔻 مکہ مکرمہ (15 رمضان المبارک سنہ 60 ہجری کو حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کو کوفہ بھجوایا اور 8 ذوالحجہ مکہ سے امام علیہ السلام کی روانگی ہوئی.) ↩ 11 ذوالحجہ: 1-بستان بنی عامر، (ابطح). 2-تنعیم (یمن میں یزیدی کارگزار بحیر بن ریسان حمیری کی طرف سے شام کی طرف بھیجے ہوئے صفایا کے منتخب جنگی غنائم کے قافلے کو اپنی تحویل میں لیا). 3-صفاح (امام علیہ السلام کی فرزدق شاعر سے ملاقات). 4-ذات العرق (امام علیہ السلام کی بشر بن غالب نیز عون بن عبداللہ بن جعفر سے ملاقات). ↩ 12 ذوالحجہ: 5-وادی عقیق، (ایک روایت کے مطابق عون و محمد علیہم السلام فرزندان زینب س کاروان سے ملحق ہوئے.). 6-غمرہ، 7-ام خرمان، 8-سلح، 9-افیعیہ، 10-معدن فزان، 11-عمق، 12-سلیلیہ، 13-مغیثہ ماوان، 14-نقرہ، ↩ 15 ذوالحجہ بروز جمعرات: 15-حاجز، (امام علیہ السلام نے یہیں سے قیس بن مسہر یا عبداللہ بن یقظر کو ایک خط کے ہمراہ مسلم بن عقیل کے پاس بھیجا کوفہ روانہ کیا لیکن یہ لوگ قادسیہ کے مقام پر حصین بن نمیر کے ذریعہ گرفتار کر لیے گئے اور بعد میں قتل کر دئیے گئے). 16-سمیراء، 17-توز، ↩ 17 ذوالحجہ: 18-اجفر، (مکہ سے 36 فرسخ کے فاصلہ پر ہے، ایک فرسخ ساڑھے پانچ کلو میٹر سے کچھ کم ہوتا ہے اس طرح اجفر مکہ سے تقریبا 190 کلو میٹر ہے اور یہاں امام علیہ السلام کا سامنا عبداللہ بن مطیع عدوی سے هوا جس نے امام علیہ السلام کو واپسی کا مشورہ دیا). ↩ 18 اور 19 ذوالحجہ: 19-خزیمیہ، (ایک دن اور ایک رات یہاں قیام فرمایا، اسی مقام پر جناب زینب سلام اللہ علیها نے شب میں ہاتف کی ندا سنی جو یہ شعر کہہ رہا تھا کہ یہ قافلہ موت کی طرف بڑھ رہا ہے اور موت انکی طرف بڑھ رہی ہے، امام حسین علیہ السلام نے فرمایا جو کچھ خدا نے مقرر کیا ہے ہو کے رہے گا). ↩ 21 ذوالحجہ: 20-زرود، (یہاں زہیر بن قین بجلی کا قافلۂ حسینی قافلہ سے جاملا یہ بات قابل توجہ ہے کہ زہیر امام کے چاہنے والوں میں سے نہ تھے بلکہ عثمانی العقیدہ تھے اور حج کر کے لوٹ رہے تھے لیکن امام سے ملاقات کے بعد ہدایت پا گئے). ↩ 22 ذوالحجہ : 21-ثعلبیہ، (یہ ایک کھنڈر دیہات تھا مکہ کی طرف سے دو لوگ آئے جناب مسلم اور ہانی بن عروہ کی شہادت کی خبر دی اور امام نے کئی مرتبہ کہا: انا للہ و انا الیہ راجعون اور پھر صدائے گریہ و نالہ بلند ہوئی. اس مقام پر کئی باتیں رونما ہوئیں مثلا امام نے یوم ندعوا کل اناس بامامہم اور والشمس والضحها اور کئی دوسری آیتوں کی تفسیر بیان فرمائی. اسی مقام پر آپ نے اصحاب سے صلاح و مشورے کے لئے میٹنگ طلب کی اور جناب مسلم علیہ السلام کے بچوں کو پرسہ دیا اور لوگوں کو حالات سے آگاہ کیا اور ان سے کہا جو جانا چاہے جا سکتا ہے سب نے بیک زبان کہا ہم وہی راستہ اپنائیں گے جو مسلم نے اپنایا، اسی تاریخ کو 60 ہجری میں ہی ابن زیاد کے ذریعہ میثم تمار کی شہادت ہوئی). 22-بطان، 23-شقوق،