uz
Feedback

Firibgarlarga uchmang! Telemetrio bunday kanallarni topadi va belgilaydi 👉 Belgini ko‘rmoqchi bo‘lsangiz, obuna bo‘ling

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Kanalga Telegram’da o‘tish

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Ko'proq ko'rsatish
1 285
Obunachilar
-324 soatlar
-77 kun
-730 kun
Postlar arxiv
🌲 اللہ کی مدد 🌲 حضرت نوح علیہ السلام نے جب اللہ کے حکم سے کشتی بنانا شروع کی تو ایک مومنہ بڑھیا نے حضرت نوح علیہ السلام سے پوچھا: کہ آپ یہ کشتی کیوں بنا رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: بڑی بی! ایک بہت بڑا پانی کا طوفان آنے والا ہے جس میں سب کافر ہلاک ہو جائیں گے۔ اور مومن اس کشتی کے ذریعے بچ جائیں گے۔ بڑھیا نے عرض کیا حضور! جب طوفان آنے والا ہو تو مجھے خبر کر دیجئیے گا۔ تاکہ میں بھی کشتی میں سوار ہو جاؤں۔ بڑھیا کی جھونپڑی شہر سے باہر کچھ فاصلے پر تھی۔ پھر جب طوفان کا وقت آیا تو حضرت نوح علیہ السلام دوسرے لوگوں کو تو کشتی پر سوار کرنے میں مشغول ہو گئے مگر اس بڑھیا کا خیال نہ رہا حتٰی کہ خدا کا ہولناک عذاب پانی کے طوفان کی شکل میں آیا اور روئے زمین کے سب کافر ہلاک ہو گئے۔ اور جب یہ عذاب تھم گیا اور پانی اتر گیا اور کشتی والے کشتی سے اترے تو وہ بڑھیا حضرت نوح علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئی۔ اور کہنے لگی: حضرت! وہ پانی کا طوفان کب آئے گا؟ میں ہر روز اس انتظار میں رہتی ہوں کہ آپ کب کشتی میں سوار ہونے کے لئے فرماتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا: بڑی بی! طوفان تو آ بھی چکا۔ اور کافر سب ہلاک ہو چکے۔ اور کشتی کے ذریعہ خدا نے اپنے مومن بندوں کو بچا لیا۔ مگر تعجب ہے کہ تم زندہ کیسے بچ گئیں۔ بڑھیا نے عرض کیا! اچھا یہ بات ہے۔ تو پھر اسی خدا نے جس نے آپ کو کشتی کے ذریعے بچا لیا۔ مجھے میری ٹوٹی پھوٹی جھونپڑی ہی کے ذریعے بچا لیا۔ 🔘 جو خدا کا ہو جائے خدا بھی اس کی مدد فرماتا ہے اور بغیر کسی سبب ظاہری کے بھی اس کے کام ہو جاتے ہیں. 🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ شکریہ 📚 روح البیان، صفحہ 85، جلد 2۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ Islam With Eman ⭕

📿 تسبیحات اربعہ 📿 شيخ طوسی، ابن بابویہ اور حمیری نے صحیح اسناد کے ساتھ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ ایک دن حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: اگر تم اپنے تمام مال و اسباب اور اشیا و ظروف میں سے ہر ایک کو دوسرے پر رکھتے چلے جاؤ تو کیا وہ آسمان تک پہنچ جائیں گے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ (ص) نے فرمایا: آيا تم چاہتے ہو کہ میں تمھیں ایسی چیز تعلیم کروں کہ جس کی جڑیں زمین میں اور شاخیں آسمان تک گئی ہوں؟ سب نے عرض کیا: ضرور یا رسول اللہ اس وقت آپ (ص) نے فرمایا کہ ہر نماز کے بعد تیس مرتبہ کہو: سُبْحانَ الله وَالحَمْدُ لله وَلا إِلهَ إِلاّ الله وَالله أكْبَرُ. پاک ہے اللہ، حمد اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ بزرگ ہے. ہاں یہ وہ کلام ہے کہ جس کی جڑیں زمین میں اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ یہ انسان کو چھت تلے دبنے، پانی میں ڈوبنے، کنوئیں میں گرنے، درندوں کے چیرنے پھاڑنے، بد تر موت اور آسمان سے آنے والی بلاؤں سے بچاتا ہے، یہی ان باقیات الصالحات میں ہے جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ ↩ دیگر صحیح اسناد کے ساتھ امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جو شخص ہر فریضہ نماز کے بعد اپنی جگہ چھوڑنے سے پہلے ان تسبیحات اربعہ کو چالیس مرتبہ پڑھے تو وہ خدا سے جو کچھ مانگے وہ اسے عطا فرمائے گا. 🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ شکریہ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌸 مسکراھٹ و خاموشی 🌸 کہتے ھیں کہ ایک بوڑھا شخص جس کا اگرچہ دنیا میں کوئی نہ تھا لیکن وہ بدتمیزی، بدزبانی اور بداخلاقی کی وجہ سے مشھور تھا. بڑے گھر میں اکیلا رہنے اور لوگوں کے اس رویہ کی وجہ سے وہ پہلے سے بھی زیادہ غصیلا، چڑچڑا اور بداخلاق ھو گیا تھا۔ ایک دن ایک غریب بچہ جو شہر میں نیا آیا تھا اور کوڑا کرکٹ جمع کرتا تھا۔ اس بوڑھے کے گھر کے سامنے سے گزرا، بوڑھا باغ کی صفائی میں مصروف تھا، بچے نے بوڑھے کی طرف نگاہ اٹھائی اور بیساختہ بوڑھے کو دیکھا کر مسکرایا اور ادب سے سلام کیا۔ بوڑھا شخص جس کی طرف شاید چند سالوں سے کسی نے مسکرا کر نہ دیکھا تھا بہت خوش ھوا۔ آج بچے کی مسکراہٹ کا قطرہ بوڑھے کے بنجر دل پر آب حیات بن کر گرا اور اس نے بچے کو بلایا اور مسکرانے کی وجہ دریافت کی تو بچہ بولا میری ماں نے کہا ہے کہ اگر زندگی میں کامیاب ھونا چاھتے ھو تو ھمیشہ دوسروں کو پہلا تحفہ مسکراہٹ کا دو. مسکراہٹ وہ جنس ہے جس پر آپکا کوئی خرچ نہیں ھوتا لیکن اس کے منافع بہت زیادہ ھوتے ہیں. بوڑھا خوش ھوا اور بچے کو انعام دیا. پھر ھر روز بچہ مسکرا کر بوڑھے کو سلام کرتے ھوئے گزرتا۔ یہانتک کہ ایک دن بچے کے گھر ایک وکیل آیا اور بولا آج فلاں بوڑھا شخص مر گیا ہے اور اس نے اپنی جائیداد اس بچے کے نام کر دی ہے اور اپنی وصیت میں لکھ گیا ہے کہ اس کی قیمت چند مسکراہٹوں کے ذریعے ایڈوانس ادا ھو چکی ہے. 🔘 مضبوط ترین لوگ وہ ھوتے ھیں جو مشکل ترین وقت میں بھی مسکرانا نہیں بھولتے. دل میں غموں کا دریا بھی ھو تو آنکھ سے ایک قطرہ نہیں نکلتا. یاد رکھیں! گزر جانے والے کل کروڑوں تھے اور آنے والے کل بھی کروڑوں ھوں گے لیکن آج فقط ایک ھی ھے. آج مسکراؤ اور خوش رہو کہ یہ پھر نہیں آئے گا۔ ذرا اپنے آپ سے سوال کرو کہ مجھے پوری طرح کُھل کر زور سے ہنسے ھوئے کتنا عرصہ ھو چکا ہے؟ یاد رکھیں! جو ہنسنے مسکرانے کیلئے دلیل کے پیچھے رھتا ھے وہ کھبی مسکرا نہیں سکتا۔ فقط ایک چیز کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ انسانوں کو خوش رکھنے کیلئے اللہ کو ناراض نہ کیا جائے۔ ‼️ اگر زندگی میں کامیابی چاھتے ھو تو ھمیشہ اپنے ھونٹوں پر دو چزیں رکھو: مسکراھٹ اور خاموشی مسکراھٹ مشکلات کو ختم کرنے کیلئے. خاموشی مشکلات سے دور رھنے کیلئے. 🌸 رسول اکرمؐ فرماتے ہیں: زیادہ خاموشی کو لازم کر لو کہ اس سے شیطان دفع ہو گا اور تمہیں دین کے کاموں میں مدد دے گی۔ شعب الایمان 4، ص243، ح4942۔ 🌸 حضرت علیؑ ارشاد فرماتے ہیں: مؤمن کے نامۂ اعمال کا عنوان اس کی خوش اخلاقی ہے۔ بحارالأنوار، ج67، ص386۔ 🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ ✍ سید سجاد حسین ہمدانی https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 شیعان علی علیہ السلام 🌹 امام موسی کاظمؑ نے فرمایا: اگر میں اپنے شیعوں پر نظر دوڑاؤں تو مجھے صرف باتیں بنانے والے ہی ملیں گے۔ 🌿 اور اگر ان کو آزماؤں تو سب منہ پھیرنے والے ہوں گے، 🌿 اور اگر ان کو پرکھوں تو ہزاروں میں سے ایک آدمی بھی خالص ہاتھ نہ آے گا، 🌿 اور اگر چھانوں تو میرے متعلقین کے علاوہ کوئی نہیں بچے گا، مدتوں سے وہ تختوں پر تکیہ لگائے یہی کہے جا رہے ہیں کہ ہم علیؑ کے شیعہ ہیں. 🍁 علی علیہ السلام کا شیعہ تو صرف وہ ہے جس کا کردار اس کی گفتار کی تصدیق کرے۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ 📚 اصول کافی، جلد8۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

"موجودہ شرائط و حالات میں قمہ زنی کے جواز پر کوئی عقلی و نقلی دلیل موجود نہیں ھے اور اس کا شمار تحریف کے کھلے اور آشکار مصادیق میں ہوتا ھے کم سے کم اتنا تو ضرور ھے کہ موجودہ حالات میں یہ چیز شیعت پر انگلی اٹھائے جانے کا باعث بنتی ھے وہ امور جو امام حسین علیہ السلام کے اہداف و مقاصد کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں رکھتے جیسے بلیڈ مارنا اور تالا لگانا ھے اور قمہ لگانا بھی ایسا ہی ھے یہ کام ، غلط کام ھے کہ کچھ لوگ قمہ پکڑیں اور اپنے سروں پر ماریں خون نکالیں کہ کیا ہو جائے؟ یہ طریقہ کہاں عزاداری ھے؟؟" [حوزه و روحانیت // ج 2 // ص 173] https://t.me/islamwitheman/7216

*التطبير (خونی ماتم) صفوی دور میں عیسائیت سے شيعت میں داخل ہوئی ہیں* زیر نظر ویڈیو میں فلپائنی کیتھولک عیسائی ہیں جو ہر سال ایسٹر پر اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے زنجیر زنی کرتے ہیں... ناصرالدین شاہ قاجار کے دور میں برطانیہ کے سفیر کبیر «بنجامیں» اپنے سفر نامے میں قمہ زنی کی رسم کے بارے میں لکھتا ہے: «میں 1884 عیسوی، کو تہران میں مقیم تھا. لوگوں کے دستے سڑکوں پر نکل کر حرکت میں آتے تھے اور نہایت تند و تیز اور بے مثل جذبات کا اظہار کیا کرتے تھے... اسی اثناء میں سفید پوش مردوں کے گروہ نمودار ہوتے تھے جن کے ہاتھوں میں چھریاں ہوتی تھیں. یہ لوگ نہایت جذباتی انداز میں چھریاں لہرا کر اپنے سروں پر مارتے اور خون ان کے سروں سے بھی اور چھریوں سے بھی اچھلتا اور ان کا سفید لباس سر سے پاؤں تک سرخ ہوجاتا. حقیقتا یہ نہایت متاثر کن اور دلخراش صورتحال تھی جو میں کبھی بھی نہ بھول سکوں گا. ان دستوں میں قمہ زنی کرنے والے افراد کبھی اتنے جذباتی ہوجاتے ہیں یا اتنا خون ان کے سروں سے بہہ جاتا ہے کہ وہ بے ہوش ہوکر زمین پر گرتے ہیں اور اگر فورا علاج معالجے کی سہولت بہم نہ پہنچائی جائے تو ممکن ہے کہ زندگی ہی سے ہاتھ دھو بیٹھیں.» (ایران و ایرانیان – بنجامین – س.ج.و.، ترجمہ سید محمد حسین کردبچہ، ص284) ۔ مُفَکِّرِ اِسلام استاد آیت اللہ شھید مرتضیٰ ؒ مطھری اس کے متعلق فرماتے ہیں: قمه زنی و بلند كردن طبل و شیپور از ارتدوكس های قفقاز به ایران سرایت كرد و چون روحیه مردم برای پذیرفتن آنها آمادگی داشت همچون برق در همه جا دوید... "قمہ زنی اور طبل کا رواج قفقاز کے آرتھوڈوکس عیسائیوں سے ایران میں سرائیت کر گیا اور لوگوں کا مزاج چونکہ ان چیزوں کو قبول کر لیتا ھے لہذٰا بجلی کی طرح یہ رسومات جگہ جگہ رائج ھوئیں۔" [جاذبه و دافعه علي ع // صفحہ 154] آية الله العظمی سید ابوالحسن اصفهانى خونی ماتم و دیگر غلط رسومات عزاداری کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے ایک تاریخی فتوی صادر کیا اور فرماتے ہیں: انّ استعمال السّیوف و السلاسل و الطبول و الابواق و ما یجری الیوم أمثاله فی مواكب العزاء بیوم عاشورا انّما هو مُحرم و هو غیر شرعی.... "تلوار اور چھریوں اور زنجیروں کا استعمال* ، اس کے علاوہ طبل ، آلات موسیقی اور اس طرح کے دیگر امور جو آج کل عزاداری کے دستہ جات اور عاشورا والے دن عموما استعمال ھوتے ھیں *سب کے سب حرام اور غیر شرعی ھیں۔" [اعيان الشيعه // ج 10 // صفحہ 378] اہل تشیع کے بزرگ عالم دین اور گرانقدر کتاب اعیان الشیعہ کے مولف ،مرحوم علامہ سید محسن امین اپنے رسالہ ''التنزیہ لاعمال الشبیہ'' میں شرعی منابع اور محکم دلائل سے استناد کرتے ہوئے استدلال و برہان سے ثابت کرتے ہیں کہ قمہ لگانا اور کچھ دوسرے اعمال جو عزاداری امام حسین علیہ السلام میں رائج ہیں نہ صرف یہ کہ ان کا کوئی ثواب نہیں بلکہ شریعت مقدسہ میں یہ اعمال بدعت اور خرافات کا مصداق ہیں۔ اس کتاب کے شائع ہونے کے بعد کہ جس کا مقصد مذہبی اجتماعات کو غلط رسوم اور ناشائستہ اعمال، بدعتوں اور گمراہیوں سے پاک کرنا تھا جاہل لوگوں کا ایک گروہ بعض جانے پہچانے عناصر کے اکسانے پر اس قدر ان کے مخالف ہو گیا یہاں تک کہ ان کے بعض دوستوں نے علامہ کو عوامی انقلاب کے خطرے سے آگاہ کیا۔ آپ اس سلسلے میں کہتے ہیں: اس رسالے کے مقابلے میں بعض لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور شور شرابا مچا رہے ہیں اور جاہل عوام کو بھڑکا رہے ہیں انہوں نے سماج کے ناآشنا لوگوں کی اکثریت کے درمیان یہ شائع کر دیا ہے کہ فلاں شخص نے امام حسین(ع) کی عزاداری کو حرام کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مجھ پر دین سے خارج ہونے کی تہمت لگا دی۔ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا یہاں تک کہ آیت اللہ العظمیٰ سید ابوالحسن اصفہانی ''قدس سرہ'' جو اس زمانے میں مذہبی ریاست اور مرجعیت تامہ کے مقام پر فائز تھے انہوں نے علامہ امین عاملی اور انکی بیدار کن کتاب کی حمایت میں فتویٰ صادر کیا اور کھل کر فرمایا: تلوار، زنجیر، طبل اور شیپور اور اس طرح کی چیزوں سے استفادہ کرنا کہ جو اجکل یوم عاشور کی عزاداری میں رائج ہو چکی ہیں قطعا حرام اور غیر شرعی ہے۔ اس فتوے نے نجف کو دوحصوں میں تقسیم کر دیا ،ایک ٹولے نے ان پر جو علامہ امین کے حامی تھے طعنہ زنی کرتے ہوئے انہیں بنی امیہ سے جوڑ دیا اور خود کو علویین کا نام دے کر مخالفت شروع کر دی۔ شھید مرتضیٰ ؒ مطھری فرماتے ہیں: به نظرم قمه زنی در شرایط فعلی هیچ دلیل عقلی و نقلی بر آن نداریم و یكی از مصادیق بارز تحریف محسوب می گردد و حداقل اینكه در زمان فعلی باعث زیر سوال رفتن تشیع می گردد….از برنامه هایی كه هیچ ارتباطی با اهداف امام حسین(ع) ندارد، تیغ، قمه و قفل زدن است. قمه زدن هم همین طور است این كار، كار غلطی است. یك عده قمه ها را بگیرند، به سرهای خودشان بزنند و خون ها را بریزند كه كه چه شود؟ كجای این حركت، عزاداری است...

🔷 وعدہ خلافی کی عادت 🔷 🌸 "وعدہ خلافی" کی عادت، خدا کی نافرمانی اور بندوں کی نظروں سے گر جانے کا باعث ہے۔ 👈 اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 🌸 "أَوْفُوا بِالْعَهْدِ ۖ إِنَّ الْعَهْدَ کَانَ مَسْئُولًا" *"وعدہ پورا کرو، یقیناً وعدے کے بارے میں پوچھا جائے گا"*۔ (بنی اسرائیل:34) 🔻 ہم میں سے کتنے ہی لوگ ہیں جو روزانہ کئی وعدے کرتے اور پھر مختلف بہانوں سے وعدہ خلافی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ 🔻 بعض لوگ تو اس حد تک گر جاتے ہیں کہ وعدہ پورا کرنے کے وقت بہانہ تراشی کرتے ہوئے اپنی وعدہ خلافی کو مجبوری ظاہر کرتے اور پے در پے جھوٹ بولنے لگتے ہیں۔ 💫 *عہد شکنی کرنے والوں کو بخوبی سمجھنا چاہیے کہ:* ⭕ وہ عہد شکنی کا ارتکاب کر کے معاشرے میں باہمی اعتماد ختم کرنے کے مجرم بنتے ہیں۔ ⭕ انہیں عہد شکنی کے بدلے میں اپنی شخصیت کے اعتبار اور عزت و آبرو کے خاتمے کا تاوان بھی دینا پڑتا ہے۔ ⭕ اور اپنی عہد شکنی کی توجیہ میں جھوٹ پر جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ 💓 *جبکہ وعدے کی پاسداری، اگرچہ کتنی ہی مشکل ہو،* ✅ انسان کی شخصیت اور اس کے کردار کو ایسا مضبوط بناتی ہے کہ دوسرے لوگ ہر حال میں اس پر اعتماد کرتے ہیں۔ ✅ اس کے ایمان اور تقویٰ کی مضبوطی کا باعث ہے۔ ✅ قیامت کے دن پروردگارِ عالم کی بارگاہ میں سرخرو ہونے کا سبب ہے۔ 🌟 *وعدہ خلافی پر جھوٹے سچے بہانے بنانے کی بجائے بہتر ہے کہ:* ⭕ کوئی بھی وعدہ کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں۔ ⭕ اگر وعدہ پورا کرنے میں کوئی حقیقی مسئلہ پیش آ جائے تو دوسرے شخص کے رابطہ کرنے سے پہلے، خود ہی رابطہ کر کے عذرخواہی کریں تاکہ دوسرے کی نظروں میں آپ کا اعتبار باقی رہے۔ ⭕ وعدے کی وفا کے لیے الله تعالیٰ سے اس کی برگزیدہ شخصیات کے واسطہ سے مدد مانگیں۔ 💥 *ہمیشہ یاد رکھیں کہ وعدے کی پاسداری، دوسروں کے حق کے ساتھ ساتھ، الله تعالیٰ کی طرف سے ایک ذمہ داری بھی ہے جس کے بارے میں قیامت میں تم سے بازپرس ہوگی۔* 💫 نیز یہ کہ *تم دنیا میں اپنی وعدہ خلافی کے لیے بہانہ تراشی سے کام لے سکتے ہو لیکن قیامت میں خدا کی بارگاہ میں بہانہ تراشی ممکن نہیں ہو گی*۔ 🌸 وعدہ خلافی کی برائی کو سمجھنے کے لیے *امیر المؤمنین امام علی علیہ السّلام* کا یہ مختصر فرمان ہی کافی ہے کہ: *وعدہ خلافی سے بچو، کیونکہ یہ عمل تم سے خدا اور لوگوں کی نفرت کا باعث ہے۔* 💧*دنیا میں لوگوں کی نظروں میں اور آخرت میں خدا کی بارگاہ میں شرمندگی سے بچنے کے لیے اپنے ہر وعدے کو بروقت وفا کرنے کی عادت بنائیں۔* وَ السَّلامُ عَلى‏ مَنِ اتَّبَعَ الْهُدى‏ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

امام ابن اثیر نے اسدالغابہ، ج 5 س 224 میں، امام بلاذري رحمة الله عليه اپنی کتاب "نصاب الاشراف" میں قوی سند کے ساتھ حضرت عمر رضي الله عنه کا قول لکھتے ہیں عن عمر أنه قال ھذا األمر في أھل بدر ما بقي منھم أحد ثم في أھل أحد ما بقي منھم أحد ثم في كذا وكذا ولیس فیھا لطلیق وال لولد طلیق وال لمسلمة الفتح شيء: حضرت عمر نے کہا کہ خلافت اہل بدر میں رہے گی اور طلقاء اور ان کی اولادوں کا اس میں کوئی حق نہیں ہے: ۔ امید ہے اب طلقاء اور صحابہ کرام میں فرق سمجھ آ گیا ہو گا۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 طلقاء اور صحابہ کرام میں فرق 🔷 *معاویہ کا شمار صحابہ اکرام میں نہیں بلکہ کم تر درجہ کے طلقاء میں ہوتا ہے* / پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ طلقاء کس گروہ کو کہا جاتا ہے تو غور سے سن لیں ۔ طُلَقَاء اسمِ طَلِیق کی جمع ہے طلیق کے لغوی معنی آزاد شدہ غلام کے ہیں ایسا شخص جو قابو میں آ گیا ہو، پکڑا جا چکا ہو، گرفتار کیا جا چکا ہو اور بے بس ہو، جمہور آئمہ کے قول کے مطابق طلقاء ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو لوگ فتح مکہ کے دن المؤلفة قلوبهم یعنی دباؤ کے تحت اسلام لانے مثلاً ابوسفیان، معاویہ، یزید اور ان کے دیگر ہمنوا کو طلقاء کہا جاتا ہے امام ابن‌ منظور، لسان العرب، ج10، ص227. طلیق - فعیل به معنای مفعول - و هوالأسیر إذا أطلق سبیله. مقریزی، امام تقی‌الدین؛ إمتاع الأسماع، بیروت، دار‌الکتب العلمیة، 1420، طبع اول، ج8، ص388. امام محمد بن عبد البر، الاستیعاب، ج 1، ص 401 ۔ امام اہلسنت امام ابن عساکر رضي الله عنه اپنی اسنادِ جید کے ساتھ بحوالہ امام ابوداؤد الطیاسی رضي الله عنه بیان کرتے ہیں ۔ وقال ابن عساكر بإسناد عن أبى داود الطياسى ثنا أيوب بن جابر عن أبى إسحاق ، عن لاشود بن يزيد قال : قلت لعائشة : إلا تعجبين لرجل من الطلقاء ينازع أصحاب محمد صلى الله عليه و آله وسلم في الخلافة فقالت عائشة : وما تعجب من ذلك هو سلطان الله يوتيه البر والفاجر ، وقد ملك فرعون أهل مصر أربعمائة سنة : حضرت اسود بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضي الله عنہا سے کہا: کیا آپ اس شخص (معاويه) پر تعجب نہیں کرتی جو کہ طلقاء میں سے ہے اور خلافت کے معاملہ میں رسول اللہ کے اصحاب (امیر المومنین علی) سے جھگڑتا ہے تو عائشہ رضي الله عنہا نے فرمایا : نہیں تعجب والی بات نہیں، یہ اقتدار الہی ہے وہ نیک و بد کو بھی عطا کرتا ہے اس نے فرعون کو اہل مصر پر چار سو سال تک بادشاہ بنایا اور اسی طرح دیگر کفار کو بھی : (البداية والنهاية (ت: التركي) الجزء الحادی عشر ، ص/ 130-131 اس روایت میں امیر المومنین علی بن ابی طالب اور آپکے گروہ کو صحابہ کہہ کر پکارا گیا ہے جبکہ جناب معاویہ کو طلقاء کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے مندرجہ بالا روایت کا تعلق اس زمانہ سے ہے جب معاویہ رسول اللہ کی احادیث (ہر صورت خلیفہ کی بیعت کی جائے) کو جھٹلا کر خلیفہ برحق امیر المومنین علی رضي الله عنہ سے جنگیں کرنے میں مشغول تھے ان طلقاء کو صحابہ اکرام کے بعد کے طبقہ میں شمار کیا جاتا ہے جیسا کہ مندجہ بالا روایت میں صحابی رسول حضرت اسود رضي الله عنه غم و غصے کے عالم میں ام المومنین عائشہ رضي الله عنها سے شکایت کر رہے ہیں کہ ان طلقاء کی صحابہ کے مقابلہ کوئی حثیت نہیں مگر پھر بھی صحابہ اکرام (لشکر علی) سے خلافت ہتھیانے کے لیے لڑ رہا ہے ۔ امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ نے جنگ صفین میں اپنے لشکر سے خطاب میں جو بیان کیا۔ آئمہ اہلسنت اسے طلقاء کا حقیقی تعارف شمار کرتے ہیں جناب علی ابن ابی طالب نے اپنے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ؛ وَتَحَرَّوْا لِحَرْبِ عَدُوِّکُمْ، فَانْتَبِهُوا إِنَّمَا تُقَاتِلُونَ الطلقاء وَأَبْنَاءَ الطلقاء وَ أَهْلَ الْجَفَاءِ، وَ مَنْ أَسْلَمَ کَرْهاً... وَلِلْإِسْلَامِ کُلِّهِ حَرْباً، أَعْدَاءَ السُّنَّةِ وَالْقُرْآنِ، وَ أَهْلَ الْبِدَعِ وَالْأَحْدَاثِ، وَ أَکَلَةَ الرِّشَا، وَ عَبِیدَ الدُّنْیا: اپنے دشمنوں سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ اور جان لو کہ تم طلقاء اور ان کے بیٹوں اہل جفا سے نبرد آزما ہو جو دباؤ کے تحت ڈر کے مارے اسلام لائے یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ اسلام سے جنگ کرتے رہے یہ لوگ قرآن و سنت کے دشمن ہیں یہی لوگ اہل بدعت ہیں یہی لوگ راشی اور دنیا کے رسیا بندے ہیں۔ (دینوری، ابن‌قتیبه؛ الامامه والسیاسه، بیروت، دارالاضواء، 1410 ق، طبع اول، ص178.) ۔ امام اہلسنت امام ابوبکر الجصاص اپنی مایہ ناز کتاب ""احکام القرآن /ج 3/ 303 طبع مصر پر قرآن پاک کی آیت کی تشریح میں صحابہ اکرام کے فضائل لکھتے ہیں اور آخر میں وضاحت فرماتے ہیں کہ و لا يدخل معاوية فى هؤلاء لان الله إنما وصف بذلك المهاجرين الذين أخر جو آمن ديارهم وليس معاوية من المهاجرين بل هو من الطلقاء: اور ان لوگوں میں معاویہ داخل نہیں کیونکہ اللہ تعالی نے یہ وصف ان صحابہ کا بیان کیا ہے جو اپنے وطنوں سے نکالے گئے اور معاویہ تو ان میں شامل نہیں بلکہ وہ تو طلقاء میں سے ہے: ۔ امام اہلسنت امام محمد عبدالله بن مسلم رحمة الله عليه نے صحابہ اکرام کے متعلق کتاب "ابن قتيبة" لکھی اس کتاب میں امام صاحب سب سے پہلے صحابہ اکرام میں خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ کے مناقب تحریر کیے پھر آخر میں صفہ ٣٤٢ پر الگ سے طلقاء کے لیے باب باندھا اور باب کا نام "المؤلفة قلوبهم" رکھا یعنی دباؤ کے تحت اسلام لانے والے، پھر باب میں پہلا نام ""ابو سفیان اور دوسرا نام معاویہ"" کا لکھا پھر دیگر طلقاء کا نام تحریر کیا ۔

🔷 ہمارا سوال 🔷 فالورز اور فرینڈ لسٹ میں موجود اہلِ علم احباب سے میرے چند سوالات ہیں جنہوں نے مجھے اُلجھا کے رکھ دیا ہے۔۔۔۔۔ کسی کے پاس تسلی بخش جواب ہے تو عنایت فرمائیں۔ باقی بحث و مباحثے والے دور رہیں۔ جواب دلیل کے ساتھ ہونا چاہئے۔۔۔ 22 لاکھ مربع میل پر اسلام کے پھیلاؤ کا بڑے زور و شور سے ذکر کیا جاتا ہے۔۔ ہر دوسری پوسٹ اسی حوالے سے دیکھنے کو ملتی ہے۔۔۔ تو محرم الحرام شروع ہوتے ہی چند سوالات نے سکون چھین لیا۔۔۔ 1۔ یہ کونسا اسلام تھا کہ جو 22 لاکھ مربع میل پر پھیلا تھا مگر پیغمبرِ اسلامؐ کا پورا گھرانہ بے دردی سے ذبح کر دیا گیا؟؟ 2۔ یہ کونسا اسلام تھا جو 22 لاکھ مربع میل پر پھیلا تھا اور پیغمبرِ اسلام کے جگر گوشے کی بجائے یزید کی بیعت کی گئی بشمول صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بچوں کے۔۔ 3۔ یہ کونسا اسلام تھا جو 22 لاکھ مربع میل پر تو پھیلا تھا مگر 18ہزار مفتیانِ اسلام نے پیغمبرِ اسلامؐ کے بیٹے کے قتل کا فتویٰ دیا؟ 4۔ یہ کونسا اسلام تھا جو 22 لاکھ مربع میل پر تو پھیلا تھا مگر پیغمبرِ اسلامؐ کے نواسے کے ساتھ صرف 72 اور مقابلے میں مخالفت پر 9 لاکھ مسلمانوں کا لشکر تھا۔۔ 5۔ یہ کونسا اسلام تھا کہ جو 22 لاکھ مربع میل پر پھیلا تھا مگر پیغمبرِ اسلامؐ کے گھر کی سب سے پاکیزہ ترین خواتین کو بے ردا کر کے گلی گلی تماشہ دکھایا گیا، جن گلیوں سے شریف مرد گزرنا گوارا نہ کریں اُن سے اُن مخدراتِ عصمت و طہارت کو بغیر چادروں کے گزارا گیا؟ 6۔ یہ کونسا اسلام تھا جو 22 لاکھ مربع میل پر تو پھیلا تھا مگر مسلمان نبیؐ کی بیٹیوں کی چادریں نوچتے رہے؟؟ 7۔ یہ کونسا اسلام تھا جو 22 لاکھ مربع میل پر تو پھیلا تھا مگر اس میں نبیؐ کی نعلین اٹھانے والوں کی زندگیوں کارناموں سے بچپن جوانی اور بڑھاپے سے تاریخ بھری پڑی ہے مگر نبیؐ کے کندھوں پر سوار ہونے والوں کی زیادہ بات نہیں ملتی؟؟ 8۔ یہ کونسا اسلام تھا جو 22 لاکھ مربع میل پر تو پھیلا تھا مگر اُس میں پیغمبرِ اسلامؐ کے نعلین مبارک سیدھے کرنے والے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین تو پیغمبرِ اسلامؐ کے پہلو میں دفن ہوئے مگر کندھوں پر سوار ہونے والوں کو دفن نہ ہونے دیا گیا۔ جنازوں پر تیر برسائے گئے۔۔۔ کیا اُسے اسلام کہا جائے یا بغضِ اہلِبیتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیج۔۔۔۔؟؟ اگر 22 لاکھ مربع میل پر اسلام پھیلنے کے بعد پیغمبرِ اسلامؐ کے گھرانے کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا تو اُس پر سوال تو اُٹھیں گے۔۔ برائے مہربانی جذبات میں آکر فتوے بازی اور جذبات سے بھرے پورے پورے مضمون نما کمنٹس سے اجتناب برتتے ہوئے صرف اور صرف دلیل پر مبنی تسلی بخش جواب ہی دیا جائے۔۔ شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ■ مزید پوسٹس۔۔۔ 🌺 اہلسنت کے اعتراض اور انکے جواب https://t.me/islamwitheman/7198 🔷 سوال منجانب نواصب 1 https://t.me/islamwitheman/7201 🌸 ام فروہؑ والدۂ امام صادقؑ https://t.me/islamwitheman/7206 🔷ہمارے سوال 1 https://t.me/islamwitheman/7210 🔷 ہمارے سوال 2 https://t.me/islamwitheman/7211 🔷 نام نہیں کردار اہم ہے https://t.me/islamwitheman/7208 🔷 سوال منجانب نواصب 2 https://t.me/islamwitheman/7202 🔷 سوال منجانب نواصب 3 https://t.me/islamwitheman/7203 🔷 جیسا سوال ویسا جواب https://t.me/islamwitheman/7209 🔷 ہمارا سوال https://t.me/islamwitheman/7212 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ہمارے سوال 2 🔷 شیعوں نے سارے سوالات کے جوابات دینے کا ذمہ اٹھایا ھے اج کچھ سوالات کے جواب آپ دیں .... اگر تمام صحابہ آپس میں راضی تھے تو پھر۔۔۔ 1۔ جنگ جمل اور صفین میں ایکدوسرے کے قتل کیلئے تلواریں کیوں اٹھائیں؟ 2۔ حضرت عثمان کو مدینے میں بےیارومددگار مرنے کیوں دیا گیا؟ 3۔ حضرت عائشہ نے حضرت عثمان کے قتل کا فتوٰی کیوں دیا؟ 4۔ معاویہ نے امام حسنؑ کی شہادت پہ خوشی کیوں منائی؟ 5۔ محمد بن ابی بکر کو گدھے کی کھال میں بند کر کے کیوں جلایا؟ 6۔ معاویہ کی بہن نے محمد بن ابی بکر کے قتل پہ خوشی کیوں منائی؟ 7۔ اماں عائشہ ہر نماز کے بعد معاویہ کو بددعائیں کیوں دیتی تھیں؟ 8۔ خالد بن ولید نے مالک بن نویرہ کی بیوی سے زنا کی خاطر مالک بن نویرہ کو کیوں قتل کیا؟ 9۔ معاویہ کی ماں ہندہ نے نبیؐ کی والدہ بیبی آمنہؑ کی قبر مسمار کیوں کی؟ 10۔ معاویہ کی ماں ہندہ نے رسول اللہ کہ چچا امیر حمزہؑ کا کلیجہ کیوں چبایا؟ 11۔ سقیفہ کے الیکشن میں حضرت علیؑ کیوں نہ گئے؟ 12۔ حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کے جنازوں میں مولا علیؑ شریک کیوں نہ ہوئے؟ 13۔ نبیؐ نے مروان کو مدینہ سے نکال دیا، حضرت عثمان نے اپنی حکومت میں واپس کیوں بلایا؟ 14۔ حضرت ابوبکر نے بیبی فاطمہؑ کا جاگیر فدک کیوں غصب کیا؟ 15۔ حضرت عمر نے اولاد نبیؐ کا گھر جلانے کی کوشش کیوں کی؟ 16۔ حضرت عمر نے ابوہریرہ کو کوڑے کیوں مارے؟ 17۔ حضرت عثمان نے ابوذرؓ کو جلاوطن کیوں کیا؟ 18۔ حضرت ابن مسعود کو قید کیوں کیا؟ 19۔ حضرت بلالؓ کی آذان پر پابندی کیوں لگائی گئی؟ 20۔ معاویہ ہر ممبر سے مولا علیؑ کو گالیاں کیوں دلواتا تھا؟ 21۔ یزید نے امام حسینؑ کے خلاف نو لاکھ کا لشکر جمع کیوں کیا؟ 22۔ مسجد نبوی میں گھوڑے کیوں باندھے گئے؟ 23۔ قتل حسینؑ کے بعد یزید نے مدینے میں کرفیو کیوں لاگو کیا؟ 24۔ اپنی افواج پر تین دن تک مدینے کی عورتیں حلال کیوں کی؟ 25۔ کیا مدینے میں رہنے والی عورتیں صحابہ کی اولاد میں سے نہیں تھیں۔؟ ابھی بہت سے اہم سوالات رہ گئے ہیں۔ • در بتول پر آگ لے جانے کی کم از کم دھمکی محبت تھی تو دشمنی نہ جانے کیا ہوتی ہے۔ اور حوالے سنی کتب میں موجود۔ • باغ فدک پر سیدہ کا حضرت ابوبکر کی پیش کردہ حدیث کا رد اور ناراضگی۔ • مالک بن نویرہ جیسے صحابی پر مرتد ہونے کا بہتان اور انکا ظالمانہ قتل۔ • بیشمار صحابہ کو بیعت نہ کرنے پر سزائیں۔ • حضرت ابوذر غفاریؓ جیسے صحابی کو مدینہ بدر کر کے ربذہ کے صحرا میں بھیج دیا گیا۔ بیشمار واقعات ۔۔۔۔???!!! https://t.me/islamwitheman/7210 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🔷 ہمارے سوال 1 🔷 صاحبان انصاف سے انصاف کے طلبگار ھیں!! 1۔ ناقۂ صالحؑ کا قاتل جہنمی اور کافر۔ مصداق من الحسینؑ اور ابن رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم کا قاتل مسلمان كيوں؟؟ 2۔ فرمان ذیشان رسالت (ص) کیمطابق جو اھلبیتِ اطہار علیہم السلام سے بغض و عناد رکھے وہ تو پکا منافق۔ اور جو اھلبیتِ اطہارؑ پہ "سب" کرے۔ آپؑ سے اس درجہ مخالفت۔ کہ علم بغاوت بلند کر کے میدان جنگ میں بھی آپکے سامنے آ جائے ۔ یا آپؑ کو قتل کرے وہ مسلمان کیوں؟؟ 3۔ حضرت آدم علیه السلام کے بیٹے کا قاتل (پسر آدم) جہنمی کافر مگر حضرت سیدنا محمد مصطفٰی صلی الله علیه واله وسلم کے بیٹے کا قاتل مسلمان کیوں؟؟ 4۔ کشتی نوح علیه السلام کا منکر کافر۔ کشتی نجات اھلبیتؑ کا منکر مسلمان کیوں؟؟ 5۔ قرآن پاک کا منکر کافر۔ ناطق قرآن و مع القرآن کا منکر مسلمان کیوں؟؟ 6- جو نبیؑ کو گالی دے وہ کافر۔ اور جو اولاد رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم کو سر بازار پھراۓ۔ بھرے دربار میں بکواس بازی کرے۔ وہ مسلمان کیوں؟؟ 7۔ جو کعبہ گرائے وہ کافر۔ اور جو محمد مصطفٰی صلی الله علیه وآله وسلم کے بیٹے کا خون گرائے۔ وہ مسلمان کیوں؟؟ 8- نبی کریم صلی الله علیه و آله وسلم کی پسندیدہ سبزی کدو شریف کی توھین حرام۔ اور جنہیں رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم اپنی جان اور خون کہیں۔ جنکی سواری بنکر مہر نبوت پہ سوار کر کے، اپنی مبارک زلفیں پکڑا کے سواری کی آوازیں بھی نکالیں۔ انکی توھین کرنے والے مسلمان کیوں؟؟ 9- پیغمبر اکرمؐ جس حجر اسود (پتھر) کا ایک بار بوسہ لیں۔ وہ تو قابل تعظیم ھو جائے۔ اور مسلمان اسکو دیوانہ وار چومیں, اسکی توھین کفر کا باعث ھو۔ اور یہی نبیؐ جن حامل سیادت جنت بچوں کے بوسے ساری زندگی لیتا رھے۔ انکے مخالف صاحب تعظیم کیسے؟؟ 10۔ جو صحابی و تابعی اور مسلمان بھی محمد مصطفٰی صلی الله علیه و آله وسلم کی شان مبارک میں توهین کرے یا آپکو دشمن رکھے وہ کافر۔ اور جو اھلبیتؑ سے بغض و عناد اور دشمنی رکھ کے ببانگ دھل اپنے نقص نسب کے اظہار کرنے والا مولا علیؑ و آل نبی اولاد علی علیہم السلام سے دشمنی بھی کرے اور جنگ بھی کرے۔ اھلبیتؑ کو شہید کرے۔ وہ صحابی و تابعی کیسے؟؟ اور مسلمان کیوں؟؟ 11۔ آل بنو امیہ و متون و یزید پلید ملعون باوجود فسق و فجور کے مسلمان۔ اور حضور صلی الله علیه وآله وسلم اور حضرت علی علیه سلام کی پرورش کرنے والے، شعب ابوطالب میں پناھگاہ بننے والے، ساری زندگی آپکی مدد اور نصرت کرنیوالے دین اسلام کے محسن آعظم اور نکاح خوان مصطفٰیؐ حضرت ابوطالب علیہ السلام کافر کیوں؟؟ یاد رھے کہ ایسی نجس زبانیں اھلبیت اطھارؑ کا ذکر خیر کر ھی نہیں سکتیں ۔۔۔۔ لمحہ فکریہ برائے ناصبین و خوارج۔۔!! تھوڑا نہیں! بہت سارا سوچئے گا ضرور۔۔!! التماس دعا: سید فاخر حسین رضوی https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🔷 جیسا سوال ویسا جواب 🔷 نبی کریم (ص) نے اعلان نبوت 40 سال کی عمر میں کیا اور آپ 63 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے اس طرح صحابہ کرام کی زندگی میں نبی کریم (ص) کا یوم ولادت 23 مرتبہ آیا۔ پوچھنا یہ تھا کہ صحابہ کرام نے کیا کبھی ایک بار بھی 12 ربیع الاول کو عید میلادالنبی کا جلوس نکالا تھا۔؟؟ کیا صحابہ کرام نے ان 23 سالوں میں ایک بار بھی عید میلادالنبی پر گلیاں سجائی تھیں۔؟؟ کیا صحابہ کرام نے اپنی ساری زندگی میں ایک بار بھی خانہ کعبہ اور قبر رسول (ص) کے ماڈل بنا کر سڑکوں پر سجائے تھے۔؟؟ اگر نبی کریم (ص) نے اپنی زندگی میں ایسا کچھ نہیں کروایا، صحابہ کرام نے ایسا کبھی نہیں کیا تو میرا سوال یہ ہے کہ۔۔۔ آج کل جو لوگ ربیع الاول میں ایسا کرتے ہیں وہ کون ہیں؟؟ کس کے طریقے پر چل کر ایسا کرتے ہیں؟؟ کیا ان لوگوں کو صحابہ کرام سے زیادہ نبی کریم (ص) سے محبت ہے؟؟ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 نام نہیں کردار اہم ہے 🔷 کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مولا علی علیہ السلام کے بچوں کے نام اصحاب ثلاثہ کے نام سے مماثلت رکھتے ہیں تو اسکا مطلب ہے مولا علی علیہ السلام کو ان صحابہ سے بہت پیار تھا۔ ذرا تاریخ بھی پڑھ لیں جناب، یہ نام بہت سے اور بھی صحابہ کے تھے صرف ان تینوں کے نہیں تھے۔ اس زمانے میں یہ عام نام تھے۔ 🔹 وہ صحابہ جن کی کنیت ابوبکر تھی 1ـ أبو بكر بن شعوب الليثي، واسمه شدّاد۔ 2ـ أبو بكر، عبدالله بن الزبير۔ 🔹 وہ صحابہ جن کا نام عمر تھا کتنے ھی صحابہ تھے جن کا نام عمر تھا۔۔۔ 1ـ عمر اليماني۔ 2ـ عمر بن الحكم السلمي۔ 3ـ عمر بن سراقة، ممّن شهد بدراً۔ 4ـ عمر بن سعد، أبو كبشة الأنماري۔ 5ـ عمر بن سفيان بن عبد الأسد، ممّن هاجر إلى الحبشة۔ 6ـ عمر بن عمير بن عدي الأنصاري۔ 7ـ عمر بن عوف النخعي۔ 8ـ عمر بن يزيد الكعبي۔ 9ـ عمر بن عمرو الليثي۔ 10ـ عمر بن منسوب۔ 11ـ عمر بن لاحق۔ 12ـ عمر بن مالك۔ 13ـ عمر بن مالك القرشي الزهري، ابن عمّ والد سعد بن أبي الوقّاص۔ 14ـ عمر بن معاوية الغاضري۔ 15ـ عمر الأسلمي۔ 16ـ عمر بن أبي سلمة، ربيب النبيّ ( صلى الله عليه وآله ) ، وأُمّه أُمّ سلمة۔ 17ـ عمر الخثعمي۔ 🔹 أسماء الصحابة ممّن كان اسمهم عثمان کتنے ھی صحابہ تھے جن کا نام عثمان تھا۔۔۔ 1ـ عثمان بن أبي الجهم الأسلمي۔ 2ـ عثمان بن حكيم۔ 3ـ عثمان بن حميد۔ 4ـ عثمان بن حنيف۔ 5ـ عثمان بن ربيعة بن اهبان، ممّن هاجر إلى الحبشة۔ 6ـ عثمان بن ربيعة الثقفي۔ 7ـ عثمان بن سعيد بن أحمر الأنصاري۔ 8ـ عثمان بن شماس المخزومي۔ 9ـ عثمان بن طلحة بن أبي طلحة۔ 10ـ عثمان بن أبي العاص۔ 11ـ عثمان بن عمّار ، والد أبي بكر۔ 12ـ عثمان بن عبد غنم الفهري، ممّن هاجر إلى الحبشة۔ 13ـ عثمان بن عبيد الله التميمي۔ 14ـ عثمان بن عثمان الثقفي۔ 15ـ عثمان بن عمرو ، ممّن شهد بدراً۔ 16ـ عثمان بن مظعون ، الصحابي الجليل، الذي قبّله النبيّ (صلى الله عليه وآله) وهو ميّت۔ 🔘 نام رکھنے سے کچھ نہیں ھوتا اگر نام رکھنا محبت کا معیار ہے تو پھر تو ان صحابہ کو مولا علی علیہ السلام سے کوئی محبت نہیں کیونکہ جناب ابوبکر، عمر و عثمان نے اپنے کسی بچے کا نام علی، حسن یا حسین نہیں رکھا تھا۔ اور کیا اہلسنت عبدالرحمان نام اس وجہ سے رکھتے ھیں کہ حضرت علی علیہ السلام کے قاتل کا نام تھا۔؟؟۔۔ عبدالرحمان ابن ملجم کیا اہل سنت مولا علی علیہ السلام کے قاتل سے محبت کرتے ہیں اس لئے یہ نام رکھتے ہیں؟؟؟؟ محترم نام اھم نہیں ھوتا کردار اھم ھوتا ھے۔ شہداء کربلا میں ایک حضرت حرؑ تھے جن کا پورا نام تھا ۔۔۔ حر ابن یزید الریاحی۔ جناب حر کے والد کا نام یزید کے نام سے مماثلت رکھتا تھا۔ کیا حر اپنے باپ کے ھمنام ھونے کی وجہ سے یزید ابن معاویہ سے راضی تھے ؟؟ بالکل نہیں لہذا نام نہیں کردار اھم ھے جناب۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

اور یوں امام باقر علیہ السلام کی شادی حضرت ابوبکر کی پڑپوتی سے ہوئی۔ یہاں یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ امام باقر علیہ السلام کی شادی جناب ام فروہ سے اس لئے نہیں ہوئی کہ وہ حضرت ابوبکر کی نسل میں سے تھیں یا اہلبیت کو خلیفہ اول سے کوئی خاص لگاؤ تھا۔ بلکہ جناب ام فروہ کی شادی اس لئے امام باقر علیہ السلام کے ساتھ ہوئی کیونکہ جناب ام فروہ، انکے والد قاسم، انکے دادا محمد بن ابی بکر دراصل مولا علی علیہ السلام کے اطاعت گزار اور خاص اصحاب میں سے تھے اور اصحاب ثلاثہ کے بارے انکا عقیدہ وہ نہیں تھا جو آج اہلسنت برادران کا ہے۔ 📚 حوالہ جات [1] اصابہ، ج8، ص9۔ [2] نصر ابن مزاحم منقری، وقعۃ صفین، ص118۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج2، ص92۔ [3] مسعودی، تنبیہ الاشراف، ص264۔ [4] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج3، ص190م حرزالدین، مراقد المعارف، ج2، ص249۔ ✍ ذیشان کاظمی https://t.me/islamwitheman/7206 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🌸 ام فروہؑ والدۂ امام صادقؑ 🌸 کیا وجہ ہوئی کہ امام باقر علیہ السلام کی شادی مسلمانوں کے پہلے خلیفہ ابوبکر کی پڑپوتی سے ہوئی؟ یہ بات درست ہے کہ امام باقر علیہ السلام کی زوجہ اور امام صادق علیہ السلام کی والدہ جناب ام فروہ سلام اللہ علیہا پہلے خلیفہ ابوبکر کی نسل سے تھیں۔ لیکن ایسا کیونکر ہوا۔؟ آئیے جانتے ہیں۔ ■ جناب اسماؓ بنت عمیس مولا علی علیہ السلام کے ایک بھائی تھے جن کا نام حضرت جعفر طیارؓ تھا، وہ رسول اللہ (ص) کے صحابی تھے اور اسلام قبول کرنے والے اولین افراد میں سے تھے، جب جناب جعفر طیارؓ نے اسلام قبول کیا تو انکی زوجہ جناب اسما بنت عمیسؓ نے بھی انکے ساتھ اسلام قبول کیا اور پھر اپنے شوہر کے ہمراہ حبشہ کی طرف ہجرت بھی کی، حضرت جعفر طیارؓ سے جناب اسما کے تین بیٹے بھی پیدا ہوئے۔ جناب اسماؓ ایک نیک اور پرہیزگار اور اہلبیتؑ سے ایک خاص تعلق اور اُنس و محبت رکھنے والی خاتون تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض روایات کے مطابق وہ جناب سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے غسل و کفن میں بھی شریک تھیں.. نبی کریمؐ کے زمانے میں جنگ موتہ میں حضرت جعفر طیارؓ شہید ہوئے اور انکی بیوی اسما بنت عمیسؓ بیوہ ہو گئیں، عرب میں رواج تھا کہ عورتیں طلاق یا بیوگی کے بعد مزید شادی بھی کرتی تھیں لہذا مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر کے ساتھ جناب اسما نے شادی کی اور ان سے ایک بیٹا جس کا نام محمد بن ابی بکر تھا پیدا ہوئے... ابھی محمد بن ابی بکر ڈھائی سال کے تھے کہ انکے والد حضرت ابوبکر کا انتقال ہو گیا اور یوں اسما بنت عمیس ایک بار پھر بیوہ ہو گئیں۔ جناب اسما بنت عمیس نے آٹھ ہجری میں حضرت ابوبکر سے شادی کی۔[1] اور تیرہ ہجری میں حضرت ابوبکر کی وفات ہوئی لہذا صرف پانچ سال حضرت ابوبکر کے ساتھ رہیں۔ چونکہ اسما پہلے مولا علیؑ کے بھائی کی زوجہ رہیں تھیں اور اہلبیتؑ سے ایک خاص محبت رکھتی تھیں اور انکے مرتبے سے آگاہ تھیں لہذا حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد مولا علی علیہ السلام نے جناب اسما بنت عمیسؓ کو رشتہ بھجوایا اور یوں جناب اسماؓ مولا علی علیہ السلام کی زوجیت میں آ گئیں اور انکا بیٹا محمد بن ابی بکر چونکہ ابھی صرف ڈھائی سال کا تھا لہذا وہ بھی اپنی والدہ کے ساتھ مولا علیؑ کے گھر آیا اور یوں اس بچے کی ساری تربیت مولا علی علیہ السلام کے زیر سایہ ہوئی، یہی وجہ تھی محمد بن ابی بکر، مولا علی علیہ السلام کے اصحاب خاص میں شمار ہوتے تھے اور مولا علی علیہ السلام انکو اپنا بیٹا کہتے تھے۔ 👈 یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مولا علی علیہ السلام نے جناب جعفر طیارؓ کی شہادت کے فوراََ بعد ہی جناب اسما سے شادی کیوں نہ کرلی؟ اسکی وجہ یہ تھی کہ اس وقت جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا زندہ تھیں اور انکی موجودگی میں مولا علیؑ دوسری شادی نہیں کر سکتے تھے۔ ■ محمد بن ابی بکر خلفائے ثلاثہ کے بارے میں محمد بن ابی بکر کا نظریہ یہ تھا کہ انہوں نے خلافت کے حوالے سے حضرت علیؑ کو نظرانداز کیا اور خصوصاََ حضرت عثمان کے بارے میں وہ کہتے تھے کہ انہوں نے احکام خداوندی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے روگردانی کی۔[2] محمد بن ابی بکر مولا علی علیہ السلام کے جانثار صحابی تھے اور ہر جنگ میں مولا علیؑ کا ساتھ دیا، حتٰی کہ جب حضرت عائشہ نے مولا علیؑ سے جنگ کی تب بھی محمد بن ابی بکر نے حضرت عائشہ یعنی اپنی بہن کے خلاف جنگ کی اور مولا علیؑ کا ساتھ دیا۔ جب معاویہ نے مولا علیؑ کی بیعت سے انکار کیا اور شام میں اپنی الگ حکومت قائم کی تو جنگ صفین میں بھی محمد بن ابی بکر نے مولا علی علیہ السلام کا ساتھ دیا، یعنی ہر مشکل میں محمد بن ابی بکر مولا علیؑ کے حمایتی رہے اور مولا علیؑ نے بھی انکو جنگوں میں اہم عہدوں پر فائز کیا اور اپنی خلافت کے دوران انکو مصر کا گورنر بھی بنایا۔ 🔷 محمد بن ابی بکر کی اولاد محمد بن ابی بکر کی اولاد میں سے ایک قاسم بن محمد بن ابی بکر تھے، "قاسم" (وفات ۹۲ یا ۱۰۸ق)، جو اپنے زمانے میں مدینے کے فقیہ اور بڑے علماء میں سے تھے۔[3] قاسم خود بھی امام سجادؑ اور امام باقرؑ کے خواص اور اصحاب میں سے تھے۔[4] قاسم نے مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر کے بیٹے عبدالرحمٰن کی بیٹی اسما سے شادی کی اور ان سے ایک بیٹی پیدا ہوئی جن کا نام فاطمہ یا قریبہ اور کنیت ام فروہ تھی۔ 🔘 نتیجہ قاسم بن محمد بن ابی بکر چونکہ امام سجاد علیہ السلام کے خاص اصحاب میں سے تھے اور قاسم کے والد محمد بن ابی بکر مولا علی علیہ السلام کے جانثار صحابیوں میں سے تھے اور محمد بن ابی بکر کی والدہ اسما بنت عمیس جناب جعفر طیارؓ اور مولا علی علیہ السلام کی زوجہ رہیں تھیں۔ اس لئے جناب ام فروہؓ کے عقائد اہلبیت علیہم السلام کے مطابق تھے۔ اسی وجہ سے امام سجاد علیہ السلام نے قاسم سے انکی بیٹی ام فروہؓ کا رشتہ امام باقر علیہ السلام کے لئے طلب کیا، جسکو قاسم نے قبول کیا۔

انجام دے اور نبی کریمؐ خاموش رہیں اور نہ ٹوکیں تو یہ عمل تقریر رسولؐ کہلائے گا اور اس شخص کے عمل کو کم ازکم جائز شمار کیا جائے گا۔ ورنہ بہت ممکن ہے کہ یہ عمل مستحب بھی ہو۔ لیکن اس کے لیے دیگر احادیث سے تائید حاصل کرنی ضروری ہوگی۔ لیکن شیعوں کے ہاں جس طرح نبیؐ کی خاموشی کسی عمل کے جائز ہونے پر دلالت کرتی ہے اسی طرح ہمارے 12 ائمہ علیہم السلام کے سامنے بھی کوئی عمل انجام دیا جائے اور وہ خاموش رہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کم ازکم یہ عمل جائز ہے۔ اور خود بی بی معظمہؑ سے کسی حرام عمل کے انجام پانے کا تصور کرنا بھی محال ہے۔ جو حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ بدن سے خوان نکالنا حرام ہے لیکن حجامے کے ذریعے خون نکالنے کو جائز بلکہ سنت رسولؐ قرار دیتے ہیں۔ جبکہ دونوں عمل سے خون ہی نکل رہا ہوتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اگر شیعہ حضرات دس محرم کو چھری کے ماتم کے بجائے امام حسین علیہ السلام کے نام پر حجامے کے ذریعے خون نکالیں تو پھر اہلسنت کے مولوی حجامے کو بھی حرام قرار دے دیں گے۔ ہاں یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر چیز میں افراط و تفریط غلط ہے۔ شیعہ حضرات کو چاہیے کہ خونی ماتم اپنے مجتہد یا مفتی کے فتویٰ کے مطابق کریں اور اس قدر سختی سے نہ ہو کہ جان چلی جائے یا ہڈی یا اہم اعضائے بدن کو شدید نقصان پہنچے۔ آخری کا بات کا جواب یہ ہے کہ شیعہ حقیقتاً امام زین العابدین علیہ السلام کی طرح غم و گریہ کرنے سے عاجز ہیں۔ ہم پورا سال غم نہیں کر سکتے۔ ہم اس معاشرے کے ہاتھوں مجبور ہیں کہ ہمیں اپنے عزیزوں کے گھروں میں سالگرہ اور شادی وغیرہ کی تقریبات میں جانا پڑتا ہے۔ ہم روز کھانا یا پانی دیکھ کر نہیں رو سکتے۔ ہم امام زین العابدین علیہ السلام والی عزاداری کا عشر و عشیر بھی نہیں بجا لا سکتے۔ ہم عاجز بندے ہیں۔ صرف اپنی طاقت کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ آخری بات یہ ہے کہ انصاف کے ساتھ اور تحقیق کر کے بیان کیا جائے کہ کیا واقعہ کربلا کے بعد بنی امیہ اور بنی عباس نے ہمارے ائمہ علیہم السلام کو کُھل کر عزاداری کرنے دی؟ کیا ظالیمن نے آج تک مظلوموں کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ ظالمین کے خلاف جلوس برپا کریں۔ آج بھی ہمیں لڑ جھگڑ کر عزاداری کرنے کا حق حاصل کرنا پڑ رہا ہے۔ طالبان نے عزاداری بند کرنے کی کتنی کوششیں کیں کتنے مومنین و عزادار اس عزاداری میں شہید ہوچکے ہیں؟ اور حکومت ہمیں تحفظ دینے میں آج تک ناکام ہے، بس ان کے پاس ایک ہی حل بچا ہے کہ وہ پورے جلوس کے راستے کو کنٹینر لگا کر مکمل بند کر دیتے ہیں اور موبائل کی سم اور انٹرنیٹ بھی بند کر دیتے ہیں۔ اور اس میں سارا قصور عزاداری کے مخالفین کا ہے ورنہ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ ایک روڈ پر جلوس ہوتا تھا اور ایک روڈ پر گاڑیاں چل رہی ہوتی تھیں اور دکانیں تک کھلی ہوئی ہوتی تھیں۔ 🔘 یہ بندۂ عاجز کا مختصر جواب تھا، اور اگر ضرورت پڑی تو تفصیل سے روایات بھی پیش کر دی جائیں گی۔ لیکن وہ روایات شیعہ کتب سے ہوں گی، صحاح ستّہ سے نہیں۔ اہلسنت کی احادیث کی چھ کتب اہلسنت کے لیے حجت ہیں، شیعوں کے لیے شیعوں کی کتب اربعہ اور دیگر شیعہ کتب حجت ہیں۔ اور اہلسنت کا شیعوں سے اہلسنت ہی کی کتب سے ماتم کا حوالہ مانگنا مناظرے کے اُصول کے خلاف ہے۔ کیونکہ اگر کوئی شیعہ یہ کہے کہ اہلسنت کی نماز شیعہ احادیث کے مطابق باطل ہے تو اہلسنت کا جواب یہی ہوگا کہ نماز ابو حنیفہ کے فتویٰ کے مطابق درست ہے، یہاں آپ کی احادیث ہمارے لیے حجت نہیں ہیں۔ تو اسی طرح اگر کوئی اہلسنت ہماری عزاداری کے کسی بھی عمل پر اعتراض کرنا چاہے تو اسے پہلے یہ سوچ لینا چاہئے کہ اہلسنت کی چھ احادیث کی کتب ہمارے لیے حجت نہیں ہیں بلکہ ہمارے لیے ہماری احادیث اور ہمارے مجتہدین و فقہاء کے فتاویٰ حجت ہیں۔ جب شیعہ فقہاء کے نزدیک یہ تمام اعمال احادیث کی روشنی میں جائز بلکہ مستحب اور اجر و ثواب کا باعث ہیں تو پھر آپ کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ اہلسنت کے ہاں پانچ سے دس سال میں مفتی تیار ہو جاتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں بیس سے تیس سال میں فقیہ بنتا ہے اور ہمارا فقیہ اہلسنت کے فقیہ سے کئی درجہ افضل ہوتا ہے، کیونکہ وہ ہر فتوی از سر نو قرآن و احادیث کے مطالعے کے بعد دیتا ہے، جبکہ اہلسنت کا مفتی ابو حنیفہ اور امام یوسف کے فتاویٰ کے فتاویٰ کا بیان کر کے خود کو فقیہ اور مفتی مان رہا ہوتا ہے۔ یعنی مفتی ہو کر فتویٰ دینے کے بجائے ایک عالم دین کی طرح فتویٰ بیان کر رہا ہوتا ہے۔ ہاں جہاں ابو حنیفہ اور امام یوسف کا فتویٰ موجود نہ ہو وہاں سے اس کا فتویٰ دینے کا کام شروع ہوتا ہے۔ والسلام۔ حق اور باطل کو جان کر جیو۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ■ مزید پوسٹس۔۔۔ 🔷 سوال منجانب نواصب 1 https://t.me/islamwitheman/7201 🔷 سوال منجانب نواصب 2 https://t.me/islamwitheman/7202 🔷 سوال منجانب نواصب 3 https://t.me/islamwitheman/7203 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

سورہ حج آیت نمبر 32 میں ہے کہ: ذَٰلِک وَمَن یعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَی الْقُلُوبِ۔ ترجمہ: بات یہ ہے کہ جو شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقوی ہے۔ اور مفسرین نے شعائر اللہ کا معنیٰ یہ کیا ہے کہ جو چیزیں اطاعت الہی کے لیے علامات قرار پائیں۔ جیسے صفا، مروہ اور قربانی کا اونٹ وغیرہ۔ تو اب مفسرین قرآن کے مطابق جو چیزیں بھی اطاعت الہی کی علامات یا نشانیاں قرار پائیں وہ شعائر اللہ ہیں۔ تو علم، ذوالجناح اور تابوت وغیرہ بھی اطاعت الہی کی ہی علامات ہیں نہ دین سے دُوری کی علامات۔ ان کو دیکھ کر دین بچانے والے امام حسین علیہ السلام کی یاد تازہ ہوتی ہے اور دین کے لیے قربانی دینے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ میرا شبیہ ذوالجناح پر اعتراض کرنے والے سے ایک سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص خانۂ کعبہ اور مسجد نبوی کی تصویر کو پھاڑ کر کچرے میں پھینکے تو آپ اس شخص کو ڈانٹیں گے یا نہیں؟ اور اگر کوئی شخص خانۂ کعبہ اور مسجد نبوی کی تصویر کو چومے اور اپنے گھر میں فریم کرکے لگائے تو کیا آپ اس شخص کی تعریف کریں گے یا نہیںَ؟ کیا اس شخص پر شبیہ کی تعظیم کرنے کا حکم نہیں لگے گا؟ اگر آپ کے مطابق خانۂ کعبہ اور مسجد نبوی کی شبیہ و تصویر کا احترام قابلِ تعریف عمل ہے تو ذوالجناح بھی تو شبیہ ہے، اس کے لیے احترام کیوں منع ہے؟ کوئی خاص وجہ؟ جواب (۲،۳،۴)۔ بقیہ سوالات کے جوابات یہ ہیں کہ اعتراض کرنے والے نے یہ اعتراض کیا کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے واقعہ کربلا کے بعد 1 بار بھی 10 محرم کو ماتم کیا؟ نیز 1 بار بھی 10 محرم کو چھریاں ماریں۔ اور اعتراض کرنے والے کے نزدیک چونکہ یہ طے تھا کہ جواب میں منع ہی آئے گا کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے تو ایسا نہیں کیا اسی لیے اس نے نتیجتاً یہ بھی کہہ دیا کہ آپ کس کے طریقے پہ چل کر ایسا کرتے ہیں؟ کیا شیعوں کو حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے بھی زیادہ غم ہے شہادتِ حضرت امام حسین علیہ السلام کا؟ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام امامِ معصوم تھے اور شیعوں کے عقیدے میں معصوم کی یاداشت میں کبھی بھول چوک واقع نہیں ہوتی جبکہ ہم ایک عام انسان ہیں اور ہم میں بھول چوک کا مادہ موجود ہے، ہم شیعہ حضرات تو فقط سوا دو مہینے غم منا کر پھر اپنی دنیا میں گم ہوجاتے ہیں۔ جبکہ ہمارے چوتھے امام واقعہ کربلا کے بعد 35 سال تک روزانہ ہی روتے رہتے تھے، جب بھی کھانا یا پانی آتا اس قدر روتے کہ کھانا آنسوؤں سے تر ہوجاتا۔ اور جب آپ پر اعتراض کیا گیا کہ آپ کب تک روئیں گے تو حضرتؑ نے فرمایا کہ اے شخص یعقوبؑ کے تو بارہ بیٹے تھے ان میں سے ایک گم ہوگیا تھا تو یعقوبؑ ان کی جدائی میں اس قدر روئے کہ آنکھیں سفید ہوگئیں تھیں، حالانکہ یوسفؑ زندہ تھے، اے شخص میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ستّرہ اشخاص اہلبیتؑ کہ جن کا روئے زمین پر نظیر نہیں ایک ساعت میں قتل کر دیئے گئے اور ان کے سر نیزوں پر نصب کر کے شہر بہ شہر پھرائے گئے۔ نیز امام زین العابدین علیہ السلام روتے روتے غش کھا جاتے تھے ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد تا عمر گوسفند نہیں کھایا۔ اور نہ ہی کسی خوشی کے پروگرام میں شریک ہوئے۔ یہ بھی واضح رہے کہ شیعوں کے 12 ائمہ علیھم السلام ہیں، اور دیگر ائمہ سے بھی ماتم کے حوالے سے کثیر احادیث وارد ہوئی ہیں، کوفے میں جب بی بی زینب سلام اللہ علیھا کی نظر امام حسین علیہ السلام کے سر بریدہ پر پڑی تو انہوں نے غم کے مارے اپنا سر مبارک چوب عماری سے اس زور سے مارا کہ سر سے خون جاری ہو گیا تھا۔ (بحار جلد 10۔ ناسخ التواریخ جلد 6۔ نفس المہموم وغیرہ) اور اس کے بعد آپ نے کوفے کے مجمع سے خطاب کیا اور یہ بیبی معظمہؑ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں پھر بھی اعتراض کرنے والے کے لیے بیان کر دیا جائے کہ یہ حضرت علی مرتضٰی علیہ السلام کی بڑی بیٹی ہیں اور جب ان بیبی معظمہؑ نے کوفے میں خطبہ دیا تو اس خطبے کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام نے ان سے مختصر خطاب کیا جس میں سے یہ بات بھی تھی کہ ۔۔۔ انت بحمد اللہ عالمۃ غیر معلمۃ فھمۃ غیر مفھّمۃ۔۔۔ (یعنی ۔۔۔آپ بحمد اللہ بغیر پڑھائے ہوئی عالمہ اور بغیر سمجھائے ہوئے سمجھ دار ہیں) بیبی معظمہؑ کے اس طرح سر سے خون نکالنے پر نہ تو امام زین العابدینؑ نے کچھ کہا بلکہ خود امام زین العابدینؑ نے آپؑ کی شان میں آپ کو عالمہ غیر معلّمہ کا خطاب دیا، جبکہ اس خطاب دینے سے پہلے بیبی معظمہؑ سر سے خون نکال چکی تھیں۔ اعتراض کرنے والے کو میری اس بات کو سمجھنے کے لیے اپنے کسی عالم کی جانب رجوع کرنا چاہیے اور تقریر رسولؐ کے متعلق دریافت کرنا چاہئے کہ تقریر رسولؐ کیا ہوتا ہے۔ خیر مختصراً بیان کر دوں کہ نبیؐ کسی فعل کو خود انجام دیں یا کسی شخص کو انجام دینے کا کہیں تو یہ حدیث کہلاتی ہے لیکن ایک تیسری قسم کی حدیث بھی ہوتی ہے کہ اگر نبیؐ کے سامنے کوئی شخص کسی عمل کو

🔷 سوال منجانب نواصب 3 🔷 پوچھنا یہ تھا کہ امام زین العابدین جنہوں نے واقعہ کربلا اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ واقعہ کربلا کے بعد تقریباً 40 سال زندہ رہے۔ اس طرح 40 مرتبہ آپ کی زندگی میں دس محرم کا دن آیا تھا۔ امام زین العابدین جو امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بیٹے تھے۔ کیا آپ نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی دس محرم کو گھوڑا نکالا؟ کیا آپ نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی دس محرم کو ماتم کیا؟ کیا آپ نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی دس محرم کو اپنے آپ کو چھریاں ماریں؟ اگر امام زین العابدین نے ایسا کبھی نہیں کیا تو میرا سوال یہ ہے کہ آج کل جو لوگ محرم میں ایسا کرتے ہیں وہ کون ہیں، کس کے طریقے پہ چل کر ایسا کرتے ہیں؟ کیا اِن لوگوں کو امام زین العابدین سے بھی زیادہ غم ہے شہادت امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کا؟ حق اور باطل کو جان کے جیو۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ■ جواب منجانب شیعیان علیؑ مندرجہ بالا سوالات اہلسنت کی جانب سے شیعہ حضرات سے کیے جا رہے ہیں۔ اور مجھ سے ایک بندۂ مومن نے کہا کہ ان سوالات کے جوابات دیے جائیں تاکہ شیعہ بچے ان سوالات کے جوابات نہ ملنے پر گمراہ نہ ہوں۔ ان سوالات کے جوابات مختصراً پیشِ خدمت ہیں: جواب(۱)۔ پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام بن امام حسین علیہ السلام، واقعۂ کربلا کے بعد تقریباً 35 سال زندہ رہے، نہ کہ 40 سال لہذا عمر مبارک درست بیان کی جائے۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ انہوں نے ایک بار بھی شبیہہ ذوالجناح نہیں نکالا۔ مگر آپ سے ایک سوال یہ ہے کہ آپ کو کس نے کہا کہ شیعہ حضرات شبیہ ذوالجناح اپنے ائمہ علیھم السلام کی احادیث پر ایک مستحب پر عمل کرنے کے لئے نکالتے ہیں؟ میں ایسے کسی شیعہ کو نہیں جانتا کہ جو یہ سمجھتا ہو کہ ہم شبیہ ذوالجناح ائمہ علیھم السلام کی فرمائش پر نکالتے ہیں اور یہ فعل احادیث میں تاکید کے ساتھ وارد ہوا ہو اور امام (ع) بھی شبیہ ذوالجناح نکالتے تھے۔ یہ شبیہ ذوالجناح فقط عقیدت و محبت اور کربلا والوں کی یاد میں اور غم کو تازہ کرنے کے لیے نکالی جاتی ہے۔ اور جلوس میں ہر وہ چیز جس سے واقعۂ کربلا اور امام حسین علیہ السلام کی یاد تازہ ہوتی ہو اور غم کا اظہار ہوتا ہو، اس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کیونکہ شیعہ حضرات کے پاس کثیر روایاتِ اہلبیت علیھم السلام ہیں جن میں غم منانے کا کہا گیا ہے لیکن طریقہ کار بیان نہیں کیا گیا ہے۔ اور طریقہ کار شاید اس لیے بیان نہیں کیا گیا کہ غم کا اظہار فطری ہے اس کو پابند نہیں کیا جاسکتا کہ غم اس طرح کرو یا اس طرح سینے پر ہاتھ مارو۔ اور غم منانے کے طریقے بھی ہر قوم و ملت کے مختلف ہیں، لہذا یہ غم منانے کا طریقہ عوام الناس پر چھوڑ دیا گیا کہ وہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے غم منا سکتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو آپ سے نواسہ رسولؐ کا غم منانا مطلوب ہے، طریقۂ کار سے کوئی غرض نہیں۔ شبیہ ذوالجناح پر اعتراض کرنے والے حضرات سے گزارش ہے کہ وہ دوسروں کے گھروں پر نگاہ کرنے سے پہلے اپنے گھر پر بھی نگاہ دوڑائیں کہ کیا اسی قسم کا عمل آپ کے ہاں نہیں ہو رہا؟ عید میلاد النبیؐ پر کہ اہلسنت حضرات اپنی گلیوں کے اطراف میں داخلی راستوں پر کھجور کی بڑی بڑی شاخیں لگاتے ہیں، سبز گنبد کی شبیہ میز پر رکھتے ہیں اور لوگ اس کو احتراماً چومتے ہیں نیز نبی اکرمؐ کی اونٹی کی شبیہ تک جلوس میں لے کر آ جاتے ہیں اور اب نئے زمانے میں تو پیدائش کی خوشی میں کیک بھی کاٹا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ پورے سال اہلسنت کی عوام اور علماء نعلین مبارک کی شبیہ یا تصویر کا احترام کرتے نظر آتے ہیں، ان کو عقیدت سے چومتے ہیں، جبکہ یہ یقینی امر بھی نہیں ہے کہ نبی کریمؐ کی نعلین کی شکل اسی جیسی تھی بھی یا نہیں؟ یہ فقط ایک گمان کی حد تک ہے، نیز کیا نبی اکرمؐ کے زمانے کے دیگر مسلمانوں اور کافروں کی نعلین نبی اکرمؐ کی نعلین مبارک سے مختلف تھی؟ اہلسنت تو نعلین مبارک کی شبیہ کو چومیں اور اپنے عمامے پر بھی لگائیں اور عید میلاد النبیؐ کے جلوس میں نبی اکرمؐ کی اونٹنی کی شبیہ کو لائیں، لیکن شبیہ ذوالجںاح کے جلوس میں لانے اور اس کو عقیدت سے چومنے پر اعتراض!! اب سوال یہ ہے کہ ان بیان کردہ چیزوں میں سے کونسی چیز احادیث میں بیان ہوئی ہے کہ عید میلاد النبیؐ میں یہ امور انجام دو؟ کیا اہلسنت یہ کام عقیدت و احترام میں نہیں کر رہے؟ کیا یہ کام بدعت شمار ہونگے؟ اور خود عید میلاد النبیؐ کا دن منانے کا ذکر بھی اہلسنت کی روایات میں بالخصوص وارد نہیں ہوا، پھر بھی مناتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ آپ جس سے محبت کرتے ہیں تو اگر اس کے ہاں کوئی خوشی ہو تو آپ کو بھی خوشی ہونی چاہئے اور اگر اس کے ہاں کوئی غم ہو تو آپ کو بھی ہونا چاہئے، یہ کوئی محبت نہیں ہے کہ آپ اس سے جا کر پوچھیں کہ آپ کے گھر آج خوشی ہے کیا میں بھی خوشی منا سکتا ہوں؟ یا آپ کے گھر میں آج غم ہے تو کیا میں بھی غم منا سکتا ہوں؟